فضائل و مناقب امام زین العابدین(۲)
آپ ؓ کے اخلاق مبارکہ میں نبی کریم ﷺ کے اخلاق حسنہ کی چمک دمق نظر آتی تھی ۔ ایک مرتبہ آپ مسجد سے باہر تشریف لائے تو ایک آدمی نے آپ کے بارے میں غلط جملے کہے ۔آپ ؓ کے غلام اور دیگر لوگ اس کو پکڑنے لگے تو آپ نے منع فرمادیا ۔پھر آپ نے فرمایا
کیا تمہیں ہمارے ساتھ کوئی کام تھا جو پورا نہیں ہو سکا۔ وہ آدمی یہ سن کر بہت شرمسار ہوا ۔اس کے بعد آپ ؓ نے اسے ایک قیمتی چادر اور پانچ ہزار درہم دیے ۔اس کے بعد اس شخص نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ؓ نبی رحمت ﷺ کی اولاد میں سے ہیں۔ امام زین العابدین عبادت میں اس قدر مشغول ہو جاتے کہ آس پاس کا خیال نہ رہتا ۔ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپ ؓ جس کمرے میں نماز پڑھ رہے تھے آگ لگ گئی ۔آپ ؓ حالتِ سجدہ میں تھے لوگوں نے شور مچایا اے رسول خدا ﷺ کے بیٹے آگ لگ گئی ہے ۔لیکن آپ ؓ نے سجدے سے سر نہ اٹھایا ۔لوگوں نے آگ بھجا دی ۔جب آپ ؓ نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا کیا بات ہے ۔لوگوں نے کہا حضور آگ لگ گئی تھی ہم نے بجھا دی ہے ۔ آپ ؓ نے فرمایا مجھے اس سے بڑی آگ نے مشغول کر رکھا تھا۔(نورالابصار)۔ حضرت جابر بن عبد اللہ فرماتے ہیں میں نے امام زین العابدین ؓ سے عرض کی آپ جانتے ہیں کہ اللہ تعالی نے جنت اہل بیت اور ان سے پیار کرنے والوں کے لیے بنائی ہے تو آپ اس قدر عبادت میں مشغول کیوں رہتے ہیں ۔ آپ ؓ نے فرمایا نبی کریم ﷺ اس قدر عبادت کرتے تھے کہ آپ ﷺ کے پاؤں مبارک میں ورم پڑجاتے تھے ۔جب آپ ﷺ سے کہا گیا کہ انبیاءتو معصوم ہوتے ہیں اس قدر عبادت کیوں آپ ﷺ نے فرمایا، کیا میں اللہ تعالی کا شکر گزار بندہ نہ بنوں ۔ امام زین العابدین ؓ نے حضرت جابر ؓ سے فرمایا میں بھی نبی کریم ﷺ کی اقتداءمیں اللہ تعالی کا شکر گزار بندہ بننا چاہتا ہوں اس لیے میں اللہ تعالی کی عبادت میں میانہ روی اختیار نہیں کر سکتا ۔
سیدنا امام زین العابدین کی سخاوت دوست اور دشمن دونوں کے لیے تھی ۔جس طرح نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں آنے والے سائل نے کبھی ناں نہیں سنی اسی طرح آپ ؓ نے بھی ساری عمر کبھی کسی سائل کو خالی نہیں بھیجا ۔ آپؓ نے زندگی میں دو مرتبہ اپنا سارا مال اللہ تعالی کی راہ میں خیرات کر دیا ۔آپ ؓ کی خیرات کا عالم یہ تھا کہ مدینہ منورہ کے بہت سے مستحق گھروں میں پوشیدہ طریقوں سے راشن بھیجتے اور کسی کو معلوم نہیں تھا یہ کہاں سے آتاہے ۔ جب آپ ؓ کا وصال ہو ا تو لوگوں کو پتہ چلا کہ یہ آپ ؓ کی سخاوت تھی ۔ ( سیر اعلام النبلاء)۔






