منگل، 3 نومبر، 2026

مومن (۴)

 

مومن (۴)

اللہ تعالی نے سورۃ المومنون میں کامیاب لوگوں کے اوصاف بیان کیے ہیں کہ وہ نماز خشوع وخضوع کے ساتھ پڑتے ہیں ، بیہودہ کلام نہیں کرتے ، اپنے مال کی زکوۃ ادا کرتے ہیں ، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں اپنا عہد پورا کرتے ہیں ۔ 
ارشاد باری تعالی ہے : بیشک مراد کو پہنچے ایمان والے ۔ جو اپنی نماز میں گڑگڑاتے ہیں ۔ اور وہ جو کسی بیہودہ بات کی طرف التفات نہیں کرتے ۔ اور وہ کہ زکوۃ دینے کا کام کرتے ہیں ۔ اور وہ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔ مگر اپنی بیبیوں یا شرعی باندیوں پر جو  ان کے ساتھ کی ملک ہیں کہ ان پرکوئی ملامت نہیں ۔ تو جو ان دو کے سوا کچھ اور چاہے وہی حد سے بڑھنے والے ہیں ۔ اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہیں ۔اور وہ جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں ۔ یہی لوگ وارث ہیں کہ فردوس کی میراث  پائیں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔ (آیت:۱ تا ۰۱)۔
حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس مسلمان پر فرض نماز کا وقت آ جائے اور وہ اس  نماز کا اچھی طرح وضو کرے پھر انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ نماز میں رکوع کرے تو وہ نماز اس کے سابقہ گناہوں کا کفارہ ہو جا تی ہے   جب تک کہ وہ کوئی کبیرہ گناہ نہ کرے اور یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا ۔ ( مسلم )۔
نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور جو کوئی اللہ اور  آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت کرے اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھی بات زبان سے نکالے ورنہ خاموش رہے ۔ (بخاری )۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا مومن نہ تو طعنہ دینے والاہوتا ہے ، نہ لعنت کرنے والا ، نہ بے حیا اور نہ ہی بد زبان ہوتا ہے۔(ترمذی شریف)۔
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دے دو میں تمہیں جنت کی  ضمانت دیتا ہوں ۔ بات کرو تو سچ بولو ، وعدہ کرو تو پورا کرو ، تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو ادا کرو ، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو ، اپنی نگاہوں کو پست کرو اور اپنے ہاتھوں کو روکو ۔ ( مستدرک )
حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا :مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں اور مومن وہ ہے جس سے لوگوں کو اپنی جان و مال کے بارے میں خطرہ نہ ہو ۔( نسائی )۔

پیر، 2 نومبر، 2026

مومن (۳)

 

مومن (۳)

سورۃا لفرقان کی آیت ۷۲ تا ۷۴ میں اللہ تعالی فرماتا ہے : اور جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور  اپنی عزت سنبھالے گزر  جاتے ہیں ۔اور وہ کہ جب انہیں اس کے رب کی آیتیں یاد دلائی جاتی ہیں تو ان پر بہرے اندھے ہو کر نہیں گرتے ۔ اور وہ جو عرض کرتےہیں اے ہمارے رب ہمیں دے ہماری بیبیوں اور ہماری اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک اور ہمیں پرہیز گاروں کا پیشوا بنا ۔
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی سے ڈرنے کے بعد مومن کے لیے نیک بیوی سے بہتر  کوئی چیز نہیں اگر اسے حکم دے تو وہ اس کی اطاعت کرے اور اگر اسے دیکھے تو خوش کر دے اور اس پر قسم کھا لے تو قسم سچی کر دے اور کہیں چلا جائے تو اس کی عزت میں خیانت نہ کرے اور اس کا مال ضائع نہ کرے ۔ ( ابن ماجہ )۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب انسان مر جاتا ہے تو تین اعمال کے علاوہ اس کے سارے عمل منقطع  ہو جاتے ہیں ۔صدقہ جاریہ ، وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا ہو اور نیک بچہ جو اس کے لیے دعا کرے ۔ ( مسلم )
جس بندہ مومن میں اوپر بیان کیے گئے اوصا ف موجود ہوں یعنی وہ اپنی زندگی اطاعت الہی اور محبت رسول ﷺمیں گزارے ، گناہوں سے بچے صبر اور استقامت سے کام لے تو اللہ تعالی اس کو اجرعظیم عطا فرماتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :ان کو جنت کا سب سے اونچا بالا خانہ انعام ملے گا بدلہ ان کے صبر کا اور وہاں سلام کے ساتھ ان کی پیشوائی ہو گی ۔ ہمیشہ اس میں رہیں  گے کیاہی اچھی ٹھہرنے اور بسنے کی جگہ ہے۔( سورۃ الفرقان :آیت ۷۵، ۷۶)۔
موت ایک ایسی حقیقت ہے جس کا کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا ۔ مرنے کے بعد بروز قیامت جب حساب کتاب ہو گا تو کامیاب وہی ہو گا جس کا خاتمہ ایمان پر ہوا ہو گا اور اس کے اعمال اچھے ہوں گے ۔جیسا کہ سورۃ اٰل عمران میں ارشاد باری تعالی ہے جسے آگ سے بچا لیا گیا اور  جنت میں داخل کر دیا گیا وہی کامیاب ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ جہنم سے بچ جائے اور جنت میں  داخل ہو تو اسے موت ضرور اس حال میں آئے کہ وہ اللہ تعالی اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور جس معاملے کو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہو وہی معاملہ دوسروں کے ساتھ کرے ۔ ( مسند احمد )۔

اتوار، 1 نومبر، 2026

نفاق اور اس کی علامات (۴)

 

نفاق اور اس کی علامات (۴)

ارشاد باری تعالی ہے : اور جب ان سے کہا جائے کہ آئو رسول اللہ تمہارے لیے معافی چاہیں تو اپنے سر گھماتے ہیں اور تم انہیں دیکھو کہ  غرور کرتے ہوئے منہ پھیر لیتے ہیں ۔ ان پر ایک سا ہے تم ان کی معافی چاہو یا نہ چاہو اللہ انہیں ہر گز نہ بخشے گا بیشک اللہ فاسقوں کو راہ  نہیں دیتا ۔ وہی ہیں جو کہتے ہیں ان پر خرچ نہ کرو جو رسول اللہ کے پاس ہیں یہاں تک کہ پریشان ہو جائیں اور اللہ ہی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کے خزانے مگر منافقوں کو سمجھ نہیں ۔ کہتے ہیں ہم مدینہ پھر کر گئے تو ضرور جو بڑی عزت والا ہے وہ اس میں سے نکال دے گا اسے جو نہایت ذلت والا ہے اور عزت تو اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں ہی کے لیے ہے مگر منافقوں کو خبر نہیں ۔ (المنافقون :آیت ۵ تا ۸)۔
منافقین کے احوال بیان کرنے بعد اللہ تعالی مسلمانوں کو خبردار فرماتا ہے کہ اے ایمان والو منافقوں کی طرح تمہارا مال اور تمہاری  اولاد تمہیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کریں اور جو ایسے کرے گا وہ ہی نقصان اٹھائے گا اور جو کچھ تمہیں اللہ نے عطا کیا ہے اس میں سے  کچھ اللہ کی راہ میں بھی خرچ کرو ۔یہ نہ ہو کہ موت کا وقت قریب آجائے اور پھر تم کہو کہ ہمیں مہلت نہ دی کہ ہم تیری راہ میں خرچ کر  کے نیکوں میں شامل ہو جاتے ۔
اے ایمان والو تمہارے مال نہ تمہاری اولاد کوئی چیز تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کرے اور جو ایسا کرے تو وہی لوگ نقصان میں ہیں۔ اور ہمارے دیے میں سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرو قبل اس کے کہ تم میں کسی کو موت آئے پھر کہنے لگے اے میرے رب تو نے مجھے  تھوڑی مدت تک کیوں مہلت نہ دی کہ میں صدقہ دیتا اور نیکوں میں ہوتا ۔ اور ہر گز اللہ کسی جان کو مہلت نہ دے گا جب اس کا وعدہ آ  جائے اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے ۔(المنافقون:آیت ۹ تا ۱۱)۔
منافق کی ایک علامت یی بھی ہے کہ وہ نیکی سے روکتے اور بُرائی کا حکم دیتے ہیں :منافق مرد اور منافق عورتیں ایک تھیلی کے چٹے بٹے ہیں  بُرائی کا حکم دیتے ہیں اور بھلائی سے منع کرتے ہیں ۔(سورۃ التوبہ )۔ نبی کریم ﷺ نے منافق کی چار علامات بیان کی ہیں : آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص میں یہ چار علامات پائی جائیں گی وہ خالص منافق ہو گا اور ان میں سے ایک علامت بھی ہوئی تو منافق ہے یہاں تک وہ اسے چھوڑ دے :جب اسکے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے ، جب بات کرے تو جھوٹ بولے ، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب جھگڑا کرے توگالی دے ۔ ( بخاری )۔

ہفتہ، 31 اکتوبر، 2026

نفاق اور اس کی علامات (۳)

 

نفاق اور اس کی علامات (۳)

منافقین کی مذمت میں اللہ تعالی نے پوری سورۃ المنافقون نازل فرمائی ہے ۔اس سورہ میں اللہ تعالی نے منافقین کے مختلف احوال  بیان فرمائے ہیں کہ منافق کس طرح زبان سے حضور ﷺ پر ایمان لانے کا کہتے لیکن دل سے وہ اس کے مخالف ہیں اور منافقین قسمیں  اٹھاتے ہیں تاکہ قید اور قتل سے بچ سکیں۔ لیکن ان کا عمل یہ ہے کہ یہ لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں اور انہیں ایمان لانے اور اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرنے سے روکتے ہیں۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : 
جب منافق تمہارے حضور حاضر ہوتے ہیں کہتے ہیں کہ حضور بیشک یقینا اللہ کے رسول ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ تم اس کے رسول ہو اور  اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافقین ضرور جھوٹے ہیں ۔ انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال ٹھہرا لیا تو اللہ کی راہ سے روکا۔ بیشک وہ بہت ہی بُرے  کام کرتے ہیں ۔یہ اس لیے کہ وہ زبان سے ایمان لائے پھر دل سے کافر ہوئے تو اُن کے دلوں پر مہر ثبت کر دی گئی تو اب وہ کچھ نہیں سمجھتے۔(المنافقون :آیت ۱، ۲، ۳)
اس سے اگلی آیت میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ یہ لوگ دیکھنے میں بڑی جسامت والے لگتے ہیں اور جب بولتے ہیں تو ان کی بات غور سے سنو گے حالانکہ ان کی حال ایسے ہے جیسے کوئی لکڑی دیوار کے سہارے کھڑی کی گئی ہو اور یہ لوگ ہر بلند ہونے والی آواز کو اپنے ہی خلاف سمجھ لیتے ہیں اور یہ ڈرتے ہیں کہ ان کے حق میں کوئی ایسا مضمون نازل ہوا ہے جس سے ان کے راز فاش ہو جائیں گے۔
ارشاد باری تعالی ہے :اور جب انہیں دیکھے تو ان کے جسم تجھے بھلے معلوم ہوں اور اگر بات کریں تو اُن کی بات غور سے سنے گویا وہ لکڑیاں ہیں دیوار سے ٹکائی ہوئی۔ ہر بلند آواز اپنے ہی اوپر لے جاتے ہیں وہ دشمن ہیں تو ان سے بچتے رہو اللہ انہیں مارے کہاں اوندھے جاتےہیں ۔ ( المنافقون :آیت ۴)۔
جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا آخری زمانے میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو دھوکہ اور فریب کے ساتھ دین کے ذریعے دنیا کمائیں گے لوگوں کو نرمی دکھانے کے لیے بھیڑ کی کھال پہنیں گے ، ان کی زبانیں شکر سے زیادہ میٹھی ہوں گی اور ان کے دل بھیڑیوں کے دل کی طرح ہوں گے ، اللہ تعالی ان سے کہے گا کیا تم میرے ساتھ دھوکہ کرتے ہو یا مجھ پر  جراء ت کرتے ہو ، مجھے اپنی ہی قسم ہے کہ میں ان لوگوں پر ان ہی میں سے ضرور فتنہ بھیجوں گا جو ان میں سے سمجھ دار لوگوں کو بھی حیران اور  پریشان کر دے گا ۔ ( ترمذی )۔

جمعہ، 30 اکتوبر، 2026

نفاق اور اس کی علامات (۲)

 

نفاق اور اس کی علامات (۲)

سورۃالبقرہ کی آیت نمبر 11اور 12 میں منافقین کی نشانی یہ بتائی ہے کہ یہ لوگ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارا مقصدتو صرف اصلاح کرنا ہے ۔لیکن اللہ تعالی مومنین سے فرماتا ہے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں اور انہیں اس بات کو شعور ہی نہیں ۔ارشاد باری تعالی ہے :’’ اور جب ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔ وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں‘‘۔منافق کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ وہ خود کو سمجھدار اور دوسروں کو احمق سمجھتا ہے لیکن اللہ تعالی فرماتا ہے کہ حقیقت میں یہی احمق ہیں ۔ اور انہیں اس بات کا علم نہیں ۔ارشاد باری تعالی ہے :’’اور جب ان سے کہا جائے ایمان لائو جیسے اور لوگ ایمان لائے ہیں تو کہیں کیا ہم احمقو ں کی طرح ایمان لائیں ؟ وہی احمق ہیں مگر جانتے نہیں‘‘۔ (البقرہ :آیت ۱۳)
سورۃ البقرہ میں ہی اللہ تعالی فرماتا ہے :اور جب ایمان والوں سے ملیں تو کہیں ہم ایمان لائے اور جب اپنے شیطانوں کے پاس اکیلے ہوں تو کہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں ہم تو یونہی ہنسی مذاق کرتے ہیں ۔اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی نے منافقین کی نشانی بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب یہ مسلمانوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تو مسلمان ہیں لیکن جب دوسرے گروہوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تو مذاق کر رہے تھے ہم تمہارے ساتھ ہیں ۔ اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی نے خبر دارکیا ہے کہ وہ منافقین کے فریب سے ہوشیار رہیں  اور ان کو راز کی باتیں نہ بتائیں ۔جیسا کہ سورۃ اٰل عمران میں اللہ تعالی ارشادفرماتا ہے :اے ایمان والو غیروں کو راز نہ بتائو وہ تمہاری برائی میں کمی نہیں کریں گے ۔وہ چاہتے ہیں کہ تم مشقت میں پڑ جائو ۔ بیشک ان کا بغض منہ سے ظاہر ہو چکا ہے اور جو ان کے دلوں میں چھپا ہوا ہے وہ اس سے بھی بڑھ کر ہے ۔ بیشک ہم نے تمہارے لیے آیتیں کھول کر بیان کر دیں اگر تم شعور رکھتے ہو ۔خبر دار یہ تم ہی ہو جو انہیں چاہتے ہو اور وہ تمہیں نہیں چاہتے حالانکہ تم تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہو اور جب وہ تمہیں ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لا چکے ہیں اور جب تنہائی میں ہوتے ہیں تو غصے میں انگلیاں چباتے ہیں ۔ اے محبوب (ﷺ) تم فرمادو غصے میں مر جائو بیشک اللہ دلوں کی بات خوب جانتا ہے ۔اگر تمہیں بھلائی پہنچے تو انہیں بُرا لگتا ہے اور اگر تمہیں کوئی بُرائی پہنچے تو یہ خوش ہوتے ہیں اور اگر تم صبر کرو اور تقوی اختیار کرو تو ان کا مکرو فریب تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔

جمعرات، 29 اکتوبر، 2026

نفاق اور اس کی علامات (۱)

 

نفاق اور اس کی علامات (۱)

نفاق کے لغوی معنی دو رُخا پن اور حقیقت کو چھپانے کے ہیں ۔ اسلامی اصطلاح میں نفاق کی ایک صورت یہ ہے کہ انسان زبان سے تو ایمان کا اظہار کرے لیکن دل میں انکار کرے اسے نفاق اعتقادی کہتے ہیں ۔ اس کے علاوہ جھوٹ بولنا ، وعدہ خلافی کرنا ، امانت میں خیانت کرنا اور قول و عمل میں تضاد رکھنا اسے نفاق عملی کہا جاتا ہے ۔ (بہار شریعت )
اللہ تعالی نے سورۃ البقرہ میں منافقین کی نشانیاں اور ان کا احوال بیان کیا ہے جس میں سب سے پہلے یہ ہے کہ وہ زبان سے توکہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں لیکن دل سے اس بات کا اقرار نہیں کرتے ۔ ’’ اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائے اور وہ ایمان والے نہیں ۔فریب دینا چاہتے ہیں اللہ اور ایمان والوں کو اور درحقیقت میں فریب نہیں دیتے مگر اپنی جانوں کو اور انہیں شعورنہیں ‘‘۔ (البقرہ:آیت ۸،۹)
سورۃ المنافقون میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :’’ بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دیناچاہتے ہیں اور وہی انہیں غافل کر کے مارے گا اور جب نماز کو کھڑے ہوں تو ہارے جی سے لوگوں کو دکھاوا کرتے ہیں اور اللہ کو یاد کرتے مگر تھوڑا‘‘۔ 
یعنی منافقوں کی ایک بُری عادت یہ ہے کہ وہ گمان کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالی کو دھوکا دینا چاہتے ہیں مگر حقیقت میں وہ نبی کریم ﷺ مسلمانوں کو دھوکا دیناچاہتے ہیں کیونکہ اللہ تعالی کو حقیقی طور پر دھوکا دینا ممکن ہی نہیں ۔اللہ تعالی فرماتا ہے کہ ان کا نفاق نہ اللہ پر چلے ، نہ ہی اس کے رسول ﷺ پر اور نہ ہی مومنین پر بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ اپنی جانوں کو دھوکہ دے رہے ہیں اور انہیں اس بات کابالکل بھی شعور نہیں۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے اس نفاق کا بدلہ لے گا اور انہیں غافل کرکے مارے گا ۔
دنیامیں یہ لوگ رسوا ہوں گے اور بروز قیامت اللہ تعالیٰ انہیں عذاب دے گا ۔ اور منافق کی ایک علامت یہ بتائی کہ یہ نماز کے لیے مسلمان کیساتھ کھڑے ہوتے ہیں لیکن دل میں سستی ہوتی ہے ۔ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر دس میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے ’’: ان کے دلوں میں بیماری ہے تو اللہ نے ان کی بیماری اور بڑھائی اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے بدلہ ان کے جھوٹ کا ‘‘۔اس آیت مبارکہ میں منافقین کی دل کی بیماری منافقت کا ذکر کیا گیا ہے اور انہیں زبان سے جھوٹ بولنے پر سخت عذاب کی وعید سنائی گئی ہے ۔

بدھ، 28 اکتوبر، 2026

اصلاح معاشرہ اور نبی کریم ﷺ کی حکمت عملی

 

اصلاح معاشرہ اور نبی کریم ﷺ کی حکمت عملی

حضور نبی کریم ﷺ کی اسلامی معاشرے کی اصلاح کی بنیاد اللہ تعالی کی واحدانیت کے ازلی اور ابدی اصولوں پر مبنی ہے ۔ایک ایسا معاشرہ جس کے افراد ایک جسم کی مانند ہیں جب کسی جسم کے ایک حصے کو تکلیف ہوتی ہے تو اس تکلیف کو پورا جسم محسوس کرتا ہے ۔ اسلامی معاشرے کی مثال ایک خاندان کی طرح ہے اور اسلامی اخوت و بھائی چارے سے جڑا ہے کہ ہر فرد پورے کنبے کی امن و سلامتی کا ذمہ دار ہے ۔ 
اسلامی معاشرے کی سب سے پہلی بنیاد توحید ہے ۔معاشرے کے ہر فردکے لیے لازم ہے کہ وہ اس بات پر پختہ یقین رکھے کہ اس کائنات کا خالق و مالک اللہ تعالی وحدہ لاشریک ہے اور ساری کائنات اس کی محتاج ہے جو بھی کام ہوتا ہے اللہ تعالی کے چاہنے سے ہوتا اوراگر وہ نہ چاہے تو کوئی کام نہیں ہوسکتا ۔اللہ تعالی کی تو حید پر جس قدر پختہ یقین ہو گا اسی قدر بندے کا دل بے ایمانی ، خیانت ، خود غرضی ، نفاق اور لالچ سے پاک ہو گا اوروہ دل جو ان چیزوں سے پاک ہوں گے ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد رکھیں گے۔
اللہ تعالی کی وحدانیت کے ساتھ جب تک حضور نبی کریم ﷺ کی اتباع نہ کی جائے اس وقت تک کوئی بھی معاشرہ مکمل نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالی کی واحدانیت کے ساتھ ساتھ اتباع رسول ﷺ لازم و ملزوم ہے ۔ توحید باری تعالی کا رنگ صرف اسی صورت میں صحیح معنوں میں نظر آتا ہے جب معاشرے کا ہر فرد حضور نبی رحمت ﷺ کی سنت کی عملی طور پر پیروی کرے گا ۔ کیونکہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اگر تم چاہتے ہو کہ میں تم سے محبت کروں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ تم میرے محبوب ﷺ کی اتباع کرو ۔توحید باری تعالی اور رسالت کے بعد معاشرتی عوامل میں سے تیسرا عامل آخرت پر یقین ہے جس کی وجہ سے انسان ہوشیار رہتا کہ ایک دن آئے گا جس دن مجھے اپنے کیے کی جزا و سزا ملے گی ۔ انسا ن محاسبے اور جوابدہی کے خوف سے ڈرتا رہتا ہے جس کی وجہ سےوہ کبھی گناہ اور شروفساد کے قریب نہیں جاتا ۔جب افراد میں توحید ، اتباع سنت اور فکر آخرت پریقین پختہ ہو جاتا ہے تو ہر فرد فتنہ و فسادکے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہو جاتا ہے ۔حضور نبی کریم ﷺ نے اسلامی معاشرے کی بنیاد تقویٰ ، خدا خوفی ، عدل و انصاف ، احساس ذمہ داری ، حقوق و فرائض کی ادائیگی جیسے سنہری اصولوں پر رکھی ۔

مومن (۴)

  مومن (۴) اللہ تعالی نے سورۃ المومنون میں کامیاب لوگوں کے اوصاف بیان کیے ہیں کہ وہ نماز خشوع وخضوع کے ساتھ پڑتے ہیں ، بیہودہ کلام نہیں کرتے...