جمعرات، 25 جون، 2026

فضائل و مناقب امام حسین رضی اللہ عنہ(۱)

 

فضائل و مناقب امام حسین رضی اللہ عنہ(۱)

تاریخ اسلام میں ایسی شخصیات بھی ہیں جن کی عظمت زمان و مکان کی حدودِ  ماورا ہے ۔ان کے کردار کی روشنی صدیوں کے فاصلے کو مٹا کر آج بھی انسانیت کو حق و صداقت کا راستہ دکھاتی ہے ۔ ان عظیم ہستیوں میں سید الشہدا،مظلوم کربلا ، نواسہء رسول ،جگر گوشہ بتول امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ کا نام نہایت نمایاں ہے ۔آپ رضی اللہ عنہ کی زندگی ایمان ، صبر ، شجاعت ، ایثار اور حق پر استقامت کا ایسا روشن باب ہے جسے قیامت تک یاد رکھا جائے گا ۔ امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظمت کا سر چشمہ آپ ؓ  کا نسب مبارک،بلند کردار اور عظیم قربانی ہے جس نے اسلام کو نئی زندگی عطا کی ۔ 
آپ رضی اللہ عنہ کی ولادت باسعادت 4 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی ۔ آپ رضی اللہ عنہ کو یہ شرف ملا کہ آپ امام الانبیاء خاتم الانبیاء کے نواسے ،آپ ؓ کی والدہ  ؓ سید ۃ النساء العالمین سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا اور والد گرامی امام الاولیاء شیر خدا حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم ہیں ۔نبی رحمت ﷺ  سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دونوں شہزادوں سے بے حد پیار فرماتے تھے ۔ انہیں کندھوں پر بٹھاتے ، سینے سے لگاتے اور ان کے لیے خصوصی دعا فرمایا کرتے تھے ۔ 
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا حسن و حسین جنتی نوجوان کے سردار ہیں ۔( ترمذی )۔ ایک اور روایت میں ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہو ں ۔
حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن میرے حسب و نسب کے سواہر نسب  منقطع ہو جائے گا ۔ہر بیٹے کی نسبت اس کے باپ کی طرف ہوتی ہے ماسوائے اولاد فاطمہ ؓ کے۔ ان کا باپ بھی میں ہو ں اور ان کا نسب بھی  میں ہوں ۔ ( بہیقی ، طبرانی )۔
 حضرت ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کی بارگاہِ ناز میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ دونوں شہزادے آپ ﷺ کی گود میں کھیل رہے ہیں ۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ آپ ان سے محبت کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا میں ان سے محبت کیوں نہ کروں میرے گلشن دنیا کے یہی دو پھول ہیں جن کی مہک کو سونگھتا رہتا ہوں ۔ ( طبرانی )۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حسن و حسین رضی اللہ عنہما کا ہاتھ پکڑ ا اور فرمایا جس نے مجھ سے اور ان دنوں سے  محبت کی اور ان کے والد سے اور ان کی والدہ سے محبت کی وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میرے ہی ٹھکانہ پر ہوگا ۔ ( ترمذی )۔

بدھ، 24 جون، 2026

فضائل و مناقب اہلِ بیت اطہارؓ(۳)

 

فضائل و مناقب اہلِ بیت اطہارؓ(۳)

حضرت زر بن جیش ؓ سے مروی ہے کہ حضرت علی نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔بیشک نبی مکرمﷺ نے مجھ سے یہ عہد کیا ہے کہ مومن مجھ سے محبت رکھے گا اور منافق مجھ سے بغض رکھے گا۔ ( مسلم، ترمذی )۔ حضرت بریدہ رضی للہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ کو عورتوں میں سب سے زیادہ محبوب اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ ؓ اور مردوں میں سے سب سے زیادہ محبوب حضرت علیؓ  تھے۔ 
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آیت مباہلہ ’’آپ(ﷺ) فرما دیں آئو ہم اپنے بیٹوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنے بیتوں کو بلائو ‘‘نازل ہوئی تو آپﷺ نے حضرت علیؓ ، حضرت فاطمہؓ ، حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کو بلایا اور فرمایا یا اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں۔ ( مسلم ، ترمذی )۔
حضرت عمران بن حصین ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بیشک علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں اور میرے بعد وہ ہر مسلمان کا ولی ہے۔ ( ترمذی )۔
حضرت مسور بن مخرمہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا بیشک فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے اور مجھے ہرگز یہ پسند نہیں کہ کوئی شخص  اسے تکلیف پہنچائے۔ خدا کی قسم کسی شخص کے پاس رسول اللہ اور دشمن خدا کی بیٹیاں جمع نہیں ہو سکتیں۔ ( متفق علیہ )۔
حضرت ثوبان ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنے اہل و عیال میں سب کے بعد جس سے گفتگو فرما کر سفر پر روانہ  ہوتے وہ حضرت فاطمہ ؓ ہوتیں اور سفر سے واپسی پر سب سے پہلے جس کے پاس تشریف لاتے وہ بھی حضرت فاطمہ ہوتیں۔ ( ابو دائود)۔ سرور کائنات حضور نبی کریمﷺ کو اپنے دونوں نواسوں سے بہت زیادہ محبت و الفت تھی۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضور نبی کریمﷺ سے عرض کی گئی آپ کو اہل بیت میں سب سے زیادہ کس سے پیار ہے۔ آپﷺ نے فرمایا حسن ؓ اور حسینؓ سے مجھے بہت زیادہ پیار ہے۔ حضرت فاطمہ ؓسے حضور نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے میرے بیٹوں کو میرے پاس لائو۔ آپﷺ دونوں شہزادوں کو سینہ مبارک پر بٹھا لیتے تھے اور جسم کو سونگتے تھے۔ ( ترمذی )۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : بیشک حسن ؓاور حسینؓ دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔( مشکوٰہ شریف)۔ 
اہل بیت اطہار اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت اور رسول اللہﷺ کی مبارک نسبت ہیں۔قرآن مجید نے ان کی پاکیزگی کو بیان کیا اور احادیث مبارکہ میں ان کی محبت کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا۔ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اہل بیت سے محبت کرے اور ان کی سیرت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔

منگل، 23 جون، 2026

فضائل و مناقب اہلِ بیت اطہارؓ(۲)

 

فضائل و مناقب اہلِ بیت اطہارؓ(۲)

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب سورۃ اشورٰ ی کی یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی :ترجمہ (اے محبوب ﷺ) آپ فرما دیجیے میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا مگر قرابت کی محبت۔تو صحابہ کرام نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ کے قرابت دار کون ہیں جن کی محبت ہم پر واجب ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا علی ، فاطمہ اور ان کے بیٹے حسن و حسین ۔( طبرانی )۔
حضرت عباس بن عبد المطلب ؓ سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی یا رسول اللہ جب قریش آپس میں ملتے ہیں تو حسین مسکراتے ہوئے چہرں سے ملتے ہیں اور جب ہم سے ملتے ہیں تو ایسے چہروں سے ملتے ہیں جنہیں ہم نہیں جانتے ۔آپؓ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ یہ سن کر شدید جلال میں آگئے اور فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کسی بھی شخص  کے دل میں اس وقت تک ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ اور میری قرابت کی خاطر تم سے محبت نہ کرے ۔ ( نسائی ، مسند احمد )۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا بیشک میں تم میں دو نائب چھوڑ کر جا رہا ہوں ایک اللہ  تعالی کی کتاب جو کہ آسمان و زمین میں پھیلی ہوئی رسی ہے اور دوسرے میرے اہل بیت اور یہ دونوں اس وقت تک ہرگز جدا نہیں ہوں گے جب تک یہ میرے پاس حوض کوثر پر نہیں پہنچتے ۔ ( مسند احمد )۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرا جامہ دان جس سے میں آرام پاتا ہوں میرے اہل بیت ہیں اور میری جماعت انصار ہیں ۔ ان کے بروں کو معاف کر دو اور ان کے نیکوکاروں سے اچھائی قبول کرو۔( ترمذی )۔
امیر المؤمنین سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں خدا کی قسم نبی رحمت ﷺ کے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنا مجھے اپنے  رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرنے سے زیادہ محبوب اور پسند ہے ۔ (بخاری )۔

پیر، 22 جون، 2026

فضائل و مناقب اہلِ بیت اطہارؓ(۱)

 

فضائل و مناقب اہلِ بیت اطہارؓ(۱)

اسلامی تاریخ میں بعض خاندان ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالی نے اپنی خاص رحمت ، برکت اور فضیلت سے نوازا ہے مگر خاندان نبوت ﷺ کو جو عظمت و رفعت عطا ہوئی اس کی مثال رہتی دنیا تک نہیں ملتی ۔ نبی کریم ﷺ کے اہل بیت اطہار وہ مقدس ہستیاں ہیں جن کی محبت ایمان کی مٹھاس ، جن کا احترام ادب رسالت ﷺ کا تقاضا اور جن کی پیروی نجات و کامیابی کا راستہ ہے ۔اہل بیت کی زندگیاں تقوی ، صبر ، ایثار ، علم ، عبادت اور دین سے وفا داری کا ایسا روشن مینار ہیں جس کی روشنی آج بھی امت مسلمہ کی رہنمائی کر رہی ہے ۔ ان مقدس  نفوس سے محبت محض ایک جذباتی وابستگی نہیں بلکہ نبی کریم ﷺ سے محبت کا فطری تقاضا اور اسلامی عقیدے کا اہم حصہ ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں اہل ایمان نے اہل بیت اطہار کے تذکرے کو اپنے دلوں کی زینت اور اپنی مجالس کی رونق سمجھا ہے ۔ اہل بیت اطہار وہ ہستیاں ہیں جنہیں اللہ تعالی نے طہارت ، محبت اور عزت کے خصوصی تاج سے سرفراز فرمایا ہے ۔
ارشاد باری تعالی ہے : ”اللہ تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کر کے خوب ستھرا کر دے “۔ سورۃ الشورٰی میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : (اے محبوب ﷺ) آپ فرما دیجیے میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا مگر قرابت کی محبت۔ انسان کو جس سے سچی محبت ہے تو وہ اس سے نسبت رکھنے والی تمام چیزوں سے بھی محبت کرتا ہے ۔ اسی وجہ حضور نبی کریم ﷺ سے سچی 
محبت رکھنے والے آپ ﷺ سے نسبت رکھنے والی ہر چیز سے دل وجان سے محبت کرتے ہیں ۔نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : 
اللہ تعالی سے محبت کرو کیونکہ وہ تمہیں اپنی نعمتوں سے روزی دیتا ہے اور اللہ پاک کے لیے مجھ سے محبت کرو اور میری محبت کے لیے میرے اہل بیت سے محبت کرو ۔ (ترمذی )۔
معجم الاوسط میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اہل بیت کی محبت کو لازم پکڑ لو کیونکہ جو اللہ پاک سے اس حال میں ملا کہ وہ ہم سے  محبت کرتا ہے تو اللہ تعالی اسے میری شفاعت کے سبب جنت میں داخل فرمائے گا اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ کسی بندے کو اس کا عمل اسی صورت فائدہ دے گا جبکہ وہ ہمارا حق پہچانے ۔ 
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا : میرے اہل بیت کی مثال حضرت نوح ؑکی کشتی کی طرح ہے جو اس میں سوار ہو گیا وہ نجات پاگیا اور جو اس سے پیچھے رہ گیا وہ غرق ہو گیا ۔ ( طبرانی )۔

اتوار، 21 جون، 2026

حضرت سیدنا فاروق اعظم ؓ(۳)

 

حضرت سیدنا فاروق اعظم ؓ(۳)

آپؓ اپنے دور حکومت میں اپنی رعایا کا بہت زیادہ خیال رکھتے تھے ۔حضرت سیدنا امام اوزاعی ؒروایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا فاروق اعظم ؓ عنہ گھر سے نکلے تو حضرت طلحہ ؓ نے انہیں دیکھا تو چپکے سے ان کے پیچھے چل پڑے ۔ سیدنا فاروق اعظمؓ ایک گھر میں داخل ہوئے اور کچھ دیر بعد باہر آئے اور ایک دوسرے گھر میں داخل ہوئے ۔ حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں نے اس گھر کو ذہن میں بٹھا لیا اور صبح اس گھر میں گیا ایک بوڑھی عورت نابینا اور اپاہج تھی ۔ میں نے پوچھا یہ شخص تمہارے گھر میں کیوںآتے ہیں بوڑھی عورت نے کہا میں نابینا اور اپاہج ہوں میرا خیال رکھنے والا کوئی نہیں ہے یہ کافی عرصے سے میرے پاس آتے ہیں اور میرا کام کاج کر جاتے ہیں ۔ ( حلیۃ الاولیا )
سیدنا فاروق اعظم ؓ کا احتسابی امر دوسرے لوگوں کے ساتھ خاص نہیں تھا بلکہ اپنے گھر والوں خصوصا اپنے بیٹوں کا بھی احتساب فرماتے۔آپؓ نے قرآن و سنت کے خلاف امور کی پکڑ کے ساتھ ساتھ ان تمام امور کی بھی گرفت کی جن کا تعلق عوامی یا معاشرتی مصلحتوں کے ساتھ تھا ۔
آپ کی خلافت ساڑھے بائیس لاکھ مربع میل تک پھیلی ہوئی تھی اور ہر طرف انصاف کا بول بالا تھا ۔آپؓ فرماتے ہیں کہ اگر نہر فرات کے کنارے ایک کتا بھی مر جاتا ہے تو عمرؓ اس کا بھی جواب دہ ہے ۔ آپ کے دور میں اسلام نے بہت ساری فتوحات حاصل کیں ۔دین اسلام میں سب سے پہلے کافروں کے سامنے اپنا اسلام ظاہر کیا ، فوجی چھائونیاں قائم کیں ، پولیس کا محکمہ بنایا ، جیل خانہ جات بنائے،بیت المال قائم کیا ، لوگوں اور دودھ پیتے بچوں کے بھی وظائف مقرر کیے ، شہروں کی تعمیر کروائی ، نہریں کھدوائیں اور جمع قرآن مجید کا مشورہ دیا ۔آپ کا دور خلافت ایک مثالی دور تھا جس کی مثال آج تک دنیا میں نہیں ملتی ۔
ابو لولو نامی لعین نے نماز فجر کی حالت میں آپ ؓ کے پیٹ میں خنجر مارا ۔ خنجر اتنا گہرا لگا کہ آپ کی آنتیں کٹ گئیں ۔ آپ کو گھر لایا گیا توحضرت عبداللہؓ کو بلا کر کہا کہ جائو حضرت عائشہ ؓ کے پا س اور امیر المؤمنین نہیں کہنا بلکہ میرا نام لے کر کہنا کہ عمر اپنے دوستوں کے ساتھ دفن ہونا چاہتا ہے ۔ جب آپ اجازت لے کر اندر داخل ہوئے توحضرت عائشہ ؓ رو رہی تھیں اور آپ ؓ پر حملے کی خبرسن کر بے چین تھیں ۔
 حضرت عبد اللہؓ نے حضرت عمر ؓکی درخواست پیش کی تو حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا یہ جگہ میں نے اپنے لیے رکھی تھی لیکن آج میں اپنی ذات پر عمرؓ کو ترجیح دیتی ہوں ۔ اسلام کا یہ چمکتہ ستارہ یکم محرم الحرام کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملا ۔ 

ہفتہ، 20 جون، 2026

حضرت سیدنا فاروق اعظم ؓ(۲)

 

حضرت سیدنا فاروق اعظم ؓ(۲)

حضور نبی کریم ﷺنے فرمایا اللہ تعالیٰ نے عمرؓ کی زبان پر حق کو جاری فرمادیا ہے( ابو دائود )۔ آپﷺ نے فرمایا : ہر امت میں ایک محدث ہوتا ہے میری امت میں اگر کوئی محدث ہے تو وہ عمر بن خطاب ؓ ہیں۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس راہ سے عمرؓ گزریں شیطان اس راہ سے نہیں گزرتا۔
سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ساری زندگی اتباع رسول میں گزاری اور کوئی بھی ایسا کام سر انجام نہیں دیا جو شریعت مطہرہ اور سنت رسولﷺ کے خلاف ہو۔حضرت سیدنا خبیر بن نفیر فرماتے ہیں میں ایک مرتبہ حضرت شْر حبیل بن سمط ؓ کے ساتھ سفر پر گیا تو ایک مقام پر انہوں نے دو نوافل ادا کیے میں نے اس کی وجہ پوچھی تو انہوںنے کہا میں نے سیدنا فاروق اعظم ؓکو مقام ذوالحلیفہ میں اسی طرح دو رکعت نفل پڑھتے دیکھا تو میں نے اس کی کی وجہ دریافت کی تو سیدنا فاروق اعظم ؓنے فرمایا میں وہی کر رہا ہوں جو میں نے حضور نبی کریم ﷺ کو کرتے دیکھا ہے۔ (مسلم )۔ آپ ؓنے عاجزی و انکساری اور سادگی کے ساتھ اپنی زندگی بسر کی۔حضرت سعید بن مسیب ؓ فرماتے ہیں سیدنا فاروق اعظم ؓ جب کہیں سفر پر جاتے تو راستے میں آرام فرمانے کے لیے مٹی کا ڈھیر لگا لیتے اوراس پر کپڑا بچھا کر آرام فرماتے۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ )۔ آپ ؓ جب حج کے لیے مکہ مکرمہ روانہ ہوئے تو جہاں کہیں پڑائو کرنا ہوتا کوئی خیمہ نہ لگاتے اور نہ ہی قنات بلکہ درخت پر چٹائی یا کپڑا ڈال کر اس کے سائے میں بیٹھ جاتے۔ (تاریخ ابن عساکر )۔سیدنا فاروق اعظم ؓ فرماتے ہیں جب بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے توضع اختیار کرتا  ہے تو اللہ اس کی قدرو منزلت کو بڑھا دیتا ہے۔ ( احیا ء العلوم )۔ 
آپ ؓ کو حضور نبی کریمﷺ کی بارگاہ میں مشیر مقبول اور مقرب خاص کی حیثیت حاصل تھی آپؓ جو بھی عرض کرتے آپﷺقبول فرماتے۔ ایک غزوہ کے موقع پر خوراک کی کمی کی وجہ سے حضور نبی کریمﷺ نے فوج کی تعداد کے مطابق اونٹ ذبح کرنے کا حکم فرمایا تو عمر فاروقؓ نے عرض کی یارسول اللہ اس طرح سواریاں کم پڑ جائیں گی اور فوج کو مشکلات پیش آئیں گی۔ آپﷺ سب صحابہ کرامؓ سے بچی ہوئی خوراک جمع کریں اور اللہ تعالیٰ سے اس میں برکت کی دعا کریں۔ آپﷺ نے ایسا ہی کیا اور طعام میں کوئی کمی نہ آئی آپﷺ نے اس پر خوشی کا اظہار فرمایا اور فرمایا : میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک میں اللہ کا رسول ہوں۔ ( بخاری شریف)۔
بہت سارے احکام اللہ تعالیٰ نے آپ کی خواہش پر نازل فرمائے جیسا کہ پردے کاحکم ، شراب کی حرمت اور مقام ابراہیم کو جائے مصلہ بنانے کا حکم۔

جمعہ، 19 جون، 2026

حضرت سیدنا فاروق اعظمؓ (۱)

 

حضرت سیدنا فاروق اعظمؓ (۱)

حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ مراد رسولﷺ بھی ہیں اور مرید رسولﷺ بھی ہیں۔آپ کا قلب اطہر اللہ تعالیٰ کے انوار سے روشن تھا۔ آپ ؓنے حضور نبی کریمﷺ سے رشد و ہدایت اور روشنی حاصل کی اور بعد میں خود بھی نورو ہدایت کاسر چشمہ بن گئے۔
حضور نبی کریمﷺ نے بارگاہ الٰہی میں دعا فرمائی اے اللہ اسلام کو عمر بن خطاب یا پھر عمر وبن ہشام (ابو جہل ) کے ساتھ عزت عطا فرما۔ ایک دن سیدنا فاروق اعظم ؓ کو ایک شخص نے کہا کہ تمہارے بہنوئی اور تمہاری بہن نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ تویہ سن کر تیزی سے اپنی بہن کے گھر چلے گئے۔ اس وقت آپ کی بہن اور آپ کے بہنوئی قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے۔جب آپؓ گھر پہنچے تو پوچھا کہ تم لوگ کچھ پڑھ رہے تھے تم دونوں اپنا دین ترک کر چکے ہو۔ 
آپ کی بہن نے کہا اے عمر حق وہ نہیں جو تمہارا عقیدہ ہے میرا عقیدہ یہ ہے کہ میں گواہی دیتی ہوں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضورﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں۔ آپؓ نے پوچھا جو کتا ب تم لوگ پڑھ رہے تھے وہ مجھے بھی دو میں پڑھنا چاہتا ہوں۔ آپؓ کی بہن نے کہا اسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں۔ تم وضو یا غسل کر لو پھر اسے چھونا آپ نے اٹھ کر وضو کیا اور قرآن مجید سے سورۃ طٰحٰہ کی  تلاوت شروع فرمائی۔ جیسے جیسے تلاوت قرآن مجید پڑھتے گئے دل میں قبول اسلام کی شمع روشن ہوتی چلی گئی۔ آپؓ نے کہا مجھے آپﷺ کی بارگاہ میں لے چلیں۔ آپؓ نے حضور نبی کریمﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اسلام قبول فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کریم ﷺکی دعا کو قبول فرما کر اسلام کو عزت عطا فرمائی۔ 
 جس دن آپؓ نے اسلام قبول فرمایا تو حضور نبی کریم ﷺ نے آپ کے سینہ پر تین بار ہاتھ مارکر ارشاد فرمایا : اے اللہ عمر کے سینے میں جو بھی اسلام کی دشمنی ہے اسے نکال کر ایمان سے تبدیل کر دے۔ ( معجم کبیر )۔ 
جب حضرت سیدنا فاروق اعظمؓ نے اسلام قبول فرمایا تو جبرائیل امین آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی عمر بن خطابؓ کے اسلام لانے پر آسمان والے ایک دوسرے کو مبارک دے رہے ہیں۔ ( ابن ماجہ )۔ ابتدائے اسلام میں مسلمان چھپ کر عبات کیا کرتے تھے لیکن آپؓ کے اسلام قبول کرنے کے بعد آپؓ نے حضور نبی کریمﷺسے عرض کی یا رسول اللہﷺ اگر ہم سچے ہیں تو چھپ کر عبادت کیوں کرتے ہیں آج کے بعد ہم اعلانیہ کعبہ معظمہ میں عبادت کریں گے۔ اس طرح آپؓ کے قبول اسلام کے بعد مسلمانوں نے اعلانیہ عبادت شروع کی۔

فضائل و مناقب امام حسین رضی اللہ عنہ(۱)

  فضائل و مناقب امام حسین رضی اللہ عنہ(۱) تاریخ اسلام میں ایسی شخصیات بھی ہیں جن کی عظمت زمان و مکان کی حدودِ  ماورا ہے ۔ان کے کردار کی روشن...