والدین کی نافرمانی پر وعید
والدین کی نافرمانی ایک ایسا سنگین گناہ ہے جس کی مذمت قرآن و حدیث میں نہایت شدت کے ساتھ کی گئی ہے۔ اسلام میں والدین کو وہ بلند مقام عطا کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ والدین کی اطاعت و خدمت کا حکم دیا گیا ہے۔ اسی طرح ان کی نافرمانی کو گناہ کبیرہ قرار دیا گیا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا، تین شخص جنت میں نہ جائیں گے۔ ماں باپ کا نافرمان،دیوث اور مردوں کی طرح وضع بنانے والی عورت۔( معجم الاوسط )
حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا، یہ بات کبیرہ گناہوں میں سے ہے کہ آدمی اپنے والدین کو گالی دے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ کیا کوئی شخص اپنے ماں باپ کو گالی دیتا ہے ؟
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اس کی صورت یہ ہے کہ یہ دوسرے کے باپ کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کے باپ کو گالی دیتا ہے۔یہ دوسرے کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے۔ ( مسلم )۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اس شخص کی ناک خاک آلود ہو۔ پھر فرمایا اس شخص کی ناک خاک آلود ہو۔ پھر تیسری بار نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا اس شخص کی ناک خاک آلود ہو۔عرض کی گئی یارسول اللہ ﷺ کس کی ناک خاک آلود ہو ؟آپﷺ نے فرمایا جس نے اپنے ماں باپ یا پھر ان میں سے کسی ایک کو بڑھاپے میں پایا پھر وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوا۔ (مسلم )۔
یعنی اگر کسی کے والدین یا ان میں سے کوئی ایک اگر بڑھاپے میں زندہ ہو تو ان کی خدمت کر کے جنت کو حاصل نہ کر سکے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ ہر گناہ میں سے جسے چاہے معاف فرما دے گاجبکہ ماں باپ کی نافرمانی کی سزا انسان کو موت سے پہلے زندگی میں ہی مل جائے گی۔ ( شعب الایمان )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا بروز قیامت تین لوگ میرا چہرا نہیں دیکھ سکیں گے۔والدین کا نافرمان ، میری سنت کی پیروی نہ کرنے والا اور جس کے سامنے میرا نام لیا جائے اور وہ مجھ پر دورد پاک نہ پڑھے۔
والدین کی نافرمانی دنیاوی اور اخروی دونوں طرح کے نقصانات ہیں۔ دنیا میں ایسے شخص کی زندگی سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ دل بے سکون رہتا ہے اور معاشرے میں عزت کم ہو جاتی ہے جبکہ آخرت میں بھی ایسے افراد کے لیے سخت وعید ہے۔٭






