مومن (۴)
اللہ تعالی نے سورۃ المومنون میں کامیاب لوگوں کے اوصاف بیان کیے ہیں کہ وہ نماز خشوع وخضوع کے ساتھ پڑتے ہیں ، بیہودہ کلام نہیں کرتے ، اپنے مال کی زکوۃ ادا کرتے ہیں ، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں اپنا عہد پورا کرتے ہیں ۔
ارشاد باری تعالی ہے : بیشک مراد کو پہنچے ایمان والے ۔ جو اپنی نماز میں گڑگڑاتے ہیں ۔ اور وہ جو کسی بیہودہ بات کی طرف التفات نہیں کرتے ۔ اور وہ کہ زکوۃ دینے کا کام کرتے ہیں ۔ اور وہ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔ مگر اپنی بیبیوں یا شرعی باندیوں پر جو ان کے ساتھ کی ملک ہیں کہ ان پرکوئی ملامت نہیں ۔ تو جو ان دو کے سوا کچھ اور چاہے وہی حد سے بڑھنے والے ہیں ۔ اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہیں ۔اور وہ جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں ۔ یہی لوگ وارث ہیں کہ فردوس کی میراث پائیں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔ (آیت:۱ تا ۰۱)۔
حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس مسلمان پر فرض نماز کا وقت آ جائے اور وہ اس نماز کا اچھی طرح وضو کرے پھر انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ نماز میں رکوع کرے تو وہ نماز اس کے سابقہ گناہوں کا کفارہ ہو جا تی ہے جب تک کہ وہ کوئی کبیرہ گناہ نہ کرے اور یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا ۔ ( مسلم )۔
نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت کرے اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھی بات زبان سے نکالے ورنہ خاموش رہے ۔ (بخاری )۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا مومن نہ تو طعنہ دینے والاہوتا ہے ، نہ لعنت کرنے والا ، نہ بے حیا اور نہ ہی بد زبان ہوتا ہے۔(ترمذی شریف)۔
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دے دو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں ۔ بات کرو تو سچ بولو ، وعدہ کرو تو پورا کرو ، تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو ادا کرو ، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو ، اپنی نگاہوں کو پست کرو اور اپنے ہاتھوں کو روکو ۔ ( مستدرک )
حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا :مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں اور مومن وہ ہے جس سے لوگوں کو اپنی جان و مال کے بارے میں خطرہ نہ ہو ۔( نسائی )۔






