غفلت :انسان کے زوال کی پہلی سیڑھی(۱)
انسانی زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ وقت نہیں بلکہ شعور بھی ہے ۔ وقت ضائع ہو جائے تو دوبارہ نہیں ملتا اور شعور ماند پڑجائے تو زندگی اپنی اصل سمت کھو بیٹھتی ہے ۔ یہی شعور جب اللہ تعالی کی یاد ، اپنی ذمہ داریوں کے احساس اور آخرت کی فکر سے خالی ہو جائے تو اس کی کیفیت کو غفلت کہا جاتا ہے ۔ غفلت ایک ایسی خاموش بیماری ہے جو نہ صرف دل کی روشنی کو مدھم کر دیتی ہے بلکہ انسان کو حق و باطل میںتمیز کر نے کی صلاحیت سے بھی محروم کرنے لگتی ہے ۔
ابتداءمیں یہ معمولی سستی ، عبادات میں بے رغبتی اور دنیا کی بے جا مصروفیات کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے لیکن اگر وقت پر اس کا علاج نہ کیا جائے تو یہی غفلت انسان کے ایمان ، کردار اور اعمال کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے ۔جب یہ کسی پر غالب آ جائے تو وہ دین و دنیا کے اندر نقصان اور خسارہ پانے والوں میں سے ہو جاتا ہے ۔ حارث المحاسبی ؒ فرماتے ہیں غفلت اللہ تعالی کو سخت نا پسند ہے اور اس سے دل سخت ہو جاتا ہے ۔ دل کی سختی سے نیک اعمال کی حلاوت اور مٹھاس چلی جاتی ہے ۔ جب نیک اعمال کی حلاوت اور مٹھاس ختم ہو جائے تو انسان زیادہ نیکیاں نہیں کرتا اور جب انسان زیادہ نیکیاں نہیں کرے گا تو شکر کم ہو جائے گا ۔شکر کے کم ہونے سے عمل فاسد ہو جاتا ہے اور محرومی غالب آتی ہے اور اعمال میں بہتری نہیں ہوتی ۔ ( آداب النفوس )۔
امام غزالیؓ فرماتے ہیں دل سے اور زبان سے ذکر کرنا مطلوب ہے لیکن اگر صرف زبان سے ذکر کیا جائے اور دل غافل ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ۔ (احیاءعلوم الدین )۔
غفلت دو طرح کی ہوتی ہے۔ پہلی قسم غفلت محمودہ ہے جس کی وجہ سے انسان گناہوں اور منکرات سے غافل رہتا ہے اور ہر اس چیز سے بچتا ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالی ناراض ہو ۔دوسری قسم ہے غفلت مذمومہ جس کی وجہ سے انسان اعمال سے بے رغبتی اختیار کرتا ہے اور نیک کاموں سے دور چلا جاتا ہے ۔ غفلت کے کئی اسباب ہیں جن میں سے پہلا سبب جہالت ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالی سورۃ الرعد میں ارشاد فرماتا ہے :(اے محبوب ﷺ)
آپ فرما دیجیے کیا برابر ہو سکتے ہیں اندھا اور بینا اور کیا برابر ہو سکتے ہیں اندھیرا اور اجالا۔
شیخ ابع العاس احمد بن مسروق ؒ فرماتے ہیں معرفت کے درخت کو فکر کے پانی سے ، غفلت کے درخت کو جہالت کے پانی سے، توبہ کے درخت کو ندامت کے پانی سے اور محبت کے درخت کو اتفاق کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے ۔ (رسالہ قشیریہ )






