منگل، 14 اپریل، 2026

ضبط نفس فضیلت و اہمیت

 

ضبط نفس فضیلت و اہمیت

کسی بھی انسان کی شخصیت کو نکھارنے کے لیے ضبط نفس ایک اہم خوبی ہے۔ضبط نفس کی کمی انسان میں بہت بڑی کمزوری ہوتی ہے جو اس کی شخصیت کو گہنا دیتی ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ دنیا میں سب سے اعلیٰ و ارفع شخصیت ہیں اور دنیا کے سب سے عظیم ترین رہنما ہیں۔ آپﷺ کا ضبط نفس بھی ساری کائنات سے زیادہ تھا۔ خوشحال زندگی گزارنے کے لیے ضبط نفس بہت ضروری ہے۔ اگر انسان میں ضبط نفس نہ ہو تو اس کی فطری صلاحیت بھی ضائع ہو جاتی ہے۔ اگر انسان اپنے آپ کو قابو میں نہیں رکھے گا تو کوئی دوسرا اس پر قابو پا لے گا اور جوشخص اپنے آپ پر قابو نہیں پا سکتا تو پھر اس میں اور جانور میں کیا فرق رہے گا۔ جو شخص اپنی قیادت خود نہیں کر سکتا وہ دوسروں کی قیادت کیسے کر ے گا۔ 
ضبط نفس سے مراد یہ ہے کہ جب بھی حق اور سچ کی راہ میں سہل پسندی ، بزدلی ، خود پسندی یا کوئی نفسانی خواہش حائل ہو تو انسان اسے ٹھکرا کر صراط مستقیم پر ثابت قدم رہے۔ قرآن مجید میں اس کے لیے مختلف الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے۔ 
سب سے پہلے تقویٰ، تقویٰ سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے دل کو نا جائز خواہشات اور گناہوں سے بچائے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’بے شک سب سے بہترین زاد راہ تقوی ہے ‘‘۔ اس کے بعد تزکیہ نفس، تزکیہ نفس سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو ناجائز خواہشات اورگناہوں سے پاک رکھے۔ ارشاد باری تعالی ہے : ’’ بیشک فلاح پا گیا وہ شخص جس نے اس (نفس ) کو (گناہوں سے ) پاک کر لیا۔ 
 ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور اس سے زیادہ گمراہ کون ہو گا جو اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہشات کی پیروی کرے ‘‘۔ 
انسان کے اپنی خواہشات پر قابو پانے کو حضور نبی کریمﷺ نے بڑا جہاد قرار دیا ہے۔ حضرت ابوذر ؓ نے آپ ﷺ سے عرض کی کون سا جہاد افضل ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا : افضل جہاد یہ ہے کہ آدمی اپنے نفس اور اپنی خواہش کے خلاف جہاد کرے۔ (کنزالعمال )۔ 
ضبط نفس ہمیں نظم و ضبط کی پابندی سکھاتا ہے اور نظم و ضبط کامیابی کی کنجی ہے۔ انسان اگر کامیابی حاصل کر نا چاہتا ہے تو اس کی اپنے نفس پر گرفت اتنی مضبوط ہو کہ اس کی نفسانی خواہشات اس کے راستے کی دیوار نہ بن سکیں۔ 
ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’ تمہارے صاحب (حضرت محمد ﷺ) نہ کبھی راہ حق سے ہٹے اور نہ کبھی راہ حق گم کی۔ اور وہ اپنی خواہش سے کلام  نہیں کرتے بلکہ ان کا کلام صرف وحی ہے جو ان کی طرف کی جاتی ہے ‘‘۔ یعنی کہ حضور نبی کریم ﷺکا اپنی خواہشات پر اتنا قابو تھا کہ اپنی خواہش سے کلام بھی نہیں کرتے تھے بلکہ صرف وہی بتاتے تھے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتا تھا۔

پیر، 13 اپریل، 2026

وقت کی قدرو منزلت

 

وقت کی قدرو منزلت

وقت انسان کی زندگی کا قیمتی سرمایہ ہے ، مگر افسوس کہ اکثر لوگ اس نعمت کی قدر نہیں کرتے ۔وقت ایسی دولت ہے جو ایک بار ہاتھ سے نکل جائے تو واپس حاصل نہیں کی جا سکتی۔ جو لمحہ گزر جائے وہ ہمیشہ کے لیے ماضی کا حصہ بن جاتا ہے ۔ اس کے باوجود ہم اپنی روزمرہ  زندگی میں وقت کو بے دریغ ضائع کرتے رہتے ہیں گویا یہ کبھی ختم نہ ہونے والا خزانہ ہو ۔ارشاد باری تعالی ہے :
’’زمانہ کی قسم ۔بیشک آدمی ضرور نقصان میں ہے ۔ مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی ‘‘۔ (سورۃالعصر )۔
انسان کی عمر جو اس کا اصل سرمایہ اور دولت ہے مسلسل ختم ہو رہی ہے اس لیے انسان کو چاہیے کہ اس سرمائے کو اچھے کاموں میں صرف کرے اور نہ صرف خود کو بلکہ دوسروں کو فائدہ پہنچائے ۔ 
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ دونعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ دھوکے میں ہیں صحت اور فراغت ۔ یعنی جب انسان کو صحت اور وقت میسر ہوتو وہ تب اس کی قدر نہیں کرتا لیکن جب اس سے یہ نعمتیں چھن جاتی ہیں تو انسان کو اپنی کوتاہیوں کا احساس ہوتا ہے ۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا روزانہ جب سورج طلوع ہوتا ہے تو دن یہ اعلان کرتا ہے کہ  جو کوئی مجھ میں اچھا کام کر سکتا ہے تو کر لے کیونکہ آج کے بعد میں کبھی پلٹ کر نہیں آؤں گا ۔(شعب الایمان )۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ زندگی بے حد مختصر ہے۔ جو وقت مل گیا سو مل گیا آئندہ وقت ملنے کی امید دھوکا ہے۔ وقت کی قدر کی اہمت بیان کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا : پانچ چیزوں کو پانچ سے پہلے غنیمت جانو : اپنی جوانی کو اپنے بڑھاپے سے پہلے ، صحت کو بیماری  سے پہلے ، مالداری کو تنگدستی سے پہلے ، فرصت کو مصروفیت سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے ۔ (مستدرک )۔
وقت کی بے قدری کے کئی مظاہر ہمارے معاشرے میں نظر آتے ہیں لوگ گھنٹوں فضول باتوں ، غیر ضروری مشاغل اور بے مقصد سر گرمیوں میں وقت ضائع کر دیتے ہیں ۔ عبادات میں سستی ، علم حاصل کرنے میں غفلت وقت کی ناقدری کی علامتیں ہیں ۔ حالانکہ ایک مومن کی شان یہ ہونی چاہیے کہ وہ اپنے ہر لمحے کو قیمتی سمجھے اور اسے اللہ کی رضا کے حصول کے لیے استعمال کرے ۔ 
اسلام ہمیں وقت کے بہترین استعمال کا درس دیتا ہے ۔ نماز کی پابندی ، تلاوت قرآن پاک ، ذکر و اذکار اور خدمت خلق جیسے اعمال دراصل وقت کو با برکت بناتے ہیں ۔ طالب علموں کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا اور دیگر لغو باتوں میں وقت ضائع کرنے کی بجائے اپنی تعلیم پر توجہ دیں کیونکہ وقت ایک ایسی دولت ہے جو واپس نہیں آتی ۔

اتوار، 12 اپریل، 2026

بہترین شخص

 

بہترین شخص

خیر خواہی ایک ایسا عمل ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے تمام اخلاق کی بنیاد رضائے الٰہی ہی ہے۔ مخلوق کے لیے اپنے دل میں ہمدردی اور خیر خواہی رکھنا ایک سنہری اصول ہے۔ 
حضور نبیء کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کا کنبہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب وہ ہے جو اس کنبے کے ساتھ اچھا سلوک کرے ‘‘۔ ( مشکوۃ شریف)۔
حضور نبی کریمﷺ نے ساری زندگی اللہ کی مخلوق کی خیر اور بھلائی چاہی۔ آپ ﷺ کا مقصد حیات لوگوں کو نفع پہنچانا اور فیضیاب کرنا تھا۔آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : لوگوں میں بہترین شخص وہ ہے جو انسانوں کو نفع پہنچاتا ہے۔فرمان مصطفی ﷺ ہے : اللہ تعالیٰ تمام معاملات میں نرمی پسند کرتا ہے۔( بخاری شریف)۔
ہمیں ذاتی مفاد اور غرض کے بغیر لوگوں کو نفع پہنچانا چاہیے۔ رشتہ داروں سے بھی بھلائی کریں اور دوسرے حاجت مندوں سے بھی۔ اور جانوروں کے ساتھ بھی بھلائی کریں۔ بد سلوکی اور دوسروں کو نقصان پہنچانا ایک نا پسندیدہ عمل ہے اور آپ ﷺ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن رتبے کے لحاظ سے وہ بد ترین شخص ہو گا جس کے شر کی وجہ سے لوگ اسے چھوڑ دیں۔ (بخاری شریف)۔
ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ خیر خواہی کرے۔ دوسروں کے ساتھ مہربانی ، لطف و عنایت ، نرم دلی اور خیر خواہی ایک اعلیٰ انسان کی صفات ہیں۔ بوڑھوں ، یتیموں ، بیوائوں، بچوں اور مفلوک الحال لوگوں کے ساتھ خیر خواہی اور ان کا خیال رکھنا ہمارا فرض ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ وہ تنگدستی کے باوجود دوسرے مسلمان بھائیوں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں۔‘‘( سورۃ الحشر )۔
حضرت ابو جہم بن حذیفہ بیان کرتے ہیں کہ جنگ یرموک کے میدان میں اپنے زخمی بھائی کی تلاش میں نکلے۔ جب پانی لے کر بھائی کے پاس پہنچے اور اسے پانی پلانے ہی لگے تھے کہ دوسرے زخمی کے کراہنے کی آواز آئی تو زخمی بھائی نے اپنے بھائی سے کہاکہ پہلے اسے پانی پلائیں۔ جب صحابی پانی لے کر اس کے پاس پہنچے تو تیسرے زخمی کی آواز آئی تو صحابی نے کہا کہ پہلے اسے پلائیں۔ جب صحابی پانی لے کر تیسرے صحابی کے پاس پہنچے وہ شہیدہو چکے تھے۔ واپس دوسرے کے پاس آئے تو وہ بھی شہیدہو چکے تھے پھر جب اپنے بھائی کے پاس پہنچے تو وہ بھی شہادت کا جام پی چکے تھے۔ یہ تھا صحابہ کرام کا اپنے بھائیوں کے لیے جذبہ ایثار۔
آپ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہ ہی چیز پسند نہ کرے جو اپنے لیے کرتا ہے۔

ہفتہ، 11 اپریل، 2026

دین راہبر ہے

 

دین راہبر ہے

دین انسان کے لیے راہبر ہے ، مقتدا ہے اور امام ہے۔ دین کی عظمت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان دل وجان سے دین کو اپنا راہبر و مقتدا بنائے اور ہرمعاملے میں دین سے راہنمائی حاصل کرے۔مثال کے طور پر ایک شخص کوئی کام کرنا چاہتا ہے اور اس کام کو کرنے کے لیے اس کے پاس مکمل مواقع اور اسباب موجود ہیں مگر دین اسے اس کام سے منع کرتا ہے تو وہ اپنے جذبات اور احساسات کو دین پر قربان کر دیتا ہے اور اس کام کو کرنے کا ارادہ ترک کردیتا ہے۔
اگر ایک شخص دین کے اس حصہ کو مکمل طور پر چھوڑ دے جس پر عمل کرنے سے اسے اپنے مفادات اور خواہشات کی قربانی دینا پڑے لیکن اس حصہ کو اپنا لے جس سے اس کا اپنا مفاد وابستہ ہو ایسا شخص دین پر عمل کرنے والا نہیں ہوتا بلکہ اپنے مفادات کے لیے دین کو بطور سیڑھی استعمال کرتا ہے۔ 
ارشاد باری تعالیٰ ہے : کیا تم کتاب کے بعض حصے پر ایمان لاتے ہو اور بعض کا کفر کرتے ہو ؟ پس تم میں سے جو لوگ یہ کام کریں ان کی سزا اس کے سوا اورکیا ہو گی کہ وہ دنیا کی زندگی میں رسوا ہوں گے اور قیامت کے دن اس سے بھی شدید عذاب کی طرف لوٹا دئیے جائیں۔ اور اللہ تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیوی زندگی کو آخرت کے بدلے میں خرید لیا۔ سو نہ ان سے عذاب کم کیا جائے گا اور نہ ہی ان کی مدد کی جائے گی۔ ( سورۃ البقرۃ )۔ 
یعنی جس بندے نے دین کے ساتھ صرف ایسا تعلق جوڑا ہو کہ اس نے دین کو اپنا راہبر نہ بنایا ہو اور دین کے لیے سب کچھ لٹانے کے جذبوں سے محروم ہو تو ایسا شخص دراصل اپنی آخرت تباہ کر کے دنیا کو بچانے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ دین کو اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی سیڑھی بنانے والا دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کے عذاب میں مبتلا ہو گا اور آخرت میں بھی عذاب میں مبتلا ہو گا۔ 
قرآن مجید میں یہود کے جن جرائم کی وجہ سے ان کو سزائیں دی گئیں ان میں سے ان کا ایک جرم یہ بھی تھا کہ وہ دین کے ایک حصہ کو مانتے تھے جو ان کی خواہشات کے مطابق ہوتا تھا اور اس حصے کو چھوڑ دیتے تھے جس سے ان کا کوئی ذاتی مفاد وابستہ نہیں ہوتا تھا۔
مذہبی عقیدتیں بہت گہری اور نازک ہوتی ہیں۔ جو شخص ان عقیدتوں کو کسی بھی طرح اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرتا ہے وہی دین کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے سیڑھی بناتا ہے۔ دین انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ادا کردہ مکمل ضابطہ حیات ہے جسے مکمل طور پر اپنانے سے انسان دین اور دنیا کی سعادتیں حاصل کر سکتا ہے۔جس شخص نے مکمل طور پر دین کو اپنا راہبر بنا لیا اور اس کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا تو کبھی  دنیا و آخرت میں رسوا نہیں ہو گا۔

جمعہ، 10 اپریل، 2026

آج کا نوجوان اور بے مقصدیت (۲)

 

آج کا نوجوان اور بے مقصدیت (۲)

احادیث مبارکہ میں بھی نوجوانی کی اہمیت اور اس کے درست استعمال پر زور دیا گیا ہے۔نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بروز قیامت انسان سے پانچ سوال کیے جائیں گے۔ (۱) عمر کن کاموں میں گزاری (۲) جوانی کن کاموں میں گزاری (۳) مال کہاں سے کمایا (۴)مال کہاں خرچ کیا (۵) اپنے علم پر کہا ں تک عمل کیا ؟
اس حدیث مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ نوجوانی کا ہر لمحہ قیمتی ہے اور اس کا حساب دینا ہوگا۔اگر یہ وقت فضولیات میں گزر گیا تو اس کا انجام خسارہ ہی ہو گا۔ آج کے نوجوان کی بے مقصدیت کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں پہلی وجہ دین سے دوری ہے۔جب نوجوان قرآن و سنت سے دور ہو جائے تو وہ اپنے مقصد کو بھول جاتا ہے۔بے مقصدیت کی دوسری بڑی وجہ مغربی تہذیب کی اندھی تقلید ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمزنے نوجوان کو اسی دنیا میں الجھا دیا ہے جہاں وقتی خوشی تو مل جاتی ہے لیکن دائمی سکون نہیں۔تیسری وجہ راہنمائی کا فقدان ہے۔والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ نوجوان نسل کی راہنمائی کریں اور ان کی سمت کو درست کریں۔ 
بے مقصدیت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان  ذہنی دبائو ، مایوسی اور بے چینی میں جکڑا رہتا ہے۔جب انسان کے پاس کوئی واضح ہدف نہ ہو تو وہ چھوٹی چھوٹی ناکامیوں کی وجہ سے بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ 
اصحاب کہف کے نوجوانوں نے ظالم بادشاہ کے دور میں اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے دنیا کی آسائشوں کو ٹھکرا دیا اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے ایک مشکل راستے کا انتخاب کیا۔اللہ تعالیٰ نے اس عمل کو قرآن مجید میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر نوجوان اپنے مقصد کو جان لے اور اللہ کی رضا کو مقدم رکھے تو وہ تاریخ بدل سکتا ہے۔ 
آج کے نوجوان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی زندگی کا واضح مقصد متعین کرے۔ سب سے پہلے اسے اللہ سے اپنا تعلق مضبوط کرنا چاہیے اور اپنے دل کو محبت رسولﷺ سے منور کرے۔ نماز ، تلاوت قرآن اور دعا کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔اس کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم ، ہنر اور صلاحیتوں کو مثبت انداز میں استعمال کرے۔
والدین اور اساتذ ہ کو بھی چاہیے کہ وہ نوجوانوں کی صحیح رہنمائی کریں۔انہیں دنیاوی تعلیم اور کامیابی کے ساتھ آخرت کی کامیابی کا بھی شعور دیں۔ ان کے اندر خود اعتمادی ، ذمہ داری اور مقصدیت پیدا کریں۔ 
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نوجوان نے دنیا کی لذت اور اس کے عیش و عشرت کو چھوڑ دیا اور اپنی جوانی میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی جانب پیش قدمی کی تو اللہ تعالیٰ اسے 72 صدیقین کے برابر ثواب دے گا۔ ( کنزالعمال )۔

بدھ، 8 اپریل، 2026

آج کا نوجوان اور بے مقصدیت (۱)


 

آج کا نوجوان اور بے مقصدیت (۱)

آج کا دور تیز رفتار ترقی ، جدید ٹیکنالوجی اور بے شمار سہولیات کا دور ہے۔ بظاہر انسان نے مادی لحاظ سے بہت ترقی کر لی ہے مگر روحانی ، اخلاقی اور فکری لحاظ سے ایک بڑا خلاء پیدا ہو چکا ہے۔ خصوصا ً ہماری نوجوان نسل اس خلاء کا سب سے زیادہ شکار ہوتی نظر آتی ہے۔بے مقصدیت ، ذہنی انتشار اور زندگی کے اصل مقصد سے دوری آج کے نوجوان کا ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ اس نازک مرحلے میں ہمیں قرآن و حدیث سے رہنمائی ملتی ہے کہ ہم اپنی زندگی درست سمت میں لے جا سکیں۔ نوجوانی کسی بھی انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی دور ہوتا ہے۔ یہی وہ وقت ہے جہاں انسان اپنے مستقبل کی بنیاد رکھتا ہے اپنے کردار کو سنوارتا ہے اور اور اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دیتا ہے۔ حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا جوانی کو غنیمت جانو بڑھاپے سے پہلے۔کیونکہ یہی جب بندہ اپنے تمام تر کام اور معاملات احسن طریقے سے سر انجام دے سکتا ہے۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارا آج کانوجوان اس قیمتی وقت کو اکثر فضول سر گرمیوں ، سوشل میڈیا اور غیرسنجیدہ مشاغل میں ضائع کر رہاہے۔اس کی سب سے بڑی وجہ زندگی کے مقصد کا واضح نہ ہونا ہے۔جب انسان کو یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کس مقصد کے لیے دنیا میں بھیجا گیا ہے تو اس کی زندگی بے مقصد ہو جاتی ہے۔ 
ارشاد باری تعالیٰ ہے : اور میں نے جنو ں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ (سورۃ لذٰریٰت:آیت ۵۶)۔ یعنی انسان کی تخلیق کا بنیادی مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی بندگی ہے۔عبادت کا مفہوم صرف نماز ، روزہ ، زکوۃ ، حج اور دیگر ظاہری عبادات تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھنا ہی اصل عبادت ہے۔ جب نوجوان اس حقیقت کو سمجھ لے تو اس کی زندگی خود بخود ہی درست سمت کی طرف گامزن ہو جائے گی۔ 
اسی طرح سورۃ المومنون میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : تو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بیکار بنایا اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جائو گے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے انسان تو میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا۔ میں تیرا سینہ غنا سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی کا دروازہ بند کر دوں گا۔ اور اگر تو ایسا نہیں کرے گا تو میں تیرے دونوں ہاتھ مصروفیات سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی کا دروازہ بند نہیں کروں گا۔*

منگل، 7 اپریل، 2026

جنگ احد اور شہادت سیدنا امیر حمزہ ؓ (۲)

 

 جنگ احد اور شہادت سیدنا امیر حمزہ ؓ (۲)

ایک دن سیدنا امیر حمزہ ؓ شکار سے واپس آئے تو آپ ؓ کی ہمشیرہ حضرت صفیہ ؓ نے بتایا کہ آج ابو جہل نے نبی کریم ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی   کی ہے ۔جب آپ ؓ نے یہ سنا تو آپ کو بہت غصہ آیا ۔آپؓ اپنا تیر کمان لے کر ابو جہل کے پاس گئے اور اس کے سر میں اتنی زور سے کہ ابو جہل کے سر سے خون بہنا لگا ۔ (شرح الزرقانی علی المواہب )
جنگ بدر میں سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ نے کفار کے دو بڑے سرداروں عتبہ اور طعیمہ بن عدی کو جہنم واصل کیا تھا ۔طعیمہ بن عدی کا ایک بھتیجا جبیر بن مطعم تھا اس نے اپنے چچا کا بدلہ لینے کے لیے اپنے غلام وحشی کو لالچ دی اور کہاکہ اگر تو میرے چچا کا بدلہ سیدنا امیر حمزہ سے لے گا تو میں تجھے اپنی غلامی سے آزاد کر دو ں گا اور بہت سارا انعام بھی دوں گا ۔ عتبہ کی بیٹی ہندہ نے وحشی سے کہا کہ تو اگر سیدنا امیر حمزہؓ سے میرے باپ کا بدلہ لے گا تو میں تجھے آزادبھی کروائوں گی اور بہت سارا سونا اور چاندی اور مال و متاع دوں گی۔
سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ جنگ احد میں اپنی بہادری و شجاعت کے جوہر دکھا رہے تھے ۔وحشی بھی موقع کی تلاش میں تھا اور ایک جگہ پہاڑکے پیچھے چھپ کر بیٹھ گیا ۔سیدنا امیر حمزہ ؓ جب اس کے پاس گزرے تو وحشی نے نیزے سے وار کیا جو آپؓ کے پیٹ میں لگا اور سیدنا امیرحمزہ رضی اللہ عنہ مرتبہ شہادت پر فائز ہو گئے ۔ ہندہ نے آپؓ کے جسد اطہر کی بے حرمتی کی اور آپؓ کے کلیجہ کو بھی چبانے کی کوشش کی لیکن نہ چبا سکی ۔ 
حضرت علی رضی اللہ عنہ جب سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ کی تلاش میں نکلے تو آپؓ کی نعش کو دیکھ کر حضرت علی ؓ کی چیخ نکل گئی۔ جب نبی کریم ﷺکو اپنے پیارے چچا حضرت سیدنا امیر حمزہ ؓ کی شہادت کی خبر ملی تو نبی کریم ﷺ کو بہت زیادہ صدمہ پہنچا اور غمگین ہو گئے ۔ حضور نبی کریم ﷺسیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کی نعش کو دیکھ کر اتنا روئے کہ آپؐ کی ہچکی بندھ گئی ۔ 
 حضورنبی کریم ﷺ نے فرمایا : میرے چچا میں گواہی دیتا ہوں کہ تم اللہ کی راہ میں صدقہ دینے والے تھے ، تم غریبوں اور مسکینوں کی مدد کر نے والے تھے ، تم بیواؤں اور یتیموں کی خبر گیری کرنے والے تھے ۔ آج میں تمھاری شہادت کا گواہ ہوں کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ کی عدالت لگے گی ۔ جب شہید اٹھیں گے ان میں بدر اور احد کے شہداء بھی ہوں گے ۔ جب شہیدوں کا قافلہ حشر کے میدان میں چلے گا تو شہیدوں کی سرداری کا جھنڈا میرے چچا امیر حمزہ ؓ کے پاس ہو گا ۔ 

ضبط نفس فضیلت و اہمیت

  ضبط نفس فضیلت و اہمیت کسی بھی انسان کی شخصیت کو نکھارنے کے لیے ضبط نفس ایک اہم خوبی ہے۔ضبط نفس کی کمی انسان میں بہت بڑی کمزوری ہوتی ہے جو ...