بدھ، 18 فروری، 2026

استقبال رمضان(۱)

 

استقبال رمضان(۱)

روزہ عبادت ، صبر کا پیغام ہے
یہ ماہ رمضان رب کا انعام ہے
رمضان المبارک اسلامی سال کا وہ با برکت مہینہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتوں ، برکتوں اور انعامات کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے امت مسلمہ پر سایہ فگن ہوتا ہے۔ یہ مہینہ محض دن کے وقت بھوکا پیا سا رہنے کا نام نہیں بلکہ ایمان کی تجدید ، اخلاق کی اصلاح ، قلبی تطہیر اور روحانی بلندی حاصل کرنے کا سنہری موقع ہے۔ 
ارشاد باری تعالیٰ ہے : اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تا کہ تم متقی بن جائو۔ (البقرہ)۔
ماہ رمضان کا اصل مقصد تقویٰ کا حصول ہے کیونکہ متقی اور پرہیز گار شخص ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ رمضان کی آمد سے قبل صحابہ کرام کو جمع فرماتے اور انہیں خطبہ ارشاد فرماتے اے میرے صحابہ تم پر ایک عظمت والا مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے اس میں ایک رات ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ 
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب رمضان المبارک کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑدیا جاتا ہے۔ (بخاری )۔
ماہ رمضان المبارک کی با برکت ساعتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس کی آمد سے پہلے ہی ماہ مقدس کا استقبال کرنے کی تیاری کریں اور خود کو جسمانی ، ذہنی اور روحانی لحاظ سے تیار رکھیں۔ کسی بھی نیک کام کو کرنے کے لیے اخلاص کا ہونا بہت ضروری ہے۔ جو عمل بغیر اخلاص
 کے کیاجائے اس کا کوئی اجر و ثواب نہیں ملتا لہٰذا ہم رمضان کی آمد سے قبل ہی یہ نیت کریں کہ ہم خالصتاً اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے روزے رکھیں گے اور اس کی خوب عبادت کریں گے۔اس نیت سے روزہ رکھنا کہ لوگ مجھے روزہ دار کہیں ، نماز اس نیت سے پڑھنا کہ لوگ مجھے نمازی کہیں، ایسی نمازوں اور روزوں کا اللہ کے نزدیک کوئی اجر و ثواب نہیں۔ 
ماہ رمضان کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے نفس کا محاسبہ کریں۔ فرائض سے کوتاہی ، دل میں بغض ، حسد و کینہ موجود ہو تو سارا دن بھوکا پیاسا رہنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اسی لیے ماہ رمضان سے قبل اللہ تعالیٰ کے حضور سچی توبہ کریں اور حقوق اللہ کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کو بھی ادا کریں تا کہ ماہ رمضان میں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کو سمیٹ سکیں۔

منگل، 17 فروری، 2026

توبہ کی فضیلت (۲)

 

توبہ کی فضیلت (۲)

توبہ و استغفار ہر پریشانی اور دکھ کا علاج ہے ۔نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص استغفار کو لازم کر لے اللہ تعالی اسے ہر تنگی سےفراخی عطا فرما تاہے اور ہرقسم کے غم سے نجات عطا فرما تاہے۔ ایسے ذریعے سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہو گا ۔ ( ابو دائود)۔
حضور نبی کریم ﷺ اللہ تعالی کے محبوب اور سردار کونین ہیں لیکن آپ ﷺ نے خود کو بھی توبہ مانگنے کے عمل سے مستثنی نہیں رکھا ۔
 حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کا فرمان ہے کہ حضور نبی ریم ﷺ نے فرمایا : توبہ کیا کرو میں ہر روز سو بار توبہ کرتا ہوں ۔(نسائی )۔
ام المئومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا روایت کرتی ہیں حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : کوئی بند ہ ایسا نہیں جو گناہ کے بعد نادم نہ ہو مگر یہ کہ اللہ تعالی اسے مغفرت طلب کرنے سے پہلے ہی بخش دیتا ہے ۔  آپ ﷺ نے فرمایا : پیر اور جمعرات کے روز انسان کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں ۔ جس نے توبہ کی ہو اس کی توبہ قبول کر لی جاتی ہے ۔ جس نے مغفرت طلب کی ہو اسے معاف کر دیا جاتا ہے جس کے دل میں کینہ ہو اسے ویسے ہی چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ 
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کہ ایک بندے نے گناہ کیا اور کہا  یا اللہ میرا گناہ بخش دے ۔ اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے گناہ کیا وہ جانتا ہے کہ اس کاایک مالک ہے جو گناہ بخشتا اور گناہ پر مواخذہ کرتا ہے ۔ 
پھر اس نے گناہ کیا اور کہایا اللہ میرا گناہ بخش دے، اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے گناہ کیا وہ جانتا ہے کہ اس کاایک مالک ہے جو گناہ بخشتا اور گناہ پر مواخذہ کرتاہے۔ ۔ پھر اس نے گناہ کیا اور کہایا اللہ میرا گناہ بخش دے ۔ اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے گناہ کیا وہ جانتا ہے کہ اس کاایک مالک ہے جو گناہ بخشتا اور گناہ پر مواخذہ کرتاہے۔ اللہ فرماتا ہے اے بندے اب تو جو چاہے عمل کرے میں نے تجھے بخش دیا ۔ ( متفق علیہ )۔
اگر گناہوں کا تعلق حقوق العباد سے ہو تو صرف اللہ تعالی کے حضور معافی طلب کرنا کافی نہیں بلکہ حقدار کا حق پہنچانا اور اس سے معافی طلب کرنا بھی ضروری ہے ۔ اور یہی سچی توبہ کی علامت ہے ۔جب انسان سچے دل سے اللہ تعالی کے حضور توبہ کرتا ہے تو پھر اسے گناہوں سے نفرت ہو جاتی ہے اور وہ نیکیوں کی طرف راغب ہو جاتاہے ۔

پیر، 16 فروری، 2026

توبہ کی فضیلت (۱)

 

توبہ کی فضیلت (۱)

توبہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں لوٹنا یا واپس آنا  ۔ شریعت کی اصطلاح میں توبہ سے مراد یہ ہے کہ بندہ گناہ چھوڑ کر اللہ تعالی کی طرف رجوع کرے ،اللہ تعالی کے غضب کے ڈر سے اس کی طرف رجوع کرے اور یہ عہد کرے کہ آئندہ کبھی  گناہ کے راستے پر نہیں چلو ں گا ۔ اسلام میں توبہ کی بہت زیادہ اہمیت ہے اللہ تعالی کو توبہ کرنے والا شخص بہت محبوب ہوتا ہے ۔
ارشاد باری تعالی ہے :’’ اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ‘‘۔ ( سورۃ النور )۔
توبہ کی توفیق مل جانا اللہ تعالی کی عظیم نعمت ہے جو بندے کو گناہوں سے نکال کر رب کی رحمت کے نور کی طرف لے آتی ہے اور توبہ کرنے والوں سے اللہ تعالی بھی بہت زیادہ خوش ہوتا ہے ۔اللہ تعالی اپنی مخلوق سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ اس کے بندے اس سے دور ہو جائیں اور جہنم کا ایندھن بنیں ۔اسی لیے اللہ تعالی بُرے انجام سے بچانے کے لیے اپنی مغفرت کو عام کرتے ہوئے بخشش کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے : مگر جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور اچھا کام کرے تو ایسوں کی بُرائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ ( سورۃ الفرقان )۔
سورۃ البقرۃ میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : بیشک اللہ پسند کرتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند کرتاہے ستھروں کو ۔توبہ ہر شخص پر ہر حال میں اور ہر وقت واجب ہے لیکن جوانی کی توبہ افضل ہے ۔اللہ تعالی کو نوجوان کی توبہ بہت زیادہ پسند ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی کو جوان توبہ کرنے والے بہت زیادہ محبوب ہیں ۔
 سورۃ التحریم میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : ’’ اے ایمان والو اللہ کی طرف ایسی توبہ کرو جو آگے کو نصیحت ہو جائے ‘‘ ۔ ( آیت نمبر : ۸)۔یعنی توبہ ایسی کی جائے کہ پھر کبھی گناہوں کی طرف پلٹ کر نہ جائیں ۔ 
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں انسان صرف اسی صورت میں سچی توبہ کے لیے اللہ تعالی کی طرف رجوع کر سکتا ہے جب وہ سچے دل اور خلوص نیت کے ساتھ اپنے گناہوں پر شرمندہ ہو۔
 سچی توبہ یہ ہے کہ انسان دل سے اللہ تعالی کی بارگاہ میں آنسو بہائے اور معافی طلب کرے ۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا توبہ ندامت ہی کا نام ہے ۔

اتوار، 15 فروری، 2026

زکوۃ کی فضیلت و اہمیت

 

زکوۃ کی فضیلت و اہمیت

اسلام ایک جامع دین ہے جو انسان کی انفرادی ، اجتماعی ، معاشی اور روحانی زندگی کی ہر پہلو سے رہنمائی کرتا ہے۔دین اسلام کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ یہ صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ معاشرتی عدل ، معاشی توازن اور انسانی ہمدردی کو بھی بنیادی اہمیت دیتا ہے۔ زکوۃ اسلام کا ایک نہایت اہم رکن ہے جو فرد کے مال کو پاک کرنے ، دل کو بخل سے آزاد کرنے اور معاشرے کو فقر و افلاس سے بچانے کا ذریعہ بنتی ہے۔ قرآن و حدیث میں زکوۃ کی جو اہمیت و فضیلت بیان کی گئی ہے وہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسلام میں دولت محض ذاتی ملکیت نہیں بلکہ ایک امانت ہے۔زکوۃ ادا کرنے والوں پر رحمت الٰہی کا نزول ہوتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : اور میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے تو عنقریب میں نعمتوں کو ان کے لیے لکھ دوں گا جو ڈرتے اور زکوۃ ادا کرتے ہیں۔ ( سورۃ الاعراف)۔
سورۃ المومنون میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : بیشک مراد کو پہنچے ایمان والے جو اپنی نماز میں گڑ گڑاتے ہیں اور جوکسی بیہودہ بات کی طرف التفات نہیں کرتے اور وہ کہ زکوۃ دینے کا کام کرتے ہیں۔ 
زکوٰۃ کی فرضیت :ارشاد باری تعالیٰ ہے : بیشک اللہ ضرور مدد فرمائے گا اس کی جو اس کے دین کی مدد کرے گا بیشک ضرور اللہ قدرت والا غالب ہے۔ وہ لوگ کہ ہم اگر انہیں زمین میں قابو دیں تو نماز قائم رکھیں اور زکوۃ دیں اور بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں اور اللہ ہی کے لیے سب کاموں کا انجام ہے۔ ( سورۃ الحج )۔
 زکوٰۃ کا تصور نہ صرف دین اسلام میں موجود ہے بلکہ پہلی شریعتوں میں بھی زکوۃ فرض تھی۔ حضرت عیسی علیہ السلام کے حوالے سے ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ اوراس (اللہ ) نے مجھے پوری زندگی نماز اور زکوٰۃ ادا کرنے کا تا کیدی حکم فرمایا ہے ‘‘۔( سوۃ مریم)۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :’’اور وہ اپنے گھر والو ں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے اور وہ اپنے رب کے نزدیک پسندیدہ تھے ‘‘۔(سورۃ مریم ) 
سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :’’ اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ‘‘۔ اسی طرح سورۃ المنافقو ن میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ’’اور جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے زکوٰۃ دو قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کو موت آ جائے ‘‘۔

ہفتہ، 14 فروری، 2026

زکوۃ کی فضیلت و اہمیت (۳)

 

زکوۃ کی فضیلت و اہمیت (۳)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرے وہ مال قیامت کے دن گنجا سانپ بنا دیا جائے گا ، اس کی آنکھوں پر دو سیاہ نقطے ہوں گے ، اس سانپ کو اس کے گلے میں طوق بنادیا جائے گا پھر وہ اس شخص کو اپنے جبڑو ں سے پکڑے گا پھر کہے گا میں تیرا مال ہو ں ، میں تیرا خزانہ ہوں۔اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے یہ آیت مبارکہ تلاوت کی۔
ترجمہ : اور جو لوگ اس چیز میں بخل کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انہیں عطا کی ہے ( یعنی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے ) وہ ہرگز یہ گمان نہ کریں کہ وہ ان کے حق میں بہتر ہے بلکہ وہ ان کے حق میں بہت برا ہے ، عنقریب وہ مال جس میں انہوں نے بخل کیا قیامت کے دن انہیں اس کا طوق بنا کر ڈالا جائے گا۔ ( بخاری )۔
جو لوگ زکوٰۃ ادا نہیں کرتے نبی کریم ﷺ نے ان پر لعنت فرمائی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے سود کھانے والے ،سود کھلانے والے ، سود لکھنے والے اور صدقہ روکنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ ( سنن نسائی )۔
جو قوم زکوٰۃ ادا نہیں کرتی اللہ تعالیٰ اسے قحط سالی اور فاقہ میں مبتلا کر دیتا ہے۔حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو قوم بھی زکوٰۃ ادا کرنے سے رکی ہے اسے اللہ تعالیٰ نے قحط سالی میں مبتلا کیا ہے۔ ( معجم الاوسط )۔
قیامت کے دن فقرا اغنیا ء کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے عرض کریں گے اے اللہ انہوں نے ہمارے حقوق غصب کر کے ہم پر ظلم کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم آج میں تمہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ دوں گا اور انہیں دور کر دو ں گا۔ (معجم الاوسط)۔
زکوۃ ادا کرتے وقت چند آداب کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔ زکوۃ ادا کرتے وقت اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا کو مدنظر رکھنا چاہیے نہ کہ لوگوں کوخوش کرنے کو، زکوۃ دیتے وقت ریاکاری سے بچنا چاہیے کیونکہ ریاکاری والا عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول نہیں ، زکوۃ ہمیشہ حلال مال سے دی جانی چاہیے حرام مال کی زکوۃ اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرمائے گا۔آج کے دور میں جب مادہ پرستی نے انسان کو خود غرض بنا دیا ہے زکوۃ ہمیں ایثار ، ہمدردی اور اجتماعی ذمہ داری کا سبق دیتی ہے۔ اگر مسلمان زکوۃ کے نظام کو صحیح معنوں میں نافذ کر لیں تو غربت ، بے روزگاری اور ناانصافی جیسے مسائل ختم ہو جائیں گے۔

جمعہ، 13 فروری، 2026

زکوۃ کی فضیلت و اہمیت (۲)

 

زکوۃ کی فضیلت و اہمیت (۲)

جمعرات، 12 فروری، 2026

علم کی قدرو منزلت

 

علم کی قدرو منزلت

ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ تم میں سے جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہیں علم دیا ہے اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے پوری طرح واقف ہے۔ ( سورۃ المجادلہ )۔
اگر کوئی طالب علم راہ علم میں آنے والی سختیوں سے گھبرا جائے تو اس بات کو اپنے ذہن میں رکھے کہ بارگاہ الٰہی میں علم کی کیا قدر ہے۔ جب طالب علم کو علم کی قدر کا پتہ چلے گا تو وہ اس بات کو سمجھ جائے گا کہ وہ کتنی مقدس راہ پر چل رہا ہے تو یہ ہی بات اس کی مشکلات کو آسان کر دے گی۔یہ بات حقیقت ہے کہ افضل علم دین کا علم ہے لیکن اسلامی نقطہ نظر سے دین اور دنیا کی کوئی تقسیم نہیں۔ مطلب یہ کہ اگر دنیا کا کوئی بھی کام اللہ تعالیٰ اور حضور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق کیا جائے تو وہ بھی دین بن جاتا ہے۔جو بھی علم مخلوق خدا کی خدمت اور معرفت الٰہی کے لیے حاصل کیا جائے علم کے شرف و منزلت میں وہ علم بھی شامل ہو گا۔
 حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو طلب علم کی راہ پر نکلا وہ واپس لوٹنے تک راہ خدا میں ہے۔ ( ترمذی )۔
حضور نبی کریم ﷺ ارشاد فرمایا کہ علم حاصل کرنا اللہ تعالیٰ کو اتنا محبوب عمل ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے صدقے میں اس کی پچھلی غلطیاں معاف فرما دیتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو انسان حصول علم کے لیے نکلتا ہے اس کا یہ عمل اس کے گزشتہ گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ (سنن دارمی )۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسو ل اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی نازل فرمائی کہ :جو شخص حصول علم میں کسی راستے پر چلے گا میں اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دوں گا۔ اور میں جس کی دونوں آنکھیں لے لو ں (اور اگر وہ صبر کرے ) تو میں ان دونوں آنکھوں کے بدلہ میں جنت عطا کرو ں گا اور علم میں زیادتی عبادت میں زیادتی سے بہتر ہے اور دینی استحکام کا سبب تقوی ہے۔ ( کنزالعمال )۔
حضرت صفوان بن عسال فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا میں علم کی تلاش میں آیا ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا علم کے متلاشی خوش آمدید ! بیشک طالب علم کی یہ شان ہے کہ فر شتے اسے اپنے پروں میں ڈھانپ لیتے ہیں پھر وہ ایک دوسرے کے اوپر کھڑے ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں۔ وہ یہ سب کچھ اس محبت کی وجہ سے کرتے ہیں جو انہیں ایک طالب علم کے ساتھ ہوتی ہے۔( المعجم الکبیر للطبرانی )۔

استقبال رمضان(۱)

  استقبال رمضان(۱) روزہ عبادت ، صبر کا پیغام ہے یہ ماہ رمضان رب کا انعام ہے رمضان المبارک اسلامی سال کا وہ با برکت مہینہ ہے جو اللہ تعالیٰ ک...