جمعرات، 24 ستمبر، 2026

قرآن اور انسانی نفسیات

 

قرآن اور انسانی نفسیات

 قرآن مجید میں صرف عبادات کاہی ذکرنہیں بلکہ انسان کے ظاہر کے ساتھ اس کے باطن مثلاً احساسات، جذبات رجحانات اور نفسانی  کیفیات کا بھی کامل اور بھرپور طریقے کے ساتھ تجزیہ پیش کرتا ہے ۔
انسان کی شخصیت میں ایک نمایا ں پہلو خوف ہے جس کی وجہ سے انسان کی توجہ روز مرہ کے معاملات سے ہٹ جاتی ہے ۔سورۃ البقرہ  آیت ۱۵۵ میں ارشاد باری تعالی ہے :’’اور ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو ‘‘  لیکن اگر انسان خوف کے مقابلے میں توکل علی اللہ اور صبر کو اختیار کرے تو اس خوف سے نجات حاصل کر کے اپنے معاملات کو احسن طریقے سے سر انجام دے سکتا ہے ۔  حرص اور طمع انسان کی فطرت میں شامل ہے ۔انسان کی دنیاوی محبت اور لالچ کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے ۔سورۃ الفجررآیت ۲۰ میں
 ارشادباری تعالی ہے:’’ اور میراث کا مال ہپ ہپ کھاتے ہو ۔ اور مال کی نہایت محبت رکھتے ہو ‘‘۔ یہی دنیاوی مال کی محبت اور حرص انسان کو حسد ،خود غرضی اور ناانصافی کی طرف لے جاتا ہے ۔جس کی وجہ سے پورے معاشرے کا امن و امان خراب ہو جاتا ہے ۔ اسی لیے اسلام ہمیں قناعت ، انفاق فی سبیل اللہ اور زہد و تقوی کی تعلیم دیتا ہے ۔ 
غم اور مایوسی کی وجہ سے انسان بعض اوقات نفسیاتی مریض بن جاتا ہے ۔قرآن مجید میں غم اور مایوسی کا علاج پیش کیا گیا ہے کہ ’’ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو‘‘ جب انسان کا اللہ کی رحمت پر پختہ یقین ہو جاتا ہے تو وہ ڈپریشن اور احساس محرومی سے نجات حاصل کر لیتا ہے ۔  حسد ایک خطرناک بیماری ہے۔ اس سے انسان کی نیکیاں ختم اورگناہوں میں اضافہ ہوتا ہے ۔اور حاسدین کے حسد سے پناہ مانگنی چاہیے۔
 ارشاد باری تعالی ہے : ’’ اور حسد والے کے شر سے جب وہ مجھ سے جلے ‘‘۔حسد انسان کے دل کو کالا اور زندگی کو بے سکون کر دیتا ہے ۔  اس کا علاج قناعت اور دوسروں کی چیزوں کو دیکھ کر جلنے کی بجائے اللہ تعالی کی دی گئی نعمتوں پر شکر ادا کرنا ہے ۔
خود پسندی اور تکبر بھی انسان کی فطرت میں ہے لیکن یہ اللہ تعالی کو سخت نا پسند ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے :بیشک اللہ کو نہیں بھاتا کوئی  اتراتا فخر کرتا ‘‘۔ اسلام انسان کو عاجزی و انکساری ، تواضع و حلم اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے۔ 
قرآن مجید انسان کو صبر اور شکر کی تلقین کرتا ہے ۔یعنی جب کسی مشکل میں ہو تو صبر کرے کیوں کہ صبر والوں کے لیے اجر عظیم ہے اور  جب اللہ کی نعمت ملے تو شکر کرے کیوں کہ شکر کرنے سے اللہ اور دیتا ہے ۔ اگر ہم قرآن مجید کی ان تعلیمات پر عمل کریں تو زندگی پُر سکون اور گناہوں سے پاک ہو جائے ۔

بدھ، 23 ستمبر، 2026

باطنی بیماریا ں اور ان کا علاج

 

باطنی بیماریا ں اور ان کا علاج

آج کے دور میں انسان اپنی جسمانی بیماریوں کا علاج تو بڑی فکر اور بہترین ڈاکٹر سے کرواتا ہے اور انسان ظاہری لباس ، جسمانی فٹنس پر تو بے شمار خرچ کرتا ہے لیکن اپنی باطنی بیماریوں کا علاج نہیں کرتا جو اسے اندر سے کھوکھلا کر رہی ہوتی ہیں ۔ باطنی بیماریوں کا علاج اللہ تعالی نے آج سے چودہ سوسال پہلے ہی قرآن مجید میں بیان کر دیا تھا ۔ارشاد باری تعالی ہے :”ان کے دلوں میں بیماری ہے تو اللہ نے ان کی بیماری اور بڑھائی اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے بدلہ ان کے جھوٹ کا “۔( البقرۃ)
اس بیماری سے مراد منافقت ہے یعنی انسان زبان سے تو کچھ کہتا ہے لیکن اس کے دل میں کچھ اور ہوتا ہے ۔ 
سورۃ النساءمیں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :” لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا “۔ ( سورۃ النساءآیت۴۵)
یہ وہ بیماریاں ہیں جو انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہیں ۔یہ بیماریاں انسان کے ایمان اور روحانی زندگی کے لیے زہر قاتل ہیں ۔حسد ، کینہ اور ریاءکاری جیسی بیماریاں انسان کے اعمال کو برباد کر دیتی ہیں اور اسے معلوم تک نہیں ہوتا اور بندے کا تعلق اللہ سے کٹ جاتا ہے ۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید کو بیماریوں سے شفاءحاصل کرنے والا بنایا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے : ” اور ہم قرآن میں اتارتے ہیں وہ چیز جو ایمان والوں کے لیے شفاءاور رحمت ہے “۔( سورۃ بنی اسرائیل :آیت ۲۸) اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ان تمام بیماریوں کا علاج بتایا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ” اے ایمان والواللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو “۔ جب انسان سچائی کا راستہ اختیار کرتا ہے تو منافقت اس کے دل سے ختم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح حسد انسان کے نیک اعمال کو ختم کر دیتا ہے اللہ تعالی نے قرآن مجید میں حسد کی بیماری سے بچنے کی دعا بھی سکھائی ہے ۔ ”اور حسدکے شر سے جب وہ مجھ سے جلے “۔ اللہ تعالی کی رضا اور اس کی تقسیم پر راضی رہنے سے بندہ اس خطر ناک باطنی بیماری سے بچ جاتا ہے ۔ تکبرکا علاج تواضع و انکساری اور عاجزی کو اختیار کرنا ہے ۔ عاجزی اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺکوبہت پسند ہے ۔ اسی طرح ریاءکاری کا علاج اخلاص ہے یعنی ہر عمل اللہ تعالی کی رضا کے لیے کیا جائے اور غفلت کا علاج ذکر اور قرآن مجید کی تلاوت کرنا ہے ارشاد باری تعالی ہے :” اور ان جیسے نہ ہوں جو اللہ کو بھلا بیٹھے “ان تمام بیماریوں کا علاج اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ممکن ہے اسی میں ہی ہماری نجات اور کامیابی ہے ۔

منگل، 22 ستمبر، 2026

موانع و مظاہر عجز و انکسار

 

موانع و مظاہر عجز و انکسار

انسانی کردار کی تعمیر میں جن اخلاقی اوصاف کو بنیادی حیثیت حاصل ہے ان میں عجزو انکساری نمایاں مقام رکھتی ہے ۔ یہ وہ عظیم صفت  ہے جو انسان کو غرور و تکبر کی تاریکیوں سے نکال کر اللہ تعالی کی رضا ، بندگان خدا کی محبت اور معاشرتی احترام کی منزل تک پہنچاتی ہے ۔  اسلام نے جہاں ایمان ، عبادات اور حسن اخلاق پر زور دیا ہے وہیں عاجزی اور فروتنی کو ایک کامل مومن کی شناخت قرا ر دیا اللہ تعالی  نے اپنے محبوب بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
”اور رحمن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام“۔ ( سورۃ الفرقان)۔ حضور نبی رحمت ﷺ نے اپنی پوری حیات طیبہ میں اس وصف کو عملی طور پر اس شان سے پیش کیا کہ رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے  بہترین نمونہ بن گیا ۔ آپ ﷺ عظمت و رفعت کے اعلی ترین مقام پر فائز ہونے کے باوجود سادگی ، تواضع ، حلم اور انکساری کا ایسا پیکر 
تھے کہ دوست و دشمن سب آپ ﷺ کے اخلاق کریمانہ کے معترف تھے ۔ 
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :صدقہ ما ل میں کمی نہیں کرتا ۔ معافی مانگ لینے سے اللہ تعالی  عزت میں اضافہ فرماتا ہے اور جو بھی اللہ تعالی کی رضا کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ تعالی اسے سر بلند فرمادیتا ہے ۔ ( ترمذی )۔ حضور نبی کریم ﷺنے فرمایا تواضع انسان کے رتبہ کو بلند کرتی ہے اور تکبر اسے پست کرتا ہے ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی  ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو اپنے مسلمان بھائی کے لیے عاجزی کرتا ہے اللہ تعالی اسے سر بلند کر دیتا ہے اور جو اس پر اپنی برتری  جتاتا ہے اللہ تعالی اسے پست کر دیتا ہے ۔ (الترغیب الترہیب )۔
تمام تر بلندیوں ، عظمتوں ، رفعتوں اور شان کا مالک اللہ تعالی ہے تو پھر بندہ کس وجہ سے احساس برتری میں مبتلا ہو جاتا ہے جب اس کے اختیار میں کچھ نہیں۔
 حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: کبریائی میری چادر ہے اور بڑائی میرا  تہبند ہے جو ان دونوں میں سے کچھ بھی مجھ سےچھینناچاہے گا میں اسے دوزخ میں پھنک دوں گا ۔( مسند احمد )۔ انسان کے اندر تکبر ، غرور ، خود پسندی ، مال و دولت کا گھمنڈ ، علم کی نخوت اور منصب کا زعم وہ عوامل ہیں جو عجز و انکساری اختیار کرنے کی  راہ میں روکاوٹ بنتے ہیں ۔ان رکاوٹوں کو دور کیے بغیر انسان کے اندر عاجزی پیدا نہیں ہو سکتی ۔

پیر، 21 ستمبر، 2026

ایمان اور عمل صالح (۳)

 

 ایمان اور عمل صالح (۳)

سورۃ فاطر میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے بیشک وہ لوگ جو اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے پوشیدہ اور اعلانیہ کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو ہر گز تباہ نہیں ہوگی ۔ تاکہ اللہ انہیں ان کے ثواب بھرپور دے اور اپنے فضل سے اور زیادہ عطا کرے بیشک وہ بخشنے والا قدر فرمانے والا ہے “۔ ایمان اور عمل کا تعلق بنیاد اور عمارت کی مانند ہے ۔ ایمان بنیاد ہے اور عمل اس پر قائم ہونے والی عمارت ہے ۔ اگر بنیاد مضبوط نہ ہو توعمارت پائیدار نہیں رہتی اور اگر عمارت تعمیر نہ کی جائے تو بنیاد کا مقصد مکمل نہیں ہوتا ۔اسی طرح ایمان انسان کونیکی کا مقصد ، سمت اور 
جذبہ فراہم کرتا ہے جبکہ نیک اعمال ایمان کو مضبوط ، پختہ اور مؤثر بناتے ہیں ۔ جب انسان ایمان کے تقاضو ں کے مطابق عمل کرتا ہے تو اس کے اندر نیکی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور گناہوں سے نفرت ہوتی ہے اوراس کا تعلق اللہ تعالی سے مضبوط ہوتا ہے ۔ نماز اسے بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے ، روزہ تقوی پیدا کرتا ہے ، زکوٰۃ مال کی محبت کو اعتدال  بخشتی ہے اور صدقہ دل میں ہمدردی پیدا کرتاہے ۔ لیکن کسی بھی عمل کی ظاہری خوبصورتی کے ساتھ اس کو کرنے کی نیت بھی درست ہونی چاہیے کوئی بھی عمل صرف دکھلاوے کے لیے جائے تو ایسے عمل کی اللہ تعالی کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ اللہ تعالی کے ہاں صرف وہ ہی عمل قابل قبول ہے جو خالص اللہ تعالی کی رضا اور اس کی خوشنودی کے لیے کیا جائے ۔ جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا فرمان عالی شان ہے کہ اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کو وہی کچھ ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہو گی ۔ 
ایمان کاسب سے نمایا ں اثر انسان کے اخلاق اور معاملات میں بھی  ظاہر ہونا چاہیے ۔ اگر کوئی شخص عبادات کا اہتمام کرے لیکن جھوٹ ، خیانت ، ظلم ، تکبر اور بد سلوکی سے نہ بچے تو اسے اپنے ایمان کی کیفیت کا جائزہ لینا چاہیے ۔ 
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مومنوں میں کامل ترین مومن وہ ہے جو سب سے بہتر اخلاق والا ہو اور تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اخلاق میں اپنی عورتوں کے حق میں سب سے بہتر ہو ۔ (ترمذی )
ایمان اور عمل صالح دنیا و آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے : جو اچھا کام کرے مرد ہو یا عورت اور ہو مومن تو ضرور ہم اسے اچھی زندگی جِلائیں گے اور ضرور انہیں ان کا اجر دیں گے جو ان کے سب سے بہتر کام کے لائق ہو ۔ ( سورۃ النحل )

اتوار، 20 ستمبر، 2026

ایمان اور عمل صالح (۲)

 

ایمان اور عمل صالح (۲)

عمل صالح سے مراد ہر وہ نیک عمل ہے جو بندہ اللہ تعالی کی خوشنودی کے لیے اخلاص کے ساتھ اور شریعت کے مطابق انجام دے ۔ نماز پنج گانہ کی ادائیگی ، روزہ ، زکوۃ ، صدقہ و خیرات ، تلاوت قرآن مجید ، والدین کے ساتھ حسن سلوک ، رشتہ داروں سے صلہ رحمی ، سچ بولنا ، امانت ادا کرنا ، مظلوم کی مدد کرنا اور لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا سب عمل صالح کی مختلف صورتیں ہیں ۔ 
عمل صالح صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ انسانی زندگی کے تمام شعبوں  پر محیط ہے ۔ ایک تاجر کو چاہیے کہ وہ ایمانداری سے کاروبار کرے ، استادکا اخلاص کے ساتھ تعلیم دینا ، انصاف کرنا ، مزدور کا محنت سے کام کرنا اور مالک کا اس کو وقت پر مزدوری دینا اورکسی ضرورت  مند کے کام آنا یہ سب عمل صالح ہیں۔ شرط یہ ہے کہ نیت درست اور طریقہ جائز ہو ۔ 
جیسا کہ اللہ تعالی سورۃ الانبیاءمیں ارشاد فرماتا ہے : ” جو کچھ بھلے کام کرے اور ہو ایمان والا تو اس کی کوشش کی بے قدری نہیں۔ اور ہم اسے لکھ رہے ہیں “۔  اس آیت مبارکہ میں بندو ں کو مضبوطی کے ساتھ اللہ تعالی کی اطاعت پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کی گئی ہے ۔ جو بندہ ایمان والا ہو اور عمل  صالح کرے تو اس کو اس کا ضرور اجر دیا جائے گا اور اسے اس کے اجر سے محروم نہیں رکھا جائے گا ۔ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ ہم اس کے عمل  کو اعمال نامے میں لکھ رہے ہیں اور اس میں کچھ کمی نہ ہو گی ۔ ( تفسیر کبیر )۔
 اعمال اسی صورت قبول ہو ں گے جب بندہ ایمان والا ہو گا اگر ایمان نہیں تو پھر کچھ اجر نہیں ملے گا ۔ ایمان والے کے نیک اعمال مقبول  ہوتے ہیں لیکن وہ اعمال نیک نیت اور اللہ تعالی کے حکم کے مطابق کیے جائیں ۔ جیسا کہ سورۃ بنی اسرائیل میں اللہ تعالی فرماتا ہے :  ” اور جو آخرت چاہتا ہے اور اس کے لیے ایسی کوشش کرتا ہے جیسی کرنی چاہیے اور وہ ایمان والا بھی ہوتو یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوشش  کی قدر کی جائے گی “۔ 
سورۃ العصر میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : ” اس زمانہ محبوب کی قسم ۔بیشک آدمی ضرور نقصان میں ہے ۔ مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام  کیے اور ایک دوسرے کو حق کی تا کید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی “۔ 
اس سورۃ میں اللہ تعالی نے انسان کو نجات کے اصول بتائے ہیں ۔ انسان کی عمر جواس کا سرمایہ اور اصل پونجی ہے وہ ہر دم کم ہو رہی ہے  لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور دوسروں کو ایمان اور نیک اعمال کی دعوت دی اور مصیبتوں اور آزمائشوں میں ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی تو یہ لوگ خسارے میں نہیں بلکہ اللہ تعالی کے فضل سے نفع پانے والے ہیں ۔

ہفتہ، 19 ستمبر، 2026

ایمان اور عمل صالح (۱)

 

ایمان اور عمل صالح (۱)

انسان کی ظاہری زندگی اس کے اعمال سے پہچانی جاتی ہے مگر ان اعمال کی اصل قدر و قیمت اس کے دل میں موجود ایمان سے متعین  ہوتی ہے ۔ ایمان دل کا وہ چراغ ہے جو انسان کو حقیقت ِ زندگی سے آشنا کرتا ہے جبکہ عمل صالح اس چراغ کی روشنی کو کردار ، معاملات  اور معاشرت میں نمایا ں کرتا ہے ۔ ایمان اگر دل میں ہو مگر عمل کی صورت میں اس کا اثر دکھائی نہ دے تو اس کی کیفیت کمزور اور دعویٰ بے اثر محسوس ہوتا ہے ۔ 
ایمان سے مراد اللہ تعالی کی ذات و صفات ، اس کی وحدانیت ، فرشتوں ، آسمانی کتابوں ، انبیائے کرام ، یوم آخرت اور تقدیر پر یقین رکھنا  ہے ۔یہ یقین محض زبانی اقرار کا نام نہیں بلکہ دل کی تصدیق ، زبان کے اقرار اور زندگی میں اس کے تقاضوں کو قبول کرنے کا نام ہے ۔
 جب بندہ یہ یقین رکھتا ہے کہ اس کا ہر قول و فعل اللہ تعالی کے علم میں ہے اور ایک دن اسے اپنے اعمال کا حساب دینا ہے تو اس کے رویے  میں ذمہ داری ، احتیاط اور تقویٰ پیداہوتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :  ”ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ کو یاد کرتے ہیں تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان پر اس کی آیتیں پڑھی جائیں ان کا ایمان  اور بڑھ جاتا ہے اور اپنے رب پر بھروسہ کریں “۔ 
اس آیت مبارکہ میں کامل ایمان والوں کی نشانیاں بیان کی گئی ہیں۔ پہلی یہ کہ جب ان کے سامنے اللہ تعالی کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل  ڈر جاتے ہیں ۔تفسیر کبیر میں ہے کہ للہ تعالی کا خوف دو طرح کا ہوتا ہے۔ اللہ تعالی کے عذاب کے ڈر سے گناہوں کو چھوڑ دینا اور اللہ تعالی  کے جاہ و جلال اور اس کی عظمت اور اس کی بے نیازی سے ڈرنا ۔ پہلی قسم کا خوف مسلمانوں میں سے پرہیز گاروں کو ہوتا ہے اور دوسرا خوف انبیاءو مرسلین ، اولیائے کرام اور مقرب فرشتوں کو ہوتا ہے ۔
 ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی رحمت ﷺ نے فرمایا میں تم میں سب سے زیادہ اللہ تعالی سے ڈرنے والا ہوں اور تم سب سے زیادہ اللہ تعالی کی مغفرت رکھنے والا ہوں ۔( بخاری )۔ کتاب الزھد میں ہے کہ ایک دن سیدنا صدیق اکبرؓ نے درخت پر بیٹھے پرندے کو دیکھ کر فرمایا تیرے لیے کتنی بھلائی ہے تو پھل کھاتا ہے  اور درخت پر بیٹھتا ہے۔ کاش میں بھی ایک پھل ہوتا جسے پرندے کھا لیتے ۔
ایک مرتبہ سیدنا فاروق اعظمؓ نے زمین سے ایک تنکا اٹھا کر فرمایا کاش میں بھی ایک تنکا ہوتا ،کاش میں کچھ بھی نہ ہوتا ، کاش میں پیدا نہ ہوا ہوتا ،  کاش میں بھولا بسرا ہوتا ۔ ( کتاب الزھد )۔

جمعرات، 17 ستمبر، 2026

تاجدارِ ختم نبوتﷺ (۱)

 

تاجدارِ ختم نبوتﷺ (۱)

اللہ تعالی نے کسی بھی آسمانی کتاب کی حفاظت کا ذمہ نہیں لیا اور کوئی بھی آسمانی کتاب اپنی اصلی حالت میں موجود نہیں ہے ۔لیکن قرآن مجید واحد آسمانی کتاب ہے جس کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالی نے خود لیا ہے ۔یہی وجہ ہے چودہ سو سال گزر جانے کے باوجود آج ایک زیر زبر میں بھی ردو بدل نہیں ہوا اور نہ ہی قیامت تک ہو گا ۔
قرآن قیامت تک کے لیے حجت اور برہان ہے اور اللہ تعالی نے قیامت تک کے لیے قرآن مجید کو کسی بھی ردو بدل سے محفوظ فرما دیا ہے ۔  اس کا مطلب ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کی نبوت رسالت قیامت تک کے لوگوں کے لیے ہے نا کہ کسی مخصوص طبقے یا دور کے لوگوں کے لیے ۔  ارشاد باری تعالی ہے : ’’بیشک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بیشک ہم خود اس کے نگہبان ہیں ‘‘۔ (سورۃ الحجر )۔  حضرت ابو ہریرہ ؓسے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء کرام علیہم السلام کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے بہت حسین و جمیل ایک گھر بنایا ۔ مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی ، لوگ اس کے گرد گھومتے ہیں اور تعجب سے کہتے  ہیں کہ اس میں یہ اینٹ کیوں نہیں لگائی گئی ۔ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبین ہو ں ( مسلم )۔
حضرت ثوبان ؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ تعالی نے میرے لیے تمام روئے زمین کولپیٹ دیا ہے اور میں نے اس  کے مشرق اور مغرب کو دیکھ لیا ہے اور فرمایا عنقریب میری امت میں تیس کذاب ہوں گے اوران میں سے ہر ایک گمان کرے گا کہ وہ نبی ہے حالانکہ کہ میں خاتم النبین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ ( ابوداؤد )۔
حضرت جبیر بن معطم ؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے متعدد نام ہیں ۔ میں محمد ہوں ، میں احمد ہوں ، میں ماحی ہوں کہ  اللہ تعالی نے میرے سبب کفر کو ختم کیا ۔ میں حاشر ہو ں کیونکہ میرے قدموں پر لوگوں کا حشر ہو گا اور میں عاقب ہوں اور عاقب وہ جس کے بعد کوئی نبی نہیں ۔ ( ترمذی)۔
حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت علی ؓسے فرمایا کیا تم مجھ سے اس پر راضی نہیں  ہوکہ تمہاری اور میری مثال ایسے ہے جیسے حضرت موسی علیہ السلام  اور حضرت ہارون علیہ السلام کی۔ لیکن فرق یہ ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام نبی تھے لیکن میرے بعد کوئی نہیں ۔ (مسلم )۔
عقیدہ ختم نبوت وہ روشن بنیاد ہے جس پر ایمان کی تکمیل ہوتی ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ اللہ تعالی کے آخری نبی اور رسول ہیں اور آپ ﷺ  کی ذا ت اقدس پر سلسلہ نبوت ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے ۔ قرآن و سنت کی یہ قطعی تعلیم ہمیں یہ دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے ایمان کو قرآن مجید کی ہدایت ، عشق مصطفی اور اتباع سنت سے مزین کریں ۔یہی عقیدہ ہماری ایمان کی شناخت بھی ہے اور ہماری عملی زندگی کے لیے روشن  رہنما بھی ۔

قرآن اور انسانی نفسیات

  قرآن اور انسانی نفسیات  قرآن مجید میں صرف عبادات کاہی ذکرنہیں بلکہ انسان کے ظاہر کے ساتھ اس کے باطن مثلاً احساسات، جذبات رجحانات اور نفس...