منگل، 6 اکتوبر، 2026

طہارت (۱)

 

طہارت (۱)

ایمان کے بعد بندے پر سب سے پہلے جو چیز فرض ہے وہ طہارت حاصل کرنا ہے تا کہ نماز ادا کر سکے ۔طہارت سے مراد نجاست اورجنابت سے بدن کو پاک کرنا ہے ۔انسان کی حقیقی خوب صورتی صرف اس کے لباس ، صاف بدن اور ظاہری آراستگی میں نہیں  بلکہ اس دل کی پاکیزگی میں بھی پوشیدہ جس دل میں اللہ تعالی کی محبت ، خوف خدا ، اخلاص اور حسن ِ اخلاق جگہ بناتے ہیں ۔ 
طہارت کی دو قسمیں ہیں ایک ظاہری طہارت اور دوسری باطنی یا دل کی طہارت ۔ جسم کی طہارت کے بغیر نماز درست نہیں ہوتی اسی طرح دل کی طہارت کے بغیر معرفت صحیح نہیں ہوتی ۔ جسمانی طہارت کے لیے صاف پانی کی ضرورت ہوتی ہے اسی  طرح دل کی طہارت کے لیے خالص توحید کا اعتقاد ہونا ضروری ہے جس میں کسی قسم کی آمیزش یا گندگی نہ ہو ۔ 
جب انسان کا ظاہر بھی پاک ہو اور باطن بھی صاف ہو تو اس کی شخصیت عبادت ، اخلاق اور معاملات میں حسین توازن اختیار کر لیتی ہے۔ یہی پاکیزگی انسان کو اللہ تعالی کی رضا کے قریب اور معاشرے کے لیے باعث خیر بناتی ہے ۔ صوفیائے کرام ہمیشہ ظاہری طور پر طہارت سے متصف ہوتے ہیں اور باطنی اعتبار سے توحید سے مزین ہوتے ہیں ۔ 
ارشاد باری تعالی ہے :’’ بیشک اللہ پسند کرتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتا ہے ستھروں کو ‘‘۔ فرمان ِ مصطفی ﷺ ہے : ہمیشہ با وضو رہو دونوں محافظ فرشتے تمہیں دوست رکھیں گے ۔ 
جو شخص ہمیشہ ظاہری طہارت سے رہتا ہے اسے فرشتے دوست رکھتے ہیں اور جو اپنے باطن کو توحید سے آراستہ کر لیتا ہے اسے اللہ تعالی  اپنادوست بنا لیتا ہے ۔ 
ضرورت اس بات کی ہے کہ ظاہری اور باطنی طہارت دونوں ایک ساتھ چلیں ۔جب بندہ ہاتھ دھوئے تو دل سے دنیا کی محبت بھی دھو ڈالے ۔جب منہ میں پانی ڈالے تو اسے چاہیے کہ زبان کو غیر کے ذکر سے فارغ کر دے ۔ جب ناک میں پانی ڈالے تو آئندہ کے لیے شہوت کی بو بھی نہ سونگھنے کا عہد کرے ، جب چہرے کودھوئے تو تمام مالوفات کو بھی نکال دے اور اپنی توجہ حق کی طرف مبذول کر  لے ، جب مسح کرے تو اپنے تمام امور اللہ تعالی کے سُپرد کر دے اور جب پاؤں دھوئے تو اللہ تعالی کے حکم کے سوا کسی چیز پر نہ ٹھہرنےکا عہد کرے تا کہ بندے کو ظاہری اور باطنی دونوں عبادتیں حاصل ہو ں ۔

پیر، 5 اکتوبر، 2026

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ (۲)

 

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ (۲)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ چند چھوہارے لے کر نبی رحمت ﷺ کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ ﷺ  میرے لیے برکت کی دعا فرمائیں ۔آپ ﷺ نے دعا فرمائی اور فرمایا کہ اسے اپنی تھیلی میں رکھ لو اور جب جی چاہے اس میں ہاتھ ڈال کرکھاؤ اور دوسروں کو بھی کھلاؤ مگر کبھی اس تھیلی کو خالی کر کے  مت جھاڑنا ۔آپ ؓ فرماتے ہیں کہ پچیس سال تک اس تھیلی میں سے چھوہارے نکال کر کھاتا رہا اور دوسروں کو بھی کھلاتا رہا خیرات بھی کرتا رہا لیکن چھوہارے ختم نہ ہوئے اورسیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے  دن کہیں گر گئی جس کا آپ ؓ کو ساری زندگی صدمہ رہا ۔ ( ترمذی )۔
ایک مرتبہ آپ رضی اللہ عنہ کا گزر ایک ایسی جماعت کے پاس سے ہوا جن کے سامنے بھنی ہوئی بکری رکھی ہوتی تھی ۔ لوگوں نے آپ ؓ کو  کھانے کی دعوت دی تو آپ رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا کر منع کر دیا کہ نبی رحمت ﷺ دنیا سے تشریف لے گئے اور کبھی جو کی روٹی پیٹ بھر کر نہ کھائی ۔ ( بخاری )۔
آپؓ اپنی والدہ ماجدہ کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آتے تھے اور اسلام قبول کرنے کے بعد ہمیشہ اس کوشش میں رہے کہ ان کی  والدہ بھی دین اسلام میں داخل ہو جائیں ۔ایک مرتبہ آپ ؓ کی والدہ نے حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں نازیبا کلمات کہے تو آپ ؓ روتے ہوئے نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی یارسول اللہ ﷺمیری والدہ کے لیے ہدایت کی دعا فرمائیں ۔نبی  رحمت ﷺ نے ادھر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے کہ اے اللہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی والدہ کو ہدایت عطا فرمااُدھر آپ ؓ کی والدہ کی دنیا بدل  گئی اور غسل کر کے مسلمان ہو گئیں ۔ جب سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ گھر پہنچے تو آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ کلمہ پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخل  ہو گئیں۔(مسلم )۔
آپ رضی اللہ عنہ نے عہد رسالت ﷺ میں غزوہ حنین جیسے معرکوں میں حصہ لیا ۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی فتنہ فساد برپا کرنے والوں کے خلاف بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔عہد فاروقی میں سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو بحرین کا گورنر مقررفرمایا ۔
سیدنا ابوہریرہؓ نے ۹۵ہجری میں اٹھتر سال کی عمر میں مدینہ منوہ میں وفات پائی اور جنت البقیع میں مدفون ہوئے ۔ ( عمدۃ القاری)۔ آپ رضی اللہ عنہ نے دنیاوی مشکلات کے مقابلے میں علم نبوی ﷺ کو ترجیح دی اور اپنی زندگی کو سنت نبوی ﷺ کی حفاظت کے لیے وقف کر دیا ۔

اتوار، 4 اکتوبر، 2026

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ (۱)

 

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ (۱)

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مقام و مرتبہ اس قدر بلند اور مقدس ہے جسے الفاظ کی محدود دنیا میں مکمل طور پر بیان کرنا ممکن نہیں ۔
یہ وہ برگزیدہ ہستیاں ہیں جنہوں نے براہ راست حضور نبی کریم ﷺ کی زیارت کی اور آپ ﷺ کی صحبت پائی ۔ انہی عظیم المرتبت صحابہ میں ایک نمایا ں نام حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا ہے جنہیں اللہ تعالی نے حفظِ حدیث کی غیر معمولی صلاحیت عطا فرمائی۔
آپ رضی اللہ عنہ کا اصل نام عبدا لرحمن صخر ہے اور قبیلہ دوس سے تعلق رکھتے تھے ۔آپ رضی اللہ عنہ کا شمار کثرت روایات کرنے والے صحابہ کرام میں ہوتا ہے ۔  حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بہت ہی عبادت گزار ، متقی اور پرہیز گار صحابی تھے ۔آپؓ کو بلیوں سے بہت انس تھا ۔ایک مرتبہ حضور نبی  کریم ﷺ نے آپؓ کی آستین میں بلی دیکھی تو فرمایا یا اباہریرۃ یعنی اے بلی کے باپ کہہ کر بلایا اسی دن سے آپ ؓ کا لقب ابو ہریرہ ؓ مشہور ہو گیا ۔
آپ ؓ کو حضور نبی کریم ﷺ سے بہت زیادہ محبت تھی اور آپ ﷺ کا بہت زیادہ ادب و احترام کرتے تھے یہاں تک کہ بغیر طہارت  حضور نبی کریم ﷺ سے مصافحہ کرنا بھی گوارا نہیں کرتے تھے ۔ایک مرتبہ آپ ؓ کو غسل کی حاجت تھی کہ راستہ میں حضور نبی کریم ﷺ سے سامنا ہو گیا ۔آپ رضی اللہ عنہ ایک طرف سے ہو کے نکل گئے اور غسل کے بعد نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے ۔نبی رحمت ﷺ نے فرمایا ابو ہریرہ کہاں تھے ؟ عرض کی مجھے غسل کی حاجت تھی اس لیے دل نے گوارا نہ کیا کہ اس حالت میں آپ ﷺ سے مصافحہ کروں۔ (ابو داؤد )۔
حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا نبی کریم ﷺ سے محبت کا عالم یہ تھا کہ اگر حضور نبی رحمت ﷺ خوش ہوتے تو آپ بھی خوش ہوتے  اور اگر حضور نبی کریم ﷺ کے چہرہ انور پر غمی کے اثرات ہوتے تو آپ ؓ بھی غمگین ہو جاتے تھے ۔ایک مرتبہ آپ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ جب میں آپ ﷺ کو دیکھتا ہوں تو میرا دل باغ باغ ہوجاتا ہے اور آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں ۔ ( مسنداحمد)۔
آپ ؓ کو علم حاصل کرنے کا بے حد شوق تھا اور سب کچھ چھوڑ کر حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو جاتے فاقے برداشت کرتے اور علم حاصل کرتے تھے۔ 
ایک مرتبہ آپؓ نے حضور نبی کریم ﷺ سے عرض کی یا رسو ل اللہ ﷺ میں آپ ﷺ سے جو بھی سنتا ہوں بھول جاتا ہوں ۔آپ ﷺ نے  فرمایا کہ اپنی چادر پھیلاؤ حضور نبی کریم ﷺ نے کچھ احادیثیں بیان کیں اور فرمایا اس چادر کو سمیٹ کر اپنے سینے سے لگا لو ۔اس کے بعد  آپ ؓ کا حافظہ اتنا قوی ہوا کہ جو کچھ آپ ﷺ سے سنتے فورا ً یاد ہو جاتا ۔

جمعہ، 2 اکتوبر، 2026

لالچ اور لامحدود خواہشات(۲)

 

لالچ اور لامحدود خواہشات(۲)

جب لالچ اور حرص کسی فرد کی شخصیت میں جگہ بنا لیتی ہے تو وہ معاشرے کا کارآمد اور پُر امن شخص نہیں رہتا ۔رشو ت خوری ، کرپشن ، ذخیرہ اندوزی ، جھوٹ ،دھوکہ دہی اور لوگوں کا استحصال کرنا اس کی عادت بن جاتی ہے اور ان تمام جرائم کی جڑ لالچ اور حرص ہے ۔ ایک تاجر جب زیادہ منافع کے لالچ میں خراب مال بیچتا ہے یا پھر کوئی افسر عوام کی خدمت کی بجائے اپنے ذاتی مفاد کو ترجیح دیتا ہے تو اس کا نقصان پورے معاشرے کو ہوتا ہے۔
اس لیے اسلام نے ہمیں قناعت کو اپنانے کا درس دیا ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کامیاب ہو گیا وہ شخص جس نے اسلام قبول کیا اور اللہ تعالی کی طرف سے اسے جو رزق دیا گیا اس پر قناعت اختیار کی ۔
ابو للیث سمرر قندی علیہ الرحمہ اپنی تصنیف تنبیہ الغافلین میں لکھتے ہیں جو کوئی شخص اپنی خواہشات کو کم کر لیتا ہے تو اللہ تعالی اسے چار طرح سے وقار عطا فرماتا ہے۔  ایک یہ کہ اللہ تعالی اسے یہ توفیق عطا فرماتا ہے کہ وہ احکام الہی کی پاسداری کر سکے اور ان کی بجا آوری لا سکے کیونکہ جب بندہ یہ جان لیتا ہے کہ  موت قریب ہے تو وہ ناپسندیدہ دنیوی چیزوں کو چھوڑ دیتا ہے اور پرہیز گاری کے کاموں میں لگ جاتا ہے تا کہ اس کی نیکیوں میں اضافہ ہو سکے ۔ 
نمبر دو جب بندے کو یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ اس دنیا میں اس کا قیام بس چند روزہ ہے اور یہ دنیا فانی ہے تو پھر دنیاوی معاملات میں اس کی دلچسپی کم ہو جاتی جس کی وجہ سے اس کے دنیاوی تفکر اور پریشانیا ں کم ہو جاتی ہیں ۔
نمبر تین یہ کہ جب بندے کو یہ معلوم ہو جاتاہے کہ اسے جلد ہی اس دنیا کو چھوڑ جانا ہے تو وہ طلب دنیا کی خواہش کو ترک کر دیتا ہے اوراس کی تمام تر توجہ اخروی زندگی کی تیاری کی طرف مبذول ہو جاتی ہے ۔ نمبر چار اس کا دل نور سے بھر جاتا ہے کیونکہ چار چیزیں دلوں کو منور کرتی ہیں ۔ بھوکا پیٹ،نیک دوست، پُرانی غلطیوں کو یاد رکھنا اور خواہشات کو کم رکھنا ۔
لالچ اور حرص سے بچنے کے لیے بندے کو چاہیے کہ وہ اپنے نفس کا تزکیہ کرے کیونکہ کسی بھی برائی سے بچنے کے لیے سب سے پہلے دل کی اصلاح  ضروری ہے ۔ جب بندے کا نفس شیطانی وسوسوں سے پاک رہتا ہے تو وہ دنیاوی لالچ سے بچ جاتا ہے ۔والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں  کو لالچ سے بچنے اور قناعت اختیار کرنے کا درس دیں  تاکہ وہ اپنی اخروی زندگی کی بہتر طریقے سے تیاری کر سکیں۔
لالچ اور لا متناہی خواہشات انسان کی شخصیت کو کھوکھلا اور معاشرے کو تباہ کر دیتی ہیں ۔ اس کا حل صرف یہ ہی ہے کہ انسان اپنی خواہشات پر قابو رکھے اور  قناعت کو اپنائے ۔ وہی انسان کامیاب ہے جس نے اپنے نفس کو شکست دے دی ۔آج ہمیں اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ لالچ انسان کو کہیں کا  نہیں چھوڑتا۔اصل دولت دل کا سکون ہے جو صرف ذکر الہی ، کثرت درود و سلام ،شکر ، قناعت اور سچائی کے ذریعے ہی حاصل ہو سکتی ہے ۔

جمعرات، 1 اکتوبر، 2026

لالچ اور لامحدود خواہشات(۱)

 

لالچ اور لامحدود خواہشات(۱)

انسانی فطرت میں خواہشات کا پایا جانا ایک فطری امر ہے ۔ یہی خواہشات انسان کو ترقی کے راستے پر گامزن کرتی ہیں لیکن خواہشات حد سے بڑھ جائیں 
تو انسان کو اخلاص اور اصولوں کی راہوں سے ہٹا کر محض ذاتی مفاد اور حرص کی کھائی میں دھکیل دیتی ہیں ۔ حد سے زیادہ خواہشات انسان کو لالچ میں مبتلا کر  دیتی ہیں ۔ لالچ وہ آ گ ہے جو نہ صرف فرد کو جلاتی ہے بلکہ پورے معاشرے کو اپنے لپیٹ میں لے لیتی ہے ۔ 
ارشاد باری تعالی ہے :” تمہیں مال و دولت کی زیادتی کی طلب نے غفلت میں ڈال دیا یہاں تک کہ تم قبروں میں پہنچ گئے “۔ ( سورۃ التکاثر )۔ امام غزالی ؒ فرماتے ہیں کہ لوگوں کا لالچ اور عمر درازی سے دھوکہ کھانے کی دو وجوہات ہیں جہالت اور دنیا کی محبت ۔ انسان بلا سوچے سمجھے اپنی موت کو بھلائے۔ انسان لمبی امیدیں باندھ لیتا ہے اور دن رات لالچ کی وجہ سے دولت کو دونوں ہاتھو ں سے سمیٹنے میں لگا رہتا ہے ۔لیکن وہ اس بات کو بھول گیا ہے کہ موت اٹل حقیقت ہے اور کسی بھی وقت آ سکتی ہے ۔  ابو اللیث سمر قندی فرماتے ہیں کہ خواہش دو طرح کی ہوتی ہے ۔ ایک خواہش دنیاوی لذت اور حوس ہے جو انسان کو فرائض کی ادائیگی سے غافل کر دیتی ہے
اور وہ دولت کی لالچ میں آخرت کو بھول جاتا ہے ۔ اور دوسری خواہش وہ ہوتی ہے جو نا قابل مذمت ہوتی ہے یعنی ایسی خواہش جس کی تکمیل کی وجہ سے انسان احکام الہی کی بجا آوری میں کوئی رکاوٹ نہ آنے دے ۔ 
انسان کو اپنی لامتناہی خواہشات کو لگام ڈال کر رکھنی چاہیے ۔اگر خواہشات کی لگام کو ایسے ہی چھوڑ دیا جائے تو انسان دنیا کی محبت اور مال و دولت کی حرص کی  وجہ سے اپنی عاقبت کو بھی خراب کر لیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :”ایک بوڑھے کا دل دو باتوں میں جوان رہتا ہے۔ دنیا کی محبت میں اور دوسرا خوہشات  کی طوالت میں“( بخاری )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر آدمی کے پاس سونے کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کی خواہش کرے گا ۔ آدمی کے پیٹ کو سوائے قبر کی مٹی کے کوئی چیز نہیں بھر سکتی ۔ جب وہ توبہ کر تا ہے اور خود کو حر ص و لالچ سے پاک کر لیتا ہے تو اللہ تعالی اس کی توبہ کو قبول فرماتا ہے ۔(بخاری )۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ خوف خواہشات نفس اور لمبی لمبی امیدیں رکھنے کا ہے ۔رہی بات خواہشات نفس کی تو یہ  انسان کو حق سے روک لیتی ہیں اور لمبی لمبی امیدیں آخرت کو بھلا دیتی ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ دنیا فانی ہے اور آخرت آنے والی ہے ۔ دونوں میں  سے ہر ایک کے کچھ بندے ہیں اگر تم سے ہو سکے تو دنیا کے بندے مت بنو ۔ ایسا ضرور کرو ۔ بلا شبہ آج تم ایسی جگہ میں  ہو جس میں بھرپور عمل کیا جا سکتا ہے۔
اور حساب کتاب نہیں ۔ لیکن کل بروز قیامت تم ایسی جگہ پہنچ جاؤ گے جس میں حساب لیا جائے گا اور عمل نہیں کیا جا سکے گا ۔ ( بہیقی )۔

بدھ، 30 ستمبر، 2026

ملازمین کے ساتھ حسن سلوک

 

ملازمین کے ساتھ حسن سلوک

انسان جب اپنے ہم مرتبہ لوگوں سے بات چیت کرتا ہے تو اخلاقی قدروں کو ملحوظ خاطر رکھتا ہے اور جب اپنے ماتحت لوگوں سے معاملہ کرتا ہے تو ان کو اپنے سے کم تر سمجھتا ہے اور تمام اخلاقی قدروں کو پامال کر دیتا ہے ۔  اور اس کی عزت و نفس کا بھی خیال نہیں رکھتا ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے اپنے ماتحت لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیا ۔اور اپنے سے بڑے اور چھوٹے سب کے ساتھ ایک جیسے معاملات رکھنے کا حکم  فرمایا۔
حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں اپنے غلام سے کسی بات پر ناراض ہو گیا اور اسے درّے سے مارنے لگا ۔ اتنے میں میرے پیچھے سے آواز آئی ۔ اے ابو مسعود جان لو ! مگر میں شدید غصے کی وجہ سے آواز پہچان نہ سکا جب آواز دینے والا میرے قریب آ گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ رسول کریم ﷺ ہیں اور آپ فرما رہے تھے ۔ اے ابو مسعود ! جان لو تمہیں اس غلام پر قابو حاصل ہے اس سے زیادہ قابو اللہ تعالی کو تمہارے اوپر حاصل ہے ۔
یہ سن کر میرے ہاتھ سے کوڑا گر گیا اور میں نے کہا کہ میں کبھی اس غلام کو نہیں ماروں گا ۔ میں اس غلام کو اللہ کے  لیے آزاد کر تا ہوں ۔ یہ سن کر حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں اگر تم ایسا نہ کرتے تو تمہیں آگ چھو لیتی ۔ ( جامع الاصول) ۔
حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضور  ﷺ سے پوچھا ہم ملازم کو ایک دن میں کتنی بار معاف کر دیا کریں ۔ آپ ﷺ خاموش رہے اس نے دوسری مرتبہ پوچھا آپ ﷺ خامو ش رہے ۔ اس نے پھر  یہ ہی سوال پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا اسے ہر روز ستر مرتبہ معاف کر دیا کرو ۔ ( ابی داؤد ) ۔
حضور نبی کریم ﷺ نے غلاموں کے متعلق ارشاد فرمایا : وہ تمہارے بھائی ہیں جنہیں اللہ تعالی نے تمہارے ماتحت کر دیا ہے ۔ تو جس کے ماتحت اس کا بھائی ہو اسے چاہیے کہ جو خود کھاتا ہے اسے بھی وہ ہی کھلائے جو خود پہنتا ہے اس کو بھی پہنائے ۔ اور اس سے اس کی طاقت سے زیادہ کوئی کام نہ کروائے ۔ اگر اسے کوئی ایسا کام کہہ دے تو خود بھی اس کی مدد کرے ۔
 آخری ایام میں حضور  ﷺ نے نماز کے ساتھ ماتحت لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین فرمائی ۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ جس وقت آپ ﷺ کا وصال ہوا تو آپ ﷺ آخری دم تک یہی فرما رہے تھے اے لوگو ! نماز کا خیال رکھنا اور اپنے غلاموں کا خیال رکھنا  ( ابن ماجہ ) ۔

منگل، 29 ستمبر، 2026

شیخ عبد القادر جیلانی محبوب سبحانی ؒ(۳)

 

شیخ عبد القادر جیلانی محبوب سبحانی ؒ(۳)

آپ ؒ کو جو ہدیہ یا تحائف پیش کیے جاتے ان کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے ۔جو ہدیہ آپ ؒ کی خدمت میں پیش ہوتا وہ اسی وقت حاضرین میں  تقسیم کر دیا جاتا اور ہدیہ دینے والے کو خود بھی کچھ دیتے اور فرماتے کہ یہ حضور ﷺ کی سنت مبارکہ ہے کہ جو کچھ آپ کو دیا جائے اس  سے بہتر کچھ دیا جائے ۔ آپ ؒ کے لیے تیسرے پہر چار روٹیاں لائی جاتیں تو آپ ان میں سے ایک ایک ٹکڑا حاضرین کو دیتے اور پھر  جو کچھ بچتا وہ خود کھا لیتے ۔ 
آپ ؒ کسی امیر کی تعظیم میں کھڑے نہیں ہوتے تھے اور نہ ہی کسی امیر کے در پر جاتے تھے ۔ آپ ؒ کے پاس خلیفہ آتا تو آپ کے ہاتھ چومتا اور ادب سے دست بستہ آپ ؒ کے سامنے بیٹھ جاتا اور آپ ؒ ا س سے بے باکی سے گفتگو فرماتے ۔ شیخ ابو المظفرمنصور لکھتے ہیں کہ حضور غوث اعظم ؒ سے بڑھ کر میں نے کسی کو خوش خو ، مہربان ، کریم النفس ، حوصلہ والے ، وعدہ وفا اور دوستی  نبھانے والا نہیں دیکھا ۔ آپ ؒ کی مجلس میں رعب ایسا تھا کہ کسی کو دم مارنے کی مجال نہ ہوتی اور سکون ایسا کہ خدمت میں حاضر ہونے  والے باہر کی تمام فکریں بھول جاتے ۔ 
آپ ؒ بہت سخی ، مسکین نواز تھے ، مہمانوں اور خاص طور پر غرباء و مساکین کے ساتھ بیٹھ کر کھانا تناول فرماتے ۔ ان کے ساتھ اخلا ص و محبت کے ساتھ بات چیت کرتے ۔ان کی بُرائیوں کو چھپاتے اور اچھائیوں کی تعریف کرتے ۔ آپ ؒ خوش اخلاق اور مستجاب الدعوات تھے ۔ 
آپ ؒ کی زبان سے کبھی فحش گوئی اور بے ہودہ کلام نہ نکلا اور نہ ہی کسی کو آپ ؒ کے سامنے فحش گوئی کی جرات ہوتی ۔ اللہ تعالی کے احکام کے برعکس  کوئی کام ہوتا دیکھتے تو اسے نرمی سے سمجھاتے ۔کوئی بھی سائل آپؒ کے دربار سے خالی نہ جاتا اور مانگنے والا جو کچھ مانگتا آپ ؒ عطا فرماتے ۔
 آپ ؒ نے فرمایا پیر وہ ہے جس کو ظاہری شریعت کا علم ہو ، وہ علم حقیقت جانتا ہو ، اپنے پاس آنے والوں کے ساتھ عمدگی اور خندہ پیشانی سے ملتا ہو ، مسافر کو کھانا کھلاتا ہو ، غرباء اور بے حیثیت لوگوں کے ساتھ قول اور فعل دونوں میں عجز و انکساری کے ساتھ پیش آتاہو اور مریدین کی باطنی تربیت اورتعلیم کی لیاقت رکھتا ہو ۔اور خود بھی ریاء ، حسد ، طمع ، خود بینی ، غفلت اور عیش طلبی سے پاک ہو ۔  حضور غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی شان کسی ایک لقب ، ایک واقعے یا ایک کرامت میں محدود نہیں کی جاسکتی ۔بغداد کی سرزمین پر آپ ؒ نے  ایسا اثر چھوڑا جو صدیوں گزرنے کے باوجود دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں میں زندہ ہے ۔

طہارت (۱)

  طہارت (۱) ایمان کے بعد بندے پر سب سے پہلے جو چیز فرض ہے وہ طہارت حاصل کرنا ہے تا کہ نماز ادا کر سکے ۔طہارت سے مراد نجاست اورجنابت سے بدن ک...