منگل، 10 فروری، 2026

علم کی بے قدری خدا کی گرفت

 

علم کی بے قدری خدا کی گرفت

حضور نبی کریمﷺ نے متعدد مواقع پر یہ بات واضح فرمائی کہ علم کی بے قدری کرنے والااور اس کے تقاضوں سے انحراف کرنے والا بہت سی مصیبتو ں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔رسول کریم ﷺنے فرمایا علم کی قدر کرنے والا انسانوں میں سب سے اشرف انسان ہے اور علم کی بے قدری کرنیوالا عالم ہونے کے باوجود سب سے گھٹیا انسان بن جاتا ہے۔ ایک شخص نے رسول کریم ﷺ سے شر کے بارے میں پوچھا تو آپﷺ نے فرمایا : 
مجھ سے شر کے متعلق نہ پوچھو بلکہ خیر کے بارے میں پوچھو یہ بات آپ نے تین مرتبہ دہرائی پھر آپ نے فرمایا : خبر دار ! سب بروں سے برے علما ہیں اور سب اچھوں سے اچھے بھی علما ہیں۔( سنن دارمی)۔ یعنی کہ علم کی قدر کر کے اسے خیر بنانے والے علما سب لوگوں سے اچھے ہیں اور علم کو فساد کا سبب بنانے والے علما برے ہیں۔ 
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا جب اسلام صرف برائے نام باقی رہ جائے گا اور قرآن مجید کا صرف خوبصورتی سے پڑھناباقی رہ جائے گا۔ ان کی مساجد بظاہر آباد نظر آئیں گی اور وہ ہدایت سے محروم ہوں گی۔ ان کے علما آسمان کے نیچے بد ترین لوگ ہوں گے۔ انہی کے اندر سے فتنہ اٹھے گا اور انہی میں لوٹ جائے گا۔(شعب الایمان اللبہیقی)۔
جو لوگ علم کی نعمت سے محروم ہیں لیکن تکلف اور تصنع کر کے علم و حکمت کی مسندوں پر فائض ہو جاتے ہیں وہ خود بھی گمراہ ہو جاتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا علم اس طرح ختم نہیں ہو گا کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے سینوں سے علم اٹھا لے گا۔ پھر فرمایا : لیکن اللہ تعالیٰ علما کو اٹھا نے سے علم کو اٹھا لے گا جب اللہ تعالیٰ کسی عالم کو باقی نہیں چھوڑے گا تو پھر لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنا لیں گے اور ان سے مسائل پوچھیں گے۔ وہ بغیر علم کے فتوے دیں گے خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ ( ابن ماجہ )۔
 رسول اللہ ﷺ نے فرمایاجو عالم حق بات کو چھپائے گا وہ عذاب الٰہی میں مبتلا ہو گا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، رسول خداﷺ نے فرمایا : جس سے کوئی علم کی بات پوچھی گئی اور اس نے اسے چھپا لیا تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائے گا۔ ( ابن ماجہ)۔
 حضور نبی مکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک لوگوں میں سب سے برا انسان وہ عالم ہو گا جو اپنے علم سے نفع نہیں اٹھاتا۔ (شرح السنۃ الغوی )۔

پیر، 9 فروری، 2026

حضور نبی کریم ؐ کا حسن ِ معاشرت

 

حضور نبی کریم ؐ کا حسن ِ معاشرت

حضور نبی کریمؐ کا حسن معاشرت کی بھی کوئی نظیر نہیں آپؐ کا حسن معاشرت بھی تمام دنیا سے اعلیٰ تھا۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آپؐ سب لوگوں سے بڑھ کر وسیع القلب ، گفتگو میں سچے ، نرم طبیعت والے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں دس سال تک حضور نبی کریمؐ کی خدمت کرتا رہا ہوں۔ حضور نبی کریمؐ نے ان دس سال میں مجھے کبھی بھی نہ جھڑکا اور نہ کبھی یہ فرمایا کہ تو نے فلاں کام کیوں کیا ہے اور فلاں کیوں نہیں۔ 
حضور رحمت عالمﷺ کسی سے بھی نفرت نہیں کرتے تھے۔ ہر قوم کے افراد کا اکرام کرتے اور ایسے ہی افراد کو ان کے اوپر حاکم مقرر کرتے۔ لوگوں کو خوف خدا سے ڈراتے ، عام لوگوں کی صحبت میں نہ بیٹھا کرتے لیکن کسی کے ساتھ بد اخلاقی سے پیش نہیں آتے تھے۔ اپنے اصحاب کے گھر تشریف لے جاتے اور محفل میں شامل ہونے والوںکو ان کی شان کے مطابق نوازتے۔ لوگوں کے ساتھ ایسا رویہ رکھتے کہ ہر ایک کو لگتا کہ حضور نبی کریمﷺ میری ہی طرف نظر کرم فرما رہے ہیں۔ جب کسی کو اپنے ساتھ بٹھاتے یا پھر کوئی آپؐ کے پاس مسئلہ لے کر آتا آپؐ ا س وقت تک بیٹھے رہتے جب تک وہ شخص خود اجازت لے کر نہ چلا جاتا۔ اگر کوئی شخص حاجت لے کر آتا تو کسی کو بھی خالی ہاتھ نہ بھیجا کرتے تھے۔
حضرت ابن ابی ہالہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورنبی کریم ﷺ ہمیشہ پھول کی طرح کھلے رہتے۔آپؐ کا لہجہ نرم اور خوش اخلاق تھا۔ بد اخلاقی ، سنگدلی، بازاروں میں بلند آواز نہیں کرنا ، گالی گلوچ ، دوسروں میں عیب تلاش کرنا عرب کے لوگوں میں عام تھا لیکن آپؐ تاحیات ان تمام چیزوں سے پاک رہے۔ جس چیز کی ضرورت نہ ہوتی اس کی طرف نہ دیکھتے۔ کوئی بھی سائل آپؐ کے پاس آتا تو آپؐ اسے خالی واپس نہ لوٹاتے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’ تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب تم ان کے لیے نرم دل ہوئے ‘۔(سورۃ آل عمران )
 اگر کوئی آپؐ کی دعوت کرتا تو قبول فرماتے اور اگر کوئی معمولی سابھی ھدیہ پیش کرتاتو قبول فرماتے اور اس کو اس کے بدلے ہدیہ سے نوازتے۔ حضرت عبداللہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضور نبی کریمؐ سے بڑھ کر تبسم کا خو گر کسی کو نہیں دیکھا۔ جب کسی کو کسی پریشانی میں مبتلا پاتے تو فوراً اس کی پریشانی دور کرنے کی کوشش کرتے۔ آپؐ ہر کسی پر نہایت درجہ مہربان تھے۔

اتوار، 8 فروری، 2026

اصلاح معاشرہ اور ہمارا کردار

 

اصلاح معاشرہ اور ہمارا کردار

ہفتہ، 7 فروری، 2026

علم اور عالم کی فضیلت

 

علم اور عالم کی فضیلت

ارشاد باری تعالیٰ ہے (’’اے محبوب ﷺ) تم فرمائو کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان ‘‘۔ ( سورۃ الزمر )۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتاہے۔ حضور نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا علم سعادت مندوں کو نصیب ہوتا ہے اور بد بخت اس نعمت سے محروم رہتے ہیں۔ حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا : جس شخص کو موت آئے اور وہ اسلام کو زندہ کرنے کے لیے علم سیکھتا ہو تو جنت میں اس کے اور انبیاء کے درمیان ایک درجہ ہو گا۔ ( مشکوۃ المصابیح )۔
حضرت علی ؓ کا قول ہے آپ فرماتے ہیں علم مال سے بہتر ہے ، علم تیری حفاظت کرتا ہے اور تو مال کی حفاظت کرتا ہے ،علم حاکم ہے اور مال محکوم علیہ ، مال خرچ کرنے سے گھٹتا ہے اور علم خرچ کرنے سے بڑھتا ہے۔ ( علم کی حقیقت )۔
حضرت ابو اسود ؓ فرماتے ہیں علم سے بڑھ کر کوئی چیزعزت والی نہیں کیونکہ بادشاہ لوگوں پر حاکم ہوتے ہیں اور علماء بادشاہوں پر حاکم ہوتے ہیں۔ (علم کی حقیقت ) 
حضرت زبیر بن ابی بکر ؓ فرماتے ہیں میرے والد نے مجھے خط لکھا اور کہا کہ علم حاصل کرو اس لیے کہ اگر مفلس ہوجائے تو یہ تیرا مال ہوگا اور اگر غنی ہو جائے گا تو یہ تیری زینت ہوگا۔ ( احیا ء العلوم )۔ 
سورۃ المجادلہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جس کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا ‘‘سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ سب سے زیادہ بخشش کرنے والا کون ہے ؟ صحابہ کرام نے عرض کی اللہ تعالیٰ اور اس کا رسولﷺ بہتر جانتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ جودو عطا کرنے والا ہے ، پھر تمام بنی آدم سے زیادہ میں جودو عطا کرنے والا ہوں اور میرے بعد بنی آدم میں سب سے زیادہ جودو سخا کرنے والا وہ آدمی ہے جس نے علم حاصل کیا اور پھر اس کو پھیلایا۔
قیامت کے دن وہ اکیلا امیر بن کر آئے گا وہ اکیلا ہی امت بن کر آئے گا۔ ( مشکوۃالمصابیح )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’اگر تیری وجہ سے اللہ تعالیٰ ایک شخص کو ہدایت دے دے تو یہ تیرے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔(ابودائود)۔
حضرت ابو امامہؓ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اور آسمان اور زمین والے یہاں تک کہ چیونٹی اپنے سوراخ میں اور مچھلی سمندر میں سب رحمت بھیجتے ہیں اس پر جو لوگوں کو خیر سکھاتا ہے۔ ( ترمذی )۔
حضرت انسؓ فرماتے ہیں خیر کا بتانے والا خیر کرنے والے کی مثل ہے۔ ( ترمذی )۔

جمعہ، 6 فروری، 2026

دین فطرت(۲)

 

دین فطرت(۲)

دین اسلام میں ہمارے لیے مکمل ضابطہ حیات موجود ہے۔ مسائل معاشی ہوں یا پھر معاشرتی دین اسلام سے ہمیں ہر طرح کی رہنمائی ملتی ہے۔ 
حقوق العباد: بندوں کے حقوق یعنی وہ حقوق جو انسانوں کے انسانوں پر ہوتے ہیں حقوق العباد کہلاتے ہیں۔قرآن و حدیث میں ان حقوق کی ادائیگی پربہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺکی سیرت طیبہ میں حقوق العباد کی ادائیگی کی اہمیت اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے۔ ان میں شوہر،بیوی ، بچوں ، والدین ، عزیزواقارب، استاد ، شاگرد ، ملازم اور پڑوسیوں کے حقوق شامل ہیں۔ اسلام ہی نے خواتین کو ان کے جائز حقوق دے کرمعاشرے میں احترام کا مقام دیا۔ حالت جنگ میں بوڑھوں ، بچوں ، عورتوں اور بیمار وں کو قتل کرنے سے سختی سےمنع کیا گیا۔ 
غلامی کا خاتمہ : ظہور اسلام سے پہلے غلامی کا دور چلا آ رہا تھا۔ غلاموں پر بہت زیادہ ظلم و ستم کیے جاتے تھے۔ان سے ان کی طاقت سے بڑ ھ کام لیا جاتا تھا۔ اسلام نے غلاموں کو بھی مساوی حقو ق دیے۔ انسان کو انسان کی غلامی سے نجات دلائی۔اسلام میں آقا اور غلام میں کوئی فرق نہیں ہے۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو خود کھاتے ہو غلاموں کو بھی کھلائو اور جو خود پہنتے ہو غلاموں کو بھی پہنائو۔ قرآن میں ظہار اور کفارہ میں غلام آزاد کرنے کا حکم دیا گیا۔
زکوٰۃ کا نظام : بڑے بڑے ماہرین اقتصادیات اسلامی نظامی زکوۃ کو دنیا کا بہترین نظام مالیات مانتے ہیں۔ سال بھر جمع شدہ رقم پر اس کا اڑھائی فیصد بطور زکوۃ ادا کرنا فرض ہے۔ اگر آج بھی دیانتداری کے ساتھ صاحب نصاب زکوۃ ادا کرنا شروع کر دیں تو کوئی غریب نظر نہیں آئے۔ حضرت عمر بن عبد العزیز کے دور خلافت میں کوئی بھی زکوۃ لینے والا نہیں رہ گیا تھا زکوۃ کی صحیح تقسیم کی وجہ سے سب صاحب نصاب ہو گئے تھے۔ 
عدل و انصاف : اسلام میں عد ل وانصاف کا نظام تمام دنیا اور ہر زمانے کے لیے قابل تقلید ہے۔ قرآن مجید میں بہت سارے مقامات پر عدل و انصاف کرنے کی بڑی سخت تاکید فرمائی گئی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : 
’’اور ناپ تول انصاف کے ساتھ پوری کروہم کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتے مگر اس کے مقدور بھر۔ اور جب بات کرو تو انصاف کی کرو اگرچہ تمہارے رشتہ دار کا معاملہ ہو۔ ( سورۃ الانعام )۔ 
زندگی کے ہر شعبے میں عدل و انصاف کرنے کا حکم ہے خواہ خود ہمارے خلاف ہو ، ہمارے والدین یا اولاد کے خلاف ہو مگر فیصلہ حق پر ہی ہونا چاہیے۔ اگر معاشرے میں عدل و انصاف ہو گا تو اس کی برکت سے ایسا معاشرہ تشکیل پائے گا جس میں سب امن و امان کے ساتھ رہ سکیں گے۔

جمعرات، 5 فروری، 2026

Surah Ash-Shura (سُوۡرَةُ الشّوریٰ) Ayat 47-48.کیا ہم اپنے رب کے نافرمان...

دین فطرت(۱)

 

دین فطرت(۱)

اسلام کے لغوی معنی اطاعت کرنا گردن جھکانا شریعت کی اصطلاح میں دین محمدی ﷺ میں اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کے تمام احکامات کی پوری تعمیل کرنے کا نام اسلام ہے ۔ دین اسلام کی تعلیمات ، احکامات و ہدایات کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہر ترقی یافتہ اور جدید دور کے لیے موزوں ترین اور بہترین دین دین اسلام ہی ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ’’ آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور میں نے تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کیا ‘‘۔بہت سے غیر مسلم علماء ، مفکرین اور محقیقن نے بھی اسلام کامطالعہ کرنے کے بعد اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ اس کے اندر انسانی فطرت کی مطابقت ، حقانیت اور صداقت موجود ہے ۔ اور انہوں نے اس بات کو بھی تسلیم کیا ہے کہ قرآن مجید ہر قسم کے علوم کا خزانہ اور جدید سائنسی تحقیقات و ایجادات کی نشاندہی کرتا ہے ۔آج کے دور میں بعض مسلما ن بھی اور دوسرے افراد کم علمی کی وجہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ مذہب صرف چند مخصوص عبادات اور مذہبی رسوم کی ادائیگی کا نام ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دنیاوی زندگی گزارنے کے طور طریقوں سے مذہب کا کوئی تعلق نہیں ۔ حقیقت میں ایسے خیالات دینی علم نہ ہونے کی وجہ سے قطعی باطل ، بے بنیاد ، غیر منطقی اور غیر شرعی ہیں ۔ توحید و رسالت پر ایمان کامل اور دنیاوی زندگی حضور  ﷺ کے بتائے ہوئے احکامات کے تحت بسر کرنا اصل منشا ہے ۔ خیر و شر ، نیک و بد اعمال کی جزا و سزا دنیا اور آخرت میں ملنے پر ایمان رکھنا دین کی اہم ترین جز کی بنیاد ہے ۔مومن کی زندگی کے تمام اعمال عبادت بن سکتے ہیں ۔ اگر وہ ہر کام اور ہر عمل اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کو بجا لانے اور ان کی خوشنودی کے لیے کر رہا ہو ں تو دنیا اور آخرت میں اجر و ثواب کا مستحق ہو گا ۔اگر ہم کھانا کھائیں تو آداب سنت کے تحت کھائیں ، اگر پانی پئیں تو اداب سنت کے تحت پئیں ، والدین کی خدمت، بزرگوں اور اساتذہ کا احترام بیوی بچوں کی تربیت اور جو بھی کام ہیں اگر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کی روشنی میں کریں گے تو وہ عبادت بن جائیں گے ۔ہمارے لیے یہ بات نہایت افسوس اور ندامت والی ہے کہ ہم مسلمان قرآن مجید پر ایمان رکھتے ہوئے بھی قرآنی احکام کو  نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ اور ان احکامات پر عمل کر کے دنیا و آخرت کے فوائد حاصل کرنے سے محروم ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہم غیر مسلموں سے پیچھے رہ گئے ہیں اور بہت سی ضروریا ت اور امور حکومت میں ان کے محتاج ہیں ۔

علم کی بے قدری خدا کی گرفت

  علم کی بے قدری خدا کی گرفت حضور نبی کریمﷺ نے متعدد مواقع پر یہ بات واضح فرمائی کہ علم کی بے قدری کرنے والااور اس کے تقاضوں سے انحراف کرنے ...