ولادت مصطفی ﷺ
حضور نبی کریم ﷺ کی آمد سے قبل عرب اور پوری دنیا کے حالات بہت خراب تھے ہر طرف تاریکی چھائی ہوئی ۔لوگ کفر شرک میں مبتلا تھے یہاں تک کہ خانہ کعبہ میں بھی 360 بت رکھے ہو ئے تھے ۔ غلاموں اور عورتوں کی بالکل بھی عزت نہیں تھی اگر بیٹی پیدا ہوتی تو اسے زندہ درگور کر دیا جاتا تھا ۔ہر طرف قتل و غارت اور جنگ و جدل عام تھی ۔ اللہ تعالی نے انسانیت کو اس تاریکی سے نکالنے کے لیے اپنا محبوب بھیجا جن کی آمد سے تاریکیوں کو روشنی مل گئی ، خانہ کعبہ میں پڑے بت گر پڑے ، یتیموں کو ان کا حق مل گیا ، غلاموں کو ان کا کھویا ہوا مقام ملا اور آپ ﷺ کی آمد سے عورتوں کو مقام و مرتبہ ملا ۔
حضرت عبد المطلب بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی تو اس وقت میں خانہ کعبہ میں تھا۔ میں نے دیکھا کہ کعبہ معظمہ میں رکھے بت گِر پڑے ۔ ( السیرہ النبویہ )۔
اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ جب تم پر میرا فضل اور رحمت ہو تو خوشی مناؤ ۔ ارشاد باری تعالی ہے :(اے محبوب ﷺ ) تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں“۔(سورہ یونس :آیت ۸۵)۔ حضور نبی رحمت ﷺ اللہ تعالی کا فضل عظیم اور رحمت عظیم ہیں اس سے بڑھ کر اور اللہ تعالی کا فضل کیا ہو سکتا ہے کہ ہمیں اپنا محبوب عطا فرمایااور ان کا امتی بنا کر ظلمت کے اندھیروں سے نکالا ۔ نبی کریم ﷺ کی آمد سے قبل انسان اپنی اصل منزل سے دور اور زندگی کے حقیقی مقصد سے بے خبر تھا ۔نبی کریم ﷺ نے آ کر انسان کو اس کے رب سے جوڑا ، عدل و انصاف سکھایا اور یہ بتایا کہ انسان کی عظمت مال ، نسب یا طاقت میں نہیں بلکہ تقوی ، کردار اور اطاعت الہی میں ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ کی ولادت با سعادت کا ذکر کرتے ہوئے الفاظ اپنی تمام تر وسعت کے باوجود محدود محسوس ہوتے ہیں کیونکہ جس ہستی کی آمد پوری انسانیت کے لیے رحمت بن کر ہوئی اس کی عظمت کو چند جملوں میں سمیٹنا ممکن نہیں ۔
ہمیں ولادت مصطفی ﷺ کو ایک رسم یا چند تقریبات تک محدود نہیں کر نا چاہیے بلکہ اس کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے دلوں میں محبت مصطفی ﷺ کو زندہ کریں اور اسی محبت کو اپنے کردار اور اعمال سے ظاہر کریں ۔ اگر ماہ ربیع الاول ہمیں درود سلام کی کثرت کے ساتھ سیرت مصطفی ﷺ کو اپنی زندگی میں اتارنے کا شعور دے دے ، کسی مظلوم کے لیے ہمارے دل میں رحم پیدا ہو جائے، کسی ضرورت مند کا ہاتھ تھامنے کی توفیق مل جائے اور اگر ہماری زندگی کا کوئی ایک گوشہ سنت نبوی ﷺ کے نور سے روشن ہو جائے تو یہی ولادت مصطفی ﷺ کے تذکرے کی حقیقی برکت ہے ۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں