ہفتہ، 17 اکتوبر، 2026

مسلمانوں کا فکری زوال

 

مسلمانوں کا فکری زوال

  انسان کے فکری زوال کی ایک بڑی وجہ اس کا برا اخلاق بھی ہے ۔ برے اخلاق انسان کی فکری سوچ پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔فکری زوال کو ختم کرنے کا سب سے اہم اور پہلا طریقہ اپنے ایمان اور عقیدہ کو مضبوط کرنا ہے ۔ انسان کو اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ وہ اس دنیا میں کس مقصد  کے لیے بھیجا گیا ہے ۔ اپنے حقیقی مقصد کو سمجھتے ہوئے اسے اپنا ایمان اور اللہ تعالی پر بھروسہ مضبوط کرنا چاہیے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ”جو اللہ اور پچھلے دن پر ایمان رکھتا ہو اور جو کوئی اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لیے نجات کی راہ نکال دے گا “۔ ( سورہ الطلاق)۔ اس کے بعد فکری زوال کا خاتمہ علم کے ذریعے کیا جا سکتا ہے ۔ علم انسان کی فکری صلاحیت کو بڑھاتا ہے اور اس کی سچائی کی طرف رہنمائی کرتا ہے ۔علم کی اہمیت کا اندازہ قرآن مجید کی اس آیت سے لگایا جا سکتا ہے۔ارشاد باری تعالی ہے : ”اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا ہے درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے “۔ (سورہ المجادلہ )۔
حدیث شریف میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :”علم حاصل کرنا ہر مسلمان مر دو عورت پر فرض ہے “۔ ہمیں ایک ایسی فکری فضا قائم کرنے کی ضرورت ہے جہاں صرف سطحی تعلیم کی بجائے مطالعہ اور تحقیق کی حوصلہ افزائی ہو ۔ کتاب سے دوستی ، تعلیمی محافل اور سوال و جواب کی مجالس اس میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں ۔ انسان کی سوچ اور اس کی فکری زوال کی ایک بڑی وجہ گناہوں میں مبتلا ہو جانا بھی ہے ۔ فکری زوال کے خاتمے کے لیے توبہ و استغفار کی کثرت کرنی چاہیے ۔  ارشاد باری تعالی ہے :” اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب (ﷺ) تم ان میں تشریف فرما ہواور اللہ انہیں عذاب کرنے والا نہیں  جب تک وہ بخشش طلب کر رہے ہیں“۔ ( سورہ الانفال )۔
اسلام میں اچھے اخلاق کی بڑی اہمیت ہے ۔ جب انسان اخلاقی طور پر بہتر ہو تا ہے تو اس کی سوچ بھی بہتر ہوتی ہے ۔ اچھے اخلاق کی اہمیت بیان کرتے ہوئے  نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” مجھے اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے “۔  روحانیت اور مادیت میں توازن قائم کرنے سے بھی انسان کے فکری زوال کا خاتمہ ہوتا ہے ۔ انسان کا دل و دماغ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ایک متوازن  شخصیت وہی ہے جو فکری لحاظ سے نہ تو محض مادی سوچ رکھتا اور نہ ہی محض خیالی ۔ عبادات اور معاملات دونوں میں توازن قائم کرنے سے فکری زوال کو ختم  کیا جا سکتا ہے ۔  فکری زوال ایک سنگین مسئلہ ہے جس کا اثر صرف ایک فرد پر نہیں ہوتا بلکہ ایک فرد سے نکل پوری قوم زوال کا شکار ہو جاتی ہے ۔ اس کا حل ایمان اور عقائد کی مضبوطی ، حقیقی علم کا حصول ، اخلاقی تربیت اور توبہ و استغفارسے ممکن ہے ۔ فکری زوال کو ختم کرنے کے لیے دین کی اصل تعلیمات پر عمل کرنا ضروری ہے ۔اس  کے ذریعے ہی فرد اور قوم فکری زوال سے چھٹکارا پا سکتے ہیں ۔*

جمعہ، 16 اکتوبر، 2026

قرآن مجید میں عقل و تدبر کی اہمیت

 

قرآن مجید میں عقل و تدبر کی اہمیت

قرآن مجید فرقان حمید انسانیت کے لیے ہدایت ، نور اور فلاح کا کامل ذریعہ ہے ۔ اللہ جل شانہ نے جہاں قرآن مجید میں ایمان ، اخلاق اور عبادت کا ذکر کیا ہے وہیں انسان کو بار بار مخاطب کر کے عقل استعمال کرنے اور تدبر کرنے کی دعوت بھی دی ہے ۔سورۃ بقرہ میں اللہ تعالی فرماتا ہے :” افلا تعقلون “ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ۔ ایک مقام پر ارشاد فرمایا : بیشک اس میں نشانیا ں ہیں عقل والوں کے لیے ۔ قرآن مجید یہ انداز دعوت اور تربیت کا انمول نمونہ ہے۔ بار بار انسان کو عقل سے کام لینے اور کائنات پر غورو فکر کرکے تاریخ سے سبق حاصل کرنے اور قرآن مجید کی آیات پر تدبر کرنے کی دعوت دی گئی ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے :” کیا وہ قرآن میں تدبر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل لگے ہوئے ہیں “۔ ( سورۃ محمد ) اس آیات سے واضح ہو جاتا ہے کہ قرآن مجید کی صرف تلاوت کافی نہیں بلکہ اس کی آیات پر غورو فکر کرنا بھی ضروری ہے تا کہ انسان اس کی ہدایت کو اپنے قلب و عمل میں اتار سکے ۔ سابقہ اقوام قوم لوط ، قوم ثمود ، قوم فرعون اور قوم عاد کی تباہی کی یہی وجہ تھی کہ عقل و بصیرت کی راہ کو چھوڑ کر اپنے باپ داد کی اندھی تقلید کرتے ہوئے تکبر ، جمود اور جہالت کے راستے پر چل پڑے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :” بیشک سب جانوروں میں بدتر اللہ کے نزدیک وہ ہیں جو بہرے گونگے ہیں جن کو عقل نہیں “۔ ( سورۃ الانفال ) 
اس آیت میں واضح ہو گیا کہ جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے وہ جسمانی طور پر تو زندہ ہیں لیکن روحانی طور پر مردہ ہیں ۔ اللہ کے نزدیک وہ لوگ بہرے نہیں جن کو سنائی نہیں دیتا اور وہ گونگے نہیں جو بول نہیں سکتے بلکہ جو لوگ اپنی عقل کا استعمال نہیں کرتے وہ حقیقت میں گونگےاوربہرے وہ ہیں ۔سورۃ ص آیت ۹۲ میں ارشاد باری تعالی ہے :” یہ ایک کتاب ہے ہم نے تمہاری طرف اتاری برکت والی تاکہ اس کی آیتوں پر تدبر کریں اور عقل مند نصیحت مانیں “۔
اللہ تعالی فرما رہا ہے کہ قرآن مجید ایک با برکت کتاب ہے لیکن اس سے نصیحت وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل رکھتے ہیں اور جو اس کی آیت پر غورو فکر کرتے ہیں ۔ ارشاد باری تعالی ہے :بیشک رات اور دن کی تخلیق میں اور رات اور دن کے بدلنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔ ( سورۃ آل عمران )
قرآن مجید کا پیغام صرف الفاظ نہیں بلکہ ایک فکری اور شعوری انقلاب ہے جو عقل و تدبر کے بغیر ممکن نہیں ۔ آج امت مسلمہ کے زوال کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ہم نے قرآن مجید کی آیات پر تدبر کرنا چھوڑ کر اس کی تعلیمات پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے ۔

جمعرات، 15 اکتوبر، 2026

دعوت و تبلیغ کے اصول

 

دعوت و تبلیغ کے اصول

 سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں (۱)
انسان کے دل میں حق کی جستجو فطری طور پر موجود ہے مگر اس جستجو کو صحیح سمت دینے کے لیے ایسے رہنمائو ں کی ضرورت ہوتی ہے جو محبت ،حکمت اور خیر خواہی کے ساتھ انسان کو اپنے رب کی طرف متوجہ کریں ۔ دعوت کا اصل مقصد کسی انسان کو زیر کرنانہیں بلکہ اس کے دل میں اللہ تعالی کی محبت پیدا کرنا ، اسے اللہ تعالی سے جوڑنا اور زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق سنوارنے کی ترغیب دینا ہے ۔ 
دین کی تبلیغ اسلام کی روح ہے اور اس فریضے کی تکمیل کا کامل اور عملی نمونہ ہمیں حضور نبی رحمت ﷺ کی حیات طیبہ سے ملتا ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ کا انداز گفتگوہر شخص کی عقل ، علم اور حالات کے مطابق ہوتا ۔نبی رحمت ﷺ کا اسلوب بہت ہی نرم ، شفیق اور خوش گفتار تھا جو مخالف کو بھی قائل کر دیتا تھا ۔جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے : ’’تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب (ﷺ) آپ ان کے لیے نرم دل ہوئے ‘‘۔ ( سورۃ اٰل عمران )
حضور نبی رحمت ﷺ نے تبلیغ نہ صرف زبان سے کی بلکہ اپنے عمل ، دیانت ، سچائی ، حلم اور وفا داری سے لوگوں کو اپنی طرف مائل کیا ۔یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کے مخالف بھی آپ ﷺ کو صادق اور امین کہ کر پکارتے تھے ۔ سورۃ النحل میں ارشاد باری تعالی ہے : ’’اپنے رب کی طرف بلائو پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے ‘‘۔ اس آیت مبارکہ میں تبلیغ کے بنیادی اصول بتائے گئے ہیں جس میں سب سے پہلے ہے حکمت ۔حکمت کا تقاضا ہے کہ داعی مخاطب کے حالات ، ذہنی سطح ، عمر ، ماحول اور ضرورت کو سمجھ کر بات کرے ۔ داعی اگر حکمت سے محروم ہو تو اچھی بات بھی غلط انداز کی وجہ سے دل پر اثر نہیں کرتی ۔ حضور نبی رحمت ﷺ نے دعوت تبلیغ کا آغاز توحید ، رسالت اور آخرت جیسے بنیادی عقائد سے کیا ۔نماز ، روزہ ، زکوۃ اور حج کا حکم بعد میں نازل ہو ا۔ نماز کی فرضیت ، شراب کی حرمت، جہاد کی فرضیت ، سود کی حرمت ، یتیموں کے حقوق،معاشرتی ، معاشی احکام اور وراثت کی تقسیم کے احکام آہستہ آہستہ سکھائے گئے ۔حضور نبی رحمت ﷺ کبھی بھی کسی کو تمام احکام ایک ہی وقت میں نہیں سناتے تھے بلکہ مخاطب کی عقل و ظرف کے مطابق آہستہ آہستہ بتاتےتاکہ سننے والا اچھی طرح سن کر آمادہ ہو جائے ۔

بدھ، 14 اکتوبر، 2026

موانع و مظاہر عجز و انکسار

 

موانع و مظاہر عجز و انکسار

انسانی کردار کی تعمیر میں جن اخلاقی اوصاف کو بنیادی حیثیت حاصل ہے ان میں عجزو انکساری نمایاں مقام رکھتی ہے ۔ یہ وہ عظیم صفت  ہے جو انسان کو غرور و تکبر کی تاریکیوں سے نکال کر اللہ تعالی کی رضا ، بندگان خدا کی محبت اور معاشرتی احترام کی منزل تک پہنچاتی ہے ۔  اسلام نے جہاں ایمان ، عبادات اور حسن اخلاق پر زور دیا ہے وہیں عاجزی اور فروتنی کو ایک کامل مومن کی شناخت قرا ر دیا اللہ تعالی  نے اپنے محبوب بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
”اور رحمن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام“۔ ( سورۃ الفرقان)۔ حضور نبی رحمت ﷺ نے اپنی پوری حیات طیبہ میں اس وصف کو عملی طور پر اس شان سے پیش کیا کہ رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے  بہترین نمونہ بن گیا ۔ آپ ﷺ عظمت و رفعت کے اعلی ترین مقام پر فائز ہونے کے باوجود سادگی ، تواضع ، حلم اور انکساری کا ایسا پیکر 
تھے کہ دوست و دشمن سب آپ ﷺ کے اخلاق کریمانہ کے معترف تھے ۔ 
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :صدقہ ما ل میں کمی نہیں کرتا ۔ معافی مانگ لینے سے اللہ تعالی  عزت میں اضافہ فرماتا ہے اور جو بھی اللہ تعالی کی رضا کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ تعالی اسے سر بلند فرمادیتا ہے ۔ ( ترمذی )۔ حضور نبی کریم ﷺنے فرمایا تواضع انسان کے رتبہ کو بلند کرتی ہے اور تکبر اسے پست کرتا ہے ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی  ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو اپنے مسلمان بھائی کے لیے عاجزی کرتا ہے اللہ تعالی اسے سر بلند کر دیتا ہے اور جو اس پر اپنی برتری  جتاتا ہے اللہ تعالی اسے پست کر دیتا ہے ۔ (الترغیب الترہیب )۔
تمام تر بلندیوں ، عظمتوں ، رفعتوں اور شان کا مالک اللہ تعالی ہے تو پھر بندہ کس وجہ سے احساس برتری میں مبتلا ہو جاتا ہے جب اس کے اختیار میں کچھ نہیں۔
 حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: کبریائی میری چادر ہے اور بڑائی میرا  تہبند ہے جو ان دونوں میں سے کچھ بھی مجھ سےچھینناچاہے گا میں اسے دوزخ میں پھنک دوں گا ۔( مسند احمد )۔ انسان کے اندر تکبر ، غرور ، خود پسندی ، مال و دولت کا گھمنڈ ، علم کی نخوت اور منصب کا زعم وہ عوامل ہیں جو عجز و انکساری اختیار کرنے کی  راہ میں روکاوٹ بنتے ہیں ۔ان رکاوٹوں کو دور کیے بغیر انسان کے اندر عاجزی پیدا نہیں ہو سکتی ۔*

منگل، 13 اکتوبر، 2026

آداب زندگی قرآن کی روشنی میں

 

آداب زندگی قرآن کی روشنی میں

قرآن مجید میں اللہ تعالی نے مسجد کے آداب بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ”اور یاد کرو جب ہم نے اس گھر کو لوگوں کے لیے مرجع و امان بنایا اور ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ اور ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم اور اسماعیل کو کہ میرا گھر خوب ستھرا کرو طواف والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع و سجود والوں کے لیے “۔ ( سورۃ البقرہ )۔ مسجد اللہ تعالی کا گھر ہے ۔ اس آیت سے ایک بات تو یہ پتہ چلی کہ نماز مسجد میں باجماعت ادا کرنی چاہیے اور دوسری یہ کہ اللہ تعالی کے گھر کو صاف ستھرا  رکھنا چاہیے تا کہ وہاں آ کر اللہ تعالی کی عبادت کرنے والو ں کو کوئی پریشانی یا تکلیف نہ ہو ۔  قرآن مجید میں اللہ تعالی نے والدین اور دوسروں کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرنے کا حکم فرمایا ہے اور یہ معاشرتی آداب میں بہت اہمیت کا حامل ہے کہ  ہم اپنے والدین کا ادب و احترام کریں اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں ۔ اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو اور جب وہ بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے سامنے اف تک نہ کہو ۔ 
سورۃ النساءمیں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :” اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کہ نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ سے بھلائی کرو اور رشتہ دارو ں اور یتیموں اور محتاجوں اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے اور کروٹ کے ساتھی اور راہ گیر اور اپنی باندی و غلام سے بے شک اللہ کو پسند نہیں کوئی اترانے والا، بڑائی مارنے والا “۔ 
لوگوں کو عدل و انصاف فراہم کرنا معاشرتی آداب میں سے اہم ترین ہے کیوں کہ عد ل و انصاف کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا اور نہ ہی معاشرے میں امن قائم ہو سکتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ”بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے عدل اور احسان کا “۔ ( سورۃ النحل )۔ 
اسی طرح اگر کسی کے ساتھ عہد کیا جائے تو اس عہد کو پورا کرنا ضروری ہے اور اس کے متعلق بھی برو زقیامت پوچھا جائے گا ۔ ارشاد باری تعالی ہے :” اور  عہد کو پورا کرو بیشک عہد سے سوال ہونا ہے “۔ ( سورۃ بنی اسرائیل )۔ 
معاف کرنا اور در گزر کرنا ایک ایسا عمل ہے جس سے نہ صرف بندے کی عزت و احترام میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معاشرہ بھی امن و سلامتی کا گہوارہ بن جاتا  ہے اور اللہ تعالی بھی ڈھیروں اجرو ثواب عطا فرماتا ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے :”اور برائی کا بدلہ اسی کی برائی ہے تو جس نے معاف کیا ور کام سنوارا تو اس کا اجر اللہ پر ہے بیشک وہ دوست نہیں رکھتا ظالموںکو “۔ ( سورۃ الشورٰی )۔
اس کے علاوہ حیا و پاکدامنی اور بے جا تجسس اور غیبت سے اجتناب کرنا بھی معاشرتی آداب میں سے ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :” اور مومن مردوں  سے کہہ دو کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں“۔ ( سورۃ النور )۔
سورۃ الحجرات میں اللہ تعالی فرماتا ہے :اور ایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ لگے رہو اور نہ ہی ایک دوسرے کی غیبت کرو “۔  اگر ہم قرآن مجید کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق زندگی بسر کریں تو اللہ تعالی ہمیں دنیا و آخرت میں سرخرو کرے گا اور معاشرہ بھی امن کا گہوارہ  بن جائے گا۔

جمعہ، 9 اکتوبر، 2026

توبہ (2)

 

توبہ (2)

تیسری صورت یہ ہے کہ حاضر و موجود خدا کی شرم اسے دامن گیر ہو جائے اور وہ اس کی مخالفت پر اپنے   آ پ نادم ہونے لگے ۔ان تینوں  میں پہلا تائب ، دوسرا منیب اور تیسرا اواب ہے ۔ 
توبہ کے بھی تین مقام ہیں پہلا توبہ ، دوسرا انابت اور تیسرا اوبت ۔توبہ عذاب کے خوف کی وجہ سے ہوتی ہے ، انابت طلب ثواب کی خاطراور اوبت تعمیل حکم کے لیے ۔توبہ عام مسلمان کا درجہ ہے اور یہ گناہ کبیرہ سے ہوتی ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے : ”اے ایمان والواللہ کی  طرف ایسی توبہ کرو جو آگے کے لیے نصیحت ہو جائے “۔ ( سورۃ التحریم )۔
انابت اولیائے کاملین اور مقربین کا مقام ہے ۔سورۃ ق میں ارشاد باری تعالی ہے : ”جو رحمن سے بے دیکھے ڈرتا ہے اور رجوع کرتا ہوا دل لایا “ ۔  اور اوبت انبیائے کرام اور مرسلین کا شیوہ ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے :” کیا اچھا بندہ بیشک وہ بہت رجوع لانے والا “۔ ( سورۃ ق )  انابت صغیرہ گناہوں سے محبت کی وادی میں قدم رکھنے کانام ہے جبکہ اوبت کے معنی اپنی ذات کو نظر انداز کر کے اللہ تعالی کی طرف کامل رجوع کے ہیں ۔ 
تو بہ کی حقیقت اللہ تعالی کی منع کردہ باتوں سے رکنے ، دل کو خواب غفلت سے بیدار کرنے اور فوری طور پر اپنے عیوب پر مطلع ہو جانے کا  نام ہے ۔ جب انسان اپنی برائی اور بد اعمالی کا احساس کر لیتا ہے اور اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کے لیے خود بخود توبہ کا دروازہ کھول دیتا ہے اور آخر کار اسے گناہوں کی بد بختی سے نکال کر اپنی عبادت کی چاشنی عطا فرما دیتا ہے ۔ حضرت ذالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ توبہ کی دو قسمیں ہیں توبہ انابت اور توبہ استحیاءتوبی انابت یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالی کے عذاب کے خوف سے توبہ کرے اور توبہ استحیاءیہ ہے کہ کرم خدا وندی کے شرم سے بندہ توبہ کرے ۔خوف جلال کے اظہار سے پیدا ہوتا ہے اورحیانظارہ جمال سے پیدا ہوتی ہے پس ایک جلال میں خوف کی آگ سے جلتا ہے اور دوسرا س کے نور جمال میں حیا کے نور سے منور ہوتا ہے ۔ (کشف المحجوب )۔
سورۃ البقرۃ میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :”بیشک اللہ پسند رکھتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کوا ور پسند رکھتا ہے ستھروں کو “۔ 
اللہ تعالی ہمیں سچی توبہ نصیب فرمائے ، گناہوں سے بچنے کی توفیق دے ، اگر کوئی گناہ سر زد ہو جائے تو فوری اپنی بارگاہ میں رجوع کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین۔

جمعرات، 8 اکتوبر، 2026

توبہ (۱)

 

توبہ (۱)

انسان کی زندگی میں ایسے لمحات ضرور آتے ہیں جب اسے اپنے گزرے ہوئے راستوں پر نظر ڈال کر احساس ہوتا ہے کہ کچھ قدم  ایسے بھی اٹھے جنہیں نہیں اٹھا نا چاہیے تھا ، کچھ الفاظ ایسے کہے جن سے کسی کا دل دکھا اور کچھ فیصلے ایسے بھی ہوئے جنہوں نے دل  کے سکون کو چھین لیا ۔یہی احساس اگر انسان کو اللہ تعالی کی طرف واپس لے آئے تو اللہ تعالی اس کے لیے رحمت کا دروازہ کھول دیتاہے ۔اللہ تعالی نے انسا ن کو اس کی لغزشوں کے ساتھ تنہا نہیں چھوڑا بلکہ توبہ کا راستہ کھول کر اسے دوبارہ اپنے رب کی طرف پلٹنے کا موقع عطا فرمایا ہے ۔
توبہ محض زبان سے” استغفراللہ “کہہ دینے کا نام نہیں بلکہ دل کے اندر پیدا ہونے والی وہ کیفیت ہے جو انسان کو گناہ سے نکال کر اطاعت،اصلاح اور اللہ تعالی کی رضا کی طرف لے جاتی ہے ۔ 
لغوی اعتبار سے توبہ کے معنی رجوع کرنے کے ہیں شرعی اعتبار سے توبہ یہ ہے کہ بندہ ان کاموں سے رک جائے جن سے اللہ تعالی نے منع کیا ہے اور اس کے حکم کی خوبیوں کی طرف لوٹ آئے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :” اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ “۔ ( سورۃ النور )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : نوجوان توبہ کرنے والے سے زیادہ پسندیدہ چیز اللہ تعالی کے نزدیک اور کوئی نہیں ۔اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا گناہوں سے توبہ کرنے والا اس شخص کی مانند ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں ۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا توبہ ندامت کا نام ہے ۔اس فرمان میں توبہ کی تمام شرائط آ جاتی ہیں اس لیے کہ توبہ کی ایک شرط  اللہ تعالی کے حکم کے مخالف چلنے پر افسوس کرنا بھی ہے ۔دوسری شرط موجودہ صورت میں غلطی و گناہ نہ کرنے کا عہد کرنا ہے اور تیسری شرط آئندہ گناہ نہ کرنے کا وعدہ کرنا ہے ۔ 
یہ تینوں شرطیں ندامت میں موجود ہیں کیونکہ جب دل میں ندامت آ جاتی ہے تو بقیہ دو شرطیں اس کے ضمن میں آ جاتی ہیں۔ جس طرح  توبہ کی تین شرطیں ہیں اسی طرح ندامت کے بھی تین سبب ہیں ایک یہ کہ عذاب کا خوف دل پر غالب ہو اور دل کے سامنے اپنی بد  اعمالیوں کا نقشہ آ جائے تو انسان میں ندامت کا احساس پیدا ہو ۔دوسرے یہ کہ اللہ تعالی کی نعمت کے حصول کا خیال اس کے دل میں  غلبہ حاصل کر لے اور وہ یہ بھی جان لے کہ نافرمانی کی صورت میں یہ نعمت نہیں ملے گی ۔لہذا بُرے اعمال پر شرمندہ ہو تا کہ یہ نعمت  دوبارہ حاصل کر سکے ۔

مسلمانوں کا فکری زوال

  مسلمانوں کا فکری زوال   انسان کے فکری زوال کی ایک بڑی وجہ اس کا برا اخلاق بھی ہے ۔ برے اخلاق انسان کی فکری سوچ پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔فک...