ہفتہ، 31 دسمبر، 2022

Darsulquran surah al-araf ayat 159-166. کیا ہم نے اپنے رب کو ناراض کرنے ...

shortvideo ہم کب مومن بنیں گے؟

قرآن اورفضیلت اہل علم

 

قرآن اورفضیلت اہل علم

اللہ رب العزت ارشادفرماتے ہیں:۔

٭\اللہ تعالیٰ اس بات پر گواہ ہے کہ اسکے سوا ءکوئی معبود نہیں،ملائکہ اوراہل علم نے بھی اس بات کی گواہی دی(اور ساتھ یہ بھی کہ وہ ہر تدبیر، عدل کے ساتھ فرمانے والا ہے اسکے سواءکوئی پرستش کے لائق نہیں وہی غالب حکمت والا ہے۔ (آل عمران ۱۸)

٭ تم میں سے جو لوگ ایمان لائے نیز جو اہل علم ہیں ، اللہ ان کے درجات کو بلند فرمائے گا۔(مجادلہ۱۱)

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں، اہل علم عام مومنین سے سات سو درجے بلند ہونگے اورہر دودرجوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہوگئی۔

٭ (اے نبی) آپ فرمادیجئے ، کیا اہل علم اور بے علم برابر ہوسکتے ہیں۔(زمر۹)

٭ انسانوںاورجانوروں اور چوپایوں میں بھی اسی طرح مختلف رنگ ہیں۔پس اللہ کے بندوں میں سے اس سے وہی ڈرتے ہیں جو (ان حقائق کابصیرت کے ساتھ )علم رکھتے ہیں یقینا اللہ غالب ہے بڑا بخشنے والا۔(فاطر۲۸)

٭ (اے نبی)آپ کہہ دیجئے ، اللہ تعالیٰ میرے اورتمہارے درمیان بطور گواہ کافی ہے نیز (وہ لوگ بھی گواہ ہیں)جن کے پاس کتاب کا علم ہے ۔(رعد۴۳)

٭ اوراہل علم نے کہا تمہارے لیے خرابی ہو جو لوگ ایمان لائے اورانھوں نے اچھے اعمال کیے ان کے لیے اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے بہتر ثواب ہے۔(قصص ۸۰)

٭ اور یہ مثالیں ہیں جنہیں ہم لوگوں کے (فہم ) کے لیے بیان کرتے ہیں اورانہیں صرف علماءہی سمجھتے ہیں۔(عنکبوت ۴۳)

٭ اورجب انکے پاس کوئی خبر امن یا خوف کی آتی ہے تو وہ اسے(بغیرسوچے سمجھے) پھیلادیتے ہیں اگر وہ (بجائے شہرت دینے کے ) اسے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم)اوراپنے میں سے صاحبانِ (علم و)امر کی طرف لوٹادیتے تو ضرور ان میں سے وہ لوگ جو (کسی )بات کا نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں اس (خبر کی حقیقت )کو جان لیتے، اگر تم پر اللہ کا فضل اسکی رحمت نہ ہوتی تو یقینا چند ایک کے سواءتم (سب) شیطان کی پیروی کرنے لگتے ۔(النساء۸۳)

 امام غزالی ؒ فرماتے ہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے واقعات ومعاملات کے فیصلے کو( صاحب بصیرت)علماءکرام کے اجتہاد (اوراستنباط) کی طرف لوٹا دیا ہے اورحکم خداوندی کے اظہار میں ان کے مرتبے کو انبیائے کرام کے درجے سے معاً بعد ذکر فرمایا ہے ۔(احیاءالعلوم)

Darsulquran surah al-kauther ayat 01-03 part-03 کیا ہم خواہشات نفسانی کی...

Darsulquran surah al-araf ayat 158.کیا ہم راہ راست پر ہیں

جمعہ، 30 دسمبر، 2022

اثباتِ علم

 

اثباتِ علم

حضرت علی بن عثمان الہجویری رحمة  اللہ علیہ کشف المحجوب میں ارشاد فرماتے ہیں، ہر شخص پر لازم ہے کہ احکام الٰہی اورمعرفت ربانی کے علم کے حصول میں مشغول رہے ، بندے کا علم وقت کے ساتھ فرض کیاگیا یعنی جس وقت پر جس علم کی ضرورت ہو اس کا حاصل کرنا فرض ہے ۔حضرت ابوعلی ثقفی علیہ الرحمة اللہ فرماتے ہیں، ”جہالت اورتاریکی کے مقابلے میں علم دل کی زندگی اورآنکھوں کا نور ہے“۔مطلب یہ ہے کہ جہالت کے خاتمے سے دل کی حیات اور کفر کی تاریکی دور ہونے سے آنکھ کی روشنی یقینی ہے جس کو ایمان کی معرفت نہیں اس کا دل جہالت کی وجہ سے مردہ ہے اورجس کو شریعت کا علم نہیں اس کا دل نادانی اورغفلت کا مریض ہے، پس کافروں کے دل مردہ ہیں کیونکہ وہ خدا کی معرفت سے بے بہرہ ہیں۔اہل غفلت کا دل بیمار ہے کیونکہ وہ اللہ کے فرمان سے بہت دور ہیں۔حضرت بایزید بسطامیؒ فرماتے ہیں ، ”میں نے تیس سال تک مجاہدہ کیا مگر مجھے علم اوراسکے پیروی سے زیادہ مشکل کوئی اورچیز نظر نہیں آئی “۔انکے فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ طبیعت کے نزدیک علم کیمطابق عمل کرنے کے مقابلے میں آگ پر پاﺅں رکھنا زیادہ آسان ہے اور جاہل کے دل پر ہزار بار پل صراط سے گزرنا اس سے زیادہ آسان ہے کہ ایک علمی مسئلہ سیکھے ،فاسق کیلئے جہنم میں خیمہ نصب کرنا اس سے زیادہ محبوب ہے کہ وہ کسی ایک علمی مسئلہ عمل پیرا ہو۔ حضرت یحییٰ بن معاذ رازی ؒنے کیا خوب فرمایا ہے ”تین قسم کے لوگوں کی صحبت سے بچو ، ایک غافل علماءسے ،دوسرے مداہنت کرنےوالے فقراءسے اور تیسرے جاہل صوفیاءسے “غافل علماءوہ ہیں جنہوں نے دنیا کو اپنے دل کا قبلہ بنارکھا ہے ،شریعت میں آسانی کے متلاشی رہتے ہیں،صاحبانِ اقتدار کی پرستش کرتے ہیں، ظالموں کا دامن پکڑتے ہیں ، انکے دروازوں کا طواف کرتے ہیں ،خلق میں عزت و جاہ اپنی معراج گردانتے ہیں ، اپنے غرور وتکبر اوراپنی خود پسندی پر فریفتہ ہوتے ہیں دانستہ اپنی باتوں میں رقت وسوز پیداکرتے ہیں، آئمہ سلف کے بارے میں زبان طعن دراز کرتے ہیں ، بزرگانِ دین کی تحقیر کرتے ہیں اوران پر زیادتی کرتے ہیں،اگر انکے ترازو کے پلڑے میں دونوں جہان کی نعمتیں رکھ دو تب بھی وہ اپنی مذموم حرکتوں سے باز نہ آئینگے،کینہ وحسد کو انھوں نے اپنا شعار دین قرار دے دیا ہے، بھلا ان باتوں کا علم سے کیا تعلق ؟علم تو ایک ایسی صفت ہے جس سے جہل و نادانی کی باتیں اربابِ علم کے دل سے فنا ہوجاتی ہیں، مداہنت کرنیوالے فقراءوہ ہیں جو ہر کام اپنی خواہش کے مطابق کرتے ہیں اگر چہ وہ باطل ہی کیوںنہ ہو، مخلوق سے ایسا سلوک کرتے ہیں جس میں جاہ و مرتبہ کی طمع ہوتی ہے ،جاہل صوفیاءوہ ہیں جنھوں نے کسی استاد و مربی سے علم و ادب حا صل نہ کیا ہو،اورمخلوق خدا کے درمیان بن بلائے مہمان کی طرح خود بخود کود کر پہنچ گئے ہوں۔(کشف المحجوب)

Darsulquran surah al-kauther ayat 01-03 part-02.کیا ہم خیر کثیر سے فائدہ...

Shortvideo - ایمان کا تقاضہ

جمعرات، 29 دسمبر، 2022

Darsulquran surah al-araf ayat 157 Part-02.کیا ہم رسول اللہ صلی اللہ علی...

علم و عمل

 

علم و عمل

برصغیر کی معروف علمی اورروحانی شخصیت حضرت علی بن عثما ن الہجویری رحمۃ اللہ علیہ اپنی مشہور زمانہ تصنیف کشف المحجوب میں تحصیل علم کی فرضیت اوراس کی اہمیت کے حوالے سے رقم طراز ہیں:

اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشادفرمایا:’’درحقیقت بندگان خدا میں سے علماء ہی اللہ کا خوف رکھتے ہیں‘‘رسول اللہ ﷺ کا ارشادہے کہ ہر مسلمان مرد اورعورت پر تحصیل علم فرض ہے ۔ اے طالب حق !تمہیں علم ہونا چاہیے کہ علم کی کوئی حدوغایت نہیں اورہماری زندگی محدود ومختصر ہے ، بنا بریں ہر شخص پر تمام علوم کا حصول کا فر ض قرار نہیں دیا گیا لیکن ان میں سے جس قدر سیکھنا جتنا کہ شریعت سے مطلق ہے ضرور ی ہے مثلاًعلم نجوم سے اتنا سیکھنا جن سے دن اوررات کے اوقات کے نماز اورروزے کی ادائیگی درست طریقے پر ہوسکے لازم ہے ۔غرض کہ عمل کے لیے جس قدر علم کی ضرور ت ہے اس کا حاصل کرنا فرض ہے لیکن ایسے علوم جو کسی کو نفع نہ پہنچاسکیں اللہ نے ایسے علوم کی تحصیل کی مذمت فرمائی ہے۔

یاد رکھو علم کے ساتھ عمل بھی ضرور ی ہے، تھوڑے سے علم کے لیے بھی بہت زیادہ عمل درکار ہے ، علم و عمل دونوں لازم و ملزوم ہیں لہٰذا علم کے ساتھ ہمیشہ عمل پیوست رہنا چاہیے۔اسی طرح بغیر علم کے عمل رائیگا ں ہے ۔میں نے لوگوں کے ایک گروہ کو دیکھا کہ وہ علم کو عمل پر فضیلت دیتے ہیں اورایک گروہ ایسا بھی دیکھا ہے کہ وہ عمل کو علم پر فوقیت دیتا ہے حالانکہ ان دونوں گروہوں کے نظریات باطل ہیں اس لیے کہ بغیر علم کے عمل کو حقیقت میں عمل کہا ہی نہیں جاسکتا کیونکہ عامل جب بھی عمل کرتا ہے جب پہلے سے اسے علم ہوتا ہے جیسے نماز ایک عمل ہے جب تک بندے کو پہلے سے طہارت کے ارکا ن کا علم نہ ہو، پانی کی شناخت کا پتا نہ ہو ، سمت قبلہ کو نہ جانتا ہو،نیت کی کیفیت کا ادراک نہ ہو،نماز کے اوقات کا علم نہ ہو، ارکا ن اسلام سے نابلد ہو وہ نماز کیسے صحیح ہوسکتی ہے ۔ 

اسی طرح اس گروہ کا حال ہے جو علم کو عمل پر فضیلت دیتا ہے یہ نظریہ بھی باطل ہے کیونکہ عمل کے بغیر علم کچھ کام نہیں آئے گاجیسا کہ اللہ رب العزت کاارشاد ہے ’’اہل کتاب کے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب کو پس پشت ڈال دیا ہے(یعنی وہ کتاب پر عمل نہیں کرتے ) گویا وہ لوگ جانتے ہی نہیں بے علم ہیں‘‘اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں عالم بے عمل کو علماء کے زمرے میں شمولیت کی نفی فرمائی ہے ، اس لیے کہ سیکھنا ،یاد کرنا، محفوظ کرنا یہ سب بھی تو عمل ہی کے قبیل سے ہیں اوراسی عمل کے ذریعے سے بندہ ثواب کا مستحق ہوتا ہے اگر عالم کا علم اس کے اپنے کسب وفعل سے نہ ہو تو بھلاوہ کسی ثواب کا حق دار کیسے ہوسکتا ہے ۔ (کشف المحجوب )

Darsulquran surah Al-kauther ayat 01-03 part-01. کیا ہمیں اللہ تعالی کی ...

Shortvideo - کیا ہم حقیقی مسلمان ہیں؟

بدھ، 28 دسمبر، 2022

Darsulquran surah al-araf ayat 155-157 part-01.کیا ہم متقی بن سکتے ہیں

حضرت ابوالدرداءکا ذوقِ علمی

 

حضرت ابوالدرداءکا ذوقِ علمی

حضرت ضحاک علیہ الرحمة بیان کرتے ہیں، حضرت ابوالدرداءرضی اللہ عنہ نے اہل دمشق سے ارشادفرمایا :اے دمشق والو! تم میرے دینی بھائی ہو، خطے میں میرے ہمسائے ہواوردشمنوں کے خلاف میرے مددگار بھی ہولیکن کیا وجہ ہے کہ تم مجھ سے دوستی نہیں رکھتے حالانکہ میرے اخراجات بھی تمہارے ذمہ نہیں ہیں بلکہ انھیں بھی دوسروں نے اٹھارکھا ہے،میں مشاہدہ کر رہا ہوں کہ تمہارے علماءاٹھتے جارہے ہیں اورتمہارے ناخواندہ لوگ ان سے علم حاصل نہیں کررہے ، میں یہ بھی دیکھ رہا ہوں کہ اللہ نے جس رزق کا خود ذمہ لے رکھا ہے تم اس کے پیچھے پڑے ہوئے ہو، جبکہ اللہ نے تمہیں جن کاموں کا حکم دیا ہے تم نے انھیں ترک کر رکھا ہے،غور سے سنو !کچھ لوگوں نے بڑی مضبوط عمارتیں بنائیں ،بہت دولت جمع کی اور بڑی دور کی امیدیں لگائیں لیکن پھر بھی ان کی عمارتیں گر کر قبرستان بن گئیں،ان کی امیدیں دھوکہ ثابت ہوئیں اورایسے لوگ خود بھی ہلاک ہوگئے ،غور سے سنو !علم سیکھواورعلم سکھاﺅ،علم سیکھنے والا اورسکھانے والا دونوں اجر میں برابر ہیں اوراگر یہ دونوں نہ ہوں تو پھر لوگوں میں کوئی خیر نہیں ۔
حضرت حسان علیہ الرحمة کہتے  ہیں کہ حضرت ابوالدرداءنے اہل دمشق سے فرمایا:کیا تم اس بات پر رضاءمند ہوگئے ہو کہ سال ہا سال گندم کی روٹیاں پیٹ بھر کر کھاتے ہولیکن تمہاری مجلسوں میں اللہ کا نام نہیں لیا جاتا ، تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تمہارے علماءجارہے ہیں لیکن تمہارے جاہل علم حاصل نہیں کررہے ، اگر تمہارے علماءچاہتے تو ان کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا تھا اوراگر تمہارے ان پڑھ افراد علم کو تلاش کرتے تو وہ اسے ضرور پالیتے ،اے لوگو!نقصان دہ چیزوں کی بجائے نفع دینے والی چیزیں اختیار کرو۔اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ، جو امت بھی ہلاک ہوئی اس کی ہلاکت کے دوہی اسباب تھے ،ایک تووہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے چل رہے تھے اوردوسرے وہ اپنی تعریف خود کیا کرتے تھے ۔
ایک اورموقع پر حضرت ابوالدرداءنے ارشادفرمایا:اگر تین کام نہ ہوتے تو میں کبھی یہ بات پسند نہ کرتا کہ اس دنیا میں قیام پذیر رہوں ، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے استفسار کیا کہ وہ تین کام کون سے ہیں ؟انھوں نے ارشادفرمایا:ایک تو یہ کہ دن اوررات کی ساعتوں میں اپنا سرنیاز اپنے خالق ومالک کے سامنے زمین پر رکھناجو میری آخرت کی زندگی کے لیے میرا اثاثہ بن رہا ہے ،دوسرا موسم گرما کی سخت حدت میں روزہ رکھ کر پیاسا رہنا اورتیسرا ایسا لوگوں کے ساتھ ہم مجلس ہونا جو عمدہ کلام کو اس طرح ذوق وشوق سے چنتے ہیں جیسے خوش ذائقہ پھل چنا جاتا ہے۔(ابونعیم)

Darsulquran surah al-maun ayat 01-07 part-03.کیا ہم دین اسلام کے مطابق ز...

منگل، 27 دسمبر، 2022

Darsulquran surah al-araf ayat 153-154. کیا ہم اپنے رب کی شان کا خیال رک...

تعلیم اورارشاداتِ نبوی

 

تعلیم اورارشاداتِ نبوی

٭ اللہ تبار ک وتعالیٰ نے مجھے جس ہدایت اورعلم کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، اس کی مثال ابر کثیر جیسی ہے کہ وہ زمین کے ایک ایسے ٹکڑے پر برستا ہے ، جو اسے قبول کرتا ہے اوراس سے بہت زیادہ ہریالی اگالیتا ہے اورزمین کا ایک ٹکڑا ایسا ہے جو پانی کو روک لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے لوگوں کو بھی نفع فرماتا ہے۔وہ اس سے خود بھی سیراب ہوتے ہیں مویشیوں کو پلاتے ہیں اورکھیتی باڑی بھی کرتے ہیں اور ایک ایسا(بدنصیب)خطہ بھی ہے جس میں نہ تو پانی ٹھہرتا ہے اورنہ ہی اس سے کوئی سبزہ پیدا ہوتا ہے ۔(بخاری شریف)

امام غزالی فرماتے ہیں، آپ نے پہلی مثال اُن لوگوں کے بارے میں ارشادفرمائی ہے جو اپنے علم سے فائدہ اٹھاتے ہیں دوسری مثال اُن لوگوں کی ہے جو اپنے علم سے دوسروں کو بھی نفع پہنچاتے ہیں اورتیسری مثال اُن محروم لوگوں کی ہے جو اپنے علم سے نہ تو خود فائدہ اٹھاتے ہیں اورنہ دوسروں تک اس کا فیض پہنچاتے ہیں۔

٭ بہترین عطیہ اورسب سے اچھا تحفہ کیا ہے؟دانائی کی وہ ایک بات جسے تم سنوپھر اسے محفوظ رکھ کر اپنے دوسرے بھائی کے پاس لے جائو اوراسے سکھادو(تمہارایہ عمل)ایک سال کی عبادت کے برابر ہے۔(مجمع الزوئد)

٭ بے شک اللہ تعالیٰ اس کے ملائکہ آسمانوں اورزمینوں کی مخلوق حتیٰ کہ چیونٹی اپنے بل میں اورمچھلی دریا میں لوگوں کو نیکی سکھانے والوں کے لیے رحمت کی دعا مانگتے ہیں۔(جامع ترمذی)

٭ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کاشانہ اقدس سے باہر تشریف لائے تو آپ نے دو مجلسیں دیکھیں ، ان میں سے ایک مجلس والے اللہ تبار ک وتعالیٰ سے دعا مانگ رہے تھے اوراُس کی طرف متوجہ تھے اوردوسری مجلس والے اہل حلقہ کی تعلیم وتلقین میں مصروف تھے۔آپ نے ارشادفرمایا:یہ لوگ اللہ تبار ک وتعالیٰ سے سوال کرتے ہیں اگر وہ چاہے تو ان کو عطا کرے ، اگر چاہے تو روک دے، لیکن وہ گروہ لوگوں کو تعلیم دے رہا ہے اوربے شک مجھے بھی معلم بناکر بھیجا گیا ہے پھر آپ ان کی طرف تشریف لے گئے اوران کے درمیان بیٹھ گئے ۔(سنن ابن ماجہ)

٭ دوقسم کے انسانوں پر رشک کیا جاسکتا ہے ، ایک وہ شخص جس کو اللہ تبار ک وتعالیٰ نے دین کی بصیرت عطافرمائی اوروہ اس کے ساتھ فیصلہ بھی کرتا ہے اوراسے لوگوں کو سکھاتا بھی ہے اوردوسرا وہ شخص جس کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے مال کی فراوانی عطافرمائی اوراس کو خیر کی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق بھی نصیب ہوئی ۔(بخاری)

٭ ایک اچھی بات جسے کوئی مسلمان سن کر دوسروں کو سکھاتا ہے اورخود بھی اس پر عمل کرتا ہے وہ اس کے لیے ایک سال کی عبادت سے بہتر ہے۔(احیاء العلوم : امام محمد غزالیؒ)


Shortvideo - عین اسلام کیا ہے؟

Darsulquran surah al-maun ayat 01-07 part-02.کیا ہم دین کو جھٹلا رہے ہیں

پیر، 26 دسمبر، 2022

تعلیم

 

تعلیم 

٭اللہ رب العزت ارشادفرماتے ہیں: ”اوریہ تو ہونہیں سکتا کہ سارے کے سارے مسلمان (ایک ساتھ)نکل کھڑے ہوں تو  ان میں سے ہر ایک گروہ (یا قبیلہ)کی ایک جماعت کیوں نہ نکلے کہ وہ لوگ دین میں خوب فہم وبصیرت حاصل کریں اوراپنی قوم کو ڈرائیں جب وہ انکی طرف واپس آئیں تاکہ وہ (گناہوں اورنافرمانی کی زندگی سے) اجتناب کریں“۔(توبہ ۱۲۲)

٭”اوریادکرو،جب اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے پختہ وعدہ لیا جنہیں کتاب عطاکی گئی تھی کہ تم ضرور اسے لوگوں کے سامنے واضع انداز میں بیان کروگے اور(جو کچھ اس میں بیان ہوا ہے )اسے نہیں چھپاﺅگے، تو انھوں نے اس عہد کو پس پشت ڈال دیا اوراسکے بدلے تھوڑی سی قیمت وصول کرلی ، سو! یہ انکی بہت ہی بری خریداری ہے“۔(آل عمران ۷ ۸ ۱ )

٭ ”اوران میں سے ایک گروہ (علم ) حق کو چھپاتا ہے حالانکہ وہ (اچھی طرح)جانتے ہیں“۔ (بقرة ۱۴۶)٭ ”اوراس سے بڑھ کر کس کی بات اچھی ہے کہ حق تعالیٰ کی طرف بلاتا ہے اوراچھے کام کرتا ہے “۔ (فصلت۳۳)٭ ”اوراپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اورخوش اسلوبی کے ساتھ دعوت دو“۔ (نحل ۴۸)

٭ ”اوروہ (اللہ کے رسول ﷺ)انھیں کتاب وحکمت کی تعلیم دیتے ہیں“۔(آل عمران ۴۸)

حضورمعلم انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم ارشادفرماتے ہیں، اللہ تبارک وتعالیٰ نے جس عالم کو علم دیا ہے اس سے وہ عہد لیا ہے جو انبیائے کرام سے لیا گیا کہ وہ اسے لوگوں کے سامنے بیان کریں گے اوراسے چھپائیں گے نہیں۔(احیاءالعلوم)

٭اگر اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعے کسی ایک شخص کو بھی ہدایت عطافرمادے تو یہ تمہارے لیے دنیا ومافیھاسے بہتر ہے۔(صحیح مسلم)٭ جو شخص علم کا ایک باب اس غرض سے سیکھتا ہے کہ دوسرے لوگوں کو بھی سکھائے گا تو اسے ستر صدیقوں کا ثواب دیا جاتا ہے۔ (الترغیب والترہیب)

٭جب قیامت کا دن ہوگاتو اللہ تبارک وتعالیٰ عابدین ومجاہدین سے فرمائے گا کہ جنت میں داخل ہوجاﺅ ، اہل علم عرض کریں گے کہ ان لوگوں نے تو ہمارے علم کی فضیلت کی وجہ سے عبادت اورجہاد (کا فہم حاصل )کیا ، اللہ رب العزت ارشاد فرمائے گاتم میرے نزدیک بعض فرشتوں کی طرح ہوتم لوگوں کی سفارش کرو، تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی پھر وہ جنت میں داخل ہوجائیں گے۔(کنزالعمال )

٭جس شخص نے علم حاصل کیا پھر اسے چھپایا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے آگ کی لگام ڈالے گا۔ (ترمذی)

Darsulquran surah al-maun ayat 01-07 part-01. اصل دین کیا ہے

Shortvideo - کیا زبان سے کلمہ طیبہ کا کوئی نتیجہ ہوگا؟

جمعرات، 22 دسمبر، 2022

Shortvideo - اللہ تعالٰی کا سفر کیوں کر؟

تکریمِ مصطفی علیہ التحیة والثنائ


 

تکریمِ مصطفی علیہ التحیة والثنائ

 حضرت ابن وہب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا:اللہ تبارک وتعالیٰ نے مجھ سے ارشادفرمایا، اے میرے محبوب !مجھ سے مانگو ،میں نے عرض کیا: اے میرے پروردگار! میں تجھ سے کیا طلب کروں، تو نے حضرت ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا ، موسیٰ علیہ السلام سے بلاواسطہ کلام کیا ، نوح علیہ السلام کو چن لیا، سلیمان علیہ السلام کو وہ عظیم سلطنت عطاکی جو ان کے بعد کسی اور کو نہیں دی جائے گی، اپنے حبیب علیہ الصلوٰ ة والتسلیم کا یہ جواب سن کر اللہ رب العزت نے ارشادفرمایا:اے میرے حبیب !جو میں نے تجھے عطاکیا ہے وہ ان تمام انعامات سے افضل واعلیٰ ہے۔میں نے تجھے کوثر عطافرمایا،میں نے تیرے نام کو اپنے نام کے ساتھ اس طرح ملایا ہے کہ ہر اذان وشہادت کے وقت فضاءمیں گونجتا رہتا ہے اورمیں نے زمین کو آپ کے لیے اورآپ کی امت کے لیے طہارت کا سبب بنادیا ہے، میں نے آپ کو گزشتہ وآئندہ کسی گناہ( کے صدور وامکان) سے محفوظ فرمادیا،اورآپ لوگوںمیں اس حالت میں چلتے ہیں کہ آپ مغفور ہیں اوریہ مہربانی آپ سے پہلے میں نے کسی اورکے ساتھ نہیں کی،میں نے آپ کے امتیوں کے دلوں کو قرآن کریم کا حامل بنادیا ہے اورمیں نے مقام شفاعت آپ کے لیے مخصوص کررکھا ہے حالانکہ میں نے آپ کے علاوہ کسی اورنبی کو یہ شان عطانہیں فرمائی ۔(الشفائ)
 حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:میرے کریم رب نے مجھے یہ بشارتیں عطافرمائیں ہیں، جنت میں سب سے پہلے میرا داخلہ ہوگااوراس وقت میرے ساتھ ستر ہزار امتی ہوں گے اورہر امتی کے ساتھ ستر ہزار اہل ایمان ہوں گے جو سب میرے ساتھ جنت میں داخل ہوں گے اوران سے روزِ محشر کوئی حساب نہیں لیاجائے گا۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے مجھے یہ خوشخبری بھی دی ہے کہ میری امت فاقہ سے فنا نہیں ہوگی اورنہ دشمن اسے(ہمیشہ)مغلوب کرسکیں گے، اللہ تعالیٰ نے مجھے رعب سے اس طرح نصرت وعزت عطافرمائی ہے کہ میرا دشمن مجھ سے اورمیر ے لشکر سے ایک ماہ کی مسافت پر ہوگا تو پھر بھی وہ لرزاں وترساں ہوگا، اللہ تعالیٰ نے میرے لیے اورمیر ی امت کے لیے اموالِ غنیمت کو حلال کردیا ہے اوربہت سی ایسی چیزیں جو پہلی امتوں پرحرام تھیں انھیں ہمارے لیے حلال فرمایا دیا ہے اوراللہ تعالیٰ نے ہمارے دین میں کوئی ایسی چیز نہیں رکھی جس سے ہمیں حرج اورتنگی ہو۔

Darsulquran surah al-asr ayat 01-03 part-06.کیا زندگی گزارنے کی ہماری نی...

بدھ، 21 دسمبر، 2022

Darsulquran surah al-araf ayat 149-152.کیا ہم اللہ تعالی کے غضب میں گرفت...

عظمتِ مصطفی علیہ التحیۃ الثناء

 

عظمتِ مصطفی علیہ التحیۃ الثناء

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ ایک روز کچھ صحابہ کرام مجلس آراء تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کاشانہ اقدس سے باہر تشریف فرماہوئے تو اس مجلس کے قریب پہنچ کر کھڑے ہوگئے آپ نے سنا کہ صحابہ آپس میں گفتگو کررہے ہیں کسی نے کہا اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپناخلیل بنالیا، کسی نے کہاحضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ اللہ رب العزت نے کلام فرمایا،کسی نے کہا حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کا کلمہ اورروح ، کسی نے کہاآدم علیہ السلام کو اللہ نے برگزیدہ کیا ہے، حضور اکرم ﷺ کچھ دیر تک خاموشی کے ساتھ ان کی گفتگو سماعت فرماتے رہے پھر انکے پاس تشریف لائے اوراپنے صحابہ کرام کو مخاطب کرتے ہوئے ارشادفرمایا:میں نے تمہاری گفتگو سنی ہے اورتمہاری حیرت  واستہجاب  کا بھی اندازہ کیا ہے تم نے کہاکہ ابراہیم اللہ کے خلیل ہیں، بے شک وہ اسکے خلیل ہیں،موسیٰ نجی اللہ ہیں بلاشبہ وہ ایسے ہی ہیں ، عیسیٰ روح اللہ ہیں لاریب وہ ایسے ہی ہیں ، اللہ تعالیٰ نے آدم کو چنابے شک یہ صحیح ہے لیکن غور سے سنو !میں اللہ کا حبیب ہوں اورمیں یہ بات فخریہ نہیں کہہ رہا ،قیامت کے دن حمد کا پرچم میرے ہاتھوں میں ہوگا آدم علیہ السلام اورتمام انبیاء اس کے زیرِ سایہ ہوں گے، میں یہ فخریہ نہیں کہہ رہاسب سے پہلے میں شفاعت کروں گاسب سے پہلے میری شفاعت قبول بھی ہوگی ، میں یہ بطور فخر نہیں کہہ رہا۔سب سے پہلے جنت کی زنجیر در کو میں جنبش دوں گااللہ تعالیٰ میرے لیے جنت کے دروازے کو کھول دیگاپھر مجھے اس میں داخل کریگااورمیرے ساتھ میری امت کے فقراء کا ایک جمِ غفیر سے ہوگا یہ بات میں بطور فخر نہیں کہہ رہا ہوں۔میں تمام گزشتہ اورآئندہ انسانوں سے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں زیادہ مکرم ومحترم ہوں اورمیں یہ بات بطورِ فخر ومباہات نہیں کہہ رہابلکہ اظہارِ حقیقت کررہا ہوں۔(ترمذی شریف )حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺنے ارشادفرمایا: قیامت کے دن سب لوگوں سے پہلے میں مرقد انور سے باہر نکلوں گا جب لوگ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہونے کیلئے جائینگے میں ان کا قائد ہوں گا، جب وہ مہر بلب ہونگے میں ان کا خطیب ہوں گاجب انہیں روک دیا جائیگا میں انکی شفاعت کروں گااورجب وہ مایوس ہوجائیں گے تو میں ان کو مغفرت کی خوشخبری سنائوں گا، ساری عزتیں اورسارے خزانوں کی کنجیاں قیامت کے دن میرے ہاتھ میں ہوں گی، لوائے حمد میرے ہاتھوں میں ہوگااللہ کی بارگاہ میں تمام اولاد آدم میں سے میں معزز ومکرم ہوںگا، ایک ہزار خادم میری خدمت کیلئے جنت میں دربستہ حاضر ہوں گے وہ اتنے حسین وجمیل ہونگے کہ جیسے چھپائے ہوئے انڈے ہوں یا بکھرے ہوئے موتی ہوں۔(ترمذی)

Darsulquran surah al-asr ayat 01-03 part-05.کیا ہمارے دلوں میں ایمان کی ...

shortvideo - کیا انسان ہدایت کے معاملے میں مجبورِ محض ہے؟

منگل، 20 دسمبر، 2022

Darsulquran surah al-araf ayat 148 part-02. کیا ہم اپنے رب سے بات چیت کر...

رفعت ذکر مصطفی (۲)

 

رفعت ذکر مصطفی (۲)

مشہور مفسر ابن کثیر نے آیت کریمہ کی تشریح میں حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حدیث نقل کی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جبرائیل میرے پا س آئے اورکہا کہ بے شک میرا رب اور آپ کا رب فرماتا ہے میں نے آپ کا ذکر کیسے بلند کیا ہے ؟حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:اللہ ہی سب سے بڑھ کر جاننے والا ہے تواللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرا ذکر کیا جائیگا تو میرے ساتھ آپ کا ذکر بھی کیا جائے گا۔‘‘

قرآن حکیم کی بکثرت آیات میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ اللہ کے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کاذکر آیا ہے،’’اور ایمان والے ‘ اورایمان والیاں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔نیک باتوں کا آپس میں حکم دیتے ہیں اوربری باتوں سے روکتے رہتے ہیں،اورنماز کی پابندی رکھتے ہیں اورزکوٰۃ دیتے رہتے ہیں‘اوراللہ اوراس کے رسول کی اطاعت کرتے رہتے ہیں۔وہ لوگ ہیں کہ اللہ ضرور ان پر رحمت کرے گا‘بے شک اللہ بڑا اختیار والا بڑا حکمت والا ہے‘‘۔(سورۃ التوبہ ۴)

امام رازی نے بڑی عمدگی سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے رفع ذکر کے مختلف پہلوئوں کی نشاندہی کی ہے۔ ’’اس بات کو اچھی طرح سمجھ لو کہ آسمان وزمین میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اورشہرت کو شامل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کانام گرامی لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ شہادت اورتشہد میں بھی آپ کا ذکر موجود ہے ۔ علاوہ ازیں اللہ رب العزت نے کتب سابقہ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا ہے اورسارے عالم میں اس کو پھیلا دیا ہے نبوت آپ پر ختم ہوئی۔ خطبہ ،اذان ، خطوط کے آغاز واختتام میں آپ کا ذکر کیا جاتا ہے ۔قرآن حکیم میں اللہ نے اپنے نام کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو ذکر فرمایا ہے۔‘‘

ضحاک ابن عباس روایت کرتے ہیں’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جہاں میرا ذکر ہوتا ہے وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بھی کیاجاتا ہے ۔حتیٰ کہ اذان، اقامت ،تشہد ،جمعہ کے دن ، جمعرات کے موقعہ پر صفا اورمروہ کے درمیان ،خطبہ نکاح میں بھی روئے زمین کی ہرسمت مشرق ومغرب میں بھی ۔‘‘سید قطب شہید نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رفع ذکر کے اس منفرد اعزاز کو بڑے فکر انگیز انداز میں ان الفاظ میں بیان کیا ہے’’ہم نے ملاء اعلیٰ ‘زمین اور تمام موجودات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کو بلند کیا ہم نے آپ ﷺ کے نام کو اللہ کیساتھ بیان کیا ۔جب بھی (انسان) لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ اپنے منہ سے اداکرے گااس بلندی اور عظمت کے بعد بلندی ورفعت کی کوئی گنجائش نہیں۔یہ مقام صرف آپ ﷺ کو عطاہوا۔ لوح محفوظ میں بھی ہم نے ذکر بلند کیا۔ نسل درنسل ہر مکان وزمان میں آپ ﷺکے اسم مبارک آنے پر محبت واحترام سے درودوسلام بھیجا جاتا رہے گا۔‘‘(تجلیات رسالت )

shortvideo - کس انسان کو ہدایت ملتی ہے؟

Darsulquran surah al-asr ayat 01-03 part-04.کیا ہم زندگی کے امتحان میں ک...

پیر، 19 دسمبر، 2022

Darsulquran surah al-araf ayat 148 part-01.کیا ہم نے اپنی خواہشات کو اپن...

Shortvideo - کیا ہم نے دنیا کو اپنا گھر سمجھ لیا ہے؟

رفعت ذکر مصطفی(۱)

 

رفعت ذکر مصطفی(۱)

پروفیسر ڈاکٹربشیر احمد صدیقی رقم طراز ہیں: کیا آج اس محسوس ومشہود روئے زمین پر اس دور دور پھیلی ہوئی وسیع دھرتی پر کوئی دن، کوئی رات، کوئی گھڑی ، کوئی پل، کوئی لمحہ ایسا گزرتا ہے جس میں انسانیت کے سب سے بڑے محسن اورمعلم اللہ تعالیٰ کے حبیب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک ذکر نہ ہورہا ہو؟مناروں سے بلند ہونے والے جلسوں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پیارا نام فضائوں میں ارتعاش پیداکرتا، کانوں میں رس گھولتا ، روح وقلب کو گرماتا، ایمان کو تازگی اورحلاوت بخشتا ‘ قرآن حکیم کی آیت کریمہ ’’ورفعنا لک ذکرک ‘‘(اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کا ذکر بلندکردیا)کی صداقت پر گواہی دیتا نظر آتا ہے۔ 
اس آیت کریمہ کا نزول سواچودہ سوبرس پہلے ہوا تھا۔ تاریخ کے اس دور پر نظر دوڑائیے ۔ مکہ کی گلیوں میں ’’فردواحد‘‘لوگوں کو توحید کی دعوت دے رہا ہے لیکن انواع واقسام کے بتوں کی پرستش کرنے والے ‘آبائو اجداد کی اندھی پیروی کرنے والے‘شرک کی مروج صورتوں پر پورے عزم ویقین سے کاربند مشرکین پر توحید کا یہ پیغام بجلی بن کر گرتا ہے۔ وہ عظیم ہستی جو توحید کا پیغام دینے سے قبل لوگوں کے اعتماد اورامانات کا مرکز ، مکہ میں صادق وامین کے القاب سے معروف ،حجراسود کے نصب ہونے کے موقع پر قبائلی بغض وعناد کو اتحاد و اتفاق میں بدلنے والی صلح وامن کی داعی حیا داری اور اخلاق فاضلہ سے آراستہ ہونے کی بناپر لوگوں کی تحسین وستائش کا محورتھی، اعلان نبوت کے بعدیکایک لوگوں کی کھلی عداوت کا مرکز قرار پاتی ہے۔
’’نبوت کا بار امانت کوئی معمولی بوجھ نہ تھا یہ وہ کوہ گراں تھا جسے آسمانوں اورپہاڑوں نے بھی اٹھانے سے معذوری ظاہر کردی تھی ، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت توحید کا آغاز کیا تو مکہ کی ساری فضا سلگنے لگ گئی ۔لوگوں کے اطوار بدل گئے، ہر چہرہ پر نفرت، ہر آنکھ میں عناد کے شعلے ناچنے لگے‘‘ایسے دل گداز اور روح فرسا حالات میں ،حکیم وخبیر رب کائنات کی طرف سے سورۃ الانشراح کا نزول وقت کے عین تقاضوں کے مطابق ہوا۔’’ان سراسر ناموافق حالات میں قلب نبوت کے لئے راحت وسکون کا اگر کوئی پیغام ہوسکتا تھا تو وہ اس کے کریم پروردگار کا ہی ارشاد ہوسکتا تھا چنانچہ جبرائیل امین حاضر ہوئے اوریہ سورت اپنے ملکوتی اورنوارنی ہونٹوں سے تلاوت کرکے سنائی ‘ہر آیت میں ایک عظیم احسان کا مژدہ ‘ہر آیت میں دلجوئی اوربندہ نوازی اپنے جوبن پر ہے۔‘‘ (ضیاء القرآن)
لیکن ایسے سنگین حالات میں کیا کوئی بھی شخص یہ تصور کرسکتا تھا، کسی کے وہم وگمان میں بھی یہ بات آسکتی تھی کہ آنے والے زمانوں میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کا آوازہ اس قدر بلند ہوگا؟(تجلیات رسالت )

Darsulquran surah al-asr ayat 01-03 part-03.کیا ہم سب نقصان میں ہیں

اتوار، 18 دسمبر، 2022

عملِ تطہیر

 

عملِ تطہیر

٭امیر المومنین حضرت عثما ن بن عفان رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ پانی منگوایا،وضوفرمایااورپھر ہنس پڑے ، اپنے ساتھیوں سے پوچھا : کیا تم مجھ سے پوچھو گے نہیں کہ مجھے کس بات نے ہنسایا ہے ۔ آپکے رفقاء نے پوچھا :اے امیر المومنین آپ کو کس امر نے مسکرانے پر مجبورکیا ، آپ نے فرمایا:میں نے جناب رسالت مآب ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے اسی طرح وضو فرمایااورپھر تبسم کنا ں ہوگئے اورہم سے استفسار فرمایا:کیا تم پوچھو گے نہیں کہ مجھے کس بات نے ہنسایا ہے۔آپ کے صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ !آپ کو کس چیز نے ہنسایا؟ آپ نے ارشادفرمایا:بے شک جب بندہ وضو کے پانی منگواتا ہے پھر اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی وہ تمام خطائیں معاف فرمادیتا ہے جس کا ارتکاب اس نے اپنے چہرے سے کیا ہوتا ہے (یعنی منہ ، آنکھ اورکان کے گناہ )۔جب اپنے بازو دھوتا ہے تو بھی ایسا ہی ہوتا ہے اورجب اپنے پائوں دھوتا ہے پھر بھی ایسا ہی (فضل )ہوتا ہے ۔(مسند امام احمد بن حنبل)

٭حضرت حمران رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ایک سرد رات میں نماز کیلئے باہر جانا چاہتے تھے آپ نے وضو کیلئے پانی منگوایا میں پانی لیکر حاضر ہوا آپ نے وضوفرمایا،تو میں نے عرض کیا:اللہ آپ کیلئے کافی ہورات تو شدید سرد ہے آپ نے فرمایا:میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے ’’کہ کوئی بندہ مکمل وضو نہیں کرتا مگر اللہ تبارک وتعالیٰ اسکے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف فرمادیتا ہے ‘‘۔(بزار)

٭حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺنے ارشاد فرمایا: بلاشبہ اگر بندے میں کوئی نیک خصلت ہوتو اللہ تعالیٰ اسکے صدقے سے اسکے تمام اعمال کی اصلاح فرمادیتا ہے۔جب انسان نماز کیلئے وضو کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرمادیتا ہے اورنماز اسکے ثواب میں اضافہ کیلئے باقی رہتی ہے ۔ (ابویعلیٰ، بزار،طبرانی)

٭حضرت ابواما مہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر میں نے اس حدیث پاک کو جناب رسالت مآب ﷺ سے سات مرتبہ نہ سنا ہوتا تو میں اسے بیان نہ کرتا آپ نے ارشادفرمایا :جب انسان اس طرح وضوکرتا ہے کہ جس طرح کہ اس کو حکم دیا گیا ہے تو گناہ اسکے کانوں ،آنکھوں ، ہاتھوں اورپائوں سے دور ہوجاتا ہے۔(طبرانی)

٭حضرت عقبہ بن عامررضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے ارشادفرمایا’’کوئی ایسا مسلمان نہیں جو وضو کرے توکامل وضوکرے،جو نماز کیلئے کھڑا ہو توجو پڑھتا ہے اسے جانتا ہو(یعنی ہمہ تن متوجہ ہو)مگر وہ گناہوں سے ایسے نکل جاتا ہے جیسے اسکی ماں نے اسے آج ہی جنم دیا ہو۔(مسلم، ابودائود،)


Darsulquran surah al-asr ayat 01-03 part-02. کیا ہم صاحب ایمان ہیں

Shortvideo - آخرت کی اہمیت

ہفتہ، 17 دسمبر، 2022

Shortvideo - عبادت کیا ہے؟

عظمتیں رفعتیں

 

عظمتیں رفعتیں

٭ حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:میرے پانچ نام ہیں،میں محمد اوراحمد ہوں (صلی اللہ علیہ وسلم)میں ماحی (مٹانے والا)ہوں،کہ اللہ تعالیٰ میرے ذریعے سے کفر کو محوکردے گا۔میں حاشر ہوں(روزحشر)سب لوگ میری پیروی میں ہی اورمیں عاقب (سب سے آخر میں آنے والا)ہوں۔ (بخاری، مسلم)

٭ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ،اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کا فہم عطافرمادیتا ہے اوربے شک تقسیم کرنے والا میں ہی ہوں،اوراللہ عطا فرماتا ہے۔(بخاری ، مسلم)

٭ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میرے گھر اورمیرے منبر کے درمیان کا حصہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے ، اورمیرا منبر میرے حوض (کوثر)پر ہے۔(بخاری ،مسلم)

٭حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں،کہ حضور اکرم ﷺ نے ہمارے درمیان  ایک مقام پر کھڑے ہوکر خطاب فرمایا، آپ نے اپنے اس دن قیام فرما ہونے سے لیکر قیامت تک کی کوئی ایسی چیز نہ چھوڑی جس کو آپ نے بیان نہ فرمادیا ہو،جس نے اسے یادرکھا سویاد رکھااورجو اسے بھول گیا سو بھول گیا۔(بخاری )

٭ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی محتشم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو صوم وصال (یعنی سحری وافطاری کے بغیر مسلسل روزے رکھنے )سے منع فرمایا، انھوںمیں سے کچھ نے عرض کیا،یا رسول اللہ ! آپ خود تو صوم وصال رکھتے ہیں،اس پر آپ نے ارشادفرمایا:تم میں سے کون میری مثل ہوسکتا ہے؟میں تو اس عالم میں رات بسر کرتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا بھی ہے اورپلاتا بھی ہے۔(بخاری ،مسلم)

٭ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد ہمایوں میں سورج گرہن ہوا، آپ نے نماز کسوف پڑھائی،صحابہ نے عرض کیا:یارسول اللہ !ہم نے آپ کودیکھا کہ آپ نے اپنی جگہ پر کھڑے کھڑے کسی چیز کو پکڑا پھر ہم نے دیکھا کہ آپ قدرے پیچھے ہٹ گئے ۔آپ نے ارشادفرمایا:مجھے جنت نظر آرہی تھی ، میں نے اس میں سے ایک (انگورکا)خوشہ پکڑلیا۔لیکن اگر میں اسے توڑ دیتا تو تم رہتی دنیا تک اس میں سے کھاتے رہتے (اوروہ کبھی ختم نہ ہوتا)۔(بخاری ، مسلم) 


جمعہ، 16 دسمبر، 2022

Shortvideo - انسان کس بات پر فخر کر سکتا ہے؟

خطائوں کی بخشش


 

خطائوں کی بخشش

٭حضرت عامر بن عنبسہ سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں زمانہ جاہلیت میں مذہبی طور اطوار سے مطمئن نہیں تھااورگمان کیا کرتا تھا کہ لوگ بتوں کی پرستش کی وجہ سے گمراہی پر ہیں اور وہ حقیقت میں کسی بھی دین کے پیروکار نہیں ہیں، مجھے اطلاع ملی کہ مکہ میں ایک شخص ہیں جو لوگوں کو بہت سی باتوں کی خبریں دے رہے ہیں۔ میں سوار ہوکر ان کے پاس پہنچا ، مجھے معلوم ہوا کہ آپ تو اللہ کے رسول ہیں ۔ (ایمان لانے اور اسلام کی بنیادی تعلیمات حاصل کرنے کے بعد ) میں نے عرض کیا :اے اللہ کے پیارے نبی !مجھے وضو کے بارے میں خبر دیجئے، آپ نے ارشادفرمایا:تم میں سے کوئی انسان جب وضوکے پانی کو قریب کرتا ہے ، پھر کلی کرتا ہے اورناک میں پانی ڈال کر اسے صاف کرتا ہے تواسکے چہرے کی خطائیں اسکے منہ اورناک کے اردگرد سے گرجاتی ہیں پھر جب وہ اپنے چہرے کو اللہ کے حکم کے مطابق دھوتا ہے تو اسکے چہرے کی خطائیں پانی کے ساتھ اسکی داڑھی کی اطراف سے گر جاتی ہیں ، پھر ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ ہی ہاتھوں کی خطائیں پوروں کے راستے سے گرجاتی ہیں ، اسکے بعد وہ اپنے سرکا مسح کرتا ہے تو اس کے سرکی خطائیں پانی کے ساتھ بالوں کی اطراف سے گرجاتی ہیں بعدازاں وہ اپنے پائوں کو ٹخنوں سمیت دھوتا ہے تو پائوں کے گناہ پانی کے ساتھ ہی انگلیوں کے پوروں کے راستے سے گرجاتے ہیں تو اب وہ اگر نماز کیلئے قیام پذیرہوا، اللہ رب العزت کی حمد وثناء کی ، اسکی بزرگی بیان کی جس کا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اہل ہے اوراپنے قلب کو دنیوی مشاغل اور وسوسوں سے اللہ تعالیٰ ہی کیلئے الگ کرلیا تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک صاف ہو گیا جیسا کہ آج ہی ایسے اسکی ماں نے جنم دیا ہے۔ (مسلم)

٭حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:کیا میں تمہیں وہ عمل نہ بتائوں، جس سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹاتا اوردرجات کو بلند فرماتاہے ، صحابہ کرام نے عرض کیا : یارسول اللہ ضر ور ارشادفرمایئے ، آپ نے فرمایا :مشقت کے وقت کامل وضوکرنا ، مساجد کی طرف قدموں کی کثرت کرنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، تویہ ہے تمہاری جہاد کی تیاری ، یہ ہے تمہاری جہاد کی تیاری ، یہ ہے تمہاری جہاد کی تیاری۔(مسلم،  )

٭ حضرت علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا کہ مشقت کے وقت کامل وضوکر نا ، مساجد کی جانب قدموں کے چلنے کا عمل اورایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار گناہوں کو بالکل دھو ڈالتا ہے ۔ (ابویعلیٰ ، بزار)

امام حاکم کہتے ہیں کہ یہ حدیث امام مسلم کی شرائط کے مطابق صحیح ہے ۔(الترغیب والترہیب)

جمعرات، 15 دسمبر، 2022

روشن روشن چہروں والے

 

روشن روشن چہروں والے

٭حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ قبرستان میں تشریف لے گئے اورارشاد فرمایا:السلام علیکم ! اے گروہِ مومنین اورہم انشاء اللہ عنقریب تمہارے پاس آنیوالے ہیں ۔ میں چاہتا تھا کہ ہم اپنے بھائیوں کو بھی دیکھ لیتے ۔آپکے رفقاء نے عرض کیا یارسول اللہ !کیا ہم آپکے بھائی نہیں ہیں۔ آپ نے فرمایا:تم تو میرے اصحاب ہواوربھائی ہمارے وہ ہیں جو ابھی پیدانہیں ہوئے ،ہم نے عرض کیا: یارسول اللہ !آپ اپنی امت کے ان افراد کو کیسے پہچان لیں گے جو ابھی تک پیدا بھی نہیں ہوئے ، آپ نے ارشادفرمایا:تمہارا کیا خیال ہے کہ اگرکسی شخص کے سفید چہرے اورسفید ہاتھ پائوں والے گھوڑے ، سیاہ رنگ کے گھوڑوں میں جائیں توکیا وہ اپنے گھوڑے پہچان نہیں لے گا؟صحابہ نے عرض کیا کیوں نہیں یارسول اللہ! آپ نے فرمایا:میرے وہ امتی قیامت کے دن وضو کے اثر کی وجہ سے سفید چہرے اورروشن ہاتھ پائوں  کے ساتھ آئینگے اورمیں حوضِ کوثر پر ان کا خیرمقدم کروں گا۔(صحیح مسلم)٭حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺنے ارشادفرمایا:جب ایک مسلمان یا بندہ مومن وضو کرتا ہے اوراپنے چہرے کو دھوتا ہے تو چہرے کے وہ تمام گناہ پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ نکل جاتے   ہیں جن کی طرف اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھاپھر جب وہ اپنے ہاتھوں کو دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کیساتھ وہ تمام گناہ بھی نکل جاتے ہیں جن کا ارتکاب ہاتھوںنے کیا تھا ۔بعدازیں جب وہ اپنے پائوں کو دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ وہ تمام خطائیں بھی خارج ہوجاتی ہیں جن کی طرف پائوں چل کر گئے تھے حتیٰ کہ وہ بندئہ مومن گناہوں سے پاک صاف ہوکر نکلتا ہے۔ (مسلم)
٭حضرت عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشادفرمایا :جب بندئہ وضو کرتا ہے اورکلی کرتا ہے تو خطائیں اسکے منہ سے نکل جاتی ہیں ، جب ناک میں پانی ڈالتا ہے تو خطائیں اس کے نتھنوں سے نکل جاتی ہیں،جب چہرہ دھوتا ہے تو خطائیں اسکے چہرے سے نکل جاتی ہیں حتیٰ کہ اس کی آنکھوں کی پلکوں کے نیچے سے بھی نکل جاتی ہیں جب ہاتھ دھوتا ہے تو خطائیں اسکے ہاتھوں سے نکل جاتی ہیں حتی کہ اسکے ہاتھوں کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتی ہیں جب سرکا مسح کرتا ہے تو اسکے سرسے خطائیں نکل جاتی ہیں حتیٰ کہ اسکے کانوں سے بھی نکل جاتی ہیں پھر جب وہ پائوں دھوتا ہے تو پائوں سے خطائیں نکل جاتی ہیں یہاں تک کہ پائوں کے ناخنوںکے نیچے سے بھی نکل جاتی ہیں پھر اس کا مسجد کارُخ کرنا اورنماز اداکرنا ، اجر وثواب میں اضافہ ہوتا ہے ۔ (مالک)
امام حاکم نے کہا ہے کہ یہ حدیث بخاری ومسلم کی شرائط کے مطابق صحیح ہے اوراس میں کوئی علت نہیں ہے ۔(الترغیب والترہیب)

Shortvideo - ہمارا کیا جنت میں جانا ممکن ہے؟

بدھ، 14 دسمبر، 2022

Darsulquran surah al-araf ayat 146 part-02.کیا ہم سیدھے راستے پر چلنے کے...

علماء اورمسؤلیت

 

علماء اورمسؤلیت

٭علامہ عبدالرحمن جوزی رحمۃ اللہ علیہ رقم طراز ہیں کہ نامور طابعی حضرت ابوحازم مکی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے ہمعصر عالم دین ابن شہاب زہر ی کے نام اس مضمون کا خط لکھا :

بسم اللہ الرحمن الرحیم،اما بعد! اے زہری ، اب تم بہت عمر رسید ہ ہوگئے ہو، یہ عمر کا ایک ایسا مرحلہ ہے کہ جو بھی تمہیں دیکھے گا وہ دعا کریگااللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے۔اللہ تبارک وتعالیٰ میری اورتمہاری مغفرت فرمائے تم اللہ تعالیٰ کی بے انتہاء نعمتوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہو، اللہ نے تمہیں عمر دراز سے نوازااپنے دین کے فہم اوراپنی کتاب کے علم سے بہرہ ور کیا اللہ تعالیٰ ان نعمتوں کے ذریعے سے تمہیں آزمائے گا تم پر اپنی نعمتوں کی بارش فرمائے گا اورپھر ان نعمتوں پر تمہارے شکر کو ملاحظہ کیا جائیگا:’’اگر تو شکر کرو گے تو میں تمہیں اوردوں گا اوراگر نہ شکری کرو گے تو میرا عذاب سخت ہے‘‘۔ (ابراہیم۔ ۷)  ذراسوچھو تو سہی! جب تم قیامت کے دن رب ذوالجلال کی بارگاہ میں حاضر ہوگے تو وہ قادر مطلق تم سے اپنی نعمتوں کے متعلق پوچھے گا کہ تم نے انہیں کیسے استعمال کیا؟جو دلیل اس نے عطا فرمائی اس کے متعلق استفسار کریگا کہ اس میں کس کس طرح فیصلہ کیا؟اس گمان میں ہرگز نہ رہنا کہ اللہ اس دن تمہارا عذر قبول کریگا، تمہارا یہ کہنا کافی نہیں ہوگا کہ میں عالم ہوں تم نے لوگوں سے علمی مخاصمہ کیا تو اپنے زوربیان سے غالب رہے تمہیں جو سمجھ بوجھ عطاکی گئی ، جو فہم فراست ملی اسے استعمال کرتے ہوئے بتائو کہ کیا اللہ کا یہ فرمان علماء کے متعلق نہیں ہے؟ ’’اور یاد کرو جب اللہ نے عہد لیا ان سے جنہیں کتاب عطا ہوئی کہ تم ضرور اسے لوگوں سے بیان کردینا اورنہ چھپا نہ توانھوں نے اسے اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا اور اسکے بدلے تھوڑے سے دام حاصل کرلیے ،سویہ کتنی بُری خریداری ہے‘‘۔(آل عمران۔۱۸۷)

اے ابن شہاب زہری!اللہ تمہارا بھلاکرے یہ بہت بڑاگناہ ہے کہ تم ظالموں کیساتھ بیٹھتے ہو جب وہ بلاتے ہیں تو انکے پاس چلے جاتے ہو وہ تحائف دیتے ہیں تو قبول کرلیتے ہو حالانکہ وہ تحفے کسی صورت میں قبول کرنے کے قابل نہیں ہوتے، ظالموں نے تمہیں ایسی چکی بنالیا ہے جسکے گردان کی باطل خواہشات گھومتی ہیں ، تمہیں ایسا زینہ اورپُل بنالیا ہے جسکے ذریعے وہ ظلم وگمراہی کی طرف بڑھتے ہیں وہ تمہارے ذریعے علماء کیخلاف شکوک وشبہات کا شکار ہوتے ہیں اورجاہلوں کے دلوں کو ہانکتے ہیں تم اب تک نہ تو انکے خاص وزراء کی صف میں شامل ہوسکے اور نہ ہی خاص ہم نشین بن سکے، پس تم نے تو ان کی دنیا کو سنوار دیا اورعوام وخواص کو ان جاہلوں کے گردجمع کردیا ، انھوں نے تمہارے لیے جو کچھ کیا وہ اس سے کتنا کم ہے جو انھوں نے بربادکردیا ہے۔ اللہ تم پر رحم فرمائے اپنی فکر کرو تمہیں تو اس ذات کا شکر ادا کرنا چاہیے جس نے تمہیں علم دین کی دولت سے نوازااوراپنی کتا ب کا علم دیا۔(عیون الحکایات)

Shortvideo - ہم کیوں کامل بندگی کو ناممکن سمجھتےہیں

پیر، 12 دسمبر، 2022

تیرے کرم پر منحصر۔۔

 

تیرے کرم پر منحصر۔۔

٭ حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کسی سابقہ امت کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے )فرمایا:کہ ایک شخص نے کہا :میں آج کی رات میں ضرور صدقہ کروں گا، چنانچہ وہ صدقے کا مال لے کرنکلااوربے خبری میں کسی چور کو دے آیا(بستی کے لوگوں کو بھی کسی طرح اطلاع ہوگئی )،صبح ہوئی تو لوگ آپس میں باتیں کرنے لگے کہ آج رات ایک چور کو صدقہ دے دیاگیاوہ شخص کہنے لگا، یااللہ!ساری حمد تیرے ہی لیے ہے ،کیا میرا صدقہ ایک چور کو پہنچ گیا ۔اب میں (اس کے ازالے کے لیے )آج رات بھی ضرور صدقہ کروں گا۔چنانچہ وہ دوسری رات صدقے کا مال لے کر نکلااورمستحق جان کروہ صدقہ ایک ایسی عورت کو دے آیا جس کا کردار درست نہ تھا،صبح ہوئی تولوگ پھر باتیں کرنے لگے کہ لوجی کیسی خراب عورت کو صدقہ دے دیا گیا ،وہ شخص متأسف ہوکرکہنے لگا:للہ الحمد کیا میرا صدقہ ایک بدکار عورت کو چلاگیا ، میں آج پھر لازماًصدقہ کروں گا۔تیسری رات یہ صدقہ کا مال لے کر نکلاتو نادانستگی میں ایک مالدار شخص کو تھما دیا ، لوگوں میں پھر چہ مگویٔ ہوئی کہ آج رات تو ایک غیر مستحق مالدار کو صدقہ دے دیا گیا ،وہ شخص کہنے لگا:اے اللہ تبارک وتعالیٰ ہر تعریف کے لائق صرف تیری ہی ذات ہے (یہ میرے ساتھ کیا ہوا)میرا صدقہ ایک چور، بدکارعورت اورایک مالدار پر خرچ ہوگیا تو اس صدقہ دینے والے کو مطلع کیاگیا کہ تیرا صدقہ قبول فرمالیا گیا ہے (یہ بے کار نہیں گیا بلکہ ) تیراوہ صدقہ جو چور پر صرف ہوا تو یہ امکان ہے کہ وہ اب چوری سے باز رہے ،وہ صدقہ جو ایک ناپسندیدہ عورت کو چلا گیا تو ممکن ہے کہ وہ خود کو گناہ سے محفوظ کرلے اوراسی طرح تیرا وہ صدقہ جو ایک مالدار کے حوالے ہوگیا تو شایدوہ مالدار بھی اس سے عبرت پکڑے اورخود بھی اللہ رب العزت کے دیے ہوئے مال میں سے خرچ کرنے لگے۔(بخاری،مسلم،ترمذی)
٭ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضورنبی محتشم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں غزوئہ تبوک میں شریک ہوئے جب ،واپس آئے توآپ نے ارشادفرمایا:بے شک کچھ لوگ ہمارے ساتھ شریک نہیں ہوسکے وہ مدینہ میں ہی قیام پذیر رہے نہ انھوں نے کسی منزل کا سفرکیا نہ کسی مصرف میں اخراجات کیے اورہمارے ساتھ کسی پہاڑی راستے سے گزرے اورنہ کسی وادی کو طے کیالیکن اس کے باوجود وہ ہمارے ساتھ ثواب میں شریک ہیں ۔صحابہ کرام نے عرض کیا: یارسول اللہ !وہ ہمارے ساتھ کیسے شریک ہوسکتے ہیں، حالانکہ وہ مدینہ میں قیام پذیر رہے۔آپ نے ارشادفرمایا:انہیں کسی بیماری نے روک لیا تھا (یعنی وہ بدنیتی یا تساہل کی وجہ سے پیچھے نہیں رہے بلکہ بیماری ان کے آڑے آگئی ورنہ ان کی نیت تو جہاد میں شمولیت کی تھی)۔(بخاری ، ابودائود)

Darsulquran surah al-adiyat ayat 01-11.کیا ناشکرے لوگ سیدھا جہنم میں جائ...

اتوار، 11 دسمبر، 2022

Darsulquran surah al-araf ayat 144-145.کیا ہم متکبرین میں سے ہیں

Shortvideo - ہمارا معبود کون؟

پاکیزگی

 

پاکیزگی

٭ حضرت ربیعہ جرشی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دین حق پر استقامت اختیار کرو، اگر تم نے استقامت اختیار کرلی تو یہ بہت ہی عمدہ بات ہے اور وضو پر ہمیشگی اختیار کرو،بے شک تمہارے اعمال میں بہترین عمل نماز ہے اور زمین پر بدعملی کرنے سے اجتناب کروکہ یہ تمہاری اصل ہے کوئی شخص ایسا نہیں جو اس پر اچھا یا برا عمل کرے مگر یہ زمین اس کی خبر دے گی ۔(الترغیب والترہیب، طبرانی)

٭ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : استقامت اختیار کرو، تم اس کے اجر کا شمار نہیں کرسکتے اورجان لو کہ تمہارے اعمال میں بہترین عمل نماز ہے اوروضو پر ہمیشگی سوائے مومن کے اور کوئی نہیں اختیار کرسکتا ۔(ابن ماجہ ، حاکم)٭ حضرت ربیعہ جرشی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دین حق پر استقامت اختیار کرو، اگر تم نے استقامت اختیار کرلی تو یہ بہت ہی عمدہ بات ہے اور وضو پر ہمیشگی اختیار کرو،بے شک تمہارے اعمال میں بہترین عمل نماز ہے اور زمین پر بدعملی کرنے سے اجتناب کروکہ یہ تمہاری اصل ہے کوئی شخص ایسا نہیں جو اس پر اچھا یا برا عمل کرے مگر یہ زمین اس کی خبر دے گی ۔(الترغیب والترہیب، طبرانی)

٭ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : استقامت اختیار کرو، تم اس کے اجر کا شمار نہیں کرسکتے اورجان لو کہ تمہارے اعمال میں بہترین عمل نماز ہے اوروضو پر ہمیشگی سوائے مومن کے اور کوئی نہیں اختیار کرسکتا ۔(ابن ماجہ ، حاکم)

 امام حاکم کہتے ہیں کہ یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے۔

 ٭ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگرمیری امت پر دشوار نہ ہوتا تومیں ہر نماز کے وقت نئے وضواورہر وضوکے ساتھ مسواک کا حکم دیتا ۔(امام احمد بن حنبل)

٭ حضرت عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک صبح جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو بلایا اورفرمایا :اے بلال!تم جنت کے داخلے میں کس وجہ سے سبقت لے گئے ، رات کو میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے اپنے آگے آگے تمہارے قدموں کی آواز سنی ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میں نے کبھی دورکعت نفل پڑھے بغیر اذان نہیں دی اورجب بھی میں بے وضو ہوا اس کے فوراً بعد وضوکرلیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یہی وجہ ہے ۔(صحیح ابن خزیمہ)

٭ حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے وضو پر وضو کیا اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دی گئیں ۔(ابودائود ، ترمذی ، ابن ماجہ)

٭ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ روایت فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسواک منہ کو پاک صاف کرنے والی اور رب تعالیٰ کو راضی کرنے کا سبب ہے ۔ (نسائی، ابن خزیمہ)

٭ حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : چارباتیں مرسلین کی سنتوں میں سے ہیں ، ختنہ، خوشبولگانا ، مسواک اورنکاح ۔(ترمذی)

Darsulquran surah al-adiyat ayat 01-11 part-02.کیا ہم اپنے رب کے بڑے ناش...

Darsulquran surah al-araf ayat 143 part-02. ہم کیا ملاقات الٰہی کیلئے تی...

ہفتہ، 10 دسمبر، 2022

Shortvideo - ہم سیدھے راستے پر کیوں نہیں چل رہے؟

Shortvideo - دین اسلام کا مقصد

مخلصین

 

مخلصین

٭ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا :مبارک ہو مخلصین کو یہ لوگ ہی ہدایت کے چراغ ہیں اوران سے ہر فتنے کا اندھیرا چھٹ جاتا ہے ۔(بیہقی)

٭ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو قاضی بنا کر یمن کی طرف جانے کا حکم دیا تو انھوں نے عرض کیا :یارسول اللہ !مجھے کچھ نصیحت فرمائیے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:اپنے دین کو (محض اللہ کے لیے )خالص کرلو ، تمہیں تھوڑا عمل بھی کفایت کرے گا۔(مستدرک ،امام حاکم)

٭ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃالوداع کے خطبہ میں ارشادفرمایا:اللہ تبارک وتعالیٰ اس بندے کو خوش وخرم رکھے جس نے میری بات سنی اوراسے اپنے ذہن میں محفوظ کرلیا ۔پس کئی مسائل کو جاننے والے لوگ ان کے دلائل سے واقف نہیں ہوتے ۔تین باتیں ایسی ہیں:جن پر کسی ایمان دار بندے کا دل خیانت نہیں کرے گا،عمل کا خالص اللہ کے لیے ہونا ، مسلمانوں کے آئمہ (حکمران ، علماء ، امراء )کے لیے نصیحت کرنا ، مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑنا۔پس بے شک ان کی دعاء مقبول ومستجاب ہوتی ہے ۔ (صحیح ابن حبان )

 امام ذکی الدین المنذری کہتے ہیں کہ یہ حدیث حضرت عبداللہ بن مسعود ، حضرت معاذ بن جبل ، حضرت نعمان بن بشیر ، حضرت جبیر بن مطعم ، حضرت ابوالدرداء ،حضرت ابوسعیدخدری اوردیگر صحابہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایت کی گئی ہے۔

٭حضرت مصعب بن زید رضی اللہ عنہما اپنے والدِ گرامی سے روایت کرتے ہیں کہ اُنھوں نے یہ گمان کیا کہ انھیں اُن اصحاب رسول پر فضیلت حاصل ہے جو ان سے کمزور درجے والے ہیں ۔نبی کریم ﷺ ن کے اس خیال پر مطلع ہوئے تو آپ نے ارشادفرمایا:اللہ تعالیٰ ا س اُمت کی مدد اس کے کمزوروںہی کی وجہ سے فرماتا ہے ۔ان کی دعائوں، نمازوں اوراخلاص کی وجہ سے ۔(نسائی)

٭ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا ملعونہ یعنی اللہ کی رحمت سے دور ہے اورجو کچھ دنیا میں ہے وہ بھی ملعون ہے ۔مگر وہ چیز (ملعون نہیں ہے) جس کے ساتھ اللہ تبارک وتعالیٰ کی رضاء اورخوشنودی طلب کی جائے۔

(طبرانی، الترغیب والترہیب)

Darsulquran surah al-adiyat 01-11 part-01.کیا ہم اپنے رب کی تمام نعمتوں ...

جمعرات، 8 دسمبر، 2022

Darsulquran surah al-araf ayat 141-142. کیا ہم بنی اسرائیل کی قوم کے نقش...

حُسنِ قبول

 

حُسنِ قبول

٭ حضرت ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:تین باتیں ایسی ہیں میں ان پر قسم اٹھاتا ہوں اورتمہیں (اس پر مستزاد )ایک بات بھی بتاتا ہوں تم اسے اچھی طرح ذہن نشین کرلو۔ وہ تین باتیں یہ ہیں ۔کسی انسان کا مال صدقہ کرنے سے کم نہیں ہوتا ،جب کسی بندے پر ظلم ہوتا ہے اوروہ اس پر صبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس کی عزت و توقیر بڑھادیتا ہے اوراگر کوئی شخص( سب کچھ ہونے کے باوجود بھی )بھیک مانگنے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس پر غربت کے دروازے واکردیتا ہے۔اورمیں تمہیں ایک بات بتائوں تم اسے خوب اچھی طرح یادکرلو، دنیا تو صرف چار افراد کے لیے ہے ۔پہلاوہ بندہ جسے اللہ نے مال اورعلم عطافرمایاتو وہ بندہ اس میں اپنے اللہ سے ڈرتا ہے، اس میں صلہ رحمی کرتا ہے اوراس میں اللہ کے حق کو جانتا ہے ایسا شخص افضل مقام کاحامل ہے۔دوسرا وہ بندہ جسے اللہ نے علم تو دیا لیکن دولت نہیں دی لیکن وہ بندہ اخلاص نیت میں سچاہے اورکہتا ہے کہ اگر میرے پاس وافر دولت ہوتی تو میں بھی فلاں بندے کی طرح عمل کرتا تو یہ اپنی نیت کے ساتھ ہے اوریہ دونوں اجر وثواب میں برابر ہیں ۔ تیسرا وہ شخص جسے اللہ نے مال ودولت دی مگر علم نہیں دیا اوروہ اس کی وجہ سے اپنے مال میں علم کے بغیر عمل کرتا ہے (یعنی اسراف اورفضول خرچی کرتا ہے) اوراس مال کے بارے میں اپنے پروردگار سے نہیں ڈرتا ، صلہ رحمی نہیں کرتا اور نہ ہی اس میں اللہ کا حق پہچانتا ہے تو ایسا شخص بدترین منزل (جہنم) میں ہوگااورچوتھا وہ شخص جسے اللہ نے نہ تو مال ودولت دی اورنہ ہی علم دیا لیکن وہ کہتا ہے کہ کاش میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی فلاں شخص کی طرح (گل چھڑے اڑاکر )خوب خرچ کرتا تو یہ شخص بھی اپنی نیت کے ساتھ ہے اوریہ دونوں شخص بھی گناہ میں برابر ہیں۔(ترمذی)

٭ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایاکہ جو شخص خواب اور استراحت کے لیے اپنے بستر پر دراز ہوا اوروہ ارادہ رکھتا ہے کہ رات کو اٹھے گا اورنمازِ تہجد پڑھے گا لیکن اس پر نیند غالب آگئی یہاں تک کہ سحر ہوگئی (لیکن وہ رات کو اٹھ نہیں سکا)اس کے لیے اس کی نیت (کے مطابق نیکی)لکھ دی جاتی ہے اورنیند اس پر اس کے رب کریم کی طرف سے صدقہ ہوتی ہے ۔(نسائی ، ابن ماجہ)

٭ حضرت عبادہ بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن دنیا کوحاضر کیا جائے گا تو حکم ہوگا کہ اس میں جو کچھ اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اُس کو الگ کرلو پس اُس حصے کو الگ کرلیا جائے گااورباقی تمام کو آگ میں پھینک دیا جائے گا۔(بیہقی)


Shortvideo - استقامت مگر کیسے؟

Darsulquran surah al-zalzala ayat 01-03 part-02.کیا روز قیامت زمین مجھے ...

بدھ، 7 دسمبر، 2022

Darsulquran surah al-araf ayat 138-140.کیا ہم نے باطل معبود بنالئے ہیں

سبحان اللہ وبحمدہٖ

 

سبحان اللہ وبحمدہٖ

٭ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ دوکلمے: سبحان اللہ وبحمدہٖ، سبحان اللہ العظیم(ادائیگی کے اعتبار سے ) زبان پر ہلکے ،میزان پر بھاری اوررحمان کے نزدیک محبوب ہیں ۔(صحیح مسلم)

٭ حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ حضور سیدالعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشادفرمایا: کیامیں تجھے اللہ رب العزت کے پسندیدہ کلام کے بارے میں مطلع نہ کردوں،میں نے عرض کیا :یارسول اللہ ! مجھے اللہ تبارک وتعالیٰ کے محبوب کلام کے بارے میں ضرور بتائیے ،آپ نے فرمایا:بے شک اللہ کریم کا پسندیدہ کلام ہے: سبحان اللہ وبحمدہٖ ۔ایک روایت میں ہے کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے استفسار کیا گیا :کہ سب سے افضل کلام کون سا ہے؟آپ نے ارشادفرمایا:وہ کلام جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے ملائکہ اوربندوں کے لیے خاص کرلیا ہے وہ ہے :سبحان اللہ وبحمدہٖ۔ (صحیح مسلم)

٭  حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو شخص ایک دن میں سو مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہٖ پڑھتا ہے ، اس کے گناہ مٹادیے جاتے ہیں اگر چہ وہ سمند ر کی جھاگ کے برابر ہوں ۔(سنن ترمذی)

٭ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:جو شخص سبحان اللہ وبحمدہٖ پڑھتا ہے ،اُس کے لیے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگا دیا جاتا ہے ۔(مجمع الزوائد)

٭ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کے لیے رات میں عبادت کرنا دشوار ہو یا جو اپنا مال خرچ کرنے میں گرانی محسوس کرتا ہویا جو دشمن سے برسرِ پیکار ہونے سے ڈرتا ہووہ سبحان اللہ وبحمدہٖ کثرت سے پڑھا کرے کیونکہ ایسا کرنا اللہ رب العزت کو سونے کاپہاڑ صدقہ کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔ ( مجمع الزوائد)

٭ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:جس شخص نے سبحان اللہ وبحمدہٖ ، سبحان اللہ العظیم ، استغفر اللہ واتوب الیہ کہا اس کے لیے اس کلمے کو اسی طرح لکھ لیا جائے گا پھر اسے عرش کے ساتھ معلق کردیا جائے گااور اس شخص کا کوئی عمل کوتاہ اسے مٹانہ سکے گا یہاں تک کہ جب وہ قیامت کے دن اللہ تبارک وتعالیٰ سے ملاقات کرے گا تو وہ کلمہ اسی طرح مہربندہوگا جس طرح کہ اس نے اداکیا تھا ۔(مجمع الزوائد)