جمعرات، 2 جولائی، 2026

سیدہ زینب بنت علی ؓ(۱)۔

 

    سیدہ زینب بنت علی ؓ(۱)۔
تاریخ اسلام ایسی عظیم اور باکردار شخصیات سے مزین ہے جنہوں نے اپنے علم ، تقوی ، صبر اور استقامت کے ذریعے آنے والی نسلوں کے لیے ہدایت و رہنمائی کے چراغ روشن کیے ۔ ان درخشندہ ہستیوں میں سیدہ زینب بنت علی سلام اللہ علیہاکا نام انتہائی عزت و احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے ۔ آپ ؓ نبی رحمت ﷺ کی نواسی ، سیدنا علی المرتضیؓ اور سیدہ فاطمہ الزہراؓ کی صاحبزادی ہیں ۔ 
آپ ؓ نے ایسے پاکیزہ گھرانے میں پرورش پائی جو علم ، حکمت ، عبادت اور اخلاق نبوی ﷺ کا سر چشمہ تھا ۔ سیدہ زینب ؓ کی زندگی صرف عظیم  خاتون کی داستان نہیں بلکہ صبر ، شجاعت ، حق گوئی اور استقامت کا ایسا روشن باب ہے جو قیامت تک اہل ایمان کے دلوں کو منور کرتا رہے گا ۔ 
خصوصاً واقعہ کربلا کے بعد جس جرات ، حکمت اور ثابت قدمی کے ساتھ آپ نے حق کا پرچم بلند رکھا وہ آپ ؓ کی بے مثال عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے مصائب کے طوفان میں بھی صبر و رضا کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا اور اپنے کردار سے یہ ثابت کیا  کہ ایمان ، حوصلہ اور حق پسندی انسان کو ہر آزمائش میں سر خرو کر سکتی ہے ۔ 
حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدہ زینب علم و دانش میں وہ مقام رکھتی تھیں کہ انہیں دنیا کے ارباب دانش کے سامنے  بیٹھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی اور آپ ؓ فہم و ادراک کی اس منزل پر فائز ہیں کہ انہیں کسب فیض کے لیے کسی صاحب فکر و نظر کی دہلیز پر جھکنے کی  ضرورت نہیں تھی ۔ 
سیدہ زینب ؓ کو پاک ماحول و آغوش عصمت ملی ۔ آپ ؓ ہر وقت دانش و فضیلت کے جواہر جمع کرنے کے لیے کوشا ں رہتیں۔ امام سیوطی ؒ  فرماتے ہیں کہ سیدہ زینب نہایت خرد مند اور صاحب درایت مخدومہ تھیں ۔  ابن عتبہ لکھتے ہیں کہ سیدہ زینب ؓ اپنی لاتعداد صفات نیک ، گرانقدر و پر شکوہ اوصاف اور پسندیدہ فضائل میں دیگر کی نسبت ممتاز تھیں ۔ آپ ؓ کے سعادت آفریں اخلاق و عادات نمایاں صفات اخلاقی اور باافتخار پاک و طاہر فضائل نے آپ ؓ کو تمام لوگوں سے زیادہ صاحب امتیاز  بنا دیا ۔ 
آپ ؓ کو اپنے بھائی امام عالی مقام امام حسین ؓ سے بہت زیادہ محبت تھی ۔ روایت میں ہے کہ شادی کے بعد ایک دن آپ ؓ کو افسردہ دیکھا گیا ۔ جب پوچھا گیا تو معلوم ہوا کہ تین روز سے امام حسین ؓ سے ملاقات نہیں ہوئی ۔ آپ ؓ اپنے بھائی کے رازوں کی امین تھیں ۔ زندگی کے عام اور خاندان نبوت کے مسائل حل کرنے میں ید طولی حاصل تھا ۔ امام حسن ؓ اور امام حسین ؓ بھی اپنی بہن کا بہت زیادہ احترام کرتے تھے ۔

بدھ، 1 جولائی، 2026

صبر:مومن کی طاقت(۱)

 

صبر:مومن کی طاقت(۱)

انسانی زندگی آزمائشوں، مشکلات ، خوشیوں اور غموں کا مجموعہ ہے ۔کبھی حالات موافق ہوتے ہیں تو کبھی نا موافق۔ کبھی کامیابی قدم چومتی ہے تو کبھی ناکامی دروازے پر دستک دیتی ہے ۔ ایسے میں جو صفت انسان کو ثابت قدم رکھتی ہے، اسے مایوسی سے بچاتی ہے اور اللہ تعالی کی رضا کے قریب کرتی ہے وہ صبر ہے ۔ صبر محض تکالیف برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ اللہ تعالی کے فیصلوں پر راضی رہتے ہوئے حق پر قائم رہنے اور نفس کی خواہشات کو قابو میں رکھنے کا نام ہے ۔  صبر کی مختلف اقسام ہیں ۔پہلی قسم اطاعت الہی پرصبر ہے یعنی انسان نماز ، روزہ ، زکوۃ اور دیگر عبادات پر ثابت قدم رہے چاہے اسے  قمشقت  ہی کیوں نہ اٹھانی پڑے ۔ دوسری قسم گناہوں سے بچنے پر صبر ہے کیونکہ نفس اور شیطان انسان کو برائی کی طرف بلاتے ہیں لیکن  مومن صبر کے ذریعے اپنے آپ کو گناہوں سے محفوظ رکھتا ہے ۔تیسری قسم مصائب و آلام پر صبر کرنا ہے ۔ جب انسان بیماری ، غربت ،نقصان یا کسی آزمائش کا سامنا کرے تو اللہ تعالی سے شکوہ کرنے کی بجائے صبر کرتے ہوئے کہے کہ اے اللہ تو جس حال میں بھی رکھےمیں تیری رضا پر راضی ہوں ۔ صبر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا ، حصول جنت ، کامیاب زندگی اور دنیا و آخرت میں فلاح و کامرانی کا ذریعہ ہے ۔  اللہ تعالی نے ایمان والوں کو صبر اور نماز کے ساتھ مدد مانگنے کا حکم فرمایا ہے :’’ اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے ‘‘۔ ( سورۃا لبقرہ )۔
آزمائشوں اور تکالیف میں صبر کرنے والوں کے لیے اللہ تعالی کی طرف سے بشارت ہے ۔ ’’اور ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اورجانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو‘‘۔(سورۃا لبقرۃ )۔
اللہ تعالی کی معیت اور رحمت حاصل کرنے کے لیے صبر بہترین ذریعہ ہے : ’’اور صبر کرو بیشک اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے ‘‘۔(انفال)۔
جو بندہ مصیبت پر صبر کرتا ہے اور نعمت ملنے پر اللہ تعالی کا شکر بجا لاتا ہے اس کے لیے اللہ تعالی کی طرف سے بخشش اور ثواب ہے ۔ 
’’مگر جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑاثواب ہے ‘‘۔ ( سورۃ ھود )۔
مصائب اور تکالیف پر صبر کرنے والے اللہ تعالی کے محبوب بندے بن جاتے ہیں ۔ ’’اور صبر والے اللہ کو محبوب  ہیں ‘‘۔ ( اٰل عمران )۔ 
اللہ تعالی کی رضا کی خاطر صبر کرنے والوں کو اللہ تعالی ان کے صبر کے بدلے جنت عطا فرمائے گا ۔ ’’اور ان کے صبر پر انہیں جنت اور ریشمی کپڑے صلہ میں دے گا ‘‘۔ ( سورۃ الدھر )۔

منگل، 30 جون، 2026

شہادتِ امام حسین علیہ السلام

 

شہادتِ امام حسین علیہ السلام

 یزیدیوں کی طرف سے عمر و بن سعد نے سب سے پہلا تیر چلا کر جنگ کا آغاز کیا اور کہنے لگا گواہ رہنا سب سے پہلے میں نے تیر چلایا تھا۔اہل بیت کی طرف سے سب سے پہلے شہزادہ علی اکبر ؒ میدان میں اترے اور بڑی بہادری کے ساتھ کئی کوفیوں کو واصل جہنم کرتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایا۔ اس کے بعد حضرت عباس ، عبید اللہ بن عمیر ، عون بن عبدا للہ ، محمد بن عبداللہ،عبدا لرحمن بن عقیل ، حضرت قاسم ،ابو بکر بن حسین سب کوفیوں کا مقابلہ کرتے شہید ہو گئے۔یہاں تک کہ چھ ماہ کے ننھے علی اصغر کو بھی حلق میں تیر لگا کر شہید کر دیا گیا۔
خاندان نبوت کے چشم و چراغ ایک ایک کر کے دین اسلام کی خاطر شہید ہوتے رہے۔اس کے بعد امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ میدان میں نکلے۔ آپ کمال بہادری کے ساتھ یزیدیوں سے لڑرہے تھے شیروں کی طرح کوفیوں پر جھپٹتے اور ان کی صفوں کو اپنے زور دار حملے سے الٹ پلٹ کر دیتے۔ اور فرماتے :تم لوگ میرے ہی قتل کے لیے جمع ہوئے ہو اللہ کی قسم مجھے قتل کرنے سے اللہ تم سے سخت ناراض ہو گا۔ اور تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو گا۔ (ابن خلدون)
امام عالی مقامؑ یزیدیوں کی صفوں میں گھس کر انہیں جہنم واصل کر رہے تھے اتنے میں شمر چلایا لعنت ہو تم پر سب مل کر حملہ کرو۔ہر طرف سے تیروں کی بارش ہوئی۔ امام عالی مقام زخمی ہو کر اپنے گھوڑے سے نیچے تشریف لے آئے۔امام عالی مقام امام حسین پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سر سجدے میں رکھا تو یزیدی لعین نے تلوار سے آپ کا سر انور جسد اطہرسے جدا کردیا۔دس محرم الحرام جمعہ کے دن امام عالی مقام امام حسین ؑشہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہو گئے۔ آپؑ کے جسم اقدس پر تیروں کے زخموں کے تینتیس اور تلواروں کے زخموں کے تینتالیس نشان تھے۔ 
امام عالی مقام کی شہادت کے روز حضرت ام سلمی رضی اللہ عنہا رو رہی تھیں۔ ان سے رونے کی وجہ پوچھی تو آپ نے کہا میں نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ہے آپ کی داڑھی مبارک اور سر انور پر گرد تھی۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ کیا ہوا ہے۔
 حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے حسین کو شہید کر دیا گیا ہے۔ میں ابھی وہاں سے آیا ہوں۔ 
امام عالی مقام نے شہادت تو قبول کر لی لیکن کسی بھی صورت فاسق اور فاجر کی بیعت کو قبول نہ کیا۔ خواجہ معین الدین چشتی  فرماتے ہیں :
شاہ است حسین بادشاہ است 
دین است حسین دین پناہ است حسین 
سرداد نہ داد دست در دست یزید 
حقا کہ بنائے لاالہ است حسین

پیر، 29 جون، 2026

سفر کربلا اور شہادت نواسہء رسول ﷺ (۳)

 

سفر کربلا اور شہادت نواسہء رسول ﷺ (۳)

جب حُر کو اس بات کا علم ہوا کہ یزیدی آپؓ کو شہید کرنے کا ارادہ کر چکے ہیں تو آپ یزیدی لشکر چھوڑ کر امام حسین ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ میں نے سب سے پہلے آپ ؓ کا راستہ روکا تھا ۔میں اپنے کیے کی آپ ؓ سے معافی چاہتا ہوں اور سب سے پہلے آپ ؓ کے لیے  اپنی جان پیش کرنا چاہتا ہوں۔ جنگ کا آغاز ہوا تو حسینی لشکر میں سے سب سے پہلے حضرت حُر نے یزیدیوں پر حملہ کیا اور کئی یزیدیوں کو واصل جہنم کرنے کے بعد جام شہادت نوش فرمایا ۔ حضرت زبیر بن حسان ؓ بھی میدن کربلا میں یزیدیوں کو واصل جہنم کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔ اس کے بعد دیگر جانثارانِ امام حسین رضی اللہ عنہ بھی میدان کربلا میں بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے ۔
عون و محمد ، حضرت عبد اللہ بن حسین ، حضرت عبد اللہ بن حسن ، حضرت علی اکبر ، حضرت عباس ، حضرت قاسم ، ابوبکر بن علی ، عمر بن علی ، عون بن علی ، جعفر بن علی ، عبد اللہ بن علی یہاں تک کہ ننھے علی اصغر بھی جام شہادت نوش فرماگئے ۔ 
جب سارے شہزادے ایک ایک کر کے جام شہادت نوش فرماگئے تو امام حسین ؓ خیمے میں تشریف لے گئے خیمے میں بیمار امام زین العابدینؓ ا ور  باپردہ عورتیں موجود تھیں ۔ اما م زین العابدین نے جب میدان کربلا میں جانے کا ارداہ کیا تو امام حسین ؓ نے آپ کو روک لیا اور فرمایا خواتین  کی حفاظت تیرے ذمہ ہے۔ میرے نانا جان اور بابا جان کی جو امانتیں باقی ہیں تیرے حوالے کرتا ہوں ۔ اس کے بعد سید الشہداء امام حسین ؓ نے نانا جان کی دستار سر پر رکھی اور حضرت علی ؓ کی تلوار لیے ذوالجناح پر سوار ہوئے اہل خانہ کو اللہ تعالی  کے سپرد کر کے میدان کی طرف تشریف لے گئے ۔ 
امام عالی مقام امام حسین ؓ میدان میں نکلے یزیدی لشکر کو کاٹتے ہوئے واصل جہنم کرتے ہوئے یزیدی لشکر کی صفوں کو توڑ کر رکھ دیا ۔ جب امام عالی مقام ؓ کو اس بہادری سے لڑتے ہوئے دیکھا تو ابن سعد نے کہا کہ سب مل کر حملہ کرو ۔ یزیدیوں نے آپ ؓ پر تیروں کی بارش کر دی جس کی وجہ سے آپ ؓ زخمی ہو گئے ۔ اس دن آپ ؓ کے جسم اطہر پر 72 زخموں کے نشان موجود تھے۔
آپ ؓ گھوڑے سے نیچے تشریف لے آئے اور قبلہ رخ ہو کر بیٹھ گئے ۔ امام عالی مقام امام حسین ؓ نے سر سجدے میں رکھا تو یزیدیوں نے آپ ؓ کا  سر مبارک تن سے جد ا کر دیا ۔د س محرم الحرام اکسٹھ ہجری کو آپ ؓ  شہادت کے عظیم مرتبہ پر فائز ہو ئے اوراپنے نانا کے دین کو بچا لیا ۔
شاہ است حسینؓ بادشاہ است حسینؓ
دین است حسینؓ دین پناہ است حسینؓ
سرداد نہ داد دست در دست یزید 
حق کہ بنائے لا الہٰ است حسینؓ

اتوار، 28 جون، 2026

سفر کربلا اور شہادت نواسہءرسول ﷺ (۲)

 

سفر کربلا اور شہادت نواسہءرسول ﷺ (۲)

ادھر مکہ مکرمہ میں بھی آپ رضی اللہ عنہ کو حج کے دوران شہید کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا تھا ۔امام عالی مقام امام حسین ؓ نے حج کا ارادہ  ترک کر کے اسے عمرہ میں تبدیل کر دیا اور کوفہ کی طرف روانہ ہونے کا فیصلہ کیا ۔آپ ؓ کے رفقاءنے آپ ؓ کو کوفہ جانے سے منع کیا۔ لیکن  آپ ؓ نے کہا کہ کوفہ کے لوگ مجھے پکار رہے ہیں میرے نانا جان کے دین کو میری ضرورت ہے لہذا میں ضرور کوفہ جاؤ ں گا ۔ راستے  میں بھی آپ ؓ کے چاہنے والوں نے آپ کو کوفہ جانے سے روکا مگر آپ اپنے ارادہ پر قائم رہے ۔
اس سفر کے دوران آپ ؓ کو بے شمار مشکلات پیش آئیں ۔راستے میں مسلم بن عقیل ؓ اور آپ ؓ کے دو صاحبزادوں کی شہادت اور حضرت ہانی ؓ کی شہادت کی خبر ملی ۔ کوفہ کے حالات یکسر بدل چکے تھے یزید نے تمام لوگوں کو ڈرا دھمکا کر اپنے ساتھ کر لیا تھا لیکن اس  سب کے باوجود امام عالی مقام نے سفر جاری رکھنے کا ارادہ کیا ۔ 
 امام حسین ؓ نے اپنے رفقاءکو جمع کیا اور خطاب کرتے ہوئے فرمایا :جو جانا چاہے چلا جائے میں کسی کو مجبور نہیں کروں گا کہ وہ میرے ساتھ چلے ۔یزید صرف میرے خون کا پیاسا ہے لیکن آپ ؓ کے وفادار اور جانثار ساتھیوں نے وفا داری کی عظیم مثال قائم کرتے ہوئے جانے سے انکار کر دیا ۔
سب سے پہلے حر نے آپ ؓ کا راستہ روکا اور آپ ؓ کو شہر میں داخل نہ ہونے دیا ۔ تین محرم الحرام کو آپؓ کو مجبوراً میدان کربلا میں خیمے لگانے پڑے۔ 7 محرم الحرام کو آپ ؓ کا پانی بند کر دیا گیا ۔نو محرم کو نماز عصر کے بعد ابن سعد نے امام عالی مقام امام حسین ؓ پر چڑھائی کر دی ۔ اس وقت  آپ اپنے خیمے میں بیٹھے تھے ۔ آپ نے ابن سعد کو پیغام بھیجا کہ ہمیں آج کی رات مہلت دو ہم اپنے رب کے حضور استغفار اور دعا  کر لیں نماز پڑھ لیں اور تلاوت قرآن پاک کر لیں صبح وہ ہو گا جو ہونے والا ہے ۔ (ابن خلدون ) ۔ 
دس محرم الحرام کو آپؓ نے اپنے رفقاءکے ساتھ نماز فجر با جماعت ادا کی ۔ابھی آپ ؓ نے دعا بھی نہ مانگی تھی کہ یزیدی لشکر سے جنگ کے نقارے بجنے لگے۔ ابن سعد نے اپنے لشکر کو ترتیب دینا شروع کر دیا ۔ امام حسین ؓ نے بھی اپنے لشکر کو ترتیب دیا ۔اس کے بعد آپؓنے صداقت کا آخری خطبہ اور یزیدیوں کوخاندان نبوت کی توقیر کرنے اور انہیں اپنے ناپاک ارادوں سے باز رہنے کی تلقین کی ۔آپؓ نے اہل حق کی جانب سے حجت تمام کر دی لیکن یزیدی اپنے مقصد سے باز نہ آئے ۔

ہفتہ، 27 جون، 2026

سفر کربلا اور شہادت نواسہءرسول ﷺ (۱)

 

سفر کربلا اور شہادت نواسہءرسول ﷺ (۱)

شہادت امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ اسلامی تاریخ کا وہ عظیم باب ہے جس نے حق و باطل کے درمیان واضح لکیر کھینچ دی ۔
میدان کربلا میں پیش آنے والا واقعہ محض ایک جنگ یا سیاسی اختلاف نہ تھا بلکہ یہ دین اسلام کی حقیقی روح ، عدل ، صداقت ، صبر  اور استقامت کے تحفظ کی ایک بے مثال داستان تھی ۔ امام حسین ؓ نے اپنی جان ، اپنے اہل خانہ اور اپنے جانثار ساتھیوں کی قربانی دے کر یہ ثابت کر دیا کہ حق کی خاطر ہر قربانی دی جاسکتی ہے مگر باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا جا سکتا ۔ 
امام عالی مقام کا مدینہ منورہ سے کربلا تک کا سفر دراصل حق کی سر بلندی اور باطل کے خلاف اعلان جہاد کا سفر تھا جس کی گونج آج بھی دنیا کے ہر آزاد ضمیر انسان کے دل میں سنائی دیتی ہے ۔ 
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ان کے بیٹے یزید نے مسند خلافت سنبھال لیا اور شام والوں سے بیعت لینے کے بعد اپنی خلافت کو مضبوط کرنے کے لیے مدینہ منورہ میں بھی تمام بڑے بڑے اکابر ین سے بیعت لینے کا فیصلہ کیا  لیکن امام عالی مقام ؓ نے یزید کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایاکہ میں ایک فاسق فاجر اور ظالم کی بیعت نہیں کروں گا ۔ امام  عالی مقام ؓنے مدینہ منورہ میں رہ کر حالات کا جائزہ لیا جب یزید نے زبر دستی بیعت لینے کا فیصلہ کیا تو آپ اپنے رفقا ءکے ساتھ  ماہ رجب ساٹھ ہجری کو مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے ۔ راستے میں عبد اللہ بن مطیع ؓ سے ملاقات ہوئی تو انہو ں نے عرض کی آپ ؓ مع اہل و عیال کہاں تشریف لے جا رہے ہیں تو آپ نے کہا ابھی تو مکہ مکرمہ جانے کا ارادہ ہے ۔ عبد اللہ بن مطیع ؓ نے کہا آپ وہاں جا کر کوفہ جانے کا ارادہ نہ فرمایے گا ۔کوفہ کے لوگ بے وفا ہیں انہوں نے آپ ؓ کے والد اور بھائی کو بھی شہید کر دیا تھا۔آپ ؓ جب مکہ مکرمہ پہنچے تو وہاں کے لوگ جوق در جوق آپؓ کی زیارت کے لیے تشریف لانے لگے ۔ 
مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران آپ ؓ کو کوفہ سے بے شمار خطوط موصول ہوئے کہ ہم نے یزید کی بیعت نہیں کی لہذا آپ ؓ کوفہ تشریف  لے آئیں ہم آپ کے ہاتھ پر بیعت کریں گے ۔ حالات کا جائزہ لینے کے لیے آپ ؓ نے اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیلؓکو کوفہ قاصد بنا کر بھیجا ۔جب مسلم بن عقیل ؓ وہاں پہنچے اور لوگ کو خبر ہوئی توہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت  کی ۔ مسلم بن عقیل ؓ نے حالات کا جائزہ لینے کے بعد امام حسین ؓ کو خط لکھا کہ آپ تشریف لے آئیں حالات ساز گار ہیں ۔

جمعہ، 26 جون، 2026

فضائل و مناقب امام حسین رضی اللہ عنہ (۲)

 

فضائل و مناقب امام حسین رضی اللہ عنہ (۲)

نبی کریم ﷺ نے حسن و حسین کے ساتھ لڑنے والوں کو تنبیہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا، جس نے ان سے لڑائی کی ایسا ہی ہے کہ اس نے مجھ سے لڑائی کی ۔ 
حضرت زیدبن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ نے حضرت علی ؓ ، حضرت فاطمہ ؓ ، حضرت حسن اور حضرت حسین ؓسے فرمایا :
جس سے تم لڑو گے میری بھی اس سے لڑائی ہوگی اور جس سے تم صلح کرو گے میری بھی اس سے صلح ہو گی ۔ ( ترمذی )۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس نے مجھ سے محبت کی اس پر لازم کہ وہ ان دونوںیعنی  امام حسن ؓ اور امام حسین ؓ سے بھی محبت کرے ۔ ( نسائی )۔
سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ انتہائی سخی ، رحم دل اور بلند حسن اخلاق کے مالک تھے ۔ضرورت مندوں کی مدد کرنا ، یتیموں اور مسکینوں  کا خیال رکھنا اور اللہ تعالی کی رضا کے لیے مال خرچ کرنا آپ ؓ کی نمایا ں صفات ہیں ۔ 
تاریخ ابن عساکر میں ہے کہ ایک مرتبہ ایک فقیر نے امام عالی مقام اما م حسین رضی اللہ عنہ کے دروازے پر دستک دی اور کہا جس نے آپ سے امید رکھی اور جس نے آپ کے دروازے پر دستک دی وہ کبھی نا امید نہیں ہوا ۔ آپ صاحب جودو سخاوت کے چشمے ہیں ۔ امام حسین ؓ نماز ادا فرما رہے تھےنماز سے فارغ ہو کر دروازے پر آ کر دیکھا تو ایک غریب اور بھوکا سائل سامنے کھڑا تھا ۔ آپ ؓ نے اپنے غلام سے پوچھا گھر میں کتنا مال بچا ہوا ہے ۔ غلام نے عرض کی دو سو درہم ہیں جو آپ کے حکم سے آپ کے اہل خانہ پر خرچ کرنے ہیں ۔ آپ ؓ نے فرمایاسارے درہم لے آؤ آنے والا سائل میرے اہل خانہ سے زیادہ ان کا حق دار ہے ۔ آپ ؓ نے وہ درہم  سائل کو دیے اور فرمایا کہ یہ لے لو اور کم ہونے پر معافی چاہتا ہوں اگر اور ہوتے تو وہ بھی تمہیں دے دیتا ہمیں ہر حال میں مہر بانی کا  حکم دیا گیا ہے۔ 
امام عالی مقام بہت زیادہ عبات گزار تھے ایسے عبادت گزار کہ میدان کربلا میں یوم عاشور کی رات مظلومی اور بے کسی کے عالم میں  بھی ساری رات اللہ تعالی کی عبادت کی ۔ ایسے عابد تھے کہ علی اکبر ، علی اصغر ، حضرت عباس ، عون و محمد کی لاش و کو دیکھ اور اپنے جسم پر لگنے والے بے شمار زخموں کے باوجود میدان کربلا کی تپتی ریت پر نیزوں اور تلواروں کے سائے میں نماز ادا کی ۔

سیدہ زینب بنت علی ؓ(۱)۔

      سیدہ زینب بنت علی ؓ(۱)۔ تاریخ اسلام ایسی عظیم اور باکردار شخصیات سے مزین ہے جنہوں نے اپنے علم ، تقوی ، صبر اور استقامت کے ذریعے آنے و...