پیر، 31 اگست، 2026

حضور نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارک (۲)

 

حضور نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارک (۲)

نبی کریم ﷺ کے بال مبارک خوب سیاہ تھے اور داڑھی مبارک نہات خوبصورت ، معتدل اور گنجان تھی ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان  کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کے بال درمیانے تھے۔ نہ بالکل سیدھے اور نہ ہی بالکل گھنگریالے۔ آپ ﷺ کے بال کانوں اور کندھوں کے درمیان تھے ۔ ( بخاری )۔  حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی داڑھی مبارک کے بال بہت زیادہ تھے ۔ (مسلم شریف )۔
حضور نبی کریم ﷺ کے موئے مبارک بھی با برکت تھے صحابہ کرام انہیں اپنے پاس رکھنا باعث برکت سمجھتے تھے ۔ حضرت ابن سیرینؓ کہتے ہیں میں نے عبیدہ ؓ سے کہا ہمارے پاس نبی کریم ﷺ کے بال مبارک ہیں جو ہمیں حضرت انس ؓ کی طرف سے یا ان کے گھر والوں کی طرف سے ملے تھے ۔ حضرت عبیدہ ؓ نے کہا میرے پاس نبی کریم ﷺ کے بال مبارک کا ہونا مجھے دنیا اور جو کچھ اس دنیا میں ہے،  سے  زیادہ محبوب ہے ۔ ( بخاری )۔
کنزل العمال میں  ہے کہ حضرت علیؓ فرماتے ہیں میں نے خود نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا جس نے میرے ایک بال کی بھی توہین کی اس  پر جنت حرام ہے ۔ 
حضور نبی رحمت ﷺ کا پسینہ بھی خوشبو دار تھا۔ آپ ﷺ کے پسینے جیسی خوشبو مشک اور عنبر سے بھی نہیں آتھی تھی ۔ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے اور قیلولہ فرمایا ،آپ ﷺ کو پسینہ آیاتو میری والدہ ایک شیشی میں پسینہ جمع کرنے لگیں۔ نبی کریم ﷺ جاگ گئے اور فرمایا اے ام سلیم یہ آپ کیا کر رہی ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا یہ آپ ﷺ کا پسینہ ہے اس کو ہم خوشبو میں ڈالیں گے اور یہ سب سے عمدہ خوشبو ہے ۔ ( مسلم )۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کے  پسینہ مبارک کے قطرات موتیوں کی طرح ہیں اور آپ ﷺ کے پسینہ کی خوشبو عمدہ مشک سے بھی زیادہ خوشبودار ہے ۔ ( الائل النبوہ )۔
اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کے جسم اطہر کو بھی خوشبودار بنایا تھا یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی آپ ﷺ سے مصافحہ کرتا تو دن بھر آپ ﷺ  کی خوشبو محسوس کرتا تھا ۔
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں میں نے کسی ریشم کو نبی کریم ﷺ کی ہتھیلی سے زیادہ نرم محسوس نہیں کیا اور میں نے کبھی کوئی خوشبو یا عطر نہیں سونگھاجو نبی کریم ﷺ کے (جسم اطہر ) کی خوشبو یا آپ ﷺ کے عطر یعنی پسینہ سے زیادہ خوشبودا ر ہو ۔ ( بخاری )۔

اتوار، 30 اگست، 2026

حضور نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارک (۱)

 

حضور نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارک (۱)

دنیا میں حسن کے بے شمار پیمانے قائم کیے گئے مگر جب نگاہ عقیدت مدینہ منورہ کے تاجدارحضرت آمنہ کے لال رحمت ِ دو عالم جانِ کائنات  حبیب خدا احمد مجتبی ﷺ کے سراپا اقدس پر پڑتی ہے تو حسن و جمال کے تمام تصورات ماند پڑجاتے ہیں آپ ﷺ کی ذات اقدس میں صر ف اخلاق و کردار ہی میں کامل نہ تھی بلکہ اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو ظاہری حسن و جمال کی بھی بے مثال نعمت عطا فرمائی تھی ۔ 
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ ﷺ کے حلیہ مبارک کو جس محبت ، ادب اور عقیدت سے بیان کیا وہ دراصل ان کے دلوں میں  موجود عشقِ مصطفی ﷺ کی روشن تصویر ہے ۔ آپ ﷺ چہر انور نور کی طرح روشن ، تبسم دل آویز ، شیرینی گفتگو اور سراپا ایسا با وقار تھا کہ دیکھنے  والا بے اختیار آ پ ﷺ کی عظمت کا اسیر ہو جاتا تھا ۔ 
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ نہ بہت لمبے اور نہ بہت چھوٹے تھے یعنی درمیانے قد کے تھے، آپ ﷺ کارنگ نہ بہت سفید اور نہ بہت گندمی تھا ، آپ ﷺ کے بال نہ سخت گھنگریالے اور نہ بالکل سیدھے تھے ۔ (بخاری )۔
حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول خدا ﷺ کا قد درمیانہ ، دونوں کندھوں کے درمیان کا حصہ چوڑا ، داڑھی گھنی ، رنگت سرخی مائل  تھی ۔ آپ ﷺ کی زلفیں کانوں کی لوؤں تک تھیں ، میں نے آپ ﷺ کو سرخ حلہ میں دیکھا ، میں نے آپ ﷺ سے زیادہ خوبصورت کوئی نہیں دیکھا۔ ( نسائی )۔
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے ایک چاندنی رات نبی کریم ﷺ کو سرخ لباس پہنے ہوئے دیکھا میں رسول اللہ ﷺاور چاند کو دیکھنے لگا تو نبی کریم ﷺ چاند سے زیادہ خوبصورت تھے ۔ ( ترمذی )۔
ام المئومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے تمام روئے زمین کے مشارق و مغارب کو الٹ پلٹ کر کے دیکھا ، میں نےکسی کو نبی کریم ﷺ سے افضل نہیں پایا ۔ ( معجم الاوسط )۔
حضور نبی رحمت ﷺ کا چہرہ اقدس جمال کا مظہر تھا اور اللہ تعالی کی انوار تجلیات کا مرکز و محور تھا ۔حضرت حارث بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں منیٰ یا عرفات میں نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ،آپ ﷺ کی زیارت کے لیے لوگ تشریف لا رہے تھے ۔جو بھی اعرابی  آپ ﷺ کے چہر ہ انور کو دیکھتا تو کہتا یہ بڑا با برکت چہر ہ ہے ۔ ( ابو داؤد )۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالی نے جو بھی نبی بھیجا وہ خوبصورت چہرے والا اور دلکش آواز والا ہے اور تمہارے نبی ﷺ کا چہرہ اور آواز سب سے زیادہ خوبصورت ہے ۔ ( المواہب اللدنیہ )۔

ہفتہ، 29 اگست، 2026

ولادت مصطفی ﷺ

 

ولادت مصطفی ﷺ 

حضور نبی کریم ﷺ کی آمد سے قبل عرب اور پوری دنیا کے حالات بہت خراب تھے ہر طرف تاریکی چھائی ہوئی ۔لوگ کفر شرک میں مبتلا  تھے یہاں تک کہ خانہ کعبہ میں بھی 360 بت رکھے ہو ئے تھے ۔ غلاموں اور عورتوں کی بالکل بھی عزت نہیں تھی اگر بیٹی پیدا ہوتی تو اسے  زندہ درگور کر دیا جاتا تھا ۔ہر طرف قتل و غارت اور جنگ و جدل عام تھی ۔ اللہ تعالی نے انسانیت کو اس تاریکی سے نکالنے کے لیے اپنا محبوب  بھیجا جن کی آمد سے تاریکیوں کو روشنی مل گئی ، خانہ کعبہ میں پڑے بت گر پڑے ، یتیموں کو ان کا حق مل گیا ، غلاموں کو ان کا کھویا ہوا مقام  ملا اور آپ ﷺ کی آمد سے عورتوں کو مقام و مرتبہ ملا ۔ 
حضرت عبد المطلب بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی تو اس وقت میں خانہ کعبہ میں تھا۔ میں نے دیکھا کہ  کعبہ معظمہ میں رکھے بت گِر پڑے ۔ ( السیرہ النبویہ )۔
اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ جب تم پر میرا فضل اور رحمت ہو تو خوشی مناؤ ۔ ارشاد باری تعالی ہے :(اے محبوب ﷺ ) تم  فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں“۔(سورہ یونس :آیت ۸۵)۔  حضور نبی رحمت ﷺ اللہ تعالی کا فضل عظیم اور رحمت عظیم ہیں اس سے بڑھ کر اور اللہ تعالی کا فضل کیا ہو سکتا ہے کہ ہمیں اپنا محبوب عطا فرمایااور ان کا امتی بنا کر ظلمت کے اندھیروں سے نکالا ۔ نبی کریم ﷺ کی آمد سے قبل انسان اپنی اصل منزل سے دور اور زندگی کے حقیقی مقصد سے بے خبر تھا ۔نبی کریم ﷺ نے آ کر انسان کو اس  کے رب سے جوڑا ، عدل و انصاف سکھایا اور یہ بتایا کہ انسان کی عظمت مال ، نسب یا طاقت میں نہیں بلکہ تقوی ، کردار اور اطاعت الہی میں  ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ کی ولادت با سعادت کا ذکر کرتے ہوئے الفاظ اپنی تمام تر وسعت کے باوجود محدود محسوس ہوتے ہیں کیونکہ جس  ہستی کی آمد پوری انسانیت کے لیے رحمت بن کر ہوئی اس کی عظمت کو چند جملوں میں سمیٹنا ممکن نہیں ۔
ہمیں ولادت مصطفی ﷺ کو ایک رسم یا چند تقریبات تک محدود نہیں کر نا چاہیے بلکہ اس کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے دلوں میں محبت مصطفی ﷺ کو زندہ کریں اور اسی محبت کو اپنے کردار اور اعمال سے ظاہر کریں ۔  اگر ماہ ربیع الاول ہمیں درود سلام کی کثرت کے ساتھ سیرت مصطفی ﷺ کو اپنی زندگی میں اتارنے کا شعور دے دے ، کسی مظلوم کے لیے ہمارے دل میں رحم پیدا ہو جائے، کسی ضرورت مند کا ہاتھ تھامنے کی توفیق مل جائے اور اگر ہماری زندگی کا کوئی ایک گوشہ سنت نبوی ﷺ  کے نور سے روشن ہو جائے تو یہی ولادت مصطفی ﷺ کے تذکرے کی حقیقی برکت ہے ۔

جمعہ، 28 اگست، 2026

ولادت مصطفی ﷺ (۱)

 

ولادت مصطفی ﷺ (۱)

تاریخ کے اوراق میں بے شمار واقعات رقم ہوئے، سلطنتیں وجود میں آئیں اور مٹ گئیں ، بڑے بڑے فاتحین دنیا کے نقشے پر ابھرے اور وقت کی گرد میں گم ہو گئے مگر ایک واقعہ ایسا ہے جس کی تابانی صدیوں کے گزرنے کے باوجود ماند نہیں پڑی ۔ یہ عظیم واقعہ نبی کریم  رؤ ف الرحیم ﷺ کی ولادت با سعادت کاہے جب مکہ کی وادی میں 12 ربیع الاول کو صبح صادق دنیا بھر کے قبیلوں میں سے بہتر قبیلے  اور خاندانوں میں سے بہترین خاندان میں حضرت آمنہ اور حضرت عبد اللہ کے گھر وہ آفتاب طلوع ہوا جس کی کرنوں نے صرف عرب  کی سرزمین ہی کو نہیں بلکہ پوری انسانیت کے دل و دماغ کو منور کر دیا ۔ 
حضرت مطلب بن ابی وادعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب ہوں ۔  اللہ تعالی نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو مجھے سب سے بہتر مخلوق میں رکھا پھر ان کے دو گروہ بنائے تو مجھے سب سے بہتر گروہ میں رکھا پھر ان  کے قبائل بنائے تو مجھے سب سے بہتر قبیلہ میں رکھا پھر ان کے گھر انے بنائے تو مجھے اپنے گھرانے اور ذات کے اعتبار سے سب سے  بہتر بنایا ۔ ( ترمذی )۔

حضور نبی کریم ﷺ کا خاندان و نسب و شرافت میں تمام دنیا کے خاندانوں سے افضل و اعلی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ  کے دشمن کفار مکہ بھی اس کا انکار نہیں کرتے تھے ۔ حضرت ابو سفیان نے جب وہ ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے بادشاہ روم کے سامنے اس  بات کا اقرار کیا کہ نبی اکرم ﷺ ” عالی خاندان “ ہیں ۔ ( بخاری شریف)
مسلم شریف کی روایت ہے کہ اللہ تعالی نے حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے ”کنانہ “ کو برگزیدہ بنایا اور ”کنانہ “ میں سے” قریش“ کو اور قریش میں سے بنی ہاشم کو منتخب فرمایا ۔ یعنی حضور نبی کریم ﷺ کا خاندان اس قدر بلند و بالا ہے کہ کوئی بھی حسب و نسب والا آپ ﷺ  کی مثل نہیں ۔*

جمعرات، 27 اگست، 2026

اللہ تعالی کی نعمت عظیم (۱)

 

اللہ تعالی کی نعمت عظیم (۱)

کسی نعمت کی عظمت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان اس کے بغیر اپنی زندگی کا تصور کرے ۔اگر انسان ایک لمحے کے لیے سوچے کہ اس کو اللہ تعالی کی معرفت نہ ملتی ، حق و باطل میں امتیاز کا شعور نہ ہوتا ، زندگی کے مقصد سے اگاہی نہ ہوتی اور آخرت کی کامیابی کا راستہ  واضح نہ ہوتا تو دنیا کی تمام آسائشیں بھی اس کے لیے بے معنی ہو جاتیں۔اللہ تعالی نے انسانیت پر بے شمار انعامات فرمائے مگر اہل ایمان  کے لیے سب سے بڑا اور عظیم انعام حضور نبی رحمت سرور کونین ﷺ کی بعثت ہے ۔
اللہ تعالی نے انسان کو اس قدر نعمتوں سے نوازا ہے کہ اس کا شمار بھی نہیں کر سکتا اور ہر نعمت اتنی قیمتی ہے کہ دنیا کی ساری دولت بھی خرچ کر  کے نہیں خریدی جا سکتی ۔ ہاتھ ، پاؤں ، ناک ، کان ، آنکھ ، زمین و آسمان ، چاند ، سورج ، ستارے ، اورا ناج ایسی نعمتیں ہیں کسی ایک کے بغیر  بھی زندگی کا تصور مشکل ہو جاتا ہے ۔ لیکن اتنی نعمتیں عطا کرنے کے باوجود اللہ تعالی نے یہ نہیں فرمایا کہ میں نے تم پر احسان فرمایا ہے ۔  لیکن جب باری آئے اما م لانبیاء ، خطیب الانبیاء ، ، خاتم الانبیاء حضرت آمنہ کے لال ، حضرت عبد اللہ کے چاند رحمت دو عالم ﷺ کی تو  اللہ تعالی نے فرمایا کہ اے مومنو یہ میرا تم پر احسان ہے میں نے تمہیں اپنا محبوب عطا فرمایا ہے ۔کیونکہ یہ نعمت سب سے بڑی نعمت ہے۔  باقی تمام نعمتیں اسی کے صدقے ملی ہیں اگر محبوب خدا نہ ہوتے تو کسی بھی نعمت کاوجود نہ ہوتا ۔ایمان ،  ہدایت ،اور قرآن نبی کریم ﷺ کے طفیل ہی ملا اورآخرت میں کامیابی بھی نبی رحمت ﷺ کے توصل سے ہی ملے گی ۔
ارشاد باری تعالی ہے : ’’بیشک اللہ کا بڑا احسان ہوا مومنو پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا جو ان پر ا س کی آیتیں پڑھتا ہے اور وہ ضرور اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے‘‘ ۔ (سورۃ ال عمران )۔
 حدیث قدسی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے اگر آپ نہ ہوتے تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا ۔ دنیا میں انسان کو  بہت سی نعمتیں ملتی ہیں مال و دولت ، اولاد ، صحت ، عزت ، علم ، مگر یہ تمام نعمتیں محدود اور عارضی ہیں ۔ انسان مال کھو سکتا ہے ، صحت ختم ہو جاتی  ہے ،اقتدار چھن جاتا ہے اور دنیاوی عزت بھی وقت کے ساتھ بدل جاتی ہے لیکن نبی کریم ﷺ وہ نعمت ہیں جن کے ذریعے انسان کو دائمی  کامیابی کا راستہ ملا ۔  ہے جہاں میں جن کی چمک دمک ،ہے چمن میں جن کی چہل پہل ہے۔
    وہی اک مدینہ کے چاند ہیں 
سب انہی کے دم کی بہار ہے

بدھ، 26 اگست، 2026

رحمتِ کونین ﷺ(۲)

 

رحمتِ کونین ﷺ(۲)

حضور نبی کریم ﷺ کی زندگی میں بحثیت رحمۃ اللعالمین بے شمار واقعات ملتے ہیں ۔ آپ رحمۃ اللعالمین ہی ہیں جو مجبور اور بے سہارا لوگوں کے کام آتے تھے ۔ ایک مرتبہ ایک عورت مکہ مکرمہ کی ایک گلی میں کچھ سامان سر پر اٹھا کر لے جا رہی تھی وہ سامان اتنا وزنی تھا کہ اس سے اٹھا یا نہیں جا  رہا تھا لوگ اس کو دیکھ کر ہنس رہے تھے ۔ قریب ہی نبی کریم ﷺ کھڑے تھے آپ نے اس عورت کا سامان اٹھایا اور اس کو اس کے گھر تک چھوڑ کر آئے ۔ 
ایک دن آپ ﷺ نے دیکھا کہ ایک غلام آٹا پیس رہا ہے اور درد کی وجہ سے کراہ رہا تھا ۔ آپ ﷺ اس کے پاس گئے تو پتا چلا کہ وہ بیمار ہے اور  اس کا آقا اس کو چھٹی نہیں دے رہا ۔ آپ ﷺ نے اس کو کہا کہ تم آرام کرو اور خود سارا آٹا پیس دیا اور فرمایا آئندہ جب کبھی آٹا پیسنا ہو تو مجھے بلا لینا ۔ 
ایک مرتبہ آپ ﷺ کہیں جا رہے تھے کہ آپ نے دیکھا کہ ایک باغ میں آقا نے ایک بوڑھے غلام کو باغ میں پانی دینے کا کام سونپ رکھا ہے ۔
 باغ سے ندی کافی دور تھی ۔ آپ ﷺ نے دیکھا کہ بوڑھا بڑی مشکل سے پانی بھر کر لا رہا ہے۔  رحمۃ اللعالمین آقا ﷺ نے اس کو آرام سے بٹھا  دیا اور خود پانی بھر بھر کے لا کر اس باغ کو سیراب کیا ۔
ہندہ نامی خاتون نے حضور نبی کریم ﷺ کے پیارے چچا حضرت حمزہ ؓ کا کلیجا چبایا لیکن جب مشرف بہ اسلام ہوئی اور حضور نبی کریم ﷺ سے معافی کا سوال کیا تو نبی کریم ﷺنے اسے معاف فرمادیا ۔
حضور نبی کریم ﷺ کا غلاموں اور خادموں کے ساتھ بھی حسن سلوک بے مثال تھا ۔حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ میں  نے نبی کریم ﷺ  کی خدمت اقدس میں کئی سال گزارے لیکن نبی کریم ﷺ نے مجھے کبھی  کسی غلطی پر ڈانٹا نہیں ۔
حضور نبی کریم ﷺ پرندوں اور جانوروں کے لیے بھی سراپا رحمت تھے ۔ حضورنبی کریم ﷺ نے جانوروں پر بھی زیادہ بوجھ ڈالنے سے منع فرمایا ۔
ایک مرتبہ سفر کے دوران صحابہ نے کسی درخت سے پرندے کے بچے اٹھا لیے تو ان کی ماں بے چین ہو کر ان کے ارد گرد چکرلگانے لگی نبی کریم ﷺ  کو جب علم ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کے بچے چھین کر اسے غمگین کیوں کرتے ہو ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کے بچے وہیں رکھ دیں ۔( دلائل النبوہ )۔
آپﷺ وہ آفتاب ہیں  جن کی روشنی سے صرف عالم رنگ و بو ہی روشن نہیں بلکہ وہ جہان لطیف بھی درخشاں ہے جو رنگ و بو سے ماورا ہے ۔ حقیقت  تو یہ ہے کہ وہاں اس آفتاب رحمت کی نور افشانی کا رنگ ہی نرالا ہے جو نہ زبان پر لایا جا سکتا ہے اور نہ ہی قلم سے لکھا جاسکتا ہے ۔ اس رحمت کی  برکتوں سے عقل بھی بہرور ہے اور دل کی دنیا بھی شاد کام ہے ۔ بقول علامہ محمد اقبال علیہ الرحمہ :
تیری نگاہ ناز سے دونوں مراد پا گئے
عقل غیاث و جستجو ، عشق حضور و اضطراب
شوکت سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود
فقر جنید و با یزید تیرا جمالِ بے نقاب

منگل، 25 اگست، 2026

رحمتِ کونین ﷺ(۱)

 

رحمتِ کونین ﷺ(۱)

کائنات بست و بود میں اللہ تعالی کی بے شمار نعمتیں ہیں مگر نبی کریم ﷺ کا رحمۃ اللعالمین ہونا اللہ تعالی کی ایک عظیم نعمت ہے ۔حضور نبی کریم ﷺ  صرف اہل ایمان کے لیے ہی نہیں بلکہ چرند ، پرند ، حیوانات ، نباتا ت اور جن و انس سب کے لیے رحمت ہیں ۔ ارشاد باری تعالی ہے :  ”اور ہم نے آپ کو تمام جہانو ں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا “۔ ( سورۃ الانبیاء)۔
علامہ سید آلوسی علیہ الرحمہ اس آیت مبارکہ کی تفصیل لکھتے ہو ئے فرماتے ہیں ”حضور نبی کریم ﷺ کا تما م کائنات کے لیے رحمت ہونا اس اعتبار  سے ہے کہ عالم امکان کی ہر چیز کو حسب استعدادجو فیض الہی ملتا ہے وہ حضور نبی کریمﷺ کے واسطے سے ملتا ہے ۔ اسی لیے اللہ تعالی نے حضور نبی  کریم ﷺ کا نور تمام مخلوقات سے پہلے پیدا فرمایا ہے ۔ حدیث مبارکہ میں ہے کہ اے جابر اللہ تعالی نے سب سے پہلے میرے نور کو پیدا فرمایا ۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالی دینے والا ہے اور میں اس کی رحمت کے خزانوں کو بانٹنے والا ہوں ۔ ( روح المعانی )۔
شایاں ہے تجھ کو سرور کونین کا لقب     
نازاں ہے تجھ پہ رحمت اللعالمین کا خطاب
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا رحمت ہونا عام ہے ۔ ایمان والے کے لیے بھی اوران کے لیے بھی جو ایمان نہیں لائے ۔  مومن کے لیے حضور نبی کریم ﷺ دنیا و آخرت دونوں میں رحمت ہیں اور جو ایمان نہیں لائے ان کے آپﷺ دنیا میں  رحمت ہیں ۔کیونکہ اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کی بدولت ان پر دنیا میں آنے والے عذاب کو مؤخر کردیا گیا یعنی ان سے زمین میں دھنسانے کا عذاب ، شکلیں بگاڑدینے کا عذاب اور جڑ سے اکھاڑ دینے کاعذاب اٹھا دیا گیا ۔( خازن الانبیاء)۔
نبی رحمت سرور کونین ﷺ اپنی امت کے دکھ اور تکلیف کو انتہائی شدت سے محسوس فرماتے تھے ۔جیسا کہ سورۃ توبہ میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :  ”بیشک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گِراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر  کمال مہربان اور رحیم۔     
حضور نبی کریم ﷺ یتیموں کے لیے بھی رحمت ہیں ۔ ایک مر تبہ ایک یتیم بچہ حضور نبی کریم ﷺ کے پا س حاضرہوا اور کہا کہ میرے والد کے مرنے کے  بعد ابو جہل نے میرا سارا مال ہڑپ کر لیا ہے اور مجھے کچھ نہیں دیتا ۔ یہاں تک کہ میں اپنا جسم ڈھانپنے کے لیے کپڑوں سے بھی محروم ہوں۔ آپ ﷺ  نے اس بچے کو ساتھ لیا اور ابو جہل کے پاس چلے گئے اور بڑے رعب کے ساتھ فرمایا : اس بچے کا مال اس کو دے دو ۔ ابو جہل میں اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ آپ ﷺ کی بات کو رد کر دیتا اور اس نے اسی وقت یتیم کا مال لا کر اس کو دے دیا ۔

پیر، 24 اگست، 2026

ولادت مصطفی ﷺ کی بشارتیں (۲)

 

ولادت مصطفی ﷺ کی بشارتیں (۲)

حضور نبی کریم ﷺ کی آمد کی بشارت سابقہ آسمانی کتب تورات اور انجیل میں بھی موجود تھی ۔ اسی لیے دونوں جہانوں کی کامیابی کا تاج صرف ان لوگوں پر سجے گا جو حضور نبی کریم ﷺ پر ایمان لائیں گے ، آپﷺ کی تعظیم و توقیر کریں گے اور اس نور کی پیروی کریں گے جو حضور نبی کریم  ﷺ کے ساتھ نازل ہوگا ۔
سابقہ آسمانی کتب کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :” جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبی امی ہے جس کو وہ پاتے ہیں لکھا ہوا  اپنے پاس تورات اور انجیل میں۔ وہ نبی حکم دیتا ہے انہیں نیکی کا اور روکتا ہے برائی سے اور حلال کرتا ہے ان کے لیے پاک چیزیں اور حرام کرتا  ہے اس پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کا بوجھ اور وہ زنجیریں جو جکڑی ہوئی تھیں انہیں۔ پس جو لوگ ایمان لائے اس نبی پر اور تعظیم کی آپ کی اور امداد کی آپ کی اور پیروی کی اس نور کی جو اتارا گیا آپ کے ساتھ وہی کامیاب و کامران ہیں “۔ ( سورۃ الا عراف )۔ 
حضرت عیسی علیہ السلام نے بھی اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :ارشاد باری تعالی ہے ” اور یاد کرو جب فرمایا عیسی فرزند مریم نے  اے بنی اسرائیل ! میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں میں تصدیق کرنے والا ہوں تورات کی جو مجھ سے پہلے آئی اور خوشخبری دینے والا ہوں ایک رسول کی جو تشریف لائے گا میرے بعد اس کا نام احمد ہو گا پس جب وہ آیا ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر تو انہوں نے کہا یہ تو کھلا  جادوہے “۔ ( سورۃ الصف )۔
حضور نبی کریم ﷺ کی ولادت با سعادت سے پہلے جب یہود کی کفار اور مشرکین کے ساتھ جنگ ہوتی تو جب یہود کو ہار کے آثار نظرآتے تو اللہ  تعالی سے دعا کرتے اور کہتے ’ اے اللہ ! ہم تجھ سے تیرے اس نبی کا واسطہ دے کرعرض کرتے ہیں جس کی بعثت کا تو نے ہم سے وعدہ کیا ہے آج  ہمیں  اپنے دشمنوں پر فتح عطا کر تو حضور نبی کریم ﷺکے صدقے اللہ انہیں فتح عطا کرتا “۔ (روح المعانی )۔
ارشاد باری تعالی ہے :” اور وہ اس سے پہلے فتح مانگتے تھے کافروں پر تو جب تشریف فرما ہوا وہ نبی ان کے پاس جسے وہ جانتے تھے تو انکار کر دیا  اس کے ماننے سے۔ سو پھٹکار ہو اللہ کی دانستہ کفر کرنے والوں پر “۔ ( سورۃ البقرۃ )۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ، حضرت عیسی علیہ السلام کی بشارت اور سابقہ آسمانی کتابوں اور صحائف میں موجود نبی کریم ﷺ کے اوصاف  حمیدہ اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتے ہیں کہ حضور نبی رحمت ﷺکی آمد اللہ تعالی کی ایک عظیم منصوبہِ ہدایت کا حصہ تھی ۔ آپ ﷺ تشریف
لائے تو شرک کی تاریکیاں چھٹ گئیں ، انسانیت کو قرآن ملا ، اخلاق کو بلندی نصیب ہوئی اور قیامت تک کے لیے ہدایت کا راستہ روشن ہو گیا ۔

اتوار، 23 اگست، 2026

ولادت مصطفی ﷺ کی بشارتیں (۱)

 

ولادت مصطفی ﷺ کی بشارتیں (۱)

حضور نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری اللہ تعالی کی طرف سے پوری انسانیت کے لیے سب سے عظیم نعمت اور رحمت ہے ۔ آپ ﷺ کی بعثت  کسی ایک قوم ، خطے یا زمانے کے لیے نہیں بلکہ تمام جہانوں کے لیے رحمت بن کر ہوئی ۔ ماہ ربیع النور شریف وہ مبارک اور با برکت مہینہ ہے جس میں نبی آخرالزماں ﷺ کی ولادت با سعادت ہوئی ۔ قرآن مجید فرقان حمید اور اسلامی روایات میں اس بات کا ذکر ہے کہ سابقہ انبیائے  کرام علیہم السلام نے اپنی اپنی امتوں کو آپ ﷺ کی آمد کی بشارت دی اور کہا کہ جب نبی آخرالزماںﷺ کی ولادت ہو جائے تو تم سب اس کا کلمہ پڑھنا اور اس کے دین کی پیروی کرنا ۔
ارشاد باری تعالی ہے :’’اور یاد کرو جب اللہ تعالی نے انبیاء سے پختہ عہد لیاجو میں تم کو کتاب اور حکمت دوں پھر تشریف لائے تمہارے پاس  و ہ رسول کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمائے تو تم ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا۔ فرمایا کیا تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا بھاری ذمہ لیا۔ سب نے عرض کی ہم نے اقرار کیا۔ فرمایاتو ایک دوسرے پر گواہ ہو جاؤ اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہو ں ۔تو جو کوئی اس کے بعد  پھرے تو وہی لوگ فاسق ہیں ‘‘۔ (سورۃ ال عمران )۔
حضرت ابراہیم علیہم السلام نے جب اپنے فرزند حضرت اسماعیل علیہم السلام کے ساتھ مل کر اللہ تعالی کے گھر خانہ کعبہ کی تعمیرکی تو اللہ تعالی سےدعا کی :
’’اے ہمارے رب اور ان کے درمیان انہیں میں سے ایک رسول بھیج جو ان پرتیری آیتوں کی تلاوت فرمائے اور انہیں تیری کتاب اور پختہ علم سکھائے اور انہیں خوب پاکیزہ فرما دے بیشک تو ہی غالب حکمت والا ہے ‘‘۔( سورۃ البقرۃ )۔
اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اور دعا میں جس رسول کی بعثت کی التجا کی وہ حضورنبی کریم ﷺ ہی ہیں اور حضرت  اسماعیل علیہ السلام کے نسب سے حضو ر نبی کریم ﷺ کے علاوہ کوئی رسول پیدا نہیں ہوا۔ علامہ ابن جوزی روایت کرتے ہیں حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : میں بارگاہ الہی میں خاتم النبین کے مرتبہ پر فائز ہو ں درآں حالیکہ حضرت  آدم علیہ السلام کا خمیر تیار ہو رہا تھا اور میں تمہیں اس امر کی ابتدا سے آگاہ کرتا ہوں ۔ میں اپنے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا ثمر ہوں ۔ 
میں وہ ہوں جس کی آمد کی بشارت حضرت عیسی نے دی تھی ۔ میں اس خواب کی تعبیر ہوں جو میری والدہ ماجدہ نے دیکھا تھا ۔ اسی طرح انبیائے کرام کی امہات کوبھی اس قسم کا خواب دکھایا جاتا تھا ۔

جمعہ، 21 اگست، 2026

بعثت نبوی ﷺ سے قبل عرب کے حالات

 

بعثت نبوی ﷺ سے قبل عرب کے حالات

عرب کی اخلاقی حالت بھی انتہائی ابتر تھی شراب ، جوا ، زنا، قتل و غارت ، توہم پرستی اور بد شگونی عام تھی جیسا کہ سورۃ المائدہ میں اللہ تعالی  فرماتا ہے اے ایمان والو شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک  شیطانی کام ہی ہیں  تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ ۔  زمانہ جاہلیت میں عرب بیٹیوں کو پسند نہیں کرتے تھے اگر کسی کو بیٹی کی خبر ملتی تو اس کے چہرے پر غم و ندامت کی لہر دوڑ جاتی ۔ بعض قبائل ایسےتھے جو اپنی بچیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے ۔جیسا کہ سورۃ التکویر میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے اور جب زندہ دفن کی گئی (لڑکی) سے پوچھا  جائے گا کہ تم کس خطا پر ماری گئی ۔ 
ارشاد باری تعالی ہے:اور جب ان میں کسی کو بیٹی ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غصہ کھاتا ہے ۔لوگوں سے پوچھتا پھرتا ہے اس بشارت کی بُرائی کے سبب کیا اسے ذلت کے ساتھ رکھے گا یا اسے مٹی میں دبا دے گا۔ ارے بہت ہی بُرا حکم لگاتے 
ہیں ۔ ( سورۃ النحل )۔
اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ بیٹی پیدا ہونے پر رنج کرنا اور پریشان ہونا کافروں کا طریقہ ہے ۔ آج کے دور میں کچھ مسلمان بھی بیٹی  پیدا ہونے پر غمزدہ ہو جاتے ہیں اور چہرے سے خوشی کا اظہار نہیں کرتے مٹھائی نہیں بانٹتے اور بیٹی پیدا ہونے پر بیوی کو بُرا بھلا کہتے ہیں جو  کہ سرا سر کافرانہ روش ہے ۔اسلام میں تو بیٹی کی پرورش پر بہت زیادہ فضیلت بیان کی گئی ہے ۔ جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کے ہاں بیٹی پیدا ہو اور وہ اسے زندہ درگور نہ کرے اسے ذلیل نہ سمجھے اور اپنے بیٹے کو اس پر ترجیح نہ دے تو اسے اللہ تعالی جنت میں داخل کرے گا ۔ ( ابو داؤد)۔
عرب معاشرہ معاشی طور پر بھی سخت اور غیر مساوی تھا ۔ طاقتور شخص کو زیادہ اختیار حاصل تھے جبکہ کمزور انسان کے لیے اپنے حقوق کا تحفظ مشکل تھا ۔ نسب ، قبیلہ ، دولت اور طاقت انسان کی سماجی حثییت متعین کرنے میں اہم کر دار ادا کرتے تھے ۔  نبی کریمﷺ کی ولادت سے قبل عرب کے مجموعی حالات کو اگر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ معاشرہ ایک گہرے فکری اور اخلاقی موڑ
پر کھڑا تھا ۔مذہبی اعتبار سے شرک غالب تھا ، سیاسی اعتبار سے قبائلی تقسیم تھی ،معاشرتی اعتبار سے طاقت اور نسب کو اہمیت حاصل تھی اور  اخلاقی لحاظ سے بہت سی خرابیاں عام تھیں ۔ 
حضور نبی کریم ﷺ کی آمد سے کفر و شرک کا خاتمہ ہوا ، انسان کو انسان سے جوڑا ، کمزور کو حق دلائے ، عورت کو عزت دی ، غلام کو حقوق دلائے اور قبائلی تفاخر کی جگہ تقوی کو برتری کا معیار قرار دیا ۔

جمعرات، 20 اگست، 2026

بعثت نبوی ﷺ سے قبل عرب کے حالات(۱)

 

بعثت نبوی ﷺ سے قبل عرب کے حالات(۱)

تاریخ میں کچھ ادوار ایسے گزرے ہیں جن میں بظاہر زندگی رواں دواں ہوتی ہے ، بازار آباد ہوتے ہیں ، شعر و ادب کے چرچے ہوتے  ہیں اور قبائل اپنی شان و شوکت پر فخر کرتے ہیں مگر انسان اپنی اصل منزل سے دور ہوتا ہے ۔ نبی کریم ﷺ کی بعثت سے قبل جزیرہ عرب بھی اسی کیفیت سے دو چار تھا ۔ عرب معاشرہ اپنی قبائلی بہادری ، فصاحت و بلاغت کے باوجود مذہبی ، اخلاقی ، سیاسی اور معاشرتی انتشار کا شکار تھا۔ اسی ماحول میں اللہ تعالی نے اپنے آخری نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ کو مبعوث فرمایا جنہو ں نے انسانیت کو توحید ، عدل ، رحم ،  اخوت و بھائی چارہ اور اعلی اخلاق کا راستہ دکھایا ۔  اسلام سے قبل عرب کی سیاسی حالت انتہائی ابتر تھی ۔عرب میں کوئی مرکزی حکومت نہیں تھی مختلف قبائل آباد تھے جن میں ہر قبیلے کا الگ الگ سردار تھا جو اپنے قبیلے کی قیادت کرتا اور قبائلی فیصلوں میں اہم کردار ادا کرتا تھا۔  قبائلی عصبیت اس قدر مضبوط تھی کہ لوگ حق و باطل  کی بجائے اپنے قبیلے کی حمایت کو ترجیح دیتے ۔ معمولی سے تنازع پر ایسی خونریز جنگ شروع ہوتی جو کئی نسلوں تک جاری رہتی ۔ 
اسلام سے قبل عرب کی مذہبی حالت بھی بہت پستی کا شکار تھی ۔اللہ تعالی نے عرب کو قوت حافظہ ، سخاوت ، ایفائے عہد ، فصاحت و بلاغت  جیسی عظیم خوبیوں سے نوازا تھا لیکن ان خوبیوں کے استعمال کے لیے صحیح رہنمائی نہیں تھی اور یہ حقیر مقاصد کے لیے استعمال ہو کر ضائع ہورہی تھیں ۔ اپنے ہی ہاتھ سے تیار کردہ بتوں کی پوجا کرتے تھے مختلف قبائل کے اپنے اپنے معبود تھے جن کے سامنے وہ نذریں پیش کرتے اور حاجتیں مانگتے تھے ۔ یہودیوں نے خانہ کعبہ میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے نا م کے بت رکھے اوران کی پوجا کرتے تھے ۔ عیسائی تثلیث کے قائل تھے اور انہوں نے بھی تین بت کعبہ میں رکھے ہوئے تھے جن کی وہ پوجا کرتے تھے ۔بعض  قبائل ایسے تھا جہاں سورج ، چاند ،ستاروں  اور آگ کی پوجا کی جاتی تھی ۔ عورتیں اور مرد خانہ کعبہ کا ننگے طواف کرتے۔اپنے باپ کے مرنے  کے بعد اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کر لیتے تھے ۔
اہل عرب فطری طور پر اعلی درجے کی عربی زبان اور فصاحت وبلاغت کے باوجود ان کی معلومات محدود تھیں ، ان کے نظریات باطل اوران کے خیالات پر توہم پرستی اور جہالت کا غلبہ تھا۔ عرب میں نہ کوئی سکول تھا ۔ ایران ، روم اور مصر کے ممالک میں علم و فنون اور تہذیب کی روشنی موجود تھی لیکن عرب وہاں جاتے اور صرف اموال کا تبالہ کر کے آ جاتے اور علم و تہذیب کی روشنی ساتھ نہ لاتے تھے۔

بدھ، 19 اگست، 2026

امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالی عنہ (۲)

 

امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالی عنہ (۲)

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں  حضرت امام حسن مجتبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سینہ سے لے کر سر تک رسول اللہ ﷺ کے مشابہ تھے اور حضرت  امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس سے نیچے  رسول اللہﷺ کے مشابہ تھے(ترمذی)۔ 
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے  مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : بیشک حسن ؓ اور حسین ؓ دنیا میں میرے دو پھول ہیں ۔( مشکوٰہ شریف)۔
جب نبی کریم ﷺ کا مرض وصال قریب آیا تو سیدہ کائنات فاطمہ سلام اللہ علیہا امام حسن اور امام حسین کو لے کر نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں اور عرض کی یا رسول اللہ ﷺانہیں اپنی وراثت میں سے کچھ عطا فرمائیں ۔نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا حسن میری وجاہت اور سرداری کا وارث ہے اور حسین میری جرات اور سخاوت کا وارث ہے ۔
آپ کی پوری زندگی  زہد و تقوٰی و طہارت کا حسین گلدستہ ہے۔ آپ کا کلام بہت ہی شریں ہوتاتھا۔اہل مجلس نہیں  چاہتے کہ آپ گفتگو ختم فرمائیں۔
 فیاضی و سخاوت میں بھی امتیازی شان رکھتے تھے کسی سائل کو کسی حال میں اپنے گھر سے خالی ہاتھ واپس نہ کرتے تھے بلکہ فیاضی تو آپ کو وراثت میں  ملی تھی ایک ایک آدمی کو ایک ایک لاکھ  عطا فرمادیتے تھے۔
 ابن سعد  علی ابن زید جدعان سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت امام حسنؓ  نے دو مرتبہ اپنا کل مال راہ خدا میں دے ڈالا اور تین مرتبہ اپنا آدھامال راہ  خدا میں صدقہ کیا ۔حضرت امام حسنؓ  کورسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ میرا بیٹا سیدہے۔یعنی سردار ہے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ مسلمانوں کے  دو گروہوں  کے درمیان مصالحت کردے گا۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں نے امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رسول اللہﷺ کی گود میں  دیکھاکہ وہ اپنی انگلیاں نبی رحمتﷺ کی داڑھی مبارک میں ڈالتے تھے اور نبی اکرمﷺ اپنی زبان مبارک ان کے منہ میں  ڈالتے تھے اور اللہ کے حضور عرض کرتے تھے اے اللہ میں اس کو محبوب  رکھتا ہوں۔ تو بھی اس کو محبوب رکھ۔
سیدنا اما م حسن ؓ کی شان و عظمت بیان کرنا دراصل اس پاکیزہ گھرانے کی عظمت کو بیان کرنا ہے جسے اللہ تعالی نے اپنی محبت اور سول خدا ﷺ کی محبت  سے ممتاز فرمایا ۔ آپ ؓ کی شخصیت حسنِ صورت کے ساتھ ساتھ حسن سیرت کا بھی حسین امتزاج تھی ۔ حلم و بردباری ، تقوی و عبادت ، سخاوت و فیاضی ،  عفوو درگزر ، صبر و اسقامت اور امت مسلمہ کی خیر خواہی آپ کے نمایاں اوصاف تھے۔
آپ رضی اللہ عنہ کو زہر دے کر شہید کیا گیا ۔ 28 صفر کو آپ رضی اللہ عنہ نے جام شہادت نوش فرمایا ۔ آپ رضی اللہ عنہ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا ۔

منگل، 18 اگست، 2026

امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالی عنہ (۱)

 

امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالی عنہ (۱)

اسلامی تاریخ میں کچھ مقدس اور عظیم ہستیاں گزری ہیں جن کی زندگی کا ہر لمحہ ایمان ، محبت ، کردار اور قربانی کا روشن استعارہ بن جاتا ہے ۔ اگر اہل بیت اطہار کی عظمت و فضیلت کے درخشاں ستاروں کو دیکھا جائے تو حضرت امام حسن ؓ کی ذات گرامی ایک نہایت تابندہ مقام  رکھتی ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ وہ عظیم ہستی ہیں جن کی رگوں میں نبوت کی خوشبو ، جن کے گھرانے میں ولایت کی عظمت اور جن کے کردار میں مصطفی ﷺ کی تربیت کی جھلک نظر آتی ہے ۔ آپ نبی کریم ﷺ کے محبوب نواسے ، حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمۃ الزہرہ رضی اللہ عنہا کے لخت جگر اور اہل بیت اطہار 
کے عظیم چشم و چراغ ہیں ۔ حضرت امام حسن مجتبی رضی اللہ عنہ شیر خدا اور سیدہ کائنات کے بڑے صاحبزادے تھے ۔آپ کا اسم گرامی حسن، کنیت ابو محمد اور القاب سید شباب اہل الجنہ ، سبط و ریحان رسول ﷺ ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ کی ولادت با سعادت 15 رمضان المبارک 3 ہجری مدینہ منورہ میں ہوئی ۔ (الطبقات الکبری)
ام فضل لبابہ بن حارث رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے خواب دیکھا کہ نبی کریم ﷺ کے جسم کا ایک عضو میرے گھر میں موجود ہے ۔ میں پریشان ہو گئی اور نبی رحمت ﷺ کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہو کر خواب سنایا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ اچھا خواب ہے ، سیدہ فاطمہ ؓکے ہاںبیٹا ہو گا جس کو تو اپنے بیٹے قثم کے ساتھ دودھ پلائے گی ۔آپ فرماتی ہیں جب سیدنا حسن ؓ کی پیدائش ہوئی تو مجھے دیے گئے اور میں نے  انہیں دودھ پلایا ۔ ( مسند احمد ، ابن ماجہ )۔ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی پیدائش پر حضور نبی رحمت ﷺ بے حد خوش ہوئے ۔ حسن مجتبی ؓ کو نبی کریم ﷺ کی خدمت لایا گیا تو آپ ﷺ نے اپنی  آغوش میں لے کر پیار کیا ، ان کے کانوں میں اذان دی اور اپنی زبان مبارک ان کے منہ میں دے دی اور آپ ؓ نے اسے چوسنا شروع کر  دیا ۔ نبی کریم ﷺ نے آپ کا نام حسن رکھا اور ساتویں دن عقیقہ کیا اور بال منڈوائے گئے ۔ ( اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابہ )۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺحضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کو اپنے کندھے پر بٹھائے ہوئے  تھے کسی صحابی نے عرض کی اے صاحبزادے تیری سواری کتنی اچھی ہے یہ سن کر نبی اکرمﷺ نے فرمایا اے صحابی اگر سواری اچھی ہے مگر یہ بھی تو دیکھ سوار کتنا اچھا ہے(مشکوۃ شریف)۔

پیر، 17 اگست، 2026

فقر کی فضیلت (۲)

 

فقر کی فضیلت (۲)

 مشکوۃ و ترمذی شریف کی روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالی کے نزدیک ملائکہ مقربین ، سات آسمانوں ، سات زمینوں ، کل پہاڑوں اور جو کچھ ان میں ہے ان سب سے فقراءموحدین کی حرمت بہت بڑی ہے ۔ ایک روایت میں ہے کہ فقراءکی فضیلت تو نگروں  پر ایسی ہے جیسی میری فضیلت کل مخلوق پر ۔ (دیلمی فی الفردوس )۔ طبرانی شریف اور ابو نعیم کی روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالی کے نزدیک صبر کرنے والا فقیر سب بندوں سے محبوب تر ہے ۔ حضور ﷺ نے فرمایا اس امت کے بہترین لوگ فقراءہیں ۔( بخاری )۔  ترمذی شریف میں روایت ہے نبی رحمت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالی کے ہم نشین صابر فقراءہیں ۔ ترمذی ہی میں مروی ہے حضور ﷺ نے فرمایا، فقراءسے محبت کرنا انبیاءکا طریقہ ہے اور ان سے عداوت رکھنا فرعونی خصلت ہے ۔ 
ترمذی شریف میں ہے کہ حضورنبی کریم ﷺ نے فرمایا حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ تعالی سے عرض کی :اے میرے پروردگار تیری مخلوق  میں سے کون سے لوگ تیرے دوست ہیں تاکہ میں بھی ان کو تیری رضا کے لیے دوست رکھوں ، جواب ملا کہ ہر فقیر میرا دوست ہے ۔ 
یہاں فقیر سے مراد کوئی مانگنے والا گدا گر نہیں بلکہ فقیر سے مراد اللہ تعالی کی یاد میں مگن رہنے اور شریعت مطہرہ پر عمل پیرا ہونے والا ہے ۔ نبی رحمت ﷺ نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ارشاد فرمایا : فقراءکی محبت جنت کی کنجی ہے ۔ ( دیلمی فی الفردوس )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو جس کو دوست رکھتا ہے وہ اسی کے ساتھ ہو گا ۔ اس لیے اللہ تعالی سے صدق دل سے محبت رکھنے اور ان کا ذکر  خیر کرنے والے بغیر محنت و مشقت مراتب عالیہ حاصل کریں گے ۔ جامع الصغیر میں ہے کہ نیک ہستیوں یعنی اولیا ءاللہ کے تذکرے کے وقت اللہ تعالی کی رحمت نازل ہوتی ہے ۔اسی طرح جامع الصغیر میں ہی ہے کہ اولیاءاللہ کا ذکر خیر دلوں کے لیے حکمت کا بیش بہا خزانہ ہے اور نمایاں گناہوں کا کفارہ ہے ۔ 
مختصراًٍ یہ کہ فقر ایک عظیم روحانی سرمایہ ہے جو انسان کو دنیا کی غلامی سے آزاد کر کے اللہ تعالی کی بندگی کا حقیقی لطف عطا کرتا ہے ۔ جب فقر کے 
ساتھ صبر ، شکر ، قناعت اور توکل جمع ہو جائیں تو انسان کا کردار ایمان کی مضبوطی ، اخلاق کی پاکیزگی اور عمل کی اخلاص مندی کاآئینہ بن جاتا  ہے ۔ اسلام ہمیں غربت کی تمنا نہیں بلکہ فقر کی اس روح کو اپنانے کی تعلیم دیتا ہے جو دل کو اللہ تعالی سے وابستہ اور دنیا کی حرص سے بے نیاز کر دے ۔

اتوار، 16 اگست، 2026

فقر کی فضیلت

 

فقر کی فضیلت

فقر اسلامی تعلیمات کا ایک ایسا عظیم وصف ہے جو انسان کے دل کو دنیا کی بے جا محبت سے پاک کر کے اللہ تعالی کی رضا اور اس پر کامل بھروسے کی طرف لے جاتا ہے ۔فقر کا مطلب تنگدستی یا معاشی کمزوری نہیں بلکہ دل کا اللہ تعالی کے سوا ہر سہارے سے بے نیاز ہونا ، قناعت ، توکل اور رضا بالقضا کی دولت سے مالا مال ہونا ہے ۔ یہی وہ روحانی کیفیت ہے جس نے انبیاء کرام علیہم السلام ،صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اولیا ئے کاملین کو اللہ تعالی کا بر گزیدہ بندہ بنایا اور ان کی زندگیوں کو ہمارے لیے مشعل راہ بنایا  ہے ۔ قرآن و حدیث میں فقر کی حقیقی روح کو اختیار کرنے ، دنیا کی عارضی آسائشوں پر آخرت کی دائمی کامیابی کو ترجیح دینے اور ہر  حال میں اللہ تعالی پر اعتماد رکھنے کی تلقین کی گئی ہے ۔ 
حدیث شریف میں ہے کہ  فقر خزانہ ہے اللہ تعالی کے خزانوں میں سے ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ فقر کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا فقر اللہ تعالی کی عنایات میں سے ایک عنایت ہے ۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پھر عرض کی یا رسول اللہ ﷺ فقر کیا ہے ؟ نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا فقر وہ چیز ہے جو اللہ تعالی بجز نبیوں و مرسلین یا بندہ کریم النفس کے کسی  کو نہیں دیتا ۔(دیلمی فی الفردوس ، جامع الصغیر )۔
حضرت غوث اعظم فرماتے ہیں اے میرے  مریدو قصد کرو ، خوش ہو ، بے باک ہو اور غنی ہو ۔ جو کچھ میں کہوں وہ کرو کیونکہ میرا نام بزرگ ہے ۔ 
فقراء اللہ تعالی کے نیک اور برگزیدہ بندے ہوتے ہیں جو شریعت مطہرہ پر عمل پیرا ہو کر لوگوں کو اللہ تعالی کی طرف بلاتے ہیں اور انہیں صراط مستقیم پر چلنے کی تلقین کرتے ہیں ۔ اولیا ء اللہ کی خدمت میں پُر خلوص اور با ادب حاضری درجات کی بلندی کا باعث بنتی ہے ۔ 
جو لوگ ظاہری علم و عقل کی روشنی میں اولیائے کرام کی صحبت سے دور رہتے ہیں وہ اللہ کی راہ سے دور اور گمراہ ہیں ۔ 
بخاری شریف میں ہے حضور نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کو اللہ تعالی کے قرب کی آرزو ہو وہ فقراء کی صحبت میں بیٹھے ۔ 
فقراء کے پاس بیٹھنے سے انسان حق کو پہچانتا ہے اور اللہ تعالی کی یاد آتی ہے ۔ مولانا روم ؒفرماتے ہیں : 
یک زمانہ صحبتِ با اولیا
بہتر ازصد سالہ طاعت بے ریا
یعنی اولیا ء اللہ کے ساتھ ایک ساعت بیٹھنا سو سالہ بے ریا عبادت سے بہتر ہے ۔

جمعہ، 14 اگست، 2026

اسلام اور انسانی حقوق

 

اسلام اور انسانی حقوق

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں عقائد و عبادات اور معاملات کا اپنا ایک مکمل نظام موجود ہے ۔ اسلامی نظام کا سر چشمہ  قرآن و حدیث ہے اور اس کے احکامات ناقابل تنسیخ ہیں کیونکہ قرآن مجید کسی انسان کی نہیں اللہ تعالی کی نازل کردہ کتاب ہے ۔ اور اس کے احکامات پر عمل کرنا لازم و ملزوم ہے ۔ کائنات کی ہر چیز کا خالق و مالک اللہ تعالی ہے اللہ تعالی نے انسان کو شکل و صورت ، عظمت و برتری اور علم و حکمت کی صلاحیتو ں سے نوازا ہے ۔ اسلام نے انسان کو جو بنیادی حقوق دیے ہیں انہیں پامال کرنے کاحق کسی کو حاصل نہیں ۔ 
اگر کوئی شخص کسی بھی شخص سے زیادتی کرے اور اس کے حقوق غصب کرنے کی کوشش کرے تو اسلام نے اس کے مطابق سزا مقررکی ہے ۔ اگر کوئی دنیا میں اس سز ا سے بچ بھی جائے تو آخرت میں اللہ تعالی کی سزا سے نہیں بچ سکتا ۔ 
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے نبی کریمﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کو ن ہے ؟ صحابہ کرام ؓ نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ
مفلس وہ ہے جس کے پاس کوئی مال اور درہم نہ ہو ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا نہیں مفلس وہ نہیں جس کے پاس مال نہیں بلکہ مفلس وہ ہے جس کے پاس قیامت کے دن نماز ، روزہ اور زکوۃ ہوں گے لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی ، کسی پر جھوٹا الزام لگایا ہو گا ، کسی کا مال کھایا ہو گا ، کسی کو قتل کیا ہو گا اور کسی کو مارا ہو گا تو اس کی نیکیاں ان لوگوں کو دے دی جائیں گی جن پر اس نے زیادتی کی ہوگی ۔ اور اگر زیادتیوں کا بدلہ پورا کرنے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو مظلوموں کے گناہ اس کے اعمال نامہ میں ڈال دیے جائیں گے اور پھر اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔ ( مسلم )۔ 
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ سے عرض کی گئی فلاں عورت رات کو نماز پڑھتی ہے ، دن کو روزہ رکھتی ہے مگر اپنے پڑوسیوں سے بد کلامی کرتی ہے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس میں کوئی خیر نہیں ہے وہ جہنم میں جائے گی ۔(مسدرک للحاکم)۔
ا ن احادیث مبارکہ سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ جو اسلام کسی کو ایک گالی دینے کی وجہ سے اس کی زندگی کی اہم ترین عبادت چھین  کر اسے جہنم میں پھینک دے گا تو وہ اسلام کیسے کسی جان کو ناحق قتل کرنے کی اجازت دے گا۔ اسلام میں انسانی زندگی بڑی مقدس  اور قابل احترام ہے ۔ یہ ایک ایسا قیمتی اثاثہ ہے جس کاکوئی نعم البدل نہیں ۔ لہذا ہر انسان چاہے وہ مسلمان ہے یا غیر مسلم اس کو اپنی زندگی کے تحفظ کاحق حاصل ہے ۔

جمعرات، 13 اگست، 2026

کھانے کے آداب

 

کھانے کے آداب

حضرت عمرو بن ابو سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے آپ فرماتے ہیں جب میں چھوٹا تھا رسول خدا ﷺ کی آغوش میں تھا ۔ میرا ہاتھ پیالے میں ہر سمت گھومتا تھا ۔ تو مجھے آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالی کا نام لو یعنی بسم اللہ الرحمن الرحیم  پڑھو ۔ اور اپنے دائیں ہاتھ کے ساتھ کھاؤ ۔ اور اپنی طرف سے کھاؤ ۔ ( بخاری و مسلم )۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو  اسے چاہیے کہ اللہ تعالی کا نام لے اور اگر آغاز میں بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو اسے چاہیے کہ بسم اللہ اولہ وآخرہ کہے ( ابو داؤد ، ترمذی ) ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : شیطان اس کھانے کو حلال سمجھتا ہے جس میں اللہ تعالی  کے نام کا ذکر نہ کیا جائے ۔ 
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ میں رسول خدا ﷺ کو تین انگلیوں کے ساتھ کھاتے ہوئے  دیکھا۔ جب فارغ ہوئے تو انہیں چاٹ لیا ( مسلم شریف) ۔حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریمﷺ  نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اسے چاہیے کہ اسے اٹھا لے اور جو آلودگی لگی ہے اسے جھاڑ لے اور اسے چاہیے کہ اسے کھا لے۔ اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے اور ہاتھ رومال سے نہ پونچھے یہاں تک کہ انگلیاں  چاٹ لے ۔ کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے ۔ ( مسلم شریف )۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کھانا ٹھنڈا کرکے کھاؤ کیونکہ گرم کھانے میں برکت نہیں ہوتی اور کھانا سونگھو نہیں کیونکہ  یہ چار پایوں کا کام ہے ۔ 
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے کبھی کسی کھانے میں سے عیب نہیں نکالا ۔ اگر چاہا  تو کھا لیتے اور پسند نہ ہوتا تو چھوڑ دیتے (بخاری و مسلم ) ۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے اپنے اہل خانہ سے کھانا طلب فرمایا ۔ عرض کی گئی کہ اور کچھ نہیں صرف سرکہ ہے ۔ آپ ﷺ نے وہی طلب فرمایا اور کھانے لگے اور فرمایا کیا اچھا سالن سرکہ ہے کیا ہی اچھا سالن سرکہ ہے ۔( مسلم )۔ 
ارشاد باری تعالی ہے : اور کھاؤ پیو اور اسراف نہ کرو ۔ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : کسی آدمی نے پیٹ سے زیادہ برابر تن نہیں بھرا ۔ ابن آدم کے لیے چند لقمے کافی ہیں جن سے وہ اپنی پشت سیدھی رکھے ۔ اگر پیٹ بھرے بغیر چارہ نہیں تو ایک  تہائی طعام کے لیے ، ایک تہائی مشروب کے لیے اور ایک تہائی اپنی سانس کے لیے

بدھ، 12 اگست، 2026

فضیلت مسجد

 

فضیلت مسجد

منگل، 11 اگست، 2026

حکمت و دانش

 

حکمت و دانش

حکمت کا ایک کلمہ انسان کی زندگی کا رخ بدل دیتا ہے ۔ دانش کی کہئی ہوئی ایک بات انسانی فکر کو تبدیل کر دیتی ہے اور بصیرت بھرا ایک جملہ انسانی سوچوں میں انقلاب پیدا کر دیتا ہے ۔ دقیق مباحث اور دلائل کے انبار قلب نظر میں اضطراب تو پیدا کرتے ہیں اور دلائل خرد کی تشنگی کو مزید بڑھا تو ضرور دیتے ہیں لیکن انسانی قلب کی کیفیات کو بدلنے سے قاصررہتے ہیں ۔ 
حکمت سے مراد ایسی دانش بھری اور دل میں اتر جانے والی بات ہوتی ہے جو انسان کے قلب و نظر میں ایک دور رس  تبدیلی کا باعث بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہو ۔ جس کی دلیل کو ٹھکرانا انسان کی عقل کے لیے ممکن نہ ہو ۔ حکمت سے مراد دانائی اور عقل مندی کی باتیں ہیں ۔ 
یہ انسان کی فطرت میں شامل ہے کہ جو بات اس کے دل میں بیٹھ جائے یہ کبھی اس سے انکار نہیں کر سکتا ۔ تو جس بندے کو ایسا حکمت بھرا انداز اللہ تعالی کی طرف سے عطا ہو جائے اور دوسرے اس کی باتوں کے قائل ہوتے جائیں تو اس کی باتیں دلوں پر راج کریں تو وہ سمجھ جائے کہ اللہ تعالی نے اسے بے شمار بھلائیاں عطا فرمائی ہیں ۔ حکمت و دانش کی یہ دولت اللہ تعالی کی خصوصی عطا ہے جسے یہ مل جائے وہ بہت ہی خوش قسمت ہے ۔ 
ارشاد باری تعالی ہے : اللہ تعالی جسے چاہتا ہے حکمت عطا فرماتا ہے ۔ اور جسے حکمت دی گئی اسے خیر کثیر دے دی گئی ۔
(سورۃ البقرہ)۔مال کثیر سے مراد مال و دولت ، جاہ و جلال یا پھر منصب و شہرت نہیں ۔ بلکہ اس سے مراد فکرو خیال کی  وہ پاکیزگی عطا کی گئی ہے کہ وہ خودخیر کا پیکر بن گیا اور دوسرے اس  خیر کو ٹھکرا نہ سکیں ۔
کائنات میں پائی جانے والی ہر حکمت اور دانش کی بات کسی نہ کسی نبی کا فیضان ہوتی ہے اس لیے حضور نبی کریم ﷺ  نے ارشاد فرمایا : حکمت بھری بات مومن کی گمشدہ میراث ہے ۔ وہ اسے جہاں بھی پائے وہی اس کا سب سے زیادہ حق دار ہے ۔ (ترمذی )۔ یعنی حکمت تو ہے ہی ایمان کا ثمر اور بندہ مومن کا مطلوب ۔اسے جہاں سے بھی کوئی حکمت بھرا کلمہ میں اسے کسی صاحب ایمان کا ہی فیضان سمجھ کر حاصل کر لے ۔ یہ بھی نہ دیکھے یہ کلمہ کس کی زبان سے ادا ہو رہا ہے بس یہ دیکھے کہ وہ بات حکمت کی ہے اور اپنی گمشدہ میراث سمجھ کر اس کی طرف لپکے ۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بہترین مجلس وہ ہے جس میں حکمت کی بات کی جائے ۔ (المعجم الکبیر )۔  حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : حسد صرف دو آدمیوں پر کیا جا سکتا ہے ایک وہ جسے اللہ نے مال و دولت دیا اور وہ  اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرے اور دوسرا وہ جسے اللہ نے حکمت دی وہ اس پر عمل کرتا ہے اور اسکی تعلیم دیتا ہے ۔ (سنن ابن ماجہ ) ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کسی مسلمان نے اپنے بھائی کو حکمت کی بات سے بڑھ کر بہترین تحفہ نہیں دیا ۔( شعب الایمان )۔

پیر، 10 اگست، 2026

سورۃ العصر

 

سورۃ العصر

ترجمہ”:زمانہ کی قسم ۔ بےشک ہر انسان ضرور نقصان میں ہے ۔ سوا ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے اور انہوں نے ایک دوسرے کو دین حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی “۔
 امام طبرانی اپنی سند کے ساتھ حضرت عبیداللہ بن حفص رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ صحابہ کرام میں سے جب بھی کوئی دو صحابی آپس میں ملتے اور ملاقات کرنے کے بعد ایک دوسرے سے جدا ہونے سے پہلے دونوںاس سورت کی تلاوت کر کے ایک دوسرے کو سناتے اور پھر سلام کر کے جدا ہو جاتے ۔ ( المعجم الاوسط)۔ اس سورۃ کی آیت نمبر دو اور تین کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالی نے قسم اٹھا کر یہ ارشاد فرمایا کہ آدمی ضرور نقصان میں ہے  کیونکہ کہ انسان کی عمر جو اس کا سرمایہ اور اصل پونجی ہے وہ کم ہو رہی ہے مگر وہ لوگ جو ایمان لے آئے اور اچھے کام کیے اور ایک دوسرے کو اچھے کام کرنے کی نصیحت کی اور ایک دوسرے کو ان تکلیفوں اور مشکلات میں صبر کرنے کی نصیحت کی  جو دین کی راہ میں پیش آتی ہیں تو یہ لوگ اللہ تعالی کے فضل سے خسارے میں نہیں ہیں کیونکہ کہ انہوں نے اپنی ساری عمر  نیکی اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری میں گزاری ۔ 
سورۃ فاطر میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : بیشک وہ لوگ جو اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور  ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے پوشیدہ اور اعلانیہ کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں وہ ایسی تجارت کے امید وار ہیں جو کبھی تباہ نہیں ہو گی ۔
 انسان کی زندگی اس کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے اور انسان اس سرمائے سے صرف اسی صورت  فائدہ اٹھا سکتا ہے کہ  وہ اپنی زندگی کو اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری میں  گزارے۔اگر انسان اپنی زندگی اللہ تعالی کی نافرمانی اور گناہوں میں خرچ کرتا ہے تو اس سے اسے کوئی نفع حاصل نہیں ہو گا۔دوسری بات یہ کہ انسان کی زندگی کا جو حصہ اللہ تعالی  کی عبادت اور اس کے احکامات کے مطابق گزرے گا وہ ہی سب سے بہتر ہے ۔  دنیا سے بے رغبتی کرنا اور آخرت کی طلب میں اور اس سے محبت کرنے میں مشغول ہونا انسان کے لیے سعادت کا باعث ہے ۔
اللہ تعالی سورۃ بنی اسرائیل میں ارشاد فرماتا ہے :” اور جو آخرت چاہتا ہے اس کے لیے ایسی کوشش کرتا ہے جیسی کرنی چاہیےاور وہ ایمان والا بھی ہو تو یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوشش کی قدر کی جائے گی 

سیر ت النبی ﷺ اور حقوق زوجین(۲)

  سیر ت النبی ﷺ اور حقوق زوجین(۲) جیسے عورت پر شوہر کی اطاعت لازم ہے ایسے ہی شوہر کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کا احترام کرے اور اس کی تحقیر...