قرآن مجید ہدایت ، شفاء اور جات کا لازوال سر چشمہ(۲)
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے قرآن مجید سے ایک حرف پڑھا اس کے لیے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہے میں یہ نہیں کہتا کہ الٓم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف لام ایک حرف اور میم ایک حرف ہے‘‘۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو قرآن پڑھتا ہے اس کی مہارت رکھتا ہے وہ بزرگ نیکو کار کاتبین کے ساتھ ہے اور جو قرآن پڑھتا ہے اور اس میں اٹکتا ہے اور یہ اس پر دشوار ہے اس کے لیے دو اجر ہیں۔ ( بخاری و مسلم شریف )۔
قیامت کے دن قرآن مجید اپنے پڑھنے والوں کی اللہ کے حضور سفارش کرے گا۔ دنیا میں انسان کے بہت سے رشتے ، عہدے اور سہارے ہوتے ہیں مگر بروز قیامت کوئی بھی کام نہیں آئے گا سوائے ایمان ، اعمال صالح کے۔
رحمت دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ اس کتاب کی وجہ سے کئی قوموں کو رفعت بخشے گا اور کئی کو پست کریگا۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا : قرآن مجید کی تلاوت کرو۔ بیشک یہ قیامت کے دن اپنے ساتھیوں کی شفاعت کرنے والا ہو گا۔ ( مسلم شریف)۔
حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’صاحب قرآن سے کہا جائے گا قرآن پڑھتے جائو اور درجات پرچڑھتے جائو اور اس ترتیب سے پڑھو جس طرح دنیا میں پڑھا کرتے تھے ، بیشک تمہارا مقام وہاں ہو گا جہاں پر تمہارا پڑھنا ختم ہو جائے گا ‘‘۔صحابہ کرام ﷺ کا طرہ امتیاز تھا کہ وہ دنیا میں ایسے زندگی بسر کرتے تھے گویا کہ جیتا جاگتا قرآن ہوں وہ قرآنی آیات میں غورو فکر کرتے تھے اور حقیقی معنوں میں اس کی تلاوت کرتے تھے۔اس کے مطابق اپنی زندگی بسر کرتے تھے ، اور اس ہی کی طرف دعوت دیتے تھے ،عذاب کی آیتوں سے ان کے دل دہل جاتے تھے ، اور رحمت کی آیتوں سے ان کے دل روشن اور معمور ہو جاتے تھے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قدم قدم پر قرآن مجید سے ہدایت حاصل کرتے تھے اس لیے وہ دنیا میں باعزت ہوئے اور دنیا کی سیادت کے حقداربنے۔ بلند درجات پر فائز ہوئے اور دونوں جہانوں کی کامیابیوں سے سر فراز ہو ئے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کوسکھائے‘‘۔
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ جو شخص اس نعمت کی قد ر کرتا ہے۔ اس کے ساتھ اپنا تعلق مضبوطی کے ساتھ جوڑ لیتا ہے اور اپنی زندگی کو اس کے احکامات کے مطابق ڈھال لیتا ہے وہ دنیا میں بھی کامیاب ہو جاتا ہے اور آخرت میں بھی سْر خرو ہو گا۔ ہمیں چاہیے ہم قرآن مجید کو اپنے دلوں میں ، اپنے کردار میں اور اپنے معاملات میں جگہ دیں۔ یہی قرآن کا حق ہے اور یہی ہماری نجات کا راستہ ہے۔






