جمعرات، 3 ستمبر، 2026

رضاعت مصطفی ﷺ(۲)

 

رضاعت مصطفی ﷺ(۲)

حضرت حلیمہ فرماتی ہیں کہ جب میں آپ ﷺ کو گود میں لے کر خیمہ میں پہنچی تو میرا خاوند اس بوڑھی اور لاغر اونٹنی کی طرف گیا تو اس کی کھیری دودھ سے بھری دیکھی اور بہت خوش ہوا ۔ اس نے دودھ دوہا خود بھی جی بھر کر پیا ، میں  نے بھی سیر ہو کر پیا اور رات کو ہم سب خوب سوئے جب صبح اٹھے تو میرے خاوند نے کہا :’’ اللہ کی قسم اے حلیمہ تو بڑی برکت والی روح لے آئی ہے ۔ میں نے کہا اللہ کی قسم میں بھی یہی امید رکھتی ہوں ۔ ( السیر ۃ الحلبیہ)۔
آپ فرماتی ہیں جب ہمیں بچے مل گئے اور ہمارا قافلہ واپس جانے لگا تو میرے پاس وہی گدھی تھی جو کمزوری کی وجہ سے چل نہیں سکتی  تھی لیکن جیسے ہی میں نبی کریم ﷺ کو لے کر اس پر سوار ہوئی تو میری گدھی ایسے چلی کہ ساری سواریاں پیچھے رہ گئیں ۔ قافلے والیاں کہنے لگیں حلیمہ بتا تو سہی یہ وہی سواری ہے جو قدم اٹھانے سے معذور تھی آپ نے کہا خدا کی قسم یہ وہی سواری ہے لیکن بھلا دیکھو  تو سہی اس پر سوار کون ہے ۔
آپ کہتی ہیں جب ہم اپنی قیام گاہ پہنچے تو یہ علاقہ سب سے زیادہ قحط زدہ تھا گھاس کا ایک تنکا بھی نظر نہیں آتا تھا لیکن جب میری بکریاں  شام کو واپس آتیں تو ان کے پیٹ خوب بھرے ہوتے اور ان کی کھیریاں دودھ سے بھری ہوتیں ہم خوب سیر ہو کر دودھ پیتے۔جب دوسرے لوگوں کی بکریاں واپس آتیں تو ان کے پیٹ خالی ہوتے اور کھیریاں بھی دودھ سے خالی ہوتیں تو اپنے چرواہوں کو ناراض ہوتیں تم وہاں بکریاں کیوں نہیں چراتے جہاں حلیمہ کی بکریاں چرتی ہیں ۔ 
آپ فرماتی ہیں دن بدن انعاما ت وبرکات کا سلسلہ بڑھتا گیا یہاں تک کہ دو سال کا عرصہ پورا ہو گیا اور ہم آپ ﷺ کو حضرت آمنہ کے پاس لے آئے لیکن ہمارا دل جدائی برداشت کر نے کے لیے تیار نہ تھا ۔ ہم نے سیدہ آمنہ سے کہا کہ اپنے فرزند کو مزید کچھ عرصہ ہمارے پاس رہنے دیں ۔ حضرت حلیمہ کے اصرار پر حضرت آمنہ مان گئیں ۔ جب حضرت حلیمہ آپ ﷺ کو لے کر خیمہ پہنچی تو قبیلے والی دوسری عورتیں  بہت خوش ہوئیں ۔ 
حضرت حلیمہ فرماتی ہیں کہ لوگوں کے دلوں میں آپ ﷺ کی محبت ڈال دی گئی تھی جب کوئی بیمار ہوتا تو وہ تکلیف والی جگہ پر آپ ﷺ کا ہاتھ رکھتاتو اللہ تعالی اسے شفا عطا فرماتا ۔ ( السیرۃ الحلبیہ )۔ ایک دفعہ حضرت حلیمہ سعدیہ نے دیکھا کہ ایک بادل کا ٹکڑا دھوپ سے بچانے کے لیے آپ ﷺ پر سایہ کر رہا تھا آپ ﷺ کھڑے ہوتے  تو رک جاتا جب آپ ﷺ چلتے تو بادل کا ٹکڑا بھی چل پڑتا ۔ ( السیرۃ الحلبیہ )

بدھ، 2 ستمبر، 2026

رضاعت مصطفی ﷺ(۱)

 

رضاعت مصطفی ﷺ(۱)

کسی ماں کی گود میں آنے والا بچہ عموما ً اس گھر کی خوشی ہوتا ہے ۔ مگر جب وہ بچہ اللہ کا محبوب اور رحمت دو عالم ﷺ ہو تو اس گھر کی  سعاد ت کا اندازہ الفاظ سے نہیں کیا جا سکتا ۔ دنیا میں ایسے بے شمار بچے دیکھے جو وقت کے ساتھ بڑے ہوئے اور پھر گمنامی میں کھو  گئے ۔ لیکن ایک بچہ ایسا بھی تھا جس کی آمد نے ایک گھر کو ایسی نسبت عطا کر دی کہ صدیوں بعد بھی اس کا ذکر عقیدت سے کیا جاتا  ہے ۔ یہ سعادت حضرت حلیمہ سعدیہ کے حصے میں آ ئی ۔ 
مکہ مکرمہ کی فضا میں پرورش پانے والے اس نور مجسم کو جب حضرت حلیمہ سعدیہ اپنی آغوش میں لے کر اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئی تو انہیں شاید یہ معلوم نہ تھا کہ وہ اپنے ساتھ محض ایک بچہ نہیں بلکہ رحمت ، برکت اور انسانیت کے سب سے عظیم محسن ﷺ کو  لے کر جا رہی ہے ۔ ان کی گود کو وہ شرف ملنے والا تھا جس کا تصور بھی عام انسانی سعادتوں سے بلند ہے ۔ ان کے گھر کی سادگی کو  ایسی نسبت نصیب ہونے والی تھی جس کے سامنے دنیا کی ہر ظاہری شان ماند پڑ جاتی ہے ۔ 
مکہ مکرمہ میں یہ رواج تھا کہ جب بچہ پیدا ہوتا تو مختلف قبائل کی عورتیں آتیں اور بچوں کو پالنے کے لیے لے جاتیں تا کہ رضاعت ختم ہونے کے بعد ان کے والدین سے انعام و اکرام لے سکیں ۔ قبیلہ بنی سعد کی چند خواتین بچوں کی تلاش کے لیے مکہ مکرمہ آ ئیں ، ان کے ساتھ حضرت حلیمہ سعدیہ بھی تھیں ۔ 
حضرت حلیمہ اپنا حال بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ یہ قحط اور خشک سالی کا موسم تھا ہمارے پاس کچھ نہ تھا ہم کمزور گدھی پر سوار ہو کر قافلے کے ساتھ نکلے ۔ ساتھ ایک اونٹنی بھی تھی جس کی کھیری میں دود ھ کا ایک قطرہ بھی نہ تھا ۔میری چھاتی میں بھی اتنا دودھ  نہیں تھا کہ میرا بچہ پیٹ بھر کے پی سکے وہ بھوک کی وجہ سے ساری رات روتا تھا ۔ 
مکہ پہنچ کر ساری عورتیں بچے کی تلاش میں گھر گھر چکر لگانے لگیں لیکن جب حضرت آمنہ کے گھر جاتیں توآپ ﷺ کو یتیم سمجھ کر چھوڑ دیتیں ۔آپ فرماتی ہیں کہ ہر عورت کو بچہ مل گیا لیکن میری غربت اور تنگدستی کی وجہ سے کسی نے مجھے بچہ نہ دیا ۔آخرمیں 
میں نے اپنے خاوند سے کہا کہ ہم اس یتیم بچے کو لے آتے ہیں کم از کم خالی گود تو واپس نہ جائیں ۔ آپ فرماتی ہیں جب میں نےآپ ﷺ کو دیکھا تو حسن وجمال کو دیکھ کر حیرت میں پڑ گئی ، جب آپ ﷺ نے آنکھیں کھولیں تو آنکھوں سے انوار نکل رہے تھے ۔ میں نے بے اختیار آپ ﷺ کی پیشانی کو بوسہ دیا اور اٹھا کر سینے سے لگا لیا ۔

منگل، 1 ستمبر، 2026

حضور نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارک (۳)

 

حضور نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارک (۳)

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم رؤف الرحیم ﷺ جب مدینہ منورہ کی کسی گلی سے گزرتے تو اس کے بعد وہ راستے میں مشک کی خوشبو پاتے اور کہتے تھے اس راستے سے نبی کریم ﷺ کا گزر ہوا ہے ۔ ( مجمع الزوائد)۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب نبی کریم ﷺ ہماری طرف تشریف لاتے تو ہم آپ ﷺ کی پاکیزہ خوشبو سے پہچان لیتے کہ آپ ﷺ تشریف لا رہے ہیں ۔ ( معجم الاوسط )۔
نبی کریم ﷺ کی آنکھیں بھی نہایت خوبصورت ، کشادہ اور پر کشش تھیں ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک سرمہ دانی تھی جس سے آپ ﷺ اپنی دونوں آنکھوں میں تین تین سلائی سرمہ لگاتے تھے ۔ ( ابن ماجہ )۔
نبی کریم ﷺ اپنی چشمان مبارک میں سرمہ لگاتے تھے لیکن قدرتی طور پر بھی آپ ﷺ کی آنکھیں سرمگین تھیں ۔جیسا کہ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب میں رسول اللہ ﷺ کی طرف دیکھتا تو کہتا کہ آپ کی آنکھوں میں سرمہ لگا ہوا ہے حالانکہ آپ ﷺ کی  آنکھوں میں سرمہ نہ ہوتا تھا ۔ ( ترمذی )۔
حضور نبی کریم ﷺ کی بصارت بھی کمال تھی۔ آپ ﷺ جیسے آگے دیکھتے تھے ویسے پیچھے دیکھتے اور جس طرح نزدیک دیکھتے تھے ویسے دور بھی دیکھتے تھے ۔ 
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی اور پھر آپ ﷺ منبر پر تشریف لے گئے اور نماز اور  رکوع کے متعلق فرمایا، بیشک میں تمہیں اپنے پیچھے بھی ایسے ہی دیکھتا ہو جس طرح تمہیں سامنے دیکھتا ہوں ۔ ( بخاری )۔
صحیح مسلم میں حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ تعالی نے تمام روئے زمین کو میرے لیے سمیٹ  دیا تو میں نے اس کے مشارق و مغارب کو دیکھ لیا ۔حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا بیشک میں وہ کچھ  دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ ( ترمذی)۔
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ کی قسم میں اب بھی اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں ۔ ( بخاری )۔ حضور نبی کریم ﷺ کے حسن و جمال کو صحابی رسول حضرت حسان بن ثابت اس طرح بیان فرماتے ہیں:
 و احسن منک لم تر قط عینی
واجمل منک لم تلد لانساء 
خلقت مبر اء من کل عیب 
کانک قد خلقت کما تشاء

پیر، 31 اگست، 2026

حضور نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارک (۲)

 

حضور نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارک (۲)

نبی کریم ﷺ کے بال مبارک خوب سیاہ تھے اور داڑھی مبارک نہات خوبصورت ، معتدل اور گنجان تھی ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان  کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کے بال درمیانے تھے۔ نہ بالکل سیدھے اور نہ ہی بالکل گھنگریالے۔ آپ ﷺ کے بال کانوں اور کندھوں کے درمیان تھے ۔ ( بخاری )۔  حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی داڑھی مبارک کے بال بہت زیادہ تھے ۔ (مسلم شریف )۔
حضور نبی کریم ﷺ کے موئے مبارک بھی با برکت تھے صحابہ کرام انہیں اپنے پاس رکھنا باعث برکت سمجھتے تھے ۔ حضرت ابن سیرینؓ کہتے ہیں میں نے عبیدہ ؓ سے کہا ہمارے پاس نبی کریم ﷺ کے بال مبارک ہیں جو ہمیں حضرت انس ؓ کی طرف سے یا ان کے گھر والوں کی طرف سے ملے تھے ۔ حضرت عبیدہ ؓ نے کہا میرے پاس نبی کریم ﷺ کے بال مبارک کا ہونا مجھے دنیا اور جو کچھ اس دنیا میں ہے،  سے  زیادہ محبوب ہے ۔ ( بخاری )۔
کنزل العمال میں  ہے کہ حضرت علیؓ فرماتے ہیں میں نے خود نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا جس نے میرے ایک بال کی بھی توہین کی اس  پر جنت حرام ہے ۔ 
حضور نبی رحمت ﷺ کا پسینہ بھی خوشبو دار تھا۔ آپ ﷺ کے پسینے جیسی خوشبو مشک اور عنبر سے بھی نہیں آتھی تھی ۔ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے اور قیلولہ فرمایا ،آپ ﷺ کو پسینہ آیاتو میری والدہ ایک شیشی میں پسینہ جمع کرنے لگیں۔ نبی کریم ﷺ جاگ گئے اور فرمایا اے ام سلیم یہ آپ کیا کر رہی ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا یہ آپ ﷺ کا پسینہ ہے اس کو ہم خوشبو میں ڈالیں گے اور یہ سب سے عمدہ خوشبو ہے ۔ ( مسلم )۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کے  پسینہ مبارک کے قطرات موتیوں کی طرح ہیں اور آپ ﷺ کے پسینہ کی خوشبو عمدہ مشک سے بھی زیادہ خوشبودار ہے ۔ ( الائل النبوہ )۔
اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کے جسم اطہر کو بھی خوشبودار بنایا تھا یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی آپ ﷺ سے مصافحہ کرتا تو دن بھر آپ ﷺ  کی خوشبو محسوس کرتا تھا ۔
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں میں نے کسی ریشم کو نبی کریم ﷺ کی ہتھیلی سے زیادہ نرم محسوس نہیں کیا اور میں نے کبھی کوئی خوشبو یا عطر نہیں سونگھاجو نبی کریم ﷺ کے (جسم اطہر ) کی خوشبو یا آپ ﷺ کے عطر یعنی پسینہ سے زیادہ خوشبودا ر ہو ۔ ( بخاری )۔

اتوار، 30 اگست، 2026

حضور نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارک (۱)

 

حضور نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارک (۱)

دنیا میں حسن کے بے شمار پیمانے قائم کیے گئے مگر جب نگاہ عقیدت مدینہ منورہ کے تاجدارحضرت آمنہ کے لال رحمت ِ دو عالم جانِ کائنات  حبیب خدا احمد مجتبی ﷺ کے سراپا اقدس پر پڑتی ہے تو حسن و جمال کے تمام تصورات ماند پڑجاتے ہیں آپ ﷺ کی ذات اقدس میں صر ف اخلاق و کردار ہی میں کامل نہ تھی بلکہ اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو ظاہری حسن و جمال کی بھی بے مثال نعمت عطا فرمائی تھی ۔ 
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ ﷺ کے حلیہ مبارک کو جس محبت ، ادب اور عقیدت سے بیان کیا وہ دراصل ان کے دلوں میں  موجود عشقِ مصطفی ﷺ کی روشن تصویر ہے ۔ آپ ﷺ چہر انور نور کی طرح روشن ، تبسم دل آویز ، شیرینی گفتگو اور سراپا ایسا با وقار تھا کہ دیکھنے  والا بے اختیار آ پ ﷺ کی عظمت کا اسیر ہو جاتا تھا ۔ 
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ نہ بہت لمبے اور نہ بہت چھوٹے تھے یعنی درمیانے قد کے تھے، آپ ﷺ کارنگ نہ بہت سفید اور نہ بہت گندمی تھا ، آپ ﷺ کے بال نہ سخت گھنگریالے اور نہ بالکل سیدھے تھے ۔ (بخاری )۔
حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول خدا ﷺ کا قد درمیانہ ، دونوں کندھوں کے درمیان کا حصہ چوڑا ، داڑھی گھنی ، رنگت سرخی مائل  تھی ۔ آپ ﷺ کی زلفیں کانوں کی لوؤں تک تھیں ، میں نے آپ ﷺ کو سرخ حلہ میں دیکھا ، میں نے آپ ﷺ سے زیادہ خوبصورت کوئی نہیں دیکھا۔ ( نسائی )۔
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے ایک چاندنی رات نبی کریم ﷺ کو سرخ لباس پہنے ہوئے دیکھا میں رسول اللہ ﷺاور چاند کو دیکھنے لگا تو نبی کریم ﷺ چاند سے زیادہ خوبصورت تھے ۔ ( ترمذی )۔
ام المئومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے تمام روئے زمین کے مشارق و مغارب کو الٹ پلٹ کر کے دیکھا ، میں نےکسی کو نبی کریم ﷺ سے افضل نہیں پایا ۔ ( معجم الاوسط )۔
حضور نبی رحمت ﷺ کا چہرہ اقدس جمال کا مظہر تھا اور اللہ تعالی کی انوار تجلیات کا مرکز و محور تھا ۔حضرت حارث بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں منیٰ یا عرفات میں نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ،آپ ﷺ کی زیارت کے لیے لوگ تشریف لا رہے تھے ۔جو بھی اعرابی  آپ ﷺ کے چہر ہ انور کو دیکھتا تو کہتا یہ بڑا با برکت چہر ہ ہے ۔ ( ابو داؤد )۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالی نے جو بھی نبی بھیجا وہ خوبصورت چہرے والا اور دلکش آواز والا ہے اور تمہارے نبی ﷺ کا چہرہ اور آواز سب سے زیادہ خوبصورت ہے ۔ ( المواہب اللدنیہ )۔

ہفتہ، 29 اگست، 2026

ولادت مصطفی ﷺ

 

ولادت مصطفی ﷺ 

حضور نبی کریم ﷺ کی آمد سے قبل عرب اور پوری دنیا کے حالات بہت خراب تھے ہر طرف تاریکی چھائی ہوئی ۔لوگ کفر شرک میں مبتلا  تھے یہاں تک کہ خانہ کعبہ میں بھی 360 بت رکھے ہو ئے تھے ۔ غلاموں اور عورتوں کی بالکل بھی عزت نہیں تھی اگر بیٹی پیدا ہوتی تو اسے  زندہ درگور کر دیا جاتا تھا ۔ہر طرف قتل و غارت اور جنگ و جدل عام تھی ۔ اللہ تعالی نے انسانیت کو اس تاریکی سے نکالنے کے لیے اپنا محبوب  بھیجا جن کی آمد سے تاریکیوں کو روشنی مل گئی ، خانہ کعبہ میں پڑے بت گر پڑے ، یتیموں کو ان کا حق مل گیا ، غلاموں کو ان کا کھویا ہوا مقام  ملا اور آپ ﷺ کی آمد سے عورتوں کو مقام و مرتبہ ملا ۔ 
حضرت عبد المطلب بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی تو اس وقت میں خانہ کعبہ میں تھا۔ میں نے دیکھا کہ  کعبہ معظمہ میں رکھے بت گِر پڑے ۔ ( السیرہ النبویہ )۔
اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ جب تم پر میرا فضل اور رحمت ہو تو خوشی مناؤ ۔ ارشاد باری تعالی ہے :(اے محبوب ﷺ ) تم  فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں“۔(سورہ یونس :آیت ۸۵)۔  حضور نبی رحمت ﷺ اللہ تعالی کا فضل عظیم اور رحمت عظیم ہیں اس سے بڑھ کر اور اللہ تعالی کا فضل کیا ہو سکتا ہے کہ ہمیں اپنا محبوب عطا فرمایااور ان کا امتی بنا کر ظلمت کے اندھیروں سے نکالا ۔ نبی کریم ﷺ کی آمد سے قبل انسان اپنی اصل منزل سے دور اور زندگی کے حقیقی مقصد سے بے خبر تھا ۔نبی کریم ﷺ نے آ کر انسان کو اس  کے رب سے جوڑا ، عدل و انصاف سکھایا اور یہ بتایا کہ انسان کی عظمت مال ، نسب یا طاقت میں نہیں بلکہ تقوی ، کردار اور اطاعت الہی میں  ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ کی ولادت با سعادت کا ذکر کرتے ہوئے الفاظ اپنی تمام تر وسعت کے باوجود محدود محسوس ہوتے ہیں کیونکہ جس  ہستی کی آمد پوری انسانیت کے لیے رحمت بن کر ہوئی اس کی عظمت کو چند جملوں میں سمیٹنا ممکن نہیں ۔
ہمیں ولادت مصطفی ﷺ کو ایک رسم یا چند تقریبات تک محدود نہیں کر نا چاہیے بلکہ اس کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے دلوں میں محبت مصطفی ﷺ کو زندہ کریں اور اسی محبت کو اپنے کردار اور اعمال سے ظاہر کریں ۔  اگر ماہ ربیع الاول ہمیں درود سلام کی کثرت کے ساتھ سیرت مصطفی ﷺ کو اپنی زندگی میں اتارنے کا شعور دے دے ، کسی مظلوم کے لیے ہمارے دل میں رحم پیدا ہو جائے، کسی ضرورت مند کا ہاتھ تھامنے کی توفیق مل جائے اور اگر ہماری زندگی کا کوئی ایک گوشہ سنت نبوی ﷺ  کے نور سے روشن ہو جائے تو یہی ولادت مصطفی ﷺ کے تذکرے کی حقیقی برکت ہے ۔

جمعہ، 28 اگست، 2026

ولادت مصطفی ﷺ (۱)

 

ولادت مصطفی ﷺ (۱)

تاریخ کے اوراق میں بے شمار واقعات رقم ہوئے، سلطنتیں وجود میں آئیں اور مٹ گئیں ، بڑے بڑے فاتحین دنیا کے نقشے پر ابھرے اور وقت کی گرد میں گم ہو گئے مگر ایک واقعہ ایسا ہے جس کی تابانی صدیوں کے گزرنے کے باوجود ماند نہیں پڑی ۔ یہ عظیم واقعہ نبی کریم  رؤ ف الرحیم ﷺ کی ولادت با سعادت کاہے جب مکہ کی وادی میں 12 ربیع الاول کو صبح صادق دنیا بھر کے قبیلوں میں سے بہتر قبیلے  اور خاندانوں میں سے بہترین خاندان میں حضرت آمنہ اور حضرت عبد اللہ کے گھر وہ آفتاب طلوع ہوا جس کی کرنوں نے صرف عرب  کی سرزمین ہی کو نہیں بلکہ پوری انسانیت کے دل و دماغ کو منور کر دیا ۔ 
حضرت مطلب بن ابی وادعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب ہوں ۔  اللہ تعالی نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو مجھے سب سے بہتر مخلوق میں رکھا پھر ان کے دو گروہ بنائے تو مجھے سب سے بہتر گروہ میں رکھا پھر ان  کے قبائل بنائے تو مجھے سب سے بہتر قبیلہ میں رکھا پھر ان کے گھر انے بنائے تو مجھے اپنے گھرانے اور ذات کے اعتبار سے سب سے  بہتر بنایا ۔ ( ترمذی )۔

حضور نبی کریم ﷺ کا خاندان و نسب و شرافت میں تمام دنیا کے خاندانوں سے افضل و اعلی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ  کے دشمن کفار مکہ بھی اس کا انکار نہیں کرتے تھے ۔ حضرت ابو سفیان نے جب وہ ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے بادشاہ روم کے سامنے اس  بات کا اقرار کیا کہ نبی اکرم ﷺ ” عالی خاندان “ ہیں ۔ ( بخاری شریف)
مسلم شریف کی روایت ہے کہ اللہ تعالی نے حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے ”کنانہ “ کو برگزیدہ بنایا اور ”کنانہ “ میں سے” قریش“ کو اور قریش میں سے بنی ہاشم کو منتخب فرمایا ۔ یعنی حضور نبی کریم ﷺ کا خاندان اس قدر بلند و بالا ہے کہ کوئی بھی حسب و نسب والا آپ ﷺ  کی مثل نہیں ۔*

رضاعت مصطفی ﷺ(۲)

  رضاعت مصطفی ﷺ(۲) حضرت حلیمہ فرماتی ہیں کہ جب میں آپ ﷺ کو گود میں لے کر خیمہ میں پہنچی تو میرا خاوند اس بوڑھی اور لاغر اونٹنی کی طرف گیا ت...