جمعرات، 15 اکتوبر، 2026

دعوت و تبلیغ کے اصول

 

دعوت و تبلیغ کے اصول

 سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں (۱)
انسان کے دل میں حق کی جستجو فطری طور پر موجود ہے مگر اس جستجو کو صحیح سمت دینے کے لیے ایسے رہنمائو ں کی ضرورت ہوتی ہے جو محبت ،حکمت اور خیر خواہی کے ساتھ انسان کو اپنے رب کی طرف متوجہ کریں ۔ دعوت کا اصل مقصد کسی انسان کو زیر کرنانہیں بلکہ اس کے دل میں اللہ تعالی کی محبت پیدا کرنا ، اسے اللہ تعالی سے جوڑنا اور زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق سنوارنے کی ترغیب دینا ہے ۔ 
دین کی تبلیغ اسلام کی روح ہے اور اس فریضے کی تکمیل کا کامل اور عملی نمونہ ہمیں حضور نبی رحمت ﷺ کی حیات طیبہ سے ملتا ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ کا انداز گفتگوہر شخص کی عقل ، علم اور حالات کے مطابق ہوتا ۔نبی رحمت ﷺ کا اسلوب بہت ہی نرم ، شفیق اور خوش گفتار تھا جو مخالف کو بھی قائل کر دیتا تھا ۔جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے : ’’تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب (ﷺ) آپ ان کے لیے نرم دل ہوئے ‘‘۔ ( سورۃ اٰل عمران )
حضور نبی رحمت ﷺ نے تبلیغ نہ صرف زبان سے کی بلکہ اپنے عمل ، دیانت ، سچائی ، حلم اور وفا داری سے لوگوں کو اپنی طرف مائل کیا ۔یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کے مخالف بھی آپ ﷺ کو صادق اور امین کہ کر پکارتے تھے ۔ سورۃ النحل میں ارشاد باری تعالی ہے : ’’اپنے رب کی طرف بلائو پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے ‘‘۔ اس آیت مبارکہ میں تبلیغ کے بنیادی اصول بتائے گئے ہیں جس میں سب سے پہلے ہے حکمت ۔حکمت کا تقاضا ہے کہ داعی مخاطب کے حالات ، ذہنی سطح ، عمر ، ماحول اور ضرورت کو سمجھ کر بات کرے ۔ داعی اگر حکمت سے محروم ہو تو اچھی بات بھی غلط انداز کی وجہ سے دل پر اثر نہیں کرتی ۔ حضور نبی رحمت ﷺ نے دعوت تبلیغ کا آغاز توحید ، رسالت اور آخرت جیسے بنیادی عقائد سے کیا ۔نماز ، روزہ ، زکوۃ اور حج کا حکم بعد میں نازل ہو ا۔ نماز کی فرضیت ، شراب کی حرمت، جہاد کی فرضیت ، سود کی حرمت ، یتیموں کے حقوق،معاشرتی ، معاشی احکام اور وراثت کی تقسیم کے احکام آہستہ آہستہ سکھائے گئے ۔حضور نبی رحمت ﷺ کبھی بھی کسی کو تمام احکام ایک ہی وقت میں نہیں سناتے تھے بلکہ مخاطب کی عقل و ظرف کے مطابق آہستہ آہستہ بتاتےتاکہ سننے والا اچھی طرح سن کر آمادہ ہو جائے ۔

بدھ، 14 اکتوبر، 2026

موانع و مظاہر عجز و انکسار

 

موانع و مظاہر عجز و انکسار

انسانی کردار کی تعمیر میں جن اخلاقی اوصاف کو بنیادی حیثیت حاصل ہے ان میں عجزو انکساری نمایاں مقام رکھتی ہے ۔ یہ وہ عظیم صفت  ہے جو انسان کو غرور و تکبر کی تاریکیوں سے نکال کر اللہ تعالی کی رضا ، بندگان خدا کی محبت اور معاشرتی احترام کی منزل تک پہنچاتی ہے ۔  اسلام نے جہاں ایمان ، عبادات اور حسن اخلاق پر زور دیا ہے وہیں عاجزی اور فروتنی کو ایک کامل مومن کی شناخت قرا ر دیا اللہ تعالی  نے اپنے محبوب بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
”اور رحمن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام“۔ ( سورۃ الفرقان)۔ حضور نبی رحمت ﷺ نے اپنی پوری حیات طیبہ میں اس وصف کو عملی طور پر اس شان سے پیش کیا کہ رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے  بہترین نمونہ بن گیا ۔ آپ ﷺ عظمت و رفعت کے اعلی ترین مقام پر فائز ہونے کے باوجود سادگی ، تواضع ، حلم اور انکساری کا ایسا پیکر 
تھے کہ دوست و دشمن سب آپ ﷺ کے اخلاق کریمانہ کے معترف تھے ۔ 
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :صدقہ ما ل میں کمی نہیں کرتا ۔ معافی مانگ لینے سے اللہ تعالی  عزت میں اضافہ فرماتا ہے اور جو بھی اللہ تعالی کی رضا کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ تعالی اسے سر بلند فرمادیتا ہے ۔ ( ترمذی )۔ حضور نبی کریم ﷺنے فرمایا تواضع انسان کے رتبہ کو بلند کرتی ہے اور تکبر اسے پست کرتا ہے ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی  ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو اپنے مسلمان بھائی کے لیے عاجزی کرتا ہے اللہ تعالی اسے سر بلند کر دیتا ہے اور جو اس پر اپنی برتری  جتاتا ہے اللہ تعالی اسے پست کر دیتا ہے ۔ (الترغیب الترہیب )۔
تمام تر بلندیوں ، عظمتوں ، رفعتوں اور شان کا مالک اللہ تعالی ہے تو پھر بندہ کس وجہ سے احساس برتری میں مبتلا ہو جاتا ہے جب اس کے اختیار میں کچھ نہیں۔
 حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: کبریائی میری چادر ہے اور بڑائی میرا  تہبند ہے جو ان دونوں میں سے کچھ بھی مجھ سےچھینناچاہے گا میں اسے دوزخ میں پھنک دوں گا ۔( مسند احمد )۔ انسان کے اندر تکبر ، غرور ، خود پسندی ، مال و دولت کا گھمنڈ ، علم کی نخوت اور منصب کا زعم وہ عوامل ہیں جو عجز و انکساری اختیار کرنے کی  راہ میں روکاوٹ بنتے ہیں ۔ان رکاوٹوں کو دور کیے بغیر انسان کے اندر عاجزی پیدا نہیں ہو سکتی ۔*

منگل، 13 اکتوبر، 2026

آداب زندگی قرآن کی روشنی میں

 

آداب زندگی قرآن کی روشنی میں

قرآن مجید میں اللہ تعالی نے مسجد کے آداب بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ”اور یاد کرو جب ہم نے اس گھر کو لوگوں کے لیے مرجع و امان بنایا اور ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ اور ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم اور اسماعیل کو کہ میرا گھر خوب ستھرا کرو طواف والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع و سجود والوں کے لیے “۔ ( سورۃ البقرہ )۔ مسجد اللہ تعالی کا گھر ہے ۔ اس آیت سے ایک بات تو یہ پتہ چلی کہ نماز مسجد میں باجماعت ادا کرنی چاہیے اور دوسری یہ کہ اللہ تعالی کے گھر کو صاف ستھرا  رکھنا چاہیے تا کہ وہاں آ کر اللہ تعالی کی عبادت کرنے والو ں کو کوئی پریشانی یا تکلیف نہ ہو ۔  قرآن مجید میں اللہ تعالی نے والدین اور دوسروں کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرنے کا حکم فرمایا ہے اور یہ معاشرتی آداب میں بہت اہمیت کا حامل ہے کہ  ہم اپنے والدین کا ادب و احترام کریں اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں ۔ اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو اور جب وہ بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے سامنے اف تک نہ کہو ۔ 
سورۃ النساءمیں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :” اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کہ نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ سے بھلائی کرو اور رشتہ دارو ں اور یتیموں اور محتاجوں اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے اور کروٹ کے ساتھی اور راہ گیر اور اپنی باندی و غلام سے بے شک اللہ کو پسند نہیں کوئی اترانے والا، بڑائی مارنے والا “۔ 
لوگوں کو عدل و انصاف فراہم کرنا معاشرتی آداب میں سے اہم ترین ہے کیوں کہ عد ل و انصاف کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا اور نہ ہی معاشرے میں امن قائم ہو سکتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ”بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے عدل اور احسان کا “۔ ( سورۃ النحل )۔ 
اسی طرح اگر کسی کے ساتھ عہد کیا جائے تو اس عہد کو پورا کرنا ضروری ہے اور اس کے متعلق بھی برو زقیامت پوچھا جائے گا ۔ ارشاد باری تعالی ہے :” اور  عہد کو پورا کرو بیشک عہد سے سوال ہونا ہے “۔ ( سورۃ بنی اسرائیل )۔ 
معاف کرنا اور در گزر کرنا ایک ایسا عمل ہے جس سے نہ صرف بندے کی عزت و احترام میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معاشرہ بھی امن و سلامتی کا گہوارہ بن جاتا  ہے اور اللہ تعالی بھی ڈھیروں اجرو ثواب عطا فرماتا ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے :”اور برائی کا بدلہ اسی کی برائی ہے تو جس نے معاف کیا ور کام سنوارا تو اس کا اجر اللہ پر ہے بیشک وہ دوست نہیں رکھتا ظالموںکو “۔ ( سورۃ الشورٰی )۔
اس کے علاوہ حیا و پاکدامنی اور بے جا تجسس اور غیبت سے اجتناب کرنا بھی معاشرتی آداب میں سے ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :” اور مومن مردوں  سے کہہ دو کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں“۔ ( سورۃ النور )۔
سورۃ الحجرات میں اللہ تعالی فرماتا ہے :اور ایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ لگے رہو اور نہ ہی ایک دوسرے کی غیبت کرو “۔  اگر ہم قرآن مجید کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق زندگی بسر کریں تو اللہ تعالی ہمیں دنیا و آخرت میں سرخرو کرے گا اور معاشرہ بھی امن کا گہوارہ  بن جائے گا۔

جمعہ، 9 اکتوبر، 2026

توبہ (2)

 

توبہ (2)

تیسری صورت یہ ہے کہ حاضر و موجود خدا کی شرم اسے دامن گیر ہو جائے اور وہ اس کی مخالفت پر اپنے   آ پ نادم ہونے لگے ۔ان تینوں  میں پہلا تائب ، دوسرا منیب اور تیسرا اواب ہے ۔ 
توبہ کے بھی تین مقام ہیں پہلا توبہ ، دوسرا انابت اور تیسرا اوبت ۔توبہ عذاب کے خوف کی وجہ سے ہوتی ہے ، انابت طلب ثواب کی خاطراور اوبت تعمیل حکم کے لیے ۔توبہ عام مسلمان کا درجہ ہے اور یہ گناہ کبیرہ سے ہوتی ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے : ”اے ایمان والواللہ کی  طرف ایسی توبہ کرو جو آگے کے لیے نصیحت ہو جائے “۔ ( سورۃ التحریم )۔
انابت اولیائے کاملین اور مقربین کا مقام ہے ۔سورۃ ق میں ارشاد باری تعالی ہے : ”جو رحمن سے بے دیکھے ڈرتا ہے اور رجوع کرتا ہوا دل لایا “ ۔  اور اوبت انبیائے کرام اور مرسلین کا شیوہ ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے :” کیا اچھا بندہ بیشک وہ بہت رجوع لانے والا “۔ ( سورۃ ق )  انابت صغیرہ گناہوں سے محبت کی وادی میں قدم رکھنے کانام ہے جبکہ اوبت کے معنی اپنی ذات کو نظر انداز کر کے اللہ تعالی کی طرف کامل رجوع کے ہیں ۔ 
تو بہ کی حقیقت اللہ تعالی کی منع کردہ باتوں سے رکنے ، دل کو خواب غفلت سے بیدار کرنے اور فوری طور پر اپنے عیوب پر مطلع ہو جانے کا  نام ہے ۔ جب انسان اپنی برائی اور بد اعمالی کا احساس کر لیتا ہے اور اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کے لیے خود بخود توبہ کا دروازہ کھول دیتا ہے اور آخر کار اسے گناہوں کی بد بختی سے نکال کر اپنی عبادت کی چاشنی عطا فرما دیتا ہے ۔ حضرت ذالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ توبہ کی دو قسمیں ہیں توبہ انابت اور توبہ استحیاءتوبی انابت یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالی کے عذاب کے خوف سے توبہ کرے اور توبہ استحیاءیہ ہے کہ کرم خدا وندی کے شرم سے بندہ توبہ کرے ۔خوف جلال کے اظہار سے پیدا ہوتا ہے اورحیانظارہ جمال سے پیدا ہوتی ہے پس ایک جلال میں خوف کی آگ سے جلتا ہے اور دوسرا س کے نور جمال میں حیا کے نور سے منور ہوتا ہے ۔ (کشف المحجوب )۔
سورۃ البقرۃ میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :”بیشک اللہ پسند رکھتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کوا ور پسند رکھتا ہے ستھروں کو “۔ 
اللہ تعالی ہمیں سچی توبہ نصیب فرمائے ، گناہوں سے بچنے کی توفیق دے ، اگر کوئی گناہ سر زد ہو جائے تو فوری اپنی بارگاہ میں رجوع کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین۔

جمعرات، 8 اکتوبر، 2026

توبہ (۱)

 

توبہ (۱)

انسان کی زندگی میں ایسے لمحات ضرور آتے ہیں جب اسے اپنے گزرے ہوئے راستوں پر نظر ڈال کر احساس ہوتا ہے کہ کچھ قدم  ایسے بھی اٹھے جنہیں نہیں اٹھا نا چاہیے تھا ، کچھ الفاظ ایسے کہے جن سے کسی کا دل دکھا اور کچھ فیصلے ایسے بھی ہوئے جنہوں نے دل  کے سکون کو چھین لیا ۔یہی احساس اگر انسان کو اللہ تعالی کی طرف واپس لے آئے تو اللہ تعالی اس کے لیے رحمت کا دروازہ کھول دیتاہے ۔اللہ تعالی نے انسا ن کو اس کی لغزشوں کے ساتھ تنہا نہیں چھوڑا بلکہ توبہ کا راستہ کھول کر اسے دوبارہ اپنے رب کی طرف پلٹنے کا موقع عطا فرمایا ہے ۔
توبہ محض زبان سے” استغفراللہ “کہہ دینے کا نام نہیں بلکہ دل کے اندر پیدا ہونے والی وہ کیفیت ہے جو انسان کو گناہ سے نکال کر اطاعت،اصلاح اور اللہ تعالی کی رضا کی طرف لے جاتی ہے ۔ 
لغوی اعتبار سے توبہ کے معنی رجوع کرنے کے ہیں شرعی اعتبار سے توبہ یہ ہے کہ بندہ ان کاموں سے رک جائے جن سے اللہ تعالی نے منع کیا ہے اور اس کے حکم کی خوبیوں کی طرف لوٹ آئے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :” اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ “۔ ( سورۃ النور )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : نوجوان توبہ کرنے والے سے زیادہ پسندیدہ چیز اللہ تعالی کے نزدیک اور کوئی نہیں ۔اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا گناہوں سے توبہ کرنے والا اس شخص کی مانند ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں ۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا توبہ ندامت کا نام ہے ۔اس فرمان میں توبہ کی تمام شرائط آ جاتی ہیں اس لیے کہ توبہ کی ایک شرط  اللہ تعالی کے حکم کے مخالف چلنے پر افسوس کرنا بھی ہے ۔دوسری شرط موجودہ صورت میں غلطی و گناہ نہ کرنے کا عہد کرنا ہے اور تیسری شرط آئندہ گناہ نہ کرنے کا وعدہ کرنا ہے ۔ 
یہ تینوں شرطیں ندامت میں موجود ہیں کیونکہ جب دل میں ندامت آ جاتی ہے تو بقیہ دو شرطیں اس کے ضمن میں آ جاتی ہیں۔ جس طرح  توبہ کی تین شرطیں ہیں اسی طرح ندامت کے بھی تین سبب ہیں ایک یہ کہ عذاب کا خوف دل پر غالب ہو اور دل کے سامنے اپنی بد  اعمالیوں کا نقشہ آ جائے تو انسان میں ندامت کا احساس پیدا ہو ۔دوسرے یہ کہ اللہ تعالی کی نعمت کے حصول کا خیال اس کے دل میں  غلبہ حاصل کر لے اور وہ یہ بھی جان لے کہ نافرمانی کی صورت میں یہ نعمت نہیں ملے گی ۔لہذا بُرے اعمال پر شرمندہ ہو تا کہ یہ نعمت  دوبارہ حاصل کر سکے ۔

بدھ، 7 اکتوبر، 2026

طہارت (۲)

 

طہارت (۲)

دل کی طہارت حاصل کرنے کے لیے بندے کو چاہیے کہ وہ دنیا کی برائیوں میں غور و فکر کرے اور انہیں سمجھے یہ اس لیے کہ دنیا فریب  اور فنا ہونے کا مقام ہے اور مجاہدات کے سوا کسی چیز سے بھی دل دنیا کی محبت سے خالی نہیں ہوتا ۔ اس سلسلہ میں سب سے بڑا مجاہدہ  ظاہری آداب کی حفاظت اور ہر حال میں ان کی بجا آوری ہے ۔
حضرت ابو طاہر حری رحمۃ اللہ علیہ چالیس سال تک مکہ مکرمہ میں رہے مگر آپ نے کبھی  حرم کی حدود میں رفع حاجت نہ کی جب بھی  رفع حاجت کی ضرورت محسوس ہوتی حرم سے باہر تشریف لے جاتے اور فرماتے تھے کہ جس زمین کی نسبت اللہ تعالی نے اپنی طرف  کی ہے میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ وہاں اپنا مستعمل پانی گراؤں۔
حضرت سفیان رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں ہے کہ آپؒ نے جس بیماری میں انتقال فرمایا اس کے دوران ایک دفعہ آپ نے ایک نماز کے لیے ساٹھ مرتبہ طہارت کی اور فرمایا کہ اگر مجھے موت آجائے تو میں پاک تو ہوں۔ 
حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ مسجد میں جانے کے لیے وضو کیا تو ہاتف سے آواز آئی تم نے ظاہر تو پاک کر لیا باطن کی صفائی  کہا ں ہے ؟ آپ فرماتے ہیں کہ میں واپس گیا اور اپنی تمام جائیداد اللہ تعالی کی راہ میں دے دی ۔ اور ایک سال تک اتنے مختصر لباس  میں گزارا جن میں نماز اد ا کرنا جائز ہو ۔ آپؒ فرماتے ہیں کہ میں اسی حالت میں حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں حاضرہوا تو انہوں نے فرمایا کہ جو طہارت تم نے کی ہے وہ کیا ہی اچھی طہارت ہے ۔ اللہ تعالی تمہیں ہمیشہ طہارت میں رکھے ۔اس کے بعد  آپ ؒ کبھی بھی بغیر وضو نہ رہے۔
حضرت ابو یزید رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ جب میرے دل میں دنیا کا خیال تو میں وضو کر لیتا ہوں اور آخرت کا خیال آئے تو غسل کر  لیتا ہوں ۔ اس لیے کہ دنیا جائے گندگی ہے اور اس کا خیال نجس اور عقبی مقام غیبت و آرام ہوتا ہے ۔ مشائخ طریقت مریدوں کو ظاہری اور باطنی طہارت کا حکم دیتے ہیں اگر کوئی شخص عبادت کا ارادہ کرے تو اس کا ظاہر پاک ہونا چاہیے اور اگر اس کے دل میں قرب الہی کی خواہش ہو تو اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کا باطن بھی پاک ہو ۔ ظاہری طہارت پانی سے حاصل  ہوتی ہے اور باطنی طہارت توبہ اور رجوع الی اللہ سے ۔ دل کو گناہوں سے ، زبان کو بُرے کلام سے ، نگاہ کو حرام سے اور اعمال کو ریا سے  پاک رکھنا ہی حقیقی طہارت کی طرف سفر ہے ۔

منگل، 6 اکتوبر، 2026

طہارت (۱)

 

طہارت (۱)

ایمان کے بعد بندے پر سب سے پہلے جو چیز فرض ہے وہ طہارت حاصل کرنا ہے تا کہ نماز ادا کر سکے ۔طہارت سے مراد نجاست اورجنابت سے بدن کو پاک کرنا ہے ۔انسان کی حقیقی خوب صورتی صرف اس کے لباس ، صاف بدن اور ظاہری آراستگی میں نہیں  بلکہ اس دل کی پاکیزگی میں بھی پوشیدہ جس دل میں اللہ تعالی کی محبت ، خوف خدا ، اخلاص اور حسن ِ اخلاق جگہ بناتے ہیں ۔ 
طہارت کی دو قسمیں ہیں ایک ظاہری طہارت اور دوسری باطنی یا دل کی طہارت ۔ جسم کی طہارت کے بغیر نماز درست نہیں ہوتی اسی طرح دل کی طہارت کے بغیر معرفت صحیح نہیں ہوتی ۔ جسمانی طہارت کے لیے صاف پانی کی ضرورت ہوتی ہے اسی  طرح دل کی طہارت کے لیے خالص توحید کا اعتقاد ہونا ضروری ہے جس میں کسی قسم کی آمیزش یا گندگی نہ ہو ۔ 
جب انسان کا ظاہر بھی پاک ہو اور باطن بھی صاف ہو تو اس کی شخصیت عبادت ، اخلاق اور معاملات میں حسین توازن اختیار کر لیتی ہے۔ یہی پاکیزگی انسان کو اللہ تعالی کی رضا کے قریب اور معاشرے کے لیے باعث خیر بناتی ہے ۔ صوفیائے کرام ہمیشہ ظاہری طور پر طہارت سے متصف ہوتے ہیں اور باطنی اعتبار سے توحید سے مزین ہوتے ہیں ۔ 
ارشاد باری تعالی ہے :’’ بیشک اللہ پسند کرتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتا ہے ستھروں کو ‘‘۔ فرمان ِ مصطفی ﷺ ہے : ہمیشہ با وضو رہو دونوں محافظ فرشتے تمہیں دوست رکھیں گے ۔ 
جو شخص ہمیشہ ظاہری طہارت سے رہتا ہے اسے فرشتے دوست رکھتے ہیں اور جو اپنے باطن کو توحید سے آراستہ کر لیتا ہے اسے اللہ تعالی  اپنادوست بنا لیتا ہے ۔ 
ضرورت اس بات کی ہے کہ ظاہری اور باطنی طہارت دونوں ایک ساتھ چلیں ۔جب بندہ ہاتھ دھوئے تو دل سے دنیا کی محبت بھی دھو ڈالے ۔جب منہ میں پانی ڈالے تو اسے چاہیے کہ زبان کو غیر کے ذکر سے فارغ کر دے ۔ جب ناک میں پانی ڈالے تو آئندہ کے لیے شہوت کی بو بھی نہ سونگھنے کا عہد کرے ، جب چہرے کودھوئے تو تمام مالوفات کو بھی نکال دے اور اپنی توجہ حق کی طرف مبذول کر  لے ، جب مسح کرے تو اپنے تمام امور اللہ تعالی کے سُپرد کر دے اور جب پاؤں دھوئے تو اللہ تعالی کے حکم کے سوا کسی چیز پر نہ ٹھہرنےکا عہد کرے تا کہ بندے کو ظاہری اور باطنی دونوں عبادتیں حاصل ہو ں ۔

دعوت و تبلیغ کے اصول

  دعوت و تبلیغ کے اصول  سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں (۱) انسان کے دل میں حق کی جستجو فطری طور پر موجود ہے مگر اس جستجو کو صحیح سمت دینے کے لیے ...