جمعرات، 19 مارچ، 2026

صدقہ فطر

 

صدقہ فطر

رمضان المبارک رحمتوں ، برکتوں اور مغفرت کا مہینہ ہے۔ اس با برکت مہینے میں مسلمان روزے رکھ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور تقویٰ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ نے حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی کا بھی حکم فرمایا ہے۔جس طرح نماز ادا نہ کرنا گناہ ہے اسی طرح استطاعت ہونے کے باوجود کسی بھوکے کو کھانا نہ کھلانا بھی گناہ ہے۔ روزے میں حقوق اللہ اور حقو ق العباد ساتھ ساتھ ہیں اگر بندہ روزے رکھ کر حقوق اللہ کی ادائیگی کرتا ہے تو اسے غمگساری کا مہینہ بھی قرار دیا گیا ہے۔حضور نبی کریم ﷺ سارا سال ہی سخاوت فرمایا کرتے تھے اور کوئی سائل خالی نہیں جاتا تھا تو رمضان المبارک کے مہینہ میں نبی کریم ﷺ کی سخاوت کا کیا عالم ہوگا۔اسلام میں مسلمانوں پر ماہ رمضان میں ہر صاحب نصاب آدمی اور جن کا وہ کفیل ہے سب کی طرف سے صدقہ فطرنماز عید الفطرسے پہلے ادا کرنا واجب ہے۔ تاکہ معاشرے کے غرباء و مساکین بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔
نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : صدقہ فطر ہر مسلمان غلام اور آزاد ، مرد اور عورت ، چھوٹے اور بڑے پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو مقرر فرمایا اور حکم فرمایا کہ نماز عید کے لیے نکلنے سے پہلے ہی اسے ادا کر دیا جائے۔ 
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے صدقہ فطر کو فرض قرار دیا تا کہ روزے کے لیے لغو اور بیہودہ اقوال و افعال سے پاکیزگی ہو جائے اور مسکینوں کو طعام حاصل ہو۔لہٰذا جس نے اسے نماز عید سے پہلے ادا کر دیا تو یہ صدقہ فطر ہو گا اگر نمازکے بعد ادا کیا تو یہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہے۔ (ابی دائود )
اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ فطر کے دو فائدے ہیں ایک یہ کہ اگر کوئی روزے کی حالت میں کوئی غلط بات بول دے یا کوئی کوتاہی ہو جائے تو صدقہ فطر کے صدقے اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دے گا۔دوسرا یہ معاشرے کے غریب اور کمزور طبقات کو بھی سہارا دے کر انہیں بھی اپنے ساتھ عید کی خوشیوں میں شامل کیا جائے۔ آج اس مہنگائی کے دور میں معاشرے میں معاشی نا ہمواری میں اضافہ ہو رہا ہے صدقہ فطر کی اہمیت اور بھی زیادہ ہو جاتی ہے اسی لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ خلوص دل سے خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے صدقہ فطر ادا کرے۔صدقہ فطر نا صرف ایک مالی عبادت ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے اور انسانی ہمدردی کو فروغ دینے کا ذریعہ ہے۔

بدھ، 18 مارچ، 2026

الوداع ماہ رمضان (1)

 

الوداع ماہ رمضان (1)

قلب عاشق ہے اب پارہ پارہ
الوداع الوداع ماہ رمضان 
کلفت ہجرو فرقت نے مارا
الوداع الوداع ماہ رمضان
رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ وہ مبارک مہینہ ہے جسے قرآن مجید نے ہدایت ، رحمت اور مغفرت کا مہینہ قرار دیا ہے۔یہ ماہ مقدس ایمان والوں کے لیے روحانی تربیت ، عبادت کی کثرت اور اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے کا بہترین موقع ہوتا ہے۔ جب یہ با برکت مہینہ رخصت ہونے لگتا ہے تو اہل ایمان کے دلوں میں ایک عجیب سی اداسی اور حسرت پیدا ہوتی ہے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی عزیز مہمان چند دن قیام کے بعد واپس جا رہا ہو۔اہل ایمان اس ماہ مقدس کے اختتام پر اللہ تعالیٰ کے حضور جھک جاتے ہیں اور اس مہینے کی برکتوں کو مزید سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لیے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں بتاتا ہے۔( سورۃ البقرہ ) 
ماہ رمضان نہ صرف روزوں کا مہینہ ہے بلکہ یہ مہینہ ہمیں درس دیتا ہے کہ ہم قرآن مجید سے اپنے تعلق کو مضبوط کریں۔یہی وجہ ہے کہ مسلمان اس مہینے میں تلاوت قرآن مجید ،تراویح کا اہتمام کرتے ہیں اور ذکر اذکار کو بھی مزید بڑھا دیتے ہیں تا کہ ان کے دل منور ہو سکیں اور جب یہ مہینہ رخصت ہونے لگتا ہے تو ایک سچا مسلمان اس بات پر غورو فکر کرتا ہے کہ اس نے ماہ مقدس میں اپنے نفس کی اصلاح کی یا نہیں۔ ماہ رمضان گناہ کی معافی اور پاکیزگی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔لیکن جب یہ مہینہ رخصت ہونے لگتا ہے تو مومن کے دل میں یہ خوف بھی پیدا ہوتا ہے کہ وہ اس ماہ مقدس کی قدر کر سکا یا نہیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتا ہے۔ 
کچھ نہ حسن عمل کر سکا ہوں
نذر چند اشک کر رہا ہوں 
بس یہی ہے میرا کل اثاثہ
الوداع الوداع ماہ رمضاں۔
ماہ رمضان کے آخری ایام خصوصی اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ ان ایام کی طاق راتوں میں اللہ تعالیٰ نے لیلۃ القدر رکھی ہے جو کہ ہزار مہینوں سے افضل رات ہے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب ماہ رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو حضور نبی کریم ﷺ کمر کس لیتے اور راتوں کا جاگتے اور گھر والوں کو بھی عبادت کے لیے جگاتے۔

منگل، 17 مارچ، 2026

لیلۃ القدر (2)

 

لیلۃ القدر (2)

نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے اس رات یعنی شب قدر کو ایمان اور احتساب کے ساتھ قیام کیا اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ 
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب لیلۃ القدر کی رات آتی ہے تو جبرائیل امین فرشتوں کی جماعت میں اترتے ہیں اور کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر ذکر اللہ کرنے والے کے لیے دعا کرتے ہیں اور اس کو سلام کرتے ہیں۔(مکاشفۃالقلوب)۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے حضور نبی کریم ﷺ سے عرض کی کہ میں اگرشب قدر کو پا لوں تو کیا دعا مانگوں۔ تو حضور نبی کریمﷺنے فرمایا اے عائشہ آپ یہ دعامانگو ’’ اللھم انک عفو تحب العفوفا عف عنی‘‘ اے اللہ تو معاف فرمانے والا ہے معافی دینے کو پسند کرتا ہے پس مجھے معاف فرما دے۔ 
ابن ماجہ کی حدیث ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص شب قدر سے محروم ہو گیا گویا پوری بھلائی سے محروم ہو گیا اور شب قدر کی خیر سے وہ ہی محروم ہوتا ہے جو کامل محروم ہو۔ پہلی امتوں کی عمریں بہت زیاہ ہوتی تھیں لیکن امت محمدیہ کی عمر کم ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس امت پر احسان فرمایا کہ ایک رات ایسی دے دی جو کہ ہزار مہینوں سے افضل رات ہے تاکہ اس رات عبادت کر کے امت محمدیہ زیادہ سے زیادہ ثواب کماسکے۔ 
اس رات کو تلاوت قرآن پاک ، نوافل ، ذکرو اذکار اور استغفار کرنے کی بہت زیادہ فضیلت ہے۔ شب قدر در اصل خود احتسابی اور اصلاح نفس کا بہترین موقع ہے۔ اس رات بندے کو چاہیے کہ وہ اپنے ماضی کی غلطیوں پر ندامت کا اظہار کرے اور آئندہ زندگی کو بہترانداز میں گزارنے کا عہد کرے۔ 
شب قدر صرف ایک رات نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت اور کرم کا مظہر ہے۔بد قسمتی سے ہم اس عظیم رات کی قدر نہیں کرتے اورغفلت میں گزار دیتے ہیں۔ روایت میں ہے کہ ایک روز نبی کریم ﷺ اپنے ممبر پر جلوہ فرما ہو رہے تھے تو آپ ﷺ نے تین بار آمین فرمایا۔صحابہ کرام نے نبی کریمﷺ سے عرض کی یا رسول اللہﷺ آپ نے آج تین مرتبہ آمین کیوں کہا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا میرے پاس جبریل علیہ السلام تشریف لائے انہوں نے کہا جو ماہ رمضان کو پائے اور اپنی بخشش نہ کروا سکے اس پر اللہ اور اس کے رسولﷺ کی لعنت تو میں نے کہا آمین۔ 
اللہ تعالیٰ ہمیں اس مبارک رات کی قدر کرنے اور اس کی برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے اور اپنی رحمتوں اور برکتوں سے مالا مال فرمائے آمین۔

پیر، 16 مارچ، 2026

لیلۃ القدر (۱)

 

لیلۃ القدر (۱)

رمضان المبارک اللہ تعالی کی بے شمار رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے اس مبارک مہینے میں ایک ایسی عظیم رات بھی آتی ہے جسے اللہ تعالی نے ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا ہے یہ مقدس اور با برکت رات لیلۃ القدر کہلاتی ہے ۔ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں اس رات کی فضیلت و عظمت کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ وہ عظیم رات ہے جس میں اللہ تعالی کی خصوصی رحمتیں نازل ہوتی ہیں ، اللہ تعالی اپنے بندوں کی دعاؤں کو قبول فرماتا ہے اور فرشتے زمین پر اترتے ہیں ۔ارشاد باری تعالی ہے :
’’بیشک ہم نے اسے شب قدر میں اتارا ۔ اور تم نے کیا جانا کیا شب قدر ۔ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ۔ اس میں فرشتے اور جبریل اترتے ہیں اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لیے ۔ وہ سلامتی ہے صبح چمکنے تک ‘‘۔ ( سورۃ القدر )۔
یعنی کہ جو بندہ اس رات خالص اللہ تعالی کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کے لیے عبادت کرے تو اسے ہزار مہینوں یعنی 84 سال عبادت کرنے کا ثواب ملتا ہے ۔ 
حضرت مجاہد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر فرمایا جس نے ایک ہزار مہینے راہ خدا میں جہاد کیا ۔صحابہ کرام کو اس سے تعجب ہوا تو اللہ تعالی نے سورۃ القدر نازل فرمائی ۔(سنن الکبر ی البہیقی )۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالی نے میری امت کو شب قدر کا تحفہ عطا فرمایا اوران سے پہلے اور کسی امت کو یہ رات عطا نہیں فرمائی ۔ (مسند فردوس )۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا شب قدر کو آخری دس دنوں میں تلاش کرو ۔ ( صحیح مسلم )۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رمضان المبارک کا آخری عشرہ آتا تو نبی کریم ﷺ عبادت کے لیے مستعد ہو جاتے راتوں کو جاگتے اور اپنے اہل خانہ کو بھی جگاتے ۔ (بخاری )۔
اللہ تعالی نے اس رات کو مخصوص نہیں فرمایا اس وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ بندے اس رات کو تلاش کرتے ہوئے شب بیداریاں کریں ۔اگراللہ جل شانہ اس رات کو متعین فرما دیتا تو بندے صرف اسی رات کو عبادت کرنے پر اکتفا کرتے ۔ اور اگر اس رات کو مخصوص کر دیتااور بندے اس رات کی شان و عظمت کو جانتے ہوئے بھی اس رات کوئی گناہ کر بیٹھتے تو وہ اس کے گناہ کے جرم کو مزید بڑھا دیتا۔ اسی لیے اللہ تعالی نے اس رات کو پوشیدہ رکھا اور فرمایا کہ اسے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔

ہفتہ، 14 مارچ، 2026

تلاوت قرآن پاک کے آداب(۱)

 

تلاوت قرآن پاک کے آداب(۱)

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی وہ مقدس کتاب ہے جو انسانیت کی ہدایت ، اصلاح کامیابی کے لیے نازل کی گیی ۔ اس کی تلاوت کرنا بہت بڑی سعادت کی بات ہے جس طرح ہر عبادت کے کچھ آداب ہوتے ہیں ایسے ہی تلاوت قرآن مجید کے بھی آداب ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر زیادہ اجر و ثواب کمایا جا سکتا ہے۔ 
اللہ تعالیٰ سورۃ الحجر میں ارشاد فرماتا ہے ” بے شک ہم نے ہی اس ذکر کو نازل کیا اور بیشک ہم ہی اس کے محافظ ہیں“۔سورۃ المزمل میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :” اور قرآن مجید کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔ 
حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایاجب بھی کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کے مبارک گھر میں جمع ہوتے ہیں تلاوت قرآن مجیدکرتے ہیں اور ایک دوسرے کو پڑھاتے ہیں۔ تو ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سکینت نازل ہوتی ہے ، اللہ تعالیٰ کی رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے ، اللہ کے فرشتے ان کو ڈھانپ لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کا تذکرہ اپنے پاس والوں میں کرتا ہے۔ (مسلم شریف)۔
رسول کریم ﷺنے ارشاد فرمایاقرآن پاک میں مہارت رکھنے والا شخص قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نیکوکار ، معزز اور پرہیز گار فرشتوں کے ساتھ ہو گا۔ اور ایسا شخص جو تلاوت قرآن مجید کرتے ہوئے اٹھتا ہے اور تلاوت کرنے میں اس کو دشواری آتی ہے تو اس کے لیے دو اجر ہیں۔ ( بخاری ، مسلم )۔
قرآن مجید کی تلاوت کرنے کا بہت زیادہ اجر و ثواب ہے۔ تلاوت قرآن مجید کرتے وقت اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ذہن میں رکھنا چاہیے۔ امام نووی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں ایک قاری قرآن پر سب سے پہلے جو چیز لازم ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کی تلاوت میں خلوص نیت ضروری ہے ، اور یہ کہ تلاوت قرآن مجید صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضاکے لیے ہو اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی خوشنودی اور تقرب کا حصول مد نظر نہیں ہو نا چاہیے۔ ( الاذکار)۔
 کوئی شخص تلاوت قرآن مجید صرف اس لیے کر ے کہ لوگ اس کی میٹھی زبان سے محظوظ ہوں ، اس کی طرف دیکھیں،اس کی مجلس میں آئیں اور اس کی تعریف کریں تو ایسا شخص تلاوت قرآن مجید کے اجر سے محروم رہے گا۔قرآن مجید کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا بھی اس کے آداب میں شامل ہے۔ قرآن پاک کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جس چیز کو قرآن نے حلال قرار دیا ہے اس کو حلا ل جانیں اور جس کو حرام قرار دیا ہے اس کو حرام جانیں۔اور جن کاموں سے روکا ہے اس سے رک جائیں اور جن اعمال کو بجا لانے کا کہا ہے ان اعمال کو مکمل احترام کے ساتھادا کیا جائے۔قرآن مجید کو حفظ کرنے کی بہت زیادہ فضیلت ہے۔ لیکن قابل توجہ اور اہم بات یہ ہے کہ صرف زبانی یاد کر لینا کافی نہیں بلکہ اسے زندگی بھر یاد رکھنا اس سے بھی بڑی ذمہ داری ہے۔

جمعہ، 13 مارچ، 2026

اعجاز القرآن (۱)

 

 اعجاز القرآن (۱)

قرآن مجید نہ صرف ہدایت کا سر چشمہ ہے بلکہ فصاحت و بلاغت ، علوم و معارف اور پیش گوئیوں کے اعتبار سے بھی ایک معجزہ ہے۔ قرآن مجید کے اعجاز کو مسلمان تو تسلیم کرتے ہی ہیں۔ اس کے ساتھ عرب کے فصیح و بلیغ ادباء اور دیگر مذاہب کے دانشور بھی اس کلام کی برتری کو ماننے پر مجبور ہیں۔اعجاز کا لغوی معنی ’’عاجز کر دینا ‘‘ ہے یعنی ایسی چیز پیش کرنا جس کی مثل کوئی دوسرا نہ لا سکے۔ قرآن مجید کا اعجاز یہ ہے کہ یہ ایک ایسا کلام ہے جو انسانی قدرت اور علم سے بالا تر ہے۔ نزول قرآن کے دور میں عربوں نے ہر طرف اپنی فصاحت و بلاغت کی دھاک بٹھا رکھی تھی اور عربی زبان کے تمام اصول و قواعد سے اس طرح واقف تھے کہ دنیا ان کے کلام میں کوئی بات خلاف قواعد تلاش نہیں کر سکتی تھی۔ عربوں نے اپنے کلام کے کچھ شہ پارے کعبہ کی دیوار پر لگا دیے اور دیگر اقوم کو چیلنج دیا کہ کسی میں ہمت ہے تو وہ ان اشعار کے جیسے کوئی اشعار بنا کر پیش کرے۔ لیکن کوئی بھی عربوں کی فصاحت و بلاغت کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ 
قرآن مجید برھان رشید وہ پہلی کتاب ہے جس نے نہ صرف عربوں کے اس غرور کو توڑا بلکہ ان کے فصاحت و بلاغت کے شاہکار اشعار اوقصائد کو بھی خاک میں ملا دیا۔ اور ان کو چیلنج دیا کہ اس جیسی چند سورتیں بنا کر لے آئو۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
’’کیا یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اسے خود بنا لیا (اے محبوب ﷺ) تم فرمائو تم ایسی بنائی ہوئی دس سورتیں لے آئو اور اللہ کے سوا جو مل سکیں سب کو بلا لو اگر سچے ہو ‘‘۔ ( سورۃ ھود )۔
یعنی کفار مکہ نے کہا کہ قرآن کریم نبی کریمﷺ نے خود سے بنا لیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں چیلنج دیا کہ اگر یہ انسان کا کلام ہے اور تم سچے ہو تو اس جیسی دس سورتیں ہی لے آئو۔ اور اللہ تعالیٰ کے سوا تم جس کی مدد لینا چاہتے ہو لے لو۔ 
جب کفار مکہ اس چیلنج کو پورا نہ کر سکے اور نہ ہی کبھی کر سکیں گے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں مزید چیلنج دیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
’’اور اگر تمہیں کچھ شک ہو اس میں جو ہم نے اسے اپنے خاص بندے پر اتارا تو اس جیسی ایک سورت تو لے آئو اور اللہ کے سوا اپنے سب حمائتیوں کو بلا لو اگر تم سچے ہو ‘‘۔ (سورۃ البقرۃ)۔
اس کے بعد ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا ’’ پھر اگر نہ لا سکو اور ہم فرمائے دیتے ہیں کہ ہر گز نہ لا سکو گے تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں، تیار رکھی ہے کافروں کے لیے ‘‘۔ ( سورۃ البقرۃ )۔
لیکن کفار مکہ اس چیلنج کو بھی پورا نہ کر سکے اور اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ تم ہر گز نہ سکو گے۔ پھر جب کعبہ کی دیوار پر سوۃ الکوثر آویزاں کی گئی تو عرب کے بڑے بڑے فصاحت و بلاغت کے ماہر یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ’’ لیس ھذا من کلام البشر ‘‘ ’’ یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہو سکتا‘‘۔

جمعرات، 12 مارچ، 2026

حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (2)

 

حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (2)


حضرت حبشی بن جنادہؓ سے مروی ہے کہ حضورنبی کریم ﷺ نے فرمایا علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں اور میری طرف سے (عہد و پیمان میں) میرے اور علی کے سوا کوئی دوسرا ذمہ داری ادا نہیں کر سکتا۔ ( ترمذی ، ابن ماجہ )۔ 
اکثر غزوات میں حضور نبی کریمﷺ نے پرچم اسلام آپ ہی کو عطا کیا۔ غزوہ خیبر آپﷺنے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں پرچم دے کر فتح کی بشارت سنائی۔
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓسے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے جب انصار اور مہاجرین میں بھائی چارہ قائم کیا تو حضرت علی نبی کریمﷺ کے پاس آئے اور عرض کی یار سول اللہ ﷺ! آپ ﷺ نے صحابہ کرام میں بھائی چارہ قائم فرما دیا ہے لیکن مجھے کسی کا بھائی نہیں بنایا۔ آپﷺ نے فرمایا تم دنیا و آخرت میں میرے بھائی ہو۔ ( ترمذی )۔ 
طریقت میں حضرت علی ؓ بہت اونچی شان اور بلند ترین مقام کے مالک تھے۔حصول حقائق کے مشکلات کے حل پر آپ کوجو قدرت حاصل تھی اس کے بارے میں حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں’’اصول طریقت اورمصائب برداشت کر نے میں ہمارے پیر علی المرتضیؓ ہیں‘‘۔ایک شخص نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی سب سے پاکیزہ  چیز کونسی ہے ؟ آپ نے فرمایاوہ دل جو اللہ تعالیٰ کے تعلق کی وجہ سے ہر چیز سے بے نیاز ہو گیا ہے یہاں تک کہ دنیا کا نہ ہونا اسے فقیر نہ بناسکے اور اس کا ہونا اسے خوشی نہ دلا سکے۔
آپ ؓکے اقوال اور فیصلے پْر از حکمت اور قوت استدلال کے اعلیٰ ترین درجے میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چند اقوال یہ ہیں کہ :۱: توفیق الٰہی بہترین راہنما ہے۔ ۲: سب سے بڑی دولت عقل مندی اور سب سے بڑا افلاس حماقت ہے۔ ۳: گناہوں کی دنیا میں سزا یہ ہے کہ عبادت میں سستی اور معیشت میں تنگی پیدا ہو جاتی ہے۔ ۴: حلال کی خواہش اس شخص میں پیدا ہوتی ہے جو حرام کو چھوڑ دینے کی پوری پوری کوشش کرتا ہے۔ کوفہ میں ایک بد بخت خارجی عبدالرحمن ابن ملجم نے حالت نماز میں آپ پر حملہ کیا جس سے آپ شدید زخمی ہو گئے اور اکیس رمضان المبارک جمعہ کی شب اسلام کا یہ بدر منیر ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔
حضرت علیؓ قرآن کی عملی تفسیر تھے۔آپ رضی اللہ عنہ سوچ میں حکمت ، کردار میں پاکیزگی ، فیصلوں میں عدل اور عبادات میں اخلاص تھا۔آپؓکی زندگی ایک مکمل درس گاہ ہے ایک ایسی درس گاہ جو ہر دور کے مسلمان کو حق ، عدل اور تقوی کا راستہ دکھاتی ہے۔

صدقہ فطر

  صدقہ فطر رمضان المبارک رحمتوں ، برکتوں اور مغفرت کا مہینہ ہے۔ اس با برکت مہینے میں مسلمان روزے رکھ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور تق...