اتوار، 12 جولائی، 2026

مؤذنِ رسول ﷺ(۱)

 

مؤذنِ رسول ﷺ(۱)

مؤذن ِ رسول ﷺ حضرت سیدنا بلال حبشی کا ذکر زبان پر آتے ہی ایمان تازہ ہوجاتا ہے ،اخلاص کی خوشبو محسوس ہونے لگتی ہے اور وفاداری کی روشن مثالیں نگاہوں کے سامنے آ جاتی ہیں ۔سیدنا بلال حبشی عظیم المرتبت صحابہ کرام ؓ میں سے ہیں ۔آپؓ کو اللہ تعالی نے غلامی کی زنجیروں سے نکال کر ایمان کی آزادی عطا کی اور نبی کریم ﷺ کی قربت کا ایسا شرف بخشا کہ رہتی دنیا تک آپ ؓ کا نام عزت ، استقامت اور عشق رسولﷺ کی علامت بن گیا ۔آپ ؓ کی حیات مبارکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام میں عزت کا معیار رنگ ، نسل ، زبان یا خاندان نہیں بلکہ تقوی ، ایمان اور اخلاص ہے ۔
حلیۃ الا ولیاءمیں ہے کہ آپ ؓ قبیلہ بنی جمح کے غلام تھے ۔آپ کا نام بلال والد کا نام رباح اور والدہ کا نام حمامہ ہے ۔آپ رضی اللہ عنہ مؤذن رسول اور سید المؤذنین کے القابات سے مشہور ہیں ۔ حضور نبی رحمت ﷺ نے ارشادفرمایا بلال ایک اچھے انسان اور مؤذنین کے سردار ہیں ۔( معجم کبیر)۔
آپ ؓ غلاموں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے ہیں ۔شروع میں آپ ؓ نے اپنا اسلام ظاہر نہ کیا اور چھپ کر عبادت کرتے رہے ۔ 
ایک دن امیہ بن خلف کو اس بات کی خبر ہوئی کہ آپ ؓ نے اسلام قبول کر لیاہے تو اسے بہت غصہ آیا اور آپ ؓ کو بلا کر پوچھا کہ تم کس معبود کی عبادت  کرتے ہو؟ آپ ؓ نے بے خوف ہو کر جواب دیا کہ میں حضر ت محمد ﷺ کے خدا کی عبادت کرتا ہوں ۔امیہ بن خلف نے جب یہ سنا تو غصے سے  اس کی آنکھیں لال ہو گئیں اور آپ ؓ سے کہا ان کو چھوڑ دو نہیں تو تجھے ذلت سے ماروں گا ۔ 
آپ ؓ نے جواب دیا کہ تم میرے جسم پر تو زور چلا سکتے ہولیکن میں اپنا دل و جان نبی کریم ﷺ اور ان کے خدا کے پاس رکھ چکا ہوں اور اب اسی کی عبادت کرنا ہی میری زندگی کا مقصد ہے ۔ امیہ بن خلف نے آپ ؓ کو بہت زیادہ تکالیف دیں۔ مکہ مکرمہ کی تپتی ریت پر آپ کو لٹا کر آپ ؓ کے اوپر پتھر رکھ دیتا اور کہتا کہ بول میں لات و عزیٰ کی پوجاکروں گا لیکن آپ ؓ کی زبان سے احد احد کی آوز آتی ۔ (حلیۃالاؤلیاء)۔
حضرت عمر وبن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک روز میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا تو آپ کو تپتی ریت پر لٹا کر سزا دی جا رہی تھی ۔زمین اس قدر گرم تھی کہ اگر اس پر گوشت کا ٹکڑا رکھ دیا جاتا تو وہ بھی پک جاتا ۔ ( سبل الھدی )۔
حضرت بلا ل رضی اللہ عنہ کو دین اسلام سے دور کرنے کے لیے آپ ؓ کے گلے میں رسی ڈال کر بچوں کے حوالے کر دیا جاتا جو آپ ؓ کو مکہ کی گلیوں میں  گھسیٹتے تھے لیکن اس کے باوجود آپ ؓ کی زبان سے احد احد کی صدا بلند ہوتی تھی ۔ ( مصنف ابی شیبہ )۔

ہفتہ، 11 جولائی، 2026

غفلت کا علاج (۲)

 

غفلت کا علاج (۲)

عالم اور جاہل کبھی برابر نہیں ہو سکتے اور علم والوں کو اللہ تعالی فضیلت بخشتا ہے اور وہ غافل نہیں ہوتے اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ علم سیکھے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا ہے درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔ ( سورۃ المجادلہ )
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی رحمت ﷺ نے فرمایا بیشک دنیا ملعون ہے اور جو کچھ اس میں ہے وہ ملعون ہے ۔ سوائے اللہ تعالی کے ذکر کے اور جو ذکر سے جڑی ہوئی چیزیں اور علم والے اور علم سیکھنے والے ۔( ترمذی )
دعا کا اہتمام بھی انسان کو غفلت کی تاریکی میں جانے سے بچاتا ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ اس طرح دعا فرمایا کرتے تھے : ”اے اللہ میں  تیری پناہ چاہتا ہو ں کمزوری سے ، سستی سے ، بخل سے ، بڑھاپے سے ، دل کی سختی سے ، غفلت سے ، ذلت و محتاجی سے ، اور تیر ی پناہ چاہتا ہوں فقر سے ، کفر و شرک سے ، نفاق سے ، شہرت سے ، شہرت کے شوق سے اور ریا کاری سے ، اور تیری پنا ہ مانگتا ہوں بہرے پن سے ، گونگے پن سے ، جنون سے ، جذام سے اور طرح طرح کی بری بیماریوں سے “۔ ( صحیح ابن حبان )۔
 حضرت شیخ حارث بن اسد الحاسبی ؒ سے سوال کیا گیا کہ کوئی ایسی چیز بتائیں جو بیداری پر تقویت دے اور غفلت کو ترک کرنے پر امادہ کر  دے ؟ آپ نے فرمایا اخلا ص نیت سے دعا کرنا ، ایسے لوگوں کی صحبت میں رہنا جو تمہارے ہم مزاج ہوں یعنی نیک ہوں اور ایسے لوگوں کو چھوڑ دینا جو تیرے ہم مزاج نہ ہوں ۔( آداب النفوس )۔
غفلتوں سے اپنی سانسوں کو روکے رکھنا سالکین کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے ۔ جب کسی پہ غفلت طاری ہو جائے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ استغفار کرے اور اللہ تعالی سے اپنے گناہوں کی معافی مانگے ۔ کیونکہ استغفار سے دل پاک ہوتے ہیں ۔  ارشاد باری تعالی ہے : (اے محبو ب ﷺ) آپ فرمادیجیے اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پہ ظلم کیا اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ اللہ تعالی سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور وہی بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے ۔ ( سورۃ الزمر )۔
مندرجہ بالا آیات اور احادیث مبارکہ سے واضح ہو جاتا ہے کہ جب ذکر الہی ، تلاوت قرآن مجید ، نماز ، توبہ و استغفار ، نیک صحبت ، علم دین ،  محاسبہ نفس ، آخرت کی یاد اور دعا انسان کی زندگی کا حصہ بن جائیں تو دل زندہ ، فکر پاکیزہ اور کردار مضبوط ہو جاتا ہے ۔ایسے انسان کے لیے دنیا عبادت گاہ بن جاتی ہے اور آخرت میں بھی اللہ تعالی کے فضل سے سرخرو ہو جائے گا ۔

جمعہ، 10 جولائی، 2026

غفلت کا علاج (۱)

 

غفلت کا علاج (۱)

انسان کی روحانی زندگی کا سب سے بڑا دشمن غفلت ہے ۔ انسان کی زندگی میں سب سے بڑی محرومی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کی یاد سے غافل ہو جائے ۔جب دل ذکر الہی سے خالی ہو جائے ، آنکھیں عبرت کے مناظر دیکھ کر بھی نہ جاگیں ، کان نصیحت سن کر بھی نہ سنبھلیں اور زندگی  کا مقصد صرف دنیا کی آسائشیں بن جائیں تو یہی کیفیت غفلت کہلاتی ہے ۔ غفلت ایک خاموش بیماری ہے جو انسان کے ایمان ، کردار اور روحانی زندگی کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں بار بار انسان کو بیدار کیا ، کائنات کی نشانیوں میں غوروفکر کی دعوت دی اور آخرت کو یاد رکھنے کی تلقین فرمائی ۔ غفلت سے بچنے کے کئی اسباب ہیں۔ 
پہلا یہ کہ انسان غافلین اور غفلت والی جگہوں سے دور رہے ۔ارشاد باری تعالی ہے : ” تم اس سے منہ پھیر لو جو ہماری یاد سے پھرا اور اس نے نہ چاہی مگر دنیا کی زندگی “۔ ( سورۃ النجم )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے غفلت والی جگہوں سے دور رہنے اور اللہ تعالی کے گھر کو آباد کرنے کی تلقین فرمائی۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالی کی سب سے پسندیدہ جگہیں مساجد ہیں اور سب سے ناپسندیدہ مقامات بازار  ہیں ۔ ( مسلم )۔
مساجد کی تعظیم و توقیر کرنی چاہیے کیونکہ دنیا میں سب سے زیادہ عزت اور شرف والے مقامات ہیں۔  مساجد میں اللہ تعالی کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جب کوئی غافل شخص مسجد میں داخل ہوتا ہے تب ہی ذکر کی توفیق ملتی ہے ۔ جبکہ بازاروں میں لوگ دنیا کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے دلوں میں غفلت پیدا ہوتی ہے ۔ 
انسان کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ آخر اس نے ایک دن دنیا سے چلے جانا ہے ۔ جیسا کہ سورۃ عمران میں اللہ تعالی فرماتا ہے ”ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے “۔ اس لیے انسان کو اپنی آخرت کی تیاری کرنی چاہیے اور دنیا کی رنگینیوں میں کھو کر اپنی آخرت کو خراب نہیں کرنا چاہیے ۔ 
تلاوت قرآن مجید کرنے سے دل کی سیاہی اترتی ہے اور اس کی آیات میں غورو فکر کرنے سے انسان غفلت سے بچ جاتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ”اے لوگو تمہارے پاس تہمارے رب کی طرف سے نصیحت آئی اور دلوں کی صحت اور ہدایت اور رحمت ایمان والوں کے لیے ۔ ( سورۃ یونس )۔ ہمیشہ اللہ تعالی کا ذکر کرتے رہنا چاہیے ذاکر کا دل کبھی بھی سخت نہیں ہوتا ۔ ارشاد باری تعالی ہے : اور اپنے رب کو دل میں یاد کرو زاری اور  ڈر سے اور بے آواز نکلے زبان سے صبح و شام اور غافلوں میں نہ ہونا“۔ ( سور ة الاعراف )

جمعرات، 9 جولائی، 2026

غفلت :انسان کے زوال کی پہلی سیڑھی (۳)

 

غفلت :انسان کے زوال کی پہلی سیڑھی (۳)

جو بندہ قرآن مجید کی تلاوت نہیں کرتا اور اس کی آیات پر غورو فکر نہیں کرتا وہ غافل ہو جاتا ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالی سورۃ الاعراف میں ارشاد فرماتا ہے : 
اور میں اپنی آیتوں سے انہیں پھیر دوں گا جو زمین میں نا حق اپنی برائی چاہتے ہیں اور اگر سب نشانیاں دیکھیں ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر ہدایت کی راہ دیکھیں اس میں چلنا پسند نہ کریں اور گمراہی کا راستہ نظر آئے تو اس پر چل نکلیں ۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری  آیتیں جھٹلائیں اور ان سے بے خبر بنے ۔  جو بندہ غفلت میں پڑ جا تا ہے اس کی بصارت اور سماعت پر مہر لگ جاتی ہے نہ ہی وہ حق کو دیکھ سکتا ہے اور نہ ہی سن سکتا ہے ۔اور اس  کی زبان پر بھی مہر لگ جاتی ہے جس سے وہ حق بات نہیں بول سکتا ۔ ارشاد باری تعالی ہے :  بیشک ہم نے جہنم کے لیے پیدا کیے بہت جن اور آدمی وہ دل رکھتے ہیں جن میں سمجھ نہیں اور وہ آنکھیں جن سے دیکھتے نہیں اور وہ کان جن سے سنتے نہیں وہ چوپایو ں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر گمراہ وہی غفلت میں پڑے ہیں ۔ ( سورۃ الاعراف )۔
غافل بندے کا دل سخت ہو جاتا ہے وہ اللہ تعالی کی آیات کو نہ ہی سنتا ہے اور ان پر غورو فکر کرتا ہے ، دنیا اور اس کی شہوتوں میں مصروف  رہتا ہے ، اللہ تعالی کو اور یوم آخرت کو بھلا دیتا ہے اور اللہ تعالی کی آیات سے نفع حاصل نہیں کرسکتا ۔ارشاد باری تعالی ہے : جن کے دل اللہ کی یاد کی طرف سے سخت ہوگئے ہیں وہ کھلی گمراہی میں ہیں۔ ( سورۃ الزمر )۔
سورۃ یونس میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : بیشک وہ جو ہمارے ملنے کی امید نہیں رکھتے اور دنیاوی زندگی کو پسند کیے بیٹھے ہیں اور اس پر  مطمئن ہو گئے اور وہ جو ہماری آیتوں سے غفلت کرتے ہیں ان لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے بدلہ ان کی کمائی کا ۔  کامیاب وہی انسان ہے جو بیدار دل ، زندہ ضمیر اور اللہ تعالی کی یاد سے وابستہ ہو ۔ غفلت وقتی لذت تو دے سکتی ہے لیکن دائمی کامیابی  نہیں ۔ جو شخص اپنے وقت ، اپنی صلاحیتوں اور اپنی زندگی کو اللہ تعالی کی رضا کے مطابق گزارنے کی کوشش کرتا ہے وہ دنیا میں بھی سکون  پاتا ہے اور آخرت میں بھی ۔ غفلت نہ صرف اخلاقی کمزوری ہے بلکہ انسان کی دنیا و آخرت کی کامیابی میں ایک بڑی روکاوٹ بھی ہے ۔ 
آج جب مادیت ، مصروفیات اور بے مقصد تفریحات نے انسان کو ہر طرف سے گھیر رکھا ہے غفلت کے اسباب اور اس کے علاج کو سمجھنا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے ۔

بدھ، 8 جولائی، 2026

غفلت :انسان کے زوال کی پہلی سیڑھی(۲)

 

غفلت :انسان کے زوال کی پہلی سیڑھی(۲)

نفس کا محاسبہ کرنا چھوڑ دیا جائے تو بھی بندہ غفلت میں پڑ جاتا ہے ۔ اللہ تعالی سورۃ الحشر میں ارشاد فرماتا ہے :اے ایمان والو اللہ سے  ڈرو اور ہر جان دیکھے کہ کل کے لیے کیا آگے بھیجا اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے ۔ 
شداد بن اوس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : دانش مند وہ ہے جو اپنے نفس کو پہچانے اور موت کے بعد کے لیے عمل کرے ۔اور عاجز وہ ہے جو اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرے اور اللہ تعالی سے جھوٹی امیدیں  باندھے ۔سیدنا فاروق اعظم ؓ نے فرمایا اپنے نفس کا محاسبہ کرو اس سے پہلے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں حاضری کے لیے تیار رہو ۔اس کا حساب  قیامت کے دن آسان ہو گا جس نے دنیا میں اپنا محاسبہ کر لیا ہو گا ۔ ( ترمذی )۔
غفلت کی ایک بڑی وجہ دنیا کی ظاہری رنگینیوں میں کھو کر حرص و لالچ میں پڑ جانا بھی ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : بیشک وہ لوگ جو ہماری  ملاقات کی امید نہیں رکھتے اور دنیاو ی زندگی پر راضی ہیں اور اس پر مطمئن ہو گئے اور وہ جو ہماری آیتوں سے غافل ہیں ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔بدلہ ان کی کمائی کا ۔ ( سورۃ یونس )۔
اور جو لوگ دنیا کے لالچ میں نہیں پڑتے ان کے لیے اللہ تعالی کے ہاں اجر عظیم ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ان گھروں میں جنہیں بلند کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور ان میں اس کا نام لیا جاتا ہے اللہ کی تسبیح کرتے ہیں ان میں صبح و شام ۔ وہ مرد جنہیں غافل نہیں کرتا کوئی سودا۔ نہ خرید و فروخت۔ وہ اللہ کی یاد اور نماز برپا رکھنے اور زکوۃ دینے سے ڈرتے ہیں اس دن سے جس میں الٹ جائیں گے دل اور آنکھیں۔  ( سورۃ النور )۔
خواہشات نفس کی پیروی : غفلت کے اسباب میں سے ایک بڑی وجہ انسان کا اپنی خواہشات کے پیچھے دوڑنا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :’’پس وہ جس نے سر کشی اختیار کی اور دنیاوی زندگی کو ترجیح دی تو جہنم ہی اس کا ٹھکانہ ہے ۔ ( سورۃ النزعٰت )۔
اسی طرح سورۃ ص میں اللہ تعالی فرماتا ہے :اور خواہشات نفس کی پیروی نہ کرو کہ تمہیں اللہ کے راستے سے بہکا دیں گی۔ 
غافلین کی صحبت میں بیٹھنے سے بھی انسان غافل ہو جاتا ہے ۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ایسی محافل میں بیٹھے جن کی وجہ سے اس کا تعلق اللہ تعالی سے مضبوط ہو ۔ ارشاد باری تعالی ہے : اور اپنی جان سے مانوس رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی رضا چاہتے اور تمہاری آنکھیں انہیں چھوڑ کر اور پر نہ پڑیں۔ کیا تم دنیا کی زندگی کا سنگھار چاہو گے اور اس کا کہا نہ مانو جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیااور اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور اس کا م میں حد  سے گزر گیا ۔ ( سورۃ الکہف )۔

منگل، 7 جولائی، 2026

غفلت :انسان کے زوال کی پہلی سیڑھی(۱)

 

غفلت :انسان کے زوال کی پہلی سیڑھی(۱)

پیر، 6 جولائی، 2026

فضائل و مناقب امام زین العابدین(۲)

 

فضائل و مناقب امام زین العابدین(۲)

آپ ؓ کے اخلاق مبارکہ میں نبی کریم ﷺ کے اخلاق حسنہ کی چمک دمق نظر آتی تھی ۔ ایک مرتبہ آپ مسجد سے باہر تشریف لائے تو ایک آدمی نے آپ کے بارے میں غلط جملے کہے ۔آپ ؓ کے غلام اور دیگر لوگ اس کو پکڑنے لگے تو آپ نے منع فرمادیا ۔پھر آپ نے فرمایا 
کیا تمہیں ہمارے ساتھ کوئی کام تھا جو پورا نہیں ہو سکا۔ وہ آدمی یہ سن کر بہت شرمسار ہوا ۔اس کے بعد آپ ؓ نے اسے ایک قیمتی چادر اور  پانچ ہزار درہم دیے ۔اس کے بعد اس شخص نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ؓ نبی رحمت ﷺ کی اولاد میں سے ہیں۔ امام زین العابدین عبادت میں اس قدر مشغول ہو جاتے کہ آس پاس کا خیال نہ رہتا ۔ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپ ؓ جس کمرے میں  نماز پڑھ رہے تھے آگ لگ گئی ۔آپ ؓ حالتِ سجدہ میں تھے لوگوں نے شور مچایا اے رسول خدا ﷺ کے بیٹے آگ لگ گئی ہے ۔لیکن آپ ؓ نے سجدے سے سر نہ اٹھایا ۔لوگوں نے آگ بھجا دی ۔جب آپ ؓ نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا کیا بات ہے ۔لوگوں نے کہا حضور آگ لگ گئی تھی ہم نے بجھا دی ہے ۔ آپ ؓ نے فرمایا مجھے اس سے بڑی آگ نے مشغول کر رکھا تھا۔(نورالابصار)۔ حضرت جابر بن عبد اللہ فرماتے ہیں میں نے امام زین العابدین ؓ سے عرض کی آپ جانتے ہیں کہ اللہ تعالی نے جنت اہل بیت اور ان سے پیار کرنے والوں کے لیے بنائی ہے تو آپ اس قدر عبادت میں مشغول کیوں رہتے ہیں ۔ آپ ؓ نے فرمایا نبی کریم ﷺ اس قدر عبادت  کرتے تھے کہ آپ ﷺ کے پاؤں مبارک میں ورم پڑجاتے تھے ۔جب آپ ﷺ سے کہا گیا کہ انبیاءتو معصوم ہوتے ہیں اس قدر عبادت کیوں آپ ﷺ نے فرمایا، کیا میں اللہ تعالی کا شکر گزار بندہ نہ بنوں ۔ امام زین العابدین ؓ نے حضرت جابر ؓ سے فرمایا میں بھی نبی کریم ﷺ کی  اقتداءمیں اللہ تعالی کا شکر گزار بندہ بننا چاہتا ہوں اس لیے میں اللہ تعالی کی عبادت میں میانہ روی اختیار نہیں کر سکتا ۔ 
سیدنا امام زین العابدین کی سخاوت دوست اور دشمن دونوں کے لیے تھی ۔جس طرح نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں آنے والے سائل نے کبھی  ناں نہیں سنی اسی طرح آپ ؓ نے بھی ساری عمر کبھی کسی سائل کو خالی نہیں بھیجا ۔ آپؓ نے زندگی میں دو مرتبہ اپنا سارا مال اللہ تعالی کی راہ میں  خیرات کر دیا ۔آپ ؓ کی خیرات کا عالم یہ تھا کہ مدینہ منورہ کے بہت سے مستحق گھروں میں پوشیدہ طریقوں سے راشن بھیجتے اور کسی کو معلوم  نہیں تھا یہ کہاں سے آتاہے ۔ جب آپ ؓ کا وصال ہو ا تو لوگوں کو پتہ چلا کہ یہ آپ ؓ کی سخاوت تھی ۔ ( سیر اعلام النبلاء)۔

مؤذنِ رسول ﷺ(۱)

  مؤذنِ رسول ﷺ(۱) مؤذن ِ رسول ﷺ حضرت سیدنا بلال حبشی کا ذکر زبان پر آتے ہی ایمان تازہ ہوجاتا ہے ،اخلاص کی خوشبو محسوس ہونے لگتی ہے اور وف...