مؤذنِ رسول ﷺ(۱)
مؤذن ِ رسول ﷺ حضرت سیدنا بلال حبشی کا ذکر زبان پر آتے ہی ایمان تازہ ہوجاتا ہے ،اخلاص کی خوشبو محسوس ہونے لگتی ہے اور وفاداری کی روشن مثالیں نگاہوں کے سامنے آ جاتی ہیں ۔سیدنا بلال حبشی عظیم المرتبت صحابہ کرام ؓ میں سے ہیں ۔آپؓ کو اللہ تعالی نے غلامی کی زنجیروں سے نکال کر ایمان کی آزادی عطا کی اور نبی کریم ﷺ کی قربت کا ایسا شرف بخشا کہ رہتی دنیا تک آپ ؓ کا نام عزت ، استقامت اور عشق رسولﷺ کی علامت بن گیا ۔آپ ؓ کی حیات مبارکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام میں عزت کا معیار رنگ ، نسل ، زبان یا خاندان نہیں بلکہ تقوی ، ایمان اور اخلاص ہے ۔
حلیۃ الا ولیاءمیں ہے کہ آپ ؓ قبیلہ بنی جمح کے غلام تھے ۔آپ کا نام بلال والد کا نام رباح اور والدہ کا نام حمامہ ہے ۔آپ رضی اللہ عنہ مؤذن رسول اور سید المؤذنین کے القابات سے مشہور ہیں ۔ حضور نبی رحمت ﷺ نے ارشادفرمایا بلال ایک اچھے انسان اور مؤذنین کے سردار ہیں ۔( معجم کبیر)۔
آپ ؓ غلاموں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے ہیں ۔شروع میں آپ ؓ نے اپنا اسلام ظاہر نہ کیا اور چھپ کر عبادت کرتے رہے ۔
ایک دن امیہ بن خلف کو اس بات کی خبر ہوئی کہ آپ ؓ نے اسلام قبول کر لیاہے تو اسے بہت غصہ آیا اور آپ ؓ کو بلا کر پوچھا کہ تم کس معبود کی عبادت کرتے ہو؟ آپ ؓ نے بے خوف ہو کر جواب دیا کہ میں حضر ت محمد ﷺ کے خدا کی عبادت کرتا ہوں ۔امیہ بن خلف نے جب یہ سنا تو غصے سے اس کی آنکھیں لال ہو گئیں اور آپ ؓ سے کہا ان کو چھوڑ دو نہیں تو تجھے ذلت سے ماروں گا ۔
آپ ؓ نے جواب دیا کہ تم میرے جسم پر تو زور چلا سکتے ہولیکن میں اپنا دل و جان نبی کریم ﷺ اور ان کے خدا کے پاس رکھ چکا ہوں اور اب اسی کی عبادت کرنا ہی میری زندگی کا مقصد ہے ۔ امیہ بن خلف نے آپ ؓ کو بہت زیادہ تکالیف دیں۔ مکہ مکرمہ کی تپتی ریت پر آپ کو لٹا کر آپ ؓ کے اوپر پتھر رکھ دیتا اور کہتا کہ بول میں لات و عزیٰ کی پوجاکروں گا لیکن آپ ؓ کی زبان سے احد احد کی آوز آتی ۔ (حلیۃالاؤلیاء)۔
حضرت عمر وبن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک روز میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا تو آپ کو تپتی ریت پر لٹا کر سزا دی جا رہی تھی ۔زمین اس قدر گرم تھی کہ اگر اس پر گوشت کا ٹکڑا رکھ دیا جاتا تو وہ بھی پک جاتا ۔ ( سبل الھدی )۔
حضرت بلا ل رضی اللہ عنہ کو دین اسلام سے دور کرنے کے لیے آپ ؓ کے گلے میں رسی ڈال کر بچوں کے حوالے کر دیا جاتا جو آپ ؓ کو مکہ کی گلیوں میں گھسیٹتے تھے لیکن اس کے باوجود آپ ؓ کی زبان سے احد احد کی صدا بلند ہوتی تھی ۔ ( مصنف ابی شیبہ )۔






