جمعرات، 12 مارچ، 2026

حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (2)

 

حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (2)


حضرت حبشی بن جنادہؓ سے مروی ہے کہ حضورنبی کریم ﷺ نے فرمایا علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں اور میری طرف سے (عہد و پیمان میں) میرے اور علی کے سوا کوئی دوسرا ذمہ داری ادا نہیں کر سکتا۔ ( ترمذی ، ابن ماجہ )۔ 
اکثر غزوات میں حضور نبی کریمﷺ نے پرچم اسلام آپ ہی کو عطا کیا۔ غزوہ خیبر آپﷺنے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں پرچم دے کر فتح کی بشارت سنائی۔
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓسے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے جب انصار اور مہاجرین میں بھائی چارہ قائم کیا تو حضرت علی نبی کریمﷺ کے پاس آئے اور عرض کی یار سول اللہ ﷺ! آپ ﷺ نے صحابہ کرام میں بھائی چارہ قائم فرما دیا ہے لیکن مجھے کسی کا بھائی نہیں بنایا۔ آپﷺ نے فرمایا تم دنیا و آخرت میں میرے بھائی ہو۔ ( ترمذی )۔ 
طریقت میں حضرت علی ؓ بہت اونچی شان اور بلند ترین مقام کے مالک تھے۔حصول حقائق کے مشکلات کے حل پر آپ کوجو قدرت حاصل تھی اس کے بارے میں حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں’’اصول طریقت اورمصائب برداشت کر نے میں ہمارے پیر علی المرتضیؓ ہیں‘‘۔ایک شخص نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی سب سے پاکیزہ  چیز کونسی ہے ؟ آپ نے فرمایاوہ دل جو اللہ تعالیٰ کے تعلق کی وجہ سے ہر چیز سے بے نیاز ہو گیا ہے یہاں تک کہ دنیا کا نہ ہونا اسے فقیر نہ بناسکے اور اس کا ہونا اسے خوشی نہ دلا سکے۔
آپ ؓکے اقوال اور فیصلے پْر از حکمت اور قوت استدلال کے اعلیٰ ترین درجے میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چند اقوال یہ ہیں کہ :۱: توفیق الٰہی بہترین راہنما ہے۔ ۲: سب سے بڑی دولت عقل مندی اور سب سے بڑا افلاس حماقت ہے۔ ۳: گناہوں کی دنیا میں سزا یہ ہے کہ عبادت میں سستی اور معیشت میں تنگی پیدا ہو جاتی ہے۔ ۴: حلال کی خواہش اس شخص میں پیدا ہوتی ہے جو حرام کو چھوڑ دینے کی پوری پوری کوشش کرتا ہے۔ کوفہ میں ایک بد بخت خارجی عبدالرحمن ابن ملجم نے حالت نماز میں آپ پر حملہ کیا جس سے آپ شدید زخمی ہو گئے اور اکیس رمضان المبارک جمعہ کی شب اسلام کا یہ بدر منیر ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔
حضرت علیؓ قرآن کی عملی تفسیر تھے۔آپ رضی اللہ عنہ سوچ میں حکمت ، کردار میں پاکیزگی ، فیصلوں میں عدل اور عبادات میں اخلاص تھا۔آپؓکی زندگی ایک مکمل درس گاہ ہے ایک ایسی درس گاہ جو ہر دور کے مسلمان کو حق ، عدل اور تقوی کا راستہ دکھاتی ہے۔

بدھ، 11 مارچ، 2026

حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (1)

 

حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (1)

امیرالمومنین خلیفۃ المسلمین داماد رسول شیر خدا خلیفہ چہارم حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسلامی تاریخ کی ایک عظیم المرتب شخصیت ہیں۔آپ رضی اللہ عنہ کی زندگی شجاعت ، علم ، تقوی اور عدل و انصاف کی اعلی مثال ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے آپؓکو باب العلم کا لقب عطا فرمایا۔نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔
روایات کے مطابق حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ کی پرورش کی ذمہ داری اٹھائی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضور نبی کریم ﷺکے دامن محبت و شفقت میں پرورش پانے کا اعزازحاصل کیا۔
آپؓنے بچوں میں سب سے پہلےاسلام قبول کرنے کا شرف حاصل کیا۔ جب اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اعلانیہ تبلیغ کا آغاز ہوا تو مشکلات و مصائب کے باوجود اور انتہائی تکلیف دہ اور آزمائشی مرحلے میں بھی حضورﷺ کا ساتھ دیا۔ حضور نبی کریم ﷺ کو آپ ؓسے بے حد محبت تھی۔
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک لشکر بھیجا اس میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل تھے۔ آپ ؓ فرماتی ہیں میں نے نبی کریمﷺکو دیکھا کہ آپﷺ ہاتھ اٹھا کر دعا فرما رہے تھے کہ یا اللہ مجھے اس وقت تک موت نہ دینا جب تک میں علی کو واپس خیر و عافیت کے ساتھ نہ دیکھ لوں۔ ( ترمذی )۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضور نبی کریم ﷺ کے پاس ایک پرندے کا گوشت تھا آپﷺ نے دعا فرمائی یا اللہ اپنی مخلوق میں سے محبوب ترین شخص کو میرے پاس بھیج تا کہ وہ میرے ساتھ اس پرندے کا گوشت کھائے۔ چناچہ حضرت علی ؓآئے اور انہوں نے نبی کریمﷺ کے ساتھ گوشت کھایا۔
حضرت علیؓ کو بستر رسول پر آرام فرمانے کا بھی شرف حاصل ہے۔ جب حضور نبی کریم ﷺ کو مکہ چھوڑ جانے کی اجازت ملی تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’ اے علیؓ مجھے مکہ چھوڑ کر جانے کا حکم ہوا ہے آج میرے بستر پر میری سبز چادر اوڑھ کر سونا ہو گا اور ذرا اندیشہ نہ کرنا تمہیں کوئی بھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا‘‘۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تین روز تک مکہ مکرمہ رہے اور روز کھلی وادی میں جا کر اعلان فرماتے ’’ لوگوں سن لو جس کسی کی امانت رسول پاکﷺ کے پاس رکھی تھی وہ آئے اور اپنی امانت لے جائے ‘‘۔ چوتھے روز آپ اکیلے مدینہ منورہ روانہ ہوئے اور قبا پہنچ کر حضور ﷺ سے ملاقات کی تو آپ ﷺنے آپ کو گلے لگایا اور فرمایا’’ اے علی دنیااور آخرت میں تم میرے بھائی ہو‘‘۔

منگل، 10 مارچ، 2026

یو م الفرقان(2)

 

یو م الفرقان(2)

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے غزوہ بدر کے دن فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر کوئی مولود بچہ چالیس سال تک اہل دین کے ہاں دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرتا رہے اور اس دوران اللہ تعا لیٰ کی اطاعت کی اور تمام گناہوں سے بچتا رہا یہاں تک کہ وہ عمر کے انتہائی آخری حصہ میں پہنچ گیا یا عمر کے اس حصے میں پہنچ گیا جس میں وہ سب کچھ جاننے کے بعد بھی کچھ نہیں جانتا تھا پھر بھی تم میں سے کوئی اصحاب بدر کی اس فضیلت والی رات کو نہیں پا سکتا۔ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا بیشک جنہوں نے غزوہ بدر میں شرکت کی انہیں ان فرشتوں پر بھی فضیلت حاصل ہے جنہوں نے اس میں شرکت نہیں کی۔ ( طبرانی )
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے اصحاب بدر کے لیے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف توجہ فرمائی اور فرمایا جو عمل تم کرنا چاہتے ہو کرو بیشک تمہارے لیے جنت لازم ہو گئی ہے یا پھر اس طرح فرمایا میں نے تمہیں معاف فرما دیا ہے۔( متفق علیہ)
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت حاطب کا ایک غلام نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور حضرت حاطب کی شکایت کرتے ہوئے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ حاطب دوزخ میں داخل ہو جائے گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم جھوٹ بولتے ہو وہ دوزخ میں داخل نہیں ہو گا کیونکہ وہ بدر اور حدیبیہ میں شریک تھا۔ ( مسلم ، ترمذی )۔
اس غزوہ میں جہاں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عظیم فتح نصیب فرمائی وہاں ہمیں اس سے کئی اسباق حاصل ہوتے ہیں۔ سب سے پہلا یہ کہ مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی لیکن ان کا اللہ تعالیٰ پر یقین مضبوط تھا اس لیے کامیابی کا انحصار تعداد پر نہیں بلکہ توکل علی اللہ اور ، اللہ تعالیٰ کی مدد
 اور سچے ایمان پر منحصر ہے۔ مسلمانوں نے ذاتی مفاد کو چھوڑ کر دین کی سر بلندی کے لیے اپنی جانیں قربان کیں اس سے ہمیں دین کے لیے اخلاص اور قربانی دینے کا سبق حاصل ہوتا ہے۔ 
غزوہ بدر کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ جب کوئی قوم ایمان ، اتحاد اور قربانی کے جذبے سے میدان میں آتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی مدد بھی اس میں شامل حال رہتی ہے اور اللہ تعالیٰ انہیں تعداد میں کم ہونے کے باوجود بھی فتح عطا فرماتا ہے۔

پیر، 9 مارچ، 2026

یو م الفرقان(1)

 

یو م الفرقان(1)

اسلامی تاریخ میں بعض دن ایسے ہیں جو محض واقعات نہیں بلکہ ایمان ، قربانی اور نصرت الٰہی کے زندہ معجزے ہیں۔ ہجرت کے دوسرے سال سترہ رمضان المبارک کو پیش آنے والی جنگ بدر وہ معرکہ حق تھاجس نے بے سرو سامان مسلمانوں کو دنیا کی نگاہ میں با وقار قوت بنا دیا اور واضح کر دیا کہ کامیابی کا دارومدار تعداد ، اسلحہ یا ظاہری طاقت پر نہیں بلکہ ایمان ، اخلاص اور اللہ تعالیٰ پر کامل یقین پر ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے : اور بیشک مدد کی تھی تمہاری اللہ تعالیٰ نے بدر میں حالانکہ تم با لکل کمزور تھے۔ پس اللہ سے ڈرو تاکہ تم شکر گزار بن جائو۔(سورۃ آل عمران )۔
اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر کے دن کو یوم الفرقان یعنی حق اور باطل کے درمیان فرق کا دن قرار دیا۔ سورۃ الانفال میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے : اور جسے ہم نے اتارااپنے بندہ خاص پر فیصلہ کے دن۔ جس روز آمنے سامنے ہوئے تھے دونوں لشکر۔ اس معرکہ میں مسلمانوں کی تعداد صرف تین سو تیرہ تھی اور 6 زریں ،8 تلواریں ، اونٹ اور2 گھوڑے تھے۔ اسلام کا پرچم حضرت مصعب بن عمیررضی اللہ عنہ، ایک جھنڈا حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ایک جھنڈاحضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو عطا ہوا۔جبکہ کفار مکہ کے پاس ایک ہزار سپاہی ،سو گھوڑے اور چھ سو زریں تھیں۔سترہ رمضان المبارک کو مسلمانوں اورکفار مکہ کے درمیان جنگ کا آغاز ہوا۔ جس میں قریش کی طرف سے عتبہ ، شیبہ اور ولید بن عتبہ میدان میں اترے ان کے مقابلے کے لیے مسلمانوں کی طرف سے حضرت حمزہ ، حضرت علی اور حضرت عبیدہ رضوان اللہ علیہم اجمعین میدان میں اترے اور انہوں نے تینوں کافروں کو واصل جہنم کیا۔ اس کے بعد جنگ کا باقاعدہ آغاز ہوا اوراللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح نصیب فرمائی۔ اس فتح کے بعد مسلمانوں کو تقویت ملی اور ان کے حوصلے بڑھ گئے۔ اور قریش مکہ کا غرور خاک میں مل گیا۔ غزوہ بدر میں یہ بات بھی ثابت ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ کی مدد ہمیشہ حق کے ساتھ ہوتی ہے۔ اس جنگ میں ابو جہل بھی واصل جہنم ہوا۔ رسول کریم ﷺ نے حکم دیا کہ کوئی جاکر ابو جہل کی خبر لائے اس کا کیا انجام ہوا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودگئے تو انہوں نے دیکھا کہ ابو جہل دم توڑ رہا ہے۔ آپ نے اس کا سر کاٹ کر آپ ﷺ کے قدموں میں رکھ دیا۔ حضور ﷺ نے تین مرتبہ فر مایا اے اللہ تیرا شکر ہے۔ اس کے بعد حضور نبی کریم ﷺ سر بسجود ہوئے اور پھر فرمایا کہ ہر امت میں ایک فرعون ہوتا ہے اس امت کا فرعو ن ابو جہل تھا۔

ہفتہ، 7 مارچ، 2026

رحمت، مغفرت اور نجات کا مہینہ

 

رحمت، مغفرت اور نجات کا مہینہ

اللہ تعالی نے امت مسلمہ پر خاص فضل و کرم کیا ہے اور بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جن میں اللہ تعالی کی ایک بہت بڑی نعمت ماہ رمضان کا عطا کرنا بھی ہے ۔ یہ وہ با برکت مہینہ ہے جس میں اللہ تعالی اپنی رحمت ، مغفرت اور جہنم سے نجات کے دروازے کھول دیتا ہے ۔ ہر مسلمان کے لیے اس ماہ مقدس میں سنہری موقع ہے کہ وہ اللہ تعالی کی رحمت ، مغفرت طلب کرے ۔ 
ماہ رمضان کا پہلا عشرہ رحمت ہے ۔حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ماہ رمضان کا پہلا عشرہ رحمت دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے آزادی  کا ہے۔ 
اللہ تعالی کی رحمت بے شمار ہے جس کی کوئی حد نہیں ۔ اللہ تعالی ماہ رمضان میں اپنی خاص نعمتوں کے دروازے کھول دیتا ہے اور نیکی کرنےکا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے ۔اللہ تعالی کی طرف سے در گزر کرنے اور بخشش کی بارش ہوتی ہے ۔ جو مسلمان اس ماہ مقدس میں روزہ رکھ کر عبادت ، توبہ ، استغفار اور نیک اعمال کرنے میں مصروف رہتے ہیں اللہ تعالی کی خاص رحمت کے مستحق ٹھہرتے ہیں ۔
رمضان المبارک کو مغفرت کا مہینہ بھی قرار دیا گیا ہے ۔ ماہ رمضان کا دوسرا عشرہ مغفرت ہے ۔حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو شخص ایمان اور نیک نیتی کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔(بخاری و مسلم )۔
اس ماہ مقدس کی بابرکت ساعتوں سے مستفید ہوتے ہوئے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالی سے اپنے گنا ہوں کی معافی طلب کرے اور
اس بات کا عہد کرے آئندہ وہ گناہوں کے قریب نہیں جائے گا۔ حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے ماہ رمضان کو پایا اور اپنی بخشش نہ کروا سکا اس پر اللہ تعالی کی بھی لعنت اور نبی کریم ﷺ کی بھی لعنت ہے جس پر جبرئیل امین نے امین کہا تھا۔
ماہ رمضان کے آخری عشرہ کو جہنم سے آزادی کا عشرہ قرار دیا گیا ہے اللہ تعالی اپنی رحمت ، فضل اور کریم سے بے شمار لوگوں کو اس ماہ مقدس میں جہنم سے آزادی عطا فرماتا ہے ۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالی ماہ مقدس کی ہر رات میں کئی لوگوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے ۔(ترمذی)۔
ہزار مہینوں سے افضل رات لیلۃ القدر بھی ماہ مقدس کے آخری عشرہ میں ہے ۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ماہ رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں لیلۃ القدر کو تلاش کرو ۔ یہ راتیں اللہ تعالی کے خاص فضل و کریم کو حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں ۔
ہر مسلمان کو چاہیے کہ اس ماہ مقدس کا جتنا ہو سکے ادب و احترام کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ عبادت کرے، توبہ و استغفار کرے اور نیک اعمال کر کے اپنی بخشش کا سامان جمع کرے ۔اللہ تعالی ہم سب کو اس ماہ مقدس کی برکات سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔

جمعہ، 6 مارچ، 2026

روزہ اور تقوی کا حصول(۲)

 

روزہ اور تقوی کا حصول(۲)

تقویٰ کے حصول کے لیے انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگ جائے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اللہ کا رنگ اور اس رنگ سے حسین کس کا رنگ ہے ‘‘۔ ( سورۃ البقرہ )
فرمان مصطفی ﷺ ہے کہ خود کو اللہ تعالیٰ کی صفات کے ساتھ متصف کر لو۔ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے کہ وہ کھانے پینے سے پاک ہے۔بندہ مومن محدود وقت کے لیے ان صفات کو اپنا کر اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگ جاتا ہے۔ روزہ انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتا ہے۔جب بندہ روزے کی حالت میں ہوتا ہے تو وہ اپنی خواہشات کو قربان کر دیتا ہے۔اگر روزہ دار کسی بند کمرے میں ہو اور اس کے سامنے ٹھنڈا پانی پڑا ہو اور پیاس کی شدت بھی ہو لیکن وہ پانی نہیں پیتا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے یہی جذبہ انسان کو دیگر گناہوں سے بچانے کا ذریعہ بنتا ہے۔انسان کے دل میں جب بھی کسی گناہ کا خیال آتا ہے تو اس سے بچتا ہے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔ جس سے اس کے دل میں خشیت الٰہی اور محبت الٰہی پیدا ہوتی ہے اور یہی کیفیت تقویٰ کی بنیاد ہے۔ روزے میں اگرچہ بظاہر دوخواہشات پر پابندی لگائی گئی ہے جو کہ غذا اور جنسی خواہش ہے لیکن اس کی اصل روح یہ ہے کہ انسان ہر اس کام سے باز رہے جس کو شریعت نے منع کیا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے روزے کی حالت میں جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑا وہ جان لے کہ اللہ کو اس بات کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ بھوکا اور پیاسا رہے۔ ( بخاری شریف )
 ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’(یہ) وہ عظیم کتاب ہے جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں ، (یہ) پر ہیز گاروں کے لیے ہدایت ہے ‘‘۔ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور (آخرت کے ) سفر کا سامان کر لو بیشک سب سے بہتر زاد راہ تقویٰ ہے اور اے عقل والو میرا تقوی اختیار کرو ‘‘۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگو ں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ﷺ !لوگوں میں سب سے معزز کون ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا:جو سب سے زیادہ متقی ہے‘‘۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺکو فرماتے ہوئے سنا ہے : اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے سے محبت رکھتا ہے جو متقی ہو ، مستغنی ہو اور گوشہ نشین ہو ‘‘۔
حضرت سمرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :شرافت مال (سے) ہے اور عزت تقوی ( سے ) ہے۔حضرت انس بن مالکؓ سے رویت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا:تقوی عمل کا سردار ہے۔

بدھ، 4 مارچ، 2026

روزہ اور تقویٰ کا حصول(۱)

 

روزہ اور تقویٰ کا حصول(۱)

اسلام میں عبادات محض رسوم کا نام نہیں بلکہ یہ روح کی پاکیزگی اور کردار سازی کا ایک مربوط نظام ہے۔ہر عبادت اپنے دامن میں بے شمار روحانی، معاشرتی اور معاشی فوائد و ثمرات رکھتی ہے۔ان عبادات میں روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس کا بنیادی مقصد انسان میں تقویٰ کی صفت پیدا کرنا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :
اے ایمان والوتم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تا کہ تم متقی بن جائو۔ ( سورۃالبقرہ)
تقویٰ کا مطلب اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل کرنا اور اس کی نافرمانی سے بچنا ہے۔ روزہ انسان کو صبر ، شکر اور ضبط نفس کی تربیت دیتا ہے جو تقویٰ کے حصول کے لیے ضروری ہے۔ انسان کے اندر روحانیت جتنی کمزور ہوتی ہے اتنی ہی تقویٰ کی صلاحیت کم ہوتی جاتی ہے۔ اسلام میں بہیمیت کو ناپسند فرمایا گیا ہے اور زیادہ کھانا پینا بھی بہیمیت کا سبب بنتا ہے۔ بھوک اور پیاس انسان میں حیوانیت کو کم کرتی ہے اور انسان تقویٰ کے راستے پر گامزن ہو جاتا ہے۔ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا : شیطان آدمی کے اندر ایسے ہی رواں دواں رہتا ہے جیسا کہ خون۔اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ بھوک کے ذریعے اس کا راستہ بند کر دے۔نبی کریم ﷺ نے ایسے نوجوانوں کو بھی روزہ رکھنے کی تلقین کی جو شادی کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔بھوک اور پیاس کی وجہ انسان میں بہیمیت کمزور ہوتی ہے اور رات کو تلاوت قرآن پاک سن کر روح کو تازگی ملتی ہے جس کا نتیجہ حصول تقویٰ ہے۔ روزہ انسان کو بْرائیوں سے روکنے کا ذریعہ ہے۔ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا روزہ ڈھال ہے لہذا روزہ دار کو چاہیے کہ وہ فحش گوئی اور بے حیائی سے بچے۔دین اسلام میں حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقو ق العباد کی ادائیگی کی سختی سے تلقین کی گئی ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت نہ کر کے گناہ گار ہو تا ہے اسی طرح حقو ق العباد کی ادائیگی نہ کرنے والا بھی گناہ گار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے امیر لوگوں کے مال میں غرباء کا حق رکھا ہے۔جسے بھوک اور پیاس کا احساس نہ ہو وہ غرباء کی بھوک اور پیاس کا اندازہ کیسے لگا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے روزے فرض کر دیے تا کہ امراء کو غرباء کی بھوک اور پیاس کا احساس ہو۔روزہ غریب اور نادار لوگوں کے دکھوں میں شرکت کا عملی نمونہ ہے۔حضور نبی کریم ﷺنے فرمایا رمضان غمگساری کا مہینہ ہے۔

حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (2)

  حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (2) حضرت حبشی بن جنادہؓ سے مروی ہے کہ حضورنبی کریم ﷺ نے فرمایا علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہو...