جمعرات، 23 اپریل، 2026

حقوق العباد (۱)

 

  حقوق العباد (۱)

ہر انسان پر یہ بات لازم ہے کہ جب وہ دوسروں سے ملے تو اسے سلام کہے ، جب کوئی اسے دعوت دے تو اس کی دعوت کو قبول کرے ، جب اسے چھینک آئے تو اس کا جواب دے ، جب وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت کرے ، جب وہ مر جائے تو اس کے جنازے میں شریک ہو ، اس کی غیر موجودگی میں اس کی غیبت نہ کرے اور اس کے لیے وہ کچھ ہی پسند کرے جو اپنے لیے کرتا ہے اور جو چیز اپنے لیے نا پسند کرتا ہے اسے دوسروں کے لیے بھی ناپسند کرے۔
 حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : تجھ پر مسلمانوں کے چار حق ہیں ، ان کی نیک کاموں میں   امداد کر، بْرے کے لیے مغفرت طلب کر ، جو مر جائے اس کے لیے دعا مانگ اور تو بہ کرنے والے کے ساتھ محبت رکھ۔ 
ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’وہ آپس میں رحم کرنے والے ہیں ‘‘۔ اس کی تفسیر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ان کے نیک بْروں کے لیے اور بْرے نیکوں کے لیے دعا کرتے ہیں۔ جب کوئی گناہ گار شخص حضورﷺ کی امت کے نیک مرد کو دیکھتا ہے تو کہتا ہے اے اللہ تو نے اسے جوبھلائی عطا کی ہے اس میں برکت دے اسے ثابت قدم رکھ اور ہمیں اس کی برکتیں عطا فرما۔ اور جب کوئی نیک شخص کسی گناہ گار کو دیکھتا ہے تو کہتا ہے
اے اللہ اسے ہدایت دے اس کی توبہ قبول فرما اور اس کی غلطیوں کو معاف فرما۔ 
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : ایک دوسرے سے محبت کرنے اور باہم مشقت کرنے میں مسلمانوں کی مثال ایک جسم جیسی ہے ، جب جسم کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتا ہے تو سارا جسم اس کے احساس اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ حضرت ابو موسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مسلمان ، مسلمان کے لیے دیوار کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے کو تقویت دیتا ہے۔ 
یہ بھی مسلمانوں کے حقوق میں شامل ہے کہ کوئی مسلمان اپنی زبان یا کسی فعل سے دوسرے مسلمان کو دکھ نہ پہنچائے۔
حضور نبی کریمﷺ نے لوگوں کو اچھی عادات اپنانے کے متعلق حکم فرمایا۔ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا اگر تم یہ نہیں کر سکتے ہو تو لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھو۔ یہ تمہارے لیے صدقہ ہے جو تم نے اپنی ذات کے لیے دیا ہے۔ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا :افضل مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان محفوظ رہیں۔*

بدھ، 22 اپریل، 2026

صراطِ مستقیم (۲)۔

 

صراطِ مستقیم (۲)۔

جب بندہ اللہ تعالی سے نماز میں یہ دعا مانگتا ہے کہ اے اللہ مجھے سیدھے راستے پر چلا تو ساتھ ہی یہ بھی دعا مانگتا ہے کہ اپنے انعام یافتہ بندوں کے راستے پر چلا ۔
ارشاد باری تعالی ہے :’’ راستہ ان کا جن پر تو نے احسان کیا نہ کہ ان کا جن پر غضب ہوا اور نہ بہکے ہوؤں کا ‘‘۔ ( سورۃ الفاتحہ )۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کے انعام یافتہ لوگ کون ہیں اس بارے میں ہمیں قرآن مجید سے راہ نمائی ملتی ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :’’ اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرتے ہیں  وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے فضل کیا۔ یعنی انبیاء اورصدیقین اور شہدا اور صالحین اور یہ کتنے اچھے ساتھی ہیں ‘‘۔ ( سورۃ النساء )۔
یعنی ہمیں انبیاء ، صدیقین ، شہدا اور صالحین کے راستے پر چلنا چاہیے یہی وہ ہستیاں ہیں جن پر اللہ تعالی نے اپنا خاص فضل و کرم فرمایا ہے ۔ 
اللہ تعالی نے انسان کو ہدایت حاصل کرنے اور صراط مستقیم پر چلنے کے لیے بہت سے ذرائع عطا فرمائے ہیں ۔انسان کی ظاہری اور باطنی صلاحتیں جنہیں استعمال کر کے وہ ہدایت حاصل کر سکتا ہے ۔ آسمانوں اور زمینوں میں اللہ تعالی کی قدرت و وحدانیت پر  دلالت کرنے والی نشانیاں جن میں غورو فکر کر کے انسان ہدایت حاصل کر سکتا ہے ۔
قرآن مجید سے اپنا تعلق مضبوط کرکے اور اس کے معانی و مطالب پر غورو فکر کر کے بندہ سیدھے راستے پر گامزن ہو سکتا ہے ۔ کیونکہ قرآن مجید ہمارے لیے سرچشمہ ہدایت ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :’’ بیشک یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو سب سے سیدھی ہے اور خوشی سناتا ہے ایمان والوں کو جو اچھے کام کریں۔ ان کے لیے بڑاثواب ہے ‘‘۔ ( سورۃ الاسراء )۔
نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھ کر ہم صراط مستقیم پر چل سکتے ہیں ۔کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ صالحین میرے انعام یافتہ بندوں 
میں سے ہیں ۔ بندہ صراط مستقیم سے تب بھٹک جاتا ہے جب وہ خواہشات نفس کی پیروی کرتا ہے ، شیطان کی وسوسہ اندازی ، دنیا کی محبت ، اور دین سے غفلت یہ وہ چیزیں ہیں جن کی وجہ سے بندہ سیدھے راستے سے بہک جاتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ’’اے داؤد بیشک ہم نے تجھے زمین میں نائب کیا تو لوگوں میں سچا حکم کر اور خواہش کے پیچھے نہ جانا کہ تجھے اللہ کی راہ سے بہکا دے گی ۔ (سورۃ ص)۔
اللہ تعالی ہمیں صراط مستقیم پر چلنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنے نیک بندوں کی صف میں کھڑا فرمائے ۔آمین ۔

منگل، 21 اپریل، 2026

صراطِ مستقیم (۱)

 

  صراطِ مستقیم (۱)

انسان کی زندگی ایک سفر ہے اور ہر سفر کا ایک واضح راستہ درکار ہوتا ہے۔ اگر راستہ سیدھا ، متوازن اورمنزل تک پہنچانے والا ہو تو انسان کامیاب ہو جاتا ہے اور اگر راستہ ٹیڑھا ، گمراہ کن اور خواہشات نفس کے تابع ہو تو انسان خسارے میں پڑجاتا ہے اور کبھی بھی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ اسلام نے ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی تلقین کی ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جو رضا ئے الٰہی ،نجات ، اور کامیابی کی طرف لے کر جاتا ہے۔ہم دن میں جب پانچ وقت نماز ادا کرتے ہیں تو ہر نماز میں اللہ تعالیٰ سے صراط مستقیم پر چلنے کی دعا مانگتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ہم کو سیدھا راستہ چلا ‘‘۔ ( سورۃ الفاتحہ )
ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے سیدھے راستے پر چلنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی دعا مانگتا رہے۔کیونکہ سیدھا راستہ ہی انسان کو منزل مقصود تک پہنچاتا ہے۔ ایمان والے اللہ تعا لیٰ سے اس طرح دعا مانگتے ہیں۔
ترجمہ:’’ اے ہمارے رب تو نے ہمیں ہدایت عطا فرمائی ہے اس کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما بیشک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے ‘‘۔ ( سورۃ اٰل عمران )
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ کثرت سے یہ دعا مانگا کرتے تھے۔
ترجمہ : اے دلوں کو پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کی یا رسول اللہﷺ ہم آپ پر اور جو کچھ آپ لائے ہیں اس پر ایمان رکھتے ہیں تو کیا آپ کو ہمارے بارے میں کوئی خوف ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :ہاں بیشک دل اللہ تعالیٰ کی (شان کے لائق اس کی ) انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے وہ جنہیں چاہتا ہے انہیں پھیر دیتا ہے۔(ترمذی )۔
سورۃ الانعام میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’ اور یہ کہ یہ ہے میرا سیدھا راستہ ہے تو اس پر چلو اور راہیں نہ چلو کہ تمہیں اس کی راہ سے جدا کر دیں گی ‘‘۔
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی نے واضح فرما دیا ہے کہ صراط مستقیم صرف ایک ہی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا مقررہ کردہ راستہ ہے اس کے علاوہ جنتے بھی راستے ہیں وہ گمراہی کی طرف لے جانے والے ہیں۔ صراط مستقیم پر چلنے کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ بندہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری کر ے۔’’ اورجو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے اس نے بڑی کامیابی پائی ‘‘۔ (سورۃالاحزاب)۔

پیر، 20 اپریل، 2026

باطنی اصلاح(۲)

 

باطنی اصلاح(۲)

اللہ تعالیٰ نے نفس امارہ کی مخالفت کا حکم فرمایا ہے اور ان لوگوں کی تعریف کی ہے جو اپنے نفس کی پیروی نہیں کرتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’اور جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہشات سے روکا۔ تو بیشک جنت ہی اس کا ٹھکانہ ہے ‘‘۔(النازعات )۔
سورۃ یوسف میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ’’اور میں اپنے نفس کو بے قصور نہیں بتاتا بیشک نفس تو بْرائی کا بڑا حکم دینے والا ہے جس پر میرا رب رحم کرے۔ بیشک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے ‘‘۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تمہارا سب سے بڑا دشمن تمہارا نفس ہے جو تمہیں بْرے کاموں میں مبتلا کر کے ذلیل خوار کراتا ہے اور طرح طرح کی مصیبتوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت دائودؑ سے ارشاد فرمایا :اے دائودؑ اپنے نفس کی مخالفت کرو کیونکہ میری محبت نفس کی مخالفت میں ہے۔
سور ۃ الاعراف میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :’’ اور اپنی خواہش کے تابع ہوا تو اس کاحال کتے کی طرح ہے تو اس پر حملہ کرے تو زبان نکالے اور چھوڑ دے تو زبان نکالے۔ یہ حال ہے ان کا جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں۔
نفس کی اقسام کو سمجھنے کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انسان کی اصل کامیابی نفس امارہ سے نکل کر نفس مطمئنہ تک پہنچنے میں ہے یہ سفر آسان نہیں بلکہ مسلسل جد و جہد ، محاسبہ اور تزکیہ کا متقاضی ہے۔نفس کی اصلاح کے لیے انسا ن کو عملی طور پر کوشش کرنی چاہیے۔نفس کو پاک کرنے کا سب سے پہلا ذریعہ ذکر الٰہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ خبر دار دلوں کا اطمینان اللہ کے ذکر میں ہے۔ (سورۃ الرعد )
دوسرا اہم ترین ذریعہ نماز کی پابندی ہے کیونکہ نماز انسان کو بْرائی اور بے حیائی سے روکتی ہے۔تیسرا ذریعہ روزہ ہے جو نفس کی خواہشات کو کمزور کرتا ہے اور انسان کو صبر و ضبط سکھاتا ہے۔ اسی طرح صالحین اور نیک لوگوں کی صحبت بھی نفس کی اصلاح میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔نیک لوگوں کی صحبت انسان کے دل کو نرم کرتی ہے اور اسے نیکی کی طرف راغب کرتی ہے۔ حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے اس لیے دیکھو کہ تم کس سے دوستی کر رہے ہو۔
اگر انسان اپنے نفس کی خواہشات کو ترک کر دے تو وہ اسے امیر بنا دیتی ہے اور اگر خواہشات کی پیروی کرے تو اے قیدی بنا دیتی ہے۔ جیسے زلیخا نے اپنے نفس کی پیروی کی تو امیر سے اسیر بن گئی اور حضرت یوسف ؑ نے اپنی خواہش کو ترک کیا تو اسیر سے امیر بن گئے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے نفس کو پہچاننے اس کی اصلاح کرنے اور اسے درجہ مطمئنہ تک پہنچانے کی تو فیق عطا فرمائے۔ آمین۔

اتوار، 19 اپریل، 2026

باطنی اصلاح(۱)

 

  باطنی اصلاح(۱)

انسان کے وجود میں ایک ایسی قوت بھی موجود ہے جو اس کی سوچ ، ارادوں اور اعمال کو متاثر کرتی ہے۔ اسے ’’نفس ‘‘ کہتے ہیں۔نفس انسان کے اندر موجود وہ باطنی محرک ہے جو کبھی اسے نیکی کی طرف مائل کرتا ہے اور کبھی برائی کی طرف لے کر جاتا ہے۔ نفس کی پہچان اور اس کی تربیت ہی در اصل انسان کی کامیابی کا بنیادی معیار ہے۔ نفس کے اندر خیر و شر دونوں رجحانات موجود ہیں اور انسان کا امتحان اسی کشمکش میں ہے کہ وہ کس راستے کا انتخاب کرے۔
ارشاد باری تعالیٰ: اور جان کی اور اس کی جس نے اسے ٹھیک بنایا۔ پھر اس کی بدکاری اور اس کی پرہیز گاری دل میں ڈالی۔ (الشمس)حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ﷺان آیات مبارکہ کی تلاوت فرماتے تو رک جاتے اور یہ دعا فرماتے۔اے اللہ میرے نفس کو تقویٰ عطا فرما ، اس کو پاکیزہ کر تو سب سے بہتر پاک کرنے والا ہے ، توہی اس کا ولی اور مولیٰ ہے۔(المعجم الکبیر )۔
نفس کی سات اقسام ہیں(۱) نفس امارہ ، (۲)نفس لوامہ ، (۳)نفس ملہمہ، (۴)نفس مطمئنہ ، (۵)نفس راضیہ ، (۶) نفس مرضیہ (۷) نفس کاملہ۔
نفس امارہ سب سے پہلا نفس ہے جو انسان کو گناہو ں ، خواہشات نفس اور دنیاوی لذتوں کی طرف مائل کرتا ہے۔ریاضت اور مجاہدہ کے ذریعے انسان بْرائی کے غلبہ کو کم کر کے جب نفس امارہ سے چھٹکارا پا لیتا ہے تو انسان نفس لوامہ کے مرتبہ پر فائض ہو جاتا ہے۔جب انسان نفس لوامہ کے مرتبہ پر فائض ہو جائے تو دل میں نور پیدا ہو جاتا ہے جو باطنی طور پر ہدایت کا باعث بنتا ہے۔ نفس لوامہ انسان کے اندر بیداری کی علامت ہے جب انسان کوئی غلطی کرتا ہے تو اس کا ضمیر اسے جھنجھوڑتا ہے اور وہ توبہ کی طرف مائل ہوتا ہے۔اس کے بعد آتا ہے نفس ملہمہ جب انسان ملہمہ کے مرتبہ پر فائض ہو جاتا ہے تو اس کے داخلی نور کے فیض سے دل اور طبیعت میں نیکی اور تقویٰ کی رغبت پیدا ہو جاتی ہے۔ 
اس کے بعد ہے نفس مطمئنہ یہ نفس کی اعلی ترین اور مطلوبہ حالت جس میں انسان اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہتا ہے اور اس کا دل سکون اور اطمینان سے بھر جاتا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ اے اطمینا ن والی جان۔اپنے رب کی طرف واپس ہو یوں کہ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی ‘‘۔ ( سورۃ الفجر )۔
یہ نفس مطمئنہ اولیاء اللہ کا نفس ہے یہی ولایت صغری کا مقام ہے۔اس کے بعد آتا ہے نفس راضیہ ، نفس مرضیہ اور نفس کاملہ یہ سب نفس مطمئنہ کی اعلیٰ حالتیں ہیں۔

ہفتہ، 18 اپریل، 2026

اسلام اور انسانی حقوق

 

اسلام اور انسانی حقوق

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں عقائد و عبادات اور معاملات کا اپنا ایک مکمل نظام موجود ہے۔ اسلامی نظام کا سر چشمہ قرآن و حدیث ہے اور اس کے احکامات ناقابل تنسیخ ہیں کیونکہ قرآن مجید کسی انسان کی نہیں اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب ہے۔ اور اس کے احکامات پر عمل کرنا لازم و ملزوم ہے۔ کائنات کی ہر چیز کا خالق و مالک اللہ تعالیٰ ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کو شکل و صورت ،عظمت و برتری اور علم و حکمت کی صلاحیتو ں سے نوازا ہے۔ اسلام نے انسان کو جو بنیادی حقوق دیے ہیں انہیں پامال کرنے کا حق کسی کو حاصل نہیں۔ 
اگر کوئی شخص کسی بھی شخص سے زیادتی کرے اور اس کے حقوق غضب کرنے کی کوشش کرے تو اسلام نے اس کے مطابق سزا مقررکی ہے۔ اگر کوئی دنیا میں اس سز ا سے بچ بھی جائے تو آخرت میں اللہ تعالیٰ کی سزا سے نہیں بچ سکتا۔ 
حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے نبی کریمﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کو ن ہے ؟ صحابہ کرامؓ نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺمفلس وہ ہے جس کے پاس کوئی مال اور درہم نہ ہو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا نہیں مفلس وہ نہیں جس کے پاس مال نہیں بلکہ مفلس وہ ہے جس کے پاس قیامت کے دن نماز ، روزہ اور زکوۃ ہوں گے لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی ، کسی پر جھوٹا الزام لگایا ہو گا ، کسی کا مال کھایا ہو گا ، کسی کو قتل کیا ہو گا اور کسی کو مارا ہو گا تو اس کی نیکیاں ان لوگوں کو دے دی جائیں گی جن پر اس نے زیادتی کی ہوگی۔
اور اگر زیادتیوں کا بدلہ پورا کرنے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو مظلوموں کے گناہ اس کے اعمال نامہ میں ڈال دیے جائیں گے او ر پھر اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ ( مسلم )۔ 
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ سے عرض کی گئی فلاں عورت رات کو نماز پڑھتی ہے ، دن کو روزہ رکھتی ہے مگر اپنے پڑوسیوں سے بد کلامی کرتی ہے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس میں کوئی خیر نہیں ہے وہ جہنم میں جائے گی۔ (مسدرک للحاکم)۔
ا ن احادیث مبارکہ سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ جو اسلام کسی کو ایک گالی دینے کی وجہ سے اس کی زندگی کی اہم ترین عبادت چھین کر اسے جہنم میں پھینک دے گا تو وہ اسلام کیسے کسی جان کو ناحق قتل کرنے کی اجازت دے گا۔ اسلام میں انسانی زندگی بڑی مقدس اور قابل احترام ہے۔ یہ ایک ایسا قیمتی اثاثہ ہے جس کاکوئی نعم البدل نہیں۔ لہٰذا ہر انسان چاہے وہ مسلمان ہے یا غیر مسلم اس کو اپنی زندگی کے تحفظ کاحق حاصل ہے۔

جمعہ، 17 اپریل، 2026

باطنی طہارت

 

باطنی طہارت

 اسلام انسان کی ظاہری اور باطنی دونوں طرح کی طہارت پر زور دیتا ہے اور اس متعلق ہماری اصلاح بھی کرتا ہے ۔ جیسے ظاہری طور پر صاف ستھرا اور پاک رہنا ضروری ہے اسی طرح باطنی طور پر بھی پاک رہنا ضروری ہے یعنی دل ، نیت ، فکر اور روح کی پاکیزگی بھی نہایت ضروری ہے قرآن و حدیث میں بے شمار مقامات پر دلوں کی صفائی ، نیتوں کی درستگی اور اخلاقی پاکیزگی پر زور دیا گیا ہے ۔ 
جب تک کسی بھی شخص کا باطن صاف نہیں ہو گا تب تک اس کا تعلق اللہ تعالی سے مضبوط نہیں ہو سکتا ۔ ظاہری طہارت کے ساتھ ساتھ باطنی طہارت ہی اللہ تعالی کے مضبوط تعلق کی ضامن ہے ۔باطنی طہارت سے مراد یہ ہے کہ دل کو کینہ ، حسد ، بغض ، ریاکاری ، تکبر ، نفاق ، دنیا کی محبت باطنی اور دیگر  باطنی بیماریوں سے پاک کرنا ہے۔نیت کو خالص کرنا اور کوئی بھی کام اللہ تعالی کی رضا کے لیے کرنا ،خود کو اخلاص ، محبت ، عاجزی اور تقوی سے مزین کرنا بھی باطنی طہارت میں شامل ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے :’’ بیشک مراد کو پہنچا جس نے اسے (دل ) کو ستھرا کر لیا ۔ اور نامراد ہوا جس نے اسے معصیت میں چھپایا ‘‘۔( سورۃ الشمس)۔
اسی طرح سورۃ البینہ میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :’’اور ان لوگوں کوتو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں خالص اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے ‘‘۔
متقی اور جنتی لوگوں کی صفات بیان کرتے ہوئے اللہ تعالی نے سورۃ الاعراف میں ارشاد فرمایا :’’اور ہم نے ان کے سینوں میں سے کینے کھینچ لیے ‘‘۔  نبی کریم ﷺ نے ارشا د فرمایا :’’ خبردار ! جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے اگر وہ درست ہو جائے تو سارا جسم درست ہو جاتا ہے اور اگر وہ خراب ہو جائے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے اور فرمایا کہ وہ تمہارا دل ہے ‘‘۔ (بخاری)۔
ایک مقام پر انسان کی نیت کا ذکر کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے اور ہر انسان کو وہی ملے گا جس کی وہ نیت کرتا ہے ۔(بخاری)۔
ایک مقام پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :آپس میں حسد نہ کرو ، بغض نہ رکھو ، ایک دوسرے سے منہ نہ موڑو اور اللہ کے بندو بھائی بھائی بن جاؤ ۔
جب بندہ گناہوں میں مبتلا ہو جاتا ہے تو اس سے دل پہ سیاہی آجاتی ہے ۔ اس سیاہی کو توبہ کے ذریعے سے ختم کیا جا سکتا ہے اور اللہ تعالی کے کرم سے باطن کو پاک کیا جا سکتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :’’ بیشک دلوں کا سکون اللہ کے ذکر میں ہی ہے ‘‘۔ 
باطنی طہارت ایمان کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے ، باطنی طہارت سے اللہ تعالی قرب حاصل ہوتا ہے ، دل میں سکون و اطمینان پیدا ہوتا ہے ، اعمال میں برکت پیدا ہوتی ہے اور بندے کو دنیا و آخرت کی بھلائیاں نصیب ہو جاتی ہیں ۔

حقوق العباد (۱)

    حقوق العباد (۱) ہر انسان پر یہ بات لازم ہے کہ جب وہ دوسروں سے ملے تو اسے سلام کہے ، جب کوئی اسے دعوت دے تو اس کی دعوت کو قبول کرے ، جب ا...