جمعہ، 21 اگست، 2026

بعثت نبوی ﷺ سے قبل عرب کے حالات

 

بعثت نبوی ﷺ سے قبل عرب کے حالات

عرب کی اخلاقی حالت بھی انتہائی ابتر تھی شراب ، جوا ، زنا، قتل و غارت ، توہم پرستی اور بد شگونی عام تھی جیسا کہ سورۃ المائدہ میں اللہ تعالی  فرماتا ہے اے ایمان والو شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک  شیطانی کام ہی ہیں  تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ ۔  زمانہ جاہلیت میں عرب بیٹیوں کو پسند نہیں کرتے تھے اگر کسی کو بیٹی کی خبر ملتی تو اس کے چہرے پر غم و ندامت کی لہر دوڑ جاتی ۔ بعض قبائل ایسےتھے جو اپنی بچیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے ۔جیسا کہ سورۃ التکویر میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے اور جب زندہ دفن کی گئی (لڑکی) سے پوچھا  جائے گا کہ تم کس خطا پر ماری گئی ۔ 
ارشاد باری تعالی ہے:اور جب ان میں کسی کو بیٹی ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غصہ کھاتا ہے ۔لوگوں سے پوچھتا پھرتا ہے اس بشارت کی بُرائی کے سبب کیا اسے ذلت کے ساتھ رکھے گا یا اسے مٹی میں دبا دے گا۔ ارے بہت ہی بُرا حکم لگاتے 
ہیں ۔ ( سورۃ النحل )۔
اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ بیٹی پیدا ہونے پر رنج کرنا اور پریشان ہونا کافروں کا طریقہ ہے ۔ آج کے دور میں کچھ مسلمان بھی بیٹی  پیدا ہونے پر غمزدہ ہو جاتے ہیں اور چہرے سے خوشی کا اظہار نہیں کرتے مٹھائی نہیں بانٹتے اور بیٹی پیدا ہونے پر بیوی کو بُرا بھلا کہتے ہیں جو  کہ سرا سر کافرانہ روش ہے ۔اسلام میں تو بیٹی کی پرورش پر بہت زیادہ فضیلت بیان کی گئی ہے ۔ جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کے ہاں بیٹی پیدا ہو اور وہ اسے زندہ درگور نہ کرے اسے ذلیل نہ سمجھے اور اپنے بیٹے کو اس پر ترجیح نہ دے تو اسے اللہ تعالی جنت میں داخل کرے گا ۔ ( ابو داؤد)۔
عرب معاشرہ معاشی طور پر بھی سخت اور غیر مساوی تھا ۔ طاقتور شخص کو زیادہ اختیار حاصل تھے جبکہ کمزور انسان کے لیے اپنے حقوق کا تحفظ مشکل تھا ۔ نسب ، قبیلہ ، دولت اور طاقت انسان کی سماجی حثییت متعین کرنے میں اہم کر دار ادا کرتے تھے ۔  نبی کریمﷺ کی ولادت سے قبل عرب کے مجموعی حالات کو اگر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ معاشرہ ایک گہرے فکری اور اخلاقی موڑ
پر کھڑا تھا ۔مذہبی اعتبار سے شرک غالب تھا ، سیاسی اعتبار سے قبائلی تقسیم تھی ،معاشرتی اعتبار سے طاقت اور نسب کو اہمیت حاصل تھی اور  اخلاقی لحاظ سے بہت سی خرابیاں عام تھیں ۔ 
حضور نبی کریم ﷺ کی آمد سے کفر و شرک کا خاتمہ ہوا ، انسان کو انسان سے جوڑا ، کمزور کو حق دلائے ، عورت کو عزت دی ، غلام کو حقوق دلائے اور قبائلی تفاخر کی جگہ تقوی کو برتری کا معیار قرار دیا ۔

جمعرات، 20 اگست، 2026

بعثت نبوی ﷺ سے قبل عرب کے حالات(۱)

 

بعثت نبوی ﷺ سے قبل عرب کے حالات(۱)

تاریخ میں کچھ ادوار ایسے گزرے ہیں جن میں بظاہر زندگی رواں دواں ہوتی ہے ، بازار آباد ہوتے ہیں ، شعر و ادب کے چرچے ہوتے  ہیں اور قبائل اپنی شان و شوکت پر فخر کرتے ہیں مگر انسان اپنی اصل منزل سے دور ہوتا ہے ۔ نبی کریم ﷺ کی بعثت سے قبل جزیرہ عرب بھی اسی کیفیت سے دو چار تھا ۔ عرب معاشرہ اپنی قبائلی بہادری ، فصاحت و بلاغت کے باوجود مذہبی ، اخلاقی ، سیاسی اور معاشرتی انتشار کا شکار تھا۔ اسی ماحول میں اللہ تعالی نے اپنے آخری نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ کو مبعوث فرمایا جنہو ں نے انسانیت کو توحید ، عدل ، رحم ،  اخوت و بھائی چارہ اور اعلی اخلاق کا راستہ دکھایا ۔  اسلام سے قبل عرب کی سیاسی حالت انتہائی ابتر تھی ۔عرب میں کوئی مرکزی حکومت نہیں تھی مختلف قبائل آباد تھے جن میں ہر قبیلے کا الگ الگ سردار تھا جو اپنے قبیلے کی قیادت کرتا اور قبائلی فیصلوں میں اہم کردار ادا کرتا تھا۔  قبائلی عصبیت اس قدر مضبوط تھی کہ لوگ حق و باطل  کی بجائے اپنے قبیلے کی حمایت کو ترجیح دیتے ۔ معمولی سے تنازع پر ایسی خونریز جنگ شروع ہوتی جو کئی نسلوں تک جاری رہتی ۔ 
اسلام سے قبل عرب کی مذہبی حالت بھی بہت پستی کا شکار تھی ۔اللہ تعالی نے عرب کو قوت حافظہ ، سخاوت ، ایفائے عہد ، فصاحت و بلاغت  جیسی عظیم خوبیوں سے نوازا تھا لیکن ان خوبیوں کے استعمال کے لیے صحیح رہنمائی نہیں تھی اور یہ حقیر مقاصد کے لیے استعمال ہو کر ضائع ہورہی تھیں ۔ اپنے ہی ہاتھ سے تیار کردہ بتوں کی پوجا کرتے تھے مختلف قبائل کے اپنے اپنے معبود تھے جن کے سامنے وہ نذریں پیش کرتے اور حاجتیں مانگتے تھے ۔ یہودیوں نے خانہ کعبہ میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے نا م کے بت رکھے اوران کی پوجا کرتے تھے ۔ عیسائی تثلیث کے قائل تھے اور انہوں نے بھی تین بت کعبہ میں رکھے ہوئے تھے جن کی وہ پوجا کرتے تھے ۔بعض  قبائل ایسے تھا جہاں سورج ، چاند ،ستاروں  اور آگ کی پوجا کی جاتی تھی ۔ عورتیں اور مرد خانہ کعبہ کا ننگے طواف کرتے۔اپنے باپ کے مرنے  کے بعد اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کر لیتے تھے ۔
اہل عرب فطری طور پر اعلی درجے کی عربی زبان اور فصاحت وبلاغت کے باوجود ان کی معلومات محدود تھیں ، ان کے نظریات باطل اوران کے خیالات پر توہم پرستی اور جہالت کا غلبہ تھا۔ عرب میں نہ کوئی سکول تھا ۔ ایران ، روم اور مصر کے ممالک میں علم و فنون اور تہذیب کی روشنی موجود تھی لیکن عرب وہاں جاتے اور صرف اموال کا تبالہ کر کے آ جاتے اور علم و تہذیب کی روشنی ساتھ نہ لاتے تھے۔

بدھ، 19 اگست، 2026

امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالی عنہ (۲)

 

امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالی عنہ (۲)

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں  حضرت امام حسن مجتبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سینہ سے لے کر سر تک رسول اللہ ﷺ کے مشابہ تھے اور حضرت  امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس سے نیچے  رسول اللہﷺ کے مشابہ تھے(ترمذی)۔ 
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے  مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : بیشک حسن ؓ اور حسین ؓ دنیا میں میرے دو پھول ہیں ۔( مشکوٰہ شریف)۔
جب نبی کریم ﷺ کا مرض وصال قریب آیا تو سیدہ کائنات فاطمہ سلام اللہ علیہا امام حسن اور امام حسین کو لے کر نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں اور عرض کی یا رسول اللہ ﷺانہیں اپنی وراثت میں سے کچھ عطا فرمائیں ۔نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا حسن میری وجاہت اور سرداری کا وارث ہے اور حسین میری جرات اور سخاوت کا وارث ہے ۔
آپ کی پوری زندگی  زہد و تقوٰی و طہارت کا حسین گلدستہ ہے۔ آپ کا کلام بہت ہی شریں ہوتاتھا۔اہل مجلس نہیں  چاہتے کہ آپ گفتگو ختم فرمائیں۔
 فیاضی و سخاوت میں بھی امتیازی شان رکھتے تھے کسی سائل کو کسی حال میں اپنے گھر سے خالی ہاتھ واپس نہ کرتے تھے بلکہ فیاضی تو آپ کو وراثت میں  ملی تھی ایک ایک آدمی کو ایک ایک لاکھ  عطا فرمادیتے تھے۔
 ابن سعد  علی ابن زید جدعان سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت امام حسنؓ  نے دو مرتبہ اپنا کل مال راہ خدا میں دے ڈالا اور تین مرتبہ اپنا آدھامال راہ  خدا میں صدقہ کیا ۔حضرت امام حسنؓ  کورسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ میرا بیٹا سیدہے۔یعنی سردار ہے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ مسلمانوں کے  دو گروہوں  کے درمیان مصالحت کردے گا۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں نے امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رسول اللہﷺ کی گود میں  دیکھاکہ وہ اپنی انگلیاں نبی رحمتﷺ کی داڑھی مبارک میں ڈالتے تھے اور نبی اکرمﷺ اپنی زبان مبارک ان کے منہ میں  ڈالتے تھے اور اللہ کے حضور عرض کرتے تھے اے اللہ میں اس کو محبوب  رکھتا ہوں۔ تو بھی اس کو محبوب رکھ۔
سیدنا اما م حسن ؓ کی شان و عظمت بیان کرنا دراصل اس پاکیزہ گھرانے کی عظمت کو بیان کرنا ہے جسے اللہ تعالی نے اپنی محبت اور سول خدا ﷺ کی محبت  سے ممتاز فرمایا ۔ آپ ؓ کی شخصیت حسنِ صورت کے ساتھ ساتھ حسن سیرت کا بھی حسین امتزاج تھی ۔ حلم و بردباری ، تقوی و عبادت ، سخاوت و فیاضی ،  عفوو درگزر ، صبر و اسقامت اور امت مسلمہ کی خیر خواہی آپ کے نمایاں اوصاف تھے۔
آپ رضی اللہ عنہ کو زہر دے کر شہید کیا گیا ۔ 28 صفر کو آپ رضی اللہ عنہ نے جام شہادت نوش فرمایا ۔ آپ رضی اللہ عنہ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا ۔

منگل، 18 اگست، 2026

امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالی عنہ (۱)

 

امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالی عنہ (۱)

اسلامی تاریخ میں کچھ مقدس اور عظیم ہستیاں گزری ہیں جن کی زندگی کا ہر لمحہ ایمان ، محبت ، کردار اور قربانی کا روشن استعارہ بن جاتا ہے ۔ اگر اہل بیت اطہار کی عظمت و فضیلت کے درخشاں ستاروں کو دیکھا جائے تو حضرت امام حسن ؓ کی ذات گرامی ایک نہایت تابندہ مقام  رکھتی ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ وہ عظیم ہستی ہیں جن کی رگوں میں نبوت کی خوشبو ، جن کے گھرانے میں ولایت کی عظمت اور جن کے کردار میں مصطفی ﷺ کی تربیت کی جھلک نظر آتی ہے ۔ آپ نبی کریم ﷺ کے محبوب نواسے ، حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمۃ الزہرہ رضی اللہ عنہا کے لخت جگر اور اہل بیت اطہار 
کے عظیم چشم و چراغ ہیں ۔ حضرت امام حسن مجتبی رضی اللہ عنہ شیر خدا اور سیدہ کائنات کے بڑے صاحبزادے تھے ۔آپ کا اسم گرامی حسن، کنیت ابو محمد اور القاب سید شباب اہل الجنہ ، سبط و ریحان رسول ﷺ ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ کی ولادت با سعادت 15 رمضان المبارک 3 ہجری مدینہ منورہ میں ہوئی ۔ (الطبقات الکبری)
ام فضل لبابہ بن حارث رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے خواب دیکھا کہ نبی کریم ﷺ کے جسم کا ایک عضو میرے گھر میں موجود ہے ۔ میں پریشان ہو گئی اور نبی رحمت ﷺ کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہو کر خواب سنایا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ اچھا خواب ہے ، سیدہ فاطمہ ؓکے ہاںبیٹا ہو گا جس کو تو اپنے بیٹے قثم کے ساتھ دودھ پلائے گی ۔آپ فرماتی ہیں جب سیدنا حسن ؓ کی پیدائش ہوئی تو مجھے دیے گئے اور میں نے  انہیں دودھ پلایا ۔ ( مسند احمد ، ابن ماجہ )۔ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی پیدائش پر حضور نبی رحمت ﷺ بے حد خوش ہوئے ۔ حسن مجتبی ؓ کو نبی کریم ﷺ کی خدمت لایا گیا تو آپ ﷺ نے اپنی  آغوش میں لے کر پیار کیا ، ان کے کانوں میں اذان دی اور اپنی زبان مبارک ان کے منہ میں دے دی اور آپ ؓ نے اسے چوسنا شروع کر  دیا ۔ نبی کریم ﷺ نے آپ کا نام حسن رکھا اور ساتویں دن عقیقہ کیا اور بال منڈوائے گئے ۔ ( اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابہ )۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺحضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کو اپنے کندھے پر بٹھائے ہوئے  تھے کسی صحابی نے عرض کی اے صاحبزادے تیری سواری کتنی اچھی ہے یہ سن کر نبی اکرمﷺ نے فرمایا اے صحابی اگر سواری اچھی ہے مگر یہ بھی تو دیکھ سوار کتنا اچھا ہے(مشکوۃ شریف)۔

پیر، 17 اگست، 2026

فقر کی فضیلت (۲)

 

فقر کی فضیلت (۲)

 مشکوۃ و ترمذی شریف کی روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالی کے نزدیک ملائکہ مقربین ، سات آسمانوں ، سات زمینوں ، کل پہاڑوں اور جو کچھ ان میں ہے ان سب سے فقراءموحدین کی حرمت بہت بڑی ہے ۔ ایک روایت میں ہے کہ فقراءکی فضیلت تو نگروں  پر ایسی ہے جیسی میری فضیلت کل مخلوق پر ۔ (دیلمی فی الفردوس )۔ طبرانی شریف اور ابو نعیم کی روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالی کے نزدیک صبر کرنے والا فقیر سب بندوں سے محبوب تر ہے ۔ حضور ﷺ نے فرمایا اس امت کے بہترین لوگ فقراءہیں ۔( بخاری )۔  ترمذی شریف میں روایت ہے نبی رحمت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالی کے ہم نشین صابر فقراءہیں ۔ ترمذی ہی میں مروی ہے حضور ﷺ نے فرمایا، فقراءسے محبت کرنا انبیاءکا طریقہ ہے اور ان سے عداوت رکھنا فرعونی خصلت ہے ۔ 
ترمذی شریف میں ہے کہ حضورنبی کریم ﷺ نے فرمایا حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ تعالی سے عرض کی :اے میرے پروردگار تیری مخلوق  میں سے کون سے لوگ تیرے دوست ہیں تاکہ میں بھی ان کو تیری رضا کے لیے دوست رکھوں ، جواب ملا کہ ہر فقیر میرا دوست ہے ۔ 
یہاں فقیر سے مراد کوئی مانگنے والا گدا گر نہیں بلکہ فقیر سے مراد اللہ تعالی کی یاد میں مگن رہنے اور شریعت مطہرہ پر عمل پیرا ہونے والا ہے ۔ نبی رحمت ﷺ نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ارشاد فرمایا : فقراءکی محبت جنت کی کنجی ہے ۔ ( دیلمی فی الفردوس )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو جس کو دوست رکھتا ہے وہ اسی کے ساتھ ہو گا ۔ اس لیے اللہ تعالی سے صدق دل سے محبت رکھنے اور ان کا ذکر  خیر کرنے والے بغیر محنت و مشقت مراتب عالیہ حاصل کریں گے ۔ جامع الصغیر میں ہے کہ نیک ہستیوں یعنی اولیا ءاللہ کے تذکرے کے وقت اللہ تعالی کی رحمت نازل ہوتی ہے ۔اسی طرح جامع الصغیر میں ہی ہے کہ اولیاءاللہ کا ذکر خیر دلوں کے لیے حکمت کا بیش بہا خزانہ ہے اور نمایاں گناہوں کا کفارہ ہے ۔ 
مختصراًٍ یہ کہ فقر ایک عظیم روحانی سرمایہ ہے جو انسان کو دنیا کی غلامی سے آزاد کر کے اللہ تعالی کی بندگی کا حقیقی لطف عطا کرتا ہے ۔ جب فقر کے 
ساتھ صبر ، شکر ، قناعت اور توکل جمع ہو جائیں تو انسان کا کردار ایمان کی مضبوطی ، اخلاق کی پاکیزگی اور عمل کی اخلاص مندی کاآئینہ بن جاتا  ہے ۔ اسلام ہمیں غربت کی تمنا نہیں بلکہ فقر کی اس روح کو اپنانے کی تعلیم دیتا ہے جو دل کو اللہ تعالی سے وابستہ اور دنیا کی حرص سے بے نیاز کر دے ۔

اتوار، 16 اگست، 2026

فقر کی فضیلت

 

فقر کی فضیلت

فقر اسلامی تعلیمات کا ایک ایسا عظیم وصف ہے جو انسان کے دل کو دنیا کی بے جا محبت سے پاک کر کے اللہ تعالی کی رضا اور اس پر کامل بھروسے کی طرف لے جاتا ہے ۔فقر کا مطلب تنگدستی یا معاشی کمزوری نہیں بلکہ دل کا اللہ تعالی کے سوا ہر سہارے سے بے نیاز ہونا ، قناعت ، توکل اور رضا بالقضا کی دولت سے مالا مال ہونا ہے ۔ یہی وہ روحانی کیفیت ہے جس نے انبیاء کرام علیہم السلام ،صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اولیا ئے کاملین کو اللہ تعالی کا بر گزیدہ بندہ بنایا اور ان کی زندگیوں کو ہمارے لیے مشعل راہ بنایا  ہے ۔ قرآن و حدیث میں فقر کی حقیقی روح کو اختیار کرنے ، دنیا کی عارضی آسائشوں پر آخرت کی دائمی کامیابی کو ترجیح دینے اور ہر  حال میں اللہ تعالی پر اعتماد رکھنے کی تلقین کی گئی ہے ۔ 
حدیث شریف میں ہے کہ  فقر خزانہ ہے اللہ تعالی کے خزانوں میں سے ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ فقر کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا فقر اللہ تعالی کی عنایات میں سے ایک عنایت ہے ۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پھر عرض کی یا رسول اللہ ﷺ فقر کیا ہے ؟ نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا فقر وہ چیز ہے جو اللہ تعالی بجز نبیوں و مرسلین یا بندہ کریم النفس کے کسی  کو نہیں دیتا ۔(دیلمی فی الفردوس ، جامع الصغیر )۔
حضرت غوث اعظم فرماتے ہیں اے میرے  مریدو قصد کرو ، خوش ہو ، بے باک ہو اور غنی ہو ۔ جو کچھ میں کہوں وہ کرو کیونکہ میرا نام بزرگ ہے ۔ 
فقراء اللہ تعالی کے نیک اور برگزیدہ بندے ہوتے ہیں جو شریعت مطہرہ پر عمل پیرا ہو کر لوگوں کو اللہ تعالی کی طرف بلاتے ہیں اور انہیں صراط مستقیم پر چلنے کی تلقین کرتے ہیں ۔ اولیا ء اللہ کی خدمت میں پُر خلوص اور با ادب حاضری درجات کی بلندی کا باعث بنتی ہے ۔ 
جو لوگ ظاہری علم و عقل کی روشنی میں اولیائے کرام کی صحبت سے دور رہتے ہیں وہ اللہ کی راہ سے دور اور گمراہ ہیں ۔ 
بخاری شریف میں ہے حضور نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کو اللہ تعالی کے قرب کی آرزو ہو وہ فقراء کی صحبت میں بیٹھے ۔ 
فقراء کے پاس بیٹھنے سے انسان حق کو پہچانتا ہے اور اللہ تعالی کی یاد آتی ہے ۔ مولانا روم ؒفرماتے ہیں : 
یک زمانہ صحبتِ با اولیا
بہتر ازصد سالہ طاعت بے ریا
یعنی اولیا ء اللہ کے ساتھ ایک ساعت بیٹھنا سو سالہ بے ریا عبادت سے بہتر ہے ۔

جمعہ، 14 اگست، 2026

اسلام اور انسانی حقوق

 

اسلام اور انسانی حقوق

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں عقائد و عبادات اور معاملات کا اپنا ایک مکمل نظام موجود ہے ۔ اسلامی نظام کا سر چشمہ  قرآن و حدیث ہے اور اس کے احکامات ناقابل تنسیخ ہیں کیونکہ قرآن مجید کسی انسان کی نہیں اللہ تعالی کی نازل کردہ کتاب ہے ۔ اور اس کے احکامات پر عمل کرنا لازم و ملزوم ہے ۔ کائنات کی ہر چیز کا خالق و مالک اللہ تعالی ہے اللہ تعالی نے انسان کو شکل و صورت ، عظمت و برتری اور علم و حکمت کی صلاحیتو ں سے نوازا ہے ۔ اسلام نے انسان کو جو بنیادی حقوق دیے ہیں انہیں پامال کرنے کاحق کسی کو حاصل نہیں ۔ 
اگر کوئی شخص کسی بھی شخص سے زیادتی کرے اور اس کے حقوق غصب کرنے کی کوشش کرے تو اسلام نے اس کے مطابق سزا مقررکی ہے ۔ اگر کوئی دنیا میں اس سز ا سے بچ بھی جائے تو آخرت میں اللہ تعالی کی سزا سے نہیں بچ سکتا ۔ 
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے نبی کریمﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کو ن ہے ؟ صحابہ کرام ؓ نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ
مفلس وہ ہے جس کے پاس کوئی مال اور درہم نہ ہو ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا نہیں مفلس وہ نہیں جس کے پاس مال نہیں بلکہ مفلس وہ ہے جس کے پاس قیامت کے دن نماز ، روزہ اور زکوۃ ہوں گے لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی ، کسی پر جھوٹا الزام لگایا ہو گا ، کسی کا مال کھایا ہو گا ، کسی کو قتل کیا ہو گا اور کسی کو مارا ہو گا تو اس کی نیکیاں ان لوگوں کو دے دی جائیں گی جن پر اس نے زیادتی کی ہوگی ۔ اور اگر زیادتیوں کا بدلہ پورا کرنے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو مظلوموں کے گناہ اس کے اعمال نامہ میں ڈال دیے جائیں گے اور پھر اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔ ( مسلم )۔ 
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ سے عرض کی گئی فلاں عورت رات کو نماز پڑھتی ہے ، دن کو روزہ رکھتی ہے مگر اپنے پڑوسیوں سے بد کلامی کرتی ہے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس میں کوئی خیر نہیں ہے وہ جہنم میں جائے گی ۔(مسدرک للحاکم)۔
ا ن احادیث مبارکہ سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ جو اسلام کسی کو ایک گالی دینے کی وجہ سے اس کی زندگی کی اہم ترین عبادت چھین  کر اسے جہنم میں پھینک دے گا تو وہ اسلام کیسے کسی جان کو ناحق قتل کرنے کی اجازت دے گا۔ اسلام میں انسانی زندگی بڑی مقدس  اور قابل احترام ہے ۔ یہ ایک ایسا قیمتی اثاثہ ہے جس کاکوئی نعم البدل نہیں ۔ لہذا ہر انسان چاہے وہ مسلمان ہے یا غیر مسلم اس کو اپنی زندگی کے تحفظ کاحق حاصل ہے ۔

بعثت نبوی ﷺ سے قبل عرب کے حالات

  بعثت نبوی ﷺ سے قبل عرب کے حالات عرب کی اخلاقی حالت بھی انتہائی ابتر تھی شراب ، جوا ، زنا، قتل و غارت ، توہم پرستی اور بد شگونی عام تھی جیس...