ہفتہ، 9 مئی، 2026

حج کی فضیلت و اہمیت

 

حج کی فضیلت و اہمیت

اسلام انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر پہلو کی رہنمائی کرتا ہے۔ دین اسلام کے پانچ بنیادی ارکان ہیں جن پر ایک مسلمان کی عملی زندگی کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔ ان ارکان میں سے ایک عظیم رکن حج بھی ہے۔حج اپنی روحانی ، اخلاقی اور اجتماعی اہمیت کے اعتبار سے بے مثال اہمیت رکھتا ہے۔ حج بندہ مومن کے لیے اپنے رب کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرنے ، گناہوں سے پاک ہونے اور اخوت اسلامی کے عملی مظاہرے کا ایک جامع ذریعہ ہے۔حج بدنی عبادت کے ساتھ ساتھ مالی عبادت بھی ہے۔ حج زندگی میں ایک مر تبہ ہر صاحب استطاعت مسلمان پر فرض ہے۔
 ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس کی استطاعت رکھیں اور جو منکر ہو تو اللہ سارے جہان سے بے پرواہ ہے‘‘۔  ( سورۃ اٰل عمران )۔
حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے اللہ تعالیٰ کی خاطر حج کیا نہ کوئی فحش بات کی اور نہ گناہ کا مرتکب ہوا وہ گناہوں سے اس طرح پاک لوٹے گا جس طرح اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوا تھا۔( بخاری )۔
الترغیب التر ہیب میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : حج کرنے والے کی مغفرت کر دی جاتی ہے اور وہ جس کے لیے دعا کرے اس کی بھی مغفرت کر دی جاتی ہے۔ 
ایک مقام پر نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ایک عمرہ سے دوسرے عمرہ تک اس کے درمیان گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کا بدلہ تو صرف جنت ہے ہے۔ (الترغیب التر ہیب )۔
جو لوگ صاحب استطاعت ہونے کے باوجود حج نہیں کرتے ان کے لیے حضور نبی کریم ﷺ نے سخت وعید فرمائی ہے۔ الترغیب التر ہیب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کے پاس سفر کرنے کا خرچ بھی ہو اور سواری بھی ہو جس کے ذریعے وہ بیت اللہ تک پہنچ سکے اس کے باوجود وہ حج نہ کرے تو اس کا اس حالت میں مرنا یا یہودی و نصرانی ہوکر مرنا برابر ہے اور یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بیت اللہ کا حج کرنا ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا حق یے جو اس کی استطاعت رکھتا ہو۔(الترغیب التر ہیب )۔
حج کا عملی تقاضا یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت و فرمانبردای کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے، گناہوں سے مکمل اجتناب کرے ، حقوق العباد کا خاص خیال رکھے ، سچائی ، دیانت داری اور انصاف کو اپنائے۔

جمعہ، 8 مئی، 2026

اسلامی معاشرت کے اصول (۲)

 

اسلامی معاشرت کے اصول (۲)

انسانی معاشرے میں پائی جانے والی ایک برائی بغض بھی ہے۔ بغض دل کی وہ بیماری ہے جو انسان کسی عداوت کی وجہ سے دوسرے کے خلاف اپنے دل میں رکھتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر سوموار اور جمعرات کو جنت کے دروازے کھولے جاتے  ہیں۔ مشرک کے علاوہ ہر ایک کی بخشش کر دی جاتی ہے سوائے ان دو آدمیوں کے جن کے درمیان کوئی بغض ہو۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا جاتا ہے جب تک یہ صلح نہ کر لیتے ان کا معاملہ رہنے دو اور یہ تین مرتبہ دہرایا جاتا ہے۔ (مسلم )
اس کے بعد مسلمانوں کو ایک دوسرے سے منہ موڑنے سے منع فرمایا گیا ہے۔ نبی رحمت ﷺ نے ارشادفرمایا :کسی مسلمان کے لیے روا نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی کرے۔ وہ دونوں ملیں تو ایک دوسرے سے منہ پھیر لیں۔ ان میں سے بہتر وہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔ (بخاری )۔ ایک روایت میں ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو روا نہیں ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی رکھے۔جس نے تین دن سے زیادہ قطع کلامی رکھی اور وہ اسی حال میں مر گیا تو جہنم میں جائے گا۔ ( دائود )۔
نبی کریم ﷺ نے بیع پر بیع کرنے سے منع فرمایا ہے۔ مثلا خریدار کسی سے کوئی چیز ایک سو روپے کی خرید رہا ہے تو یہ ان کا معاملہ ختم ہونے سے پہلے یا بعد میں کہے کہ میں یہ چیز اس سے کم قیمت میں دیتا ہے یا کوئی بیچنے والے کو کہے کہ میں اس سے زیادہ قیمت دیتا ہوں۔ اسلام میں یہ دونوں طریقے جائز نہیں۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور نہ اپنے بھائی کی شادی کے پیغام پر شادی کا پیغام  بھیجے مگر یہ کہ دوسرا شخص اسے اجازت دے دے۔ ( مسلم )۔
آخر میں حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ جیسے ایک بھائی اپنے بھائی کا خیر خواہ ہوتا ہے اسی طرح ہر مسلمان کو دوسرے مسلمان کا خیر خواہ ہونا چاہیے۔مسلمان اپنے مسلمان بھائی پر ظلم نہ کرے اور جب ضروت ہو اس کا ساتھ نہ چھوڑے اور اسے نفرت کی نظر سے نہ دیکھے۔ اسلامی معاشرت کے اصول ایک مکمل اور متوازن نظام پیش کرتے ہیں جو انسا ن کو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کی راہ دکھاتے ہیں۔

جمعرات، 7 مئی، 2026

اسلامی معاشرت کے اصول (۱)

 

 اسلامی معاشرت کے اصول (۱)

اسلامی معاشرت ان اصولوں پر قائم ہے جو انسان مہذب ، متوازن اور پْر امن زندگی گزارنے کا راستہ دکھاتے ہیں۔اسلامی معاشرت کا مقصد ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جہاں محبت ، احترام اور بھائی چارہ فروغ پائے۔ 
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی مکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک دوسرے پر حسد نہ کرو۔کوئی چیز خریدنے کا ارادہ نہ ہو اور کوئی دوسرا شخص خرید رہا ہو تو بلا وجہ اس کی بولی لگا کر قیمت نہ بڑھائو کہ وہ چیز اسے مہنگی ملے۔ آپس میں بغض نہ رکھو۔ ایک دوسرے سے منہ نہ موڑو۔کسی کی بیع پر کوئی شخص بیع نہ کرے۔اللہ کے بندو بھائی بھائی بن کر رہو۔ وہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے وہ مسلمان بھائی پر نہ ظلم کرتا ہے اور نہ اس کی مدد ترک کرتا ہے اور نہ اسے حقیر سمجھتا ہے۔ آپ ﷺنے سینے کی طرف اشارہ کر کے تین بار فرمایا تقوی یہاں ہے۔ انسان کے لیے اتنا گناہ ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔ ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون ، مال اور عزت حرام ہے۔ (مسلم )۔
 اس حدیث مبارکہ میں حضور نبی کریم ﷺ نے معاشرے کی چند بنیادی خرابیوں کی نشاندہی کی ہے جن کو معمولی سمجھا جاتا ہے اور انہیں نظر انداز کرتے ہوئے اہمیت نہیں دی جاتی۔ لیکن یہ وہ اخلاقی بیماریاں ہیں جن کی وجہ سے معاشری زوال پذیز ہوتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے حسد کرنے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔حسد سے مْراد یہ ہے کہ کسی کے پاس کوئی چیز دیکھ کر اس سے وہ چیز چھن جانے کی تمنا کرے۔حاسد بلا وجہ حسد کی آگ میں جلتا رہتا ہے اور اسے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہارے اندر اگلی امتوں کا ایک مرض گھس آیا ہے اور یہ حسد اور بغض کی بیماری ہے۔ یہ مونڈنے والی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ بال مونڈنے والی بلکہ یہ دین مونڈنے والی ہے (یعنی دین ختم کر دینے والی )۔
بخاری شریف کی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو روا نہیں کہ وہ کسی دوسرے مسلمان سے حسد کرے۔البتہ صرف دو آدمیوں سے رشک کرنے کی اجازت ہے ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو اور وہ دن رات اسے راہ خدا میں خرچ کرتا ہو اور دوسرا وہ جسے اللہ تعالیٰ نے علم عطا کیا ہو اور وہ دن رات اسے لوگوں تک پہنچاتا اور سناتا ہو۔ 
اس حدیث مبارکہ میں حسد کی مذمت اور رشک کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔حسد یہ ہے کہ کسی سے کوئی چیز چھن جانے کی تمنا کرنا اور رشک یہ کہ کسی کے پاس کوئی چیز دیکھ کر خوش ہونا ہے اور اس نعمت کے حصول کی خواہش رکھنا ہے۔

بدھ، 6 مئی، 2026

عدل و انصاف کی عملی مثالیں(۲)

 

عدل و انصاف کی عملی مثالیں(۲)

حضور نبی کریم ﷺ کے دور میں ایک یہودی اور منافق کے درمیان کسی بات پر تنازعہ ہو گیا ۔یہودی حق پر تھا اس نے منافق کو نبی کریم ﷺ کے پاس فیصلہ کرانے کے لیے کہا کیونکہ یہودی جانتا تھا کہ نبی کریم ﷺ عدل و انصاف فرمانے والے ہیں ۔ منافق کا دل صاف نہیں تھا اس لیے اس نے کہا کہ یہودی کے عالم کعب بن اشرف کے پاس چلتے ہیں ۔لیکن یہودی نے کہا کہ میں نبی کریم ﷺ کے سوا کسی کا بھی فیصلہ قبول نہیں کروں گا ۔پھر وہ دونوں نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو نبی کریم ﷺ نے یہودی کے حق میں فیصلہ فرمایا ۔(تفسیر قرطبی)۔
اسی طرح ایک مرتبہ ایک معزز قبیلے کی عورت چوری کی وجہ سے پکڑی گئی ۔بعض لوگوں نے نبی کریم ﷺ سے اس کو معاف کرنے کی التجا کی تا کہ ہمارے قبیلے کی بدنامی نہ ہو ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم سے پہلی قومیں اس لیے تباہ ہو گئیں کہ اگر کوئی کمزور جرم کرتا تو اسے سزا دی جاتی اور اگر کوئی طاقتور جرم کرتا اسے چھوڑ دیا جاتا ۔آپ ﷺ نے فرمایا خدا کی قسم اس کی جگہ فاطمہ بنت محمد ﷺ بھی ہوتیں تو میں اس کا بھی ہاتھ  کاٹ دیتا ۔
سیرت ابن ہشام میں ہے کہ غزوہ بدر کے موقع پر نبی کریم ﷺ صفوں کا درست فرما رہے تھے اور آپ ﷺ کے ہاتھ میں ایک تیرتھا جس کے ساتھ آپ ﷺ لوگوں کی صفیں درست کر رہے تھے ۔ حضرت سواد بن غزیہ ﷺ کے پاس سے گزرے جو صف سے باہر تھے۔ آپ ﷺ نے ان کے پیٹ پر ہلکی سی چوٹ لگائی اور فرمایا اے سواد سیدھے ہو جاؤ۔ سواد نے عرض کی آپ ﷺ نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے اللہ تعالی نے آپ کو حق و عدل کے ساتھ بھیجا ہے ۔ مجھے اس چوٹ کا بدلہ چاہیے ۔آپ ﷺ نے اپنے جسم اطہر سے کپڑ اہٹایا ۔ سواد نے نبی کریم ﷺ کو گلے لگایا اور بطن مبارک کو چوم لیا ۔
آپ ﷺ ے سواد سے پوچھا تمہیں کس چیز نے ایسا کرنے پر مجبور کیا ؟ انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ جو صورت حال اسوقت درپیش ہے وہ آپ ﷺ کے سامنے ہے ہو سکتا ہے میں اس جنگ میں شہید ہوجاؤں ۔میری خواہش تھی کہ دنیا سے جاتے وقت میرا جسم آپ ﷺ کے جسم اطہر سے مس ہو جائے ۔نبی کریم ﷺ نے آپ ؓ کو دعائے خیر سے نوازا ۔ 
حضور نبی رحمت ﷺ کی سیرت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہر صورت انصاف قائم رہنا چاہیے ۔ آپﷺ نے رنگ و نسل ، مذہب اور حیثیت سے بالاتر ہو کر انصاف کا ایسا معیار قائم کیا جو قیامت تک ہمارے لیے مشعل راہ ہے ۔

منگل، 5 مئی، 2026

عدل و انصاف کی عملی مثالیں(۱)

 

عدل و انصاف کی عملی مثالیں(۱)

کسی بھی معاشرے میں امن و امان کے لیے عدل و انصاف ضروری ہے ۔ اگر معاشرے سے عدل و انصاف کو نکال دیا جائے تو ایسے معاشرے میں امن و امان کی صورت حال انتہائی خراب ہو جاتی ہے ۔
ارشاد باری تعالی ہے : اور جب بات کہو تو انصاف کی بات کہو اگرچہ تمہارے رشتہ دار کا معاملہ ہو۔ اور اللہ ہی کا عہد پورا کرو۔ یہ تمہیں تاکید فرمائی کہ کہیں تم نصیحت مانو ۔ (سورۃالانعام )۔
اسی طرح سورۃ المائدہ میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : اے ایمان والو اللہ کے حکم پر خوب قائم ہو جاؤ انصاف کے ساتھ گواہی دیتے ہوئے۔ اور تم کو کسی قوم کی عداوت اس پر نہ ابھارے کہ انصاف نہ کرو ، انصاف کرو وہ پرہیز گاری سے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے ۔
حضور نبی رحمتﷺ کی حیات مبارکہ عدل و انصاف کا کامل نمونہ ہے ۔ آپ ﷺ نے نہ صرف عدل کی تعلیم دی بلکہ عملی زندگی میں اس کا ایسا اعلی معیار قائم کیا جس کی مثال تاریخ انسانیت میں نہ ملی ہے اور نہ ہی قیامت تک ملے گی ۔ 
حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ہنسی مذاق کرنے والے آدمی تھے۔ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں لوگوں کو ہنسا رہے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے ان کی کمر پر چھڑی ماری ۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی مجھے تکلیف ہوئی ہے ۔نبی رحمت ﷺ  نے فرمایا تم بدلہ لے لو ۔ انہوں نے کہا کہ میرے جسم پر کپڑا نہیں تھا لیکن آپ ﷺ کے جسم اطہر پر کپڑا ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی قمیض مبارک اوپر اٹھائی تو حضرت اسیدرضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے لپٹ گئے اور آپﷺ کو بوسہ دیا اور عرض کی یا رسول اللہ میرا یہی ارادہ تھا ۔( ابو داؤد )۔
حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مرض ایام میں نبی کریم ﷺ میرا ہاتھ پکڑ کر مسجد تشریف لے گئے اور منبر پر تشریف  فرما ہو کر فرمایا :اے لوگوں اگر میں نے کسی کی پیٹھ پر کبھی کوئی کوڑا مارا تو یہ میری پیٹھ حاضر ہے وہ مجھ سے بدلہ لے لے اور میں نے کسی کو بُرا بھلا کہا ہے تو میری آبرو حاضر ہے وہ مجھ سے انتقام لے لے ۔اور اگر میں نے کسی کا مال لیا ہے تو یہ میرا مال حاضر ہے وہ اپنا حق لے لے ۔کوئی شخص یہ ہر گز نہ کہے کہ میں ان سے ناراض ہو جاؤں گا ۔ غور سے سن لو ناراض ہونا نہ میرا مزاج ہے اور نہ میری شان ۔خبر دار تم میں مجھے سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جس کا اگر مجھ پر کوئی حق ہے تو وہ لے لے ۔(معجم الاوسط )۔

پیر، 4 مئی، 2026

حیوانات کے حقوق(۲)

 

حیوانات کے حقوق(۲)

حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو ایک مرغ کو باندھ کر نشانہ لگانے کی مشق کر رہے تھے۔جب انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو وہاں سے چلے گئے۔ آپؓنے فرمایا یہ کون کر رہا تھا ؟ نبی کریمﷺ نے ایسا کرنے والے پر لعنت کی ہے۔ ( مسلم)۔ 
نبی کریم ﷺ نے فرمایا :ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا۔وہ بلی کو باندھ کر رکھتی تھی یہاں تک کہ وہ مر گئی۔پس وہ عورت اس بلی کی وجہ سے دوزخ میں چلی گئی۔( بخاری )۔ 
ترمذی شریف حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریمﷺ نے جانوروں کو لڑانے اور ایک دوسرے کے خلاف بھڑکانے سے منع فرمایا۔
اسلام میں جان لیوا اور خطر ناک جانوروں کو تکلیف دینے سے بھی منع کیا گیا ہے۔ اگر کسی موذی جانور کو مارنا ہو تو ایک ہی ضرب میں مارو اس کو زیادہ تکلیف نہ دو اور اگر کسی جانور کو ذبح کرنا ہو تو احسن طریقے سے ذبح کرو۔ 
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعا لیٰ نے ہر چیز کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم فرمایا ہے سو جب تم کسی جانور کو مارو تو احسن طریقے سے مارو اور جب ذبح کرو تو احسن طریقے سے ذبح کرو۔ وہ چھری کو تیز کرے اور اپنے جانور کو آرام پہنچائے۔ (مسلم )۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا بنی اسرائیل میں ایک فاحشہ عورت نے شدید گرمی میں ایک پیاسے کتے کو دیکھا جس کی زبان پیاس کی وجہ سے باہر نکلی ہو ئی تھی۔اس عورت نے اپنے موزے میں پانی بھر کر اسے پلایا۔اللہ تعالیٰ نے اس نیکی کے بدلے اسے بخش دیا۔ ( مسلم )۔ 
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے موقع پر جب نبی کریم ﷺ دس ہزار کے لشکر کے ساتھ مکہ مکرمہ روانہ ہوئے توراستے میں عرج کے مقام سے آگے نبی کریم ﷺ نے ایک کتیا کو دیکھا جس نے ابھی ابھی چند بچے جنے تھے اور وہ اپنی ماں کا دودھ پی رہے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے جمیل بن سراقہ رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا کہ وہ اس کتیا کے سامنے کھڑا ہو جائے تا کہ کوئی شخص اس کتیا کو اذیت نہ پہنچائے۔ (سبل الہدی والرشاد )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا بیشک نرمی جس چیز میں ہوتی ہے اس کوخوبصورت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے نرمی نکال لی جائے وہ بدصورت ہو جاتی ہے۔ ( مسلم )۔

اتوار، 3 مئی، 2026

حیوانات کے حقوق (۱)

 

 حیوانات کے حقوق (۱)

اسلام سے قبل عرب میں جانوروں کو مختلف قسم کی تکالیف دی جاتی تھیں۔مثال کے طور پر جانور کو ذبح کیے بغیر اس کا گوشت کاٹ لینا ، اس کی دم کاٹ دی جاتی ۱ور ان کے جسم کو داغا جاتا۔ لیکن اسلام نے جہاں انسانوں کے حقوق مقرر کیے وہیں جانوروں کے حقوق کا جامع اور متوازن نظام پیش کیا۔ اسلام میں اس بات کی بھی تعلیم دی گئی کہ جانور بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے لہٰذا ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا انسان کی اخلاقی اور دینی ذمہ داری ہے۔جانوروں کو بھوک پیاس ، تکلیف اور تھکاوٹ ہوتی ہے تو یہ تمہیں بتا نہیں سکتے اس لیے خود ان کا خیال رکھا کرو۔ کیونکہ جانوروں کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہ ہونا پڑے گا۔ 
حضرت سہل بن حنظلیہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک اونٹ کے پاس سے گزرے جس کی پشت اس کے پیٹ کے ساتھ چمٹی ہوئی تھی۔نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ان بے زبان جانوروں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو ، ان پر سواری کرو جب یہ سواری کے قابل ہوں اور ان کو ذبح کر کے کھائو جب یہ کھانے کے قابل ہوں۔ ( ابو دائود )۔
حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا چوپایوں پر سواری کرو جب یہ تندرست ہوں اور انہیں آرام اور سلامتی کے ساتھ چھوڑ دو اور انہیں رستوں اور بازاروں میں اپنی باتوں کے لیے کرسیاں نہ بنائو۔ 
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک شخص سفر کر رہا تھا اس کو سخت پیاس لگی تو اس نے کنویں میں اتر کر پانی پیا۔جب وہ باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ ایک کتا پیاس کی وجہ سے تر مٹی کو چاٹ رہا ہے۔اس شخص نے خیال کیا کہ اس کتے کو بھی پیاس لگی ہو گی لہٰذا وہ دوبار کنویں میں اترا اور اپنے موزے میں پانی بھر کر اس کتے کو پانی پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کے اس عمل کو قبول فرمایا اور اس کو بخش دیا۔صحابہ کرام نے عرض کی یارسو ل اللہ ﷺ کیا جانوروں کے ساتھ نیکی کرنے پر بھی اجر ملے گا ؟ آپﷺنے فرمایا ہر جاندار پر رحم کرنے پر نیکی ہے۔ ( بخاری )۔
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓبیان کرتے ہیں کہ ہم  سفر میں تھے کہ ہم ایک جگہ رفع حاجت کے لیے گئے وہاں سے ہم نے ایک چھوٹی چڑیاکے دو بچے پکڑ لیے۔چڑیا ہمارے سر پر منڈلانے لگی۔جب نبی کریم ﷺ تشریف لائے تو فرمایا تم میں سے کس نے اس کے بچوں کر پکڑ کر ستایا ہے اس کے بچے واپس کر دو۔ ( ابودائود )۔

حج کی فضیلت و اہمیت

  حج کی فضیلت و اہمیت اسلام انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر پہلو کی رہنمائی کرتا ہے۔ دین اسلام کے پانچ بنیادی ارکان ہیں جن پر ایک م...