خلوت اختیار کرنے کی فضیلت
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ سے عرض کی گئی کہ یا رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سے افضل کون کون ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ مومن جو اپنے مال اور جان کے ساتھ اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرے ۔صحابہ کرام نے پھر عرض کی یارسول اللہ ﷺ پھر کون۔
آپ ﷺ نے فرمایا وہ مومن جو گھاٹی میں رہے اور اللہ تعالی سے ڈرتا رہے اور لوگوں کو شر نہ پہنچائے ۔ ( بخاری شریف )۔
بخاری شریف میں اسود بن یزید نخعی ؓ سے مروی ہے کہ میں نے ام المئومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ جب گھر آتے تو کیا کرتے تھے ۔ حضرت عائشہؓ نے کہا آپﷺ گھر کے کاموں میں مشغول رہتے اور جب نماز کا وقت ہوتا تو اٹھ کر نماز کے لیے چلے جاتے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب بندہ اعلانیہ طور پر نماز ادا کرتا ہے اور اچھے طریقے سے نماز اداکرتا ہے اور خلوت میں جب نما ز ادا کرتا ہے اور اچھے طریقے سے ادا کرتا ہے تو اللہ تعالی فرماتا ہے درحقیقت یہ بندہ اللہ تعالی کا بندہ ہے ۔ (ابن ماجہ)
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : قریب ہے مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہوں گی جن کو وہ پہاڑ کی چوٹی بارش کے برسنے کی جگہوں میں لے جائے گا ۔ اس حال میں کہ اپنے دین کے سبب فتنوں سے بھاگے گا اس میں اس شخص کے لیے تنہائی میں رہنے کی فضیلت ہے جس کو اپنے دین کا خوف ہو ۔ ( بخاری ).
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبوت کے آغاز میں سب سے پہلے اللہ تعالی نے آپ کی کرامت اور اپنے بندوں پر اپنی رحمت کے اظہار کا ارادہ فرمایا تو نبی کریم ﷺ جو بھی چیز خواب میں دیکھتے وہ روز روشن کی طرح پوری ہو جاتی تھی ۔ جب تک اللہ تعالی کو منظور تھاایسا ہی رہا پھر آپ کو خلوت نشینی پسند آگئی اس وقت آپ ﷺ کے نزدیک خلوت سے زیادہ پسندیدہ چیز کوئی نہیں تھی ۔ ( ترمذی )۔
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا تمہیں سب سے بہتر لوگوں کے بارے میں نہ بتلاؤ ں ایک وہ شخص ہے جو اللہ تعالی کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام پکڑ لیتا ہے اور نکل کھڑا ہوتا ہے کیا جو شخص اس کے بعد ہو گا یہ وہ شخص ہے جو بکریاں لے کر لوگوں سے الگ ہو جاتا ہے اور ان کے بارے میں اللہ تعالی کے حق کو ادا کرتا ہے کیا میں تمہیں سب سے بد ترین شخص کے بارے میں نہ بتاؤں یہ وہ شخص ہے جس سے اللہ تعالی کے نام پہ مانگا جائے وہ نہ دے ۔ ( ترمذی )






