طہارت (۲)
دل کی طہارت حاصل کرنے کے لیے بندے کو چاہیے کہ وہ دنیا کی برائیوں میں غور و فکر کرے اور انہیں سمجھے یہ اس لیے کہ دنیا فریب اور فنا ہونے کا مقام ہے اور مجاہدات کے سوا کسی چیز سے بھی دل دنیا کی محبت سے خالی نہیں ہوتا ۔ اس سلسلہ میں سب سے بڑا مجاہدہ ظاہری آداب کی حفاظت اور ہر حال میں ان کی بجا آوری ہے ۔
حضرت ابو طاہر حری رحمۃ اللہ علیہ چالیس سال تک مکہ مکرمہ میں رہے مگر آپ نے کبھی حرم کی حدود میں رفع حاجت نہ کی جب بھی رفع حاجت کی ضرورت محسوس ہوتی حرم سے باہر تشریف لے جاتے اور فرماتے تھے کہ جس زمین کی نسبت اللہ تعالی نے اپنی طرف کی ہے میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ وہاں اپنا مستعمل پانی گراؤں۔
حضرت سفیان رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں ہے کہ آپؒ نے جس بیماری میں انتقال فرمایا اس کے دوران ایک دفعہ آپ نے ایک نماز کے لیے ساٹھ مرتبہ طہارت کی اور فرمایا کہ اگر مجھے موت آجائے تو میں پاک تو ہوں۔
حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ مسجد میں جانے کے لیے وضو کیا تو ہاتف سے آواز آئی تم نے ظاہر تو پاک کر لیا باطن کی صفائی کہا ں ہے ؟ آپ فرماتے ہیں کہ میں واپس گیا اور اپنی تمام جائیداد اللہ تعالی کی راہ میں دے دی ۔ اور ایک سال تک اتنے مختصر لباس میں گزارا جن میں نماز اد ا کرنا جائز ہو ۔ آپؒ فرماتے ہیں کہ میں اسی حالت میں حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں حاضرہوا تو انہوں نے فرمایا کہ جو طہارت تم نے کی ہے وہ کیا ہی اچھی طہارت ہے ۔ اللہ تعالی تمہیں ہمیشہ طہارت میں رکھے ۔اس کے بعد آپ ؒ کبھی بھی بغیر وضو نہ رہے۔
حضرت ابو یزید رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ جب میرے دل میں دنیا کا خیال تو میں وضو کر لیتا ہوں اور آخرت کا خیال آئے تو غسل کر لیتا ہوں ۔ اس لیے کہ دنیا جائے گندگی ہے اور اس کا خیال نجس اور عقبی مقام غیبت و آرام ہوتا ہے ۔ مشائخ طریقت مریدوں کو ظاہری اور باطنی طہارت کا حکم دیتے ہیں اگر کوئی شخص عبادت کا ارادہ کرے تو اس کا ظاہر پاک ہونا چاہیے اور اگر اس کے دل میں قرب الہی کی خواہش ہو تو اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کا باطن بھی پاک ہو ۔ ظاہری طہارت پانی سے حاصل ہوتی ہے اور باطنی طہارت توبہ اور رجوع الی اللہ سے ۔ دل کو گناہوں سے ، زبان کو بُرے کلام سے ، نگاہ کو حرام سے اور اعمال کو ریا سے پاک رکھنا ہی حقیقی طہارت کی طرف سفر ہے ۔






