منگل، 9 جون، 2026

طہارت قلبی

 

طہارت قلبی

انسان کے لیے باطنی اور قلبی طہارت بہت ضروری ہے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ باطن کو ہر قسم کی آلائشوں سے پاک کیا جائے۔ طہارت تامہ کا اہتمام کیا جائے تا کہ ظاہری اور باطنی طہارت کے علاوہ دل کی طہارت بھی ہو جائے۔ ظاہری طہارت کا تو ہر کسی کو معلوم ہے باطنی طہارت سے یہ مراد ہے کہ حرام لقمے اور حرام مشروبات سے بچا جائے۔ حدیث مبارکہ میں آتا ہے جس شخص نے ایک لقمہ حرام کا کھا لیا چالیس دن تک نہ اس کی فرض نماز قبول ہو گی اور نہ ہی نفلی۔اور نہ اس کی دعا قبول ہوتی ہے اور نہ اس کی التجا سنی جاتی ہے۔
قلبی طہارت سے یہ مراد ہے کہ تمام نا پسندیدہ صفات اور غل غپاڑہ ، کینہ و حسد ، مکرو فریب ، خیانت ، بغض عداوت اور دنیاکی محبت سے بچا جائے۔دنیا مخلوق کی پسندیدہ ہے خالق کی نہیں۔ جب تک دل اس سے پاک نہیں ہو گا اس کی نماز و طاعت قبول نہیں ہو گی۔ قلب خالق کا منظور نظر ہے اس لیے جب تک دنیا کی محبت کا داغ اس میں موجود ہے یہ عشق و محبت کی دولت سے مالا مال نہیں ہو سکتا۔
طہارت سری سے مراد یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے سوا کسی چیز کی طرف توجہ نہ دے۔ دل کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ بد نگاہی سے بچا جائے۔ حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : کہ نا محرم پر نگاہ ڈالنا ایک زہر آلود تیر ہے۔ جب دل پر پڑے تو سوائے ہلاکت کے اور کیا ہو سکتا ہے۔ ایک اور مقام پر حضور نبی کریم رئو ف الرحیم ﷺ نے ارشاد فرمایا : نگاہ ابلیس کے تیروں میں سے ایک زہر آلود تیر ہے۔
جس طرح مردوں کو نگاہ نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو بھی نگاہ نیچی رکھنے کا حکم فرمایا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : اور مسلمان عورتوں کو حکم دو کہ وہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں۔ نفس کی عزلت کا فائدہ یہ بھی ہے کہ ہاتھ ناشائستہ کاموں سے رک جاتا ہے۔ پائوں نامناسب مقامات کی طرف جانے سے رک جاتے ہیں۔ کان کا فائدہ یہ ہے کہ نا معقول باتیں نہ سنیں اس سے انسان کا بد ترین دشمن نفس قید ہو جاتا ہے۔ اسی عزلت کی برکت سے دل پر غیب کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ عزلت کا فائدہ یہ بھی ہے کہ دل سے دنیا کے نقوش مٹ جاتے ہیں۔ اور آخرت کے نقوش دل پر جھلکنے لگتے ہیں۔جب دل پوری طرح صاف ہوجاتا ہے۔ تو اس پر نور وحدانیت کے جلووں کے پرتو آتے ہیں۔ 
دل تجلی گاہ خدا وندی بن جاتا ہے۔

پیر، 8 جون، 2026

تعلیم اور استاد کی اہمیت (۲)

 

تعلیم اور استاد کی اہمیت (۲)

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں جس نے مجھے ایک حرف بھی سکھایا وہ میرا استاد ہے۔انبیاء کرام علیہم السلام کے علاوہ جتنی بھی بڑی شخصیات گزری ہیں اللہ تعالیٰ کی صلاحیتوں کے بعد استاد ہی کی مرہون منت ہیں۔ جب علامہ اقبال کو گورنمنٹ برطانیہ نے ’’سر‘‘ کا خطاب دینا چاہا تو آپ نے کہا کہ پہلے میرے استاد کو اعزازی خطاب دیا جائے۔
 گورنمنٹ نے کہا انہوں نے کوئی بھی قابل ذکر کتاب نہیں لکھیں جس پر آپ نے کہا جس استاد نے مجھ جیسا مفکر پیدا کیا ہے تو تصنیف کی کیا ضرور ت رہ جاتی ہے۔تو پھر آپ کے استاد کو شمس العلماء کا خطاب دیا گیا۔ 
طلبہ کی تعلیم و تربیت میں معلم کی اپنی شخصیت اور اس کے ذاتی اوصاف بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ طلبہ شعوری اورلاشعوری طور پر ان سے متاثر ہوتے ہیں اور یہ تاثر طلبہ کی زندگی بھر نمایا ں طور پر نظر آتا ہے۔ ایک معلم کو خوش لباس ، حلیم الطبع ، ہمدرد پابندِ وقت ، وسیع القلب اور علم دوست ہونا چاہیے۔ حضور نبی کریمﷺ کی شخصیت بڑی دلکش اور مؤثرتھی جو بھی دیکھتا آپ ﷺ کی طرف کھینچا چلا آتا تھا۔ آج کے معلم کو بھی حضور نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ سے راہنمائی لینی چاہیے تا کہ بچے اس سے دور بھاگنے کی  بجائے اس کے قریب ہوں۔ استاد کو کلاس میں بیہودہ زبان اختیار نہیں کرنی چاہیے۔ جو استاد خود کلاس کے اندر اور باہرغیر مہذب گفتگو کرے گا تو اس نے اپنے طلبہ کی راہنمائی کیا کرنی ہے اس لیے استاد کو زبان کی پاکیزگی کا خیال رکھنا چاہیے۔ استاد کو پابند وقت ہونا چاہیے۔ وقت کی پابندی زندگی میں انتہائی ضروری ہے۔ جب استاد ہی کلاس میں لیٹ پہنچے گا اور وقت کی پابندی نہیں کرے گا تو طلبہ میں بھی وقت کی پابندی کی عادت پیدا نہیں ہو گی اور وہ بھی کلاس میں ہمیشہ لیٹ ہی پہنچیں گے۔ 
کلاس میں بچوں سے غلطیاں سر زد ہو جاتی ہیں اس لیے ایک اچھا معلم وہی ہوتا ہے جو عفو و در گزر سے کام لے۔ ڈانٹنے والے اور غضب ناک لہجے والے کبھی  اچھے معلم نہیں بن سکتے۔ حضور نبی کریم ﷺ دوسروں کی دلداری کا بہت زیادہ خیال رکھا کرتے تھے ہمیشہ اپنے پرائے سب سے مسکرا کر ملا کرتے تھے۔ ایک اچھے معلم کو چاہیے کہ وہ کلاس میں سب بچوں کی دلداری کرے اور کلاس  میں خوش اخلاق ، ملنسار اور خوش طبع رہے۔ 
ایک اچھا استاد وہی ہوتا ہے جو کلاس میں مکمل تیاری کے ساتھ آئے اور کتابوں کے مطالعہ کا شوق رکھتا ہو اور کلاس میں دیانتداری کے ساتھ کام کرتا ہو۔ طلبہ اس معلم سے دیانتداری اور ایمانداری کا کیا سبق حاصل کریں گے جو خود ہی دیانتدار نہ ہو۔

اتوار، 7 جون، 2026

تعلیم اور استاد کی اہمیت (۱)

 

تعلیم اور استاد کی اہمیت (۱)

تعلیم و تربیت کی تاریخ میں اسلام کے ظہور کے بعد جو اہمیت تعلیم و تربیت کو دی گئی اس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ حضور نبی کریمﷺ معلم اعظم بن کر تشریف لائے۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ آپﷺ نے ایک مثالی معلم بن کر اس قوم کو بہترین اور مفید قوم بنایا جو اخلاقی اور قانونی لحاظ سے بالکل گری ہوئی قوم تھی۔ ایسی قوم جو جاہل ، جوئے بازاور سود خور تھی اور جن کے نزدیک زنا کوئی گناہ نہیں تھا۔ جو شراب کے عادی اور چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے قتل و غارت پر اتر آتے تھے۔ 
آپ ﷺ نے ان کو عزت کا رکھوالا ، با عصمت ، خدا ترس اور صالح انسان بنادیا۔ ان کی سیرت اور کردار میں ایسی تبدیلی پیدا کی کہ آج تک ماہر نفسیات اپنے علم کے کمال کے با وجود تشریح کرنے سے قاصر ہیں۔ 
حضور نبی کریم ﷺ انسانی فطرت کو سب سے زیادہ سمجھتے تھے۔ آپ ﷺ نے اپنے اعلی اخلاق اور کردار سے عرب کے لوگوں کو ایسی تعلیم دی کہ ہمیشہ کے لیے ان کے دلوں میں اتر گئی اور اخلاق و اطوار کی ایسی بلندی پیدا کر گئی جس کی معراج تک پہنچنا کسی معلم کے بس کی بات نہیں۔
اسلام نے نہ صرف ہر مسلمان مر د و عورت پر علم حاصل کرنا فرض قرار دیا بلکہ اخوت اسلامی کا عملی سبق دے کر تعلیم اور تعلیم کے مقصد کو ایسی ہمہ گیری اور وسعت نظری بخشی جو دنیا کے کسی اور مذہب کو حاصل نہ ہو سکی۔ قرآن مجید کے مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس میں لوگوں کی افرادی اور اجتماعی زندگی کے لیے مکمل رہنمائی موجود ہے۔ اسلام نے تعلیم کا جو مقصد بیان کیا ہے وہ جامع اور مکمل ہے اور سینکڑوں سال گزرنے کے باوجود بھی اسلام میں تعلیم کو بلند ترین مقصد قرار دیا جاتا ہے۔ جس تعلیم سے بچوں کی شخصیت میں نکھار پیدا نہ ہو اور انہیں کامیاب زندگی گزارنے کے لیے تیار نہ کیا جائے تو ایسی تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں۔ 
تعلیم میں علم ، معلم اور متعلم تینوں چیزیں ضروری ہیں۔کسان فصل حاصل کرنے کے لیے پہلے زمین کے ایک بہترین ٹکڑے کا انتخاب کرتا ہے اور بعد میں اس میں بیج اگا کر اچھی فصل حاصل کرتا ہے۔ ایک معمار اچھی بلڈنگ بنانے کے لیے اچھے مٹیریل کا انتخاب کرتاہے۔ لیکن ایک استاد ہی ہے جسے جس طرح کا بھی شاگرد مل جائے اس کی شخصیت کو سمجھ کر اس کی راہنمائی کرتا ہے اور ذہنی نشو نما کر کے ایک کامیاب شہری اور معاشرے کا مفید رکن بناتا ہے۔ 
آپ ﷺ نے استاد کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : تیرے تین باپ ہیں ایک وہ جس نے تجھے جنا ہے ، دوسرا وہ جس نے تجھے علم سکھایا اور تیسرا جس نے تجھے بیٹی دی۔

ہفتہ، 6 جون، 2026

بعثت نبی ﷺ اور حقوق نسواں(۲)

 

بعثت نبی ﷺ اور حقوق نسواں(۲)

حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے دو بچیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بالغ ہو گئیں تو آپ نے اپنی انگلیوں کو قریب کرتے ہوئے فرمایا کہ میں اور وہ قیامت کے دن اس طرح قریب ہوں گے۔ ( صحیح مسلم )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس کی ایک بیٹی ہو وہ اسے زندہ دفن نہ کرے، اس کی توہین نہ کرے، اپنے بیٹے کو اس پر فوقیت نہ دے تو اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا۔ ( ابی دائود )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے بیٹی کو وہ مقام و مرتبہ دیا جس کا زمانہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔ حضور نبی کریم ﷺ اپنی بیٹی کے استقبال کے لیے کھڑے ہو جاتے اور انہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ کلام و گفتگو میں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بڑھ کر کوئی بھی حضور ﷺ سے مشابہ نہیں تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ جب بھی حضرت فاطمہ الزہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہارسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضرہوتی تو آپﷺ انہیں خوش آمدید کہتے اور کھڑے ہو جاتے۔ ان کا ہاتھ پکڑتے، ان کی پیشانی پر بوسہ دیتے اور انہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے۔ (شعب الایمان )۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں حضور نبی کریمﷺ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے متعلق فرمایا تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔ 
اسلام نے عورت کو ماں ، بہن اور بیٹی ہر لحاظ سے عزت دی ہے۔ ایک موقع پر ماں کا مقام بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ’’ماں کی خدمت کو لازم پکڑ لو کیونکہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔ ( مسند احمد )۔
حضور نبی کریم ﷺ کی رضاعی والدہ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاجب آپﷺ کے پاس تشریف لائی تو ان کے احترام میں چادر بچھائی اور کافی دیر تک ان سے گفتگو کرتے رہے۔ اسلام نے عورت کو حقوق دیے جن کی وہ حق دارتھی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور ان  عورتوں کے لیے دستور کے مطابق اسی طرح حقوق ہیں جس طرح ان کی ذمہ داریاں ہیں ‘‘۔ ( سورۃ البقرۃ )۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ماں باپ اور رشتہ داروں نے جو مال چھوڑا ہے اس میں مردوں کا حصہ ہے اور ماں باپ اور رشتہ داروں نے جو مال چھوڑا ہے اس میں عورتوں کا حصہ ہے۔ وہ تھوڑا ہو یا زیادہ یہ حصہ طے شدہ ہے ‘‘۔( سورۃالنساء )۔
الغرض کہ حضور نبی کریم ﷺ نے عورت کا مقام و مرتبہ بلند کیا اسے ماں ، بہن اور بیٹی کا مقدس مقام دیا اور عورت کی عزت نفس کو بحال کیا۔*

جمعہ، 5 جون، 2026

بعثت نبی ﷺ اور حقوق نسواں(۱)

 

بعثت نبی ﷺ اور حقوق نسواں(۱)

اسلام سے قبل عورت کی بالکل بھی عزت و تکریم نہیں کی جاتی تھی ۔ دنیا عورت کو ذلت اور حقارت کی نظر سے دیکھتی تھی ۔ اس کی حثییت صرف بچے پالنے والی لونڈی جیسی تھی ۔ عورت ہر قسم کے حقوق سے محروم تھی اسے گھر میں بند کر دیا جاتا اور شوہر کے سامان میں سے  ایک سامان تصور کی جاتی تھی ۔ 
بیوہ عورت دوسرا نکاح نہیں کر سکتی تھی ۔ عرب میں عورت پر بہت ظلم و ستم کیا جاتا تھا ۔ طلاق کی کوئی حد مقرر نہیں تھی ۔ شوہر کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ نہ رجوع کرے اور نہ ہی اسے کسی سے نکاح کرنے دے ۔ اگر باپ مر جاتا تو اس کی بیویاں اس کے بیٹوں کی میراث سمجھی جاتی تھیں سوائے ان کی حقیقی ماؤں کے ۔ وہ ان سے نکاح کر لیتے یا انہیں فروخت کر دیتے تھے ۔ بیٹیوں کو معیوب سمجھا جاتا تھا اور پیدا ہوتے ہی زندہ در گور کر دیاجاتا تھا ۔ بعض لوگ بیٹی پیدا ہونے پر نادم ہوتے اور لوگوں سے چھتے پھرتے ۔
ارشاد باری تعالی ہے :” ان میں جب کسی کو بیٹی کے پیدا ہونے کی خبر دی جاتی تو دکھ کے مارے اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے ۔ وہ لوگوںسے چھپتا پھرتا کہ اسے کیسی بری خبر ملی ہے ۔ اب ذلت برداشت کرتے ہوئے اسے سنبھالے رکھے یا اسے زمین میں گاڑ دے ۔خبر دار یہ بہت بُرا فیصلہ کرتے ہیں “۔ ( سورۃ النحل )۔ 
ایک قبیلہ کے رئیس کے گھر بیٹی کی ولادت ہوئی تو اس نے گھر میں آنا چھوڑ دیا ۔ ماں بیٹی کو یہ لوریاں دے کر سلاتی تھی ۔ ” وہ ہم سے  اس لیے ناراض ہیں کہ ہم بیٹے نہیں جنتے اس میں ہمیں اپنے چاہنے پر کوئی اختیار نہیں ہے ۔ ہمارا اختیار تو صرف اسی پر ہے جو ہمیں دیا  جائے ۔ہمارے متعلق یہ ہمارے رب کی حکمت ہے “۔ (تفیر الخازن ) 
لیکن جب آمنہ کے لال امت کے غم خوار رحمت دو عالم سرور کائنات ﷺ دنیا میں تشریف لائے تو عورت کو کھویا ہو امقام واپس  مل گیا ۔ آج عورت کو جو بھی مقا م و مرتبہ حاصل ہے وہ حضور نبی کریم ﷺ کی ہی بدولت ہے ۔ جب پوری دنیا عورت کو حقارت کی نظر سے دیکھتی تھی تب حضور نبی کریم ﷺ نے عورت کو عزت بخشی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا جب کسی کے گھر بیٹی پیدا ہو تو اللہ تعالی کے فرشتے اس کے گھر آتے ہیں اور کہتے ہیں اے گھر والو تم پر سلامتی ہو ۔وہ بچی کو اپنے پروں کے سائے میں لے لیتے ہیں اور اس کے  سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتے ہیں ۔یہ ایک کمزور جان ہے جو کمزور جان سے پیدا ہوئی ہے جو اس بچی کی پرورش کرے گا قیامت  تک اللہ تعالی کی مدد اس کے ساتھ شامل رہے گی ۔

جمعرات، 4 جون، 2026

اصلاح معاشرہ اور ہمارا کردار

 

اصلاح معاشرہ اور ہمارا کردار

انسان اپنی سوچ اور افکار و نظریات کے گرد گھومتا ہے۔ یہ وہ کچھ ہی کرتا ہے جو اس کا نظریہ اسے کرنے کو کہتا ہے ۔ اسلام نے ہمیں اچھے اخلاق کو اپنانے کی ترغیب دی ہے ۔ جب انسان کی اخلاقی تربیت اچھی اور مکمل طور پر ہو جاتی ہے تو وہ کبھی  معاشرے میں فتنہ فساد کا سبب نہیں بنتا  اور ہمیشہ معاشرے کی بہتری کے لیے کوشش کرتا ہے ۔ اللہ تعالی نے سورۃ الحجرات میں کچھ احکامات نازل فرمائے جن پر عمل کرکے ہم معاشرے کو امن کا گہوارہ بنا سکتے ہیں ۔ 
معاشرے میں بگاڑ کی ایک وجہ آپس کے لڑائی جھگڑے ہیں ۔ اگر دو گروہوں میں لڑائی ہو جائے تو اسے دوسروں کا معاملہ سمجھ کر الگ ہو کر بیٹھ  جانا یا پھر اس لڑائی کو مزید بڑھانے کا سبب بننا عقل مندی نہیں ۔بلکہ دانشمندی یہ ہے کہ دونوں فریقین کی بات سن کر ان دونوں کے درمیان صلح  کروانے کی ہر ممکن کوشش کرے ۔ 
ارشاد باری تعالی ہے : اگر مومنوں میں سے دو گروہوں کے درمیان لڑائی ہو جائے تو ان کے درمیان صلح کراؤ ، اور اگر ان دونوں میں سے ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو تم سب بغاوت کرنے والے کے خلاف اس وقت تک لڑو جب تک وہ اللہ کے حکم کی طرف نہ لوٹ آئے اور اگر وہ حق کی طرف پھر آئیں تو دونوں کے درمیان عدل اور انصاف سے صلح کراؤ، بیشک اللہ تعالی انصاف کرنے والوں کو ہی پسند فرماتا ہے ۔(سورۃ الحجرات )۔
معاشرے میں بگاڑ کی ایک بڑی وجہ بغیر تصدیق کے کسی بات کو آگے پہنچانا ۔ لیکن قرآن مجید میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کوئی بھی آپ تک  پہنچے تو پہلے اس کی تصدیق کر لیا کرو ۔ ارشاد باری تعالی ہے :اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کر لیا کرو ( کئی ایسانہ ہو ) کہ تم کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچاؤ اور پھر تمہیں اپنے کیے پر ندامت اٹھانی پڑے۔ (سورۃ الحجرات )۔
اللہ تعالی قرآن مجید میں غصے پر قابو پانے اور معاف کرنے کا حکم فرماتا ہے :ارشاد باری تعالی ہے : جو خوشحالی اور تنگی میں راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں اور غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالی (ایسے ہی ) نیک اعمال کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے ۔ (سورۃ الحجرات )۔
ایسے ہی اللہ تعالی نیکی کے کاموں میں تعاون کرنے اور گناہوں سے روکنے کاحکم دیتا ہے ارشاد باری تعالی ہے : نیکی اور پرہیز گاری کے کاموں  میں ایک دوسرے سے تعاون کرو اور گناہ اور ظلم کی باتوں میں تعاون نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو ۔ (سورۃالحجرات )۔

بدھ، 3 جون، 2026

قابلِ رشک لوگ

 

قابلِ رشک لوگ

اللہ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن پر قیامت کے دن انبیاء اور شہدا رشک کریں گے ۔ روایات میں آتا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں ایسے لوگوں کے بارے میں بتاؤں جو نہ پیغمبر ہوں گے اور نہ ہی شہدا لیکن قیامت کے دن پیغمبر اور شہدا ان پر رشک کریں گے ۔ یہ سب ان کے اس مقام کی وجہ سے جو اللہ تعالی انہیں عطا فرمائے گا ۔ وہ نور کے ممبروں پر بیٹھے ہوں گے ۔ عرض کی گئی یا رسول اللہ ﷺ وہ کون لوگ ہوں گے آپﷺ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہوں گے جو اللہ تعالی کے بندوں کو اللہ سے محبت کرنے والا بنائیں اور ان کو اس قابل بنائیں کہ اللہ ان سے محبت کرے اور جب وہ زمین پر چلیں تو لوگوں کا ناصح بن کر ۔ ( شعب الایمان)۔
اللہ تعالی کی ذات سے بڑی کسی کی ذات نہیں اسی طرح اللہ تعالی کی محبت سے بڑھ کر کوئی عمل نہیں ہو سکتا ۔ جب اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ جو اعلی چیز خود اس نے حاصل کی ہے باقی لوگ بھی اسے حاصل کریں اور وہ دوسرے لوگوں کو بھی اللہ تعالی کی معرفت سے آشنا کروا دے اور لوگ سب سے بڑھ کر اللہ تعالی سے محبت کرنے لگ جائیں اور اللہ جل شانہ کی ذات ان کے لیے وہ ہستی بن جائے جو ان کے قلبی سکون کا باعث ہو ۔ جب لوگ اس طرح اللہ تعالی کو اپنا محبوب بنا لیں گے تو ایسے لوگ خود بھی اللہ تعالی کے محبوب بن جاتے ہیں۔ 
بخاری شریف کی روایت ہے حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے جب میرے کسی بندے کا یہ حال ہوتا ہے کہ مجھ سے  ملنا اس کا سب سے محبوب عمل ہے تو میرے لیے بھی اس بندے سے ملاقات کرنا محبوب ہو جاتا ہے ۔  بندہ جب غورو فکر کرتا ہے اور اپنے رب کو پالیتا ہے اور اپنے رب کی دی ہوئی بے شمار نعمتوں کو یاد کرتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ  اللہ تعالی سے بے پناہ محبت کرنے لگ جاتا ہے ۔اور پھر اللہ تعالی بھی اس بندے سے محبت کرنے لگ جاتا ہے اور پھر دنیا سے آخرت تک اللہ تعالی کی رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے ۔
اللہ تعالی سے محبت کاسر چشمہ اللہ تعالی کی نعمتوں کی دریافت ہے ۔اسی دریافت کی وجہ سے انسان کے اوپر آخرت کی اعلی نعمتوں کے دروازے کھل جاتے ہیں۔کسی بندے کے دل میں اللہ تعالی سے محبت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب وہ اللہ تعالی کو اپنے منعم حقیقی کی حثییت سے پہچان لیتا ہے جب بندہ نعمتوں کے ساتھ منعم کی بھی معرفت دریافت کر لے یہی وہ بندہ ہوتا ہے جو اللہ تعالی کو مطلوب  ہوتا ہے اور اسی کو ہی قیامت کے دن اللہ تعالی سے ملاقات کا شر ف حاصل ہو گا۔

طہارت قلبی

  طہارت قلبی انسان کے لیے باطنی اور قلبی طہارت بہت ضروری ہے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ باطن کو ہر قسم کی آلائشوں سے پاک کیا جائے۔ طہارت ت...