ہفتہ، 14 مارچ، 2026

تلاوت قرآن پاک کے آداب(۱)

 

تلاوت قرآن پاک کے آداب(۱)

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی وہ مقدس کتاب ہے جو انسانیت کی ہدایت ، اصلاح کامیابی کے لیے نازل کی گیی ۔ اس کی تلاوت کرنا بہت بڑی سعادت کی بات ہے جس طرح ہر عبادت کے کچھ آداب ہوتے ہیں ایسے ہی تلاوت قرآن مجید کے بھی آداب ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر زیادہ اجر و ثواب کمایا جا سکتا ہے۔ 
اللہ تعالیٰ سورۃ الحجر میں ارشاد فرماتا ہے ” بے شک ہم نے ہی اس ذکر کو نازل کیا اور بیشک ہم ہی اس کے محافظ ہیں“۔سورۃ المزمل میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :” اور قرآن مجید کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔ 
حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایاجب بھی کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کے مبارک گھر میں جمع ہوتے ہیں تلاوت قرآن مجیدکرتے ہیں اور ایک دوسرے کو پڑھاتے ہیں۔ تو ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سکینت نازل ہوتی ہے ، اللہ تعالیٰ کی رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے ، اللہ کے فرشتے ان کو ڈھانپ لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کا تذکرہ اپنے پاس والوں میں کرتا ہے۔ (مسلم شریف)۔
رسول کریم ﷺنے ارشاد فرمایاقرآن پاک میں مہارت رکھنے والا شخص قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نیکوکار ، معزز اور پرہیز گار فرشتوں کے ساتھ ہو گا۔ اور ایسا شخص جو تلاوت قرآن مجید کرتے ہوئے اٹھتا ہے اور تلاوت کرنے میں اس کو دشواری آتی ہے تو اس کے لیے دو اجر ہیں۔ ( بخاری ، مسلم )۔
قرآن مجید کی تلاوت کرنے کا بہت زیادہ اجر و ثواب ہے۔ تلاوت قرآن مجید کرتے وقت اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ذہن میں رکھنا چاہیے۔ امام نووی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں ایک قاری قرآن پر سب سے پہلے جو چیز لازم ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کی تلاوت میں خلوص نیت ضروری ہے ، اور یہ کہ تلاوت قرآن مجید صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضاکے لیے ہو اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی خوشنودی اور تقرب کا حصول مد نظر نہیں ہو نا چاہیے۔ ( الاذکار)۔
 کوئی شخص تلاوت قرآن مجید صرف اس لیے کر ے کہ لوگ اس کی میٹھی زبان سے محظوظ ہوں ، اس کی طرف دیکھیں،اس کی مجلس میں آئیں اور اس کی تعریف کریں تو ایسا شخص تلاوت قرآن مجید کے اجر سے محروم رہے گا۔قرآن مجید کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا بھی اس کے آداب میں شامل ہے۔ قرآن پاک کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جس چیز کو قرآن نے حلال قرار دیا ہے اس کو حلا ل جانیں اور جس کو حرام قرار دیا ہے اس کو حرام جانیں۔اور جن کاموں سے روکا ہے اس سے رک جائیں اور جن اعمال کو بجا لانے کا کہا ہے ان اعمال کو مکمل احترام کے ساتھادا کیا جائے۔قرآن مجید کو حفظ کرنے کی بہت زیادہ فضیلت ہے۔ لیکن قابل توجہ اور اہم بات یہ ہے کہ صرف زبانی یاد کر لینا کافی نہیں بلکہ اسے زندگی بھر یاد رکھنا اس سے بھی بڑی ذمہ داری ہے۔

جمعہ، 13 مارچ، 2026

اعجاز القرآن (۱)

 

 اعجاز القرآن (۱)

قرآن مجید نہ صرف ہدایت کا سر چشمہ ہے بلکہ فصاحت و بلاغت ، علوم و معارف اور پیش گوئیوں کے اعتبار سے بھی ایک معجزہ ہے۔ قرآن مجید کے اعجاز کو مسلمان تو تسلیم کرتے ہی ہیں۔ اس کے ساتھ عرب کے فصیح و بلیغ ادباء اور دیگر مذاہب کے دانشور بھی اس کلام کی برتری کو ماننے پر مجبور ہیں۔اعجاز کا لغوی معنی ’’عاجز کر دینا ‘‘ ہے یعنی ایسی چیز پیش کرنا جس کی مثل کوئی دوسرا نہ لا سکے۔ قرآن مجید کا اعجاز یہ ہے کہ یہ ایک ایسا کلام ہے جو انسانی قدرت اور علم سے بالا تر ہے۔ نزول قرآن کے دور میں عربوں نے ہر طرف اپنی فصاحت و بلاغت کی دھاک بٹھا رکھی تھی اور عربی زبان کے تمام اصول و قواعد سے اس طرح واقف تھے کہ دنیا ان کے کلام میں کوئی بات خلاف قواعد تلاش نہیں کر سکتی تھی۔ عربوں نے اپنے کلام کے کچھ شہ پارے کعبہ کی دیوار پر لگا دیے اور دیگر اقوم کو چیلنج دیا کہ کسی میں ہمت ہے تو وہ ان اشعار کے جیسے کوئی اشعار بنا کر پیش کرے۔ لیکن کوئی بھی عربوں کی فصاحت و بلاغت کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ 
قرآن مجید برھان رشید وہ پہلی کتاب ہے جس نے نہ صرف عربوں کے اس غرور کو توڑا بلکہ ان کے فصاحت و بلاغت کے شاہکار اشعار اوقصائد کو بھی خاک میں ملا دیا۔ اور ان کو چیلنج دیا کہ اس جیسی چند سورتیں بنا کر لے آئو۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
’’کیا یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اسے خود بنا لیا (اے محبوب ﷺ) تم فرمائو تم ایسی بنائی ہوئی دس سورتیں لے آئو اور اللہ کے سوا جو مل سکیں سب کو بلا لو اگر سچے ہو ‘‘۔ ( سورۃ ھود )۔
یعنی کفار مکہ نے کہا کہ قرآن کریم نبی کریمﷺ نے خود سے بنا لیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں چیلنج دیا کہ اگر یہ انسان کا کلام ہے اور تم سچے ہو تو اس جیسی دس سورتیں ہی لے آئو۔ اور اللہ تعالیٰ کے سوا تم جس کی مدد لینا چاہتے ہو لے لو۔ 
جب کفار مکہ اس چیلنج کو پورا نہ کر سکے اور نہ ہی کبھی کر سکیں گے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں مزید چیلنج دیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
’’اور اگر تمہیں کچھ شک ہو اس میں جو ہم نے اسے اپنے خاص بندے پر اتارا تو اس جیسی ایک سورت تو لے آئو اور اللہ کے سوا اپنے سب حمائتیوں کو بلا لو اگر تم سچے ہو ‘‘۔ (سورۃ البقرۃ)۔
اس کے بعد ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا ’’ پھر اگر نہ لا سکو اور ہم فرمائے دیتے ہیں کہ ہر گز نہ لا سکو گے تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں، تیار رکھی ہے کافروں کے لیے ‘‘۔ ( سورۃ البقرۃ )۔
لیکن کفار مکہ اس چیلنج کو بھی پورا نہ کر سکے اور اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ تم ہر گز نہ سکو گے۔ پھر جب کعبہ کی دیوار پر سوۃ الکوثر آویزاں کی گئی تو عرب کے بڑے بڑے فصاحت و بلاغت کے ماہر یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ’’ لیس ھذا من کلام البشر ‘‘ ’’ یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہو سکتا‘‘۔

جمعرات، 12 مارچ، 2026

حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (2)

 

حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (2)


حضرت حبشی بن جنادہؓ سے مروی ہے کہ حضورنبی کریم ﷺ نے فرمایا علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں اور میری طرف سے (عہد و پیمان میں) میرے اور علی کے سوا کوئی دوسرا ذمہ داری ادا نہیں کر سکتا۔ ( ترمذی ، ابن ماجہ )۔ 
اکثر غزوات میں حضور نبی کریمﷺ نے پرچم اسلام آپ ہی کو عطا کیا۔ غزوہ خیبر آپﷺنے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں پرچم دے کر فتح کی بشارت سنائی۔
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓسے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے جب انصار اور مہاجرین میں بھائی چارہ قائم کیا تو حضرت علی نبی کریمﷺ کے پاس آئے اور عرض کی یار سول اللہ ﷺ! آپ ﷺ نے صحابہ کرام میں بھائی چارہ قائم فرما دیا ہے لیکن مجھے کسی کا بھائی نہیں بنایا۔ آپﷺ نے فرمایا تم دنیا و آخرت میں میرے بھائی ہو۔ ( ترمذی )۔ 
طریقت میں حضرت علی ؓ بہت اونچی شان اور بلند ترین مقام کے مالک تھے۔حصول حقائق کے مشکلات کے حل پر آپ کوجو قدرت حاصل تھی اس کے بارے میں حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں’’اصول طریقت اورمصائب برداشت کر نے میں ہمارے پیر علی المرتضیؓ ہیں‘‘۔ایک شخص نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی سب سے پاکیزہ  چیز کونسی ہے ؟ آپ نے فرمایاوہ دل جو اللہ تعالیٰ کے تعلق کی وجہ سے ہر چیز سے بے نیاز ہو گیا ہے یہاں تک کہ دنیا کا نہ ہونا اسے فقیر نہ بناسکے اور اس کا ہونا اسے خوشی نہ دلا سکے۔
آپ ؓکے اقوال اور فیصلے پْر از حکمت اور قوت استدلال کے اعلیٰ ترین درجے میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چند اقوال یہ ہیں کہ :۱: توفیق الٰہی بہترین راہنما ہے۔ ۲: سب سے بڑی دولت عقل مندی اور سب سے بڑا افلاس حماقت ہے۔ ۳: گناہوں کی دنیا میں سزا یہ ہے کہ عبادت میں سستی اور معیشت میں تنگی پیدا ہو جاتی ہے۔ ۴: حلال کی خواہش اس شخص میں پیدا ہوتی ہے جو حرام کو چھوڑ دینے کی پوری پوری کوشش کرتا ہے۔ کوفہ میں ایک بد بخت خارجی عبدالرحمن ابن ملجم نے حالت نماز میں آپ پر حملہ کیا جس سے آپ شدید زخمی ہو گئے اور اکیس رمضان المبارک جمعہ کی شب اسلام کا یہ بدر منیر ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔
حضرت علیؓ قرآن کی عملی تفسیر تھے۔آپ رضی اللہ عنہ سوچ میں حکمت ، کردار میں پاکیزگی ، فیصلوں میں عدل اور عبادات میں اخلاص تھا۔آپؓکی زندگی ایک مکمل درس گاہ ہے ایک ایسی درس گاہ جو ہر دور کے مسلمان کو حق ، عدل اور تقوی کا راستہ دکھاتی ہے۔

بدھ، 11 مارچ، 2026

حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (1)

 

حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (1)

امیرالمومنین خلیفۃ المسلمین داماد رسول شیر خدا خلیفہ چہارم حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسلامی تاریخ کی ایک عظیم المرتب شخصیت ہیں۔آپ رضی اللہ عنہ کی زندگی شجاعت ، علم ، تقوی اور عدل و انصاف کی اعلی مثال ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے آپؓکو باب العلم کا لقب عطا فرمایا۔نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔
روایات کے مطابق حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ کی پرورش کی ذمہ داری اٹھائی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضور نبی کریم ﷺکے دامن محبت و شفقت میں پرورش پانے کا اعزازحاصل کیا۔
آپؓنے بچوں میں سب سے پہلےاسلام قبول کرنے کا شرف حاصل کیا۔ جب اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اعلانیہ تبلیغ کا آغاز ہوا تو مشکلات و مصائب کے باوجود اور انتہائی تکلیف دہ اور آزمائشی مرحلے میں بھی حضورﷺ کا ساتھ دیا۔ حضور نبی کریم ﷺ کو آپ ؓسے بے حد محبت تھی۔
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک لشکر بھیجا اس میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل تھے۔ آپ ؓ فرماتی ہیں میں نے نبی کریمﷺکو دیکھا کہ آپﷺ ہاتھ اٹھا کر دعا فرما رہے تھے کہ یا اللہ مجھے اس وقت تک موت نہ دینا جب تک میں علی کو واپس خیر و عافیت کے ساتھ نہ دیکھ لوں۔ ( ترمذی )۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضور نبی کریم ﷺ کے پاس ایک پرندے کا گوشت تھا آپﷺ نے دعا فرمائی یا اللہ اپنی مخلوق میں سے محبوب ترین شخص کو میرے پاس بھیج تا کہ وہ میرے ساتھ اس پرندے کا گوشت کھائے۔ چناچہ حضرت علی ؓآئے اور انہوں نے نبی کریمﷺ کے ساتھ گوشت کھایا۔
حضرت علیؓ کو بستر رسول پر آرام فرمانے کا بھی شرف حاصل ہے۔ جب حضور نبی کریم ﷺ کو مکہ چھوڑ جانے کی اجازت ملی تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’ اے علیؓ مجھے مکہ چھوڑ کر جانے کا حکم ہوا ہے آج میرے بستر پر میری سبز چادر اوڑھ کر سونا ہو گا اور ذرا اندیشہ نہ کرنا تمہیں کوئی بھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا‘‘۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تین روز تک مکہ مکرمہ رہے اور روز کھلی وادی میں جا کر اعلان فرماتے ’’ لوگوں سن لو جس کسی کی امانت رسول پاکﷺ کے پاس رکھی تھی وہ آئے اور اپنی امانت لے جائے ‘‘۔ چوتھے روز آپ اکیلے مدینہ منورہ روانہ ہوئے اور قبا پہنچ کر حضور ﷺ سے ملاقات کی تو آپ ﷺنے آپ کو گلے لگایا اور فرمایا’’ اے علی دنیااور آخرت میں تم میرے بھائی ہو‘‘۔

منگل، 10 مارچ، 2026

یو م الفرقان(2)

 

یو م الفرقان(2)

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے غزوہ بدر کے دن فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر کوئی مولود بچہ چالیس سال تک اہل دین کے ہاں دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرتا رہے اور اس دوران اللہ تعا لیٰ کی اطاعت کی اور تمام گناہوں سے بچتا رہا یہاں تک کہ وہ عمر کے انتہائی آخری حصہ میں پہنچ گیا یا عمر کے اس حصے میں پہنچ گیا جس میں وہ سب کچھ جاننے کے بعد بھی کچھ نہیں جانتا تھا پھر بھی تم میں سے کوئی اصحاب بدر کی اس فضیلت والی رات کو نہیں پا سکتا۔ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا بیشک جنہوں نے غزوہ بدر میں شرکت کی انہیں ان فرشتوں پر بھی فضیلت حاصل ہے جنہوں نے اس میں شرکت نہیں کی۔ ( طبرانی )
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے اصحاب بدر کے لیے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف توجہ فرمائی اور فرمایا جو عمل تم کرنا چاہتے ہو کرو بیشک تمہارے لیے جنت لازم ہو گئی ہے یا پھر اس طرح فرمایا میں نے تمہیں معاف فرما دیا ہے۔( متفق علیہ)
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت حاطب کا ایک غلام نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور حضرت حاطب کی شکایت کرتے ہوئے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ حاطب دوزخ میں داخل ہو جائے گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم جھوٹ بولتے ہو وہ دوزخ میں داخل نہیں ہو گا کیونکہ وہ بدر اور حدیبیہ میں شریک تھا۔ ( مسلم ، ترمذی )۔
اس غزوہ میں جہاں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عظیم فتح نصیب فرمائی وہاں ہمیں اس سے کئی اسباق حاصل ہوتے ہیں۔ سب سے پہلا یہ کہ مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی لیکن ان کا اللہ تعالیٰ پر یقین مضبوط تھا اس لیے کامیابی کا انحصار تعداد پر نہیں بلکہ توکل علی اللہ اور ، اللہ تعالیٰ کی مدد
 اور سچے ایمان پر منحصر ہے۔ مسلمانوں نے ذاتی مفاد کو چھوڑ کر دین کی سر بلندی کے لیے اپنی جانیں قربان کیں اس سے ہمیں دین کے لیے اخلاص اور قربانی دینے کا سبق حاصل ہوتا ہے۔ 
غزوہ بدر کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ جب کوئی قوم ایمان ، اتحاد اور قربانی کے جذبے سے میدان میں آتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی مدد بھی اس میں شامل حال رہتی ہے اور اللہ تعالیٰ انہیں تعداد میں کم ہونے کے باوجود بھی فتح عطا فرماتا ہے۔

پیر، 9 مارچ، 2026

یو م الفرقان(1)

 

یو م الفرقان(1)

اسلامی تاریخ میں بعض دن ایسے ہیں جو محض واقعات نہیں بلکہ ایمان ، قربانی اور نصرت الٰہی کے زندہ معجزے ہیں۔ ہجرت کے دوسرے سال سترہ رمضان المبارک کو پیش آنے والی جنگ بدر وہ معرکہ حق تھاجس نے بے سرو سامان مسلمانوں کو دنیا کی نگاہ میں با وقار قوت بنا دیا اور واضح کر دیا کہ کامیابی کا دارومدار تعداد ، اسلحہ یا ظاہری طاقت پر نہیں بلکہ ایمان ، اخلاص اور اللہ تعالیٰ پر کامل یقین پر ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے : اور بیشک مدد کی تھی تمہاری اللہ تعالیٰ نے بدر میں حالانکہ تم با لکل کمزور تھے۔ پس اللہ سے ڈرو تاکہ تم شکر گزار بن جائو۔(سورۃ آل عمران )۔
اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر کے دن کو یوم الفرقان یعنی حق اور باطل کے درمیان فرق کا دن قرار دیا۔ سورۃ الانفال میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے : اور جسے ہم نے اتارااپنے بندہ خاص پر فیصلہ کے دن۔ جس روز آمنے سامنے ہوئے تھے دونوں لشکر۔ اس معرکہ میں مسلمانوں کی تعداد صرف تین سو تیرہ تھی اور 6 زریں ،8 تلواریں ، اونٹ اور2 گھوڑے تھے۔ اسلام کا پرچم حضرت مصعب بن عمیررضی اللہ عنہ، ایک جھنڈا حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ایک جھنڈاحضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو عطا ہوا۔جبکہ کفار مکہ کے پاس ایک ہزار سپاہی ،سو گھوڑے اور چھ سو زریں تھیں۔سترہ رمضان المبارک کو مسلمانوں اورکفار مکہ کے درمیان جنگ کا آغاز ہوا۔ جس میں قریش کی طرف سے عتبہ ، شیبہ اور ولید بن عتبہ میدان میں اترے ان کے مقابلے کے لیے مسلمانوں کی طرف سے حضرت حمزہ ، حضرت علی اور حضرت عبیدہ رضوان اللہ علیہم اجمعین میدان میں اترے اور انہوں نے تینوں کافروں کو واصل جہنم کیا۔ اس کے بعد جنگ کا باقاعدہ آغاز ہوا اوراللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح نصیب فرمائی۔ اس فتح کے بعد مسلمانوں کو تقویت ملی اور ان کے حوصلے بڑھ گئے۔ اور قریش مکہ کا غرور خاک میں مل گیا۔ غزوہ بدر میں یہ بات بھی ثابت ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ کی مدد ہمیشہ حق کے ساتھ ہوتی ہے۔ اس جنگ میں ابو جہل بھی واصل جہنم ہوا۔ رسول کریم ﷺ نے حکم دیا کہ کوئی جاکر ابو جہل کی خبر لائے اس کا کیا انجام ہوا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودگئے تو انہوں نے دیکھا کہ ابو جہل دم توڑ رہا ہے۔ آپ نے اس کا سر کاٹ کر آپ ﷺ کے قدموں میں رکھ دیا۔ حضور ﷺ نے تین مرتبہ فر مایا اے اللہ تیرا شکر ہے۔ اس کے بعد حضور نبی کریم ﷺ سر بسجود ہوئے اور پھر فرمایا کہ ہر امت میں ایک فرعون ہوتا ہے اس امت کا فرعو ن ابو جہل تھا۔

ہفتہ، 7 مارچ، 2026

رحمت، مغفرت اور نجات کا مہینہ

 

رحمت، مغفرت اور نجات کا مہینہ

اللہ تعالی نے امت مسلمہ پر خاص فضل و کرم کیا ہے اور بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جن میں اللہ تعالی کی ایک بہت بڑی نعمت ماہ رمضان کا عطا کرنا بھی ہے ۔ یہ وہ با برکت مہینہ ہے جس میں اللہ تعالی اپنی رحمت ، مغفرت اور جہنم سے نجات کے دروازے کھول دیتا ہے ۔ ہر مسلمان کے لیے اس ماہ مقدس میں سنہری موقع ہے کہ وہ اللہ تعالی کی رحمت ، مغفرت طلب کرے ۔ 
ماہ رمضان کا پہلا عشرہ رحمت ہے ۔حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ماہ رمضان کا پہلا عشرہ رحمت دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے آزادی  کا ہے۔ 
اللہ تعالی کی رحمت بے شمار ہے جس کی کوئی حد نہیں ۔ اللہ تعالی ماہ رمضان میں اپنی خاص نعمتوں کے دروازے کھول دیتا ہے اور نیکی کرنےکا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے ۔اللہ تعالی کی طرف سے در گزر کرنے اور بخشش کی بارش ہوتی ہے ۔ جو مسلمان اس ماہ مقدس میں روزہ رکھ کر عبادت ، توبہ ، استغفار اور نیک اعمال کرنے میں مصروف رہتے ہیں اللہ تعالی کی خاص رحمت کے مستحق ٹھہرتے ہیں ۔
رمضان المبارک کو مغفرت کا مہینہ بھی قرار دیا گیا ہے ۔ ماہ رمضان کا دوسرا عشرہ مغفرت ہے ۔حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو شخص ایمان اور نیک نیتی کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔(بخاری و مسلم )۔
اس ماہ مقدس کی بابرکت ساعتوں سے مستفید ہوتے ہوئے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالی سے اپنے گنا ہوں کی معافی طلب کرے اور
اس بات کا عہد کرے آئندہ وہ گناہوں کے قریب نہیں جائے گا۔ حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے ماہ رمضان کو پایا اور اپنی بخشش نہ کروا سکا اس پر اللہ تعالی کی بھی لعنت اور نبی کریم ﷺ کی بھی لعنت ہے جس پر جبرئیل امین نے امین کہا تھا۔
ماہ رمضان کے آخری عشرہ کو جہنم سے آزادی کا عشرہ قرار دیا گیا ہے اللہ تعالی اپنی رحمت ، فضل اور کریم سے بے شمار لوگوں کو اس ماہ مقدس میں جہنم سے آزادی عطا فرماتا ہے ۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالی ماہ مقدس کی ہر رات میں کئی لوگوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے ۔(ترمذی)۔
ہزار مہینوں سے افضل رات لیلۃ القدر بھی ماہ مقدس کے آخری عشرہ میں ہے ۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ماہ رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں لیلۃ القدر کو تلاش کرو ۔ یہ راتیں اللہ تعالی کے خاص فضل و کریم کو حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں ۔
ہر مسلمان کو چاہیے کہ اس ماہ مقدس کا جتنا ہو سکے ادب و احترام کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ عبادت کرے، توبہ و استغفار کرے اور نیک اعمال کر کے اپنی بخشش کا سامان جمع کرے ۔اللہ تعالی ہم سب کو اس ماہ مقدس کی برکات سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔

تلاوت قرآن پاک کے آداب(۱)

  تلاوت قرآن پاک کے آداب(۱) قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی وہ مقدس کتاب ہے جو انسانیت کی ہدایت ، اصلاح کامیابی کے لیے نازل کی گی ی  ۔ اس کی تلا...