جمعہ، 2 اکتوبر، 2026

لالچ اور لامحدود خواہشات(۲)

 

لالچ اور لامحدود خواہشات(۲)

جب لالچ اور حرص کسی فرد کی شخصیت میں جگہ بنا لیتی ہے تو وہ معاشرے کا کارآمد اور پُر امن شخص نہیں رہتا ۔رشو ت خوری ، کرپشن ، ذخیرہ اندوزی ، جھوٹ ،دھوکہ دہی اور لوگوں کا استحصال کرنا اس کی عادت بن جاتی ہے اور ان تمام جرائم کی جڑ لالچ اور حرص ہے ۔ ایک تاجر جب زیادہ منافع کے لالچ میں خراب مال بیچتا ہے یا پھر کوئی افسر عوام کی خدمت کی بجائے اپنے ذاتی مفاد کو ترجیح دیتا ہے تو اس کا نقصان پورے معاشرے کو ہوتا ہے۔
اس لیے اسلام نے ہمیں قناعت کو اپنانے کا درس دیا ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کامیاب ہو گیا وہ شخص جس نے اسلام قبول کیا اور اللہ تعالی کی طرف سے اسے جو رزق دیا گیا اس پر قناعت اختیار کی ۔
ابو للیث سمرر قندی علیہ الرحمہ اپنی تصنیف تنبیہ الغافلین میں لکھتے ہیں جو کوئی شخص اپنی خواہشات کو کم کر لیتا ہے تو اللہ تعالی اسے چار طرح سے وقار عطا فرماتا ہے۔  ایک یہ کہ اللہ تعالی اسے یہ توفیق عطا فرماتا ہے کہ وہ احکام الہی کی پاسداری کر سکے اور ان کی بجا آوری لا سکے کیونکہ جب بندہ یہ جان لیتا ہے کہ  موت قریب ہے تو وہ ناپسندیدہ دنیوی چیزوں کو چھوڑ دیتا ہے اور پرہیز گاری کے کاموں میں لگ جاتا ہے تا کہ اس کی نیکیوں میں اضافہ ہو سکے ۔ 
نمبر دو جب بندے کو یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ اس دنیا میں اس کا قیام بس چند روزہ ہے اور یہ دنیا فانی ہے تو پھر دنیاوی معاملات میں اس کی دلچسپی کم ہو جاتی جس کی وجہ سے اس کے دنیاوی تفکر اور پریشانیا ں کم ہو جاتی ہیں ۔
نمبر تین یہ کہ جب بندے کو یہ معلوم ہو جاتاہے کہ اسے جلد ہی اس دنیا کو چھوڑ جانا ہے تو وہ طلب دنیا کی خواہش کو ترک کر دیتا ہے اوراس کی تمام تر توجہ اخروی زندگی کی تیاری کی طرف مبذول ہو جاتی ہے ۔ نمبر چار اس کا دل نور سے بھر جاتا ہے کیونکہ چار چیزیں دلوں کو منور کرتی ہیں ۔ بھوکا پیٹ،نیک دوست، پُرانی غلطیوں کو یاد رکھنا اور خواہشات کو کم رکھنا ۔
لالچ اور حرص سے بچنے کے لیے بندے کو چاہیے کہ وہ اپنے نفس کا تزکیہ کرے کیونکہ کسی بھی برائی سے بچنے کے لیے سب سے پہلے دل کی اصلاح  ضروری ہے ۔ جب بندے کا نفس شیطانی وسوسوں سے پاک رہتا ہے تو وہ دنیاوی لالچ سے بچ جاتا ہے ۔والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں  کو لالچ سے بچنے اور قناعت اختیار کرنے کا درس دیں  تاکہ وہ اپنی اخروی زندگی کی بہتر طریقے سے تیاری کر سکیں۔
لالچ اور لا متناہی خواہشات انسان کی شخصیت کو کھوکھلا اور معاشرے کو تباہ کر دیتی ہیں ۔ اس کا حل صرف یہ ہی ہے کہ انسان اپنی خواہشات پر قابو رکھے اور  قناعت کو اپنائے ۔ وہی انسان کامیاب ہے جس نے اپنے نفس کو شکست دے دی ۔آج ہمیں اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ لالچ انسان کو کہیں کا  نہیں چھوڑتا۔اصل دولت دل کا سکون ہے جو صرف ذکر الہی ، کثرت درود و سلام ،شکر ، قناعت اور سچائی کے ذریعے ہی حاصل ہو سکتی ہے ۔

جمعرات، 1 اکتوبر، 2026

لالچ اور لامحدود خواہشات(۱)

 

لالچ اور لامحدود خواہشات(۱)

انسانی فطرت میں خواہشات کا پایا جانا ایک فطری امر ہے ۔ یہی خواہشات انسان کو ترقی کے راستے پر گامزن کرتی ہیں لیکن خواہشات حد سے بڑھ جائیں 
تو انسان کو اخلاص اور اصولوں کی راہوں سے ہٹا کر محض ذاتی مفاد اور حرص کی کھائی میں دھکیل دیتی ہیں ۔ حد سے زیادہ خواہشات انسان کو لالچ میں مبتلا کر  دیتی ہیں ۔ لالچ وہ آ گ ہے جو نہ صرف فرد کو جلاتی ہے بلکہ پورے معاشرے کو اپنے لپیٹ میں لے لیتی ہے ۔ 
ارشاد باری تعالی ہے :” تمہیں مال و دولت کی زیادتی کی طلب نے غفلت میں ڈال دیا یہاں تک کہ تم قبروں میں پہنچ گئے “۔ ( سورۃ التکاثر )۔ امام غزالی ؒ فرماتے ہیں کہ لوگوں کا لالچ اور عمر درازی سے دھوکہ کھانے کی دو وجوہات ہیں جہالت اور دنیا کی محبت ۔ انسان بلا سوچے سمجھے اپنی موت کو بھلائے۔ انسان لمبی امیدیں باندھ لیتا ہے اور دن رات لالچ کی وجہ سے دولت کو دونوں ہاتھو ں سے سمیٹنے میں لگا رہتا ہے ۔لیکن وہ اس بات کو بھول گیا ہے کہ موت اٹل حقیقت ہے اور کسی بھی وقت آ سکتی ہے ۔  ابو اللیث سمر قندی فرماتے ہیں کہ خواہش دو طرح کی ہوتی ہے ۔ ایک خواہش دنیاوی لذت اور حوس ہے جو انسان کو فرائض کی ادائیگی سے غافل کر دیتی ہے
اور وہ دولت کی لالچ میں آخرت کو بھول جاتا ہے ۔ اور دوسری خواہش وہ ہوتی ہے جو نا قابل مذمت ہوتی ہے یعنی ایسی خواہش جس کی تکمیل کی وجہ سے انسان احکام الہی کی بجا آوری میں کوئی رکاوٹ نہ آنے دے ۔ 
انسان کو اپنی لامتناہی خواہشات کو لگام ڈال کر رکھنی چاہیے ۔اگر خواہشات کی لگام کو ایسے ہی چھوڑ دیا جائے تو انسان دنیا کی محبت اور مال و دولت کی حرص کی  وجہ سے اپنی عاقبت کو بھی خراب کر لیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :”ایک بوڑھے کا دل دو باتوں میں جوان رہتا ہے۔ دنیا کی محبت میں اور دوسرا خوہشات  کی طوالت میں“( بخاری )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر آدمی کے پاس سونے کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کی خواہش کرے گا ۔ آدمی کے پیٹ کو سوائے قبر کی مٹی کے کوئی چیز نہیں بھر سکتی ۔ جب وہ توبہ کر تا ہے اور خود کو حر ص و لالچ سے پاک کر لیتا ہے تو اللہ تعالی اس کی توبہ کو قبول فرماتا ہے ۔(بخاری )۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ خوف خواہشات نفس اور لمبی لمبی امیدیں رکھنے کا ہے ۔رہی بات خواہشات نفس کی تو یہ  انسان کو حق سے روک لیتی ہیں اور لمبی لمبی امیدیں آخرت کو بھلا دیتی ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ دنیا فانی ہے اور آخرت آنے والی ہے ۔ دونوں میں  سے ہر ایک کے کچھ بندے ہیں اگر تم سے ہو سکے تو دنیا کے بندے مت بنو ۔ ایسا ضرور کرو ۔ بلا شبہ آج تم ایسی جگہ میں  ہو جس میں بھرپور عمل کیا جا سکتا ہے۔
اور حساب کتاب نہیں ۔ لیکن کل بروز قیامت تم ایسی جگہ پہنچ جاؤ گے جس میں حساب لیا جائے گا اور عمل نہیں کیا جا سکے گا ۔ ( بہیقی )۔

بدھ، 30 ستمبر، 2026

ملازمین کے ساتھ حسن سلوک

 

ملازمین کے ساتھ حسن سلوک

انسان جب اپنے ہم مرتبہ لوگوں سے بات چیت کرتا ہے تو اخلاقی قدروں کو ملحوظ خاطر رکھتا ہے اور جب اپنے ماتحت لوگوں سے معاملہ کرتا ہے تو ان کو اپنے سے کم تر سمجھتا ہے اور تمام اخلاقی قدروں کو پامال کر دیتا ہے ۔  اور اس کی عزت و نفس کا بھی خیال نہیں رکھتا ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے اپنے ماتحت لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیا ۔اور اپنے سے بڑے اور چھوٹے سب کے ساتھ ایک جیسے معاملات رکھنے کا حکم  فرمایا۔
حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں اپنے غلام سے کسی بات پر ناراض ہو گیا اور اسے درّے سے مارنے لگا ۔ اتنے میں میرے پیچھے سے آواز آئی ۔ اے ابو مسعود جان لو ! مگر میں شدید غصے کی وجہ سے آواز پہچان نہ سکا جب آواز دینے والا میرے قریب آ گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ رسول کریم ﷺ ہیں اور آپ فرما رہے تھے ۔ اے ابو مسعود ! جان لو تمہیں اس غلام پر قابو حاصل ہے اس سے زیادہ قابو اللہ تعالی کو تمہارے اوپر حاصل ہے ۔
یہ سن کر میرے ہاتھ سے کوڑا گر گیا اور میں نے کہا کہ میں کبھی اس غلام کو نہیں ماروں گا ۔ میں اس غلام کو اللہ کے  لیے آزاد کر تا ہوں ۔ یہ سن کر حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں اگر تم ایسا نہ کرتے تو تمہیں آگ چھو لیتی ۔ ( جامع الاصول) ۔
حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضور  ﷺ سے پوچھا ہم ملازم کو ایک دن میں کتنی بار معاف کر دیا کریں ۔ آپ ﷺ خاموش رہے اس نے دوسری مرتبہ پوچھا آپ ﷺ خامو ش رہے ۔ اس نے پھر  یہ ہی سوال پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا اسے ہر روز ستر مرتبہ معاف کر دیا کرو ۔ ( ابی داؤد ) ۔
حضور نبی کریم ﷺ نے غلاموں کے متعلق ارشاد فرمایا : وہ تمہارے بھائی ہیں جنہیں اللہ تعالی نے تمہارے ماتحت کر دیا ہے ۔ تو جس کے ماتحت اس کا بھائی ہو اسے چاہیے کہ جو خود کھاتا ہے اسے بھی وہ ہی کھلائے جو خود پہنتا ہے اس کو بھی پہنائے ۔ اور اس سے اس کی طاقت سے زیادہ کوئی کام نہ کروائے ۔ اگر اسے کوئی ایسا کام کہہ دے تو خود بھی اس کی مدد کرے ۔
 آخری ایام میں حضور  ﷺ نے نماز کے ساتھ ماتحت لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین فرمائی ۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ جس وقت آپ ﷺ کا وصال ہوا تو آپ ﷺ آخری دم تک یہی فرما رہے تھے اے لوگو ! نماز کا خیال رکھنا اور اپنے غلاموں کا خیال رکھنا  ( ابن ماجہ ) ۔

منگل، 29 ستمبر، 2026

شیخ عبد القادر جیلانی محبوب سبحانی ؒ(۳)

 

شیخ عبد القادر جیلانی محبوب سبحانی ؒ(۳)

آپ ؒ کو جو ہدیہ یا تحائف پیش کیے جاتے ان کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے ۔جو ہدیہ آپ ؒ کی خدمت میں پیش ہوتا وہ اسی وقت حاضرین میں  تقسیم کر دیا جاتا اور ہدیہ دینے والے کو خود بھی کچھ دیتے اور فرماتے کہ یہ حضور ﷺ کی سنت مبارکہ ہے کہ جو کچھ آپ کو دیا جائے اس  سے بہتر کچھ دیا جائے ۔ آپ ؒ کے لیے تیسرے پہر چار روٹیاں لائی جاتیں تو آپ ان میں سے ایک ایک ٹکڑا حاضرین کو دیتے اور پھر  جو کچھ بچتا وہ خود کھا لیتے ۔ 
آپ ؒ کسی امیر کی تعظیم میں کھڑے نہیں ہوتے تھے اور نہ ہی کسی امیر کے در پر جاتے تھے ۔ آپ ؒ کے پاس خلیفہ آتا تو آپ کے ہاتھ چومتا اور ادب سے دست بستہ آپ ؒ کے سامنے بیٹھ جاتا اور آپ ؒ ا س سے بے باکی سے گفتگو فرماتے ۔ شیخ ابو المظفرمنصور لکھتے ہیں کہ حضور غوث اعظم ؒ سے بڑھ کر میں نے کسی کو خوش خو ، مہربان ، کریم النفس ، حوصلہ والے ، وعدہ وفا اور دوستی  نبھانے والا نہیں دیکھا ۔ آپ ؒ کی مجلس میں رعب ایسا تھا کہ کسی کو دم مارنے کی مجال نہ ہوتی اور سکون ایسا کہ خدمت میں حاضر ہونے  والے باہر کی تمام فکریں بھول جاتے ۔ 
آپ ؒ بہت سخی ، مسکین نواز تھے ، مہمانوں اور خاص طور پر غرباء و مساکین کے ساتھ بیٹھ کر کھانا تناول فرماتے ۔ ان کے ساتھ اخلا ص و محبت کے ساتھ بات چیت کرتے ۔ان کی بُرائیوں کو چھپاتے اور اچھائیوں کی تعریف کرتے ۔ آپ ؒ خوش اخلاق اور مستجاب الدعوات تھے ۔ 
آپ ؒ کی زبان سے کبھی فحش گوئی اور بے ہودہ کلام نہ نکلا اور نہ ہی کسی کو آپ ؒ کے سامنے فحش گوئی کی جرات ہوتی ۔ اللہ تعالی کے احکام کے برعکس  کوئی کام ہوتا دیکھتے تو اسے نرمی سے سمجھاتے ۔کوئی بھی سائل آپؒ کے دربار سے خالی نہ جاتا اور مانگنے والا جو کچھ مانگتا آپ ؒ عطا فرماتے ۔
 آپ ؒ نے فرمایا پیر وہ ہے جس کو ظاہری شریعت کا علم ہو ، وہ علم حقیقت جانتا ہو ، اپنے پاس آنے والوں کے ساتھ عمدگی اور خندہ پیشانی سے ملتا ہو ، مسافر کو کھانا کھلاتا ہو ، غرباء اور بے حیثیت لوگوں کے ساتھ قول اور فعل دونوں میں عجز و انکساری کے ساتھ پیش آتاہو اور مریدین کی باطنی تربیت اورتعلیم کی لیاقت رکھتا ہو ۔اور خود بھی ریاء ، حسد ، طمع ، خود بینی ، غفلت اور عیش طلبی سے پاک ہو ۔  حضور غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی شان کسی ایک لقب ، ایک واقعے یا ایک کرامت میں محدود نہیں کی جاسکتی ۔بغداد کی سرزمین پر آپ ؒ نے  ایسا اثر چھوڑا جو صدیوں گزرنے کے باوجود دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں میں زندہ ہے ۔

پیر، 28 ستمبر، 2026

شیخ عبد القادر جیلانی محبوب سبحانی ؒ(۲)

 

شیخ عبد القادر جیلانی محبوب سبحانی ؒ(۲)

حضور غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے ابتدائی تعلیم گھر میں حاصل کی اور قرآن مجید حفظ و ناظرہ بھی والدین سے پڑھا۔اس کے بعد آپ ؒ کے  والدین نے آپ کو جیلان کے ایک مدرسہ میں داخل کرا دیاجہاں آپ نے اٹھارہ برس تک تعلیم حاصل کی ۔مزیدحصول علم کے لیے آپؒ  بغداد تشریف لے گئے ۔ بغداد شریف پہنچنے کے بعد مدرسہ نظامیہ میں داخلہ لیا ۔ آپ نے ہر علم اس کے ماہر و باکما ل استاد سے پڑھا ۔ علم  میں کمال مہارت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ آپ عبادت وریاضت میں بھی مشغول رہے ۔  ظاہری علوم سے فارغ ہونے کے بعد آپؒ نے سکون قلب حاصل کرنے کے لیے کامل روحانی استاد و عارف کی تلاش شروع کر دی ۔ اللہ تعالی نے آپ کی دعا کو قبول فرمایا اور آپ کو حضرت شیخ حماد بن مسلم ؒسے ملا دیا ۔ حضرت شیخ حمادؒ  کی صحبت سے ملنے والے فیض نے آپؒ  کے دل میں عشق الہی کو خوب بھڑکا دیا ۔  آپؒ نے شیخ حماد ؒ سے فیض یاب ہونے کے بعد گوشہ نشینی اختیار کر لی اور مسلسل 12 سال تک ذ کر الہی میں مشغول رہے ۔ آپ نے حضرت شیخ ابوسعید مخزومی رحمۃ اللہ علیہ کے دست اقدس پر بیعت کی ۔ مرشد نے آپ  ؒ کو خلافت کی اجازت دی اورولایت کا تاج آپؒ کو عطا فرمایا ۔
 پھر اپنے مدرسے میں صدر المدرسین مقرر کیا اور خود گوشہ نشینی اختیار کر لی ۔   آپؒ نے عوام میں وعظ و نصیحت شرو ع کی اور سننے والوں پر گہرا اثر ہونے لگا ۔ گناہوں سے آلودہ دل صاف ہونے لگے ۔ آپ کو اللہ تعالی نے ایسی مقبولیت عطا کی کہ مدرسہ کی عمارت سامعین کے لیے کم پڑنے لگی اس کے بعد آپ نے عید گاہ میں وعظ و نصیحت شروع کی لیکن وہ جگہ بھی کم پڑ گئی ۔ اس کے بعد آپ کا منبر کھلے میدان میں  لگایا گیا جہاں کثیر تعداد میں لوگ آپ کا وعظ سننے کے لیے آتے ۔ آپؒ لوگوں کو محض  ظاہری عبادات کی طرف نہیں بلاتے تھے بلکہ دل کی بیماریوں خود پسندی ، بغض ، کینہ ،حرص و لالچ ، تکبر اور دنیا پرستی سے نجات کی طرف بھی متوجہ کرتے تھے ۔ 
آپ کی مجلس میں امراء ، فقراء ، درویش ، صوفی سلاطین ، علماء و مشائخ الغرض ہر طبقہ کے لوگ شامل ہوتے یہاں  تک کہ یہودی و نصاری بھی مستفید ہوتے تھے ۔آپ کا وعظ ربانی الہامات کا سمندر اور معرفت کی تفسیر ہوتا۔
صوفیا ء میں جو مقام و مرتبہ شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کو حاصل ہے وہ کسی اور کو حاصل نہیں ۔ ہر سلسلہ کے صوفیا اور ارادت مندوں میں آپؒ  کی وہ عقیدت و محبت پائی جاتی ہے جس کا تصور بھی نہیں ۔ اس کی وجہ وہ اخلاص اور للہیت ہے جس سے انہوں نے حضور نبی کریم ﷺ  کے دین کی خدمت کی 

اتوار، 27 ستمبر، 2026

شیخ عبد القادر جیلانی محبوب سبحانی ؒ(۱)

 

شیخ عبد القادر جیلانی محبوب سبحانی ؒ(۱)

اللہ تعالی نے ہر دور میں ایسے بندوں کو پیدا فرمایا ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں ایمان ، تقوی ، اخلاص ، عبادت اور خدمت خلق سے  مزین کیں ۔یہ خوش نصیب ہستیاں اولیا ءاللہ کہلاتی ہیں ۔یہ وہ ہستیاں ہیں جنہوں نے دنیا میں رہتے ہوئے اپنی زندگی کو آخرت کی کامیابی کے لیے وقف کر دیا ۔ان کی گفتگو میں خیر ، کردار میں پاکیزگی ، معاملات میں دیانت ، دل میں خوف خدا اور زندگی میں اتباع رسول ﷺ نمایاں ہوتی ہے ۔ اللہ تعالی کے یہ مقبول بندے دنیاوی نمود و نمائش کے بجائے اللہ تعالی کی رضا کو اپنی زندگی کا  مقصد بناتے ہیں ۔ان کی عظمت کسی ظاہری منصب ، دولت یا شہرت کی محتاج نہیں ہوتی بلکہ ان کا اصل مقام ایمان ، تقوی ، اخلاص، اطاعت الہی، مخلوق خداسے محبت اور خیر خواہی ، دنیا کی محبت سے بے رغبتی اور آخرت کی فکر سے متعین ہوتا ہے ۔
ولی کے لغوی معنی دوست ، مددگار اور قریب ہونے والے کے ہیں ۔ شریعت کی اصطلاح میں ولی وہ شخص ہے جو ایمان اور تقوی کی دولت سے مالامال ہو ، اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لے ۔ارشاد باری تعالی ہے : ”سن لو،  بیشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم ۔ وہ جو ایمان لائے اور پرہیز گاری کرتے ہیں “۔ ( سورۃ یونس)۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت مبارکہ کی تفصیل میں فرماتے ہیں اولیا ءاللہ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو دیکھ کر اللہ تعالی کی یاد  آئے ۔جیسا کہ حضور نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے اللہ تعالی کا ولی وہ ہے جسے دیکھ کراللہ تعالی یاد آ جائے ۔( کنزالعمال )۔
حضور غوث اعظم  رحمۃ اللہ علیہ بھی انہی عظیم ہستیوں میں سے ہیں جن کی ذات علم و عمل ، زہد و تقوی ، اخلاص و عبادت اور محبت و اصلاح کا حسین امتزاج ہے۔
سیدنا غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ ۴۷۰ ہجری کو عراق کے شہر جیلان میں پیدا ہوئے ۔ آپ کی شخصیت اور علمی و  روحانی کمالات کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ آپ کے والد ماجد سیدنا ابو الصالح موسی جنگی دوست رحمۃا للہ علیہ بہت بڑے عالم و عارف اور  اکابر مشائخ میں تھے ۔ آپ کے والد زہد و تقوی اور روحانی اور علمی کمالات کے مالک تھے ۔آپ کے والد ماجد نفس کشی اور ریاضت شرعی  میں فرد واحد تھے ۔آپ کی والدہ ماجدہ نہایت پرہیز گار اور علوم ظاہری و باطنی سے مرصع و مرقع تھیں ۔ آپ قرآن پاک کی حافظہ اور بہت زیادہ عبادت گزار تھیں ۔

ہفتہ، 26 ستمبر، 2026

حکما ءکے اقوال

 

حکما ءکے اقوال

حضرت شفیق زاہد رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے منقول ہے کہ فقراءکو تین چیزیں پسند ہیں اور اغنیا ءکو بھی  تین چیزیں پسند ہیں ۔ فقراءنے راحت نفس ، دل کا فراغ اور ہلکے حساب کو اختیار کیا ہے  جبکہ امراءنے مشقت نفس کو پسند کیا ہے ، دل کی الجھن کو پسند کیا ہے اور شدت حسب کو پسند کیا۔ حضرت حاتم زاہد سے روایت ہے کہ جو شخص چار چیزوں کے بغیر چار چیزوں کا دعوی کرتا ہے تو وہ  جھوٹا ہے ۔  وہ شخص جو اللہ تعالی کی محبت کا دعوی کرتا ہے مگر حرام سے نہیں بچتا ہے ۔ وہ شخص جو اللہ تعالی کی اطاعت میں مال خرچ کیے بغیر جنت سے محبت کا دعوی کرتا ہے ۔ وہ شخص جو فقراءاور  مساکین کے ساتھ نہیں بیٹھتا اور بلندی درجات کا دعویٰ کرتا ہے ۔
جس شخص میں یہ چار باتیں ہوں وہ تما م بھلائیوں سے محروم ہو گا ۔ جو شخص اپنے نیچے کام کرنے والوں  پر سختی کرتا ہے ۔  والدین کا عاق شدہ۔ یعنی جس نے والدین کو گھر سے نکال دیا ہو اور ان کا نا فرمان ہو ۔
وہ شخص جو غربا ءکو اپنے سے کمتر سمجھتا ہو ۔ اور وہ شخص جو مساکین کا ان کی غربت کی وجہ سے مذاق اڑاتا ہو، ان کو شرمندہ کرتا ہو ۔
حضور نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے مجھے یہ حکم نہیں دیا ہے کہ میں مال جمع کروں اور تاجروں  میں شمار ہو ں بلکہ ارشاد باری تعالی ہے :” اپنے پروردگار کی تسبیح و تمحیدکرو اور ساجدین میں سے ہو جاؤ اور آخروقت تک اپنے پروردگار کی عبادت کرو “۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ : اے لوگو تنگ دستی اور فاقہ کی وجہ سے  رزق حرام کی کوشش نہ کرو۔ میں نے نبی کریم ﷺ کی زبان مبارکہ سے سنا ہے کہ اے اللہ مجھے فقیری  میں موت دینا اور تو نگری میں نہیں اور مجھے مساکین میں اٹھانا کیونکہ سب سے بڑا بد نصیب وہ  شخص ہے جس پر دنیا کا فقر اور آ خرت کا عذاب جمع ہو جائے ۔ روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس قادسیہ سے مال غنیمت آیا۔ آپ اسے الٹا سیدھا کر کے دیکھتے رہے اور روتے رہے۔ تب حضرت عبدالرحمان بن عوف  رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا اے حضرت آج تو خوشی کا دن ہے اور آپ رو رہے ہیں۔ فرمایا تونے  صحیح کہا مگر یہ مال جس قوم کے پاس آجاتا ہے ان میں دشمنی اور بغض پیدا ہو جاتا ہے ۔ اللہ تعالی کو سب سے زیادہ فقراءپسند ہیں ۔ اور تمام انبیاء علیہم السلام نے فقر کو پسند کیا ۔

لالچ اور لامحدود خواہشات(۲)

  لالچ اور لامحدود خواہشات(۲) جب لالچ اور حرص کسی فرد کی شخصیت میں جگہ بنا لیتی ہے تو وہ معاشرے کا کارآمد اور پُر امن شخص نہیں رہتا ۔رشو ت ...