سیدہ زینب بنت علی ؓ(۱)۔
تاریخ اسلام ایسی عظیم اور باکردار شخصیات سے مزین ہے جنہوں نے اپنے علم ، تقوی ، صبر اور استقامت کے ذریعے آنے والی نسلوں کے لیے ہدایت و رہنمائی کے چراغ روشن کیے ۔ ان درخشندہ ہستیوں میں سیدہ زینب بنت علی سلام اللہ علیہاکا نام انتہائی عزت و احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے ۔ آپ ؓ نبی رحمت ﷺ کی نواسی ، سیدنا علی المرتضیؓ اور سیدہ فاطمہ الزہراؓ کی صاحبزادی ہیں ۔
آپ ؓ نے ایسے پاکیزہ گھرانے میں پرورش پائی جو علم ، حکمت ، عبادت اور اخلاق نبوی ﷺ کا سر چشمہ تھا ۔ سیدہ زینب ؓ کی زندگی صرف عظیم خاتون کی داستان نہیں بلکہ صبر ، شجاعت ، حق گوئی اور استقامت کا ایسا روشن باب ہے جو قیامت تک اہل ایمان کے دلوں کو منور کرتا رہے گا ۔
خصوصاً واقعہ کربلا کے بعد جس جرات ، حکمت اور ثابت قدمی کے ساتھ آپ نے حق کا پرچم بلند رکھا وہ آپ ؓ کی بے مثال عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے مصائب کے طوفان میں بھی صبر و رضا کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا اور اپنے کردار سے یہ ثابت کیا کہ ایمان ، حوصلہ اور حق پسندی انسان کو ہر آزمائش میں سر خرو کر سکتی ہے ۔
حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدہ زینب علم و دانش میں وہ مقام رکھتی تھیں کہ انہیں دنیا کے ارباب دانش کے سامنے بیٹھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی اور آپ ؓ فہم و ادراک کی اس منزل پر فائز ہیں کہ انہیں کسب فیض کے لیے کسی صاحب فکر و نظر کی دہلیز پر جھکنے کی ضرورت نہیں تھی ۔
سیدہ زینب ؓ کو پاک ماحول و آغوش عصمت ملی ۔ آپ ؓ ہر وقت دانش و فضیلت کے جواہر جمع کرنے کے لیے کوشا ں رہتیں۔ امام سیوطی ؒ فرماتے ہیں کہ سیدہ زینب نہایت خرد مند اور صاحب درایت مخدومہ تھیں ۔ ابن عتبہ لکھتے ہیں کہ سیدہ زینب ؓ اپنی لاتعداد صفات نیک ، گرانقدر و پر شکوہ اوصاف اور پسندیدہ فضائل میں دیگر کی نسبت ممتاز تھیں ۔ آپ ؓ کے سعادت آفریں اخلاق و عادات نمایاں صفات اخلاقی اور باافتخار پاک و طاہر فضائل نے آپ ؓ کو تمام لوگوں سے زیادہ صاحب امتیاز بنا دیا ۔
آپ ؓ کو اپنے بھائی امام عالی مقام امام حسین ؓ سے بہت زیادہ محبت تھی ۔ روایت میں ہے کہ شادی کے بعد ایک دن آپ ؓ کو افسردہ دیکھا گیا ۔ جب پوچھا گیا تو معلوم ہوا کہ تین روز سے امام حسین ؓ سے ملاقات نہیں ہوئی ۔ آپ ؓ اپنے بھائی کے رازوں کی امین تھیں ۔ زندگی کے عام اور خاندان نبوت کے مسائل حل کرنے میں ید طولی حاصل تھا ۔ امام حسن ؓ اور امام حسین ؓ بھی اپنی بہن کا بہت زیادہ احترام کرتے تھے ۔
آپ ؓ نے ایسے پاکیزہ گھرانے میں پرورش پائی جو علم ، حکمت ، عبادت اور اخلاق نبوی ﷺ کا سر چشمہ تھا ۔ سیدہ زینب ؓ کی زندگی صرف عظیم خاتون کی داستان نہیں بلکہ صبر ، شجاعت ، حق گوئی اور استقامت کا ایسا روشن باب ہے جو قیامت تک اہل ایمان کے دلوں کو منور کرتا رہے گا ۔
خصوصاً واقعہ کربلا کے بعد جس جرات ، حکمت اور ثابت قدمی کے ساتھ آپ نے حق کا پرچم بلند رکھا وہ آپ ؓ کی بے مثال عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے مصائب کے طوفان میں بھی صبر و رضا کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا اور اپنے کردار سے یہ ثابت کیا کہ ایمان ، حوصلہ اور حق پسندی انسان کو ہر آزمائش میں سر خرو کر سکتی ہے ۔
حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدہ زینب علم و دانش میں وہ مقام رکھتی تھیں کہ انہیں دنیا کے ارباب دانش کے سامنے بیٹھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی اور آپ ؓ فہم و ادراک کی اس منزل پر فائز ہیں کہ انہیں کسب فیض کے لیے کسی صاحب فکر و نظر کی دہلیز پر جھکنے کی ضرورت نہیں تھی ۔
سیدہ زینب ؓ کو پاک ماحول و آغوش عصمت ملی ۔ آپ ؓ ہر وقت دانش و فضیلت کے جواہر جمع کرنے کے لیے کوشا ں رہتیں۔ امام سیوطی ؒ فرماتے ہیں کہ سیدہ زینب نہایت خرد مند اور صاحب درایت مخدومہ تھیں ۔ ابن عتبہ لکھتے ہیں کہ سیدہ زینب ؓ اپنی لاتعداد صفات نیک ، گرانقدر و پر شکوہ اوصاف اور پسندیدہ فضائل میں دیگر کی نسبت ممتاز تھیں ۔ آپ ؓ کے سعادت آفریں اخلاق و عادات نمایاں صفات اخلاقی اور باافتخار پاک و طاہر فضائل نے آپ ؓ کو تمام لوگوں سے زیادہ صاحب امتیاز بنا دیا ۔
آپ ؓ کو اپنے بھائی امام عالی مقام امام حسین ؓ سے بہت زیادہ محبت تھی ۔ روایت میں ہے کہ شادی کے بعد ایک دن آپ ؓ کو افسردہ دیکھا گیا ۔ جب پوچھا گیا تو معلوم ہوا کہ تین روز سے امام حسین ؓ سے ملاقات نہیں ہوئی ۔ آپ ؓ اپنے بھائی کے رازوں کی امین تھیں ۔ زندگی کے عام اور خاندان نبوت کے مسائل حل کرنے میں ید طولی حاصل تھا ۔ امام حسن ؓ اور امام حسین ؓ بھی اپنی بہن کا بہت زیادہ احترام کرتے تھے ۔






