مومن (۳)
سورۃا لفرقان کی آیت ۷۲ تا ۷۴ میں اللہ تعالی فرماتا ہے : اور جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور اپنی عزت سنبھالے گزر جاتے ہیں ۔اور وہ کہ جب انہیں اس کے رب کی آیتیں یاد دلائی جاتی ہیں تو ان پر بہرے اندھے ہو کر نہیں گرتے ۔ اور وہ جو عرض کرتےہیں اے ہمارے رب ہمیں دے ہماری بیبیوں اور ہماری اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک اور ہمیں پرہیز گاروں کا پیشوا بنا ۔
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی سے ڈرنے کے بعد مومن کے لیے نیک بیوی سے بہتر کوئی چیز نہیں اگر اسے حکم دے تو وہ اس کی اطاعت کرے اور اگر اسے دیکھے تو خوش کر دے اور اس پر قسم کھا لے تو قسم سچی کر دے اور کہیں چلا جائے تو اس کی عزت میں خیانت نہ کرے اور اس کا مال ضائع نہ کرے ۔ ( ابن ماجہ )۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب انسان مر جاتا ہے تو تین اعمال کے علاوہ اس کے سارے عمل منقطع ہو جاتے ہیں ۔صدقہ جاریہ ، وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا ہو اور نیک بچہ جو اس کے لیے دعا کرے ۔ ( مسلم )
جس بندہ مومن میں اوپر بیان کیے گئے اوصا ف موجود ہوں یعنی وہ اپنی زندگی اطاعت الہی اور محبت رسول ﷺمیں گزارے ، گناہوں سے بچے صبر اور استقامت سے کام لے تو اللہ تعالی اس کو اجرعظیم عطا فرماتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :ان کو جنت کا سب سے اونچا بالا خانہ انعام ملے گا بدلہ ان کے صبر کا اور وہاں سلام کے ساتھ ان کی پیشوائی ہو گی ۔ ہمیشہ اس میں رہیں گے کیاہی اچھی ٹھہرنے اور بسنے کی جگہ ہے۔( سورۃ الفرقان :آیت ۷۵، ۷۶)۔
موت ایک ایسی حقیقت ہے جس کا کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا ۔ مرنے کے بعد بروز قیامت جب حساب کتاب ہو گا تو کامیاب وہی ہو گا جس کا خاتمہ ایمان پر ہوا ہو گا اور اس کے اعمال اچھے ہوں گے ۔جیسا کہ سورۃ اٰل عمران میں ارشاد باری تعالی ہے جسے آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا وہی کامیاب ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ جہنم سے بچ جائے اور جنت میں داخل ہو تو اسے موت ضرور اس حال میں آئے کہ وہ اللہ تعالی اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور جس معاملے کو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہو وہی معاملہ دوسروں کے ساتھ کرے ۔ ( مسند احمد )۔






