ہفتہ، 31 اکتوبر، 2026

نفاق اور اس کی علامات (۳)

 

نفاق اور اس کی علامات (۳)

منافقین کی مذمت میں اللہ تعالی نے پوری سورۃ المنافقون نازل فرمائی ہے ۔اس سورہ میں اللہ تعالی نے منافقین کے مختلف احوال  بیان فرمائے ہیں کہ منافق کس طرح زبان سے حضور ﷺ پر ایمان لانے کا کہتے لیکن دل سے وہ اس کے مخالف ہیں اور منافقین قسمیں  اٹھاتے ہیں تاکہ قید اور قتل سے بچ سکیں۔ لیکن ان کا عمل یہ ہے کہ یہ لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں اور انہیں ایمان لانے اور اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرنے سے روکتے ہیں۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : 
جب منافق تمہارے حضور حاضر ہوتے ہیں کہتے ہیں کہ حضور بیشک یقینا اللہ کے رسول ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ تم اس کے رسول ہو اور  اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافقین ضرور جھوٹے ہیں ۔ انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال ٹھہرا لیا تو اللہ کی راہ سے روکا۔ بیشک وہ بہت ہی بُرے  کام کرتے ہیں ۔یہ اس لیے کہ وہ زبان سے ایمان لائے پھر دل سے کافر ہوئے تو اُن کے دلوں پر مہر ثبت کر دی گئی تو اب وہ کچھ نہیں سمجھتے۔(المنافقون :آیت ۱، ۲، ۳)
اس سے اگلی آیت میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ یہ لوگ دیکھنے میں بڑی جسامت والے لگتے ہیں اور جب بولتے ہیں تو ان کی بات غور سے سنو گے حالانکہ ان کی حال ایسے ہے جیسے کوئی لکڑی دیوار کے سہارے کھڑی کی گئی ہو اور یہ لوگ ہر بلند ہونے والی آواز کو اپنے ہی خلاف سمجھ لیتے ہیں اور یہ ڈرتے ہیں کہ ان کے حق میں کوئی ایسا مضمون نازل ہوا ہے جس سے ان کے راز فاش ہو جائیں گے۔
ارشاد باری تعالی ہے :اور جب انہیں دیکھے تو ان کے جسم تجھے بھلے معلوم ہوں اور اگر بات کریں تو اُن کی بات غور سے سنے گویا وہ لکڑیاں ہیں دیوار سے ٹکائی ہوئی۔ ہر بلند آواز اپنے ہی اوپر لے جاتے ہیں وہ دشمن ہیں تو ان سے بچتے رہو اللہ انہیں مارے کہاں اوندھے جاتےہیں ۔ ( المنافقون :آیت ۴)۔
جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا آخری زمانے میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو دھوکہ اور فریب کے ساتھ دین کے ذریعے دنیا کمائیں گے لوگوں کو نرمی دکھانے کے لیے بھیڑ کی کھال پہنیں گے ، ان کی زبانیں شکر سے زیادہ میٹھی ہوں گی اور ان کے دل بھیڑیوں کے دل کی طرح ہوں گے ، اللہ تعالی ان سے کہے گا کیا تم میرے ساتھ دھوکہ کرتے ہو یا مجھ پر  جراء ت کرتے ہو ، مجھے اپنی ہی قسم ہے کہ میں ان لوگوں پر ان ہی میں سے ضرور فتنہ بھیجوں گا جو ان میں سے سمجھ دار لوگوں کو بھی حیران اور  پریشان کر دے گا ۔ ( ترمذی )۔

جمعہ، 30 اکتوبر، 2026

نفاق اور اس کی علامات (۲)

 

نفاق اور اس کی علامات (۲)

سورۃالبقرہ کی آیت نمبر 11اور 12 میں منافقین کی نشانی یہ بتائی ہے کہ یہ لوگ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارا مقصدتو صرف اصلاح کرنا ہے ۔لیکن اللہ تعالی مومنین سے فرماتا ہے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں اور انہیں اس بات کو شعور ہی نہیں ۔ارشاد باری تعالی ہے :’’ اور جب ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔ وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں‘‘۔منافق کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ وہ خود کو سمجھدار اور دوسروں کو احمق سمجھتا ہے لیکن اللہ تعالی فرماتا ہے کہ حقیقت میں یہی احمق ہیں ۔ اور انہیں اس بات کا علم نہیں ۔ارشاد باری تعالی ہے :’’اور جب ان سے کہا جائے ایمان لائو جیسے اور لوگ ایمان لائے ہیں تو کہیں کیا ہم احمقو ں کی طرح ایمان لائیں ؟ وہی احمق ہیں مگر جانتے نہیں‘‘۔ (البقرہ :آیت ۱۳)
سورۃ البقرہ میں ہی اللہ تعالی فرماتا ہے :اور جب ایمان والوں سے ملیں تو کہیں ہم ایمان لائے اور جب اپنے شیطانوں کے پاس اکیلے ہوں تو کہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں ہم تو یونہی ہنسی مذاق کرتے ہیں ۔اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی نے منافقین کی نشانی بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب یہ مسلمانوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تو مسلمان ہیں لیکن جب دوسرے گروہوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تو مذاق کر رہے تھے ہم تمہارے ساتھ ہیں ۔ اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی نے خبر دارکیا ہے کہ وہ منافقین کے فریب سے ہوشیار رہیں  اور ان کو راز کی باتیں نہ بتائیں ۔جیسا کہ سورۃ اٰل عمران میں اللہ تعالی ارشادفرماتا ہے :اے ایمان والو غیروں کو راز نہ بتائو وہ تمہاری برائی میں کمی نہیں کریں گے ۔وہ چاہتے ہیں کہ تم مشقت میں پڑ جائو ۔ بیشک ان کا بغض منہ سے ظاہر ہو چکا ہے اور جو ان کے دلوں میں چھپا ہوا ہے وہ اس سے بھی بڑھ کر ہے ۔ بیشک ہم نے تمہارے لیے آیتیں کھول کر بیان کر دیں اگر تم شعور رکھتے ہو ۔خبر دار یہ تم ہی ہو جو انہیں چاہتے ہو اور وہ تمہیں نہیں چاہتے حالانکہ تم تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہو اور جب وہ تمہیں ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لا چکے ہیں اور جب تنہائی میں ہوتے ہیں تو غصے میں انگلیاں چباتے ہیں ۔ اے محبوب (ﷺ) تم فرمادو غصے میں مر جائو بیشک اللہ دلوں کی بات خوب جانتا ہے ۔اگر تمہیں بھلائی پہنچے تو انہیں بُرا لگتا ہے اور اگر تمہیں کوئی بُرائی پہنچے تو یہ خوش ہوتے ہیں اور اگر تم صبر کرو اور تقوی اختیار کرو تو ان کا مکرو فریب تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔

جمعرات، 29 اکتوبر، 2026

نفاق اور اس کی علامات (۱)

 

نفاق اور اس کی علامات (۱)

نفاق کے لغوی معنی دو رُخا پن اور حقیقت کو چھپانے کے ہیں ۔ اسلامی اصطلاح میں نفاق کی ایک صورت یہ ہے کہ انسان زبان سے تو ایمان کا اظہار کرے لیکن دل میں انکار کرے اسے نفاق اعتقادی کہتے ہیں ۔ اس کے علاوہ جھوٹ بولنا ، وعدہ خلافی کرنا ، امانت میں خیانت کرنا اور قول و عمل میں تضاد رکھنا اسے نفاق عملی کہا جاتا ہے ۔ (بہار شریعت )
اللہ تعالی نے سورۃ البقرہ میں منافقین کی نشانیاں اور ان کا احوال بیان کیا ہے جس میں سب سے پہلے یہ ہے کہ وہ زبان سے توکہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں لیکن دل سے اس بات کا اقرار نہیں کرتے ۔ ’’ اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائے اور وہ ایمان والے نہیں ۔فریب دینا چاہتے ہیں اللہ اور ایمان والوں کو اور درحقیقت میں فریب نہیں دیتے مگر اپنی جانوں کو اور انہیں شعورنہیں ‘‘۔ (البقرہ:آیت ۸،۹)
سورۃ المنافقون میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :’’ بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دیناچاہتے ہیں اور وہی انہیں غافل کر کے مارے گا اور جب نماز کو کھڑے ہوں تو ہارے جی سے لوگوں کو دکھاوا کرتے ہیں اور اللہ کو یاد کرتے مگر تھوڑا‘‘۔ 
یعنی منافقوں کی ایک بُری عادت یہ ہے کہ وہ گمان کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالی کو دھوکا دینا چاہتے ہیں مگر حقیقت میں وہ نبی کریم ﷺ مسلمانوں کو دھوکا دیناچاہتے ہیں کیونکہ اللہ تعالی کو حقیقی طور پر دھوکا دینا ممکن ہی نہیں ۔اللہ تعالی فرماتا ہے کہ ان کا نفاق نہ اللہ پر چلے ، نہ ہی اس کے رسول ﷺ پر اور نہ ہی مومنین پر بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ اپنی جانوں کو دھوکہ دے رہے ہیں اور انہیں اس بات کابالکل بھی شعور نہیں۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے اس نفاق کا بدلہ لے گا اور انہیں غافل کرکے مارے گا ۔
دنیامیں یہ لوگ رسوا ہوں گے اور بروز قیامت اللہ تعالیٰ انہیں عذاب دے گا ۔ اور منافق کی ایک علامت یہ بتائی کہ یہ نماز کے لیے مسلمان کیساتھ کھڑے ہوتے ہیں لیکن دل میں سستی ہوتی ہے ۔ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر دس میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے ’’: ان کے دلوں میں بیماری ہے تو اللہ نے ان کی بیماری اور بڑھائی اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے بدلہ ان کے جھوٹ کا ‘‘۔اس آیت مبارکہ میں منافقین کی دل کی بیماری منافقت کا ذکر کیا گیا ہے اور انہیں زبان سے جھوٹ بولنے پر سخت عذاب کی وعید سنائی گئی ہے ۔

بدھ، 28 اکتوبر، 2026

اصلاح معاشرہ اور نبی کریم ﷺ کی حکمت عملی

 

اصلاح معاشرہ اور نبی کریم ﷺ کی حکمت عملی

حضور نبی کریم ﷺ کی اسلامی معاشرے کی اصلاح کی بنیاد اللہ تعالی کی واحدانیت کے ازلی اور ابدی اصولوں پر مبنی ہے ۔ایک ایسا معاشرہ جس کے افراد ایک جسم کی مانند ہیں جب کسی جسم کے ایک حصے کو تکلیف ہوتی ہے تو اس تکلیف کو پورا جسم محسوس کرتا ہے ۔ اسلامی معاشرے کی مثال ایک خاندان کی طرح ہے اور اسلامی اخوت و بھائی چارے سے جڑا ہے کہ ہر فرد پورے کنبے کی امن و سلامتی کا ذمہ دار ہے ۔ 
اسلامی معاشرے کی سب سے پہلی بنیاد توحید ہے ۔معاشرے کے ہر فردکے لیے لازم ہے کہ وہ اس بات پر پختہ یقین رکھے کہ اس کائنات کا خالق و مالک اللہ تعالی وحدہ لاشریک ہے اور ساری کائنات اس کی محتاج ہے جو بھی کام ہوتا ہے اللہ تعالی کے چاہنے سے ہوتا اوراگر وہ نہ چاہے تو کوئی کام نہیں ہوسکتا ۔اللہ تعالی کی تو حید پر جس قدر پختہ یقین ہو گا اسی قدر بندے کا دل بے ایمانی ، خیانت ، خود غرضی ، نفاق اور لالچ سے پاک ہو گا اوروہ دل جو ان چیزوں سے پاک ہوں گے ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد رکھیں گے۔
اللہ تعالی کی وحدانیت کے ساتھ جب تک حضور نبی کریم ﷺ کی اتباع نہ کی جائے اس وقت تک کوئی بھی معاشرہ مکمل نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالی کی واحدانیت کے ساتھ ساتھ اتباع رسول ﷺ لازم و ملزوم ہے ۔ توحید باری تعالی کا رنگ صرف اسی صورت میں صحیح معنوں میں نظر آتا ہے جب معاشرے کا ہر فرد حضور نبی رحمت ﷺ کی سنت کی عملی طور پر پیروی کرے گا ۔ کیونکہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اگر تم چاہتے ہو کہ میں تم سے محبت کروں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ تم میرے محبوب ﷺ کی اتباع کرو ۔توحید باری تعالی اور رسالت کے بعد معاشرتی عوامل میں سے تیسرا عامل آخرت پر یقین ہے جس کی وجہ سے انسان ہوشیار رہتا کہ ایک دن آئے گا جس دن مجھے اپنے کیے کی جزا و سزا ملے گی ۔ انسا ن محاسبے اور جوابدہی کے خوف سے ڈرتا رہتا ہے جس کی وجہ سےوہ کبھی گناہ اور شروفساد کے قریب نہیں جاتا ۔جب افراد میں توحید ، اتباع سنت اور فکر آخرت پریقین پختہ ہو جاتا ہے تو ہر فرد فتنہ و فسادکے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہو جاتا ہے ۔حضور نبی کریم ﷺ نے اسلامی معاشرے کی بنیاد تقویٰ ، خدا خوفی ، عدل و انصاف ، احساس ذمہ داری ، حقوق و فرائض کی ادائیگی جیسے سنہری اصولوں پر رکھی ۔

منگل، 27 اکتوبر، 2026

اصلاح معاشرہ

 

 اصلاح معاشرہ  

انسانی معاشرہ جب بھی بگاڑ ، نا انصافی اور اخلاقی پستی کے اندھیروں میں ڈوبتا ہے تو اسے کسی ایسے رہنماکی ضرورت ہوتی ہے جو دلوں کو بدل کر ایک پُر امن معاشرے کی بنیاد رکھ سکے ۔ بنی نو ع انسانیت کی اصلاح کے لیے انبیاء کرام علیہم السلام کا یہ سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا اور اللہ تعالی کے برگزیدہ نبیوں سے ہوتا ہوا حضور نبی کریم ﷺپر اختتام پذیر ہوا اور اس کے بعد اللہ تعالی نے امت کی اصلاح کا کام صحابہ کرام علیہم الرضوان اور اولیاء کاملین سے لیا ۔انسان نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لیے معاشرتی امن و سلامتی کو خود اپنے ہاتھوں سے تباہ کرتا ہے اور پھر مصائب و آلام میں مبتلا ہو کر اپنی زندگی کو عذاب بنا لیتا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے :خشکی اور تری میں ان برائیوں سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں تا کہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے ،کہیں وہ باز آجا ئیں ۔ ( سورۃ الرو م)
جب حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم معاشی خوشحالی کے باوجود کاروبار میں بددیانتی اور ناپ تول میں کمی کرنے لگے تو انہوں نے اپنی قوم سے کہا : ناپ اور تول میں کمی نہ کرو بیشک میں تمہیں آسودہ حال دیکھتا ہوں اور مجھے تم پر گھیر لینے والے دن کے عذاب کا ڈر ہے ۔ ( سورۃ ھود )
 حضرت شعیب علیہم السلام نے اپنی امت کی اصلاح کرتے ہوئے انہیں فرمایا :اے میری قوم مجھے بتائو کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل یعنی علم و حکمت ، ہدایت و رہنمائی اور نبوت سے نوازا گیا ہے اور اللہ تعالی نے مجھے اپنے کرم سے رزق اور مال و دولت کی فراوانی عطا کی ہے تو کیا میرے لیے یہ جائز ہے کہ میں اپنے فرائض کی ادائیگی یعنی اس کا پیغام تم لوگوں تک پہنچانےمیں کوتاہی کروں ۔ اور میں یہ نہیں چاہتا کہ جس بات سے تمہیں منع کرو ں اور میں اس کے خلاف کرنے لگوں بلکہ حقیقت تو یہ ہےکہ میں زبان سے وہی کہتا ہوں جس پر خود عمل کرتا ہوں ۔میں تو جہاں تک بنے سنوارنا ہی چاہتا ہوں اور میری توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور اسی کی طرف رجوع ہوتا ہوں ۔ ہادی برحق نبی اکرم شافع محشر حضور ﷺ کی ذات گرامی کائنات کا وہ کامل ترین نمونہ ہے جنہوں نے طاقت یا جبر کے بغیر صرف اور صرف اپنی بے مثال حکمت عملی اور اعلیٰ اخلاق سے ایک بیمار معاشرے کو شفاء بخشی ۔

پیر، 26 اکتوبر، 2026

ایمان دل میں روشنی پیدا کرتا ہے

 

ایمان دل میں روشنی پیدا کرتا ہے


انسانی زندگی میں بعض تصورات ایسے ہیں جو محض الفاظ نہیں ہو تے بلکہ وہ کردار ، سوچ اور عمل کی بنیاد بن جاتے ہیں ۔ایمان ،یقین اور استقامت تین  ایسے تصورات ہیں جو فرد کے فکری ، روحانی اور عملی وجود کو ایک سمت عطا کرتے ہیں۔ اگر ان تینوں کو ایک لڑی میں پرو دیا جائے تو ایک مکمل شخصیت کی  تکمیل ہوتی ہے اور دنیاو آخرت میں کامیابی نصیب ہوتی ہے۔ انسان کے دل میں سب سے پہلی چیز جو جنم لیتی ہے وہ ایمان ہے ۔ ایمان وہ چیز ہے جو بندے کو اللہ تعالی کے وحدہ لاشریک ہونے ، اس کے رسولوں ،  کتب سماویہ ، ملائکہ ، اچھی اور بری تقدیر اور یوم آخرت پر یقین رکھنے کا درس دیتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :” رسول ایمان لایا اس پر جو اس کے رب کی طرف سے اس پر اترا اور ایمان والے ، سب نے مانا اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے  رسولوں کو “۔ ( سورۃ البقرہ )۔ 
ایمان ایک ایسا نور ہے جو انسان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آتا ہے ۔ ایمان صرف زبانی دعوے کا نام نہیں بلکہ اس کا اثر انسان کے اعمال اور کردار میں بھی نظر آنا چاہیے ۔ جب ایمان انسان کے دل میں مضبوط ہو جاتا ہے تو وہ یقین میں ڈھل جاتا ہے ۔ یقین ایک ایسا درجہ ہے جس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں ۔ارشاد باری تعالی ہے : اور زمین میں نشانیاں ہیں یقین والوں کے لیے “۔ ( سورۃ البقرہ )۔ یقین انسان کو مشکل وقت میں بھی اپنے رب پر بھروسہ رکھنے کا حوصلہ دیتا ہے ۔جس کی مثالیں ہمیں انبیاءکرام ، نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کی زندگیوں سے ملتی ہیں کہ کس طرح انہوں نے مشکلات و مصائب میں اللہ تعالی پر کامل یقین رکھا اور اللہ تعالی نے انہیں کامیابی عطا فرمائی ۔ 
جب انسان حق کو پہچا ن کر اسے دل و جان سے تسلیم کرتے ہوئے اس پر ڈٹ جائے اور ثابت قدم رہے تو اسے استقامت کہتے ہیں ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ” بیشک جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے ان پر فرشتے اترتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو “۔ ( سورۃ الفصلت )۔
کسی بھی بات پر قائم رہنا آسان نہیں ۔ یہ صبر ، قربانی اور حوصلے کا تقاضا کرتی ہے ۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان کی زندگیاں ہمارے لیے استقامت کا عملی  نمونہ ہیں کہ کس طرح انہیں طرح طرح کی تکالیف دی گئیں لیکن وہ استقامت کے ساتھ اپنے دین پر قائم رہے ۔ حضرت بلال حبشیؓ کو تپتی ریت پر لٹایا  گیا آپ کے جسم پر پتھر رکھے گئے لیکن آپؓ کی استقامت کا یہ عالم تھا کہ آپ احد احد ہی کی صدا بلند کرتے تھے ۔ 
ایمان بندے کے دل میں روشنی پیدا کرتا ہے ، یقین اس روشنی کو مستقل قوت دیتا ہے اور استقامت اس قوت کو آزمائش میں ثابت کرتی ہے ۔  ایمان ، یقین اور استقامت ایک ایسا نظام ہے جو انسان کو دنیا و آخرت میں کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے ۔ جب انسان ان تینوں صفات کو اپنا لے تو وہ نہ صرف خود کو سنوارتا ہے بلکہ معاشرے کی بھی اصلاح کرتا ہے ۔ اللہ تعالی ہمیں سچا ایمان ، مضبوط یقین اور استقامت عطا فرمائے ۔ آمین 

اتوار، 25 اکتوبر، 2026

خلوت اختیار کرنے کی فضیلت

 

خلوت اختیار کرنے کی فضیلت

حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ سے عرض کی گئی کہ یا رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سے افضل کون کون ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ مومن جو اپنے مال اور جان کے ساتھ اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرے ۔صحابہ کرام نے پھر عرض کی یارسول اللہ ﷺ پھر کون آپ ﷺ نے فرمایا وہ مومن جو گھاٹی میں رہے اور اللہ تعالی سے ڈرتا رہے اور لوگوں کو شر نہ پہنچائے ۔ ( بخاری شریف ) 
بخاری شریف میں اسود بن یزید نخعی ؓ سے مروی ہے کہ میں نے ام المئومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ جب گھر آتے تو کیا کرتے تھے ۔ حضرت عائشہؓ نے کہا آپﷺ گھر کے کاموں میں مشغول رہتے اور جب نماز کا وقت ہوتا تو اٹھ کر نماز کے لیے چلے جاتے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب بندہ اعلانیہ طور پر نماز ادا کرتا ہے اور اچھے طریقے سے نماز اداکرتا ہے اور خلوت میں جب نما ز ادا کرتا ہے اور اچھے طریقے سے ادا کرتا ہے تو اللہ تعالی فرماتا ہے درحقیقت یہ بندہ اللہ تعالی کا بندہ ہے ۔ (ابن ماجہ)حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : قریب ہے مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہوں گی جن کو وہ پہاڑ کی چوٹی بارش کے برسنے کی جگہوں میں لے جائے گا ۔ اس حال میں کہ اپنے دین کے سبب فتنوں سے بھاگے گا اس میں اس شخص کے لیے تنہائی میں رہنے کی فضیلت ہے جس کو اپنے دین کا خوف ہو ۔ ( بخاری ) حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبوت کے آغاز میں سب سے پہلے اللہ تعالی نے آپ کی کرامت اور اپنے بندوں پر اپنی رحمت کے اظہار کا ارداہ فرمایا تو نبی کریم ﷺ جو بھی چیز خواب میں دیکھتے وہ روز روشن کی طرح پوری ہو جاتی تھی ۔ جب تک اللہ تعالی کو منظور تھاایسا ہی رہا پھر آپ کو خلوت نشینی پسند آگئی اس وقت آپ ﷺ کے نزدیک خلوت سے زیادہ پسندیدہ چیز کوئی نہیں تھی ۔ ( ترمذی ) 
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا تمہیں سب سے بہتر لوگوں کے بارے میں نہ بتلائو ں ایک وہ شخص ہے جو اللہ تعالی کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام پکڑ لیتا ہے اور نکل کھڑ اہوتا ہے کیا جو شخص اس کے بعد ہو گا یہ وہ شخص ہے جو بکریاں لے کر لوگوں سےالگ ہو جاتا ہے اور ان کے بارے میں اللہ تعالی کے حق کو ادا کرتا ہے کیا میں تمہیں سب سے بد ترین شخص کے بارے میں نہ بتائوں یہ وہ شخص ہےجس سے اللہ تعالی کے نام پہ مانگا جائے وہ نہ دے ۔ ( ترمذی )

نفاق اور اس کی علامات (۳)

  نفاق اور اس کی علامات (۳) منافقین کی مذمت میں اللہ تعالی نے پوری سورۃ المنافقون نازل فرمائی ہے ۔اس سورہ میں اللہ تعالی نے منافقین کے مختلف...