اتوار، 21 جولائی، 2024

Surah Ta-Ha (سُوۡرَةُ طٰه) Ayat 133-135 Part-03.کیا ہم ایمان باللہ کا مط...

ورفعنا لک ذکرک(۱)

 

ورفعنا لک ذکرک(۱)

اللہ تعالی نے انسانوں کی راہنمائی کے لیے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علیہم السلام مبعوث فرمائے۔ سارے انبیاء کرام بہت زیادہ شان و عظمت والے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض پر فضیلت بخشی۔
 ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’یہ رسول ہیں کہ ہم نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت عطا کی ان میں سے کسی سے اللہ نے کلام فرمایا اور کوئی وہ ہے جسے سب درجوں پر بلند کیا ‘‘۔(سورۃ البقرۃ :۲۵۳)
تمام انبیاء کرام میں سب سے اعلی اور بلند شان و مرتبہ پر فائز نبی کریم رئوف الرحیم کی ذات مبارکہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہم السلام کو صفی اللہ بنایا ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل اللہ بنایا ، حضرت عیسیٰ علیہم السلام کو روح اللہ بنایا ، حضرت موسیٰ علیہم السلام کو کلیم اللہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبیح اللہ بنا کر بھیجا۔ لیکن جب باری آئی امام الانبیاء خطیب الانبیاء نبی آخرالزماںؐکی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنا حبیب بنا کر بھیجا اور یہ اعلان فرمایا کہ ہم نے آپ کا ذکر بلند کر دیا ہے۔
 ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کر دیا ہے ‘‘( سورۃ الم نشرح : ۴)۔
حضور نبی کریم ﷺکی ذکر کی بلندی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ  پر ایمان لانا اور ان کی اطاعت کر نا مخلوق پر لازم قرار دیا۔ اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ایک ہونے کا اقرار کرتا ہے لیکن اس کی عبادت اس وقت تک قبول نہیں جب تک وہ حضور نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس پر ایمان نہ لے آئے اور آپ کی اطاعت نہ کرے۔
 ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ جس نے رسول کی اطاعت کی بیشک اس نے اللہ کی اطاعت کی ‘‘۔ ( سورۃ النساء: ۸۰)
حضور نبی کریم رؤف الرحیم  کے ذکر کی بلندی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ آپ ؐکا بھی ذکر کیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اذان ، اقامت ، نماز ، خطبے اور بہت ساری جگہوں پر اپنے ذکر کے ساتھ آپ کا ذکر فرمایا ہے۔ 
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے اس آیت مبارکہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آپ کے ذکر کی بلندی یہ ہے کہ جب بھی میرا ذکر کیا جائے گا تو میرے ساتھ آپ کابھی  ذ کر کیا جائے گا۔(جامع البیان)
حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کا ذکر دنیا و آخرت میں بلند کیا ، ہر خطیب اور ہر تشہد پڑھنے والا ’’اشھدان الاالہ الا اللہ ‘‘ کے ساتھ اشھد ان محمد رسول اللہ ‘‘ پکارتا ہے

توحید کیا اور کیوں؟ - Shortvideo

ہفتہ، 20 جولائی، 2024

Surah Ta-Ha (سُوۡرَةُ طٰه) Ayat 133-135 Part-02.کیا آج کا مسلمان برائے ن...

Surah Ta-Ha (سُوۡرَةُ طٰه) Ayat 133-135 Part-01.کیا ہمارے دل دنیا کی محب...

ارشادات امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ

 

ارشادات امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ

امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کا شمار تاریخ اسلام کے عظیم رہبروں اور رہنمائوں میں ہوتا ہے۔ہو بھی کیوں نہ۔ آپکی تربیت اس گھرانے میں ہوئی جس جیسا گھرانہ پوری کائنات میں نہ تھا نہ ہے اور نہ ہی ہوگا۔ آپ کے نانا جان امام الانبیاء ہیں ، آپ کے والد گرامی امام الا لیاء ہیں ، آپ کی والدہ ماجدہ سیدہ کائنات ہیں۔ جو ایسے عظیم گھرانے میں پلے بڑھے ہوں اور جن کی تربیت ان عظیم ہستیوں نے کی ہو تو ایسی ہستی کی سیرت و کردار قیامت تک کے آنے والے مسلمانوں کے لیے مشعل راہ اور بہترین نمونہ ہی ہو گی۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے چند اقوال جو ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔آپ فرماتے ہیں۔ 
۱: جس کام کو پورا کرنے کی طاقت نہ ہو اسے اپنے ذمہ مت لو۔ ۲: اپنے فائدے اور اپنی ضروریات کے مطابق خرچ کرو اور اپنے کام سے زیادہ بدلے اور اجر کی کبھی توقع نہ رکھو۔ ۳: جس چیز کو تم نہ سمجھ سکتے ہو اور نہ حاصل کر سکتے ہو اس کے درپَے پہ نہ ہو۔۴: مْروت یہ ہے کہ تم اپنے وعدے کو پورا کرو۔ ۵:جلد بازی حماقت ہے اور یہ انسان کی بد ترین کمزوری ہے۔ صلہ رحمی ایک بڑی نعمت ہے جس میں یہ نہ ہو وہ انسان نہیں۔ ۷: بہترین سکون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر خوش رہو۔ ۸: تین آدمی اللہ تعالی کے پڑوسی ہیں اول وہ جس کو فارغ وقت ملا ہو اور اس نے دو رکعت نفل پڑھے اور اپنے رب سے دعا کا طالب ہوا۔ دوسرا وہ جس نے مفلس ہونے کے باوجود  اپنی کمائی میں کوشش کی اور اپنے عیال کو خرچ بہم پہنچایا اسے رسول کریم ﷺ کی شفاعت نصیب ہو گی اور تیسرا وہ جس نے صرف اللہ تعالیٰ کے لیے دین اسلام قبول کیا اور آخری دم تک اس پر قائم رہا اسے جنت ملے گی۔ ۹: بردباری اور حلم انسان کی سیرت کو آراستہ کرتے ہیں۔ ۱۰: ذلیل اور بری ذہنیت کے لوگوں کی صحبت برائی کا مرکز ہے اور فاسق و فاجر لوگوں کی صحبت خود تمہاری سیرت کو مشکوک بنا دیتی ہے۔ ۱۱: بخیل ہمیشہ ذلیل ہوتا ہے۔ ۱۲: سب سے افضل صلہ رحمی یہ ہے کہ قطع تعلق کرنے والوں سے بھی صلہ رحمی کی جائے۔ ۱۳: امام اس وقت تک امام نہیں جب تک وہ آسمانی کتاب پر عمل نہ کرے۔ سختی کے ساتھ عدل نہ کرے اور انصاف کو دیانت داری کے ساتھ نہ برتے۔ ۱۴: سب سے زیادہ فیاض وہ ہے جو ایسے لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے جن سے اسے کوئی امید یا آسرا نہ ہو۔ ۱۵: بہترین مال وہ ہے جس سے عزت اور آبرو کو محفوظ رکھا جا سکے۔۱۶:تقوٰی اور نیکی سب سے بہتر زاد راہ ہیں۔ (خطبات امام حسین از ابن اثیر)۔

Shortvideo - توحید اور شرک