پیر، 27 جولائی، 2026

موانع و مظاہر عجز و انکسار(۲)

 


موانع و مظاہر عجز و انکسار(۲)

جب انسان کے حالات ٹھیک نہیں ہوتے اور اسے مالی تنگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ ایک انتہائی عاجز انسان بن جاتا ہے لیکن حقیقی عاجزی وہ ہے جو مال و دولت ہونے کے باوجود  قائم رہے ۔  مسند ابی یعلی میں ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر میں چاہو ں تو میرے ساتھ سونے کے پہاڑ چلیں ۔حضور نبی کریم ﷺ  نے شاہی کو اختیارکرنے کی بجائے عجز و انکساری کو اختیار فرمایا ۔ 
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم ﷺ نے کبھی تکیہ لگا کر کھانا نہیں کھایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا میں ایسے ہی کھاؤں گا جیسے عام بندہ کھاتا ہے اور ایسے ہی بیٹھوں گا جیسے ایک عام بندہ بیٹھتا ہے۔ امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں جب نبی کریمﷺ معراج کی رات اعلی ترین درجات اور بلند ترین مقام پر فائز ہوئے تو اللہ تعالی نے آپﷺ پر وحی نازل فرمائی :اے محمد (ﷺ) میں آپ کو کس لقب سے مشرف کروں تو حضور نبی کریم ﷺ کی عاجزی  کا نکتہ کمال یہ تھا کہ  مقام رفیع پر فائز ہونے کے باوجود فرمایا کہ اے میرے پروردگار مجھے اپنی نشست سے منسوب فرما ۔حضور نبی کریم ﷺ  نے عبدیت کو ہی اپنے لیے سب سے بڑا شرف سمجھا ۔ (تفسیر الکبیر )
 عاجزی و انکساری اختیار کرنے والا شخص جب اپنے دشمن پر فتح حاصل کر لیتا ہے تو وہ عاجزی کاراستہ چھوڑ کر تکبر اور انتقام کے راستے پر چل پڑتا ہے اور ظلم و ستم کی انتہا کر دیتا ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے :
بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں اسے تباہ کر دیتے ہیں اور اس کے عزت والوں کو ذلیل۔ اوریہ لوگ ایسا ہی کرتے ہیں ۔(سورۃ النمل)
لیکن نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ سے ہمیں پیغام ملتا ہے کہ فتح و کامیابی کے باوجود عجز و انکساری کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔
حضور نبی کریم ﷺ نے جتنے بھی غزوات میں کامیابی حاصل کی قیدیوں پر ظلم و ستم کی بجائے معمولی سا فدیہ لے کر رہا فرما دیتے تھے ۔ حضور نبی کریم ﷺ کی عجزو انکساری کا عالم یہ تھا کہ ایک مرتبہ قیدیوں میں عمرو بن عبداللہ نے، جو کہ شاعر بھی تھا،  حضور ﷺ سے عرض کی میری پانچ بیٹیاں ہیں جن کا میرے علاوہ کوئی نہیں ۔اے محمد ﷺ مجھے ان بچیوں کے صدقے کی صورت میں رہا کر دیں میں آئندہ کبھی کسی کو آپ ﷺ کے خلاف نہیں ابھاروں گا ۔ حضور ﷺ نے اسے بغیر فدیہ کے آزاد کر دیا۔ ( حیات محمد )


اتوار، 26 جولائی، 2026

موانع و مظاہر عجز و انکسار(۱)

 

موانع و مظاہر عجز و انکسار(۱)

انسانی کردار کی تعمیر میں جن اخلاقی اوصاف کو بنیادی حیثیت حاصل ہے ان میں عجزو انکساری نمایاں مقام رکھتی ہے ۔ یہ وہ عظیم صفت  ہے جو انسان کو غرور و تکبر کی تاریکیوں سے نکال کر اللہ تعالی کی رضا ، بندگان خدا کی محبت اور معاشرتی احترام کی منزل تک پہنچاتی ہے ۔  اسلام نے جہاں ایمان ، عبادات اور حسن اخلاق پر زور دیا ہے وہیں عاجزی اور فروتنی کو ایک کامل مومن کی شناخت قرا ر دیا اللہ تعالی  نے اپنے محبوب بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
”اور رحمن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام“۔ ( سورۃ الفرقان)۔ حضور نبی رحمت ﷺ نے اپنی پوری حیات طیبہ میں اس وصف کو عملی طور پر اس شان سے پیش کیا کہ رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے  بہترین نمونہ بن گیا ۔ آپ ﷺ عظمت و رفعت کے اعلی ترین مقام پر فائز ہونے کے باوجود سادگی ، تواضع ، حلم اور انکساری کا ایسا پیکر 
تھے کہ دوست و دشمن سب آپ ﷺ کے اخلاق کریمانہ کے معترف تھے ۔ 
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :صدقہ ما ل میں کمی نہیں کرتا ۔ معافی مانگ لینے سے اللہ تعالی  عزت میں اضافہ فرماتا ہے اور جو بھی اللہ تعالی کی رضا کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ تعالی اسے سر بلند فرمادیتا ہے ۔ ( ترمذی )۔ حضور نبی کریم ﷺنے فرمایا تواضع انسان کے رتبہ کو بلند کرتی ہے اور تکبر اسے پست کرتا ہے ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی  ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو اپنے مسلمان بھائی کے لیے عاجزی کرتا ہے اللہ تعالی اسے سر بلند کر دیتا ہے اور جو اس پر اپنی برتری  جتاتا ہے اللہ تعالی اسے پست کر دیتا ہے ۔ (الترغیب الترہیب )۔
تمام تر بلندیوں ، عظمتوں ، رفعتوں اور شان کا مالک اللہ تعالی ہے تو پھر بندہ کس وجہ سے احساس برتری میں مبتلا ہو جاتا ہے جب اس کے اختیار میں کچھ نہیں۔
 حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: کبریائی میری چادر ہے اور بڑائی میرا  تہبند ہے جو ان دونوں میں سے کچھ بھی مجھ سےچھینناچاہے گا میں اسے دوزخ میں پھنک دوں گا ۔( مسند احمد )۔ انسان کے اندر تکبر ، غرور ، خود پسندی ، مال و دولت کا گھمنڈ ، علم کی نخوت اور منصب کا زعم وہ عوامل ہیں جو عجز و انکساری اختیار کرنے کی  راہ میں روکاوٹ بنتے ہیں ۔ان رکاوٹوں کو دور کیے بغیر انسان کے اندر عاجزی پیدا نہیں ہو سکتی ۔

ہفتہ، 25 جولائی، 2026

نمازی کے اوصاف(۲)

 

نمازی کے اوصاف(۲)

 انسان کو عبادت سے روکنے والی چیز نفس ہی ہے۔ نفس جتنا مغلوب ہوتا ہے عبادت اتنی سہل ہو جاتی ہے ۔ جس وقت  نفس فنا ہو جاتا ہے اس وقت عبادت غذا اور طبیعت ثانیہ بن جاتی ہے ۔ عبد اللہ بن مبارک ؒ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک عبادت گزار خاتون کو دیکھا کہ نماز کی حالت میں اسے بچھو نے کافی ڈنگ مارے مگر اس نے بالکل بھی محسوس نہ کیا ۔ جب وہ عورت نماز سے فارغ ہوئی تو میں نے اس سے پوچھا کہ اماں آپنے بچھو کو اپنے آپ سے ہٹایا کیو ں نہیں ؟ عورت نے کہا بیٹا تم ابھی بچے ہو یہ کیسے ممکن ہے کہ میں خدا کے کا م میں اپنا کام شروع کر دیتی ۔ 
ابو الخیر اقطع ؒ کو پائوں میں پھوڑا نکل آیا ۔ طبیبوں نے کہا کہ آپ کا پاؤں کاٹنا پڑے گا آپ ؒ نے انکا ر کر دیا ۔  مریدین نے کہا کہ کیوں نہ نماز کی حالت میں آپؒ کا پاؤں کاٹ دیا جائے ۔ کیونکہ آپ کو نماز کی حالت میں بیرونی کوئی خبر نہیں ہوتی ۔پھر نماز کی حالت میں آپؒ کا پاؤں کاٹا گیا اور آپ کو محسوس تک نہ ہوا۔ جب آپ ؒ نماز سے فارغ ہوئے تو پاؤں کٹا ہوا تھا ۔
مروی ہے کہ سیدنا صدیق اکبر ؓ جب رات کو نماز پڑھتے تو ہلکی آواز  میں قرات کرتے اور سیدنا فاروق  اعظم ؓ بلند آواز سے قرات فرماتے ۔حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت ابو بکر ؓ سے پوچھا کہ آپ آہستہ آواز سے قرا ت کیوں کرتے ہیں، فرمایا کہ حضور ﷺ جسے میں پکارتا ہوں وہ سب سن لیتا ہے بلند ہو یا پھر آہستہ ۔
حضرت عمرؓ سے پوچھا گیا تو فرمایا کہ سونے والوں کو بیدار کرتا ہوں اور شیطان کو دھتکارتا ہوں ۔آپﷺ نے فرمایا ابو بکر ؓ تم ذرابلند آواز سے پڑھا کرو اور عمرؓ تم ذرا آہستہ آواز میں پڑھا کرو ۔ 
بعض فرائض ظاہری طور پر اور نوافل چھپ کر ادا کرتے ہیں اس سے ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ ریا سے بچا جا سکے ۔ کیونکہ جب کوئی ریا کرتا ہے تو وہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے اسی طرح وہ فرماتے ہیں کہ ہم اپنی عبادت و ریاضت کو اہمیت نہیں دیتے مگر لوگ  تو یہ سب دیکھتے ہیں اور یہ ریا ہے ۔ 
بعض مشائخ فرائض کے ساتھ نوافل بھی ظاہری طور پر ادا کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ریا باطل ہے اور عبادت حق۔ یہ مشکل ہے کہ ہم باطل کے خوف سے حق کو چھپا لیں پس دل سے ریا کو نکال دینا چاہیے اس کے بعد جہاں مرضی آئے انسان عبادت کرے ۔ (کشف المحجوب )۔

جمعہ، 24 جولائی، 2026

نمازی کے اوصاف(۱)

 


نمازی کے اوصاف(۱)

حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ جب معراج سے واپس تشریف لائے تو دل مبارک  ہر وقت اسی مقام معلیٰ کے شوق اور آرزو میں لگا رہتا ۔ آپ ﷺ فرماتے اے بلال ؓ ہمیں نماز سے خوش کرو پس دراصل آپ کے لیے ہر  نماز معراج اور قرب الہی کا موجب ہوتی تھی لوگوں کی نگاہیں آپ ﷺ کو نماز میں دیکھتی تھیں مگر صورت یہ تھی کہ جسم مبارک نماز میں، دل نیاز میں اور باطن پرواز بارگاہ میں ہوتا ۔ ادھر آپ ﷺ کا تن مبارک سوزو گداز میں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ  نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ۔ اسی طرح جسم ملک میں اور روح عالم ملکوت میں ہوتا ۔ بظاہر وجود انسانی جسم ہوتا مگر روح مقام انس میں ہوتی۔ 
سچے کی نشانی یہ ہے کہ اللہ تعالی اس کے لیے ایک فرشتہ مقرر کر دیتا ہے جو اسے نماز کے وقت نماز کے لیے ابھارتا ہے اور اگر وہ سو رہا ہوتو اسے بیدار کرتا ہے ۔ سہل بن عبد اللہ ؒ میں یہ کیفیت بالکل ظاہر تھی آپ اپنے دور میں کافی عمر رسیدہ تھے۔ نماز کا وقت آتا تو ٹھیک ٹھاک ہو جاتے۔ نماز ادا کر کے پھر بستر پر پڑے رہتے ۔ ( کشف المحجوب )۔
ایک بزرگ کا قول ہے کہ ’’نماز پڑھنے والے کے لیے چار باتیں ضروری ہیں، اس کا نفس فنا ہو، خواہشات زائل ہوں ، باطن صاف ہو اوراسے مشاہدے میں کمال حاصل ہو۔ 
یعنی نماز اداکرنے والے کے لیے فنائے نفس کے بغیر چارہ نہیں اور نفس کی فنائیت جمع ہمت کے بغیر حاصل نہیں ہوتی جب ہمت مجتمع ہو جاتی ہے تو انسان کو نفس پر حکمرانی حاصل ہو جاتی ہے اس لیے کہ اس کا وجود تفرقہ سے ہے، جمع کی عبارت کے تحت نہیں آسکتا اور خواہشات کا زائل ہونا جلال خدا وندی کے اثبات کے بغیر حاصل نہیں ہوتا کیونکہ حق تعالی کا جلال غیر کے زائل ہونے کا موجب ہوتا ہے اس طرح باطن کی صفائی محبت کے بغیر نہیں ہوتی اور کمال مشاہدہ باطن کی صفائی کے بغیر حاصل نہیں ہوتا ۔  کہا جاتا ہے کہ حسین بن منصورؒرات دن میں چار سورکعات نماز بطور فریضے کے ادا فرمایا کرتے تھے لوگوں نے پوچھا  اس قدر مرتبہ رکھنے کے باوجود آپ اتنی محنت کیوں کرتے ہیں ۔ آپؒ نے فرمایا اس کا رنج و راحت سے کیا واسطہ۔ خیال کرو سستی و کاہلی کو  بزرگی اور حرص کو طلب کا نام نہ دو۔ 
حضرت جنید ؒ نے بڑھاپے میں بھی اپنے جوانی والے اورادو وظائف میں سے کوئی چیز کم نہ کی۔ لوگوں نے کہا حضور آپ بہت کمزور ہو گئے ہیں تو اورادو وظائف ذرا کم کر دیں ۔ آپ ؒنے فرمایا شروع میں ہم نے جو کچھ حاصل کیا انہی معمولات کی  بنا پر حاصل کیا۔ یہ مرتبہ پالینے کے بعد یہ کیسے ممکن ہے کہ میں انہیں چھوڑ دوں۔


جمعرات، 23 جولائی، 2026

اسلام میں بد گوئی اور فحش کلامی کی مذمت

 


اسلام میں بد گوئی اور فحش کلامی کی مذمت

دین اسلام واحد مذہب ہے جو انسان کو ہر پہلو سے اخلاق حسنہ اپنانے کی تلقین کرتا ہے ۔ دین اسلام کی بنیاد ہی اچھے اخلاق ، نرم لہجے اور پاکیزہ گفتگو پرہے۔بدگوئی ، فحش کلامی ، گالی گلوچ نہ صرف اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ یہ انسان کے اخلاقی زوال کی بھی علامات ہیں ۔ 
قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں متعدد بار زبان کی حفاظت کی تلقین کی گئی ہے ۔ سورۃالحجرات آیت نمبر11میں اللہ تعالی نے ایک دوسرے کا تمسخر  اڑانے سے منع فرمایا ہے ۔ اور اسی طرح سورۃ البقرہ میں بھی اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ لوگوں سے اچھی بات کہو ۔ ان آیات میں ایک دوسرے کا مذاق اڑانے ، طعنہ دینے اور فحش کلامی سے منع کیا گیا ہے ۔ 
امام غزالیؒ نے اپنی زبان کو آٹھ قسم کے گناہوں سے محفوظ رکھنے کی تلقین کی ہے ۔ جھوٹ بولنے سے ، وعدہ خلافی کرنے سے ، غیبت کرنے  سے ، جھگڑا کرنے ، خود ستائی ، لعن تعن ، دوسرے پر کیچڑ اچھالنے سے اور ٹھٹھے بازی کرنے سے ۔  فحش کلامی صرف اخلاقی طور پر ناپسندیدہ نہیں بلکہ یہ معاشرتی بگاڑ کا سبب بھی بنتی ہے ۔ جب کوئی انسان فحش کلامی کرتاہے تو نہ صرف وہ اپنی شخصیت کو گراتا ہے بلکہ معاشرے میں بے حیائی اور فساد کو بھی فروغ دیتا ہے ۔ 
حضرت ابو سعید خدری نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی یا رسو ل اللہ ﷺ مجھے کوئی نصیحت فرما دیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالی سے ڈرتے  رہو ساری بھلائی اسی میں ہے ، جہاد کو اپنے اوپر لازم کر لو کیونکہ یہ مسلمانوں کے لیے ریاضت ہے ، اپنی زبان کو اللہ تعالی کے ذکراور قرآن مجید کی تلاوت  سے مصروف رکھو کیونکہ یہ زمین پر نور کا سر چشمہ ہیں اور آسمان پر معروف ہیں ۔ نبی کریم ﷺ نے مزید ارشاد فرمایاکہ جب بھی زبان سے کچھ بولو تو اچھی بات بولو ورنہ خاموش رہو کیونکہ ایسا کرنے سے تمہیں شیطان پر غلبہ پانے اور دینی امور احسن طریقے سے ادا کرنے میں مدد ملے گی ۔ ( المعجم الکبیر ، ابن حبان).
 نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو کوئی اس دنیا میں لوگوں کے وقار کی حفاظت کرے گا اللہ تعالی قیامت کے دن اس کے بدلے اس کے گناہ مٹا دے گا ، جو کوئی  بھی دنیا میں لوگوں پرآنے والے غصے پر قابو کرے گا اللہ تعالی قیامت کے دن اسے عذاب سے محفوظ رکھے گا۔ ( احیا علوم الدین ). 
ابو الیث سمر قندی ؒ فرماتے ہیں کہ صالحین اپنی زبان کو قابو میں رکھنے کے لیے دوسروں سے کی جانے والی گفتگو کا خود سے محاسبہ کرتے تھے ۔ اسی طرح ہر  مسلمان کو چاہیے کہ اس سے پہلے کہ اس کا آخرت میں حساب ہو وہ دنیا میں ہی اپنا محاسبہ کرتا رہے ۔ دنیا میں اپنا محاسبہ کر لینا آخرت میں حساب سے زیادہ آسان ہے ۔ دنیا میں اپنی زبان پر قابو پالینا آخرت میں شرمندگی برداشت کرنے کی نسبت آسان ہے ۔ ( تنبۃ الغافلین ).
آج کے دور میں سوشل میڈیا ، ڈراموں ، فلموں اور عام گفتگو میں فحش کلمات کا استعمال زیادہ ہوتا جا رہا ہے اور یہ مزاح کا حصہ بنتا جا رہا ہے جو کہ ایک  خطر ناک رحجان ہے ۔ ہمیں اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی زبان کو بد گوئی اور فحش کلامی سے محفوظ رکھنا ہو گا ۔



بدھ، 22 جولائی، 2026

مومن کی مثال (۲)

 


مومن کی مثال (۲)

جو شخص گرمی سے بچنے کے لیے سایہ تلاش کرتا ہے درخت اسے سایہ مہیا کرتا ہے اور اپنے پاس سے گزرنے والوں کو اپنے خوشبواور سر سبز و شاداب منظر کا تحفہ دیتا ہے ۔ جسے غذا کی ضرورت ہو درخت اسے مختلف اقسام کے لذیذ قسم کے پھل مہیا کرتا ہے اور جن کو ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے وہ درخت کو کاٹ کر اپنی ایندھن کی ضروریات بھی حاصل کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ درخت کے ذریعے خوبصورت قسم کی گھریلو اشیاءاور فرنیچر بھی حاصل کیا جاتا ہے ۔ جس طرح کا بھی کوئی لمحہ آتا ہے درخت اسی طرح  کا ثابت ہوتا ہے جس طرح اس سے امید کی جاتی ہے ۔ 
اس سب کے باوجود درخت ایک ایسا وجود ہے جو زمین میں اپنی جڑیں داخل کر کے خود اپنے بل بوتے پر کھڑا رہتا ہے اور زمین کی تہہ میں اس طرح گڑا ہوتا ہے کہ کوئی اسے اکھاڑ نہ سکے اور فضا میں اس طرح بلند ہوتا ہے کہ کائنات کی تما م چیزیں اس سے اپنی ضروریات حاصل کرتی ہیں ۔ 
قرآن مجید میں مومن کی مثال اس درخت سے دی گئی ہے اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مومن کو کن خصوصیات کا حامل ہونا  چاہیے ۔ مومن وہ ہے جس کے اندر وہی صفات انسانی سطح پر موجود ہوں جو درخت میں مادی سطح پر پائی جاتی ہیں ۔ مومن کو وہی  کام اپنے شعور کے تحت کرنا ہے جو درخت طبعی قانون کے تحت سر انجام دے رہا ہے ۔ مومن کو خود اپنے ارادے سے اس طرح  سر سبز دنیا کی تخلیق کرنی ہے جس کو ایک درخت قانون فطرت کی پابندی کے تحت وجود میں لاتا ہے ۔ 
درخت مٹی کے اندر سے نکلتا ہے ۔ مومن کا درخت روحانیت کی ربانی زمین پر اگتا ہے ۔ درخت دنیا کے مادی اجزا سے بنتا ہے اور مومن عالم آخرت کے جنتی اجزا سے ۔ عام درخت مادی دنیا کا درخت ہے تو مومن انسانی دنیا کا درخت ہے ۔ درخت ایک  نمو پذیر وجود ہے اسی طرح مومن بھی ایک نمو پذیر وجود ہے ۔ مومن وہ انسان ہے جو ربانی فکر کی بنا پر اس قابل ہو جاتا ہے کہ ساری کائنات اس کے لیے معرفت کا دسترخوان بن جائے ۔ 
دنیا کی زندگی امتحان کی زندگی ہے یہاں کچھ مل جانا بھی آزمائش ہے اور کچھ نا ملنا بھی آزمائش ہے مومن وہ ہے جو دونوں حالتوںمیں اللہ تعالی کی رضا پر راضی رہے وہ منفی تجربات کومثبت تجربات میں تبدیل کر سکے اور دنیا میں رہتے ہوئے مکمل طور پر آخرت کا طالب بن جائے ۔ 
ایسے لوگوں کے لیے ہی قرآن مجید میں نفس المطمئنہ کا ذکر آیا ہے ۔یہی وہ لوگ ہیں جنہیں جنت میں اللہ تعالی کی ہمسائیگی ملےگی اور انہیں جنت کے باغوں میں  داخل کیا جائے گا ۔ اور وہ ہمیشہ راحتو ں اور خوشیوں میں زندگی گزاریں گے ۔



منگل، 21 جولائی، 2026

مومن کی مثال (۱)

 

مومن کی مثال (۱)

مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا سب سے پہلا تعلق اپنے رب کریم سے ہے کیونکہ وہی ہمارا خالق و مالک ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے : ’’ ایمان والے وہی ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان کے سامنے اس کی آیتیں پڑھی جائیں تو ان کا ایمان ترقی پائے اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کریں ‘‘۔ ( سورۃ الانفال )۔
مسلمان کے اعلی اوصاف میں سے یہ بھی ہے کہ وہ صرف اپنی ہی نہیں بلکہ دوسرے مسلمان کی بھی فکر کرتا ہے اسی لیے وہ ان کی دنیا و آخرت کی بھلائی کے لیے انہیں نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے منع کرتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :’’ مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں ‘‘۔( سورۃ التوبہ )۔ 
مومن کی مثال ایک درخت کی طرح ہے ۔ درخت کی تخلیق اللہ تعالی کے حکم سے ایک چھوٹے سے بیج سے ہوتی ہے ۔ بیج کے اندر وہ تمام امکانات نہایت کاریگری کے ساتھ سموئے ہوتے ہیں کہ جب بھی اس کو موافق حالات ملیں وہ ایک درخت کی صورت میں  اپنے آپ کو ظاہر کرنا شروع کر دے ۔  بیج کو جب مٹی کے اندر بویا جاتا ہے تو اچانک وہ پوری کائنات سے اس طرح جڑ جاتا ہے جیسے کہ ساری کی ساری کائنات صرف اسی کی پرورش کے لیے بنائی گئی ہو ۔ مٹی نرم ہو کر اسے موقع دیتی ہے کہ وہ اس کے اندر اپنی جڑوں کو داخل کر سکے ۔  پھر بیکٹیریا اس کی جڑوں میں جمع ہو جاتے ہیں تاکہ وہ فضا سے نائٹروجن الگ کر کے اس کی خوراک فراہم کرے ۔ زمین کی تہیں  اپنی معدنیات اور نمکیات کو پانی میں گھول کر اس کی جڑوں کو پہنچاتی ہیں تاکہ وہ ایک بڑے درخت کی شکل اختیار کر لے ۔ اللہ تعالی  کے حکم سے کائنات کا پورا کارخانہ متحرک ہو جاتا ہے کہ اس کے لیے مختلف موسم پیدا کر کے اسے ایک مکمل درخت کی شکل میں کھڑا  کر دے ۔ 
یہ درخت کائنات سے اس طرح ہم آہنگ ہو جاتا ہے کہ کہیں بھی ماحول کی دوسری چیزوں سے اس کا ٹکراؤ نہیں ہوتا ۔ درخت اگرزمین سے پانی لیتا ہے تو درخت زمین سے لی ہوئی رطوبت کو اپنے پتوں کے ذریعے خارج کر کے بارش برسانے میں معاون بنتا ہے ۔
درخت اگر زمین سے اپنی خوراک حاصل کرتا ہے تو خود بھی اپنے پتوں اور پھلوں کو زمین پر گرا کر اس کی زرخیزی میں اضافہ کرتا ہے ۔درخت اگر ہوا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ لیتا ہے تو وہ اس کے بدلے آکسیجن بھی دیتا ہے جس کے ذریعے ہم سانس لے سکتےہیں ۔درخت کائنات سے الگ ہو کر بھی کائنات سے اس طرح جڑا ہوتا ہے کہ کائنات کی کسی چیز سے اس کا ٹکراؤ نہیں ہوتا ۔

موانع و مظاہر عجز و انکسار(۲)

  موانع و مظاہر عجز و انکسار(۲) جب انسان کے حالات ٹھیک نہیں ہوتے اور اسے مالی تنگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ ایک انتہائی عاجز انسان بن جات...