صدقہ فطر
رمضان المبارک رحمتوں ، برکتوں اور مغفرت کا مہینہ ہے۔ اس با برکت مہینے میں مسلمان روزے رکھ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور تقویٰ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ نے حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی کا بھی حکم فرمایا ہے۔جس طرح نماز ادا نہ کرنا گناہ ہے اسی طرح استطاعت ہونے کے باوجود کسی بھوکے کو کھانا نہ کھلانا بھی گناہ ہے۔ روزے میں حقوق اللہ اور حقو ق العباد ساتھ ساتھ ہیں اگر بندہ روزے رکھ کر حقوق اللہ کی ادائیگی کرتا ہے تو اسے غمگساری کا مہینہ بھی قرار دیا گیا ہے۔حضور نبی کریم ﷺ سارا سال ہی سخاوت فرمایا کرتے تھے اور کوئی سائل خالی نہیں جاتا تھا تو رمضان المبارک کے مہینہ میں نبی کریم ﷺ کی سخاوت کا کیا عالم ہوگا۔اسلام میں مسلمانوں پر ماہ رمضان میں ہر صاحب نصاب آدمی اور جن کا وہ کفیل ہے سب کی طرف سے صدقہ فطرنماز عید الفطرسے پہلے ادا کرنا واجب ہے۔ تاکہ معاشرے کے غرباء و مساکین بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔
نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : صدقہ فطر ہر مسلمان غلام اور آزاد ، مرد اور عورت ، چھوٹے اور بڑے پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو مقرر فرمایا اور حکم فرمایا کہ نماز عید کے لیے نکلنے سے پہلے ہی اسے ادا کر دیا جائے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے صدقہ فطر کو فرض قرار دیا تا کہ روزے کے لیے لغو اور بیہودہ اقوال و افعال سے پاکیزگی ہو جائے اور مسکینوں کو طعام حاصل ہو۔لہٰذا جس نے اسے نماز عید سے پہلے ادا کر دیا تو یہ صدقہ فطر ہو گا اگر نمازکے بعد ادا کیا تو یہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہے۔ (ابی دائود )
اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ فطر کے دو فائدے ہیں ایک یہ کہ اگر کوئی روزے کی حالت میں کوئی غلط بات بول دے یا کوئی کوتاہی ہو جائے تو صدقہ فطر کے صدقے اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دے گا۔دوسرا یہ معاشرے کے غریب اور کمزور طبقات کو بھی سہارا دے کر انہیں بھی اپنے ساتھ عید کی خوشیوں میں شامل کیا جائے۔ آج اس مہنگائی کے دور میں معاشرے میں معاشی نا ہمواری میں اضافہ ہو رہا ہے صدقہ فطر کی اہمیت اور بھی زیادہ ہو جاتی ہے اسی لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ خلوص دل سے خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے صدقہ فطر ادا کرے۔صدقہ فطر نا صرف ایک مالی عبادت ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے اور انسانی ہمدردی کو فروغ دینے کا ذریعہ ہے۔






