بدھ، 30 ستمبر، 2026

ملازمین کے ساتھ حسن سلوک

 

ملازمین کے ساتھ حسن سلوک

انسان جب اپنے ہم مرتبہ لوگوں سے بات چیت کرتا ہے تو اخلاقی قدروں کو ملحوظ خاطر رکھتا ہے اور جب اپنے ماتحت لوگوں سے معاملہ کرتا ہے تو ان کو اپنے سے کم تر سمجھتا ہے اور تمام اخلاقی قدروں کو پامال کر دیتا ہے ۔  اور اس کی عزت و نفس کا بھی خیال نہیں رکھتا ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے اپنے ماتحت لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیا ۔اور اپنے سے بڑے اور چھوٹے سب کے ساتھ ایک جیسے معاملات رکھنے کا حکم  فرمایا۔
حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں اپنے غلام سے کسی بات پر ناراض ہو گیا اور اسے درّے سے مارنے لگا ۔ اتنے میں میرے پیچھے سے آواز آئی ۔ اے ابو مسعود جان لو ! مگر میں شدید غصے کی وجہ سے آواز پہچان نہ سکا جب آواز دینے والا میرے قریب آ گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ رسول کریم ﷺ ہیں اور آپ فرما رہے تھے ۔ اے ابو مسعود ! جان لو تمہیں اس غلام پر قابو حاصل ہے اس سے زیادہ قابو اللہ تعالی کو تمہارے اوپر حاصل ہے ۔
یہ سن کر میرے ہاتھ سے کوڑا گر گیا اور میں نے کہا کہ میں کبھی اس غلام کو نہیں ماروں گا ۔ میں اس غلام کو اللہ کے  لیے آزاد کر تا ہوں ۔ یہ سن کر حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں اگر تم ایسا نہ کرتے تو تمہیں آگ چھو لیتی ۔ ( جامع الاصول) ۔
حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضور  ﷺ سے پوچھا ہم ملازم کو ایک دن میں کتنی بار معاف کر دیا کریں ۔ آپ ﷺ خاموش رہے اس نے دوسری مرتبہ پوچھا آپ ﷺ خامو ش رہے ۔ اس نے پھر  یہ ہی سوال پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا اسے ہر روز ستر مرتبہ معاف کر دیا کرو ۔ ( ابی داؤد ) ۔
حضور نبی کریم ﷺ نے غلاموں کے متعلق ارشاد فرمایا : وہ تمہارے بھائی ہیں جنہیں اللہ تعالی نے تمہارے ماتحت کر دیا ہے ۔ تو جس کے ماتحت اس کا بھائی ہو اسے چاہیے کہ جو خود کھاتا ہے اسے بھی وہ ہی کھلائے جو خود پہنتا ہے اس کو بھی پہنائے ۔ اور اس سے اس کی طاقت سے زیادہ کوئی کام نہ کروائے ۔ اگر اسے کوئی ایسا کام کہہ دے تو خود بھی اس کی مدد کرے ۔
 آخری ایام میں حضور  ﷺ نے نماز کے ساتھ ماتحت لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین فرمائی ۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ جس وقت آپ ﷺ کا وصال ہوا تو آپ ﷺ آخری دم تک یہی فرما رہے تھے اے لوگو ! نماز کا خیال رکھنا اور اپنے غلاموں کا خیال رکھنا  ( ابن ماجہ ) ۔

منگل، 29 ستمبر، 2026

شیخ عبد القادر جیلانی محبوب سبحانی ؒ(۳)

 

شیخ عبد القادر جیلانی محبوب سبحانی ؒ(۳)

آپ ؒ کو جو ہدیہ یا تحائف پیش کیے جاتے ان کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے ۔جو ہدیہ آپ ؒ کی خدمت میں پیش ہوتا وہ اسی وقت حاضرین میں  تقسیم کر دیا جاتا اور ہدیہ دینے والے کو خود بھی کچھ دیتے اور فرماتے کہ یہ حضور ﷺ کی سنت مبارکہ ہے کہ جو کچھ آپ کو دیا جائے اس  سے بہتر کچھ دیا جائے ۔ آپ ؒ کے لیے تیسرے پہر چار روٹیاں لائی جاتیں تو آپ ان میں سے ایک ایک ٹکڑا حاضرین کو دیتے اور پھر  جو کچھ بچتا وہ خود کھا لیتے ۔ 
آپ ؒ کسی امیر کی تعظیم میں کھڑے نہیں ہوتے تھے اور نہ ہی کسی امیر کے در پر جاتے تھے ۔ آپ ؒ کے پاس خلیفہ آتا تو آپ کے ہاتھ چومتا اور ادب سے دست بستہ آپ ؒ کے سامنے بیٹھ جاتا اور آپ ؒ ا س سے بے باکی سے گفتگو فرماتے ۔ شیخ ابو المظفرمنصور لکھتے ہیں کہ حضور غوث اعظم ؒ سے بڑھ کر میں نے کسی کو خوش خو ، مہربان ، کریم النفس ، حوصلہ والے ، وعدہ وفا اور دوستی  نبھانے والا نہیں دیکھا ۔ آپ ؒ کی مجلس میں رعب ایسا تھا کہ کسی کو دم مارنے کی مجال نہ ہوتی اور سکون ایسا کہ خدمت میں حاضر ہونے  والے باہر کی تمام فکریں بھول جاتے ۔ 
آپ ؒ بہت سخی ، مسکین نواز تھے ، مہمانوں اور خاص طور پر غرباء و مساکین کے ساتھ بیٹھ کر کھانا تناول فرماتے ۔ ان کے ساتھ اخلا ص و محبت کے ساتھ بات چیت کرتے ۔ان کی بُرائیوں کو چھپاتے اور اچھائیوں کی تعریف کرتے ۔ آپ ؒ خوش اخلاق اور مستجاب الدعوات تھے ۔ 
آپ ؒ کی زبان سے کبھی فحش گوئی اور بے ہودہ کلام نہ نکلا اور نہ ہی کسی کو آپ ؒ کے سامنے فحش گوئی کی جرات ہوتی ۔ اللہ تعالی کے احکام کے برعکس  کوئی کام ہوتا دیکھتے تو اسے نرمی سے سمجھاتے ۔کوئی بھی سائل آپؒ کے دربار سے خالی نہ جاتا اور مانگنے والا جو کچھ مانگتا آپ ؒ عطا فرماتے ۔
 آپ ؒ نے فرمایا پیر وہ ہے جس کو ظاہری شریعت کا علم ہو ، وہ علم حقیقت جانتا ہو ، اپنے پاس آنے والوں کے ساتھ عمدگی اور خندہ پیشانی سے ملتا ہو ، مسافر کو کھانا کھلاتا ہو ، غرباء اور بے حیثیت لوگوں کے ساتھ قول اور فعل دونوں میں عجز و انکساری کے ساتھ پیش آتاہو اور مریدین کی باطنی تربیت اورتعلیم کی لیاقت رکھتا ہو ۔اور خود بھی ریاء ، حسد ، طمع ، خود بینی ، غفلت اور عیش طلبی سے پاک ہو ۔  حضور غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی شان کسی ایک لقب ، ایک واقعے یا ایک کرامت میں محدود نہیں کی جاسکتی ۔بغداد کی سرزمین پر آپ ؒ نے  ایسا اثر چھوڑا جو صدیوں گزرنے کے باوجود دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں میں زندہ ہے ۔

پیر، 28 ستمبر، 2026

شیخ عبد القادر جیلانی محبوب سبحانی ؒ(۲)

 

شیخ عبد القادر جیلانی محبوب سبحانی ؒ(۲)

حضور غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے ابتدائی تعلیم گھر میں حاصل کی اور قرآن مجید حفظ و ناظرہ بھی والدین سے پڑھا۔اس کے بعد آپ ؒ کے  والدین نے آپ کو جیلان کے ایک مدرسہ میں داخل کرا دیاجہاں آپ نے اٹھارہ برس تک تعلیم حاصل کی ۔مزیدحصول علم کے لیے آپؒ  بغداد تشریف لے گئے ۔ بغداد شریف پہنچنے کے بعد مدرسہ نظامیہ میں داخلہ لیا ۔ آپ نے ہر علم اس کے ماہر و باکما ل استاد سے پڑھا ۔ علم  میں کمال مہارت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ آپ عبادت وریاضت میں بھی مشغول رہے ۔  ظاہری علوم سے فارغ ہونے کے بعد آپؒ نے سکون قلب حاصل کرنے کے لیے کامل روحانی استاد و عارف کی تلاش شروع کر دی ۔ اللہ تعالی نے آپ کی دعا کو قبول فرمایا اور آپ کو حضرت شیخ حماد بن مسلم ؒسے ملا دیا ۔ حضرت شیخ حمادؒ  کی صحبت سے ملنے والے فیض نے آپؒ  کے دل میں عشق الہی کو خوب بھڑکا دیا ۔  آپؒ نے شیخ حماد ؒ سے فیض یاب ہونے کے بعد گوشہ نشینی اختیار کر لی اور مسلسل 12 سال تک ذ کر الہی میں مشغول رہے ۔ آپ نے حضرت شیخ ابوسعید مخزومی رحمۃ اللہ علیہ کے دست اقدس پر بیعت کی ۔ مرشد نے آپ  ؒ کو خلافت کی اجازت دی اورولایت کا تاج آپؒ کو عطا فرمایا ۔
 پھر اپنے مدرسے میں صدر المدرسین مقرر کیا اور خود گوشہ نشینی اختیار کر لی ۔   آپؒ نے عوام میں وعظ و نصیحت شرو ع کی اور سننے والوں پر گہرا اثر ہونے لگا ۔ گناہوں سے آلودہ دل صاف ہونے لگے ۔ آپ کو اللہ تعالی نے ایسی مقبولیت عطا کی کہ مدرسہ کی عمارت سامعین کے لیے کم پڑنے لگی اس کے بعد آپ نے عید گاہ میں وعظ و نصیحت شروع کی لیکن وہ جگہ بھی کم پڑ گئی ۔ اس کے بعد آپ کا منبر کھلے میدان میں  لگایا گیا جہاں کثیر تعداد میں لوگ آپ کا وعظ سننے کے لیے آتے ۔ آپؒ لوگوں کو محض  ظاہری عبادات کی طرف نہیں بلاتے تھے بلکہ دل کی بیماریوں خود پسندی ، بغض ، کینہ ،حرص و لالچ ، تکبر اور دنیا پرستی سے نجات کی طرف بھی متوجہ کرتے تھے ۔ 
آپ کی مجلس میں امراء ، فقراء ، درویش ، صوفی سلاطین ، علماء و مشائخ الغرض ہر طبقہ کے لوگ شامل ہوتے یہاں  تک کہ یہودی و نصاری بھی مستفید ہوتے تھے ۔آپ کا وعظ ربانی الہامات کا سمندر اور معرفت کی تفسیر ہوتا۔
صوفیا ء میں جو مقام و مرتبہ شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کو حاصل ہے وہ کسی اور کو حاصل نہیں ۔ ہر سلسلہ کے صوفیا اور ارادت مندوں میں آپؒ  کی وہ عقیدت و محبت پائی جاتی ہے جس کا تصور بھی نہیں ۔ اس کی وجہ وہ اخلاص اور للہیت ہے جس سے انہوں نے حضور نبی کریم ﷺ  کے دین کی خدمت کی 

اتوار، 27 ستمبر، 2026

شیخ عبد القادر جیلانی محبوب سبحانی ؒ(۱)

 

شیخ عبد القادر جیلانی محبوب سبحانی ؒ(۱)

اللہ تعالی نے ہر دور میں ایسے بندوں کو پیدا فرمایا ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں ایمان ، تقوی ، اخلاص ، عبادت اور خدمت خلق سے  مزین کیں ۔یہ خوش نصیب ہستیاں اولیا ءاللہ کہلاتی ہیں ۔یہ وہ ہستیاں ہیں جنہوں نے دنیا میں رہتے ہوئے اپنی زندگی کو آخرت کی کامیابی کے لیے وقف کر دیا ۔ان کی گفتگو میں خیر ، کردار میں پاکیزگی ، معاملات میں دیانت ، دل میں خوف خدا اور زندگی میں اتباع رسول ﷺ نمایاں ہوتی ہے ۔ اللہ تعالی کے یہ مقبول بندے دنیاوی نمود و نمائش کے بجائے اللہ تعالی کی رضا کو اپنی زندگی کا  مقصد بناتے ہیں ۔ان کی عظمت کسی ظاہری منصب ، دولت یا شہرت کی محتاج نہیں ہوتی بلکہ ان کا اصل مقام ایمان ، تقوی ، اخلاص، اطاعت الہی، مخلوق خداسے محبت اور خیر خواہی ، دنیا کی محبت سے بے رغبتی اور آخرت کی فکر سے متعین ہوتا ہے ۔
ولی کے لغوی معنی دوست ، مددگار اور قریب ہونے والے کے ہیں ۔ شریعت کی اصطلاح میں ولی وہ شخص ہے جو ایمان اور تقوی کی دولت سے مالامال ہو ، اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لے ۔ارشاد باری تعالی ہے : ”سن لو،  بیشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم ۔ وہ جو ایمان لائے اور پرہیز گاری کرتے ہیں “۔ ( سورۃ یونس)۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت مبارکہ کی تفصیل میں فرماتے ہیں اولیا ءاللہ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو دیکھ کر اللہ تعالی کی یاد  آئے ۔جیسا کہ حضور نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے اللہ تعالی کا ولی وہ ہے جسے دیکھ کراللہ تعالی یاد آ جائے ۔( کنزالعمال )۔
حضور غوث اعظم  رحمۃ اللہ علیہ بھی انہی عظیم ہستیوں میں سے ہیں جن کی ذات علم و عمل ، زہد و تقوی ، اخلاص و عبادت اور محبت و اصلاح کا حسین امتزاج ہے۔
سیدنا غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ ۴۷۰ ہجری کو عراق کے شہر جیلان میں پیدا ہوئے ۔ آپ کی شخصیت اور علمی و  روحانی کمالات کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ آپ کے والد ماجد سیدنا ابو الصالح موسی جنگی دوست رحمۃا للہ علیہ بہت بڑے عالم و عارف اور  اکابر مشائخ میں تھے ۔ آپ کے والد زہد و تقوی اور روحانی اور علمی کمالات کے مالک تھے ۔آپ کے والد ماجد نفس کشی اور ریاضت شرعی  میں فرد واحد تھے ۔آپ کی والدہ ماجدہ نہایت پرہیز گار اور علوم ظاہری و باطنی سے مرصع و مرقع تھیں ۔ آپ قرآن پاک کی حافظہ اور بہت زیادہ عبادت گزار تھیں ۔

ہفتہ، 26 ستمبر، 2026

حکما ءکے اقوال

 

حکما ءکے اقوال

حضرت شفیق زاہد رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے منقول ہے کہ فقراءکو تین چیزیں پسند ہیں اور اغنیا ءکو بھی  تین چیزیں پسند ہیں ۔ فقراءنے راحت نفس ، دل کا فراغ اور ہلکے حساب کو اختیار کیا ہے  جبکہ امراءنے مشقت نفس کو پسند کیا ہے ، دل کی الجھن کو پسند کیا ہے اور شدت حسب کو پسند کیا۔ حضرت حاتم زاہد سے روایت ہے کہ جو شخص چار چیزوں کے بغیر چار چیزوں کا دعوی کرتا ہے تو وہ  جھوٹا ہے ۔  وہ شخص جو اللہ تعالی کی محبت کا دعوی کرتا ہے مگر حرام سے نہیں بچتا ہے ۔ وہ شخص جو اللہ تعالی کی اطاعت میں مال خرچ کیے بغیر جنت سے محبت کا دعوی کرتا ہے ۔ وہ شخص جو فقراءاور  مساکین کے ساتھ نہیں بیٹھتا اور بلندی درجات کا دعویٰ کرتا ہے ۔
جس شخص میں یہ چار باتیں ہوں وہ تما م بھلائیوں سے محروم ہو گا ۔ جو شخص اپنے نیچے کام کرنے والوں  پر سختی کرتا ہے ۔  والدین کا عاق شدہ۔ یعنی جس نے والدین کو گھر سے نکال دیا ہو اور ان کا نا فرمان ہو ۔
وہ شخص جو غربا ءکو اپنے سے کمتر سمجھتا ہو ۔ اور وہ شخص جو مساکین کا ان کی غربت کی وجہ سے مذاق اڑاتا ہو، ان کو شرمندہ کرتا ہو ۔
حضور نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے مجھے یہ حکم نہیں دیا ہے کہ میں مال جمع کروں اور تاجروں  میں شمار ہو ں بلکہ ارشاد باری تعالی ہے :” اپنے پروردگار کی تسبیح و تمحیدکرو اور ساجدین میں سے ہو جاؤ اور آخروقت تک اپنے پروردگار کی عبادت کرو “۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ : اے لوگو تنگ دستی اور فاقہ کی وجہ سے  رزق حرام کی کوشش نہ کرو۔ میں نے نبی کریم ﷺ کی زبان مبارکہ سے سنا ہے کہ اے اللہ مجھے فقیری  میں موت دینا اور تو نگری میں نہیں اور مجھے مساکین میں اٹھانا کیونکہ سب سے بڑا بد نصیب وہ  شخص ہے جس پر دنیا کا فقر اور آ خرت کا عذاب جمع ہو جائے ۔ روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس قادسیہ سے مال غنیمت آیا۔ آپ اسے الٹا سیدھا کر کے دیکھتے رہے اور روتے رہے۔ تب حضرت عبدالرحمان بن عوف  رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا اے حضرت آج تو خوشی کا دن ہے اور آپ رو رہے ہیں۔ فرمایا تونے  صحیح کہا مگر یہ مال جس قوم کے پاس آجاتا ہے ان میں دشمنی اور بغض پیدا ہو جاتا ہے ۔ اللہ تعالی کو سب سے زیادہ فقراءپسند ہیں ۔ اور تمام انبیاء علیہم السلام نے فقر کو پسند کیا ۔

جمعرات، 24 ستمبر، 2026

قرآن اور انسانی نفسیات

 

قرآن اور انسانی نفسیات

 قرآن مجید میں صرف عبادات کاہی ذکرنہیں بلکہ انسان کے ظاہر کے ساتھ اس کے باطن مثلاً احساسات، جذبات رجحانات اور نفسانی  کیفیات کا بھی کامل اور بھرپور طریقے کے ساتھ تجزیہ پیش کرتا ہے ۔
انسان کی شخصیت میں ایک نمایا ں پہلو خوف ہے جس کی وجہ سے انسان کی توجہ روز مرہ کے معاملات سے ہٹ جاتی ہے ۔سورۃ البقرہ  آیت ۱۵۵ میں ارشاد باری تعالی ہے :’’اور ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو ‘‘  لیکن اگر انسان خوف کے مقابلے میں توکل علی اللہ اور صبر کو اختیار کرے تو اس خوف سے نجات حاصل کر کے اپنے معاملات کو احسن طریقے سے سر انجام دے سکتا ہے ۔  حرص اور طمع انسان کی فطرت میں شامل ہے ۔انسان کی دنیاوی محبت اور لالچ کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے ۔سورۃ الفجررآیت ۲۰ میں
 ارشادباری تعالی ہے:’’ اور میراث کا مال ہپ ہپ کھاتے ہو ۔ اور مال کی نہایت محبت رکھتے ہو ‘‘۔ یہی دنیاوی مال کی محبت اور حرص انسان کو حسد ،خود غرضی اور ناانصافی کی طرف لے جاتا ہے ۔جس کی وجہ سے پورے معاشرے کا امن و امان خراب ہو جاتا ہے ۔ اسی لیے اسلام ہمیں قناعت ، انفاق فی سبیل اللہ اور زہد و تقوی کی تعلیم دیتا ہے ۔ 
غم اور مایوسی کی وجہ سے انسان بعض اوقات نفسیاتی مریض بن جاتا ہے ۔قرآن مجید میں غم اور مایوسی کا علاج پیش کیا گیا ہے کہ ’’ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو‘‘ جب انسان کا اللہ کی رحمت پر پختہ یقین ہو جاتا ہے تو وہ ڈپریشن اور احساس محرومی سے نجات حاصل کر لیتا ہے ۔  حسد ایک خطرناک بیماری ہے۔ اس سے انسان کی نیکیاں ختم اورگناہوں میں اضافہ ہوتا ہے ۔اور حاسدین کے حسد سے پناہ مانگنی چاہیے۔
 ارشاد باری تعالی ہے : ’’ اور حسد والے کے شر سے جب وہ مجھ سے جلے ‘‘۔حسد انسان کے دل کو کالا اور زندگی کو بے سکون کر دیتا ہے ۔  اس کا علاج قناعت اور دوسروں کی چیزوں کو دیکھ کر جلنے کی بجائے اللہ تعالی کی دی گئی نعمتوں پر شکر ادا کرنا ہے ۔
خود پسندی اور تکبر بھی انسان کی فطرت میں ہے لیکن یہ اللہ تعالی کو سخت نا پسند ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے :بیشک اللہ کو نہیں بھاتا کوئی  اتراتا فخر کرتا ‘‘۔ اسلام انسان کو عاجزی و انکساری ، تواضع و حلم اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے۔ 
قرآن مجید انسان کو صبر اور شکر کی تلقین کرتا ہے ۔یعنی جب کسی مشکل میں ہو تو صبر کرے کیوں کہ صبر والوں کے لیے اجر عظیم ہے اور  جب اللہ کی نعمت ملے تو شکر کرے کیوں کہ شکر کرنے سے اللہ اور دیتا ہے ۔ اگر ہم قرآن مجید کی ان تعلیمات پر عمل کریں تو زندگی پُر سکون اور گناہوں سے پاک ہو جائے ۔

بدھ، 23 ستمبر، 2026

باطنی بیماریا ں اور ان کا علاج

 

باطنی بیماریا ں اور ان کا علاج

آج کے دور میں انسان اپنی جسمانی بیماریوں کا علاج تو بڑی فکر اور بہترین ڈاکٹر سے کرواتا ہے اور انسان ظاہری لباس ، جسمانی فٹنس پر تو بے شمار خرچ کرتا ہے لیکن اپنی باطنی بیماریوں کا علاج نہیں کرتا جو اسے اندر سے کھوکھلا کر رہی ہوتی ہیں ۔ باطنی بیماریوں کا علاج اللہ تعالی نے آج سے چودہ سوسال پہلے ہی قرآن مجید میں بیان کر دیا تھا ۔ارشاد باری تعالی ہے :”ان کے دلوں میں بیماری ہے تو اللہ نے ان کی بیماری اور بڑھائی اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے بدلہ ان کے جھوٹ کا “۔( البقرۃ)
اس بیماری سے مراد منافقت ہے یعنی انسان زبان سے تو کچھ کہتا ہے لیکن اس کے دل میں کچھ اور ہوتا ہے ۔ 
سورۃ النساءمیں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :” لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا “۔ ( سورۃ النساءآیت۴۵)
یہ وہ بیماریاں ہیں جو انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہیں ۔یہ بیماریاں انسان کے ایمان اور روحانی زندگی کے لیے زہر قاتل ہیں ۔حسد ، کینہ اور ریاءکاری جیسی بیماریاں انسان کے اعمال کو برباد کر دیتی ہیں اور اسے معلوم تک نہیں ہوتا اور بندے کا تعلق اللہ سے کٹ جاتا ہے ۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید کو بیماریوں سے شفاءحاصل کرنے والا بنایا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے : ” اور ہم قرآن میں اتارتے ہیں وہ چیز جو ایمان والوں کے لیے شفاءاور رحمت ہے “۔( سورۃ بنی اسرائیل :آیت ۲۸) اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ان تمام بیماریوں کا علاج بتایا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ” اے ایمان والواللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو “۔ جب انسان سچائی کا راستہ اختیار کرتا ہے تو منافقت اس کے دل سے ختم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح حسد انسان کے نیک اعمال کو ختم کر دیتا ہے اللہ تعالی نے قرآن مجید میں حسد کی بیماری سے بچنے کی دعا بھی سکھائی ہے ۔ ”اور حسدکے شر سے جب وہ مجھ سے جلے “۔ اللہ تعالی کی رضا اور اس کی تقسیم پر راضی رہنے سے بندہ اس خطر ناک باطنی بیماری سے بچ جاتا ہے ۔ تکبرکا علاج تواضع و انکساری اور عاجزی کو اختیار کرنا ہے ۔ عاجزی اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺکوبہت پسند ہے ۔ اسی طرح ریاءکاری کا علاج اخلاص ہے یعنی ہر عمل اللہ تعالی کی رضا کے لیے کیا جائے اور غفلت کا علاج ذکر اور قرآن مجید کی تلاوت کرنا ہے ارشاد باری تعالی ہے :” اور ان جیسے نہ ہوں جو اللہ کو بھلا بیٹھے “ان تمام بیماریوں کا علاج اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ممکن ہے اسی میں ہی ہماری نجات اور کامیابی ہے ۔

ملازمین کے ساتھ حسن سلوک

  ملازمین کے ساتھ حسن سلوک انسان جب اپنے ہم مرتبہ لوگوں سے بات چیت کرتا ہے تو اخلاقی قدروں کو ملحوظ خاطر رکھتا ہے اور جب اپنے ماتحت لوگوں سے...