ہفتہ، 14 فروری، 2026

زکوۃ کی فضیلت و اہمیت (۳)

 

زکوۃ کی فضیلت و اہمیت (۳)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرے وہ مال قیامت کے دن گنجا سانپ بنا دیا جائے گا ، اس کی آنکھوں پر دو سیاہ نقطے ہوں گے ، اس سانپ کو اس کے گلے میں طوق بنادیا جائے گا پھر وہ اس شخص کو اپنے جبڑو ں سے پکڑے گا پھر کہے گا میں تیرا مال ہو ں ، میں تیرا خزانہ ہوں۔اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے یہ آیت مبارکہ تلاوت کی۔
ترجمہ : اور جو لوگ اس چیز میں بخل کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انہیں عطا کی ہے ( یعنی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے ) وہ ہرگز یہ گمان نہ کریں کہ وہ ان کے حق میں بہتر ہے بلکہ وہ ان کے حق میں بہت برا ہے ، عنقریب وہ مال جس میں انہوں نے بخل کیا قیامت کے دن انہیں اس کا طوق بنا کر ڈالا جائے گا۔ ( بخاری )۔
جو لوگ زکوٰۃ ادا نہیں کرتے نبی کریم ﷺ نے ان پر لعنت فرمائی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے سود کھانے والے ،سود کھلانے والے ، سود لکھنے والے اور صدقہ روکنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ ( سنن نسائی )۔
جو قوم زکوٰۃ ادا نہیں کرتی اللہ تعالیٰ اسے قحط سالی اور فاقہ میں مبتلا کر دیتا ہے۔حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو قوم بھی زکوٰۃ ادا کرنے سے رکی ہے اسے اللہ تعالیٰ نے قحط سالی میں مبتلا کیا ہے۔ ( معجم الاوسط )۔
قیامت کے دن فقرا اغنیا ء کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے عرض کریں گے اے اللہ انہوں نے ہمارے حقوق غصب کر کے ہم پر ظلم کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم آج میں تمہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ دوں گا اور انہیں دور کر دو ں گا۔ (معجم الاوسط)۔
زکوۃ ادا کرتے وقت چند آداب کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔ زکوۃ ادا کرتے وقت اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا کو مدنظر رکھنا چاہیے نہ کہ لوگوں کوخوش کرنے کو، زکوۃ دیتے وقت ریاکاری سے بچنا چاہیے کیونکہ ریاکاری والا عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول نہیں ، زکوۃ ہمیشہ حلال مال سے دی جانی چاہیے حرام مال کی زکوۃ اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرمائے گا۔آج کے دور میں جب مادہ پرستی نے انسان کو خود غرض بنا دیا ہے زکوۃ ہمیں ایثار ، ہمدردی اور اجتماعی ذمہ داری کا سبق دیتی ہے۔ اگر مسلمان زکوۃ کے نظام کو صحیح معنوں میں نافذ کر لیں تو غربت ، بے روزگاری اور ناانصافی جیسے مسائل ختم ہو جائیں گے۔

جمعہ، 13 فروری، 2026

زکوۃ کی فضیلت و اہمیت (۲)

 

زکوۃ کی فضیلت و اہمیت (۲)

جمعرات، 12 فروری، 2026

علم کی قدرو منزلت

 

علم کی قدرو منزلت

ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ تم میں سے جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہیں علم دیا ہے اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے پوری طرح واقف ہے۔ ( سورۃ المجادلہ )۔
اگر کوئی طالب علم راہ علم میں آنے والی سختیوں سے گھبرا جائے تو اس بات کو اپنے ذہن میں رکھے کہ بارگاہ الٰہی میں علم کی کیا قدر ہے۔ جب طالب علم کو علم کی قدر کا پتہ چلے گا تو وہ اس بات کو سمجھ جائے گا کہ وہ کتنی مقدس راہ پر چل رہا ہے تو یہ ہی بات اس کی مشکلات کو آسان کر دے گی۔یہ بات حقیقت ہے کہ افضل علم دین کا علم ہے لیکن اسلامی نقطہ نظر سے دین اور دنیا کی کوئی تقسیم نہیں۔ مطلب یہ کہ اگر دنیا کا کوئی بھی کام اللہ تعالیٰ اور حضور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق کیا جائے تو وہ بھی دین بن جاتا ہے۔جو بھی علم مخلوق خدا کی خدمت اور معرفت الٰہی کے لیے حاصل کیا جائے علم کے شرف و منزلت میں وہ علم بھی شامل ہو گا۔
 حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو طلب علم کی راہ پر نکلا وہ واپس لوٹنے تک راہ خدا میں ہے۔ ( ترمذی )۔
حضور نبی کریم ﷺ ارشاد فرمایا کہ علم حاصل کرنا اللہ تعالیٰ کو اتنا محبوب عمل ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے صدقے میں اس کی پچھلی غلطیاں معاف فرما دیتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو انسان حصول علم کے لیے نکلتا ہے اس کا یہ عمل اس کے گزشتہ گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ (سنن دارمی )۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسو ل اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی نازل فرمائی کہ :جو شخص حصول علم میں کسی راستے پر چلے گا میں اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دوں گا۔ اور میں جس کی دونوں آنکھیں لے لو ں (اور اگر وہ صبر کرے ) تو میں ان دونوں آنکھوں کے بدلہ میں جنت عطا کرو ں گا اور علم میں زیادتی عبادت میں زیادتی سے بہتر ہے اور دینی استحکام کا سبب تقوی ہے۔ ( کنزالعمال )۔
حضرت صفوان بن عسال فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا میں علم کی تلاش میں آیا ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا علم کے متلاشی خوش آمدید ! بیشک طالب علم کی یہ شان ہے کہ فر شتے اسے اپنے پروں میں ڈھانپ لیتے ہیں پھر وہ ایک دوسرے کے اوپر کھڑے ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں۔ وہ یہ سب کچھ اس محبت کی وجہ سے کرتے ہیں جو انہیں ایک طالب علم کے ساتھ ہوتی ہے۔( المعجم الکبیر للطبرانی )۔

منگل، 10 فروری، 2026

علم کی بے قدری خدا کی گرفت

 

علم کی بے قدری خدا کی گرفت

حضور نبی کریمﷺ نے متعدد مواقع پر یہ بات واضح فرمائی کہ علم کی بے قدری کرنے والااور اس کے تقاضوں سے انحراف کرنے والا بہت سی مصیبتو ں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔رسول کریم ﷺنے فرمایا علم کی قدر کرنے والا انسانوں میں سب سے اشرف انسان ہے اور علم کی بے قدری کرنیوالا عالم ہونے کے باوجود سب سے گھٹیا انسان بن جاتا ہے۔ ایک شخص نے رسول کریم ﷺ سے شر کے بارے میں پوچھا تو آپﷺ نے فرمایا : 
مجھ سے شر کے متعلق نہ پوچھو بلکہ خیر کے بارے میں پوچھو یہ بات آپ نے تین مرتبہ دہرائی پھر آپ نے فرمایا : خبر دار ! سب بروں سے برے علما ہیں اور سب اچھوں سے اچھے بھی علما ہیں۔( سنن دارمی)۔ یعنی کہ علم کی قدر کر کے اسے خیر بنانے والے علما سب لوگوں سے اچھے ہیں اور علم کو فساد کا سبب بنانے والے علما برے ہیں۔ 
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا جب اسلام صرف برائے نام باقی رہ جائے گا اور قرآن مجید کا صرف خوبصورتی سے پڑھناباقی رہ جائے گا۔ ان کی مساجد بظاہر آباد نظر آئیں گی اور وہ ہدایت سے محروم ہوں گی۔ ان کے علما آسمان کے نیچے بد ترین لوگ ہوں گے۔ انہی کے اندر سے فتنہ اٹھے گا اور انہی میں لوٹ جائے گا۔(شعب الایمان اللبہیقی)۔
جو لوگ علم کی نعمت سے محروم ہیں لیکن تکلف اور تصنع کر کے علم و حکمت کی مسندوں پر فائض ہو جاتے ہیں وہ خود بھی گمراہ ہو جاتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا علم اس طرح ختم نہیں ہو گا کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے سینوں سے علم اٹھا لے گا۔ پھر فرمایا : لیکن اللہ تعالیٰ علما کو اٹھا نے سے علم کو اٹھا لے گا جب اللہ تعالیٰ کسی عالم کو باقی نہیں چھوڑے گا تو پھر لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنا لیں گے اور ان سے مسائل پوچھیں گے۔ وہ بغیر علم کے فتوے دیں گے خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ ( ابن ماجہ )۔
 رسول اللہ ﷺ نے فرمایاجو عالم حق بات کو چھپائے گا وہ عذاب الٰہی میں مبتلا ہو گا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، رسول خداﷺ نے فرمایا : جس سے کوئی علم کی بات پوچھی گئی اور اس نے اسے چھپا لیا تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائے گا۔ ( ابن ماجہ)۔
 حضور نبی مکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک لوگوں میں سب سے برا انسان وہ عالم ہو گا جو اپنے علم سے نفع نہیں اٹھاتا۔ (شرح السنۃ الغوی )۔

پیر، 9 فروری، 2026

حضور نبی کریم ؐ کا حسن ِ معاشرت

 

حضور نبی کریم ؐ کا حسن ِ معاشرت

حضور نبی کریمؐ کا حسن معاشرت کی بھی کوئی نظیر نہیں آپؐ کا حسن معاشرت بھی تمام دنیا سے اعلیٰ تھا۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آپؐ سب لوگوں سے بڑھ کر وسیع القلب ، گفتگو میں سچے ، نرم طبیعت والے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں دس سال تک حضور نبی کریمؐ کی خدمت کرتا رہا ہوں۔ حضور نبی کریمؐ نے ان دس سال میں مجھے کبھی بھی نہ جھڑکا اور نہ کبھی یہ فرمایا کہ تو نے فلاں کام کیوں کیا ہے اور فلاں کیوں نہیں۔ 
حضور رحمت عالمﷺ کسی سے بھی نفرت نہیں کرتے تھے۔ ہر قوم کے افراد کا اکرام کرتے اور ایسے ہی افراد کو ان کے اوپر حاکم مقرر کرتے۔ لوگوں کو خوف خدا سے ڈراتے ، عام لوگوں کی صحبت میں نہ بیٹھا کرتے لیکن کسی کے ساتھ بد اخلاقی سے پیش نہیں آتے تھے۔ اپنے اصحاب کے گھر تشریف لے جاتے اور محفل میں شامل ہونے والوںکو ان کی شان کے مطابق نوازتے۔ لوگوں کے ساتھ ایسا رویہ رکھتے کہ ہر ایک کو لگتا کہ حضور نبی کریمﷺ میری ہی طرف نظر کرم فرما رہے ہیں۔ جب کسی کو اپنے ساتھ بٹھاتے یا پھر کوئی آپؐ کے پاس مسئلہ لے کر آتا آپؐ ا س وقت تک بیٹھے رہتے جب تک وہ شخص خود اجازت لے کر نہ چلا جاتا۔ اگر کوئی شخص حاجت لے کر آتا تو کسی کو بھی خالی ہاتھ نہ بھیجا کرتے تھے۔
حضرت ابن ابی ہالہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورنبی کریم ﷺ ہمیشہ پھول کی طرح کھلے رہتے۔آپؐ کا لہجہ نرم اور خوش اخلاق تھا۔ بد اخلاقی ، سنگدلی، بازاروں میں بلند آواز نہیں کرنا ، گالی گلوچ ، دوسروں میں عیب تلاش کرنا عرب کے لوگوں میں عام تھا لیکن آپؐ تاحیات ان تمام چیزوں سے پاک رہے۔ جس چیز کی ضرورت نہ ہوتی اس کی طرف نہ دیکھتے۔ کوئی بھی سائل آپؐ کے پاس آتا تو آپؐ اسے خالی واپس نہ لوٹاتے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’ تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب تم ان کے لیے نرم دل ہوئے ‘۔(سورۃ آل عمران )
 اگر کوئی آپؐ کی دعوت کرتا تو قبول فرماتے اور اگر کوئی معمولی سابھی ھدیہ پیش کرتاتو قبول فرماتے اور اس کو اس کے بدلے ہدیہ سے نوازتے۔ حضرت عبداللہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضور نبی کریمؐ سے بڑھ کر تبسم کا خو گر کسی کو نہیں دیکھا۔ جب کسی کو کسی پریشانی میں مبتلا پاتے تو فوراً اس کی پریشانی دور کرنے کی کوشش کرتے۔ آپؐ ہر کسی پر نہایت درجہ مہربان تھے۔

اتوار، 8 فروری، 2026

اصلاح معاشرہ اور ہمارا کردار

 

اصلاح معاشرہ اور ہمارا کردار

ہفتہ، 7 فروری، 2026

علم اور عالم کی فضیلت

 

علم اور عالم کی فضیلت

ارشاد باری تعالیٰ ہے (’’اے محبوب ﷺ) تم فرمائو کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان ‘‘۔ ( سورۃ الزمر )۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتاہے۔ حضور نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا علم سعادت مندوں کو نصیب ہوتا ہے اور بد بخت اس نعمت سے محروم رہتے ہیں۔ حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا : جس شخص کو موت آئے اور وہ اسلام کو زندہ کرنے کے لیے علم سیکھتا ہو تو جنت میں اس کے اور انبیاء کے درمیان ایک درجہ ہو گا۔ ( مشکوۃ المصابیح )۔
حضرت علی ؓ کا قول ہے آپ فرماتے ہیں علم مال سے بہتر ہے ، علم تیری حفاظت کرتا ہے اور تو مال کی حفاظت کرتا ہے ،علم حاکم ہے اور مال محکوم علیہ ، مال خرچ کرنے سے گھٹتا ہے اور علم خرچ کرنے سے بڑھتا ہے۔ ( علم کی حقیقت )۔
حضرت ابو اسود ؓ فرماتے ہیں علم سے بڑھ کر کوئی چیزعزت والی نہیں کیونکہ بادشاہ لوگوں پر حاکم ہوتے ہیں اور علماء بادشاہوں پر حاکم ہوتے ہیں۔ (علم کی حقیقت ) 
حضرت زبیر بن ابی بکر ؓ فرماتے ہیں میرے والد نے مجھے خط لکھا اور کہا کہ علم حاصل کرو اس لیے کہ اگر مفلس ہوجائے تو یہ تیرا مال ہوگا اور اگر غنی ہو جائے گا تو یہ تیری زینت ہوگا۔ ( احیا ء العلوم )۔ 
سورۃ المجادلہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جس کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا ‘‘سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ سب سے زیادہ بخشش کرنے والا کون ہے ؟ صحابہ کرام نے عرض کی اللہ تعالیٰ اور اس کا رسولﷺ بہتر جانتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ جودو عطا کرنے والا ہے ، پھر تمام بنی آدم سے زیادہ میں جودو عطا کرنے والا ہوں اور میرے بعد بنی آدم میں سب سے زیادہ جودو سخا کرنے والا وہ آدمی ہے جس نے علم حاصل کیا اور پھر اس کو پھیلایا۔
قیامت کے دن وہ اکیلا امیر بن کر آئے گا وہ اکیلا ہی امت بن کر آئے گا۔ ( مشکوۃالمصابیح )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’اگر تیری وجہ سے اللہ تعالیٰ ایک شخص کو ہدایت دے دے تو یہ تیرے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔(ابودائود)۔
حضرت ابو امامہؓ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اور آسمان اور زمین والے یہاں تک کہ چیونٹی اپنے سوراخ میں اور مچھلی سمندر میں سب رحمت بھیجتے ہیں اس پر جو لوگوں کو خیر سکھاتا ہے۔ ( ترمذی )۔
حضرت انسؓ فرماتے ہیں خیر کا بتانے والا خیر کرنے والے کی مثل ہے۔ ( ترمذی )۔

زکوۃ کی فضیلت و اہمیت (۳)

  زکوۃ کی فضیلت و اہمیت (۳) حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو وہ اس کی زکوٰۃ اد...