daily hadees لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
daily hadees لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 14 ستمبر، 2026

موانع و مظاہر عجز و انکسار

 

موانع و مظاہر عجز و انکسار

انسانی کردار کی تعمیر میں جن اخلاقی اوصاف کو بنیادی حیثیت حاصل ہے ان میں عجزو انکساری نمایاں مقام رکھتی ہے ۔ یہ وہ عظیم صفت  ہے جو انسان کو غرور و تکبر کی تاریکیوں سے نکال کر اللہ تعالی کی رضا ، بندگان خدا کی محبت اور معاشرتی احترام کی منزل تک پہنچاتی ہے ۔  اسلام نے جہاں ایمان ، عبادات اور حسن اخلاق پر زور دیا ہے وہیں عاجزی اور فروتنی کو ایک کامل مومن کی شناخت قرا ر دیا اللہ تعالی  نے اپنے محبوب بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
”اور رحمن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام“۔ ( سورۃ الفرقان)۔ حضور نبی رحمت ﷺ نے اپنی پوری حیات طیبہ میں اس وصف کو عملی طور پر اس شان سے پیش کیا کہ رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے  بہترین نمونہ بن گیا ۔ آپ ﷺ عظمت و رفعت کے اعلی ترین مقام پر فائز ہونے کے باوجود سادگی ، تواضع ، حلم اور انکساری کا ایسا پیکر 
تھے کہ دوست و دشمن سب آپ ﷺ کے اخلاق کریمانہ کے معترف تھے ۔ 
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :صدقہ ما ل میں کمی نہیں کرتا ۔ معافی مانگ لینے سے اللہ تعالی  عزت میں اضافہ فرماتا ہے اور جو بھی اللہ تعالی کی رضا کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ تعالی اسے سر بلند فرمادیتا ہے ۔ ( ترمذی )۔ حضور نبی کریم ﷺنے فرمایا تواضع انسان کے رتبہ کو بلند کرتی ہے اور تکبر اسے پست کرتا ہے ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی  ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو اپنے مسلمان بھائی کے لیے عاجزی کرتا ہے اللہ تعالی اسے سر بلند کر دیتا ہے اور جو اس پر اپنی برتری  جتاتا ہے اللہ تعالی اسے پست کر دیتا ہے ۔ (الترغیب الترہیب )۔
تمام تر بلندیوں ، عظمتوں ، رفعتوں اور شان کا مالک اللہ تعالی ہے تو پھر بندہ کس وجہ سے احساس برتری میں مبتلا ہو جاتا ہے جب اس کے اختیار میں کچھ نہیں۔
 حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: کبریائی میری چادر ہے اور بڑائی میرا  تہبند ہے جو ان دونوں میں سے کچھ بھی مجھ سےچھینناچاہے گا میں اسے دوزخ میں پھنک دوں گا ۔( مسند احمد )۔ انسان کے اندر تکبر ، غرور ، خود پسندی ، مال و دولت کا گھمنڈ ، علم کی نخوت اور منصب کا زعم وہ عوامل ہیں جو عجز و انکساری اختیار کرنے کی  راہ میں روکاوٹ بنتے ہیں ۔ان رکاوٹوں کو دور کیے بغیر انسان کے اندر عاجزی پیدا نہیں ہو سکتی ۔

اتوار، 13 ستمبر، 2026

صحت انسانی اور سیرت النبی ﷺ(۳)

 

صحت انسانی اور سیرت النبی ﷺ(۳)

حضور نبی کریم ﷺ نے کھانے پینے میں احتیاط اور اعتدال سے کام لینے کا حکم فرمایا ۔ یعنی کہ نہ ہی اتنا کم کھائیں کہ بھوکے رہ جائیں اور نہ ہی بھوک سے زیادہ کھائیں کہ بیماری کا سبب بن جائے ۔ اگر کھانے پینے میں اعتدال سے کام نہ لیا جائے تو نعمت زحمت بن جاتی ہے ۔ 
ایک دفعہ ایک بادشاہ نے حضور نبی رحمت ﷺ کی خدمت میں ایک حکیم بھیجا کہ وہ وہاں رہ کر لوگوں کا علاج کرے ۔لیکن کافی  عرصہ گزرنے کے باوجود کوئی بھی اس کے پاس علاج کے لیے نہ آیا  تو وہ حکیم آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ  ایک عرصہ گزر گیا ہے لیکن میرے پاس کوئی علاج کے لیے نہیں آیا ۔آپ ﷺ نے فرمایا : میرے صحابہ پر جب تک بھوک حاوی  نہ ہو جائے تب تک کھانا نہیں کھاتے اور جب تھوڑی بھوک باقی رہ جائے تو وہ کھانا چھوڑ دیتے ہیں ۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے بہت زیادہ کھانے سے منع فرمایا ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا مسلمان ایک  آنت سے کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں سے کھاتا ہے ۔ ( موطا امام مالک )۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے زیادہ کھانے کو فتنہ قرار دیا ۔ آپﷺ نے فرمایا : جب کسی قوم کے پیٹ حد سے زیادہ بھر جائیں تو ان  کے جسم موٹے ہو جاتے ہیں ان کے دل کمزور ہو جاتے ہیں اور ان کی شہوتیں سر کش ہو جاتی ہیں ۔ (الترغیب الترہیب )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے زیادہ کھانے کو بیماریوں کی جڑ قرار دیا ۔(احیا ءالعلوم )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے بیماری کی صورت میں علاج کروانے کی ترغیب دی ۔ بیماری کی صورت میں علاج کروانا اللہ تعالی پر توکل کے منافی نہیں بلکہ اللہ تعالی پر توکل رکھ کر ظاہری اسباب اختیار کرنا آپ ﷺ کی سنت مبارکہ ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے بیماری کی صورت میں مایوس ہونے سے منع فرمایا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا بڑھاپے اور موت کے علاوہ اللہ تعالی نے ہر  بیماری کا علاج پیدا کیا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالی نے کوئی ایسی بیماری پیدا نہیں فرمائی جس کا علاج پیدا نہ کیا ہو ۔ (بخاری)۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :اے اللہ کے بندو دوائی لیا کرو کیونکہ اللہ تعالی نے ہر بیماری کی شفا ءپیدا فرمائی ہے مگر  ایک بیماری کی دوائی نہیں پیدا کی۔ وہ بڑھاپا ہے ۔( المعجم الکبیر )۔ ایک روایت میں بڑھاپے کے ساتھ موت کا لفظ بھی آیا ہے یعنی موت اوربڑھاپے کی کوئی دوا نہیں ۔ مسند امام احمد میں ہے آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالی نے جس طرح بیماری پیدا کی اسی طرح اس کی دوا بھی پیدا فرمائی لہذا تم دوا کا استعمال کیا کرو ۔

ہفتہ، 12 ستمبر، 2026

صحت انسانی اور سیرت النبی ﷺ(۲)

 

صحت انسانی اور سیرت النبی ﷺ(۲)

آنکھیں اللہ تعالی کی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور ان کی حفاظت کرنا بہت ضروری ہے ۔حضور نبی کریم ﷺ نے بیماری آنے  سے پہلے اس سے بچنے کے لیے حفاظتی اصول اپنانے کی تلقین فرمائی ۔ سرمہ انسان کی خوبصورتی کا سبب بھی بنتا ہے اور اس  کے ساتھ ساتھ اس کے بہت سے طبی فوائد بھی ہیں ۔ ہمیں حضور نبی کریم ﷺ کی سیرت مبارکہ سے بھی سرمہ استعمال کرنےکا درس ملتا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا اثمد  سرمہ استعمال کرو کیونکہ یہ نظر کو تیز کرتا ہے اوربال اگاتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کی ایک سرمہ دانی تھی جس سے آپ ﷺ رات کو سوتے وقت دونوں آنکھوں میں تین تین سلائیاں ڈالا کرتے تھے ۔ ( ترمذی)۔
 حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اثمد سرمے کا ستعمال کرو کیونکہ یہ بال اگاتا ہے بیماری دور کرتا ہے اور نظر کو صاف کرتا ہے ۔ ( المعجم الکبر للطبرانی )۔
اللہ تعالی کی نعمتوں کو کھانا اوراس پر شکر بجا لانا ضروری ہے لیکن انسان کو کوئی بھی چیز کھانے سے پہلے اس بات کا خیال رکھنا  چاہیے کہ آیا کہ جو چیز وہ کھانے لگا ہے کیا وہ اس کی صحت کے لیے نقصان دہ تو نہیں ۔ ایسا کرنا نا شکری نہیں بلکہ تعلیم نبوی ﷺہے ۔ 
حضرت ام منذر ؓ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ میرے گھر تشریف لائے آپ کے ساتھ حضرت علی ؓ بھی تھے ۔  گھر میں کچی کھجور کے کچھ گھچے لٹک رہے تھے آپ ﷺ اتار کر کھانے لگے تو حضرت علی ؓنے کھانا شروع کر دیا ۔ آپ ﷺ نے حضرت علی کو فرمایا اے علی رک جاؤ تم ابھی بیماری سے صحت یاب ہو ئے ہو ۔ حضرت ام منذرؓ فرماتی ہیں پھرمیں نے   چقندر  اور جو سے بنا کھانا آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا تو آپ ﷺ نے حضرت علیؓ سے کہا اے علی کھاؤ یہ تمہاری صحت کے لیے زیادہ اچھا ہے ۔ ( ترمذی )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے کسی بھی ایسے علاقے میں جانے سے منع فرمایا ہے جہاں کوئی ایسی بیماری پھیلی ہو جس کی وجہ سے  دوسروں کو اس بیماری کے لگ جانے کا خدشہ ہو ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : طاعون ایک عذاب ہے جسے بنی  اسرائیل پر بھیجا گیا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ تم سے پہلے لوگوں پر بھیجا گیا لہذا تم کسی بھی ایسے علاقے میں نہ جاؤ جہاں یہ بیماری پھیلی ہو اور اگر تمہارے علاقے میں طاعون پھیل جائے تو وہاں سے باہر مت جاؤ ۔ (موطا امام مالک )۔ یعنی کسی علاقے میں ایسی بیماری پھیل جائے تو نہ وہاں جاؤ اور نہ ہی وہاں کے لوگ باہر آئیں خود بھی بیماری سے بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں ۔

جمعرات، 10 ستمبر، 2026

صحت انسانی اور سیرت النبی ﷺ(۱)

 

صحت انسانی اور سیرت النبی ﷺ(۱)

اللہ تعالی نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جن کا جتنا بھی شکر بجا لا ئیں کم ہے ۔ اللہ تعالی کی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت صحت و تندرستی ہے اگر انسان صحت مند ہو گا تو اپنے تمام معاملات کو احسن طریقے سے سر انجام دے سکے گا اور اگر صحت  ہی ٹھیک نہ ہو تو کوئی بھی کام کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے جیسے بیمار روح کا علاج کیا اور بتایا اسی طرح آپ ﷺ نے انسان کی صحت کو ٹھیک رکھنے اور احتیاط کرنے کے بہت سے اصول بتائے جن پر عمل کر کے ہم بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔ 
حضور نبی کریم ﷺ کی سیرت مبارکہ سے سب سے پہلا سبق ہمیں یہ ملتا ہے کہ صحت کو خراب کرنے والی چیزوں سے پرہیز کیا جائے ۔ اور کھانے پینے میں ہر لحاظ سے احتیاط سے کام لیاجائے ۔ انسان دن بھر کام کاج میں مگن رہتا ہے اور اس کے ہاتھوں پر طرح طرح کی میل کچیل لگتی رہتی ہے ۔اگر ہم کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ نہ دھوئیں تو یہ سارے جراثیم ہمارے جسم میں جا کر بہت ساری بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں ۔ اس لیے آپ ﷺ نے کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کی تلقین فرمائی ۔ 
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ کھانے کی برکت کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعدوضو کرنے میں ہے ۔ ( ترمذی ) 
ابن ماجہ کی روایت میں ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو بندہ یہ چاہتا ہے کہ اللہ جل شانہُ اس کے گھر میں خیر وبرکت نازل فرمائے اسے چاہیے کہ وہ اس وقت بھی وضو کرے جب کھانا کھائے اور اس وقت بھی وضو کرے جب کھانا اٹھایا جائے۔ اس کے بعد انسانی صحت کے لیے منہ اور دانتوں کی صفائی بھی بہت ضروری ہے کیونکہ انسان کھانا دانتوں سے چبا کر کھاتا ہے اور اگر دانت صاف نہ ہو ں تو مختلف جراثیم کھانے کے ساتھ انسانی معدے میں چلے جائیں گے جو بیماریوں کا سبب بنیں گےاس لیے آپ ﷺ نے بار بار مسواک کرنے کی تلقین فرمائی ۔ 
حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا مسواک کرو کیونکہ مسواک منہ کو صاف رکھتی ہے اور اس سے اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے ۔ پھر فرمایا میرے پاس جبریل امین تشریف لائے انہوں نے مجھے مسواک کرنے کی تلقین فرمائی ۔ یہاں تک کہ میں ڈر گیا کہ مجھ پر اور میری امت پر فرض نہ ہو جائے ۔آپ ﷺ نے فرمایا اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا ڈر نہ ہوتا تو میں ہر نماز کے ساتھ مسواک فرض کر دیتا ۔ (المعجم الکبیر للطبرانی )

منگل، 8 ستمبر، 2026

حضور نبی کریم ﷺ کا رُخ انور

 

حضور نبی کریم ﷺ کا رُخ انور

حضور نبی کریم ﷺ کا رُخ انور اللہ تعالی کے جمال کا آئینہ اور انوار تجلیات کا مظہر تھا ۔ آپ ﷺ کا چہرہ انور نہایت ہی وجیہ، پُر گوشت اور کسی قدر گول تھا ۔ حضرت براء بن عازب ؓ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ کا چہرہ انور تمام لوگوں سے زیادہ خوبصورت تھا اور حضور نبی کریم ﷺ کے خلق بھی تمام لوگوں سے زیادہ دلکش اور زیبا تھے ۔ (بخاری ، مسلم)۔
حضرت جابر بن سمرہ ؓسے فرماتے ہیں کہ میں نے ایک چاندنی رات حضور نبی کریم ﷺ کی زیارت کی ۔حضور نبی کریم ﷺ نے سرخ رنگ کی پوشاک پہنی ہوئی تھی ۔ آپ ؓ فرماتے ہیں میں کبھی حضور نبی کریم ﷺ کے چہرہ انورکو دیکھتا اور کبھی چودھویں کے چاند کو۔ میں کافی دیر دیکھتا رہا ۔ میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ نبی رحمت ﷺ چودھویں رات سے زیادہ دلربا اور خوبصورت ہیں ۔ ( ترمذی )۔
رُخ انور کی تجلی جو قمر نے دیکھی 
                                       رہ گیا بوسہ دہِ نقشِ کفِ پا ہو کر
حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں میں نے آج تک کہیں بھی کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جو حضور نبی کریم ﷺ سے زیادہ حسین ہو ۔ یوں معلوم  ہوتا تھا کہ سورج چہرہ اقدس میں طلوع ہو رہا ہے ۔ ( ترمذی )۔
حضرت کعب ؓ فرماتے ہیں حضور نبی کریم ﷺ جب خوش ہوتے تو آپ ﷺ کا چہرہ انور چمکنے لگتا اور ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے چاند کا ٹکڑا  ہے ۔ ( بخاری )۔
حضرت براء بن عازب ؓ سے مروی ہے آپ سے پوچھا گیا کیا حضور نبی کریم ﷺ کا چہرہ انور تلوار کی طرح تھا ۔حضرت براء ؓنے جواب دیا نہیں بلکہ چاند کی طرح تھا کیونکہ چاند میں روشنی بھی ہے اور گولائی بھی ۔ ( بخاری )۔ ام المئومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں میں رات کے وقت کپڑ ا سی رہی تھیں میری سوئی گر گئی میں نے کافی تلاش کیا لیکن نہ ملی ۔ اتنے میں حضور نبی کریم ﷺ حجرہ مبارک میں تشریف لے آئے ۔ آپ ﷺ کے چہرہ انور کے نور  سے سارا حجرہ روشن ہو گیا اور مجھے سوئی مل گئی ۔ ( ابن عساکر )۔
کئی بار ایسا ہوتا کہ لوگ حضور نبی کریم ﷺ کے چہرہ انور کو دیکھ کر ہی ایمان لے آتے ۔ عبد اللہ بن سلام یہودیوں کا بہت بڑا عالم تھا ۔ وہ بتاتا ہے جب آپ ﷺ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو لوگ آپ ﷺ کی زیارت کے لیے جا رہے تھے۔ میں بھی  چلا گیا کہ زیارت تو کروں ۔ فرماتے ہیں جب وہاں پہنچا تو آپ ﷺ کا چہرہ انور دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا کہ آپ اللہ کے سچے  رسول ہیں اور میں آپ ﷺ پر ایمان لے آیا ۔

پیر، 7 ستمبر، 2026

ادبِ مصطفی ﷺ(۲)

 

ادبِ مصطفی ﷺ(۲)

حضور نبی رحمت ﷺ کی بارگاہ کا تقاضا یہ ہے کہ جب آپ ﷺ بلائیں تو چاہے بندہ نماز کی حالت میں بھی ہو تو فوری حاضر ہو جائے ۔ 
اور اس سے نماز بھی فاسد نہیں ہو گی ۔ارشاد باری تعالی ہے :” اے ایمان والو اللہ اور سول کے بلانے پر حاضر ہو جب تمہیں بلائیں “۔ 
بخاری شریف کی روایت ہے کہ حضرت ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد نبوی میں نماز پڑھ رہا تھا مجھے نبی کریم ﷺ نے بلایا لیکن میں آپ ﷺ کے بلانے پر حاضر نہ ہوا ۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد میں نبی رحمت ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور  عرض کی میں نماز پڑھ رہا تھا ۔حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا اللہ تعالی کا حکم نہیں پڑھا ” اللہ اور رسول کے بلانے پر حاضر ہو جایا کرو “۔ 
سورۃا لنور میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ”رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرا لو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے “۔ (النور )۔
یعنی حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں جب حاضر ہوں یا دور سے حضور نبی کریم ﷺ کو پکارا جائے تو اس طرح نہیں پکارنا چاہیے جیسے تم آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو ۔ 
حضور نبی کریم ﷺ کے گھر ایک دعوت کے موقع پر کچھ لوگ زیادہ دیر بیٹھے رہے اور آپس میں گفتگو کرتے رہے ۔ اس طرح زیادہ دیر  بیٹھے رہنا اللہ تعالی کو پسند نہ آیا کیونکہ یہ بات حضور ﷺ کے لیے باعث تکلیف تھی تو اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا :
”اے ایمان والو نبی کے گھروں میں نہ حاضر ہو جب تک اذن نہ پاؤ مثلاً کھانے کے لیے بلائے جاؤ نہ یوں کہ خود اس کے پکنے کی راہ تکو۔  ہاں جب بلائے جاؤ تو حاضر ہو اور جب کھا چکو تو متفرق ہو جاؤ نہ یہ کہ بیٹھے باتوں میں دل بہلاؤ بیشک اس میں نبی کو ایذا ہوتی تھی تو وہ تمہارا لحاظ فرماتے تھے “۔   ( الاحزاب )۔
صحابہ کرام حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ کا ادب جس قدر بجا لاتے تھے اس کا اندازہ اس حدیث مبارکہ سے لگایا جا سکتا ہے ۔ حضرت مسور بن مخرمہ اور مروان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب عروہ بن مسعود کفار کی طرف سے وکیل بن کر حاضر ہوا تو وہ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ اپنا لعاب پھینکتے تو کوئی نہ کوئی صحابی اسے اپنے ہاتھ میں لے لیتا اور اسے اپنے چہرے پہ ملتا ۔جب آپ ﷺ کوئی حکم فرماتے  تو فوری اس کی تعمیل کرتے ۔جب آپ ﷺ وضو فرماتے تو آپ ﷺ کے وضو کا پانی حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے  جانے کی کوشش کرتے ۔جب آپ ﷺ گفتگو فرماتے تو اپنی آوازیں پست کر لیتے اور انتہائی ادب کے ساتھ گفتگو سنتے ۔ ( بخاری )۔

اتوار، 6 ستمبر، 2026

ادبِ مصطفی ﷺ(۱)

 

ادبِ مصطفی ﷺ(۱)

کائنات میں ایک نام ایسا ہے جس کے ساتھ تاریخ کی عظمت ، انسانیت کی تکمیل ، اخلاق کی بلندی اور رحمت کی وسعت سمٹ آتی ہے ۔  وہ نام نامی اسم گرامی حبیب خدا احمد مجتبی محمد مصطفی ﷺکا ہے ۔آپ ﷺ کا ذکر ہو تو الفاظ اپنی تاثیر کھو دیتے ہیں ، قلم ٹھہر جاتا ہے اوردل بے اختیار عقیدت سے جھک جاتا ہے ۔حضور نبی رحمت ﷺ کی ذات اقدس کے ساتھ ادب کا تعلق کسی رسم ، روایت یا معاشرتی  تہذیب تک محدود نہیں بلکہ یہ ایمان کی روح سے جڑا ہوا ہے ۔ قرآن مجید نے جہاں ایمان ، عبادت اور تقوی کی تعلیم دی وہیں بارگاہ  رسالت ﷺ کے آداب بھی سکھائے ۔
ادب ایک ایسی چیز ہے جو نصیب بدل دیتی ہے ۔ہر بارگاہ کا ایک ادب ہوتا ہے۔ جو اس بارگاہ کا ادب کرتے ہیں اور جو نہیں کرتے ان کا  حال جدا جدا ہوتا ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ کے ادب کا کیا عالم ہوگا جو حبیب خدا بھی ہیں اور وجہ تخلیق کائنات بھی ۔  حضور نبی کریم ﷺ جب صحابہ کرام کے درمیان تشریف فرما ہوتے اور انہیں وعظ و نصیحت فرماتے تو کبھی کبھی صحابہ بات کو سمجھنے کے لیے کہتے  ”راعنا یا رسول اللہ ﷺ “ یعنی ہمارے حال کی رعایت فرمائیں ۔ یہودیوں کی لغت میں راعنا بے ادبی کا معنی رکھتا تھا تو انہوں نے اسی نیت سے بلانا شروع کر دیا ۔تو اللہ تعالی نے حضور نبی رحمت ﷺ کا ادب بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :”اے ایمان والو راعنا نہ کہو اور  یو ں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو “۔ ( سور ة البقرۃ )۔ 
قرآن مجید میں اہل ایمان کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اپنی آوازیں نبی رحمت ﷺ کی آواز سے بلند نہ کرو اور آپ ﷺ کی گفتگو میں وہ انداز  اختیار نہ کرو جو عام لوگوں کے درمیان اختیار کیا جاتا ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے :  ”اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے نبی کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت نہ ہو جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو “۔ ( سورۃ الحجرات )۔
حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ اس قدر نازک بارگاہ ہے کہ ذرا سی آواز بھی اونچی ہو ئی تو سارے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور ہمیں خبر تک نہیں ہو گی ۔ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی تو میں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ میں آپ ﷺ سے سرگوشی کے انداز میں بات کروں گا ۔(کنزالعمال )۔
حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی تو سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا حال یہ تھا کہ آپ ﷺ کی  بارگاہ میں آہستہ سے بات کرتے اور بعض اوقات آپ ﷺ کو بات سمجھنے کے لیے دوبارہ پوچھنا پڑتا کہ کیا کہتے ہو ۔ ( ترمذی )۔

ہفتہ، 5 ستمبر، 2026

عظمت و شان مصطفی ﷺ (۲)

 

عظمت و شان مصطفی ﷺ (۲)

 حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن مجھے عرش کی دائیں جانب ایسے مقام پر کھڑا کیا جائے گا کہ جہاں کسی اور کو قدم رکھنے کی مجال نہ ہو گی اس وقت اولین و آخرین میرے ساتھ رشک کریں گے ۔ ( مسند احمد )۔
 حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی نے مجھے اختیار دیا کہ میں اپنی نصف امت کو جنت میں داخل کرا لوں یا شفاعت  کروں۔ میں نے شفاعت کو پسند کیا کیونکہ شفاعت کا فیضان عام ہے ۔جب تک میری امت کا آخری فرد بھی جنت میں نہ پہنچ  جائے اس وقت تک میں شفاعت کا حق استعمال کرتا رہوں گا۔ پھر فرمایا یہ شفاعت متقین کے لیے نہیں ہوں گی بلکہ میری شفاعت  گناہ گاروں اور خطاکاروں کے لیے ہو گی ۔ (ابن ماجہ )۔ 
حضرت ابو سعید خدری ؓسے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایک روز جبرائیل امین میرے پاس آئے اور کہا کہ میرا رب اور آپ کا رب آ پ کو فرماتا ہے کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ میں نے آ پ کے ذکر کو کس طرح بلند کیا ۔ حضور نبی کریم ﷺ  نے جواب دیا اللہ تعالی بہتر جانتا ہے ۔ جبرائیل امین نے جواب دیا اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اس بلند ذکر کی صورت یہ ہے کہ جب میرا ذکر کیا جائے گا اس وقت میرے ذکر کے ساتھ تیرا ذکر بھی کیا جائے گا ۔  حضرت عمر ؓ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن تمام تعلقات اور رشتہ داریاں ختم ہو جائیں گی لیکن  میرا تعلق اور میرا نسب اس روز بھی قائم رہے گا ۔  حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا سب سے پہلے میری قبر شریف کھلے گی اور میں باہر آؤں گا۔ مجھے  جنت کی پو شاکوں سے ایک خلعت پہنائی جائے گی ۔ پھر میں عرش الہی کی دائیں جانب کھڑا ہوں گا ۔ میرے علاوہ کسی کو بھی اس مقام پر کھڑا ہونے کا شرف حاصل نہیں ہو گا ۔ ( ترمذی )۔ 
حضرت سلمان ؓسے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک روز جبرائیل امین تشریف لائے اور عرض کی بیشک آپ کا رب فرماتا  ہے اگر چہ میں نے ابراہیم کو خلیل بنایا ہے لیکن آپ کو میں نے اپنا حبیب بنایا ہے میں نے آج تک کوئی ایسی چیز پیدا نہیں کی جو آپ سے  زیادہ میرے نزدیک مکرم ہو ۔ میں نے دنیا اور اس کے رہنے والوں کو اس لیے پیدا کیا تا کہ میں آپ کی کرامت اور آپ کے درجہ رفیعہ  سے ان کو آگاہ کروں ۔ اگر آپ کی ذات نہ ہوتی تو میں دنیا کو بھی پیدا نہ کرتا ۔ ( حجۃ اللہ علی العالمین )۔

جمعہ، 4 ستمبر، 2026

عظمت و شان مصطفی ﷺ (۱)

 

عظمت و شان مصطفی ﷺ (۱)

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بیشک اللہ تعالی نے اولاد  ابراہیم علیہ السلام سے حضرت اسماعیل کو چن لیا پھر حضرت اسماعیل کی اولاد سے بنی کنانہ کو منتخب کیا اور بنی کنانہ کی  اولاد سے قبیلہ قریش کو فضیلت بخشی اور قبیلہ قریش سے خاندان ہاشم کو ممتاز کیا اور خاندان بنو ہاشم سے مجھے چن لیا ۔ (سبل الہدی )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حضرت آدم علیہ السلام کی تمام اولاد سے میں اپنے رب کے نزدیک معزز و  مکرم ہو ں ۔ میں یہ بات فخر و مباہات کے لیے نہیں کر رہا بلکہ اظہار حقیقت کر رہا ہو ں ۔ ( ترمذی )۔
  حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایک روز جبرئیل امین میرے پاس حاضر ہوئے اور عرض کی کہ میں نے زمین کے مشرق و مغرب کو چھان مارا ہے لیکن میں نے کوئی ایسامرد نہیں دیکھا  جو آپ ﷺ سے افضل ہو اور نہ کوئی خاندان دیکھا ہے جو خاندان بنو ہاشم سے اعلی ہو ۔ ( الطبرانی )۔
حضرت ابن وہب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالی نے مجھے ارشاد فرمایا اے  میرے محبوب مجھ سے مانگو ۔ میں نے عرض کی اے میرے پرودگار میں تجھ سے کیا مانگو ں ۔ تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام  کو اپنا خلیل بنایا ، حضرت موسی علیہ السلام سے بلا واسطہ کلام کیا ، حضرت نوح علیہ السلام کو چن لیا ، حضرت سلیمان علیہ السلام کو وہ ملک عظیم عطا کیا جو آپ کے بعد کسی کو نہیں دیا جائے گا ۔ یہ سن کر اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا : اے  میرے محبوب میں نے آپ کو وہ عطا کیا ہے جو ان سب سے اعلی ہے ۔میں نے آپ کو کوثر عطا کی ۔ میں نے آپکے نام کو اپنے نام کے ساتھ ملایا جو ہر اذان و شہادت کے وقت فضا میں گونجتا ہے ۔ اور میں نے زمین کو آپ کے لیے اور آپ کی امت کے لیے طہارت کا سبب بنایا ۔ اور آپ پر جو الزامات ہجرت سے پہلے لگے اور جو ہجرت کے بعد  لگائے گئے میں نے ان سب سے آپ کے دامن کو پاک کر دیا ۔آپ لوگوں میں اس حالت میں چلتے ہیں کہ آپ  مغفور ہیں اور یہ مہربانی آپ سے پہلے میں نے کسی کے ساتھ نہیں کی ۔ اور میں نے آپ کے امتیوں کے دلوں کو قرآن کریم کاحامل بنادیا ہے اور میں نے مقام شفاعت آپ کے لیے مخصوص کر رکھا ہے ۔ حالانکہ میں نے آپ کے بغیر کسی  نبی کو یہ شان عطا نہیں فرمائی ۔ ( الشفائی)۔

جمعرات، 3 ستمبر، 2026

رضاعت مصطفی ﷺ(۲)

 

رضاعت مصطفی ﷺ(۲)

حضرت حلیمہ فرماتی ہیں کہ جب میں آپ ﷺ کو گود میں لے کر خیمہ میں پہنچی تو میرا خاوند اس بوڑھی اور لاغر اونٹنی کی طرف گیا تو اس کی کھیری دودھ سے بھری دیکھی اور بہت خوش ہوا ۔ اس نے دودھ دوہا خود بھی جی بھر کر پیا ، میں  نے بھی سیر ہو کر پیا اور رات کو ہم سب خوب سوئے جب صبح اٹھے تو میرے خاوند نے کہا :’’ اللہ کی قسم اے حلیمہ تو بڑی برکت والی روح لے آئی ہے ۔ میں نے کہا اللہ کی قسم میں بھی یہی امید رکھتی ہوں ۔ ( السیر ۃ الحلبیہ)۔
آپ فرماتی ہیں جب ہمیں بچے مل گئے اور ہمارا قافلہ واپس جانے لگا تو میرے پاس وہی گدھی تھی جو کمزوری کی وجہ سے چل نہیں سکتی  تھی لیکن جیسے ہی میں نبی کریم ﷺ کو لے کر اس پر سوار ہوئی تو میری گدھی ایسے چلی کہ ساری سواریاں پیچھے رہ گئیں ۔ قافلے والیاں کہنے لگیں حلیمہ بتا تو سہی یہ وہی سواری ہے جو قدم اٹھانے سے معذور تھی آپ نے کہا خدا کی قسم یہ وہی سواری ہے لیکن بھلا دیکھو  تو سہی اس پر سوار کون ہے ۔
آپ کہتی ہیں جب ہم اپنی قیام گاہ پہنچے تو یہ علاقہ سب سے زیادہ قحط زدہ تھا گھاس کا ایک تنکا بھی نظر نہیں آتا تھا لیکن جب میری بکریاں  شام کو واپس آتیں تو ان کے پیٹ خوب بھرے ہوتے اور ان کی کھیریاں دودھ سے بھری ہوتیں ہم خوب سیر ہو کر دودھ پیتے۔جب دوسرے لوگوں کی بکریاں واپس آتیں تو ان کے پیٹ خالی ہوتے اور کھیریاں بھی دودھ سے خالی ہوتیں تو اپنے چرواہوں کو ناراض ہوتیں تم وہاں بکریاں کیوں نہیں چراتے جہاں حلیمہ کی بکریاں چرتی ہیں ۔ 
آپ فرماتی ہیں دن بدن انعاما ت وبرکات کا سلسلہ بڑھتا گیا یہاں تک کہ دو سال کا عرصہ پورا ہو گیا اور ہم آپ ﷺ کو حضرت آمنہ کے پاس لے آئے لیکن ہمارا دل جدائی برداشت کر نے کے لیے تیار نہ تھا ۔ ہم نے سیدہ آمنہ سے کہا کہ اپنے فرزند کو مزید کچھ عرصہ ہمارے پاس رہنے دیں ۔ حضرت حلیمہ کے اصرار پر حضرت آمنہ مان گئیں ۔ جب حضرت حلیمہ آپ ﷺ کو لے کر خیمہ پہنچی تو قبیلے والی دوسری عورتیں  بہت خوش ہوئیں ۔ 
حضرت حلیمہ فرماتی ہیں کہ لوگوں کے دلوں میں آپ ﷺ کی محبت ڈال دی گئی تھی جب کوئی بیمار ہوتا تو وہ تکلیف والی جگہ پر آپ ﷺ کا ہاتھ رکھتاتو اللہ تعالی اسے شفا عطا فرماتا ۔ ( السیرۃ الحلبیہ )۔ ایک دفعہ حضرت حلیمہ سعدیہ نے دیکھا کہ ایک بادل کا ٹکڑا دھوپ سے بچانے کے لیے آپ ﷺ پر سایہ کر رہا تھا آپ ﷺ کھڑے ہوتے  تو رک جاتا جب آپ ﷺ چلتے تو بادل کا ٹکڑا بھی چل پڑتا ۔ ( السیرۃ الحلبیہ )

بدھ، 2 ستمبر، 2026

رضاعت مصطفی ﷺ(۱)

 

رضاعت مصطفی ﷺ(۱)

کسی ماں کی گود میں آنے والا بچہ عموما ً اس گھر کی خوشی ہوتا ہے ۔ مگر جب وہ بچہ اللہ کا محبوب اور رحمت دو عالم ﷺ ہو تو اس گھر کی  سعاد ت کا اندازہ الفاظ سے نہیں کیا جا سکتا ۔ دنیا میں ایسے بے شمار بچے دیکھے جو وقت کے ساتھ بڑے ہوئے اور پھر گمنامی میں کھو  گئے ۔ لیکن ایک بچہ ایسا بھی تھا جس کی آمد نے ایک گھر کو ایسی نسبت عطا کر دی کہ صدیوں بعد بھی اس کا ذکر عقیدت سے کیا جاتا  ہے ۔ یہ سعادت حضرت حلیمہ سعدیہ کے حصے میں آ ئی ۔ 
مکہ مکرمہ کی فضا میں پرورش پانے والے اس نور مجسم کو جب حضرت حلیمہ سعدیہ اپنی آغوش میں لے کر اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئی تو انہیں شاید یہ معلوم نہ تھا کہ وہ اپنے ساتھ محض ایک بچہ نہیں بلکہ رحمت ، برکت اور انسانیت کے سب سے عظیم محسن ﷺ کو  لے کر جا رہی ہے ۔ ان کی گود کو وہ شرف ملنے والا تھا جس کا تصور بھی عام انسانی سعادتوں سے بلند ہے ۔ ان کے گھر کی سادگی کو  ایسی نسبت نصیب ہونے والی تھی جس کے سامنے دنیا کی ہر ظاہری شان ماند پڑ جاتی ہے ۔ 
مکہ مکرمہ میں یہ رواج تھا کہ جب بچہ پیدا ہوتا تو مختلف قبائل کی عورتیں آتیں اور بچوں کو پالنے کے لیے لے جاتیں تا کہ رضاعت ختم ہونے کے بعد ان کے والدین سے انعام و اکرام لے سکیں ۔ قبیلہ بنی سعد کی چند خواتین بچوں کی تلاش کے لیے مکہ مکرمہ آ ئیں ، ان کے ساتھ حضرت حلیمہ سعدیہ بھی تھیں ۔ 
حضرت حلیمہ اپنا حال بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ یہ قحط اور خشک سالی کا موسم تھا ہمارے پاس کچھ نہ تھا ہم کمزور گدھی پر سوار ہو کر قافلے کے ساتھ نکلے ۔ ساتھ ایک اونٹنی بھی تھی جس کی کھیری میں دود ھ کا ایک قطرہ بھی نہ تھا ۔میری چھاتی میں بھی اتنا دودھ  نہیں تھا کہ میرا بچہ پیٹ بھر کے پی سکے وہ بھوک کی وجہ سے ساری رات روتا تھا ۔ 
مکہ پہنچ کر ساری عورتیں بچے کی تلاش میں گھر گھر چکر لگانے لگیں لیکن جب حضرت آمنہ کے گھر جاتیں توآپ ﷺ کو یتیم سمجھ کر چھوڑ دیتیں ۔آپ فرماتی ہیں کہ ہر عورت کو بچہ مل گیا لیکن میری غربت اور تنگدستی کی وجہ سے کسی نے مجھے بچہ نہ دیا ۔آخرمیں 
میں نے اپنے خاوند سے کہا کہ ہم اس یتیم بچے کو لے آتے ہیں کم از کم خالی گود تو واپس نہ جائیں ۔ آپ فرماتی ہیں جب میں نےآپ ﷺ کو دیکھا تو حسن وجمال کو دیکھ کر حیرت میں پڑ گئی ، جب آپ ﷺ نے آنکھیں کھولیں تو آنکھوں سے انوار نکل رہے تھے ۔ میں نے بے اختیار آپ ﷺ کی پیشانی کو بوسہ دیا اور اٹھا کر سینے سے لگا لیا ۔

منگل، 1 ستمبر، 2026

حضور نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارک (۳)

 

حضور نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارک (۳)

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم رؤف الرحیم ﷺ جب مدینہ منورہ کی کسی گلی سے گزرتے تو اس کے بعد وہ راستے میں مشک کی خوشبو پاتے اور کہتے تھے اس راستے سے نبی کریم ﷺ کا گزر ہوا ہے ۔ ( مجمع الزوائد)۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب نبی کریم ﷺ ہماری طرف تشریف لاتے تو ہم آپ ﷺ کی پاکیزہ خوشبو سے پہچان لیتے کہ آپ ﷺ تشریف لا رہے ہیں ۔ ( معجم الاوسط )۔
نبی کریم ﷺ کی آنکھیں بھی نہایت خوبصورت ، کشادہ اور پر کشش تھیں ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک سرمہ دانی تھی جس سے آپ ﷺ اپنی دونوں آنکھوں میں تین تین سلائی سرمہ لگاتے تھے ۔ ( ابن ماجہ )۔
نبی کریم ﷺ اپنی چشمان مبارک میں سرمہ لگاتے تھے لیکن قدرتی طور پر بھی آپ ﷺ کی آنکھیں سرمگین تھیں ۔جیسا کہ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب میں رسول اللہ ﷺ کی طرف دیکھتا تو کہتا کہ آپ کی آنکھوں میں سرمہ لگا ہوا ہے حالانکہ آپ ﷺ کی  آنکھوں میں سرمہ نہ ہوتا تھا ۔ ( ترمذی )۔
حضور نبی کریم ﷺ کی بصارت بھی کمال تھی۔ آپ ﷺ جیسے آگے دیکھتے تھے ویسے پیچھے دیکھتے اور جس طرح نزدیک دیکھتے تھے ویسے دور بھی دیکھتے تھے ۔ 
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی اور پھر آپ ﷺ منبر پر تشریف لے گئے اور نماز اور  رکوع کے متعلق فرمایا، بیشک میں تمہیں اپنے پیچھے بھی ایسے ہی دیکھتا ہو جس طرح تمہیں سامنے دیکھتا ہوں ۔ ( بخاری )۔
صحیح مسلم میں حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ تعالی نے تمام روئے زمین کو میرے لیے سمیٹ  دیا تو میں نے اس کے مشارق و مغارب کو دیکھ لیا ۔حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا بیشک میں وہ کچھ  دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ ( ترمذی)۔
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ کی قسم میں اب بھی اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں ۔ ( بخاری )۔ حضور نبی کریم ﷺ کے حسن و جمال کو صحابی رسول حضرت حسان بن ثابت اس طرح بیان فرماتے ہیں:
 و احسن منک لم تر قط عینی
واجمل منک لم تلد لانساء 
خلقت مبر اء من کل عیب 
کانک قد خلقت کما تشاء

پیر، 31 اگست، 2026

حضور نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارک (۲)

 

حضور نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارک (۲)

نبی کریم ﷺ کے بال مبارک خوب سیاہ تھے اور داڑھی مبارک نہات خوبصورت ، معتدل اور گنجان تھی ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان  کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کے بال درمیانے تھے۔ نہ بالکل سیدھے اور نہ ہی بالکل گھنگریالے۔ آپ ﷺ کے بال کانوں اور کندھوں کے درمیان تھے ۔ ( بخاری )۔  حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی داڑھی مبارک کے بال بہت زیادہ تھے ۔ (مسلم شریف )۔
حضور نبی کریم ﷺ کے موئے مبارک بھی با برکت تھے صحابہ کرام انہیں اپنے پاس رکھنا باعث برکت سمجھتے تھے ۔ حضرت ابن سیرینؓ کہتے ہیں میں نے عبیدہ ؓ سے کہا ہمارے پاس نبی کریم ﷺ کے بال مبارک ہیں جو ہمیں حضرت انس ؓ کی طرف سے یا ان کے گھر والوں کی طرف سے ملے تھے ۔ حضرت عبیدہ ؓ نے کہا میرے پاس نبی کریم ﷺ کے بال مبارک کا ہونا مجھے دنیا اور جو کچھ اس دنیا میں ہے،  سے  زیادہ محبوب ہے ۔ ( بخاری )۔
کنزل العمال میں  ہے کہ حضرت علیؓ فرماتے ہیں میں نے خود نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا جس نے میرے ایک بال کی بھی توہین کی اس  پر جنت حرام ہے ۔ 
حضور نبی رحمت ﷺ کا پسینہ بھی خوشبو دار تھا۔ آپ ﷺ کے پسینے جیسی خوشبو مشک اور عنبر سے بھی نہیں آتھی تھی ۔ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے اور قیلولہ فرمایا ،آپ ﷺ کو پسینہ آیاتو میری والدہ ایک شیشی میں پسینہ جمع کرنے لگیں۔ نبی کریم ﷺ جاگ گئے اور فرمایا اے ام سلیم یہ آپ کیا کر رہی ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا یہ آپ ﷺ کا پسینہ ہے اس کو ہم خوشبو میں ڈالیں گے اور یہ سب سے عمدہ خوشبو ہے ۔ ( مسلم )۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کے  پسینہ مبارک کے قطرات موتیوں کی طرح ہیں اور آپ ﷺ کے پسینہ کی خوشبو عمدہ مشک سے بھی زیادہ خوشبودار ہے ۔ ( الائل النبوہ )۔
اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کے جسم اطہر کو بھی خوشبودار بنایا تھا یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی آپ ﷺ سے مصافحہ کرتا تو دن بھر آپ ﷺ  کی خوشبو محسوس کرتا تھا ۔
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں میں نے کسی ریشم کو نبی کریم ﷺ کی ہتھیلی سے زیادہ نرم محسوس نہیں کیا اور میں نے کبھی کوئی خوشبو یا عطر نہیں سونگھاجو نبی کریم ﷺ کے (جسم اطہر ) کی خوشبو یا آپ ﷺ کے عطر یعنی پسینہ سے زیادہ خوشبودا ر ہو ۔ ( بخاری )۔

اتوار، 30 اگست، 2026

حضور نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارک (۱)

 

حضور نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارک (۱)

دنیا میں حسن کے بے شمار پیمانے قائم کیے گئے مگر جب نگاہ عقیدت مدینہ منورہ کے تاجدارحضرت آمنہ کے لال رحمت ِ دو عالم جانِ کائنات  حبیب خدا احمد مجتبی ﷺ کے سراپا اقدس پر پڑتی ہے تو حسن و جمال کے تمام تصورات ماند پڑجاتے ہیں آپ ﷺ کی ذات اقدس میں صر ف اخلاق و کردار ہی میں کامل نہ تھی بلکہ اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو ظاہری حسن و جمال کی بھی بے مثال نعمت عطا فرمائی تھی ۔ 
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ ﷺ کے حلیہ مبارک کو جس محبت ، ادب اور عقیدت سے بیان کیا وہ دراصل ان کے دلوں میں  موجود عشقِ مصطفی ﷺ کی روشن تصویر ہے ۔ آپ ﷺ چہر انور نور کی طرح روشن ، تبسم دل آویز ، شیرینی گفتگو اور سراپا ایسا با وقار تھا کہ دیکھنے  والا بے اختیار آ پ ﷺ کی عظمت کا اسیر ہو جاتا تھا ۔ 
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ نہ بہت لمبے اور نہ بہت چھوٹے تھے یعنی درمیانے قد کے تھے، آپ ﷺ کارنگ نہ بہت سفید اور نہ بہت گندمی تھا ، آپ ﷺ کے بال نہ سخت گھنگریالے اور نہ بالکل سیدھے تھے ۔ (بخاری )۔
حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول خدا ﷺ کا قد درمیانہ ، دونوں کندھوں کے درمیان کا حصہ چوڑا ، داڑھی گھنی ، رنگت سرخی مائل  تھی ۔ آپ ﷺ کی زلفیں کانوں کی لوؤں تک تھیں ، میں نے آپ ﷺ کو سرخ حلہ میں دیکھا ، میں نے آپ ﷺ سے زیادہ خوبصورت کوئی نہیں دیکھا۔ ( نسائی )۔
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے ایک چاندنی رات نبی کریم ﷺ کو سرخ لباس پہنے ہوئے دیکھا میں رسول اللہ ﷺاور چاند کو دیکھنے لگا تو نبی کریم ﷺ چاند سے زیادہ خوبصورت تھے ۔ ( ترمذی )۔
ام المئومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے تمام روئے زمین کے مشارق و مغارب کو الٹ پلٹ کر کے دیکھا ، میں نےکسی کو نبی کریم ﷺ سے افضل نہیں پایا ۔ ( معجم الاوسط )۔
حضور نبی رحمت ﷺ کا چہرہ اقدس جمال کا مظہر تھا اور اللہ تعالی کی انوار تجلیات کا مرکز و محور تھا ۔حضرت حارث بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں منیٰ یا عرفات میں نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ،آپ ﷺ کی زیارت کے لیے لوگ تشریف لا رہے تھے ۔جو بھی اعرابی  آپ ﷺ کے چہر ہ انور کو دیکھتا تو کہتا یہ بڑا با برکت چہر ہ ہے ۔ ( ابو داؤد )۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالی نے جو بھی نبی بھیجا وہ خوبصورت چہرے والا اور دلکش آواز والا ہے اور تمہارے نبی ﷺ کا چہرہ اور آواز سب سے زیادہ خوبصورت ہے ۔ ( المواہب اللدنیہ )۔

ہفتہ، 29 اگست، 2026

ولادت مصطفی ﷺ

 

ولادت مصطفی ﷺ 

حضور نبی کریم ﷺ کی آمد سے قبل عرب اور پوری دنیا کے حالات بہت خراب تھے ہر طرف تاریکی چھائی ہوئی ۔لوگ کفر شرک میں مبتلا  تھے یہاں تک کہ خانہ کعبہ میں بھی 360 بت رکھے ہو ئے تھے ۔ غلاموں اور عورتوں کی بالکل بھی عزت نہیں تھی اگر بیٹی پیدا ہوتی تو اسے  زندہ درگور کر دیا جاتا تھا ۔ہر طرف قتل و غارت اور جنگ و جدل عام تھی ۔ اللہ تعالی نے انسانیت کو اس تاریکی سے نکالنے کے لیے اپنا محبوب  بھیجا جن کی آمد سے تاریکیوں کو روشنی مل گئی ، خانہ کعبہ میں پڑے بت گر پڑے ، یتیموں کو ان کا حق مل گیا ، غلاموں کو ان کا کھویا ہوا مقام  ملا اور آپ ﷺ کی آمد سے عورتوں کو مقام و مرتبہ ملا ۔ 
حضرت عبد المطلب بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی تو اس وقت میں خانہ کعبہ میں تھا۔ میں نے دیکھا کہ  کعبہ معظمہ میں رکھے بت گِر پڑے ۔ ( السیرہ النبویہ )۔
اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ جب تم پر میرا فضل اور رحمت ہو تو خوشی مناؤ ۔ ارشاد باری تعالی ہے :(اے محبوب ﷺ ) تم  فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں“۔(سورہ یونس :آیت ۸۵)۔  حضور نبی رحمت ﷺ اللہ تعالی کا فضل عظیم اور رحمت عظیم ہیں اس سے بڑھ کر اور اللہ تعالی کا فضل کیا ہو سکتا ہے کہ ہمیں اپنا محبوب عطا فرمایااور ان کا امتی بنا کر ظلمت کے اندھیروں سے نکالا ۔ نبی کریم ﷺ کی آمد سے قبل انسان اپنی اصل منزل سے دور اور زندگی کے حقیقی مقصد سے بے خبر تھا ۔نبی کریم ﷺ نے آ کر انسان کو اس  کے رب سے جوڑا ، عدل و انصاف سکھایا اور یہ بتایا کہ انسان کی عظمت مال ، نسب یا طاقت میں نہیں بلکہ تقوی ، کردار اور اطاعت الہی میں  ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ کی ولادت با سعادت کا ذکر کرتے ہوئے الفاظ اپنی تمام تر وسعت کے باوجود محدود محسوس ہوتے ہیں کیونکہ جس  ہستی کی آمد پوری انسانیت کے لیے رحمت بن کر ہوئی اس کی عظمت کو چند جملوں میں سمیٹنا ممکن نہیں ۔
ہمیں ولادت مصطفی ﷺ کو ایک رسم یا چند تقریبات تک محدود نہیں کر نا چاہیے بلکہ اس کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے دلوں میں محبت مصطفی ﷺ کو زندہ کریں اور اسی محبت کو اپنے کردار اور اعمال سے ظاہر کریں ۔  اگر ماہ ربیع الاول ہمیں درود سلام کی کثرت کے ساتھ سیرت مصطفی ﷺ کو اپنی زندگی میں اتارنے کا شعور دے دے ، کسی مظلوم کے لیے ہمارے دل میں رحم پیدا ہو جائے، کسی ضرورت مند کا ہاتھ تھامنے کی توفیق مل جائے اور اگر ہماری زندگی کا کوئی ایک گوشہ سنت نبوی ﷺ  کے نور سے روشن ہو جائے تو یہی ولادت مصطفی ﷺ کے تذکرے کی حقیقی برکت ہے ۔

جمعہ، 28 اگست، 2026

ولادت مصطفی ﷺ (۱)

 

ولادت مصطفی ﷺ (۱)

تاریخ کے اوراق میں بے شمار واقعات رقم ہوئے، سلطنتیں وجود میں آئیں اور مٹ گئیں ، بڑے بڑے فاتحین دنیا کے نقشے پر ابھرے اور وقت کی گرد میں گم ہو گئے مگر ایک واقعہ ایسا ہے جس کی تابانی صدیوں کے گزرنے کے باوجود ماند نہیں پڑی ۔ یہ عظیم واقعہ نبی کریم  رؤ ف الرحیم ﷺ کی ولادت با سعادت کاہے جب مکہ کی وادی میں 12 ربیع الاول کو صبح صادق دنیا بھر کے قبیلوں میں سے بہتر قبیلے  اور خاندانوں میں سے بہترین خاندان میں حضرت آمنہ اور حضرت عبد اللہ کے گھر وہ آفتاب طلوع ہوا جس کی کرنوں نے صرف عرب  کی سرزمین ہی کو نہیں بلکہ پوری انسانیت کے دل و دماغ کو منور کر دیا ۔ 
حضرت مطلب بن ابی وادعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب ہوں ۔  اللہ تعالی نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو مجھے سب سے بہتر مخلوق میں رکھا پھر ان کے دو گروہ بنائے تو مجھے سب سے بہتر گروہ میں رکھا پھر ان  کے قبائل بنائے تو مجھے سب سے بہتر قبیلہ میں رکھا پھر ان کے گھر انے بنائے تو مجھے اپنے گھرانے اور ذات کے اعتبار سے سب سے  بہتر بنایا ۔ ( ترمذی )۔

حضور نبی کریم ﷺ کا خاندان و نسب و شرافت میں تمام دنیا کے خاندانوں سے افضل و اعلی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ  کے دشمن کفار مکہ بھی اس کا انکار نہیں کرتے تھے ۔ حضرت ابو سفیان نے جب وہ ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے بادشاہ روم کے سامنے اس  بات کا اقرار کیا کہ نبی اکرم ﷺ ” عالی خاندان “ ہیں ۔ ( بخاری شریف)
مسلم شریف کی روایت ہے کہ اللہ تعالی نے حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے ”کنانہ “ کو برگزیدہ بنایا اور ”کنانہ “ میں سے” قریش“ کو اور قریش میں سے بنی ہاشم کو منتخب فرمایا ۔ یعنی حضور نبی کریم ﷺ کا خاندان اس قدر بلند و بالا ہے کہ کوئی بھی حسب و نسب والا آپ ﷺ  کی مثل نہیں ۔*

جمعرات، 27 اگست، 2026

اللہ تعالی کی نعمت عظیم (۱)

 

اللہ تعالی کی نعمت عظیم (۱)

کسی نعمت کی عظمت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان اس کے بغیر اپنی زندگی کا تصور کرے ۔اگر انسان ایک لمحے کے لیے سوچے کہ اس کو اللہ تعالی کی معرفت نہ ملتی ، حق و باطل میں امتیاز کا شعور نہ ہوتا ، زندگی کے مقصد سے اگاہی نہ ہوتی اور آخرت کی کامیابی کا راستہ  واضح نہ ہوتا تو دنیا کی تمام آسائشیں بھی اس کے لیے بے معنی ہو جاتیں۔اللہ تعالی نے انسانیت پر بے شمار انعامات فرمائے مگر اہل ایمان  کے لیے سب سے بڑا اور عظیم انعام حضور نبی رحمت سرور کونین ﷺ کی بعثت ہے ۔
اللہ تعالی نے انسان کو اس قدر نعمتوں سے نوازا ہے کہ اس کا شمار بھی نہیں کر سکتا اور ہر نعمت اتنی قیمتی ہے کہ دنیا کی ساری دولت بھی خرچ کر  کے نہیں خریدی جا سکتی ۔ ہاتھ ، پاؤں ، ناک ، کان ، آنکھ ، زمین و آسمان ، چاند ، سورج ، ستارے ، اورا ناج ایسی نعمتیں ہیں کسی ایک کے بغیر  بھی زندگی کا تصور مشکل ہو جاتا ہے ۔ لیکن اتنی نعمتیں عطا کرنے کے باوجود اللہ تعالی نے یہ نہیں فرمایا کہ میں نے تم پر احسان فرمایا ہے ۔  لیکن جب باری آئے اما م لانبیاء ، خطیب الانبیاء ، ، خاتم الانبیاء حضرت آمنہ کے لال ، حضرت عبد اللہ کے چاند رحمت دو عالم ﷺ کی تو  اللہ تعالی نے فرمایا کہ اے مومنو یہ میرا تم پر احسان ہے میں نے تمہیں اپنا محبوب عطا فرمایا ہے ۔کیونکہ یہ نعمت سب سے بڑی نعمت ہے۔  باقی تمام نعمتیں اسی کے صدقے ملی ہیں اگر محبوب خدا نہ ہوتے تو کسی بھی نعمت کاوجود نہ ہوتا ۔ایمان ،  ہدایت ،اور قرآن نبی کریم ﷺ کے طفیل ہی ملا اورآخرت میں کامیابی بھی نبی رحمت ﷺ کے توصل سے ہی ملے گی ۔
ارشاد باری تعالی ہے : ’’بیشک اللہ کا بڑا احسان ہوا مومنو پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا جو ان پر ا س کی آیتیں پڑھتا ہے اور وہ ضرور اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے‘‘ ۔ (سورۃ ال عمران )۔
 حدیث قدسی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے اگر آپ نہ ہوتے تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا ۔ دنیا میں انسان کو  بہت سی نعمتیں ملتی ہیں مال و دولت ، اولاد ، صحت ، عزت ، علم ، مگر یہ تمام نعمتیں محدود اور عارضی ہیں ۔ انسان مال کھو سکتا ہے ، صحت ختم ہو جاتی  ہے ،اقتدار چھن جاتا ہے اور دنیاوی عزت بھی وقت کے ساتھ بدل جاتی ہے لیکن نبی کریم ﷺ وہ نعمت ہیں جن کے ذریعے انسان کو دائمی  کامیابی کا راستہ ملا ۔  ہے جہاں میں جن کی چمک دمک ،ہے چمن میں جن کی چہل پہل ہے۔
    وہی اک مدینہ کے چاند ہیں 
سب انہی کے دم کی بہار ہے

بدھ، 26 اگست، 2026

رحمتِ کونین ﷺ(۲)

 

رحمتِ کونین ﷺ(۲)

حضور نبی کریم ﷺ کی زندگی میں بحثیت رحمۃ اللعالمین بے شمار واقعات ملتے ہیں ۔ آپ رحمۃ اللعالمین ہی ہیں جو مجبور اور بے سہارا لوگوں کے کام آتے تھے ۔ ایک مرتبہ ایک عورت مکہ مکرمہ کی ایک گلی میں کچھ سامان سر پر اٹھا کر لے جا رہی تھی وہ سامان اتنا وزنی تھا کہ اس سے اٹھا یا نہیں جا  رہا تھا لوگ اس کو دیکھ کر ہنس رہے تھے ۔ قریب ہی نبی کریم ﷺ کھڑے تھے آپ نے اس عورت کا سامان اٹھایا اور اس کو اس کے گھر تک چھوڑ کر آئے ۔ 
ایک دن آپ ﷺ نے دیکھا کہ ایک غلام آٹا پیس رہا ہے اور درد کی وجہ سے کراہ رہا تھا ۔ آپ ﷺ اس کے پاس گئے تو پتا چلا کہ وہ بیمار ہے اور  اس کا آقا اس کو چھٹی نہیں دے رہا ۔ آپ ﷺ نے اس کو کہا کہ تم آرام کرو اور خود سارا آٹا پیس دیا اور فرمایا آئندہ جب کبھی آٹا پیسنا ہو تو مجھے بلا لینا ۔ 
ایک مرتبہ آپ ﷺ کہیں جا رہے تھے کہ آپ نے دیکھا کہ ایک باغ میں آقا نے ایک بوڑھے غلام کو باغ میں پانی دینے کا کام سونپ رکھا ہے ۔
 باغ سے ندی کافی دور تھی ۔ آپ ﷺ نے دیکھا کہ بوڑھا بڑی مشکل سے پانی بھر کر لا رہا ہے۔  رحمۃ اللعالمین آقا ﷺ نے اس کو آرام سے بٹھا  دیا اور خود پانی بھر بھر کے لا کر اس باغ کو سیراب کیا ۔
ہندہ نامی خاتون نے حضور نبی کریم ﷺ کے پیارے چچا حضرت حمزہ ؓ کا کلیجا چبایا لیکن جب مشرف بہ اسلام ہوئی اور حضور نبی کریم ﷺ سے معافی کا سوال کیا تو نبی کریم ﷺنے اسے معاف فرمادیا ۔
حضور نبی کریم ﷺ کا غلاموں اور خادموں کے ساتھ بھی حسن سلوک بے مثال تھا ۔حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ میں  نے نبی کریم ﷺ  کی خدمت اقدس میں کئی سال گزارے لیکن نبی کریم ﷺ نے مجھے کبھی  کسی غلطی پر ڈانٹا نہیں ۔
حضور نبی کریم ﷺ پرندوں اور جانوروں کے لیے بھی سراپا رحمت تھے ۔ حضورنبی کریم ﷺ نے جانوروں پر بھی زیادہ بوجھ ڈالنے سے منع فرمایا ۔
ایک مرتبہ سفر کے دوران صحابہ نے کسی درخت سے پرندے کے بچے اٹھا لیے تو ان کی ماں بے چین ہو کر ان کے ارد گرد چکرلگانے لگی نبی کریم ﷺ  کو جب علم ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کے بچے چھین کر اسے غمگین کیوں کرتے ہو ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کے بچے وہیں رکھ دیں ۔( دلائل النبوہ )۔
آپﷺ وہ آفتاب ہیں  جن کی روشنی سے صرف عالم رنگ و بو ہی روشن نہیں بلکہ وہ جہان لطیف بھی درخشاں ہے جو رنگ و بو سے ماورا ہے ۔ حقیقت  تو یہ ہے کہ وہاں اس آفتاب رحمت کی نور افشانی کا رنگ ہی نرالا ہے جو نہ زبان پر لایا جا سکتا ہے اور نہ ہی قلم سے لکھا جاسکتا ہے ۔ اس رحمت کی  برکتوں سے عقل بھی بہرور ہے اور دل کی دنیا بھی شاد کام ہے ۔ بقول علامہ محمد اقبال علیہ الرحمہ :
تیری نگاہ ناز سے دونوں مراد پا گئے
عقل غیاث و جستجو ، عشق حضور و اضطراب
شوکت سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود
فقر جنید و با یزید تیرا جمالِ بے نقاب

منگل، 25 اگست، 2026

رحمتِ کونین ﷺ(۱)

 

رحمتِ کونین ﷺ(۱)

کائنات بست و بود میں اللہ تعالی کی بے شمار نعمتیں ہیں مگر نبی کریم ﷺ کا رحمۃ اللعالمین ہونا اللہ تعالی کی ایک عظیم نعمت ہے ۔حضور نبی کریم ﷺ  صرف اہل ایمان کے لیے ہی نہیں بلکہ چرند ، پرند ، حیوانات ، نباتا ت اور جن و انس سب کے لیے رحمت ہیں ۔ ارشاد باری تعالی ہے :  ”اور ہم نے آپ کو تمام جہانو ں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا “۔ ( سورۃ الانبیاء)۔
علامہ سید آلوسی علیہ الرحمہ اس آیت مبارکہ کی تفصیل لکھتے ہو ئے فرماتے ہیں ”حضور نبی کریم ﷺ کا تما م کائنات کے لیے رحمت ہونا اس اعتبار  سے ہے کہ عالم امکان کی ہر چیز کو حسب استعدادجو فیض الہی ملتا ہے وہ حضور نبی کریمﷺ کے واسطے سے ملتا ہے ۔ اسی لیے اللہ تعالی نے حضور نبی  کریم ﷺ کا نور تمام مخلوقات سے پہلے پیدا فرمایا ہے ۔ حدیث مبارکہ میں ہے کہ اے جابر اللہ تعالی نے سب سے پہلے میرے نور کو پیدا فرمایا ۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالی دینے والا ہے اور میں اس کی رحمت کے خزانوں کو بانٹنے والا ہوں ۔ ( روح المعانی )۔
شایاں ہے تجھ کو سرور کونین کا لقب     
نازاں ہے تجھ پہ رحمت اللعالمین کا خطاب
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا رحمت ہونا عام ہے ۔ ایمان والے کے لیے بھی اوران کے لیے بھی جو ایمان نہیں لائے ۔  مومن کے لیے حضور نبی کریم ﷺ دنیا و آخرت دونوں میں رحمت ہیں اور جو ایمان نہیں لائے ان کے آپﷺ دنیا میں  رحمت ہیں ۔کیونکہ اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کی بدولت ان پر دنیا میں آنے والے عذاب کو مؤخر کردیا گیا یعنی ان سے زمین میں دھنسانے کا عذاب ، شکلیں بگاڑدینے کا عذاب اور جڑ سے اکھاڑ دینے کاعذاب اٹھا دیا گیا ۔( خازن الانبیاء)۔
نبی رحمت سرور کونین ﷺ اپنی امت کے دکھ اور تکلیف کو انتہائی شدت سے محسوس فرماتے تھے ۔جیسا کہ سورۃ توبہ میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :  ”بیشک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گِراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر  کمال مہربان اور رحیم۔     
حضور نبی کریم ﷺ یتیموں کے لیے بھی رحمت ہیں ۔ ایک مر تبہ ایک یتیم بچہ حضور نبی کریم ﷺ کے پا س حاضرہوا اور کہا کہ میرے والد کے مرنے کے  بعد ابو جہل نے میرا سارا مال ہڑپ کر لیا ہے اور مجھے کچھ نہیں دیتا ۔ یہاں تک کہ میں اپنا جسم ڈھانپنے کے لیے کپڑوں سے بھی محروم ہوں۔ آپ ﷺ  نے اس بچے کو ساتھ لیا اور ابو جہل کے پاس چلے گئے اور بڑے رعب کے ساتھ فرمایا : اس بچے کا مال اس کو دے دو ۔ ابو جہل میں اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ آپ ﷺ کی بات کو رد کر دیتا اور اس نے اسی وقت یتیم کا مال لا کر اس کو دے دیا ۔

پیر، 24 اگست، 2026

ولادت مصطفی ﷺ کی بشارتیں (۲)

 

ولادت مصطفی ﷺ کی بشارتیں (۲)

حضور نبی کریم ﷺ کی آمد کی بشارت سابقہ آسمانی کتب تورات اور انجیل میں بھی موجود تھی ۔ اسی لیے دونوں جہانوں کی کامیابی کا تاج صرف ان لوگوں پر سجے گا جو حضور نبی کریم ﷺ پر ایمان لائیں گے ، آپﷺ کی تعظیم و توقیر کریں گے اور اس نور کی پیروی کریں گے جو حضور نبی کریم  ﷺ کے ساتھ نازل ہوگا ۔
سابقہ آسمانی کتب کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :” جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبی امی ہے جس کو وہ پاتے ہیں لکھا ہوا  اپنے پاس تورات اور انجیل میں۔ وہ نبی حکم دیتا ہے انہیں نیکی کا اور روکتا ہے برائی سے اور حلال کرتا ہے ان کے لیے پاک چیزیں اور حرام کرتا  ہے اس پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کا بوجھ اور وہ زنجیریں جو جکڑی ہوئی تھیں انہیں۔ پس جو لوگ ایمان لائے اس نبی پر اور تعظیم کی آپ کی اور امداد کی آپ کی اور پیروی کی اس نور کی جو اتارا گیا آپ کے ساتھ وہی کامیاب و کامران ہیں “۔ ( سورۃ الا عراف )۔ 
حضرت عیسی علیہ السلام نے بھی اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :ارشاد باری تعالی ہے ” اور یاد کرو جب فرمایا عیسی فرزند مریم نے  اے بنی اسرائیل ! میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں میں تصدیق کرنے والا ہوں تورات کی جو مجھ سے پہلے آئی اور خوشخبری دینے والا ہوں ایک رسول کی جو تشریف لائے گا میرے بعد اس کا نام احمد ہو گا پس جب وہ آیا ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر تو انہوں نے کہا یہ تو کھلا  جادوہے “۔ ( سورۃ الصف )۔
حضور نبی کریم ﷺ کی ولادت با سعادت سے پہلے جب یہود کی کفار اور مشرکین کے ساتھ جنگ ہوتی تو جب یہود کو ہار کے آثار نظرآتے تو اللہ  تعالی سے دعا کرتے اور کہتے ’ اے اللہ ! ہم تجھ سے تیرے اس نبی کا واسطہ دے کرعرض کرتے ہیں جس کی بعثت کا تو نے ہم سے وعدہ کیا ہے آج  ہمیں  اپنے دشمنوں پر فتح عطا کر تو حضور نبی کریم ﷺکے صدقے اللہ انہیں فتح عطا کرتا “۔ (روح المعانی )۔
ارشاد باری تعالی ہے :” اور وہ اس سے پہلے فتح مانگتے تھے کافروں پر تو جب تشریف فرما ہوا وہ نبی ان کے پاس جسے وہ جانتے تھے تو انکار کر دیا  اس کے ماننے سے۔ سو پھٹکار ہو اللہ کی دانستہ کفر کرنے والوں پر “۔ ( سورۃ البقرۃ )۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ، حضرت عیسی علیہ السلام کی بشارت اور سابقہ آسمانی کتابوں اور صحائف میں موجود نبی کریم ﷺ کے اوصاف  حمیدہ اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتے ہیں کہ حضور نبی رحمت ﷺکی آمد اللہ تعالی کی ایک عظیم منصوبہِ ہدایت کا حصہ تھی ۔ آپ ﷺ تشریف
لائے تو شرک کی تاریکیاں چھٹ گئیں ، انسانیت کو قرآن ملا ، اخلاق کو بلندی نصیب ہوئی اور قیامت تک کے لیے ہدایت کا راستہ روشن ہو گیا ۔

موانع و مظاہر عجز و انکسار

  موانع و مظاہر عجز و انکسار انسانی کردار کی تعمیر میں جن اخلاقی اوصاف کو بنیادی حیثیت حاصل ہے ان میں عجزو انکساری نمایاں مقام رکھتی ہے ۔ یہ...