پیکر شرم و حیا (۱)
پیکر شر و حیا امیر المؤمنین خلیفۃ المسلمین سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کاشمار سابقون الاولون میں ہوتا ہے یعنی وہ خوش نصیب صحابی جنہوں نے ابتدائے اسلام میں قبولیت اسلام کا شرف حاصل کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی اسلام لانے کی خبر جب گھر والوں تک پہنچی تو وہ آپؓسے ناراض ہو گئے یہاں تک کہ آپ کے چچا حکم بن العاص نے آپ کو رسی سے باندھ دیا اور کہا جب تک تم دین اسلام کو نہیں چھوڑوگے اسی سے بندھے رہو گے۔سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا :
’’اللہ کی قسم مذہب اسلام کو میں کبھی نہیں چھوڑوں گا اور نہ کبھی اس دولت سے دست بردار ہوسکتا ہوں۔ میرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے بھی کر ڈالو پھر بھی میر ے دل سے دین اسلام کو نہیں نکا ل سکتے ‘‘۔جب آپؓ کے چچا حکم بن العاص نے آپ ؓ کی استقامت کو دیکھا تو مجبور ہو کر آپؓ کو چھوڑدیا۔ ( تاریخ دمشق )۔
آپ رضی اللہ عنہ نے بارگاہ نبوت سے ایسا فیض پا یا کہ خدمت اسلام میں اتنی سخاوت کی کہ سید الاسخیا ء کہلائے۔آپؓ نے انفاق فی سبیل اللہ کی ایسی مثال قائم کی جس کی نظیر رہتی دنیا تک نہیں ملے گی۔ آپ رضی اللہ عنہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ بارگاہ نبوت ﷺ سے دو نور عطاہوئے۔یعنی نبی رحمتﷺ نے اپنی بیٹیاں سیدنا عثمان غنیؓ کے نکاح میں دیں اور ذوالنورین کہلائے۔ شرم و حیاء کا ایسا پیکر کہ کامل الاحیاء ولایمان کے درجہ پر فائز ہوئے۔حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا میری امت میں سے سب سے زیادہ حیا دار عثمان بن عفان ہے۔ ( ابو نعیم )۔
حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ تشریف فرماتھے کہ آپؓ کے دونوں یا ایک گھٹنے سے کپڑا ہٹا ہواتھا جیسے ہی سیدنا عثمان غنی ؓ آئے تو آپﷺ نے اسے ڈھانپ لیا۔ ( بخاری )۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنا مال و متاع خدمت اسلام اور خدمت خلق کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ جنگ کا موقع ہو یا پھر کسی غلام کو آزادکرانے کا موقع ، مسلمانوں کی فلاح و بہبود کا کام ہو یا مسجد میں توسیع کا معاملہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ ہر موقع پر پیش پیش رہے۔
ہجرت مدینہ کے بعد جب مسلمانوں کو پانی کے مسائل کا سامنا ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی سے پوار کنواں جس کا نام رومہ تھا خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا۔غزوہ تبوک کے موقع پر آپ رضی اللہ عنہ تین سواونٹ بمع سازو سامان نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں پیش کیے۔آپ ﷺنے آپ کو دو بار جنت کی بشارت دی ایک بار جب کنواں خرید کر مسلمانوں کے وقف کیا اور دوسری بار جب جنگ تبوک کے موقع پر اپنا مال نبی کریم ﷺ کے سامنے پیش کر دیا۔






