جمعہ، 9 اکتوبر، 2026

توبہ (2)

 

توبہ (2)

تیسری صورت یہ ہے کہ حاضر و موجود خدا کی شرم اسے دامن گیر ہو جائے اور وہ اس کی مخالفت پر اپنے   آ پ نادم ہونے لگے ۔ان تینوں  میں پہلا تائب ، دوسرا منیب اور تیسرا اواب ہے ۔ 
توبہ کے بھی تین مقام ہیں پہلا توبہ ، دوسرا انابت اور تیسرا اوبت ۔توبہ عذاب کے خوف کی وجہ سے ہوتی ہے ، انابت طلب ثواب کی خاطراور اوبت تعمیل حکم کے لیے ۔توبہ عام مسلمان کا درجہ ہے اور یہ گناہ کبیرہ سے ہوتی ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے : ”اے ایمان والواللہ کی  طرف ایسی توبہ کرو جو آگے کے لیے نصیحت ہو جائے “۔ ( سورۃ التحریم )۔
انابت اولیائے کاملین اور مقربین کا مقام ہے ۔سورۃ ق میں ارشاد باری تعالی ہے : ”جو رحمن سے بے دیکھے ڈرتا ہے اور رجوع کرتا ہوا دل لایا “ ۔  اور اوبت انبیائے کرام اور مرسلین کا شیوہ ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے :” کیا اچھا بندہ بیشک وہ بہت رجوع لانے والا “۔ ( سورۃ ق )  انابت صغیرہ گناہوں سے محبت کی وادی میں قدم رکھنے کانام ہے جبکہ اوبت کے معنی اپنی ذات کو نظر انداز کر کے اللہ تعالی کی طرف کامل رجوع کے ہیں ۔ 
تو بہ کی حقیقت اللہ تعالی کی منع کردہ باتوں سے رکنے ، دل کو خواب غفلت سے بیدار کرنے اور فوری طور پر اپنے عیوب پر مطلع ہو جانے کا  نام ہے ۔ جب انسان اپنی برائی اور بد اعمالی کا احساس کر لیتا ہے اور اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کے لیے خود بخود توبہ کا دروازہ کھول دیتا ہے اور آخر کار اسے گناہوں کی بد بختی سے نکال کر اپنی عبادت کی چاشنی عطا فرما دیتا ہے ۔ حضرت ذالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ توبہ کی دو قسمیں ہیں توبہ انابت اور توبہ استحیاءتوبی انابت یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالی کے عذاب کے خوف سے توبہ کرے اور توبہ استحیاءیہ ہے کہ کرم خدا وندی کے شرم سے بندہ توبہ کرے ۔خوف جلال کے اظہار سے پیدا ہوتا ہے اورحیانظارہ جمال سے پیدا ہوتی ہے پس ایک جلال میں خوف کی آگ سے جلتا ہے اور دوسرا س کے نور جمال میں حیا کے نور سے منور ہوتا ہے ۔ (کشف المحجوب )۔
سورۃ البقرۃ میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :”بیشک اللہ پسند رکھتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کوا ور پسند رکھتا ہے ستھروں کو “۔ 
اللہ تعالی ہمیں سچی توبہ نصیب فرمائے ، گناہوں سے بچنے کی توفیق دے ، اگر کوئی گناہ سر زد ہو جائے تو فوری اپنی بارگاہ میں رجوع کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین۔

جمعرات، 8 اکتوبر، 2026

توبہ (۱)

 

توبہ (۱)

انسان کی زندگی میں ایسے لمحات ضرور آتے ہیں جب اسے اپنے گزرے ہوئے راستوں پر نظر ڈال کر احساس ہوتا ہے کہ کچھ قدم  ایسے بھی اٹھے جنہیں نہیں اٹھا نا چاہیے تھا ، کچھ الفاظ ایسے کہے جن سے کسی کا دل دکھا اور کچھ فیصلے ایسے بھی ہوئے جنہوں نے دل  کے سکون کو چھین لیا ۔یہی احساس اگر انسان کو اللہ تعالی کی طرف واپس لے آئے تو اللہ تعالی اس کے لیے رحمت کا دروازہ کھول دیتاہے ۔اللہ تعالی نے انسا ن کو اس کی لغزشوں کے ساتھ تنہا نہیں چھوڑا بلکہ توبہ کا راستہ کھول کر اسے دوبارہ اپنے رب کی طرف پلٹنے کا موقع عطا فرمایا ہے ۔
توبہ محض زبان سے” استغفراللہ “کہہ دینے کا نام نہیں بلکہ دل کے اندر پیدا ہونے والی وہ کیفیت ہے جو انسان کو گناہ سے نکال کر اطاعت،اصلاح اور اللہ تعالی کی رضا کی طرف لے جاتی ہے ۔ 
لغوی اعتبار سے توبہ کے معنی رجوع کرنے کے ہیں شرعی اعتبار سے توبہ یہ ہے کہ بندہ ان کاموں سے رک جائے جن سے اللہ تعالی نے منع کیا ہے اور اس کے حکم کی خوبیوں کی طرف لوٹ آئے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :” اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ “۔ ( سورۃ النور )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : نوجوان توبہ کرنے والے سے زیادہ پسندیدہ چیز اللہ تعالی کے نزدیک اور کوئی نہیں ۔اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا گناہوں سے توبہ کرنے والا اس شخص کی مانند ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں ۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا توبہ ندامت کا نام ہے ۔اس فرمان میں توبہ کی تمام شرائط آ جاتی ہیں اس لیے کہ توبہ کی ایک شرط  اللہ تعالی کے حکم کے مخالف چلنے پر افسوس کرنا بھی ہے ۔دوسری شرط موجودہ صورت میں غلطی و گناہ نہ کرنے کا عہد کرنا ہے اور تیسری شرط آئندہ گناہ نہ کرنے کا وعدہ کرنا ہے ۔ 
یہ تینوں شرطیں ندامت میں موجود ہیں کیونکہ جب دل میں ندامت آ جاتی ہے تو بقیہ دو شرطیں اس کے ضمن میں آ جاتی ہیں۔ جس طرح  توبہ کی تین شرطیں ہیں اسی طرح ندامت کے بھی تین سبب ہیں ایک یہ کہ عذاب کا خوف دل پر غالب ہو اور دل کے سامنے اپنی بد  اعمالیوں کا نقشہ آ جائے تو انسان میں ندامت کا احساس پیدا ہو ۔دوسرے یہ کہ اللہ تعالی کی نعمت کے حصول کا خیال اس کے دل میں  غلبہ حاصل کر لے اور وہ یہ بھی جان لے کہ نافرمانی کی صورت میں یہ نعمت نہیں ملے گی ۔لہذا بُرے اعمال پر شرمندہ ہو تا کہ یہ نعمت  دوبارہ حاصل کر سکے ۔

بدھ، 7 اکتوبر، 2026

طہارت (۲)

 

طہارت (۲)

دل کی طہارت حاصل کرنے کے لیے بندے کو چاہیے کہ وہ دنیا کی برائیوں میں غور و فکر کرے اور انہیں سمجھے یہ اس لیے کہ دنیا فریب  اور فنا ہونے کا مقام ہے اور مجاہدات کے سوا کسی چیز سے بھی دل دنیا کی محبت سے خالی نہیں ہوتا ۔ اس سلسلہ میں سب سے بڑا مجاہدہ  ظاہری آداب کی حفاظت اور ہر حال میں ان کی بجا آوری ہے ۔
حضرت ابو طاہر حری رحمۃ اللہ علیہ چالیس سال تک مکہ مکرمہ میں رہے مگر آپ نے کبھی  حرم کی حدود میں رفع حاجت نہ کی جب بھی  رفع حاجت کی ضرورت محسوس ہوتی حرم سے باہر تشریف لے جاتے اور فرماتے تھے کہ جس زمین کی نسبت اللہ تعالی نے اپنی طرف  کی ہے میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ وہاں اپنا مستعمل پانی گراؤں۔
حضرت سفیان رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں ہے کہ آپؒ نے جس بیماری میں انتقال فرمایا اس کے دوران ایک دفعہ آپ نے ایک نماز کے لیے ساٹھ مرتبہ طہارت کی اور فرمایا کہ اگر مجھے موت آجائے تو میں پاک تو ہوں۔ 
حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ مسجد میں جانے کے لیے وضو کیا تو ہاتف سے آواز آئی تم نے ظاہر تو پاک کر لیا باطن کی صفائی  کہا ں ہے ؟ آپ فرماتے ہیں کہ میں واپس گیا اور اپنی تمام جائیداد اللہ تعالی کی راہ میں دے دی ۔ اور ایک سال تک اتنے مختصر لباس  میں گزارا جن میں نماز اد ا کرنا جائز ہو ۔ آپؒ فرماتے ہیں کہ میں اسی حالت میں حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں حاضرہوا تو انہوں نے فرمایا کہ جو طہارت تم نے کی ہے وہ کیا ہی اچھی طہارت ہے ۔ اللہ تعالی تمہیں ہمیشہ طہارت میں رکھے ۔اس کے بعد  آپ ؒ کبھی بھی بغیر وضو نہ رہے۔
حضرت ابو یزید رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ جب میرے دل میں دنیا کا خیال تو میں وضو کر لیتا ہوں اور آخرت کا خیال آئے تو غسل کر  لیتا ہوں ۔ اس لیے کہ دنیا جائے گندگی ہے اور اس کا خیال نجس اور عقبی مقام غیبت و آرام ہوتا ہے ۔ مشائخ طریقت مریدوں کو ظاہری اور باطنی طہارت کا حکم دیتے ہیں اگر کوئی شخص عبادت کا ارادہ کرے تو اس کا ظاہر پاک ہونا چاہیے اور اگر اس کے دل میں قرب الہی کی خواہش ہو تو اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کا باطن بھی پاک ہو ۔ ظاہری طہارت پانی سے حاصل  ہوتی ہے اور باطنی طہارت توبہ اور رجوع الی اللہ سے ۔ دل کو گناہوں سے ، زبان کو بُرے کلام سے ، نگاہ کو حرام سے اور اعمال کو ریا سے  پاک رکھنا ہی حقیقی طہارت کی طرف سفر ہے ۔

منگل، 6 اکتوبر، 2026

طہارت (۱)

 

طہارت (۱)

ایمان کے بعد بندے پر سب سے پہلے جو چیز فرض ہے وہ طہارت حاصل کرنا ہے تا کہ نماز ادا کر سکے ۔طہارت سے مراد نجاست اورجنابت سے بدن کو پاک کرنا ہے ۔انسان کی حقیقی خوب صورتی صرف اس کے لباس ، صاف بدن اور ظاہری آراستگی میں نہیں  بلکہ اس دل کی پاکیزگی میں بھی پوشیدہ جس دل میں اللہ تعالی کی محبت ، خوف خدا ، اخلاص اور حسن ِ اخلاق جگہ بناتے ہیں ۔ 
طہارت کی دو قسمیں ہیں ایک ظاہری طہارت اور دوسری باطنی یا دل کی طہارت ۔ جسم کی طہارت کے بغیر نماز درست نہیں ہوتی اسی طرح دل کی طہارت کے بغیر معرفت صحیح نہیں ہوتی ۔ جسمانی طہارت کے لیے صاف پانی کی ضرورت ہوتی ہے اسی  طرح دل کی طہارت کے لیے خالص توحید کا اعتقاد ہونا ضروری ہے جس میں کسی قسم کی آمیزش یا گندگی نہ ہو ۔ 
جب انسان کا ظاہر بھی پاک ہو اور باطن بھی صاف ہو تو اس کی شخصیت عبادت ، اخلاق اور معاملات میں حسین توازن اختیار کر لیتی ہے۔ یہی پاکیزگی انسان کو اللہ تعالی کی رضا کے قریب اور معاشرے کے لیے باعث خیر بناتی ہے ۔ صوفیائے کرام ہمیشہ ظاہری طور پر طہارت سے متصف ہوتے ہیں اور باطنی اعتبار سے توحید سے مزین ہوتے ہیں ۔ 
ارشاد باری تعالی ہے :’’ بیشک اللہ پسند کرتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتا ہے ستھروں کو ‘‘۔ فرمان ِ مصطفی ﷺ ہے : ہمیشہ با وضو رہو دونوں محافظ فرشتے تمہیں دوست رکھیں گے ۔ 
جو شخص ہمیشہ ظاہری طہارت سے رہتا ہے اسے فرشتے دوست رکھتے ہیں اور جو اپنے باطن کو توحید سے آراستہ کر لیتا ہے اسے اللہ تعالی  اپنادوست بنا لیتا ہے ۔ 
ضرورت اس بات کی ہے کہ ظاہری اور باطنی طہارت دونوں ایک ساتھ چلیں ۔جب بندہ ہاتھ دھوئے تو دل سے دنیا کی محبت بھی دھو ڈالے ۔جب منہ میں پانی ڈالے تو اسے چاہیے کہ زبان کو غیر کے ذکر سے فارغ کر دے ۔ جب ناک میں پانی ڈالے تو آئندہ کے لیے شہوت کی بو بھی نہ سونگھنے کا عہد کرے ، جب چہرے کودھوئے تو تمام مالوفات کو بھی نکال دے اور اپنی توجہ حق کی طرف مبذول کر  لے ، جب مسح کرے تو اپنے تمام امور اللہ تعالی کے سُپرد کر دے اور جب پاؤں دھوئے تو اللہ تعالی کے حکم کے سوا کسی چیز پر نہ ٹھہرنےکا عہد کرے تا کہ بندے کو ظاہری اور باطنی دونوں عبادتیں حاصل ہو ں ۔

پیر، 5 اکتوبر، 2026

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ (۲)

 

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ (۲)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ چند چھوہارے لے کر نبی رحمت ﷺ کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ ﷺ  میرے لیے برکت کی دعا فرمائیں ۔آپ ﷺ نے دعا فرمائی اور فرمایا کہ اسے اپنی تھیلی میں رکھ لو اور جب جی چاہے اس میں ہاتھ ڈال کرکھاؤ اور دوسروں کو بھی کھلاؤ مگر کبھی اس تھیلی کو خالی کر کے  مت جھاڑنا ۔آپ ؓ فرماتے ہیں کہ پچیس سال تک اس تھیلی میں سے چھوہارے نکال کر کھاتا رہا اور دوسروں کو بھی کھلاتا رہا خیرات بھی کرتا رہا لیکن چھوہارے ختم نہ ہوئے اورسیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے  دن کہیں گر گئی جس کا آپ ؓ کو ساری زندگی صدمہ رہا ۔ ( ترمذی )۔
ایک مرتبہ آپ رضی اللہ عنہ کا گزر ایک ایسی جماعت کے پاس سے ہوا جن کے سامنے بھنی ہوئی بکری رکھی ہوتی تھی ۔ لوگوں نے آپ ؓ کو  کھانے کی دعوت دی تو آپ رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا کر منع کر دیا کہ نبی رحمت ﷺ دنیا سے تشریف لے گئے اور کبھی جو کی روٹی پیٹ بھر کر نہ کھائی ۔ ( بخاری )۔
آپؓ اپنی والدہ ماجدہ کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آتے تھے اور اسلام قبول کرنے کے بعد ہمیشہ اس کوشش میں رہے کہ ان کی  والدہ بھی دین اسلام میں داخل ہو جائیں ۔ایک مرتبہ آپ ؓ کی والدہ نے حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں نازیبا کلمات کہے تو آپ ؓ روتے ہوئے نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی یارسول اللہ ﷺمیری والدہ کے لیے ہدایت کی دعا فرمائیں ۔نبی  رحمت ﷺ نے ادھر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے کہ اے اللہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی والدہ کو ہدایت عطا فرمااُدھر آپ ؓ کی والدہ کی دنیا بدل  گئی اور غسل کر کے مسلمان ہو گئیں ۔ جب سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ گھر پہنچے تو آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ کلمہ پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخل  ہو گئیں۔(مسلم )۔
آپ رضی اللہ عنہ نے عہد رسالت ﷺ میں غزوہ حنین جیسے معرکوں میں حصہ لیا ۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی فتنہ فساد برپا کرنے والوں کے خلاف بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔عہد فاروقی میں سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو بحرین کا گورنر مقررفرمایا ۔
سیدنا ابوہریرہؓ نے ۹۵ہجری میں اٹھتر سال کی عمر میں مدینہ منوہ میں وفات پائی اور جنت البقیع میں مدفون ہوئے ۔ ( عمدۃ القاری)۔ آپ رضی اللہ عنہ نے دنیاوی مشکلات کے مقابلے میں علم نبوی ﷺ کو ترجیح دی اور اپنی زندگی کو سنت نبوی ﷺ کی حفاظت کے لیے وقف کر دیا ۔

اتوار، 4 اکتوبر، 2026

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ (۱)

 

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ (۱)

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مقام و مرتبہ اس قدر بلند اور مقدس ہے جسے الفاظ کی محدود دنیا میں مکمل طور پر بیان کرنا ممکن نہیں ۔
یہ وہ برگزیدہ ہستیاں ہیں جنہوں نے براہ راست حضور نبی کریم ﷺ کی زیارت کی اور آپ ﷺ کی صحبت پائی ۔ انہی عظیم المرتبت صحابہ میں ایک نمایا ں نام حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا ہے جنہیں اللہ تعالی نے حفظِ حدیث کی غیر معمولی صلاحیت عطا فرمائی۔
آپ رضی اللہ عنہ کا اصل نام عبدا لرحمن صخر ہے اور قبیلہ دوس سے تعلق رکھتے تھے ۔آپ رضی اللہ عنہ کا شمار کثرت روایات کرنے والے صحابہ کرام میں ہوتا ہے ۔  حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بہت ہی عبادت گزار ، متقی اور پرہیز گار صحابی تھے ۔آپؓ کو بلیوں سے بہت انس تھا ۔ایک مرتبہ حضور نبی  کریم ﷺ نے آپؓ کی آستین میں بلی دیکھی تو فرمایا یا اباہریرۃ یعنی اے بلی کے باپ کہہ کر بلایا اسی دن سے آپ ؓ کا لقب ابو ہریرہ ؓ مشہور ہو گیا ۔
آپ ؓ کو حضور نبی کریم ﷺ سے بہت زیادہ محبت تھی اور آپ ﷺ کا بہت زیادہ ادب و احترام کرتے تھے یہاں تک کہ بغیر طہارت  حضور نبی کریم ﷺ سے مصافحہ کرنا بھی گوارا نہیں کرتے تھے ۔ایک مرتبہ آپ ؓ کو غسل کی حاجت تھی کہ راستہ میں حضور نبی کریم ﷺ سے سامنا ہو گیا ۔آپ رضی اللہ عنہ ایک طرف سے ہو کے نکل گئے اور غسل کے بعد نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے ۔نبی رحمت ﷺ نے فرمایا ابو ہریرہ کہاں تھے ؟ عرض کی مجھے غسل کی حاجت تھی اس لیے دل نے گوارا نہ کیا کہ اس حالت میں آپ ﷺ سے مصافحہ کروں۔ (ابو داؤد )۔
حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا نبی کریم ﷺ سے محبت کا عالم یہ تھا کہ اگر حضور نبی رحمت ﷺ خوش ہوتے تو آپ بھی خوش ہوتے  اور اگر حضور نبی کریم ﷺ کے چہرہ انور پر غمی کے اثرات ہوتے تو آپ ؓ بھی غمگین ہو جاتے تھے ۔ایک مرتبہ آپ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ جب میں آپ ﷺ کو دیکھتا ہوں تو میرا دل باغ باغ ہوجاتا ہے اور آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں ۔ ( مسنداحمد)۔
آپ ؓ کو علم حاصل کرنے کا بے حد شوق تھا اور سب کچھ چھوڑ کر حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو جاتے فاقے برداشت کرتے اور علم حاصل کرتے تھے۔ 
ایک مرتبہ آپؓ نے حضور نبی کریم ﷺ سے عرض کی یا رسو ل اللہ ﷺ میں آپ ﷺ سے جو بھی سنتا ہوں بھول جاتا ہوں ۔آپ ﷺ نے  فرمایا کہ اپنی چادر پھیلاؤ حضور نبی کریم ﷺ نے کچھ احادیثیں بیان کیں اور فرمایا اس چادر کو سمیٹ کر اپنے سینے سے لگا لو ۔اس کے بعد  آپ ؓ کا حافظہ اتنا قوی ہوا کہ جو کچھ آپ ﷺ سے سنتے فورا ً یاد ہو جاتا ۔

جمعہ، 2 اکتوبر، 2026

لالچ اور لامحدود خواہشات(۲)

 

لالچ اور لامحدود خواہشات(۲)

جب لالچ اور حرص کسی فرد کی شخصیت میں جگہ بنا لیتی ہے تو وہ معاشرے کا کارآمد اور پُر امن شخص نہیں رہتا ۔رشو ت خوری ، کرپشن ، ذخیرہ اندوزی ، جھوٹ ،دھوکہ دہی اور لوگوں کا استحصال کرنا اس کی عادت بن جاتی ہے اور ان تمام جرائم کی جڑ لالچ اور حرص ہے ۔ ایک تاجر جب زیادہ منافع کے لالچ میں خراب مال بیچتا ہے یا پھر کوئی افسر عوام کی خدمت کی بجائے اپنے ذاتی مفاد کو ترجیح دیتا ہے تو اس کا نقصان پورے معاشرے کو ہوتا ہے۔
اس لیے اسلام نے ہمیں قناعت کو اپنانے کا درس دیا ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کامیاب ہو گیا وہ شخص جس نے اسلام قبول کیا اور اللہ تعالی کی طرف سے اسے جو رزق دیا گیا اس پر قناعت اختیار کی ۔
ابو للیث سمرر قندی علیہ الرحمہ اپنی تصنیف تنبیہ الغافلین میں لکھتے ہیں جو کوئی شخص اپنی خواہشات کو کم کر لیتا ہے تو اللہ تعالی اسے چار طرح سے وقار عطا فرماتا ہے۔  ایک یہ کہ اللہ تعالی اسے یہ توفیق عطا فرماتا ہے کہ وہ احکام الہی کی پاسداری کر سکے اور ان کی بجا آوری لا سکے کیونکہ جب بندہ یہ جان لیتا ہے کہ  موت قریب ہے تو وہ ناپسندیدہ دنیوی چیزوں کو چھوڑ دیتا ہے اور پرہیز گاری کے کاموں میں لگ جاتا ہے تا کہ اس کی نیکیوں میں اضافہ ہو سکے ۔ 
نمبر دو جب بندے کو یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ اس دنیا میں اس کا قیام بس چند روزہ ہے اور یہ دنیا فانی ہے تو پھر دنیاوی معاملات میں اس کی دلچسپی کم ہو جاتی جس کی وجہ سے اس کے دنیاوی تفکر اور پریشانیا ں کم ہو جاتی ہیں ۔
نمبر تین یہ کہ جب بندے کو یہ معلوم ہو جاتاہے کہ اسے جلد ہی اس دنیا کو چھوڑ جانا ہے تو وہ طلب دنیا کی خواہش کو ترک کر دیتا ہے اوراس کی تمام تر توجہ اخروی زندگی کی تیاری کی طرف مبذول ہو جاتی ہے ۔ نمبر چار اس کا دل نور سے بھر جاتا ہے کیونکہ چار چیزیں دلوں کو منور کرتی ہیں ۔ بھوکا پیٹ،نیک دوست، پُرانی غلطیوں کو یاد رکھنا اور خواہشات کو کم رکھنا ۔
لالچ اور حرص سے بچنے کے لیے بندے کو چاہیے کہ وہ اپنے نفس کا تزکیہ کرے کیونکہ کسی بھی برائی سے بچنے کے لیے سب سے پہلے دل کی اصلاح  ضروری ہے ۔ جب بندے کا نفس شیطانی وسوسوں سے پاک رہتا ہے تو وہ دنیاوی لالچ سے بچ جاتا ہے ۔والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں  کو لالچ سے بچنے اور قناعت اختیار کرنے کا درس دیں  تاکہ وہ اپنی اخروی زندگی کی بہتر طریقے سے تیاری کر سکیں۔
لالچ اور لا متناہی خواہشات انسان کی شخصیت کو کھوکھلا اور معاشرے کو تباہ کر دیتی ہیں ۔ اس کا حل صرف یہ ہی ہے کہ انسان اپنی خواہشات پر قابو رکھے اور  قناعت کو اپنائے ۔ وہی انسان کامیاب ہے جس نے اپنے نفس کو شکست دے دی ۔آج ہمیں اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ لالچ انسان کو کہیں کا  نہیں چھوڑتا۔اصل دولت دل کا سکون ہے جو صرف ذکر الہی ، کثرت درود و سلام ،شکر ، قناعت اور سچائی کے ذریعے ہی حاصل ہو سکتی ہے ۔

توبہ (2)

  توبہ (2) تیسری صورت یہ ہے کہ حاضر و موجود خدا کی شرم اسے دامن گیر ہو جائے اور وہ اس کی مخالفت پر اپنے   آ پ نادم ہونے لگے ۔ان تینوں  میں ...