بدھ، 16 ستمبر، 2026

سیر ت النبی ﷺ اور حقوق زوجین(۲)

 

سیر ت النبی ﷺ اور حقوق زوجین(۲)

جیسے عورت پر شوہر کی اطاعت لازم ہے ایسے ہی شوہر کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کا احترام کرے اور اس کی تحقیر نہ کرے اور اس کے عزت ونفس کا خیال رکھے اور اس کے حقوق کا خیال رکھے ۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ  حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے لیے اچھا ہے اور میں تم میں سب سے بڑھ کر اپنے گھر والوں سے اچھا سلوک کرتا ہوں ۔ ( سنن ابن ماجہ)۔
ایک مقام پر حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے سب سے کامل ایمان والا وہ ہے جس کا اخلاق اچھا ہے اورجو اپنے گھر والوں کے ساتھ سب سے بڑھ کر نرمی کرنے والا ہے ۔  (شعب الایمان البہیقی)۔
حضور نبی کریمﷺ سے عرض کی گئی یارسول اللہ ﷺ کسی شخص کی بیوی کا اس کے شوہر پر کیا حق ہے تو آپﷺ نے فرمایا:”کہ جب توکھائے تو اسے بھی کھلائے اور جب تو پہنے تو اسے بھی پہنائے اور اس کے چہرے پر نہ مارے اور اگر کسی وجہ سے تعلق ترک کرنا ہو تو صرف گھر میں کرے ۔ ( ابن ماجہ )۔ یعنی کہ مرد پر یہ بات لازم ہے کہ وہ ہر لحاظ سے عورت کے وقا ر کو ملحوظ خاطر رکھے اور کھانے ، پینے اور پہننے میں اپنی بیوی کو اپنے ساتھ شریک کرے۔ 
حضور نبی کریم ﷺکے تمام معاملات وحی الٰہی کے مطابق ہوتے تھے لیکن اس کے باوجود آپ ﷺ اپنی ازواج سے مشورا لیا کرتے تھے اس کو قبول بھی فرمایا کرتے تھے۔ اس کا مقصد ان کے وقار کو بلند کرنا تھا ۔
حضور نبی کریمﷺ کی ازواج میں سے اگر کوئی کسی وجہ سی اظہار ناراضگی کرتی تو آپﷺ اس پر بُرا نہیں مناتے تھے بلکہ اس سے محظوظ ہوتے تھے ۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضور نبی کریمﷺ نے مجھے کہا کہ مجھے پتہ ہوتا ہے کہ  کب تم مجھ سے ناراض ہو اور کب خوش تو میں نے عرض کی آپ کو کیسے معلوم ہوتا ہے ۔آپﷺ نے فرمایا :” جب تم مجھ سے راضی ہو تی ہو تو کہتی ہو مجھے محمد ﷺ کے رب کی قسم اور جب مجھ سے ناراض ہوتی ہو کہتی ہو مجھے ابراہیم  علیہ السلام کے رب کی قسم ۔ تو میں نے عرض کی ہاں یارسو ل اللہ ﷺ میں صرف آپ کا اسم گرامی ہی چھوڑتی ہوں ۔(مسلم)۔یعنی صرف زبان سے ہی نام نہیں لیتی تھی لیکن دل صرف آپﷺ کی محبت سے معمور رہتا تھا۔
 سیرت النبی ﷺ سے ہمیں یہ بات واضح معلوم ہوتی ہے کہ جب میاں بیوی ایک دوسر ے کاادب و احترام ملحوظ خاطر رکھیں گے اور اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کریں گے تو گھر ضرور امن کا گہوارہ بن جائے گا۔

منگل، 15 ستمبر، 2026

سیر ت النبی ﷺ اور حقوق زوجین(۱)

 

سیر ت النبی ﷺ اور حقوق زوجین(۱)

ارشاد باری تعالی ہے :”اور اس کی آرزو نہ کرو جس سے اللہ نے تم میں ایک کو دوسرے پر بڑائی دی مردوں کے لیے ان کی کمائی کا حصہ ہے اور عورتوں کے لیے ان کی کمائی سے حصہ اور اللہ سے اس کا فضل مانگو بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے ۔( سورۃ النساء)۔
معاشرتی مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ میاں بیوی کے باہمی مسائل بھی ہیں جس کی وجہ سے اکثر گھروں کی خوشیاں ماند پڑیرہتی ہیں ۔ لیکن اگر ہم ان مسائل کا حل حضور نبی کریم ﷺ کی سیرت سے تلاش کریں تو یہ مسائل بالکل ختم ہو جائیں اور ہمارے گھر وں اور معاشرے میں خوشیاں پھیل جائیں ۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی تعلیمات اور عمل سے اس بات کو بخوبی واضح فرما دیا ہے کہ گھر کا سربراہ مرد ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :” مرد عورتوں کے کفیل ہیں اس لیے کہ اللہ نے ان میں ایک کو ایک دوسرے پر فضیلت دی اور اس لیے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا  ہے ۔( سور ةالنساء)۔
اللہ تعالی نے مردوں کو عورتوں کا محافظ بنایا ہے ۔ حضور نبی کریمﷺ نے اس بات کی تاکید فرمائی ہے عورتیں اپنے شوہروں کی  اطاعت کریں کیونکہ جب کسی بھی جگہ سربراہ کی بات نہ مانی جائے تو وہاں کے معاملات بگڑ جاتے ہیں ۔ اور اللہ تعالی کو یہ عمل بہت پسند ہیں کہ عورتیں اپنے خاوند کی اطاعت کریں ۔حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا :”عورت جب پانچ وقت کی نماز پڑھے اور رمضان کے روزے رکھے اور اپنی عفت و عصمت کی حفاظت کرے اور شوہر کی اطاعت کرے تو جنت کے جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہو جائے ۔ (مشکاۃ المصابیح)۔
حضرت قیس بن سعد فرماتے ہیں کہ میں حیرہ گیا تو میں نے دیکھا کہ وہاں کے لوگ اپنے سردار کو سجدہ کر رہے ہیں میں نےسوچا کہ رسول خدا ﷺ اس کے زیادہ حق دار ہیں میں نے واپس آ کر بارگاہ رسول ﷺ میں  حاضر ہو کر ساری بات بتائی تو آپﷺ نے فرمایا :” ایسا نہ کرو اگر میں کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں کیونکہ اللہ تعالی نے مردوں کا عورتوں پر حق رکھا ہے ۔“(سنن ابی داؤد )۔ یعنی کہ اللہ تعالی کے علاوہ کسی کو سجدہ کرنا جائز نہیں۔ لیکن حقیقی اطاعت اللہ تعالی کی ہے اور عورت اپنے شوہر کی صرف اسی بات کو ماننے کی پابند ہوگی جو شریعت مطاہرہ کے مطابق  ہو گی۔ کوئی بھی بات خلاف شریعت ہو گی تو عورت اس کو ماننے کی پابند نہیں ۔

پیر، 14 ستمبر، 2026

موانع و مظاہر عجز و انکسار

 

موانع و مظاہر عجز و انکسار

انسانی کردار کی تعمیر میں جن اخلاقی اوصاف کو بنیادی حیثیت حاصل ہے ان میں عجزو انکساری نمایاں مقام رکھتی ہے ۔ یہ وہ عظیم صفت  ہے جو انسان کو غرور و تکبر کی تاریکیوں سے نکال کر اللہ تعالی کی رضا ، بندگان خدا کی محبت اور معاشرتی احترام کی منزل تک پہنچاتی ہے ۔  اسلام نے جہاں ایمان ، عبادات اور حسن اخلاق پر زور دیا ہے وہیں عاجزی اور فروتنی کو ایک کامل مومن کی شناخت قرا ر دیا اللہ تعالی  نے اپنے محبوب بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
”اور رحمن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام“۔ ( سورۃ الفرقان)۔ حضور نبی رحمت ﷺ نے اپنی پوری حیات طیبہ میں اس وصف کو عملی طور پر اس شان سے پیش کیا کہ رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے  بہترین نمونہ بن گیا ۔ آپ ﷺ عظمت و رفعت کے اعلی ترین مقام پر فائز ہونے کے باوجود سادگی ، تواضع ، حلم اور انکساری کا ایسا پیکر 
تھے کہ دوست و دشمن سب آپ ﷺ کے اخلاق کریمانہ کے معترف تھے ۔ 
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :صدقہ ما ل میں کمی نہیں کرتا ۔ معافی مانگ لینے سے اللہ تعالی  عزت میں اضافہ فرماتا ہے اور جو بھی اللہ تعالی کی رضا کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ تعالی اسے سر بلند فرمادیتا ہے ۔ ( ترمذی )۔ حضور نبی کریم ﷺنے فرمایا تواضع انسان کے رتبہ کو بلند کرتی ہے اور تکبر اسے پست کرتا ہے ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی  ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو اپنے مسلمان بھائی کے لیے عاجزی کرتا ہے اللہ تعالی اسے سر بلند کر دیتا ہے اور جو اس پر اپنی برتری  جتاتا ہے اللہ تعالی اسے پست کر دیتا ہے ۔ (الترغیب الترہیب )۔
تمام تر بلندیوں ، عظمتوں ، رفعتوں اور شان کا مالک اللہ تعالی ہے تو پھر بندہ کس وجہ سے احساس برتری میں مبتلا ہو جاتا ہے جب اس کے اختیار میں کچھ نہیں۔
 حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: کبریائی میری چادر ہے اور بڑائی میرا  تہبند ہے جو ان دونوں میں سے کچھ بھی مجھ سےچھینناچاہے گا میں اسے دوزخ میں پھنک دوں گا ۔( مسند احمد )۔ انسان کے اندر تکبر ، غرور ، خود پسندی ، مال و دولت کا گھمنڈ ، علم کی نخوت اور منصب کا زعم وہ عوامل ہیں جو عجز و انکساری اختیار کرنے کی  راہ میں روکاوٹ بنتے ہیں ۔ان رکاوٹوں کو دور کیے بغیر انسان کے اندر عاجزی پیدا نہیں ہو سکتی ۔

اتوار، 13 ستمبر، 2026

صحت انسانی اور سیرت النبی ﷺ(۳)

 

صحت انسانی اور سیرت النبی ﷺ(۳)

حضور نبی کریم ﷺ نے کھانے پینے میں احتیاط اور اعتدال سے کام لینے کا حکم فرمایا ۔ یعنی کہ نہ ہی اتنا کم کھائیں کہ بھوکے رہ جائیں اور نہ ہی بھوک سے زیادہ کھائیں کہ بیماری کا سبب بن جائے ۔ اگر کھانے پینے میں اعتدال سے کام نہ لیا جائے تو نعمت زحمت بن جاتی ہے ۔ 
ایک دفعہ ایک بادشاہ نے حضور نبی رحمت ﷺ کی خدمت میں ایک حکیم بھیجا کہ وہ وہاں رہ کر لوگوں کا علاج کرے ۔لیکن کافی  عرصہ گزرنے کے باوجود کوئی بھی اس کے پاس علاج کے لیے نہ آیا  تو وہ حکیم آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ  ایک عرصہ گزر گیا ہے لیکن میرے پاس کوئی علاج کے لیے نہیں آیا ۔آپ ﷺ نے فرمایا : میرے صحابہ پر جب تک بھوک حاوی  نہ ہو جائے تب تک کھانا نہیں کھاتے اور جب تھوڑی بھوک باقی رہ جائے تو وہ کھانا چھوڑ دیتے ہیں ۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے بہت زیادہ کھانے سے منع فرمایا ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا مسلمان ایک  آنت سے کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں سے کھاتا ہے ۔ ( موطا امام مالک )۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے زیادہ کھانے کو فتنہ قرار دیا ۔ آپﷺ نے فرمایا : جب کسی قوم کے پیٹ حد سے زیادہ بھر جائیں تو ان  کے جسم موٹے ہو جاتے ہیں ان کے دل کمزور ہو جاتے ہیں اور ان کی شہوتیں سر کش ہو جاتی ہیں ۔ (الترغیب الترہیب )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے زیادہ کھانے کو بیماریوں کی جڑ قرار دیا ۔(احیا ءالعلوم )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے بیماری کی صورت میں علاج کروانے کی ترغیب دی ۔ بیماری کی صورت میں علاج کروانا اللہ تعالی پر توکل کے منافی نہیں بلکہ اللہ تعالی پر توکل رکھ کر ظاہری اسباب اختیار کرنا آپ ﷺ کی سنت مبارکہ ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے بیماری کی صورت میں مایوس ہونے سے منع فرمایا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا بڑھاپے اور موت کے علاوہ اللہ تعالی نے ہر  بیماری کا علاج پیدا کیا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالی نے کوئی ایسی بیماری پیدا نہیں فرمائی جس کا علاج پیدا نہ کیا ہو ۔ (بخاری)۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :اے اللہ کے بندو دوائی لیا کرو کیونکہ اللہ تعالی نے ہر بیماری کی شفا ءپیدا فرمائی ہے مگر  ایک بیماری کی دوائی نہیں پیدا کی۔ وہ بڑھاپا ہے ۔( المعجم الکبیر )۔ ایک روایت میں بڑھاپے کے ساتھ موت کا لفظ بھی آیا ہے یعنی موت اوربڑھاپے کی کوئی دوا نہیں ۔ مسند امام احمد میں ہے آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالی نے جس طرح بیماری پیدا کی اسی طرح اس کی دوا بھی پیدا فرمائی لہذا تم دوا کا استعمال کیا کرو ۔

ہفتہ، 12 ستمبر، 2026

صحت انسانی اور سیرت النبی ﷺ(۲)

 

صحت انسانی اور سیرت النبی ﷺ(۲)

آنکھیں اللہ تعالی کی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور ان کی حفاظت کرنا بہت ضروری ہے ۔حضور نبی کریم ﷺ نے بیماری آنے  سے پہلے اس سے بچنے کے لیے حفاظتی اصول اپنانے کی تلقین فرمائی ۔ سرمہ انسان کی خوبصورتی کا سبب بھی بنتا ہے اور اس  کے ساتھ ساتھ اس کے بہت سے طبی فوائد بھی ہیں ۔ ہمیں حضور نبی کریم ﷺ کی سیرت مبارکہ سے بھی سرمہ استعمال کرنےکا درس ملتا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا اثمد  سرمہ استعمال کرو کیونکہ یہ نظر کو تیز کرتا ہے اوربال اگاتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کی ایک سرمہ دانی تھی جس سے آپ ﷺ رات کو سوتے وقت دونوں آنکھوں میں تین تین سلائیاں ڈالا کرتے تھے ۔ ( ترمذی)۔
 حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اثمد سرمے کا ستعمال کرو کیونکہ یہ بال اگاتا ہے بیماری دور کرتا ہے اور نظر کو صاف کرتا ہے ۔ ( المعجم الکبر للطبرانی )۔
اللہ تعالی کی نعمتوں کو کھانا اوراس پر شکر بجا لانا ضروری ہے لیکن انسان کو کوئی بھی چیز کھانے سے پہلے اس بات کا خیال رکھنا  چاہیے کہ آیا کہ جو چیز وہ کھانے لگا ہے کیا وہ اس کی صحت کے لیے نقصان دہ تو نہیں ۔ ایسا کرنا نا شکری نہیں بلکہ تعلیم نبوی ﷺہے ۔ 
حضرت ام منذر ؓ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ میرے گھر تشریف لائے آپ کے ساتھ حضرت علی ؓ بھی تھے ۔  گھر میں کچی کھجور کے کچھ گھچے لٹک رہے تھے آپ ﷺ اتار کر کھانے لگے تو حضرت علی ؓنے کھانا شروع کر دیا ۔ آپ ﷺ نے حضرت علی کو فرمایا اے علی رک جاؤ تم ابھی بیماری سے صحت یاب ہو ئے ہو ۔ حضرت ام منذرؓ فرماتی ہیں پھرمیں نے   چقندر  اور جو سے بنا کھانا آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا تو آپ ﷺ نے حضرت علیؓ سے کہا اے علی کھاؤ یہ تمہاری صحت کے لیے زیادہ اچھا ہے ۔ ( ترمذی )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے کسی بھی ایسے علاقے میں جانے سے منع فرمایا ہے جہاں کوئی ایسی بیماری پھیلی ہو جس کی وجہ سے  دوسروں کو اس بیماری کے لگ جانے کا خدشہ ہو ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : طاعون ایک عذاب ہے جسے بنی  اسرائیل پر بھیجا گیا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ تم سے پہلے لوگوں پر بھیجا گیا لہذا تم کسی بھی ایسے علاقے میں نہ جاؤ جہاں یہ بیماری پھیلی ہو اور اگر تمہارے علاقے میں طاعون پھیل جائے تو وہاں سے باہر مت جاؤ ۔ (موطا امام مالک )۔ یعنی کسی علاقے میں ایسی بیماری پھیل جائے تو نہ وہاں جاؤ اور نہ ہی وہاں کے لوگ باہر آئیں خود بھی بیماری سے بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں ۔

جمعرات، 10 ستمبر، 2026

صحت انسانی اور سیرت النبی ﷺ(۱)

 

صحت انسانی اور سیرت النبی ﷺ(۱)

اللہ تعالی نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جن کا جتنا بھی شکر بجا لا ئیں کم ہے ۔ اللہ تعالی کی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت صحت و تندرستی ہے اگر انسان صحت مند ہو گا تو اپنے تمام معاملات کو احسن طریقے سے سر انجام دے سکے گا اور اگر صحت  ہی ٹھیک نہ ہو تو کوئی بھی کام کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے جیسے بیمار روح کا علاج کیا اور بتایا اسی طرح آپ ﷺ نے انسان کی صحت کو ٹھیک رکھنے اور احتیاط کرنے کے بہت سے اصول بتائے جن پر عمل کر کے ہم بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔ 
حضور نبی کریم ﷺ کی سیرت مبارکہ سے سب سے پہلا سبق ہمیں یہ ملتا ہے کہ صحت کو خراب کرنے والی چیزوں سے پرہیز کیا جائے ۔ اور کھانے پینے میں ہر لحاظ سے احتیاط سے کام لیاجائے ۔ انسان دن بھر کام کاج میں مگن رہتا ہے اور اس کے ہاتھوں پر طرح طرح کی میل کچیل لگتی رہتی ہے ۔اگر ہم کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ نہ دھوئیں تو یہ سارے جراثیم ہمارے جسم میں جا کر بہت ساری بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں ۔ اس لیے آپ ﷺ نے کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کی تلقین فرمائی ۔ 
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ کھانے کی برکت کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعدوضو کرنے میں ہے ۔ ( ترمذی ) 
ابن ماجہ کی روایت میں ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو بندہ یہ چاہتا ہے کہ اللہ جل شانہُ اس کے گھر میں خیر وبرکت نازل فرمائے اسے چاہیے کہ وہ اس وقت بھی وضو کرے جب کھانا کھائے اور اس وقت بھی وضو کرے جب کھانا اٹھایا جائے۔ اس کے بعد انسانی صحت کے لیے منہ اور دانتوں کی صفائی بھی بہت ضروری ہے کیونکہ انسان کھانا دانتوں سے چبا کر کھاتا ہے اور اگر دانت صاف نہ ہو ں تو مختلف جراثیم کھانے کے ساتھ انسانی معدے میں چلے جائیں گے جو بیماریوں کا سبب بنیں گےاس لیے آپ ﷺ نے بار بار مسواک کرنے کی تلقین فرمائی ۔ 
حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا مسواک کرو کیونکہ مسواک منہ کو صاف رکھتی ہے اور اس سے اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے ۔ پھر فرمایا میرے پاس جبریل امین تشریف لائے انہوں نے مجھے مسواک کرنے کی تلقین فرمائی ۔ یہاں تک کہ میں ڈر گیا کہ مجھ پر اور میری امت پر فرض نہ ہو جائے ۔آپ ﷺ نے فرمایا اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا ڈر نہ ہوتا تو میں ہر نماز کے ساتھ مسواک فرض کر دیتا ۔ (المعجم الکبیر للطبرانی )

منگل، 8 ستمبر، 2026

حضور نبی کریم ﷺ کا رُخ انور

 

حضور نبی کریم ﷺ کا رُخ انور

حضور نبی کریم ﷺ کا رُخ انور اللہ تعالی کے جمال کا آئینہ اور انوار تجلیات کا مظہر تھا ۔ آپ ﷺ کا چہرہ انور نہایت ہی وجیہ، پُر گوشت اور کسی قدر گول تھا ۔ حضرت براء بن عازب ؓ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ کا چہرہ انور تمام لوگوں سے زیادہ خوبصورت تھا اور حضور نبی کریم ﷺ کے خلق بھی تمام لوگوں سے زیادہ دلکش اور زیبا تھے ۔ (بخاری ، مسلم)۔
حضرت جابر بن سمرہ ؓسے فرماتے ہیں کہ میں نے ایک چاندنی رات حضور نبی کریم ﷺ کی زیارت کی ۔حضور نبی کریم ﷺ نے سرخ رنگ کی پوشاک پہنی ہوئی تھی ۔ آپ ؓ فرماتے ہیں میں کبھی حضور نبی کریم ﷺ کے چہرہ انورکو دیکھتا اور کبھی چودھویں کے چاند کو۔ میں کافی دیر دیکھتا رہا ۔ میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ نبی رحمت ﷺ چودھویں رات سے زیادہ دلربا اور خوبصورت ہیں ۔ ( ترمذی )۔
رُخ انور کی تجلی جو قمر نے دیکھی 
                                       رہ گیا بوسہ دہِ نقشِ کفِ پا ہو کر
حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں میں نے آج تک کہیں بھی کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جو حضور نبی کریم ﷺ سے زیادہ حسین ہو ۔ یوں معلوم  ہوتا تھا کہ سورج چہرہ اقدس میں طلوع ہو رہا ہے ۔ ( ترمذی )۔
حضرت کعب ؓ فرماتے ہیں حضور نبی کریم ﷺ جب خوش ہوتے تو آپ ﷺ کا چہرہ انور چمکنے لگتا اور ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے چاند کا ٹکڑا  ہے ۔ ( بخاری )۔
حضرت براء بن عازب ؓ سے مروی ہے آپ سے پوچھا گیا کیا حضور نبی کریم ﷺ کا چہرہ انور تلوار کی طرح تھا ۔حضرت براء ؓنے جواب دیا نہیں بلکہ چاند کی طرح تھا کیونکہ چاند میں روشنی بھی ہے اور گولائی بھی ۔ ( بخاری )۔ ام المئومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں میں رات کے وقت کپڑ ا سی رہی تھیں میری سوئی گر گئی میں نے کافی تلاش کیا لیکن نہ ملی ۔ اتنے میں حضور نبی کریم ﷺ حجرہ مبارک میں تشریف لے آئے ۔ آپ ﷺ کے چہرہ انور کے نور  سے سارا حجرہ روشن ہو گیا اور مجھے سوئی مل گئی ۔ ( ابن عساکر )۔
کئی بار ایسا ہوتا کہ لوگ حضور نبی کریم ﷺ کے چہرہ انور کو دیکھ کر ہی ایمان لے آتے ۔ عبد اللہ بن سلام یہودیوں کا بہت بڑا عالم تھا ۔ وہ بتاتا ہے جب آپ ﷺ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو لوگ آپ ﷺ کی زیارت کے لیے جا رہے تھے۔ میں بھی  چلا گیا کہ زیارت تو کروں ۔ فرماتے ہیں جب وہاں پہنچا تو آپ ﷺ کا چہرہ انور دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا کہ آپ اللہ کے سچے  رسول ہیں اور میں آپ ﷺ پر ایمان لے آیا ۔

سیر ت النبی ﷺ اور حقوق زوجین(۲)

  سیر ت النبی ﷺ اور حقوق زوجین(۲) جیسے عورت پر شوہر کی اطاعت لازم ہے ایسے ہی شوہر کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کا احترام کرے اور اس کی تحقیر...