خطبہ حجۃ الوداع انسانیت کے لیے ابدی منشور(۱)
تاریخ اسلام میں حضور نبی رحمتﷺ کا خطبہ حجۃ الوداع ایک ایسا عظیم اور جامع خطاب ہے جو انسانیت کے حقوق ، عدل و مساوات اور اسلامی تعلیمات کا عالمی منشور ہے۔ حضور نبی کریمﷺ نے 10 ہجری کو میدان عرفات میں ایک لاکھ سے زائد صحابہ کرامﷺ کے مجمع کے سامنے عظیم الشان خطبہ ارشاد فرمایا جسے خطبہ حجۃ الوداع کہا جاتا ہے۔ اس موقع پر حضور نبی کریم ﷺ نے امت مسلمہ کو وہ بنیادی اصول عطا فرمائے جو قیامت تک انسانوں کی رہنمائی کرتے رہیں گے۔ خطبہ حجۃ الوداع پوری انسانیت کے لیے امن ، بھائی چارے، عدل ، مساوات اور احترام انسانیت کا پیغام ہے۔
حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا :ا للہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اللہ نے اپناوعدہ پورا کیا۔ اس نے اپنے بندے کی مدد فرمائی اور اکیلی اس کی ذات نے باطل کو مغلوب کیا۔ پھر فرمایا : لوگو ! میری بات اچھی طرح سن لو ، مجھے نہیں معلوم شاید اس دن کے بعد اس جگہ میری تمہاری ملاقات کبھی ہو سکے۔پھر فرمایا : لوگو! حج کے مسائل مجھ سے سیکھ لو میں نہیں جانتا اس سال کے بعد میں دوسرا حج کرسکو ں۔ ( سنن نسائی )۔
اسی موقع پر سورۃ المائدہ کی آیت نمبر ۳ نازل ہوئی :ارشاد باری تعالی ہے : آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کیا۔
حقوق اللہ کی ادائیگی :حضور نبی کریم ﷺ نے حقوق اللہ کی ادائیگی پر زور دیا۔حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریمﷺ نے فرمایا : اپنے رب سے ڈرو اور پانچ وقت نماز ادا کرو ، رمضان کے روزے رکھو ، اپنے اموال کی زکوۃ دو ، اپنے اہل امر کی اطاعت کرو تو اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جائو گے۔ (ترمذی )۔
مساوات انسانی :حضور نبی کریم ﷺ نے انسانی مساوات کا درس دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے لوگو ہم نے تمہیں ایک مرد اورایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہیں شاخیں اور قبیلے کیا کہ آپس میں پہچان رکھو ، بیشک اللہ کے نزدیک تم میں سے زیادہ پسندیدہ وہ ہے جو تم میں زیادہ متقی ہے۔ (سورۃ الحجرات )۔
اس کے بعد آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر اور کسی سفید کو کالے پر اور کالے کو سفید پرکوئی فضیلت حاصل نہیں فضیلت کا معیار صرف تقویٰ ہے۔
حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا :ا للہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اللہ نے اپناوعدہ پورا کیا۔ اس نے اپنے بندے کی مدد فرمائی اور اکیلی اس کی ذات نے باطل کو مغلوب کیا۔ پھر فرمایا : لوگو ! میری بات اچھی طرح سن لو ، مجھے نہیں معلوم شاید اس دن کے بعد اس جگہ میری تمہاری ملاقات کبھی ہو سکے۔پھر فرمایا : لوگو! حج کے مسائل مجھ سے سیکھ لو میں نہیں جانتا اس سال کے بعد میں دوسرا حج کرسکو ں۔ ( سنن نسائی )۔
اسی موقع پر سورۃ المائدہ کی آیت نمبر ۳ نازل ہوئی :ارشاد باری تعالی ہے : آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کیا۔
حقوق اللہ کی ادائیگی :حضور نبی کریم ﷺ نے حقوق اللہ کی ادائیگی پر زور دیا۔حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریمﷺ نے فرمایا : اپنے رب سے ڈرو اور پانچ وقت نماز ادا کرو ، رمضان کے روزے رکھو ، اپنے اموال کی زکوۃ دو ، اپنے اہل امر کی اطاعت کرو تو اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جائو گے۔ (ترمذی )۔
مساوات انسانی :حضور نبی کریم ﷺ نے انسانی مساوات کا درس دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے لوگو ہم نے تمہیں ایک مرد اورایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہیں شاخیں اور قبیلے کیا کہ آپس میں پہچان رکھو ، بیشک اللہ کے نزدیک تم میں سے زیادہ پسندیدہ وہ ہے جو تم میں زیادہ متقی ہے۔ (سورۃ الحجرات )۔
اس کے بعد آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر اور کسی سفید کو کالے پر اور کالے کو سفید پرکوئی فضیلت حاصل نہیں فضیلت کا معیار صرف تقویٰ ہے۔






