جمعہ، 19 جون، 2026

حضرت سیدنا فاروق اعظمؓ (۱)

 

حضرت سیدنا فاروق اعظمؓ (۱)

حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ مراد رسولﷺ بھی ہیں اور مرید رسولﷺ بھی ہیں۔آپ کا قلب اطہر اللہ تعالیٰ کے انوار سے روشن تھا۔ آپ ؓنے حضور نبی کریمﷺ سے رشد و ہدایت اور روشنی حاصل کی اور بعد میں خود بھی نورو ہدایت کاسر چشمہ بن گئے۔
حضور نبی کریمﷺ نے بارگاہ الٰہی میں دعا فرمائی اے اللہ اسلام کو عمر بن خطاب یا پھر عمر وبن ہشام (ابو جہل ) کے ساتھ عزت عطا فرما۔ ایک دن سیدنا فاروق اعظم ؓ کو ایک شخص نے کہا کہ تمہارے بہنوئی اور تمہاری بہن نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ تویہ سن کر تیزی سے اپنی بہن کے گھر چلے گئے۔ اس وقت آپ کی بہن اور آپ کے بہنوئی قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے۔جب آپؓ گھر پہنچے تو پوچھا کہ تم لوگ کچھ پڑھ رہے تھے تم دونوں اپنا دین ترک کر چکے ہو۔ 
آپ کی بہن نے کہا اے عمر حق وہ نہیں جو تمہارا عقیدہ ہے میرا عقیدہ یہ ہے کہ میں گواہی دیتی ہوں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضورﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں۔ آپؓ نے پوچھا جو کتا ب تم لوگ پڑھ رہے تھے وہ مجھے بھی دو میں پڑھنا چاہتا ہوں۔ آپؓ کی بہن نے کہا اسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں۔ تم وضو یا غسل کر لو پھر اسے چھونا آپ نے اٹھ کر وضو کیا اور قرآن مجید سے سورۃ طٰحٰہ کی  تلاوت شروع فرمائی۔ جیسے جیسے تلاوت قرآن مجید پڑھتے گئے دل میں قبول اسلام کی شمع روشن ہوتی چلی گئی۔ آپؓ نے کہا مجھے آپﷺ کی بارگاہ میں لے چلیں۔ آپؓ نے حضور نبی کریمﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اسلام قبول فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کریم ﷺکی دعا کو قبول فرما کر اسلام کو عزت عطا فرمائی۔ 
 جس دن آپؓ نے اسلام قبول فرمایا تو حضور نبی کریم ﷺ نے آپ کے سینہ پر تین بار ہاتھ مارکر ارشاد فرمایا : اے اللہ عمر کے سینے میں جو بھی اسلام کی دشمنی ہے اسے نکال کر ایمان سے تبدیل کر دے۔ ( معجم کبیر )۔ 
جب حضرت سیدنا فاروق اعظمؓ نے اسلام قبول فرمایا تو جبرائیل امین آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی عمر بن خطابؓ کے اسلام لانے پر آسمان والے ایک دوسرے کو مبارک دے رہے ہیں۔ ( ابن ماجہ )۔ ابتدائے اسلام میں مسلمان چھپ کر عبات کیا کرتے تھے لیکن آپؓ کے اسلام قبول کرنے کے بعد آپؓ نے حضور نبی کریمﷺسے عرض کی یا رسول اللہﷺ اگر ہم سچے ہیں تو چھپ کر عبادت کیوں کرتے ہیں آج کے بعد ہم اعلانیہ کعبہ معظمہ میں عبادت کریں گے۔ اس طرح آپؓ کے قبول اسلام کے بعد مسلمانوں نے اعلانیہ عبادت شروع کی۔

جمعرات، 18 جون، 2026

آداب غذا

 

آداب غذا

یہ بات حقیقت ہے کہ انسان کا غذا کے بغیر گزارا نہیں ہے کیونکہ جسم کو طاقت غذا سے ہی ملتی ہے ۔
اگر جسم کو غذا نہ ملے تو اس سے جسم کمزور ہو جائے گا ۔ لیکن غذا کے استعمال کی شرط یہ ہے کہ اس میں  مبالغہ نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی رات دن کھانے پینے کی فکر ہونی چاہیے ۔  حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : جو پیٹ میں داخل کرنے ہی کی فکر میں رہتا ہے  اس کی قدرو قیمت وہ ہوتی ہے جو پیٹ سے خارج ہو تا ہے ۔
حضرت با یزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا آپ بھوکے رہنے کی اتنی زیادہ تعریف کیوں 
کرتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا اگر فرعون بھوکا رہتا تو ہر گز میں تمہارا سب سے بڑا رب ہو ں نہ کہتا ۔
اگر قارون بھوکا رہتا تو باغی نہ ہوتا اور لومڑی چونکہ بھوکی رہتی ہے اس لیے ہر ایک اس کی تعریف 
کرتا ہے جب پیٹ بھر جاتا ہے تو نفاق پیدا ہو جاتا ہے ۔ اللہ تعالی کافروں کی حالت بیان کرتے 
ہوئے فرماتا ہے : انہیں چھوڑو جو کھاتے اور عیش کرتے ہیں وہ اپنی خواہشوں میں مگن ہیں ۔ عنقریب 
وہ اپنا انجام جان لیں گے ۔
 ارشاد باری تعالی ہے : کافر لوگ عیش کرتے اور کھانے پینے میں ایسے ہیں جیسے جانور کھاتے ہیں
 ان کا ٹھکا نا جہنم ہے ۔
مشائخ طریقت نے ایسے ہی لوگوں کے بارے میں ارشاد فرمایا : ان کا کھانا بیماروں کی طرح ان کی نیند
گہری نیند والوں کی طرح اور ان کی گفتگو بچوں کی چیخ و پکار کی طرح ہوتی ہے ۔
غذا کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ تنہا نہ کھائے اور جو کھائے دوسروں کو بھی اس میں اپنے ساتھ شریک  کرے ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : سب سے زیادہ برا شخص وہ ہے جو اکیلا کھائے۔  غلام کو  مارے اور خیرات نہ دے ۔
غذا کے آداب میں سے ہے کہ جب دستر خواں پر بیٹھے تو خاموش بیٹھے اور بسم اللہ پڑھ کر کھانا شروع  کرے اور کوئی چیز اس طرح نہ رکھے یا اٹھائے جسے لوگ نا پسند کرتے ہو ں ۔اس کے بعد لازم ہے 
کہ دائیں ہاتھ سے کھانا کھائے اور اپنے لقمے کے سوا کسی کی طرف نہ دیکھے ۔ کھانے میں پانی کم پینا
چاہیے ، اور اس وقت پینا چاہیے جب سچی پیاس لگے اور اتنا پپیے جس سے جگر تر ہو جائے ۔ لقمہ بہت  بڑ ا نہیں ہو نا چاہیے اور اسے خوب چبا کر کھانا چاہیے ۔ کھانے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ان باتوں سے بد ہضمی پیدا ہوتی ہے اور سنت کے خلاف بھی ہے اور جب کھانا کھا کر فارغ ہو جائیں تو اللہ تعالی  کا شکر ادا کرنا چا ہیے اور پھر ہاتھ دھو لینے چاہیے ۔   
(بحوالہ کشف المحجوب)

بدھ، 17 جون، 2026

مسلمان کی حاجت روائی کی فضیلت

 

مسلمان کی حاجت روائی کی فضیلت

مسلمان کو چاہیے ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی مد د کرے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : نیکی اور پرہیز گاری میں ایک دوسرے کی معاونت کرو۔ (سورۃ المائدہ )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی مسلمان بھائی کی مدد اور فائدے کے لیے قدم اٹھاتا ہے ، اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے کا ثواب ملتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے ایسی مخلوق کو پیدا فرمایا ہے جن کا کام لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی قسم کھائی ہے کہ انہیں عذاب  نہیں کرے گا۔ جب قیامت کا دن ہو گا ان کے لیے نور کے منبر رکھے جائیں گے۔ وہ اللہ تعالی سے گفتگو کر رہے ہوں گے حالانکہ لوگ ابھی حساب میں ہوں گے۔ نبی کریمﷺ نے اشاد فرمایا :جو کسی مسلمان بھائی کی حاجت پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے چاہے اس کی حاجت پوری ہو یا نہ ہو اللہ تعالیٰ کوشش کرنے والے کے اگلے پچھلے سب گناہوں کو بخش دیتا ہے اور اس کے لیے دو باتیں لکھ دی جاتی ہیں، جہنم سے رہائی اور منافقت سے برائت۔ حلیہ میں ابو نعیم نقل کرتے ہیں کہ حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص کسی مسلمان بھائی کی حاجت پوری کرتاہے میں اس کے میزان کے قریب کھڑا ہوں گا اگر اس کی نیکیاں زیادہ ہوئیں تو ٹھیک ورنہ میں اس کی شفاعت کرو ں گا۔ 
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب کوئی شخص مسلمان بھائی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے چلتا ہے تو اللہ تعالی ہر قدم کے بدلے اس کے نامہ اعمال میں ستر نیکیاں لکھ دیتا ہے اور ستر گناہ معاف کر دیتا ہے۔ اگر وہ حاجت اس کے ہاتھوں پوری ہو جائے تو وہ گناہوں سے ایسے پاک ہو جاتا ہے جیسے ماں کے پیٹ سے آیا تھا اور اگر اسی دوران اس کی موت واقع ہو جائے تو بلا حساب جنت میں جائے گا۔ 
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے انعامات ہیں جو ان لوگوں کے لیے مخصوص ہیں جو لوگوں کی حاجت روائی کرتے رہتے ہیں اور جب وہ یہ طریقہ چھوڑ دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ وہ انعامات دوسروں کو منتقل کر دیتا ہے۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو کسی مسلمان کی پریشانی کو دور کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کی پریشانیوں میں سے اس کی ایک پریشانی دور فرمائے گا۔ ( مسلم شریف)۔

اتوار، 14 جون، 2026

ذکر الٰہی کی فضیلت و فوائد (۳)

 

ذکر الٰہی کی فضیلت و فوائد (۳)

حضرت سہل بن معاذؓسے مروی ہے :کہ نبی کریمﷺ سے ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہﷺ کون سے مجاہد کو سب سے زیادہ اجر ملتاہے فرمایا جو کثرت سے اللہ کا ذکر کرے۔ اس نے پھر عرض کی کس روزے دار کو زیادہ اجر ملتا ہے آپﷺ نے فرمایا ذکر کرنے والے کو۔ 
پھر اس نے نماز، زکوۃ ، حج اور صدقہ کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے ہر سوال کے جواب میں یہی فرمایا کہ ذکر کرنے والے۔ حضرت سیدنا صدیق اکبر ؓ نے حضرت عمر ؓ سے فرمایا اے ابو حفص بیشک ذکر کرنے والے ہی ساری خیر سمیٹ کے لے گئے۔ یہ سن کر نبی کریم ﷺنے فرمایا تم درست کہہ رہے ہو۔ ( المعجم الاوسط )۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سخت اعمال تین طرح کے ہیں ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے وقت نکالنا ، دوم ہر وقت اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہنا اور سوم یہ کہ اپنے بھائی کی مالی مدد کرنا۔ ( حلیۃ الائولیا )۔
حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کرو اور یہ کوشش کرو کہ صرف اسی کی صحبت میں بیٹھو جو اللہ تعالیٰ کے ذکر میں تمہاری مدد کرے۔ ( شعب الایمان )۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آسمان والے زمین پر ذکر کرنے والوں کے گھروں کویوں دیکھتے ہیں کہ وہ ستاروں کی طرح چمک رہے ہیں جیسے زمین سے آسمان پر ستارے نظر آتے ہیں ویسے آسمان سے زمین پر ذکر کرنے والو ں کے گھر جگمگاتے ہیں۔ (مصنف ابی شیبہ)۔
حضرت سیدنا عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر سوائے ذکر کے جو فریضہ بھی فرض کیا ہے اس کی کوئی حد مقرر فرمائی ہے اور عذر میں گنجائش بھی عطا فرمائی ہے۔ مگر ذکر ایک ایسی عبادت ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے کوئی حد مقرر نہیں فرمائی کہ جس پہ یہ ختم ہو جائے اور نہ ہی اس کو چھوڑنے کا کوئی عذر عطا کیا ہے سوائے اس کے کہ جس کی عقل پہ پردہ پڑ جائے۔( تفسیر طبری )۔
شیخ ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں دنیا کی پاکیزگی ذکر الٰہی سے حاصل ہوتی ہے ، آخرت کی پاکیزگی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عفو در گزرکے ساتھ حاصل ہوتی ہے اور جنت کی طہارت و پاکیزگی اللہ تعالیٰ کی رویت کے ساتھ حاصل ہو گی۔ ( جامع العلوم والحکم)۔
امام ابو القاسم قشیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ذکر اللہ تعالیٰ کی راہ کا ایک قوی ستون ہے بلکہ وہ اس راستے کی اصل ہے اور کوئی بھی ذکر میں دوام کے بغیر اللہ کی بارگاہ تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔( رسالہ قشیریہ )۔

ہفتہ، 13 جون، 2026

ذکر الٰہی کی فضیلت و فوائد (۲)

 

ذکر الٰہی کی فضیلت و فوائد (۲)

حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ’’نبی رحمتﷺ نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں تمہارے سب سے بہترین عمل کے بارے میں نہ بتاں  جو تمہارے مال کو سب سے زیادہ پاکیزہ لگتا ہے ، جو تمہارے درجات بلند کرنے کے لیے سب سے زیادہ مفید ہے، تمہارے لیے سونے اور چاندی کو خرچ کرنے سے بہتر ہے اور تمہارے لیے دشمن سے جہاد اور اپنی جانیں قربان کرنے سے افضل ہے۔ عرض کی گئی یارسول اللہ ﷺ آپ ضرور ارشاد فرمائیں۔ آپﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا ذکر ان تمام اعمال سے بہتر ہے‘‘۔’’حضرت معاذ بن جبل ؓ نے فرمایا کہ اللہ کے ذکر سے زیادہ عذاب الٰہی سے بچانے والی اور کوئی شے نہیں ہے ‘‘۔ ( ترمذی )۔
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر دن اور ہر رات میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر کوئی احسان اورکوئی صدقہ فرماتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے کسی پر اس سے بڑا احسان نہیں کیا جتنا بڑا احسان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کو اپنے ذکر کی توفیق عطا فرما دے۔ (الدعا للطبرانی )۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا جو شخص میرے ذکر میں مصروفیت کی وجہ سے مجھ سے مانگ نہ سکا تو میں اسے وہ نعمتیں عطا فرماتا ہوں کہ وہ سارے مانگنے والے لوگوں سے بڑھ کر ہوتی ہیں۔( شعب الایمان )۔
حضرت ام انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کسی نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی یارسول اللہﷺ مجھے کچھ وصیت فرمائیں۔آپ ﷺ نے فرمایا تم گناہوں کو چھوڑ دو یہ سب سے افضل ہجرت ہے اور فرائض کی حفاظت کرو یہ سب سے بڑا جہاد ہے اور کثرت سے ذکر کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کو کوئی عمل اتنا پسند نہیں جتنا کثرت سے ذکر کرنا پسند ہے۔ ( المعجم الاوسط)۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا آدم کا بیٹا جو وقت بھی گزارتا ہے جس میں وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر  نہیں کرتا وہ قیامت کے دن اس کے لیے حسرت کا باعث ہوگا۔ (شعب الایمان )۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ مکہ کے راستے پر چل رہے تھے تو ایک پہاڑ کے پاس سے گزرے جسے جْمدان کہا جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا چلو اس جْمدان پر بیشک مفردون سبقت لے گئے۔ہم نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ مفردون کون ہیں ؟  آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کا ذکر کثرت سے کرنے والے مرد اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرنے والی عورتیں۔(مسلم )۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں نبی کریمﷺ نے فرمایا جو کثرت سے ذکر کرتا ہے اللہ اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔ ( الترغیب )۔

جمعہ، 12 جون، 2026

ذکر الہی کی فضیلت و فوائد (۱)

 

ذکر الہی کی فضیلت و فوائد (۱)

اللہ تعالی نے انسان کو اپنی عبادت اور معرفت کے لیے پیدا فرمایا ہے ۔بندہ مومن کی زندگی کا مقصد اپنے رب کو پہچاننا ، اس کی اطاعت کرتا  اور ہر حال میں اس کی یاد میں مشغول رہنا ہے ۔ ذکر صرف زبان سے چند کلمات دہرالینے کا نام نہیں بلکہ دل ، زبان اور اعمال کے ذریعے اللہ تعالی سے تعلق مضبوط کرنے کا نام ہے ۔ ذکر الہی دل کی روشنی ، بیمار کے لیے دوا و غذااور اعمال صالحہ کی روح ہے ۔ ذکر الہی سے غافل زبان ایسے ہی ہے جیسے اندھی آنکھ اور بہرے کان ۔
سورۃ الذٰریٰت میں  ارشاد باری تعالی ہے :’’ اور میں نے جن اور آدمی اس لیے بنائے کہ میری بندگی کریں ‘‘۔ سورۃ الاحزاب میں اللہ تعالی  ارشاد فرماتا ہے :’’اے ایمان والو اللہ کا ذکر کثرت سے کرو ‘‘۔ 
سورۃال عمران میں اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ :’’اور جو اللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں اے ہمارے رب تو نے یہ بیکار نہ بنایا پاکی ہے تجھے تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے ‘‘۔ سورۃ الانفال میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :’’ اے ایمان والو جب کسی گروہ سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو یاد کرو کہ تم مراد کو پہنچو‘‘۔ 
سورۃ الاحزاب میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : ’’اور کثرت سے یاد کرنے والے اورذکر کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا  ثواب تیار کر رکھا ہے ‘‘۔سورۃ البقرہ میں ارشاد باری تعالی ہے :’’ تم میرا ذکر کرو میں تمہارا ذکر کروں گا اور میرا شکر بجا لائو اور نا شکری نہ کرو‘‘۔  ذکر الہی سے رو گردانی کرنے والوں کے لیے قرآن مجید میں سخت وعید فرمائی گئی ہے ۔ سورۃ الزمر میں اللہ تعالی فرماتا ہے : ’’تو خرابی ہے ان کی جن کے دل یاد خدا کی طرف سے سخت ہو گئے ہیں وہ کھلی گمراہی میں ہیں‘‘۔ 
اسی طرح سورۃ الزخرف میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :’’ اور جو رحمن کے ذکر سے غافل ہو جائے ہم اس پر ایک شیطان تعینات کریں کہ وہ اس کا ساتھی رہے‘‘۔ 
احادیث مبارکہ میں بھی ذکر کی بے شمار فضیلت بیان کی گئی ہے ۔حضرت عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ  سے عرض کی یارسول اللہ ﷺ شریعت کے احکام میرے اوپر کثرت سے لازم ہو گئے ہیں ۔پس مجھے کوئی ایسی شے بتائیں جس سے میں چمٹ جاؤں اور اسے لازم پکڑ لوں ۔آپ ﷺ نے فرمایا تیری زبان ہر وقت اللہ کے ذکر سے تر رہنی چاہیے ۔ ( ترمذی )

جمعرات، 11 جون، 2026

پیکر شرم و حیا (۲)

 

پیکر شرم و حیا (۲)

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک جنازہ لایا گیا اور عرض کی گئی یا رسول اللہ ﷺ آپ اس کا جنازہ پڑھائیں ۔مگر آپ ﷺ نے اس پر نماز جنازہ نہ پڑھی ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ہم نے آپ کو کسی کی نماز جنازہ چھوڑتے نہیں دیکھا آپ ﷺ نے فرمایا یہ عثمان سے بغض رکھتا تھا تو اللہ نے بھی اس سے بغض رکھا ہے ۔ (ترمذی )۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بیشک حضور نبی کریم ﷺ نے بدر والے دن کھڑے ہو کر فرمایا بیشک عثمان اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے کام میں مصروف ہے اور بیشک میں اس کی بیعت کرتا ہوں اور نبی کریم ﷺ نے مال غنیمت میں سے بھی آپ کا حصہ مقرر کیا اور آپؓ کے علاوہ جو کوئی اس دن غائب تھا اس کے لیے حصہ مقرر نہیں کیا ۔ ( ابو داؤد )۔ حضرت طلحہ بن عبید اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر نبی کا ایک رفیق ہوتا ہے اور جنت میں میرا رفیق عثمان ہے ۔ ( ترمذی )۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے بیعت رضوان کا حکم دیا تو اس وقت حضرت عثمان بن عفان آپ ﷺکے سفیر بن کر مکہ والوں کے پاس گئے تھے ۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے حضور اکرم ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی ۔ تو نبی رحمت ﷺ نے فرمایا عثمان اللہ اور اس کے رسول کے کام میں مصروف ہے ۔ یہ فرمایا کر آپ ﷺ نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھ کر بیعت کی۔ حضرت عثمان کے لیے حضور نبی کریمﷺ کا دست مبارک لوگوں کے اپنے ہاتھوں سے اچھا تھا ۔ ( ترمذی)۔
سیدنا عثمان غنی نبی رحمت ﷺ  سے بے حد پیار فرماتے تھے ۔ ایک مرتبہ وضو کرتے ہوئے مسکرانے لگے ۔ لوگوں نے مسکرانے کی وجہ پوچھی تو فرمایا ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ اسی جگہ وضو کرتے ہوئے اسی طرح مسکرائے تھے ۔ ( مسند احمد )۔
 آپ رضی اللہ عنہ کا دور خلافت 12 سال پر محیط ہے ۔آپؓ کی خلافت میں بے شمار فتوحات ملیں اور اسلامی سلطنت میں اضافہ ہوا ۔ آپ ؓ کو اٹھارہ ذوالحجہ کو روزے کی حالت میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے نہایت مظلومیت کی حالت میں شہید کر دیا گیا ۔  حضرت عبد اللہ بن عمر بیان کرتے ہیں صبح کے وقت حضرت عثمان ؓ نے فرمایا بیشک میں نے نبی کریم ﷺ کو گزشتہ رات خواب  میں دیکھا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اے عثمان آج ہمارے پاس روزہ افطار کرو ۔پس آپؓ کو روزہ کی حالت میں اسی روز شہید کر دیا گیا ۔ ( مستدرک للحاکم )۔

حضرت سیدنا فاروق اعظمؓ (۱)

  حضرت سیدنا فاروق اعظمؓ (۱) حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ مراد رسولﷺ بھی ہیں اور مرید رسولﷺ بھی ہیں۔آپ کا قلب اطہر اللہ تعالیٰ...