اتوار، 5 اپریل، 2026

محنت با مقصد یا بے مقصد

 

 محنت با مقصد یا بے مقصد

محنت محنت ہے، لیکن ہر محنت کامیابی اور کامرانی کی دلیل نہیں۔ کامیابی صرف اور صرف اسی محنت کے نتیجے میں ملتی ہے جسے کسی مفید اور کارآمد کام میں صرف کیا جائے۔ محنت کے متعلق یہ سوچنا ہر قدم پر ضروری ہے کہ یہ محنت با مقصد ہے یا بے مقصد۔ بے مقصد محنت ایک حیوان تو کر سکتا ہے کیونکہ وہ عقل و شعور اور قوت فیصلہ سے عاری ہے لیکن ایک انسان کی فہم و ادراک اور شرف انسانیت اسے ایسی محنت سے ضرور روکے گی جو بے مقصد ہو۔ 
ارشاد باری تعالیٰ ہے : اور جو بھی اسلام کے سوا کوئی اور دین تلاش کرے تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گا۔ ( سورۃ آل عمران )۔
ایک شخص بت پرستی کر رہا ہو یا اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب پر ہے اور وہ جتنی مرضی عبادت کر لے اور اپنی تمام تر محنت اس پہ لگا دے لیکن جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہو گا تو اس کی کوئی محنت اس کے کسی کام نہیں آئے گی۔ اس کی تمام ریاضتیں راکھ کا ڈھیر بن جائیں گی اور اس کا نامہ اعمال نیکیوں سے مکمل خالی ہو گا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے : اور وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا۔ اس کے سب اعمال ضائع ہو گئے انہیں اسی کا بدلہ ملے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔ ( سورۃ النحل )۔
چونکہ وہ اپنے اعمال سے بھی کفر اور شرک ہی کرتے تھے اس لیے ان کے اعمال ان کی نجات کا ذریعہ نہیں بنیں گے۔ مفید کام چھوڑ کر غیر مفید کام میں کوشش کر نا نہ صرف دانش مندی کے خلاف ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں اور صلاحیتوں کا انکار بھی ہے۔
 دین کا مغز اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور نبی کریمﷺ تک جتنے بھی انبیاء  مبعوث فرمائے سب نے صرف اور صرف ایک اللہ کی عبادت کا حکم دیا اور لوگوں کو کفر وشرک سے منع کیا۔
 کوئی شخص اپنی ساری محنتیں اور جملہ کاوشیں ان مباحث میں صرف کر دے جس کا قیامت کے دن انسان سے سوال ہی نہیں ہو گا اور جو منصوص نہیں ہیں بلکہ اپنے استدلال پر مبنی ہیں تو اس کی محنت کا مصرف بھی بے محنت اور بے نتیجہ ہے۔ اس لیے کسی بھی کام میں محنت اور وقت صرف کرنے سے پہلے اس میں اللہ تعالیٰ کی رضا دیکھنی چاہیے اور محنت کے مقاصد کو مد نظر رکھنا چاہیے کہ کیا وہ جو محنت کر رہا ہے یہ با مقصد ہے یاپھر بے مقصد۔

ہفتہ، 4 اپریل، 2026

نیت کی اصلاح(۲)

 

 نیت کی اصلاح(۲)

حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : خبر دار تمہارے جسم میں ایک ٹکڑا ہے اگر وہ درست ہو جائے تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے اور اگر وہ بگڑ جائے تو پورا جسم بگڑ جاتا ہے اور وہ دل ہے۔ نبی کریمﷺ کے اس فرمان سے واضح ہو جاتا ہے کہ دل انسان کے کردار اور اعمال کا مرکز ہے جب دل پاک ہوجاتا ہے تو نیت خود ہی درست ہو جاتی ہے اور جب نیت درست ہو جائے تو عمل میں اخلاص پیدا ہو جاتا ہے۔آج کے پْر فتن دور میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اعمال کی ظاہری شکل پر زیادہ توجہ دیتے ہیں اور نیت کی اصلاح کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ہم نماز پڑھتے ہیں ، روزہ رکھتے ہیں ، حج کرتے ہیں اور صدقہ و خیرات کرتے ہیں مگر اکثر اوقات ان اعمال کے پیچھے دکھاوا ، شہرت یا لوگوں کی تعریف حاصل کرنے کی خواہش ہوتی ہے اور یہ ریاکاری ہے۔اگر کوئی عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے نہ کیا جائے بلکہ دکھاوے کے لیے کیا جا ئے تو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک شرک قرار پاتا ہے۔ 
حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص لوگوں کے دکھلاوے کی خاطر نماز پڑھے،روزے رکھے یا صدقہ کرے تو وہ شرک کا مرتکب ہے۔ ( مسند احمد )۔
نیت کی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے ہر عمل سے پہلے خود سے سوال کرے کہ کیا وہ یہ عمل خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کر رہا ہے یا دکھاوے کے لیے؟۔  اگر جواب ملے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے ہے تو وہ عمل قیمتی ہے۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ تمہاری شکل و صورت اور مال و دولت کو نہیں دیکھتابلکہ وہ تو تمہارے اعمال اور دلوں کو دیکھتا ہے۔ ( مسلم شریف)۔ 
نبی کریم ﷺنے فرمایا جب کوئی نیک عمل کرنے کاارادہ کرے تو اسے ایک نیکی کا ثواب مل جاتا ہے۔ اور اگر نیت کے بعد اس عمل کو کر بھی لے تو اسے کم از کم دس گناثواب ملتا ہے اور بعض صورتوں میں سات سوگناتک ثواب ملتا ہے۔ (بخاری )۔
انسان کو اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے۔ اسے چاہیے کہ وہ روزانہ اپنے اعمال اور نیتوں کا جائزہ لے۔اگر کہیں ریاکاری یا دنیاوی مفاد کی ملاوٹ نظر آئے تو اسے چاہیے کہ اسی وقت اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ و استغفار کرے اور اپنی نیت کی اصلاح کرے یہی عمل انسان میں روحانیت پیدا کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دلوں کو پاک کرنے ، نیتوں کو خالص بنانے اور ہر عمل کو اپنی رضا کے لیے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

جمعہ، 3 اپریل، 2026

نیت کی اصلاح(۱)

 

نیت کی اصلاح(۱)

جمعرات، 2 اپریل، 2026

دل کی بیماریاں اور ان کا علاج(۲)

 

 دل کی بیماریاں اور ان کا علاج(۲)

سورۃ المؤمن میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :’’ جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں بہت جلد جہنم میں ذلیل ہو کر داخل ہوں گے۔حضور نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا جس کے دل میں رائی کے برابر بھی تکبر ہو گا وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ ( مسلم شریف )۔
تکبر کا علاج عاجزی و انکساری ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی حقیقت کو پہچانے کہ وہ مٹی سے پیدا ہوا ہے اور ایک دن اسی مٹی میں دفن ہو جانا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں ‘‘۔جب انسان میں عاجزی پیدا ہوتی ہے تو تکبر خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔ بغض و کینہ دل کی بیماریوں میں سے ہیں۔یہ انسان کے اندر نفرت اور دشمنی کو بڑھاوا دیتے ہیں جس سے معاشرے میں انتشار پیداہوتا ہے۔ 
 ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بغض اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے سے اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔(سورۃ المائدہ )۔
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سرور کائناتﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شب برات کی رات اللہ تعالیٰ تمام بخشش مانگنے والوں کو بخش دیتا ہے اور رحمت طلب کرنے والوں پر رحمت نازل فرماتا ہے لیکن جو لوگ کینہ رکھتے ہیں ان کے معاملے کو موخر اور ملتوی فرما دیتا ہے۔ ( کنزالعمال )۔ 
بغض و کینہ سے بچنے کا بہترین راستہ یہی ہے کہ انسان معاف کرنا سیکھے ، در گزر کرے اور دل کو صاف رکھے۔اس معاملے میں نبی کریم ﷺ کی سیرت ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے حضور نبی کریمﷺ عفو در گزر کرنے والے تھے۔ ان تمام بیماریوں سے بچنے کے بنیادی اصول یہ ہیں کہ انسان کثرت سے ذکر الٰہی کرے کیونکہ دلوں کا سکون اور پاکیزگی اللہ تعالیٰ کے ذکر سے حاصل ہوتی ہے۔ قرآن مجید کی تلاوت کریں کیونکہ قرآن مجید دل کی بیماریوں کے لیے شفاء ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں ہدایت عطافرمائے اور ہمارے دلوں کی اصلاح فرمائے۔ نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھیں اور اپنے نفس کا محاسبہ کریں۔اپنے نفس کا محاسبہ کرنا دل کی اصلاح کا بہترین ذریعہ ہے۔انسان کو چاہیے کہ اپنے اندر جھانکے اور اپنی اصلاح کرے اور خود کو تکبر ، حسداور بغض و کینہ جیسی خطرناک بیماریوں سے بچائے۔

بدھ، 1 اپریل، 2026

دل کی بیماریاں اور ان کا علاج(۱)

 

دل کی بیماریاں اور ان کا علاج(۱)

دل انسانی وجود کا وہ مرکز ہے جہاں سے نیت ، ارادہ ، احساس اور عمل کی سمت متعین ہوتی ہے۔ اگر دل پاکیزہ ہو تو انسان کی ظاہری زندگی بھی سنور جاتی ہے اور اگر دل بیمار ہو جائے تو اس کے اثرات انسان کے کردار ، اخلاق اور معاشرتی رویوں میں نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ قرآن و حدیث میں دل کی اصلاح پر واضح احکامات موجود ہیں کیونکہ اصل کامیابی کا دارو مدار اسی پر ہے۔ حسد ، تکبر اور بغض وہ باطنی بیماریاں ہیں جو دل کو کھوکھلا کر دیتی ہیں اور انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کر دیتی ہیں۔ قیامت کے دن وہ کامیاب ہو گا جو پاکیزہ دل لے کر آئے گا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ مگر وہ جو اللہ کے حضور حاضر ہوا سلامت دل لے کر ‘‘۔ ( سورۃ الشعراء )۔
حسد ایک ایسی بیماری ہے جس میں انسان دوسروں کے پاس اللہ تعالیٰ کی نعمتیں دیکھ کر جلتا ہے وہ کہتا ہے یہ چیز اس کے پاس کیوں ہے میرے پاس ہونی چاہیے تھی۔حضور نبی کریم ﷺ نے سختی کے ساتھ حسد سے بچنے کی تلقین فرمائی اور اسے ہلاک کرنے والی چیز قرار دیا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا حسد سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا تا ہے جیسے آگ لکڑی کو۔( ابو دائود)۔
حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : اے مسلمانو یہ خیال رکھنا کہ تم میں وہ چیز پیدا نہ ہو جس کی وجہ سے پہلی امتیں تباہ ہو گئیں اور وہ چیز حسد اور عداوت ہے۔( کنزل العمال )۔
اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن مجید میں حاسدین کے حسد سے پناہ مانگنے کا حکم فرمایا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :(تم فرمائو پناہ لیتا ہوں ) حسد والے کے شر سے جب وہ مجھ سے جلے۔(سورۃ الفلق )۔
حسد سے بچنے کا علاج یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہیں اور اس کی تقسیم پر راضی ہو جائیں اور جو کچھ اس نے ہمیں عطا کیا ہے اس پر مالک کائنات کا شکر ادا کریں۔تکبر بھی دل کی ایک خطر ناک بیماری ہے یہ وہ صفت ہے جس کی وجہ سے شیطان اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے مردود قرار پایا اور اسے جنت سے نکال دیا گیا جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم فرمایا تو شیطان نے سجدہ نہ کیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : 
’’ سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔ منکر ہوا اور غرور کیا اور کافر ہو گیا ‘‘۔ ( سورۃ البقرہ )۔
سورۃ النحل میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تکبر کرنے والے ناپسند ہیں۔ ’’ بیشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا‘‘۔
۔۔۔۔۔۔۔۔

منگل، 31 مارچ، 2026

جلد سونے اور جاگنے کے فوائد و ثمرات

 

 جلد سونے اور جاگنے کے فوائد و ثمرات

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو زندگی کے ہر چھوٹے اور بڑے پہلو سے متعلق رہنمائی کرتا ہے۔ انسان کی بنیادی ضروریات جن پر مدار حیات اور معیار عافیت قائم ہے ، ان میں سے ایک بنیادی ضرورت نیند بھی ہے۔محققین نے اس بات کی تحقیق کی ہے کہ کم سونا یا زیادہ سونا موت کو وقت سے پہلے دعوت دینا ہے۔ اسی طرح رات کو دیر سے سونا اور صبح دیر سے اٹھنا بے شمار بیماریوں کا سبب بنتاہے۔ جس طرح زندگی میں کھانا پینا اور سانس لینا ضروری ہے اسی طرح سونا اور آرام کرنا بھی ذہنی و جسمانی صحت کے لیے اہم ہے۔
قرآن مجید میں متعدد بار اس نعمت کا ذکر آیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ اور ہم نے بنا دیا ہے تمہار ی نیند کو باعث آرام ‘‘ ایک اور جگہ ارشاد فرمایا’’ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ اس میں آرام کرو اور دن کو ہر چیز دکھانے والا بنایا ‘‘۔پر سکون نیند کے لیے شور شرابہ کا نہ ہو نا رات کو ہی میسر ہے۔ رات کے وقت آرام کرنا اور سونا دن کے مقابلے میں بہت زیادہ فائدہ مند ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور اس نے اپنی رحمت سے تمہارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ رات میں آرام کرو اور دن میں اس کا فضل ڈھونڈو تا کہ تم شکر گزار بنو ‘‘۔ قرآن مجید کی روشنی میں دن کو کمائی کے لیے اور رات کو آرام کے لیے مقرر کر نا چاہیے۔
بخاری شریف میں روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نماز عشا ء سے پہلے سونے کو اور بعد میں بات کرنے کو مکروہ (ناپسندیدہ ) خیال کرتے تھے۔ رات کو جلد سونا ، تہجد میں اٹھنا ، نماز فجر سے پہلے تھوڑا آرام کر لینا پھر فجر کی نماز ادا کرنا اس کے بعد ذکر و اذکار اور تلاوت کر نا پھر اشراق کے نوافل ادا کرنے کے بعد کام کاج میں مشغول ہو نا نبی اکرمﷺ کے معمول مبارکہ میں شامل تھا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی شخص سو جاتا ہے تو شیطان اس کے سر کے پیچھے گدی میں تین گرہ لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر یہ پھوک لگا دیتا ہے کہ سو جا ابھی رات بہت باقی ہے۔ پڑا سوتا رہ۔ پھر جب وہ شخص جاگ کر اللہ کا ذکر کرے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے پھر جب وضو کرتا ہے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے۔ پھر جب نماز پڑھے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے۔ اس طرح صبح جاگنے سے آدمی چا ک وچو بند اور ہشاش بشاش ہو جا تا ہے۔ ورنہ سست اور بد دل بوجھل طبیعت والا بن جاتا ہے اور اسے بھلائی نہیں ملی ہوتی ‘‘۔

پیر، 30 مارچ، 2026

شکر کی فضیلت و اہمیت(۲)

 

شکر کی فضیلت و اہمیت(۲)

حضرت نعمان بن بشیر سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو تھوڑی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ زیادہ نعمتوں کا بھی شکر ادا نہیں کرتا اور جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالی کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا اور اللہ تعالی کی نعمتوں کو بیان کرنا شکر ہے اور اسے بیان نہ کرنا نا شکری ہے ۔( شعب الایمان )۔ 
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے آپ ؓ کو ہر نماز کے بعد یہ دعا مانگنے کی وصیت فرمائی:” اللھم اعنی علی ذکرک و شکرک و حسن عبادتک “ ۔اے اللہ تو اپنے ذکر ، اپنے شکر اور احسن طریقے سے اپنی عبادت کرنے میں میری مدد فرما ۔ ( ابو داؤد )۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ میرے بستر پر تشریف لائے اور فرمایا اے عائشہ اگر مجھے اجازت دو تو میں اللہ تعالی کی عبادت کر لوں تو میں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ آپ ضرور عبادت فرمائیں ۔ آپ ﷺ نے وضو فرمایا نماز شروع فرمائی اور رونے لگے یہاں تک کہ آپ کے آنسو سینہ مبارک تک بہنے لگے یہاں تک کہ نماز پڑھتے فجر کا وقت ہو گیا ۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسو ل اللہ ﷺ آپ تو بخشے ہوئے ہیں اللہ تعالی کے حبیب ہیں تو پھراتنی گریہ و زاری کیوں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اے عائشہ کیا میں اللہ تعالی کا شکر گزار بندہ نہ بنو ں ۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کھا کر شکر ادا کرنے والا روزہ دار اور صابر کے مقام پر فائز ہو جاتا ہے روز حشر حکم ہو گا شکر اداکرنے والے کھڑے ہوجائیں ۔ اس وقت صرف وہی لوگ کھڑے ہوں گے جنہوں نے ہر حال میں اللہ تعالی کا شکر ادا کیا ہو گا ۔ شکر انسان کی زندگی میں سکون اور اطمینان پیدا کرتا ہے ۔ جو شخص اللہ کی دی ہوئی نعمتوں پر نظر رکھتا ہے وہ کبھی مایوس نہیں ہوتا ۔
آج کے دور میں بے چینی ، حسد اور نا شکری عام ہو چکی ہے کیونکہ انسان دوسروں کی نعمتوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور جو نعمتیں اللہ تعالی نے اسے عطا کی ہیں وہ بھول جاتا ہے ۔اگر وہ شکر کی عادت بنا لے تو اللہ تعالی اسے مزید نعمتوں سے نواز دے گا ۔ 
شکر انسان کو تکبر سے بچاتا ہے جب انسان یہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ بھی اس کے پاس موجود ہے وہ اللہ تعالی کا عطا کردہ ہے اور عاجزی اختیار کرتا ہے تو اس میں تکبر پیدا نہیں ہوتا ۔

محنت با مقصد یا بے مقصد

   محنت با مقصد یا بے مقصد محنت محنت ہے، لیکن ہر محنت کامیابی اور کامرانی کی دلیل نہیں۔ کامیابی صرف اور صرف اسی محنت کے نتیجے میں ملتی ہے جس...