مؤذنِ رسول ﷺ(۳)
جب لوگوں کو اس بات کا علم ہوا کہ سیدنا بلال حبشی رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ تشریف لے آئے ہیں تو بہت سارے لوگ جمع ہو گئے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کواذان سنانے کی درخواست کی ۔حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ جب میں حضور ﷺ کی ظاہری زندگی میں اذان دیتا تھا تو جس وقت ”اشھد ان محمد رسول اللہ “کہتا تو مجھے سامنے حضور ﷺ کاچہرہ انور نظر آتاتھا ۔ اب بتاؤ کیسے دیکھو ں گا۔
لوگوں کے بہت زیادہ اصرار پر بھی آپ ؓ اذان دینے کے لیے آمادہ نہ ہوئے ۔تو لوگ نبی کریم ﷺ کے نواسے حضرت حسن و حسین ؓ کو بلا لائے اور دونوں شہزادوں سے سفارش کرائی ۔حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے آ کر حضرت بلال کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : اے چچا جان ہمیں بھی وہ اذان سنائیں جو ہمارے نانا جان کو سنایا کرتے تھے ۔ سیدنا بلال حبشی نواسہءرسول ﷺ کو انکار نہ کر سکے اور ان کا ہاتھ پکڑ کر مسجد نبوی ﷺ کی چھت پر تشریف لے گئے ۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے اذان کہنا شروع کر دی ، مدینہ منورہ میں یہ بڑا عجیب اور غم کا وقت تھا۔ حضو ر ﷺ کو وصال فرمائے ایک عرصہ گزر چکا تھا ۔ حضرت بلال کی اذان سن کر لوگ مدینہ منورہ کی گلی کوچوں سے مسجد میں جمع ہونے شروع ہو گئے ۔ پردے والی عورتیں رونے لگیں ۔ بچے اپنی ماؤ ں سے پوچھتے تھے کہ حضرت بلال موذن رسولﷺ تو آ گئے ہیں حضور نبی کریم ﷺ کب تشریف لائیں گے ۔
حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے جب” اشھد ان محمد رسول اللہ“ زبان مبارک سے نکالا اور حضور ﷺ کو آنکھوں سے نہ دیکھ سکے تو غم ہجر میں بیہوش ہو کر گر گئے اور کافی دیر کے بعد ہوش آیا تو روتے روتے واپس ملک شام چلے گئے ۔
جب حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا وقت وفات قریب آیا تو آپ کی زوجہ نے بے قرار ہو کر کہا ہائے رے میری مصیبت ۔جب حضرت بلال ؓ نے یہ سنا تو آنکھیں اور کھول دیں اور فرمایا واہ رے میری خوشی ۔جو آپ ؓ کی زبان پر آخری کلمات تھے وہ یہ تھے کہ ہم اپنے دوستوں یعنی نبی کریم ﷺ اور صحابہ کریم ؓ سے ملاقات کریں گے ۔ ( احیا ءالعلوم )۔
حضرت سیدنا بلال حبشی رضی اللہ عنہ کا نام اسلام کی تاریخ میں ہمیشہ عزت و احترام سے لیا جائے گا ۔ آپ رضی اللہ عنہ استقامت کے پیکر ، عشق رسول ﷺ کے امین ، اذان کی روح اور اخلاص کے روشن چراغ تھے ۔ حضور نبی کریم ﷺ کی احادیث مبارکہ آپ ؓ کی عظمت کی گواہی دیتی ہیں جنت میں آپ ؓ کے قدموں کی آہٹ ان کی مقبولیت کی دلیل ہے ۔آپ ؓ کی پوری زندگی اس حقیقت کا اعلان ہے جو شخص اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ سے سچی محبت کرتا ہے اللہ تعالی اسے دنیا و آخرت دونوں میں سر بلند فرماتا ہے ۔






