جمعرات، 13 اگست، 2026

کھانے کے آداب

 

کھانے کے آداب

حضرت عمرو بن ابو سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے آپ فرماتے ہیں جب میں چھوٹا تھا رسول خدا ﷺ کی آغوش میں تھا ۔ میرا ہاتھ پیالے میں ہر سمت گھومتا تھا ۔ تو مجھے آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالی کا نام لو یعنی بسم اللہ الرحمن الرحیم  پڑھو ۔ اور اپنے دائیں ہاتھ کے ساتھ کھاؤ ۔ اور اپنی طرف سے کھاؤ ۔ ( بخاری و مسلم )۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو  اسے چاہیے کہ اللہ تعالی کا نام لے اور اگر آغاز میں بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو اسے چاہیے کہ بسم اللہ اولہ وآخرہ کہے ( ابو داؤد ، ترمذی ) ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : شیطان اس کھانے کو حلال سمجھتا ہے جس میں اللہ تعالی  کے نام کا ذکر نہ کیا جائے ۔ 
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ میں رسول خدا ﷺ کو تین انگلیوں کے ساتھ کھاتے ہوئے  دیکھا۔ جب فارغ ہوئے تو انہیں چاٹ لیا ( مسلم شریف) ۔حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریمﷺ  نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اسے چاہیے کہ اسے اٹھا لے اور جو آلودگی لگی ہے اسے جھاڑ لے اور اسے چاہیے کہ اسے کھا لے۔ اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے اور ہاتھ رومال سے نہ پونچھے یہاں تک کہ انگلیاں  چاٹ لے ۔ کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے ۔ ( مسلم شریف )۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کھانا ٹھنڈا کرکے کھاؤ کیونکہ گرم کھانے میں برکت نہیں ہوتی اور کھانا سونگھو نہیں کیونکہ  یہ چار پایوں کا کام ہے ۔ 
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے کبھی کسی کھانے میں سے عیب نہیں نکالا ۔ اگر چاہا  تو کھا لیتے اور پسند نہ ہوتا تو چھوڑ دیتے (بخاری و مسلم ) ۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے اپنے اہل خانہ سے کھانا طلب فرمایا ۔ عرض کی گئی کہ اور کچھ نہیں صرف سرکہ ہے ۔ آپ ﷺ نے وہی طلب فرمایا اور کھانے لگے اور فرمایا کیا اچھا سالن سرکہ ہے کیا ہی اچھا سالن سرکہ ہے ۔( مسلم )۔ 
ارشاد باری تعالی ہے : اور کھاؤ پیو اور اسراف نہ کرو ۔ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : کسی آدمی نے پیٹ سے زیادہ برابر تن نہیں بھرا ۔ ابن آدم کے لیے چند لقمے کافی ہیں جن سے وہ اپنی پشت سیدھی رکھے ۔ اگر پیٹ بھرے بغیر چارہ نہیں تو ایک  تہائی طعام کے لیے ، ایک تہائی مشروب کے لیے اور ایک تہائی اپنی سانس کے لیے

بدھ، 12 اگست، 2026

فضیلت مسجد

 

فضیلت مسجد

منگل، 11 اگست، 2026

حکمت و دانش

 

حکمت و دانش

حکمت کا ایک کلمہ انسان کی زندگی کا رخ بدل دیتا ہے ۔ دانش کی کہئی ہوئی ایک بات انسانی فکر کو تبدیل کر دیتی ہے اور بصیرت بھرا ایک جملہ انسانی سوچوں میں انقلاب پیدا کر دیتا ہے ۔ دقیق مباحث اور دلائل کے انبار قلب نظر میں اضطراب تو پیدا کرتے ہیں اور دلائل خرد کی تشنگی کو مزید بڑھا تو ضرور دیتے ہیں لیکن انسانی قلب کی کیفیات کو بدلنے سے قاصررہتے ہیں ۔ 
حکمت سے مراد ایسی دانش بھری اور دل میں اتر جانے والی بات ہوتی ہے جو انسان کے قلب و نظر میں ایک دور رس  تبدیلی کا باعث بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہو ۔ جس کی دلیل کو ٹھکرانا انسان کی عقل کے لیے ممکن نہ ہو ۔ حکمت سے مراد دانائی اور عقل مندی کی باتیں ہیں ۔ 
یہ انسان کی فطرت میں شامل ہے کہ جو بات اس کے دل میں بیٹھ جائے یہ کبھی اس سے انکار نہیں کر سکتا ۔ تو جس بندے کو ایسا حکمت بھرا انداز اللہ تعالی کی طرف سے عطا ہو جائے اور دوسرے اس کی باتوں کے قائل ہوتے جائیں تو اس کی باتیں دلوں پر راج کریں تو وہ سمجھ جائے کہ اللہ تعالی نے اسے بے شمار بھلائیاں عطا فرمائی ہیں ۔ حکمت و دانش کی یہ دولت اللہ تعالی کی خصوصی عطا ہے جسے یہ مل جائے وہ بہت ہی خوش قسمت ہے ۔ 
ارشاد باری تعالی ہے : اللہ تعالی جسے چاہتا ہے حکمت عطا فرماتا ہے ۔ اور جسے حکمت دی گئی اسے خیر کثیر دے دی گئی ۔
(سورۃ البقرہ)۔مال کثیر سے مراد مال و دولت ، جاہ و جلال یا پھر منصب و شہرت نہیں ۔ بلکہ اس سے مراد فکرو خیال کی  وہ پاکیزگی عطا کی گئی ہے کہ وہ خودخیر کا پیکر بن گیا اور دوسرے اس  خیر کو ٹھکرا نہ سکیں ۔
کائنات میں پائی جانے والی ہر حکمت اور دانش کی بات کسی نہ کسی نبی کا فیضان ہوتی ہے اس لیے حضور نبی کریم ﷺ  نے ارشاد فرمایا : حکمت بھری بات مومن کی گمشدہ میراث ہے ۔ وہ اسے جہاں بھی پائے وہی اس کا سب سے زیادہ حق دار ہے ۔ (ترمذی )۔ یعنی حکمت تو ہے ہی ایمان کا ثمر اور بندہ مومن کا مطلوب ۔اسے جہاں سے بھی کوئی حکمت بھرا کلمہ میں اسے کسی صاحب ایمان کا ہی فیضان سمجھ کر حاصل کر لے ۔ یہ بھی نہ دیکھے یہ کلمہ کس کی زبان سے ادا ہو رہا ہے بس یہ دیکھے کہ وہ بات حکمت کی ہے اور اپنی گمشدہ میراث سمجھ کر اس کی طرف لپکے ۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بہترین مجلس وہ ہے جس میں حکمت کی بات کی جائے ۔ (المعجم الکبیر )۔  حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : حسد صرف دو آدمیوں پر کیا جا سکتا ہے ایک وہ جسے اللہ نے مال و دولت دیا اور وہ  اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرے اور دوسرا وہ جسے اللہ نے حکمت دی وہ اس پر عمل کرتا ہے اور اسکی تعلیم دیتا ہے ۔ (سنن ابن ماجہ ) ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کسی مسلمان نے اپنے بھائی کو حکمت کی بات سے بڑھ کر بہترین تحفہ نہیں دیا ۔( شعب الایمان )۔

پیر، 10 اگست، 2026

سورۃ العصر

 

سورۃ العصر

ترجمہ”:زمانہ کی قسم ۔ بےشک ہر انسان ضرور نقصان میں ہے ۔ سوا ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے اور انہوں نے ایک دوسرے کو دین حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی “۔
 امام طبرانی اپنی سند کے ساتھ حضرت عبیداللہ بن حفص رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ صحابہ کرام میں سے جب بھی کوئی دو صحابی آپس میں ملتے اور ملاقات کرنے کے بعد ایک دوسرے سے جدا ہونے سے پہلے دونوںاس سورت کی تلاوت کر کے ایک دوسرے کو سناتے اور پھر سلام کر کے جدا ہو جاتے ۔ ( المعجم الاوسط)۔ اس سورۃ کی آیت نمبر دو اور تین کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالی نے قسم اٹھا کر یہ ارشاد فرمایا کہ آدمی ضرور نقصان میں ہے  کیونکہ کہ انسان کی عمر جو اس کا سرمایہ اور اصل پونجی ہے وہ کم ہو رہی ہے مگر وہ لوگ جو ایمان لے آئے اور اچھے کام کیے اور ایک دوسرے کو اچھے کام کرنے کی نصیحت کی اور ایک دوسرے کو ان تکلیفوں اور مشکلات میں صبر کرنے کی نصیحت کی  جو دین کی راہ میں پیش آتی ہیں تو یہ لوگ اللہ تعالی کے فضل سے خسارے میں نہیں ہیں کیونکہ کہ انہوں نے اپنی ساری عمر  نیکی اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری میں گزاری ۔ 
سورۃ فاطر میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : بیشک وہ لوگ جو اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور  ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے پوشیدہ اور اعلانیہ کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں وہ ایسی تجارت کے امید وار ہیں جو کبھی تباہ نہیں ہو گی ۔
 انسان کی زندگی اس کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے اور انسان اس سرمائے سے صرف اسی صورت  فائدہ اٹھا سکتا ہے کہ  وہ اپنی زندگی کو اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری میں  گزارے۔اگر انسان اپنی زندگی اللہ تعالی کی نافرمانی اور گناہوں میں خرچ کرتا ہے تو اس سے اسے کوئی نفع حاصل نہیں ہو گا۔دوسری بات یہ کہ انسان کی زندگی کا جو حصہ اللہ تعالی  کی عبادت اور اس کے احکامات کے مطابق گزرے گا وہ ہی سب سے بہتر ہے ۔  دنیا سے بے رغبتی کرنا اور آخرت کی طلب میں اور اس سے محبت کرنے میں مشغول ہونا انسان کے لیے سعادت کا باعث ہے ۔
اللہ تعالی سورۃ بنی اسرائیل میں ارشاد فرماتا ہے :” اور جو آخرت چاہتا ہے اس کے لیے ایسی کوشش کرتا ہے جیسی کرنی چاہیےاور وہ ایمان والا بھی ہو تو یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوشش کی قدر کی جائے گی 

اتوار، 9 اگست، 2026

امانت میں خیانت کرنا

 

امانت میں خیانت کرنا

اے ایمان والو ! اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ سے خیانت نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت نہ کرو اور تم جانتے ہو ۔ ( سورۃ الانفال ) ۔ سورۃ یوسف میں ارشاد باری تعالی ہے : بیشک اللہ تعالی خیانت کرنے والوں  کے مکر کو راہ نہیں دیتا ۔(سورۃ یوسف)۔ مطلب یہ ہے کہ وہ ہدایت سے محروم ہو جاتا ہے اور ذلیل و رسوا ہو گا۔  حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : امانتوں سے مراد وہ اعمال ہیں جو اللہ تعالی نے بطور  امانت ہم پر لازم کیے ہیں اور وہ فرائض ہیں ، پس ان کو نہ توڑو ۔ کلبی کہتے ہیں اللہ تعالی اور اس کے رسولﷺ  سے خیانت کا مطلب احکام کی نا فرمانی ہے ۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : منافق کی تین نشانیاں ہیں ۔ جب وہ بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، جب وعدہ کرتا ہے تو اسے پورا نہیں کرتا اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرتا ہے ۔ (مسلم شریف)۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مومن کی فطرت میں خیانت اور جھوٹ کے علاوہ ہر چیز ہو سکتی ہے ۔ ( الدر منثور) ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالی فرماتا ہے میں دو شریکوں کا تیسرا ہوں ۔ جب تک ان میں  سے ایک دوسرے سے خیانت نہ کرے ۔ یعنی جب دو آدمی مل کر کام کریں تو اللہ تعالی ان کی مدد کرتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے سے خیانت نہ کریں ۔ ( السنن الکبری للبہیقی) حضور نبی کریم ﷺ نے  ارشاد فرمایا : خیانت سے بچو یہ بری عادت ہے ۔ ( مجمع الزوائد)۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں قیامت کے دن اس امانت دار کو لایا جائے گا جس  نے اس میں خیانت کی ہو گی اور اسے کہا جائے گا کہ اپنی امانت ادا کرو ۔ وہ کہے گا اے اللہ کہاں سے دوں۔ دنیا تو چلی گئی ۔ تو اسے جہنم کی گہرائی میں وہی صورت دکھائی جائے گی جو اس کے لینے کے دن تھی ۔ پھر کہا  جائے گا کہ اتر جاؤ اسے نکال کر لاؤ ۔ آپ فرماتے ہیں وہ اس کی طرف اترے گا اور اسے اپنی پیٹھ پر اٹھائے
گا تو یہ اس پر پہاڑ سے بھی زیادہ بھاری ہو گی ۔ حتی کہ جب وہ خیال کرے گا کہ وہ نجات پا گیا تو وہ گر جائے گی اور وہ بھی اس کے پیچھے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے گرتا رہے گا ۔ 
حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: نماز امانت ہے ، وضو امانت ہے ، غسل امانت ہے ، وزن کرنا امانت ہے ، ناپنا امانت ہے اور سب بڑی امانت ودیعت رکھے ہوئے مال ہیں ۔*

ہفتہ، 8 اگست، 2026

سیر ت النبی ﷺ اور حقوق زوجین(۲)

 

سیر ت النبی ﷺ اور حقوق زوجین(۲)

جمعرات، 6 اگست، 2026

سیر ت النبی ﷺ اور حقوق زوجین(۱)

 

سیر ت النبی ﷺ اور حقوق زوجین(۱)

ارشاد باری تعالی ہے :”اور اس کی آرزو نہ کرو جس سے اللہ نے تم میں ایک کو دوسرے پر بڑائی دی مردوں کے لیے ان کی کمائی  کا حصہ ہے اور عورتوں کے لیے ان کی کمائی سے حصہ اور اللہ سے اس کا فضل مانگو بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے ۔( سورۃ النساء)۔ معاشرتی مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ میاں بیوی کے باہمی مسائل بھی ہیں جس کی وجہ سے اکثر گھروں کی خوشیاں ماند پڑی رہتی ہیں ۔ لیکن اگر ہم ان مسائل کا حل حضور نبی کریم ﷺ کی سیرت سے تلاش کریں تو یہ مسائل بالکل ختم ہو جائیں اور ہمارے گھر وں اور معاشرے میں خوشیاں پھیل جائیں ۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی تعلیمات اور عمل سے اس بات کو بخوبی واضح فرما دیا ہے کہ گھر کا سربراہ مرد ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :” مرد عورتوں کے کفیل ہیں اس لیے کہ اللہ نے ان میں ایک کو ایک دوسرے پر فضیلت دی اور اس لیے کہ مردوں نے ان  پر اپنے مال خرچ کیے تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں، خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیاہے ۔( سور ةالنساء)۔ 
 اللہ تعالی نے مردوں کو عورتوں کا محافظ بنایا ہے ۔ حضور نبی کریمﷺ نے اس بات کی تاکید فرمائی ہے کہ عورتیں اپنے شوہروں کی  اطاعت کریں کیونکہ جب کسی بھی جگہ سربراہ کی بات نہ مانی جائے تو وہاں کے معاملات بگڑ جاتے ہیں ۔ اور اللہ تعالی کو یہ عمل بہت پسند ہیں کہ عورتیں اپنے خاوند کی اطاعت کریں ۔حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ”عورت جب پانچ وقت کی نماز پڑھے اور رمضان کے روزے رکھے اور اپنی عفت و عصمت کی حفاظت کرے اور شوہر کی اطاعت کرے تو جنت کے جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہو جائے ۔ (مشکاۃ المصابیح)۔
حضرت قیس بن سعد فرماتے ہیں کہ میں حیرہ گیا تو میں نے دیکھا کہ وہاں کے لوگ اپنے سردار کو سجدہ کر رہے ہیں۔ میں نےسوچا کہ رسول خدا ﷺ اس کے زیادہ حق دار ہیں میں نے واپس آ کر بارگاہ رسول ﷺ میں حاضر ہو کر ساری بات بتائی تو آپﷺ نے فرمایا :” ایسا نہ کرو اگر میں کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں کیونکہ اللہ تعالی نے مردوں کا عورتوں پر حق رکھا ہے ۔“(سنن ابی داؤد )۔
 یعنی کہ اللہ تعالی کے سوا  کسی کو سجدہ کرنا جائز نہیں ۔لیکن حقیقی اطاعت اللہ تعالی کی ہے اور عورت اپنے شوہر کی صرف اسی بات کو ماننے کی پابند ہوگی جو شریعت مطاہرہ کے مطابق ہو گی۔ کوئی بھی بات خلاف شریعت ہو گی تو عورت اس کو ماننے کی پابند نہیں ۔

کھانے کے آداب

  کھانے کے آداب حضرت عمرو بن ابو سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے آپ فرماتے ہیں جب میں چھوٹا تھا رسول خدا ﷺ کی آغوش میں تھا ۔ میرا ہاتھ...