جمعہ، 20 فروری، 2026

رمضان المبارک کے مسائل(1)

 

رمضان المبارک کے مسائل(1)

روزہ ارکان اسلام میں سے تیسرا اہم رکن ہے جس کی  فرضیت کا حکم قرآن مجید میں بھی آیا ہے۔ ابتدائی تاریخ سے لیکر اب تک کوئی شریعت ایسی نہیں جس میں روزے فرض نہ کیے گئے ہوں۔ مسلمانوں پر ہجرت نبوی ﷺ کے دوسال بعد دو ہجری کو روزے فرض کیے گئے۔ حدیث قدسی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ روزہ ہر عاقل و بالغ مسلمان پر فرض ہے پاگل اور نابالغ بچے کو اس عبادت سے استثناء حاصل ہے۔ مگر ایسے بچے جو بالغ ہونے کے قریب ہیں ان کو نماز کی طرح روزے کی بھی عادت ڈلوانی چاہیے۔ صوم کے اصل معنی رکنے کے ہیں یعنی شریعت کی اصطلاح میں صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے اور شہوات سے بچے رہنا روزہ کہلاتا ہے۔ مسافر شرعی اور وہ مریض جس کے روزہ رکھنے سے مرض بڑھ سکتا ہے ، صحت مند ہونے میں دیر لگ جائے ، حاملہ اوردودھ پلانے والی عورتیں جن کو اپنا یا بچے کا اندیشہ ہو ان کے لیے جائز ہے کہ وہ روزے چھوڑ سکتے ہیں اور عذر ٹھیک ہونے پر ان کی قضا لازم ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ کسی مستند ڈاکٹر اور عالم سے مشورہ کر لیا جائے۔ روزہ کی حالت میں اگر قصداً ایسی کوئی چیز کھا لی یا پی لی جو بطور غذا یا دوا کے لیے استعمال ہوتی ہے یا صحبت کر لی تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور اس کی قضا اور کفارہ دونوں ضروری ہیں۔ روزے کا کفارہ لگاتار ساٹھ روزے رکھنا ہے اور اگر درمیان میں کوئی ناغہ ہو گیا تو اس کی ابتدا دوبارہ نئے سرے کی جائے گی۔ ایام حیض میں ناغہ تواتر کے خلاف نہیں لیکن اس سے وہ تواتر باقی نہیں رہتا۔ اگر ساٹھ روزے لگاتار رکھنے کی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو دووقت پیٹ بھر کر کھانا کھلائے یا نقد ہر مسکین کو بقدر صدقہ فطر دیدے۔اگر ایسی کوئی چیز کھالی ہو جو بطور غذایا دو ا استعمال نہیں کی جاتی تو روزہ کی صرف قضا ضروری ہے کفارہ نہیں۔ ناک یا کان میں دوا ڈالنا ، منہ بھر کے جان بوجھ کے قے کرنا یا ایسی کوئی بھی چیز جس سے دھواں حلق میں چلا جائے تو ایسی صورت میں روزہ فاسد ہو جائے گا اور قضا لازم ہو گی کفارہ واجب نہیں۔ ٹوتھ پیسٹ ، ٹوتھ پائوڈر کا استعمال کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ مسواک کرنا،تیل لگانا ، سرمہ لگانا ، مہندی لگانا عطر سونگھنا یا بھول کر کچھ کھا پی لینا ، خود سے قے آ جانا یا گرد غبار منہ میں چلے جانے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔

جمعرات، 19 فروری، 2026

استقبال رمضان(2)

 

استقبال رمضان(2)

جیسے گھر میں مہمان کے آنے سے قبل گھر کی صفائی ستھرائی کی جاتی ہے اسی طرح ہمیں اپنے معمولات زندگی کو بھی ماہ رمضان سے قبل درست کرنا ضروری ہے۔ فضول مصروفیات ، لغویات ، فضول گفتگو ، جھوٹ اور گناہوں سے دوری اختیار کی جائے اور آئندہ زندگی میں بھی ان باتوں سے بچنے کا عہد کرنا چاہیے۔ 
نبی کریم رئوف الرحیم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص روزہ رکھے اور جھوٹ بولے اور بْرے کام نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی حاجت نہیں۔ماہ مقدس سے پہلے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مناجات پیش کریں اور اپنے گناہوں سے معافی مانگیں اور آئندہ گناہوں سے بچنے کا عہد کریں۔ ابھی سے ہی قرآن مجید کی تلاوت کا معمول بنائیں اور کو شش کریں کہ ما ہ رمضان میں قرآن مجید کو بمع ترجمہ و تفسیر پڑھیں۔ ماہ رمضان کی آمد سے قبل ہی خود کو نوافل اور ذکر و اذکار کا عادی بنائیں تا کہ ہم ماہ مقدس میں مزید فرائض کے ساتھ ساتھ نفلی عبادت اور ذکر و اذکار میں مشغول ہو سکیں۔ ماہ مقدس کی آمد سے پہلے مناسب غذا کا استعمال کریں اور اپنی صحت کا خیال رکھیں تا کہ ہم رمضان سے قبل یا ماہ مقدس میں بیمار نہ ہوں۔ اس بات کی نیت کریں کہ رمضان المبارک میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے قیام اللیل کریں گے ، دل کھول کر صدقہ و خیرات کریں گے اور اگر اللہ تعالیٰ نے ہمت و توفیق دی تو ان شاء اللہ اعتکاف بھی بیٹھیں گے۔ اور ماہ رمضان کے آخری عشرہ میں طاق راتوں میں شب قدر کی تلاش کریں گے۔ اگر ہم آج ہی ان نیک اعمال کی نیت کر لیں تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ثواب ملے گا۔اس ماہ مقدس میں نوافل ادا کرنے کا ثواب فرضوں کے برابر ہے اور ایک فرض ادا کرنے کا ثواب ستر فرائض کے برابر ملتا ہے۔یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔ یہ ہمدردی اور غم خواری کا مہینہ ہے اور یہی وہ مہینہ ہے جس میں اللہ اپنے بندوں کے رزق میں اضافہ کر دیتا ہے۔ماہ رمضان محض بھوکے پیاسے رہنے کا نام نہیں بلکہ تبدیلی کا موقع ہے۔رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم نعمت ہے جو ہمیں اپنی زندگیوں کو سنوارنے اور آخرت کی تیاری کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ہمیں چاہیے کہ ہم اس ماہ مقدس کا جتنا ہو سکے ادب و احترام کریں اور اس کی با برکت ساعتوں سے بھرپور مستفید ہوں۔ اللہ پاک ہمیں ماہ مقدس کی برکتوں کو سمیٹنے کی تو فیق عطا فرمائے۔ آمین۔

بدھ، 18 فروری، 2026

استقبال رمضان(۱)

 

استقبال رمضان(۱)

روزہ عبادت ، صبر کا پیغام ہے
یہ ماہ رمضان رب کا انعام ہے
رمضان المبارک اسلامی سال کا وہ با برکت مہینہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتوں ، برکتوں اور انعامات کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے امت مسلمہ پر سایہ فگن ہوتا ہے۔ یہ مہینہ محض دن کے وقت بھوکا پیا سا رہنے کا نام نہیں بلکہ ایمان کی تجدید ، اخلاق کی اصلاح ، قلبی تطہیر اور روحانی بلندی حاصل کرنے کا سنہری موقع ہے۔ 
ارشاد باری تعالیٰ ہے : اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تا کہ تم متقی بن جائو۔ (البقرہ)۔
ماہ رمضان کا اصل مقصد تقویٰ کا حصول ہے کیونکہ متقی اور پرہیز گار شخص ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ رمضان کی آمد سے قبل صحابہ کرام کو جمع فرماتے اور انہیں خطبہ ارشاد فرماتے اے میرے صحابہ تم پر ایک عظمت والا مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے اس میں ایک رات ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ 
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب رمضان المبارک کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑدیا جاتا ہے۔ (بخاری )۔
ماہ رمضان المبارک کی با برکت ساعتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس کی آمد سے پہلے ہی ماہ مقدس کا استقبال کرنے کی تیاری کریں اور خود کو جسمانی ، ذہنی اور روحانی لحاظ سے تیار رکھیں۔ کسی بھی نیک کام کو کرنے کے لیے اخلاص کا ہونا بہت ضروری ہے۔ جو عمل بغیر اخلاص
 کے کیاجائے اس کا کوئی اجر و ثواب نہیں ملتا لہٰذا ہم رمضان کی آمد سے قبل ہی یہ نیت کریں کہ ہم خالصتاً اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے روزے رکھیں گے اور اس کی خوب عبادت کریں گے۔اس نیت سے روزہ رکھنا کہ لوگ مجھے روزہ دار کہیں ، نماز اس نیت سے پڑھنا کہ لوگ مجھے نمازی کہیں، ایسی نمازوں اور روزوں کا اللہ کے نزدیک کوئی اجر و ثواب نہیں۔ 
ماہ رمضان کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے نفس کا محاسبہ کریں۔ فرائض سے کوتاہی ، دل میں بغض ، حسد و کینہ موجود ہو تو سارا دن بھوکا پیاسا رہنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اسی لیے ماہ رمضان سے قبل اللہ تعالیٰ کے حضور سچی توبہ کریں اور حقوق اللہ کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کو بھی ادا کریں تا کہ ماہ رمضان میں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کو سمیٹ سکیں۔

منگل، 17 فروری، 2026

توبہ کی فضیلت (۲)

 

توبہ کی فضیلت (۲)

توبہ و استغفار ہر پریشانی اور دکھ کا علاج ہے ۔نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص استغفار کو لازم کر لے اللہ تعالی اسے ہر تنگی سےفراخی عطا فرما تاہے اور ہرقسم کے غم سے نجات عطا فرما تاہے۔ ایسے ذریعے سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہو گا ۔ ( ابو دائود)۔
حضور نبی کریم ﷺ اللہ تعالی کے محبوب اور سردار کونین ہیں لیکن آپ ﷺ نے خود کو بھی توبہ مانگنے کے عمل سے مستثنی نہیں رکھا ۔
 حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کا فرمان ہے کہ حضور نبی ریم ﷺ نے فرمایا : توبہ کیا کرو میں ہر روز سو بار توبہ کرتا ہوں ۔(نسائی )۔
ام المئومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا روایت کرتی ہیں حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : کوئی بند ہ ایسا نہیں جو گناہ کے بعد نادم نہ ہو مگر یہ کہ اللہ تعالی اسے مغفرت طلب کرنے سے پہلے ہی بخش دیتا ہے ۔  آپ ﷺ نے فرمایا : پیر اور جمعرات کے روز انسان کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں ۔ جس نے توبہ کی ہو اس کی توبہ قبول کر لی جاتی ہے ۔ جس نے مغفرت طلب کی ہو اسے معاف کر دیا جاتا ہے جس کے دل میں کینہ ہو اسے ویسے ہی چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ 
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کہ ایک بندے نے گناہ کیا اور کہا  یا اللہ میرا گناہ بخش دے ۔ اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے گناہ کیا وہ جانتا ہے کہ اس کاایک مالک ہے جو گناہ بخشتا اور گناہ پر مواخذہ کرتا ہے ۔ 
پھر اس نے گناہ کیا اور کہایا اللہ میرا گناہ بخش دے، اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے گناہ کیا وہ جانتا ہے کہ اس کاایک مالک ہے جو گناہ بخشتا اور گناہ پر مواخذہ کرتاہے۔ ۔ پھر اس نے گناہ کیا اور کہایا اللہ میرا گناہ بخش دے ۔ اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے گناہ کیا وہ جانتا ہے کہ اس کاایک مالک ہے جو گناہ بخشتا اور گناہ پر مواخذہ کرتاہے۔ اللہ فرماتا ہے اے بندے اب تو جو چاہے عمل کرے میں نے تجھے بخش دیا ۔ ( متفق علیہ )۔
اگر گناہوں کا تعلق حقوق العباد سے ہو تو صرف اللہ تعالی کے حضور معافی طلب کرنا کافی نہیں بلکہ حقدار کا حق پہنچانا اور اس سے معافی طلب کرنا بھی ضروری ہے ۔ اور یہی سچی توبہ کی علامت ہے ۔جب انسان سچے دل سے اللہ تعالی کے حضور توبہ کرتا ہے تو پھر اسے گناہوں سے نفرت ہو جاتی ہے اور وہ نیکیوں کی طرف راغب ہو جاتاہے ۔

پیر، 16 فروری، 2026

توبہ کی فضیلت (۱)

 

توبہ کی فضیلت (۱)

توبہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں لوٹنا یا واپس آنا  ۔ شریعت کی اصطلاح میں توبہ سے مراد یہ ہے کہ بندہ گناہ چھوڑ کر اللہ تعالی کی طرف رجوع کرے ،اللہ تعالی کے غضب کے ڈر سے اس کی طرف رجوع کرے اور یہ عہد کرے کہ آئندہ کبھی  گناہ کے راستے پر نہیں چلو ں گا ۔ اسلام میں توبہ کی بہت زیادہ اہمیت ہے اللہ تعالی کو توبہ کرنے والا شخص بہت محبوب ہوتا ہے ۔
ارشاد باری تعالی ہے :’’ اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ‘‘۔ ( سورۃ النور )۔
توبہ کی توفیق مل جانا اللہ تعالی کی عظیم نعمت ہے جو بندے کو گناہوں سے نکال کر رب کی رحمت کے نور کی طرف لے آتی ہے اور توبہ کرنے والوں سے اللہ تعالی بھی بہت زیادہ خوش ہوتا ہے ۔اللہ تعالی اپنی مخلوق سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ اس کے بندے اس سے دور ہو جائیں اور جہنم کا ایندھن بنیں ۔اسی لیے اللہ تعالی بُرے انجام سے بچانے کے لیے اپنی مغفرت کو عام کرتے ہوئے بخشش کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے : مگر جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور اچھا کام کرے تو ایسوں کی بُرائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ ( سورۃ الفرقان )۔
سورۃ البقرۃ میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : بیشک اللہ پسند کرتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند کرتاہے ستھروں کو ۔توبہ ہر شخص پر ہر حال میں اور ہر وقت واجب ہے لیکن جوانی کی توبہ افضل ہے ۔اللہ تعالی کو نوجوان کی توبہ بہت زیادہ پسند ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی کو جوان توبہ کرنے والے بہت زیادہ محبوب ہیں ۔
 سورۃ التحریم میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : ’’ اے ایمان والو اللہ کی طرف ایسی توبہ کرو جو آگے کو نصیحت ہو جائے ‘‘ ۔ ( آیت نمبر : ۸)۔یعنی توبہ ایسی کی جائے کہ پھر کبھی گناہوں کی طرف پلٹ کر نہ جائیں ۔ 
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں انسان صرف اسی صورت میں سچی توبہ کے لیے اللہ تعالی کی طرف رجوع کر سکتا ہے جب وہ سچے دل اور خلوص نیت کے ساتھ اپنے گناہوں پر شرمندہ ہو۔
 سچی توبہ یہ ہے کہ انسان دل سے اللہ تعالی کی بارگاہ میں آنسو بہائے اور معافی طلب کرے ۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا توبہ ندامت ہی کا نام ہے ۔

اتوار، 15 فروری، 2026

زکوۃ کی فضیلت و اہمیت

 

زکوۃ کی فضیلت و اہمیت

اسلام ایک جامع دین ہے جو انسان کی انفرادی ، اجتماعی ، معاشی اور روحانی زندگی کی ہر پہلو سے رہنمائی کرتا ہے۔دین اسلام کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ یہ صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ معاشرتی عدل ، معاشی توازن اور انسانی ہمدردی کو بھی بنیادی اہمیت دیتا ہے۔ زکوۃ اسلام کا ایک نہایت اہم رکن ہے جو فرد کے مال کو پاک کرنے ، دل کو بخل سے آزاد کرنے اور معاشرے کو فقر و افلاس سے بچانے کا ذریعہ بنتی ہے۔ قرآن و حدیث میں زکوۃ کی جو اہمیت و فضیلت بیان کی گئی ہے وہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسلام میں دولت محض ذاتی ملکیت نہیں بلکہ ایک امانت ہے۔زکوۃ ادا کرنے والوں پر رحمت الٰہی کا نزول ہوتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : اور میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے تو عنقریب میں نعمتوں کو ان کے لیے لکھ دوں گا جو ڈرتے اور زکوۃ ادا کرتے ہیں۔ ( سورۃ الاعراف)۔
سورۃ المومنون میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : بیشک مراد کو پہنچے ایمان والے جو اپنی نماز میں گڑ گڑاتے ہیں اور جوکسی بیہودہ بات کی طرف التفات نہیں کرتے اور وہ کہ زکوۃ دینے کا کام کرتے ہیں۔ 
زکوٰۃ کی فرضیت :ارشاد باری تعالیٰ ہے : بیشک اللہ ضرور مدد فرمائے گا اس کی جو اس کے دین کی مدد کرے گا بیشک ضرور اللہ قدرت والا غالب ہے۔ وہ لوگ کہ ہم اگر انہیں زمین میں قابو دیں تو نماز قائم رکھیں اور زکوۃ دیں اور بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں اور اللہ ہی کے لیے سب کاموں کا انجام ہے۔ ( سورۃ الحج )۔
 زکوٰۃ کا تصور نہ صرف دین اسلام میں موجود ہے بلکہ پہلی شریعتوں میں بھی زکوۃ فرض تھی۔ حضرت عیسی علیہ السلام کے حوالے سے ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ اوراس (اللہ ) نے مجھے پوری زندگی نماز اور زکوٰۃ ادا کرنے کا تا کیدی حکم فرمایا ہے ‘‘۔( سوۃ مریم)۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :’’اور وہ اپنے گھر والو ں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے اور وہ اپنے رب کے نزدیک پسندیدہ تھے ‘‘۔(سورۃ مریم ) 
سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :’’ اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ‘‘۔ اسی طرح سورۃ المنافقو ن میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ’’اور جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے زکوٰۃ دو قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کو موت آ جائے ‘‘۔

ہفتہ، 14 فروری، 2026

زکوۃ کی فضیلت و اہمیت (۳)

 

زکوۃ کی فضیلت و اہمیت (۳)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرے وہ مال قیامت کے دن گنجا سانپ بنا دیا جائے گا ، اس کی آنکھوں پر دو سیاہ نقطے ہوں گے ، اس سانپ کو اس کے گلے میں طوق بنادیا جائے گا پھر وہ اس شخص کو اپنے جبڑو ں سے پکڑے گا پھر کہے گا میں تیرا مال ہو ں ، میں تیرا خزانہ ہوں۔اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے یہ آیت مبارکہ تلاوت کی۔
ترجمہ : اور جو لوگ اس چیز میں بخل کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انہیں عطا کی ہے ( یعنی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے ) وہ ہرگز یہ گمان نہ کریں کہ وہ ان کے حق میں بہتر ہے بلکہ وہ ان کے حق میں بہت برا ہے ، عنقریب وہ مال جس میں انہوں نے بخل کیا قیامت کے دن انہیں اس کا طوق بنا کر ڈالا جائے گا۔ ( بخاری )۔
جو لوگ زکوٰۃ ادا نہیں کرتے نبی کریم ﷺ نے ان پر لعنت فرمائی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے سود کھانے والے ،سود کھلانے والے ، سود لکھنے والے اور صدقہ روکنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ ( سنن نسائی )۔
جو قوم زکوٰۃ ادا نہیں کرتی اللہ تعالیٰ اسے قحط سالی اور فاقہ میں مبتلا کر دیتا ہے۔حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو قوم بھی زکوٰۃ ادا کرنے سے رکی ہے اسے اللہ تعالیٰ نے قحط سالی میں مبتلا کیا ہے۔ ( معجم الاوسط )۔
قیامت کے دن فقرا اغنیا ء کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے عرض کریں گے اے اللہ انہوں نے ہمارے حقوق غصب کر کے ہم پر ظلم کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم آج میں تمہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ دوں گا اور انہیں دور کر دو ں گا۔ (معجم الاوسط)۔
زکوۃ ادا کرتے وقت چند آداب کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔ زکوۃ ادا کرتے وقت اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا کو مدنظر رکھنا چاہیے نہ کہ لوگوں کوخوش کرنے کو، زکوۃ دیتے وقت ریاکاری سے بچنا چاہیے کیونکہ ریاکاری والا عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول نہیں ، زکوۃ ہمیشہ حلال مال سے دی جانی چاہیے حرام مال کی زکوۃ اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرمائے گا۔آج کے دور میں جب مادہ پرستی نے انسان کو خود غرض بنا دیا ہے زکوۃ ہمیں ایثار ، ہمدردی اور اجتماعی ذمہ داری کا سبق دیتی ہے۔ اگر مسلمان زکوۃ کے نظام کو صحیح معنوں میں نافذ کر لیں تو غربت ، بے روزگاری اور ناانصافی جیسے مسائل ختم ہو جائیں گے۔

رمضان المبارک کے مسائل(1)

  رمضان المبارک کے مسائل(1) روزہ ارکان اسلام میں سے تیسرا اہم رکن ہے جس کی  فرضیت کا حکم قرآن مجید میں بھی آیا ہے۔ ابتدائی تاریخ سے لیکر ا...