طہارت (۱)
ایمان کے بعد بندے پر سب سے پہلے جو چیز فرض ہے وہ طہارت حاصل کرنا ہے تا کہ نماز ادا کر سکے ۔طہارت سے مراد نجاست اورجنابت سے بدن کو پاک کرنا ہے ۔انسان کی حقیقی خوب صورتی صرف اس کے لباس ، صاف بدن اور ظاہری آراستگی میں نہیں بلکہ اس دل کی پاکیزگی میں بھی پوشیدہ جس دل میں اللہ تعالی کی محبت ، خوف خدا ، اخلاص اور حسن ِ اخلاق جگہ بناتے ہیں ۔
طہارت کی دو قسمیں ہیں ایک ظاہری طہارت اور دوسری باطنی یا دل کی طہارت ۔ جسم کی طہارت کے بغیر نماز درست نہیں ہوتی اسی طرح دل کی طہارت کے بغیر معرفت صحیح نہیں ہوتی ۔ جسمانی طہارت کے لیے صاف پانی کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح دل کی طہارت کے لیے خالص توحید کا اعتقاد ہونا ضروری ہے جس میں کسی قسم کی آمیزش یا گندگی نہ ہو ۔
جب انسان کا ظاہر بھی پاک ہو اور باطن بھی صاف ہو تو اس کی شخصیت عبادت ، اخلاق اور معاملات میں حسین توازن اختیار کر لیتی ہے۔ یہی پاکیزگی انسان کو اللہ تعالی کی رضا کے قریب اور معاشرے کے لیے باعث خیر بناتی ہے ۔ صوفیائے کرام ہمیشہ ظاہری طور پر طہارت سے متصف ہوتے ہیں اور باطنی اعتبار سے توحید سے مزین ہوتے ہیں ۔
ارشاد باری تعالی ہے :’’ بیشک اللہ پسند کرتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتا ہے ستھروں کو ‘‘۔ فرمان ِ مصطفی ﷺ ہے : ہمیشہ با وضو رہو دونوں محافظ فرشتے تمہیں دوست رکھیں گے ۔
جو شخص ہمیشہ ظاہری طہارت سے رہتا ہے اسے فرشتے دوست رکھتے ہیں اور جو اپنے باطن کو توحید سے آراستہ کر لیتا ہے اسے اللہ تعالی اپنادوست بنا لیتا ہے ۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ظاہری اور باطنی طہارت دونوں ایک ساتھ چلیں ۔جب بندہ ہاتھ دھوئے تو دل سے دنیا کی محبت بھی دھو ڈالے ۔جب منہ میں پانی ڈالے تو اسے چاہیے کہ زبان کو غیر کے ذکر سے فارغ کر دے ۔ جب ناک میں پانی ڈالے تو آئندہ کے لیے شہوت کی بو بھی نہ سونگھنے کا عہد کرے ، جب چہرے کودھوئے تو تمام مالوفات کو بھی نکال دے اور اپنی توجہ حق کی طرف مبذول کر لے ، جب مسح کرے تو اپنے تمام امور اللہ تعالی کے سُپرد کر دے اور جب پاؤں دھوئے تو اللہ تعالی کے حکم کے سوا کسی چیز پر نہ ٹھہرنےکا عہد کرے تا کہ بندے کو ظاہری اور باطنی دونوں عبادتیں حاصل ہو ں ۔






