جمعہ، 12 جون، 2026

ذکر الہی کی فضیلت و فوائد (۱)

 

ذکر الہی کی فضیلت و فوائد (۱)

اللہ تعالی نے انسان کو اپنی عبادت اور معرفت کے لیے پیدا فرمایا ہے ۔بندہ مومن کی زندگی کا مقصد اپنے رب کو پہچاننا ، اس کی اطاعت کرتا  اور ہر حال میں اس کی یاد میں مشغول رہنا ہے ۔ ذکر صرف زبان سے چند کلمات دہرالینے کا نام نہیں بلکہ دل ، زبان اور اعمال کے ذریعے اللہ تعالی سے تعلق مضبوط کرنے کا نام ہے ۔ ذکر الہی دل کی روشنی ، بیمار کے لیے دوا و غذااور اعمال صالحہ کی روح ہے ۔ ذکر الہی سے غافل زبان ایسے ہی ہے جیسے اندھی آنکھ اور بہرے کان ۔
سورۃ الذٰریٰت میں  ارشاد باری تعالی ہے :’’ اور میں نے جن اور آدمی اس لیے بنائے کہ میری بندگی کریں ‘‘۔ سورۃ الاحزاب میں اللہ تعالی  ارشاد فرماتا ہے :’’اے ایمان والو اللہ کا ذکر کثرت سے کرو ‘‘۔ 
سورۃال عمران میں اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ :’’اور جو اللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں اے ہمارے رب تو نے یہ بیکار نہ بنایا پاکی ہے تجھے تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے ‘‘۔ سورۃ الانفال میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :’’ اے ایمان والو جب کسی گروہ سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو یاد کرو کہ تم مراد کو پہنچو‘‘۔ 
سورۃ الاحزاب میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : ’’اور کثرت سے یاد کرنے والے اورذکر کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا  ثواب تیار کر رکھا ہے ‘‘۔سورۃ البقرہ میں ارشاد باری تعالی ہے :’’ تم میرا ذکر کرو میں تمہارا ذکر کروں گا اور میرا شکر بجا لائو اور نا شکری نہ کرو‘‘۔  ذکر الہی سے رو گردانی کرنے والوں کے لیے قرآن مجید میں سخت وعید فرمائی گئی ہے ۔ سورۃ الزمر میں اللہ تعالی فرماتا ہے : ’’تو خرابی ہے ان کی جن کے دل یاد خدا کی طرف سے سخت ہو گئے ہیں وہ کھلی گمراہی میں ہیں‘‘۔ 
اسی طرح سورۃ الزخرف میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :’’ اور جو رحمن کے ذکر سے غافل ہو جائے ہم اس پر ایک شیطان تعینات کریں کہ وہ اس کا ساتھی رہے‘‘۔ 
احادیث مبارکہ میں بھی ذکر کی بے شمار فضیلت بیان کی گئی ہے ۔حضرت عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ  سے عرض کی یارسول اللہ ﷺ شریعت کے احکام میرے اوپر کثرت سے لازم ہو گئے ہیں ۔پس مجھے کوئی ایسی شے بتائیں جس سے میں چمٹ جاؤں اور اسے لازم پکڑ لوں ۔آپ ﷺ نے فرمایا تیری زبان ہر وقت اللہ کے ذکر سے تر رہنی چاہیے ۔ ( ترمذی )

جمعرات، 11 جون، 2026

پیکر شرم و حیا (۲)

 

پیکر شرم و حیا (۲)

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک جنازہ لایا گیا اور عرض کی گئی یا رسول اللہ ﷺ آپ اس کا جنازہ پڑھائیں ۔مگر آپ ﷺ نے اس پر نماز جنازہ نہ پڑھی ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ہم نے آپ کو کسی کی نماز جنازہ چھوڑتے نہیں دیکھا آپ ﷺ نے فرمایا یہ عثمان سے بغض رکھتا تھا تو اللہ نے بھی اس سے بغض رکھا ہے ۔ (ترمذی )۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بیشک حضور نبی کریم ﷺ نے بدر والے دن کھڑے ہو کر فرمایا بیشک عثمان اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے کام میں مصروف ہے اور بیشک میں اس کی بیعت کرتا ہوں اور نبی کریم ﷺ نے مال غنیمت میں سے بھی آپ کا حصہ مقرر کیا اور آپؓ کے علاوہ جو کوئی اس دن غائب تھا اس کے لیے حصہ مقرر نہیں کیا ۔ ( ابو داؤد )۔ حضرت طلحہ بن عبید اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر نبی کا ایک رفیق ہوتا ہے اور جنت میں میرا رفیق عثمان ہے ۔ ( ترمذی )۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے بیعت رضوان کا حکم دیا تو اس وقت حضرت عثمان بن عفان آپ ﷺکے سفیر بن کر مکہ والوں کے پاس گئے تھے ۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے حضور اکرم ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی ۔ تو نبی رحمت ﷺ نے فرمایا عثمان اللہ اور اس کے رسول کے کام میں مصروف ہے ۔ یہ فرمایا کر آپ ﷺ نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھ کر بیعت کی۔ حضرت عثمان کے لیے حضور نبی کریمﷺ کا دست مبارک لوگوں کے اپنے ہاتھوں سے اچھا تھا ۔ ( ترمذی)۔
سیدنا عثمان غنی نبی رحمت ﷺ  سے بے حد پیار فرماتے تھے ۔ ایک مرتبہ وضو کرتے ہوئے مسکرانے لگے ۔ لوگوں نے مسکرانے کی وجہ پوچھی تو فرمایا ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ اسی جگہ وضو کرتے ہوئے اسی طرح مسکرائے تھے ۔ ( مسند احمد )۔
 آپ رضی اللہ عنہ کا دور خلافت 12 سال پر محیط ہے ۔آپؓ کی خلافت میں بے شمار فتوحات ملیں اور اسلامی سلطنت میں اضافہ ہوا ۔ آپ ؓ کو اٹھارہ ذوالحجہ کو روزے کی حالت میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے نہایت مظلومیت کی حالت میں شہید کر دیا گیا ۔  حضرت عبد اللہ بن عمر بیان کرتے ہیں صبح کے وقت حضرت عثمان ؓ نے فرمایا بیشک میں نے نبی کریم ﷺ کو گزشتہ رات خواب  میں دیکھا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اے عثمان آج ہمارے پاس روزہ افطار کرو ۔پس آپؓ کو روزہ کی حالت میں اسی روز شہید کر دیا گیا ۔ ( مستدرک للحاکم )۔

بدھ، 10 جون، 2026

پیکر شرم و حیا (۱)

 

پیکر شرم و حیا (۱)

 پیکر شر و حیا امیر المؤمنین خلیفۃ المسلمین سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کاشمار سابقون الاولون میں ہوتا ہے یعنی وہ خوش نصیب صحابی جنہوں نے ابتدائے اسلام میں قبولیت اسلام کا شرف حاصل کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی اسلام لانے کی خبر جب گھر والوں تک پہنچی تو وہ آپؓسے ناراض ہو گئے یہاں تک کہ آپ کے چچا حکم بن العاص نے آپ کو رسی سے باندھ دیا اور کہا جب تک تم دین اسلام کو نہیں چھوڑوگے اسی سے بندھے رہو گے۔سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا :
’’اللہ کی قسم مذہب اسلام کو میں کبھی نہیں چھوڑوں گا اور نہ کبھی اس دولت سے دست بردار ہوسکتا ہوں۔ میرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے بھی کر ڈالو پھر بھی میر ے دل سے دین اسلام کو نہیں نکا ل سکتے ‘‘۔جب آپؓ کے چچا حکم بن العاص نے آپ ؓ کی استقامت کو دیکھا تو مجبور ہو کر آپؓ کو چھوڑدیا۔ ( تاریخ دمشق )۔
آپ رضی اللہ عنہ نے بارگاہ نبوت سے ایسا فیض پا یا کہ خدمت اسلام میں اتنی سخاوت کی کہ سید الاسخیا ء کہلائے۔آپؓ نے انفاق فی سبیل اللہ  کی ایسی مثال قائم کی جس کی نظیر رہتی دنیا تک نہیں ملے گی۔ آپ رضی اللہ عنہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ بارگاہ نبوت ﷺ سے دو نور عطاہوئے۔یعنی نبی رحمتﷺ نے اپنی بیٹیاں سیدنا عثمان غنیؓ کے نکاح میں دیں اور ذوالنورین کہلائے۔ شرم و حیاء کا ایسا پیکر کہ کامل الاحیاء ولایمان کے درجہ پر فائز ہوئے۔حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا میری امت میں سے سب سے زیادہ حیا دار عثمان بن عفان ہے۔ ( ابو نعیم )۔
حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ تشریف فرماتھے کہ آپؓ کے دونوں یا ایک گھٹنے سے کپڑا ہٹا ہواتھا جیسے ہی سیدنا عثمان غنی ؓ آئے تو آپﷺ نے اسے ڈھانپ لیا۔ ( بخاری )۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنا مال و متاع خدمت اسلام اور خدمت خلق کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ جنگ کا موقع ہو یا پھر کسی غلام کو آزادکرانے کا موقع ، مسلمانوں کی فلاح و بہبود کا کام ہو یا مسجد میں توسیع کا معاملہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ ہر موقع پر پیش پیش رہے۔
ہجرت مدینہ کے بعد جب مسلمانوں کو پانی کے مسائل کا سامنا ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی سے پوار کنواں جس کا نام رومہ تھا خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا۔غزوہ تبوک کے موقع پر آپ رضی اللہ عنہ تین سواونٹ بمع سازو سامان نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں پیش کیے۔آپ ﷺنے آپ کو دو بار جنت کی بشارت دی ایک بار جب کنواں خرید کر مسلمانوں کے وقف کیا اور دوسری بار جب جنگ تبوک کے موقع  پر اپنا مال نبی کریم ﷺ کے سامنے پیش کر دیا۔

منگل، 9 جون، 2026

طہارت قلبی

 

طہارت قلبی

انسان کے لیے باطنی اور قلبی طہارت بہت ضروری ہے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ باطن کو ہر قسم کی آلائشوں سے پاک کیا جائے۔ طہارت تامہ کا اہتمام کیا جائے تا کہ ظاہری اور باطنی طہارت کے علاوہ دل کی طہارت بھی ہو جائے۔ ظاہری طہارت کا تو ہر کسی کو معلوم ہے باطنی طہارت سے یہ مراد ہے کہ حرام لقمے اور حرام مشروبات سے بچا جائے۔ حدیث مبارکہ میں آتا ہے جس شخص نے ایک لقمہ حرام کا کھا لیا چالیس دن تک نہ اس کی فرض نماز قبول ہو گی اور نہ ہی نفلی۔اور نہ اس کی دعا قبول ہوتی ہے اور نہ اس کی التجا سنی جاتی ہے۔
قلبی طہارت سے یہ مراد ہے کہ تمام نا پسندیدہ صفات اور غل غپاڑہ ، کینہ و حسد ، مکرو فریب ، خیانت ، بغض عداوت اور دنیاکی محبت سے بچا جائے۔دنیا مخلوق کی پسندیدہ ہے خالق کی نہیں۔ جب تک دل اس سے پاک نہیں ہو گا اس کی نماز و طاعت قبول نہیں ہو گی۔ قلب خالق کا منظور نظر ہے اس لیے جب تک دنیا کی محبت کا داغ اس میں موجود ہے یہ عشق و محبت کی دولت سے مالا مال نہیں ہو سکتا۔
طہارت سری سے مراد یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے سوا کسی چیز کی طرف توجہ نہ دے۔ دل کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ بد نگاہی سے بچا جائے۔ حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : کہ نا محرم پر نگاہ ڈالنا ایک زہر آلود تیر ہے۔ جب دل پر پڑے تو سوائے ہلاکت کے اور کیا ہو سکتا ہے۔ ایک اور مقام پر حضور نبی کریم رئو ف الرحیم ﷺ نے ارشاد فرمایا : نگاہ ابلیس کے تیروں میں سے ایک زہر آلود تیر ہے۔
جس طرح مردوں کو نگاہ نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو بھی نگاہ نیچی رکھنے کا حکم فرمایا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : اور مسلمان عورتوں کو حکم دو کہ وہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں۔ نفس کی عزلت کا فائدہ یہ بھی ہے کہ ہاتھ ناشائستہ کاموں سے رک جاتا ہے۔ پائوں نامناسب مقامات کی طرف جانے سے رک جاتے ہیں۔ کان کا فائدہ یہ ہے کہ نا معقول باتیں نہ سنیں اس سے انسان کا بد ترین دشمن نفس قید ہو جاتا ہے۔ اسی عزلت کی برکت سے دل پر غیب کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ عزلت کا فائدہ یہ بھی ہے کہ دل سے دنیا کے نقوش مٹ جاتے ہیں۔ اور آخرت کے نقوش دل پر جھلکنے لگتے ہیں۔جب دل پوری طرح صاف ہوجاتا ہے۔ تو اس پر نور وحدانیت کے جلووں کے پرتو آتے ہیں۔ 
دل تجلی گاہ خدا وندی بن جاتا ہے۔

پیر، 8 جون، 2026

تعلیم اور استاد کی اہمیت (۲)

 

تعلیم اور استاد کی اہمیت (۲)

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں جس نے مجھے ایک حرف بھی سکھایا وہ میرا استاد ہے۔انبیاء کرام علیہم السلام کے علاوہ جتنی بھی بڑی شخصیات گزری ہیں اللہ تعالیٰ کی صلاحیتوں کے بعد استاد ہی کی مرہون منت ہیں۔ جب علامہ اقبال کو گورنمنٹ برطانیہ نے ’’سر‘‘ کا خطاب دینا چاہا تو آپ نے کہا کہ پہلے میرے استاد کو اعزازی خطاب دیا جائے۔
 گورنمنٹ نے کہا انہوں نے کوئی بھی قابل ذکر کتاب نہیں لکھیں جس پر آپ نے کہا جس استاد نے مجھ جیسا مفکر پیدا کیا ہے تو تصنیف کی کیا ضرور ت رہ جاتی ہے۔تو پھر آپ کے استاد کو شمس العلماء کا خطاب دیا گیا۔ 
طلبہ کی تعلیم و تربیت میں معلم کی اپنی شخصیت اور اس کے ذاتی اوصاف بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ طلبہ شعوری اورلاشعوری طور پر ان سے متاثر ہوتے ہیں اور یہ تاثر طلبہ کی زندگی بھر نمایا ں طور پر نظر آتا ہے۔ ایک معلم کو خوش لباس ، حلیم الطبع ، ہمدرد پابندِ وقت ، وسیع القلب اور علم دوست ہونا چاہیے۔ حضور نبی کریمﷺ کی شخصیت بڑی دلکش اور مؤثرتھی جو بھی دیکھتا آپ ﷺ کی طرف کھینچا چلا آتا تھا۔ آج کے معلم کو بھی حضور نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ سے راہنمائی لینی چاہیے تا کہ بچے اس سے دور بھاگنے کی  بجائے اس کے قریب ہوں۔ استاد کو کلاس میں بیہودہ زبان اختیار نہیں کرنی چاہیے۔ جو استاد خود کلاس کے اندر اور باہرغیر مہذب گفتگو کرے گا تو اس نے اپنے طلبہ کی راہنمائی کیا کرنی ہے اس لیے استاد کو زبان کی پاکیزگی کا خیال رکھنا چاہیے۔ استاد کو پابند وقت ہونا چاہیے۔ وقت کی پابندی زندگی میں انتہائی ضروری ہے۔ جب استاد ہی کلاس میں لیٹ پہنچے گا اور وقت کی پابندی نہیں کرے گا تو طلبہ میں بھی وقت کی پابندی کی عادت پیدا نہیں ہو گی اور وہ بھی کلاس میں ہمیشہ لیٹ ہی پہنچیں گے۔ 
کلاس میں بچوں سے غلطیاں سر زد ہو جاتی ہیں اس لیے ایک اچھا معلم وہی ہوتا ہے جو عفو و در گزر سے کام لے۔ ڈانٹنے والے اور غضب ناک لہجے والے کبھی  اچھے معلم نہیں بن سکتے۔ حضور نبی کریم ﷺ دوسروں کی دلداری کا بہت زیادہ خیال رکھا کرتے تھے ہمیشہ اپنے پرائے سب سے مسکرا کر ملا کرتے تھے۔ ایک اچھے معلم کو چاہیے کہ وہ کلاس میں سب بچوں کی دلداری کرے اور کلاس  میں خوش اخلاق ، ملنسار اور خوش طبع رہے۔ 
ایک اچھا استاد وہی ہوتا ہے جو کلاس میں مکمل تیاری کے ساتھ آئے اور کتابوں کے مطالعہ کا شوق رکھتا ہو اور کلاس میں دیانتداری کے ساتھ کام کرتا ہو۔ طلبہ اس معلم سے دیانتداری اور ایمانداری کا کیا سبق حاصل کریں گے جو خود ہی دیانتدار نہ ہو۔

اتوار، 7 جون، 2026

تعلیم اور استاد کی اہمیت (۱)

 

تعلیم اور استاد کی اہمیت (۱)

تعلیم و تربیت کی تاریخ میں اسلام کے ظہور کے بعد جو اہمیت تعلیم و تربیت کو دی گئی اس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ حضور نبی کریمﷺ معلم اعظم بن کر تشریف لائے۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ آپﷺ نے ایک مثالی معلم بن کر اس قوم کو بہترین اور مفید قوم بنایا جو اخلاقی اور قانونی لحاظ سے بالکل گری ہوئی قوم تھی۔ ایسی قوم جو جاہل ، جوئے بازاور سود خور تھی اور جن کے نزدیک زنا کوئی گناہ نہیں تھا۔ جو شراب کے عادی اور چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے قتل و غارت پر اتر آتے تھے۔ 
آپ ﷺ نے ان کو عزت کا رکھوالا ، با عصمت ، خدا ترس اور صالح انسان بنادیا۔ ان کی سیرت اور کردار میں ایسی تبدیلی پیدا کی کہ آج تک ماہر نفسیات اپنے علم کے کمال کے با وجود تشریح کرنے سے قاصر ہیں۔ 
حضور نبی کریم ﷺ انسانی فطرت کو سب سے زیادہ سمجھتے تھے۔ آپ ﷺ نے اپنے اعلی اخلاق اور کردار سے عرب کے لوگوں کو ایسی تعلیم دی کہ ہمیشہ کے لیے ان کے دلوں میں اتر گئی اور اخلاق و اطوار کی ایسی بلندی پیدا کر گئی جس کی معراج تک پہنچنا کسی معلم کے بس کی بات نہیں۔
اسلام نے نہ صرف ہر مسلمان مر د و عورت پر علم حاصل کرنا فرض قرار دیا بلکہ اخوت اسلامی کا عملی سبق دے کر تعلیم اور تعلیم کے مقصد کو ایسی ہمہ گیری اور وسعت نظری بخشی جو دنیا کے کسی اور مذہب کو حاصل نہ ہو سکی۔ قرآن مجید کے مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس میں لوگوں کی افرادی اور اجتماعی زندگی کے لیے مکمل رہنمائی موجود ہے۔ اسلام نے تعلیم کا جو مقصد بیان کیا ہے وہ جامع اور مکمل ہے اور سینکڑوں سال گزرنے کے باوجود بھی اسلام میں تعلیم کو بلند ترین مقصد قرار دیا جاتا ہے۔ جس تعلیم سے بچوں کی شخصیت میں نکھار پیدا نہ ہو اور انہیں کامیاب زندگی گزارنے کے لیے تیار نہ کیا جائے تو ایسی تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں۔ 
تعلیم میں علم ، معلم اور متعلم تینوں چیزیں ضروری ہیں۔کسان فصل حاصل کرنے کے لیے پہلے زمین کے ایک بہترین ٹکڑے کا انتخاب کرتا ہے اور بعد میں اس میں بیج اگا کر اچھی فصل حاصل کرتا ہے۔ ایک معمار اچھی بلڈنگ بنانے کے لیے اچھے مٹیریل کا انتخاب کرتاہے۔ لیکن ایک استاد ہی ہے جسے جس طرح کا بھی شاگرد مل جائے اس کی شخصیت کو سمجھ کر اس کی راہنمائی کرتا ہے اور ذہنی نشو نما کر کے ایک کامیاب شہری اور معاشرے کا مفید رکن بناتا ہے۔ 
آپ ﷺ نے استاد کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : تیرے تین باپ ہیں ایک وہ جس نے تجھے جنا ہے ، دوسرا وہ جس نے تجھے علم سکھایا اور تیسرا جس نے تجھے بیٹی دی۔

ہفتہ، 6 جون، 2026

بعثت نبی ﷺ اور حقوق نسواں(۲)

 

بعثت نبی ﷺ اور حقوق نسواں(۲)

حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے دو بچیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بالغ ہو گئیں تو آپ نے اپنی انگلیوں کو قریب کرتے ہوئے فرمایا کہ میں اور وہ قیامت کے دن اس طرح قریب ہوں گے۔ ( صحیح مسلم )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس کی ایک بیٹی ہو وہ اسے زندہ دفن نہ کرے، اس کی توہین نہ کرے، اپنے بیٹے کو اس پر فوقیت نہ دے تو اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا۔ ( ابی دائود )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے بیٹی کو وہ مقام و مرتبہ دیا جس کا زمانہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔ حضور نبی کریم ﷺ اپنی بیٹی کے استقبال کے لیے کھڑے ہو جاتے اور انہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ کلام و گفتگو میں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بڑھ کر کوئی بھی حضور ﷺ سے مشابہ نہیں تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ جب بھی حضرت فاطمہ الزہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہارسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضرہوتی تو آپﷺ انہیں خوش آمدید کہتے اور کھڑے ہو جاتے۔ ان کا ہاتھ پکڑتے، ان کی پیشانی پر بوسہ دیتے اور انہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے۔ (شعب الایمان )۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں حضور نبی کریمﷺ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے متعلق فرمایا تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔ 
اسلام نے عورت کو ماں ، بہن اور بیٹی ہر لحاظ سے عزت دی ہے۔ ایک موقع پر ماں کا مقام بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ’’ماں کی خدمت کو لازم پکڑ لو کیونکہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔ ( مسند احمد )۔
حضور نبی کریم ﷺ کی رضاعی والدہ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاجب آپﷺ کے پاس تشریف لائی تو ان کے احترام میں چادر بچھائی اور کافی دیر تک ان سے گفتگو کرتے رہے۔ اسلام نے عورت کو حقوق دیے جن کی وہ حق دارتھی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور ان  عورتوں کے لیے دستور کے مطابق اسی طرح حقوق ہیں جس طرح ان کی ذمہ داریاں ہیں ‘‘۔ ( سورۃ البقرۃ )۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ماں باپ اور رشتہ داروں نے جو مال چھوڑا ہے اس میں مردوں کا حصہ ہے اور ماں باپ اور رشتہ داروں نے جو مال چھوڑا ہے اس میں عورتوں کا حصہ ہے۔ وہ تھوڑا ہو یا زیادہ یہ حصہ طے شدہ ہے ‘‘۔( سورۃالنساء )۔
الغرض کہ حضور نبی کریم ﷺ نے عورت کا مقام و مرتبہ بلند کیا اسے ماں ، بہن اور بیٹی کا مقدس مقام دیا اور عورت کی عزت نفس کو بحال کیا۔*

ذکر الہی کی فضیلت و فوائد (۱)

  ذکر الہی کی فضیلت و فوائد (۱) اللہ تعالی نے انسان کو اپنی عبادت اور معرفت کے لیے پیدا فرمایا ہے ۔بندہ مومن کی زندگی کا مقصد اپنے رب کو پہچ...