پیر، 9 مارچ، 2026

یو م الفرقان(1)

 

یو م الفرقان(1)

اسلامی تاریخ میں بعض دن ایسے ہیں جو محض واقعات نہیں بلکہ ایمان ، قربانی اور نصرت الٰہی کے زندہ معجزے ہیں۔ ہجرت کے دوسرے سال سترہ رمضان المبارک کو پیش آنے والی جنگ بدر وہ معرکہ حق تھاجس نے بے سرو سامان مسلمانوں کو دنیا کی نگاہ میں با وقار قوت بنا دیا اور واضح کر دیا کہ کامیابی کا دارومدار تعداد ، اسلحہ یا ظاہری طاقت پر نہیں بلکہ ایمان ، اخلاص اور اللہ تعالیٰ پر کامل یقین پر ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے : اور بیشک مدد کی تھی تمہاری اللہ تعالیٰ نے بدر میں حالانکہ تم با لکل کمزور تھے۔ پس اللہ سے ڈرو تاکہ تم شکر گزار بن جائو۔(سورۃ آل عمران )۔
اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر کے دن کو یوم الفرقان یعنی حق اور باطل کے درمیان فرق کا دن قرار دیا۔ سورۃ الانفال میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے : اور جسے ہم نے اتارااپنے بندہ خاص پر فیصلہ کے دن۔ جس روز آمنے سامنے ہوئے تھے دونوں لشکر۔ اس معرکہ میں مسلمانوں کی تعداد صرف تین سو تیرہ تھی اور 6 زریں ،8 تلواریں ، اونٹ اور2 گھوڑے تھے۔ اسلام کا پرچم حضرت مصعب بن عمیررضی اللہ عنہ، ایک جھنڈا حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ایک جھنڈاحضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو عطا ہوا۔جبکہ کفار مکہ کے پاس ایک ہزار سپاہی ،سو گھوڑے اور چھ سو زریں تھیں۔سترہ رمضان المبارک کو مسلمانوں اورکفار مکہ کے درمیان جنگ کا آغاز ہوا۔ جس میں قریش کی طرف سے عتبہ ، شیبہ اور ولید بن عتبہ میدان میں اترے ان کے مقابلے کے لیے مسلمانوں کی طرف سے حضرت حمزہ ، حضرت علی اور حضرت عبیدہ رضوان اللہ علیہم اجمعین میدان میں اترے اور انہوں نے تینوں کافروں کو واصل جہنم کیا۔ اس کے بعد جنگ کا باقاعدہ آغاز ہوا اوراللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح نصیب فرمائی۔ اس فتح کے بعد مسلمانوں کو تقویت ملی اور ان کے حوصلے بڑھ گئے۔ اور قریش مکہ کا غرور خاک میں مل گیا۔ غزوہ بدر میں یہ بات بھی ثابت ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ کی مدد ہمیشہ حق کے ساتھ ہوتی ہے۔ اس جنگ میں ابو جہل بھی واصل جہنم ہوا۔ رسول کریم ﷺ نے حکم دیا کہ کوئی جاکر ابو جہل کی خبر لائے اس کا کیا انجام ہوا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودگئے تو انہوں نے دیکھا کہ ابو جہل دم توڑ رہا ہے۔ آپ نے اس کا سر کاٹ کر آپ ﷺ کے قدموں میں رکھ دیا۔ حضور ﷺ نے تین مرتبہ فر مایا اے اللہ تیرا شکر ہے۔ اس کے بعد حضور نبی کریم ﷺ سر بسجود ہوئے اور پھر فرمایا کہ ہر امت میں ایک فرعون ہوتا ہے اس امت کا فرعو ن ابو جہل تھا۔

ہفتہ، 7 مارچ، 2026

رحمت، مغفرت اور نجات کا مہینہ

 

رحمت، مغفرت اور نجات کا مہینہ

اللہ تعالی نے امت مسلمہ پر خاص فضل و کرم کیا ہے اور بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جن میں اللہ تعالی کی ایک بہت بڑی نعمت ماہ رمضان کا عطا کرنا بھی ہے ۔ یہ وہ با برکت مہینہ ہے جس میں اللہ تعالی اپنی رحمت ، مغفرت اور جہنم سے نجات کے دروازے کھول دیتا ہے ۔ ہر مسلمان کے لیے اس ماہ مقدس میں سنہری موقع ہے کہ وہ اللہ تعالی کی رحمت ، مغفرت طلب کرے ۔ 
ماہ رمضان کا پہلا عشرہ رحمت ہے ۔حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ماہ رمضان کا پہلا عشرہ رحمت دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے آزادی  کا ہے۔ 
اللہ تعالی کی رحمت بے شمار ہے جس کی کوئی حد نہیں ۔ اللہ تعالی ماہ رمضان میں اپنی خاص نعمتوں کے دروازے کھول دیتا ہے اور نیکی کرنےکا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے ۔اللہ تعالی کی طرف سے در گزر کرنے اور بخشش کی بارش ہوتی ہے ۔ جو مسلمان اس ماہ مقدس میں روزہ رکھ کر عبادت ، توبہ ، استغفار اور نیک اعمال کرنے میں مصروف رہتے ہیں اللہ تعالی کی خاص رحمت کے مستحق ٹھہرتے ہیں ۔
رمضان المبارک کو مغفرت کا مہینہ بھی قرار دیا گیا ہے ۔ ماہ رمضان کا دوسرا عشرہ مغفرت ہے ۔حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو شخص ایمان اور نیک نیتی کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔(بخاری و مسلم )۔
اس ماہ مقدس کی بابرکت ساعتوں سے مستفید ہوتے ہوئے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالی سے اپنے گنا ہوں کی معافی طلب کرے اور
اس بات کا عہد کرے آئندہ وہ گناہوں کے قریب نہیں جائے گا۔ حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے ماہ رمضان کو پایا اور اپنی بخشش نہ کروا سکا اس پر اللہ تعالی کی بھی لعنت اور نبی کریم ﷺ کی بھی لعنت ہے جس پر جبرئیل امین نے امین کہا تھا۔
ماہ رمضان کے آخری عشرہ کو جہنم سے آزادی کا عشرہ قرار دیا گیا ہے اللہ تعالی اپنی رحمت ، فضل اور کریم سے بے شمار لوگوں کو اس ماہ مقدس میں جہنم سے آزادی عطا فرماتا ہے ۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالی ماہ مقدس کی ہر رات میں کئی لوگوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے ۔(ترمذی)۔
ہزار مہینوں سے افضل رات لیلۃ القدر بھی ماہ مقدس کے آخری عشرہ میں ہے ۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ماہ رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں لیلۃ القدر کو تلاش کرو ۔ یہ راتیں اللہ تعالی کے خاص فضل و کریم کو حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں ۔
ہر مسلمان کو چاہیے کہ اس ماہ مقدس کا جتنا ہو سکے ادب و احترام کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ عبادت کرے، توبہ و استغفار کرے اور نیک اعمال کر کے اپنی بخشش کا سامان جمع کرے ۔اللہ تعالی ہم سب کو اس ماہ مقدس کی برکات سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔

جمعہ، 6 مارچ، 2026

روزہ اور تقوی کا حصول(۲)

 

روزہ اور تقوی کا حصول(۲)

تقویٰ کے حصول کے لیے انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگ جائے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اللہ کا رنگ اور اس رنگ سے حسین کس کا رنگ ہے ‘‘۔ ( سورۃ البقرہ )
فرمان مصطفی ﷺ ہے کہ خود کو اللہ تعالیٰ کی صفات کے ساتھ متصف کر لو۔ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے کہ وہ کھانے پینے سے پاک ہے۔بندہ مومن محدود وقت کے لیے ان صفات کو اپنا کر اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگ جاتا ہے۔ روزہ انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتا ہے۔جب بندہ روزے کی حالت میں ہوتا ہے تو وہ اپنی خواہشات کو قربان کر دیتا ہے۔اگر روزہ دار کسی بند کمرے میں ہو اور اس کے سامنے ٹھنڈا پانی پڑا ہو اور پیاس کی شدت بھی ہو لیکن وہ پانی نہیں پیتا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے یہی جذبہ انسان کو دیگر گناہوں سے بچانے کا ذریعہ بنتا ہے۔انسان کے دل میں جب بھی کسی گناہ کا خیال آتا ہے تو اس سے بچتا ہے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔ جس سے اس کے دل میں خشیت الٰہی اور محبت الٰہی پیدا ہوتی ہے اور یہی کیفیت تقویٰ کی بنیاد ہے۔ روزے میں اگرچہ بظاہر دوخواہشات پر پابندی لگائی گئی ہے جو کہ غذا اور جنسی خواہش ہے لیکن اس کی اصل روح یہ ہے کہ انسان ہر اس کام سے باز رہے جس کو شریعت نے منع کیا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے روزے کی حالت میں جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑا وہ جان لے کہ اللہ کو اس بات کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ بھوکا اور پیاسا رہے۔ ( بخاری شریف )
 ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’(یہ) وہ عظیم کتاب ہے جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں ، (یہ) پر ہیز گاروں کے لیے ہدایت ہے ‘‘۔ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور (آخرت کے ) سفر کا سامان کر لو بیشک سب سے بہتر زاد راہ تقویٰ ہے اور اے عقل والو میرا تقوی اختیار کرو ‘‘۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگو ں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ﷺ !لوگوں میں سب سے معزز کون ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا:جو سب سے زیادہ متقی ہے‘‘۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺکو فرماتے ہوئے سنا ہے : اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے سے محبت رکھتا ہے جو متقی ہو ، مستغنی ہو اور گوشہ نشین ہو ‘‘۔
حضرت سمرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :شرافت مال (سے) ہے اور عزت تقوی ( سے ) ہے۔حضرت انس بن مالکؓ سے رویت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا:تقوی عمل کا سردار ہے۔

بدھ، 4 مارچ، 2026

روزہ اور تقویٰ کا حصول(۱)

 

روزہ اور تقویٰ کا حصول(۱)

اسلام میں عبادات محض رسوم کا نام نہیں بلکہ یہ روح کی پاکیزگی اور کردار سازی کا ایک مربوط نظام ہے۔ہر عبادت اپنے دامن میں بے شمار روحانی، معاشرتی اور معاشی فوائد و ثمرات رکھتی ہے۔ان عبادات میں روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس کا بنیادی مقصد انسان میں تقویٰ کی صفت پیدا کرنا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :
اے ایمان والوتم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تا کہ تم متقی بن جائو۔ ( سورۃالبقرہ)
تقویٰ کا مطلب اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل کرنا اور اس کی نافرمانی سے بچنا ہے۔ روزہ انسان کو صبر ، شکر اور ضبط نفس کی تربیت دیتا ہے جو تقویٰ کے حصول کے لیے ضروری ہے۔ انسان کے اندر روحانیت جتنی کمزور ہوتی ہے اتنی ہی تقویٰ کی صلاحیت کم ہوتی جاتی ہے۔ اسلام میں بہیمیت کو ناپسند فرمایا گیا ہے اور زیادہ کھانا پینا بھی بہیمیت کا سبب بنتا ہے۔ بھوک اور پیاس انسان میں حیوانیت کو کم کرتی ہے اور انسان تقویٰ کے راستے پر گامزن ہو جاتا ہے۔ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا : شیطان آدمی کے اندر ایسے ہی رواں دواں رہتا ہے جیسا کہ خون۔اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ بھوک کے ذریعے اس کا راستہ بند کر دے۔نبی کریم ﷺ نے ایسے نوجوانوں کو بھی روزہ رکھنے کی تلقین کی جو شادی کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔بھوک اور پیاس کی وجہ انسان میں بہیمیت کمزور ہوتی ہے اور رات کو تلاوت قرآن پاک سن کر روح کو تازگی ملتی ہے جس کا نتیجہ حصول تقویٰ ہے۔ روزہ انسان کو بْرائیوں سے روکنے کا ذریعہ ہے۔ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا روزہ ڈھال ہے لہذا روزہ دار کو چاہیے کہ وہ فحش گوئی اور بے حیائی سے بچے۔دین اسلام میں حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقو ق العباد کی ادائیگی کی سختی سے تلقین کی گئی ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت نہ کر کے گناہ گار ہو تا ہے اسی طرح حقو ق العباد کی ادائیگی نہ کرنے والا بھی گناہ گار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے امیر لوگوں کے مال میں غرباء کا حق رکھا ہے۔جسے بھوک اور پیاس کا احساس نہ ہو وہ غرباء کی بھوک اور پیاس کا اندازہ کیسے لگا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے روزے فرض کر دیے تا کہ امراء کو غرباء کی بھوک اور پیاس کا احساس ہو۔روزہ غریب اور نادار لوگوں کے دکھوں میں شرکت کا عملی نمونہ ہے۔حضور نبی کریم ﷺنے فرمایا رمضان غمگساری کا مہینہ ہے۔

ہفتہ، 28 فروری، 2026

قرآن مجید ہدایت ، شفاء اور جات کا لازوال سر چشمہ(۲)

 

قرآن مجید ہدایت ، شفاء اور جات کا لازوال سر چشمہ(۲)

 حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے قرآن مجید سے ایک حرف پڑھا اس کے لیے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہے میں یہ نہیں کہتا کہ الٓم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف لام ایک حرف اور میم ایک حرف ہے‘‘۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو قرآن پڑھتا ہے اس کی مہارت رکھتا ہے وہ بزرگ نیکو کار کاتبین کے ساتھ ہے اور جو قرآن پڑھتا ہے اور اس میں اٹکتا ہے اور یہ اس پر دشوار ہے اس کے لیے دو اجر ہیں۔ ( بخاری و مسلم شریف )۔
قیامت کے دن قرآن مجید اپنے پڑھنے والوں کی اللہ کے حضور سفارش کرے گا۔ دنیا میں انسان کے بہت سے رشتے ، عہدے اور سہارے ہوتے ہیں مگر بروز قیامت کوئی بھی کام نہیں آئے گا سوائے ایمان ، اعمال صالح کے۔
رحمت دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ اس کتاب کی وجہ سے کئی قوموں کو رفعت بخشے گا اور کئی کو پست کریگا۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا : قرآن مجید کی تلاوت کرو۔ بیشک یہ قیامت کے دن اپنے ساتھیوں کی شفاعت کرنے والا ہو گا۔ ( مسلم شریف)۔ 
حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’صاحب قرآن سے کہا جائے گا قرآن پڑھتے جائو اور درجات پرچڑھتے جائو اور اس ترتیب سے پڑھو جس طرح دنیا میں پڑھا کرتے تھے ، بیشک تمہارا مقام وہاں ہو گا جہاں پر تمہارا پڑھنا ختم ہو جائے گا ‘‘۔صحابہ کرام ﷺ کا طرہ امتیاز تھا کہ وہ دنیا میں ایسے زندگی بسر کرتے تھے گویا کہ جیتا جاگتا قرآن ہوں وہ قرآنی آیات میں غورو فکر کرتے تھے اور حقیقی معنوں میں اس کی تلاوت کرتے تھے۔اس کے مطابق اپنی زندگی بسر کرتے تھے ، اور اس ہی کی طرف دعوت دیتے تھے ،عذاب کی آیتوں سے ان کے دل دہل جاتے تھے ، اور رحمت کی آیتوں سے ان کے دل روشن اور معمور ہو جاتے تھے۔ 
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قدم قدم پر قرآن مجید سے ہدایت حاصل کرتے تھے اس لیے وہ دنیا میں باعزت ہوئے اور دنیا کی سیادت کے حقداربنے۔ بلند درجات پر فائز ہوئے اور دونوں جہانوں کی کامیابیوں سے سر فراز ہو ئے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کوسکھائے‘‘۔
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ جو شخص اس نعمت کی قد ر کرتا ہے۔ اس کے ساتھ اپنا تعلق مضبوطی کے ساتھ جوڑ لیتا ہے اور اپنی زندگی کو اس کے احکامات کے مطابق ڈھال لیتا ہے وہ دنیا میں بھی کامیاب ہو جاتا ہے اور آخرت میں بھی سْر خرو ہو گا۔ ہمیں چاہیے ہم قرآن مجید کو اپنے دلوں میں ، اپنے کردار میں اور اپنے معاملات میں جگہ دیں۔ یہی قرآن کا حق ہے اور یہی ہماری نجات کا راستہ ہے۔

جمعہ، 27 فروری، 2026

تلاوت قرآن دلوں کی زندگی اور روح کی غذا(۱)

 

تلاوت قرآن دلوں کی زندگی اور روح کی غذا(۱)

سورۃ بنی اسرائیل میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’نماز قائم رکھو سورج ڈھلنے سے رات کی اندھیری تک اور صبح کا قرآن بیشک صبح کے قرآن میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں ‘‘۔ روایات میں ہے کہ صبح سویرے کا وقت ایک خصوصی وقت ہے۔ اس وقت فرشتوں کا زیادہ بڑا اجتماع ہوتا ہے۔ اس طرح فرشتوں کی زیادہ بڑی تعداد نمازی کی قرأت کی گواہ بن جاتی ہے۔ صبح کے وقت فرشتوں کا زیادہ بڑا اجتماع کوئی پر اسرار چیز نہیں۔ فرشتوں کا خاص کام یہ ہے کہ وہ انسان کے اندر ربانی کیفیات پیدا کریں۔ صبح کا پر سکون وقت اسی ملکوتی عمل میں خصوصی طور پر مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس مسلمان کی مثال جو قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے نارنگی جیسی ہے جس کی مہک بھی اچھی اور ذائقہ بھی اچھا۔ اس مسلمان کی مثال جو قرآن مجید کی تلاوت نہیں کرتا کھجور جیسی ہے اس کی مہک تو نہیں ہے مگر ذائقہ شیریں ہے۔ اس منافق کی مثال جو قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے پودینہ جیسی ہے اس کی مہک اچھی ہے لیکن ذائقہ کڑوا ہے اور اس منافق کی مثال جو قرآن مجید کی تلاوت نہیں کرتا ہے اس کی مثال تمے جیسی ہے جس کی کوئی مہک نہیں اور ذائقہ نہایت کڑواہے ( بخاری و مسلم شریف )۔
قرآن مجید کی تلاوت کرنے سے بندہ شیطانی وسوسوں سے محفوظ رہتا ہے۔ اور گھر کو رحمت الٰہی اور برکت سے بھر دیتا ہے۔حضور نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا کہ جس گھر میں سورۃ البقرۃ کی تلاوت کی جائے اس گھر میں شیطان داخل نہیں ہوتا۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کہ حسد نہیں ہے مگر دو آدمیوں کے متعلق۔ایک تو وہ جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن عطا فرمایا پس وہ اس کے ساتھ رات کے حصوں میں اور دن کی طرفوں میں قیام کرتا ہے اور ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا ہے تو وہ اسے رات دن اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔ (بخاری و مسلم)۔
تلاوت قرآن پاک باوضو ہو کر ، ادب و احترام کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر اور حتی الامکان سمجھنے کی کوشش کے ساتھ افضل ہے۔ارشادباری تعالیٰ ہے : 
’’اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو ‘‘۔ ( سورۃ مزمل )۔
تلاوت قرآن مجید ایک لازوال نعمت ہے جسے نصیب ہو جائے وہ حقیقی معنوں میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ یہ دلوں کو زندہ ، روح کو مطمئن ، اور زندگی کو بامقصد بنا دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں کثرت کے ساتھ تلاوت قرآن پاک کرنے ، اسے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

جمعرات، 26 فروری، 2026

قرآن ہدایت ، شفاءاور نجات کا لازوال سر چشمہ(1)

 

قرآن ہدایت ، شفاءاور نجات کا لازوال سر چشمہ(1)

قرآن مجید وہ عظیم الشان کتاب ہے جو اللہ جل شانہ نے انسانیت کی رہنمائی کے لیے نبی آخرالزماں نبی کریم روف الرحیمﷺ پر نازل فرمائی۔یہ کتاب نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہدایت ، نور اور رحمت کا پیغام ہے بلکہ یہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسانوں کو زندگی کے ہر موڑ پر درست راستہ دکھاتا ہے۔قرآن مجید مردہ لوگوں کے لیے آب حیات اور پڑ مردہ دلوں کے لیے طمانیت بخش ہے۔یہ دلوں کے لیے شفا ہے۔انسان جتنی مرضی دنیاوی آسائشیں حاصل کر لے اگر اس کا دل بے سکون ہے تو زندگی بوجھ بن جاتی ہے۔قرآن مجید کی تلاوت اس پر غورو فکر اور اس کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے سے دلوں کو سکون اور قرار ملتا ہے۔حسد ، کینہ ، لالچ اور خوف و مایوسی جیسی بیماریوں کا حقیقی علاج قرآن مجید میں موجود ہے۔یہی وجہ ہے جو لوگ قرآن مجید سے جڑ جاتے ہیں ان کے دلوں میں ایک خاص طمانیت پیدا ہوتی ہے جو دنیا کی کسی دولت سے حاصل نہیں ہو سکتی۔ قرآن مجید لوگوں کو ان کے رب کے حکم سے تاریکی سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے اور صراط مستقیم پر گامزن کرتا ہے۔ جس کا قول قرآن مجید کے مطابق ہے وہ صادق ہے اور جو اس کے احکامات پر عمل پیرا ہوتا ہے وہ کامیاب ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ لوگو ! تمہارے پاس رب کی طرف سے نصیحت آ گئی ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو دلوں کے امراض کی شفاءہے اور جو اسے قبول کر لیں ان کے لیے رہنمائی اور رحمت ہے۔اے نبیﷺ کہہ دو کہ یہ اللہ کا فضل اور مہربانی ہے کہ یہ خبر اس نے بھیجی۔ اس پر تو لوگوں کو خوش ہونا چاہیے‘‘۔سورۃ اسراءمیں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ’’ یقینا یہ قرآن وہ راستہ دکھاتا ہے جو بہت ہی سیدھا ہے اور ایمان والوں کو جو نیک اعمال کرتے ہیں اس بات کی خوشخبری دیتا ہے کہ ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے ‘‘۔دنیا میں جب فکری، اخلاقی اور روحانی تاریکیاں چھا جائیں تو قرآن ہی وہ چراغ ہے جو دل و دماغ کو منور کرتا ہے۔ یہ انسان کو یہ شعور دیتا ہے کہ وہ محض ایک جسم نہیں بلکہ ایک ذمہ دار روح ہے جس نے اپنے رب کے حضور جواب دہ ہونا ہے۔قرآن مجید انسان کو اس کی اصل پہچان یاد دلاتا ہے اوراسے مقصد حیات سے آشنا کرتاہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : بیشک جو اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور اس مال سے خرچ کرتے ہیں جو ہم نے ان کو دیا رازداری سے اور اعلانیہ وہ ایسی تجارت کے امید وار ہیں جو ہرگز نقصان والی نہیں۔ (سورۃ فاطر)۔

یو م الفرقان(1)

  یو م الفرقان(1) اسلامی تاریخ میں بعض دن ایسے ہیں جو محض واقعات نہیں بلکہ ایمان ، قربانی اور نصرت الٰہی کے زندہ معجزے ہیں۔ ہجرت کے دوسرے سا...