پیر، 20 جولائی، 2026

خلوت اختیار کرنے کی فضیلت

 

خلوت اختیار کرنے کی فضیلت

حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ سے عرض کی گئی کہ یا رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سے افضل کون کون ہے نبی کریم ﷺ  نے ارشاد فرمایا وہ مومن جو اپنے مال اور جان کے ساتھ اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرے ۔صحابہ کرام نے پھر عرض کی یارسول اللہ ﷺ پھر کون۔
 آپ ﷺ نے فرمایا وہ مومن جو گھاٹی میں رہے اور اللہ تعالی سے ڈرتا رہے اور لوگوں کو شر نہ پہنچائے ۔ ( بخاری شریف )۔
بخاری شریف میں اسود بن یزید نخعی ؓ سے مروی ہے کہ میں نے ام المئومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ جب گھر آتے تو کیا کرتے تھے ۔ حضرت عائشہؓ نے کہا آپﷺ گھر کے کاموں میں مشغول رہتے اور جب نماز کا وقت ہوتا تو اٹھ کر نماز کے لیے چلے جاتے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب بندہ اعلانیہ طور پر نماز ادا کرتا ہے اور اچھے طریقے سے نماز اداکرتا ہے اور  خلوت میں جب نما ز ادا کرتا ہے اور اچھے طریقے سے ادا کرتا ہے تو اللہ تعالی فرماتا ہے درحقیقت یہ بندہ اللہ تعالی کا بندہ ہے ۔ (ابن ماجہ)
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : قریب ہے مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہوں گی جن کو وہ پہاڑ کی چوٹی بارش کے برسنے کی جگہوں میں لے جائے گا ۔ اس حال میں کہ اپنے دین کے سبب فتنوں سے بھاگے گا اس میں اس شخص کے لیے تنہائی میں رہنے کی فضیلت ہے جس کو اپنے دین کا خوف ہو ۔ ( بخاری ).
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبوت کے آغاز میں سب سے پہلے اللہ تعالی نے آپ کی کرامت اور اپنے بندوں پر اپنی رحمت کے اظہار کا ارادہ فرمایا تو نبی کریم ﷺ جو بھی چیز خواب میں دیکھتے وہ روز روشن کی طرح پوری ہو جاتی تھی ۔ جب تک اللہ تعالی کو منظور تھاایسا ہی رہا  پھر آپ کو خلوت نشینی پسند آگئی اس وقت آپ ﷺ کے نزدیک خلوت سے زیادہ پسندیدہ چیز کوئی نہیں تھی ۔ ( ترمذی )۔
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا تمہیں سب سے بہتر لوگوں کے بارے میں نہ بتلاؤ ں ایک وہ شخص ہے  جو اللہ تعالی کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام پکڑ لیتا ہے اور نکل کھڑا ہوتا ہے کیا جو شخص اس کے بعد ہو گا یہ وہ شخص ہے جو بکریاں لے کر لوگوں سے الگ ہو جاتا ہے اور ان کے بارے میں اللہ تعالی کے حق کو ادا کرتا ہے کیا میں تمہیں سب سے بد ترین شخص کے بارے میں نہ بتاؤں یہ وہ شخص ہے جس سے اللہ تعالی کے نام پہ مانگا جائے وہ نہ دے ۔ ( ترمذی )

اتوار، 19 جولائی، 2026

ایمان ، یقین اور استقامت

 

ایمان ، یقین اور استقامت

انسانی زندگی میں بعض تصورات ایسے ہیں جو محض الفاظ نہیں ہو لتے بلکہ وہ کردار ، سوچ اور عمل کی بنیاد بن جاتے ہیں ۔ایمان ،یقین اور استقامت تین  ایسے تصورات ہیں جو فرد کے فکری ، روحانی اور عملی وجود کو ایک سمت عطا کرتے ہیں۔ اگر ان تینوں کو ایک لڑی میں پرو دیا جائے تو ایک مکمل شخصیت کی  تکمیل ہوتی ہے اور دنیاو آخرت میں کامیابی نصیب ہوتی ہے۔ انسان کے دل میں سب سے پہلی چیز جو جنم لیتی ہے وہ ایمان ہے ۔ ایمان وہ چیز ہے جو بندے کو اللہ تعالی کے وحدہ لاشریک ہونے ، اس کے رسولوں ،  کتب سماویہ ، ملائکہ ، اچھی اور بری تقدیر اور یوم آخرت پر یقین رکھنے کا درس دیتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :
” رسول ایمان لایا اس پر جو اس کے رب کی طرف سے اس پر اترا اور ایمان والے ، سب نے مانا اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے  رسولوں کو “۔ ( سورۃ البقرہ )۔ 
ایمان ایک ایسا نور ہے جو انسان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آتا ہے ۔ ایمان صرف زبانی دعوے کا نام نہیں بلکہ اس کا اثر انسان کے اعمال اور کردار میں بھی نظر آنا چاہیے ۔ 
جب ایمان انسان کے دل میں مضبوط ہو جاتا ہے تو وہ یقین میں ڈھل جاتا ہے ۔ یقین ایک ایسا درجہ ہے جس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں ۔ارشاد باری تعالی ہے : اور زمین میں نشانیاں ہیں یقین والوں کے لیے “۔ ( سورۃ البقرہ )۔ یقین انسان کو مشکل وقت میں بھی اپنے رب پر بھروسہ رکھنے کا حوصلہ دیتا ہے ۔جس کی مثالیں ہمیں انبیاءکرام ، نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کی زندگیوں سے ملتی ہیں کہ کس طرح انہوں نے مشکلات و مصائب میں اللہ تعالی پر کامل یقین رکھا اور اللہ تعالی نے انہیں کامیابی عطا فرمائی ۔ 
جب انسان حق کو پہچا ن کر اسے دل و جان سے تسلیم کرتے ہوئے اس پر ڈٹ جائے اور ثابت قدم رہے تو اسے استقامت کہتے ہیں ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ” بیشک جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے ان پر فرشتے اترتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو “۔ ( سورۃ الفصلت )۔
کسی بھی بات پر قائم رہنا آسان نہیں ۔ یہ صبر ، قربانی اور حوصلے کا تقاضا کرتی ہے ۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان کی زندگیاں ہمارے لیے استقامت کا عملی  نمونہ ہیں کہ کس طرح انہیں طرح طرح کی تکالیف دی گئیں لیکن وہ استقامت کے ساتھ اپنے دین پر قائم رہے ۔ حضرت بلال حبشیؓ کو تپتی ریت پر لٹایا  گیا آپ کے جسم پر پتھر رکھے گئے لیکن آپؓ کی استقامت کا یہ عالم تھا کہ آپ احد احد ہی کی صدا بلند کرتے تھے ۔ 
ایمان بندے کے دل میں روشنی پیدا کرتا ہے ، یقین اس روشنی کو مستقل قوت دیتا ہے اور استقامت اس قوت کو آزمائش میں ثابت کرتی ہے ۔  ایمان ، یقین اور استقامت ایک ایسا نظام ہے جو انسان کو دنیا و آخرت میں کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے ۔ جب انسان ان تینوں صفات کو اپنا لے تو وہ نہ صرف خود کو سنوارتا ہے بلکہ معاشرے کی بھی اصلاح کرتا ہے ۔ اللہ تعالی ہمیں سچا ایمان ، مضبوط یقین اور استقامت عطا فرمائے ۔ آمین ۔

ہفتہ، 18 جولائی، 2026

آداب زندگی قرآن کی روشنی میں (۲)

 

آداب زندگی قرآن کی روشنی میں (۲)

قرآن مجید میں اللہ تعالی نے مسجد کے آداب بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ”اور یاد کرو جب ہم نے اس گھر کو لوگوں کے لیے مرجع و امان بنایا اور ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ اور ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم اور اسماعیل کو کہ میرا گھر خوب ستھرا کرو طواف والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع و سجود والوں کے لیے “۔ ( سورۃ البقرہ )۔ مسجد اللہ تعالی کا گھر ہے ۔ اس آیت سے ایک بات تو یہ بات پتہ چلی کہ نماز مسجد میں باجماعت ادا کرنی چاہیے اور دوسری یہ کہ اللہ تعالی کے گھر کو صاف ستھرا  رکھنا چاہیے تا کہ وہاں آ کر اللہ تعالی کی عبادت کرنے والو ں کو کوئی پریشانی یا تکلیف نہ ہو ۔  قرآن مجید میں اللہ تعالی نے والدین اور دوسروں کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرنے کا حکم فرمایا ہے اور یہ معاشرتی آداب میں بہت اہمیت کا حامل ہے کہ  ہم اپنے والدین کا ادب و احترام کریں اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں ۔ اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو اور جب وہ بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے سامنے اف تک نہ کہو ۔ 
سورۃ النساءمیں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :” اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کہ نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ سے بھلائی کرو اور رشتہ دارو ں اور یتیموں اور محتاجوں اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے اور کروٹ کے ساتھی اور راہ گیر اور اپنی باندی و غلام سے بے شک اللہ کو پسند نہیں کوئی اترانے والا، بڑائی مارنے والا “۔ 
لوگوں کو عدل و انصاف فراہم کرنا معاشرتی آداب میں سے اہم ترین ہے کیوں کہ عد ل و انصاف کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا اور نہ ہی معاشرے میں امن قائم ہو سکتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ”بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے عدل اور احسان کا “۔ ( سورۃ النحل )۔ 
اسی طرح اگر کسی کے ساتھ عہد کیا جائے تو اس عہد کو پورا کرنا ضروری ہے اور اس کے متعلق بھی برو زقیامت پوچھا جائے گا ۔ ارشاد باری تعالی ہے :” اور  عہد کو پورا کرو بیشک عہد سے سوال ہونا ہے “۔ ( سورۃ بنی اسرائیل )۔ 
معاف کرنا اور در گزر کرنا ایک ایسا عمل ہے جس سے نہ صرف بندے کی عزت و احترام میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معاشرہ بھی امن و سلامتی کا گہوارہ بن جاتا  ہے اور اللہ تعالی بھی ڈھیروں اجرو ثواب عطا فرماتا ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے :”اور برائی کا بدلہ اسی کی برائی ہے تو جس نے معاف کیا ور کام سنوارا تو اس کا اجر اللہ پر ہے بیشک وہ دوست نہیں رکھتا ظالموںکو “۔ ( سورۃ الشورٰی )۔
اس کے علاوہ حیا و پاکدامنی اور بے جا تجسس اور غیبت سے اجتناب کرنا بھی معاشرتی آداب میں سے ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :” اور مومن مردوں  سے کہہ دو کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں“۔ ( سورۃ النور )۔
سورۃ الحجرات میں اللہ تعالی فرماتا ہے :اور ایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ لگے رہو اور نہ ہی ایک دوسرے کی غیبت کرو “۔  اگر ہم قرآن مجید کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق زندگی بسر کریں تو اللہ تعالی ہمیں دنیا و آخرت میں سرخرو کرے گا اور معاشرہ بھی امن کا گہوارہ  بن جائے گا۔

جمعہ، 17 جولائی، 2026

آداب زندگی قرآن کی روشنی میں (۱)

 

آداب زندگی قرآن کی روشنی میں (۱)

قرآن مجید واحد ایسی مکمل اور جامع کتاب ہے جو نہ صرف عبادات میں ہماری رہنمائی کرتی ہے بلکہ ہمیں معاشرے میں رہن سہن کے طور طریقوں کے  حوالے سے مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے ۔ قرآن مجید کی آیات کی روشنی میں معاشرتی زندگی کے آداب جن پر عمل کر کے ہم معاشرے میں بلند مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ارشاد باری تعالی ہے : اے ایمان والو اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں داخل نہ ہو جب تک اجازت نہ لے لو اور ان کے ساکنوں پر سلام نہ کر لو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے کہ  تم دھیان کرو ۔ پھر اگر تم ان میں کسی کو موجود نہ پاؤ تو تم ان کے اندر مت جاؤ یہاں تک کہ تمہیں اجازت دی جائے اور اگر تم سے کہا جائے واپس جاؤ تو  واپس ہو۔ یہ تمہارے لیے ستھرا ہے اللہ تمہارے کاموں  کو جانتا ہے “۔ (سورۃالنور )۔ 
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی فرما رہا ہے کہ جب بھی کسی کے گھر جاؤ تو پہلے اجازت لو اس کے بعد وہاں رہنے والوں کو سلام کرو اور اگر کوئی گھر میں نہ 
ہو تو اس میں داخل نہ ہو اور اگر اجازت طلب کرنے پر اندر جانے کی اجازت نہ ملے تو خاموشی کے ساتھ واپس چلے جاؤ یہی تمہارے لیے بہتر ہے ۔ 
سورۃ بنی اسرائیل میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :” اور میرے بندوں سے کہو کہ وہ بات کہیں جو سب سے اچھی ہو “۔ یعنی جب بھی کسی کے ساتھ گفتگو 
کریں تو نرمی ، شفقت کے ساتھ کریں اور سچی بات کریں ۔ بد زبانی اور سخت لہجہ معاشرے میں فساد کا باعث بنتا ہے ۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ اپنی  گفتگو میں نرمی پیدا کریں اور اسے پاکیزہ رکھیں ۔ 
مجلس کے آداب کے بارے میں اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :” اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں  جگہ دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہو “۔  مجلس میں موجود لوگوں سے مخاطب کرتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا کہ جب کوئی باہر سے آئے تو اسے جگہ دواور اپنی مجالس میں کشادگی پیدا کرو تا کہ  زیادہ لوگ شامل ہو سکیں جب تم دوسروں کو جگہ دو گے تو اللہ تعالی تمہیں اس سے بہتر جگہ دے گا ۔ 
تواضع و انکساری اللہ تعالی کو بہت پسند ہے اور اس سے معاشرے میں بھی بندے کی عزت میں اضافہ ہوتا ہے ۔ سورۃ بنی اسرائیل میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : ” اور زمین میں اتراکرنہ چلو بیشک تو ہر گز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہر گز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا “۔ 
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی اپنے بندوں کو حکم دے رہا ہے کہ عاجزی و انکساری اختیار کرو ۔ اللہ تعالی کو غرور اور تکبر کرنے والا شخص پسند نہیں ۔ ایک سچا  اور کامل مومن وہ ہی ہے جو اپنے مقام و مرتبہ کو پہچانتے ہو ئے صرف اللہ تعالی کے سامنے جھکے اور زمین پر اکڑ نہ چلے ۔  اگر کوئی شخص کسی کے پاس اپنی کوئی چیز امانت کے طور پر رکھے تو اس میں خیانت نہ کرنا بھی زندگی کے آداب میں سے ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:”بیشک 
اللہ تمہیں حکم دیتا ہے امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو “۔ (سورۃ النساء)۔

جمعرات، 16 جولائی، 2026

مسلمانوں کا فکری زوال اور اس کا تدراک(۲)

 

مسلمانوں کا فکری زوال اور اس کا تدراک(۲)

انسان کے فکری زوال کی ایک بڑی وجہ اس کا برا اخلاق بھی ہے ۔ برے اخلاق انسان کی فکری سوچ پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔
فکری زوال کو ختم کرنے کا سب سے اہم اور پہلا طریقہ اپنے ایمان اور عقیدہ کو مضبوط کرنا ہے ۔ انسان کو اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ وہ اس دنیا میں کس مقصد  کے لیے بھیجا گیا ہے ۔ اپنے حقیقی مقصد کو سمجھتے ہوئے اسے اپنا ایمان اور اللہ تعالی پر بھروسہ مضبوط کرنا چاہیے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ”جو اللہ اور پچھلے دن پر ایمان رکھتا ہو اور جو کوئی اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لیے نجات کی راہ نکال دے گا “۔ ( سورہ الطلاق)۔ اس کے بعد فکری زوال کا خاتمہ علم کے ذریعے کیا جا سکتا ہے ۔ علم انسان کی فکری صلاحیت کو بڑھاتا ہے اور اس کی سچائی کی طرف رہنمائی کرتا ہے ۔علم کی اہمیت کا اندازہ قرآن مجید کی اس آیت سے لگایا جا سکتا ہے۔ارشاد باری تعالی ہے : ”اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا ہے درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے “۔ (سورہ المجادلہ )۔
حدیث شریف میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :”علم حاصل کرنا ہر مسلمان مر دو عورت پر فرض ہے “۔ ہمیں ایک ایسی فکری فضا قائم کرنے کی ضرورت ہے جہاں صرف سطحی تعلیم کی بجائے مطالعہ اور تحقیق کی حوصلہ افزائی ہو ۔ کتاب سے دوستی ، تعلیمی محافل اور 
سوال و جواب کی مجالس اس میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں ۔ 
انسان کی سوچ اور اس کی فکری زوال کی ایک بڑی وجہ گناہوں میں مبتلا ہو جانا بھی ہے ۔ فکری زوال کے خاتمے کے لیے توبہ و استغفار کی کثرت کرنی چاہیے ۔  ارشاد باری تعالی ہے :” اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب (ﷺ) تم ان میں تشریف فرما ہواور اللہ انہیں عذاب کرنے والا نہیں  جب تک وہ بخشش طلب کر رہے ہیں“۔ ( سورہ الانفال )۔
اسلام میں اچھے اخلاق کی بڑی اہمیت ہے ۔ جب انسان اخلاقی طور پر بہتر ہو تا ہے تو اس کی سوچ بھی بہتر ہوتی ہے ۔ اچھے اخلاق کی اہمیت بیان کرتے ہوئے  نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” مجھے اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے “۔  روحانیت اور مادیت میں توازن قائم کرنے سے بھی انسان کے فکری زوال کا خاتمہ ہوتا ہے ۔ انسان کا دل و دماغ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ایک متوازن  شخصیت وہی ہے جو فکری لحاظ سے نہ تو محض مادی سوچ رکھتا اور نہ ہی محض خیالی ۔ عبادات اور معاملات دونوں میں توازن قائم کرنے سے فکری زوال کو ختم  کیا جا سکتا ہے ۔  فکری زوال ایک سنگین مسئلہ ہے جس کا اثر صرف ایک فرد پر نہیں ہوتا بلکہ ایک فرد سے نکل پوری قوم زوال کا شکار ہو جاتی ہے ۔ اس کا حل ایمان اور عقائد کی 
مضبوطی ، حقیقی علم کا حصول ، اخلاقی تربیت اور توبہ و استغفارسے ممکن ہے ۔ فکری زوال کو ختم کرنے کے لیے دین کی اصل تعلیمات پر عمل کرنا ضروری ہے ۔اس  کے ذریعے ہی فرد اور قوم فکری زوال سے چھٹکارا پا سکتے ہیں

بدھ، 15 جولائی، 2026

مسلمانوں کا فکری زوال اور اس کا تدراک(۱)

 

مسلمانوں کا فکری زوال اور اس کا تدراک(۱)

سبب کچھ اور ہے ، تو جس کو خود سمجھتا ہے 
      زوال بندہ مومن کا، بے زری سے نہیں
تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ قوموں کا عروج اور پستی اس کی فکری سوچ کے ساتھ جڑی ہوتی ہے ۔ فکری بلندی کی وجہ سے قومیں آسمانوں کی بلندیوں کوچھو لیتی ہیں اور فکری زوال انہیں آسمان کی بلندیو ں سے گرا کر زمین بوس کر دیتا ہے ۔یہ زوال نہ صرف انسان کی انفرادی زندگی کو متاثر کرتا ہے بلکہ قوم کے اجتماعی زوال کا بھی سبب بنتا ہے۔ آج کے دور میں ایک شدید قسم کا فکری انتشار نظر آتا ہے جس کی بے شمار وجوہات ہیں ۔  سب سے پہلی اور بڑی وجہ تعلیم سے دوری ہے ۔جس قوم کا آغاز لفظ ”اقراء“ سے ہوا تھا آج وہی قوم محض روایتی علم حاصل کر رہی ہے جو صرف اور صرف  ڈگریوں اور نوکریوں تک محدود ہے ۔ اور ہم تحقیقی کام سے بہت حد تک دور جا چکے ہیں ۔جب ذہن کام کرنا چھوڑ دے تو فکری زوال کا آغاز ہو جاتا ہے ۔ 
آج کے دور میں انسان کے پاس علم تو ہے مگر وہ بصیرت سے خالی ہے ۔گہرائی سے سوچنے کی عادت اور مسئلے کی تہہ تک جانا ختم ہو چکا ہے ۔ فکری زوال کی  ایک اہم ترین اور بڑی وجہ تعلیم سے دوری بھی ہے جب انسان تعلیم سے دور ہوتا ہے اور اسکا تعلق سچائی ، تحقیق اور علمی انداز فکر سے نہں  جوڑا جاتا تو قومیں  زوال پذیر ہونا شروع ہو جاتی ہیں ۔ اللہ تعالی نے خود قرآن مجید میں ہمیں یہ حکم دیا کہ علم میں اضافے کی دعا مانگو۔
ارشاد باری تعالی ہے :” اور اے اللہ میرے علم میں اضافہ فرما “۔ یہ آیت اس بات کا ثبوت ہے کہ علم کا حصول انسان کی فکری قوت کو بڑھاتا ہے ۔ ایک  اور جگہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا :” کیا علم والے اور بغیر علم کے برابر ہو سکتے ہیں “۔ اس آیت سے بھی تعلیم کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔
جب انسان دین سے دوری اختیار کر لیتا ہے تو اس کے دل و دماغ پر غفلت کے پردے پڑ جاتے ہیں  اور اس کا بلا واسطہ اثر اس کی فکری سوچ پر پڑتا ہے ۔
ارشاد باری تعالی ہے: ” اور جو اسلام کے سوا کوئی دین چاہے گا وہ ہر گز اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور  آخرت میں وہ نقصان اٹھانے والوں میں ہوں گے “۔ ( سورۃ آل عمران) 
فکری زوال کی ایک بڑی وجہ مادہ پرستی ہے ۔ مادی چیزوں کی طلب انسان کی فکری سطح کو جامد کر دیتی ہے جس کا اثر پوری قوم پر پڑتا ہے ۔ ارشاد باری  تعالی ہے :”لوگوں کے لیے آراستہ کی گئی ان خواہشوں کی محبت عورتیں اور بیٹے اور تلے اوپر سونے چاندی کے ڈھیر اور نشان کیے ہوئے گھوڑے اور چوپائے اور کھیتی یہ جیتی دنیا کی پونجی ہے اور اللہ ہے جس کے پاس اچھا ٹھکانا ہے “۔( سورۃ آل عمران )۔ 
جب انسان مادہ پرستی میں مبتلا ہو جاتا ہے تو اس کی توجہ حقیقت سے ہٹ جاتی ہے اور وہ اللہ تعالی کی رضا اور آخرت کی تیاری کی طرف توجہ دینے کی بجائے  دنیا کی ظاہری لذتوں میں گُم ہو جاتا ہے جس سے اس کی فکری سوچ متاثر ہوتی ہے ۔

منگل، 14 جولائی، 2026

مؤذنِ رسول ﷺ(۳)

 

مؤذنِ رسول ﷺ(۳)

جب لوگوں کو اس بات کا علم ہوا کہ سیدنا بلال حبشی رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ تشریف لے آئے ہیں تو بہت سارے لوگ جمع ہو گئے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کواذان سنانے کی درخواست کی ۔حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ جب میں حضور ﷺ کی ظاہری زندگی میں اذان دیتا تھا تو جس وقت  ”اشھد ان محمد رسول اللہ “کہتا تو مجھے سامنے حضور ﷺ کاچہرہ انور نظر آتاتھا ۔ اب بتاؤ کیسے دیکھو ں  گا۔
لوگوں کے بہت زیادہ اصرار پر بھی آپ ؓ اذان دینے کے لیے آمادہ نہ ہوئے ۔تو لوگ نبی کریم ﷺ کے نواسے حضرت حسن و حسین ؓ کو بلا لائے اور دونوں  شہزادوں سے سفارش کرائی ۔حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے آ کر حضرت بلال کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : اے چچا جان ہمیں بھی وہ اذان سنائیں جو ہمارے  نانا جان کو سنایا کرتے تھے ۔ سیدنا بلال حبشی نواسہءرسول ﷺ کو انکار نہ کر سکے اور ان کا ہاتھ پکڑ کر مسجد نبوی ﷺ کی چھت پر تشریف لے گئے ۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے  اذان کہنا شروع کر دی ، مدینہ منورہ میں یہ بڑا عجیب اور غم کا وقت تھا۔ حضو ر ﷺ کو وصال فرمائے ایک عرصہ گزر چکا تھا ۔  حضرت بلال کی اذان سن کر لوگ مدینہ منورہ کی گلی کوچوں سے مسجد میں جمع ہونے شروع ہو گئے ۔ پردے والی عورتیں رونے لگیں ۔ بچے اپنی ماؤ ں سے پوچھتے تھے کہ حضرت بلال موذن رسولﷺ تو آ گئے ہیں حضور نبی کریم ﷺ کب تشریف لائیں گے ۔ 
حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے جب” اشھد ان محمد رسول اللہ“ زبان مبارک سے نکالا اور حضور ﷺ کو آنکھوں سے نہ دیکھ سکے تو غم ہجر  میں بیہوش ہو کر گر گئے اور کافی دیر کے بعد ہوش آیا تو روتے روتے واپس ملک شام چلے گئے ۔
جب حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا وقت وفات قریب آیا تو آپ کی زوجہ نے بے قرار ہو کر کہا ہائے رے میری مصیبت ۔جب حضرت بلال ؓ نے یہ سنا تو  آنکھیں اور کھول دیں اور فرمایا واہ رے میری خوشی ۔جو آپ ؓ کی زبان پر آخری کلمات تھے وہ یہ تھے کہ ہم اپنے دوستوں یعنی نبی کریم ﷺ اور صحابہ کریم ؓ سے ملاقات کریں گے ۔ ( احیا ءالعلوم )۔
حضرت سیدنا بلال حبشی رضی اللہ عنہ کا نام اسلام کی تاریخ میں ہمیشہ عزت و احترام سے لیا جائے گا ۔ آپ رضی اللہ عنہ استقامت کے پیکر ، عشق رسول ﷺ کے امین ، اذان کی روح اور اخلاص کے روشن چراغ تھے ۔ حضور نبی کریم ﷺ کی احادیث مبارکہ آپ ؓ کی عظمت کی گواہی دیتی ہیں جنت میں آپ ؓ کے قدموں کی آہٹ ان کی مقبولیت کی دلیل ہے ۔آپ ؓ کی پوری زندگی اس حقیقت کا اعلان ہے جو شخص اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ سے سچی محبت کرتا  ہے اللہ تعالی اسے دنیا و آخرت دونوں میں سر بلند فرماتا ہے ۔

خلوت اختیار کرنے کی فضیلت

  خلوت اختیار کرنے کی فضیلت حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ سے عرض کی گئی کہ یا رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سے افضل کون کون ہے نبی...