اتوار، 29 جنوری، 2023

Shortvideo - کیا ہم قلب سلیم کے مالک ہیں؟

طیب وطاہر وجود

 

طیب وطاہر وجود

قاضی عیاض مالکی تحریر کرتے ہیں:حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک کی نظافت بطن اقدس اور اسکے سینے کی خوشبو اوراس کا ہر قسم کی آلودگی اورعیوبات جسمانیہ سے پاک صاف ہونا یہ ہے کہ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آپکو وہ خصوصیت عطا فرمائی ہے کہ آپکے سوا کسی میں پائی ہی نہیں جاتی۔ مزید براں یہ کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کو شرعی نفاست وپاکیزگی اوردس فطری خصلتوں سے بھی مزین فرمایا ہے،چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دین کی بنیاد پاکیزگی پر ہے۔ (ترمذی)حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک سی خوشبو سے بڑھ کر کسی عنبر ،کستوری اورکسی بھی چیز کی خوشبو کو نہ پایا۔(صحیح مسلم)

حضرت جابر بن سمرة رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے رخسار کو چُھواتو میں نے آپ کے دست اقدس کو ایسا ٹھنڈا اورمعطر پایا کہ گویا ابھی آپ نے عطارکے صندوقچے سے اپنے دست مبارک کو باہر نکالاہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ سے مروی ہے کہ خواہ آپ نے خوشبو لگائی ہوتی یا نہیں لیکن آپ جس شخص سے بھی مصافحہ فرماتے تو وہ ساران دن اُسکی خوشبو سے معطر رہتا ،اگر آپ کسی بچے کے سر پر اپنا دست شفقت پھیردیتے تو وہ بچہ خوشبو کی وجہ سے پہچانا جاتا۔(صحیح مسلم)

ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس کے گھر میں قیام فرمایا، آپ کو پسینہ آگیاحضرت انس کی والدہ ایک شیشی لے آئیں اورآپکے پسینے کو جمع کرنے لگیں، آپ نے وجہ دریافت فرمائی توعرض کیا میں اس کو اپنی خوشبو میں رکھوں گی یہ سب سے عمدہ اورطیب خوشبو ہے۔(صحیح مسلم)

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس کوچہ وبازار سے گزرفرماتے اسکے بعد کوئی شخص اس طر ف سے گزرتا تو وہ خوشبو سے محسوس کرلیتا کہ آپ ادھر سے گزرے ہیں۔(بخاری فی التاریخ) اسحاق بن لاہویہ نے ذکر کیا ہے کہ آپ خوشبو نہ بھی استعمال فرماتے تو آپکے جسم سے خوشبو پھوٹتی تھی۔

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہیں ایک دفعہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نبوت کو چومنے کا موقع ملا تواس میں سے کستوری کی خوشبو محسوس ہورہی تھی۔(ابن عساکر)حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں کہ میں نے نبی پاک ﷺ کوآخری غسل دیا تو میں نے دیکھا کہ آپکے وجود اقدس میں سے کوئی ایسی چیز نہیں نکلی جو میت میں سے نکلتی ہے۔ تومیں نے بے ساختہ کہا: آپ زندگی میں بھی طیب وطاہر ہیں اور وصال کے بعد بھی پاک صاف ہیں۔ فرماتے ہیں کہ آپکے بطن اقدس سے ایسی خوشبو نکلی کہ میں نے اس سے قبل کبھی نہیں محسوس کی تھی ۔(سنن ابن ماجہ)


ہفتہ، 28 جنوری، 2023

سراپاحُسن و رعنائی

 

سراپاحُسن و رعنائی

قاضی ابوالفضل عیاض المالکی تحریر کرتے ہیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت مبارکہ اوراسکا جمال اورآپ کے اعضاء وقویٰ کے متناسب ہونے کے بارے میں بہت سی صحیح اورمشہورحدیثیں منقول ہیں۔ ان احادیث میں سے ایک حدیث جسے حضرت علی حضرت انس بن مالک ، حضرت ابوہریرہ، حضرت براء بن عازب ، اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ، حضرت ابن ابی ہالہ ، حضرت ابن ابی حجیفہ ، حضرت جابر ابن سمرۃ ، حضرت ام معبد ، حضرت ابن عباس ، حضرت معرض بن معیقی رضوان اللہ علیہم اجمعین اوربہت سے صحابہ سے یہ حدیث مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ مبارک (گندم گوں)گورا، سیاہ اور کشادہ آنکھیں، سرخ ڈورے والی، لمبی پلکیں ،روشن چہرہ ،باریک ابرو، اونچی بینی ، دندان مبارک چوڑے، گول چہرہ فراخ پیشانی، ریش مبارک جو سینے کو ڈھانپ لے ، شکم وسینہ ہموار سینہ مبارک کشادہ، بڑے کاندھے ، بھری ہوئی ہڈی، بازوپُر گوشت ،کلائیاں ،پنڈلیاں، ہتھیلیاں فراخ، قدم چوڑے ، ہاتھ پائوں دراز، بدن خوب چمکتا ہوا، سینہ سے ناف تک بالوں کی باریک لکیر، میانہ قد نہ زیادہ طویل ، نہ زیادہ قصیر اسکے باوجود جو شخص سب سے زیادہ دراز قد ہوتا اگر آپ کے برابر کھڑا ہوتا تو آپ اس سے بلند معلوم ہوتے ۔یہ آپ کا معجزہ تھا۔آپ کے گیسو مبارک بالکل سیدھے تھے اورنہ مکمل گھنگھریالے جب آپ تبسم فرماتے تو دندان مبارک بجلی کی طرح چمکتے اوربارش کے اولے کی طرح سفید وشفاف دکھائی دیتے۔جب آپ گفتگو فرماتے توایسا معلوم ہوتاکہ نور کی جھڑیاں آپ کے دندان مبارک سے نکل رہی ہیں ۔گردن نہایت خوبصورت ،نہ آپ کا چہرہ بہت بھرا ہوا تھانہ بہت لاغر بلکہ بدن کی مناسبت سے ہلکا گوشت تھا۔ (دلائل النبوۃ)

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کسی بالوں والے کوکہ اس کے بال کاندھوں تک دراز ہوں۔سرخ پوشاک میں حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھا۔(بخاری ومسلم)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے زیادہ کسی کو حسین وجمیل نہیں دیکھا گویاآپ کے رخسارمیں سورج تیررہا ہے۔ جب آپ مسکراتے تھے تو دیواروں پر اس کی چمک پڑتی تھی۔(شمائل ترمذی، ابن حبان ،احمد)حضرت جابر بن سمرۃ سے کسی نے پوچھا کیا آپ کا چہرہ تلوار کی طرح چمکتا تھا۔ انہوں نے کہا نہیں بلکہ آفتاب وماہتاب کی طرح روشن اورگول تھا۔(صحیح مسلم)


Shortvideo - دل پر زنگ کیسے لگ جاتا ہے؟

جمعہ، 27 جنوری، 2023

حضور علیہ الصلوٰة والسلام کافہم وذکائ

 

حضور علیہ الصلوٰة والسلام کافہم وذکائ

ہادی انس وجان صلی اللہ علیہ وسلم کو جس قوم کی ہدایت اورراہنمائی کیلئے مبعوث فرمایا گیا وہ حلم وبردباری کے نام سے بھی واقف نہ تھی۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر تلواریں بے نیام ہوجاتیں،خون کے دریا بہنے لگتے اور کشتوں کے پشتے لگ جاتے اورقتل وغارت کا یہ سلسلہ ختم ہونے کا نام نہ لیتا ۔ایسی تیز مزاج قوم کو حضور پر نور نے حلم وبردباری کا علمبردار بنادیا۔

نیز وہ قوم جو اخلاقی لحاظ سے پستی کی انتہاءمیں گرچکی تھی ، فسق وفجور کی دلدل میں تابدوش غرق تھی، پیشہ ورعورتیں اپنے گھروں پر جھنڈے نصب کرکے لوگوں کو دعوت گناہ دے رہی ہوتی تھیں، بڑے بڑے شرفاءوہاں جاکر اپنا منہ کالا کرتے لیکن نہ ان کو کسی سے شرم محسوس ہوتی اورنہ انہیں کوئی برا بھلاکہتا ،وہ قوم شراب جس کی گھٹی میں تھی، وہ قوم جو گاڑھے پسینے کی کمائی ہوئی دولت کو شراب خوری اورقماربازی میں پانی کی طرح بہادینے کے دعادی تھے، اوراس کو وہ باعث عزوافتخار سمجھتے تھے ایسی قوم کو انتہائی دانشمندی سے رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے قعرمذلت سے نکالااورعفت وپاکدامنی کا خوگر بنایا۔

وہ قوم جو کسی کی اطاعت کیلئے تیار نہیں تھی ، جس کی انانیت کسی قانون اوردستور کی پابند نہ تھی، جن کے ہاں لوٹ مار اورڈاکہ زنی کوئی عیب شمار نہ ہوتا تھا،اس قوم کو سرورعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حکیمانہ کلمات اور دلنشین مواعظ سے جس طرح قانون وآئین کی پابندی کا خوگر بنادیا وہ آپ ہی کا حصہ ہے۔ وہ قوم جو متعدد قبائل میں بٹی ہوئی تھی، ایک دوسرے کی جان ومال کو نقصان پہنچانا ہر طاقتور اپنا حق سمجھتا تھا، ان بکھرے ہوئے قبائل کو خدا کے مقدس رسول نے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح یکجا ن کیا اورعدل وانصاف کے ضابطوں کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کا عادی بنادیا۔یہ ہمہ پہلو انقلاب جو عرب کے اجڈ بدﺅں میں برپا ہوا یہ سب امور حضورکی دانش وخردمندی کی ناقابل تردید دلیلیں ہیں۔سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کے ظاہر کوہی نہیں بدلا بلکہ اس کے باطن کو بھی صدق وصفا، عفت وتقویٰ ، تواضع وانکساری اورجذبہ اطاعت امیر سے مزین کردیا۔جب سے اولاد آدم اس کرہ ارضی پر آباد ہوئی ہے اس وقت سے لے کر آج تک کوئی فاتح عالم ، کوئی سلطان ہفت اقلیم ، کوئی سیاسی مدبر ،ایسا جامع انقلاب برپا نہ کر سکاجس طرح اللہ کے حبیب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے قلیل ترین وقت میں برپاکیا۔ حضور علیہ الصلوٰة والسلام کی عقل کی برتری ثابت کرنے کیلئے اس سے بڑھ کر اورکسی دلیل کی ضرورت نہیں کہ سرورانبیاءعلیہ الصلوٰة والسلام نے بڑے حکیمانہ انداز سے ہر قسم کے لوگوں کو اسلام کے سانچے میں اس طرح ڈھالاکہ ان کے مزاج ، اوران کی فطرت، بدل کر رکھ دی۔(ضیاءالنبی)


Shortvideo - دل کب کالا ہونا شروع ہوتا ہے؟

جمعرات، 26 جنوری، 2023

اللہ اوراُسکے رسول (ﷺ)کی اطاعت

 

اللہ اوراُسکے رسول (ﷺ)کی اطاعت

اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشادہے :۔

٭اے ایمان والو!اطاعت کرواللہ کی اور اطاعت کرورسول کی اوران کی جو تم میں سے صاحب اختیارہیں،پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کروتو اسے رجوع کرو اللہ کی طرف اوررسول کی طرف،اگر تمہیں اللہ اورقیامت کے دن پر ایمان ہے،یہ بہت بہتر ہے اورانجام کے اعتبار سے سب سے اچھا ہے۔(النساء:59)٭آپ ان لوگوں سے فرمادیجئے کہ اگر تم اللہ کی محبت کے دعویدار ہو تو میری اتباع کرو،اللہ تمہیں محبوب رکھے گااور تمہارے گناہ بخش دیگا اوراللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔(آل عمران)

٭آپ فرمادیجئے کہ حکم مانواللہ کا اورحکم مانو رسول اللہ کا ،پھر اگر تم روگردانی کرو تو رسول کی ذمہ داری وہی ہے جو اس پھر لازم کیاگیا ہے اورتم پر وہ ہے جس کا بارتم پر رکھا گیا ہے،اگر رسول کی فرمانبراری کروگے،راستہ پالوگئے اوررسول کے ذمہ نہیں مگر واضح طورپر بات پہنچا دینا ۔(النور:54)

٭اورجو اللہ اوررسول کی اطاعت کرتا ہے اللہ اسے (ان)باغوں میں لے جائیگا جن کے نیچے نہریں رواں دواں ہیں اورجو(اس اطاعت سے) روگردانی کرئے گا (اللہ )اسے دردناک عذاب دےگا۔ (الفتح:17)٭اورنہ کسی مسلمان مرد اورنہ مسلمان عورت کو حق پہنچتا ہے کہ جب اللہ اوررسول کچھ حکم فرمادیں توانہیں اپنے معاملے کا کچھ اختیار ہے اورجو اللہ اوراسکے رسول کا حکم نہ مانے بے شک وہ کھلی گمراہی میں ہے پڑگیا ۔(احزاب:36)

٭اوریہ اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں اورجو اللہ اوراس کے رسول کاحکم مانتا ہے اللہ اسے(ان )باغوں میں لے جائے گاجن کے نیچے نہریں رواں ہیں اوریہی بڑی کامیابی ہے۔(النسائ:13.14)

٭اوراطاعت کرواللہ کی اوراطاعت کرورسول کی اورمتنبہ رہو پھر اگر تم روگردانی کرلو تو(اچھی طرح)آگاہ ہوجاﺅ کہ ہمارے رسول کے ذمہ توحکم کا واضح طورپر ابلاغ ہے۔(المائدہ :92)

٭اللہ اوراس کے رسول کی اطاعت کروپھر اگرتم روگردانی کروتو جان لو کہ ہمارے رسول پر صرف واضح طورپر پہنچادینا ہے۔اللہ ہے جس کے سواکوئی معبود نہیں اورایمان والے اللہ پر بھروسہ کریں۔(التغابن :12,13) ٭اے ایمان والو !اللہ کی اطاعت کرواوررسول کی اطاعت کرواوراپنے اعمال باطل نہ کرو۔ (محمد:33)٭اورنماز قائم کرواورزکوٰة اداکرو اوررسول کی اطاعت تاکہ تم پر رحم کیاجائے۔ (النور:26)٭اے ایمان والو!اللہ اوراسکے رسول کی اطاعت کرواورروگردانی نہ کروحالانکہ تم سنتے ہواوران جیسے نہ ہوجانا جنہوں نے کہاہم نے سن لیا لیکن وہ نہیں سنتے ۔(الانفال:20)