پیر، 22 جون، 2026

فضائل و مناقب اہلِ بیت اطہارؓ(۱)

 

فضائل و مناقب اہلِ بیت اطہارؓ(۱)

اسلامی تاریخ میں بعض خاندان ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالی نے اپنی خاص رحمت ، برکت اور فضیلت سے نوازا ہے مگر خاندان نبوت ﷺ کو جو عظمت و رفعت عطا ہوئی اس کی مثال رہتی دنیا تک نہیں ملتی ۔ نبی کریم ﷺ کے اہل بیت اطہار وہ مقدس ہستیاں ہیں جن کی محبت ایمان کی مٹھاس ، جن کا احترام ادب رسالت ﷺ کا تقاضا اور جن کی پیروی نجات و کامیابی کا راستہ ہے ۔اہل بیت کی زندگیاں تقوی ، صبر ، ایثار ، علم ، عبادت اور دین سے وفا داری کا ایسا روشن مینار ہیں جس کی روشنی آج بھی امت مسلمہ کی رہنمائی کر رہی ہے ۔ ان مقدس  نفوس سے محبت محض ایک جذباتی وابستگی نہیں بلکہ نبی کریم ﷺ سے محبت کا فطری تقاضا اور اسلامی عقیدے کا اہم حصہ ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں اہل ایمان نے اہل بیت اطہار کے تذکرے کو اپنے دلوں کی زینت اور اپنی مجالس کی رونق سمجھا ہے ۔ اہل بیت اطہار وہ ہستیاں ہیں جنہیں اللہ تعالی نے طہارت ، محبت اور عزت کے خصوصی تاج سے سرفراز فرمایا ہے ۔
ارشاد باری تعالی ہے : ”اللہ تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کر کے خوب ستھرا کر دے “۔ سورۃ الشورٰی میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : (اے محبوب ﷺ) آپ فرما دیجیے میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا مگر قرابت کی محبت۔ انسان کو جس سے سچی محبت ہے تو وہ اس سے نسبت رکھنے والی تمام چیزوں سے بھی محبت کرتا ہے ۔ اسی وجہ حضور نبی کریم ﷺ سے سچی 
محبت رکھنے والے آپ ﷺ سے نسبت رکھنے والی ہر چیز سے دل وجان سے محبت کرتے ہیں ۔نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : 
اللہ تعالی سے محبت کرو کیونکہ وہ تمہیں اپنی نعمتوں سے روزی دیتا ہے اور اللہ پاک کے لیے مجھ سے محبت کرو اور میری محبت کے لیے میرے اہل بیت سے محبت کرو ۔ (ترمذی )۔
معجم الاوسط میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اہل بیت کی محبت کو لازم پکڑ لو کیونکہ جو اللہ پاک سے اس حال میں ملا کہ وہ ہم سے  محبت کرتا ہے تو اللہ تعالی اسے میری شفاعت کے سبب جنت میں داخل فرمائے گا اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ کسی بندے کو اس کا عمل اسی صورت فائدہ دے گا جبکہ وہ ہمارا حق پہچانے ۔ 
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا : میرے اہل بیت کی مثال حضرت نوح ؑکی کشتی کی طرح ہے جو اس میں سوار ہو گیا وہ نجات پاگیا اور جو اس سے پیچھے رہ گیا وہ غرق ہو گیا ۔ ( طبرانی )۔

اتوار، 21 جون، 2026

حضرت سیدنا فاروق اعظم ؓ(۳)

 

حضرت سیدنا فاروق اعظم ؓ(۳)

آپؓ اپنے دور حکومت میں اپنی رعایا کا بہت زیادہ خیال رکھتے تھے ۔حضرت سیدنا امام اوزاعی ؒروایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا فاروق اعظم ؓ عنہ گھر سے نکلے تو حضرت طلحہ ؓ نے انہیں دیکھا تو چپکے سے ان کے پیچھے چل پڑے ۔ سیدنا فاروق اعظمؓ ایک گھر میں داخل ہوئے اور کچھ دیر بعد باہر آئے اور ایک دوسرے گھر میں داخل ہوئے ۔ حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں نے اس گھر کو ذہن میں بٹھا لیا اور صبح اس گھر میں گیا ایک بوڑھی عورت نابینا اور اپاہج تھی ۔ میں نے پوچھا یہ شخص تمہارے گھر میں کیوںآتے ہیں بوڑھی عورت نے کہا میں نابینا اور اپاہج ہوں میرا خیال رکھنے والا کوئی نہیں ہے یہ کافی عرصے سے میرے پاس آتے ہیں اور میرا کام کاج کر جاتے ہیں ۔ ( حلیۃ الاولیا )
سیدنا فاروق اعظم ؓ کا احتسابی امر دوسرے لوگوں کے ساتھ خاص نہیں تھا بلکہ اپنے گھر والوں خصوصا اپنے بیٹوں کا بھی احتساب فرماتے۔آپؓ نے قرآن و سنت کے خلاف امور کی پکڑ کے ساتھ ساتھ ان تمام امور کی بھی گرفت کی جن کا تعلق عوامی یا معاشرتی مصلحتوں کے ساتھ تھا ۔
آپ کی خلافت ساڑھے بائیس لاکھ مربع میل تک پھیلی ہوئی تھی اور ہر طرف انصاف کا بول بالا تھا ۔آپؓ فرماتے ہیں کہ اگر نہر فرات کے کنارے ایک کتا بھی مر جاتا ہے تو عمرؓ اس کا بھی جواب دہ ہے ۔ آپ کے دور میں اسلام نے بہت ساری فتوحات حاصل کیں ۔دین اسلام میں سب سے پہلے کافروں کے سامنے اپنا اسلام ظاہر کیا ، فوجی چھائونیاں قائم کیں ، پولیس کا محکمہ بنایا ، جیل خانہ جات بنائے،بیت المال قائم کیا ، لوگوں اور دودھ پیتے بچوں کے بھی وظائف مقرر کیے ، شہروں کی تعمیر کروائی ، نہریں کھدوائیں اور جمع قرآن مجید کا مشورہ دیا ۔آپ کا دور خلافت ایک مثالی دور تھا جس کی مثال آج تک دنیا میں نہیں ملتی ۔
ابو لولو نامی لعین نے نماز فجر کی حالت میں آپ ؓ کے پیٹ میں خنجر مارا ۔ خنجر اتنا گہرا لگا کہ آپ کی آنتیں کٹ گئیں ۔ آپ کو گھر لایا گیا توحضرت عبداللہؓ کو بلا کر کہا کہ جائو حضرت عائشہ ؓ کے پا س اور امیر المؤمنین نہیں کہنا بلکہ میرا نام لے کر کہنا کہ عمر اپنے دوستوں کے ساتھ دفن ہونا چاہتا ہے ۔ جب آپ اجازت لے کر اندر داخل ہوئے توحضرت عائشہ ؓ رو رہی تھیں اور آپ ؓ پر حملے کی خبرسن کر بے چین تھیں ۔
 حضرت عبد اللہؓ نے حضرت عمر ؓکی درخواست پیش کی تو حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا یہ جگہ میں نے اپنے لیے رکھی تھی لیکن آج میں اپنی ذات پر عمرؓ کو ترجیح دیتی ہوں ۔ اسلام کا یہ چمکتہ ستارہ یکم محرم الحرام کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملا ۔ 

ہفتہ، 20 جون، 2026

حضرت سیدنا فاروق اعظم ؓ(۲)

 

حضرت سیدنا فاروق اعظم ؓ(۲)

حضور نبی کریم ﷺنے فرمایا اللہ تعالیٰ نے عمرؓ کی زبان پر حق کو جاری فرمادیا ہے( ابو دائود )۔ آپﷺ نے فرمایا : ہر امت میں ایک محدث ہوتا ہے میری امت میں اگر کوئی محدث ہے تو وہ عمر بن خطاب ؓ ہیں۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس راہ سے عمرؓ گزریں شیطان اس راہ سے نہیں گزرتا۔
سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ساری زندگی اتباع رسول میں گزاری اور کوئی بھی ایسا کام سر انجام نہیں دیا جو شریعت مطہرہ اور سنت رسولﷺ کے خلاف ہو۔حضرت سیدنا خبیر بن نفیر فرماتے ہیں میں ایک مرتبہ حضرت شْر حبیل بن سمط ؓ کے ساتھ سفر پر گیا تو ایک مقام پر انہوں نے دو نوافل ادا کیے میں نے اس کی وجہ پوچھی تو انہوںنے کہا میں نے سیدنا فاروق اعظم ؓکو مقام ذوالحلیفہ میں اسی طرح دو رکعت نفل پڑھتے دیکھا تو میں نے اس کی کی وجہ دریافت کی تو سیدنا فاروق اعظم ؓنے فرمایا میں وہی کر رہا ہوں جو میں نے حضور نبی کریم ﷺ کو کرتے دیکھا ہے۔ (مسلم )۔ آپ ؓنے عاجزی و انکساری اور سادگی کے ساتھ اپنی زندگی بسر کی۔حضرت سعید بن مسیب ؓ فرماتے ہیں سیدنا فاروق اعظم ؓ جب کہیں سفر پر جاتے تو راستے میں آرام فرمانے کے لیے مٹی کا ڈھیر لگا لیتے اوراس پر کپڑا بچھا کر آرام فرماتے۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ )۔ آپ ؓ جب حج کے لیے مکہ مکرمہ روانہ ہوئے تو جہاں کہیں پڑائو کرنا ہوتا کوئی خیمہ نہ لگاتے اور نہ ہی قنات بلکہ درخت پر چٹائی یا کپڑا ڈال کر اس کے سائے میں بیٹھ جاتے۔ (تاریخ ابن عساکر )۔سیدنا فاروق اعظم ؓ فرماتے ہیں جب بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے توضع اختیار کرتا  ہے تو اللہ اس کی قدرو منزلت کو بڑھا دیتا ہے۔ ( احیا ء العلوم )۔ 
آپ ؓ کو حضور نبی کریمﷺ کی بارگاہ میں مشیر مقبول اور مقرب خاص کی حیثیت حاصل تھی آپؓ جو بھی عرض کرتے آپﷺقبول فرماتے۔ ایک غزوہ کے موقع پر خوراک کی کمی کی وجہ سے حضور نبی کریمﷺ نے فوج کی تعداد کے مطابق اونٹ ذبح کرنے کا حکم فرمایا تو عمر فاروقؓ نے عرض کی یارسول اللہ اس طرح سواریاں کم پڑ جائیں گی اور فوج کو مشکلات پیش آئیں گی۔ آپﷺ سب صحابہ کرامؓ سے بچی ہوئی خوراک جمع کریں اور اللہ تعالیٰ سے اس میں برکت کی دعا کریں۔ آپﷺ نے ایسا ہی کیا اور طعام میں کوئی کمی نہ آئی آپﷺ نے اس پر خوشی کا اظہار فرمایا اور فرمایا : میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک میں اللہ کا رسول ہوں۔ ( بخاری شریف)۔
بہت سارے احکام اللہ تعالیٰ نے آپ کی خواہش پر نازل فرمائے جیسا کہ پردے کاحکم ، شراب کی حرمت اور مقام ابراہیم کو جائے مصلہ بنانے کا حکم۔

جمعہ، 19 جون، 2026

حضرت سیدنا فاروق اعظمؓ (۱)

 

حضرت سیدنا فاروق اعظمؓ (۱)

حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ مراد رسولﷺ بھی ہیں اور مرید رسولﷺ بھی ہیں۔آپ کا قلب اطہر اللہ تعالیٰ کے انوار سے روشن تھا۔ آپ ؓنے حضور نبی کریمﷺ سے رشد و ہدایت اور روشنی حاصل کی اور بعد میں خود بھی نورو ہدایت کاسر چشمہ بن گئے۔
حضور نبی کریمﷺ نے بارگاہ الٰہی میں دعا فرمائی اے اللہ اسلام کو عمر بن خطاب یا پھر عمر وبن ہشام (ابو جہل ) کے ساتھ عزت عطا فرما۔ ایک دن سیدنا فاروق اعظم ؓ کو ایک شخص نے کہا کہ تمہارے بہنوئی اور تمہاری بہن نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ تویہ سن کر تیزی سے اپنی بہن کے گھر چلے گئے۔ اس وقت آپ کی بہن اور آپ کے بہنوئی قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے۔جب آپؓ گھر پہنچے تو پوچھا کہ تم لوگ کچھ پڑھ رہے تھے تم دونوں اپنا دین ترک کر چکے ہو۔ 
آپ کی بہن نے کہا اے عمر حق وہ نہیں جو تمہارا عقیدہ ہے میرا عقیدہ یہ ہے کہ میں گواہی دیتی ہوں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضورﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں۔ آپؓ نے پوچھا جو کتا ب تم لوگ پڑھ رہے تھے وہ مجھے بھی دو میں پڑھنا چاہتا ہوں۔ آپؓ کی بہن نے کہا اسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں۔ تم وضو یا غسل کر لو پھر اسے چھونا آپ نے اٹھ کر وضو کیا اور قرآن مجید سے سورۃ طٰحٰہ کی  تلاوت شروع فرمائی۔ جیسے جیسے تلاوت قرآن مجید پڑھتے گئے دل میں قبول اسلام کی شمع روشن ہوتی چلی گئی۔ آپؓ نے کہا مجھے آپﷺ کی بارگاہ میں لے چلیں۔ آپؓ نے حضور نبی کریمﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اسلام قبول فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کریم ﷺکی دعا کو قبول فرما کر اسلام کو عزت عطا فرمائی۔ 
 جس دن آپؓ نے اسلام قبول فرمایا تو حضور نبی کریم ﷺ نے آپ کے سینہ پر تین بار ہاتھ مارکر ارشاد فرمایا : اے اللہ عمر کے سینے میں جو بھی اسلام کی دشمنی ہے اسے نکال کر ایمان سے تبدیل کر دے۔ ( معجم کبیر )۔ 
جب حضرت سیدنا فاروق اعظمؓ نے اسلام قبول فرمایا تو جبرائیل امین آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی عمر بن خطابؓ کے اسلام لانے پر آسمان والے ایک دوسرے کو مبارک دے رہے ہیں۔ ( ابن ماجہ )۔ ابتدائے اسلام میں مسلمان چھپ کر عبات کیا کرتے تھے لیکن آپؓ کے اسلام قبول کرنے کے بعد آپؓ نے حضور نبی کریمﷺسے عرض کی یا رسول اللہﷺ اگر ہم سچے ہیں تو چھپ کر عبادت کیوں کرتے ہیں آج کے بعد ہم اعلانیہ کعبہ معظمہ میں عبادت کریں گے۔ اس طرح آپؓ کے قبول اسلام کے بعد مسلمانوں نے اعلانیہ عبادت شروع کی۔

جمعرات، 18 جون، 2026

آداب غذا

 

آداب غذا

یہ بات حقیقت ہے کہ انسان کا غذا کے بغیر گزارا نہیں ہے کیونکہ جسم کو طاقت غذا سے ہی ملتی ہے ۔
اگر جسم کو غذا نہ ملے تو اس سے جسم کمزور ہو جائے گا ۔ لیکن غذا کے استعمال کی شرط یہ ہے کہ اس میں  مبالغہ نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی رات دن کھانے پینے کی فکر ہونی چاہیے ۔  حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : جو پیٹ میں داخل کرنے ہی کی فکر میں رہتا ہے  اس کی قدرو قیمت وہ ہوتی ہے جو پیٹ سے خارج ہو تا ہے ۔
حضرت با یزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا آپ بھوکے رہنے کی اتنی زیادہ تعریف کیوں 
کرتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا اگر فرعون بھوکا رہتا تو ہر گز میں تمہارا سب سے بڑا رب ہو ں نہ کہتا ۔
اگر قارون بھوکا رہتا تو باغی نہ ہوتا اور لومڑی چونکہ بھوکی رہتی ہے اس لیے ہر ایک اس کی تعریف 
کرتا ہے جب پیٹ بھر جاتا ہے تو نفاق پیدا ہو جاتا ہے ۔ اللہ تعالی کافروں کی حالت بیان کرتے 
ہوئے فرماتا ہے : انہیں چھوڑو جو کھاتے اور عیش کرتے ہیں وہ اپنی خواہشوں میں مگن ہیں ۔ عنقریب 
وہ اپنا انجام جان لیں گے ۔
 ارشاد باری تعالی ہے : کافر لوگ عیش کرتے اور کھانے پینے میں ایسے ہیں جیسے جانور کھاتے ہیں
 ان کا ٹھکا نا جہنم ہے ۔
مشائخ طریقت نے ایسے ہی لوگوں کے بارے میں ارشاد فرمایا : ان کا کھانا بیماروں کی طرح ان کی نیند
گہری نیند والوں کی طرح اور ان کی گفتگو بچوں کی چیخ و پکار کی طرح ہوتی ہے ۔
غذا کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ تنہا نہ کھائے اور جو کھائے دوسروں کو بھی اس میں اپنے ساتھ شریک  کرے ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : سب سے زیادہ برا شخص وہ ہے جو اکیلا کھائے۔  غلام کو  مارے اور خیرات نہ دے ۔
غذا کے آداب میں سے ہے کہ جب دستر خواں پر بیٹھے تو خاموش بیٹھے اور بسم اللہ پڑھ کر کھانا شروع  کرے اور کوئی چیز اس طرح نہ رکھے یا اٹھائے جسے لوگ نا پسند کرتے ہو ں ۔اس کے بعد لازم ہے 
کہ دائیں ہاتھ سے کھانا کھائے اور اپنے لقمے کے سوا کسی کی طرف نہ دیکھے ۔ کھانے میں پانی کم پینا
چاہیے ، اور اس وقت پینا چاہیے جب سچی پیاس لگے اور اتنا پپیے جس سے جگر تر ہو جائے ۔ لقمہ بہت  بڑ ا نہیں ہو نا چاہیے اور اسے خوب چبا کر کھانا چاہیے ۔ کھانے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ان باتوں سے بد ہضمی پیدا ہوتی ہے اور سنت کے خلاف بھی ہے اور جب کھانا کھا کر فارغ ہو جائیں تو اللہ تعالی  کا شکر ادا کرنا چا ہیے اور پھر ہاتھ دھو لینے چاہیے ۔   
(بحوالہ کشف المحجوب)

بدھ، 17 جون، 2026

مسلمان کی حاجت روائی کی فضیلت

 

مسلمان کی حاجت روائی کی فضیلت

مسلمان کو چاہیے ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی مد د کرے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : نیکی اور پرہیز گاری میں ایک دوسرے کی معاونت کرو۔ (سورۃ المائدہ )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی مسلمان بھائی کی مدد اور فائدے کے لیے قدم اٹھاتا ہے ، اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے کا ثواب ملتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے ایسی مخلوق کو پیدا فرمایا ہے جن کا کام لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی قسم کھائی ہے کہ انہیں عذاب  نہیں کرے گا۔ جب قیامت کا دن ہو گا ان کے لیے نور کے منبر رکھے جائیں گے۔ وہ اللہ تعالی سے گفتگو کر رہے ہوں گے حالانکہ لوگ ابھی حساب میں ہوں گے۔ نبی کریمﷺ نے اشاد فرمایا :جو کسی مسلمان بھائی کی حاجت پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے چاہے اس کی حاجت پوری ہو یا نہ ہو اللہ تعالیٰ کوشش کرنے والے کے اگلے پچھلے سب گناہوں کو بخش دیتا ہے اور اس کے لیے دو باتیں لکھ دی جاتی ہیں، جہنم سے رہائی اور منافقت سے برائت۔ حلیہ میں ابو نعیم نقل کرتے ہیں کہ حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص کسی مسلمان بھائی کی حاجت پوری کرتاہے میں اس کے میزان کے قریب کھڑا ہوں گا اگر اس کی نیکیاں زیادہ ہوئیں تو ٹھیک ورنہ میں اس کی شفاعت کرو ں گا۔ 
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب کوئی شخص مسلمان بھائی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے چلتا ہے تو اللہ تعالی ہر قدم کے بدلے اس کے نامہ اعمال میں ستر نیکیاں لکھ دیتا ہے اور ستر گناہ معاف کر دیتا ہے۔ اگر وہ حاجت اس کے ہاتھوں پوری ہو جائے تو وہ گناہوں سے ایسے پاک ہو جاتا ہے جیسے ماں کے پیٹ سے آیا تھا اور اگر اسی دوران اس کی موت واقع ہو جائے تو بلا حساب جنت میں جائے گا۔ 
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے انعامات ہیں جو ان لوگوں کے لیے مخصوص ہیں جو لوگوں کی حاجت روائی کرتے رہتے ہیں اور جب وہ یہ طریقہ چھوڑ دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ وہ انعامات دوسروں کو منتقل کر دیتا ہے۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو کسی مسلمان کی پریشانی کو دور کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کی پریشانیوں میں سے اس کی ایک پریشانی دور فرمائے گا۔ ( مسلم شریف)۔

اتوار، 14 جون، 2026

ذکر الٰہی کی فضیلت و فوائد (۳)

 

ذکر الٰہی کی فضیلت و فوائد (۳)

حضرت سہل بن معاذؓسے مروی ہے :کہ نبی کریمﷺ سے ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہﷺ کون سے مجاہد کو سب سے زیادہ اجر ملتاہے فرمایا جو کثرت سے اللہ کا ذکر کرے۔ اس نے پھر عرض کی کس روزے دار کو زیادہ اجر ملتا ہے آپﷺ نے فرمایا ذکر کرنے والے کو۔ 
پھر اس نے نماز، زکوۃ ، حج اور صدقہ کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے ہر سوال کے جواب میں یہی فرمایا کہ ذکر کرنے والے۔ حضرت سیدنا صدیق اکبر ؓ نے حضرت عمر ؓ سے فرمایا اے ابو حفص بیشک ذکر کرنے والے ہی ساری خیر سمیٹ کے لے گئے۔ یہ سن کر نبی کریم ﷺنے فرمایا تم درست کہہ رہے ہو۔ ( المعجم الاوسط )۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سخت اعمال تین طرح کے ہیں ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے وقت نکالنا ، دوم ہر وقت اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہنا اور سوم یہ کہ اپنے بھائی کی مالی مدد کرنا۔ ( حلیۃ الائولیا )۔
حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کرو اور یہ کوشش کرو کہ صرف اسی کی صحبت میں بیٹھو جو اللہ تعالیٰ کے ذکر میں تمہاری مدد کرے۔ ( شعب الایمان )۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آسمان والے زمین پر ذکر کرنے والوں کے گھروں کویوں دیکھتے ہیں کہ وہ ستاروں کی طرح چمک رہے ہیں جیسے زمین سے آسمان پر ستارے نظر آتے ہیں ویسے آسمان سے زمین پر ذکر کرنے والو ں کے گھر جگمگاتے ہیں۔ (مصنف ابی شیبہ)۔
حضرت سیدنا عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر سوائے ذکر کے جو فریضہ بھی فرض کیا ہے اس کی کوئی حد مقرر فرمائی ہے اور عذر میں گنجائش بھی عطا فرمائی ہے۔ مگر ذکر ایک ایسی عبادت ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے کوئی حد مقرر نہیں فرمائی کہ جس پہ یہ ختم ہو جائے اور نہ ہی اس کو چھوڑنے کا کوئی عذر عطا کیا ہے سوائے اس کے کہ جس کی عقل پہ پردہ پڑ جائے۔( تفسیر طبری )۔
شیخ ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں دنیا کی پاکیزگی ذکر الٰہی سے حاصل ہوتی ہے ، آخرت کی پاکیزگی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عفو در گزرکے ساتھ حاصل ہوتی ہے اور جنت کی طہارت و پاکیزگی اللہ تعالیٰ کی رویت کے ساتھ حاصل ہو گی۔ ( جامع العلوم والحکم)۔
امام ابو القاسم قشیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ذکر اللہ تعالیٰ کی راہ کا ایک قوی ستون ہے بلکہ وہ اس راستے کی اصل ہے اور کوئی بھی ذکر میں دوام کے بغیر اللہ کی بارگاہ تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔( رسالہ قشیریہ )۔

فضائل و مناقب اہلِ بیت اطہارؓ(۱)

  فضائل و مناقب اہلِ بیت اطہارؓ(۱) اسلامی تاریخ میں بعض خاندان ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالی نے اپنی خاص رحمت ، برکت اور فضیلت سے نوازا ہے مگر خ...