علم اور عالم کی فضیلت
ارشاد باری تعالیٰ ہے (’’اے محبوب ﷺ) تم فرمائو کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان ‘‘۔ ( سورۃ الزمر )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتاہے۔ حضور نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا علم سعادت مندوں کو نصیب ہوتا ہے اور بد بخت اس نعمت سے محروم رہتے ہیں۔ حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا : جس شخص کو موت آئے اور وہ اسلام کو زندہ کرنے کے لیے علم سیکھتا ہو تو جنت میں اس کے اور انبیاء کے درمیان ایک درجہ ہو گا۔ ( مشکوۃ المصابیح )۔
حضرت علی ؓ کا قول ہے آپ فرماتے ہیں علم مال سے بہتر ہے ، علم تیری حفاظت کرتا ہے اور تو مال کی حفاظت کرتا ہے ،علم حاکم ہے اور مال محکوم علیہ ، مال خرچ کرنے سے گھٹتا ہے اور علم خرچ کرنے سے بڑھتا ہے۔ ( علم کی حقیقت )۔
حضرت ابو اسود ؓ فرماتے ہیں علم سے بڑھ کر کوئی چیزعزت والی نہیں کیونکہ بادشاہ لوگوں پر حاکم ہوتے ہیں اور علماء بادشاہوں پر حاکم ہوتے ہیں۔ (علم کی حقیقت )
حضرت زبیر بن ابی بکر ؓ فرماتے ہیں میرے والد نے مجھے خط لکھا اور کہا کہ علم حاصل کرو اس لیے کہ اگر مفلس ہوجائے تو یہ تیرا مال ہوگا اور اگر غنی ہو جائے گا تو یہ تیری زینت ہوگا۔ ( احیا ء العلوم )۔
سورۃ المجادلہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جس کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا ‘‘سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ سب سے زیادہ بخشش کرنے والا کون ہے ؟ صحابہ کرام نے عرض کی اللہ تعالیٰ اور اس کا رسولﷺ بہتر جانتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ جودو عطا کرنے والا ہے ، پھر تمام بنی آدم سے زیادہ میں جودو عطا کرنے والا ہوں اور میرے بعد بنی آدم میں سب سے زیادہ جودو سخا کرنے والا وہ آدمی ہے جس نے علم حاصل کیا اور پھر اس کو پھیلایا۔
قیامت کے دن وہ اکیلا امیر بن کر آئے گا وہ اکیلا ہی امت بن کر آئے گا۔ ( مشکوۃالمصابیح )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’اگر تیری وجہ سے اللہ تعالیٰ ایک شخص کو ہدایت دے دے تو یہ تیرے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔(ابودائود)۔
حضرت ابو امامہؓ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اور آسمان اور زمین والے یہاں تک کہ چیونٹی اپنے سوراخ میں اور مچھلی سمندر میں سب رحمت بھیجتے ہیں اس پر جو لوگوں کو خیر سکھاتا ہے۔ ( ترمذی )۔
حضرت انسؓ فرماتے ہیں خیر کا بتانے والا خیر کرنے والے کی مثل ہے۔ ( ترمذی )۔



