اللہ تعالی کی نعمت عظیم (۱)
کسی نعمت کی عظمت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان اس کے بغیر اپنی زندگی کا تصور کرے ۔اگر انسان ایک لمحے کے لیے سوچے کہ اس کو اللہ تعالی کی معرفت نہ ملتی ، حق و باطل میں امتیاز کا شعور نہ ہوتا ، زندگی کے مقصد سے اگاہی نہ ہوتی اور آخرت کی کامیابی کا راستہ واضح نہ ہوتا تو دنیا کی تمام آسائشیں بھی اس کے لیے بے معنی ہو جاتیں۔اللہ تعالی نے انسانیت پر بے شمار انعامات فرمائے مگر اہل ایمان کے لیے سب سے بڑا اور عظیم انعام حضور نبی رحمت سرور کونین ﷺ کی بعثت ہے ۔
اللہ تعالی نے انسان کو اس قدر نعمتوں سے نوازا ہے کہ اس کا شمار بھی نہیں کر سکتا اور ہر نعمت اتنی قیمتی ہے کہ دنیا کی ساری دولت بھی خرچ کر کے نہیں خریدی جا سکتی ۔ ہاتھ ، پاؤں ، ناک ، کان ، آنکھ ، زمین و آسمان ، چاند ، سورج ، ستارے ، اورا ناج ایسی نعمتیں ہیں کسی ایک کے بغیر بھی زندگی کا تصور مشکل ہو جاتا ہے ۔ لیکن اتنی نعمتیں عطا کرنے کے باوجود اللہ تعالی نے یہ نہیں فرمایا کہ میں نے تم پر احسان فرمایا ہے ۔ لیکن جب باری آئے اما م لانبیاء ، خطیب الانبیاء ، ، خاتم الانبیاء حضرت آمنہ کے لال ، حضرت عبد اللہ کے چاند رحمت دو عالم ﷺ کی تو اللہ تعالی نے فرمایا کہ اے مومنو یہ میرا تم پر احسان ہے میں نے تمہیں اپنا محبوب عطا فرمایا ہے ۔کیونکہ یہ نعمت سب سے بڑی نعمت ہے۔ باقی تمام نعمتیں اسی کے صدقے ملی ہیں اگر محبوب خدا نہ ہوتے تو کسی بھی نعمت کاوجود نہ ہوتا ۔ایمان ، ہدایت ،اور قرآن نبی کریم ﷺ کے طفیل ہی ملا اورآخرت میں کامیابی بھی نبی رحمت ﷺ کے توصل سے ہی ملے گی ۔
ارشاد باری تعالی ہے : ’’بیشک اللہ کا بڑا احسان ہوا مومنو پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا جو ان پر ا س کی آیتیں پڑھتا ہے اور وہ ضرور اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے‘‘ ۔ (سورۃ ال عمران )۔
حدیث قدسی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے اگر آپ نہ ہوتے تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا ۔ دنیا میں انسان کو بہت سی نعمتیں ملتی ہیں مال و دولت ، اولاد ، صحت ، عزت ، علم ، مگر یہ تمام نعمتیں محدود اور عارضی ہیں ۔ انسان مال کھو سکتا ہے ، صحت ختم ہو جاتی ہے ،اقتدار چھن جاتا ہے اور دنیاوی عزت بھی وقت کے ساتھ بدل جاتی ہے لیکن نبی کریم ﷺ وہ نعمت ہیں جن کے ذریعے انسان کو دائمی کامیابی کا راستہ ملا ۔ ہے جہاں میں جن کی چمک دمک ،ہے چمن میں جن کی چہل پہل ہے۔
وہی اک مدینہ کے چاند ہیں
سب انہی کے دم کی بہار ہے






