اتوار، 25 اکتوبر، 2026

خلوت اختیار کرنے کی فضیلت

 

خلوت اختیار کرنے کی فضیلت

حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ سے عرض کی گئی کہ یا رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سے افضل کون کون ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ مومن جو اپنے مال اور جان کے ساتھ اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرے ۔صحابہ کرام نے پھر عرض کی یارسول اللہ ﷺ پھر کون آپ ﷺ نے فرمایا وہ مومن جو گھاٹی میں رہے اور اللہ تعالی سے ڈرتا رہے اور لوگوں کو شر نہ پہنچائے ۔ ( بخاری شریف ) 
بخاری شریف میں اسود بن یزید نخعی ؓ سے مروی ہے کہ میں نے ام المئومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ جب گھر آتے تو کیا کرتے تھے ۔ حضرت عائشہؓ نے کہا آپﷺ گھر کے کاموں میں مشغول رہتے اور جب نماز کا وقت ہوتا تو اٹھ کر نماز کے لیے چلے جاتے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب بندہ اعلانیہ طور پر نماز ادا کرتا ہے اور اچھے طریقے سے نماز اداکرتا ہے اور خلوت میں جب نما ز ادا کرتا ہے اور اچھے طریقے سے ادا کرتا ہے تو اللہ تعالی فرماتا ہے درحقیقت یہ بندہ اللہ تعالی کا بندہ ہے ۔ (ابن ماجہ)حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : قریب ہے مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہوں گی جن کو وہ پہاڑ کی چوٹی بارش کے برسنے کی جگہوں میں لے جائے گا ۔ اس حال میں کہ اپنے دین کے سبب فتنوں سے بھاگے گا اس میں اس شخص کے لیے تنہائی میں رہنے کی فضیلت ہے جس کو اپنے دین کا خوف ہو ۔ ( بخاری ) حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبوت کے آغاز میں سب سے پہلے اللہ تعالی نے آپ کی کرامت اور اپنے بندوں پر اپنی رحمت کے اظہار کا ارداہ فرمایا تو نبی کریم ﷺ جو بھی چیز خواب میں دیکھتے وہ روز روشن کی طرح پوری ہو جاتی تھی ۔ جب تک اللہ تعالی کو منظور تھاایسا ہی رہا پھر آپ کو خلوت نشینی پسند آگئی اس وقت آپ ﷺ کے نزدیک خلوت سے زیادہ پسندیدہ چیز کوئی نہیں تھی ۔ ( ترمذی ) 
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا تمہیں سب سے بہتر لوگوں کے بارے میں نہ بتلائو ں ایک وہ شخص ہے جو اللہ تعالی کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام پکڑ لیتا ہے اور نکل کھڑ اہوتا ہے کیا جو شخص اس کے بعد ہو گا یہ وہ شخص ہے جو بکریاں لے کر لوگوں سےالگ ہو جاتا ہے اور ان کے بارے میں اللہ تعالی کے حق کو ادا کرتا ہے کیا میں تمہیں سب سے بد ترین شخص کے بارے میں نہ بتائوں یہ وہ شخص ہےجس سے اللہ تعالی کے نام پہ مانگا جائے وہ نہ دے ۔ ( ترمذی )

ہفتہ، 24 اکتوبر، 2026

تکبر کے اسباب (۲)

 

تکبر کے اسباب (۲)

زہد اور عبادت تکبر کا دوسرا سبب ہے ۔ عابد ، زاہد اور صوفی بھی تکبر سے تہی نہیں ہوتے ۔ وہ خود کو لوگوں کی زیارت اور خدمت کے قابل سمجھتے ہیں اور وہ اپنی عبادت دوسروں پر احسان سمجھتے ہیں ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی انہیں ستائے اور وہ کسی مصیبت میں مبتلا ہو جائے وہ اسے بھی اپنی کرامت سمجھیں ۔ یہی خیال کریں کہ اس پر یہ آفت انہیں کی وجہ سے آئی ہے ۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ کسی مسلمان کو خود سے کمتر یا حقیر سمجھنا ایک مکمل گنا ہ ہے ‘‘۔ اس کے اور اس شخص کے درمیان بہت فرق ہے جو اس سے برکت حاصل کرتا ہے اور اسے اپنے سے بہتر سمجھتا ہے۔ اس سے  اللہ تعالی کے لیے محبت کرتا ہے ۔ جو خود کو دوسروں سے بہتر سمجھتا ہے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کادرجہ دوسرے لوگوں کو عطا کر دے اور اسے اس کی عبادت سے محروم کر دے۔
بنی اسرائیل میں ایک بہت عبادت گزار شخص تھا اورایک  شخص بہت زیادہ فاسق تھا ۔ عابد ایک جگہ مکین تھا اور بادل کا ایک ٹکڑا اس کے اوپر سایہ کیے ہوئے تھا۔ فاسق نے سوچا کہ میں اس عابد کے پاس جاتا ہوںاس کے پاس بیٹھتا ہو ں ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالی اس کی برکت سے مجھ پر رحم فرمائے اور میرے گناہ معاف کر دے۔جب فاسق اس عابد کے پاس پہنچا تو عابد نے خود سے کہا یہ تو سب سے زیادہ فاسق و فاجر ہے جو میرے دروازے پر بیٹھ گیا ہے اور میں سب سے زیادہ عبادت گزار ہوں ۔ اس نے اس فاسق سے کہا کہ اٹھو یہاں سے چلے جائو ۔ فاسق وہاں سے اٹھ کر چلا گیا اور اب بادل کا ٹکڑا اس پر سایہ کیے ہو ا تھا ۔ اللہ تعالی نے اس وقت کے پیغمبر کی طرف وحی نازل فرمائی کہ ان دونوں سے کہیں اپنے اعمال کا دوبارہ سے آغازکریں ۔فاسق کے گناہ اس کی نیک خصلت کی وجہ سے معاف کر دیے ہیں اور عابد کے نیک اعمال اسکے تکبر کی وجہ سے بر باد کر دیے ہیں۔مومن تقوی کے راستے پر گامزن رہتا ہے مگر خوفزدہ رہتا ہے جبکہ احمق عابد ظاہراً عمل کرتا ہے دل میں تکبر کی ناپاکی رکھتا ہے مگر کوئی خوف نہیں رکھتا ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جس نے یہ خیال کیا کہ وہ دوسرے سے بہتر ہے اس نے اپنی جہا لت کی وجہ سے اپنی عبادت برباد کر لی ۔ کوئی معصیت جہالت سے بڑھ کر نہیں

جمعہ، 23 اکتوبر، 2026

تکبر کے اسباب (۱)

 

تکبر کے اسباب (۱)

علم تکبر کا پہلا سبب ہے جب عالم خود کو کمال سے آراستہ دیکھتا ہے تو دوسروں کو حیوانات کی طرح سمجھتا ہے۔
تکبر کا اس پر غلبہ آجاتا ہے ۔ وہ لوگوں سے مراعات ، خدمت ، تعظیم اور تقدم کی تمنا کرتا ہے ۔ عالم اپنے علم کی وجہ سے مخلوق پر احسان جتلاتا ہے ۔ آخرت میں بھی خود کو ان سے بہتر سمجھتا ہے اور اپنے کام کی وجہ سے جنت کا زیادہ امید وار ہوتا ہے ۔حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : خود کو عظیم سمجھنا علما ء کی آفت ہے ۔ایک عالم کو آخرت کے خطرات پیش نظر رکھنے چاہیے ۔ حقیقی علم وہ ہے جو اسے آخرت کے خطرات سے آگاہ کردے اور صراط مستقیم کی باریکیوں سے واقفیت حاصل کر لے اور ہمیشہ خود کو تکبر سے دور رکھے ۔ 
حضرت ابو دردا ء رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے :’’ جتنا علم زیادہ ہوتا ہے اتنا درد فزوں ہوتا ہے ‘‘۔اگر علم زیادہ ہونے کے ساتھ ساتھ تکبر میں بھی اضافہ ہو جائے اس کا مطلب ہے کہ اس نے حقیقی علم ، علم دین نہیں سیکھا۔علم دین سے ہی انسان خود کو پہچان سکتا ہے یہ علم درد و سوز کو بڑھاتا ہے ۔ تکبر میں اضافہ نہیں کرتا ۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرماہا ’’ ایک قوم قرآن پڑھےگی مگر قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ۔ وہ کہیں گے کون ہے جو ہم جیسا قرآن پڑھے ۔ کون ہےجو وہ سب کچھ جانتا ہو جس سے ہم آگاہ ہیں ‘‘پھر آپ ﷺنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرف دیکھا اورفرمایا ’’ یہ یا تو تم میں سے ہی ہوں گے یا میری امت سے ہی ان کا تعلق ہو گا یہ سب دوزخ کا ایندھن ہوں گے ‘‘۔
حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کا فرمان ہے’’ متکبرین علما ء میں سے نہ ہونا ورنہ تمہارا علم تمہاری جہالت سے وفا نہ کر سکے گا‘‘ ۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تکبر سے بہت زیادہ ہراساںرہتے تھے ۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک دفعہ امامت کی ۔ پھر فرمایا ’’ کسی اور کو امام بنا لو ۔ میرے دل میں خیال آیا ہے کہ میں تم سے بہتر ہوں ۔‘‘ جب صحابہ کرام تکبر کے خیال سے اتنا خوفزدہ تھے تو دوسروں کو کیوں نہیں ڈرنا چاہیے ۔
حضور نبی کریم ﷺ نے فرما یا اے صحابہ ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں تمہارے اعمال کے دسویں حصے پرعمل کرنے والا بھی نجات پا لے گا ۔اس زمانہ میں کم عمل کرنے والے بہت ہیں ۔کیونکہ اب عمل صالح پر کوئی معاون نہیں ۔

جمعرات، 22 اکتوبر، 2026

تکبر کے نقصانات

 

تکبر کے نقصانات

تکبر ایک برا خلق ہے ۔ اخلاق دل کی صفات ہیں مگر ان کا اثر اعضاء پر بھی ظاہر ہو تا ہے ۔ تکبر کی حقیقت یہ ہے کہ  انسان خود کو دوسروں سے اعلی سمجھے ۔ اس سے انسان میں تکبر کی ہوا پیدا ہوتی ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا مولا میں تکبر کی ہوا سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔ جب انسان میں یہ ہوا پیدا ہو جاتی ہے تو وہ  دوسروں کو خود سے کمتر سمجھنے لگ جاتا ہے ۔ وہ  اپنے سے کمترکو اپنا خادم سمجھتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ دوسروں کو اپنے خادم بھی نہ سمجھے اور کہے کہ یہ اس قابل کہاں جو میری خدمت بجا لائیں ۔ جس طرح خلفا ء ہر ایک کو اپنا آستانہ چومنے کی اجازت نہیں دیتے ۔ یہ بہت بڑاتکبر ہے اللہ تعالی کی کبریائی سے بھی بڑھ کر کیوں کہ اللہ تعالی ہر ایک کی بندگی قبول فرما لیتا ہے ۔ اگر متکبر اور احمق اس درجے تک نہ پہنچے تو پھر وہ چلنے اور بیٹھنے میں تقدم کا چاہتا ہے اور اپنی تعظیم و توقیر کا امیدوارہوتا ہے ۔ متکبر شخص اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اگر کوئی اس کو نصیحت کر ے تو وہ اس کی نصیحت کو قبول نہیں کرتا ۔اور جب خود دوسروں کو نصیحت کرتا ہے تو سخت رویہ اختیار کرتا ہے ۔ متکبر شخص لوگوں کو جانوروں کی طرح دیکھتا ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ سے عرض کی گئی یارسول اللہ ﷺ تکبر کیا ہے ۔ ’’ آپ ﷺ نے فرمایا :تکبر یہ ہے کہ انسان اللہ تعالی کے لیے اپنی گردن کو نہ جھکائے اور لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھے ۔
یہ عادت متکبر اور اللہ تعالی کے درمیان بہت بڑا حجاب ہے ۔ اسی سے کئی برے اخلاق جنم لیتے ہیں ۔ تکبر تمام اچھے اخلاق سے انسان کو روک لیتا ہے ۔ جس پر خواجگی ، خود پسندی اور اپنی فضیلت غالب آ جائے وہ مسلمانوں کے لیے وہ چیز پسند کرتا ہے جو اپنے لیے پسند نہیں کرتا ۔ یہ مومن کی صفت نہیں ہے ۔ وہ کسی سے عاجزی نہیں کرتا یہ متقین کی صفت نہیں وہ کینہ اور حسد سے ہاتھ نہیں روک سکتا ۔ اپنا غصہ پی نہیں سکتا اور اپنی زبان کو غیبت سے محفوظ نہیں رکھ سکتا اور دل کو مکرو فریب سے محفوظ نہیں رکھ سکتا ۔متکبر شخص ہر اس شخص کے لیے دل میں کینہ رکھتا ہے جو اس کی تعظیم نہیں کرتا ۔ تکبر کرنے والا ہر وقت اپنی تعریف میں مگن رہتا ہے ۔ کو ئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ خود کو فراموش نہ کر دے بلکہ دنیا کا سکون و راحت بھی نہ پائے ۔ ایک ولی کا مل کا قول ہے ’’اگر جنت کی خوشبوسونگھنا چاہتے ہو تو خود کو سب سے کم تر سمجھو ۔

بدھ، 21 اکتوبر، 2026

فحش کلامی کی مذمت

 

فحش کلامی کی مذمت

  دین اسلام واحد مذہب ہے جو انسان کو ہر پہلو سے اخلاق حسنہ اپنانے کی تلقین کرتا ہے۔ دین اسلام کی بنیاد ہی اچھے اخلاق ، نرم لہجے اور پاکیزہ گفتگو پرہے۔بدگوئی ، فحش کلامی ، گالی گلوچ نہ صرف اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ یہ انسان کے اخلاقی زوال کی بھی علامات ہیں۔ 
قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں متعدد بار زبان کی حفاظت کی تلقین کی گئی ہے۔ سورۃالحجرات آیت نمبر ۱۱ میں اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے کا تمسخر اڑانے سے منع فرمایا ہے۔ اور اسی طرح سورۃ البقرہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ لوگوں سے اچھی بات کہو۔ ان آیات میں ایک دوسرے کا مذاق اڑانے ، طعنہ دینے اور فحش کلامی سے منع کیا گیا ہے۔ 
امام غزالی نے اپنی زبان کو آٹھ قسم کے گناہوں سے محفوظ رکھنے کی تلقین کی ہے۔ جھوٹ بولنے سے ، وعدہ خلافی کرنے سے ، غیبت کرنے سے ، جھگڑا کرنے ، خود ستائی ، لعن طعن ، دوسرے پر کیچڑ اچھالنے سے اور ٹھٹھے بازی کرنے سے۔ فحش کلامی صرف اخلاقی طور پر ناپسندیدہ نہیں بلکہ یہ معاشرتی بگاڑ کا سبب بھی بنتی ہے۔ جب کوئی انسان فحش کلامی کرتاہے تو نہ صرف وہ اپنی شخصیت کو گراتاہے بلکہ معاشرے میں بے حیائی اور فساد کو بھی فروغ دیتا ہے۔ 
حضرت ابو سعید خدری نے نبی کریمﷺ سے عرض کی یا رسو ل اللہ ﷺ مجھے کوئی نصیحت فرما دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو ساری بھلائی اسی میں ہے ، جہاد کو اپنے اوپر لازم کر لو کیونکہ یہ مسلمانوں کے لیے ریاضت ہے ، اپنی زبان کو اللہ تعالیٰ کے ذکراور قرآن مجید کی تلاوت سے مصروف رکھو کیونکہ یہ زمین پر نور کا سر چشمہ ہیں اور آسمان پر معروف ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے مزید ارشاد فرمایاکہ جب بھی زبان سے کچھ بولو تو اچھی بات بولو ورنہ خاموش رہو کیونکہ ایسا کرنے سے تمہیں شیطان پر غلبہ پانے اور دینی امور کو احسن طریقے سے ادا کرنے میں مدد ملے گی۔ ( المعجم الکبیر ، ابن حبان)۔
 نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو کوئی اس دنیا میں لوگوں کے وقار کی حفاظت کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے بدلے اس کے گناہ مٹا دے گا ، جو کوئی بھی دنیا میں لوگوں پرآنے والے غصے پر قابو پائے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عذاب سے محفوظ رکھے گا۔ ( احیا علوم الدین )۔
ابو الیث سمر قندی فرماتے ہیں کہ صالحین اپنی زبان کو قابو میں رکھنے کے لیے دوسروں سے کی جانے والی گفتگو کا خود سے محاسبہ کرتے تھے۔ اسی طرح ہر مسلمان کو چاہیے کہ اس سے پہلے کہ اس کا آخرت میں حساب ہو وہ دنیا میں ہی اپنا محاسبہ کرتا رہے۔ دنیا میں اپنا محاسبہ کر لینا آخرت میں حساب سے زیادہ آسان ہے۔ دنیا میں اپنی زبان پر قابو پالینا آخرت میں شرمندگی برداشت کرنے کی نسبت آسان ہے۔ (تنبۃ الغافلین )۔
آج کے دور میں سوشل میڈیا ، ڈراموں ، فلموں اور عام گفتگو میں فحش کلمات کا استعمال زیادہ ہوتا جا رہا ہے اور یہ مزاح کا حصہ بنتا جا رہا ہے جو کہ ایک خطر ناک رجحان ہے۔ ہمیں اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی زبان کو بد گوئی اور فحش کلامی سے محفوظ رکھنا ہو گا۔

منگل، 20 اکتوبر، 2026

عظمت و شان مصطفی ﷺ

 

عظمت و شان مصطفی ﷺ

 حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن مجھے عرش کی دائیں جانب ایسے مقام پر کھڑا کیا جائے گا کہ جہاں کسی اور کو قدم رکھنے کی مجال نہ ہو گی اس وقت اولین و آخرین میرے ساتھ رشک کریں گے ۔ ( مسند احمد )۔
 حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی نے مجھے اختیار دیا کہ میں اپنی نصف امت کو جنت میں داخل کرا لوں یا شفاعت  کروں۔ میں نے شفاعت کو پسند کیا کیونکہ شفاعت کا فیضان عام ہے ۔جب تک میری امت کا آخری فرد بھی جنت میں نہ پہنچ  جائے اس وقت تک میں شفاعت کا حق استعمال کرتا رہوں گا۔ پھر فرمایا یہ شفاعت متقین کے لیے نہیں ہوں گی بلکہ میری شفاعت  گناہ گاروں اور خطاکاروں کے لیے ہو گی ۔ (ابن ماجہ )۔ 
حضرت ابو سعید خدری ؓسے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایک روز جبرائیل امین میرے پاس آئے اور کہا کہ میرا رب اور آپ کا رب آ پ کو فرماتا ہے کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ میں نے آ پ کے ذکر کو کس طرح بلند کیا ۔ حضور نبی کریم ﷺ  نے جواب دیا اللہ تعالی بہتر جانتا ہے ۔ جبرائیل امین نے جواب دیا اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اس بلند ذکر کی صورت یہ ہے کہ جب میرا ذکر کیا جائے گا اس وقت میرے ذکر کے ساتھ تیرا ذکر بھی کیا جائے گا ۔  حضرت عمر ؓ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن تمام تعلقات اور رشتہ داریاں ختم ہو جائیں گی لیکن  میرا تعلق اور میرا نسب اس روز بھی قائم رہے گا ۔  حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا سب سے پہلے میری قبر شریف کھلے گی اور میں باہر آؤں گا۔ مجھے  جنت کی پو شاکوں سے ایک خلعت پہنائی جائے گی ۔ پھر میں عرش الہی کی دائیں جانب کھڑا ہوں گا ۔ میرے علاوہ کسی کو بھی اس مقام پر کھڑا ہونے کا شرف حاصل نہیں ہو گا ۔ ( ترمذی )۔ 
حضرت سلمان ؓسے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک روز جبرائیل امین تشریف لائے اور عرض کی بیشک آپ کا رب فرماتا  ہے اگر چہ میں نے ابراہیم کو خلیل بنایا ہے لیکن آپ کو میں نے اپنا حبیب بنایا ہے میں نے آج تک کوئی ایسی چیز پیدا نہیں کی جو آپ سے  زیادہ میرے نزدیک مکرم ہو ۔ میں نے دنیا اور اس کے رہنے والوں کو اس لیے پیدا کیا تا کہ میں آپ کی کرامت اور آپ کے درجہ رفیعہ  سے ان کو آگاہ کروں ۔ اگر آپ کی ذات نہ ہوتی تو میں دنیا کو بھی پیدا نہ کرتا ۔ ( حجۃ اللہ علی العالمین )۔

پیر، 19 اکتوبر، 2026

علم وحکمت کا مقصد

 

علم وحکمت کا مقصد

حضور نبی کریم ﷺ نے مقصدعلم کو بھی واضح فرمایا تاکہ علم حاصل کرنے والے کسی بھی شخص کی محنت ضائع نہ ہو۔ آپ نے واضح طور پر ارشاد فرمایا علم کا مقصد مادیات کا حصول نہیں ایسی سوچ علم جیسی نعمت کی بے قدری ہے بلکہ علم حاصل کرنے کا مقصد معرفت الٰہی اور دل کی آبادی ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا : علم کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ایسا علم ہے جو انسان کے دل میں اتر جاتا ہے وہ ہی علم نافع ہے اور دوسرا علم صرف زبان تک رہتا ہے۔ ایسا علم قیامت کے دن انسان کے خلاف دلیل بن جائے گا۔ (سنن دارمی ) اس حدیث مبارکہ سے یہ بات واضح ہو گئی کہ علم کا مقصد دل کی آبادی ہے جس نے علم کے ذریعے سے دل کی دنیا کو آباد کر لیا اس نے حقیقی مقصد کو پا لیا۔اور جس نے علم کے ذریعے سے صرف لفظوں کا ہیر پھیر ہی سیکھا اور اس کے دل کی دنیا ویران ہی رہی تو ایسے شخص نے علم کی بے قدری کی وہ نہ صرف دنیا میں علم کے نفع سے محروم رہا بلکہ اس نے اپنی آخرت بھی برباد کر لی۔ علم اس مقصد کے لیے حاصل کرنا کہ انسان بحث و مباحثہ میں اپنی برتری ثابت کرے یا لوگوں کو لا جواب کرے۔ یاپھر اس مقصد کے لیے علم حاصل کرے کہ لوگوں کے درمیا ن مقبولیت حاصل کرلے۔ ایسے مقاصد کے لیے علم حاصل کرنے والا شخص اپنے آپ کو جہنم کا ایندھن بنا لیتا ہے۔ علم کے حصول کا مقصد صرف اور صرف معرفت الٰہی اور خشیت الٰہی ہے۔ حضرت کعب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرما یا : کہ جو شخص اس لیے علم حاصل کرے تا کہ وہ بحث مباحثہ میں علما کی برابری کرے یا جاہلوں اور بیو قوفوں کے ساتھ جھگڑا کرے یا اس لیے کہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرلے تو ایسے شخص کو اللہ تعالی دوزخ میں ڈال دے گا۔ ( ترمذی)
ارشاد باری تعالی ہے : ” اللہ تعالی کے بندوں میں سے اللہ تعالی سے وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔ ( سورۃ فاطر ) 
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے وہ علم سیکھا جس سے اللہ تعالی کی رضا حاصل کی جاتی ہے مگر وہ اسے رضائے الہی کے لیے نہیں حقیر دنیا جمع کرنے کے لیے سیکھے تو ایسا شخص قیامت کے دن جنت کی خوشبو سے بھی محروم رہے گا۔(ابی داؤد) اس حدیث مبارکہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ علم حاصل کرنے کا مقصد کسی مادی خواہش کی تکمیل نہیں بلکہ معرفت الٰہی اور رضائے الٰہی کا حصول ہے۔

خلوت اختیار کرنے کی فضیلت

  خلوت اختیار کرنے کی فضیلت حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ سے عرض کی گئی کہ یا رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سے افضل کون کون ہے نبی...