شیخ عبد القادر جیلانی محبوب سبحانی ؒ(۲)
حضور غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے ابتدائی تعلیم گھر میں حاصل کی اور قرآن مجید حفظ و ناظرہ بھی والدین سے پڑھا۔اس کے بعد آپ ؒ کے والدین نے آپ کو جیلان کے ایک مدرسہ میں داخل کرا دیاجہاں آپ نے اٹھارہ برس تک تعلیم حاصل کی ۔مزیدحصول علم کے لیے آپؒ بغداد تشریف لے گئے ۔ بغداد شریف پہنچنے کے بعد مدرسہ نظامیہ میں داخلہ لیا ۔ آپ نے ہر علم اس کے ماہر و باکما ل استاد سے پڑھا ۔ علم میں کمال مہارت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ آپ عبادت وریاضت میں بھی مشغول رہے ۔ ظاہری علوم سے فارغ ہونے کے بعد آپؒ نے سکون قلب حاصل کرنے کے لیے کامل روحانی استاد و عارف کی تلاش شروع کر دی ۔ اللہ تعالی نے آپ کی دعا کو قبول فرمایا اور آپ کو حضرت شیخ حماد بن مسلم ؒسے ملا دیا ۔ حضرت شیخ حمادؒ کی صحبت سے ملنے والے فیض نے آپؒ کے دل میں عشق الہی کو خوب بھڑکا دیا ۔ آپؒ نے شیخ حماد ؒ سے فیض یاب ہونے کے بعد گوشہ نشینی اختیار کر لی اور مسلسل 12 سال تک ذ کر الہی میں مشغول رہے ۔ آپ نے حضرت شیخ ابوسعید مخزومی رحمۃ اللہ علیہ کے دست اقدس پر بیعت کی ۔ مرشد نے آپ ؒ کو خلافت کی اجازت دی اورولایت کا تاج آپؒ کو عطا فرمایا ۔
پھر اپنے مدرسے میں صدر المدرسین مقرر کیا اور خود گوشہ نشینی اختیار کر لی ۔ آپؒ نے عوام میں وعظ و نصیحت شرو ع کی اور سننے والوں پر گہرا اثر ہونے لگا ۔ گناہوں سے آلودہ دل صاف ہونے لگے ۔ آپ کو اللہ تعالی نے ایسی مقبولیت عطا کی کہ مدرسہ کی عمارت سامعین کے لیے کم پڑنے لگی اس کے بعد آپ نے عید گاہ میں وعظ و نصیحت شروع کی لیکن وہ جگہ بھی کم پڑ گئی ۔ اس کے بعد آپ کا منبر کھلے میدان میں لگایا گیا جہاں کثیر تعداد میں لوگ آپ کا وعظ سننے کے لیے آتے ۔ آپؒ لوگوں کو محض ظاہری عبادات کی طرف نہیں بلاتے تھے بلکہ دل کی بیماریوں خود پسندی ، بغض ، کینہ ،حرص و لالچ ، تکبر اور دنیا پرستی سے نجات کی طرف بھی متوجہ کرتے تھے ۔
آپ کی مجلس میں امراء ، فقراء ، درویش ، صوفی سلاطین ، علماء و مشائخ الغرض ہر طبقہ کے لوگ شامل ہوتے یہاں تک کہ یہودی و نصاری بھی مستفید ہوتے تھے ۔آپ کا وعظ ربانی الہامات کا سمندر اور معرفت کی تفسیر ہوتا۔
صوفیا ء میں جو مقام و مرتبہ شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کو حاصل ہے وہ کسی اور کو حاصل نہیں ۔ ہر سلسلہ کے صوفیا اور ارادت مندوں میں آپؒ کی وہ عقیدت و محبت پائی جاتی ہے جس کا تصور بھی نہیں ۔ اس کی وجہ وہ اخلاص اور للہیت ہے جس سے انہوں نے حضور نبی کریم ﷺ کے دین کی خدمت کی
پھر اپنے مدرسے میں صدر المدرسین مقرر کیا اور خود گوشہ نشینی اختیار کر لی ۔ آپؒ نے عوام میں وعظ و نصیحت شرو ع کی اور سننے والوں پر گہرا اثر ہونے لگا ۔ گناہوں سے آلودہ دل صاف ہونے لگے ۔ آپ کو اللہ تعالی نے ایسی مقبولیت عطا کی کہ مدرسہ کی عمارت سامعین کے لیے کم پڑنے لگی اس کے بعد آپ نے عید گاہ میں وعظ و نصیحت شروع کی لیکن وہ جگہ بھی کم پڑ گئی ۔ اس کے بعد آپ کا منبر کھلے میدان میں لگایا گیا جہاں کثیر تعداد میں لوگ آپ کا وعظ سننے کے لیے آتے ۔ آپؒ لوگوں کو محض ظاہری عبادات کی طرف نہیں بلاتے تھے بلکہ دل کی بیماریوں خود پسندی ، بغض ، کینہ ،حرص و لالچ ، تکبر اور دنیا پرستی سے نجات کی طرف بھی متوجہ کرتے تھے ۔
آپ کی مجلس میں امراء ، فقراء ، درویش ، صوفی سلاطین ، علماء و مشائخ الغرض ہر طبقہ کے لوگ شامل ہوتے یہاں تک کہ یہودی و نصاری بھی مستفید ہوتے تھے ۔آپ کا وعظ ربانی الہامات کا سمندر اور معرفت کی تفسیر ہوتا۔
صوفیا ء میں جو مقام و مرتبہ شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کو حاصل ہے وہ کسی اور کو حاصل نہیں ۔ ہر سلسلہ کے صوفیا اور ارادت مندوں میں آپؒ کی وہ عقیدت و محبت پائی جاتی ہے جس کا تصور بھی نہیں ۔ اس کی وجہ وہ اخلاص اور للہیت ہے جس سے انہوں نے حضور نبی کریم ﷺ کے دین کی خدمت کی






