حج کی فضیلت و اہمیت
اسلام انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر پہلو کی رہنمائی کرتا ہے۔ دین اسلام کے پانچ بنیادی ارکان ہیں جن پر ایک مسلمان کی عملی زندگی کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔ ان ارکان میں سے ایک عظیم رکن حج بھی ہے۔حج اپنی روحانی ، اخلاقی اور اجتماعی اہمیت کے اعتبار سے بے مثال اہمیت رکھتا ہے۔ حج بندہ مومن کے لیے اپنے رب کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرنے ، گناہوں سے پاک ہونے اور اخوت اسلامی کے عملی مظاہرے کا ایک جامع ذریعہ ہے۔حج بدنی عبادت کے ساتھ ساتھ مالی عبادت بھی ہے۔ حج زندگی میں ایک مر تبہ ہر صاحب استطاعت مسلمان پر فرض ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس کی استطاعت رکھیں اور جو منکر ہو تو اللہ سارے جہان سے بے پرواہ ہے‘‘۔ ( سورۃ اٰل عمران )۔
حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے اللہ تعالیٰ کی خاطر حج کیا نہ کوئی فحش بات کی اور نہ گناہ کا مرتکب ہوا وہ گناہوں سے اس طرح پاک لوٹے گا جس طرح اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوا تھا۔( بخاری )۔
الترغیب التر ہیب میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : حج کرنے والے کی مغفرت کر دی جاتی ہے اور وہ جس کے لیے دعا کرے اس کی بھی مغفرت کر دی جاتی ہے۔
ایک مقام پر نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ایک عمرہ سے دوسرے عمرہ تک اس کے درمیان گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کا بدلہ تو صرف جنت ہے ہے۔ (الترغیب التر ہیب )۔
جو لوگ صاحب استطاعت ہونے کے باوجود حج نہیں کرتے ان کے لیے حضور نبی کریم ﷺ نے سخت وعید فرمائی ہے۔ الترغیب التر ہیب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کے پاس سفر کرنے کا خرچ بھی ہو اور سواری بھی ہو جس کے ذریعے وہ بیت اللہ تک پہنچ سکے اس کے باوجود وہ حج نہ کرے تو اس کا اس حالت میں مرنا یا یہودی و نصرانی ہوکر مرنا برابر ہے اور یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بیت اللہ کا حج کرنا ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا حق یے جو اس کی استطاعت رکھتا ہو۔(الترغیب التر ہیب )۔
حج کا عملی تقاضا یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت و فرمانبردای کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے، گناہوں سے مکمل اجتناب کرے ، حقوق العباد کا خاص خیال رکھے ، سچائی ، دیانت داری اور انصاف کو اپنائے۔






