جمعہ، 3 اپریل، 2026

نیت کی اصلاح(۱)

 

نیت کی اصلاح(۱)

جمعرات، 2 اپریل، 2026

دل کی بیماریاں اور ان کا علاج(۲)

 

 دل کی بیماریاں اور ان کا علاج(۲)

سورۃ المؤمن میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :’’ جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں بہت جلد جہنم میں ذلیل ہو کر داخل ہوں گے۔حضور نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا جس کے دل میں رائی کے برابر بھی تکبر ہو گا وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ ( مسلم شریف )۔
تکبر کا علاج عاجزی و انکساری ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی حقیقت کو پہچانے کہ وہ مٹی سے پیدا ہوا ہے اور ایک دن اسی مٹی میں دفن ہو جانا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں ‘‘۔جب انسان میں عاجزی پیدا ہوتی ہے تو تکبر خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔ بغض و کینہ دل کی بیماریوں میں سے ہیں۔یہ انسان کے اندر نفرت اور دشمنی کو بڑھاوا دیتے ہیں جس سے معاشرے میں انتشار پیداہوتا ہے۔ 
 ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بغض اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے سے اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔(سورۃ المائدہ )۔
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سرور کائناتﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شب برات کی رات اللہ تعالیٰ تمام بخشش مانگنے والوں کو بخش دیتا ہے اور رحمت طلب کرنے والوں پر رحمت نازل فرماتا ہے لیکن جو لوگ کینہ رکھتے ہیں ان کے معاملے کو موخر اور ملتوی فرما دیتا ہے۔ ( کنزالعمال )۔ 
بغض و کینہ سے بچنے کا بہترین راستہ یہی ہے کہ انسان معاف کرنا سیکھے ، در گزر کرے اور دل کو صاف رکھے۔اس معاملے میں نبی کریم ﷺ کی سیرت ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے حضور نبی کریمﷺ عفو در گزر کرنے والے تھے۔ ان تمام بیماریوں سے بچنے کے بنیادی اصول یہ ہیں کہ انسان کثرت سے ذکر الٰہی کرے کیونکہ دلوں کا سکون اور پاکیزگی اللہ تعالیٰ کے ذکر سے حاصل ہوتی ہے۔ قرآن مجید کی تلاوت کریں کیونکہ قرآن مجید دل کی بیماریوں کے لیے شفاء ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں ہدایت عطافرمائے اور ہمارے دلوں کی اصلاح فرمائے۔ نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھیں اور اپنے نفس کا محاسبہ کریں۔اپنے نفس کا محاسبہ کرنا دل کی اصلاح کا بہترین ذریعہ ہے۔انسان کو چاہیے کہ اپنے اندر جھانکے اور اپنی اصلاح کرے اور خود کو تکبر ، حسداور بغض و کینہ جیسی خطرناک بیماریوں سے بچائے۔

بدھ، 1 اپریل، 2026

دل کی بیماریاں اور ان کا علاج(۱)

 

دل کی بیماریاں اور ان کا علاج(۱)

دل انسانی وجود کا وہ مرکز ہے جہاں سے نیت ، ارادہ ، احساس اور عمل کی سمت متعین ہوتی ہے۔ اگر دل پاکیزہ ہو تو انسان کی ظاہری زندگی بھی سنور جاتی ہے اور اگر دل بیمار ہو جائے تو اس کے اثرات انسان کے کردار ، اخلاق اور معاشرتی رویوں میں نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ قرآن و حدیث میں دل کی اصلاح پر واضح احکامات موجود ہیں کیونکہ اصل کامیابی کا دارو مدار اسی پر ہے۔ حسد ، تکبر اور بغض وہ باطنی بیماریاں ہیں جو دل کو کھوکھلا کر دیتی ہیں اور انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کر دیتی ہیں۔ قیامت کے دن وہ کامیاب ہو گا جو پاکیزہ دل لے کر آئے گا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ مگر وہ جو اللہ کے حضور حاضر ہوا سلامت دل لے کر ‘‘۔ ( سورۃ الشعراء )۔
حسد ایک ایسی بیماری ہے جس میں انسان دوسروں کے پاس اللہ تعالیٰ کی نعمتیں دیکھ کر جلتا ہے وہ کہتا ہے یہ چیز اس کے پاس کیوں ہے میرے پاس ہونی چاہیے تھی۔حضور نبی کریم ﷺ نے سختی کے ساتھ حسد سے بچنے کی تلقین فرمائی اور اسے ہلاک کرنے والی چیز قرار دیا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا حسد سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا تا ہے جیسے آگ لکڑی کو۔( ابو دائود)۔
حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : اے مسلمانو یہ خیال رکھنا کہ تم میں وہ چیز پیدا نہ ہو جس کی وجہ سے پہلی امتیں تباہ ہو گئیں اور وہ چیز حسد اور عداوت ہے۔( کنزل العمال )۔
اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن مجید میں حاسدین کے حسد سے پناہ مانگنے کا حکم فرمایا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :(تم فرمائو پناہ لیتا ہوں ) حسد والے کے شر سے جب وہ مجھ سے جلے۔(سورۃ الفلق )۔
حسد سے بچنے کا علاج یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہیں اور اس کی تقسیم پر راضی ہو جائیں اور جو کچھ اس نے ہمیں عطا کیا ہے اس پر مالک کائنات کا شکر ادا کریں۔تکبر بھی دل کی ایک خطر ناک بیماری ہے یہ وہ صفت ہے جس کی وجہ سے شیطان اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے مردود قرار پایا اور اسے جنت سے نکال دیا گیا جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم فرمایا تو شیطان نے سجدہ نہ کیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : 
’’ سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔ منکر ہوا اور غرور کیا اور کافر ہو گیا ‘‘۔ ( سورۃ البقرہ )۔
سورۃ النحل میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تکبر کرنے والے ناپسند ہیں۔ ’’ بیشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا‘‘۔
۔۔۔۔۔۔۔۔

منگل، 31 مارچ، 2026

جلد سونے اور جاگنے کے فوائد و ثمرات

 

 جلد سونے اور جاگنے کے فوائد و ثمرات

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو زندگی کے ہر چھوٹے اور بڑے پہلو سے متعلق رہنمائی کرتا ہے۔ انسان کی بنیادی ضروریات جن پر مدار حیات اور معیار عافیت قائم ہے ، ان میں سے ایک بنیادی ضرورت نیند بھی ہے۔محققین نے اس بات کی تحقیق کی ہے کہ کم سونا یا زیادہ سونا موت کو وقت سے پہلے دعوت دینا ہے۔ اسی طرح رات کو دیر سے سونا اور صبح دیر سے اٹھنا بے شمار بیماریوں کا سبب بنتاہے۔ جس طرح زندگی میں کھانا پینا اور سانس لینا ضروری ہے اسی طرح سونا اور آرام کرنا بھی ذہنی و جسمانی صحت کے لیے اہم ہے۔
قرآن مجید میں متعدد بار اس نعمت کا ذکر آیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ اور ہم نے بنا دیا ہے تمہار ی نیند کو باعث آرام ‘‘ ایک اور جگہ ارشاد فرمایا’’ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ اس میں آرام کرو اور دن کو ہر چیز دکھانے والا بنایا ‘‘۔پر سکون نیند کے لیے شور شرابہ کا نہ ہو نا رات کو ہی میسر ہے۔ رات کے وقت آرام کرنا اور سونا دن کے مقابلے میں بہت زیادہ فائدہ مند ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور اس نے اپنی رحمت سے تمہارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ رات میں آرام کرو اور دن میں اس کا فضل ڈھونڈو تا کہ تم شکر گزار بنو ‘‘۔ قرآن مجید کی روشنی میں دن کو کمائی کے لیے اور رات کو آرام کے لیے مقرر کر نا چاہیے۔
بخاری شریف میں روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نماز عشا ء سے پہلے سونے کو اور بعد میں بات کرنے کو مکروہ (ناپسندیدہ ) خیال کرتے تھے۔ رات کو جلد سونا ، تہجد میں اٹھنا ، نماز فجر سے پہلے تھوڑا آرام کر لینا پھر فجر کی نماز ادا کرنا اس کے بعد ذکر و اذکار اور تلاوت کر نا پھر اشراق کے نوافل ادا کرنے کے بعد کام کاج میں مشغول ہو نا نبی اکرمﷺ کے معمول مبارکہ میں شامل تھا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی شخص سو جاتا ہے تو شیطان اس کے سر کے پیچھے گدی میں تین گرہ لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر یہ پھوک لگا دیتا ہے کہ سو جا ابھی رات بہت باقی ہے۔ پڑا سوتا رہ۔ پھر جب وہ شخص جاگ کر اللہ کا ذکر کرے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے پھر جب وضو کرتا ہے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے۔ پھر جب نماز پڑھے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے۔ اس طرح صبح جاگنے سے آدمی چا ک وچو بند اور ہشاش بشاش ہو جا تا ہے۔ ورنہ سست اور بد دل بوجھل طبیعت والا بن جاتا ہے اور اسے بھلائی نہیں ملی ہوتی ‘‘۔

پیر، 30 مارچ، 2026

شکر کی فضیلت و اہمیت(۲)

 

شکر کی فضیلت و اہمیت(۲)

حضرت نعمان بن بشیر سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو تھوڑی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ زیادہ نعمتوں کا بھی شکر ادا نہیں کرتا اور جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالی کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا اور اللہ تعالی کی نعمتوں کو بیان کرنا شکر ہے اور اسے بیان نہ کرنا نا شکری ہے ۔( شعب الایمان )۔ 
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے آپ ؓ کو ہر نماز کے بعد یہ دعا مانگنے کی وصیت فرمائی:” اللھم اعنی علی ذکرک و شکرک و حسن عبادتک “ ۔اے اللہ تو اپنے ذکر ، اپنے شکر اور احسن طریقے سے اپنی عبادت کرنے میں میری مدد فرما ۔ ( ابو داؤد )۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ میرے بستر پر تشریف لائے اور فرمایا اے عائشہ اگر مجھے اجازت دو تو میں اللہ تعالی کی عبادت کر لوں تو میں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ آپ ضرور عبادت فرمائیں ۔ آپ ﷺ نے وضو فرمایا نماز شروع فرمائی اور رونے لگے یہاں تک کہ آپ کے آنسو سینہ مبارک تک بہنے لگے یہاں تک کہ نماز پڑھتے فجر کا وقت ہو گیا ۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسو ل اللہ ﷺ آپ تو بخشے ہوئے ہیں اللہ تعالی کے حبیب ہیں تو پھراتنی گریہ و زاری کیوں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اے عائشہ کیا میں اللہ تعالی کا شکر گزار بندہ نہ بنو ں ۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کھا کر شکر ادا کرنے والا روزہ دار اور صابر کے مقام پر فائز ہو جاتا ہے روز حشر حکم ہو گا شکر اداکرنے والے کھڑے ہوجائیں ۔ اس وقت صرف وہی لوگ کھڑے ہوں گے جنہوں نے ہر حال میں اللہ تعالی کا شکر ادا کیا ہو گا ۔ شکر انسان کی زندگی میں سکون اور اطمینان پیدا کرتا ہے ۔ جو شخص اللہ کی دی ہوئی نعمتوں پر نظر رکھتا ہے وہ کبھی مایوس نہیں ہوتا ۔
آج کے دور میں بے چینی ، حسد اور نا شکری عام ہو چکی ہے کیونکہ انسان دوسروں کی نعمتوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور جو نعمتیں اللہ تعالی نے اسے عطا کی ہیں وہ بھول جاتا ہے ۔اگر وہ شکر کی عادت بنا لے تو اللہ تعالی اسے مزید نعمتوں سے نواز دے گا ۔ 
شکر انسان کو تکبر سے بچاتا ہے جب انسان یہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ بھی اس کے پاس موجود ہے وہ اللہ تعالی کا عطا کردہ ہے اور عاجزی اختیار کرتا ہے تو اس میں تکبر پیدا نہیں ہوتا ۔

اتوار، 29 مارچ، 2026

شکر کی فضیلت و اہمیت(1)

 

شکر کی فضیلت و اہمیت(1)

انسان کو چاہیے کہ وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا رہے اور اس کا شکر ادا کرے ۔شکر دل ، زبان اور عمل سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اعتراف ہے جو بندہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے مزید نعمتوں سے نوازتا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ” اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کرو ں گا “۔ (سورۃ ابراہیم )۔
سورۃالبقرہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :”تم میرا ذکر کرو میں تمہارا ذکر کروں گا اور میرا حق مانو اور میری نا شکری نہ کرو “۔ذکر کی تین اقسام ہیں زبان کے ساتھ اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا ، دل میں اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا اور اپنے اعضاءکے ساتھ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا ہے ۔ زبان سے ذکر یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناءبیان کرے ، توبہ و استغفار کرے ، دل سے شکر یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرے ۔اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل پر غور کرے ۔ اعضاءسے شکر کرنا مراد یہ ہے کہ اپنے اعضاءکے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی جائے اور انہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت والے کاموں میں لگایا جائے ۔ جو بندہ اللہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتا اللہ تعالیٰ عذاب سے نجات عطا فرما دے گا ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے : ” اگر تم ایمان لائے اور شکر گزار بن گئے تو اللہ تمہیں عذاب نہیں دے گا“۔ ( سورۃ النساء)۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر کوئی نعمت نازل فرماتا ہے اور وہ کہتا ہے الحمد اللہ تو یہ کلمہ اللہ تعالی کے نزدیک اسے نعمت دینے سے بہتر ہوتا ہے ۔ ( ابن ماجہ )۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جسے شکر کرنے کی تو فیق ملی اللہ تعالیٰ اسے مزیدنعمتوں سے نوازے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم میرا شکر کرو گے تو میں تمہیں اور دوں گا ۔ اور جسے توبہ کی توفیق عطا ہوئی وہ توبہ کی قبولیت سے محروم نہ ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اور وہی ہے جو اپنے بندوں سے توبہ قبول فرماتا ہے ۔( درمنثور )۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن کہا جائے گا کہ حمد کرنے والے کھڑے ہو جائیں لوگوں کو گروہ کھڑا ہو جائے گا اوروہ جنت میں جائیں گے ۔عرض کی گئی یارسو ل اللہ ﷺ حمد کرنیوالے کون فرمایا جو ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں ۔

ہفتہ، 28 مارچ، 2026

ملازمین کے ساتھ حسن سلوک

 

ملازمین کے ساتھ حسن سلوک

انسان جب اپنے ہم مرتبہ لوگوں سے بات چیت کرتا ہے تو اخلاقی قدروں کو ملحوظ خاطر رکھتا ہے اور جب اپنے ماتحت لوگوں سے معاملہ کرتا ہے تو ان کو اپنے سے کم تر سمجھتا ہے اور تمام اخلاقی قدروں کو پامال کر دیتا ہے ۔ اور اس کی عزت و نفس کا بھی خیال نہیں رکھتا ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے اپنے ماتحت لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیا ۔اور اپنے سے بڑے اور چھوٹے سب کے ساتھ ایک جیسے معاملات رکھنے کا حکم فرمایا۔
حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں اپنے غلام سے کسی بات پر ناراض ہو گیا اور اسے درے سے مارنے لگا ۔ اتنے میں میرے پیچھے سے آواز آئی ۔ اے ابو مسعود جان لو ! مگر میں شدید غصے کی وجہ سے آواز پہچان نہ سکا جب آواز دینے والا میرے قریب آ گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ رسول کریم ﷺ ہیں اور آپ فرما رہے تھے ۔ اے ابو مسعود ! جان لو تمہیں اس غلام پر قابو حاصل ہے اس سے زیادہ قابو اللہ تعالیٰ کو تمہارے اوپر حاصل ہے ۔یہ سن کر میرے ہاتھ سے کوڑا گر گیا اور میں نے کہا کہ میں کبھی بھی اس غلام کو نہیں ماروں گا ۔ میں اس غلام کو اللہ کے لیے آزاد کر تا ہوں ۔ یہ سن کر حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں اگر تم ایسا نہ کرتے تو تمہیں آگ چھو لیتی ۔ ( جامع الاصول) 
حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضور ﷺ سے پوچھا ہم ملازم کو ایک دن میں کتنی بار معاف کر دیا کریں ۔ آپ ﷺ خاموش رہے اس نے دوسری مرتبہ پوچھا آپ ﷺ خامو ش رہے ۔ اس نے پھر یہ ہی سوال پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا اسے ہر روز ستر مرتبہ معاف کر دیا کرو ۔ ( ابی داؤ د ) ۔
حضور نبی کریم ﷺ نے غلاموں کے متعلق ارشاد فرمایا : وہ تمہارے بھائی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے ماتحت کر دیا ہے ۔ تو جس کے ماتحت اس کا بھائی ہو اسے چاہیے کہ جو خود کھاتا ہے اسے بھی وہ ہی کھلائے جو خود پہنتا ہے اس کو بھی پہنائے ۔ اور اس سے اس کی طاقت سے زیادہ کوئی کام نہ کروائے ۔ اگر اسے کوئی ایسا کام کہہ دے تو خود بھی اس کی مدد کرے ۔آخری ایام میں حضور ﷺ نے نماز کے ساتھ ماتحت لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین فرمائی ۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ جس وقت آپ ﷺ کا وصال ہوا تو آپ ﷺ آخری دم تک یہی فرما رہے تھے اے لوگو ! نماز کا خیال رکھنا اور اپنے غلاموں کا خیال رکھنا ( ابن ماجہ ) ۔

نیت کی اصلاح(۱)

  نیت کی اصلاح(۱) اسلام ایک جامع دین ہے جو انسان کی ظاہری زندگی کے ساتھ ساتھ اس کے باطن کو بھی سنوارنے پر زور دیتا ہے ۔ بظاہر اچھے اعمال بھی...