ہفتہ، 30 اپریل، 2022

Shortclip - کیا ہم نفس کی غلامی سے چھٹکارا پاسکتے ہیں؟

حسن زکوٰۃ

 

حسن زکوٰۃ

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک مرتبہ  زکوٰۃ وصول کرنے کیلئے مامور فرمایا:میں اپنے فریضہ کی انجام دہی کے دوران ایک صاحب کے پاس گیا، انھوں نے اپنے گلے کے تمام اونٹ میرے سامنے پیش کئے تاکہ میں انکی مقدار شمار کروں اور نصاب شریعت کیمطابق زکوٰۃ کا تعیّن کروں میں نے حساب لگایا کہ ان میں ایک سال کی اونٹنی بطور زکوٰۃ واجب ہے میں نے ان سے کہا کہ میاں ایک سالہ اونٹنی دے دو، وہ کہنے لگے، بھئی ایک سالہ اونٹنی کس کام آئے گی ، یہ نہ تو سواری کے قابل ہے، اورنہ ہی وہ دودھ دے گی، پھر انھوں نے اپنے ریوڑ سے ایک نہایت عمدہ ،فربہ اورتوانا اونٹنی الگ کی اورکہنے لگے یہ لے جائو ، میں نے کہا میں تواس کو قبول نہیں کرسکتا (کیونکہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے عاملین زکوٰۃ کو ہدایت فرمائی تھی کہ زکوٰۃ وصول کرتے ہوئے لوگوں کے عمدہ مال نہ وصول کرنا، بلکہ عام سی نوعیت کے جانور وصول کرنا،اورنصاب سے زائد نہ لینا)البتہ میں تمہیں مطلع کرتا ہوں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں خود بھی محوِ سفر ہیں ، اوران کا پڑائو بھی تمہارے قریب ہے، اگر تم یہ عمدہ اورنفیس مال بطور زکوٰۃ اداکرنا چاہتے ہوتو اسے براہ راست آقا کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی خدمت عالیہ میں پیش کردو، اگر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اجازت مرحمت فرمادی تو میں بھی اسے وصول کرلوں گا، وہ صاحب اس اونٹنی کی مہار تھام کر میرے ساتھ چل دیئے ، جب ہم آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ عالیہ میں پہنچے تو انھوں نے (بڑے احسن انداز میں)آپ کی خدمت میں گزارش کی ،یارسول اللہ ! آج آپ کے قاصد میرے پاس تشریف لائے تاکہ مجھ سے زکوٰۃ وصول کریں، واللہ !اب سے پہلے یہ سعادت مجھے کبھی حاصل نہیں ہوئی کہ حضور نے یا حضور کے کسی قاصد نے مجھے سے مال طلب کیا ہو، میں نے آپکے قاصد کے سامنے اپنے اونٹ پیش کردے ، انھوں نے فرمایا ان میں سے ایک سال اونٹنی واجب ، حضور !ایک سال اونٹنی نہ تو دودھ دے سکتی اورنہ ہی سواری کے کام آسکتی ہے، اس لیے میں نے ایک بہترین اونٹنی ان کی خدمت میں پیش کردی ، جو میرے ساتھ حاضر ہے، لیکن انھوں نے اسے قبول نہیں فرمایا: اس لیے میں آپ کی خدمت میں لایا ہوں، یارسول اللہ ، اسے قبول فرمائیے ، آپ نے فرمایا : تم پر واجب تو وہی ہے جو ابی نے بتایا ، اگر تم نفل کے طور پر زیادہ عمر کی عمدہ اونٹنی دیتے ہو، تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس کااجر دے گا، انھوں نے عرض کیا یارسول اللہ میں اسی لیے ساتھ لایا ہوں اس کو قبولیت سے سرفراز فرمالیں ، آپ نے اجازت مرحمت فرمادی۔(ابودائود)

Shortclip - دنیا کی حقیقت

Darsulquran urdu surah al-an'am ayat -5-11 .کیا ہم اپنے رسول کی تعلیمات ...

جمعہ، 29 اپریل، 2022

Shortclip - دنیا میں کیا ہم اللہ تعالیٰ کی ملاقات کی تیاری کے لئے آئے ہیں؟

Darsulquran urdu surah al-an'am ayat 04 . کیا ہم نے اللہ تعالی کی نشانی...

زکوٰۃ (۵)

 

زکوٰۃ (۵)

حضرت کعب بن عیاض رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں ارشاد فرماتے ہوئے سنا، ہر امت کیلئے ایک فتنہ ہے اورمیری امت کا فتنہ مال ہے ۔ (ترمذی) حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : جو قوم بھی زکوٰۃ کو روک لیتی ہے، اللہ رب العزت اسے قحط میں مبتلا کردیتا ہے۔ (طبرانی، کنزالعمال) حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے ایک مرتبہ ارشادفرمایا : اے مہاجرین کی جماعت پانچ باتیں ایسی ہیں اگرتم ان میں مبتلاء ہوجائو گے (تر بڑی آفت میں پھنس جائو گے)جس قوم میں بھی علی الاعلان اورکھلم کھلا بدکاری فروغ پاجائے گی اس قوم میں ایسی نئی نئی بیماریاں پیدا ہوجائیں گی جواس سے پیشتر کبھی سننے میں نہ آئی ہوں ،اور جو لوگ ناپ تول میں کمی کرنے لگیں گے ان پر قحط مشقت اور(ظالم) حکمران کا ظلم مسلط ہو جائیگااورجو قوم زکوٰۃ کو روک لے گی ان پر بارش روک لی جائیگی اگر جانور نہ ہوں تو ایک قطرہ بارش بھی نہ ہو(جانور بھی چونکہ اللہ کی مخلوق ہیں اوربے قصور ہیں لہٰذا ان کی خاطر تھوڑی سی بارش ہوجاتی ہے )جو لوگ معاہدوں اور(باہم عہد و پیمان )کی خلاف ورزی کرینگے ان پر دوسری قوموں کا تسلط ہوجائیگا جوان کی مال ومتاع کو لوٹ لیں گے اورجو لوگ اللہ تبارک وتعالیٰ کے قانون کیخلاف حکم جاری کرینگے ان میں خانہ جنگی ہوجائیگی ۔(الترغیب والترہیب) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی محتشم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادگرامی ہے جس مال کے ساتھ زکوٰۃ کا مال خلط ملط ہوجاتا ہے وہ اس مال کو ہلاک کئے بغیر نہیں رہتا ۔(بخاری فی التاریخ ) اس حدیث گرامی کے دومعانی بیان کیے گئے ایک یہ کہ جس مال میں زکوٰۃ واجب ہوگئی ہو اوراس میں سے زکوٰۃ ادانہ کی گئی ہو تو یہ سارا مال زکوٰۃ کے ساتھ خلط ملط ہے اورزکوٰۃ کی یہ واجب مد اورباقی مال بھی ہلاک کردے گی، امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں جو شخص خود صاحب نصاب ہو لیکن خود کو مستحق زکوٰۃ اورضرورت مند باور کرواکے زکوٰۃ بھی وصول کرے تو یہ مال اس کے پہلے مال کو بھی ضائع کردے گا، فی زمانہ بہت سی خبریں ایسی سنائی دیتی ہیں کہ امیر کبیر اور آسودہ حال اہلکار، بیت المال ،زکوٰۃ اوراوقاف کا مال بلاتکلف اپنے استعمال میں لے آتے ہیں ، اسے اپنی آسائش، سہولت اورعلاج معالجہ پر خرچ کردیتے ہیں انھیں ان روایات پر سنجیدگی سے غور وفکر کرنا چاہیے، غبن اوربددیانتی کسی بھی صورت میں جائز نہیں کجا کہ اسے بیت المال ، زکوٰۃ اوراوقاف کے مال میں بروئے کار لایا جائے۔

Shortclip - مُرشِد کی ضرورت

جمعرات، 28 اپریل، 2022

Shortclip - زندگی کی حقیقت

Shortclip - کیا ایمان کا ذائقہ صرف کتاب سے مل سکتا ہے؟

زکوٰۃ (۴)

 

زکوٰۃ (۴)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورا کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : جس شخص کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے مال ودولت سے سرفراز فرمایا ہو، اوروہ اس کی زکوٰۃ نہ اداکرتا ہوتو وہ مال قیامت کے دن ایک ایسا سانپ بنادیا جائیگاجو گنجاہو اوراسکی آنکھوںپر دوسیاہ نقطے ہوں پھر وہ سانپ اس کی گردن میں طوق کی طرح ڈال دیا جائیگا، جو اسکے دونوں جبڑوں کو پکڑلے گا، اورکہے گا، میں تیرا مال ہوں ، تیرا خزانہ ہوں۔ (بخاری ، مشکوٰۃ )اس مفہوم کی احادیث حضرت عبداللہ ابن مسعود ، حضرت عبداللہ ابن عمر اور حضرت ثوبان رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہیں۔ (الترغیب و الترہیب)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے ، کوئی شخص سونے یا چاندی کا مالک ہو، اوراس کا حق یعنی زکوٰۃ ادانہ کرے تو قیامت کے دن اس سونے چاندی کے پترے بنائے جائیں گے اوران کو جہنم کی آگ میں اس طرح تپایا جائے گا، گویا کہ وہ خود آگ کے پترے ہیں، پھر ان سے اس شخص کا پہلو ، پیشانی اورکمرداغ دی جائے گی اوربار بار اسی طرح تپاتپا کر داغے جاتے رہیں گے ، قیامت کے پورے دن میں جس کی مقدار دنیا کے حساب سے پچاس ہزار برس ہوگی، اس کے بعد اس کو جہاں جانا ہوگا، جنت میں یا جہنم میں چلاجائے گا۔(مسلم، مشکوٰۃ )

شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ ارشادفرماتے ہیں کہ سانپ بن کر پیچھے لگنے میں اورپترے بن کر داغ دینے میں فرق اس وجہ سے ہے کہ آدمی کو اگر مجملاً مال سے محبت ہو، اس کی تفاصیل سے خصوصی تعلق نہ ہو تو اس کا مال ایک شئی واحد یعنی سانپ بن کر اسکے پیچھے لگ جائے گا اورجس کا تفاصیل سے بھی بڑا تعلق خاطر ہواور وہ روپیہ اوراشرفی وغیرہ کو گن گن کر اور سینت سینت کر رکھتا  ہو ،جو مل جائے تواس سے سکے ڈھال کر رکھتا ہو تو اس کا مال پترے بناکر داغ دیا جائیگا۔(حجۃ اللہ البالغہ)

حضرت علی ابن ابی طالب کر م اللہ وجہہ الکریم سے روایت ہے کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تبارک وتعالیٰ نے اغیاء پر ان کے اموال میں اتنی مقدار میں زکوٰۃ کو فرض کردیا ہے جو ان کے فقراء کو کافی ہے ، اور فقراء کو بھوک اورننگ اسی وقت مشقت میں ڈالتی ہے جبکہ (معاشرے کے )دولت مند افراد اپنا فریضہ (زکوٰۃ )کو روکتے ہیں یعنی اسے کماحقہ ٗ ادانہیں کرتے غور سے سن لو کہ اللہ رب العزت ان دولت مند وںسے سخت محاسبہ فرمائے گا اور انھیں (فرض کی ادائیگی میں کوتاہی کی وجہ سے )سخت عذا ب میں مبتلا کرے گا۔(طبرانی ، الترغیب والترہیب)


Darsulquran urdu surah al-an'am ayat 03.کیا اللہ تعالی ہماری دنیا کی محب...

بدھ، 27 اپریل، 2022

Shortclip - موت کی حقیقت

Shortclip کیا نیک شخص کی صحبت ہماری ضرورت ہے؟

زکوٰۃ (۳)

 

زکوٰۃ (۳)

حضرت عبداللہ بن معاویہ الغاضری روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : جو شخص تین کام کرے ، وہ ایمان کی ذائقہ چکھ لے گا، (محض) اللہ کی عبادت کرے اوراس (بات) کو اچھی طرح جان لے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، ہر سال زکوٰۃ کو خوش دلی سے اداکرے، اور(زکوٰۃ کی مد میں)بوڑھا جانور یا خارش زدہ جانور یا بیمار اورگھٹیا قسم کا جانور نہ دے بلکہ درمیانی قسم کاجانور دے، اللہ تمہارا بہترین مال نہیں چاہتا لیکن وہ گھٹیا مال کا حکم بھی نہیں دیتا۔(ابودائود ، الترغیب والترہیب)

مسلم بن شعبہ کا بیان ہے کہ (گورنر )حضر ت نافع بن علقمہ رضی اللہ عنہ نے میرے والد کو ہماری قوم کا امیر مقرر کیاتھا انھوں نے میرے والد کو حکم دیا کہ ساری قوم کی زکوٰۃ جمع کریں، میرے والد نے مجھے زکوٰۃ وصول کرنے اورجمع کرنے پر مامور کردیا، میں ایک مرد بزرگ کے پاس پہنچا جن کا نام ’’سعر‘‘تھا انھوں نے مجھ سے استفسار کیا: بھتیجے !کس طرح کامال وصول کروگے، میں نے کہا اچھے سے اچھا لوں گا، حتیٰ کہ بکری کے تھن تک دیکھوں گا کہ بڑے ہیں یا چھوٹے  (یعنی بڑی باریک بینی سے جائزہ لوں گا)انھوں نے فرمایا : پہلے میں تمہیں ایک حدیث پاک سناتا ہوں ، میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے عہد ہمایوں میں اسی جگہ مقیم تھا ، میرے پاس دوافراد تشریف لائے اورفرمایا: ہمیں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا ہے ،میں نے اپنی بکریاں ان کو دکھائیں اوران سے دریافت کیا کہ ان میں کیا چیز واجب ہے ، انھوں نے ملاحظہ کرکے بتایا کہ ان میں ایک بکری واجب ہے میں نے ایک نہایت عمدہ بکری جو چربی اوردودھ سے لبریز تھی نکالی کہ اسے زکوٰۃ کی مدمیں دے دوں ، لیکن ان صاحبان نے اسے دیکھ کرکہا، بھئی یہ میمنے والی بکری ہے، ہمیں جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایسی بکری وصول کرنے کی اجازت نہیں ہے، میں نے ان سے پوچھا کہ پھر کیسی بکری لینا چاہوگے، انھوں نے کہا کہ چھ مہینہ کا مینڈھا یا ایک سال کی بکری ، میں نے ایک ششماہا بچہ نکال کران کو دے دیا اوروہ اسے (بخوشی ) لے کر چل دیے ۔(ابودائود)

حضر ت علقمہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ جب ہمارا وفد جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوا تو آپ نے ارشادفرمایا : تمہارے اسلام کی تکمیل اس (امر)میں ہے کہ اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرو۔(البزار ، الترغیب والترہیب)

Darsulquran urdu surah al-an'am ayat 02 part-02.کیا ہم دین اسلام قبول کر...

منگل، 26 اپریل، 2022

زکوٰۃ (۲)

 

زکوٰۃ (۲)

 حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ (سورۃ توبہ کی)یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی: ’’جو لوگ سونا اورچاندی جمع کرکے رکھتے ہیں اوراللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے ، آپ ان کو بڑے دردناک عذاب کی خبر سنادیجئے ، وہ اس دن ہوگا جس دن اس (سونے ،چاندی کو اولاً) جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر اس سے ان لوگوں کی پیشانیوں ، پسلیوں اورپشتوں کو داغ دیا جائے گا اورکہا جائے گا کہ یہ وہ ہے جس کو تم نے اپنے لیے جمع کرکے رکھا تھا ، اب اس کا مزہ چکھو ، جس کو جمع کرکے رکھا تھا‘‘۔تو اس آیت کے نزول نے صحابہ کرام کو بہت بوجھل(اورخوف زدہ )کردیا ( کیونکہ بظاہر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ تھوڑی مقدار میں سونا چاندی پس انداز کرنا بھی قابل سزاہے)حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا ، میں اس اشکال کو دورکرنے کی کوشش کرتا ہوں، وہ حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اورگزارش کی یارسول اللہ ! یہ آیت تولوگوں کو بہت بوجھل کررہی ہے ،حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشادفرمایا اللہ تبارک وتعالیٰ نے زکوٰۃ اسی لئے فرض کی ہے تاکہ بقیہ مال کو عمدہ اورطیب بنادے اور(آخر میں)میراث بھی تو اسی وجہ سے فرض ہوئی ہے کہ بعد میں باقی رہے، یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وفور مسرت سے (بے ساختہ )کہا ’’اللہ اکبر‘‘حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ارشادفرمایا میں تمہیں خزانہ کے طورپر رکھنے کی بہترین چیز بتائوں ،وہ اہلیہ جو ایسی نیک خصلت ہو کہ جب خاوند اس کو دیکھے تواس کی طبیعت خوش ہوجائے اورجب وہ اسے کوئی حکم کرے تو وہ اطاعت کرے اورجب وہ کہیں چلاجائے تووہ خاتون (خاوند کی اشیاء کی )حفاظت کرے۔ (ابودائود، مشکوٰۃ )
 حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ (آیت مذکورہ کا )یہ حکم زکوٰۃ کا حکم نازل ہونے سے پہلے کا ہے ، جب زکوٰۃ کا حکم نازل ہوگیا اللہ جل شانہٗ نے زکوٰۃ کی ادائیگی کو بقیہ مال کے پاک ہوجانے کا سبب قرار دے دیا ۔حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی تو ہم حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے صحابہ کرام میں سے کسی نے آپ کی بارگاہ اقدس میں عرض کی یارسول اللہ! سونا چاندی جمع کرنے کا تو یہ انجام ہے اگر ہمیں یہ علم ہوجائے کے بہترین مال کیا ہے تو ہم اسے خزانہ کے طورپر جمع کرکے رکھیں آپ نے ارشادفرمایا: اللہ کا ذکر کرنے والی زبان ،اللہ کا شکر اداکرنے والا دل، اورنیک بیوی جو آخرت کے کاموں میں مدددیتی رہی۔

Shortclip - قلبِ سلیم کیسے حاصل کریں؟

Darsulquran surah Al-an'am ayat 02 part-01. کیا ہماری زندگی کا کوئی نتیج...

Shortclip - کیا موت کی تمنا کی جاسکتی ہے؟

پیر، 25 اپریل، 2022

Shortclip-کیا ہم رہنمائی کے محتاج ہیں؟

زکوٰۃ (۱)

 

زکوٰۃ (۱)

زکوٰۃ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک ہے، تزکیہ کو عام فہم انداز میں یوں سمجھئے کہ جیسے باغ یا باغیچہ کو گوڈی کی جاتی ہے، گوڈی کرنے سے فالتو جڑی بوٹیاں اورجھاڑ جھنکار صاف ہوجاتا ہے اورزمین کی توانائی بڑھ جاتی ہے، اس کی قوت نمومیں اضافہ ہوجاتا ہے اور اس میں اصل مقصد یعنی پھل پھول پیدا کرنے کی استعداد بڑھ جاتی ہے ۔اسی طرح زکوٰۃ اداکرنے سے بھی مال ودولت کی توانائی میں اضافہ ہوجاتا ہے اس میں برکت اوروسعت پیداہوجاتی ہے۔امام ابودائود رحمۃ اللہ علیہ اپنی صحیح میں روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا: اپنے اموال کو زکوٰۃ کے ذریعے سے محفوظ بنائو اوراپنے بیماروں کا علاج صدقہ سے کرو اوربلا اورمصیبت کی امواجِ (بلاخیز)کا سامنا دعاء اور اللہ رب العزت کے حضور میں عاجزی سے کرو۔ (ابودائود )اسی طرح ایک اورحدیث مبارکہ میں قدرے تفصیل سے بیان کیاگیا ہے کہ حضور اکرم ﷺمسجد حرام میں حطیم کے اندر تشریف فرماتھے ، کسی نے تذکرہ کیا کہ فلاں افراد کا بڑا نقصان ہوگیا ہے ، سمندر کی سرکش موجیں ان کے مال کو بہا کرلے گئیں، آپ نے ارشادفرمایا ، جنگل ہویا سمند کسی بھی مقام پر جو مال ضائع ہوتا ہے وہ زکوٰۃ نہ دینے سے ضائع ہوتا ہے، اپنے اموال کی ادائیگیِ زکوٰۃ سے حفاظت کیاکرو، اپنے بیماروں کی صدقہ سے (علاج)کرو، اوربلائوں کے نزول کو دعائوں سے دور کیا کرو، دعااس بلاکو بھی زائل کردیتی ہے جو نازل ہوگئی ہواوراس بلا کو روک دیتی ہے، جو ابھی نازل نہ ہوئی ہو، جب اللہ جل شانہٗ کسی قوم کی بقاء چاہتا ہے اورا س کی نمو چاہتا ہے ، تواس قوم میں گناہوں سے عفت اور جود و بخشش کی خصلت عطاء کردیتا ہے اورجب کسی قوم کو نابود کرنا چاہتا ہے تواس میں خیانت پیدا کردیتا ہے۔ (کنزالعمال)حضرت ابودرداء ؓسے روایت ہے کہ جناب رسالت مآب ﷺنے ارشادفرمایا : زکوٰۃ اسلام کا (بہت بڑا اورمضبوط )پل ہے ۔(الترغیب والترہیب) پل ایک جگہ سے دوسرے مقام تک پہنچنے کا ذریعہ بنتا ہے اسی طرح زکوٰۃ بھی اللہ رب العزت کی بارگاہ عالیہ تک رسائی کا ذریعہ ہے۔حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒکے پوتے حضرت عبدالعزیز بن عمیر علیہ الرحمۃ کا ارشادہے کہ نماز تجھے آدھے راستے تک پہنچادیگی ، روزہ بادشاہ کے دروازے تک رسائی بخش دیگا، اورصدقہ تجھے بادشاہ کی بارگاہ میں باریاب کردیگا۔حضرت جابر بن عبداللہ ؓروایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺنے ارشادفرمایا : جو شخص (اپنے)مال کی زکوٰۃ اداکردے تو اسکے مال سے شر (نقصان دوپہلو) جاتا رہتا ہے (طبرانی ، ابن خزیمہ، مستدرک )امام حاکم کہتے ہیں کہ یہ حدیث مسلم شریف کی شرائط کے مطابق صحیح ہے۔

Darsulquran urdu surah al-an'am ayat 01 Part-04.کیا اللہ تعالی کی یاد سے...

اتوار، 24 اپریل، 2022

Darsulquran urdu surah Al-an'am ayat 01 part-03. کیا ہم عملا توحید کے قا...

Shortclip - وارثِ نبی کی ذمہ داریاں

Shortclip کیا ہم اللہ تعالیٰ کے قُرب کو پاسکتے ہے؟

روزہ اورتربیت

 

روزہ اورتربیت

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حضور اکرم ﷺ سے روایت کیا کہ : ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم نے روزے کے سواہر عمل اپنے لیے کیا ہے مگر روزہ ۔کیونکہ وہ یقینامیرے لیے ہی ہے اس کی جزا میں ہی دوں گا اورروزہ ڈھا ل ہے جب تم میں سے کوئی شخص روزہ دار ہوتو وہ بے ہودہ گوئی اورفحش گوئی سے اجتناب کرے اگرکوئی شخص اسے گالی دے یا اس سے جھگڑا کرے تو وہ کہہ دے میں روزہ دار ہوں اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد (ﷺ ) کی جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن مشک کی خوشبو سے زیادہ خوشبو دار ہوگی۔ روزہ دارکو دوخوشیاں حاصل ہوں گی جن سے وہ خوش ہوگاجب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو افطار سے خوش ہوتا ہے اورجب وہ اپنے رب سے ملاقات کریگا تو روزے سے خوش ہوگا۔‘‘(صحیح مسلم) روزہ ، تربیت اخلاق کا وسیلہ ہے ، اس میں بعض حلال اشیاء سے اور بعض جائز اعمال سے رکنے کی شعوری مشق کرائی جاتی ہے ، ایک ماہ کے مسلسل عمل سے انسان اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ خود محسوس کرنے لگے کہ جب جائز خواہشات واشیاء سے رکنے کا کہاگیا ہے اوراس نے اس ممانعت کو اپنا لیا ہے تو پھر وہ ان خواہشات واشیاء کو کیوں کر اپنائے گا جن سے ہمیشہ کیلئے رکنے کا حکم دیا گیا ہے ، وہ سوچتا ہے کہ حکم دینے والی ذات تو ایک ہے کبھی اورکسی وقت اس کا حکم مان لیاجائے اور کبھی انکار کردیا جائے، یہ کیسی بے ترتیبی ہے، وہ خالق ومالک ہے اورہر وقت ہر جگہ اورہر آن ہے تو اسکے احکام کو جزوی طور پر ماننا کیسے مناسب ہے؟ سچی بات یہ ہے کہ جب حکم کی عظمت دل پر نقش ہوجاتی ہے تو خواہشات کیسی شدید بھی ہوں، اطاعت پسندی اور نیک نفسی کے مضبوط حصار کو نہیں توڑ سکتیں ، بدی کی پسپائی کا عمل جو روزہ سے شروع ہوتا ہے آہستہ آہستہ انسانی طبیعت کا مستقل عمل بن جاتا ہے، اس سے باطنی استحکام ہی نہیں ظاہری استقامت بھی پیدا ہوجاتی ہے ، پھر زندگی میں متانت ، جذبوں میں ٹھہرائو اوراعمال میں نظم پیدا ہوتا ہے، روزہ دراصل تربیت کردار کا سالانہ ریفریشر کورس ہے جس سے بے راہ روی کی گرددھل جاتی ہے، جسم پاک وتوانا اورروح تابندہ وبیدار ہوجاتی ہے۔ 
روزہ ایمان باللہ کی نمایاں ترصورت ہے، بے پناہ اعتماد ، بھر پور یقین اورکامل ایمانی رویے روزے کے مظاہر ہیں، روزہ دار اپنے خالق سے وفاشعاری اورپر خلوص بندگی کا عہد باندھتا ہے، ایسا عہد جس میں پورے وجود کی شرکت ہوتی ہے، یہ ہمہ گیر تو انائیوں کو سلیقہ مندی کے ساتھ بروئے کار لاکر عبدیت کا اعلان ہے۔ یہ عہد کی عملی پاسداری ہے جو ہر سال تجدید عہد کے اجلے پن سے مضبوط ہوتی ہے۔(عقائد وارکان)

ہفتہ، 23 اپریل، 2022

Shortclip - کیا ہمیں کسی وارث نبی کی ضرورت ہے؟

روزہ داروں کو بشارت

 

روزہ داروں کو بشارت

جنت میں بات الریان روزہ داروں کیلئے ہی خاص ہے ،حضرت سہل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’جنت کا ایک دروازہ ہے جس کا نام ریان ہے قیامت کے دن اس دروازے سے صرف روزہ دار ہی داخل ہونگے ، کہاجائیگا روزہ دار کہاں ہیں۔ وہ لوگ کھڑے ہوجائینگے، اس دروازے سے ان کے سواکوئی داخل نہ ہوسکے گا جب وہ داخل ہوجائیں گے تو دروازہ بند کردیا جائیگا اوراس میں اورکوئی داخل نہ ہوگا۔‘‘ (صحیح بخاری) روزہ احکام الٰہی کی تعمیل میں کھانے ،پینے اورشہوات سے بچے رہنے اورتمام خواہشات کو پابند آداب بنانے کا نام ہے، یہ حقیقت ہے کہ نفس انسانی پر ہمہ وقت خواہشات کی یلغار ہوتی ہے، یہ چوبائی حملہ ہوتا ہے اسکی گرفت سے بچنا اوراسکی لذات کے حملوں سے محفوظ رہنا، بہت محنت کا کام ہے، روزہ اس دفاعی جنگ میں انسان کا معاون ہے ، یہ برائی کے سامنے حفاظتی ڈھال ہے ، اس ڈھال کو مضبوط رہنا چاہیے اس لئے کہ محارم کی خواہش اوربداعمالیوں کی چمک بڑی منہ زورہوتی ہے ، کبھی توحفاظتی دیوار پر بھی حملہ آور ہوتی ہے، یہ انسان کے اپنے مفاد میں ہے کہ اس دفاع کو مضبوط اورناقابل تسخیر بنائے تاکہ سلامتی کی تسکین حاصل رہے۔روزہ ، دیگر عبادات سے اس لئے بھی منفرد ہے کہ اس میں فرض کی ادائیگی، داخل کا معاملہ ہے ، یہ ضمیر کا عمل ہے قانون کی حکمرانی اورضابطوں کی پابندی زیادہ تر خارجی عمل پر ہوتی ہے ، انسان کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ حکم مانے اور قانون کیمطابق زندگی گزارے، اس تسلیم ومطابقت کیلئے ضابطے بنائے جاتے ہیں، ان کی پاسداری کیلئے طاقت استعمال کی جاتی ہے اور کوتاہی پر سزادی جاتی ہے ، اس کڑے انتظام کے باوجود ، انسان احکامات کو بجالانے میں خوش دلی کا اظہار کم ہی کرتا ہے بلکہ اپنے اوپر جبر محسوس کرتا ہے اورجب بھی موقع ملے تو حکم توڑنے پر دلیر ہوجاتا ہے،سوچئے اگر خارج کا یہ حکم داخل کا تقاضا بن جائے توا سکی بجا آوری کا ذوق کیسا ہوگا؟ کیا اس سے اطاعت کی روح ہی نہ بدل جائیگی؟
سچی بات یہ ہے کہ اگر عمل کا محرک، خارج کے حکم سے زیادہ اندر کا جذبہ ہوتو تعمیر سیرت کی فضا مختلف ہوگی کہ حسن کردار کی نمود ہونے لگے گی ، روزہ اسی داخلی فضا کو قائم کرنے کا ذریعہ ہے ، یہ خالق ومخلوق کا وہ رابطہ ہے جس سے دل کی دنیا میں انقلاب آتاہے ، نیکی حکم نہیں ، خواہش بن جاتی ہے اورضمیر نیکیوں کا متلاشی ہوجاتاہے  ایسے وجود پر کوئی خارجی حکم سے گناہ طاری کرنے کا دبائو بھی ڈالے تو اندر کا ایقان اورداخل کا جذبہ ، خارج کے عمل کو غیر مستقیم نہیں ہونے دیتا، زندگی یوں مربوط اور منضبط ہوجائے تو ذات کی روشنی اوراندر کا ٹھہرائو پورے معاشرے کو منور اورمستحکم بناتا ہے۔(عقائد وارکان)

Shortclip - اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا راستہ

Darsulquran urdu surah An'am Ayat 01 part-02.کیا ہم شرک میں مبتلا نہیں ہیں

جمعہ، 22 اپریل، 2022

Shortclip - کیا یوم قیامت ہماری کامیابی یقینی ہے؟

روزہ ڈھال ہے


 

روزہ ڈھال ہے

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: ’’جس نے رمضان المبارک کے روزے رکھے اس حالت میں کہ وہ ایمان والا تھا اوراسے ثواب کا یقین تھا تو اس کے پہلے سب گناہ بخش دئیے گئے۔‘‘(صحیح بخاری )

دوشرائط کا بیان ہوا ، ایمان اورامید ثواب ، اگر یہ دونوں بنیادیں قائم رہیں تو نجات ہی نجات ہے، بخشش ہی بخشش ہے اس لئے کہ ایمان تو استحقاق اجر کا اساسی حوالہ ہے ، احتساب اس یقین کا مظہر ہے کہ ہر عمل کسی مقصد کیلئے ہوتا ہے ، اعمال صرف مشاغل نہیں، اجروثواب کے پیمانے ہیں کہ انہی پر جزا ملے گی اورانہی پر سزا ،یہ یقین اعمال کے جواز اورعدم جواز کو بنیاد فراہم کرتا ہے۔

ارکان اسلام میں چوتھا رکن روزہ ہے جو اپنی اثر پذیری کی بنا پر نمایاں تر ہے ، اسلامی عبادات کا مقصود ، خالق ومالک کے حضور عبدیت کا اظہار ہے، اس اظہار کو شریعت کی زبان میں فرائض وواجبات کا نام دیا گیا ہے، نماز ، زکوٰۃ روزہ اورحج دین کے بنیادی شعار ہیں، ہر عبادت کا منتہی دائمی نجات یعنی اخروی کامیابی ہے لیکن غور کیا جائے توان کی ترتیب وترکیب اوران کی بجاآوری وادائیگی کا اس دنیا سے بھی گہراتعلق ہے ، یہ اس لئے کہ اسلام دین ودنیا کی کامرانی چاہتاہے۔

اسلام ایسا دین ہے جو انسان کی تمام کیفیات کو محیط ہے، نجات کا یہ تصور کہ دنیا سے کنارہ کشی کرلی جائے ، کسی طور پسندیدہ نہیں اس لئے کہ حسنات دنیا کی طلب بھی ایک مؤمن کا مطلوب ہے، اس حوالے سے اسلام کی تعلیمات بڑی واضح ہیں ۔ اس میں رہبانیت کی کوئی صورت نہیں ، اسلام نہ ترک دنیا پسند کرتا ہے اورنہ غارنشینی کی اس شکل کو جو فرار کی راہ دکھائے ، یہ معاشرے کا بھی دین ہے اس لئے اسکے احکا م کے مطابق انجام دیئے جانیوالے اعمال کا انسانی معاشرت پر اثر پڑتا ہے اوراگر تمام تعلیمات کی پاسداری رہے تو تعمیر انسانیت کا اہتمام بھی ہوتا ہے مثلاً روزہ ایسی عبادت ہے کہ یہ روحانی جلا کا ذریعہ ہے مگر اسکے معاشرتی پہلو بھی ہیں اس لئے یہ رخ عبادت بھی دونوں یعنی دین ودنیا کی کفالت کرتا ہے، یہ اگرچہ خاص ایام میں مخصوص اوقات میں اورمتعین احکام کے تحت اداکی جانے والی عبادت ہے مگر اسکے اثرات ، ایک مہینے ہی کو نہیں ، پورے سال کو محیط ہیں۔صوم کا لفظی معنی رکنا ہے ، اسکی تربیت سے انسان گناہوں ، نافرمانیوں بلکہ ہر قسم کی لغزشوں سے رک جاتا ہے اس لئے ایسے انسان کو صائم یعنی روزہ دار کہا جاتا ہے ، حدیث مبارک جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:۔الصوم جنۃ کہ روزہ ڈھال ہے ۔ (بخاری)

Darsulquran urdu surah al-anaam ayat 01 Part-01.کیا ہمیں اللہ تعالی نے ف...

جمعرات، 21 اپریل، 2022

Shortclip - انسان کی آخرت کی کامیابی کا طریقہ

اسرار صوم(۴)

 

اسرار صوم(۴)

اگر چہ اسلامی تعلیمات کا اصل فلسفہ روحانی اصلاح ہے لیکن تعلیمات کی تعمیل میں انسانی جسم کی بہتری اورصحت مندی کا بھی بہت ساسامان موجود ہے روزہ بھی اپنے جلو میں انسانی صحت کا ایک عظیم عنصر رکھتا ہے ۔ معدہ کا خالی رہنا بہت سے امراض کا علاج ہے اطباء بہت سے مریضوں کا فاقہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔پورا مہینہ فاقہ کرنے سا معدہ سے سال بھر کے جمع شدہ فاسد مادے ختم ہوجاتے ہیں بشرطیکہ سحری اورافطاری میں حداعتدال سے تجاوز نہ کیاجائے اسی لیے فرمایا گیا صومواتصحوا۔’’روزہ رکھو صحت مندہوجائو گے۔‘‘

روزہ اللہ تعالیٰ کی کبریائی اورجلال کو عملی طورپر تسلیم کرنے اورشکر ایزدی بجالانے کانام ہے قرآن مجید میں روزے کی اس حکمت کی طر ف یوں اشارہ گیا’’اورتاکہ اللہ نے تمہیں جو ہدایت بخشی ہے اس پر اس کی بڑائی بیان کر واوراسی لیے کہ تم اس کے شکر گزار بنو‘‘۔(البقرۃ)

اللہ تعالیٰ کی کبریائی اوراس کی عظمت وشوکت کا بیان زبان سے بھی ہوسکتا ہے لیکن روزہ دار کے وجود کا ہر ہر تار عملاًاللہ تعالیٰ کی کبریائی کے حضور سجدہ ریز ہوجاتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا روزہ رکھنے کا حکم پہنچاتو اس نے اللہ کے جلال کے حضور سرتسلیم خم کردیا۔  یہاں تک کہ جب وہ ایک کمرے میں اکیلا تھا ۔سخت پیاسا تھا،ٹھنڈ ا پانی پاس موجود تھا اس نے پانی کو آنکھ اٹھا کر دیکھا بھی نہیں محض اس لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے آگے سجدہ ریز ہوچکا تھا ۔کاش جلال الٰہی کا یہ شعور پورا سال اس پے حکمران رہتا ۔ایسے ہی روزہ شکر الٰہی بجالانے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔

حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ عاشورہ کے روزہ کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ان میں سے ایک عاشورہ کے دن کا روزہ ہے اس کے مشروع ہونے کا راز یہ ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ نے فرعون اوراس کی قوم کے مقابلے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مددکی تھی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس دن روزہ رکھ کر شکر اداکیا۔ پھر اہل کتاب اورعربوں میں یہ روزہ مسنون ہوگیا آخر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے برقرار رکھا۔(حجۃالبالغہ)

رمضان المبارک میں فلاح دارین کا امین قرآن مجید نازل ہوااوراللہ تعالیٰ کی ان گنت نعمتوں کا نزول اسی ماہ مقدس میں ہوا۔ روزہ دار ان نعمتوں پر شکر الٰہی کے گن گاتے ہوئے روزہ رکھتا ہے۔


Shortclip - کیا آخرت میں ہمارے لئے کوئی اجر ہے؟

بدھ، 20 اپریل، 2022

Shortclip - انسان کی کامیابی کا راستہ

اسرار صوم(۳)

 

اسرار صوم(۳)

ہر مسلمان کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ حاضر وناظر اورسمیع وبصیر ہے لیکن عملی طور پر عموماًاس عقیدہ میں اضمحلال آجاتا ہے کیونکہ جب ایک آدمی بندوں کے دیکھتے ہوئے گناہ نہیں کرتا توآخر وہ اللہ تعالیٰ کے دیکھتے ہوئے گناہ کیوں کرلیتا ہے روزہ اللہ تعالیٰ کے حاضر وناظر ہونے کے عقیدہ کو پختہ کرتا ہے تصور فرمائیے ، روزہ دار ایک کمرہ میں اکیلا ہے ۔اسے سخت پیاس لگی ہے پینے کا ٹھنڈا پانی اس کے پاس موجود ہے لیکن وہ اس کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھتا بھی نہیں کیوں ؟

اسی لیے کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حاضر وناظر ہونے کا یہ مراقبہ پورا مہینہ جاری رہتا ہے تاکہ انسان اسے پوری زندگی کیلئے دل کی تختی پر کندہ کرلے کہ ’’میرا خدا مجھے دیکھ رہاہے‘‘جو مجھے روزہ توڑتے ہوئے دیکھ لے گا وہ رشوت لیتے یا کوئی بھی گناہ کرتے ہوئے بھی دیکھ لے گا۔روزہ ایک مخفی عبادت ہے جسے صرف بندہ جانتا ہے یااس کا رب کریم اسی لیے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الصوم لی وانا اجزی بہ روزہ میرے لیے ہے اسی جزا میں دیتا ہوں‘‘۔اللہ تعالیٰ کے حاضر وناظر ہونے کا مراقبہ ہر گناہ کی جڑ کاٹ دیتا ہے ۔

گناہ ہر جگہ ہر مقام پر اورہر وقت قابل ملامت ہے اس سے دامن بچانا ضروری ہے لیکن مشاہدہ ہے کہ روزہ دار معمول سے بڑھ کر حالت روزہ میں گناہوں سے اجتناب کرتاہے جھوٹ سے بچتا ہے غیبت سے احتراز کرتا ہے کسی کو گالی نہیں دیتا ہے اورجملہ فواحش ومنکرات سے دامن بچاتا ہے ماہ رمضان میں نیکیوں کا جذبہ اپنے جو بن پے آجاتا ہے روزہ دار ہر گناہ سے دامن بچاتا ہے ترک گناہ کی یہ مشق آدمی کو باقی سال بھی اسی طرح گزارنے کی ترغیب دیتی ہے اسی چیز کی طرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں ارشادفرمایا :

الصیام جنۃ واذا کان یوم صوم احدکم فلایرفث ولایغضب فان سابہ احد اوقاتلہ فلیقل انی امرء صائم’’روزہ ڈھال ہے۔ لہٰذا جب کوئی شخص روزے سے ہوتواسے چاہیے کہ وہ گناہوں سے اجتناب کرے اگر کوئی شخص اسے گالی دے یا اس سے لڑے تووہ اسے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں‘‘۔(بخاری)اگر کوئی آدمی روزے کی حالت میں بھی گناہوں سے اجتناب کی مشق نہیں کرتا تو اس کا روزہ بے معنی ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالی شان ہے’’من لم یدی قول الزوروالعمل بہ فلیس للہ حاجۃ ان یدع طعامہ وشرابہاورجس آدمی نے جھوٹ بولنا اورجھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو اللہ کو اس کا کھانا پینا چھوڑ دینے کی کوئی حاجت نہیں ہے۔‘‘(بخاری)

Darsulquran urdu surah al-maeda ayat 112-118.کیا معجزہ یا کرامت طلب کرنا...

Shortclip - کیا ہمیں دین کی کوئی ضرورت ہے؟

منگل، 19 اپریل، 2022

Shortclip - دل کو عرش الٰہی کیسے بنائیں؟

Shortclip - کیا ایمان کا کوئی ذائقہ بھی ہے؟

اسرار صوم(۲)

 

اسرار صوم(۲)

 حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’’شیطان آدمی کے اندر ایسے ہی رواں دواں رہتا ہے جیسا کہ خون۔ پس چاہیے کہ بھوک کے ذریعہ سے اس کا راستہ بندکردیا جائے‘‘۔ اورحضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان نوجوانوں کو جو شادی کی استظاعت نہ رکھتے تھے روزہ رکھنے کا ہی حکم دیا تھا ۔روزہ کی حالت میں دن کے وقت بھوک اورپیاس برداشت کرکے حیوانی قوت کو کمزور کیاجاتا ہے اوررات کو قرآن مجید کی تلاوت روح کی گہرائیوں میں اتار کر ملکوتی قوت کو قوی کیاجاتا ہے جس کا لازمی نتیجہ حصول تقویٰ ہے۔انسان تخلیق قدرت کا شہکار ہے ۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو مخدوم کا ئنات بنایا ہے اورپوری دنیا انسان کے انتفاع کیلئے پیدا کی ہے لیکن انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی بندگی اورعبادت کیلئے پیدا کیا ہے ۔ لیکن انسان خوردونوش اورقوت شہوانیہ سے یوں مغلوب ہواکہ اپنے مقصد تخلیق کو بھول گیا اس کے شب وروز انہیں چیزوں کی تحصیل میں صرف ہونے لگے ۔وہ اپنی منزل سے دور، کو سوں دور ہوتا چلا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان پر روزے فرض کرکے اسے ایک مخصوص مدت کے لیے خوردونوش اورعمل زوجیت سے روک دیا کہ انسان کبھی غور کیا کرے کہ تیرا مقصد تخلیق ان چیزوں کا حصول نہیں بلکہ رضائے الٰہی کو پانا ہے اس طرح گویا روزہ انسانی گریباں تھام کر پکارتا ہے بندے کدھر جارہا ہے لوٹ آاپنی منزل کی طرف۔
 اسلام حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی بھی بہت تلقین کرتا ہے ،جیسے اللہ تعالیٰ کی بندگی نہ کرنے والا مجرم ہے ایسے ہی حقوق العباد ادا نہ کرنے والا بھی مجرم ہے اسلام نے امراء کے مال میں غرباء کا حق رکھا ہے، غرباء کی بھوک اورپیاس کا انداز ہ وہ آدمی قعطاً نہیں لگا سکتا جسے خود بھوک اورپیاس کا تجربہ نہ ہو۔اللہ تعالیٰ نے روزے فرض کردیئے تاکہ غرباء کی بھوک اورپیاس کا امراء کو بھی اندازہ ہواوروہ تجرباتی طور پر ان کے دکھوں کو سمجھ سکیں ۔روزہ سے ہی امراء بھوک اورفاقہ کی ہولناکیوں کا اندازہ لگاسکتے ہیں۔حافظ ابن قیم کے الفاظ میں سوزجگر کے سمجھنے کے لئے سوختہ جگر ہونا ضروری ہے روزہ غرباء کے احوال میں عملی شرکت کا نام ہے۔اس طرح روزہ غرباء کے دکھوں میں عملی شرکت کا نام ہے جس کا لازمی نتیجہ سخاوت وفیاضی کا جذبہ پیدا ہونا ہے شاید اسی لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بحر جودوکرم اپنے جوبن پر آجاتا تھا اورحضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ماہ رمضان کے متعلق یہ فرمان اسی حقیقت کو واضح کرتا ہے ہوشہرالمواساۃ یہ غمگساری کا مہینہ ہے۔

Darsulquran urdu surah al-maeda ayat 110-111.کیا پیری مریدی ناجائز ہے

پیر، 18 اپریل، 2022

Shortclip - زندگی کا مقصد کیا ہے؟

اسرار صوم(۱)

 

اسرار صوم(۱)

ڈاکٹر حبیب اللہ رقم طراز ہیں:۔ اسلام کی کوئی بھی عبادت محض ایک رسم یا پوجا پاٹ نہیں ، بلکہ ہر عبادت اپنے دامن میں ان گنت روحانی معاشرتی اور معاشی فوائد وثمرات رکھتی ہے۔ یہ ثمرات ہر عبادت سے ایسے جھلکتے ہیں جیسے پھول سے خوشبو ، چاند سے چاندنی یاسورج سے شعاعیں نکلتی ہیں ۔اگر کوئی بھی عبادت اس کی حکمتوں اورمصلحتوں سے صرف نظر کرکے اداکی جائے تو وہ عبادت ایسے ہی ہوگی جیسے بغیر روح کے بدن یابغیر خوشبو کے پھول۔عبادت اسلامیہ کا فلسفہ اگر ہم ایک جملے میں اداکرنا چاہیں تو وہ یہ ہے کہ ایک انسان کو انسان مرتضیٰ بنادیاجائے اسکے اخلاق خالق سے وابستہ ہوں یا مخلوق سے ان کا تعلق فرد سے ہویا معاشرہ سے قومی ہوں یا بین الاقوامی ہر لحاظ سے پایہ تکمیل تک پہنچ جائیں ۔معلم کتاب وحکمت حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنی بعثت کا مقصد ان الفاظ میں بیان فرمایا: ’’مجھے صرف بھیجا ہی اس لیے گیا ہے کہ میں اخلاق کی تکمیل کروں‘‘۔ عبادات اسلامیہ میں روزہ ایک اہم رکن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے روزوں کی فرضیت کاایک بڑامقصد حصول تقویٰ قراردیا ہے فرضیت صوم کا حکم دینے کے بعد فرمایا:’’تاکہ تم متقی بن جائو‘‘۔تقویٰ ایک جامع لفظ ہے، جس کی تعبیر مختلف انداز سے کی گئی ہے ، ’’تقویٰ کالغت   میں معنی ہے نفس کوہر ایسی چیز سے محفوظ کرنا جس سے ضرر کا اندیشہ ہو۔عرف شرع میں تقویٰ کہتے ہیں ہر گناہ سے اپنے آپ کو بچانا اسکے درجے مختلف ہیں۔ ہر شخص نے اپنے درجے کیمطابق اسکی تعبیر فرمائی ہے میرے نزدیک سب سے مؤثر اورآسان تعبیر یہ ہے ۔ ’’ یعنی تیرا رب تجھے وہاں نہ دیکھے جہاں جانے سے اس نے تجھے روکا ہے اوراس مقام سے تجھے غیر حاضر نہ پائے جہاں حاضر ہونے کا اس نے تجھے حکم دیا ہے‘‘۔(ضیا ء القرآن )  عرف میں تقویٰ اس صلاحیت کو کہاجاتا ہے جس کی وجہ سے آدمی نیکی سے محبت کرتا ہے اوربدی سے اسے نفرت ہوجاتی ہے ۔ آئیے دیکھیں کہ روزہ آدمی میں یہ صلاحیت کیسے پیدا کرتا ہے انسان میں اللہ تعالیٰ نے ملکیت (فرشتوں کی خصلت) اور بہیمیت (حیوانیت) دونوں صلاحیتیں رکھی ہیں۔قوت بہیمیت جتنی مضبوط اور طاقتور  ہوتی ہے تو ملکیت کی صلاحیت اتنی ہی کمزور ہوتی ہے ملکوتی یاروحانی قوت جتنی کمزور ہوتی ہے آدمی میں تقویٰ کی صلاحیت اتنی ہی کم ہوتی جاتی ہے جذبہ بہیمیت کی زیادتی کا ایک مرکزی سبب کثرت خوردونوش ہوتا ہے اوربھوک اسی جذبہ بہیمیت کی شدت کو کمزور کرتی ہے اورملکیت کی قوت کو قوی اورمضبو ط کرتی ہے اور حیوانی یا بہیمیت کی کمی ہی انسان کو راہ حق پر گامزن رکھتی ہے۔

Shortclip - انسان اللہ تک کیسے پہنچے

Darsulquran urdu surah al-maida ayat 106-109.کیا ہم نے رسول کی دعوت کو س...

اتوار، 17 اپریل، 2022

Shortclip - کیا جنت جانا بہت مشکل ہے؟

Shortclip - ایمان کا ذائقہ کیسے حاصل کریں؟

رمضان کی رحمتیں

 

رمضان کی رحمتیں

٭حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت کو رمضان المبارک کے بارے میں پانچ ایسی چیزیں مخصوص طور پر عطاکی گئی ہیں جو پہلی امتوں کو نہیں ملیں ہیں۔۱:۔یہ کہ (بھوک کی وجہ سے پیدا ہونے والی )ان منہ کی بُو، عنداللہ مشک سے بھی زیادہ عزیز ہے۔۲:۔یہ کہ ان کے لیے دریا کی مچھلیاں تک دعاکرتی ہیں اورافطارکے وقت تک محو دعارہتی ہیں۔۳:۔ہر روز ان کے لیے جنت آراستہ کی جاتی ہے اوراللہ رب العزت ارشادفرماتے ہیں :اے جنت !قریب ہے کہ میرے پاکیزہ نہاد بندے (دنیا کی) مشقتیں اپنے وجود سے اتار کر تیری طرف آجائیں گے۔۴:۔اس میں سرکش شیاطین مقیّدکردیے جاتے ہیں اوروہ رمضان کے مہینے میں ان برائیوں کی طرف رسائی حاصل نہیں کرپاتے جن کی طرف وہ غیر رمضان میں آسانی سے پہنچ جاتے ہیں۔۵:۔ رمضان کی آخری رات میں روزہ داروں کی مغفرت کردی جاتی ہے ،صحابہ کرام نے عرض کیا:کیا یہ شب مغفرت ، لیلۃ القدر ہے۔ ارشادہوا :نہیں!بلکہ دستور یہ ہے کہ مزدور کو کام ختم ہونے کے وقت مزدوری دے دی جاتی ہے۔(صحیح ابن حبان، احمد،) ٭حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: بلاشبہ اللہ تبارک وتعالیٰ اوراس کے فرشتے سحری کھانے والوں پر رحمتوں کا نزول کرتے ہیں ۔(صحیح ابن حبان ، طبرانی)
٭حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں حضور علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کا ارشادہے :تین افراد کی دعا رد نہیں ہوتی ، ایک روزہ دار کی افطار کے وقت ،دوسرے عادل حکمران کی،تیسرے مظلوم کی جسے حق تبارک وتعالیٰ بادلوں سے اوپر اٹھا لیتے ہیں ،آسمان کے دروازے اس کے لیے کھول دیے جاتے ہیں اورارشادہوتا ہے کہ (اے مظلوم!)میں تیری ضرور دستگیری کروں گا گو (کسی مصلحت کی وجہ سے )کچھ دیر ہوجائے ۔(ترمذی،احمد)٭حضرت ابوعبیدہ ابن جراح رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:روزہ انسان کے لیے (اس وقت تک )ڈھال ہے جب تک کہ وہ خود اس کو پھاڑ نہ ڈالے ۔(ابن ماجہ،نسائی)٭حضر ت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: بہت سے روزہ دار ایسے ہیں کہ ان کو روزہ کے ثمرات میں بجزبھوک کے اورکچھ بھی حاصل نہیں ہوتا اوربہت سے شب بیدار ایسے ہیں کہ ان کو بیداری کی (مشقت )کے سوا کچھ بھی نہیں ملتا ۔(ابن ماجہ،نسائی،ابن خزیمہ)

Darsulquran urdu surah al-maeda ayat 101-105.کیا ہم سیدھے راستے پر چل رہ...

جمعہ، 15 اپریل، 2022

Darsulquran urdu surah al-maeda ayat 99. کیا ہم لوگ عقلمند نہیں ہیں

Shortclip - شِرک کیا ہے؟

Shortclip - اپنے دل کو نورانی کیسے بنائیں؟

برکاتِ رمضان

 

برکاتِ رمضان

٭ حضرت عثمان ابن ابوالعاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: روزہ جہنم سے بچنے کے لیے ڈھال ہے جس طرح جنگ میں (حفاظت کے لیے)تمہاری ڈھا ل ہواکرتی ہے۔(نسائی ،ابن ماجہ)

٭ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:روزہ دوزخ کی آگ سے محفوظ رہنے کے لیے ڈھا ل ہے جو آدمی صبح کے وقت روزہ کی حالت میں بیدار ہو وہ کسی جہالت کا مظاہرہ نہ کرے اگر کوئی دوسرا اس کے ساتھ بدتہذیبی کرے تو روزہ دار نہ تو اسے گالی دے اورنہ ہی برا بھلاکہے بلکہ وہ کہے کہ میں تو روزے سے ہوں ، اس ذاتِ (والاتبار)کی قسم !جس کی قبضہ قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)کی جان ہے ۔ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے ہاں مشک سے بھی محبوب تر ہوتی ہے ۔(بیہقی)

٭ حضرت عبداللہ بن اوفی روایت کرتے ہیں ، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:روزہ دار کا سونا بھی عبادت ہے ،اس کی خاموشی تسبیح ہے ،اس کے عمل کا ثواب دوچند ہے ، اس کی دعا مقبول ہوتی ہے اوراس کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں ۔(بیہقی)

٭ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: روزہ نصف صبر ہے ،ہر چیز کی زکوٰۃ ہوتی ہے اورجسم کی زکوٰۃ روزہ ہے۔(ابن ماجہ، طبرانی،بیہقی)

٭ حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:روزہ اورقرآن قیامت کے دن بندے کی سفارش کریں گے ، روزہ کہے گا اے میرے رب!میں نے ہی اسے دن کے وقت خوردونوش اور دیگر خواہشات سے مجتنب رکھا تھا لہٰذا اس کے ہاتھ میں میری سفارش قبول فرما۔جبکہ قرآن مجید یوں عرض کرے گا اے میرے رب کریم !رات کو میں نے اسے نیند سے روکے رکھا تھا لہٰذا اس کے بارے میں میری سفارش قبول فرما۔پس ان دونوں کی سفارش قبول کی جائے گی۔(احمد، طبرانی ،حاکم )

جمعرات، 14 اپریل، 2022

Shortclip - کیا ہم مسلمان ہیں؟

فضائلِ رمضان

 

فضائلِ رمضان

٭حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب رمضان کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ،ایک اور روایت میں ہے کہ جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اوردوزخ کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں۔شیاطین کو زنجیروں میں جکڑدیا جاتا ہے ۔ایک اورروایت میں ہے کہ رحمت کے دروازے کشادہ کردئیے جاتے ہیں۔ (بخاری،مسلم)٭حضر ت سہل بن ابن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جنت میں آٹھ دروازے ہیں جن میں سے ایک دروازہ ہے جسے ’’ریان ‘‘ کہتے ہیں اس دروازے میں صرف روزے دار ہی داخل ہوں گے۔ (بخاری ،مسلم)٭حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں ، حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:جو ایمان اوراخلاص سے رمضان المبارک کے روزے رکھتا ہے اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں جو رمضان المبارک میں ایمان اور اخلاص سے راتوں میں عبادت کرتا ہے تو اس کے (بھی ) سابقہ گناہ بخش دئیے جاتے ہیں اور جو شب قدر میں ایمان اور اخلاص کے ساتھ عبادت کرتا ہے تو اسکے (بھی) گزشتہ گناہ بخش دئیے جائیں گے۔(بخاری، مسلم)٭حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: انسان کی تمام نیکیاں دس گنا سے لیکر سات سو گنا تک بڑھا دی جائیں گی لیکن رب تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں سوائے روزہ کے، کیونکہ روزہ تو میرے لیے ہے اورمیں ہی اس کی جزاعطاکروں گا۔میرا بندہ میرے لیے اپنی شہوانی خواہشات اوراپنا طعام چھوڑ دیتا ہے۔ (بخاری، مسلم)٭حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کہ جب ماہِ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین اورسرکش جن قید کردئیے جاتے ہیں اوردوزخ کے دروازے اس طرح بند کردئیے جاتے ہیں کہ ان میں سے کوئی دروازہ بھی نہیں کھولا جاتا اورجنت کے دروازے اس طرح کھول دئیے جاتے ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی دروازہ بند نہیں کیا جاتا اورپکارنے والا پکارتا ہے کہ اے بھلائی چاہنے والے آجا اور اے برائی چاہنے والے باز آجا۔اوراللہ کی طرف سے لوگ آگ سے آزاد کیے جاتے ہیں اوریہ عمل ہر رات دہرایا جاتا ہے۔ (ترمذی، ابن ماجہ)٭حضرت عبداللہ ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب رمضان المبارک کا آغاز ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر اسیر کو آزاد کرتے اورہر سوالی کو عطافرماتے ۔(مشکوٰۃ)

Shortclip-انسان نورالٰہی کیسے حاصل کرسکتا ہے؟

Darsulquran urdu surah al-maeda ayat 97-98 .کیا ہم اللہ تعالی کی نعمتوں...

بدھ، 13 اپریل، 2022

shortclip - ہم نورالٰہی سے کیسے مستفیض ہوسکتے ہیں؟

روزہ کی فرضیت

 

روزہ کی فرضیت

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:۔’’اے ایمان والو!فرض کیے گئے تم پر روزے جس طرح فرض کیے گئے تھے ان لوگوں پر جو تم سے پہلے تھے ،کہ تم پرہیز گاربن جائو۔‘‘(البقرۃ ۔۱۸۳)’’روزہ(صوم)کا لغوی معنی ہے کسی چیز سے رُکنا اوراس کو ترک کرنا ،روزہ کا شرعی معنی ہے مکلف اوربالغ شخص کا ثواب کی نیت سے طلوع فجر سے لے کرغروبِ آفتاب تک کھانے پینے اورخواہشِ نفسانی کو ترک کرنا اوراپنے نفس کو تقویٰ کے حصول کیلئے تیار کرنا ۔تمام ادیان اورملل میں روزہ معروف ہے ،قدیم مصری ، یونانی ، رومن اورہندو سب روزہ رکھتے تھے ، موجودہ تورات میں بھی روزہ داروں کی تعریف کا ذکر ہے اورحضرت موسیٰ علیہ السلام کا چالیس دن روزہ رکھنا ثابت ہے۔یروشلم کی تباہی کو یاد رکھنے کیلئے یہود اس زمانے میں بھی ایک ہفتے کا روزہ رکھتے ہیں ، اسی طرح موجودہ انجیلوں میں بھی روزہ کو عبادت قرار دیا گیا ہے اورروزہ داروں کی تعریف کی گئی ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر روزہ فرض کیا گیا تھا اسی طرح تم   روزہ  فرض کیاگیا ہے تاکہ مسلمانوں کو روزہ رکھنے میں رغبت ہو کیونکہ جب کسی مشکل کام کو عام لوگوں پر لاگو کردیا جاتا ہے تو پھر وہ سہل ہوجاتا ہے ۔علامہ علائو الدین حصکفی نے لکھا ہے کہ ہجرت کے ڈیڑھ سال اورتحویل قبلہ کے بعد دس شعبان کو روزہ فرض کیا گیا ۔‘‘(تبیان القران)
’’روزے کا مقصد اعلیٰ اورسخت ریاضت کا پھل یہ ہے کہ تم متقی اورپاکباز بن جائو ، روزے کا مقصد صرف یہ نہیں کہ ان تین باتوں سے پرہیز کرو بلکہ مقصد یہ ہے کہ تمام اخلاق رذیلہ اوراعمال بد سے انسان مکمل طور پر دست کش ہوجائے ، تم پیاس سے تڑپ رہے ہو تم بھوک سے بیتاب ہورہے ہو۔تمہیں کوئی دیکھ بھی نہیں رہا ،ٹھنڈے پانی کی صراحی اورلذیذ کھانا پاس رکھا ہے لیکن تم ہاتھ بڑھانا توکجا آنکھ اٹھا کر ادھر دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔اسکی وجہ صرف یہی ہے ناکہ تمہارے رب کا یہی حکم ہے !اب جب حلال چیزیں اپنے رب کے حکم سے تم نے ترک کردیں تو وہ چیز یں جن کو تمہارے رب نے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے حرام کردیا ہے (چوری ،رشوت ، بددیانتی وغیرہ )اگر یہ مراقبہ پختہ ہوجائے تو کیا تم ان کا ارتکاب کرسکتے ہو ہرگز نہیں ، مہینہ بھر کی اس مشق کا مقصد یہی ہے کہ تم سال کے گیارہ مہینے بھی اللہ سے ڈرتے ہوئے یوں ہی گزار دو۔جو لوگ روزہ تو رکھ لیتے ہیں لیکن جھوٹ ،غیبت ،نظر بازی وغیرہ سے باز نہیں آتے ،انکے متعلق حضور پُرنور ﷺ نے واضح الفاظ میں فرمادیا: جس نے جھوٹ بولنا اوراس پر عمل کرنا نہیں چھوڑا اگر اس نے کھانا پینا ترک کردیا تو اللہ کے نزدیک اسکی کوئی قدر نہیں ۔‘‘(ضیاء القران)

Shortclip - ایمان کیا ہے؟

منگل، 12 اپریل، 2022

Shortclip - ہمیں دلی سکون کیسے حاصل ہوگا؟

خاتونِ جنت فاطمہ الزہرارضی اللہ عنہا(۱)

 

خاتونِ جنت فاطمہ الزہرارضی اللہ عنہا(۱)

 سیّدہ ‘طیبہ ‘طاہرہ فاطمۃ الزہرا بے شمار فضائل کی حامل ہیں۔آپ خاتون جنت ہیں‘جنت میں تمام جنتی خواتینِ عالم کی سردار ہیں۔سُلطانِ دوعالم فخرِ آدم وبنی آدم ‘حضور محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی لاڈلی صاحبزادی ہیں۔اگر چہ آپ چاروں بیٹیوں میں سے سب سے چھوٹی تھیں،لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی سب سے زیادہ حقدار ٹھہریں۔اُمُّ المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے حُسنِ تربیت اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضانِ اقدس نے آپ کے کردار کو انتہائی بُلندیوں پر پہنچادیا تھا۔بیٹی کی حیثیت سے ‘بیوی کی حیثیت سے ‘ماں کے کردار کی حیثیت سے انسانی سرفرازی کے لحاظ سے آپ اپنی مثال آپ تھیں۔آپ فقرودرویشی ‘استغناء اورسخاوت میں اپنی مثال آپ تھیں۔آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفاتِ حسنہ کا پیکر تھیں،اپنے اباّجان کے کردار کی احسن ترین تنویر تھیں۔خاص طور سے آپ نے خواتینِ اسلام کیلئے جو اُسوئہ حسنہ پیش کیا ہے ،اس کی مثال نہیں ملتی ۔مشکیزے میں پانی خودلاتی ہیں‘جس سے سینے اورکندھوں پر نشانات پڑگئے ۔گھر کے تمام امور خود انجام دیتی ہیں،چکی اس حالت میں پیستی ہیں کہ گود میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ہیں‘کندھے پر حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ لٹکے ہوئے ہیں۔ہاتھ چکی پیس رہے اورزبان پر قرآن حکیم کی تلاوت جاری ہے۔تین تین دن فاقے سے گزارے مگر کبھی شکایت کا ایک لفظ بھی زبان پہ آنے نہ پایا۔جو نہی وقت ملتا مصلے پر کھڑی ہوجاتیں۔تمام تمام رات مصلے پر عبادت میں گزارتیں ۔صبح کی اذان ہوتی تو فرماتیں’’خدایا تیری بندی عبادت کا حق ادا نہیں کرپائی کیونکہ تیری رات ہی مختصر ہے‘‘۔ایک خاتون میں جس قدر خوبیاں ہونی چاہئیں وہ سب آپ کی ذات میں موجود تھیں۔

مرزعِ تسلیم را حاصل بتول

مادراں را اُسوئہ کامل بتول

 حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ آپ کا نام ہے۔آپ آنحضرت سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی چھوٹی صاحبزادی تھیں اورتمام مکارم اخلاق وفضائلِ اوصاف آپ پر ختم ہوگئے تھے ۔آپ کی والدہ محترمہ حضرت خدیجہ بن خویلد رضی اللہ عنہا تھیں۔آپ سیّدہ خواتینِ عالم اورسردار النساء اہلِ جنت ہیں۔آپ کے القاب زہرا‘ طاہرہ‘ مطہرہ‘ زاکیہ‘راضیہ‘مرضیہ اور بتول ہیں۔

Shortclip - اسلام کیا ہے؟

Darsulquran urdu surah al-maeda ayat 94-95.کیا ہم دنیا کی زندگی کو امتحا...

پیر، 11 اپریل، 2022

Shortclip - حقوقِ والدین

Darsulquran urdu surah al-maeda ayat 93.کیا ہم سے اللہ تعالی محبت رکھتا ہے

Shortclip - پریشانیوں سے جھٹکارا کیسے؟

رمضان اور تحصیل تقویٰ(۵)


 

رمضان اور تحصیل تقویٰ(۵)

اللہ کے دیئے ہوئے رزق میں سے اس کے راستے میں خرچ کرنا اہل تقوی کا تیسرا نمایاں وصف ہے۔ اگرچہ رزق کی معنویت بڑی وسیع ہے اور یہ ظاہری ، باطنی اورمعنوی نعمتوں کو محیط ہے۔ رمضان المبارک کا ماحول کیفیت جودوسخا میں اضافے کا باعث ہے۔ خود پروردگار نے ہر عمل کا اجر بڑھا دیا ہے۔ نفل پڑھنے پر فرض کا ثواب ہے، فرض ستر گناہ زیادہ بار آور ہو چکا ہے۔ ہر رات گہنگاروں کو بخشش کے پروانے مل رہے ہیں۔ جناب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کہا گیا کہ آپ رمضان المبارک میں تیز ہواؤں سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے ۔ ایسے میں انسان کو کم از کم یہ تو محسوس ہو کہ میں نے صرف اپنے خوراک کے معمولات کو ذر ابتدیل کیا ہے، تو مجھے شام تک بھوک کا کیسا احساس ہوا ہے۔ ان لوگوں کا عالم کیا ہو گا جن کے گھر میں مدتوں آگ روشن نہیں ہوتی، مدتوں چولہا نہیں جلتا۔ رمضان میں غم گساری کی ایک تحریک میسر آتی ہے جو اگر معاشرے میں مستقل رائج ہوجائے تو معاشرہ جنت نظیر ہوجائے۔ 
وحی الٰہی جو کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اس پر ایمان رکھنا اور جو آپ سے پہلے اتاری گئی اس پر ایمان رکھنا اہل تقویٰ کا چوتھا وصف ہے۔ یہ و صف اس امر کا آئینہ دار ہے کہ متقی صرف اللہ کی وحی پر مبنی نظام زندگی (دین) کو ہی حتمی سمجھتا ہے اور وحی الٰہی کے مکمل ہو جانے (یعنی ختم نبوت) کے بعد نہ تو کسی نبی کو تسلیم کرتا ہے اور نہ ہی کسی اور نظام کو انسانی احتیاجات کے لیے مکمل سمجھتا ہے۔ رمضان میں ہمیں اللہ کے پیغام قرآن سے وابستگی کے مواقع دوسرے ایام سے زیادہ ملتے آتے ہیں۔ تلاوت کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے ، تراویح میں منزل سننے کا شرف حاصل ہوتا ہے، دورس قرآن اور مفاہیم قرآن کی نشستیں بڑھ جاتی ہیں۔ کیا ہی عمدہ ہو کہ ہم امکانی حد تک کتاب ہدایت کی روشنی سے خود کو منور و مستنیر کریں۔
آخرت پر ایقان رکھنا اہل تقویٰ کا پانچواں نمایاں و صف ہے۔ ایقان اس مرحلہ تسلیم کو کہا جاتا ہے جہاں شک اور شبہ کا ذرا سا امکان بھی باقی نہ رہے۔ آخرت پر ایقان ضروری ہے۔ متقی اپنے ہر عمل کو آخرت کی جواب دہی کے نقطہ نظر سے کرتا ہے۔ اسے ہر لمحہ یہ خیال رہتا ہے کہ میرا ایک الہ ٰہے جس نے مجھے پیدا کیا ،مجھے مہلت عمل دی اب ایک وقت ایسا بھی آنے والا ہے جب میں نے اس کے سامنے پیش ہونا ہے اور روزہ اس شعور سے رکھا جاتا ہے کہ مجھے اللہ ہر وقت دیکھ رہا ہے۔یہ مزاج بن جائے تو آخرت کا ایقا ن پیدا ہوجاتا ہے اور عمل میں ازخود ایک حسن عمل اتر آتا ہے۔

اتوار، 10 اپریل، 2022

Darsulquran urdu surah al-maida ayat 92.کیا ہم اللہ تعالی اور اس کے رسول...

Shortclip - کیا ہم اپنی زندگی ضائع کرنے پر تُل گے ہیں؟

Shortclip - کیا ہم ظاہر دنیا کے دھوکے میں آگئے ہیں؟

رمضان اور تحصیل تقویٰ(۴)

 

رمضان اور تحصیل تقویٰ(۴)

نماز کا قیام اہل تقوی کا دوسرا نمایاں وصف ہے۔ نماز اللہ کا ایک ایسا ذکر ہے جو مومنین کے لیے فرض قرار دیا گیا ہے۔ اس کے اپنے فضائل و محاسن   ہیں یا  آج کی مصروف پسندیدہ اصطلاح میں نماز کا ایک اپنا ’’فلسفہ‘‘ ہے۔ یہاں خاص طور پر یہ عرض کرنا مقصود ہے کہ ’’نماز کو قائم کرنا‘‘ اہل تقویٰ کا نشان امتیاز بیان کیا گیا ہے نہ کہ محض پڑھنا۔ نماز قائم ہوتی ہے تو اس میں وہ شان احسان پیدا ہو جاتی ہے جس کو حدیث پاک میں ’’ان تعبداﷲکانک تراہ وان لم تکن تراہ فانہ یراک‘‘سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی اپنے پروردگار کی اس طرح عبادت کرو کہ گویا تم اسے (اپنے سامنے) دیکھ رہے ہو۔ اگر یہ حضور ممکن نہیں تو یہ ادراک تو راسخ ہو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے ۔ نماز میں جوحضور و سرور پیدا نہیں ہو تا۔ اس کی من جملہ وجوہات میں سے ایک شکم سیری بھی ہے۔ ’’بھوک اللہ کا راز ہے اور اسے صرف عارفین پر ہی آشکار کیا جاتا ہے‘‘ (کشف المحجوب) حالت صوم میں اگر سحری اور افطاری کو قدرے اعتدال سے برت لیا جائے تو بھوک کی لذت اور اسرار سے کچھ لطف اٹھایا جا سکتا ہے۔ یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ رمضان میں مومن کا جو رزق وسیع ہو جاتا اس سے مراد ہم لوگوں کے نزدیک صرف سموسے پکوڑے اور کچوریاں ہیں۔ امام غزالی نے کس کرب سے اظہار خیال کیا ہے کہ جب ہمارا نفس بھوک ، پیاس کو ذرا  سہنے کا عادی ہو جاتا ہے تو ہم پر تکلف افطاری سے اسے خوش خوراکی کا مزید عادی بنا لیتے ہیں۔ وہ جو کہا گیا ہے کہ اہل صوم کے لیے دوراحتیں ہیں ایک افطار کے وقت اور دوسری آخرت میں اللہ کے دیدار کی صورت میں، کیا وہ ان حجابات خورد و نوش میں ہیں؟ اگر ہمارا دھیان اس سمت میں چلا جائے، ہم رمضان کی مبارک ساعتوں سے فائدہ اٹھائیں اور اس کے معمولات کی معنویت کو محسوس کریں اور سحر وافطار کو مسنون دائرے میں رکھ لیں تو شاید ہماری نمازیں بھی ’’اقامت‘‘ کی معنویت سے آشنا ہو سکیں۔ رمضان میں خوراک کو اعتدال پر رکھنے کا موقع تو ہمیں ملتا ہی ہے۔ ماحول میں ایک روحانیت در آتی ہے، سحری کی صورت میں ہمارے لیے تہجد کا موقع ہے ، تراویح کی سنت معمول کے سجدوں میں اضافے کا باعث ہے، ماحول کا رجحان نماز باجماعت کی طرف زیادہ ہو جاتا ہے،شیطان مقید ہوتا ہے۔ ایسے ماحول سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور نماز کی کیفیت میں خشوع و خضوع پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

ہفتہ، 9 اپریل، 2022

Shortclip - ایمان باللہ کے تقاضے

Shortclip - انسان نور کو کیسے حاصل کرسکتا ہے؟

رمضان اور تحصیل تقویٰ(۳)

 

رمضان اور تحصیل تقویٰ(۳)

سورۃ البقرۃ کی ابتدائی آیات میں اس حقیقت کا اظہار کیا ہے کہ یہ کتاب اہل تقویٰ کیلئے ہدایت ہے۔ یہاں ہدایت سے مراد ارفع ترین ہدایت ہے یعنی ایصال الی المطلوبکسی کو منزل مقصود تک پہنچا دینا۔ جب راہ نور شوق منزل جاناں تک باریاب ہو تا ہے توبارگا رہ ناز کے سارے دروازے کھل جاتے ہیں اورسارے حجابات اٹھ جاتے ہیں اور انسان کی نظر میں حسن حقیقی کے جلوئے بس جاتے ہیں۔سورہ بقرہ کی انہیں ابتدائی آیا ت میں ان لوگوں کے خصائل حمیدہ کا ذکر بھی کیا گیا ہے جو متقی ہیں۔ رمضان المبارک کے تقدس مآب ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان اوصاف و شمائل کو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ورنہ حدیث پاک کی رو سے روزہ محض بھوک اور پیاس کی ایک مشقت بن کر رہ جائے گا۔یہ علامات درج ذیل ہیں:(۱)ایمان بالغیب کے حامل ہیں (۲) نماز قائم کرتے ہیں (۳) اللہ کے دئیے ہوئے رزق میں سے اسکے راستے میں خرچ کرتے ہیں (۴) حضور اکرم ﷺ پر نازل ہونیوالی وحی اور اس سے قبل نازل ہونیوالی وحی پر ایمان رکھتے ہیں (۵) آخرت  پر ایمان رکھتے ہیں۔۔۔۔ اہل تقوی کا پہلا اور بنیادی وصف ایمان بالغیب ہے۔ اللہ اور اس کے پیغام کو مان لینا اور اس سے وابستہ ہو جانا ایمان ہے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن حقائق کی اشارہ فرمایا ہے، انہیں بلا چوں و چرا ماننا ایمان بالغیب ہے۔ ایمان ایک ایسا وصف ہے جو انسان کے وجود میں اطمینان و سکینت کا سبب ہے اور اس کو ذہنی اور نظریاتی طور پر یکسو کر دیتا ہے اور اسکے عمل کی ایک شاہراہ متعین ہو جاتی ہے۔
رمضان میں ایمان بالغیب کی کیفیت میں ایک گونا اضافے کا سامان موجود ہے۔ ہم نے کس کے کہنے پر اپنی زندگی کے گیارہ ماہ کے طرز عمل کو یک لخت تبدیل کر دیا۔ اللہ کے حکم پر اور رسول اللہ ﷺ کے بتانے پر ،روزہ ایک ایسا عمل ہے جس کا صحیح ترین ادراک یا تو اللہ رب العزت کو ہے یا خود روزہ دار کو ۔ ’’روزہ میرے لیے ہے اور میں خود ہی اس کی جزاء دیتاہوں یا میں خود ہی اسکی جزاء ہوں۔جیسی حوصلہ افزاء بشارت اسی لیے ہے کہ اس پر کوئی تیسرا حتمی اور یقینی گواہ ہو نہیں سکتا ۔ سارا دن انسان کھانے پینے یا خواہشات نفسانیہ سے مجتنب رہتا ہے۔ محض اس لیے کہ اس کا اپنے پروردگار سے ایک وعدہ ہے۔ اگر ہم روزہ کے مقرر دورانیہ میں حلال اورطیب اشیاء کو ترک دینے کے عادی ہو جاتے ہیں تو دوسرے ایام میں ہمیں کم از کم حرام تو ضرور ترک دینا چاہیے۔ اگر یہ کیفیت اجتناب ہمارے وجود میں راسخ ہو جائے تو دوسرے گیارہ مہینوں میں ہم اہم موانعات شرعی سے اجتناب کے بھی عادی ہو سکتے ہیں۔

جمعہ، 8 اپریل، 2022

Shortclip - ایمان باللہ کا مطلب کیا ہے؟

Shortclip - انسان کو نور کی کیا ضرورت ہے؟

رمضان اور تحصیل تقویٰ(۲)

 

رمضان اور تحصیل تقویٰ(۲)

سید محمود آلوسی کہتے ہیں کہ تقویٰ یہ ہے کہ تم وہاں موجود پائے جائوجہاں تمہارا پروردگار تمہیں موجود دیکھنا چاہتا ہے اورہراس جگہ پر مفقود پائے جائو جہاں تمہارے پروردگار کو موجود ہونا پسند نہیں،گویا کہ تقویٰ رذائل سے بچنے اورفضائل سے آراستہ ہونے کا نام ہے۔

ابوعبداللہ رود باری کہتے ہیں ’’تقویٰ یہ ہے کہ ان تمام چیزوں سے اجتناب کیاجائے جو اللہ سے دور رکھنے والی ہوں‘‘ ،حضرت واسطی کا قول ہے ’’اپنے تقویٰ سے بچنے کا نام تقویٰ ہے‘‘یعنی متقی کے لیے ضروری ہے کہ وہ ریاء کاری سے بچے اس لیے کے یہ اعمال کو اس طرح کھا جاتی جس طرح دیمک لکڑی کو چاٹ جاتی ہے۔حضرت ذوالنون مصری کے علاقے میں قحط پڑ گیا ،لوگ ان کے پاس قحط سالی کے خاتمے اور بارانِ رحمت کے لیے دعاء کروانے کے لیے آئے،آپ فرمانے لگے،بارش اس لیے نہیں ہوتی کہ گنہگارزیادہ ہوگئے ہیں اورسب سے بڑا گنہگا ر میں خودہوں ،اگر مجھے شہر سے نکال دیا جائے تو بارانِ رحمت برسنے لگ جائے گی۔

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے تقویٰ کی بڑی خوبصورت تعریف کی ہے، امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ اے ’’ابی‘‘ تقویٰ کیا ہے۔ انہوں نے جوابا استفسار کیا، اے امیرالمومنین کبھی کسی ایسے خار زار راستے پر چلنے کا اتفاق ہوا ،جس کے دونوں جانب کانٹے دار جھاڑیاں ہوں۔ فرمایا متعدد بار ایسا سفر درپیش ہوا ہے۔حضرت ابی نے پوچھا! اے امیر المومنین ایسے راستے پر آپ کے سفر کی کیفیت کیا ہوتی ہے۔ ارشاد ہوا: دامن سنبھال سنبھال کر اور جسم کو بچا بچا کر کہ کہیں کوئی کانٹا دامن کو الجھا نہ دے اور جسم میں خراش نہ ڈال دے، حضرت ابی نے کہا :امیر المومنین! یہی تقوی ہے کہ زندگی کا سفر اس حسن و خوبی اور حزم و احتیاط سے کیا جائے کہ گناہوں کو کوئی کانٹا نہ تو دامن کو الجھا سکے اور نہ جسم کو مجروح کر سکے۔ حضرت ابی بن کعب کی یہ تعریف اپنے اندر بڑے جامعیت رکھتی ہے اسلام نہ تو رہبانیت کا درس دیتا ہے کہ کار زار حیات میں سرگرم حصہ ہی نہ لیا جائے اور نہ ہی مادیت کی طرح ہر قسم کی اخلاقیات سے بالاتر ہو کر زندگی گزارنے کی تحریک دیتا ہے۔ بلکہ اس طرح زندہ رہنے کی تاکید کرتا ہے کہ زندگی کے سارے فرائض واہداف بھی پورے ہوجائیں اور کسی قسم کی آلودگی بھی دامن پر نہ ہو۔ یہی توازن انسان کو انسان بناتا ہے یہی وہ مقام ہے ۔ جہاں وہ نوامیس فطرت پرغالب آجاتا ہے اور مسجود ملائک قرار پاتا ہے۔


Darsulquran urdu surah al-maeda ayat 85.کیا ہمارا ٹھکانہ جنت ہے

جمعرات، 7 اپریل، 2022

Shortclip - ہمیں دین اسلام کی کیا ضرورت ہے؟

Shortclip - کیا انسان نور کا محتاج پیدا ہوتا ہے؟

رمضان اور تحصیل تقویٰ(۱)

 

رمضان اور تحصیل تقویٰ(۱)

رمضان المبارک خیر و برکت کا مہینہ ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس مبارک مہینہ میں امت مسلمہ کو روزہ رکھنے کا حکم دیا ۔ کیا یہ عمل محض بھوک اور پیاس کے ایک مرحلے سے گزار نے کا ذریعہ ہے؟ قرآن مقدس میں اس کی غایت و مقصود تقویٰ کو قرار دیا ہے۔ اگر ہم لفظ ’’صوم‘‘ کی حقیقت پر غور کریں تو تربیت کا ایک پورا عمل سامنے آجاتا ہے۔ لغت میں لفظ صوم کا معنی ’’الامساک عماتنازع الیہ النفس ‘‘درج ہے یعنی ان خواہشات سے خود کو روک لینا جن کی طرف نفس راغب ہو۔ لیکن اس لفظ کا ایک پس منظر بھی ہے۔ عرب میں جنگی گھوڑوں کی تربیت کا ایک طریقہ رائج تھا، وہ یہ کہ جس گھوڑے کو جنگی مقاصد کے لیے مناسب و موزوں سمجھا جاتا اسے ابتداء ہی سے بڑی مقوی اورفربہ اندوز قسم کی خوراک دی جاتی اور کسی قسم کی بدنی مشقت نہ لی جاتی، جب وہ خوب موٹا تازہ ہو جاتا اور اس کے جسم پر کافی مقدار میں چربی چڑھ جاتی، تو اسے رفتہ رفتہ مشقت کا عادی بناتے اور بتدریج خوراک کم کرتے چلے جاتے۔ اس طرح اس کے جسم کی زائد چربی زائل ہو جاتی ہے اور اس کا جسم سڈول اور پھر پتلا ہوتا چلا جاتا۔ مزید برآں وہ بھوک اور پیاس کی مشقت کا بھی عادی ہو جاتا اور جنگ کی ہولناکیوں سے نبردآزما ہونے لگتا ہے۔’’ صوم‘‘ بھی تربیت دینے کا ایک طریقہ جس سے جسم اور روح دونوں کی کثافتیں زائل ہو جاتی ہیں اور انسان اپنے نفس اور شیطان دونوں کے خلاف میدان کارزار میں اترنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ ’’تقوی‘‘ کا لفظ اپنے اندر حذر اور اجتناب کا معنی رکھتا ہے۔ کسی شئی کی مضرت رسانی اور نقصان دہ پہلو سے ہم واقف ہو جائیں اور پھر پورے شعور اور آگئی سے اس سے بچیں تویہ ’’وقایۃ‘‘ ہے ۔قاضی بیضاوی رحمۃ اﷲ علیہ کے نزدیک اسکے تین مراحل ہیں، ۱:۔آخرت کے عذاب سے ڈر کر اپنے آپ کوشرک سے بچانا تقویٰ کا پہلادرجہ ہے،۲:۔ ہر وہ فعل جس میں گناہ کا اندیشہ ہویہاں تک کہ صغیرہ گناہوںسے بچنا بھی تقویٰ کا دوسرا درجہ ہے، ۳:۔ہر وقت اللہ سے تعلق قائم رکھنا اوراس سے غافل کردینے والی اشیاء سے لاتعلق ہونا تقویٰ کا تیسرا درجہ ہے اور تقویٰ کی یہی کیفیت حقیقی ہے اوریہی مطلوب ومقصود ہے۔اللہ تبارک وتعالیٰ سے ہر وقت تعلق سے مراد یہ ہے کہ انسان کو ہر وقت خدا یاد رہے اوروہ ہر فعل میں اسی کی رضاء دیکھے ،انسان کو ہر وقت کوشاں رہنا چاہیے کہ کوئی چیز دین کی راہ سے غفلت کا سبب نہ بن جائے ،شیطانی طاقتیں اس پر غالب نہ آجائیں اور وہ نفس امارہ کا شکار نہ ہوجائے۔

بدھ، 6 اپریل، 2022

Darsulquran urdu surah Al-maeda ayat 83-84.کیا ہمارے دل میں خشیت الہی مو...

Shortclip - ہمیں یقین کی دولت کیسے ملے گی؟

Shortclip - کیا انسان مردہ پیدا ہوا ہے؟

اندیشہ

 

اندیشہ

حضرت حسن بصری ؒ فرماتے ہیں،بصرہ کی جامع مسجد میں ایک مجلس آراستہ تھی،میں ان کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ کرام حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے زُہد وتقویٰ اورفضائل ومحاسن کا تذکرہ کررہے تھے ۔

حضرت احنف بن قیس تمیمی رضی اللہ عنہ نے اپنا قصہ یوں بیان فرمایا:ہمیں حضرت عمر بن خطاب نے ایک جماعت کے ساتھ عراق بھیجا،اللہ نے ہمیں عراق اورفارس میں بہت سی فتوحات عطا ء فرمائیں۔ ہمیں فارس اورخراسان کے سفید کپڑے ملے جو ہم نے پہننا شروع کردیے ۔کامیابی سے اپنی مہم سر کرنے کے بعد ہم لوگ مدینہ منورہ میں حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوئے ،آپ نے ہمیں دیکھا تو اپنا چہرہ پھیر لیا اورہم سے کوئی بات نہ کی۔جو صحابہ کرام ہمارے ساتھ تھے انہیں آپکے رویے سے سخت پریشانی ہوئی ۔

ہم لوگ آپ کے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس گئے اور آپکی بے رخی کی شکایت کی انھوں نے کہا امیر المومنین تم سے اس وجہ سے کبیدہ خاطر ہوئے ہیں کہ تم نے ایسا لباس پہننا ہوا ہے جو نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہننا اورنہ ہی حضرت ابوبکر صدیق نے ۔آپ ان دو حضرات کی روش سے ہٹنا قطعاً ناپسند فرماتے ہیں،یہ سنتے ہی ہم لوگ اپنے گھر وں کو واپس لوٹ گئے اور ایرانیوں ،خراسانیوں کی وضع قطع والے وہ کپڑے اتار دیے اور وہ سادہ اور صاف ستھرے لباس پہن لیے جو ہم پہلے استعمال کیا کرتے تھے۔اور دوبارہ امیر المومنین کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوگئے ۔اس دفعہ وہ ہمارے استقبال کیلئے کھڑے ہوگئے ایک ایک کو الگ الگ سلام بھی کیا اور ہر ایک سے فرداً فرداً معانقہ بھی کیا۔ اس گرم جو شی سے ملے کہ گویا انھوں نے ہمیں پہلی بار دیکھا ہے ۔ہم نے حاصل شدہ مالِ غنیمت آپکی خدمت میں پیش کیا جسے آپ نے ہمارے درمیان برابربرابر تقسیم کردیا ۔پھر وہاں سے موصول ہونے والے کجھور اورگھی کے بنے ہوئے سرخ اورزرد رنگ کے خستہ حلوے کے ٹوکرے آپکے سامنے پیش کیے گئے ۔آپ نے انہیں چکھا تو وہ بہت لذیذ اورخوشبودار محسوس ہوا۔آپ ہم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشادفرمایا :اے گروہِ مہاجرین وانصار اللہ کی قسم ! مجھے صاف دیکھائی دے رہا ہے کہ ایسی لذتوں کی وجہ سے تم میں سے بیٹا اپنے باپ کو اور بھائی اپنے بھائی کو ضرور قتل کرے گا۔پھر آپ نے اسے تقسیم کرنے کا حکم دیا اور اسے ان مہاجرین وانصار کی آل اولاد میں تقسیم کردیا گیا جنہوں نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جامِ شہادت نوش فرمایا تھا ۔(کنز العمال)