تلاوت قرآن دلوں کی زندگی اور روح کی غذا(۱)
سورۃ بنی اسرائیل میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’نماز قائم رکھو سورج ڈھلنے سے رات کی اندھیری تک اور صبح کا قرآن بیشک صبح کے قرآن میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں ‘‘۔ روایات میں ہے کہ صبح سویرے کا وقت ایک خصوصی وقت ہے۔ اس وقت فرشتوں کا زیادہ بڑا اجتماع ہوتا ہے۔ اس طرح فرشتوں کی زیادہ بڑی تعداد نمازی کی قرأت کی گواہ بن جاتی ہے۔ صبح کے وقت فرشتوں کا زیادہ بڑا اجتماع کوئی پر اسرار چیز نہیں۔ فرشتوں کا خاص کام یہ ہے کہ وہ انسان کے اندر ربانی کیفیات پیدا کریں۔ صبح کا پر سکون وقت اسی ملکوتی عمل میں خصوصی طور پر مدد گار ثابت ہوتا ہے۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس مسلمان کی مثال جو قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے نارنگی جیسی ہے جس کی مہک بھی اچھی اور ذائقہ بھی اچھا۔ اس مسلمان کی مثال جو قرآن مجید کی تلاوت نہیں کرتا کھجور جیسی ہے اس کی مہک تو نہیں ہے مگر ذائقہ شیریں ہے۔ اس منافق کی مثال جو قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے پودینہ جیسی ہے اس کی مہک اچھی ہے لیکن ذائقہ کڑوا ہے اور اس منافق کی مثال جو قرآن مجید کی تلاوت نہیں کرتا ہے اس کی مثال تمے جیسی ہے جس کی کوئی مہک نہیں اور ذائقہ نہایت کڑواہے ( بخاری و مسلم شریف )۔
قرآن مجید کی تلاوت کرنے سے بندہ شیطانی وسوسوں سے محفوظ رہتا ہے۔ اور گھر کو رحمت الٰہی اور برکت سے بھر دیتا ہے۔حضور نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا کہ جس گھر میں سورۃ البقرۃ کی تلاوت کی جائے اس گھر میں شیطان داخل نہیں ہوتا۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کہ حسد نہیں ہے مگر دو آدمیوں کے متعلق۔ایک تو وہ جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن عطا فرمایا پس وہ اس کے ساتھ رات کے حصوں میں اور دن کی طرفوں میں قیام کرتا ہے اور ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا ہے تو وہ اسے رات دن اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔ (بخاری و مسلم)۔
تلاوت قرآن پاک باوضو ہو کر ، ادب و احترام کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر اور حتی الامکان سمجھنے کی کوشش کے ساتھ افضل ہے۔ارشادباری تعالیٰ ہے :
’’اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو ‘‘۔ ( سورۃ مزمل )۔
تلاوت قرآن مجید ایک لازوال نعمت ہے جسے نصیب ہو جائے وہ حقیقی معنوں میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ یہ دلوں کو زندہ ، روح کو مطمئن ، اور زندگی کو بامقصد بنا دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں کثرت کے ساتھ تلاوت قرآن پاک کرنے ، اسے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین






