جمعہ، 10 جولائی، 2026

غفلت کا علاج (۱)

 

غفلت کا علاج (۱)

انسان کی روحانی زندگی کا سب سے بڑا دشمن غفلت ہے ۔ انسان کی زندگی میں سب سے بڑی محرومی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کی یاد سے غافل ہو جائے ۔جب دل ذکر الہی سے خالی ہو جائے ، آنکھیں عبرت کے مناظر دیکھ کر بھی نہ جاگیں ، کان نصیحت سن کر بھی نہ سنبھلیں اور زندگی  کا مقصد صرف دنیا کی آسائشیں بن جائیں تو یہی کیفیت غفلت کہلاتی ہے ۔ غفلت ایک خاموش بیماری ہے جو انسان کے ایمان ، کردار اور روحانی زندگی کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں بار بار انسان کو بیدار کیا ، کائنات کی نشانیوں میں غوروفکر کی دعوت دی اور آخرت کو یاد رکھنے کی تلقین فرمائی ۔ غفلت سے بچنے کے کئی اسباب ہیں۔ 
پہلا یہ کہ انسان غافلین اور غفلت والی جگہوں سے دور رہے ۔ارشاد باری تعالی ہے : ” تم اس سے منہ پھیر لو جو ہماری یاد سے پھرا اور اس نے نہ چاہی مگر دنیا کی زندگی “۔ ( سورۃ النجم )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے غفلت والی جگہوں سے دور رہنے اور اللہ تعالی کے گھر کو آباد کرنے کی تلقین فرمائی۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالی کی سب سے پسندیدہ جگہیں مساجد ہیں اور سب سے ناپسندیدہ مقامات بازار  ہیں ۔ ( مسلم )۔
مساجد کی تعظیم و توقیر کرنی چاہیے کیونکہ دنیا میں سب سے زیادہ عزت اور شرف والے مقامات ہیں۔  مساجد میں اللہ تعالی کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جب کوئی غافل شخص مسجد میں داخل ہوتا ہے تب ہی ذکر کی توفیق ملتی ہے ۔ جبکہ بازاروں میں لوگ دنیا کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے دلوں میں غفلت پیدا ہوتی ہے ۔ 
انسان کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ آخر اس نے ایک دن دنیا سے چلے جانا ہے ۔ جیسا کہ سورۃ عمران میں اللہ تعالی فرماتا ہے ”ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے “۔ اس لیے انسان کو اپنی آخرت کی تیاری کرنی چاہیے اور دنیا کی رنگینیوں میں کھو کر اپنی آخرت کو خراب نہیں کرنا چاہیے ۔ 
تلاوت قرآن مجید کرنے سے دل کی سیاہی اترتی ہے اور اس کی آیات میں غورو فکر کرنے سے انسان غفلت سے بچ جاتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ”اے لوگو تمہارے پاس تہمارے رب کی طرف سے نصیحت آئی اور دلوں کی صحت اور ہدایت اور رحمت ایمان والوں کے لیے ۔ ( سورۃ یونس )۔ ہمیشہ اللہ تعالی کا ذکر کرتے رہنا چاہیے ذاکر کا دل کبھی بھی سخت نہیں ہوتا ۔ ارشاد باری تعالی ہے : اور اپنے رب کو دل میں یاد کرو زاری اور  ڈر سے اور بے آواز نکلے زبان سے صبح و شام اور غافلوں میں نہ ہونا“۔ ( سور ة الاعراف )

جمعرات، 9 جولائی، 2026

غفلت :انسان کے زوال کی پہلی سیڑھی (۳)

 

غفلت :انسان کے زوال کی پہلی سیڑھی (۳)

جو بندہ قرآن مجید کی تلاوت نہیں کرتا اور اس کی آیات پر غورو فکر نہیں کرتا وہ غافل ہو جاتا ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالی سورۃ الاعراف میں ارشاد فرماتا ہے : 
اور میں اپنی آیتوں سے انہیں پھیر دوں گا جو زمین میں نا حق اپنی برائی چاہتے ہیں اور اگر سب نشانیاں دیکھیں ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر ہدایت کی راہ دیکھیں اس میں چلنا پسند نہ کریں اور گمراہی کا راستہ نظر آئے تو اس پر چل نکلیں ۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری  آیتیں جھٹلائیں اور ان سے بے خبر بنے ۔  جو بندہ غفلت میں پڑ جا تا ہے اس کی بصارت اور سماعت پر مہر لگ جاتی ہے نہ ہی وہ حق کو دیکھ سکتا ہے اور نہ ہی سن سکتا ہے ۔اور اس  کی زبان پر بھی مہر لگ جاتی ہے جس سے وہ حق بات نہیں بول سکتا ۔ ارشاد باری تعالی ہے :  بیشک ہم نے جہنم کے لیے پیدا کیے بہت جن اور آدمی وہ دل رکھتے ہیں جن میں سمجھ نہیں اور وہ آنکھیں جن سے دیکھتے نہیں اور وہ کان جن سے سنتے نہیں وہ چوپایو ں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر گمراہ وہی غفلت میں پڑے ہیں ۔ ( سورۃ الاعراف )۔
غافل بندے کا دل سخت ہو جاتا ہے وہ اللہ تعالی کی آیات کو نہ ہی سنتا ہے اور ان پر غورو فکر کرتا ہے ، دنیا اور اس کی شہوتوں میں مصروف  رہتا ہے ، اللہ تعالی کو اور یوم آخرت کو بھلا دیتا ہے اور اللہ تعالی کی آیات سے نفع حاصل نہیں کرسکتا ۔ارشاد باری تعالی ہے : جن کے دل اللہ کی یاد کی طرف سے سخت ہوگئے ہیں وہ کھلی گمراہی میں ہیں۔ ( سورۃ الزمر )۔
سورۃ یونس میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : بیشک وہ جو ہمارے ملنے کی امید نہیں رکھتے اور دنیاوی زندگی کو پسند کیے بیٹھے ہیں اور اس پر  مطمئن ہو گئے اور وہ جو ہماری آیتوں سے غفلت کرتے ہیں ان لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے بدلہ ان کی کمائی کا ۔  کامیاب وہی انسان ہے جو بیدار دل ، زندہ ضمیر اور اللہ تعالی کی یاد سے وابستہ ہو ۔ غفلت وقتی لذت تو دے سکتی ہے لیکن دائمی کامیابی  نہیں ۔ جو شخص اپنے وقت ، اپنی صلاحیتوں اور اپنی زندگی کو اللہ تعالی کی رضا کے مطابق گزارنے کی کوشش کرتا ہے وہ دنیا میں بھی سکون  پاتا ہے اور آخرت میں بھی ۔ غفلت نہ صرف اخلاقی کمزوری ہے بلکہ انسان کی دنیا و آخرت کی کامیابی میں ایک بڑی روکاوٹ بھی ہے ۔ 
آج جب مادیت ، مصروفیات اور بے مقصد تفریحات نے انسان کو ہر طرف سے گھیر رکھا ہے غفلت کے اسباب اور اس کے علاج کو سمجھنا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے ۔

بدھ، 8 جولائی، 2026

غفلت :انسان کے زوال کی پہلی سیڑھی(۲)

 

غفلت :انسان کے زوال کی پہلی سیڑھی(۲)

نفس کا محاسبہ کرنا چھوڑ دیا جائے تو بھی بندہ غفلت میں پڑ جاتا ہے ۔ اللہ تعالی سورۃ الحشر میں ارشاد فرماتا ہے :اے ایمان والو اللہ سے  ڈرو اور ہر جان دیکھے کہ کل کے لیے کیا آگے بھیجا اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے ۔ 
شداد بن اوس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : دانش مند وہ ہے جو اپنے نفس کو پہچانے اور موت کے بعد کے لیے عمل کرے ۔اور عاجز وہ ہے جو اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرے اور اللہ تعالی سے جھوٹی امیدیں  باندھے ۔سیدنا فاروق اعظم ؓ نے فرمایا اپنے نفس کا محاسبہ کرو اس سے پہلے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں حاضری کے لیے تیار رہو ۔اس کا حساب  قیامت کے دن آسان ہو گا جس نے دنیا میں اپنا محاسبہ کر لیا ہو گا ۔ ( ترمذی )۔
غفلت کی ایک بڑی وجہ دنیا کی ظاہری رنگینیوں میں کھو کر حرص و لالچ میں پڑ جانا بھی ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : بیشک وہ لوگ جو ہماری  ملاقات کی امید نہیں رکھتے اور دنیاو ی زندگی پر راضی ہیں اور اس پر مطمئن ہو گئے اور وہ جو ہماری آیتوں سے غافل ہیں ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔بدلہ ان کی کمائی کا ۔ ( سورۃ یونس )۔
اور جو لوگ دنیا کے لالچ میں نہیں پڑتے ان کے لیے اللہ تعالی کے ہاں اجر عظیم ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ان گھروں میں جنہیں بلند کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور ان میں اس کا نام لیا جاتا ہے اللہ کی تسبیح کرتے ہیں ان میں صبح و شام ۔ وہ مرد جنہیں غافل نہیں کرتا کوئی سودا۔ نہ خرید و فروخت۔ وہ اللہ کی یاد اور نماز برپا رکھنے اور زکوۃ دینے سے ڈرتے ہیں اس دن سے جس میں الٹ جائیں گے دل اور آنکھیں۔  ( سورۃ النور )۔
خواہشات نفس کی پیروی : غفلت کے اسباب میں سے ایک بڑی وجہ انسان کا اپنی خواہشات کے پیچھے دوڑنا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :’’پس وہ جس نے سر کشی اختیار کی اور دنیاوی زندگی کو ترجیح دی تو جہنم ہی اس کا ٹھکانہ ہے ۔ ( سورۃ النزعٰت )۔
اسی طرح سورۃ ص میں اللہ تعالی فرماتا ہے :اور خواہشات نفس کی پیروی نہ کرو کہ تمہیں اللہ کے راستے سے بہکا دیں گی۔ 
غافلین کی صحبت میں بیٹھنے سے بھی انسان غافل ہو جاتا ہے ۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ایسی محافل میں بیٹھے جن کی وجہ سے اس کا تعلق اللہ تعالی سے مضبوط ہو ۔ ارشاد باری تعالی ہے : اور اپنی جان سے مانوس رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی رضا چاہتے اور تمہاری آنکھیں انہیں چھوڑ کر اور پر نہ پڑیں۔ کیا تم دنیا کی زندگی کا سنگھار چاہو گے اور اس کا کہا نہ مانو جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیااور اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور اس کا م میں حد  سے گزر گیا ۔ ( سورۃ الکہف )۔

منگل، 7 جولائی، 2026

غفلت :انسان کے زوال کی پہلی سیڑھی(۱)

 

غفلت :انسان کے زوال کی پہلی سیڑھی(۱)

پیر، 6 جولائی، 2026

فضائل و مناقب امام زین العابدین(۲)

 

فضائل و مناقب امام زین العابدین(۲)

آپ ؓ کے اخلاق مبارکہ میں نبی کریم ﷺ کے اخلاق حسنہ کی چمک دمق نظر آتی تھی ۔ ایک مرتبہ آپ مسجد سے باہر تشریف لائے تو ایک آدمی نے آپ کے بارے میں غلط جملے کہے ۔آپ ؓ کے غلام اور دیگر لوگ اس کو پکڑنے لگے تو آپ نے منع فرمادیا ۔پھر آپ نے فرمایا 
کیا تمہیں ہمارے ساتھ کوئی کام تھا جو پورا نہیں ہو سکا۔ وہ آدمی یہ سن کر بہت شرمسار ہوا ۔اس کے بعد آپ ؓ نے اسے ایک قیمتی چادر اور  پانچ ہزار درہم دیے ۔اس کے بعد اس شخص نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ؓ نبی رحمت ﷺ کی اولاد میں سے ہیں۔ امام زین العابدین عبادت میں اس قدر مشغول ہو جاتے کہ آس پاس کا خیال نہ رہتا ۔ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپ ؓ جس کمرے میں  نماز پڑھ رہے تھے آگ لگ گئی ۔آپ ؓ حالتِ سجدہ میں تھے لوگوں نے شور مچایا اے رسول خدا ﷺ کے بیٹے آگ لگ گئی ہے ۔لیکن آپ ؓ نے سجدے سے سر نہ اٹھایا ۔لوگوں نے آگ بھجا دی ۔جب آپ ؓ نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا کیا بات ہے ۔لوگوں نے کہا حضور آگ لگ گئی تھی ہم نے بجھا دی ہے ۔ آپ ؓ نے فرمایا مجھے اس سے بڑی آگ نے مشغول کر رکھا تھا۔(نورالابصار)۔ حضرت جابر بن عبد اللہ فرماتے ہیں میں نے امام زین العابدین ؓ سے عرض کی آپ جانتے ہیں کہ اللہ تعالی نے جنت اہل بیت اور ان سے پیار کرنے والوں کے لیے بنائی ہے تو آپ اس قدر عبادت میں مشغول کیوں رہتے ہیں ۔ آپ ؓ نے فرمایا نبی کریم ﷺ اس قدر عبادت  کرتے تھے کہ آپ ﷺ کے پاؤں مبارک میں ورم پڑجاتے تھے ۔جب آپ ﷺ سے کہا گیا کہ انبیاءتو معصوم ہوتے ہیں اس قدر عبادت کیوں آپ ﷺ نے فرمایا، کیا میں اللہ تعالی کا شکر گزار بندہ نہ بنوں ۔ امام زین العابدین ؓ نے حضرت جابر ؓ سے فرمایا میں بھی نبی کریم ﷺ کی  اقتداءمیں اللہ تعالی کا شکر گزار بندہ بننا چاہتا ہوں اس لیے میں اللہ تعالی کی عبادت میں میانہ روی اختیار نہیں کر سکتا ۔ 
سیدنا امام زین العابدین کی سخاوت دوست اور دشمن دونوں کے لیے تھی ۔جس طرح نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں آنے والے سائل نے کبھی  ناں نہیں سنی اسی طرح آپ ؓ نے بھی ساری عمر کبھی کسی سائل کو خالی نہیں بھیجا ۔ آپؓ نے زندگی میں دو مرتبہ اپنا سارا مال اللہ تعالی کی راہ میں  خیرات کر دیا ۔آپ ؓ کی خیرات کا عالم یہ تھا کہ مدینہ منورہ کے بہت سے مستحق گھروں میں پوشیدہ طریقوں سے راشن بھیجتے اور کسی کو معلوم  نہیں تھا یہ کہاں سے آتاہے ۔ جب آپ ؓ کا وصال ہو ا تو لوگوں کو پتہ چلا کہ یہ آپ ؓ کی سخاوت تھی ۔ ( سیر اعلام النبلاء)۔

اتوار، 5 جولائی، 2026

فضائل و مناقب امام زین العابدین(۱)

 

فضائل و مناقب امام زین العابدین(۱)

کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کے کردار کی روشنی صدیوں کے فاصلے بھی مدھم نہیں کر سکتے ۔وہ اپنے کردار ، عبادت ، صبراور اخلاق کی بدولت زمانوں کے لیے مینار ہ نور بن جاتی ہیں ۔ حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ انہی عظیم ہستیوں میں سے ایک ہیں۔آپ نے کربلا کے سانحے کے بعد امت ِ مسلمہ کو صبر ، استقامت اور اللہ تعالی کی بندگی کا درس دیا ۔ سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ عنہ امام حسین رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ، سیدۃ النساء العالمین فاطمۃ الزہررضی اللہ عنہا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پوتے تھے ۔  آپ ؓ خانوادہء نبوتﷺ کے وہ درخشاں گوہر ہیں جن کی پیشانی عبادت کے نور سے جگماتی اور جن کا دل محبت الہی سے معمور رہتا تھا ۔  کثرت سجود ، زہد تقوی ، علم و معرفت اور خدمت خلق کی وجہ سے آپ زین العابدین یعنی عبادت گزاروں کی زینت اور سجاد یعنی بہت  زیادہ سجدے کرنے والے القابات سے مشہور ہوئے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کی حیات مبارکہ اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ آزمائشوں کے باوجود  ان کے عزم کو متزلزل نہیں کیا جا سکتا جس کا تعلق اپنے رب کے ساتھ مضبوط ہو ۔ 
آپ رضی اللہ عنہ کے خوف خدا کا عالم یہ تھا کہ ایک مرتبہ حج کے موقع پر احرام باندھا تو تلبیہ نہیں پڑھی ۔ لوگوں نے عرض کی حضور آپ تلبیہ یعنی لبیک اللھم لبیک نہیں پڑھ رہے ؟آپ ؓ  آبدیدہ ہو گئے اور فرمایا مجھے ڈر لگتا ہے کہ میں لبیک کہوں اور اللہ تعالی کی طرف سے  لا لبیک کی آواز نہ آجائے ۔ لوگوں نے کہا حضور لبیک کہے بغیر آپ کا احرام کیسے ہو گا ۔ یہ سن کر آپ ؓ نے بلند آواز میں تلبیہ پڑھی ۔ 
’’لبیک اللھم لبیک لبیک لاشریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک‘‘
آپ رضی اللہ عنہ خوف خدا کی وجہ سے لرز کر اونٹ کی پشت سے نیچے گر پڑے اور بے ہوش ہو گئے ۔ جب ہوش میں آتے تو لبیک  پڑھتے اور پھر بے ہوش جاتے۔اسی حالت میں آپ رضی اللہ عنہ نے حج ادا فرمایا ۔ (اولیائے رجال الحدیث )۔
آپ رضی اللہ عنہ کے عفو درگزر کا یہ عالم تھا کہ ایک دن وضو کراتے ہوئے کنیز کے ہاتھ سے برتن چھوٹ گیا اور آپ  کے چہرہ سے لگا جس کی وجہ سے آپ زخمی ہو گئے ۔ آپ نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا تو اس نے عفودرگزر کی فضیلت کے متعلق قرآن مجید کی ایک آیت پڑھی ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے سن کر اس کو معاف فرما دیا اور فرمایا جا تو اللہ تعالی کی رضا کے لیے آزاد ہے ۔ (تاریخ ابن عساکر )

ہفتہ، 4 جولائی، 2026

سیدہ زینب بنت علی ؓ(۳)

 

سیدہ زینب بنت علی ؓ(۳)

غفلت کا علاج (۱)

  غفلت کا علاج (۱) انسان کی روحانی زندگی کا سب سے بڑا دشمن غفلت ہے ۔ انسان کی زندگی میں سب سے بڑی محرومی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کی یاد سے غا...