منگل، 11 اگست، 2026

حکمت و دانش

 

حکمت و دانش

حکمت کا ایک کلمہ انسان کی زندگی کا رخ بدل دیتا ہے ۔ دانش کی کہئی ہوئی ایک بات انسانی فکر کو تبدیل کر دیتی ہے اور بصیرت بھرا ایک جملہ انسانی سوچوں میں انقلاب پیدا کر دیتا ہے ۔ دقیق مباحث اور دلائل کے انبار قلب نظر میں اضطراب تو پیدا کرتے ہیں اور دلائل خرد کی تشنگی کو مزید بڑھا تو ضرور دیتے ہیں لیکن انسانی قلب کی کیفیات کو بدلنے سے قاصررہتے ہیں ۔ 
حکمت سے مراد ایسی دانش بھری اور دل میں اتر جانے والی بات ہوتی ہے جو انسان کے قلب و نظر میں ایک دور رس  تبدیلی کا باعث بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہو ۔ جس کی دلیل کو ٹھکرانا انسان کی عقل کے لیے ممکن نہ ہو ۔ حکمت سے مراد دانائی اور عقل مندی کی باتیں ہیں ۔ 
یہ انسان کی فطرت میں شامل ہے کہ جو بات اس کے دل میں بیٹھ جائے یہ کبھی اس سے انکار نہیں کر سکتا ۔ تو جس بندے کو ایسا حکمت بھرا انداز اللہ تعالی کی طرف سے عطا ہو جائے اور دوسرے اس کی باتوں کے قائل ہوتے جائیں تو اس کی باتیں دلوں پر راج کریں تو وہ سمجھ جائے کہ اللہ تعالی نے اسے بے شمار بھلائیاں عطا فرمائی ہیں ۔ حکمت و دانش کی یہ دولت اللہ تعالی کی خصوصی عطا ہے جسے یہ مل جائے وہ بہت ہی خوش قسمت ہے ۔ 
ارشاد باری تعالی ہے : اللہ تعالی جسے چاہتا ہے حکمت عطا فرماتا ہے ۔ اور جسے حکمت دی گئی اسے خیر کثیر دے دی گئی ۔
(سورۃ البقرہ)۔مال کثیر سے مراد مال و دولت ، جاہ و جلال یا پھر منصب و شہرت نہیں ۔ بلکہ اس سے مراد فکرو خیال کی  وہ پاکیزگی عطا کی گئی ہے کہ وہ خودخیر کا پیکر بن گیا اور دوسرے اس  خیر کو ٹھکرا نہ سکیں ۔
کائنات میں پائی جانے والی ہر حکمت اور دانش کی بات کسی نہ کسی نبی کا فیضان ہوتی ہے اس لیے حضور نبی کریم ﷺ  نے ارشاد فرمایا : حکمت بھری بات مومن کی گمشدہ میراث ہے ۔ وہ اسے جہاں بھی پائے وہی اس کا سب سے زیادہ حق دار ہے ۔ (ترمذی )۔ یعنی حکمت تو ہے ہی ایمان کا ثمر اور بندہ مومن کا مطلوب ۔اسے جہاں سے بھی کوئی حکمت بھرا کلمہ میں اسے کسی صاحب ایمان کا ہی فیضان سمجھ کر حاصل کر لے ۔ یہ بھی نہ دیکھے یہ کلمہ کس کی زبان سے ادا ہو رہا ہے بس یہ دیکھے کہ وہ بات حکمت کی ہے اور اپنی گمشدہ میراث سمجھ کر اس کی طرف لپکے ۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بہترین مجلس وہ ہے جس میں حکمت کی بات کی جائے ۔ (المعجم الکبیر )۔  حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : حسد صرف دو آدمیوں پر کیا جا سکتا ہے ایک وہ جسے اللہ نے مال و دولت دیا اور وہ  اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرے اور دوسرا وہ جسے اللہ نے حکمت دی وہ اس پر عمل کرتا ہے اور اسکی تعلیم دیتا ہے ۔ (سنن ابن ماجہ ) ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کسی مسلمان نے اپنے بھائی کو حکمت کی بات سے بڑھ کر بہترین تحفہ نہیں دیا ۔( شعب الایمان )۔

پیر، 10 اگست، 2026

سورۃ العصر

 

سورۃ العصر

ترجمہ”:زمانہ کی قسم ۔ بےشک ہر انسان ضرور نقصان میں ہے ۔ سوا ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے اور انہوں نے ایک دوسرے کو دین حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی “۔
 امام طبرانی اپنی سند کے ساتھ حضرت عبیداللہ بن حفص رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ صحابہ کرام میں سے جب بھی کوئی دو صحابی آپس میں ملتے اور ملاقات کرنے کے بعد ایک دوسرے سے جدا ہونے سے پہلے دونوںاس سورت کی تلاوت کر کے ایک دوسرے کو سناتے اور پھر سلام کر کے جدا ہو جاتے ۔ ( المعجم الاوسط)۔ اس سورۃ کی آیت نمبر دو اور تین کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالی نے قسم اٹھا کر یہ ارشاد فرمایا کہ آدمی ضرور نقصان میں ہے  کیونکہ کہ انسان کی عمر جو اس کا سرمایہ اور اصل پونجی ہے وہ کم ہو رہی ہے مگر وہ لوگ جو ایمان لے آئے اور اچھے کام کیے اور ایک دوسرے کو اچھے کام کرنے کی نصیحت کی اور ایک دوسرے کو ان تکلیفوں اور مشکلات میں صبر کرنے کی نصیحت کی  جو دین کی راہ میں پیش آتی ہیں تو یہ لوگ اللہ تعالی کے فضل سے خسارے میں نہیں ہیں کیونکہ کہ انہوں نے اپنی ساری عمر  نیکی اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری میں گزاری ۔ 
سورۃ فاطر میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : بیشک وہ لوگ جو اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور  ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے پوشیدہ اور اعلانیہ کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں وہ ایسی تجارت کے امید وار ہیں جو کبھی تباہ نہیں ہو گی ۔
 انسان کی زندگی اس کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے اور انسان اس سرمائے سے صرف اسی صورت  فائدہ اٹھا سکتا ہے کہ  وہ اپنی زندگی کو اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری میں  گزارے۔اگر انسان اپنی زندگی اللہ تعالی کی نافرمانی اور گناہوں میں خرچ کرتا ہے تو اس سے اسے کوئی نفع حاصل نہیں ہو گا۔دوسری بات یہ کہ انسان کی زندگی کا جو حصہ اللہ تعالی  کی عبادت اور اس کے احکامات کے مطابق گزرے گا وہ ہی سب سے بہتر ہے ۔  دنیا سے بے رغبتی کرنا اور آخرت کی طلب میں اور اس سے محبت کرنے میں مشغول ہونا انسان کے لیے سعادت کا باعث ہے ۔
اللہ تعالی سورۃ بنی اسرائیل میں ارشاد فرماتا ہے :” اور جو آخرت چاہتا ہے اس کے لیے ایسی کوشش کرتا ہے جیسی کرنی چاہیےاور وہ ایمان والا بھی ہو تو یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوشش کی قدر کی جائے گی 

اتوار، 9 اگست، 2026

امانت میں خیانت کرنا

 

امانت میں خیانت کرنا

اے ایمان والو ! اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ سے خیانت نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت نہ کرو اور تم جانتے ہو ۔ ( سورۃ الانفال ) ۔ سورۃ یوسف میں ارشاد باری تعالی ہے : بیشک اللہ تعالی خیانت کرنے والوں  کے مکر کو راہ نہیں دیتا ۔(سورۃ یوسف)۔ مطلب یہ ہے کہ وہ ہدایت سے محروم ہو جاتا ہے اور ذلیل و رسوا ہو گا۔  حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : امانتوں سے مراد وہ اعمال ہیں جو اللہ تعالی نے بطور  امانت ہم پر لازم کیے ہیں اور وہ فرائض ہیں ، پس ان کو نہ توڑو ۔ کلبی کہتے ہیں اللہ تعالی اور اس کے رسولﷺ  سے خیانت کا مطلب احکام کی نا فرمانی ہے ۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : منافق کی تین نشانیاں ہیں ۔ جب وہ بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، جب وعدہ کرتا ہے تو اسے پورا نہیں کرتا اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرتا ہے ۔ (مسلم شریف)۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مومن کی فطرت میں خیانت اور جھوٹ کے علاوہ ہر چیز ہو سکتی ہے ۔ ( الدر منثور) ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالی فرماتا ہے میں دو شریکوں کا تیسرا ہوں ۔ جب تک ان میں  سے ایک دوسرے سے خیانت نہ کرے ۔ یعنی جب دو آدمی مل کر کام کریں تو اللہ تعالی ان کی مدد کرتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے سے خیانت نہ کریں ۔ ( السنن الکبری للبہیقی) حضور نبی کریم ﷺ نے  ارشاد فرمایا : خیانت سے بچو یہ بری عادت ہے ۔ ( مجمع الزوائد)۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں قیامت کے دن اس امانت دار کو لایا جائے گا جس  نے اس میں خیانت کی ہو گی اور اسے کہا جائے گا کہ اپنی امانت ادا کرو ۔ وہ کہے گا اے اللہ کہاں سے دوں۔ دنیا تو چلی گئی ۔ تو اسے جہنم کی گہرائی میں وہی صورت دکھائی جائے گی جو اس کے لینے کے دن تھی ۔ پھر کہا  جائے گا کہ اتر جاؤ اسے نکال کر لاؤ ۔ آپ فرماتے ہیں وہ اس کی طرف اترے گا اور اسے اپنی پیٹھ پر اٹھائے
گا تو یہ اس پر پہاڑ سے بھی زیادہ بھاری ہو گی ۔ حتی کہ جب وہ خیال کرے گا کہ وہ نجات پا گیا تو وہ گر جائے گی اور وہ بھی اس کے پیچھے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے گرتا رہے گا ۔ 
حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: نماز امانت ہے ، وضو امانت ہے ، غسل امانت ہے ، وزن کرنا امانت ہے ، ناپنا امانت ہے اور سب بڑی امانت ودیعت رکھے ہوئے مال ہیں ۔*

ہفتہ، 8 اگست، 2026

سیر ت النبی ﷺ اور حقوق زوجین(۲)

 

سیر ت النبی ﷺ اور حقوق زوجین(۲)

جمعرات، 6 اگست، 2026

سیر ت النبی ﷺ اور حقوق زوجین(۱)

 

سیر ت النبی ﷺ اور حقوق زوجین(۱)

ارشاد باری تعالی ہے :”اور اس کی آرزو نہ کرو جس سے اللہ نے تم میں ایک کو دوسرے پر بڑائی دی مردوں کے لیے ان کی کمائی  کا حصہ ہے اور عورتوں کے لیے ان کی کمائی سے حصہ اور اللہ سے اس کا فضل مانگو بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے ۔( سورۃ النساء)۔ معاشرتی مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ میاں بیوی کے باہمی مسائل بھی ہیں جس کی وجہ سے اکثر گھروں کی خوشیاں ماند پڑی رہتی ہیں ۔ لیکن اگر ہم ان مسائل کا حل حضور نبی کریم ﷺ کی سیرت سے تلاش کریں تو یہ مسائل بالکل ختم ہو جائیں اور ہمارے گھر وں اور معاشرے میں خوشیاں پھیل جائیں ۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی تعلیمات اور عمل سے اس بات کو بخوبی واضح فرما دیا ہے کہ گھر کا سربراہ مرد ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :” مرد عورتوں کے کفیل ہیں اس لیے کہ اللہ نے ان میں ایک کو ایک دوسرے پر فضیلت دی اور اس لیے کہ مردوں نے ان  پر اپنے مال خرچ کیے تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں، خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیاہے ۔( سور ةالنساء)۔ 
 اللہ تعالی نے مردوں کو عورتوں کا محافظ بنایا ہے ۔ حضور نبی کریمﷺ نے اس بات کی تاکید فرمائی ہے کہ عورتیں اپنے شوہروں کی  اطاعت کریں کیونکہ جب کسی بھی جگہ سربراہ کی بات نہ مانی جائے تو وہاں کے معاملات بگڑ جاتے ہیں ۔ اور اللہ تعالی کو یہ عمل بہت پسند ہیں کہ عورتیں اپنے خاوند کی اطاعت کریں ۔حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ”عورت جب پانچ وقت کی نماز پڑھے اور رمضان کے روزے رکھے اور اپنی عفت و عصمت کی حفاظت کرے اور شوہر کی اطاعت کرے تو جنت کے جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہو جائے ۔ (مشکاۃ المصابیح)۔
حضرت قیس بن سعد فرماتے ہیں کہ میں حیرہ گیا تو میں نے دیکھا کہ وہاں کے لوگ اپنے سردار کو سجدہ کر رہے ہیں۔ میں نےسوچا کہ رسول خدا ﷺ اس کے زیادہ حق دار ہیں میں نے واپس آ کر بارگاہ رسول ﷺ میں حاضر ہو کر ساری بات بتائی تو آپﷺ نے فرمایا :” ایسا نہ کرو اگر میں کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں کیونکہ اللہ تعالی نے مردوں کا عورتوں پر حق رکھا ہے ۔“(سنن ابی داؤد )۔
 یعنی کہ اللہ تعالی کے سوا  کسی کو سجدہ کرنا جائز نہیں ۔لیکن حقیقی اطاعت اللہ تعالی کی ہے اور عورت اپنے شوہر کی صرف اسی بات کو ماننے کی پابند ہوگی جو شریعت مطاہرہ کے مطابق ہو گی۔ کوئی بھی بات خلاف شریعت ہو گی تو عورت اس کو ماننے کی پابند نہیں ۔

منگل، 4 اگست، 2026

خیرالتابعین سیدنا اویس قرنیؓ(۲)

 

خیرالتابعین سیدنا اویس قرنیؓ(۲)

حضور نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام رضون اللہ علیہم اجمعین کو حضرت اویس قرنی ؓ کا حلیہ مبارک بھی بتایا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا اس کی آنکھیں نیلگوں ، دونوں کانوں کے درمیان کافی فاصلہ ، قد درمیانہ ، رنگ سخت گندمی ، ٹھوڑی سینے کی طرف جھکی ہوئی ، آنکھیں سجدہ گاہ پر لگی ہوئیں ، سیدھا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھے ہوئے ، ہر وقت روتا ہوا ، اس کے پاس دو کپڑے ہیں جن کو وہ ہمیشہ پہنے رکھتا ہے ۔ایک پشم کا جامہ اور ایک پشم کی چادر ، دنیا میں کوئی  بھی اس کو نہیں جانتا مگر آسمانوں میں سب اسے جانتے ہیں ۔ (مستدرک حاکم )
حضورنبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سیدنا اویس قرنی ؓ کو برص کا مرض لاحق ہوا تو آپ ؓ نے اللہ تعالی کی بارگاہ میں شفا یابی کی دعا فرمائی کہ اے اللہ مجھے اس مرض سے شفاعطا فرما لیکن ایک نشان میرے جسم پر باقی رکھ تا کہ میں تیری رحمت و شفقت کو ہمیشہ یاد رکھ سکوں ۔ ( مسلم )
حضرت سیدنا اویس قرنی ؓ دنیا کی رنگینیوں سے خود کو دور رکھتے اور عبادت و ریاضت میں مشغول رہتے ۔اگر کوئی لمحہ اللہ تعالی کی یاد کے بغیر گزر جاتا  تو اس پر افسوس ہوتا اور اسے بر ا جانتے ۔ آپ ؓ کی راتیں عبادت رکوع و سجود میں گزرتیں اور دن کو روزہ رکھتے ۔  حضرت فرید الدین ؒ فرماتے ہیں ”اکثر ایسا ہوتا کہ افطار کے لیے کچھ نہ ملتا تو کھجور کی گھٹلیاں چن کر بیچتے اور اس کی قیمت سے قوت لایموت حاصل کرتے ۔خشک خرما اگر مل جاتا تو اسے افطار کے لیے رکھ لیتے ۔اگر زیادہ ہوتا تو تھوڑا رکھ کر باقی خیرات کر دیتے ۔ (تذکرۃ الاولیا )
آپ ؓ اس قدر عبادت میں مشغول رہتے کہ ساری ساری رات اللہ تعالی کی یاد میں مشغول رہتے ۔ ایک رات قیام فرماتے اور اگلی رات کہتے کہ آج  کی رات رکوع کی ہے ، تیسری رات فرماتے آج کی رات سجدہ کی ہے ۔اسی طرح ساری ساری رات کبھی قیام، کبھی رکوع اور کبھی سجدہ میں گزار دیا  کرتے ۔ آپ ؓ سے پوچھا جاتا کہ آپ میں اتنی طاقت ہے کہ دراز راتیں ایک ہی حالت میں گزار دیں ؟آپ ؓ نے فرمایا :
”دراز راتیں کہاں ہیں کاش ازل تا ابد ایک ہی رات ہوتی جس میں ایک سجدہ کر کے نالہ ہائے بسیار اور گریہ ہائے بے شمار کرنے کا موقع نصیب ہوتا ۔ یہاں تو عالم یہ ہے کہ راتیں اتنی مختصر ہیں کہ صرف ایک دفعہ سبحان ربی الاعلی زبان کہ پاتی ہے تو دن نکل آتا ہے “۔ (تذکرۃ الاولیا )۔ رات کیا سار ا دن بھی آپ ؓ کی تسبیح وتہلیل کا سلسلہ جاری رہتا ۔اگر کبھی نیند کا غلبہ آتا تو اللہ تعالی سے رو رو کر عرض کرتے اے اللہ میں سونے والی آنکھ اور بھرنے والے پیٹ سے پناہ مانگتا ہوں صرف تو ہی میرا اس معاملے میں مدد گار ہے ۔

ہفتہ، 1 اگست، 2026

خیرالتابعین سیدنا اویس قرنیؓ(۱)۔

 

خیرالتابعین سیدنا اویس قرنیؓ(۱)۔

اسلامی تاریخ ایسی پاکیزہ اور باکمال شخصیات سے مزین ہے جنہوں نے اپنی بے مثال سیرت ، اعلی کردار اور بے لوث محبت الہی و عشق رسول ﷺ  کے ذریعے انسانیت کے لیے ہدایت کے چراغ روشن کیے ۔ان عظیم ہستیوں میں سے ایک ہستی خیرالتابعین، افضل التابعین ، سید التابعین سیدنا اویس قرنی رضی اللہ عنہ کی بھی ہے ۔ حضرت اویس قرنی ؓ کی شخصیت اخلاص ، ایثار ، محبت الہی اور عشق رسول ﷺ اور والدہ کی خدمت جیسے بے مثال اوصاف سے مزین ہے ۔  آپ ؓ نبی کریم ﷺ کے دور میں ہونے کے باوجود آپ ﷺ کی زیارت کا شرف حاصل نہ کر سکے لیکن عشق مصطفی ﷺ، زہد و تقوی ، اخلاص ، للہیت اور والدہ کی خدمت کی بدولت ایسی شان پائی کہ نبی کریم ﷺ آپ رضی اللہ عنہ کاذکر اپنے جلیل القدر صحابہ کرام میں فرماتے اور فرماتے جو اویس ؓ  کو ملے اپنے لیے دعا کرائے ۔
اہل دنیا کی نظر میں سیدنا اویس قرنی ؓ مستور الحال تھے اور اسی جز و مستی کے عالم میں رہنا پسند تھا ان کے دل میں خوف خد ا تھا یا بس عشق مصطفی ﷺ۔ حضرت سیدنا اویس قرنی ؓ ان پاکیزہ اور بلند ہستیوں میں سے تھے جن کی تخلیق عشق و محبت کے خمیر سے ہوئی تھی ۔ آپ ؓ کونبی رحمت ﷺ سے عشق تھا اور  کسی چیز سے خواہ وہ ان کے نام سے متعلق ہو یا خاندانی نسب کے بارے میں کوئی سروکار نہ تھا ۔ آپ رضی اللہ عنہ کی پہچان عشق تھی اور آپ ؓکا اوڑھنا  بچھونا عشق تھا ۔اس لیے آپ ؓ کو دنیا اور دنیاوی معاملات سے کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔ بقول عبد الرحمن جامی رحمۃ اللہ علیہ:
بندہ عشق شدی ترک نسب کن جامی 
کاندرین راہ فلاں بن فلاں چیزے نیست
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی اپنے بندوں میں سے ایسے برگزیدہ لوگوں کو دوست رکھتا ہے جو دنیا داروں کی  نظروں سے پوشیدہ رہتے ہیں ۔ان کے چہرے کا رنگ سیاہ اور ان کے پیٹ کمر سے لگے ہوتے ہیں اور کمر پتلی ہوتی ہے ۔ اگر دنیا کے بادشاہ ان سے ملنا چاہیں تو نہیں ملتے ۔ مال دار عورتیں ان سے شادی کی آرزو کریں تو انکار کر دیں ۔اگر ظاہر ہوں تو انہیں دیکھ کر کوئی خوش نہ ہو اور اگر بیمار ہو جائیں تو کوئی ان کی عیادت نہ کرے ۔اگر گم ہو جائیں تو کوئی ان کی جستجو نہ کرے اور انتقال کر جائیں تو ان کے سفر آخرت میں کوئی شریک نہ ہوں ۔  صحابہ کرام نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ایسا برگزیدہ شخص کون ہو سکتا ہے ؟ نبی رحمت سرورکونین ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ اویس ہے ۔

حکمت و دانش

  حکمت و دانش حکمت کا ایک کلمہ انسان کی زندگی کا رخ بدل دیتا ہے ۔ دانش کی کہئی ہوئی ایک بات انسانی فکر کو تبدیل کر دیتی ہے اور بصیرت بھرا ای...