بدھ، 28 اکتوبر، 2026

اصلاح معاشرہ اور نبی کریم ﷺ کی حکمت عملی

 

اصلاح معاشرہ اور نبی کریم ﷺ کی حکمت عملی

حضور نبی کریم ﷺ کی اسلامی معاشرے کی اصلاح کی بنیاد اللہ تعالی کی واحدانیت کے ازلی اور ابدی اصولوں پر مبنی ہے ۔ایک ایسا معاشرہ جس کے افراد ایک جسم کی مانند ہیں جب کسی جسم کے ایک حصے کو تکلیف ہوتی ہے تو اس تکلیف کو پورا جسم محسوس کرتا ہے ۔ اسلامی معاشرے کی مثال ایک خاندان کی طرح ہے اور اسلامی اخوت و بھائی چارے سے جڑا ہے کہ ہر فرد پورے کنبے کی امن و سلامتی کا ذمہ دار ہے ۔ 
اسلامی معاشرے کی سب سے پہلی بنیاد توحید ہے ۔معاشرے کے ہر فردکے لیے لازم ہے کہ وہ اس بات پر پختہ یقین رکھے کہ اس کائنات کا خالق و مالک اللہ تعالی وحدہ لاشریک ہے اور ساری کائنات اس کی محتاج ہے جو بھی کام ہوتا ہے اللہ تعالی کے چاہنے سے ہوتا اوراگر وہ نہ چاہے تو کوئی کام نہیں ہوسکتا ۔اللہ تعالی کی تو حید پر جس قدر پختہ یقین ہو گا اسی قدر بندے کا دل بے ایمانی ، خیانت ، خود غرضی ، نفاق اور لالچ سے پاک ہو گا اوروہ دل جو ان چیزوں سے پاک ہوں گے ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد رکھیں گے۔
اللہ تعالی کی وحدانیت کے ساتھ جب تک حضور نبی کریم ﷺ کی اتباع نہ کی جائے اس وقت تک کوئی بھی معاشرہ مکمل نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالی کی واحدانیت کے ساتھ ساتھ اتباع رسول ﷺ لازم و ملزوم ہے ۔ توحید باری تعالی کا رنگ صرف اسی صورت میں صحیح معنوں میں نظر آتا ہے جب معاشرے کا ہر فرد حضور نبی رحمت ﷺ کی سنت کی عملی طور پر پیروی کرے گا ۔ کیونکہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اگر تم چاہتے ہو کہ میں تم سے محبت کروں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ تم میرے محبوب ﷺ کی اتباع کرو ۔توحید باری تعالی اور رسالت کے بعد معاشرتی عوامل میں سے تیسرا عامل آخرت پر یقین ہے جس کی وجہ سے انسان ہوشیار رہتا کہ ایک دن آئے گا جس دن مجھے اپنے کیے کی جزا و سزا ملے گی ۔ انسا ن محاسبے اور جوابدہی کے خوف سے ڈرتا رہتا ہے جس کی وجہ سےوہ کبھی گناہ اور شروفساد کے قریب نہیں جاتا ۔جب افراد میں توحید ، اتباع سنت اور فکر آخرت پریقین پختہ ہو جاتا ہے تو ہر فرد فتنہ و فسادکے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہو جاتا ہے ۔حضور نبی کریم ﷺ نے اسلامی معاشرے کی بنیاد تقویٰ ، خدا خوفی ، عدل و انصاف ، احساس ذمہ داری ، حقوق و فرائض کی ادائیگی جیسے سنہری اصولوں پر رکھی ۔

منگل، 27 اکتوبر، 2026

اصلاح معاشرہ

 

 اصلاح معاشرہ  

انسانی معاشرہ جب بھی بگاڑ ، نا انصافی اور اخلاقی پستی کے اندھیروں میں ڈوبتا ہے تو اسے کسی ایسے رہنماکی ضرورت ہوتی ہے جو دلوں کو بدل کر ایک پُر امن معاشرے کی بنیاد رکھ سکے ۔ بنی نو ع انسانیت کی اصلاح کے لیے انبیاء کرام علیہم السلام کا یہ سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا اور اللہ تعالی کے برگزیدہ نبیوں سے ہوتا ہوا حضور نبی کریم ﷺپر اختتام پذیر ہوا اور اس کے بعد اللہ تعالی نے امت کی اصلاح کا کام صحابہ کرام علیہم الرضوان اور اولیاء کاملین سے لیا ۔انسان نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لیے معاشرتی امن و سلامتی کو خود اپنے ہاتھوں سے تباہ کرتا ہے اور پھر مصائب و آلام میں مبتلا ہو کر اپنی زندگی کو عذاب بنا لیتا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے :خشکی اور تری میں ان برائیوں سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں تا کہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے ،کہیں وہ باز آجا ئیں ۔ ( سورۃ الرو م)
جب حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم معاشی خوشحالی کے باوجود کاروبار میں بددیانتی اور ناپ تول میں کمی کرنے لگے تو انہوں نے اپنی قوم سے کہا : ناپ اور تول میں کمی نہ کرو بیشک میں تمہیں آسودہ حال دیکھتا ہوں اور مجھے تم پر گھیر لینے والے دن کے عذاب کا ڈر ہے ۔ ( سورۃ ھود )
 حضرت شعیب علیہم السلام نے اپنی امت کی اصلاح کرتے ہوئے انہیں فرمایا :اے میری قوم مجھے بتائو کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل یعنی علم و حکمت ، ہدایت و رہنمائی اور نبوت سے نوازا گیا ہے اور اللہ تعالی نے مجھے اپنے کرم سے رزق اور مال و دولت کی فراوانی عطا کی ہے تو کیا میرے لیے یہ جائز ہے کہ میں اپنے فرائض کی ادائیگی یعنی اس کا پیغام تم لوگوں تک پہنچانےمیں کوتاہی کروں ۔ اور میں یہ نہیں چاہتا کہ جس بات سے تمہیں منع کرو ں اور میں اس کے خلاف کرنے لگوں بلکہ حقیقت تو یہ ہےکہ میں زبان سے وہی کہتا ہوں جس پر خود عمل کرتا ہوں ۔میں تو جہاں تک بنے سنوارنا ہی چاہتا ہوں اور میری توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور اسی کی طرف رجوع ہوتا ہوں ۔ ہادی برحق نبی اکرم شافع محشر حضور ﷺ کی ذات گرامی کائنات کا وہ کامل ترین نمونہ ہے جنہوں نے طاقت یا جبر کے بغیر صرف اور صرف اپنی بے مثال حکمت عملی اور اعلیٰ اخلاق سے ایک بیمار معاشرے کو شفاء بخشی ۔

پیر، 26 اکتوبر، 2026

ایمان دل میں روشنی پیدا کرتا ہے

 

ایمان دل میں روشنی پیدا کرتا ہے


انسانی زندگی میں بعض تصورات ایسے ہیں جو محض الفاظ نہیں ہو تے بلکہ وہ کردار ، سوچ اور عمل کی بنیاد بن جاتے ہیں ۔ایمان ،یقین اور استقامت تین  ایسے تصورات ہیں جو فرد کے فکری ، روحانی اور عملی وجود کو ایک سمت عطا کرتے ہیں۔ اگر ان تینوں کو ایک لڑی میں پرو دیا جائے تو ایک مکمل شخصیت کی  تکمیل ہوتی ہے اور دنیاو آخرت میں کامیابی نصیب ہوتی ہے۔ انسان کے دل میں سب سے پہلی چیز جو جنم لیتی ہے وہ ایمان ہے ۔ ایمان وہ چیز ہے جو بندے کو اللہ تعالی کے وحدہ لاشریک ہونے ، اس کے رسولوں ،  کتب سماویہ ، ملائکہ ، اچھی اور بری تقدیر اور یوم آخرت پر یقین رکھنے کا درس دیتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :” رسول ایمان لایا اس پر جو اس کے رب کی طرف سے اس پر اترا اور ایمان والے ، سب نے مانا اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے  رسولوں کو “۔ ( سورۃ البقرہ )۔ 
ایمان ایک ایسا نور ہے جو انسان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آتا ہے ۔ ایمان صرف زبانی دعوے کا نام نہیں بلکہ اس کا اثر انسان کے اعمال اور کردار میں بھی نظر آنا چاہیے ۔ جب ایمان انسان کے دل میں مضبوط ہو جاتا ہے تو وہ یقین میں ڈھل جاتا ہے ۔ یقین ایک ایسا درجہ ہے جس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں ۔ارشاد باری تعالی ہے : اور زمین میں نشانیاں ہیں یقین والوں کے لیے “۔ ( سورۃ البقرہ )۔ یقین انسان کو مشکل وقت میں بھی اپنے رب پر بھروسہ رکھنے کا حوصلہ دیتا ہے ۔جس کی مثالیں ہمیں انبیاءکرام ، نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کی زندگیوں سے ملتی ہیں کہ کس طرح انہوں نے مشکلات و مصائب میں اللہ تعالی پر کامل یقین رکھا اور اللہ تعالی نے انہیں کامیابی عطا فرمائی ۔ 
جب انسان حق کو پہچا ن کر اسے دل و جان سے تسلیم کرتے ہوئے اس پر ڈٹ جائے اور ثابت قدم رہے تو اسے استقامت کہتے ہیں ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ” بیشک جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے ان پر فرشتے اترتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو “۔ ( سورۃ الفصلت )۔
کسی بھی بات پر قائم رہنا آسان نہیں ۔ یہ صبر ، قربانی اور حوصلے کا تقاضا کرتی ہے ۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان کی زندگیاں ہمارے لیے استقامت کا عملی  نمونہ ہیں کہ کس طرح انہیں طرح طرح کی تکالیف دی گئیں لیکن وہ استقامت کے ساتھ اپنے دین پر قائم رہے ۔ حضرت بلال حبشیؓ کو تپتی ریت پر لٹایا  گیا آپ کے جسم پر پتھر رکھے گئے لیکن آپؓ کی استقامت کا یہ عالم تھا کہ آپ احد احد ہی کی صدا بلند کرتے تھے ۔ 
ایمان بندے کے دل میں روشنی پیدا کرتا ہے ، یقین اس روشنی کو مستقل قوت دیتا ہے اور استقامت اس قوت کو آزمائش میں ثابت کرتی ہے ۔  ایمان ، یقین اور استقامت ایک ایسا نظام ہے جو انسان کو دنیا و آخرت میں کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے ۔ جب انسان ان تینوں صفات کو اپنا لے تو وہ نہ صرف خود کو سنوارتا ہے بلکہ معاشرے کی بھی اصلاح کرتا ہے ۔ اللہ تعالی ہمیں سچا ایمان ، مضبوط یقین اور استقامت عطا فرمائے ۔ آمین 

اتوار، 25 اکتوبر، 2026

خلوت اختیار کرنے کی فضیلت

 

خلوت اختیار کرنے کی فضیلت

حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ سے عرض کی گئی کہ یا رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سے افضل کون کون ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ مومن جو اپنے مال اور جان کے ساتھ اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرے ۔صحابہ کرام نے پھر عرض کی یارسول اللہ ﷺ پھر کون آپ ﷺ نے فرمایا وہ مومن جو گھاٹی میں رہے اور اللہ تعالی سے ڈرتا رہے اور لوگوں کو شر نہ پہنچائے ۔ ( بخاری شریف ) 
بخاری شریف میں اسود بن یزید نخعی ؓ سے مروی ہے کہ میں نے ام المئومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ جب گھر آتے تو کیا کرتے تھے ۔ حضرت عائشہؓ نے کہا آپﷺ گھر کے کاموں میں مشغول رہتے اور جب نماز کا وقت ہوتا تو اٹھ کر نماز کے لیے چلے جاتے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب بندہ اعلانیہ طور پر نماز ادا کرتا ہے اور اچھے طریقے سے نماز اداکرتا ہے اور خلوت میں جب نما ز ادا کرتا ہے اور اچھے طریقے سے ادا کرتا ہے تو اللہ تعالی فرماتا ہے درحقیقت یہ بندہ اللہ تعالی کا بندہ ہے ۔ (ابن ماجہ)حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : قریب ہے مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہوں گی جن کو وہ پہاڑ کی چوٹی بارش کے برسنے کی جگہوں میں لے جائے گا ۔ اس حال میں کہ اپنے دین کے سبب فتنوں سے بھاگے گا اس میں اس شخص کے لیے تنہائی میں رہنے کی فضیلت ہے جس کو اپنے دین کا خوف ہو ۔ ( بخاری ) حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبوت کے آغاز میں سب سے پہلے اللہ تعالی نے آپ کی کرامت اور اپنے بندوں پر اپنی رحمت کے اظہار کا ارداہ فرمایا تو نبی کریم ﷺ جو بھی چیز خواب میں دیکھتے وہ روز روشن کی طرح پوری ہو جاتی تھی ۔ جب تک اللہ تعالی کو منظور تھاایسا ہی رہا پھر آپ کو خلوت نشینی پسند آگئی اس وقت آپ ﷺ کے نزدیک خلوت سے زیادہ پسندیدہ چیز کوئی نہیں تھی ۔ ( ترمذی ) 
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا تمہیں سب سے بہتر لوگوں کے بارے میں نہ بتلائو ں ایک وہ شخص ہے جو اللہ تعالی کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام پکڑ لیتا ہے اور نکل کھڑ اہوتا ہے کیا جو شخص اس کے بعد ہو گا یہ وہ شخص ہے جو بکریاں لے کر لوگوں سےالگ ہو جاتا ہے اور ان کے بارے میں اللہ تعالی کے حق کو ادا کرتا ہے کیا میں تمہیں سب سے بد ترین شخص کے بارے میں نہ بتائوں یہ وہ شخص ہےجس سے اللہ تعالی کے نام پہ مانگا جائے وہ نہ دے ۔ ( ترمذی )

ہفتہ، 24 اکتوبر، 2026

تکبر کے اسباب (۲)

 

تکبر کے اسباب (۲)

زہد اور عبادت تکبر کا دوسرا سبب ہے ۔ عابد ، زاہد اور صوفی بھی تکبر سے تہی نہیں ہوتے ۔ وہ خود کو لوگوں کی زیارت اور خدمت کے قابل سمجھتے ہیں اور وہ اپنی عبادت دوسروں پر احسان سمجھتے ہیں ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی انہیں ستائے اور وہ کسی مصیبت میں مبتلا ہو جائے وہ اسے بھی اپنی کرامت سمجھیں ۔ یہی خیال کریں کہ اس پر یہ آفت انہیں کی وجہ سے آئی ہے ۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ کسی مسلمان کو خود سے کمتر یا حقیر سمجھنا ایک مکمل گنا ہ ہے ‘‘۔ اس کے اور اس شخص کے درمیان بہت فرق ہے جو اس سے برکت حاصل کرتا ہے اور اسے اپنے سے بہتر سمجھتا ہے۔ اس سے  اللہ تعالی کے لیے محبت کرتا ہے ۔ جو خود کو دوسروں سے بہتر سمجھتا ہے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کادرجہ دوسرے لوگوں کو عطا کر دے اور اسے اس کی عبادت سے محروم کر دے۔
بنی اسرائیل میں ایک بہت عبادت گزار شخص تھا اورایک  شخص بہت زیادہ فاسق تھا ۔ عابد ایک جگہ مکین تھا اور بادل کا ایک ٹکڑا اس کے اوپر سایہ کیے ہوئے تھا۔ فاسق نے سوچا کہ میں اس عابد کے پاس جاتا ہوںاس کے پاس بیٹھتا ہو ں ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالی اس کی برکت سے مجھ پر رحم فرمائے اور میرے گناہ معاف کر دے۔جب فاسق اس عابد کے پاس پہنچا تو عابد نے خود سے کہا یہ تو سب سے زیادہ فاسق و فاجر ہے جو میرے دروازے پر بیٹھ گیا ہے اور میں سب سے زیادہ عبادت گزار ہوں ۔ اس نے اس فاسق سے کہا کہ اٹھو یہاں سے چلے جائو ۔ فاسق وہاں سے اٹھ کر چلا گیا اور اب بادل کا ٹکڑا اس پر سایہ کیے ہو ا تھا ۔ اللہ تعالی نے اس وقت کے پیغمبر کی طرف وحی نازل فرمائی کہ ان دونوں سے کہیں اپنے اعمال کا دوبارہ سے آغازکریں ۔فاسق کے گناہ اس کی نیک خصلت کی وجہ سے معاف کر دیے ہیں اور عابد کے نیک اعمال اسکے تکبر کی وجہ سے بر باد کر دیے ہیں۔مومن تقوی کے راستے پر گامزن رہتا ہے مگر خوفزدہ رہتا ہے جبکہ احمق عابد ظاہراً عمل کرتا ہے دل میں تکبر کی ناپاکی رکھتا ہے مگر کوئی خوف نہیں رکھتا ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جس نے یہ خیال کیا کہ وہ دوسرے سے بہتر ہے اس نے اپنی جہا لت کی وجہ سے اپنی عبادت برباد کر لی ۔ کوئی معصیت جہالت سے بڑھ کر نہیں

جمعہ، 23 اکتوبر، 2026

تکبر کے اسباب (۱)

 

تکبر کے اسباب (۱)

علم تکبر کا پہلا سبب ہے جب عالم خود کو کمال سے آراستہ دیکھتا ہے تو دوسروں کو حیوانات کی طرح سمجھتا ہے۔
تکبر کا اس پر غلبہ آجاتا ہے ۔ وہ لوگوں سے مراعات ، خدمت ، تعظیم اور تقدم کی تمنا کرتا ہے ۔ عالم اپنے علم کی وجہ سے مخلوق پر احسان جتلاتا ہے ۔ آخرت میں بھی خود کو ان سے بہتر سمجھتا ہے اور اپنے کام کی وجہ سے جنت کا زیادہ امید وار ہوتا ہے ۔حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : خود کو عظیم سمجھنا علما ء کی آفت ہے ۔ایک عالم کو آخرت کے خطرات پیش نظر رکھنے چاہیے ۔ حقیقی علم وہ ہے جو اسے آخرت کے خطرات سے آگاہ کردے اور صراط مستقیم کی باریکیوں سے واقفیت حاصل کر لے اور ہمیشہ خود کو تکبر سے دور رکھے ۔ 
حضرت ابو دردا ء رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے :’’ جتنا علم زیادہ ہوتا ہے اتنا درد فزوں ہوتا ہے ‘‘۔اگر علم زیادہ ہونے کے ساتھ ساتھ تکبر میں بھی اضافہ ہو جائے اس کا مطلب ہے کہ اس نے حقیقی علم ، علم دین نہیں سیکھا۔علم دین سے ہی انسان خود کو پہچان سکتا ہے یہ علم درد و سوز کو بڑھاتا ہے ۔ تکبر میں اضافہ نہیں کرتا ۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرماہا ’’ ایک قوم قرآن پڑھےگی مگر قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ۔ وہ کہیں گے کون ہے جو ہم جیسا قرآن پڑھے ۔ کون ہےجو وہ سب کچھ جانتا ہو جس سے ہم آگاہ ہیں ‘‘پھر آپ ﷺنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرف دیکھا اورفرمایا ’’ یہ یا تو تم میں سے ہی ہوں گے یا میری امت سے ہی ان کا تعلق ہو گا یہ سب دوزخ کا ایندھن ہوں گے ‘‘۔
حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کا فرمان ہے’’ متکبرین علما ء میں سے نہ ہونا ورنہ تمہارا علم تمہاری جہالت سے وفا نہ کر سکے گا‘‘ ۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تکبر سے بہت زیادہ ہراساںرہتے تھے ۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک دفعہ امامت کی ۔ پھر فرمایا ’’ کسی اور کو امام بنا لو ۔ میرے دل میں خیال آیا ہے کہ میں تم سے بہتر ہوں ۔‘‘ جب صحابہ کرام تکبر کے خیال سے اتنا خوفزدہ تھے تو دوسروں کو کیوں نہیں ڈرنا چاہیے ۔
حضور نبی کریم ﷺ نے فرما یا اے صحابہ ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں تمہارے اعمال کے دسویں حصے پرعمل کرنے والا بھی نجات پا لے گا ۔اس زمانہ میں کم عمل کرنے والے بہت ہیں ۔کیونکہ اب عمل صالح پر کوئی معاون نہیں ۔

جمعرات، 22 اکتوبر، 2026

تکبر کے نقصانات

 

تکبر کے نقصانات

تکبر ایک برا خلق ہے ۔ اخلاق دل کی صفات ہیں مگر ان کا اثر اعضاء پر بھی ظاہر ہو تا ہے ۔ تکبر کی حقیقت یہ ہے کہ  انسان خود کو دوسروں سے اعلی سمجھے ۔ اس سے انسان میں تکبر کی ہوا پیدا ہوتی ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا مولا میں تکبر کی ہوا سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔ جب انسان میں یہ ہوا پیدا ہو جاتی ہے تو وہ  دوسروں کو خود سے کمتر سمجھنے لگ جاتا ہے ۔ وہ  اپنے سے کمترکو اپنا خادم سمجھتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ دوسروں کو اپنے خادم بھی نہ سمجھے اور کہے کہ یہ اس قابل کہاں جو میری خدمت بجا لائیں ۔ جس طرح خلفا ء ہر ایک کو اپنا آستانہ چومنے کی اجازت نہیں دیتے ۔ یہ بہت بڑاتکبر ہے اللہ تعالی کی کبریائی سے بھی بڑھ کر کیوں کہ اللہ تعالی ہر ایک کی بندگی قبول فرما لیتا ہے ۔ اگر متکبر اور احمق اس درجے تک نہ پہنچے تو پھر وہ چلنے اور بیٹھنے میں تقدم کا چاہتا ہے اور اپنی تعظیم و توقیر کا امیدوارہوتا ہے ۔ متکبر شخص اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اگر کوئی اس کو نصیحت کر ے تو وہ اس کی نصیحت کو قبول نہیں کرتا ۔اور جب خود دوسروں کو نصیحت کرتا ہے تو سخت رویہ اختیار کرتا ہے ۔ متکبر شخص لوگوں کو جانوروں کی طرح دیکھتا ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ سے عرض کی گئی یارسول اللہ ﷺ تکبر کیا ہے ۔ ’’ آپ ﷺ نے فرمایا :تکبر یہ ہے کہ انسان اللہ تعالی کے لیے اپنی گردن کو نہ جھکائے اور لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھے ۔
یہ عادت متکبر اور اللہ تعالی کے درمیان بہت بڑا حجاب ہے ۔ اسی سے کئی برے اخلاق جنم لیتے ہیں ۔ تکبر تمام اچھے اخلاق سے انسان کو روک لیتا ہے ۔ جس پر خواجگی ، خود پسندی اور اپنی فضیلت غالب آ جائے وہ مسلمانوں کے لیے وہ چیز پسند کرتا ہے جو اپنے لیے پسند نہیں کرتا ۔ یہ مومن کی صفت نہیں ہے ۔ وہ کسی سے عاجزی نہیں کرتا یہ متقین کی صفت نہیں وہ کینہ اور حسد سے ہاتھ نہیں روک سکتا ۔ اپنا غصہ پی نہیں سکتا اور اپنی زبان کو غیبت سے محفوظ نہیں رکھ سکتا اور دل کو مکرو فریب سے محفوظ نہیں رکھ سکتا ۔متکبر شخص ہر اس شخص کے لیے دل میں کینہ رکھتا ہے جو اس کی تعظیم نہیں کرتا ۔ تکبر کرنے والا ہر وقت اپنی تعریف میں مگن رہتا ہے ۔ کو ئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ خود کو فراموش نہ کر دے بلکہ دنیا کا سکون و راحت بھی نہ پائے ۔ ایک ولی کا مل کا قول ہے ’’اگر جنت کی خوشبوسونگھنا چاہتے ہو تو خود کو سب سے کم تر سمجھو ۔

اصلاح معاشرہ اور نبی کریم ﷺ کی حکمت عملی

  اصلاح معاشرہ اور نبی کریم ﷺ کی حکمت عملی حضور نبی کریم ﷺ کی اسلامی معاشرے کی اصلاح کی بنیاد اللہ تعالی کی واحدانیت کے ازلی اور ابدی اصولوں...