Maarifulquran O Hadees
اللہ تعالی کی طرف سے بہت ہی آسان فلاح کا راستہ سنیے اور عمل کیجئے تاکہ ہم سب فلاح پا لیں . ہر قسم کی تفرقہ بازی اور مسلکی اختلافات سے بالاتر آسان اور سلیس زبان میں
اتوار، 5 اپریل، 2026
محنت با مقصد یا بے مقصد
ہفتہ، 4 اپریل، 2026
نیت کی اصلاح(۲)
نیت کی اصلاح(۲)
جمعہ، 3 اپریل، 2026
نیت کی اصلاح(۱)
نیت کی اصلاح(۱)
اسلام ایک جامع دین ہے جو انسان کی ظاہری زندگی کے ساتھ ساتھ اس کے باطن کو بھی سنوارنے پر زور دیتا ہے ۔ بظاہر اچھے اعمال بھی اس وقت تک اللہ تعالی کی بارگاہ میں قبولیت کا درجہ حاصل نہیں کرتے جب تک ان کے پیچھے خالص نیت نہ ہو ۔ اسی لیے اسلام میں نیت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے کیونکہ یہ دل کا وہ پوشیدہ عمل ہے جو انسان کے ظاہر کو معنی اور قدر عطا کرتا ہے ۔ نیت کی اصلاح حقیقت میں دل کی صفائی کا دوسرا نام ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے نیکی کا آغاز ہوتا ہے ۔
سورة البینہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں اس کے لیے دین کو خالص رکھتے ہوئے ۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ دین کی بنیاد اخلاص پر ہے ۔ اگر عمل میں اخلاص نہ ہو تو وہ محض ایک ظاہری حرکت بن کر رہ جاتا ہے ۔
امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعا لیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کو اس کی نیت کے مطابق اجر ملے گا ۔ جس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے ہو تو اس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ ہی کے لیے ہے ۔ اورجس کی ہجرت حصولِ دنیا کے لیے یا کسی عورت سے نکاح کی غرض سے ہو تو اس کی ہجرت اسی چیز کے لیے ہے جس کے لیے اس نے ہجرت کی ۔ ( صحیح بخاری شریف )۔
حضور نبی کریم ﷺ کے اس فرمان عالی شان سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ عمل کی قدرو قیمت کا تعین اس کی ظاہری شکل سے نہیں بلکہ اس کے پیچھے موجود نیت سے ہوتا ہے ۔
نیت دراصل دل کا ارادہ ہے اور دل کی کیفیت انسان کے پورے وجود پر اثر انداز ہوتی ہے ۔اگر دل صاف ہو اس میں اخلاص ، تقوی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی طلب ہو تو انسان کے اعمال خود بخود نکھر جاتے ہیں ۔لیکن اگر دل میں ریاکاری ، حسد ، تکبر یا دنیاوی مفادات کی خواہش ہو تو بظاہر نیک اعمال بھی کھوکھلے ہو جاتے ہیں ۔ دل کی صفائی نیت کی اصلاح کیے بغیر ممکن نہیں ۔دل کی صفائی کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے دل سے بُرے جذبات جیسا کہ حسد، بغض ، کینہ ، غرور و تکبر اور خودنمائی کو نکال دے یہ وہ بیماریاں ہیں جو انسان کے اعمال کو کھا جاتی ہیں اور اسے پتا بھی نہیں چلتا ۔
بندہ دنیا کے سامنے جتنا بڑا بھی عمل کر لے لیکن اگر نیت میں اخلاص نہیں تو ایسے عمل کی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کوئی حیثیت نہیں ۔
نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا
”مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے" ۔
جمعرات، 2 اپریل، 2026
دل کی بیماریاں اور ان کا علاج(۲)
دل کی بیماریاں اور ان کا علاج(۲)
بدھ، 1 اپریل، 2026
دل کی بیماریاں اور ان کا علاج(۱)
دل کی بیماریاں اور ان کا علاج(۱)
منگل، 31 مارچ، 2026
جلد سونے اور جاگنے کے فوائد و ثمرات
جلد سونے اور جاگنے کے فوائد و ثمرات
قرآن مجید میں متعدد بار اس نعمت کا ذکر آیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ اور ہم نے بنا دیا ہے تمہار ی نیند کو باعث آرام ‘‘ ایک اور جگہ ارشاد فرمایا’’ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ اس میں آرام کرو اور دن کو ہر چیز دکھانے والا بنایا ‘‘۔پر سکون نیند کے لیے شور شرابہ کا نہ ہو نا رات کو ہی میسر ہے۔ رات کے وقت آرام کرنا اور سونا دن کے مقابلے میں بہت زیادہ فائدہ مند ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور اس نے اپنی رحمت سے تمہارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ رات میں آرام کرو اور دن میں اس کا فضل ڈھونڈو تا کہ تم شکر گزار بنو ‘‘۔ قرآن مجید کی روشنی میں دن کو کمائی کے لیے اور رات کو آرام کے لیے مقرر کر نا چاہیے۔
بخاری شریف میں روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نماز عشا ء سے پہلے سونے کو اور بعد میں بات کرنے کو مکروہ (ناپسندیدہ ) خیال کرتے تھے۔ رات کو جلد سونا ، تہجد میں اٹھنا ، نماز فجر سے پہلے تھوڑا آرام کر لینا پھر فجر کی نماز ادا کرنا اس کے بعد ذکر و اذکار اور تلاوت کر نا پھر اشراق کے نوافل ادا کرنے کے بعد کام کاج میں مشغول ہو نا نبی اکرمﷺ کے معمول مبارکہ میں شامل تھا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی شخص سو جاتا ہے تو شیطان اس کے سر کے پیچھے گدی میں تین گرہ لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر یہ پھوک لگا دیتا ہے کہ سو جا ابھی رات بہت باقی ہے۔ پڑا سوتا رہ۔ پھر جب وہ شخص جاگ کر اللہ کا ذکر کرے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے پھر جب وضو کرتا ہے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے۔ پھر جب نماز پڑھے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے۔ اس طرح صبح جاگنے سے آدمی چا ک وچو بند اور ہشاش بشاش ہو جا تا ہے۔ ورنہ سست اور بد دل بوجھل طبیعت والا بن جاتا ہے اور اسے بھلائی نہیں ملی ہوتی ‘‘۔
پیر، 30 مارچ، 2026
شکر کی فضیلت و اہمیت(۲)
شکر کی فضیلت و اہمیت(۲)
محنت با مقصد یا بے مقصد
محنت با مقصد یا بے مقصد محنت محنت ہے، لیکن ہر محنت کامیابی اور کامرانی کی دلیل نہیں۔ کامیابی صرف اور صرف اسی محنت کے نتیجے میں ملتی ہے جس...
-
خواہشات نفس کی مذمت انسانی زندگی میں خواہشات نفس ایک فطری امر ہے لیکن جب یہی خواہشات حد سے بڑھ جائیں اور انسان کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے ...





