دعوت و تبلیغ کے اصول
سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں (۱)
انسان کے دل میں حق کی جستجو فطری طور پر موجود ہے مگر اس جستجو کو صحیح سمت دینے کے لیے ایسے رہنمائو ں کی ضرورت ہوتی ہے جو محبت ،حکمت اور خیر خواہی کے ساتھ انسان کو اپنے رب کی طرف متوجہ کریں ۔ دعوت کا اصل مقصد کسی انسان کو زیر کرنانہیں بلکہ اس کے دل میں اللہ تعالی کی محبت پیدا کرنا ، اسے اللہ تعالی سے جوڑنا اور زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق سنوارنے کی ترغیب دینا ہے ۔
دین کی تبلیغ اسلام کی روح ہے اور اس فریضے کی تکمیل کا کامل اور عملی نمونہ ہمیں حضور نبی رحمت ﷺ کی حیات طیبہ سے ملتا ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ کا انداز گفتگوہر شخص کی عقل ، علم اور حالات کے مطابق ہوتا ۔نبی رحمت ﷺ کا اسلوب بہت ہی نرم ، شفیق اور خوش گفتار تھا جو مخالف کو بھی قائل کر دیتا تھا ۔جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے : ’’تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب (ﷺ) آپ ان کے لیے نرم دل ہوئے ‘‘۔ ( سورۃ اٰل عمران )
حضور نبی رحمت ﷺ نے تبلیغ نہ صرف زبان سے کی بلکہ اپنے عمل ، دیانت ، سچائی ، حلم اور وفا داری سے لوگوں کو اپنی طرف مائل کیا ۔یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کے مخالف بھی آپ ﷺ کو صادق اور امین کہ کر پکارتے تھے ۔ سورۃ النحل میں ارشاد باری تعالی ہے : ’’اپنے رب کی طرف بلائو پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے ‘‘۔ اس آیت مبارکہ میں تبلیغ کے بنیادی اصول بتائے گئے ہیں جس میں سب سے پہلے ہے حکمت ۔حکمت کا تقاضا ہے کہ داعی مخاطب کے حالات ، ذہنی سطح ، عمر ، ماحول اور ضرورت کو سمجھ کر بات کرے ۔ داعی اگر حکمت سے محروم ہو تو اچھی بات بھی غلط انداز کی وجہ سے دل پر اثر نہیں کرتی ۔ حضور نبی رحمت ﷺ نے دعوت تبلیغ کا آغاز توحید ، رسالت اور آخرت جیسے بنیادی عقائد سے کیا ۔نماز ، روزہ ، زکوۃ اور حج کا حکم بعد میں نازل ہو ا۔ نماز کی فرضیت ، شراب کی حرمت، جہاد کی فرضیت ، سود کی حرمت ، یتیموں کے حقوق،معاشرتی ، معاشی احکام اور وراثت کی تقسیم کے احکام آہستہ آہستہ سکھائے گئے ۔حضور نبی رحمت ﷺ کبھی بھی کسی کو تمام احکام ایک ہی وقت میں نہیں سناتے تھے بلکہ مخاطب کی عقل و ظرف کے مطابق آہستہ آہستہ بتاتےتاکہ سننے والا اچھی طرح سن کر آمادہ ہو جائے ۔






