جمعہ، 17 جولائی، 2026

آداب زندگی قرآن کی روشنی میں (۱)

 

آداب زندگی قرآن کی روشنی میں (۱)

قرآن مجید واحد ایسی مکمل اور جامع کتاب ہے جو نہ صرف عبادات میں ہماری رہنمائی کرتی ہے بلکہ ہمیں معاشرے میں رہن سہن کے طور طریقوں کے  حوالے سے مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے ۔ قرآن مجید کی آیات کی روشنی میں معاشرتی زندگی کے آداب جن پر عمل کر کے ہم معاشرے میں بلند مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ارشاد باری تعالی ہے : اے ایمان والو اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں داخل نہ ہو جب تک اجازت نہ لے لو اور ان کے ساکنوں پر سلام نہ کر لو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے کہ  تم دھیان کرو ۔ پھر اگر تم ان میں کسی کو موجود نہ پاؤ تو تم ان کے اندر مت جاؤ یہاں تک کہ تمہیں اجازت دی جائے اور اگر تم سے کہا جائے واپس جاؤ تو  واپس ہو۔ یہ تمہارے لیے ستھرا ہے اللہ تمہارے کاموں  کو جانتا ہے “۔ (سورۃالنور )۔ 
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی فرما رہا ہے کہ جب بھی کسی کے گھر جاؤ تو پہلے اجازت لو اس کے بعد وہاں رہنے والوں کو سلام کرو اور اگر کوئی گھر میں نہ 
ہو تو اس میں داخل نہ ہو اور اگر اجازت طلب کرنے پر اندر جانے کی اجازت نہ ملے تو خاموشی کے ساتھ واپس چلے جاؤ یہی تمہارے لیے بہتر ہے ۔ 
سورۃ بنی اسرائیل میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :” اور میرے بندوں سے کہو کہ وہ بات کہیں جو سب سے اچھی ہو “۔ یعنی جب بھی کسی کے ساتھ گفتگو 
کریں تو نرمی ، شفقت کے ساتھ کریں اور سچی بات کریں ۔ بد زبانی اور سخت لہجہ معاشرے میں فساد کا باعث بنتا ہے ۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ اپنی  گفتگو میں نرمی پیدا کریں اور اسے پاکیزہ رکھیں ۔ 
مجلس کے آداب کے بارے میں اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :” اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں  جگہ دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہو “۔  مجلس میں موجود لوگوں سے مخاطب کرتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا کہ جب کوئی باہر سے آئے تو اسے جگہ دواور اپنی مجالس میں کشادگی پیدا کرو تا کہ  زیادہ لوگ شامل ہو سکیں جب تم دوسروں کو جگہ دو گے تو اللہ تعالی تمہیں اس سے بہتر جگہ دے گا ۔ 
تواضع و انکساری اللہ تعالی کو بہت پسند ہے اور اس سے معاشرے میں بھی بندے کی عزت میں اضافہ ہوتا ہے ۔ سورۃ بنی اسرائیل میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : ” اور زمین میں اتراکرنہ چلو بیشک تو ہر گز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہر گز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا “۔ 
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی اپنے بندوں کو حکم دے رہا ہے کہ عاجزی و انکساری اختیار کرو ۔ اللہ تعالی کو غرور اور تکبر کرنے والا شخص پسند نہیں ۔ ایک سچا  اور کامل مومن وہ ہی ہے جو اپنے مقام و مرتبہ کو پہچانتے ہو ئے صرف اللہ تعالی کے سامنے جھکے اور زمین پر اکڑ نہ چلے ۔  اگر کوئی شخص کسی کے پاس اپنی کوئی چیز امانت کے طور پر رکھے تو اس میں خیانت نہ کرنا بھی زندگی کے آداب میں سے ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:”بیشک 
اللہ تمہیں حکم دیتا ہے امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو “۔ (سورۃ النساء)۔

جمعرات، 16 جولائی، 2026

مسلمانوں کا فکری زوال اور اس کا تدراک(۲)

 

مسلمانوں کا فکری زوال اور اس کا تدراک(۲)

انسان کے فکری زوال کی ایک بڑی وجہ اس کا برا اخلاق بھی ہے ۔ برے اخلاق انسان کی فکری سوچ پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔
فکری زوال کو ختم کرنے کا سب سے اہم اور پہلا طریقہ اپنے ایمان اور عقیدہ کو مضبوط کرنا ہے ۔ انسان کو اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ وہ اس دنیا میں کس مقصد  کے لیے بھیجا گیا ہے ۔ اپنے حقیقی مقصد کو سمجھتے ہوئے اسے اپنا ایمان اور اللہ تعالی پر بھروسہ مضبوط کرنا چاہیے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ”جو اللہ اور پچھلے دن پر ایمان رکھتا ہو اور جو کوئی اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لیے نجات کی راہ نکال دے گا “۔ ( سورہ الطلاق)۔ اس کے بعد فکری زوال کا خاتمہ علم کے ذریعے کیا جا سکتا ہے ۔ علم انسان کی فکری صلاحیت کو بڑھاتا ہے اور اس کی سچائی کی طرف رہنمائی کرتا ہے ۔علم کی اہمیت کا اندازہ قرآن مجید کی اس آیت سے لگایا جا سکتا ہے۔ارشاد باری تعالی ہے : ”اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا ہے درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے “۔ (سورہ المجادلہ )۔
حدیث شریف میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :”علم حاصل کرنا ہر مسلمان مر دو عورت پر فرض ہے “۔ ہمیں ایک ایسی فکری فضا قائم کرنے کی ضرورت ہے جہاں صرف سطحی تعلیم کی بجائے مطالعہ اور تحقیق کی حوصلہ افزائی ہو ۔ کتاب سے دوستی ، تعلیمی محافل اور 
سوال و جواب کی مجالس اس میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں ۔ 
انسان کی سوچ اور اس کی فکری زوال کی ایک بڑی وجہ گناہوں میں مبتلا ہو جانا بھی ہے ۔ فکری زوال کے خاتمے کے لیے توبہ و استغفار کی کثرت کرنی چاہیے ۔  ارشاد باری تعالی ہے :” اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب (ﷺ) تم ان میں تشریف فرما ہواور اللہ انہیں عذاب کرنے والا نہیں  جب تک وہ بخشش طلب کر رہے ہیں“۔ ( سورہ الانفال )۔
اسلام میں اچھے اخلاق کی بڑی اہمیت ہے ۔ جب انسان اخلاقی طور پر بہتر ہو تا ہے تو اس کی سوچ بھی بہتر ہوتی ہے ۔ اچھے اخلاق کی اہمیت بیان کرتے ہوئے  نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” مجھے اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے “۔  روحانیت اور مادیت میں توازن قائم کرنے سے بھی انسان کے فکری زوال کا خاتمہ ہوتا ہے ۔ انسان کا دل و دماغ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ایک متوازن  شخصیت وہی ہے جو فکری لحاظ سے نہ تو محض مادی سوچ رکھتا اور نہ ہی محض خیالی ۔ عبادات اور معاملات دونوں میں توازن قائم کرنے سے فکری زوال کو ختم  کیا جا سکتا ہے ۔  فکری زوال ایک سنگین مسئلہ ہے جس کا اثر صرف ایک فرد پر نہیں ہوتا بلکہ ایک فرد سے نکل پوری قوم زوال کا شکار ہو جاتی ہے ۔ اس کا حل ایمان اور عقائد کی 
مضبوطی ، حقیقی علم کا حصول ، اخلاقی تربیت اور توبہ و استغفارسے ممکن ہے ۔ فکری زوال کو ختم کرنے کے لیے دین کی اصل تعلیمات پر عمل کرنا ضروری ہے ۔اس  کے ذریعے ہی فرد اور قوم فکری زوال سے چھٹکارا پا سکتے ہیں

بدھ، 15 جولائی، 2026

مسلمانوں کا فکری زوال اور اس کا تدراک(۱)

 

مسلمانوں کا فکری زوال اور اس کا تدراک(۱)

سبب کچھ اور ہے ، تو جس کو خود سمجھتا ہے 
      زوال بندہ مومن کا، بے زری سے نہیں
تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ قوموں کا عروج اور پستی اس کی فکری سوچ کے ساتھ جڑی ہوتی ہے ۔ فکری بلندی کی وجہ سے قومیں آسمانوں کی بلندیوں کوچھو لیتی ہیں اور فکری زوال انہیں آسمان کی بلندیو ں سے گرا کر زمین بوس کر دیتا ہے ۔یہ زوال نہ صرف انسان کی انفرادی زندگی کو متاثر کرتا ہے بلکہ قوم کے اجتماعی زوال کا بھی سبب بنتا ہے۔ آج کے دور میں ایک شدید قسم کا فکری انتشار نظر آتا ہے جس کی بے شمار وجوہات ہیں ۔  سب سے پہلی اور بڑی وجہ تعلیم سے دوری ہے ۔جس قوم کا آغاز لفظ ”اقراء“ سے ہوا تھا آج وہی قوم محض روایتی علم حاصل کر رہی ہے جو صرف اور صرف  ڈگریوں اور نوکریوں تک محدود ہے ۔ اور ہم تحقیقی کام سے بہت حد تک دور جا چکے ہیں ۔جب ذہن کام کرنا چھوڑ دے تو فکری زوال کا آغاز ہو جاتا ہے ۔ 
آج کے دور میں انسان کے پاس علم تو ہے مگر وہ بصیرت سے خالی ہے ۔گہرائی سے سوچنے کی عادت اور مسئلے کی تہہ تک جانا ختم ہو چکا ہے ۔ فکری زوال کی  ایک اہم ترین اور بڑی وجہ تعلیم سے دوری بھی ہے جب انسان تعلیم سے دور ہوتا ہے اور اسکا تعلق سچائی ، تحقیق اور علمی انداز فکر سے نہں  جوڑا جاتا تو قومیں  زوال پذیر ہونا شروع ہو جاتی ہیں ۔ اللہ تعالی نے خود قرآن مجید میں ہمیں یہ حکم دیا کہ علم میں اضافے کی دعا مانگو۔
ارشاد باری تعالی ہے :” اور اے اللہ میرے علم میں اضافہ فرما “۔ یہ آیت اس بات کا ثبوت ہے کہ علم کا حصول انسان کی فکری قوت کو بڑھاتا ہے ۔ ایک  اور جگہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا :” کیا علم والے اور بغیر علم کے برابر ہو سکتے ہیں “۔ اس آیت سے بھی تعلیم کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔
جب انسان دین سے دوری اختیار کر لیتا ہے تو اس کے دل و دماغ پر غفلت کے پردے پڑ جاتے ہیں  اور اس کا بلا واسطہ اثر اس کی فکری سوچ پر پڑتا ہے ۔
ارشاد باری تعالی ہے: ” اور جو اسلام کے سوا کوئی دین چاہے گا وہ ہر گز اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور  آخرت میں وہ نقصان اٹھانے والوں میں ہوں گے “۔ ( سورۃ آل عمران) 
فکری زوال کی ایک بڑی وجہ مادہ پرستی ہے ۔ مادی چیزوں کی طلب انسان کی فکری سطح کو جامد کر دیتی ہے جس کا اثر پوری قوم پر پڑتا ہے ۔ ارشاد باری  تعالی ہے :”لوگوں کے لیے آراستہ کی گئی ان خواہشوں کی محبت عورتیں اور بیٹے اور تلے اوپر سونے چاندی کے ڈھیر اور نشان کیے ہوئے گھوڑے اور چوپائے اور کھیتی یہ جیتی دنیا کی پونجی ہے اور اللہ ہے جس کے پاس اچھا ٹھکانا ہے “۔( سورۃ آل عمران )۔ 
جب انسان مادہ پرستی میں مبتلا ہو جاتا ہے تو اس کی توجہ حقیقت سے ہٹ جاتی ہے اور وہ اللہ تعالی کی رضا اور آخرت کی تیاری کی طرف توجہ دینے کی بجائے  دنیا کی ظاہری لذتوں میں گُم ہو جاتا ہے جس سے اس کی فکری سوچ متاثر ہوتی ہے ۔

منگل، 14 جولائی، 2026

مؤذنِ رسول ﷺ(۳)

 

مؤذنِ رسول ﷺ(۳)

جب لوگوں کو اس بات کا علم ہوا کہ سیدنا بلال حبشی رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ تشریف لے آئے ہیں تو بہت سارے لوگ جمع ہو گئے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کواذان سنانے کی درخواست کی ۔حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ جب میں حضور ﷺ کی ظاہری زندگی میں اذان دیتا تھا تو جس وقت  ”اشھد ان محمد رسول اللہ “کہتا تو مجھے سامنے حضور ﷺ کاچہرہ انور نظر آتاتھا ۔ اب بتاؤ کیسے دیکھو ں  گا۔
لوگوں کے بہت زیادہ اصرار پر بھی آپ ؓ اذان دینے کے لیے آمادہ نہ ہوئے ۔تو لوگ نبی کریم ﷺ کے نواسے حضرت حسن و حسین ؓ کو بلا لائے اور دونوں  شہزادوں سے سفارش کرائی ۔حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے آ کر حضرت بلال کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : اے چچا جان ہمیں بھی وہ اذان سنائیں جو ہمارے  نانا جان کو سنایا کرتے تھے ۔ سیدنا بلال حبشی نواسہءرسول ﷺ کو انکار نہ کر سکے اور ان کا ہاتھ پکڑ کر مسجد نبوی ﷺ کی چھت پر تشریف لے گئے ۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے  اذان کہنا شروع کر دی ، مدینہ منورہ میں یہ بڑا عجیب اور غم کا وقت تھا۔ حضو ر ﷺ کو وصال فرمائے ایک عرصہ گزر چکا تھا ۔  حضرت بلال کی اذان سن کر لوگ مدینہ منورہ کی گلی کوچوں سے مسجد میں جمع ہونے شروع ہو گئے ۔ پردے والی عورتیں رونے لگیں ۔ بچے اپنی ماؤ ں سے پوچھتے تھے کہ حضرت بلال موذن رسولﷺ تو آ گئے ہیں حضور نبی کریم ﷺ کب تشریف لائیں گے ۔ 
حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے جب” اشھد ان محمد رسول اللہ“ زبان مبارک سے نکالا اور حضور ﷺ کو آنکھوں سے نہ دیکھ سکے تو غم ہجر  میں بیہوش ہو کر گر گئے اور کافی دیر کے بعد ہوش آیا تو روتے روتے واپس ملک شام چلے گئے ۔
جب حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا وقت وفات قریب آیا تو آپ کی زوجہ نے بے قرار ہو کر کہا ہائے رے میری مصیبت ۔جب حضرت بلال ؓ نے یہ سنا تو  آنکھیں اور کھول دیں اور فرمایا واہ رے میری خوشی ۔جو آپ ؓ کی زبان پر آخری کلمات تھے وہ یہ تھے کہ ہم اپنے دوستوں یعنی نبی کریم ﷺ اور صحابہ کریم ؓ سے ملاقات کریں گے ۔ ( احیا ءالعلوم )۔
حضرت سیدنا بلال حبشی رضی اللہ عنہ کا نام اسلام کی تاریخ میں ہمیشہ عزت و احترام سے لیا جائے گا ۔ آپ رضی اللہ عنہ استقامت کے پیکر ، عشق رسول ﷺ کے امین ، اذان کی روح اور اخلاص کے روشن چراغ تھے ۔ حضور نبی کریم ﷺ کی احادیث مبارکہ آپ ؓ کی عظمت کی گواہی دیتی ہیں جنت میں آپ ؓ کے قدموں کی آہٹ ان کی مقبولیت کی دلیل ہے ۔آپ ؓ کی پوری زندگی اس حقیقت کا اعلان ہے جو شخص اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ سے سچی محبت کرتا  ہے اللہ تعالی اسے دنیا و آخرت دونوں میں سر بلند فرماتا ہے ۔

پیر، 13 جولائی، 2026

مؤذنِ رسول ﷺ(۲)

 

مؤذنِ رسول ﷺ(۲)

اتوار، 12 جولائی، 2026

مؤذنِ رسول ﷺ(۱)

 

مؤذنِ رسول ﷺ(۱)

مؤذن ِ رسول ﷺ حضرت سیدنا بلال حبشی کا ذکر زبان پر آتے ہی ایمان تازہ ہوجاتا ہے ،اخلاص کی خوشبو محسوس ہونے لگتی ہے اور وفاداری کی روشن مثالیں نگاہوں کے سامنے آ جاتی ہیں ۔سیدنا بلال حبشی عظیم المرتبت صحابہ کرام ؓ میں سے ہیں ۔آپؓ کو اللہ تعالی نے غلامی کی زنجیروں سے نکال کر ایمان کی آزادی عطا کی اور نبی کریم ﷺ کی قربت کا ایسا شرف بخشا کہ رہتی دنیا تک آپ ؓ کا نام عزت ، استقامت اور عشق رسولﷺ کی علامت بن گیا ۔آپ ؓ کی حیات مبارکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام میں عزت کا معیار رنگ ، نسل ، زبان یا خاندان نہیں بلکہ تقوی ، ایمان اور اخلاص ہے ۔
حلیۃ الا ولیاءمیں ہے کہ آپ ؓ قبیلہ بنی جمح کے غلام تھے ۔آپ کا نام بلال والد کا نام رباح اور والدہ کا نام حمامہ ہے ۔آپ رضی اللہ عنہ مؤذن رسول اور سید المؤذنین کے القابات سے مشہور ہیں ۔ حضور نبی رحمت ﷺ نے ارشادفرمایا بلال ایک اچھے انسان اور مؤذنین کے سردار ہیں ۔( معجم کبیر)۔
آپ ؓ غلاموں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے ہیں ۔شروع میں آپ ؓ نے اپنا اسلام ظاہر نہ کیا اور چھپ کر عبادت کرتے رہے ۔ 
ایک دن امیہ بن خلف کو اس بات کی خبر ہوئی کہ آپ ؓ نے اسلام قبول کر لیاہے تو اسے بہت غصہ آیا اور آپ ؓ کو بلا کر پوچھا کہ تم کس معبود کی عبادت  کرتے ہو؟ آپ ؓ نے بے خوف ہو کر جواب دیا کہ میں حضر ت محمد ﷺ کے خدا کی عبادت کرتا ہوں ۔امیہ بن خلف نے جب یہ سنا تو غصے سے  اس کی آنکھیں لال ہو گئیں اور آپ ؓ سے کہا ان کو چھوڑ دو نہیں تو تجھے ذلت سے ماروں گا ۔ 
آپ ؓ نے جواب دیا کہ تم میرے جسم پر تو زور چلا سکتے ہولیکن میں اپنا دل و جان نبی کریم ﷺ اور ان کے خدا کے پاس رکھ چکا ہوں اور اب اسی کی عبادت کرنا ہی میری زندگی کا مقصد ہے ۔ امیہ بن خلف نے آپ ؓ کو بہت زیادہ تکالیف دیں۔ مکہ مکرمہ کی تپتی ریت پر آپ کو لٹا کر آپ ؓ کے اوپر پتھر رکھ دیتا اور کہتا کہ بول میں لات و عزیٰ کی پوجاکروں گا لیکن آپ ؓ کی زبان سے احد احد کی آوز آتی ۔ (حلیۃالاؤلیاء)۔
حضرت عمر وبن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک روز میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا تو آپ کو تپتی ریت پر لٹا کر سزا دی جا رہی تھی ۔زمین اس قدر گرم تھی کہ اگر اس پر گوشت کا ٹکڑا رکھ دیا جاتا تو وہ بھی پک جاتا ۔ ( سبل الھدی )۔
حضرت بلا ل رضی اللہ عنہ کو دین اسلام سے دور کرنے کے لیے آپ ؓ کے گلے میں رسی ڈال کر بچوں کے حوالے کر دیا جاتا جو آپ ؓ کو مکہ کی گلیوں میں  گھسیٹتے تھے لیکن اس کے باوجود آپ ؓ کی زبان سے احد احد کی صدا بلند ہوتی تھی ۔ ( مصنف ابی شیبہ )۔

ہفتہ، 11 جولائی، 2026

غفلت کا علاج (۲)

 

غفلت کا علاج (۲)

عالم اور جاہل کبھی برابر نہیں ہو سکتے اور علم والوں کو اللہ تعالی فضیلت بخشتا ہے اور وہ غافل نہیں ہوتے اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ علم سیکھے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا ہے درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔ ( سورۃ المجادلہ )
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی رحمت ﷺ نے فرمایا بیشک دنیا ملعون ہے اور جو کچھ اس میں ہے وہ ملعون ہے ۔ سوائے اللہ تعالی کے ذکر کے اور جو ذکر سے جڑی ہوئی چیزیں اور علم والے اور علم سیکھنے والے ۔( ترمذی )
دعا کا اہتمام بھی انسان کو غفلت کی تاریکی میں جانے سے بچاتا ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ اس طرح دعا فرمایا کرتے تھے : ”اے اللہ میں  تیری پناہ چاہتا ہو ں کمزوری سے ، سستی سے ، بخل سے ، بڑھاپے سے ، دل کی سختی سے ، غفلت سے ، ذلت و محتاجی سے ، اور تیر ی پناہ چاہتا ہوں فقر سے ، کفر و شرک سے ، نفاق سے ، شہرت سے ، شہرت کے شوق سے اور ریا کاری سے ، اور تیری پنا ہ مانگتا ہوں بہرے پن سے ، گونگے پن سے ، جنون سے ، جذام سے اور طرح طرح کی بری بیماریوں سے “۔ ( صحیح ابن حبان )۔
 حضرت شیخ حارث بن اسد الحاسبی ؒ سے سوال کیا گیا کہ کوئی ایسی چیز بتائیں جو بیداری پر تقویت دے اور غفلت کو ترک کرنے پر امادہ کر  دے ؟ آپ نے فرمایا اخلا ص نیت سے دعا کرنا ، ایسے لوگوں کی صحبت میں رہنا جو تمہارے ہم مزاج ہوں یعنی نیک ہوں اور ایسے لوگوں کو چھوڑ دینا جو تیرے ہم مزاج نہ ہوں ۔( آداب النفوس )۔
غفلتوں سے اپنی سانسوں کو روکے رکھنا سالکین کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے ۔ جب کسی پہ غفلت طاری ہو جائے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ استغفار کرے اور اللہ تعالی سے اپنے گناہوں کی معافی مانگے ۔ کیونکہ استغفار سے دل پاک ہوتے ہیں ۔  ارشاد باری تعالی ہے : (اے محبو ب ﷺ) آپ فرمادیجیے اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پہ ظلم کیا اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ اللہ تعالی سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور وہی بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے ۔ ( سورۃ الزمر )۔
مندرجہ بالا آیات اور احادیث مبارکہ سے واضح ہو جاتا ہے کہ جب ذکر الہی ، تلاوت قرآن مجید ، نماز ، توبہ و استغفار ، نیک صحبت ، علم دین ،  محاسبہ نفس ، آخرت کی یاد اور دعا انسان کی زندگی کا حصہ بن جائیں تو دل زندہ ، فکر پاکیزہ اور کردار مضبوط ہو جاتا ہے ۔ایسے انسان کے لیے دنیا عبادت گاہ بن جاتی ہے اور آخرت میں بھی اللہ تعالی کے فضل سے سرخرو ہو جائے گا ۔

آداب زندگی قرآن کی روشنی میں (۱)

  آداب زندگی قرآن کی روشنی میں (۱) قرآن مجید واحد ایسی مکمل اور جامع کتاب ہے جو نہ صرف عبادات میں ہماری رہنمائی کرتی ہے بلکہ ہمیں معاشرے ...