اتوار، 30 اگست، 2026

حضور نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارک (۱)

 

حضور نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارک (۱)

دنیا میں حسن کے بے شمار پیمانے قائم کیے گئے مگر جب نگاہ عقیدت مدینہ منورہ کے تاجدارحضرت آمنہ کے لال رحمت ِ دو عالم جانِ کائنات  حبیب خدا احمد مجتبی ﷺ کے سراپا اقدس پر پڑتی ہے تو حسن و جمال کے تمام تصورات ماند پڑجاتے ہیں آپ ﷺ کی ذات اقدس میں صر ف اخلاق و کردار ہی میں کامل نہ تھی بلکہ اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو ظاہری حسن و جمال کی بھی بے مثال نعمت عطا فرمائی تھی ۔ 
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ ﷺ کے حلیہ مبارک کو جس محبت ، ادب اور عقیدت سے بیان کیا وہ دراصل ان کے دلوں میں  موجود عشقِ مصطفی ﷺ کی روشن تصویر ہے ۔ آپ ﷺ چہر انور نور کی طرح روشن ، تبسم دل آویز ، شیرینی گفتگو اور سراپا ایسا با وقار تھا کہ دیکھنے  والا بے اختیار آ پ ﷺ کی عظمت کا اسیر ہو جاتا تھا ۔ 
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ نہ بہت لمبے اور نہ بہت چھوٹے تھے یعنی درمیانے قد کے تھے، آپ ﷺ کارنگ نہ بہت سفید اور نہ بہت گندمی تھا ، آپ ﷺ کے بال نہ سخت گھنگریالے اور نہ بالکل سیدھے تھے ۔ (بخاری )۔
حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول خدا ﷺ کا قد درمیانہ ، دونوں کندھوں کے درمیان کا حصہ چوڑا ، داڑھی گھنی ، رنگت سرخی مائل  تھی ۔ آپ ﷺ کی زلفیں کانوں کی لوؤں تک تھیں ، میں نے آپ ﷺ کو سرخ حلہ میں دیکھا ، میں نے آپ ﷺ سے زیادہ خوبصورت کوئی نہیں دیکھا۔ ( نسائی )۔
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے ایک چاندنی رات نبی کریم ﷺ کو سرخ لباس پہنے ہوئے دیکھا میں رسول اللہ ﷺاور چاند کو دیکھنے لگا تو نبی کریم ﷺ چاند سے زیادہ خوبصورت تھے ۔ ( ترمذی )۔
ام المئومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے تمام روئے زمین کے مشارق و مغارب کو الٹ پلٹ کر کے دیکھا ، میں نےکسی کو نبی کریم ﷺ سے افضل نہیں پایا ۔ ( معجم الاوسط )۔
حضور نبی رحمت ﷺ کا چہرہ اقدس جمال کا مظہر تھا اور اللہ تعالی کی انوار تجلیات کا مرکز و محور تھا ۔حضرت حارث بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں منیٰ یا عرفات میں نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ،آپ ﷺ کی زیارت کے لیے لوگ تشریف لا رہے تھے ۔جو بھی اعرابی  آپ ﷺ کے چہر ہ انور کو دیکھتا تو کہتا یہ بڑا با برکت چہر ہ ہے ۔ ( ابو داؤد )۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالی نے جو بھی نبی بھیجا وہ خوبصورت چہرے والا اور دلکش آواز والا ہے اور تمہارے نبی ﷺ کا چہرہ اور آواز سب سے زیادہ خوبصورت ہے ۔ ( المواہب اللدنیہ )۔

ہفتہ، 29 اگست، 2026

ولادت مصطفی ﷺ

 

ولادت مصطفی ﷺ 

حضور نبی کریم ﷺ کی آمد سے قبل عرب اور پوری دنیا کے حالات بہت خراب تھے ہر طرف تاریکی چھائی ہوئی ۔لوگ کفر شرک میں مبتلا  تھے یہاں تک کہ خانہ کعبہ میں بھی 360 بت رکھے ہو ئے تھے ۔ غلاموں اور عورتوں کی بالکل بھی عزت نہیں تھی اگر بیٹی پیدا ہوتی تو اسے  زندہ درگور کر دیا جاتا تھا ۔ہر طرف قتل و غارت اور جنگ و جدل عام تھی ۔ اللہ تعالی نے انسانیت کو اس تاریکی سے نکالنے کے لیے اپنا محبوب  بھیجا جن کی آمد سے تاریکیوں کو روشنی مل گئی ، خانہ کعبہ میں پڑے بت گر پڑے ، یتیموں کو ان کا حق مل گیا ، غلاموں کو ان کا کھویا ہوا مقام  ملا اور آپ ﷺ کی آمد سے عورتوں کو مقام و مرتبہ ملا ۔ 
حضرت عبد المطلب بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی تو اس وقت میں خانہ کعبہ میں تھا۔ میں نے دیکھا کہ  کعبہ معظمہ میں رکھے بت گِر پڑے ۔ ( السیرہ النبویہ )۔
اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ جب تم پر میرا فضل اور رحمت ہو تو خوشی مناؤ ۔ ارشاد باری تعالی ہے :(اے محبوب ﷺ ) تم  فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں“۔(سورہ یونس :آیت ۸۵)۔  حضور نبی رحمت ﷺ اللہ تعالی کا فضل عظیم اور رحمت عظیم ہیں اس سے بڑھ کر اور اللہ تعالی کا فضل کیا ہو سکتا ہے کہ ہمیں اپنا محبوب عطا فرمایااور ان کا امتی بنا کر ظلمت کے اندھیروں سے نکالا ۔ نبی کریم ﷺ کی آمد سے قبل انسان اپنی اصل منزل سے دور اور زندگی کے حقیقی مقصد سے بے خبر تھا ۔نبی کریم ﷺ نے آ کر انسان کو اس  کے رب سے جوڑا ، عدل و انصاف سکھایا اور یہ بتایا کہ انسان کی عظمت مال ، نسب یا طاقت میں نہیں بلکہ تقوی ، کردار اور اطاعت الہی میں  ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ کی ولادت با سعادت کا ذکر کرتے ہوئے الفاظ اپنی تمام تر وسعت کے باوجود محدود محسوس ہوتے ہیں کیونکہ جس  ہستی کی آمد پوری انسانیت کے لیے رحمت بن کر ہوئی اس کی عظمت کو چند جملوں میں سمیٹنا ممکن نہیں ۔
ہمیں ولادت مصطفی ﷺ کو ایک رسم یا چند تقریبات تک محدود نہیں کر نا چاہیے بلکہ اس کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے دلوں میں محبت مصطفی ﷺ کو زندہ کریں اور اسی محبت کو اپنے کردار اور اعمال سے ظاہر کریں ۔  اگر ماہ ربیع الاول ہمیں درود سلام کی کثرت کے ساتھ سیرت مصطفی ﷺ کو اپنی زندگی میں اتارنے کا شعور دے دے ، کسی مظلوم کے لیے ہمارے دل میں رحم پیدا ہو جائے، کسی ضرورت مند کا ہاتھ تھامنے کی توفیق مل جائے اور اگر ہماری زندگی کا کوئی ایک گوشہ سنت نبوی ﷺ  کے نور سے روشن ہو جائے تو یہی ولادت مصطفی ﷺ کے تذکرے کی حقیقی برکت ہے ۔

جمعہ، 28 اگست، 2026

ولادت مصطفی ﷺ (۱)

 

ولادت مصطفی ﷺ (۱)

تاریخ کے اوراق میں بے شمار واقعات رقم ہوئے، سلطنتیں وجود میں آئیں اور مٹ گئیں ، بڑے بڑے فاتحین دنیا کے نقشے پر ابھرے اور وقت کی گرد میں گم ہو گئے مگر ایک واقعہ ایسا ہے جس کی تابانی صدیوں کے گزرنے کے باوجود ماند نہیں پڑی ۔ یہ عظیم واقعہ نبی کریم  رؤ ف الرحیم ﷺ کی ولادت با سعادت کاہے جب مکہ کی وادی میں 12 ربیع الاول کو صبح صادق دنیا بھر کے قبیلوں میں سے بہتر قبیلے  اور خاندانوں میں سے بہترین خاندان میں حضرت آمنہ اور حضرت عبد اللہ کے گھر وہ آفتاب طلوع ہوا جس کی کرنوں نے صرف عرب  کی سرزمین ہی کو نہیں بلکہ پوری انسانیت کے دل و دماغ کو منور کر دیا ۔ 
حضرت مطلب بن ابی وادعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب ہوں ۔  اللہ تعالی نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو مجھے سب سے بہتر مخلوق میں رکھا پھر ان کے دو گروہ بنائے تو مجھے سب سے بہتر گروہ میں رکھا پھر ان  کے قبائل بنائے تو مجھے سب سے بہتر قبیلہ میں رکھا پھر ان کے گھر انے بنائے تو مجھے اپنے گھرانے اور ذات کے اعتبار سے سب سے  بہتر بنایا ۔ ( ترمذی )۔

حضور نبی کریم ﷺ کا خاندان و نسب و شرافت میں تمام دنیا کے خاندانوں سے افضل و اعلی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ  کے دشمن کفار مکہ بھی اس کا انکار نہیں کرتے تھے ۔ حضرت ابو سفیان نے جب وہ ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے بادشاہ روم کے سامنے اس  بات کا اقرار کیا کہ نبی اکرم ﷺ ” عالی خاندان “ ہیں ۔ ( بخاری شریف)
مسلم شریف کی روایت ہے کہ اللہ تعالی نے حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے ”کنانہ “ کو برگزیدہ بنایا اور ”کنانہ “ میں سے” قریش“ کو اور قریش میں سے بنی ہاشم کو منتخب فرمایا ۔ یعنی حضور نبی کریم ﷺ کا خاندان اس قدر بلند و بالا ہے کہ کوئی بھی حسب و نسب والا آپ ﷺ  کی مثل نہیں ۔*

جمعرات، 27 اگست، 2026

اللہ تعالی کی نعمت عظیم (۱)

 

اللہ تعالی کی نعمت عظیم (۱)

کسی نعمت کی عظمت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان اس کے بغیر اپنی زندگی کا تصور کرے ۔اگر انسان ایک لمحے کے لیے سوچے کہ اس کو اللہ تعالی کی معرفت نہ ملتی ، حق و باطل میں امتیاز کا شعور نہ ہوتا ، زندگی کے مقصد سے اگاہی نہ ہوتی اور آخرت کی کامیابی کا راستہ  واضح نہ ہوتا تو دنیا کی تمام آسائشیں بھی اس کے لیے بے معنی ہو جاتیں۔اللہ تعالی نے انسانیت پر بے شمار انعامات فرمائے مگر اہل ایمان  کے لیے سب سے بڑا اور عظیم انعام حضور نبی رحمت سرور کونین ﷺ کی بعثت ہے ۔
اللہ تعالی نے انسان کو اس قدر نعمتوں سے نوازا ہے کہ اس کا شمار بھی نہیں کر سکتا اور ہر نعمت اتنی قیمتی ہے کہ دنیا کی ساری دولت بھی خرچ کر  کے نہیں خریدی جا سکتی ۔ ہاتھ ، پاؤں ، ناک ، کان ، آنکھ ، زمین و آسمان ، چاند ، سورج ، ستارے ، اورا ناج ایسی نعمتیں ہیں کسی ایک کے بغیر  بھی زندگی کا تصور مشکل ہو جاتا ہے ۔ لیکن اتنی نعمتیں عطا کرنے کے باوجود اللہ تعالی نے یہ نہیں فرمایا کہ میں نے تم پر احسان فرمایا ہے ۔  لیکن جب باری آئے اما م لانبیاء ، خطیب الانبیاء ، ، خاتم الانبیاء حضرت آمنہ کے لال ، حضرت عبد اللہ کے چاند رحمت دو عالم ﷺ کی تو  اللہ تعالی نے فرمایا کہ اے مومنو یہ میرا تم پر احسان ہے میں نے تمہیں اپنا محبوب عطا فرمایا ہے ۔کیونکہ یہ نعمت سب سے بڑی نعمت ہے۔  باقی تمام نعمتیں اسی کے صدقے ملی ہیں اگر محبوب خدا نہ ہوتے تو کسی بھی نعمت کاوجود نہ ہوتا ۔ایمان ،  ہدایت ،اور قرآن نبی کریم ﷺ کے طفیل ہی ملا اورآخرت میں کامیابی بھی نبی رحمت ﷺ کے توصل سے ہی ملے گی ۔
ارشاد باری تعالی ہے : ’’بیشک اللہ کا بڑا احسان ہوا مومنو پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا جو ان پر ا س کی آیتیں پڑھتا ہے اور وہ ضرور اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے‘‘ ۔ (سورۃ ال عمران )۔
 حدیث قدسی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے اگر آپ نہ ہوتے تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا ۔ دنیا میں انسان کو  بہت سی نعمتیں ملتی ہیں مال و دولت ، اولاد ، صحت ، عزت ، علم ، مگر یہ تمام نعمتیں محدود اور عارضی ہیں ۔ انسان مال کھو سکتا ہے ، صحت ختم ہو جاتی  ہے ،اقتدار چھن جاتا ہے اور دنیاوی عزت بھی وقت کے ساتھ بدل جاتی ہے لیکن نبی کریم ﷺ وہ نعمت ہیں جن کے ذریعے انسان کو دائمی  کامیابی کا راستہ ملا ۔  ہے جہاں میں جن کی چمک دمک ،ہے چمن میں جن کی چہل پہل ہے۔
    وہی اک مدینہ کے چاند ہیں 
سب انہی کے دم کی بہار ہے

بدھ، 26 اگست، 2026

رحمتِ کونین ﷺ(۲)

 

رحمتِ کونین ﷺ(۲)

حضور نبی کریم ﷺ کی زندگی میں بحثیت رحمۃ اللعالمین بے شمار واقعات ملتے ہیں ۔ آپ رحمۃ اللعالمین ہی ہیں جو مجبور اور بے سہارا لوگوں کے کام آتے تھے ۔ ایک مرتبہ ایک عورت مکہ مکرمہ کی ایک گلی میں کچھ سامان سر پر اٹھا کر لے جا رہی تھی وہ سامان اتنا وزنی تھا کہ اس سے اٹھا یا نہیں جا  رہا تھا لوگ اس کو دیکھ کر ہنس رہے تھے ۔ قریب ہی نبی کریم ﷺ کھڑے تھے آپ نے اس عورت کا سامان اٹھایا اور اس کو اس کے گھر تک چھوڑ کر آئے ۔ 
ایک دن آپ ﷺ نے دیکھا کہ ایک غلام آٹا پیس رہا ہے اور درد کی وجہ سے کراہ رہا تھا ۔ آپ ﷺ اس کے پاس گئے تو پتا چلا کہ وہ بیمار ہے اور  اس کا آقا اس کو چھٹی نہیں دے رہا ۔ آپ ﷺ نے اس کو کہا کہ تم آرام کرو اور خود سارا آٹا پیس دیا اور فرمایا آئندہ جب کبھی آٹا پیسنا ہو تو مجھے بلا لینا ۔ 
ایک مرتبہ آپ ﷺ کہیں جا رہے تھے کہ آپ نے دیکھا کہ ایک باغ میں آقا نے ایک بوڑھے غلام کو باغ میں پانی دینے کا کام سونپ رکھا ہے ۔
 باغ سے ندی کافی دور تھی ۔ آپ ﷺ نے دیکھا کہ بوڑھا بڑی مشکل سے پانی بھر کر لا رہا ہے۔  رحمۃ اللعالمین آقا ﷺ نے اس کو آرام سے بٹھا  دیا اور خود پانی بھر بھر کے لا کر اس باغ کو سیراب کیا ۔
ہندہ نامی خاتون نے حضور نبی کریم ﷺ کے پیارے چچا حضرت حمزہ ؓ کا کلیجا چبایا لیکن جب مشرف بہ اسلام ہوئی اور حضور نبی کریم ﷺ سے معافی کا سوال کیا تو نبی کریم ﷺنے اسے معاف فرمادیا ۔
حضور نبی کریم ﷺ کا غلاموں اور خادموں کے ساتھ بھی حسن سلوک بے مثال تھا ۔حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ میں  نے نبی کریم ﷺ  کی خدمت اقدس میں کئی سال گزارے لیکن نبی کریم ﷺ نے مجھے کبھی  کسی غلطی پر ڈانٹا نہیں ۔
حضور نبی کریم ﷺ پرندوں اور جانوروں کے لیے بھی سراپا رحمت تھے ۔ حضورنبی کریم ﷺ نے جانوروں پر بھی زیادہ بوجھ ڈالنے سے منع فرمایا ۔
ایک مرتبہ سفر کے دوران صحابہ نے کسی درخت سے پرندے کے بچے اٹھا لیے تو ان کی ماں بے چین ہو کر ان کے ارد گرد چکرلگانے لگی نبی کریم ﷺ  کو جب علم ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کے بچے چھین کر اسے غمگین کیوں کرتے ہو ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کے بچے وہیں رکھ دیں ۔( دلائل النبوہ )۔
آپﷺ وہ آفتاب ہیں  جن کی روشنی سے صرف عالم رنگ و بو ہی روشن نہیں بلکہ وہ جہان لطیف بھی درخشاں ہے جو رنگ و بو سے ماورا ہے ۔ حقیقت  تو یہ ہے کہ وہاں اس آفتاب رحمت کی نور افشانی کا رنگ ہی نرالا ہے جو نہ زبان پر لایا جا سکتا ہے اور نہ ہی قلم سے لکھا جاسکتا ہے ۔ اس رحمت کی  برکتوں سے عقل بھی بہرور ہے اور دل کی دنیا بھی شاد کام ہے ۔ بقول علامہ محمد اقبال علیہ الرحمہ :
تیری نگاہ ناز سے دونوں مراد پا گئے
عقل غیاث و جستجو ، عشق حضور و اضطراب
شوکت سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود
فقر جنید و با یزید تیرا جمالِ بے نقاب

منگل، 25 اگست، 2026

رحمتِ کونین ﷺ(۱)

 

رحمتِ کونین ﷺ(۱)

کائنات بست و بود میں اللہ تعالی کی بے شمار نعمتیں ہیں مگر نبی کریم ﷺ کا رحمۃ اللعالمین ہونا اللہ تعالی کی ایک عظیم نعمت ہے ۔حضور نبی کریم ﷺ  صرف اہل ایمان کے لیے ہی نہیں بلکہ چرند ، پرند ، حیوانات ، نباتا ت اور جن و انس سب کے لیے رحمت ہیں ۔ ارشاد باری تعالی ہے :  ”اور ہم نے آپ کو تمام جہانو ں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا “۔ ( سورۃ الانبیاء)۔
علامہ سید آلوسی علیہ الرحمہ اس آیت مبارکہ کی تفصیل لکھتے ہو ئے فرماتے ہیں ”حضور نبی کریم ﷺ کا تما م کائنات کے لیے رحمت ہونا اس اعتبار  سے ہے کہ عالم امکان کی ہر چیز کو حسب استعدادجو فیض الہی ملتا ہے وہ حضور نبی کریمﷺ کے واسطے سے ملتا ہے ۔ اسی لیے اللہ تعالی نے حضور نبی  کریم ﷺ کا نور تمام مخلوقات سے پہلے پیدا فرمایا ہے ۔ حدیث مبارکہ میں ہے کہ اے جابر اللہ تعالی نے سب سے پہلے میرے نور کو پیدا فرمایا ۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالی دینے والا ہے اور میں اس کی رحمت کے خزانوں کو بانٹنے والا ہوں ۔ ( روح المعانی )۔
شایاں ہے تجھ کو سرور کونین کا لقب     
نازاں ہے تجھ پہ رحمت اللعالمین کا خطاب
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا رحمت ہونا عام ہے ۔ ایمان والے کے لیے بھی اوران کے لیے بھی جو ایمان نہیں لائے ۔  مومن کے لیے حضور نبی کریم ﷺ دنیا و آخرت دونوں میں رحمت ہیں اور جو ایمان نہیں لائے ان کے آپﷺ دنیا میں  رحمت ہیں ۔کیونکہ اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کی بدولت ان پر دنیا میں آنے والے عذاب کو مؤخر کردیا گیا یعنی ان سے زمین میں دھنسانے کا عذاب ، شکلیں بگاڑدینے کا عذاب اور جڑ سے اکھاڑ دینے کاعذاب اٹھا دیا گیا ۔( خازن الانبیاء)۔
نبی رحمت سرور کونین ﷺ اپنی امت کے دکھ اور تکلیف کو انتہائی شدت سے محسوس فرماتے تھے ۔جیسا کہ سورۃ توبہ میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :  ”بیشک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گِراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر  کمال مہربان اور رحیم۔     
حضور نبی کریم ﷺ یتیموں کے لیے بھی رحمت ہیں ۔ ایک مر تبہ ایک یتیم بچہ حضور نبی کریم ﷺ کے پا س حاضرہوا اور کہا کہ میرے والد کے مرنے کے  بعد ابو جہل نے میرا سارا مال ہڑپ کر لیا ہے اور مجھے کچھ نہیں دیتا ۔ یہاں تک کہ میں اپنا جسم ڈھانپنے کے لیے کپڑوں سے بھی محروم ہوں۔ آپ ﷺ  نے اس بچے کو ساتھ لیا اور ابو جہل کے پاس چلے گئے اور بڑے رعب کے ساتھ فرمایا : اس بچے کا مال اس کو دے دو ۔ ابو جہل میں اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ آپ ﷺ کی بات کو رد کر دیتا اور اس نے اسی وقت یتیم کا مال لا کر اس کو دے دیا ۔

پیر، 24 اگست، 2026

ولادت مصطفی ﷺ کی بشارتیں (۲)

 

ولادت مصطفی ﷺ کی بشارتیں (۲)

حضور نبی کریم ﷺ کی آمد کی بشارت سابقہ آسمانی کتب تورات اور انجیل میں بھی موجود تھی ۔ اسی لیے دونوں جہانوں کی کامیابی کا تاج صرف ان لوگوں پر سجے گا جو حضور نبی کریم ﷺ پر ایمان لائیں گے ، آپﷺ کی تعظیم و توقیر کریں گے اور اس نور کی پیروی کریں گے جو حضور نبی کریم  ﷺ کے ساتھ نازل ہوگا ۔
سابقہ آسمانی کتب کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :” جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبی امی ہے جس کو وہ پاتے ہیں لکھا ہوا  اپنے پاس تورات اور انجیل میں۔ وہ نبی حکم دیتا ہے انہیں نیکی کا اور روکتا ہے برائی سے اور حلال کرتا ہے ان کے لیے پاک چیزیں اور حرام کرتا  ہے اس پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کا بوجھ اور وہ زنجیریں جو جکڑی ہوئی تھیں انہیں۔ پس جو لوگ ایمان لائے اس نبی پر اور تعظیم کی آپ کی اور امداد کی آپ کی اور پیروی کی اس نور کی جو اتارا گیا آپ کے ساتھ وہی کامیاب و کامران ہیں “۔ ( سورۃ الا عراف )۔ 
حضرت عیسی علیہ السلام نے بھی اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :ارشاد باری تعالی ہے ” اور یاد کرو جب فرمایا عیسی فرزند مریم نے  اے بنی اسرائیل ! میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں میں تصدیق کرنے والا ہوں تورات کی جو مجھ سے پہلے آئی اور خوشخبری دینے والا ہوں ایک رسول کی جو تشریف لائے گا میرے بعد اس کا نام احمد ہو گا پس جب وہ آیا ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر تو انہوں نے کہا یہ تو کھلا  جادوہے “۔ ( سورۃ الصف )۔
حضور نبی کریم ﷺ کی ولادت با سعادت سے پہلے جب یہود کی کفار اور مشرکین کے ساتھ جنگ ہوتی تو جب یہود کو ہار کے آثار نظرآتے تو اللہ  تعالی سے دعا کرتے اور کہتے ’ اے اللہ ! ہم تجھ سے تیرے اس نبی کا واسطہ دے کرعرض کرتے ہیں جس کی بعثت کا تو نے ہم سے وعدہ کیا ہے آج  ہمیں  اپنے دشمنوں پر فتح عطا کر تو حضور نبی کریم ﷺکے صدقے اللہ انہیں فتح عطا کرتا “۔ (روح المعانی )۔
ارشاد باری تعالی ہے :” اور وہ اس سے پہلے فتح مانگتے تھے کافروں پر تو جب تشریف فرما ہوا وہ نبی ان کے پاس جسے وہ جانتے تھے تو انکار کر دیا  اس کے ماننے سے۔ سو پھٹکار ہو اللہ کی دانستہ کفر کرنے والوں پر “۔ ( سورۃ البقرۃ )۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ، حضرت عیسی علیہ السلام کی بشارت اور سابقہ آسمانی کتابوں اور صحائف میں موجود نبی کریم ﷺ کے اوصاف  حمیدہ اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتے ہیں کہ حضور نبی رحمت ﷺکی آمد اللہ تعالی کی ایک عظیم منصوبہِ ہدایت کا حصہ تھی ۔ آپ ﷺ تشریف
لائے تو شرک کی تاریکیاں چھٹ گئیں ، انسانیت کو قرآن ملا ، اخلاق کو بلندی نصیب ہوئی اور قیامت تک کے لیے ہدایت کا راستہ روشن ہو گیا ۔

حضور نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارک (۱)

  حضور نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارک (۱) دنیا میں حسن کے بے شمار پیمانے قائم کیے گئے مگر جب نگاہ عقیدت مدینہ منورہ کے تاجدارحضرت آمنہ کے لال رحم...