جمعرات، 22 اکتوبر، 2026

تکبر کے نقصانات

 

تکبر کے نقصانات

تکبر ایک برا خلق ہے ۔ اخلاق دل کی صفات ہیں مگر ان کا اثر اعضاء پر بھی ظاہر ہو تا ہے ۔ تکبر کی حقیقت یہ ہے کہ  انسان خود کو دوسروں سے اعلی سمجھے ۔ اس سے انسان میں تکبر کی ہوا پیدا ہوتی ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا مولا میں تکبر کی ہوا سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔ جب انسان میں یہ ہوا پیدا ہو جاتی ہے تو وہ  دوسروں کو خود سے کمتر سمجھنے لگ جاتا ہے ۔ وہ  اپنے سے کمترکو اپنا خادم سمجھتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ دوسروں کو اپنے خادم بھی نہ سمجھے اور کہے کہ یہ اس قابل کہاں جو میری خدمت بجا لائیں ۔ جس طرح خلفا ء ہر ایک کو اپنا آستانہ چومنے کی اجازت نہیں دیتے ۔ یہ بہت بڑاتکبر ہے اللہ تعالی کی کبریائی سے بھی بڑھ کر کیوں کہ اللہ تعالی ہر ایک کی بندگی قبول فرما لیتا ہے ۔ اگر متکبر اور احمق اس درجے تک نہ پہنچے تو پھر وہ چلنے اور بیٹھنے میں تقدم کا چاہتا ہے اور اپنی تعظیم و توقیر کا امیدوارہوتا ہے ۔ متکبر شخص اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اگر کوئی اس کو نصیحت کر ے تو وہ اس کی نصیحت کو قبول نہیں کرتا ۔اور جب خود دوسروں کو نصیحت کرتا ہے تو سخت رویہ اختیار کرتا ہے ۔ متکبر شخص لوگوں کو جانوروں کی طرح دیکھتا ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ سے عرض کی گئی یارسول اللہ ﷺ تکبر کیا ہے ۔ ’’ آپ ﷺ نے فرمایا :تکبر یہ ہے کہ انسان اللہ تعالی کے لیے اپنی گردن کو نہ جھکائے اور لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھے ۔
یہ عادت متکبر اور اللہ تعالی کے درمیان بہت بڑا حجاب ہے ۔ اسی سے کئی برے اخلاق جنم لیتے ہیں ۔ تکبر تمام اچھے اخلاق سے انسان کو روک لیتا ہے ۔ جس پر خواجگی ، خود پسندی اور اپنی فضیلت غالب آ جائے وہ مسلمانوں کے لیے وہ چیز پسند کرتا ہے جو اپنے لیے پسند نہیں کرتا ۔ یہ مومن کی صفت نہیں ہے ۔ وہ کسی سے عاجزی نہیں کرتا یہ متقین کی صفت نہیں وہ کینہ اور حسد سے ہاتھ نہیں روک سکتا ۔ اپنا غصہ پی نہیں سکتا اور اپنی زبان کو غیبت سے محفوظ نہیں رکھ سکتا اور دل کو مکرو فریب سے محفوظ نہیں رکھ سکتا ۔متکبر شخص ہر اس شخص کے لیے دل میں کینہ رکھتا ہے جو اس کی تعظیم نہیں کرتا ۔ تکبر کرنے والا ہر وقت اپنی تعریف میں مگن رہتا ہے ۔ کو ئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ خود کو فراموش نہ کر دے بلکہ دنیا کا سکون و راحت بھی نہ پائے ۔ ایک ولی کا مل کا قول ہے ’’اگر جنت کی خوشبوسونگھنا چاہتے ہو تو خود کو سب سے کم تر سمجھو ۔

بدھ، 21 اکتوبر، 2026

فحش کلامی کی مذمت

 

فحش کلامی کی مذمت

  دین اسلام واحد مذہب ہے جو انسان کو ہر پہلو سے اخلاق حسنہ اپنانے کی تلقین کرتا ہے۔ دین اسلام کی بنیاد ہی اچھے اخلاق ، نرم لہجے اور پاکیزہ گفتگو پرہے۔بدگوئی ، فحش کلامی ، گالی گلوچ نہ صرف اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ یہ انسان کے اخلاقی زوال کی بھی علامات ہیں۔ 
قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں متعدد بار زبان کی حفاظت کی تلقین کی گئی ہے۔ سورۃالحجرات آیت نمبر ۱۱ میں اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے کا تمسخر اڑانے سے منع فرمایا ہے۔ اور اسی طرح سورۃ البقرہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ لوگوں سے اچھی بات کہو۔ ان آیات میں ایک دوسرے کا مذاق اڑانے ، طعنہ دینے اور فحش کلامی سے منع کیا گیا ہے۔ 
امام غزالی نے اپنی زبان کو آٹھ قسم کے گناہوں سے محفوظ رکھنے کی تلقین کی ہے۔ جھوٹ بولنے سے ، وعدہ خلافی کرنے سے ، غیبت کرنے سے ، جھگڑا کرنے ، خود ستائی ، لعن طعن ، دوسرے پر کیچڑ اچھالنے سے اور ٹھٹھے بازی کرنے سے۔ فحش کلامی صرف اخلاقی طور پر ناپسندیدہ نہیں بلکہ یہ معاشرتی بگاڑ کا سبب بھی بنتی ہے۔ جب کوئی انسان فحش کلامی کرتاہے تو نہ صرف وہ اپنی شخصیت کو گراتاہے بلکہ معاشرے میں بے حیائی اور فساد کو بھی فروغ دیتا ہے۔ 
حضرت ابو سعید خدری نے نبی کریمﷺ سے عرض کی یا رسو ل اللہ ﷺ مجھے کوئی نصیحت فرما دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو ساری بھلائی اسی میں ہے ، جہاد کو اپنے اوپر لازم کر لو کیونکہ یہ مسلمانوں کے لیے ریاضت ہے ، اپنی زبان کو اللہ تعالیٰ کے ذکراور قرآن مجید کی تلاوت سے مصروف رکھو کیونکہ یہ زمین پر نور کا سر چشمہ ہیں اور آسمان پر معروف ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے مزید ارشاد فرمایاکہ جب بھی زبان سے کچھ بولو تو اچھی بات بولو ورنہ خاموش رہو کیونکہ ایسا کرنے سے تمہیں شیطان پر غلبہ پانے اور دینی امور کو احسن طریقے سے ادا کرنے میں مدد ملے گی۔ ( المعجم الکبیر ، ابن حبان)۔
 نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو کوئی اس دنیا میں لوگوں کے وقار کی حفاظت کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے بدلے اس کے گناہ مٹا دے گا ، جو کوئی بھی دنیا میں لوگوں پرآنے والے غصے پر قابو پائے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عذاب سے محفوظ رکھے گا۔ ( احیا علوم الدین )۔
ابو الیث سمر قندی فرماتے ہیں کہ صالحین اپنی زبان کو قابو میں رکھنے کے لیے دوسروں سے کی جانے والی گفتگو کا خود سے محاسبہ کرتے تھے۔ اسی طرح ہر مسلمان کو چاہیے کہ اس سے پہلے کہ اس کا آخرت میں حساب ہو وہ دنیا میں ہی اپنا محاسبہ کرتا رہے۔ دنیا میں اپنا محاسبہ کر لینا آخرت میں حساب سے زیادہ آسان ہے۔ دنیا میں اپنی زبان پر قابو پالینا آخرت میں شرمندگی برداشت کرنے کی نسبت آسان ہے۔ (تنبۃ الغافلین )۔
آج کے دور میں سوشل میڈیا ، ڈراموں ، فلموں اور عام گفتگو میں فحش کلمات کا استعمال زیادہ ہوتا جا رہا ہے اور یہ مزاح کا حصہ بنتا جا رہا ہے جو کہ ایک خطر ناک رجحان ہے۔ ہمیں اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی زبان کو بد گوئی اور فحش کلامی سے محفوظ رکھنا ہو گا۔

منگل، 20 اکتوبر، 2026

عظمت و شان مصطفی ﷺ

 

عظمت و شان مصطفی ﷺ

 حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن مجھے عرش کی دائیں جانب ایسے مقام پر کھڑا کیا جائے گا کہ جہاں کسی اور کو قدم رکھنے کی مجال نہ ہو گی اس وقت اولین و آخرین میرے ساتھ رشک کریں گے ۔ ( مسند احمد )۔
 حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی نے مجھے اختیار دیا کہ میں اپنی نصف امت کو جنت میں داخل کرا لوں یا شفاعت  کروں۔ میں نے شفاعت کو پسند کیا کیونکہ شفاعت کا فیضان عام ہے ۔جب تک میری امت کا آخری فرد بھی جنت میں نہ پہنچ  جائے اس وقت تک میں شفاعت کا حق استعمال کرتا رہوں گا۔ پھر فرمایا یہ شفاعت متقین کے لیے نہیں ہوں گی بلکہ میری شفاعت  گناہ گاروں اور خطاکاروں کے لیے ہو گی ۔ (ابن ماجہ )۔ 
حضرت ابو سعید خدری ؓسے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایک روز جبرائیل امین میرے پاس آئے اور کہا کہ میرا رب اور آپ کا رب آ پ کو فرماتا ہے کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ میں نے آ پ کے ذکر کو کس طرح بلند کیا ۔ حضور نبی کریم ﷺ  نے جواب دیا اللہ تعالی بہتر جانتا ہے ۔ جبرائیل امین نے جواب دیا اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اس بلند ذکر کی صورت یہ ہے کہ جب میرا ذکر کیا جائے گا اس وقت میرے ذکر کے ساتھ تیرا ذکر بھی کیا جائے گا ۔  حضرت عمر ؓ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن تمام تعلقات اور رشتہ داریاں ختم ہو جائیں گی لیکن  میرا تعلق اور میرا نسب اس روز بھی قائم رہے گا ۔  حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا سب سے پہلے میری قبر شریف کھلے گی اور میں باہر آؤں گا۔ مجھے  جنت کی پو شاکوں سے ایک خلعت پہنائی جائے گی ۔ پھر میں عرش الہی کی دائیں جانب کھڑا ہوں گا ۔ میرے علاوہ کسی کو بھی اس مقام پر کھڑا ہونے کا شرف حاصل نہیں ہو گا ۔ ( ترمذی )۔ 
حضرت سلمان ؓسے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک روز جبرائیل امین تشریف لائے اور عرض کی بیشک آپ کا رب فرماتا  ہے اگر چہ میں نے ابراہیم کو خلیل بنایا ہے لیکن آپ کو میں نے اپنا حبیب بنایا ہے میں نے آج تک کوئی ایسی چیز پیدا نہیں کی جو آپ سے  زیادہ میرے نزدیک مکرم ہو ۔ میں نے دنیا اور اس کے رہنے والوں کو اس لیے پیدا کیا تا کہ میں آپ کی کرامت اور آپ کے درجہ رفیعہ  سے ان کو آگاہ کروں ۔ اگر آپ کی ذات نہ ہوتی تو میں دنیا کو بھی پیدا نہ کرتا ۔ ( حجۃ اللہ علی العالمین )۔

پیر، 19 اکتوبر، 2026

علم وحکمت کا مقصد

 

علم وحکمت کا مقصد

حضور نبی کریم ﷺ نے مقصدعلم کو بھی واضح فرمایا تاکہ علم حاصل کرنے والے کسی بھی شخص کی محنت ضائع نہ ہو۔ آپ نے واضح طور پر ارشاد فرمایا علم کا مقصد مادیات کا حصول نہیں ایسی سوچ علم جیسی نعمت کی بے قدری ہے بلکہ علم حاصل کرنے کا مقصد معرفت الٰہی اور دل کی آبادی ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا : علم کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ایسا علم ہے جو انسان کے دل میں اتر جاتا ہے وہ ہی علم نافع ہے اور دوسرا علم صرف زبان تک رہتا ہے۔ ایسا علم قیامت کے دن انسان کے خلاف دلیل بن جائے گا۔ (سنن دارمی ) اس حدیث مبارکہ سے یہ بات واضح ہو گئی کہ علم کا مقصد دل کی آبادی ہے جس نے علم کے ذریعے سے دل کی دنیا کو آباد کر لیا اس نے حقیقی مقصد کو پا لیا۔اور جس نے علم کے ذریعے سے صرف لفظوں کا ہیر پھیر ہی سیکھا اور اس کے دل کی دنیا ویران ہی رہی تو ایسے شخص نے علم کی بے قدری کی وہ نہ صرف دنیا میں علم کے نفع سے محروم رہا بلکہ اس نے اپنی آخرت بھی برباد کر لی۔ علم اس مقصد کے لیے حاصل کرنا کہ انسان بحث و مباحثہ میں اپنی برتری ثابت کرے یا لوگوں کو لا جواب کرے۔ یاپھر اس مقصد کے لیے علم حاصل کرے کہ لوگوں کے درمیا ن مقبولیت حاصل کرلے۔ ایسے مقاصد کے لیے علم حاصل کرنے والا شخص اپنے آپ کو جہنم کا ایندھن بنا لیتا ہے۔ علم کے حصول کا مقصد صرف اور صرف معرفت الٰہی اور خشیت الٰہی ہے۔ حضرت کعب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرما یا : کہ جو شخص اس لیے علم حاصل کرے تا کہ وہ بحث مباحثہ میں علما کی برابری کرے یا جاہلوں اور بیو قوفوں کے ساتھ جھگڑا کرے یا اس لیے کہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرلے تو ایسے شخص کو اللہ تعالی دوزخ میں ڈال دے گا۔ ( ترمذی)
ارشاد باری تعالی ہے : ” اللہ تعالی کے بندوں میں سے اللہ تعالی سے وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔ ( سورۃ فاطر ) 
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے وہ علم سیکھا جس سے اللہ تعالی کی رضا حاصل کی جاتی ہے مگر وہ اسے رضائے الہی کے لیے نہیں حقیر دنیا جمع کرنے کے لیے سیکھے تو ایسا شخص قیامت کے دن جنت کی خوشبو سے بھی محروم رہے گا۔(ابی داؤد) اس حدیث مبارکہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ علم حاصل کرنے کا مقصد کسی مادی خواہش کی تکمیل نہیں بلکہ معرفت الٰہی اور رضائے الٰہی کا حصول ہے۔

اتوار، 18 اکتوبر، 2026

ہمسائیوں کے حقوق

 

ہمسائیوں کے حقوق

ارشاد باری تعالی ہے : ’’اور عبادت کرو اللہ کی اور نہ شریک ٹھہرائو اس کے ساتھ کسی کو اور والدین کے ساتھ اچھا برتائو کرو نیز رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور پڑوسی جو رشتہ دار ہے اور وہ پڑوسی جو رشتہ دار نہیں ‘‘۔(سورۃ النساء) حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جبرائیل امین ہمیشہ مجھے پڑوسی کے بارے میں وصیت کرتے رہے حتی کہ مجھے لگا کہ اسے وراثت میں بھی حصہ دار بنا دیا جائے گا ۔ ( بخاری شریف ) ۔
ایسا پڑوسی جو رشتہ دار ہو اور پڑوس میں رہتا ہو اس کے دو حقوق ہیں ہے ایک قرابت کی وجہ سے اور دوسرا پڑوسی ہونے کی حثیت سے ۔ جبکہ اجنبی یا غیر رشتہ دار کا ایک حق ہوتا ہے اور وہ پڑوس کا حق ہے۔ لیکن پڑوسی رشتہ دار ہو یا نہ ہو دونوں صورتوں میں پڑوسی کی عزت و تکریم ، باہمی خیر خواہی اور حسن سلوک کرنا ضروری ہے ۔حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور   ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی کے نزدیک سب سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنے دوستوں کے حق میں بہتر ہے اور اللہ تعالی کے نزدیک سب سے بہتر پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسیوں کے حق میں بہتر ہے ۔ ( ترمذی ) گھر کے بالکل ساتھ والے پڑوسی کا حق زیادہ ہے اس پڑوسی کی نسبت جو دور رہتا ہے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں میں نے حضور نبی کریم ﷺ سے پوچھا یارسول اللہ ﷺ میرے پڑوس میں دو عورتیں رہتی ہیں ان دونوں میں سے میں کس کو کوئی چیز بطور ہدیہ بھیجا کرو ں ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس کا دروازہ آپ کے گھر کے نزدیک ہے ۔ ( بخاری شریف )
 کسی بھی مسلمان کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف پہنچائے ۔ حضور نبی کریم ﷺ نےپڑوسی کو ایذا یا تکلیف دینے سے بڑی سختی سے منع فرمایا ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ تعالی پر اور یوم آخرت پر یقین رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے ۔ ( بخاری شریف ) 
حضرت ابو شریح رضی اللہ تعالی عنہ ے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم وہ شخص ایمان والا نہیں ! اللہ کی قسم وہ شخص ایمان والا نہیں ! آپ ﷺ سے رض کی گئی یا رسو ل اللہ ﷺ کو سا شخص؟ آپ ﷺ نے فرمایا جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے محفوظ نہیں ۔ ( بخاری شریف ) 
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور  ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے مامون نہ ہو ۔( مسلم شریف )

ہفتہ، 17 اکتوبر، 2026

مسلمانوں کا فکری زوال

 

مسلمانوں کا فکری زوال

  انسان کے فکری زوال کی ایک بڑی وجہ اس کا برا اخلاق بھی ہے ۔ برے اخلاق انسان کی فکری سوچ پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔فکری زوال کو ختم کرنے کا سب سے اہم اور پہلا طریقہ اپنے ایمان اور عقیدہ کو مضبوط کرنا ہے ۔ انسان کو اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ وہ اس دنیا میں کس مقصد  کے لیے بھیجا گیا ہے ۔ اپنے حقیقی مقصد کو سمجھتے ہوئے اسے اپنا ایمان اور اللہ تعالی پر بھروسہ مضبوط کرنا چاہیے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ”جو اللہ اور پچھلے دن پر ایمان رکھتا ہو اور جو کوئی اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لیے نجات کی راہ نکال دے گا “۔ ( سورہ الطلاق)۔ اس کے بعد فکری زوال کا خاتمہ علم کے ذریعے کیا جا سکتا ہے ۔ علم انسان کی فکری صلاحیت کو بڑھاتا ہے اور اس کی سچائی کی طرف رہنمائی کرتا ہے ۔علم کی اہمیت کا اندازہ قرآن مجید کی اس آیت سے لگایا جا سکتا ہے۔ارشاد باری تعالی ہے : ”اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا ہے درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے “۔ (سورہ المجادلہ )۔
حدیث شریف میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :”علم حاصل کرنا ہر مسلمان مر دو عورت پر فرض ہے “۔ ہمیں ایک ایسی فکری فضا قائم کرنے کی ضرورت ہے جہاں صرف سطحی تعلیم کی بجائے مطالعہ اور تحقیق کی حوصلہ افزائی ہو ۔ کتاب سے دوستی ، تعلیمی محافل اور سوال و جواب کی مجالس اس میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں ۔ انسان کی سوچ اور اس کی فکری زوال کی ایک بڑی وجہ گناہوں میں مبتلا ہو جانا بھی ہے ۔ فکری زوال کے خاتمے کے لیے توبہ و استغفار کی کثرت کرنی چاہیے ۔  ارشاد باری تعالی ہے :” اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب (ﷺ) تم ان میں تشریف فرما ہواور اللہ انہیں عذاب کرنے والا نہیں  جب تک وہ بخشش طلب کر رہے ہیں“۔ ( سورہ الانفال )۔
اسلام میں اچھے اخلاق کی بڑی اہمیت ہے ۔ جب انسان اخلاقی طور پر بہتر ہو تا ہے تو اس کی سوچ بھی بہتر ہوتی ہے ۔ اچھے اخلاق کی اہمیت بیان کرتے ہوئے  نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” مجھے اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے “۔  روحانیت اور مادیت میں توازن قائم کرنے سے بھی انسان کے فکری زوال کا خاتمہ ہوتا ہے ۔ انسان کا دل و دماغ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ایک متوازن  شخصیت وہی ہے جو فکری لحاظ سے نہ تو محض مادی سوچ رکھتا اور نہ ہی محض خیالی ۔ عبادات اور معاملات دونوں میں توازن قائم کرنے سے فکری زوال کو ختم  کیا جا سکتا ہے ۔  فکری زوال ایک سنگین مسئلہ ہے جس کا اثر صرف ایک فرد پر نہیں ہوتا بلکہ ایک فرد سے نکل پوری قوم زوال کا شکار ہو جاتی ہے ۔ اس کا حل ایمان اور عقائد کی مضبوطی ، حقیقی علم کا حصول ، اخلاقی تربیت اور توبہ و استغفارسے ممکن ہے ۔ فکری زوال کو ختم کرنے کے لیے دین کی اصل تعلیمات پر عمل کرنا ضروری ہے ۔اس  کے ذریعے ہی فرد اور قوم فکری زوال سے چھٹکارا پا سکتے ہیں ۔*

جمعہ، 16 اکتوبر، 2026

قرآن مجید میں عقل و تدبر کی اہمیت

 

قرآن مجید میں عقل و تدبر کی اہمیت

قرآن مجید فرقان حمید انسانیت کے لیے ہدایت ، نور اور فلاح کا کامل ذریعہ ہے ۔ اللہ جل شانہ نے جہاں قرآن مجید میں ایمان ، اخلاق اور عبادت کا ذکر کیا ہے وہیں انسان کو بار بار مخاطب کر کے عقل استعمال کرنے اور تدبر کرنے کی دعوت بھی دی ہے ۔سورۃ بقرہ میں اللہ تعالی فرماتا ہے :” افلا تعقلون “ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ۔ ایک مقام پر ارشاد فرمایا : بیشک اس میں نشانیا ں ہیں عقل والوں کے لیے ۔ قرآن مجید یہ انداز دعوت اور تربیت کا انمول نمونہ ہے۔ بار بار انسان کو عقل سے کام لینے اور کائنات پر غورو فکر کرکے تاریخ سے سبق حاصل کرنے اور قرآن مجید کی آیات پر تدبر کرنے کی دعوت دی گئی ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے :” کیا وہ قرآن میں تدبر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل لگے ہوئے ہیں “۔ ( سورۃ محمد ) اس آیات سے واضح ہو جاتا ہے کہ قرآن مجید کی صرف تلاوت کافی نہیں بلکہ اس کی آیات پر غورو فکر کرنا بھی ضروری ہے تا کہ انسان اس کی ہدایت کو اپنے قلب و عمل میں اتار سکے ۔ سابقہ اقوام قوم لوط ، قوم ثمود ، قوم فرعون اور قوم عاد کی تباہی کی یہی وجہ تھی کہ عقل و بصیرت کی راہ کو چھوڑ کر اپنے باپ داد کی اندھی تقلید کرتے ہوئے تکبر ، جمود اور جہالت کے راستے پر چل پڑے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :” بیشک سب جانوروں میں بدتر اللہ کے نزدیک وہ ہیں جو بہرے گونگے ہیں جن کو عقل نہیں “۔ ( سورۃ الانفال ) 
اس آیت میں واضح ہو گیا کہ جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے وہ جسمانی طور پر تو زندہ ہیں لیکن روحانی طور پر مردہ ہیں ۔ اللہ کے نزدیک وہ لوگ بہرے نہیں جن کو سنائی نہیں دیتا اور وہ گونگے نہیں جو بول نہیں سکتے بلکہ جو لوگ اپنی عقل کا استعمال نہیں کرتے وہ حقیقت میں گونگےاوربہرے وہ ہیں ۔سورۃ ص آیت ۹۲ میں ارشاد باری تعالی ہے :” یہ ایک کتاب ہے ہم نے تمہاری طرف اتاری برکت والی تاکہ اس کی آیتوں پر تدبر کریں اور عقل مند نصیحت مانیں “۔
اللہ تعالی فرما رہا ہے کہ قرآن مجید ایک با برکت کتاب ہے لیکن اس سے نصیحت وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل رکھتے ہیں اور جو اس کی آیت پر غورو فکر کرتے ہیں ۔ ارشاد باری تعالی ہے :بیشک رات اور دن کی تخلیق میں اور رات اور دن کے بدلنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔ ( سورۃ آل عمران )
قرآن مجید کا پیغام صرف الفاظ نہیں بلکہ ایک فکری اور شعوری انقلاب ہے جو عقل و تدبر کے بغیر ممکن نہیں ۔ آج امت مسلمہ کے زوال کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ہم نے قرآن مجید کی آیات پر تدبر کرنا چھوڑ کر اس کی تعلیمات پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے ۔

تکبر کے نقصانات

  تکبر کے نقصانات تکبر ایک برا خلق ہے ۔ اخلاق دل کی صفات ہیں مگر ان کا اثر اعضاء پر بھی ظاہر ہو تا ہے ۔ تکبر کی حقیقت یہ ہے کہ  انسان خود کو...