اتوار، 23 جون، 2024

Surah Maryam (سُوۡرَةُ مَریَم) Ayat 77-80 Pt-02.کیا دنیا ہی ہمارا مقصود...

Surah Maryam (سُوۡرَةُ مَریَم) Ayat 77-80 Part-01.کیا ہم عملی طور پر انک...

حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ(۳)

 

حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ(۳)

خشیتِ الٰہی سے بدن پر لرزا طاری رہتا ، جب کسی قبر کے پاس سے گزرتے تو بہت زیادہ روتے ۔ آپ ؓ فرمایا کرتے تھے کہ اگر مجھے یہ علم نہ ہو کہ مجھے جنت ملے گی یا دوزخ تو میں اس کا فیصلہ ہونے کے مقابلہ میں خاک ہو جانا پسند کروں ۔ ( تاریخ اسلام ) 
جب آپ ؓ مسند خلافت پر فائز ہوئے تو فرمایا : لوگو! چند روز جاہ و جلال پر مائل ہو کر شیطان کے چنگل میں نہ پھنسو اور اپنی زندگی اللہ تعالی کی خوشنودی کو حاصل کرنے میں بسر کرو ۔( تاریخ اسلام ) 
حضرت عثمان غنیؓ ہر کام میں حضور نبی کریمﷺ کی اتباع کو ملحوط خاطر رکھا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ نے پانی منگواکر وضو فرمایا اور مسکرائے۔ اپنے احباب سے پوچھا کہ تم جانتے ہو کہ میں کیوں مسکرایا ہو ں پھر خود ہی ارشادا فرمایا اس جگہ حضورﷺنے یوں ہی پانی منگوا کر وضو فرمایا اور بعد میں مسکرائے اور بعد میں صحابہ کرام سے عرض کی جانتے ہو میں کیوں مسکرایا ہوں ؟ صحابہؓ نے عرض کی اللہ اور اس کا رسولﷺ بہتر جانتے ہیں۔ حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : جب آدمی وضو کرتا ہے ہاتھ دھوتا ہے توہاتھوں سے اور جب منہ دھوتا ہے تو منہ سے مسح کرنے سے سر اور پاﺅں دھونے سے پاﺅں کے گناہ جھڑ جاتے ہیں۔ (مسند احمد)
آ  پؓشرم و حیا کے پیکر تھے۔ ایک مرتبہ حضور نبی کریمﷺ کی پنڈلی مبارک سے کپڑا ہٹا ہوا تھا۔ اسی حالت میں پتا چلا کہ عثمان غنیؓ تشریف لا رہے ہیں تو آپنے پنڈلی مبارک پر کپڑا ٹھیک کیا اور سیدھا بیٹھ گئے۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کی : یا رسول اللہﷺ اس کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا، میرے عثمان کی حیا سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔ ( بخاری شریف ) 
آپؓ زہد و تقوی کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔ دن کو اکثر روزہ رکھا کرتے تھے اور رات عبادت و ریاضت میں گزار دیا کرتے تھے ۔ آپؓ نرم مزاج اور صبر و تحمل کے پیکر تھے ۔
حضرت عثمانؓ جامع القرا ٓن بھی ہیں اور شہید قرآن بھی۔ جب باغیوں نے حملہ کیا تو آپؓ قرآن مجیدکی تلاوت کر رہے تھے اور روزے کی حالت میں تھے ۔ آپؓ کے خون کے قطرے سورة البقرہ کی آیت مبارکہ پر گرے ۔ گویا کہ آپؓ کی شہادت کی گواہی قرآن مجید بھی دے گا ۔ آپ ؓ کا یوم شہادت 18ذوالحج ہے۔ آپ ؓ کے بارہ سالہ دور خلافت میں اہل اسلام نے بہت سی فتوحات حاصل کیں۔ آپؓ کے دور ہی میں کسریٰ کی حکومت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوا اور آرمینہ فتح ہوا ور اندلس پر حملوں کا آ غاز ہوا ۔

ہفتہ، 22 جون، 2024

Surah Maryam (سُوۡرَةُ مَریَم) Ayat 76.کیا ہم نے نیکی کے راستے پر چلنے س...

Surah Maryam (سُوۡرَةُ مَریَم) Ayat 75.کیا ہمارا حال بہت برا ہونے والا ہے

حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ(۲)

 

حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ(۲)

اور یہ بھی اعزاز اور مرتبہ بڑے کمال اور عظمت والا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺنے آپ کو دو مرتبہ بیعت کے شرف سے نوازا ایک مرتبہ بیعت اسلام جو سب کو نصیب ہوئی اور دوسری بیعت رضوان جب حدیبیہ کے مقام پر نبی کریم ﷺ نے آپ کو سفیر بنا کر مکہ مکرمہ بھیجا تو یہ خبر مشہور ہوئی کہ آپ کو شہید کر دیا گیا ہے لیکن دوسری طرف حضرت عثمان غنیؓ سفیربن کر کفار مکہ مکرمہ سے بات چیت کرنے پہنچے ہیں۔ عجیب صورتحال ہے۔ مکہ مکرمہ ہے خانہ کعبہ سامنے ہے ، مطاف بھی۔ حجر اسود بھی ، مقام ابراہیم بھی اور صفا مروہ کی بھی قربت ہے۔ آپ سے کہا جاتا ہے کہ رسول پاک اور آپ کے ساتھیوں کو آنے کی اجازت نہیں ہے۔ ہاں اگر آپ طواف کرنا چاہیں ، نوافل ادا کرنا چاہیں تو آپ کو بیت اللہ میں داخلے کی اجازت ہے۔ آپ نے بڑا ایمان افروزجواب دیا کہ بے شک یہ عمل بڑا عالیشان ہے مگر جب تک میرے آقا محمد عربی زیارت کعبہ نہ کریں میں ہر گز طواف کعبہ نہیں کرو گا۔اس موقع پر آپ نے صحابہ کرام سے قصاص کے لیے بیعت لی۔ جب سب سے بیعت لے چکے تو آپ نے اپنے دست مبارک کو بلند کیا کہ میرا ایک ہاتھ میرا اور میرا دوسرا ہاتھ حضرت عثمان کا ہاتھ ہے میں اپنے ہاتھ کو عثمان کے ہاتھ کی بیعت کرتا ہوں۔
ارشاد باری تعالی ہے : محبوب جو تیرا ہاتھ ہے وہ میرا ہاتھ ہے۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ عشرہ مبشر یعنی وہ دس صحابہ کرام جن کو نبی کریم ﷺ نے جنت کی بشارت دی میں شامل ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ بھی شرف حاصل ہے کہ آپ کو دو مرتبہ جنت کی بشارت دی گئی۔ ایک مرتبہ غزوہ تبوک میں مجاہدین اسلام کی مدد کرنے پرجب آپ نے ایک ہزار اونٹ ستر گھوڑے اورایک ہزار دینار اور کم از کم دس ہزار فوجیوں کے لیے سازو سامان فراہم کیا۔ 
 دوسری مرتبہ بئر رومہ خرید کر مدینہ منورہ کے اہل اسلام کے لیے وقف کرنے پر۔ مدینہ منورہ میں پینے کے میٹھے اور صاف پانی کا حصول مشکل تھا بئر رومہ میٹھے پانی کا کنواں تھا جس کا مالک یہودی تھا جو مسلمانوں کو پانی زیادہ قیمت پر دیتا تھا اور تنگ بھی کرتا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا کون ہے جو یہ کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ کنواں خرید کر وقف کر دیا۔ اب اس کنویں سے مسلمانوں کے ساتھ یہودی اور مدینہ منورہ کے رہنے والے بغیر قیمت ادا کیے پانی لے سکتے تھے۔

جمعہ، 21 جون، 2024

حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ(۱)

 

حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ(۱)

رسول پاکﷺ کے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین بڑی شان و مرتبت والے ہیں جن کو ظاہری زندگی میں نبی کریمﷺ کا دیدار اور صحبت نصیب ہوئی۔ ان خوش نصیب ہستیوں میں جلیل القدر صحابی خلیفہ ثالث امیر المو منین خلیفة المسلمین حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ بھی شامل ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ عام الفیل کے چھ سال بعد پیدا ہوئے۔ آپ کی نانی حضور کے والد ماجد کی حقیقی بہن تھیں اس طرح حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ رسول پاک کی پھوپھی زاد بہن کے بیٹے تھے۔آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا شمار ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں ہوتا ہے جنہوں نے ابتدا ئے اسلام میں قبول اسلام کیا۔ جب حضور نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا تو آپ کی عمر ۳۳ برس تھی۔ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ آپ سے پہلے اسلام قبول کر چکے تھے۔ 
حضرت سیدنا صدیق اکبر اور سیدنا عثمان غنی بچپن سے ہی اچھے دوست تھے۔ ایک مرتبہ آپ حضرت ابو بکر صدیق ؓ سے ملاقات کیلئے تشریف لائے تو اسلام کے موضع پر گفتگو شروع ہو گئی۔ اللہ تعالی نے آپ رضی اللہ تعالی عنہ میں ہدایت یابی کی صلاحیت پیدا فرما دی تھی۔ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی ترغیب اور دعوت سے آپ رضی اللہ تعالی عنہ حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ اللہ کے پیارے حبیب کی دو صاجزادیاں حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنھا یکے بعد دیگرے آپ کے نکاح میں آئیں اور آپ کا شرف کہ آپ ذوالنورین کہلائے۔
نور کی سرکار سے پایا دو شالہ نور کا 
ہو مبارک تم کو ذوالنورین جوڑا نور کا
آپ حافظ قرآن ، عالم قرآن ، جامع قرآن اور ناشر قرآن بھی تھے۔ اللہ تعالی نے آپ کو علم و حکمت کی بے شمار دولت سے مالا مال فرمایا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ آپ کی علمی عظمت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : خدا کی قسم میں نہیں جانتا کہ میں آپ سے کیا کہوں ، مجھے کوئی بات ایسی معلوم نہیں جس سے آپ واقف نہیں اور نہ ہی ایسی کوئی بات بتا سکتا ہوں جس سے آپ بے خبر ہوں۔میں آپ سے کسی بات میں سبقت نہیں رکھتا ، نہ ہی میں نے تنہائی میں رسول کریمﷺ سے کوئی ایسا علم حاصل کیا ہے جو آپ تک پہنچاﺅں۔ آپ نے رسول اللہ کو اسی طرح دیکھا جیسے میں نے دیکھا ، آپ نے آپ کو ایسے ہی سنا جیسے ہم نے سنا ، آپ نے ان کی صحبت ایسی ہی پائی جیسے ہم نے پائی۔( نہج البلاغة) 
آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ خا ص اعزاز حاصل ہے کہ آپ نے دو مرتبہ ہجرت فرمائی ایک مرتبہ مکہ مکرمہ سے حبشہ کی طرف اور دوسری مرتبہ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف۔

ہدایت کیوں اور کیسے؟

Surah Maryam (سُوۡرَةُ مَریَم) Ayat 72-74 .کیا ہم متقی نہیں بننا چاہتے

Surah Maryam (سُوۡرَةُ مَریَم) Ayat 70-71.جنت کا راستہ مشقت کا راستہ ہے

Surah Maryam (سُوۡرَةُ مَریَم) Ayat 66-69 .کیا ہم سرکشی میں حد سے بڑھ گئ...

Surah Maryam (سُوۡرَةُ مَریَم) Ayat 65 .کیا ہم نے غیر اللہ کو مقصود و مح...

جمعرات، 20 جون، 2024

عید قرباں اور صفائی ستھرائی

 

عید قرباں اور صفائی ستھرائی

طہارت و نظافت ایک بہت ہی عمدہ اور پسندیدہ عمل ہے۔ انسان کے لیے زیب و زینت کا باعث ہے۔ صفائی مہذب اورزندہ قوموں کی پہچان ہے۔صفائی اسلام اور مسلمانوں کا طرہ امتیاز ہے۔ صفائی ستھرائی اور پاکیزگی سے دل کو آسودگی و فرحت میسر ہوتی ہے۔ صفائی انسانی ذہن کو تازگی قلب و دماغ کو معطر رکھتی ہے۔ صفائی انسانی صحت کے لیے بھی بہت زیادہ ضروری اور معاون و مددگار ہے۔ اسلام میں صفائی کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ اسلام نے صفائی کو نصف ایمان قراردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ بھی پاکی و طہارت کو پسند فرماتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ بیشک اللہ پسند کرتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتا ہے ستھروں کو ‘‘۔ ( سورۃ البقر ۃ ، آیت 222 )۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ پاک ہے ، پاکی کو پسند فرماتا ہے ، اللہ تعالیٰ ستھرا ہے اور ستھرائی کو پسند فرماتا ہے۔لہٰذا تم اپنے صحن صاف رکھو اور یہود سے مشابہت نہ کرو۔ ( ترمذی )۔ 
اس عید پر قربانی کے ساتھ ساتھ ہمیں صفائی ستھرائی کا بھی خوب خیال رکھنا ہے۔ ہماری حالت یہ ہے کہ ہم بہت زیادہ مہنگے جانور تو خرید لاتے ہیں مگر صفائی ستھرائی کا خیال بالکل بھی نہیں رکھتے۔ جانوروں کو لا کر بازاروں میں باندھ دیا جاتا ہے۔ جس سے ان کے گوبر کی وجہ سے گلی میں بد بو پھیل جاتی ہے اور آنے جانے والوں کے لیے اذیت کا باعث بنتی ہے۔ اگر جانور بازار میں نا بھی باندھے جائیں تو لوگ جانوروں کا بچا ہوا چارہ مناسب طریقے سے پھینکنے کی بجائے گلی محلوں میں پھینک دیتے ہیں جسکی وجہ سے گلی محلے میں تعفن اٹھنا شروع ہو جاتا ہے اور ماحول بد بودار ہو کر ہماری صحت کے لیے بھی نقصان دہ بن جاتا ہے۔ 
اس کے بعد جب لوگ عید کے دن قربانی کا جانور ذبح کرتے ہیں تو اس کے باقیات کو مناسب طریقے سے تلف کرنے کی بجائے ایسے ہی گلی میں پھینک دیتے ہیں جس سے بہت زیادہ تعفن اٹھتا ہے یہاں تک کہ سانس لینا بھی دشوار ہو جاتا ہے اور گلی محلے میں آنے جانے والوں کے لیے باعث اذیت بنتا ہے۔ اسلام تو ہمیں راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کا حکم دیتا ہے۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ راستے سے تکلیف دہ چیز مثلا ً کوئی کانٹا یا پتھر وغیرہ ہٹانا بھی صدقہ ہے۔ اور آج کے معاشرے میں گلی محلوں اور راستوں کو صاف رکھنے کی بجائے اپنے ہاتھوں سے خراب کرتے ہیں۔ اور یہ عمل بھی حقوق العباد کے خلاف ہے۔ آئیے اس عید کے موقع پر یہ عہد کریں کہ ہم اپنے گلی محلوں کو صاف ستھرا رکھیں گے اور جانوروں کی باقیات کو مناسب طریقے سے تلف کریں گے۔ اور حقوق اللہ کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی بھی کریں گے۔ اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

ہفتہ، 15 جون، 2024

قربانی کے مسائل (۱)

 

قربانی کے مسائل (۱)

مخصوص ایام میں رضائے الٰہی کے لیے جانور کو ذبح کرنا قربانی ہے۔ قربانی ہر عاقل ، بالغ ، مقیم ، آزاد اور صاحب نصاب مرد اور عورت پر فرض ہے۔ صاحب نصاب وہ شخص ہو گا جس کے پاس حاجات اصلیہ کے علاوہ ساڑھے سات تولے سونا یا ساڑھے باون تولے چاندی یا اس کے برابر رقم موجود ہو۔ قربانی کے لیے صاحب نصاب ہونا شرط ہے خواہ اس پر سال گزرا ہو یا نہ گزرا ہو۔ اسلام میں قربانی کے لیے 10 ، 11 ،12 ذی الحجہ کے تین دن مختص کیے گئے ہیں ان تین ایام کے علاوہ کی جانے والی قربانی جائز نہیں۔ 
عید کی نماز سے قبل قربانی کرنا جائز نہیں۔ اگر کسی نے نماز عید سے پہلے قربانی کی تو وہ قربانی نہ ہو گی اس پر دوبارہ قربانی واجب ہے۔ ایسے دیہات جہاں عید کی نماز نہیں ہوتی وہاں نماز فجر کے بعد قربانی جائز ہے لیکن وہاں بھی قربانی سورج طلوع ہونے کے بعد کی جائے۔ 
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس نے نماز عید سے پہلے قربانی کی تو اس نے اپنے لیے کی۔ (یعنی گوشت کھانے کے لیے ) اور جس نے نماز بعد قربانی کی اس کی قربانی ہو گی اور اس نے مسلمانوں کے طریقے کو پا لیا۔(بخاری )۔ 
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : مجھے یوم الاضحی کا حکم دیا گیا اس دن کوخدا نے امت کے لیے عید بنایا۔ ایک شخص نے عرض کی یارسول اللہ میرے پاس فیحہ( ایسا جانور جو کسی دوسرے نے اسے لے دیا ہوکہ وہ کچھ دن اس کا دودھ دوہے اورپھر اسے مالک کو واپس کر دے) کے سوا کوئی جانور نہیں تو میں اس کی قربانی کر سکتا ہوں۔ آپ نے فرمایا نہیں۔ ہاں تم اپنے بال ناخن اور مونچھیں اور موئے زیر ناف کو مونڈو۔ اسی میں تمہاری قربانی ہو جائے گی یعنی جس کے پاس قربانی کی گنجائش نہ ہو اسے ان چیزوں کے کرنے سے قربانی کا ثواب مل جائے گا۔ (ابوداﺅد)اسی طرح سفر کی حالت میں قربانی واجب نہیں۔ اگر مسافر قربانی کر لیتا ہے تو اس کی قربانی ہو جائے گی۔اگر کوئی شخص اپنی طرف سے قربانی کر نے کے بعد اپنے فوت شدہ رشتہ داروں اور بزرگان دین کے ایصال ثواب کے لیے قربانی دینا چاہے تو یہ جائز ہے اور اچھا عمل ہے۔ اگر کوئی شخص حضورنبی کریم کی طرف سے قربانی دے تو یہ افضل اور سعادت کا باعث ہے۔ اللہ تعالی آپ کی نسبت کی وجہ سے اس کی قربانی کو بھی شرف قبولیت سے نوازے گا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ حضور نبی کریم ﷺ کی طرف سے قربانی کیا کرتے تھے۔

Surah Maryam (سُوۡرَةُ مَریَم) Ayat 59-60 Part-05.کیا ہم سچا مومن نہیں ب...

جمعہ، 14 جون، 2024

فضائل حج (۱)

 

    فضائل حج (۱)

ہر مسلمان کی یہ خواہش ہے کہ وہ زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ بیت اللہ اور روضہ رسول ﷺ کی زیارت کر لے۔ وہ لوگ بہت ہی زیادہ خوش نصیب ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کی اور نبی کے در کی حاضری نصیب فرمائی ہے اوروہ فریضہ حج ادا کر رہے ہیں۔ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے حج کا فریضہ ادا کرنے کی استطاعت عطا فرمائی ہے وہ لوگ دنیا بھر سے مکہ مکرمہ کے مبارک سفر پر گامزن ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : 
’’ اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس کے گھر کا حج کرنا فرض ہے جو اس تک پہنچنے کی طاقت رکھتا ہے۔ اور جو انکار کرے تو اللہ سارے جہان سے بے پرواہ ہے ‘‘۔ ( سورۃ آل عمران )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے، اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں ، نماز قائم کرنا ، زکوۃ ادا کرنا ، حج کرنا اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا۔ (بخاری شریف )۔
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا : جس نے اس گھر (کعبہ ) کا حج کیا پس وہ نہ تو عورت کے قریب گیا اور نہ ہی کوئی گناہ کیا تو (تمام گناہوں سے پاک ہو کر ) اس طرح لوٹا جیسے اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا‘‘۔(بخاری شریف)۔ 
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ سے عرض کیا گیا کہ کون سے اعمال اچھے ہیں ؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لانا۔ پوچھا گیا پھر کون سے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔ عرض کی گئی پھر کون سا۔ فرمایا حج مبرور۔ ( بخاری شریف )۔
حج مبرور ایسا حج جس کے دوران بندہ کسی بھی قسم کے گناہ سے محفوظ رہے ، جو حج اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول ہو ، جس میں ریا کاری اور کسی بھی قسم کی شہرت مقصود نہ ہو اورایسا حج جس سے واپسی پر بندہ گناہوں سے بچ جائے اور نیکی کی طرف رجحان بڑھ جائے۔ 
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک کے ان گناہوں کا کفارہ ہے جو ان دونوں کے درمیان ہوئے اور حج مبرور کا بدلہ صرف جنت ہے۔( بخاری و مسلم شریف)۔ 
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا : حج اور عمرہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں ، وہ اس سے دعا کریں تو ان کی دعا قبول کرتا ہے اور اگر اس سے بخشش طلب کریں تو انہیں بخش دیتا ہے ‘‘۔

Surah Maryam Ayat 59-60 Part-03.کیا ہم نے اللہ تعالی کی حقیقی یاد سے من...

جمعرات، 13 جون، 2024

Surah Maryam Ayt 59-60 Part-02.کیا ہم نے اجتماعی طور پر ہدایت کے مقابلے ...

حج کے مقاصد (۲)

 

حج کے مقاصد (۲)

حج کے ذریعے احکام شریعت کی تعمیل ہوتی ہے۔ تلبیہ ، سعی ، رمی ، وقوف عرفہ ، مزدلفہ اور منیٰ میں مخصوص اوقات کے لحاظ سے اور احرام کی پابندی کے ذریعے انسان اپنا سر تسلیم خم کرتا ہے اور قولی اور فعلی طور پر اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ وہ اللہ تعالی کا عاجز بندہ ہے اور احکام شریعت کے سامنے اس کی کوئی اوقات نہیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے جو نہ نفع دے سکتا ہے اور نہ ہی نقصان ، میں تجھے اس لیے بوسہ دے رہا ہو ں کہ تجھے حضور ﷺنے بوسہ دیا ہے۔(بخاری شریف)۔
 آپ کا یہ قول احکام شریعت کی پا بندی کی بہترین مثال ہے۔ حج انسان کی بخشش کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالی حاجی کے تما م گناہ بخش دیتا ہے شرط یہ ہے کہ بندہ حج کے دوران فسق و فجوراوراللہ تعالی کی نافرمانی سے بچے اور کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچائے۔ 
حج کے ذریعے سے مساوات انسانی کا درس ملتا ہے۔ حج کے موقع پردنیا بھر کے مسلمان چاہے وہ عربی ہوں یا عجمی ، امیر ہوں یاغریب ، حاکم ہو یا محکوم ، پیر ہو یا مرید ، استاد ہو یا شاگرد سب کے سب ایک ہی لباس ، ایک ہی حالت میں اور ایک ہی مقام پر جمع ہوتے ہیں اور ایک ہی آواز میں اللہ تعالی کو پکار رہے ہوتے ہیں۔ مساوات کی ایسی مثال دنیا کے کسی اور مذہب میں نہیں ملتی۔ 
حج اور اس کے علاوہ تمام اسلامی عبادات سے ہمیں نظم و ضبط کا درس ملتا ہے۔ نظم وضبط جیسے اوصاف مہذہب اور ترقی یافتہ قوموں کی پہچان ہوتے ہیں۔ حج کے موقع پر نظم و ضبط اور وقت کی پابندی کا شاندار مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے اور اس سے ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ اے مسلمانوں غفلت کی نیند سے جاگ جاﺅ اور جس حقیقی مقا م و مرتبہ کے تم حقدار ہو اسے پہچانواور اس کے حصول کے لیے کوشش کرو ورنہ تمہارا نام و نشان مٹ جائے گا اور دنیا تمہیں کچلتے ہوئے آگے نکل جائے گی۔ 
حج مسلمانو ں کاایک شاندار اجتماع ہے جس کے ذریعے دین اسلام کی شان و شوکت میں اضافہ ہوتا ہے اور مسلمانو ں کو آپس میں لڑانے کی جو کوشش کی جا رہی ہے دشمنان اسلام اجتماع حج کو دیکھ کر خوف زدہ ہو جاتے ہیں کہ یہ اتحاد یونہی قائم رہا تو اسلام کے خلاف کی جانے والی ساری سازشیں ناکام ہو جائیں گی اور دین حق اسی طرح روز پھلتا پھولتا رہے گا۔ اللہ تعالی ہم سب کو حج بیت اللہ کی سعادت زندگی میں بار بار نصیب فرمائے اور ہمیں اپنی زندگیاں احکام الٰہی کے مطابق بسر کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین۔

Surah Maryam (سُوۡرَةُ مَریَم) Ayat 59-60 Part-01.کیا ہماری نماز ضائع ہو...

Surah Maryam (سُوۡرَةُ مَریَم) Ayat 49-58 .کیا ہم اللہ تعالی کو مقصود وا...

بدھ، 12 جون، 2024

آج ہمیں ہدایت کیسے حاصل ہوگی؟

حج کے مقاصد (۱)

 

حج کے مقاصد (۱)

یا رب مصطفی تو مجھے حج پہ بلا
آ کے دیکھ لوں آنکھ سے کعبہ تیرا
حج ارکان اسلام میں سے پانچویں نمبر پر ہے۔ اس کے ذریعے قرب الٰہی نصیب ہوتا ہے۔ حج صرف طواف خانہ کعبہ،سعی ، وقوف عرفہ اور رمی وغیرہ کا نام نہیں بلکہ حج یہ ہے کہ بندہ مسلمان قدم قدم پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی سے بچے اور گناہوں سے بچ کر نیک اعمال بجا لائے۔ اس کے ساتھ احکام الٰہی کو تسلیم کرنے ، صبر و استقامت کا مظاہرہ کرنے اور کمزور اور مساکین کا خیال رکھنے کا بھی درس ملتا ہے۔ 
حج کے دوران مسلمان اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہی اکیلا عبادت کے لائق ہے۔ حج کا مقصد مسلمانوں کے دلوں میں عقیدہ توحید کو مضبوط کرنا ہے کہ وہ کفر و شرک سے بچے رہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :” اور منادی پکارتا ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے سب لوگوں میں بڑے حج کے دن کہ اللہ اور اس کا رسول بیزار ہے ان مشرکو ں سے “ (سورة التوبہ )۔
طواف خانہ کعبہ ، سعی صفا و مروہ ، وقوف عرفات ، مزدلفہ اور منیٰ میں فرزندان اسلام یک زبان ہو کر یہ اعلان کرتے ہیں ” میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں ! تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں ! یقینا تمام تعریفیں ، نعمتیں اور بادشاہی تیرے ہی لیے ہے ! تیرا کوئی شریک نہیں۔ حج کا دوسرا مقصد امت مسلمہ کے درمیان اتحاد اور یگانت کی فضا قائم کرنا ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان چاہے وہ مشرق سے ہوں یا مغرب سے ، جنوب سے ہوں یا شمال سے ان کے لیے یہ بات معنی نہیں رکھتی بلکہ وہ سب ایک دوسرے کے بھائی بھائی ہیں۔ ارشاد باری تعالی ہے : مسلمان آپس میں بھائی ہیں “۔ حج ایک ایسا موقع ہے جس پر دنیا بھر کے مسلمان بغیر کسی رنگ و نسل کے اتحاد امت کا شاندار منظر پیش کرتے ہیں۔ 
حج مسلمانوں میں تقوی و پرہیز گاری کا ذریعہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالی ہمارے مال و متاع کو نہیں دیکھتا کہ کون کتنا حج پر خرچ کر رہا ہے بلکہ اللہ تعالی ہماری نیتوں ، پرہیز گاری اور تقوی کو دیکھتا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے ” اللہ کو ہر گز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ہی خون۔ ہاں تمہاری پرہیز گاری اس تک با ریاب ہوتی ہے “۔ ( سورة الحج ) 
یعنی اگر حج کرنے والے کا مقصد محض دکھلاوا ہو۔ اور یہ کہ لوگ مجھے حاجی کہیں اور قربانی کا مقصد بھی دکھلاوا ہو تو اللہ تعالیٰ اس سے راضی نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ صرف اور صرف ہمارے اخلاص اور نیت کو دیکھتا ہے۔ صرف وہی عمل قابل قبول ہے جو صرف اللہ تعالی کی رضا کے لیے کیا جائے۔

منگل، 11 جون، 2024

حضور نبی ﷺ کا سفر حجۃ الوداع(۲)

 

حضور نبی ﷺ کا سفر حجۃ الوداع(۲)

جب یہ قافلہ ذولحلیفہ کے مقام پر پہنچا تو حضور نبی کریمﷺ نے سب کو رک جانے کا حکم فرمایا۔ سفر کا آغاز ہو چکا تھا اس لیے نمازعصر قصر ادا کی گئی ۔اور یہاں رات کو قیام فرمایا اور باقی نمازیں بھی اسی مقام پر ادا کی گئیں ذولحلیفہ ایک چشمہ ہے جو مدینہ طیبہ سے پانچ یا چھ میل کے فاصلے پر واقع ہے اہل مدینہ کے لیے یہ میقات کا مقام ہے یعنی جو شخص یہاں سے حج یا عمرے کے سفر کے لیے جائے گا اس پر لازم ہے کہ وہ اس مقام پر احرام باندھ کر آگے بڑھے ۔
اگلے روز ظہر کی نماز سے پہلے حضورﷺ نے غسل فرمایا نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد حج اور عمرہ دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا پھر تلبیہ کہا :
لبیک اللھم لبیک  لبیک لا شریک لک لبیک  ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک
جب حضور نبی کریمﷺ یہ الفاظ اپنی زبان مبارکہ سے ادا فرماتے تو تا حد نگاہ پھیلا ہوا عشاقانِ مصطفیﷺ بھی ان الفاظ کو دہراتے تو دشت و جبل اور صحرا  اس آواز سے گونجنے لگ جاتے ۔ اس کے بعد حضور نبی کریمﷺ اپنی اونٹنی قصوی ٰ پر سوارہوئے اور پھر یہ تلبیہ پڑھی ۔ جب حضور نبی کریمﷺ کی سواری ناقہ کسی کھلے میدان میں پہنچتی تو پھر حضور نبی کریمﷺ نے بآواز بلند تلبیہ پڑھی اس کا مقصد یہ تھا کہ تمام لوگ ان کلمات کو اچھی طرح سیکھ لیں ۔ 
اس طرح یہ مبارک قافلہ اپنے سفر حج کی طرف رواں دواں رہا اور جہاں بھی کوئی ٹیلہ یا پہاڑی آتی تو اس پر چڑھتے اور اترتے وقت تین تین بار تسبیح پڑھتے اور جب نماز کا ٹائم ہو تا تو اپنی سواریوں سے اتر کا نماز ادا فرماتے ۔ مکہ مکرمہ پہنچنے کے بعد حضور نبی کریمﷺ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ مسجد حرام میں تشرف لائے اور جب خانہ کعبہ پر نظر پڑھی تو فرمایا: اے اللہ اپنے گھر کے شرف کو ، اس کی عظمت کو ، اس کی ہیبت کو اور زیادہ بڑھا ۔ 
پھر حضور نبی کریمﷺ نے طواف شروع کیا پہلے حجر اسود کو بوسہ دیا اور جب طواف سے فارغ ہوئے تو مقام ابراہیم پر تشریف لا کر دو نفل طواف کے اداکیے اور یہ آیت تلاوت فرمائی، ’ مقام ابراہیم کو اپنا مصلی بنائو‘۔ نماز پڑھنے کے بعد حجر اسود کو بوسہ دیا پھر صفا اور مروا کی سعی کی سات چکر کرنے کے بعد احرام نہیں کھولا کیونکہ آپؐ قربانی کے جانورساتھ لائے تھے اس لیے قربانی کرنے سے پہلے احرام نہیں کھولا جاتا ۔ اس کے بعد آپؐ منی تشریف لے گئے اور نمازظہر اور عصر، مغرب اور عشاء منی میں پڑھیں۔ وہی رات بسر کی اور جب سورج طلوع ہو گیا تو عرفات تشریف لے گئے ۔

Surah Maryam (سُوۡرَةُ مَریَم) Ayat 48.کیا ہماری پکار کا محور صرف دنیا ہے

Surah Maryam (سُوۡرَةُ مَریَم) Ayat 41-48 .کیا ہم صرف اللہ تعالی کو پکار...

Surah Maryam (سُوۡرَةُ مَریَم) Ayat 41-44 Part-02.کیا ہم رحمان کے نافرما...

پیر، 10 جون، 2024

حضور نبی ؐ کا سفر حجۃ الوداع(۱)

 

حضور نبی ؐ کا سفر حجۃ الوداع(۱)

حضور نبی کریم ﷺ نے سن 10 ہجری کو آخری حج ادا فرمایا یہ حج مختلف ناموں سے مشہور ہے اسے حجۃ الوداع ، حجۃ التمام ، حجۃ البلاغ اور حجۃ الاسلام بھی کہا جاتا ہے۔
حضور نبی کریم ﷺ سفر حج کے دوران جو خطبات ارشاد فرمائے اس میں مختلف جگہوں پر بتا دیا کہ ہو سکتا ہے اس مقام پر میری آپ سے دوبارہ ملاقات نہ ہو اس لیے اسے حجۃ الوداع کہا جاتا ہے۔ اسی موقع پر یہ آیت مبارکہ بھی نازل ہو ئی۔ 
ترجمہ: آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہاری لیے اسلام کو دین پسند کیا۔
حضور نبی کریم ﷺ نے اس مبارک سفر کے دوران مختلف مقامات پر دین کا خلاصہ بیان فرمایا اس لیے اسے حجہ الاسلام کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔ خطبہ کے دوران حضور نبی کریم ﷺ نے تمام صحابہ کرام سے یہ گواہی لی کہ میں نے اللہ تعالی کے احکام کی تبلیغ کا حق ادا کر دیاہے تو سب نے اس کی تصدق کی اس لیے اسے حجۃ البلا غ کہا جاتا ہے۔ 
حضور نبی کریم ﷺنے ارادہ فرمایا کہ اس حج میں زیادہ سے زیادہ لوگ شریک ہو ں تا کہ وہ مجھے حج کرتے ہوئے دیکھ لیں اور صحیح طریقہ سے سنت ابراہیمی کو زندہ کیا جا سکے اور زمانہ جاہلیت میں پروان چڑھنے والی روایات کو ختم کیا جا سکے۔ اس لیے اللہ کے محبوب ؐ کے حکم پر تمام بستیوں میں یہ اعلان کر دیا گیا کہ اس سال حج کے لیے جو لوگ جائیں گے اس قافلے کی قیادت خود حضور نبی کریم ﷺ فرمائیں گے۔ جب لوگوں کو اس بات کا علم ہوا کہ مکہ کا سفر ، طواف کعبہ ، ارکان حج کی ادائیگی محبوب بر حق کی معیت میں ادا ہو گی تو ہر شخص اسے اپنی خوش قسمتی سمجھنے لگا اور بڑے زور شور کے ساتھ سفر حج کی تیاری میں لگ گیا۔ 
اس قافلے میں جو لوگ مدینہ منورہ سے شریک ہوئے تھے ان سب کو حج ادا کرنے کا صحیح طریقہ بتا دیا گیا تھا اور جو لوگ راستے میں قافلے میں شامل ہو رہے تھے ہر وفد کے ایک رکن کو مناسک حج کی تعلیم دی جاتی تا کہ وہ دوسروں کو سکھائے اور زمانہ جاہلیت میں جو خرابیاں ان میں شامل ہو چکی تھیں ان کو ختم کیا جاسکے۔ جیسے جیسے حج کا مہینہ قریب آ رہا تھا لوگوں کے دلوں میں اس مبارک سفر اور وہ بھی حضور ﷺ کی سربراہی میں طے ہونا تھا اس کا شوق بڑھتا جا رہا تھا۔ 25 ذی قعدہ کو نماز ظہر مسجد نبوی ؐ میں ادا کرنے کے بعد حضور نبی کریم ﷺ نے سفر حج کا آغاز فرمایا اور تمام ازواج مطہرات کو بھی اس مبارک سفر میں شریک فرمایا۔

Surah Maryam (سُوۡرَةُ مَریَم) Ayat 38-40. کیا ہم صرف دنیا ہی کے طالب ہیں

اتوار، 9 جون، 2024

خطبہ حجة الوداع(۲)

 

خطبہ حجة الوداع(۲)

جان و مال کے تحفظ کے بارے میں آپ نے ارشاد فرمایا : تمہیں یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور تم سب آپس میں بھائی بھائی ہو کسی ادمی کے لیے جائز نہیں کہ اپنے بھائی کی رضا مندی کے بغیر اس کے مال میں سے کوئی چیز لے۔ پس تم اپنے آپ پر ظلم نہ کرو۔ 
غلاموں کے بارے میں حضورﷺ نے ارشاد فرمایا : جو تم خود کھاتے ہو انہیں بھی کھلاﺅ جو خود پہنتے ہو انہیں بھی پہناﺅ اور اگران سے کوئی غلطی ہو جائے اور تم معاف کر نا پسند نہیں کرتے تو ان کو فروخت کر دو۔ اے اللہ کے بندو ان کو سزا نہ دو۔ 
امانت کی ادائیگی کے متعلق ارشاد فرمایا : اگر کسی کے پاس کوئی امانت ہو تو اسے چاہیے کہ جس کی امانت ہے اس کو صحیح سلامت وہ امانت لوٹا دے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے دور جاہلیت کے تمام انتقام کالعدم قرار دے دیے آپنے فرمایا : پہلا انتقام جسے میں کالعدم قرار دیتا ہوں میرے اپنے خاندان کا ہے۔ ربیعہ بن حارث کے دودھ پیتے بیٹے کا خون جسے بنو ھذیل نے قتل کر دیا تھا۔ 
حضور نبی کریم ﷺنے سود کی حرمت کا اعلان کیا تو سب سے پہلے اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ کا سود جو لوگوں کے ذمہ ہے اسے کالعدم قرار دیا اور فرمایا میں اس کو اپنے پاﺅں کے نیچے روندتا ہوں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب مجرم خود ہی اپنے جرم کی سزا کاٹے گا۔ اب نہ باپ کا بدلہ بیٹے سے لیا جائے گا اور نہ ہی بیٹے کا بدلہ باپ سے لیا جائے گا۔ 
حقوق اللہ کی ادائیگی کے متعلق ارشاد فرمایا : اے لوگو اپنے رب کی عبادت کرو اور پانچ وقت کی نماز لازمی ادا کرو اور مہینے بھر کے روزے رکھو اور اللہ کے گھر کا حج کرو اور اپنے مال سے خوش دلی کے ساتھ زکوة دو۔ تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاﺅ گے۔ وراثت کے حق کے متعلق آپ نے ارشاد فرمایا : اے لوگوں اللہ تعالی نے ہر حق دار کو اس کا حق خود دے دیا ہے اب کوئی آدمی کسی وارث کے حق میں وصیت نہ کرے۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : اے لوگوتم سے میرے متعلق اللہ تعالی سوال کرے گا تو کیا جواب دو گے ؟ لوگوں نے جواب دیاہم گواہی دیتے ہیں آپ نے احکام الہی ہم تک پہنچا دیے اور اپنا حق رسالت ادا کردیا ہے اور ہماری صحیح طرح خیر خواہی فرمائی ہے۔پھر آپ نے آسمان کی طرف شہادت کی انگلی کر کے تین مرتبہ فرمایا اے اللہ گواہ رہنا۔

Surah Maryam (سُوۡرَةُ مَریَم) Ayat 37.ہم نے کیا دنیا کے مفاد کو آخرت کے...

Surah Maryam (سُوۡرَةُ مَریَم) Ayat 36 Part-02.کیا ہم اللہ تعالی کے راست...

ہفتہ، 8 جون، 2024

خطبہ حجة الوداع(۱)

 

خطبہ حجة الوداع(۱)

میدان عرفات میں مسجد نمرہ کے پاس حضور نبی کریم ﷺ کاخیمہ نصب کیا گیا۔ جب سورج ڈھل گیا تو اپنی سواری قصویٰ کو طلب فرمایا اور اس پر سوار ہو کر آپ نے تاریخ ساز خطبہ ارشاد فرمایا جس کی مثال آج تک ملی ہے اور نہ ہی قیامت تک ملے گی۔ اس خطبہ کو چارٹر آف ہیومن رائیٹس بھی کہا جاتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے زمانہ جاہلیت کے تمام رسم و رواج کو نیست و نابود کر دیا اور ان عزت و حرمت والے احکام کو برقرار رکھا جو تمام مذاہب میں حرمت والے تھے۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا :ا للہ تعالی کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ اللہ نے اپناوعدہ پورا کیا اس نے اپنے بندے کی مدد فرمائی اور اکیلی اس کی ذات نے باطل کو مغلوب کیا۔ پھر فرمایا : لوگو ! میری بات اچھی طرح سن لو ، مجھے نہیں معلوم شاید اس دن کے بعد اس جگہ میری تمہاری ملاقات کبھی ہو سکے۔پھر فرمایا : لوگو! حج کے مسائل مجھ سے سیکھ لو۔ میں نہیں جانتا اس سال کے بعد میں دوسرا حج کرسکوں۔ ( سنن نسائی )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے مساوات انسانی کا درس دیتے ہو ئے ارشاد فرمایا : اے لوگو ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا کیا اور ہم نے تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بیشک اللہ کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیز گار ہے۔ ( سورة الحجرات)۔ اسکے بعد آپ نے فرمایا : کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر اور کسی سفید کو کالے پر اور کالے کو سفید پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ فضیلت کا معیار صرف تقوی ہے۔ 
حقوق کی ادائیگی کے متعلق ارشاد فرمایا : اے گروہ قریش ایسا نہ ہو قیامت کے دن تم اپنی گردنوں پر دنیا کا بوجھ اٹھائے ہوئے آئے اور دوسرے لوگ آخرت کا سامان لے کر پہنچیں ، کیونکہ اللہ کی گرفت کے مقابلے میں میں تمہارے کچھ کام نہ آسکوں گا۔ حقوق نسواں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا اے لوگو اللہ تعالی سے ڈرتے رہا کرو۔ میں تمہیں اس بات کی وصیت کرتا ہوں کہ عورتوں کے ساتھ بھلائی کرو کیونکہ وہ تمہارے زیر سایہ ہیں، وہ اپنے بارے میں کسی بھی اختیار کی مالک نہیں اور تمہارے پاس اللہ کی طرف سے امانت ہیں۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : بیشک میں نے تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا دیا ہے اور میں تم میں ایسی دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں اگرتم انہیں مضبوطی سے تھام لو تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے وہ ہیں کتاب اللہ اور اس کے نبی کی سنت۔

جمعہ، 7 جون، 2024

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اوصاف(۲)

 

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اوصاف(۲)

اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دوسرا وصف جو قرآن مجید میں بیان فرمایا ہے وہ ہے ’’ بہت آہیں بھرنے والا ‘‘۔ آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی محبت اور خوف میں بہت زیادہ آنسو بہایا کرتے تھے۔ 
اما م غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے توخوف خدا کے سبب اس قدرروتے کہ ایک میل تک آپ کے سینہ مبارک میں ہونے والی گڑ گڑاہٹ کی آواز سنی جا سکتی تھی۔ ( احیاء علوم الدین) 
منہاج العابدین میں ہے کہ جب آپ اللہ تعالیٰ کے خوف کے سبب روتے تو اس قدر روتے کہ اللہ تعالیٰ حضرت جبرائیل امین کو آپ کو حوصلہ دینے کے لیے بھیجتے۔ حضرت جبرائیل عرض کرتے اے ابراہیم کیا آپ نے کبھی ایسا دوست دیکھا ہے جو اپنے دوست کو عذاب دیتا ہو ؟ آپ یہ سن کر فرماتے اے جبرائیل جب میں اپنی طرف نگاہ کر کے دیکھتا ہوں تو میں یہ بھول جاتا ہوں کہ میں خلیل اللہ ہوں۔
حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا :اللہ کی قسم جو میں جانتا ہوں اگر تم لوگ بھی جان لوتو بہت کم ہنسو اور کثرت سے روتے ہی رہو اور یقینا تم لوگ اللہ تعالیٰ سے فریادکرتے ہوئے میدانوں میں نکل جائو۔( المستدرک علی الصحیحین) 
اللہ تعالیٰ نے آپ کا تیسرا اوصاف بیان کرتے ہو ئے ’’منیب ‘ ‘ کہ کر پکارا یعنی سب کچھ چھوڑکر اسی کاہو جانا۔آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ محبت تھی۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے بہت سارا مال دیا ہوا تھا ایک دن آپ اپنے جانوروں کی دیکھ بھال میں مصروف تھے کہ ایک فرشتہ انسانی شکل میں غار میں بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے لگ گیا آپ جا کر اس کے پاس بیٹھ گئے وہ کچھ دیر بعد خاموش ہو گیا تو آپ نے کہا مجھے پھر میرے محبوب کا ذکر سنائو۔ تو اس نے کہا پہلے میں اپنی مرضی سے ذکر کر رہا تھا اب تیرے کہنے پہ کروں گا مجھے کیا دو گے۔ آپ نے اپنی ساری بکریاں اس کو دے دیں۔ اس نے پھر اللہ تعالیٰ کا ذکر شروع کر دیا اور کچھ دیر بعد پھر خاموش ہو گیا۔ آپ نے کہا مجھے اور ذکر سنائو۔ فرشتے نے کہا اب مجھے کیا دو گے آپ نے اپنے سارے اونٹ اسے دے دیے۔ اس طرح باری باری آپ نے ذکر اللہ سننے کے لیے اپنا سارا مال گھر ، مویشی اس فرشتے کو دے دیے۔آپ نے پھر اسے ذکر سنانے کو کہا تو اس نے کہا اب مجھے کیا دو گے۔ تو آپ نے فرمایا مجھے رکھ لو مگر مجھے اللہ پاک کا ذکر سنائو۔ تو اس پر فرشتے نے کہا کہ آپ اللہ کے خلیل ہیں اور آپ کو ’’خلیل اللہ‘‘ کے لقب سے نوازا گیا۔

جمعرات، 6 جون، 2024

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اوصاف(۱)

 

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اوصاف(۱)

اللہ تعالی نے انسانوں کی راہنمائی کے لیے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاءکرام علیہم السلام مبعوث فرمائے اور ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت عطا کی۔ حضور نبی کریم ﷺ کے بعد انبیاءمیں سب سے فضیلت والے نبی حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہیں آپ کو جد الانبیاءبھی کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالی نے آپ کو بے شمار خوبیاں عطا فرمائیں۔ 
اللہ تعالی نے حضور نبی کریمﷺ کو دین ابراہیم پر عمل کرنے کا حکم فرمایا اور آپ کی امت کو بھی دین ابراہیم پر عمل پیرا ہونے کا حکم فرمایا۔ ارشاد باری تعالی ہے :” تم فرماﺅ بیشک مجھے میرے رب نے سیدھی راہ دکھائی۔ ٹھیک دین ابراہیم کی ملت جو ہر باطل سے جدا تھے اور مشرک نہ تھے۔(سورة الا نعام )۔
اللہ تعالی اس بات کو پسند فرماتا ہے کہ اس کا قرب چاہنے والے اس کے پیارے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ کو اپنائیں۔ ارشاد باری تعالی ہے : ”تم فرماﺅ اللہ سچا ہے تو ابراہیم کے دین پر چلو جو ہر باطل سے جدا تھے اور شرک والوں میں نہ تھے۔ (سورة ال عمران )۔
اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بہت اعلی اوساف سے نوازا تھا جن کا ذکر اللہ تعالی نے قرآن مجید میں بھی کیا۔ 
سورة ھود میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : ”بیشک ابراہیم تحمل والے بہت آہیں کرنے والے رجوع لانے والے ہیں “۔ 
حضرت ابراہیم علیہ السلام بہت زیادہ حلم والے تھے یعنی اپنے غصہ کو ضبط کر لیا کرتے تھے۔ اور یہ اللہ تعالی کے نیک اور ممتازبندوں کے اوصاف میں سے ہے کہ وہ اپنے غصہ کو پی جاتے ہیں۔ ارشاد باری تعالی ہے : سورة ال عمران میں اللہ تعالی ارشادفرماتا ہے : وہ جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں خوشی میں اور رنج میں اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے در گزر کرنے والے اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں “۔ 
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حلم کا اندازہ اس واقع سے لگایا جا سکتاہے کہ جب آپ نے اپنے گھر سے دعوت توحید کا آغاز کیا تو اپنے چچا کو پیا رسے والد کہ کر پکارا اور کہا کہ تم بتوں کی پوجا کیوں کرتے ہو جو نہ سنتے ہیں اور دیکھتے ہیں اور نہ ہی کچھ فائدہ دے سکتے ہیں۔ لیکن اس محبت بھرے انداز کے بدلے میں چچا نے غصے کا اظہار کیا۔ 
اور کہا۔ تو میرے معبودوں سے منہ پھیرتا ہے ؟ اے ابراہیم بیشک اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے پتھر ماروں گا۔( سورة مریم )۔ لیکن اس سخت لہجے میں بھی آپ نے بس اتنا کہا :ارشاد باری تعالی ہے : بس تجھے سلام ہے عنقریب میں تیرے لیے اپنے رب سے معافی مانگوں گا بیشک وہ مجھ پر بڑا مہربان ہے۔ (سورة مریم )

بدھ، 5 جون، 2024

Surah Al-Kahf (سُوۡرَةُ الکهف) Ayat 110 Part-09.کیا ہماری حالت بہت بگڑی ...

Surah Al-Kahf (سُوۡرَةُ الکهف) Ayat 110 Part-08.کیا ہم حقیقی مومن نہیں ہیں

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا درس توحید(۲)

 

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا درس توحید(۲)

حضرت ابرہیم علیہ السلام کی قوم نہ صرف بت پرستی کرتی تھی بلکہ نجوم پرستی کا بھی شکار تھی۔ اور وہ سورج ، چاند کے علاوہ تاروں کو بھی اپنا دیوتا مانتے تھے۔
 ارشاد باری تعالی ہے : پھر جب ان پر رات کا اندھیرا آیا توایک تارا دیکھا۔ بولے اسے میرا رب ٹھہراتے ہو۔ پھر جب وہ ڈوب گیا بولے مجھے خوش آتے ڈوبنے والے۔ پھر جب چاند کودیکھا بولے اسے میرا رب بتاتے ہو ، پھر جب وہ ڈوب گیا کہا اگر میرا رب مجھے ہدایت نہ دیتا تو میں بھی انہیں گمراہوں میں ہوتا۔ پھر جب سورج جگمگاتا دیکھا تو کہا اسے میرا رب کہتے ہو یہ تو ان سب سے بڑ اہے پھر جب وہ ڈوب گیا کہا اے میری قوم میں بیزار ہوں ان چیزوں سے جنہیں تم شرک ٹھہراتے ہو۔ میں نے اپنا منہ اس طرف کیا جس نے آسمان اور زمین بنائے ایک اسی کا ہوں اور میں مشرکوں میں سے نہیں۔ (سورة الانعام ) 
جب سارے مشرک حضرت ابراہیم علیہ لسلام کے سامنے لا جواب ہو گئے تو آپ سے جھگڑا کرنے لگے اور آپ کو تکلیف دینے لگے۔ آپ نے نمرود سے کہا کہ میرا رب وہ ہے جو پیدا کرتا ہے اور موت دیتا ہے۔ (نمرود ) نے کہا میں بھی زندہ کرتا ہوں اورمارتا ہوں۔ پھر حضرت ابرہیم علیہ السلام نے کہا کہ میرا رب وہ ہے جو سورج مشرق سے لاتا ہے تم مغرب سے لاﺅ۔ یہ بات سن کر نمرود لاجواب ہو گیا۔
 ارشاد باری تعالی ہے ” پس انکار کرنے والا کافر مبہوت ہو گیا “۔ 
ایک دن سارے مشرک ایک میلے میں گئے تو حضرت ابراہیم نے ان کے بتوں کو توڑ کر کلہاڑا ایک بڑے بت پر رکھ دیا۔
ارشاد باری تعالی ہے۔ انہیں توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا سوائے بڑے بت کے کہ شاید وہ اسکی طرف رجوع کریں “۔(سورة الانبیائ)۔
جب وہ واپس آئے تو انہیں نے کہا ہمارے بتوں کا یہ حال کس نے کیا۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا گیاتو آپ نے فرمایا : اپنے بڑے بت سے پوچھو اگر یہ بولتے ہیں۔ یہ سن کر وہ سب لاجواب ہو گئے۔ جب سارے آپ کے سامنے لاجواب ہو گئے اور حق جاننے کے باوجود قوم نے ہٹ دھرمی سے کام لینا شروع کر دیا۔ 
ارشاد باری تعالی ہے : اگر تم نے اپنے معبودوں کا انتقام لینا ہے تو کچھ کرو ان کو جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو۔ انہوں نے بہت ساری لکڑیا ں جمع کیں اور ایک وسیع میدان پر آگ جلا دی پھر آپ کو منجنیق میں رکھ کر آگ میں ڈال دیا گیا۔ اللہ تعالی نے آگ کو حکم دیا میرے ابراہیم علیہ السلام پر سلامتی والی ہو جا۔ آپ اس آزمائش میں بھی کامیاب ہوئے لیکن ان ساری مشکلات اور تکالیف کے باوجود دعوت توحید نہ چھوڑی۔

Surah Al-Kahf Ayat 110 Part-07.کیا ہم زندگی اللہ تعالی کو راضی کرنے کے ...

Surah Al-Kahf Ayat 110 Part-06.کیا ہم سب اللہ تعالی کی ملاقات کو بھلا ک...

ہمیں کیا اسلام پرعمل پیرا ہونے کی کوئی ضرورت ہے؟

منگل، 4 جون، 2024

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا درس توحید(۱)

 

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا درس توحید(۱)

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء بھیجے جو کہ اعلیٰ ترین صفات کے حامل اوراللہ تعالی کے بر گزیدہ بندے تھے ۔ ان ہستیوں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام انسانوں تک پہنچایا لوگوں کو دعوت تو حید دی اور اس کام میں بہت ساری مشکلات اور مصائب برداشت کیے ۔ 
حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سب سے زیادہ آزمائشیں انبیا ء کرام علیہم السلام پر آئیں پھر ان لوگوں پر جو درجہ بدرجہ ان کے قریب تھے ۔ ( تفسیر ابن کثیر ) 
انبیاء کرام علیہم السلام میں حضرت سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی سیرت مبارکہ غیر معمولی طور پر قابل ذکر ہے ۔ اورآج مسلمان انھیں کی سیرت کے ایک اہم پہلو پر عمل کرتے ہو ئے اللہ تعالیٰ کے حضور قربانیاں پیش کرتے ہیں ۔
 ارشاد باری تعالیٰ ہے : اور ابراہیم علیہ السلام کے دین سے کون رو گردانی کر سکتا ہے ؟سوائے ان کے جو نہایت نادان ہیں ۔ (سورۃ البقرۃ ) 
شکل و صورت میں حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام حضور نبی کریمﷺ کے مشابہ تھے۔ 
حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شکل و شباہت کا اندازہ اپنے ساتھی ( محمد ؐ) کو دیکھ کر کر لو۔ ( صحیح بخاری شریف ) 
نمرود نے ایک رات خواب دیکھا کہ ایک ستارہ ہے جس کے سامنے چاند اور سورج کی روشنی مانند پڑ گئی ہے نجومیوں نے اس کی تعبیر بتائی ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’انھوں نے اس سے کہا کہ تیرے شہر میں ایک بچہ پیدا ہو گا جو اہل زمین کے دین کو بدل دے گا اور اس کے ہاتھوں تیری ہلاکت اور بادشاہی کا زوال ہو گا‘۔ یہ سن کر نمرود نے بچوں کو قتل کرنے کا حکم دیا۔آپ نے دعوت توحید کا آغاز اپنے گھر سے کیا ۔’اے والد تو اس کی پوجا کیوں کرتا ہے جو نہ سنتا ہے اور نہ دیکھتا ہے اور نہ ہی کچھ تیرے کام آئے گا ‘۔ تو والد نے جواب دیا :’ کہا کہ کیا تو میرے معبودوں سے بے رغبت ہے ؟ اگر تو بازنہ آیا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا اور تو ہمیشہ کے لیے مجھ سے دور ہو جا‘۔
’حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا :اچھا تم پر سلام میں آپ کے لیے اپنے پروردگار سے ہدایت کی دعا کروں گا، بے شک وہ مجھ پر نہایت مہربان ہے ۔ اور میں آپ لوگوں سے اور جن کو آپ اللہ کے سوا پکارتے ہو ان سے کنارہ کرتا ہوں اور اپنے پروردگار کو ہی پکاروں گا مجھے یقین ہے میں اپنے پروردگار کو پکار کر محروم نہیں ہوں گا ‘۔ ( سورۃ المریم ) 

اسلام کی حقیقت

Surah Al-Kahf (سُوۡرَةُ الکهف) Ayat 110 Part-05.کیا ہم صرف طالب دنیا ہیں

پیر، 3 جون، 2024

Surah Al-Kahf (سُوۡرَةُ الکهف) Ayat 110 Part-04.کیا ہمارا معبود حقیقی ہم...

بیت اللہ (۲)

 

بیت اللہ (۲)

مشرکین مکہ نے مسلمانوں کے لیے مکہ مکرمہ میں رہنا مشکل کر دیا اور مسلمان ان کے ظلم و ستم سے تنگ آکرمد ینہ منورہ ہجرت کر کے چلے گئے لیکن مسلمان مکہ مکرمہ کی سر زمین کو نہ بھول سکے انہیں بیت اللہ کی بہت زیادہ یاد آتی۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ بھی بیت اللہ کی جدائی میں بیمار ہو گئے۔ جب صحت یاب ہوئے تو کہا : اے کاش مجھے پتہ ہوتا کہ میں کبھی اس مقدس وادی میں اب رات بسر کر سکوں گا یا نہیں جس میں میرے ارد گرد گھاس ہوتی تھی اور کیا میں کسی روز مجنہ کے چشمے پر بھی جا سکوں گا یا نہیں جو مکہ میں ہے ؟ اور کیا اب شامہ اور طفیل کو بھی دیکھ سکوں گا یا نہیں جو مکہ کے پہاڑ ہیں۔ اس کے بعد آپ نے سرداران مکہ کو بد دعائیں دیں۔ اے اللہ شیبہ ، عتبہ اور امیہ پر لعنت فرما کیونکہ انہوں نے ہمیں ہماری پیاری سر زمین سے نکالا ہے۔ ( بخاری شریف )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے بھی مدینہ منورہ ہجرت فرمائی تو سر زمین مکہ سے اپنی محبت کا اظہار اس طرح فرمایا : تو میرے لیے محبوب ترین زمین ہے اگر ہجرت کا حکم نہ ہوتا تو میں تمہیں کبھی بھی چھوڑ کر نہ جاتا۔ اللہ تعالی نے بیت اللہ کو بہت زیادہ فضیلت و عظمت عطا فرمائی ہے۔ 
بیت اللہ رحمت کا سمندر ہے ایک ایسا نورانی سمندر جس کا کوئی کنارہ نہیں۔ جب کوئی گناہ گار اپنے کندھوں پر گناہو ں کا بوجھ اٹھا کر کعبۃ اللہ میں داخل ہوتا ہے تو رحمت الٰہی اس کے گناہوں کو دھو دیتی ہے اور انسان کو گناہوں سے ایسے پاک کر دیتی ہے جیسے آج ہی پیدا ہوا ہو۔
 حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریمﷺ نے ارشادفرمایا : بیت اللہ پر ہرروز ایک سو بیس رحمتیں نازل ہوتی ہیں ساٹھ رحمتیں طواف کرنے والوں پر اور چالیس نماز پڑھنے والوںپر اور بیس رحمتیں ان پر نازل ہوتی ہیں جو صرف بیت اللہ کی زیارت کر رہے ہوتے ہیں۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بیشک اللہ تعالی ہر رات زمین والوں کو دیکھتا ہے سب سے پہلے اہل حرم کو اور اس سے بھی پہلے ان لوگوں کو جو مسجد حرام میں ہوں ، اللہ جس کو دیکھتا ہے کہ وہ طواف کر رہے ہیں انہیں بھی بخش دیتا ہے اور جو نمازپڑھ رہے ہوں انہیں بھی بخش دیتا ہے اور جنہیں دیکھتاہے کہ وہ خانہ کعبہ کے سامنے ہیں انہیں بھی بخش دیتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بیت اللہ کو دیکھنا عبادت ہے جو شخص ایمان اور درست نیت کے ساتھ بیت اللہ کو دیکھتاہے اس کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ایسا شخص قیامت کے دن بالکل امن کی حالت میں اٹھے گا۔

اتوار، 2 جون، 2024

Surah Al-Kahf (سُوۡرَةُ الکهف) Ayat 110 Part-03.کیا ہم کلمہ طیبہ کے عملی...

بیت اللہ (۱)

 

بیت اللہ (۱)

حج بیت اللہ کی سعادت ہر مومن کی تمنا ہے۔ وہ خوش نصیب ہیں جو حرمین شریفین کی زیارت سے مشرف ہوتے ہیں۔ بیت اللہ عز ت و عظمت کا نشان ہے۔ دنیا بھر میں بسنے والے مسلمانوں کا مرکز و محور بیت اللہ ہے۔ یہ پہلا گھر ہے جو زمین پر بنایا گیا جو کہ مکہ مکرمہ میں ہے۔قرآن مجید میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے : ” بنی نوع انسان کے لیے جو پہلا گھر بنایا گیا وہ کعبةاللہ ہے اور تمام جہان والوں کے لیے برکت اور ہدایت کا سر چشمہ ہے۔ حضرت ابرا ھیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اللہ تعالی کے حکم سے بیت اللہ کی تعمیر کی۔
ارشاد باری تعالی ہے:” اور اس وقت کو یاد کرو جب حضرت ابرا ھیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی بنیاد رکھی اور کہا کہ اے میرے رب ہماری طرف سے قبول فرما بلا شبہ تو ہی سننےوالا جاننے والا ہے “۔
کعبہ معظمہ کی تعمیر کی بنیاد ایمان و اخلاص کے خمیر سے اٹھائی گئی۔ اگرچہ یہ تعمیر انتہائی سادہ اور ظاہری آرائش سے خالی تھی تاہم اللہ پاک نے اس میں ایسی کشش رکھ دی کہ پوری دنیا سے لوگ جوق درجوق اس کی طرف آنے لگے۔ نوع انسانی کو ایک مرکز پر جمع کرنے کے لیے کعبہ بننے کے بعد حضرت ابراھیم علیہ السلام کو حکم دیا گیا کہ سب جہان والوں کو اللہ تعالی کے گھر آنے کی دعوت دیں۔ 
ارشاد باری تعالی ہے : ’ (اے ابراھیم علیہ السلام ) لوگوں میں حج کا اعلان کر دو۔ لو گ تمہارے پاس پیدل اور دبلے پتلے جانوروں پر دور دراز سے چلتے آئیں گے “۔حضرت ابراھیم علیہ السلام ابو قیس پر چڑھ گئے اور وہاں سے تمام ساکنان عالم کو بیت اللہ میں حاضر ہونے کی ندا دی۔ یہ ندائے ابراھیمی نہ صرف عالم ارضی کے ہر شخص نے سنی بلکہ عالم ارواح میں بھی اسے سنا گیا اور ہر ایک نے اپنی استعداد کے مطابق لبیک کہا۔ جہاں بیت اللہ کی تعمیر کی گئی ہے وہ پوری زمین کا وسط ہے۔ بیت اللہ ساری دنیا میں فیض پہنچا رہا ہے اور اپنے انوار ہر جگہ بکھیر تا ہے۔ اسی وجہ سے پوری دنیا کے مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھیں تا کہ ان کی توجہ جا ن و دل سے اس طرف ہو اور اس سے فیض حاصل کر سکیں۔ 
روئے زمین پر بسنے والے تمام مسلمان بیت اللہ سے پیار کرتے ہیں اور اپنے دل میں اس کی زیارت کی تمنالیے بے قرارہوتے ہیں۔ جو شخص جس قدر اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت وفرمانبرداری کرے اور متقی و پر ہیز گار رہے وہ اسی قدر اس کی زیارت کا شوق رکھتا ہے۔

اسلام کیا ہے

Surah Al-Kahf Ayat 109 Part-02.کیا ہم نے اللہ تعالی کو چھوڑ کر غیر اللہ ...

ہفتہ، 1 جون، 2024

مدینہ طیبہ میں حاضری کے آداب(۱)

 

مدینہ طیبہ میں حاضری کے آداب(۱)

ہر مسلمان کے دل میں یہ تڑپ ہوتی ہے کہ وہ اپنے آقا و مولا رحمت دو عالم سرور کونین حضور نبی کریم ﷺکی مقدس بارگاہ میں حاضر ہو کر درود سلام کا نذرانہ پیش کرے۔ روضہ رسول پر حاضری دینے کے لیے ضروری ہے کہ یہاں پر کچھ آداب کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ ذرا سی بے ادبی سے ہمارے اعمال ضائع ہو سکتے ہیں اور ہمیں خبر تک نہیں ہو گی۔ 
 سب سے پہلے جو بندہ روضہ رسول پر حاضری دینے کے لیے جا رہا ہے اسکی خالصتاً زیارت کی نیت سے جائے کیونکہ سارے کے سارے اعمال و افعال کا دارومدار نیت پر ہے۔ جب زائر سفر میں ہو تو سارے راستے عبادت و اطاعت میں مشغول رہے فرئض ، واجبات میں کو تاہی نہ کرے اور کثرت سے درود و سلام کا ورد کرے۔ اور اپنے اندر عشق مصطفی کی شمع کو روشن کرے اور جیسے جیسے قریب ہوتا جائے شوق و محبت کی اس آگ کو تیز کر دے۔جب مسجد نبوی کے مینار نظر آنے لگ جائیں اور گنبد خضرا پر نظر پڑے تو نہایت عشق و محبت اور عقیدت کے ساتھ ”الصلوة والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ “ کی کثرت کرے۔ اور نہایت ادب ، عقیدت و محبت کے ساتھ آنکھوں سے آنسو بہاتے ہو ئے چلے۔
ہاں ہاں یہ مدینہ ہے غافل ذرا تو جاگ 
اور پاﺅں رکھنے والے یہ جا چشم و سر کی ہے 
زائر کو اس بات کا اچھی طرح خیال رکھنا چاہیے کہ یہ حضور نبی کریمﷺ کا شہر اقدس ہے اس شہر کے گلی کوچوں میں حضور ﷺ چلتے پھرتے رہے ہیں اس لیے یہاں کی ساری زمین اور ہر چیز تعظیم کے لائق ہے۔ حضرت قاضی عیاض رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :” جس سر زمین کی مٹی کو حضور نبی کریم ﷺ کے جسم اقدس کے ساتھ لگنے کا شرف حاصل ہوا ہے لازم ہے کہ اس کے میدانوں کی بھی تعظیم کی جائے اور اس کی ہواﺅں کو سونگھا جائے اور اس کے درو دیوار کو بوسا دیا جائے۔ 
شہر اقدس میں داخل ہونے سے پہلے غسل کرے اور اچھے کپڑے پہن کر خوشبو لگائے اور عاجزی و انکساری کے ساتھ حضور ﷺ کی مقدس بارگاہ میں حاضری دے۔ اور کچھ صدقہ کر لے تو یہ مستحب عمل ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے : ”اے ایمان والو ! جب تم رسول صلی اللہ علیہ و سلّم سے تنہائی میں کوئی بات عرض کرنا چاہو تو اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقہ کر لو یہ تمہارے لیے بہت بہتر ہے ، پھر اگر تم (اس کی طاقت ) نہیں رکھتے تو بیشک اللہ بہت بخشنے والا ، بڑا مہر بان ہے “۔(سورة المجادلہ 
زائر کو چاہیے کہ مسجد میں اعتکاف کی نیت کرے اور مسجد میں داخل ہو کر نہایت عاجزی و انکساری کے ساتھ اور با ادب ہو کر حجرہ شریف کے پیچھے سے سیدھا سر انور کی طرف سے ریاض الجنہ میں آئے اور دو رکعت نفل تحیة المسجد کی نیت سے ادا کرے۔

1866 اللہ تعالی کی ملاقات کی اہمیت

Surah Al-Kahf (سُوۡرَةُ الکهف) Ayat 109 Part-01.کیا آخرت کی زندگی حقیقی ...

Surah Al-Kahf (سُوۡرَةُ الکهف) Ayat 107-108 Part-03.کیا ہمارا ایمان بالغ...