ہفتہ، 11 اپریل، 2026

دین راہبر ہے

 

دین راہبر ہے

دین انسان کے لیے راہبر ہے ، مقتدا ہے اور امام ہے۔ دین کی عظمت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان دل وجان سے دین کو اپنا راہبر و مقتدا بنائے اور ہرمعاملے میں دین سے راہنمائی حاصل کرے۔مثال کے طور پر ایک شخص کوئی کام کرنا چاہتا ہے اور اس کام کو کرنے کے لیے اس کے پاس مکمل مواقع اور اسباب موجود ہیں مگر دین اسے اس کام سے منع کرتا ہے تو وہ اپنے جذبات اور احساسات کو دین پر قربان کر دیتا ہے اور اس کام کو کرنے کا ارادہ ترک کردیتا ہے۔
اگر ایک شخص دین کے اس حصہ کو مکمل طور پر چھوڑ دے جس پر عمل کرنے سے اسے اپنے مفادات اور خواہشات کی قربانی دینا پڑے لیکن اس حصہ کو اپنا لے جس سے اس کا اپنا مفاد وابستہ ہو ایسا شخص دین پر عمل کرنے والا نہیں ہوتا بلکہ اپنے مفادات کے لیے دین کو بطور سیڑھی استعمال کرتا ہے۔ 
ارشاد باری تعالیٰ ہے : کیا تم کتاب کے بعض حصے پر ایمان لاتے ہو اور بعض کا کفر کرتے ہو ؟ پس تم میں سے جو لوگ یہ کام کریں ان کی سزا اس کے سوا اورکیا ہو گی کہ وہ دنیا کی زندگی میں رسوا ہوں گے اور قیامت کے دن اس سے بھی شدید عذاب کی طرف لوٹا دئیے جائیں۔ اور اللہ تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیوی زندگی کو آخرت کے بدلے میں خرید لیا۔ سو نہ ان سے عذاب کم کیا جائے گا اور نہ ہی ان کی مدد کی جائے گی۔ ( سورۃ البقرۃ )۔ 
یعنی جس بندے نے دین کے ساتھ صرف ایسا تعلق جوڑا ہو کہ اس نے دین کو اپنا راہبر نہ بنایا ہو اور دین کے لیے سب کچھ لٹانے کے جذبوں سے محروم ہو تو ایسا شخص دراصل اپنی آخرت تباہ کر کے دنیا کو بچانے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ دین کو اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی سیڑھی بنانے والا دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کے عذاب میں مبتلا ہو گا اور آخرت میں بھی عذاب میں مبتلا ہو گا۔ 
قرآن مجید میں یہود کے جن جرائم کی وجہ سے ان کو سزائیں دی گئیں ان میں سے ان کا ایک جرم یہ بھی تھا کہ وہ دین کے ایک حصہ کو مانتے تھے جو ان کی خواہشات کے مطابق ہوتا تھا اور اس حصے کو چھوڑ دیتے تھے جس سے ان کا کوئی ذاتی مفاد وابستہ نہیں ہوتا تھا۔
مذہبی عقیدتیں بہت گہری اور نازک ہوتی ہیں۔ جو شخص ان عقیدتوں کو کسی بھی طرح اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرتا ہے وہی دین کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے سیڑھی بناتا ہے۔ دین انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ادا کردہ مکمل ضابطہ حیات ہے جسے مکمل طور پر اپنانے سے انسان دین اور دنیا کی سعادتیں حاصل کر سکتا ہے۔جس شخص نے مکمل طور پر دین کو اپنا راہبر بنا لیا اور اس کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا تو کبھی  دنیا و آخرت میں رسوا نہیں ہو گا۔

جمعہ، 10 اپریل، 2026

آج کا نوجوان اور بے مقصدیت (۲)

 

آج کا نوجوان اور بے مقصدیت (۲)

احادیث مبارکہ میں بھی نوجوانی کی اہمیت اور اس کے درست استعمال پر زور دیا گیا ہے۔نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بروز قیامت انسان سے پانچ سوال کیے جائیں گے۔ (۱) عمر کن کاموں میں گزاری (۲) جوانی کن کاموں میں گزاری (۳) مال کہاں سے کمایا (۴)مال کہاں خرچ کیا (۵) اپنے علم پر کہا ں تک عمل کیا ؟
اس حدیث مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ نوجوانی کا ہر لمحہ قیمتی ہے اور اس کا حساب دینا ہوگا۔اگر یہ وقت فضولیات میں گزر گیا تو اس کا انجام خسارہ ہی ہو گا۔ آج کے نوجوان کی بے مقصدیت کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں پہلی وجہ دین سے دوری ہے۔جب نوجوان قرآن و سنت سے دور ہو جائے تو وہ اپنے مقصد کو بھول جاتا ہے۔بے مقصدیت کی دوسری بڑی وجہ مغربی تہذیب کی اندھی تقلید ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمزنے نوجوان کو اسی دنیا میں الجھا دیا ہے جہاں وقتی خوشی تو مل جاتی ہے لیکن دائمی سکون نہیں۔تیسری وجہ راہنمائی کا فقدان ہے۔والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ نوجوان نسل کی راہنمائی کریں اور ان کی سمت کو درست کریں۔ 
بے مقصدیت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان  ذہنی دبائو ، مایوسی اور بے چینی میں جکڑا رہتا ہے۔جب انسان کے پاس کوئی واضح ہدف نہ ہو تو وہ چھوٹی چھوٹی ناکامیوں کی وجہ سے بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ 
اصحاب کہف کے نوجوانوں نے ظالم بادشاہ کے دور میں اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے دنیا کی آسائشوں کو ٹھکرا دیا اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے ایک مشکل راستے کا انتخاب کیا۔اللہ تعالیٰ نے اس عمل کو قرآن مجید میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر نوجوان اپنے مقصد کو جان لے اور اللہ کی رضا کو مقدم رکھے تو وہ تاریخ بدل سکتا ہے۔ 
آج کے نوجوان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی زندگی کا واضح مقصد متعین کرے۔ سب سے پہلے اسے اللہ سے اپنا تعلق مضبوط کرنا چاہیے اور اپنے دل کو محبت رسولﷺ سے منور کرے۔ نماز ، تلاوت قرآن اور دعا کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔اس کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم ، ہنر اور صلاحیتوں کو مثبت انداز میں استعمال کرے۔
والدین اور اساتذ ہ کو بھی چاہیے کہ وہ نوجوانوں کی صحیح رہنمائی کریں۔انہیں دنیاوی تعلیم اور کامیابی کے ساتھ آخرت کی کامیابی کا بھی شعور دیں۔ ان کے اندر خود اعتمادی ، ذمہ داری اور مقصدیت پیدا کریں۔ 
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نوجوان نے دنیا کی لذت اور اس کے عیش و عشرت کو چھوڑ دیا اور اپنی جوانی میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی جانب پیش قدمی کی تو اللہ تعالیٰ اسے 72 صدیقین کے برابر ثواب دے گا۔ ( کنزالعمال )۔

بدھ، 8 اپریل، 2026

آج کا نوجوان اور بے مقصدیت (۱)


 

آج کا نوجوان اور بے مقصدیت (۱)

آج کا دور تیز رفتار ترقی ، جدید ٹیکنالوجی اور بے شمار سہولیات کا دور ہے۔ بظاہر انسان نے مادی لحاظ سے بہت ترقی کر لی ہے مگر روحانی ، اخلاقی اور فکری لحاظ سے ایک بڑا خلاء پیدا ہو چکا ہے۔ خصوصا ً ہماری نوجوان نسل اس خلاء کا سب سے زیادہ شکار ہوتی نظر آتی ہے۔بے مقصدیت ، ذہنی انتشار اور زندگی کے اصل مقصد سے دوری آج کے نوجوان کا ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ اس نازک مرحلے میں ہمیں قرآن و حدیث سے رہنمائی ملتی ہے کہ ہم اپنی زندگی درست سمت میں لے جا سکیں۔ نوجوانی کسی بھی انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی دور ہوتا ہے۔ یہی وہ وقت ہے جہاں انسان اپنے مستقبل کی بنیاد رکھتا ہے اپنے کردار کو سنوارتا ہے اور اور اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دیتا ہے۔ حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا جوانی کو غنیمت جانو بڑھاپے سے پہلے۔کیونکہ یہی جب بندہ اپنے تمام تر کام اور معاملات احسن طریقے سے سر انجام دے سکتا ہے۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارا آج کانوجوان اس قیمتی وقت کو اکثر فضول سر گرمیوں ، سوشل میڈیا اور غیرسنجیدہ مشاغل میں ضائع کر رہاہے۔اس کی سب سے بڑی وجہ زندگی کے مقصد کا واضح نہ ہونا ہے۔جب انسان کو یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کس مقصد کے لیے دنیا میں بھیجا گیا ہے تو اس کی زندگی بے مقصد ہو جاتی ہے۔ 
ارشاد باری تعالیٰ ہے : اور میں نے جنو ں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ (سورۃ لذٰریٰت:آیت ۵۶)۔ یعنی انسان کی تخلیق کا بنیادی مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی بندگی ہے۔عبادت کا مفہوم صرف نماز ، روزہ ، زکوۃ ، حج اور دیگر ظاہری عبادات تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھنا ہی اصل عبادت ہے۔ جب نوجوان اس حقیقت کو سمجھ لے تو اس کی زندگی خود بخود ہی درست سمت کی طرف گامزن ہو جائے گی۔ 
اسی طرح سورۃ المومنون میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : تو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بیکار بنایا اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جائو گے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے انسان تو میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا۔ میں تیرا سینہ غنا سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی کا دروازہ بند کر دوں گا۔ اور اگر تو ایسا نہیں کرے گا تو میں تیرے دونوں ہاتھ مصروفیات سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی کا دروازہ بند نہیں کروں گا۔*

منگل، 7 اپریل، 2026

جنگ احد اور شہادت سیدنا امیر حمزہ ؓ (۲)

 

 جنگ احد اور شہادت سیدنا امیر حمزہ ؓ (۲)

ایک دن سیدنا امیر حمزہ ؓ شکار سے واپس آئے تو آپ ؓ کی ہمشیرہ حضرت صفیہ ؓ نے بتایا کہ آج ابو جہل نے نبی کریم ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی   کی ہے ۔جب آپ ؓ نے یہ سنا تو آپ کو بہت غصہ آیا ۔آپؓ اپنا تیر کمان لے کر ابو جہل کے پاس گئے اور اس کے سر میں اتنی زور سے کہ ابو جہل کے سر سے خون بہنا لگا ۔ (شرح الزرقانی علی المواہب )
جنگ بدر میں سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ نے کفار کے دو بڑے سرداروں عتبہ اور طعیمہ بن عدی کو جہنم واصل کیا تھا ۔طعیمہ بن عدی کا ایک بھتیجا جبیر بن مطعم تھا اس نے اپنے چچا کا بدلہ لینے کے لیے اپنے غلام وحشی کو لالچ دی اور کہاکہ اگر تو میرے چچا کا بدلہ سیدنا امیر حمزہ سے لے گا تو میں تجھے اپنی غلامی سے آزاد کر دو ں گا اور بہت سارا انعام بھی دوں گا ۔ عتبہ کی بیٹی ہندہ نے وحشی سے کہا کہ تو اگر سیدنا امیر حمزہؓ سے میرے باپ کا بدلہ لے گا تو میں تجھے آزادبھی کروائوں گی اور بہت سارا سونا اور چاندی اور مال و متاع دوں گی۔
سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ جنگ احد میں اپنی بہادری و شجاعت کے جوہر دکھا رہے تھے ۔وحشی بھی موقع کی تلاش میں تھا اور ایک جگہ پہاڑکے پیچھے چھپ کر بیٹھ گیا ۔سیدنا امیر حمزہ ؓ جب اس کے پاس گزرے تو وحشی نے نیزے سے وار کیا جو آپؓ کے پیٹ میں لگا اور سیدنا امیرحمزہ رضی اللہ عنہ مرتبہ شہادت پر فائز ہو گئے ۔ ہندہ نے آپؓ کے جسد اطہر کی بے حرمتی کی اور آپؓ کے کلیجہ کو بھی چبانے کی کوشش کی لیکن نہ چبا سکی ۔ 
حضرت علی رضی اللہ عنہ جب سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ کی تلاش میں نکلے تو آپؓ کی نعش کو دیکھ کر حضرت علی ؓ کی چیخ نکل گئی۔ جب نبی کریم ﷺکو اپنے پیارے چچا حضرت سیدنا امیر حمزہ ؓ کی شہادت کی خبر ملی تو نبی کریم ﷺ کو بہت زیادہ صدمہ پہنچا اور غمگین ہو گئے ۔ حضور نبی کریم ﷺسیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کی نعش کو دیکھ کر اتنا روئے کہ آپؐ کی ہچکی بندھ گئی ۔ 
 حضورنبی کریم ﷺ نے فرمایا : میرے چچا میں گواہی دیتا ہوں کہ تم اللہ کی راہ میں صدقہ دینے والے تھے ، تم غریبوں اور مسکینوں کی مدد کر نے والے تھے ، تم بیواؤں اور یتیموں کی خبر گیری کرنے والے تھے ۔ آج میں تمھاری شہادت کا گواہ ہوں کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ کی عدالت لگے گی ۔ جب شہید اٹھیں گے ان میں بدر اور احد کے شہداء بھی ہوں گے ۔ جب شہیدوں کا قافلہ حشر کے میدان میں چلے گا تو شہیدوں کی سرداری کا جھنڈا میرے چچا امیر حمزہ ؓ کے پاس ہو گا ۔ 

پیر، 6 اپریل، 2026

جنگ احد اور شہادت سیدنا امیر حمزہ ؓ (۱)

 

جنگ احد اور شہادت سیدنا امیر حمزہ ؓ (۱)

مدینہ منورہ میں ایک بہت بڑا پہاڑ ہے جسے احد پہاڑ کہتے ہیں ۔احد پہاڑ کے متعلق نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا احد پہاڑ مجھ سے محبت کرتا ہے اور میں اس سے محبت کرتا ہوں ۔ (بخاری )۔
جنگ احد۳ ہجری میں  اسی پہاڑ کے دامن میں لڑئی گئی تھی ۔ یہ جنگ کفار مکہ نے غزوہ بدر کی شکست کا بدلہ لینے کے لیے چھیڑی ۔ 
قریش کے سرداروں کو غزوہ بدر میں شکست کی وجہ سے بہت زیادہ صدمہ تھا اسی لیے انہوں نے ایک بڑی فوج کے ساتھ مدینہ منورہ پر حملہ کیا ۔ اس معرکہ میں مسلمانوں کی تعداد سات سو اور کفار کی تعداد تین ہزار تھی ۔تقریبا ستر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس جنگ میں شہادت کے مرتبہ پر فائز ہوئے ۔ 
اس جنگ میں حضور نبی کریم ﷺ کے پیارے چچا حضرت سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے جنہوں نے اپنی بہادری و شجاعت کے جوہر دکھائے اور کافروں کو جہنم واصل کیا ۔ 
حضور نبی کریم ﷺ کو اپنے چچا سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ سے بے حد محبت و انس تھی اور سیدنا امیر حمزہ بھی نبی کریم ﷺ سے بے پناہ محبت فرماتے تھے ۔ سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ تیر اندازی کے ماہر تھے اور سرداران قریش آپ رضی اللہ عنہ کی بہادری اور شجاعت کی وجہ سے بڑی عزت و احترام سے دیکھتے تھے۔ 
سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ نے نبوت کے چھٹے برس اسلام قبول کیا اور پھر اپنا تن ، من دھن سب اسلام کے لیے وقف کر دیا ۔ جس دن آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو یہ اشعار کہے :
ترجمہ : میں اللہ تعالی کی تعریف بجا لاتا ہوں اور اس کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے میرے دل کو اسلام اور دین حنیف کے لیے کھول دیا ۔ یہ وہ مبارک دین ہے جو ایسے پروردگار کی طرف سے آیا ہے جو غلبہ والا ، بندوں کی خبر رکھنے والا اور اپنے بندوں پر مہربان ہے ۔
جب اللہ تعالی کی آیتیں ہمارے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو کامل عقل رکھنے والے شخص کے آنسو بہنا شروع ہو جاتے ہیں ۔ یہ وہ باعظمت احکا م ہیں کہ ان کی ہدایت دینے کے لیے نبی کریم ﷺ ایسی روشن آیات لائے ہیں جن کے ہر حرف میں ہدایت ہے ۔ اورحضرت محمد ﷺ اللہ تعالی کی طرف سے ہم میں منتخب برگزیدہ ہیں اور آپ کے ہر حکم کی تعمیل کی جاتی ہے تو اے لوگو ان کی تعلیمات کو باطل کے ذریعہ نہ چھپاؤ۔ ( الروض الائف )۔

اتوار، 5 اپریل، 2026

محنت با مقصد یا بے مقصد

 

 محنت با مقصد یا بے مقصد

محنت محنت ہے، لیکن ہر محنت کامیابی اور کامرانی کی دلیل نہیں۔ کامیابی صرف اور صرف اسی محنت کے نتیجے میں ملتی ہے جسے کسی مفید اور کارآمد کام میں صرف کیا جائے۔ محنت کے متعلق یہ سوچنا ہر قدم پر ضروری ہے کہ یہ محنت با مقصد ہے یا بے مقصد۔ بے مقصد محنت ایک حیوان تو کر سکتا ہے کیونکہ وہ عقل و شعور اور قوت فیصلہ سے عاری ہے لیکن ایک انسان کی فہم و ادراک اور شرف انسانیت اسے ایسی محنت سے ضرور روکے گی جو بے مقصد ہو۔ 
ارشاد باری تعالیٰ ہے : اور جو بھی اسلام کے سوا کوئی اور دین تلاش کرے تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گا۔ ( سورۃ آل عمران )۔
ایک شخص بت پرستی کر رہا ہو یا اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب پر ہے اور وہ جتنی مرضی عبادت کر لے اور اپنی تمام تر محنت اس پہ لگا دے لیکن جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہو گا تو اس کی کوئی محنت اس کے کسی کام نہیں آئے گی۔ اس کی تمام ریاضتیں راکھ کا ڈھیر بن جائیں گی اور اس کا نامہ اعمال نیکیوں سے مکمل خالی ہو گا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے : اور وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا۔ اس کے سب اعمال ضائع ہو گئے انہیں اسی کا بدلہ ملے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔ ( سورۃ النحل )۔
چونکہ وہ اپنے اعمال سے بھی کفر اور شرک ہی کرتے تھے اس لیے ان کے اعمال ان کی نجات کا ذریعہ نہیں بنیں گے۔ مفید کام چھوڑ کر غیر مفید کام میں کوشش کر نا نہ صرف دانش مندی کے خلاف ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں اور صلاحیتوں کا انکار بھی ہے۔
 دین کا مغز اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور نبی کریمﷺ تک جتنے بھی انبیاء  مبعوث فرمائے سب نے صرف اور صرف ایک اللہ کی عبادت کا حکم دیا اور لوگوں کو کفر وشرک سے منع کیا۔
 کوئی شخص اپنی ساری محنتیں اور جملہ کاوشیں ان مباحث میں صرف کر دے جس کا قیامت کے دن انسان سے سوال ہی نہیں ہو گا اور جو منصوص نہیں ہیں بلکہ اپنے استدلال پر مبنی ہیں تو اس کی محنت کا مصرف بھی بے محنت اور بے نتیجہ ہے۔ اس لیے کسی بھی کام میں محنت اور وقت صرف کرنے سے پہلے اس میں اللہ تعالیٰ کی رضا دیکھنی چاہیے اور محنت کے مقاصد کو مد نظر رکھنا چاہیے کہ کیا وہ جو محنت کر رہا ہے یہ با مقصد ہے یاپھر بے مقصد۔

ہفتہ، 4 اپریل، 2026

نیت کی اصلاح(۲)

 

 نیت کی اصلاح(۲)

حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : خبر دار تمہارے جسم میں ایک ٹکڑا ہے اگر وہ درست ہو جائے تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے اور اگر وہ بگڑ جائے تو پورا جسم بگڑ جاتا ہے اور وہ دل ہے۔ نبی کریمﷺ کے اس فرمان سے واضح ہو جاتا ہے کہ دل انسان کے کردار اور اعمال کا مرکز ہے جب دل پاک ہوجاتا ہے تو نیت خود ہی درست ہو جاتی ہے اور جب نیت درست ہو جائے تو عمل میں اخلاص پیدا ہو جاتا ہے۔آج کے پْر فتن دور میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اعمال کی ظاہری شکل پر زیادہ توجہ دیتے ہیں اور نیت کی اصلاح کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ہم نماز پڑھتے ہیں ، روزہ رکھتے ہیں ، حج کرتے ہیں اور صدقہ و خیرات کرتے ہیں مگر اکثر اوقات ان اعمال کے پیچھے دکھاوا ، شہرت یا لوگوں کی تعریف حاصل کرنے کی خواہش ہوتی ہے اور یہ ریاکاری ہے۔اگر کوئی عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے نہ کیا جائے بلکہ دکھاوے کے لیے کیا جا ئے تو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک شرک قرار پاتا ہے۔ 
حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص لوگوں کے دکھلاوے کی خاطر نماز پڑھے،روزے رکھے یا صدقہ کرے تو وہ شرک کا مرتکب ہے۔ ( مسند احمد )۔
نیت کی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے ہر عمل سے پہلے خود سے سوال کرے کہ کیا وہ یہ عمل خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کر رہا ہے یا دکھاوے کے لیے؟۔  اگر جواب ملے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے ہے تو وہ عمل قیمتی ہے۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ تمہاری شکل و صورت اور مال و دولت کو نہیں دیکھتابلکہ وہ تو تمہارے اعمال اور دلوں کو دیکھتا ہے۔ ( مسلم شریف)۔ 
نبی کریم ﷺنے فرمایا جب کوئی نیک عمل کرنے کاارادہ کرے تو اسے ایک نیکی کا ثواب مل جاتا ہے۔ اور اگر نیت کے بعد اس عمل کو کر بھی لے تو اسے کم از کم دس گناثواب ملتا ہے اور بعض صورتوں میں سات سوگناتک ثواب ملتا ہے۔ (بخاری )۔
انسان کو اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے۔ اسے چاہیے کہ وہ روزانہ اپنے اعمال اور نیتوں کا جائزہ لے۔اگر کہیں ریاکاری یا دنیاوی مفاد کی ملاوٹ نظر آئے تو اسے چاہیے کہ اسی وقت اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ و استغفار کرے اور اپنی نیت کی اصلاح کرے یہی عمل انسان میں روحانیت پیدا کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دلوں کو پاک کرنے ، نیتوں کو خالص بنانے اور ہر عمل کو اپنی رضا کے لیے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

دین راہبر ہے

  دین راہبر ہے دین انسان کے لیے راہبر ہے ، مقتدا ہے اور امام ہے۔ دین کی عظمت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان دل وجان سے دین کو اپنا راہبر و مقتدا بن...