پیر، 21 ستمبر، 2026

ایمان اور عمل صالح (۳)

 

 ایمان اور عمل صالح (۳)

سورۃ فاطر میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے بیشک وہ لوگ جو اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے پوشیدہ اور اعلانیہ کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو ہر گز تباہ نہیں ہوگی ۔ تاکہ اللہ انہیں ان کے ثواب بھرپور دے اور اپنے فضل سے اور زیادہ عطا کرے بیشک وہ بخشنے والا قدر فرمانے والا ہے “۔ ایمان اور عمل کا تعلق بنیاد اور عمارت کی مانند ہے ۔ ایمان بنیاد ہے اور عمل اس پر قائم ہونے والی عمارت ہے ۔ اگر بنیاد مضبوط نہ ہو توعمارت پائیدار نہیں رہتی اور اگر عمارت تعمیر نہ کی جائے تو بنیاد کا مقصد مکمل نہیں ہوتا ۔اسی طرح ایمان انسان کونیکی کا مقصد ، سمت اور 
جذبہ فراہم کرتا ہے جبکہ نیک اعمال ایمان کو مضبوط ، پختہ اور مؤثر بناتے ہیں ۔ جب انسان ایمان کے تقاضو ں کے مطابق عمل کرتا ہے تو اس کے اندر نیکی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور گناہوں سے نفرت ہوتی ہے اوراس کا تعلق اللہ تعالی سے مضبوط ہوتا ہے ۔ نماز اسے بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے ، روزہ تقوی پیدا کرتا ہے ، زکوٰۃ مال کی محبت کو اعتدال  بخشتی ہے اور صدقہ دل میں ہمدردی پیدا کرتاہے ۔ لیکن کسی بھی عمل کی ظاہری خوبصورتی کے ساتھ اس کو کرنے کی نیت بھی درست ہونی چاہیے کوئی بھی عمل صرف دکھلاوے کے لیے جائے تو ایسے عمل کی اللہ تعالی کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ اللہ تعالی کے ہاں صرف وہ ہی عمل قابل قبول ہے جو خالص اللہ تعالی کی رضا اور اس کی خوشنودی کے لیے کیا جائے ۔ جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا فرمان عالی شان ہے کہ اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کو وہی کچھ ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہو گی ۔ 
ایمان کاسب سے نمایا ں اثر انسان کے اخلاق اور معاملات میں بھی  ظاہر ہونا چاہیے ۔ اگر کوئی شخص عبادات کا اہتمام کرے لیکن جھوٹ ، خیانت ، ظلم ، تکبر اور بد سلوکی سے نہ بچے تو اسے اپنے ایمان کی کیفیت کا جائزہ لینا چاہیے ۔ 
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مومنوں میں کامل ترین مومن وہ ہے جو سب سے بہتر اخلاق والا ہو اور تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اخلاق میں اپنی عورتوں کے حق میں سب سے بہتر ہو ۔ (ترمذی )
ایمان اور عمل صالح دنیا و آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے : جو اچھا کام کرے مرد ہو یا عورت اور ہو مومن تو ضرور ہم اسے اچھی زندگی جِلائیں گے اور ضرور انہیں ان کا اجر دیں گے جو ان کے سب سے بہتر کام کے لائق ہو ۔ ( سورۃ النحل )

اتوار، 20 ستمبر، 2026

ایمان اور عمل صالح (۲)

 

ایمان اور عمل صالح (۲)

عمل صالح سے مراد ہر وہ نیک عمل ہے جو بندہ اللہ تعالی کی خوشنودی کے لیے اخلاص کے ساتھ اور شریعت کے مطابق انجام دے ۔ نماز پنج گانہ کی ادائیگی ، روزہ ، زکوۃ ، صدقہ و خیرات ، تلاوت قرآن مجید ، والدین کے ساتھ حسن سلوک ، رشتہ داروں سے صلہ رحمی ، سچ بولنا ، امانت ادا کرنا ، مظلوم کی مدد کرنا اور لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا سب عمل صالح کی مختلف صورتیں ہیں ۔ 
عمل صالح صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ انسانی زندگی کے تمام شعبوں  پر محیط ہے ۔ ایک تاجر کو چاہیے کہ وہ ایمانداری سے کاروبار کرے ، استادکا اخلاص کے ساتھ تعلیم دینا ، انصاف کرنا ، مزدور کا محنت سے کام کرنا اور مالک کا اس کو وقت پر مزدوری دینا اورکسی ضرورت  مند کے کام آنا یہ سب عمل صالح ہیں۔ شرط یہ ہے کہ نیت درست اور طریقہ جائز ہو ۔ 
جیسا کہ اللہ تعالی سورۃ الانبیاءمیں ارشاد فرماتا ہے : ” جو کچھ بھلے کام کرے اور ہو ایمان والا تو اس کی کوشش کی بے قدری نہیں۔ اور ہم اسے لکھ رہے ہیں “۔  اس آیت مبارکہ میں بندو ں کو مضبوطی کے ساتھ اللہ تعالی کی اطاعت پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کی گئی ہے ۔ جو بندہ ایمان والا ہو اور عمل  صالح کرے تو اس کو اس کا ضرور اجر دیا جائے گا اور اسے اس کے اجر سے محروم نہیں رکھا جائے گا ۔ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ ہم اس کے عمل  کو اعمال نامے میں لکھ رہے ہیں اور اس میں کچھ کمی نہ ہو گی ۔ ( تفسیر کبیر )۔
 اعمال اسی صورت قبول ہو ں گے جب بندہ ایمان والا ہو گا اگر ایمان نہیں تو پھر کچھ اجر نہیں ملے گا ۔ ایمان والے کے نیک اعمال مقبول  ہوتے ہیں لیکن وہ اعمال نیک نیت اور اللہ تعالی کے حکم کے مطابق کیے جائیں ۔ جیسا کہ سورۃ بنی اسرائیل میں اللہ تعالی فرماتا ہے :  ” اور جو آخرت چاہتا ہے اور اس کے لیے ایسی کوشش کرتا ہے جیسی کرنی چاہیے اور وہ ایمان والا بھی ہوتو یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوشش  کی قدر کی جائے گی “۔ 
سورۃ العصر میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : ” اس زمانہ محبوب کی قسم ۔بیشک آدمی ضرور نقصان میں ہے ۔ مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام  کیے اور ایک دوسرے کو حق کی تا کید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی “۔ 
اس سورۃ میں اللہ تعالی نے انسان کو نجات کے اصول بتائے ہیں ۔ انسان کی عمر جواس کا سرمایہ اور اصل پونجی ہے وہ ہر دم کم ہو رہی ہے  لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور دوسروں کو ایمان اور نیک اعمال کی دعوت دی اور مصیبتوں اور آزمائشوں میں ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی تو یہ لوگ خسارے میں نہیں بلکہ اللہ تعالی کے فضل سے نفع پانے والے ہیں ۔

ہفتہ، 19 ستمبر، 2026

ایمان اور عمل صالح (۱)

 

ایمان اور عمل صالح (۱)

انسان کی ظاہری زندگی اس کے اعمال سے پہچانی جاتی ہے مگر ان اعمال کی اصل قدر و قیمت اس کے دل میں موجود ایمان سے متعین  ہوتی ہے ۔ ایمان دل کا وہ چراغ ہے جو انسان کو حقیقت ِ زندگی سے آشنا کرتا ہے جبکہ عمل صالح اس چراغ کی روشنی کو کردار ، معاملات  اور معاشرت میں نمایا ں کرتا ہے ۔ ایمان اگر دل میں ہو مگر عمل کی صورت میں اس کا اثر دکھائی نہ دے تو اس کی کیفیت کمزور اور دعویٰ بے اثر محسوس ہوتا ہے ۔ 
ایمان سے مراد اللہ تعالی کی ذات و صفات ، اس کی وحدانیت ، فرشتوں ، آسمانی کتابوں ، انبیائے کرام ، یوم آخرت اور تقدیر پر یقین رکھنا  ہے ۔یہ یقین محض زبانی اقرار کا نام نہیں بلکہ دل کی تصدیق ، زبان کے اقرار اور زندگی میں اس کے تقاضوں کو قبول کرنے کا نام ہے ۔
 جب بندہ یہ یقین رکھتا ہے کہ اس کا ہر قول و فعل اللہ تعالی کے علم میں ہے اور ایک دن اسے اپنے اعمال کا حساب دینا ہے تو اس کے رویے  میں ذمہ داری ، احتیاط اور تقویٰ پیداہوتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :  ”ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ کو یاد کرتے ہیں تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان پر اس کی آیتیں پڑھی جائیں ان کا ایمان  اور بڑھ جاتا ہے اور اپنے رب پر بھروسہ کریں “۔ 
اس آیت مبارکہ میں کامل ایمان والوں کی نشانیاں بیان کی گئی ہیں۔ پہلی یہ کہ جب ان کے سامنے اللہ تعالی کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل  ڈر جاتے ہیں ۔تفسیر کبیر میں ہے کہ للہ تعالی کا خوف دو طرح کا ہوتا ہے۔ اللہ تعالی کے عذاب کے ڈر سے گناہوں کو چھوڑ دینا اور اللہ تعالی  کے جاہ و جلال اور اس کی عظمت اور اس کی بے نیازی سے ڈرنا ۔ پہلی قسم کا خوف مسلمانوں میں سے پرہیز گاروں کو ہوتا ہے اور دوسرا خوف انبیاءو مرسلین ، اولیائے کرام اور مقرب فرشتوں کو ہوتا ہے ۔
 ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی رحمت ﷺ نے فرمایا میں تم میں سب سے زیادہ اللہ تعالی سے ڈرنے والا ہوں اور تم سب سے زیادہ اللہ تعالی کی مغفرت رکھنے والا ہوں ۔( بخاری )۔ کتاب الزھد میں ہے کہ ایک دن سیدنا صدیق اکبرؓ نے درخت پر بیٹھے پرندے کو دیکھ کر فرمایا تیرے لیے کتنی بھلائی ہے تو پھل کھاتا ہے  اور درخت پر بیٹھتا ہے۔ کاش میں بھی ایک پھل ہوتا جسے پرندے کھا لیتے ۔
ایک مرتبہ سیدنا فاروق اعظمؓ نے زمین سے ایک تنکا اٹھا کر فرمایا کاش میں بھی ایک تنکا ہوتا ،کاش میں کچھ بھی نہ ہوتا ، کاش میں پیدا نہ ہوا ہوتا ،  کاش میں بھولا بسرا ہوتا ۔ ( کتاب الزھد )۔

جمعرات، 17 ستمبر، 2026

تاجدارِ ختم نبوتﷺ (۱)

 

تاجدارِ ختم نبوتﷺ (۱)

اللہ تعالی نے کسی بھی آسمانی کتاب کی حفاظت کا ذمہ نہیں لیا اور کوئی بھی آسمانی کتاب اپنی اصلی حالت میں موجود نہیں ہے ۔لیکن قرآن مجید واحد آسمانی کتاب ہے جس کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالی نے خود لیا ہے ۔یہی وجہ ہے چودہ سو سال گزر جانے کے باوجود آج ایک زیر زبر میں بھی ردو بدل نہیں ہوا اور نہ ہی قیامت تک ہو گا ۔
قرآن قیامت تک کے لیے حجت اور برہان ہے اور اللہ تعالی نے قیامت تک کے لیے قرآن مجید کو کسی بھی ردو بدل سے محفوظ فرما دیا ہے ۔  اس کا مطلب ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کی نبوت رسالت قیامت تک کے لوگوں کے لیے ہے نا کہ کسی مخصوص طبقے یا دور کے لوگوں کے لیے ۔  ارشاد باری تعالی ہے : ’’بیشک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بیشک ہم خود اس کے نگہبان ہیں ‘‘۔ (سورۃ الحجر )۔  حضرت ابو ہریرہ ؓسے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء کرام علیہم السلام کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے بہت حسین و جمیل ایک گھر بنایا ۔ مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی ، لوگ اس کے گرد گھومتے ہیں اور تعجب سے کہتے  ہیں کہ اس میں یہ اینٹ کیوں نہیں لگائی گئی ۔ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبین ہو ں ( مسلم )۔
حضرت ثوبان ؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ تعالی نے میرے لیے تمام روئے زمین کولپیٹ دیا ہے اور میں نے اس  کے مشرق اور مغرب کو دیکھ لیا ہے اور فرمایا عنقریب میری امت میں تیس کذاب ہوں گے اوران میں سے ہر ایک گمان کرے گا کہ وہ نبی ہے حالانکہ کہ میں خاتم النبین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ ( ابوداؤد )۔
حضرت جبیر بن معطم ؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے متعدد نام ہیں ۔ میں محمد ہوں ، میں احمد ہوں ، میں ماحی ہوں کہ  اللہ تعالی نے میرے سبب کفر کو ختم کیا ۔ میں حاشر ہو ں کیونکہ میرے قدموں پر لوگوں کا حشر ہو گا اور میں عاقب ہوں اور عاقب وہ جس کے بعد کوئی نبی نہیں ۔ ( ترمذی)۔
حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت علی ؓسے فرمایا کیا تم مجھ سے اس پر راضی نہیں  ہوکہ تمہاری اور میری مثال ایسے ہے جیسے حضرت موسی علیہ السلام  اور حضرت ہارون علیہ السلام کی۔ لیکن فرق یہ ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام نبی تھے لیکن میرے بعد کوئی نہیں ۔ (مسلم )۔
عقیدہ ختم نبوت وہ روشن بنیاد ہے جس پر ایمان کی تکمیل ہوتی ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ اللہ تعالی کے آخری نبی اور رسول ہیں اور آپ ﷺ  کی ذا ت اقدس پر سلسلہ نبوت ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے ۔ قرآن و سنت کی یہ قطعی تعلیم ہمیں یہ دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے ایمان کو قرآن مجید کی ہدایت ، عشق مصطفی اور اتباع سنت سے مزین کریں ۔یہی عقیدہ ہماری ایمان کی شناخت بھی ہے اور ہماری عملی زندگی کے لیے روشن  رہنما بھی ۔

بدھ، 16 ستمبر، 2026

سیر ت النبی ﷺ اور حقوق زوجین(۲)

 

سیر ت النبی ﷺ اور حقوق زوجین(۲)

جیسے عورت پر شوہر کی اطاعت لازم ہے ایسے ہی شوہر کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کا احترام کرے اور اس کی تحقیر نہ کرے اور اس کے عزت ونفس کا خیال رکھے اور اس کے حقوق کا خیال رکھے ۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ  حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے لیے اچھا ہے اور میں تم میں سب سے بڑھ کر اپنے گھر والوں سے اچھا سلوک کرتا ہوں ۔ ( سنن ابن ماجہ)۔
ایک مقام پر حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے سب سے کامل ایمان والا وہ ہے جس کا اخلاق اچھا ہے اورجو اپنے گھر والوں کے ساتھ سب سے بڑھ کر نرمی کرنے والا ہے ۔  (شعب الایمان البہیقی)۔
حضور نبی کریمﷺ سے عرض کی گئی یارسول اللہ ﷺ کسی شخص کی بیوی کا اس کے شوہر پر کیا حق ہے تو آپﷺ نے فرمایا:”کہ جب توکھائے تو اسے بھی کھلائے اور جب تو پہنے تو اسے بھی پہنائے اور اس کے چہرے پر نہ مارے اور اگر کسی وجہ سے تعلق ترک کرنا ہو تو صرف گھر میں کرے ۔ ( ابن ماجہ )۔ یعنی کہ مرد پر یہ بات لازم ہے کہ وہ ہر لحاظ سے عورت کے وقا ر کو ملحوظ خاطر رکھے اور کھانے ، پینے اور پہننے میں اپنی بیوی کو اپنے ساتھ شریک کرے۔ 
حضور نبی کریم ﷺکے تمام معاملات وحی الٰہی کے مطابق ہوتے تھے لیکن اس کے باوجود آپ ﷺ اپنی ازواج سے مشورا لیا کرتے تھے اس کو قبول بھی فرمایا کرتے تھے۔ اس کا مقصد ان کے وقار کو بلند کرنا تھا ۔
حضور نبی کریمﷺ کی ازواج میں سے اگر کوئی کسی وجہ سی اظہار ناراضگی کرتی تو آپﷺ اس پر بُرا نہیں مناتے تھے بلکہ اس سے محظوظ ہوتے تھے ۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضور نبی کریمﷺ نے مجھے کہا کہ مجھے پتہ ہوتا ہے کہ  کب تم مجھ سے ناراض ہو اور کب خوش تو میں نے عرض کی آپ کو کیسے معلوم ہوتا ہے ۔آپﷺ نے فرمایا :” جب تم مجھ سے راضی ہو تی ہو تو کہتی ہو مجھے محمد ﷺ کے رب کی قسم اور جب مجھ سے ناراض ہوتی ہو کہتی ہو مجھے ابراہیم  علیہ السلام کے رب کی قسم ۔ تو میں نے عرض کی ہاں یارسو ل اللہ ﷺ میں صرف آپ کا اسم گرامی ہی چھوڑتی ہوں ۔(مسلم)۔یعنی صرف زبان سے ہی نام نہیں لیتی تھی لیکن دل صرف آپﷺ کی محبت سے معمور رہتا تھا۔
 سیرت النبی ﷺ سے ہمیں یہ بات واضح معلوم ہوتی ہے کہ جب میاں بیوی ایک دوسر ے کاادب و احترام ملحوظ خاطر رکھیں گے اور اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کریں گے تو گھر ضرور امن کا گہوارہ بن جائے گا۔

منگل، 15 ستمبر، 2026

سیر ت النبی ﷺ اور حقوق زوجین(۱)

 

سیر ت النبی ﷺ اور حقوق زوجین(۱)

ارشاد باری تعالی ہے :”اور اس کی آرزو نہ کرو جس سے اللہ نے تم میں ایک کو دوسرے پر بڑائی دی مردوں کے لیے ان کی کمائی کا حصہ ہے اور عورتوں کے لیے ان کی کمائی سے حصہ اور اللہ سے اس کا فضل مانگو بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے ۔( سورۃ النساء)۔
معاشرتی مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ میاں بیوی کے باہمی مسائل بھی ہیں جس کی وجہ سے اکثر گھروں کی خوشیاں ماند پڑیرہتی ہیں ۔ لیکن اگر ہم ان مسائل کا حل حضور نبی کریم ﷺ کی سیرت سے تلاش کریں تو یہ مسائل بالکل ختم ہو جائیں اور ہمارے گھر وں اور معاشرے میں خوشیاں پھیل جائیں ۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی تعلیمات اور عمل سے اس بات کو بخوبی واضح فرما دیا ہے کہ گھر کا سربراہ مرد ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :” مرد عورتوں کے کفیل ہیں اس لیے کہ اللہ نے ان میں ایک کو ایک دوسرے پر فضیلت دی اور اس لیے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا  ہے ۔( سور ةالنساء)۔
اللہ تعالی نے مردوں کو عورتوں کا محافظ بنایا ہے ۔ حضور نبی کریمﷺ نے اس بات کی تاکید فرمائی ہے عورتیں اپنے شوہروں کی  اطاعت کریں کیونکہ جب کسی بھی جگہ سربراہ کی بات نہ مانی جائے تو وہاں کے معاملات بگڑ جاتے ہیں ۔ اور اللہ تعالی کو یہ عمل بہت پسند ہیں کہ عورتیں اپنے خاوند کی اطاعت کریں ۔حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا :”عورت جب پانچ وقت کی نماز پڑھے اور رمضان کے روزے رکھے اور اپنی عفت و عصمت کی حفاظت کرے اور شوہر کی اطاعت کرے تو جنت کے جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہو جائے ۔ (مشکاۃ المصابیح)۔
حضرت قیس بن سعد فرماتے ہیں کہ میں حیرہ گیا تو میں نے دیکھا کہ وہاں کے لوگ اپنے سردار کو سجدہ کر رہے ہیں میں نےسوچا کہ رسول خدا ﷺ اس کے زیادہ حق دار ہیں میں نے واپس آ کر بارگاہ رسول ﷺ میں  حاضر ہو کر ساری بات بتائی تو آپﷺ نے فرمایا :” ایسا نہ کرو اگر میں کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں کیونکہ اللہ تعالی نے مردوں کا عورتوں پر حق رکھا ہے ۔“(سنن ابی داؤد )۔ یعنی کہ اللہ تعالی کے علاوہ کسی کو سجدہ کرنا جائز نہیں۔ لیکن حقیقی اطاعت اللہ تعالی کی ہے اور عورت اپنے شوہر کی صرف اسی بات کو ماننے کی پابند ہوگی جو شریعت مطاہرہ کے مطابق  ہو گی۔ کوئی بھی بات خلاف شریعت ہو گی تو عورت اس کو ماننے کی پابند نہیں ۔

پیر، 14 ستمبر، 2026

موانع و مظاہر عجز و انکسار

 

موانع و مظاہر عجز و انکسار

انسانی کردار کی تعمیر میں جن اخلاقی اوصاف کو بنیادی حیثیت حاصل ہے ان میں عجزو انکساری نمایاں مقام رکھتی ہے ۔ یہ وہ عظیم صفت  ہے جو انسان کو غرور و تکبر کی تاریکیوں سے نکال کر اللہ تعالی کی رضا ، بندگان خدا کی محبت اور معاشرتی احترام کی منزل تک پہنچاتی ہے ۔  اسلام نے جہاں ایمان ، عبادات اور حسن اخلاق پر زور دیا ہے وہیں عاجزی اور فروتنی کو ایک کامل مومن کی شناخت قرا ر دیا اللہ تعالی  نے اپنے محبوب بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
”اور رحمن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام“۔ ( سورۃ الفرقان)۔ حضور نبی رحمت ﷺ نے اپنی پوری حیات طیبہ میں اس وصف کو عملی طور پر اس شان سے پیش کیا کہ رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے  بہترین نمونہ بن گیا ۔ آپ ﷺ عظمت و رفعت کے اعلی ترین مقام پر فائز ہونے کے باوجود سادگی ، تواضع ، حلم اور انکساری کا ایسا پیکر 
تھے کہ دوست و دشمن سب آپ ﷺ کے اخلاق کریمانہ کے معترف تھے ۔ 
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :صدقہ ما ل میں کمی نہیں کرتا ۔ معافی مانگ لینے سے اللہ تعالی  عزت میں اضافہ فرماتا ہے اور جو بھی اللہ تعالی کی رضا کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ تعالی اسے سر بلند فرمادیتا ہے ۔ ( ترمذی )۔ حضور نبی کریم ﷺنے فرمایا تواضع انسان کے رتبہ کو بلند کرتی ہے اور تکبر اسے پست کرتا ہے ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی  ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو اپنے مسلمان بھائی کے لیے عاجزی کرتا ہے اللہ تعالی اسے سر بلند کر دیتا ہے اور جو اس پر اپنی برتری  جتاتا ہے اللہ تعالی اسے پست کر دیتا ہے ۔ (الترغیب الترہیب )۔
تمام تر بلندیوں ، عظمتوں ، رفعتوں اور شان کا مالک اللہ تعالی ہے تو پھر بندہ کس وجہ سے احساس برتری میں مبتلا ہو جاتا ہے جب اس کے اختیار میں کچھ نہیں۔
 حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: کبریائی میری چادر ہے اور بڑائی میرا  تہبند ہے جو ان دونوں میں سے کچھ بھی مجھ سےچھینناچاہے گا میں اسے دوزخ میں پھنک دوں گا ۔( مسند احمد )۔ انسان کے اندر تکبر ، غرور ، خود پسندی ، مال و دولت کا گھمنڈ ، علم کی نخوت اور منصب کا زعم وہ عوامل ہیں جو عجز و انکساری اختیار کرنے کی  راہ میں روکاوٹ بنتے ہیں ۔ان رکاوٹوں کو دور کیے بغیر انسان کے اندر عاجزی پیدا نہیں ہو سکتی ۔

ایمان اور عمل صالح (۳)

   ایمان اور عمل صالح (۳) سورۃ فاطر میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے بیشک وہ لوگ جو اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور ...