نفاق اور اس کی علامات (۳)
منافقین کی مذمت میں اللہ تعالی نے پوری سورۃ المنافقون نازل فرمائی ہے ۔اس سورہ میں اللہ تعالی نے منافقین کے مختلف احوال بیان فرمائے ہیں کہ منافق کس طرح زبان سے حضور ﷺ پر ایمان لانے کا کہتے لیکن دل سے وہ اس کے مخالف ہیں اور منافقین قسمیں اٹھاتے ہیں تاکہ قید اور قتل سے بچ سکیں۔ لیکن ان کا عمل یہ ہے کہ یہ لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں اور انہیں ایمان لانے اور اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرنے سے روکتے ہیں۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :
جب منافق تمہارے حضور حاضر ہوتے ہیں کہتے ہیں کہ حضور بیشک یقینا اللہ کے رسول ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ تم اس کے رسول ہو اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافقین ضرور جھوٹے ہیں ۔ انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال ٹھہرا لیا تو اللہ کی راہ سے روکا۔ بیشک وہ بہت ہی بُرے کام کرتے ہیں ۔یہ اس لیے کہ وہ زبان سے ایمان لائے پھر دل سے کافر ہوئے تو اُن کے دلوں پر مہر ثبت کر دی گئی تو اب وہ کچھ نہیں سمجھتے۔(المنافقون :آیت ۱، ۲، ۳)
اس سے اگلی آیت میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ یہ لوگ دیکھنے میں بڑی جسامت والے لگتے ہیں اور جب بولتے ہیں تو ان کی بات غور سے سنو گے حالانکہ ان کی حال ایسے ہے جیسے کوئی لکڑی دیوار کے سہارے کھڑی کی گئی ہو اور یہ لوگ ہر بلند ہونے والی آواز کو اپنے ہی خلاف سمجھ لیتے ہیں اور یہ ڈرتے ہیں کہ ان کے حق میں کوئی ایسا مضمون نازل ہوا ہے جس سے ان کے راز فاش ہو جائیں گے۔
ارشاد باری تعالی ہے :اور جب انہیں دیکھے تو ان کے جسم تجھے بھلے معلوم ہوں اور اگر بات کریں تو اُن کی بات غور سے سنے گویا وہ لکڑیاں ہیں دیوار سے ٹکائی ہوئی۔ ہر بلند آواز اپنے ہی اوپر لے جاتے ہیں وہ دشمن ہیں تو ان سے بچتے رہو اللہ انہیں مارے کہاں اوندھے جاتےہیں ۔ ( المنافقون :آیت ۴)۔
جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا آخری زمانے میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو دھوکہ اور فریب کے ساتھ دین کے ذریعے دنیا کمائیں گے لوگوں کو نرمی دکھانے کے لیے بھیڑ کی کھال پہنیں گے ، ان کی زبانیں شکر سے زیادہ میٹھی ہوں گی اور ان کے دل بھیڑیوں کے دل کی طرح ہوں گے ، اللہ تعالی ان سے کہے گا کیا تم میرے ساتھ دھوکہ کرتے ہو یا مجھ پر جراء ت کرتے ہو ، مجھے اپنی ہی قسم ہے کہ میں ان لوگوں پر ان ہی میں سے ضرور فتنہ بھیجوں گا جو ان میں سے سمجھ دار لوگوں کو بھی حیران اور پریشان کر دے گا ۔ ( ترمذی )۔






