منگل، 8 ستمبر، 2026

حضور نبی کریم ﷺ کا رُخ انور

 

حضور نبی کریم ﷺ کا رُخ انور

حضور نبی کریم ﷺ کا رُخ انور اللہ تعالی کے جمال کا آئینہ اور انوار تجلیات کا مظہر تھا ۔ آپ ﷺ کا چہرہ انور نہایت ہی وجیہ، پُر گوشت اور کسی قدر گول تھا ۔ حضرت براء بن عازب ؓ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ کا چہرہ انور تمام لوگوں سے زیادہ خوبصورت تھا اور حضور نبی کریم ﷺ کے خلق بھی تمام لوگوں سے زیادہ دلکش اور زیبا تھے ۔ (بخاری ، مسلم)۔
حضرت جابر بن سمرہ ؓسے فرماتے ہیں کہ میں نے ایک چاندنی رات حضور نبی کریم ﷺ کی زیارت کی ۔حضور نبی کریم ﷺ نے سرخ رنگ کی پوشاک پہنی ہوئی تھی ۔ آپ ؓ فرماتے ہیں میں کبھی حضور نبی کریم ﷺ کے چہرہ انورکو دیکھتا اور کبھی چودھویں کے چاند کو۔ میں کافی دیر دیکھتا رہا ۔ میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ نبی رحمت ﷺ چودھویں رات سے زیادہ دلربا اور خوبصورت ہیں ۔ ( ترمذی )۔
رُخ انور کی تجلی جو قمر نے دیکھی 
                                       رہ گیا بوسہ دہِ نقشِ کفِ پا ہو کر
حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں میں نے آج تک کہیں بھی کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جو حضور نبی کریم ﷺ سے زیادہ حسین ہو ۔ یوں معلوم  ہوتا تھا کہ سورج چہرہ اقدس میں طلوع ہو رہا ہے ۔ ( ترمذی )۔
حضرت کعب ؓ فرماتے ہیں حضور نبی کریم ﷺ جب خوش ہوتے تو آپ ﷺ کا چہرہ انور چمکنے لگتا اور ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے چاند کا ٹکڑا  ہے ۔ ( بخاری )۔
حضرت براء بن عازب ؓ سے مروی ہے آپ سے پوچھا گیا کیا حضور نبی کریم ﷺ کا چہرہ انور تلوار کی طرح تھا ۔حضرت براء ؓنے جواب دیا نہیں بلکہ چاند کی طرح تھا کیونکہ چاند میں روشنی بھی ہے اور گولائی بھی ۔ ( بخاری )۔ ام المئومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں میں رات کے وقت کپڑ ا سی رہی تھیں میری سوئی گر گئی میں نے کافی تلاش کیا لیکن نہ ملی ۔ اتنے میں حضور نبی کریم ﷺ حجرہ مبارک میں تشریف لے آئے ۔ آپ ﷺ کے چہرہ انور کے نور  سے سارا حجرہ روشن ہو گیا اور مجھے سوئی مل گئی ۔ ( ابن عساکر )۔
کئی بار ایسا ہوتا کہ لوگ حضور نبی کریم ﷺ کے چہرہ انور کو دیکھ کر ہی ایمان لے آتے ۔ عبد اللہ بن سلام یہودیوں کا بہت بڑا عالم تھا ۔ وہ بتاتا ہے جب آپ ﷺ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو لوگ آپ ﷺ کی زیارت کے لیے جا رہے تھے۔ میں بھی  چلا گیا کہ زیارت تو کروں ۔ فرماتے ہیں جب وہاں پہنچا تو آپ ﷺ کا چہرہ انور دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا کہ آپ اللہ کے سچے  رسول ہیں اور میں آپ ﷺ پر ایمان لے آیا ۔

پیر، 7 ستمبر، 2026

ادبِ مصطفی ﷺ(۲)

 

ادبِ مصطفی ﷺ(۲)

حضور نبی رحمت ﷺ کی بارگاہ کا تقاضا یہ ہے کہ جب آپ ﷺ بلائیں تو چاہے بندہ نماز کی حالت میں بھی ہو تو فوری حاضر ہو جائے ۔ 
اور اس سے نماز بھی فاسد نہیں ہو گی ۔ارشاد باری تعالی ہے :” اے ایمان والو اللہ اور سول کے بلانے پر حاضر ہو جب تمہیں بلائیں “۔ 
بخاری شریف کی روایت ہے کہ حضرت ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد نبوی میں نماز پڑھ رہا تھا مجھے نبی کریم ﷺ نے بلایا لیکن میں آپ ﷺ کے بلانے پر حاضر نہ ہوا ۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد میں نبی رحمت ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور  عرض کی میں نماز پڑھ رہا تھا ۔حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا اللہ تعالی کا حکم نہیں پڑھا ” اللہ اور رسول کے بلانے پر حاضر ہو جایا کرو “۔ 
سورۃا لنور میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ”رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرا لو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے “۔ (النور )۔
یعنی حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں جب حاضر ہوں یا دور سے حضور نبی کریم ﷺ کو پکارا جائے تو اس طرح نہیں پکارنا چاہیے جیسے تم آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو ۔ 
حضور نبی کریم ﷺ کے گھر ایک دعوت کے موقع پر کچھ لوگ زیادہ دیر بیٹھے رہے اور آپس میں گفتگو کرتے رہے ۔ اس طرح زیادہ دیر  بیٹھے رہنا اللہ تعالی کو پسند نہ آیا کیونکہ یہ بات حضور ﷺ کے لیے باعث تکلیف تھی تو اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا :
”اے ایمان والو نبی کے گھروں میں نہ حاضر ہو جب تک اذن نہ پاؤ مثلاً کھانے کے لیے بلائے جاؤ نہ یوں کہ خود اس کے پکنے کی راہ تکو۔  ہاں جب بلائے جاؤ تو حاضر ہو اور جب کھا چکو تو متفرق ہو جاؤ نہ یہ کہ بیٹھے باتوں میں دل بہلاؤ بیشک اس میں نبی کو ایذا ہوتی تھی تو وہ تمہارا لحاظ فرماتے تھے “۔   ( الاحزاب )۔
صحابہ کرام حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ کا ادب جس قدر بجا لاتے تھے اس کا اندازہ اس حدیث مبارکہ سے لگایا جا سکتا ہے ۔ حضرت مسور بن مخرمہ اور مروان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب عروہ بن مسعود کفار کی طرف سے وکیل بن کر حاضر ہوا تو وہ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ اپنا لعاب پھینکتے تو کوئی نہ کوئی صحابی اسے اپنے ہاتھ میں لے لیتا اور اسے اپنے چہرے پہ ملتا ۔جب آپ ﷺ کوئی حکم فرماتے  تو فوری اس کی تعمیل کرتے ۔جب آپ ﷺ وضو فرماتے تو آپ ﷺ کے وضو کا پانی حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے  جانے کی کوشش کرتے ۔جب آپ ﷺ گفتگو فرماتے تو اپنی آوازیں پست کر لیتے اور انتہائی ادب کے ساتھ گفتگو سنتے ۔ ( بخاری )۔

اتوار، 6 ستمبر، 2026

ادبِ مصطفی ﷺ(۱)

 

ادبِ مصطفی ﷺ(۱)

کائنات میں ایک نام ایسا ہے جس کے ساتھ تاریخ کی عظمت ، انسانیت کی تکمیل ، اخلاق کی بلندی اور رحمت کی وسعت سمٹ آتی ہے ۔  وہ نام نامی اسم گرامی حبیب خدا احمد مجتبی محمد مصطفی ﷺکا ہے ۔آپ ﷺ کا ذکر ہو تو الفاظ اپنی تاثیر کھو دیتے ہیں ، قلم ٹھہر جاتا ہے اوردل بے اختیار عقیدت سے جھک جاتا ہے ۔حضور نبی رحمت ﷺ کی ذات اقدس کے ساتھ ادب کا تعلق کسی رسم ، روایت یا معاشرتی  تہذیب تک محدود نہیں بلکہ یہ ایمان کی روح سے جڑا ہوا ہے ۔ قرآن مجید نے جہاں ایمان ، عبادت اور تقوی کی تعلیم دی وہیں بارگاہ  رسالت ﷺ کے آداب بھی سکھائے ۔
ادب ایک ایسی چیز ہے جو نصیب بدل دیتی ہے ۔ہر بارگاہ کا ایک ادب ہوتا ہے۔ جو اس بارگاہ کا ادب کرتے ہیں اور جو نہیں کرتے ان کا  حال جدا جدا ہوتا ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ کے ادب کا کیا عالم ہوگا جو حبیب خدا بھی ہیں اور وجہ تخلیق کائنات بھی ۔  حضور نبی کریم ﷺ جب صحابہ کرام کے درمیان تشریف فرما ہوتے اور انہیں وعظ و نصیحت فرماتے تو کبھی کبھی صحابہ بات کو سمجھنے کے لیے کہتے  ”راعنا یا رسول اللہ ﷺ “ یعنی ہمارے حال کی رعایت فرمائیں ۔ یہودیوں کی لغت میں راعنا بے ادبی کا معنی رکھتا تھا تو انہوں نے اسی نیت سے بلانا شروع کر دیا ۔تو اللہ تعالی نے حضور نبی رحمت ﷺ کا ادب بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :”اے ایمان والو راعنا نہ کہو اور  یو ں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو “۔ ( سور ة البقرۃ )۔ 
قرآن مجید میں اہل ایمان کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اپنی آوازیں نبی رحمت ﷺ کی آواز سے بلند نہ کرو اور آپ ﷺ کی گفتگو میں وہ انداز  اختیار نہ کرو جو عام لوگوں کے درمیان اختیار کیا جاتا ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے :  ”اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے نبی کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت نہ ہو جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو “۔ ( سورۃ الحجرات )۔
حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ اس قدر نازک بارگاہ ہے کہ ذرا سی آواز بھی اونچی ہو ئی تو سارے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور ہمیں خبر تک نہیں ہو گی ۔ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی تو میں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ میں آپ ﷺ سے سرگوشی کے انداز میں بات کروں گا ۔(کنزالعمال )۔
حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی تو سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا حال یہ تھا کہ آپ ﷺ کی  بارگاہ میں آہستہ سے بات کرتے اور بعض اوقات آپ ﷺ کو بات سمجھنے کے لیے دوبارہ پوچھنا پڑتا کہ کیا کہتے ہو ۔ ( ترمذی )۔

ہفتہ، 5 ستمبر، 2026

عظمت و شان مصطفی ﷺ (۲)

 

عظمت و شان مصطفی ﷺ (۲)

 حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن مجھے عرش کی دائیں جانب ایسے مقام پر کھڑا کیا جائے گا کہ جہاں کسی اور کو قدم رکھنے کی مجال نہ ہو گی اس وقت اولین و آخرین میرے ساتھ رشک کریں گے ۔ ( مسند احمد )۔
 حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی نے مجھے اختیار دیا کہ میں اپنی نصف امت کو جنت میں داخل کرا لوں یا شفاعت  کروں۔ میں نے شفاعت کو پسند کیا کیونکہ شفاعت کا فیضان عام ہے ۔جب تک میری امت کا آخری فرد بھی جنت میں نہ پہنچ  جائے اس وقت تک میں شفاعت کا حق استعمال کرتا رہوں گا۔ پھر فرمایا یہ شفاعت متقین کے لیے نہیں ہوں گی بلکہ میری شفاعت  گناہ گاروں اور خطاکاروں کے لیے ہو گی ۔ (ابن ماجہ )۔ 
حضرت ابو سعید خدری ؓسے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایک روز جبرائیل امین میرے پاس آئے اور کہا کہ میرا رب اور آپ کا رب آ پ کو فرماتا ہے کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ میں نے آ پ کے ذکر کو کس طرح بلند کیا ۔ حضور نبی کریم ﷺ  نے جواب دیا اللہ تعالی بہتر جانتا ہے ۔ جبرائیل امین نے جواب دیا اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اس بلند ذکر کی صورت یہ ہے کہ جب میرا ذکر کیا جائے گا اس وقت میرے ذکر کے ساتھ تیرا ذکر بھی کیا جائے گا ۔  حضرت عمر ؓ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن تمام تعلقات اور رشتہ داریاں ختم ہو جائیں گی لیکن  میرا تعلق اور میرا نسب اس روز بھی قائم رہے گا ۔  حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا سب سے پہلے میری قبر شریف کھلے گی اور میں باہر آؤں گا۔ مجھے  جنت کی پو شاکوں سے ایک خلعت پہنائی جائے گی ۔ پھر میں عرش الہی کی دائیں جانب کھڑا ہوں گا ۔ میرے علاوہ کسی کو بھی اس مقام پر کھڑا ہونے کا شرف حاصل نہیں ہو گا ۔ ( ترمذی )۔ 
حضرت سلمان ؓسے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک روز جبرائیل امین تشریف لائے اور عرض کی بیشک آپ کا رب فرماتا  ہے اگر چہ میں نے ابراہیم کو خلیل بنایا ہے لیکن آپ کو میں نے اپنا حبیب بنایا ہے میں نے آج تک کوئی ایسی چیز پیدا نہیں کی جو آپ سے  زیادہ میرے نزدیک مکرم ہو ۔ میں نے دنیا اور اس کے رہنے والوں کو اس لیے پیدا کیا تا کہ میں آپ کی کرامت اور آپ کے درجہ رفیعہ  سے ان کو آگاہ کروں ۔ اگر آپ کی ذات نہ ہوتی تو میں دنیا کو بھی پیدا نہ کرتا ۔ ( حجۃ اللہ علی العالمین )۔

جمعہ، 4 ستمبر، 2026

عظمت و شان مصطفی ﷺ (۱)

 

عظمت و شان مصطفی ﷺ (۱)

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بیشک اللہ تعالی نے اولاد  ابراہیم علیہ السلام سے حضرت اسماعیل کو چن لیا پھر حضرت اسماعیل کی اولاد سے بنی کنانہ کو منتخب کیا اور بنی کنانہ کی  اولاد سے قبیلہ قریش کو فضیلت بخشی اور قبیلہ قریش سے خاندان ہاشم کو ممتاز کیا اور خاندان بنو ہاشم سے مجھے چن لیا ۔ (سبل الہدی )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حضرت آدم علیہ السلام کی تمام اولاد سے میں اپنے رب کے نزدیک معزز و  مکرم ہو ں ۔ میں یہ بات فخر و مباہات کے لیے نہیں کر رہا بلکہ اظہار حقیقت کر رہا ہو ں ۔ ( ترمذی )۔
  حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایک روز جبرئیل امین میرے پاس حاضر ہوئے اور عرض کی کہ میں نے زمین کے مشرق و مغرب کو چھان مارا ہے لیکن میں نے کوئی ایسامرد نہیں دیکھا  جو آپ ﷺ سے افضل ہو اور نہ کوئی خاندان دیکھا ہے جو خاندان بنو ہاشم سے اعلی ہو ۔ ( الطبرانی )۔
حضرت ابن وہب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالی نے مجھے ارشاد فرمایا اے  میرے محبوب مجھ سے مانگو ۔ میں نے عرض کی اے میرے پرودگار میں تجھ سے کیا مانگو ں ۔ تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام  کو اپنا خلیل بنایا ، حضرت موسی علیہ السلام سے بلا واسطہ کلام کیا ، حضرت نوح علیہ السلام کو چن لیا ، حضرت سلیمان علیہ السلام کو وہ ملک عظیم عطا کیا جو آپ کے بعد کسی کو نہیں دیا جائے گا ۔ یہ سن کر اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا : اے  میرے محبوب میں نے آپ کو وہ عطا کیا ہے جو ان سب سے اعلی ہے ۔میں نے آپ کو کوثر عطا کی ۔ میں نے آپکے نام کو اپنے نام کے ساتھ ملایا جو ہر اذان و شہادت کے وقت فضا میں گونجتا ہے ۔ اور میں نے زمین کو آپ کے لیے اور آپ کی امت کے لیے طہارت کا سبب بنایا ۔ اور آپ پر جو الزامات ہجرت سے پہلے لگے اور جو ہجرت کے بعد  لگائے گئے میں نے ان سب سے آپ کے دامن کو پاک کر دیا ۔آپ لوگوں میں اس حالت میں چلتے ہیں کہ آپ  مغفور ہیں اور یہ مہربانی آپ سے پہلے میں نے کسی کے ساتھ نہیں کی ۔ اور میں نے آپ کے امتیوں کے دلوں کو قرآن کریم کاحامل بنادیا ہے اور میں نے مقام شفاعت آپ کے لیے مخصوص کر رکھا ہے ۔ حالانکہ میں نے آپ کے بغیر کسی  نبی کو یہ شان عطا نہیں فرمائی ۔ ( الشفائی)۔

جمعرات، 3 ستمبر، 2026

رضاعت مصطفی ﷺ(۲)

 

رضاعت مصطفی ﷺ(۲)

حضرت حلیمہ فرماتی ہیں کہ جب میں آپ ﷺ کو گود میں لے کر خیمہ میں پہنچی تو میرا خاوند اس بوڑھی اور لاغر اونٹنی کی طرف گیا تو اس کی کھیری دودھ سے بھری دیکھی اور بہت خوش ہوا ۔ اس نے دودھ دوہا خود بھی جی بھر کر پیا ، میں  نے بھی سیر ہو کر پیا اور رات کو ہم سب خوب سوئے جب صبح اٹھے تو میرے خاوند نے کہا :’’ اللہ کی قسم اے حلیمہ تو بڑی برکت والی روح لے آئی ہے ۔ میں نے کہا اللہ کی قسم میں بھی یہی امید رکھتی ہوں ۔ ( السیر ۃ الحلبیہ)۔
آپ فرماتی ہیں جب ہمیں بچے مل گئے اور ہمارا قافلہ واپس جانے لگا تو میرے پاس وہی گدھی تھی جو کمزوری کی وجہ سے چل نہیں سکتی  تھی لیکن جیسے ہی میں نبی کریم ﷺ کو لے کر اس پر سوار ہوئی تو میری گدھی ایسے چلی کہ ساری سواریاں پیچھے رہ گئیں ۔ قافلے والیاں کہنے لگیں حلیمہ بتا تو سہی یہ وہی سواری ہے جو قدم اٹھانے سے معذور تھی آپ نے کہا خدا کی قسم یہ وہی سواری ہے لیکن بھلا دیکھو  تو سہی اس پر سوار کون ہے ۔
آپ کہتی ہیں جب ہم اپنی قیام گاہ پہنچے تو یہ علاقہ سب سے زیادہ قحط زدہ تھا گھاس کا ایک تنکا بھی نظر نہیں آتا تھا لیکن جب میری بکریاں  شام کو واپس آتیں تو ان کے پیٹ خوب بھرے ہوتے اور ان کی کھیریاں دودھ سے بھری ہوتیں ہم خوب سیر ہو کر دودھ پیتے۔جب دوسرے لوگوں کی بکریاں واپس آتیں تو ان کے پیٹ خالی ہوتے اور کھیریاں بھی دودھ سے خالی ہوتیں تو اپنے چرواہوں کو ناراض ہوتیں تم وہاں بکریاں کیوں نہیں چراتے جہاں حلیمہ کی بکریاں چرتی ہیں ۔ 
آپ فرماتی ہیں دن بدن انعاما ت وبرکات کا سلسلہ بڑھتا گیا یہاں تک کہ دو سال کا عرصہ پورا ہو گیا اور ہم آپ ﷺ کو حضرت آمنہ کے پاس لے آئے لیکن ہمارا دل جدائی برداشت کر نے کے لیے تیار نہ تھا ۔ ہم نے سیدہ آمنہ سے کہا کہ اپنے فرزند کو مزید کچھ عرصہ ہمارے پاس رہنے دیں ۔ حضرت حلیمہ کے اصرار پر حضرت آمنہ مان گئیں ۔ جب حضرت حلیمہ آپ ﷺ کو لے کر خیمہ پہنچی تو قبیلے والی دوسری عورتیں  بہت خوش ہوئیں ۔ 
حضرت حلیمہ فرماتی ہیں کہ لوگوں کے دلوں میں آپ ﷺ کی محبت ڈال دی گئی تھی جب کوئی بیمار ہوتا تو وہ تکلیف والی جگہ پر آپ ﷺ کا ہاتھ رکھتاتو اللہ تعالی اسے شفا عطا فرماتا ۔ ( السیرۃ الحلبیہ )۔ ایک دفعہ حضرت حلیمہ سعدیہ نے دیکھا کہ ایک بادل کا ٹکڑا دھوپ سے بچانے کے لیے آپ ﷺ پر سایہ کر رہا تھا آپ ﷺ کھڑے ہوتے  تو رک جاتا جب آپ ﷺ چلتے تو بادل کا ٹکڑا بھی چل پڑتا ۔ ( السیرۃ الحلبیہ )

بدھ، 2 ستمبر، 2026

رضاعت مصطفی ﷺ(۱)

 

رضاعت مصطفی ﷺ(۱)

کسی ماں کی گود میں آنے والا بچہ عموما ً اس گھر کی خوشی ہوتا ہے ۔ مگر جب وہ بچہ اللہ کا محبوب اور رحمت دو عالم ﷺ ہو تو اس گھر کی  سعاد ت کا اندازہ الفاظ سے نہیں کیا جا سکتا ۔ دنیا میں ایسے بے شمار بچے دیکھے جو وقت کے ساتھ بڑے ہوئے اور پھر گمنامی میں کھو  گئے ۔ لیکن ایک بچہ ایسا بھی تھا جس کی آمد نے ایک گھر کو ایسی نسبت عطا کر دی کہ صدیوں بعد بھی اس کا ذکر عقیدت سے کیا جاتا  ہے ۔ یہ سعادت حضرت حلیمہ سعدیہ کے حصے میں آ ئی ۔ 
مکہ مکرمہ کی فضا میں پرورش پانے والے اس نور مجسم کو جب حضرت حلیمہ سعدیہ اپنی آغوش میں لے کر اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئی تو انہیں شاید یہ معلوم نہ تھا کہ وہ اپنے ساتھ محض ایک بچہ نہیں بلکہ رحمت ، برکت اور انسانیت کے سب سے عظیم محسن ﷺ کو  لے کر جا رہی ہے ۔ ان کی گود کو وہ شرف ملنے والا تھا جس کا تصور بھی عام انسانی سعادتوں سے بلند ہے ۔ ان کے گھر کی سادگی کو  ایسی نسبت نصیب ہونے والی تھی جس کے سامنے دنیا کی ہر ظاہری شان ماند پڑ جاتی ہے ۔ 
مکہ مکرمہ میں یہ رواج تھا کہ جب بچہ پیدا ہوتا تو مختلف قبائل کی عورتیں آتیں اور بچوں کو پالنے کے لیے لے جاتیں تا کہ رضاعت ختم ہونے کے بعد ان کے والدین سے انعام و اکرام لے سکیں ۔ قبیلہ بنی سعد کی چند خواتین بچوں کی تلاش کے لیے مکہ مکرمہ آ ئیں ، ان کے ساتھ حضرت حلیمہ سعدیہ بھی تھیں ۔ 
حضرت حلیمہ اپنا حال بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ یہ قحط اور خشک سالی کا موسم تھا ہمارے پاس کچھ نہ تھا ہم کمزور گدھی پر سوار ہو کر قافلے کے ساتھ نکلے ۔ ساتھ ایک اونٹنی بھی تھی جس کی کھیری میں دود ھ کا ایک قطرہ بھی نہ تھا ۔میری چھاتی میں بھی اتنا دودھ  نہیں تھا کہ میرا بچہ پیٹ بھر کے پی سکے وہ بھوک کی وجہ سے ساری رات روتا تھا ۔ 
مکہ پہنچ کر ساری عورتیں بچے کی تلاش میں گھر گھر چکر لگانے لگیں لیکن جب حضرت آمنہ کے گھر جاتیں توآپ ﷺ کو یتیم سمجھ کر چھوڑ دیتیں ۔آپ فرماتی ہیں کہ ہر عورت کو بچہ مل گیا لیکن میری غربت اور تنگدستی کی وجہ سے کسی نے مجھے بچہ نہ دیا ۔آخرمیں 
میں نے اپنے خاوند سے کہا کہ ہم اس یتیم بچے کو لے آتے ہیں کم از کم خالی گود تو واپس نہ جائیں ۔ آپ فرماتی ہیں جب میں نےآپ ﷺ کو دیکھا تو حسن وجمال کو دیکھ کر حیرت میں پڑ گئی ، جب آپ ﷺ نے آنکھیں کھولیں تو آنکھوں سے انوار نکل رہے تھے ۔ میں نے بے اختیار آپ ﷺ کی پیشانی کو بوسہ دیا اور اٹھا کر سینے سے لگا لیا ۔

حضور نبی کریم ﷺ کا رُخ انور

  حضور نبی کریم ﷺ کا رُخ انور حضور نبی کریم ﷺ کا رُخ انور اللہ تعالی کے جمال کا آئینہ اور انوار تجلیات کا مظہر تھا ۔ آپ ﷺ کا چہرہ انور نہا...