ہفتہ، 28 مارچ، 2026

ملازمین کے ساتھ حسن سلوک

 

ملازمین کے ساتھ حسن سلوک

انسان جب اپنے ہم مرتبہ لوگوں سے بات چیت کرتا ہے تو اخلاقی قدروں کو ملحوظ خاطر رکھتا ہے اور جب اپنے ماتحت لوگوں سے معاملہ کرتا ہے تو ان کو اپنے سے کم تر سمجھتا ہے اور تمام اخلاقی قدروں کو پامال کر دیتا ہے ۔ اور اس کی عزت و نفس کا بھی خیال نہیں رکھتا ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے اپنے ماتحت لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیا ۔اور اپنے سے بڑے اور چھوٹے سب کے ساتھ ایک جیسے معاملات رکھنے کا حکم فرمایا۔
حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں اپنے غلام سے کسی بات پر ناراض ہو گیا اور اسے درے سے مارنے لگا ۔ اتنے میں میرے پیچھے سے آواز آئی ۔ اے ابو مسعود جان لو ! مگر میں شدید غصے کی وجہ سے آواز پہچان نہ سکا جب آواز دینے والا میرے قریب آ گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ رسول کریم ﷺ ہیں اور آپ فرما رہے تھے ۔ اے ابو مسعود ! جان لو تمہیں اس غلام پر قابو حاصل ہے اس سے زیادہ قابو اللہ تعالیٰ کو تمہارے اوپر حاصل ہے ۔یہ سن کر میرے ہاتھ سے کوڑا گر گیا اور میں نے کہا کہ میں کبھی بھی اس غلام کو نہیں ماروں گا ۔ میں اس غلام کو اللہ کے لیے آزاد کر تا ہوں ۔ یہ سن کر حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں اگر تم ایسا نہ کرتے تو تمہیں آگ چھو لیتی ۔ ( جامع الاصول) 
حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضور ﷺ سے پوچھا ہم ملازم کو ایک دن میں کتنی بار معاف کر دیا کریں ۔ آپ ﷺ خاموش رہے اس نے دوسری مرتبہ پوچھا آپ ﷺ خامو ش رہے ۔ اس نے پھر یہ ہی سوال پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا اسے ہر روز ستر مرتبہ معاف کر دیا کرو ۔ ( ابی داؤ د ) ۔
حضور نبی کریم ﷺ نے غلاموں کے متعلق ارشاد فرمایا : وہ تمہارے بھائی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے ماتحت کر دیا ہے ۔ تو جس کے ماتحت اس کا بھائی ہو اسے چاہیے کہ جو خود کھاتا ہے اسے بھی وہ ہی کھلائے جو خود پہنتا ہے اس کو بھی پہنائے ۔ اور اس سے اس کی طاقت سے زیادہ کوئی کام نہ کروائے ۔ اگر اسے کوئی ایسا کام کہہ دے تو خود بھی اس کی مدد کرے ۔آخری ایام میں حضور ﷺ نے نماز کے ساتھ ماتحت لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین فرمائی ۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ جس وقت آپ ﷺ کا وصال ہوا تو آپ ﷺ آخری دم تک یہی فرما رہے تھے اے لوگو ! نماز کا خیال رکھنا اور اپنے غلاموں کا خیال رکھنا ( ابن ماجہ ) ۔

جمعہ، 27 مارچ، 2026

خواہشات نفس کی مذمت

 

خواہشات نفس کی مذمت

انسانی زندگی میں خواہشات نفس ایک فطری امر ہے لیکن جب یہی خواہشات حد سے بڑھ جائیں اور انسان کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے دور کر دیں تو یہ اس کی ہلاکت کا سبب بن جاتی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ”کیا تم نے اس کو نہیں دیکھا جس نے اپنی خواہش کو معبود بنا لیا ہے اور اسے اللہ نے علم پر گمراہ بنا دیا ہے“۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا قول ہے کہ اس سے مراد وہ کافر ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی جانب سے عطا کردہ کسی ہدایت اور دلیل کے بغیر خواہشات کو اپنا دین بنا لیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خواہشات نفسانی کا پیرو ہے اور وہ ہر ایسا کام کرنے پر تیا ر ہو جاتا ہے جس کی طرف اس کی خواہشات اشارہ کرتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق عمل نہیں کرتا۔ گویا کہ وہ اپنی خواہشات کی عبادت کرتا ہے ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے : ”اور خواہش کی پیروی نہ کر ، یہ تجھے اللہ کے راستے سے ہٹا دے گی“۔حضور ﷺ ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگا کرتے: اے اللہ میں تجھ سے پناہ مانگتا ہو ں اس خواہش سے جس کی اطاعت کی جاتی ہے اور اس بخل سے جس کا اتباع کیا جاتا ہے ۔
آپ ﷺ نے فرمایا : تین باتیں انسان کے لیے مہلک ہیں ۔ اطاعت کردہ خواہش، اتباع کردہ بخل اور انسان کا اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھنا اوریہ اس لیے ہے کہ ہر گنا ہ کا باعث نفسانی خواہشات ہیں اور یہی انسان کو جہنم کی طرف لے جاتی ہیں ۔حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے کہا کہ اے بیٹے! میں سب سے پہلے تجھے تیرے نفس سے ڈراتا ہو ں کیو نکہ ہر نفس کی خواہشات اور آرزو ئیں ہیں ۔ اگر تو ان کو پورا کر دے گا تو وہ اپنی خواہشات کو طویل کر دے گا اور تجھ سے تمام خواہشات کو پورا کرنے کی طلب کرے گا۔بلا شبہ شہوت دل میں اس طرح پوشیدہ ہوتی ہے جیسے پتھر میں آگ ۔ اگر تو پتھر پر پتھر مارے گا تو آگ نکلے گی ورنہ نہیں ۔ 
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارشاد ہے کہ اپنے نفسوں کو روکو کیو نکہ یہ ایسا ہر اول دستہ ہے جو تمہیں برائی کی آخری حد تک لے جاتا ہے ، حق کڑوا اور گراں ہے ، باطل سبک اور تباہ کن ہے ، توبہ کے علاج سے بہتر یہی ہے کہ انسان گناہوں ہی کو چھوڑ دے ۔ بہت سی نگاہوں نے شہوت کی کاشت کی اور ایک لمحہ کی لذت ان کو طویل غم کی میراث دے گئی ۔ خواہشات پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کا خوف اپنے دل میں پیدا کرے ، کثرت کے ساتھ ذکر کرے ، نماز کی پابندی کرے اور نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھے ۔

جمعرات، 26 مارچ، 2026

حضور نبی کریم ﷺ کا حسن ِ معاشرت

 

حضور نبی کریم ﷺ کا حسن ِ معاشرت

حضور نبی کریم ﷺ کے حسن معاشرت کی بھی کوئی نظیر نہیں۔ آپ ﷺ کا حسن معاشرت بھی تمام دنیا سے اعلی تھا ۔ 
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ سب لوگوں سے بڑھ کر وسیع القلب ، گفتگو میں سچے ، نرم طبیعت والے تھے ۔
 حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں دس سال تک حضور نبی کریمﷺ کی خدمت کرتا رہا ہوں ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ان دس سالوں میں مجھے کبھی بھی نہ جھڑکا اور نہ کبھی یہ فرمایا کہ تو نے فلاں کام کیوں کیا ہے اور فلاں کیوں نہیں ۔
 حضور رحمت عالم ﷺ کسی سے بھی نفرت نہیں کرتے تھے ۔ ہر قوم کے افراد کا اکرام کرتے اور ایسے ہی افراد کو ان کے اوپر حاکم مقرر کرتے ۔ لوگوں کو خوف خدا سے ڈراتے ، عام لوگوں کی صحبت میں نہ بیٹھا کرتے لیکن کسی کے ساتھ بد اخلاقی سے پیش نہیں آتے تھے ۔ اپنے اصحاب کے گھر تشریف لے جاتے اور محفل میں شامل ہونے والوں کو ان کی شان کے مطابق نوازتے ۔ لوگوں کے ساتھ ایسا رویہ رکھتے کہ ہر ایک کو لگتا کہ حضور نبی کریم ﷺ میری ہی طرف نظر کرم فرما رہے ہیں ۔ جب کسی کو اپنے ساتھ بٹھاتے یا پھر کوئی آپ ﷺ کے پاس مسئلہ لے کر آتا آپ ﷺ ا س وقت تک بیٹھے رہتے جب تک وہ شخص خود اجازت لے کر نہ چلا جاتا ۔ اگر کوئی شخص حاجت لے کر آتا تو کسی کو بھی خالی ہاتھ نہ بھیجا کرتے تھے ۔
حضرت ابن ابی ہالہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورنبی کریم ﷺ ہمیشہ پھول کی طرح کھلے رہتے ۔آپ ﷺکا لہجہ نرم اور خوش اخلاق تھا ۔ بد اخلاقی ، سنگدلی ، بازاروں میں بلند آواز نہیں کرنا ، گالی گلوچ ، دوسروں میں عیب تلاش کرنا عرب کے لوگوں میں عام تھا لیکن آپ ﷺ تاحیات ان تمام چیزوں سے پاک رہے ۔ جس چیز کی ضرورت نہ ہوتی اس کی طرف نہ دیکھتے ۔ کوئی بھی سائل آپ ﷺ کے پاس آتا تو آپ ﷺ اسے خالی واپس نہ لوٹاتے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ” تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب تم ان کے لیے نرم دل ہوئے “۔(سورۃ آل عمران ) ۔
 اگر کوئی آپ ﷺ کی دعوت کرتا تو قبول فرماتے اور اگر کوئی معمولی سابھی ہدیہ پیش کرتاتو قبول فرماتے اور اس کو اسکے بدلے ہدیہ سے نوازتے ۔
حضرت عبداللہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضور نبی کریم ﷺ سے بڑھ کر تبسم کا خو گر کسی کو نہیں دیکھا ۔ جب کسی کو کسی پریشانی میں مبتلا پاتے تو فوراً اس کی پریشانی دور کرنے کی کوشش کرتے ۔ آپ ﷺ ہر کسی پر نہایت درجہ مہربان تھے۔

بدھ، 25 مارچ، 2026

خیر کے راستے کو چھوڑ دینا۔

 

 خیر کے راستے کو چھوڑ دینا۔

انسان کے لیے بہت سارے مصائب اور تکالیف اس وقت جنم لیتی ہیں جب وہ خیر کے راستے کو چھوڑ دیتا ہے لیکن وہ چاہتا ہے کہ مجھے نتائج خیر کے ملیں ۔ جب وہ خیر کے راستے کو چھوڑ کر اچھے نتائج کی تمنا کرتا ہے اور اسے اچھے نتائج نہیں ملتے تو اس قت وہ بہت ساری پریشانیوں اور مسائل کا شکار ہو جاتا ہے ۔ اللہ نے اس پوری کائنات کو ایک خاص نظم وضبط کے تحت بنایا ہے اور اسی نظم و ضبط کے تحت چلا رہا ہے ۔ بعض اوقات انسان اپنی پوری کوشش کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر پاتا۔ اس کہ وجہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کے بنائے گئے ضابطوں کے برعکس چل رہا ہے ۔ 
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے : اے انسان تو میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا میں تیرا سینہ غنا سے بھر دوں گا۔ تیری غربت دور کر دوں گا اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تیرا ہاتھ مصروفیات سے بھر دوں گا مگر تیرے فقر کو ختم نہیں کروں گا ۔ ( ابن ماجہ )۔
حضور نبی کریم ﷺ کے اس فرمان مبارک سے یہ بات واضح ہو گئی ہے دل کو غنی کرنے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے ۔ اس کے برعکس جو بندہ دن رات اسی کوشش میں لگا رہتا ہے کہ وہ مال جمع کر لے وہ مال و دولت تو حاصل کر لے گا مگر اسے دل کا غنی ہونا نصیب نہیں ہو گا ۔ 
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کون ہے جو مجھ سے چند باتیں سیکھ لے اور پھر اس پر عمل کرے اور ان باتوں کو دوسروں کو بھی سکھائے ۔ میں نے عرض کی یارسو ل اللہ ﷺ میں حاضر ہوں ان باتوں کو سیکھنے کے لیے ۔ پھر آپﷺ نے حضرت ابو ہریرہ ؓ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا :
” حرام چیزوں سے بچو تم لوگوں میں سب سے بڑے عبادت گزار بن جاﺅ گے ۔ جو اللہ تعالیٰ نے تیری قسمت میں لکھ دیا ہے اس پر راضی ہو جا تو سب سے بڑ اغنی بن جائے گا ۔ اپنے ہمسائے کے ساتھ اچھے سے پیش آﺅ، مومن بن جاﺅ گے ۔ دوسروں کے لیے وہی چیز پسند کروجو اپنے لیے کرتے ہو تو مسلم ہو جاﺅ گے۔ اور زیاہ نہ ہنسا کرو کیونکہ کہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے “۔ (ترمذی )۔
حضور نبی کریم ﷺ کے اس فرمان سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ غنی مال و دولت جمع کرنے والا نہیں ہوتا بلکہ حقیقت میں دل کا غنا صرف اسے نصیب ہو گا جو اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہو گیا ۔ جب بندہ اس بات کو سمجھ لیتا ہے کہ میرا کام صرف کوشش کرنا ہے اور اس کے بدلے مجھے کیا ملے گا یہ اختیار میرے پاس نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے ۔

جمعہ، 20 مارچ، 2026

الوداع ماہ رمضان (2)

 

الوداع ماہ رمضان (2)

جب ماہ رمضان رخصت ہو رہا ہوتا ہے تو اہل ایمان کے دل رو رہے ہوتے ہیں وہ اپنے نفس کا محاسبہ کرتے ہیں اور ان کے دل میں ایک ہی سوال ہوتا ہے اس کی عبادات اور دعائیں قبول ہوئیں یا نہیں یہی احساس جواب دہی ایمان کی علامت ہے۔ 
ارشاد باری تعالیٰ ہے : اور وہ لوگ جو نیک اعمال کرتے ہیں اور ان کے دل اس خوف سے لرزتے ہیں کہ انہیں اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
واسطہ تجھ کو پیارے نبی کا
حشر میں ہم کو مت بھول جانا 
روز محشر ہمیں بخشوانا
الوداع الوداع ماہ رمضاں۔
ماہ رمضان ہمیں یہ پیغام دیتا ہے جیسے ہم اس ماہ مقدس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں ماہ رمضان کے بعد بھی اسی طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہیں۔اگر ماہ رمضان کے بعدبھی نماز ،تلاوت قرآن پاک ، صدقہ وخیرات اور نیکیوں کا سلسلہ جاری رہا تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے ماہ رمضان میں اپنے مقصد کو حاصل کر لیا ہے لیکن اس کے برعکس ہم ماہ رمضان کے بعد نیکیوں کا سلسلہ ترک کر دیں اور نماز ، تلاوت قرآن پاک کو چھوڑ دیں تو ہم اس ماہ مقدس کا صحیح فائدہ حاصل نہیں کر سکے۔ 
نبی کریم ؐنے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے اگرچہ تھوڑ ا ہی کیوں نہ ہو۔ ہمیں ماہ رمضان کے بعد بھی نیکیوں کا سلسہ جاری رکھنا چاہیے۔ جیسے ہم رمضان میں طبقے کے کمزور افراد کی مدد کرتے ہیں ایسے ہی یہ سلسلہ ماہ مقدس کے بعد بھی جاری رہنا چاہیے معاشرے کو پْر امن بنانے کے لیے باہمی تعاون اور ایثار ضروری ہے۔رمضان ہمیں تقوی ، صبر اور اللہ تعالیٰ کی محبت دیتا ہے اور بھوکے پیاسے رہنے سے ہمیں دوسروں کی بھوک پیاس کا احساس دلاتا ہے۔
ہمیں اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہو کر گڑ گڑا کر یہ دعا مانگنی چاہیے کہ وہ ہمارے روزے نمازیں قبول فرمائے اور آئندہ زندگی میں صحت اور ایمان کی سلامتی کے ساتھ دوبارہ رمضان المبارک نصیب فرمائے۔
چل دیا ہے تو جو رب کی جانب
اہل ایمان کے پْر نم ہیں قالب 
قلب عشرت بھی غم سے بھرا ہے
الوداع الوداع ماہ رمضاں۔

جمعرات، 19 مارچ، 2026

صدقہ فطر

 

صدقہ فطر

رمضان المبارک رحمتوں ، برکتوں اور مغفرت کا مہینہ ہے۔ اس با برکت مہینے میں مسلمان روزے رکھ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور تقویٰ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ نے حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی کا بھی حکم فرمایا ہے۔جس طرح نماز ادا نہ کرنا گناہ ہے اسی طرح استطاعت ہونے کے باوجود کسی بھوکے کو کھانا نہ کھلانا بھی گناہ ہے۔ روزے میں حقوق اللہ اور حقو ق العباد ساتھ ساتھ ہیں اگر بندہ روزے رکھ کر حقوق اللہ کی ادائیگی کرتا ہے تو اسے غمگساری کا مہینہ بھی قرار دیا گیا ہے۔حضور نبی کریم ﷺ سارا سال ہی سخاوت فرمایا کرتے تھے اور کوئی سائل خالی نہیں جاتا تھا تو رمضان المبارک کے مہینہ میں نبی کریم ﷺ کی سخاوت کا کیا عالم ہوگا۔اسلام میں مسلمانوں پر ماہ رمضان میں ہر صاحب نصاب آدمی اور جن کا وہ کفیل ہے سب کی طرف سے صدقہ فطرنماز عید الفطرسے پہلے ادا کرنا واجب ہے۔ تاکہ معاشرے کے غرباء و مساکین بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔
نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : صدقہ فطر ہر مسلمان غلام اور آزاد ، مرد اور عورت ، چھوٹے اور بڑے پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو مقرر فرمایا اور حکم فرمایا کہ نماز عید کے لیے نکلنے سے پہلے ہی اسے ادا کر دیا جائے۔ 
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے صدقہ فطر کو فرض قرار دیا تا کہ روزے کے لیے لغو اور بیہودہ اقوال و افعال سے پاکیزگی ہو جائے اور مسکینوں کو طعام حاصل ہو۔لہٰذا جس نے اسے نماز عید سے پہلے ادا کر دیا تو یہ صدقہ فطر ہو گا اگر نمازکے بعد ادا کیا تو یہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہے۔ (ابی دائود )
اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ فطر کے دو فائدے ہیں ایک یہ کہ اگر کوئی روزے کی حالت میں کوئی غلط بات بول دے یا کوئی کوتاہی ہو جائے تو صدقہ فطر کے صدقے اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دے گا۔دوسرا یہ معاشرے کے غریب اور کمزور طبقات کو بھی سہارا دے کر انہیں بھی اپنے ساتھ عید کی خوشیوں میں شامل کیا جائے۔ آج اس مہنگائی کے دور میں معاشرے میں معاشی نا ہمواری میں اضافہ ہو رہا ہے صدقہ فطر کی اہمیت اور بھی زیادہ ہو جاتی ہے اسی لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ خلوص دل سے خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے صدقہ فطر ادا کرے۔صدقہ فطر نا صرف ایک مالی عبادت ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے اور انسانی ہمدردی کو فروغ دینے کا ذریعہ ہے۔

بدھ، 18 مارچ، 2026

الوداع ماہ رمضان (1)

 

الوداع ماہ رمضان (1)

قلب عاشق ہے اب پارہ پارہ
الوداع الوداع ماہ رمضان 
کلفت ہجرو فرقت نے مارا
الوداع الوداع ماہ رمضان
رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ وہ مبارک مہینہ ہے جسے قرآن مجید نے ہدایت ، رحمت اور مغفرت کا مہینہ قرار دیا ہے۔یہ ماہ مقدس ایمان والوں کے لیے روحانی تربیت ، عبادت کی کثرت اور اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے کا بہترین موقع ہوتا ہے۔ جب یہ با برکت مہینہ رخصت ہونے لگتا ہے تو اہل ایمان کے دلوں میں ایک عجیب سی اداسی اور حسرت پیدا ہوتی ہے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی عزیز مہمان چند دن قیام کے بعد واپس جا رہا ہو۔اہل ایمان اس ماہ مقدس کے اختتام پر اللہ تعالیٰ کے حضور جھک جاتے ہیں اور اس مہینے کی برکتوں کو مزید سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لیے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں بتاتا ہے۔( سورۃ البقرہ ) 
ماہ رمضان نہ صرف روزوں کا مہینہ ہے بلکہ یہ مہینہ ہمیں درس دیتا ہے کہ ہم قرآن مجید سے اپنے تعلق کو مضبوط کریں۔یہی وجہ ہے کہ مسلمان اس مہینے میں تلاوت قرآن مجید ،تراویح کا اہتمام کرتے ہیں اور ذکر اذکار کو بھی مزید بڑھا دیتے ہیں تا کہ ان کے دل منور ہو سکیں اور جب یہ مہینہ رخصت ہونے لگتا ہے تو ایک سچا مسلمان اس بات پر غورو فکر کرتا ہے کہ اس نے ماہ مقدس میں اپنے نفس کی اصلاح کی یا نہیں۔ ماہ رمضان گناہ کی معافی اور پاکیزگی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔لیکن جب یہ مہینہ رخصت ہونے لگتا ہے تو مومن کے دل میں یہ خوف بھی پیدا ہوتا ہے کہ وہ اس ماہ مقدس کی قدر کر سکا یا نہیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتا ہے۔ 
کچھ نہ حسن عمل کر سکا ہوں
نذر چند اشک کر رہا ہوں 
بس یہی ہے میرا کل اثاثہ
الوداع الوداع ماہ رمضاں۔
ماہ رمضان کے آخری ایام خصوصی اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ ان ایام کی طاق راتوں میں اللہ تعالیٰ نے لیلۃ القدر رکھی ہے جو کہ ہزار مہینوں سے افضل رات ہے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب ماہ رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو حضور نبی کریم ﷺ کمر کس لیتے اور راتوں کا جاگتے اور گھر والوں کو بھی عبادت کے لیے جگاتے۔

ملازمین کے ساتھ حسن سلوک

  ملازمین کے ساتھ حسن سلوک انسان جب اپنے ہم مرتبہ لوگوں سے بات چیت کرتا ہے تو اخلاقی قدروں کو ملحوظ خاطر رکھتا ہے اور جب اپنے ماتحت لوگوں سے...