خیرالتابعین سیدنا اویس قرنیؓ(۱)۔
اسلامی تاریخ ایسی پاکیزہ اور باکمال شخصیات سے مزین ہے جنہوں نے اپنی بے مثال سیرت ، اعلی کردار اور بے لوث محبت الہی و عشق رسول ﷺ کے ذریعے انسانیت کے لیے ہدایت کے چراغ روشن کیے ۔ان عظیم ہستیوں میں سے ایک ہستی خیرالتابعین، افضل التابعین ، سید التابعین سیدنا اویس قرنی رضی اللہ عنہ کی بھی ہے ۔ حضرت اویس قرنی ؓ کی شخصیت اخلاص ، ایثار ، محبت الہی اور عشق رسول ﷺ اور والدہ کی خدمت جیسے بے مثال اوصاف سے مزین ہے ۔ آپ ؓ نبی کریم ﷺ کے دور میں ہونے کے باوجود آپ ﷺ کی زیارت کا شرف حاصل نہ کر سکے لیکن عشق مصطفی ﷺ، زہد و تقوی ، اخلاص ، للہیت اور والدہ کی خدمت کی بدولت ایسی شان پائی کہ نبی کریم ﷺ آپ رضی اللہ عنہ کاذکر اپنے جلیل القدر صحابہ کرام میں فرماتے اور فرماتے جو اویس ؓ کو ملے اپنے لیے دعا کرائے ۔
اہل دنیا کی نظر میں سیدنا اویس قرنی ؓ مستور الحال تھے اور اسی جز و مستی کے عالم میں رہنا پسند تھا ان کے دل میں خوف خد ا تھا یا بس عشق مصطفی ﷺ۔ حضرت سیدنا اویس قرنی ؓ ان پاکیزہ اور بلند ہستیوں میں سے تھے جن کی تخلیق عشق و محبت کے خمیر سے ہوئی تھی ۔ آپ ؓ کونبی رحمت ﷺ سے عشق تھا اور کسی چیز سے خواہ وہ ان کے نام سے متعلق ہو یا خاندانی نسب کے بارے میں کوئی سروکار نہ تھا ۔ آپ رضی اللہ عنہ کی پہچان عشق تھی اور آپ ؓکا اوڑھنا بچھونا عشق تھا ۔اس لیے آپ ؓ کو دنیا اور دنیاوی معاملات سے کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔ بقول عبد الرحمن جامی رحمۃ اللہ علیہ:
بندہ عشق شدی ترک نسب کن جامی
کاندرین راہ فلاں بن فلاں چیزے نیست
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی اپنے بندوں میں سے ایسے برگزیدہ لوگوں کو دوست رکھتا ہے جو دنیا داروں کی نظروں سے پوشیدہ رہتے ہیں ۔ان کے چہرے کا رنگ سیاہ اور ان کے پیٹ کمر سے لگے ہوتے ہیں اور کمر پتلی ہوتی ہے ۔ اگر دنیا کے بادشاہ ان سے ملنا چاہیں تو نہیں ملتے ۔ مال دار عورتیں ان سے شادی کی آرزو کریں تو انکار کر دیں ۔اگر ظاہر ہوں تو انہیں دیکھ کر کوئی خوش نہ ہو اور اگر بیمار ہو جائیں تو کوئی ان کی عیادت نہ کرے ۔اگر گم ہو جائیں تو کوئی ان کی جستجو نہ کرے اور انتقال کر جائیں تو ان کے سفر آخرت میں کوئی شریک نہ ہوں ۔ صحابہ کرام نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ایسا برگزیدہ شخص کون ہو سکتا ہے ؟ نبی رحمت سرورکونین ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ اویس ہے ۔
