ہفتہ، 1 اگست، 2026

خیرالتابعین سیدنا اویس قرنیؓ(۱)۔

 

خیرالتابعین سیدنا اویس قرنیؓ(۱)۔

اسلامی تاریخ ایسی پاکیزہ اور باکمال شخصیات سے مزین ہے جنہوں نے اپنی بے مثال سیرت ، اعلی کردار اور بے لوث محبت الہی و عشق رسول ﷺ  کے ذریعے انسانیت کے لیے ہدایت کے چراغ روشن کیے ۔ان عظیم ہستیوں میں سے ایک ہستی خیرالتابعین، افضل التابعین ، سید التابعین سیدنا اویس قرنی رضی اللہ عنہ کی بھی ہے ۔ حضرت اویس قرنی ؓ کی شخصیت اخلاص ، ایثار ، محبت الہی اور عشق رسول ﷺ اور والدہ کی خدمت جیسے بے مثال اوصاف سے مزین ہے ۔  آپ ؓ نبی کریم ﷺ کے دور میں ہونے کے باوجود آپ ﷺ کی زیارت کا شرف حاصل نہ کر سکے لیکن عشق مصطفی ﷺ، زہد و تقوی ، اخلاص ، للہیت اور والدہ کی خدمت کی بدولت ایسی شان پائی کہ نبی کریم ﷺ آپ رضی اللہ عنہ کاذکر اپنے جلیل القدر صحابہ کرام میں فرماتے اور فرماتے جو اویس ؓ  کو ملے اپنے لیے دعا کرائے ۔
اہل دنیا کی نظر میں سیدنا اویس قرنی ؓ مستور الحال تھے اور اسی جز و مستی کے عالم میں رہنا پسند تھا ان کے دل میں خوف خد ا تھا یا بس عشق مصطفی ﷺ۔ حضرت سیدنا اویس قرنی ؓ ان پاکیزہ اور بلند ہستیوں میں سے تھے جن کی تخلیق عشق و محبت کے خمیر سے ہوئی تھی ۔ آپ ؓ کونبی رحمت ﷺ سے عشق تھا اور  کسی چیز سے خواہ وہ ان کے نام سے متعلق ہو یا خاندانی نسب کے بارے میں کوئی سروکار نہ تھا ۔ آپ رضی اللہ عنہ کی پہچان عشق تھی اور آپ ؓکا اوڑھنا  بچھونا عشق تھا ۔اس لیے آپ ؓ کو دنیا اور دنیاوی معاملات سے کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔ بقول عبد الرحمن جامی رحمۃ اللہ علیہ:
بندہ عشق شدی ترک نسب کن جامی 
کاندرین راہ فلاں بن فلاں چیزے نیست
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی اپنے بندوں میں سے ایسے برگزیدہ لوگوں کو دوست رکھتا ہے جو دنیا داروں کی  نظروں سے پوشیدہ رہتے ہیں ۔ان کے چہرے کا رنگ سیاہ اور ان کے پیٹ کمر سے لگے ہوتے ہیں اور کمر پتلی ہوتی ہے ۔ اگر دنیا کے بادشاہ ان سے ملنا چاہیں تو نہیں ملتے ۔ مال دار عورتیں ان سے شادی کی آرزو کریں تو انکار کر دیں ۔اگر ظاہر ہوں تو انہیں دیکھ کر کوئی خوش نہ ہو اور اگر بیمار ہو جائیں تو کوئی ان کی عیادت نہ کرے ۔اگر گم ہو جائیں تو کوئی ان کی جستجو نہ کرے اور انتقال کر جائیں تو ان کے سفر آخرت میں کوئی شریک نہ ہوں ۔  صحابہ کرام نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ایسا برگزیدہ شخص کون ہو سکتا ہے ؟ نبی رحمت سرورکونین ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ اویس ہے ۔

جمعہ، 31 جولائی، 2026

امانتداری اور روزی میں برکت

 

امانتداری اور روزی میں برکت

جو بھی بندہ بد دیانتی ، دھوکا دہی یا پھر ملاوٹ کر کے کوئی چیز بیچتا ہے تو اس کا خیال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی روزی میں اضافہ کر رہا ہے لیکن  کیا جھوٹ بولنے اور دھوکا دینے سے روزی میں برکت آتی ہے یا پھر سچ بول کر کوئی چیز بیچنے سے ۔ 
یہ بات واضح ہے کہ روزی میں برکت بد دیانتی سے نہیں آتی بلکہ امانتداری سے آتی ہے ۔ کسی کے پاس پیسے کچھ زیادہ ہونا یا پھر اناج کا زیادہ ہونا رزق میں برکت کی علامت نہیں ۔ اگر کسی کے پاس بہت زیادہ پیسہ ہو اور وہ ہی پیسہ اس کے لیے وبال جان بن جا ئے اور اسے اپنے رب کی یاد سے غافل کر دے ، اس کی اولاد میں بگاڑ پیدا ہو جائے اور انسان کا سکون تباہ ہو جائے تو بظاہر جتنا بھی پیسہ ہے وہ برکت سے محروم ہے ۔  لیکن اس کے برعکس اگر بندے کے پاس پیسہ کم ہے اور وہ امن و سکون کے ساتھ زندگی بسر کر رہا ہے ، اس کی اولاد پیار اورمحبت کے  ساتھ رہ رہی ہے اور وہ لوگوں کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالی نے اس کی روزی میں برکت  ڈال دی ہے ۔ 
سورۃ الطلاق میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : جو اللہ تعالی سے ڈرتا ہے اللہ تعالی اس کے لیے (مشکلات سے نکلنے کی ) راہ پیدا فرماتا  ہے اور اسے وہاں سے رزق عطا کرتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا ۔ 
حضرت حکیم بن حزام ؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :خریدو فروخت کرنے والے اختیار رکھتے ہیں جب تک جدا نہ ہوں۔ پھر اگر انہوں نے سچ کہا اور عیب بیان کر دیا تو ان کی بیع میں برکت دی جائے گی اور اگر انہو ں نے عیب چھپا یا اور  جھوٹ بولا تو ان کی برکت ختم کر دی جائے گی ۔ ( شرح السنۃ للبغوی )۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بازار میں غلہ لانے والے کو رزق دیا جاتا ہے اور ذخیرہ اندوزی کرنے والا اللہ تعالی کی رحمت سے محروم ہو جاتا ہے ۔ ( سنن الکبری البہیقی )۔
حضور نبی کریم ﷺ کی اس حدیث مبارکہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے جب تک تاجر امانتداری پر قائم رہے گا اللہ تعالی کی مدد  اس کے ساتھ رہے گی اور جب وہ بد دیانتی کرے گا تو اللہ تعالی کی مدد سے محروم ہو جائے گا۔ 
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالی فرماتا ہے میں دو شریکوں کا تیسراہوتا ہوں جب تک ان میں سے ایک اپنے دوسرے ساتھی کے ساتھ خیانت نہیں کرتا اور جب وہ خیانت کرتا ہے تو میں درمیان سے نکل جاتاہوں ۔ ( سنن انی داؤد)۔
حضور نبی کریم ﷺ کے ارشادات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ روزی میں برکت امانتداری سے ہوتی ہے بد دیانتی سے نہیں۔

جمعرات، 30 جولائی، 2026

شانِ او لیا ءاللہ (۲)

 

شانِ او لیا ءاللہ (۲)

جب بندہ بیان کی گئیں تمام صفات کو اپنا لیتا ہے تو اللہ تعالی بھی اس بندے سے محبت فرماتا ہے ۔ حضرت ابوہریرہ ؓسے مروی ہے نبی کریمﷺ 
نے ارشاد فرمایا اللہ تعالی جب کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو حضرت جبرئیل امین کو بلا کر ان سے فرماتا ہے کہ میں فلاں بندے سے محبت کرتا  ہوں تم بھی اس سے محبت کرو۔پھر جبرئیل امین آسمان والوں میں ندا کرتے ہیں اللہ تعالی فلاں بندے سے محبت کرتا ہے لہذا تم بھی اس سے  محبت کرو اور پھر اس کے بعد زمین والوں کے دلوں میں بھی اس کی محبت رکھ دی جاتی ہے ۔(مسلم)۔ حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بیشک اللہ تعالی کے بندوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو  نہ انبیاءہیں اور نہ ہی شہدا مگر قیامت کے دن اللہ تعالی کی بارگاہ میں ان کا مقام و مرتبہ دیکھ کر انبیاءاور شہدا ءرشک کریں گے ۔ لوگوں نے عرض  کیا یا رسول اللہ ﷺ وہ کون لوگ ہوں گے ؟ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ وہ لوگ ہوں گے جو ایک دوسرے سے اللہ تعالی کی محبت کی وجہ  سے محبت کرتے رہے ہوں گے۔ ان کے درمیان نہ تو رشتہ داری ہو گی اور نہ ہی مال کا لین دین کا کوئی معاملہ ۔خدا کی قسم ان کے چہرے نور ہوں  گے اور یہ لوگ نور کے اوپر ہوں گے اور جب سب لوگ خوف زدہ ہوں گے اس وقت یہ لوگ بے خوف ہوں گے اور جب لوگ غمگین ہوں گے تو ان لوگوں کو کوئی غم نہ ہو گا ۔ ( مشکاۃ المصابیح )۔ 
بخاری شریف کی روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا :اللہ تعالی فرماتا ہے میرے کسی بندے نے میرے فرض کردہ احکام کی بجا آوری  سے زیادہ محبوب شے سے میرا قرب حاصل نہیں کیا اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک میں اس سے محبت  کرنے لگ جاتا ہوں اور پھر جب میں اس سے محبت کرتا ہو تومیں اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے ، اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں  جس سے وہ دیکھتا ہے ، میں اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے ، اور میں اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور  وہ مجھ سے سوال کرے تو میں ضرور عطا فرماتا ہوں اور اگر کسی چیز سے میری پناہ چاہے تو میں ضرور اسے پناہ عطا فرماتا ہوں ۔ 
اولیا ءاللہ عبادت کے ساتھ معاشرے کی اصلاح بھی کرتے ہیں۔ وہ لوگوں میں محبت ، اخوت ، دیانت ، عدل ، صبر ، برداشت اور خدمت خلق کا جذبہ پیدا کرتے ہیں ان کی زندگیاں دوسروں کے لیے عملی نمونہ ہوتی ہیں ۔ ولی وہی ہوتا ہے جو شریعت مطاہرہ کا پابند ہو اور سنت نبوی ﷺ  کی پیروی کرتا ہو ۔اللہ تعالی ہمیں اپنے نیک بندوں کی صف میں شامل فرمائے ۔آمین۔

بدھ، 29 جولائی، 2026

شانِ او لیا ءاللہ (۱)

 

شانِ او لیا ءاللہ (۱)

اللہ تعالی نے ہر دور میں ایسے بندوں کو پیدا فرمایا ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں ایمان ، تقوی ، اخلاص ، عبادت اور خدمت خلق سے مزین کیں ۔
یہ خوش نصیب ہستیاں اولیا ءاللہ کہلاتی ہیں ۔ اولیاءاللہ شریعت سے الگ کوئی راستہ اختیار نہیں کرتے بلکہ قرآن و سنت کے سچے پیر وکار ہوتے  ہیں ۔ ان کی عظمت کا راز ان کی بندگی ، عاجزی ، خوف خدا اور محبت رسول ﷺ میں پوشیدہ ہے ۔ 
ولی کے لغوی معنی دوست ، مددگار اور قریب ہونے والے کے ہیں  شریعت کی اصطلاح میں ولی وہ شخص ہے جو ایمان اور تقوی کی دولت سے  مالامال ہو ، اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لے ۔
خالص ایمان اور مضبوط عقیدہ ، ہر حال میں اللہ تعالی کی اطاعت ، سنت رسول ﷺ کی مکمل پیروی ، عاجزی و انکساری اور حسن اخلاق ، مخلوق خدا سے محبت اور خیر خواہی ، دنیا کی محبت سے بے رغبتی اور آخرت کی فکر اولیا ءاللہ کی صفات ہیں ۔  ارشاد باری تعالی ہے : ”سن لو بیشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم ۔ وہ جو ایمان لائے اور پرہیز گاری کرتے ہیں “۔ ( سورۃ یونس)۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت مبارکہ کی تفصیل میں فرماتے ہیں اولیا ءاللہ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو دیکھ کر اللہ تعالی یاد آئے ۔
 جیسا کہ حضور نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے اللہ تعالی کا ولی وہ ہے جسے دیکھ کراللہ تعالی یاد آ جائے ۔( کنزالعمال )۔ خزائن العرفان میں مفتی نعیم الدین مراد آبادی اس آیت مبارکہ کی روشنی اولیا ءاللہ کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کا ولی وہ ہوتا ہے جو فرائض کی ادائیگی سے اللہ تعالی کا قرب حاصل کرے اور اللہ تعالی کی اطاعت میں مشغول رہے اور اس کا دل اللہ تعالی کے نور جلال کی معرفت میں ڈوباہو، جب دیکھے اللہ تعالی کی قدرت کے دلائل دیکھے ، جب سنے تو اللہ تعالی کی آیتیں ہی سنے،جب بولے تو اللہ تعالی کی ثنا ہی بولے ، جب حرکت کرے اطاعت الہی میں حرکت کرے ، جب کوشش کرے تو اسی کام میں کوشش کرے جو قرب الہی کا ذریعہ ہو ،وہ اللہ  تعالی کے ذکر سے نہ تھکے اور چشم دل سے خدا کے سوا غیر کو نہ دیکھے ۔ جب بندے میں یہ صفات آ جاتی ہیں تو اللہ تعالی اس کا ولی و ناصر اورمعین و مددگار ہوتا ہے ۔ 
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بہت سے پراگندہ حال ، بوسیدہ لباس والے ایسے ہوتے ہیں کہ لوگ ان سے نظریں پھیر لیتے ہیں لیکن ان کی شان یہ ہے کہ اگر وہ اللہ تعالی پر قسم کھا لیں تو اللہ تعالی ان کی قسم ضرور پوری فرما دیتا ہے ۔ (مستدرک )۔

منگل، 28 جولائی، 2026

جنت کے انعامات

 

جنت کے انعامات

جنت اللہ تبارک وتعالی کی بہت بڑی نعمت ہے ۔ جو جنت میں داخل ہو گا وہ ہمیشہ اس میں رہے گا ۔ وہ کبھی بھی تنگدست نہیں ہو گا ۔اسے کبھی  موت نہیں آئے گی ۔ اس کے کپڑے بوسیدہ نہیں ہو ں گے ۔اور نہ ہی کبھی اس کا شباب اور حسن ختم ہو گا ۔ جنت میں انسان کو ایسی نعمتیں ملیں گی جو کسی انسان نہ پہلے کبھی دیکھی  ہوں گی اور نہ کبھی سنی ہوں گی ۔ ارشاد باری تعالی ہے : کوئی نہیں جانتا کہ ان کے اعمال کے بدلے میں ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک کی کون کون سی چیزیں پوشیدہ رکھی گئیں ہیں ۔ ( سورۃ سجدہ ) 
جنت کے ارد گرد مصیبتوں ، پریشانیوں اور تکلیفوں کی باڑ  لگا دی گئی ہے ۔ جنت میں کسی بھی قسم کی مصیبت  برداشت نہیں کرنی پڑے گی ۔ جنت کا محل سونے چاندی کی اینٹوں اور کستوری کے گارے سے بنا ہوا ہے ۔ جنت میں ہیرے اور جواہرات کی کنکریاں ہوں گی ۔ جنت کی مٹی زعفران کی ہوگی ۔ حسد و کینہ اور بغض جیسی فضول چیزیں دل سے نکل جائیں گی ۔ اہل جنت کے چہرے بڑے حسین و جمیل ہوں گے ، ان کی صحت  قابل رشک ہو گی ۔ ان کے دل بڑے مطمئن ہوں گے اور وہ بہت زیادہ خوش ہوں گے ۔  انھیں کبھی کسی قسم کی تنگی اور تنگ دستی نہیں ہو گی ۔ آسائش ان کے قدم چومے گی ۔ اہل جنت سکون و اطمینان کی زندگی بسر کریں گے ۔ خوش ذائقہ پھلوں کی ڈالیاں ان کے ارد گرد جھوم رہی ہوں گی ۔
ارشاد باری تعالی ہے : ان کے لیے جاری چشمے سے شراب طہور کے بھرے جام گردش کر رہے ہوں گے ۔ نہایت سفید رنگ پینے والوں کے لیے لذت والی ، نہ اس سے سر چکرائے گا اور نہ اس سے مدہوش ہوں گے ۔ ( سورۃ لصفت)۔
جنت کے خادموں کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : اور ان کی خدمت میں سدا نو خیز رہنےوالے لڑکے پھرتے ہوں گے جب انہیں دیکھیں گے تو انہیں بکھرے ہوئے موتی سمجھیں گے ۔ (سورۃ الدھر) ۔ و
ہاں تھوک اور پیشاب پاخانے کا تصور تک نہ ہو گا ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ان کے لیے وہاں پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور وہ ان باغوں میں ہمیشہ رہیں گے ۔( سورۃ البقرۃ)۔
جنت کی حوروں کی صفات بیان کرتے ہو ئے اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : ان میں جھکی جھکی نظروں والی (حوریں) ہوں گی ۔ ان سے پہلے انہیں کسی انسان اور جن  نے ہاتھ بھی نہیں لگایا ہو گا ۔ ( سورۃ الرحمن)۔
 ارشاد باری تعالی ہے : ان کے لیے بالا خانے ہیں ، ان کے اوپر بالا خانے بنے ہوئے ہیں جب کہ ان کے نیچے  نہریں جاری ہیں ۔ ( سورۃ الزمر)۔ جنت میں سب سے بڑا انعام یہ ہو گا اللہ تعالی اپنی ذات اقدس سے پردے ہٹا دے گا اور اہل جنت اللہ تعالی کا جمال بے مثال دیکھیں گے ۔

پیر، 27 جولائی، 2026

موانع و مظاہر عجز و انکسار(۲)

 


موانع و مظاہر عجز و انکسار(۲)

جب انسان کے حالات ٹھیک نہیں ہوتے اور اسے مالی تنگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ ایک انتہائی عاجز انسان بن جاتا ہے لیکن حقیقی عاجزی وہ ہے جو مال و دولت ہونے کے باوجود  قائم رہے ۔  مسند ابی یعلی میں ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر میں چاہو ں تو میرے ساتھ سونے کے پہاڑ چلیں ۔حضور نبی کریم ﷺ  نے شاہی کو اختیارکرنے کی بجائے عجز و انکساری کو اختیار فرمایا ۔ 
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم ﷺ نے کبھی تکیہ لگا کر کھانا نہیں کھایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا میں ایسے ہی کھاؤں گا جیسے عام بندہ کھاتا ہے اور ایسے ہی بیٹھوں گا جیسے ایک عام بندہ بیٹھتا ہے۔ امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں جب نبی کریمﷺ معراج کی رات اعلی ترین درجات اور بلند ترین مقام پر فائز ہوئے تو اللہ تعالی نے آپﷺ پر وحی نازل فرمائی :اے محمد (ﷺ) میں آپ کو کس لقب سے مشرف کروں تو حضور نبی کریم ﷺ کی عاجزی  کا نکتہ کمال یہ تھا کہ  مقام رفیع پر فائز ہونے کے باوجود فرمایا کہ اے میرے پروردگار مجھے اپنی نشست سے منسوب فرما ۔حضور نبی کریم ﷺ  نے عبدیت کو ہی اپنے لیے سب سے بڑا شرف سمجھا ۔ (تفسیر الکبیر )
 عاجزی و انکساری اختیار کرنے والا شخص جب اپنے دشمن پر فتح حاصل کر لیتا ہے تو وہ عاجزی کاراستہ چھوڑ کر تکبر اور انتقام کے راستے پر چل پڑتا ہے اور ظلم و ستم کی انتہا کر دیتا ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے :
بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں اسے تباہ کر دیتے ہیں اور اس کے عزت والوں کو ذلیل۔ اوریہ لوگ ایسا ہی کرتے ہیں ۔(سورۃ النمل)
لیکن نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ سے ہمیں پیغام ملتا ہے کہ فتح و کامیابی کے باوجود عجز و انکساری کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔
حضور نبی کریم ﷺ نے جتنے بھی غزوات میں کامیابی حاصل کی قیدیوں پر ظلم و ستم کی بجائے معمولی سا فدیہ لے کر رہا فرما دیتے تھے ۔ حضور نبی کریم ﷺ کی عجزو انکساری کا عالم یہ تھا کہ ایک مرتبہ قیدیوں میں عمرو بن عبداللہ نے، جو کہ شاعر بھی تھا،  حضور ﷺ سے عرض کی میری پانچ بیٹیاں ہیں جن کا میرے علاوہ کوئی نہیں ۔اے محمد ﷺ مجھے ان بچیوں کے صدقے کی صورت میں رہا کر دیں میں آئندہ کبھی کسی کو آپ ﷺ کے خلاف نہیں ابھاروں گا ۔ حضور ﷺ نے اسے بغیر فدیہ کے آزاد کر دیا۔ ( حیات محمد )


اتوار، 26 جولائی، 2026

موانع و مظاہر عجز و انکسار(۱)

 

موانع و مظاہر عجز و انکسار(۱)

انسانی کردار کی تعمیر میں جن اخلاقی اوصاف کو بنیادی حیثیت حاصل ہے ان میں عجزو انکساری نمایاں مقام رکھتی ہے ۔ یہ وہ عظیم صفت  ہے جو انسان کو غرور و تکبر کی تاریکیوں سے نکال کر اللہ تعالی کی رضا ، بندگان خدا کی محبت اور معاشرتی احترام کی منزل تک پہنچاتی ہے ۔  اسلام نے جہاں ایمان ، عبادات اور حسن اخلاق پر زور دیا ہے وہیں عاجزی اور فروتنی کو ایک کامل مومن کی شناخت قرا ر دیا اللہ تعالی  نے اپنے محبوب بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
”اور رحمن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام“۔ ( سورۃ الفرقان)۔ حضور نبی رحمت ﷺ نے اپنی پوری حیات طیبہ میں اس وصف کو عملی طور پر اس شان سے پیش کیا کہ رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے  بہترین نمونہ بن گیا ۔ آپ ﷺ عظمت و رفعت کے اعلی ترین مقام پر فائز ہونے کے باوجود سادگی ، تواضع ، حلم اور انکساری کا ایسا پیکر 
تھے کہ دوست و دشمن سب آپ ﷺ کے اخلاق کریمانہ کے معترف تھے ۔ 
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :صدقہ ما ل میں کمی نہیں کرتا ۔ معافی مانگ لینے سے اللہ تعالی  عزت میں اضافہ فرماتا ہے اور جو بھی اللہ تعالی کی رضا کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ تعالی اسے سر بلند فرمادیتا ہے ۔ ( ترمذی )۔ حضور نبی کریم ﷺنے فرمایا تواضع انسان کے رتبہ کو بلند کرتی ہے اور تکبر اسے پست کرتا ہے ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی  ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو اپنے مسلمان بھائی کے لیے عاجزی کرتا ہے اللہ تعالی اسے سر بلند کر دیتا ہے اور جو اس پر اپنی برتری  جتاتا ہے اللہ تعالی اسے پست کر دیتا ہے ۔ (الترغیب الترہیب )۔
تمام تر بلندیوں ، عظمتوں ، رفعتوں اور شان کا مالک اللہ تعالی ہے تو پھر بندہ کس وجہ سے احساس برتری میں مبتلا ہو جاتا ہے جب اس کے اختیار میں کچھ نہیں۔
 حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: کبریائی میری چادر ہے اور بڑائی میرا  تہبند ہے جو ان دونوں میں سے کچھ بھی مجھ سےچھینناچاہے گا میں اسے دوزخ میں پھنک دوں گا ۔( مسند احمد )۔ انسان کے اندر تکبر ، غرور ، خود پسندی ، مال و دولت کا گھمنڈ ، علم کی نخوت اور منصب کا زعم وہ عوامل ہیں جو عجز و انکساری اختیار کرنے کی  راہ میں روکاوٹ بنتے ہیں ۔ان رکاوٹوں کو دور کیے بغیر انسان کے اندر عاجزی پیدا نہیں ہو سکتی ۔

خیرالتابعین سیدنا اویس قرنیؓ(۱)۔

  خیرالتابعین سیدنا اویس قرنیؓ(۱)۔ اسلامی تاریخ ایسی پاکیزہ اور باکمال شخصیات سے مزین ہے جنہوں نے اپنی بے مثال سیرت ، اعلی کردار اور بے لوث ...