بدھ، 29 مئی، 2024

Surah Al-Kahf Ayat 103-106 Part-06.کیا ہم نے اپنے آپ کو اللہ تعالی کی م...

Surah Al-Kahf (سُوۡرَةُ الکهف) Ayat 103-106 Part-05.کیا ہمارے نیک اعمال ...

شخصیت کی تعمیر اور نماز (۲)

 

شخصیت کی تعمیر اور نماز (۲)

اللہ تعالی کی حمد و ثناءکرنے کے بعد بندہ تلا وت قرآن مجید کرتا ہے قرآن مجید کا ایک ایک لفظ دلوں پر اللہ تعالی کی شان کبریائی کا نقش ثبت کر دیتا ہے۔ پھر بندہ اللہ تعالی کے سامنے جھک جاتا ہے اور اس بات کا اعلان کر تا ہے کہ اللہ تعالی ہر عیب سے پاک ہے۔ اسکے بعد سر بسجود ہو کر اللہ تعالی کی عظمت کا اعلان کرتا ہے۔ 
اس کے بعد بندہ تشہد میں بیٹھ جاتا ہے اور اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ اے میرے مولا میری ساری نمازیں اور نیک کام صرف تیرے لیے ہی ہیں ، اس کے بعد حضور نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس پر درود سلام پڑھتا ہے اور آخر میں اللہ تعالی سے اپنے اور اپنی اولاد کے لیے دعا مانگتا ہے کہ ہمیں نماز قائم کرنے والا بنا ، اس کے بعد اپنے والدین اور تمام مومنوں کے لیے اللہ تعالی کی بارگاہ میں التجا کرتا ہے کہ یوم حساب اللہ تعالی انہیں بخش دے۔ 
نماز بندے کو اللہ تعالی کی عظمت کا درس دیتی ہے اور انسان کے اندر عاجزی و انکساری پیدا کرتی ہے۔ اور اللہ تعالی کے سامنے حاضری کا یقین پختہ کرتی ہے۔ اگر بندہ ان ساری باتوں پر پختہ یقین کر لے تو بندہ اپنے ہر معاملے میں اللہ تعالی کے احکام کو مانے اور مخلوق خدا کا خیر خواہ بن جائے۔ انسان کی شخصیت کو تعمیر کرنے کا یہی فریضہ نماز بہتر طریقے سے سر انجام دیتی ہے۔
 ارشاد باری تعالی ہے : بیشک انسان لالچی پیدا ہوا ہے۔ جب اسے مصیبت پہنچے تو سخت گھبرا جاتا ہے اور جب اسے بھلائی پہنچے تو بہت زیادہ بخیل مگر نمازی (ایسے نہیں ہوتے ) جو اپنی نماز پر پابندی کرتے ہیں۔ (سورة المعارج )۔
انسان اتنا نا شکرا ہے کہ جب اللہ تعالی اسے نعمتوں سے نوازتا ہے تو سجدہ شکر کرنے کی بجائے تکبر کرنے لگ جاتا ہے اور جب اس پر کوئی مصیبت آ جائے تو صبر کرنے کی بجائے شور شرابا کرنا شروع کر دیتا ہے۔ لیکن نماز انسان کی شخصیت میں نکھار پیدا کرتی ہے نماز کی پابندی کرنے والے پر جب کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے اور جب اسے کو ئی نعمت ملتی ہے تو تکبر کرنے کی بجائے اللہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہے۔ 
حضرت شعیب علیہ السلام نے جب اپنی قوم کو ایک اللہ تعاالی کی عبادت کی دعوت دی اور ان کو غلط رسومات سے منع کیا اور کہا کہ اللہ تعالی کی بندگی کرو اور اس کی بندگی کا مقصد یہ ہے کہ اپنے تمام تر معاملات میں احکام الٰہی کی پیروی کرو۔ اور اپنی ساری زندگی احکام الہی کے مطابق بسر کرو اسی میں کامیابی ہے۔

Surah Al-Kahf (سُوۡرَةُ الکهف) Ayat 103-106 Part-04.کیا ہم اسلام کی حقیق...

منگل، 28 مئی، 2024

منافق کون ہے؟

شخصیت کی تعمیر اور نماز (۱)

 

شخصیت کی تعمیر اور نماز (۱)

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بھلائی اور شر کی دونوں صلاحتیں دیں ہیں ۔ شخصیت کی تعمیر سے مراد یہ ہے کہ انسان ان دونوں قوتوں میں اعتدال پیدا کرے ۔ اگر انسان شر کو نقطہ اعتدال پر مرتکز کر کے خیر کے تابع کر دے تو اس سے شر بھی خیر بن جاتا ہے انسان کی پوری زندگی بندگی بن جاتی ہے اور انسانی شخصیت کی تعمیر ہو جاتی ہے ۔
 ارشاد باری تعالیٰ ہے : پھر ہر نفس کو اس کی بد کرداری اور پرہیز گاری سمجھا دی گئی ہے بے شک وہ کامیاب ہو گیا جس نے اس کا تزکیہ کیا اور وہ یقینا ناکام ہوا جس نے اسے گناہوں سے آلودہ کیا ۔(سورۃ الشمس)
انسان کو چاہیے کہ اپنی شخصیت کو تعمیر کرنے کے لیے حقوق و فرائض میں اعتدال سے کام لے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن اور حضور نبی کریمﷺ کی احادیث کی روشنی میں حقوق اور فرائض کا تعین کر دیا ہے۔ ان پر عمل کرنے کے لیے پہلے ان کو سمجھا جائے کہ حقوق کیا ہیں اور فرائض کیا ہیں ۔ اگر انسان کو اس بات پر پختہ یقین ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ میرے ہر عمل سے واقف ہے اور میں نے ایک دن اس کے سامنے اپنے سارے اعمال کا جواب دینا ہے اور اس کے بدلے میری سزا اور جز ا کا فیصلہ ہو نا ہے تو انسان اتنے ہی حقوق کی طلب کرے گا جتنے شریعت نے اس کے لیے مقرر کیے  ہیں اور فرائض کی ادائیگی میں بھی سستی نہیں کرے ۔ جب بندہ اپنے آپ کو شریعت کے مطابق ڈھالنے لیتا ہے تو اس کی شخصیت کی تکمیل ہو جاتی ہے ۔ 
نماز انسانی شخصیت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ شروع سے لے کر آخر تک نماز میں اللہ تعالیٰ کی عظمتوں کو بیان کیا جاتا ہے ۔ سب سے پہلے اذان جس میں اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا اعلان کیا جاتا ہے ، توحید و رسالت کی گواہی دی جاتی ہے ، اس کے بعد لوگوں کو خیر اور بھلائی کی طرف دعوت دی جاتی ہے اور آخر میں پھر اللہ تعالیٰ کی عظمت کو بیان کیا جاتا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں صرف وہ ہی عبادت کے لائق ہے۔ اذان سن کر جب بندہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دست بستہ کھڑا ہو جاتاہے اور اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہے ، اس کی عظمت کا اقرار کرتا ہے ، شیطا ن کے شر سے پناہ مانگتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے رحمن اور رحیمی میں چھپ جاتا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ سے التجا کرتا ہے کہ ہمیں سیدھے راستے پر چلا ایسے لوگوں کے راستے پر جن پر تو نے انعام کیا نہ کہ ان لوگوں کے راستے پر جن سے تو ناراض ہوا ۔ 

Surah Al-Kahf (سُوۡرَةُ الکهف) Ayat 103-106 Part-02.کیا ہم اپنی زندگی ضا...