حضرت سیدنا فاروق اعظمؓ (۱)
حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ مراد رسولﷺ بھی ہیں اور مرید رسولﷺ بھی ہیں۔آپ کا قلب اطہر اللہ تعالیٰ کے انوار سے روشن تھا۔ آپ ؓنے حضور نبی کریمﷺ سے رشد و ہدایت اور روشنی حاصل کی اور بعد میں خود بھی نورو ہدایت کاسر چشمہ بن گئے۔
حضور نبی کریمﷺ نے بارگاہ الٰہی میں دعا فرمائی اے اللہ اسلام کو عمر بن خطاب یا پھر عمر وبن ہشام (ابو جہل ) کے ساتھ عزت عطا فرما۔ ایک دن سیدنا فاروق اعظم ؓ کو ایک شخص نے کہا کہ تمہارے بہنوئی اور تمہاری بہن نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ تویہ سن کر تیزی سے اپنی بہن کے گھر چلے گئے۔ اس وقت آپ کی بہن اور آپ کے بہنوئی قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے۔جب آپؓ گھر پہنچے تو پوچھا کہ تم لوگ کچھ پڑھ رہے تھے تم دونوں اپنا دین ترک کر چکے ہو۔
آپ کی بہن نے کہا اے عمر حق وہ نہیں جو تمہارا عقیدہ ہے میرا عقیدہ یہ ہے کہ میں گواہی دیتی ہوں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضورﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں۔ آپؓ نے پوچھا جو کتا ب تم لوگ پڑھ رہے تھے وہ مجھے بھی دو میں پڑھنا چاہتا ہوں۔ آپؓ کی بہن نے کہا اسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں۔ تم وضو یا غسل کر لو پھر اسے چھونا آپ نے اٹھ کر وضو کیا اور قرآن مجید سے سورۃ طٰحٰہ کی تلاوت شروع فرمائی۔ جیسے جیسے تلاوت قرآن مجید پڑھتے گئے دل میں قبول اسلام کی شمع روشن ہوتی چلی گئی۔ آپؓ نے کہا مجھے آپﷺ کی بارگاہ میں لے چلیں۔ آپؓ نے حضور نبی کریمﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اسلام قبول فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کریم ﷺکی دعا کو قبول فرما کر اسلام کو عزت عطا فرمائی۔
جس دن آپؓ نے اسلام قبول فرمایا تو حضور نبی کریم ﷺ نے آپ کے سینہ پر تین بار ہاتھ مارکر ارشاد فرمایا : اے اللہ عمر کے سینے میں جو بھی اسلام کی دشمنی ہے اسے نکال کر ایمان سے تبدیل کر دے۔ ( معجم کبیر )۔
جب حضرت سیدنا فاروق اعظمؓ نے اسلام قبول فرمایا تو جبرائیل امین آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی عمر بن خطابؓ کے اسلام لانے پر آسمان والے ایک دوسرے کو مبارک دے رہے ہیں۔ ( ابن ماجہ )۔ ابتدائے اسلام میں مسلمان چھپ کر عبات کیا کرتے تھے لیکن آپؓ کے اسلام قبول کرنے کے بعد آپؓ نے حضور نبی کریمﷺسے عرض کی یا رسول اللہﷺ اگر ہم سچے ہیں تو چھپ کر عبادت کیوں کرتے ہیں آج کے بعد ہم اعلانیہ کعبہ معظمہ میں عبادت کریں گے۔ اس طرح آپؓ کے قبول اسلام کے بعد مسلمانوں نے اعلانیہ عبادت شروع کی۔






