عورت بحیثیت ماں ، بیٹی اور بیوی(2)
اسلام سے قبل عرب میں بیٹی کو عار سمجھاجاتا تھااور اسے زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے :’’اور جب ان میں کسی کو بیٹی ہونے کی خبر دی جاتی ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غصہ کھاتا ہے۔ لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے۔ اس بْرائی کی بشارت کے سبب کیا اسے ذلت کے ساتھ رکھے گا یا اسے مٹی میں دبا دے گا۔ ارے بہت ہی بْرا حکم لگاتے ہیں۔( سورۃ النحل )۔
لیکن جب نبی رحمت ﷺ کی آمد ہوئی اور عرب میں اسلام کا سورج طلوع ہوا تو بیٹی کو عزت دی گئی اور اسے زندہ در گور کرنے سے سختی سے منع کیا گیا۔
نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کے ہاں بیٹی پیدا ہو وہ اسے زندہ درگور نہ کرے اوراسے ذلیل نہ سمجھے اور اپنے بیٹے کو اس پر ترجیح نہ دے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا۔ ( ابو دائود)۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں جب حضر ت فاطمہ رضی اللہ عنہا آتیں تو حضور نبی کریم ﷺ ان کو خوش آمدید کہتے، ان کے لیے کھڑے ہو کر سر پر بوسہ دیتے اور ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے۔ (الادب المفرد)۔
نبی کریمﷺ نے فرمایا جو شخص دو بچیوں کی بالغ ہونے تک کفالت کریگا بروز قیامت وہ میرے اتنا قریب ہوں گے جتنا میرے ہاتھ کی دو انگلیاں قریب ہیں۔ ( مسلم )۔
اسلام میں بیوی کے حقوق بھی بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔اسلام سے قبل اہل عرب کا یہ دستور تھاکہ مال کی طرح اپنے رشتہ داروں کی بیویوں کے بھی وارث بن جاتے۔ پھر چاہتے تو مہر کے بغیر انہیں اپنی زوجیت میں رکھتے یا کسی اور کے ساتھ شادی کر دیتے اوران کا مہر خود رکھتے یا انہیں شادی نہ کرنے دیتے اور اپنے پاس رکھتے تا کہ جو مال انہیں وراثت میں ملا ہے وہ انہیں دے دیں۔لیکن اسلام نے بیوی کو بھی مقام و مرتبہ عطا کیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آئے۔ (ترمذی)۔
حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا اپنی بیویوں کو وہی کھلائو جو خود کھاتے ہو، اسی معیار کا کپڑا دو جیسا تم خود پہنتے ہو اور انہیں نہ مارو اور نہ ہی ان کی توہین کرو۔(ابودائود)۔
نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بْرا مرد وہ ہو گا جو اپنی بیوی کی راز کی باتیں دوسروں کو بتائے۔ (مسلم)۔
اسلام نے عورت کو ہر حیثیت سے عزت و احترام دیا ہے۔ وہ ماں ہو تو جنت اس کے قدموں کے نیچے ، بیٹی ہو تو رحمت ہے اور اگر بیوی ہو تو سکون قلب کا ذریعہ ہے۔اسلام نے عورت کو تعلیم ، وراثت ، نکاح اور دیگر معاملات میں واضح حقوق عطا کیے ہیں۔*






