اتوار، 25 فروری، 2024

Surah An-Nahl (سُوۡرَةُ النّحل) Ayt 68-69 pt-1.کیا ہم اسفل السافلین جانے...

شعبان المعظم

 

شعبان المعظم

ماہ شعبان المعظم بہت زیادہ فضیلت والا مہینہ ہے ۔ شعبان المعظم کی فضیلت بیان کرتے ہوئے حضور نبی کریمﷺنے ارشاد فرمایا شعبان میرا مہینہ ہے ۔ اس مبار ک مہینے میں جو ایک نیکی کرتا ہے اللہ تعالی اسے سات سو گنا زیادہ ثواب عطا فرماتا ہے ۔ حضور نبی کریمﷺ نے خوشنودی حاصل کرنے کے لیے امتی کو چاہیے کہ وہ اس ماہ مبارک میں کثرت سے عبادت کرے اور روزے رکھے اور گناہوں سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرے ۔ 
ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے شعبان کفارہ کرنے والا ہے اور رمضان پاک کرنے والا ہے ۔ 
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریمﷺ کی بارگاہ اقدس میں عرض کی : یا رسول اللہﷺ، میں آپ کو جس قدر روزے شعبان کے مہینہ میں رکھتے دیکھتا ہو ں اس قدر تو ہم رمضان المبارک کے علاوہ کسی مہینہ میں نہیں رکھتے ۔ نبی مکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ رجب اور رمضان کے درمیان کا مہینہ ہے لوگ اس میں غفلت کرتے ہیں ۔ اس میں لوگوں کے اعمال اللہ تعالی کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں اس لیے میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ جب میرے اعمال پیش کیے جائیں تو میں روزہ کی حالت میں ہو ں ۔ 
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں، نبی کریمﷺ کی بارگاہ ناز میں عرض کی گئی سب سے افضل روزے کون سے ہیں تو آپﷺ نے فرمایا، شعبان کے روزے رمضان المبارک کی تعظیم کے لیے ۔
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں نبی کریمﷺ نے فرمایا، ماہ رمضان کے لیے تم اپنے بدنوں کو شعبان کے روزوں سے پاک کر لیا کرو کیونکہ جو شعبان کے تین روزے رکھتا ہے اور پھر افطاری سے پہلے مجھ پر کثرت سے درود شریف پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ گناہ بخش دیتا ہے اور اس کی روزی میں برکت فرماتا ہے ۔ اورمجھے جبرائیل علیہ السلام نے خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ماہ مقدس میں رحمت کے تین سو دروازے کھول دیتا ہے۔
حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شعبان میں ایک روزہ رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو حضرت ایوب اور حضرت دائود علیہم السلام کا سا ثواب عطا فرماتا ہے اور اگر اس نے پورا مہینہ روزے رکھے تو اللہ تعالی موت کی سختیوں کوآسان فرما دے گا اور قبر کی تاریکی ، منکر نکیر کی دہشت اس سے دور رکھے گا اور قیامت کے دن اس کے عیبوں پر بھی پردہ ڈالے گا ۔

ہفتہ، 24 فروری، 2024

Mohabat-e-elahi kyoon aur kaisay?

Surah An-Nahl (سُوۡرَةُ النّحل) Ayat 67.کیا ہمیں اللہ تعالی نے عقل نہیں ...

Surah An-Nahl (سُوۡرَةُ النّحل) Ayat 66.کیا ہم باطل کو مقصود بنا کر زندگ...

شب برات

 

شب برات

شعبا ن المعظم کے مہینے میں ایک ایسی رات بھی آتی ہے جو بہت زیادہ برکت اور فضیلت والی ہے ۔ اس رات کو شب برات کی رات کہا جاتا ہے جو کہ چاند کی پندرہ تاریخ کو آتی ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : اس میں بانٹ دیاجاتا ہے ہر حکمت والا کام ۔(سورة الدخان )
حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جب شعبان کی پندرھویں رات آجائے تو اس رات قیام کرو اور دن میں روزہ رکھو کہ اللہ تعالیٰ غروب آفتاب سے آسمان دنیا پر تجلی فرماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے: ہے کوئی بخشش مانگنے والا میں اسے بخش دوں ۔ ہے کوئی روزی مانگنے والا میں اسے رزق عطا کر دوں ۔ ہے کوئی اولاد مانگنے والا میں اسے اولاد عطا کر دوں ۔ ہے کوئی مشکلات میں گھرا ہوا میں اسے عافیت دوں ۔ ہے کوئی ایسا اور ہے کوئی ایسا اللہ تعالیٰ صبح صادق ہونے تک فرماتا رہتا ہے ۔ 
حدیث شریف میں آتا ہے حضور نبی کریمﷺ نے ارشا د فرمایا کہ شب برات کی عزت کرو اس رات جو شخص اللہ تعالی کی عبادت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ سے آزاد فرما دیتا ہے اور جو تم میں سے پندرھویں شعبان کے دن روزہ رکھے تو اسے جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی ۔ 
حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : شعبان کی پندرھویں رات اللہ تعالیٰ پورے سال کا حساب کتاب کرتا ہے کہ کون سا بچہ پیدا ہو گا ، کون مرے گا ۔ اس رات بندوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ اقدس میں پیش کیے جاتے ہیں اور رزق کی تقسیم بھی اسی رات کو ہی کی جاتی ہے ۔ 
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور سید عالمﷺ نے ارشاد فرمایا: نصف شعبان کی رات حضرت جبرائیل علیہ السلام میرے پاس تشریف لائے اور عرض کی اے اللہ کے رسولﷺ، اپنا سر اقدس آسمان کی طرف اٹھائیں۔ میں نے پوچھا یہ کیسی رات ہے تو جبرائیل امین نے عرض کی یہ ایک ایسی رات ہے کہ اس رات اللہ تعالیٰ رحمت کے تین سو دروازے کھول دیتا ہے اور مشرک کے سوا سب کو بخش دیتا ہے اور ساحر،کاہن اور زانیوں کو نہیں بخشتا۔ 
حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: نصف شعبان کی رات اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر نظر رحمت فرماتا ہے سوائے مشرک اور اس شخص کے جو اپنے مسلمان بھائی سے بغض رکھے اسے چھوڑ کر اللہ تعالیٰ ساری مخلوق کو چھوڑ دیتا ہے۔ اس با برکت اور فضیلت والی رات میں ہمیں چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ نوافل ادا کریں، ذکر واذکارکریں اور نبی کریمﷺکی ذات اقدس پر کثرت سے درود پاک پڑھیں اور اپنی بخشش کا سامان جمع کریں۔