اتوار، 13 ستمبر، 2026

صحت انسانی اور سیرت النبی ﷺ(۳)

 

صحت انسانی اور سیرت النبی ﷺ(۳)

حضور نبی کریم ﷺ نے کھانے پینے میں احتیاط اور اعتدال سے کام لینے کا حکم فرمایا ۔ یعنی کہ نہ ہی اتنا کم کھائیں کہ بھوکے رہ جائیں اور نہ ہی بھوک سے زیادہ کھائیں کہ بیماری کا سبب بن جائے ۔ اگر کھانے پینے میں اعتدال سے کام نہ لیا جائے تو نعمت زحمت بن جاتی ہے ۔ 
ایک دفعہ ایک بادشاہ نے حضور نبی رحمت ﷺ کی خدمت میں ایک حکیم بھیجا کہ وہ وہاں رہ کر لوگوں کا علاج کرے ۔لیکن کافی  عرصہ گزرنے کے باوجود کوئی بھی اس کے پاس علاج کے لیے نہ آیا  تو وہ حکیم آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ  ایک عرصہ گزر گیا ہے لیکن میرے پاس کوئی علاج کے لیے نہیں آیا ۔آپ ﷺ نے فرمایا : میرے صحابہ پر جب تک بھوک حاوی  نہ ہو جائے تب تک کھانا نہیں کھاتے اور جب تھوڑی بھوک باقی رہ جائے تو وہ کھانا چھوڑ دیتے ہیں ۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے بہت زیادہ کھانے سے منع فرمایا ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا مسلمان ایک  آنت سے کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں سے کھاتا ہے ۔ ( موطا امام مالک )۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے زیادہ کھانے کو فتنہ قرار دیا ۔ آپﷺ نے فرمایا : جب کسی قوم کے پیٹ حد سے زیادہ بھر جائیں تو ان  کے جسم موٹے ہو جاتے ہیں ان کے دل کمزور ہو جاتے ہیں اور ان کی شہوتیں سر کش ہو جاتی ہیں ۔ (الترغیب الترہیب )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے زیادہ کھانے کو بیماریوں کی جڑ قرار دیا ۔(احیا ءالعلوم )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے بیماری کی صورت میں علاج کروانے کی ترغیب دی ۔ بیماری کی صورت میں علاج کروانا اللہ تعالی پر توکل کے منافی نہیں بلکہ اللہ تعالی پر توکل رکھ کر ظاہری اسباب اختیار کرنا آپ ﷺ کی سنت مبارکہ ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے بیماری کی صورت میں مایوس ہونے سے منع فرمایا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا بڑھاپے اور موت کے علاوہ اللہ تعالی نے ہر  بیماری کا علاج پیدا کیا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالی نے کوئی ایسی بیماری پیدا نہیں فرمائی جس کا علاج پیدا نہ کیا ہو ۔ (بخاری)۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :اے اللہ کے بندو دوائی لیا کرو کیونکہ اللہ تعالی نے ہر بیماری کی شفا ءپیدا فرمائی ہے مگر  ایک بیماری کی دوائی نہیں پیدا کی۔ وہ بڑھاپا ہے ۔( المعجم الکبیر )۔ ایک روایت میں بڑھاپے کے ساتھ موت کا لفظ بھی آیا ہے یعنی موت اوربڑھاپے کی کوئی دوا نہیں ۔ مسند امام احمد میں ہے آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالی نے جس طرح بیماری پیدا کی اسی طرح اس کی دوا بھی پیدا فرمائی لہذا تم دوا کا استعمال کیا کرو ۔

ہفتہ، 12 ستمبر، 2026

صحت انسانی اور سیرت النبی ﷺ(۲)

 

صحت انسانی اور سیرت النبی ﷺ(۲)

آنکھیں اللہ تعالی کی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور ان کی حفاظت کرنا بہت ضروری ہے ۔حضور نبی کریم ﷺ نے بیماری آنے  سے پہلے اس سے بچنے کے لیے حفاظتی اصول اپنانے کی تلقین فرمائی ۔ سرمہ انسان کی خوبصورتی کا سبب بھی بنتا ہے اور اس  کے ساتھ ساتھ اس کے بہت سے طبی فوائد بھی ہیں ۔ ہمیں حضور نبی کریم ﷺ کی سیرت مبارکہ سے بھی سرمہ استعمال کرنےکا درس ملتا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا اثمد  سرمہ استعمال کرو کیونکہ یہ نظر کو تیز کرتا ہے اوربال اگاتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کی ایک سرمہ دانی تھی جس سے آپ ﷺ رات کو سوتے وقت دونوں آنکھوں میں تین تین سلائیاں ڈالا کرتے تھے ۔ ( ترمذی)۔
 حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اثمد سرمے کا ستعمال کرو کیونکہ یہ بال اگاتا ہے بیماری دور کرتا ہے اور نظر کو صاف کرتا ہے ۔ ( المعجم الکبر للطبرانی )۔
اللہ تعالی کی نعمتوں کو کھانا اوراس پر شکر بجا لانا ضروری ہے لیکن انسان کو کوئی بھی چیز کھانے سے پہلے اس بات کا خیال رکھنا  چاہیے کہ آیا کہ جو چیز وہ کھانے لگا ہے کیا وہ اس کی صحت کے لیے نقصان دہ تو نہیں ۔ ایسا کرنا نا شکری نہیں بلکہ تعلیم نبوی ﷺہے ۔ 
حضرت ام منذر ؓ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ میرے گھر تشریف لائے آپ کے ساتھ حضرت علی ؓ بھی تھے ۔  گھر میں کچی کھجور کے کچھ گھچے لٹک رہے تھے آپ ﷺ اتار کر کھانے لگے تو حضرت علی ؓنے کھانا شروع کر دیا ۔ آپ ﷺ نے حضرت علی کو فرمایا اے علی رک جاؤ تم ابھی بیماری سے صحت یاب ہو ئے ہو ۔ حضرت ام منذرؓ فرماتی ہیں پھرمیں نے   چقندر  اور جو سے بنا کھانا آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا تو آپ ﷺ نے حضرت علیؓ سے کہا اے علی کھاؤ یہ تمہاری صحت کے لیے زیادہ اچھا ہے ۔ ( ترمذی )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے کسی بھی ایسے علاقے میں جانے سے منع فرمایا ہے جہاں کوئی ایسی بیماری پھیلی ہو جس کی وجہ سے  دوسروں کو اس بیماری کے لگ جانے کا خدشہ ہو ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : طاعون ایک عذاب ہے جسے بنی  اسرائیل پر بھیجا گیا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ تم سے پہلے لوگوں پر بھیجا گیا لہذا تم کسی بھی ایسے علاقے میں نہ جاؤ جہاں یہ بیماری پھیلی ہو اور اگر تمہارے علاقے میں طاعون پھیل جائے تو وہاں سے باہر مت جاؤ ۔ (موطا امام مالک )۔ یعنی کسی علاقے میں ایسی بیماری پھیل جائے تو نہ وہاں جاؤ اور نہ ہی وہاں کے لوگ باہر آئیں خود بھی بیماری سے بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں ۔

جمعرات، 10 ستمبر، 2026

صحت انسانی اور سیرت النبی ﷺ(۱)

 

صحت انسانی اور سیرت النبی ﷺ(۱)

اللہ تعالی نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جن کا جتنا بھی شکر بجا لا ئیں کم ہے ۔ اللہ تعالی کی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت صحت و تندرستی ہے اگر انسان صحت مند ہو گا تو اپنے تمام معاملات کو احسن طریقے سے سر انجام دے سکے گا اور اگر صحت  ہی ٹھیک نہ ہو تو کوئی بھی کام کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے جیسے بیمار روح کا علاج کیا اور بتایا اسی طرح آپ ﷺ نے انسان کی صحت کو ٹھیک رکھنے اور احتیاط کرنے کے بہت سے اصول بتائے جن پر عمل کر کے ہم بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔ 
حضور نبی کریم ﷺ کی سیرت مبارکہ سے سب سے پہلا سبق ہمیں یہ ملتا ہے کہ صحت کو خراب کرنے والی چیزوں سے پرہیز کیا جائے ۔ اور کھانے پینے میں ہر لحاظ سے احتیاط سے کام لیاجائے ۔ انسان دن بھر کام کاج میں مگن رہتا ہے اور اس کے ہاتھوں پر طرح طرح کی میل کچیل لگتی رہتی ہے ۔اگر ہم کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ نہ دھوئیں تو یہ سارے جراثیم ہمارے جسم میں جا کر بہت ساری بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں ۔ اس لیے آپ ﷺ نے کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کی تلقین فرمائی ۔ 
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ کھانے کی برکت کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعدوضو کرنے میں ہے ۔ ( ترمذی ) 
ابن ماجہ کی روایت میں ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو بندہ یہ چاہتا ہے کہ اللہ جل شانہُ اس کے گھر میں خیر وبرکت نازل فرمائے اسے چاہیے کہ وہ اس وقت بھی وضو کرے جب کھانا کھائے اور اس وقت بھی وضو کرے جب کھانا اٹھایا جائے۔ اس کے بعد انسانی صحت کے لیے منہ اور دانتوں کی صفائی بھی بہت ضروری ہے کیونکہ انسان کھانا دانتوں سے چبا کر کھاتا ہے اور اگر دانت صاف نہ ہو ں تو مختلف جراثیم کھانے کے ساتھ انسانی معدے میں چلے جائیں گے جو بیماریوں کا سبب بنیں گےاس لیے آپ ﷺ نے بار بار مسواک کرنے کی تلقین فرمائی ۔ 
حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا مسواک کرو کیونکہ مسواک منہ کو صاف رکھتی ہے اور اس سے اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے ۔ پھر فرمایا میرے پاس جبریل امین تشریف لائے انہوں نے مجھے مسواک کرنے کی تلقین فرمائی ۔ یہاں تک کہ میں ڈر گیا کہ مجھ پر اور میری امت پر فرض نہ ہو جائے ۔آپ ﷺ نے فرمایا اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا ڈر نہ ہوتا تو میں ہر نماز کے ساتھ مسواک فرض کر دیتا ۔ (المعجم الکبیر للطبرانی )

منگل، 8 ستمبر، 2026

حضور نبی کریم ﷺ کا رُخ انور

 

حضور نبی کریم ﷺ کا رُخ انور

حضور نبی کریم ﷺ کا رُخ انور اللہ تعالی کے جمال کا آئینہ اور انوار تجلیات کا مظہر تھا ۔ آپ ﷺ کا چہرہ انور نہایت ہی وجیہ، پُر گوشت اور کسی قدر گول تھا ۔ حضرت براء بن عازب ؓ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ کا چہرہ انور تمام لوگوں سے زیادہ خوبصورت تھا اور حضور نبی کریم ﷺ کے خلق بھی تمام لوگوں سے زیادہ دلکش اور زیبا تھے ۔ (بخاری ، مسلم)۔
حضرت جابر بن سمرہ ؓسے فرماتے ہیں کہ میں نے ایک چاندنی رات حضور نبی کریم ﷺ کی زیارت کی ۔حضور نبی کریم ﷺ نے سرخ رنگ کی پوشاک پہنی ہوئی تھی ۔ آپ ؓ فرماتے ہیں میں کبھی حضور نبی کریم ﷺ کے چہرہ انورکو دیکھتا اور کبھی چودھویں کے چاند کو۔ میں کافی دیر دیکھتا رہا ۔ میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ نبی رحمت ﷺ چودھویں رات سے زیادہ دلربا اور خوبصورت ہیں ۔ ( ترمذی )۔
رُخ انور کی تجلی جو قمر نے دیکھی 
                                       رہ گیا بوسہ دہِ نقشِ کفِ پا ہو کر
حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں میں نے آج تک کہیں بھی کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جو حضور نبی کریم ﷺ سے زیادہ حسین ہو ۔ یوں معلوم  ہوتا تھا کہ سورج چہرہ اقدس میں طلوع ہو رہا ہے ۔ ( ترمذی )۔
حضرت کعب ؓ فرماتے ہیں حضور نبی کریم ﷺ جب خوش ہوتے تو آپ ﷺ کا چہرہ انور چمکنے لگتا اور ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے چاند کا ٹکڑا  ہے ۔ ( بخاری )۔
حضرت براء بن عازب ؓ سے مروی ہے آپ سے پوچھا گیا کیا حضور نبی کریم ﷺ کا چہرہ انور تلوار کی طرح تھا ۔حضرت براء ؓنے جواب دیا نہیں بلکہ چاند کی طرح تھا کیونکہ چاند میں روشنی بھی ہے اور گولائی بھی ۔ ( بخاری )۔ ام المئومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں میں رات کے وقت کپڑ ا سی رہی تھیں میری سوئی گر گئی میں نے کافی تلاش کیا لیکن نہ ملی ۔ اتنے میں حضور نبی کریم ﷺ حجرہ مبارک میں تشریف لے آئے ۔ آپ ﷺ کے چہرہ انور کے نور  سے سارا حجرہ روشن ہو گیا اور مجھے سوئی مل گئی ۔ ( ابن عساکر )۔
کئی بار ایسا ہوتا کہ لوگ حضور نبی کریم ﷺ کے چہرہ انور کو دیکھ کر ہی ایمان لے آتے ۔ عبد اللہ بن سلام یہودیوں کا بہت بڑا عالم تھا ۔ وہ بتاتا ہے جب آپ ﷺ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو لوگ آپ ﷺ کی زیارت کے لیے جا رہے تھے۔ میں بھی  چلا گیا کہ زیارت تو کروں ۔ فرماتے ہیں جب وہاں پہنچا تو آپ ﷺ کا چہرہ انور دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا کہ آپ اللہ کے سچے  رسول ہیں اور میں آپ ﷺ پر ایمان لے آیا ۔

پیر، 7 ستمبر، 2026

ادبِ مصطفی ﷺ(۲)

 

ادبِ مصطفی ﷺ(۲)

حضور نبی رحمت ﷺ کی بارگاہ کا تقاضا یہ ہے کہ جب آپ ﷺ بلائیں تو چاہے بندہ نماز کی حالت میں بھی ہو تو فوری حاضر ہو جائے ۔ 
اور اس سے نماز بھی فاسد نہیں ہو گی ۔ارشاد باری تعالی ہے :” اے ایمان والو اللہ اور سول کے بلانے پر حاضر ہو جب تمہیں بلائیں “۔ 
بخاری شریف کی روایت ہے کہ حضرت ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد نبوی میں نماز پڑھ رہا تھا مجھے نبی کریم ﷺ نے بلایا لیکن میں آپ ﷺ کے بلانے پر حاضر نہ ہوا ۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد میں نبی رحمت ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور  عرض کی میں نماز پڑھ رہا تھا ۔حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا اللہ تعالی کا حکم نہیں پڑھا ” اللہ اور رسول کے بلانے پر حاضر ہو جایا کرو “۔ 
سورۃا لنور میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ”رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرا لو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے “۔ (النور )۔
یعنی حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں جب حاضر ہوں یا دور سے حضور نبی کریم ﷺ کو پکارا جائے تو اس طرح نہیں پکارنا چاہیے جیسے تم آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو ۔ 
حضور نبی کریم ﷺ کے گھر ایک دعوت کے موقع پر کچھ لوگ زیادہ دیر بیٹھے رہے اور آپس میں گفتگو کرتے رہے ۔ اس طرح زیادہ دیر  بیٹھے رہنا اللہ تعالی کو پسند نہ آیا کیونکہ یہ بات حضور ﷺ کے لیے باعث تکلیف تھی تو اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا :
”اے ایمان والو نبی کے گھروں میں نہ حاضر ہو جب تک اذن نہ پاؤ مثلاً کھانے کے لیے بلائے جاؤ نہ یوں کہ خود اس کے پکنے کی راہ تکو۔  ہاں جب بلائے جاؤ تو حاضر ہو اور جب کھا چکو تو متفرق ہو جاؤ نہ یہ کہ بیٹھے باتوں میں دل بہلاؤ بیشک اس میں نبی کو ایذا ہوتی تھی تو وہ تمہارا لحاظ فرماتے تھے “۔   ( الاحزاب )۔
صحابہ کرام حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ کا ادب جس قدر بجا لاتے تھے اس کا اندازہ اس حدیث مبارکہ سے لگایا جا سکتا ہے ۔ حضرت مسور بن مخرمہ اور مروان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب عروہ بن مسعود کفار کی طرف سے وکیل بن کر حاضر ہوا تو وہ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ اپنا لعاب پھینکتے تو کوئی نہ کوئی صحابی اسے اپنے ہاتھ میں لے لیتا اور اسے اپنے چہرے پہ ملتا ۔جب آپ ﷺ کوئی حکم فرماتے  تو فوری اس کی تعمیل کرتے ۔جب آپ ﷺ وضو فرماتے تو آپ ﷺ کے وضو کا پانی حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے  جانے کی کوشش کرتے ۔جب آپ ﷺ گفتگو فرماتے تو اپنی آوازیں پست کر لیتے اور انتہائی ادب کے ساتھ گفتگو سنتے ۔ ( بخاری )۔

اتوار، 6 ستمبر، 2026

ادبِ مصطفی ﷺ(۱)

 

ادبِ مصطفی ﷺ(۱)

کائنات میں ایک نام ایسا ہے جس کے ساتھ تاریخ کی عظمت ، انسانیت کی تکمیل ، اخلاق کی بلندی اور رحمت کی وسعت سمٹ آتی ہے ۔  وہ نام نامی اسم گرامی حبیب خدا احمد مجتبی محمد مصطفی ﷺکا ہے ۔آپ ﷺ کا ذکر ہو تو الفاظ اپنی تاثیر کھو دیتے ہیں ، قلم ٹھہر جاتا ہے اوردل بے اختیار عقیدت سے جھک جاتا ہے ۔حضور نبی رحمت ﷺ کی ذات اقدس کے ساتھ ادب کا تعلق کسی رسم ، روایت یا معاشرتی  تہذیب تک محدود نہیں بلکہ یہ ایمان کی روح سے جڑا ہوا ہے ۔ قرآن مجید نے جہاں ایمان ، عبادت اور تقوی کی تعلیم دی وہیں بارگاہ  رسالت ﷺ کے آداب بھی سکھائے ۔
ادب ایک ایسی چیز ہے جو نصیب بدل دیتی ہے ۔ہر بارگاہ کا ایک ادب ہوتا ہے۔ جو اس بارگاہ کا ادب کرتے ہیں اور جو نہیں کرتے ان کا  حال جدا جدا ہوتا ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ کے ادب کا کیا عالم ہوگا جو حبیب خدا بھی ہیں اور وجہ تخلیق کائنات بھی ۔  حضور نبی کریم ﷺ جب صحابہ کرام کے درمیان تشریف فرما ہوتے اور انہیں وعظ و نصیحت فرماتے تو کبھی کبھی صحابہ بات کو سمجھنے کے لیے کہتے  ”راعنا یا رسول اللہ ﷺ “ یعنی ہمارے حال کی رعایت فرمائیں ۔ یہودیوں کی لغت میں راعنا بے ادبی کا معنی رکھتا تھا تو انہوں نے اسی نیت سے بلانا شروع کر دیا ۔تو اللہ تعالی نے حضور نبی رحمت ﷺ کا ادب بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :”اے ایمان والو راعنا نہ کہو اور  یو ں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو “۔ ( سور ة البقرۃ )۔ 
قرآن مجید میں اہل ایمان کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اپنی آوازیں نبی رحمت ﷺ کی آواز سے بلند نہ کرو اور آپ ﷺ کی گفتگو میں وہ انداز  اختیار نہ کرو جو عام لوگوں کے درمیان اختیار کیا جاتا ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے :  ”اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے نبی کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت نہ ہو جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو “۔ ( سورۃ الحجرات )۔
حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ اس قدر نازک بارگاہ ہے کہ ذرا سی آواز بھی اونچی ہو ئی تو سارے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور ہمیں خبر تک نہیں ہو گی ۔ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی تو میں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ میں آپ ﷺ سے سرگوشی کے انداز میں بات کروں گا ۔(کنزالعمال )۔
حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی تو سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا حال یہ تھا کہ آپ ﷺ کی  بارگاہ میں آہستہ سے بات کرتے اور بعض اوقات آپ ﷺ کو بات سمجھنے کے لیے دوبارہ پوچھنا پڑتا کہ کیا کہتے ہو ۔ ( ترمذی )۔

ہفتہ، 5 ستمبر، 2026

عظمت و شان مصطفی ﷺ (۲)

 

عظمت و شان مصطفی ﷺ (۲)

 حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن مجھے عرش کی دائیں جانب ایسے مقام پر کھڑا کیا جائے گا کہ جہاں کسی اور کو قدم رکھنے کی مجال نہ ہو گی اس وقت اولین و آخرین میرے ساتھ رشک کریں گے ۔ ( مسند احمد )۔
 حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی نے مجھے اختیار دیا کہ میں اپنی نصف امت کو جنت میں داخل کرا لوں یا شفاعت  کروں۔ میں نے شفاعت کو پسند کیا کیونکہ شفاعت کا فیضان عام ہے ۔جب تک میری امت کا آخری فرد بھی جنت میں نہ پہنچ  جائے اس وقت تک میں شفاعت کا حق استعمال کرتا رہوں گا۔ پھر فرمایا یہ شفاعت متقین کے لیے نہیں ہوں گی بلکہ میری شفاعت  گناہ گاروں اور خطاکاروں کے لیے ہو گی ۔ (ابن ماجہ )۔ 
حضرت ابو سعید خدری ؓسے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایک روز جبرائیل امین میرے پاس آئے اور کہا کہ میرا رب اور آپ کا رب آ پ کو فرماتا ہے کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ میں نے آ پ کے ذکر کو کس طرح بلند کیا ۔ حضور نبی کریم ﷺ  نے جواب دیا اللہ تعالی بہتر جانتا ہے ۔ جبرائیل امین نے جواب دیا اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اس بلند ذکر کی صورت یہ ہے کہ جب میرا ذکر کیا جائے گا اس وقت میرے ذکر کے ساتھ تیرا ذکر بھی کیا جائے گا ۔  حضرت عمر ؓ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن تمام تعلقات اور رشتہ داریاں ختم ہو جائیں گی لیکن  میرا تعلق اور میرا نسب اس روز بھی قائم رہے گا ۔  حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا سب سے پہلے میری قبر شریف کھلے گی اور میں باہر آؤں گا۔ مجھے  جنت کی پو شاکوں سے ایک خلعت پہنائی جائے گی ۔ پھر میں عرش الہی کی دائیں جانب کھڑا ہوں گا ۔ میرے علاوہ کسی کو بھی اس مقام پر کھڑا ہونے کا شرف حاصل نہیں ہو گا ۔ ( ترمذی )۔ 
حضرت سلمان ؓسے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک روز جبرائیل امین تشریف لائے اور عرض کی بیشک آپ کا رب فرماتا  ہے اگر چہ میں نے ابراہیم کو خلیل بنایا ہے لیکن آپ کو میں نے اپنا حبیب بنایا ہے میں نے آج تک کوئی ایسی چیز پیدا نہیں کی جو آپ سے  زیادہ میرے نزدیک مکرم ہو ۔ میں نے دنیا اور اس کے رہنے والوں کو اس لیے پیدا کیا تا کہ میں آپ کی کرامت اور آپ کے درجہ رفیعہ  سے ان کو آگاہ کروں ۔ اگر آپ کی ذات نہ ہوتی تو میں دنیا کو بھی پیدا نہ کرتا ۔ ( حجۃ اللہ علی العالمین )۔

صحت انسانی اور سیرت النبی ﷺ(۳)

  صحت انسانی اور سیرت النبی ﷺ(۳) حضور نبی کریم ﷺ نے کھانے پینے میں احتیاط اور اعتدال سے کام لینے کا حکم فرمایا ۔ یعنی کہ نہ ہی اتنا کم کھائی...