منگل، 7 جولائی، 2026

غفلت :انسان کے زوال کی پہلی سیڑھی(۱)

 

غفلت :انسان کے زوال کی پہلی سیڑھی(۱)

پیر، 6 جولائی، 2026

فضائل و مناقب امام زین العابدین(۲)

 

فضائل و مناقب امام زین العابدین(۲)

آپ ؓ کے اخلاق مبارکہ میں نبی کریم ﷺ کے اخلاق حسنہ کی چمک دمق نظر آتی تھی ۔ ایک مرتبہ آپ مسجد سے باہر تشریف لائے تو ایک آدمی نے آپ کے بارے میں غلط جملے کہے ۔آپ ؓ کے غلام اور دیگر لوگ اس کو پکڑنے لگے تو آپ نے منع فرمادیا ۔پھر آپ نے فرمایا 
کیا تمہیں ہمارے ساتھ کوئی کام تھا جو پورا نہیں ہو سکا۔ وہ آدمی یہ سن کر بہت شرمسار ہوا ۔اس کے بعد آپ ؓ نے اسے ایک قیمتی چادر اور  پانچ ہزار درہم دیے ۔اس کے بعد اس شخص نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ؓ نبی رحمت ﷺ کی اولاد میں سے ہیں۔ امام زین العابدین عبادت میں اس قدر مشغول ہو جاتے کہ آس پاس کا خیال نہ رہتا ۔ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپ ؓ جس کمرے میں  نماز پڑھ رہے تھے آگ لگ گئی ۔آپ ؓ حالتِ سجدہ میں تھے لوگوں نے شور مچایا اے رسول خدا ﷺ کے بیٹے آگ لگ گئی ہے ۔لیکن آپ ؓ نے سجدے سے سر نہ اٹھایا ۔لوگوں نے آگ بھجا دی ۔جب آپ ؓ نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا کیا بات ہے ۔لوگوں نے کہا حضور آگ لگ گئی تھی ہم نے بجھا دی ہے ۔ آپ ؓ نے فرمایا مجھے اس سے بڑی آگ نے مشغول کر رکھا تھا۔(نورالابصار)۔ حضرت جابر بن عبد اللہ فرماتے ہیں میں نے امام زین العابدین ؓ سے عرض کی آپ جانتے ہیں کہ اللہ تعالی نے جنت اہل بیت اور ان سے پیار کرنے والوں کے لیے بنائی ہے تو آپ اس قدر عبادت میں مشغول کیوں رہتے ہیں ۔ آپ ؓ نے فرمایا نبی کریم ﷺ اس قدر عبادت  کرتے تھے کہ آپ ﷺ کے پاؤں مبارک میں ورم پڑجاتے تھے ۔جب آپ ﷺ سے کہا گیا کہ انبیاءتو معصوم ہوتے ہیں اس قدر عبادت کیوں آپ ﷺ نے فرمایا، کیا میں اللہ تعالی کا شکر گزار بندہ نہ بنوں ۔ امام زین العابدین ؓ نے حضرت جابر ؓ سے فرمایا میں بھی نبی کریم ﷺ کی  اقتداءمیں اللہ تعالی کا شکر گزار بندہ بننا چاہتا ہوں اس لیے میں اللہ تعالی کی عبادت میں میانہ روی اختیار نہیں کر سکتا ۔ 
سیدنا امام زین العابدین کی سخاوت دوست اور دشمن دونوں کے لیے تھی ۔جس طرح نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں آنے والے سائل نے کبھی  ناں نہیں سنی اسی طرح آپ ؓ نے بھی ساری عمر کبھی کسی سائل کو خالی نہیں بھیجا ۔ آپؓ نے زندگی میں دو مرتبہ اپنا سارا مال اللہ تعالی کی راہ میں  خیرات کر دیا ۔آپ ؓ کی خیرات کا عالم یہ تھا کہ مدینہ منورہ کے بہت سے مستحق گھروں میں پوشیدہ طریقوں سے راشن بھیجتے اور کسی کو معلوم  نہیں تھا یہ کہاں سے آتاہے ۔ جب آپ ؓ کا وصال ہو ا تو لوگوں کو پتہ چلا کہ یہ آپ ؓ کی سخاوت تھی ۔ ( سیر اعلام النبلاء)۔

اتوار، 5 جولائی، 2026

فضائل و مناقب امام زین العابدین(۱)

 

فضائل و مناقب امام زین العابدین(۱)

کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کے کردار کی روشنی صدیوں کے فاصلے بھی مدھم نہیں کر سکتے ۔وہ اپنے کردار ، عبادت ، صبراور اخلاق کی بدولت زمانوں کے لیے مینار ہ نور بن جاتی ہیں ۔ حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ انہی عظیم ہستیوں میں سے ایک ہیں۔آپ نے کربلا کے سانحے کے بعد امت ِ مسلمہ کو صبر ، استقامت اور اللہ تعالی کی بندگی کا درس دیا ۔ سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ عنہ امام حسین رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ، سیدۃ النساء العالمین فاطمۃ الزہررضی اللہ عنہا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پوتے تھے ۔  آپ ؓ خانوادہء نبوتﷺ کے وہ درخشاں گوہر ہیں جن کی پیشانی عبادت کے نور سے جگماتی اور جن کا دل محبت الہی سے معمور رہتا تھا ۔  کثرت سجود ، زہد تقوی ، علم و معرفت اور خدمت خلق کی وجہ سے آپ زین العابدین یعنی عبادت گزاروں کی زینت اور سجاد یعنی بہت  زیادہ سجدے کرنے والے القابات سے مشہور ہوئے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کی حیات مبارکہ اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ آزمائشوں کے باوجود  ان کے عزم کو متزلزل نہیں کیا جا سکتا جس کا تعلق اپنے رب کے ساتھ مضبوط ہو ۔ 
آپ رضی اللہ عنہ کے خوف خدا کا عالم یہ تھا کہ ایک مرتبہ حج کے موقع پر احرام باندھا تو تلبیہ نہیں پڑھی ۔ لوگوں نے عرض کی حضور آپ تلبیہ یعنی لبیک اللھم لبیک نہیں پڑھ رہے ؟آپ ؓ  آبدیدہ ہو گئے اور فرمایا مجھے ڈر لگتا ہے کہ میں لبیک کہوں اور اللہ تعالی کی طرف سے  لا لبیک کی آواز نہ آجائے ۔ لوگوں نے کہا حضور لبیک کہے بغیر آپ کا احرام کیسے ہو گا ۔ یہ سن کر آپ ؓ نے بلند آواز میں تلبیہ پڑھی ۔ 
’’لبیک اللھم لبیک لبیک لاشریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک‘‘
آپ رضی اللہ عنہ خوف خدا کی وجہ سے لرز کر اونٹ کی پشت سے نیچے گر پڑے اور بے ہوش ہو گئے ۔ جب ہوش میں آتے تو لبیک  پڑھتے اور پھر بے ہوش جاتے۔اسی حالت میں آپ رضی اللہ عنہ نے حج ادا فرمایا ۔ (اولیائے رجال الحدیث )۔
آپ رضی اللہ عنہ کے عفو درگزر کا یہ عالم تھا کہ ایک دن وضو کراتے ہوئے کنیز کے ہاتھ سے برتن چھوٹ گیا اور آپ  کے چہرہ سے لگا جس کی وجہ سے آپ زخمی ہو گئے ۔ آپ نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا تو اس نے عفودرگزر کی فضیلت کے متعلق قرآن مجید کی ایک آیت پڑھی ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے سن کر اس کو معاف فرما دیا اور فرمایا جا تو اللہ تعالی کی رضا کے لیے آزاد ہے ۔ (تاریخ ابن عساکر )

ہفتہ، 4 جولائی، 2026

سیدہ زینب بنت علی ؓ(۳)

 

سیدہ زینب بنت علی ؓ(۳)

جمعہ، 3 جولائی، 2026

سیدہ زینب بنت علی ؓ(۲)

 

سیدہ زینب بنت علی ؓ(۲)

میدان کربلا کا منظر سیدہ زینب رضی اللہ عنہ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا لیکن صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیا ۔جنگ کے بعد جب  آپ ؓ کو اسیر بنا کر یزید کے دربار میں میں لایا گیا تو آپ نے یزید کے دربار میں ایسا خطبہ دیا جس کی نظیر نہیں ملتی ۔ آپ ؓ کے جا ہ و جلال نے یزید کے دربار کے در و دیوار ہلا کر رکھ دیے ۔ 
حدیثِ عشق دو باب است کر بلا و دمشق 
یکے حسین ؓ رقم کرد و دیگر ے زینب
 آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سب تعریفیں اللہ تعالی کے لیے جو خالق کائنات ہے اور خد کی رحمتیں نازل ہوں نبی کریم ﷺپر اور ان کی پاکیزہ عترت و اہل بیت پر ۔ پھر فرمایا بالا آخر ان لوگوں کا انجام بُرا ہے جنہوں نے اپنے دامن حیات کو برائیوں کی سیاہی سے داغدار کر کے اپنے خدا کی آیات کی تکذیب کی اور اللہ تعالی کی آیات کا مذاق اڑایا۔ 
اے یزید کیا تو سمجھتا ہے کہ تو نے ہم پر زمین کے گوشے اور آسمان کے کنارے تنگ کر دیے ہیں اور رسول خدا ﷺ کی آل کو رسیوں اور زنجیروں میں جکڑ کر دربدر پھرانے سے تو اللہ تعالی کی بارگاہ میں سرفراز ہوا اور ہم رسوا ہوئے ہیں ؟ کیا تیرے خیال میں ہم مظلوم ہو کر ذلیل ہو گئے اور تو ظالم بن کر سر بلند ہوا ہے ؟ کیا تو سمجھتا ہے کہ ہم پر ظلم کر کے اللہ تعالی کی بارگاہ میں تجھے شان و شوکت حاصل ہو گئی ہے ؟آج تو اپنی ظاہری فتح کی خوشی میں سر مست ہے ، مسرت و شادمانی سے سرشار ہو کر اپنے غالب ہونے پر اترا رہا ہے ۔ 
اور خلافت کے ہمارے مسلمہ حقوق کو غضب کر کے خوشی و سرور کا جشن منانے میں مشغول ہے ۔ اپنی غلط سوچ پر مغرور نہ ہو اور ہوش کی سانس لے ۔ 
کیا تو نے اللہ تعالی کا یہ فرمان بھلا دیا ہے کہ حق کا انکار کر نے والے نہ سمجھیں کہ ہم جو انہیں مہلت دیتے ہیں یہ ان کے حق میں بھلائی ہے بلکہ ہم انہیں مہلت اس لیے دیتے ہیں کہ وہ گناہ میں زیادتی کریں اور ان کے لیے خوار کرنے والا عذاب ہے۔ اے طلقا ءکے بیٹے کیا یہ تیرا انصاف ہے کہ تو نے اپنی عورتوں اور لونڈیوں کو چادر اور چار دیواری کا تحفظ فراہم کر کے پردے میں بٹھا رکھا ہے اور خاندان نبوت ﷺ کی عورتوں کو سر سے برہنہ دربدر پھرا رہے ہو ۔ تو نے مخدرات عصمت کی چادریں لوٹ لیں اور ان کی  بے حرمتی کی ۔تیرے حکم پر اشقیاءنے رسول زادیوں کو بے نقاب کر کے شہر شہر پھرایا ۔

جمعرات، 2 جولائی، 2026

سیدہ زینب بنت علی ؓ(۱)۔

 

    سیدہ زینب بنت علی ؓ(۱)۔
تاریخ اسلام ایسی عظیم اور باکردار شخصیات سے مزین ہے جنہوں نے اپنے علم ، تقوی ، صبر اور استقامت کے ذریعے آنے والی نسلوں کے لیے ہدایت و رہنمائی کے چراغ روشن کیے ۔ ان درخشندہ ہستیوں میں سیدہ زینب بنت علی سلام اللہ علیہاکا نام انتہائی عزت و احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے ۔ آپ ؓ نبی رحمت ﷺ کی نواسی ، سیدنا علی المرتضیؓ اور سیدہ فاطمہ الزہراؓ کی صاحبزادی ہیں ۔ 
آپ ؓ نے ایسے پاکیزہ گھرانے میں پرورش پائی جو علم ، حکمت ، عبادت اور اخلاق نبوی ﷺ کا سر چشمہ تھا ۔ سیدہ زینب ؓ کی زندگی صرف عظیم  خاتون کی داستان نہیں بلکہ صبر ، شجاعت ، حق گوئی اور استقامت کا ایسا روشن باب ہے جو قیامت تک اہل ایمان کے دلوں کو منور کرتا رہے گا ۔ 
خصوصاً واقعہ کربلا کے بعد جس جرات ، حکمت اور ثابت قدمی کے ساتھ آپ نے حق کا پرچم بلند رکھا وہ آپ ؓ کی بے مثال عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے مصائب کے طوفان میں بھی صبر و رضا کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا اور اپنے کردار سے یہ ثابت کیا  کہ ایمان ، حوصلہ اور حق پسندی انسان کو ہر آزمائش میں سر خرو کر سکتی ہے ۔ 
حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدہ زینب علم و دانش میں وہ مقام رکھتی تھیں کہ انہیں دنیا کے ارباب دانش کے سامنے  بیٹھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی اور آپ ؓ فہم و ادراک کی اس منزل پر فائز ہیں کہ انہیں کسب فیض کے لیے کسی صاحب فکر و نظر کی دہلیز پر جھکنے کی  ضرورت نہیں تھی ۔ 
سیدہ زینب ؓ کو پاک ماحول و آغوش عصمت ملی ۔ آپ ؓ ہر وقت دانش و فضیلت کے جواہر جمع کرنے کے لیے کوشا ں رہتیں۔ امام سیوطی ؒ  فرماتے ہیں کہ سیدہ زینب نہایت خرد مند اور صاحب درایت مخدومہ تھیں ۔  ابن عتبہ لکھتے ہیں کہ سیدہ زینب ؓ اپنی لاتعداد صفات نیک ، گرانقدر و پر شکوہ اوصاف اور پسندیدہ فضائل میں دیگر کی نسبت ممتاز تھیں ۔ آپ ؓ کے سعادت آفریں اخلاق و عادات نمایاں صفات اخلاقی اور باافتخار پاک و طاہر فضائل نے آپ ؓ کو تمام لوگوں سے زیادہ صاحب امتیاز  بنا دیا ۔ 
آپ ؓ کو اپنے بھائی امام عالی مقام امام حسین ؓ سے بہت زیادہ محبت تھی ۔ روایت میں ہے کہ شادی کے بعد ایک دن آپ ؓ کو افسردہ دیکھا گیا ۔ جب پوچھا گیا تو معلوم ہوا کہ تین روز سے امام حسین ؓ سے ملاقات نہیں ہوئی ۔ آپ ؓ اپنے بھائی کے رازوں کی امین تھیں ۔ زندگی کے عام اور خاندان نبوت کے مسائل حل کرنے میں ید طولی حاصل تھا ۔ امام حسن ؓ اور امام حسین ؓ بھی اپنی بہن کا بہت زیادہ احترام کرتے تھے ۔

بدھ، 1 جولائی، 2026

صبر:مومن کی طاقت(۱)

 

صبر:مومن کی طاقت(۱)

انسانی زندگی آزمائشوں، مشکلات ، خوشیوں اور غموں کا مجموعہ ہے ۔کبھی حالات موافق ہوتے ہیں تو کبھی نا موافق۔ کبھی کامیابی قدم چومتی ہے تو کبھی ناکامی دروازے پر دستک دیتی ہے ۔ ایسے میں جو صفت انسان کو ثابت قدم رکھتی ہے، اسے مایوسی سے بچاتی ہے اور اللہ تعالی کی رضا کے قریب کرتی ہے وہ صبر ہے ۔ صبر محض تکالیف برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ اللہ تعالی کے فیصلوں پر راضی رہتے ہوئے حق پر قائم رہنے اور نفس کی خواہشات کو قابو میں رکھنے کا نام ہے ۔  صبر کی مختلف اقسام ہیں ۔پہلی قسم اطاعت الہی پرصبر ہے یعنی انسان نماز ، روزہ ، زکوۃ اور دیگر عبادات پر ثابت قدم رہے چاہے اسے  قمشقت  ہی کیوں نہ اٹھانی پڑے ۔ دوسری قسم گناہوں سے بچنے پر صبر ہے کیونکہ نفس اور شیطان انسان کو برائی کی طرف بلاتے ہیں لیکن  مومن صبر کے ذریعے اپنے آپ کو گناہوں سے محفوظ رکھتا ہے ۔تیسری قسم مصائب و آلام پر صبر کرنا ہے ۔ جب انسان بیماری ، غربت ،نقصان یا کسی آزمائش کا سامنا کرے تو اللہ تعالی سے شکوہ کرنے کی بجائے صبر کرتے ہوئے کہے کہ اے اللہ تو جس حال میں بھی رکھےمیں تیری رضا پر راضی ہوں ۔ صبر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا ، حصول جنت ، کامیاب زندگی اور دنیا و آخرت میں فلاح و کامرانی کا ذریعہ ہے ۔  اللہ تعالی نے ایمان والوں کو صبر اور نماز کے ساتھ مدد مانگنے کا حکم فرمایا ہے :’’ اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے ‘‘۔ ( سورۃا لبقرہ )۔
آزمائشوں اور تکالیف میں صبر کرنے والوں کے لیے اللہ تعالی کی طرف سے بشارت ہے ۔ ’’اور ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اورجانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو‘‘۔(سورۃا لبقرۃ )۔
اللہ تعالی کی معیت اور رحمت حاصل کرنے کے لیے صبر بہترین ذریعہ ہے : ’’اور صبر کرو بیشک اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے ‘‘۔(انفال)۔
جو بندہ مصیبت پر صبر کرتا ہے اور نعمت ملنے پر اللہ تعالی کا شکر بجا لاتا ہے اس کے لیے اللہ تعالی کی طرف سے بخشش اور ثواب ہے ۔ 
’’مگر جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑاثواب ہے ‘‘۔ ( سورۃ ھود )۔
مصائب اور تکالیف پر صبر کرنے والے اللہ تعالی کے محبوب بندے بن جاتے ہیں ۔ ’’اور صبر والے اللہ کو محبوب  ہیں ‘‘۔ ( اٰل عمران )۔ 
اللہ تعالی کی رضا کی خاطر صبر کرنے والوں کو اللہ تعالی ان کے صبر کے بدلے جنت عطا فرمائے گا ۔ ’’اور ان کے صبر پر انہیں جنت اور ریشمی کپڑے صلہ میں دے گا ‘‘۔ ( سورۃ الدھر )۔

غفلت :انسان کے زوال کی پہلی سیڑھی(۱)

  غفلت :انسان کے زوال کی پہلی سیڑھی(۱) انسانی زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ وقت نہیں بلکہ شعور بھی ہے ۔ وقت ضائع ہو جائے تو دوبارہ نہیں ملتا اور...