زکوۃ کی فضیلت و اہمیت (۳)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرے وہ مال قیامت کے دن گنجا سانپ بنا دیا جائے گا ، اس کی آنکھوں پر دو سیاہ نقطے ہوں گے ، اس سانپ کو اس کے گلے میں طوق بنادیا جائے گا پھر وہ اس شخص کو اپنے جبڑو ں سے پکڑے گا پھر کہے گا میں تیرا مال ہو ں ، میں تیرا خزانہ ہوں۔اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے یہ آیت مبارکہ تلاوت کی۔
ترجمہ : اور جو لوگ اس چیز میں بخل کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انہیں عطا کی ہے ( یعنی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے ) وہ ہرگز یہ گمان نہ کریں کہ وہ ان کے حق میں بہتر ہے بلکہ وہ ان کے حق میں بہت برا ہے ، عنقریب وہ مال جس میں انہوں نے بخل کیا قیامت کے دن انہیں اس کا طوق بنا کر ڈالا جائے گا۔ ( بخاری )۔
جو لوگ زکوٰۃ ادا نہیں کرتے نبی کریم ﷺ نے ان پر لعنت فرمائی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے سود کھانے والے ،سود کھلانے والے ، سود لکھنے والے اور صدقہ روکنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ ( سنن نسائی )۔
جو قوم زکوٰۃ ادا نہیں کرتی اللہ تعالیٰ اسے قحط سالی اور فاقہ میں مبتلا کر دیتا ہے۔حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو قوم بھی زکوٰۃ ادا کرنے سے رکی ہے اسے اللہ تعالیٰ نے قحط سالی میں مبتلا کیا ہے۔ ( معجم الاوسط )۔
قیامت کے دن فقرا اغنیا ء کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے عرض کریں گے اے اللہ انہوں نے ہمارے حقوق غصب کر کے ہم پر ظلم کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم آج میں تمہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ دوں گا اور انہیں دور کر دو ں گا۔ (معجم الاوسط)۔
زکوۃ ادا کرتے وقت چند آداب کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔ زکوۃ ادا کرتے وقت اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا کو مدنظر رکھنا چاہیے نہ کہ لوگوں کوخوش کرنے کو، زکوۃ دیتے وقت ریاکاری سے بچنا چاہیے کیونکہ ریاکاری والا عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول نہیں ، زکوۃ ہمیشہ حلال مال سے دی جانی چاہیے حرام مال کی زکوۃ اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرمائے گا۔آج کے دور میں جب مادہ پرستی نے انسان کو خود غرض بنا دیا ہے زکوۃ ہمیں ایثار ، ہمدردی اور اجتماعی ذمہ داری کا سبق دیتی ہے۔ اگر مسلمان زکوۃ کے نظام کو صحیح معنوں میں نافذ کر لیں تو غربت ، بے روزگاری اور ناانصافی جیسے مسائل ختم ہو جائیں گے۔






