منگل، 30 جون، 2026

شہادتِ امام حسین علیہ السلام

 

شہادتِ امام حسین علیہ السلام

 یزیدیوں کی طرف سے عمر و بن سعد نے سب سے پہلا تیر چلا کر جنگ کا آغاز کیا اور کہنے لگا گواہ رہنا سب سے پہلے میں نے تیر چلایا تھا۔اہل بیت کی طرف سے سب سے پہلے شہزادہ علی اکبر ؒ میدان میں اترے اور بڑی بہادری کے ساتھ کئی کوفیوں کو واصل جہنم کرتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایا۔ اس کے بعد حضرت عباس ، عبید اللہ بن عمیر ، عون بن عبدا للہ ، محمد بن عبداللہ،عبدا لرحمن بن عقیل ، حضرت قاسم ،ابو بکر بن حسین سب کوفیوں کا مقابلہ کرتے شہید ہو گئے۔یہاں تک کہ چھ ماہ کے ننھے علی اصغر کو بھی حلق میں تیر لگا کر شہید کر دیا گیا۔
خاندان نبوت کے چشم و چراغ ایک ایک کر کے دین اسلام کی خاطر شہید ہوتے رہے۔اس کے بعد امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ میدان میں نکلے۔ آپ کمال بہادری کے ساتھ یزیدیوں سے لڑرہے تھے شیروں کی طرح کوفیوں پر جھپٹتے اور ان کی صفوں کو اپنے زور دار حملے سے الٹ پلٹ کر دیتے۔ اور فرماتے :تم لوگ میرے ہی قتل کے لیے جمع ہوئے ہو اللہ کی قسم مجھے قتل کرنے سے اللہ تم سے سخت ناراض ہو گا۔ اور تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو گا۔ (ابن خلدون)
امام عالی مقامؑ یزیدیوں کی صفوں میں گھس کر انہیں جہنم واصل کر رہے تھے اتنے میں شمر چلایا لعنت ہو تم پر سب مل کر حملہ کرو۔ہر طرف سے تیروں کی بارش ہوئی۔ امام عالی مقام زخمی ہو کر اپنے گھوڑے سے نیچے تشریف لے آئے۔امام عالی مقام امام حسین پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سر سجدے میں رکھا تو یزیدی لعین نے تلوار سے آپ کا سر انور جسد اطہرسے جدا کردیا۔دس محرم الحرام جمعہ کے دن امام عالی مقام امام حسین ؑشہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہو گئے۔ آپؑ کے جسم اقدس پر تیروں کے زخموں کے تینتیس اور تلواروں کے زخموں کے تینتالیس نشان تھے۔ 
امام عالی مقام کی شہادت کے روز حضرت ام سلمی رضی اللہ عنہا رو رہی تھیں۔ ان سے رونے کی وجہ پوچھی تو آپ نے کہا میں نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ہے آپ کی داڑھی مبارک اور سر انور پر گرد تھی۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ کیا ہوا ہے۔
 حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے حسین کو شہید کر دیا گیا ہے۔ میں ابھی وہاں سے آیا ہوں۔ 
امام عالی مقام نے شہادت تو قبول کر لی لیکن کسی بھی صورت فاسق اور فاجر کی بیعت کو قبول نہ کیا۔ خواجہ معین الدین چشتی  فرماتے ہیں :
شاہ است حسین بادشاہ است 
دین است حسین دین پناہ است حسین 
سرداد نہ داد دست در دست یزید 
حقا کہ بنائے لاالہ است حسین

پیر، 29 جون، 2026

سفر کربلا اور شہادت نواسہء رسول ﷺ (۳)

 

سفر کربلا اور شہادت نواسہء رسول ﷺ (۳)

جب حُر کو اس بات کا علم ہوا کہ یزیدی آپؓ کو شہید کرنے کا ارادہ کر چکے ہیں تو آپ یزیدی لشکر چھوڑ کر امام حسین ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ میں نے سب سے پہلے آپ ؓ کا راستہ روکا تھا ۔میں اپنے کیے کی آپ ؓ سے معافی چاہتا ہوں اور سب سے پہلے آپ ؓ کے لیے  اپنی جان پیش کرنا چاہتا ہوں۔ جنگ کا آغاز ہوا تو حسینی لشکر میں سے سب سے پہلے حضرت حُر نے یزیدیوں پر حملہ کیا اور کئی یزیدیوں کو واصل جہنم کرنے کے بعد جام شہادت نوش فرمایا ۔ حضرت زبیر بن حسان ؓ بھی میدن کربلا میں یزیدیوں کو واصل جہنم کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔ اس کے بعد دیگر جانثارانِ امام حسین رضی اللہ عنہ بھی میدان کربلا میں بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے ۔
عون و محمد ، حضرت عبد اللہ بن حسین ، حضرت عبد اللہ بن حسن ، حضرت علی اکبر ، حضرت عباس ، حضرت قاسم ، ابوبکر بن علی ، عمر بن علی ، عون بن علی ، جعفر بن علی ، عبد اللہ بن علی یہاں تک کہ ننھے علی اصغر بھی جام شہادت نوش فرماگئے ۔ 
جب سارے شہزادے ایک ایک کر کے جام شہادت نوش فرماگئے تو امام حسین ؓ خیمے میں تشریف لے گئے خیمے میں بیمار امام زین العابدینؓ ا ور  باپردہ عورتیں موجود تھیں ۔ اما م زین العابدین نے جب میدان کربلا میں جانے کا ارداہ کیا تو امام حسین ؓ نے آپ کو روک لیا اور فرمایا خواتین  کی حفاظت تیرے ذمہ ہے۔ میرے نانا جان اور بابا جان کی جو امانتیں باقی ہیں تیرے حوالے کرتا ہوں ۔ اس کے بعد سید الشہداء امام حسین ؓ نے نانا جان کی دستار سر پر رکھی اور حضرت علی ؓ کی تلوار لیے ذوالجناح پر سوار ہوئے اہل خانہ کو اللہ تعالی  کے سپرد کر کے میدان کی طرف تشریف لے گئے ۔ 
امام عالی مقام امام حسین ؓ میدان میں نکلے یزیدی لشکر کو کاٹتے ہوئے واصل جہنم کرتے ہوئے یزیدی لشکر کی صفوں کو توڑ کر رکھ دیا ۔ جب امام عالی مقام ؓ کو اس بہادری سے لڑتے ہوئے دیکھا تو ابن سعد نے کہا کہ سب مل کر حملہ کرو ۔ یزیدیوں نے آپ ؓ پر تیروں کی بارش کر دی جس کی وجہ سے آپ ؓ زخمی ہو گئے ۔ اس دن آپ ؓ کے جسم اطہر پر 72 زخموں کے نشان موجود تھے۔
آپ ؓ گھوڑے سے نیچے تشریف لے آئے اور قبلہ رخ ہو کر بیٹھ گئے ۔ امام عالی مقام امام حسین ؓ نے سر سجدے میں رکھا تو یزیدیوں نے آپ ؓ کا  سر مبارک تن سے جد ا کر دیا ۔د س محرم الحرام اکسٹھ ہجری کو آپ ؓ  شہادت کے عظیم مرتبہ پر فائز ہو ئے اوراپنے نانا کے دین کو بچا لیا ۔
شاہ است حسینؓ بادشاہ است حسینؓ
دین است حسینؓ دین پناہ است حسینؓ
سرداد نہ داد دست در دست یزید 
حق کہ بنائے لا الہٰ است حسینؓ

اتوار، 28 جون، 2026

سفر کربلا اور شہادت نواسہءرسول ﷺ (۲)

 

سفر کربلا اور شہادت نواسہءرسول ﷺ (۲)

ادھر مکہ مکرمہ میں بھی آپ رضی اللہ عنہ کو حج کے دوران شہید کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا تھا ۔امام عالی مقام امام حسین ؓ نے حج کا ارادہ  ترک کر کے اسے عمرہ میں تبدیل کر دیا اور کوفہ کی طرف روانہ ہونے کا فیصلہ کیا ۔آپ ؓ کے رفقاءنے آپ ؓ کو کوفہ جانے سے منع کیا۔ لیکن  آپ ؓ نے کہا کہ کوفہ کے لوگ مجھے پکار رہے ہیں میرے نانا جان کے دین کو میری ضرورت ہے لہذا میں ضرور کوفہ جاؤ ں گا ۔ راستے  میں بھی آپ ؓ کے چاہنے والوں نے آپ کو کوفہ جانے سے روکا مگر آپ اپنے ارادہ پر قائم رہے ۔
اس سفر کے دوران آپ ؓ کو بے شمار مشکلات پیش آئیں ۔راستے میں مسلم بن عقیل ؓ اور آپ ؓ کے دو صاحبزادوں کی شہادت اور حضرت ہانی ؓ کی شہادت کی خبر ملی ۔ کوفہ کے حالات یکسر بدل چکے تھے یزید نے تمام لوگوں کو ڈرا دھمکا کر اپنے ساتھ کر لیا تھا لیکن اس  سب کے باوجود امام عالی مقام نے سفر جاری رکھنے کا ارادہ کیا ۔ 
 امام حسین ؓ نے اپنے رفقاءکو جمع کیا اور خطاب کرتے ہوئے فرمایا :جو جانا چاہے چلا جائے میں کسی کو مجبور نہیں کروں گا کہ وہ میرے ساتھ چلے ۔یزید صرف میرے خون کا پیاسا ہے لیکن آپ ؓ کے وفادار اور جانثار ساتھیوں نے وفا داری کی عظیم مثال قائم کرتے ہوئے جانے سے انکار کر دیا ۔
سب سے پہلے حر نے آپ ؓ کا راستہ روکا اور آپ ؓ کو شہر میں داخل نہ ہونے دیا ۔ تین محرم الحرام کو آپؓ کو مجبوراً میدان کربلا میں خیمے لگانے پڑے۔ 7 محرم الحرام کو آپ ؓ کا پانی بند کر دیا گیا ۔نو محرم کو نماز عصر کے بعد ابن سعد نے امام عالی مقام امام حسین ؓ پر چڑھائی کر دی ۔ اس وقت  آپ اپنے خیمے میں بیٹھے تھے ۔ آپ نے ابن سعد کو پیغام بھیجا کہ ہمیں آج کی رات مہلت دو ہم اپنے رب کے حضور استغفار اور دعا  کر لیں نماز پڑھ لیں اور تلاوت قرآن پاک کر لیں صبح وہ ہو گا جو ہونے والا ہے ۔ (ابن خلدون ) ۔ 
دس محرم الحرام کو آپؓ نے اپنے رفقاءکے ساتھ نماز فجر با جماعت ادا کی ۔ابھی آپ ؓ نے دعا بھی نہ مانگی تھی کہ یزیدی لشکر سے جنگ کے نقارے بجنے لگے۔ ابن سعد نے اپنے لشکر کو ترتیب دینا شروع کر دیا ۔ امام حسین ؓ نے بھی اپنے لشکر کو ترتیب دیا ۔اس کے بعد آپؓنے صداقت کا آخری خطبہ اور یزیدیوں کوخاندان نبوت کی توقیر کرنے اور انہیں اپنے ناپاک ارادوں سے باز رہنے کی تلقین کی ۔آپؓ نے اہل حق کی جانب سے حجت تمام کر دی لیکن یزیدی اپنے مقصد سے باز نہ آئے ۔

ہفتہ، 27 جون، 2026

سفر کربلا اور شہادت نواسہءرسول ﷺ (۱)

 

سفر کربلا اور شہادت نواسہءرسول ﷺ (۱)

شہادت امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ اسلامی تاریخ کا وہ عظیم باب ہے جس نے حق و باطل کے درمیان واضح لکیر کھینچ دی ۔
میدان کربلا میں پیش آنے والا واقعہ محض ایک جنگ یا سیاسی اختلاف نہ تھا بلکہ یہ دین اسلام کی حقیقی روح ، عدل ، صداقت ، صبر  اور استقامت کے تحفظ کی ایک بے مثال داستان تھی ۔ امام حسین ؓ نے اپنی جان ، اپنے اہل خانہ اور اپنے جانثار ساتھیوں کی قربانی دے کر یہ ثابت کر دیا کہ حق کی خاطر ہر قربانی دی جاسکتی ہے مگر باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا جا سکتا ۔ 
امام عالی مقام کا مدینہ منورہ سے کربلا تک کا سفر دراصل حق کی سر بلندی اور باطل کے خلاف اعلان جہاد کا سفر تھا جس کی گونج آج بھی دنیا کے ہر آزاد ضمیر انسان کے دل میں سنائی دیتی ہے ۔ 
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ان کے بیٹے یزید نے مسند خلافت سنبھال لیا اور شام والوں سے بیعت لینے کے بعد اپنی خلافت کو مضبوط کرنے کے لیے مدینہ منورہ میں بھی تمام بڑے بڑے اکابر ین سے بیعت لینے کا فیصلہ کیا  لیکن امام عالی مقام ؓ نے یزید کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایاکہ میں ایک فاسق فاجر اور ظالم کی بیعت نہیں کروں گا ۔ امام  عالی مقام ؓنے مدینہ منورہ میں رہ کر حالات کا جائزہ لیا جب یزید نے زبر دستی بیعت لینے کا فیصلہ کیا تو آپ اپنے رفقا ءکے ساتھ  ماہ رجب ساٹھ ہجری کو مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے ۔ راستے میں عبد اللہ بن مطیع ؓ سے ملاقات ہوئی تو انہو ں نے عرض کی آپ ؓ مع اہل و عیال کہاں تشریف لے جا رہے ہیں تو آپ نے کہا ابھی تو مکہ مکرمہ جانے کا ارادہ ہے ۔ عبد اللہ بن مطیع ؓ نے کہا آپ وہاں جا کر کوفہ جانے کا ارادہ نہ فرمایے گا ۔کوفہ کے لوگ بے وفا ہیں انہوں نے آپ ؓ کے والد اور بھائی کو بھی شہید کر دیا تھا۔آپ ؓ جب مکہ مکرمہ پہنچے تو وہاں کے لوگ جوق در جوق آپؓ کی زیارت کے لیے تشریف لانے لگے ۔ 
مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران آپ ؓ کو کوفہ سے بے شمار خطوط موصول ہوئے کہ ہم نے یزید کی بیعت نہیں کی لہذا آپ ؓ کوفہ تشریف  لے آئیں ہم آپ کے ہاتھ پر بیعت کریں گے ۔ حالات کا جائزہ لینے کے لیے آپ ؓ نے اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیلؓکو کوفہ قاصد بنا کر بھیجا ۔جب مسلم بن عقیل ؓ وہاں پہنچے اور لوگ کو خبر ہوئی توہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت  کی ۔ مسلم بن عقیل ؓ نے حالات کا جائزہ لینے کے بعد امام حسین ؓ کو خط لکھا کہ آپ تشریف لے آئیں حالات ساز گار ہیں ۔

جمعہ، 26 جون، 2026

فضائل و مناقب امام حسین رضی اللہ عنہ (۲)

 

فضائل و مناقب امام حسین رضی اللہ عنہ (۲)

نبی کریم ﷺ نے حسن و حسین کے ساتھ لڑنے والوں کو تنبیہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا، جس نے ان سے لڑائی کی ایسا ہی ہے کہ اس نے مجھ سے لڑائی کی ۔ 
حضرت زیدبن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ نے حضرت علی ؓ ، حضرت فاطمہ ؓ ، حضرت حسن اور حضرت حسین ؓسے فرمایا :
جس سے تم لڑو گے میری بھی اس سے لڑائی ہوگی اور جس سے تم صلح کرو گے میری بھی اس سے صلح ہو گی ۔ ( ترمذی )۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس نے مجھ سے محبت کی اس پر لازم کہ وہ ان دونوںیعنی  امام حسن ؓ اور امام حسین ؓ سے بھی محبت کرے ۔ ( نسائی )۔
سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ انتہائی سخی ، رحم دل اور بلند حسن اخلاق کے مالک تھے ۔ضرورت مندوں کی مدد کرنا ، یتیموں اور مسکینوں  کا خیال رکھنا اور اللہ تعالی کی رضا کے لیے مال خرچ کرنا آپ ؓ کی نمایا ں صفات ہیں ۔ 
تاریخ ابن عساکر میں ہے کہ ایک مرتبہ ایک فقیر نے امام عالی مقام اما م حسین رضی اللہ عنہ کے دروازے پر دستک دی اور کہا جس نے آپ سے امید رکھی اور جس نے آپ کے دروازے پر دستک دی وہ کبھی نا امید نہیں ہوا ۔ آپ صاحب جودو سخاوت کے چشمے ہیں ۔ امام حسین ؓ نماز ادا فرما رہے تھےنماز سے فارغ ہو کر دروازے پر آ کر دیکھا تو ایک غریب اور بھوکا سائل سامنے کھڑا تھا ۔ آپ ؓ نے اپنے غلام سے پوچھا گھر میں کتنا مال بچا ہوا ہے ۔ غلام نے عرض کی دو سو درہم ہیں جو آپ کے حکم سے آپ کے اہل خانہ پر خرچ کرنے ہیں ۔ آپ ؓ نے فرمایاسارے درہم لے آؤ آنے والا سائل میرے اہل خانہ سے زیادہ ان کا حق دار ہے ۔ آپ ؓ نے وہ درہم  سائل کو دیے اور فرمایا کہ یہ لے لو اور کم ہونے پر معافی چاہتا ہوں اگر اور ہوتے تو وہ بھی تمہیں دے دیتا ہمیں ہر حال میں مہر بانی کا  حکم دیا گیا ہے۔ 
امام عالی مقام بہت زیادہ عبات گزار تھے ایسے عبادت گزار کہ میدان کربلا میں یوم عاشور کی رات مظلومی اور بے کسی کے عالم میں  بھی ساری رات اللہ تعالی کی عبادت کی ۔ ایسے عابد تھے کہ علی اکبر ، علی اصغر ، حضرت عباس ، عون و محمد کی لاش و کو دیکھ اور اپنے جسم پر لگنے والے بے شمار زخموں کے باوجود میدان کربلا کی تپتی ریت پر نیزوں اور تلواروں کے سائے میں نماز ادا کی ۔

جمعرات، 25 جون، 2026

فضائل و مناقب امام حسین رضی اللہ عنہ(۱)

 

فضائل و مناقب امام حسین رضی اللہ عنہ(۱)

تاریخ اسلام میں ایسی شخصیات بھی ہیں جن کی عظمت زمان و مکان کی حدودِ  ماورا ہے ۔ان کے کردار کی روشنی صدیوں کے فاصلے کو مٹا کر آج بھی انسانیت کو حق و صداقت کا راستہ دکھاتی ہے ۔ ان عظیم ہستیوں میں سید الشہدا،مظلوم کربلا ، نواسہء رسول ،جگر گوشہ بتول امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ کا نام نہایت نمایاں ہے ۔آپ رضی اللہ عنہ کی زندگی ایمان ، صبر ، شجاعت ، ایثار اور حق پر استقامت کا ایسا روشن باب ہے جسے قیامت تک یاد رکھا جائے گا ۔ امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظمت کا سر چشمہ آپ ؓ  کا نسب مبارک،بلند کردار اور عظیم قربانی ہے جس نے اسلام کو نئی زندگی عطا کی ۔ 
آپ رضی اللہ عنہ کی ولادت باسعادت 4 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی ۔ آپ رضی اللہ عنہ کو یہ شرف ملا کہ آپ امام الانبیاء خاتم الانبیاء کے نواسے ،آپ ؓ کی والدہ  ؓ سید ۃ النساء العالمین سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا اور والد گرامی امام الاولیاء شیر خدا حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم ہیں ۔نبی رحمت ﷺ  سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دونوں شہزادوں سے بے حد پیار فرماتے تھے ۔ انہیں کندھوں پر بٹھاتے ، سینے سے لگاتے اور ان کے لیے خصوصی دعا فرمایا کرتے تھے ۔ 
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا حسن و حسین جنتی نوجوان کے سردار ہیں ۔( ترمذی )۔ ایک اور روایت میں ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہو ں ۔
حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن میرے حسب و نسب کے سواہر نسب  منقطع ہو جائے گا ۔ہر بیٹے کی نسبت اس کے باپ کی طرف ہوتی ہے ماسوائے اولاد فاطمہ ؓ کے۔ ان کا باپ بھی میں ہو ں اور ان کا نسب بھی  میں ہوں ۔ ( بہیقی ، طبرانی )۔
 حضرت ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کی بارگاہِ ناز میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ دونوں شہزادے آپ ﷺ کی گود میں کھیل رہے ہیں ۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ آپ ان سے محبت کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا میں ان سے محبت کیوں نہ کروں میرے گلشن دنیا کے یہی دو پھول ہیں جن کی مہک کو سونگھتا رہتا ہوں ۔ ( طبرانی )۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حسن و حسین رضی اللہ عنہما کا ہاتھ پکڑ ا اور فرمایا جس نے مجھ سے اور ان دنوں سے  محبت کی اور ان کے والد سے اور ان کی والدہ سے محبت کی وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میرے ہی ٹھکانہ پر ہوگا ۔ ( ترمذی )۔

بدھ، 24 جون، 2026

فضائل و مناقب اہلِ بیت اطہارؓ(۳)

 

فضائل و مناقب اہلِ بیت اطہارؓ(۳)

حضرت زر بن جیش ؓ سے مروی ہے کہ حضرت علی نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔بیشک نبی مکرمﷺ نے مجھ سے یہ عہد کیا ہے کہ مومن مجھ سے محبت رکھے گا اور منافق مجھ سے بغض رکھے گا۔ ( مسلم، ترمذی )۔ حضرت بریدہ رضی للہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ کو عورتوں میں سب سے زیادہ محبوب اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ ؓ اور مردوں میں سے سب سے زیادہ محبوب حضرت علیؓ  تھے۔ 
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آیت مباہلہ ’’آپ(ﷺ) فرما دیں آئو ہم اپنے بیٹوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنے بیتوں کو بلائو ‘‘نازل ہوئی تو آپﷺ نے حضرت علیؓ ، حضرت فاطمہؓ ، حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کو بلایا اور فرمایا یا اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں۔ ( مسلم ، ترمذی )۔
حضرت عمران بن حصین ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بیشک علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں اور میرے بعد وہ ہر مسلمان کا ولی ہے۔ ( ترمذی )۔
حضرت مسور بن مخرمہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا بیشک فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے اور مجھے ہرگز یہ پسند نہیں کہ کوئی شخص  اسے تکلیف پہنچائے۔ خدا کی قسم کسی شخص کے پاس رسول اللہ اور دشمن خدا کی بیٹیاں جمع نہیں ہو سکتیں۔ ( متفق علیہ )۔
حضرت ثوبان ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنے اہل و عیال میں سب کے بعد جس سے گفتگو فرما کر سفر پر روانہ  ہوتے وہ حضرت فاطمہ ؓ ہوتیں اور سفر سے واپسی پر سب سے پہلے جس کے پاس تشریف لاتے وہ بھی حضرت فاطمہ ہوتیں۔ ( ابو دائود)۔ سرور کائنات حضور نبی کریمﷺ کو اپنے دونوں نواسوں سے بہت زیادہ محبت و الفت تھی۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضور نبی کریمﷺ سے عرض کی گئی آپ کو اہل بیت میں سب سے زیادہ کس سے پیار ہے۔ آپﷺ نے فرمایا حسن ؓ اور حسینؓ سے مجھے بہت زیادہ پیار ہے۔ حضرت فاطمہ ؓسے حضور نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے میرے بیٹوں کو میرے پاس لائو۔ آپﷺ دونوں شہزادوں کو سینہ مبارک پر بٹھا لیتے تھے اور جسم کو سونگتے تھے۔ ( ترمذی )۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : بیشک حسن ؓاور حسینؓ دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔( مشکوٰہ شریف)۔ 
اہل بیت اطہار اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت اور رسول اللہﷺ کی مبارک نسبت ہیں۔قرآن مجید نے ان کی پاکیزگی کو بیان کیا اور احادیث مبارکہ میں ان کی محبت کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا۔ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اہل بیت سے محبت کرے اور ان کی سیرت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔

شہادتِ امام حسین علیہ السلام

  شہادتِ امام حسین علیہ السلام  یزیدیوں کی طرف سے عمر و بن سعد نے سب سے پہلا تیر چلا کر جنگ کا آغاز کیا اور کہنے لگا گواہ رہنا سب سے پہلے م...