حج کے افعال (۳)
سعی صفا و مروہ :صفاو مروہ نوعیت کے اعتبار سے عام پہاڑیوں کی ہی طرح ہیں لیکن ان کی نسبت اللہ تعالی کے نیک بندوں سے ہوئی تو اللہ تعالی نے اسے اپنی نشانی قرار دیا ۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالی کے حکم سے حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہم السلام کو خانہ کعبہ کے قریب ویرانے میں چھوڑ کر آئے اور ساتھ میں چند کھجوریں اور پانی تھا ۔ جب پانی ختم ہو گیا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو پیاس لگی ارد گرد دور تک کوئی بھی آبادی کے آثار موجود نہیں تھے ۔ حضرت ہاجرہ پانی کی تلاش میں کبھی صفا کی پہاڑی پر جاتیں اور کبھی مروہ کی پہاڑی پر۔جب حضرت اسماعیل ؑ سامنے ہوتے تو آہستہ چلتیں اور جب آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے تو تیز دوڑتیں۔ اللہ تعالی کو اپنی نیک بندی کی یہ ادا پسند آئی تو اسے حج کا رکن بنا دیا جب بھی حاجی حج کرنے آئے گا تو ان پہاڑیوں پرایسے ہی چکر لگائے گا جیسے حضرت ہاجرہ نے لگائے تھے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ’’ بیشک صفا اور مروہ اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو اس کے گھر کا حج یا عمرہ کرے گا اس پر کچھ گناہ نہیں کہ ان دونوں کے پھیرے کرے ‘‘ ۔ (سورۃ البقرۃ )۔
اسی دوران حضرت سماعیل علیہ السلام اپنی ایڑیوں کو رگڑ رہے تھے تو اللہ تعالی حضرت ہاجرہ کی پریشانی کو دور کرنے کے لیے آب زم زم کا چشمہ جاری فرما دیا ۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی حجۃ البالغہ میں لکھتے ہیں کہ اب اس نعمت کا شکر ادا کرنا ان کی اولاد اور ان کے تابعین پر لازم ہے ۔تا کہ اس آیت خارقہ کو یاد کر کے ان کی بہمیت ختم ہو اور اللہ تعالی تک پہنچنے کا راستہ حاصل ہو ۔ اور اس سے بہتر کوئی چیز نہیں کہ دل کو ان دونوں کے ساتھ کسی ایسے ظاہر فعل کے ساتھ لگا لے کہ جو ظاہر ہو اور قوم کی عادت مالوفہ کے خلاف ہو اور منضبط ہو ۔جس میں مکہ کے اندر پہلے داخلہ کے وقت خشوع ہو اور یہ مشقت اور جہد کی حکایت ہے ۔ اور اس قسم کے امور میں زبانی ذکر کرنے سے زیادہ مفید و موثر حال کا نقل کرنا ہے ۔
وقوف عرفات :نو ذوالحجہ کو میدان عرفات میں ٹھہرنا حج کا بنیادی اوررکن اعظم ہے ۔ دنیا کے کونے کونے سے آئے لاکھوں عازمین حج میدان عرفات میں جمع ہوتے ہیں اور خیمہ بستی قائم ہوتی ہے۔حاجی اللہ تعالی کے حضور گڑ گڑا کر دعائیں مانگتے ہیں اور بخشش و مغفرت طلب کرتے ہیں ۔جو یہاں قیام نہیں کرے گا اس کا حج نہیں ہو گا ۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے اراشاد فرمایا : حج عرفات ہی کا نام ہے ۔






