جمعہ، 6 فروری، 2026

دین فطرت(۲)

 

دین فطرت(۲)

دین اسلام میں ہمارے لیے مکمل ضابطہ حیات موجود ہے۔ مسائل معاشی ہوں یا پھر معاشرتی دین اسلام سے ہمیں ہر طرح کی رہنمائی ملتی ہے۔ 
حقوق العباد: بندوں کے حقوق یعنی وہ حقوق جو انسانوں کے انسانوں پر ہوتے ہیں حقوق العباد کہلاتے ہیں۔قرآن و حدیث میں ان حقوق کی ادائیگی پربہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺکی سیرت طیبہ میں حقوق العباد کی ادائیگی کی اہمیت اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے۔ ان میں شوہر،بیوی ، بچوں ، والدین ، عزیزواقارب، استاد ، شاگرد ، ملازم اور پڑوسیوں کے حقوق شامل ہیں۔ اسلام ہی نے خواتین کو ان کے جائز حقوق دے کرمعاشرے میں احترام کا مقام دیا۔ حالت جنگ میں بوڑھوں ، بچوں ، عورتوں اور بیمار وں کو قتل کرنے سے سختی سےمنع کیا گیا۔ 
غلامی کا خاتمہ : ظہور اسلام سے پہلے غلامی کا دور چلا آ رہا تھا۔ غلاموں پر بہت زیادہ ظلم و ستم کیے جاتے تھے۔ان سے ان کی طاقت سے بڑ ھ کام لیا جاتا تھا۔ اسلام نے غلاموں کو بھی مساوی حقو ق دیے۔ انسان کو انسان کی غلامی سے نجات دلائی۔اسلام میں آقا اور غلام میں کوئی فرق نہیں ہے۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو خود کھاتے ہو غلاموں کو بھی کھلائو اور جو خود پہنتے ہو غلاموں کو بھی پہنائو۔ قرآن میں ظہار اور کفارہ میں غلام آزاد کرنے کا حکم دیا گیا۔
زکوٰۃ کا نظام : بڑے بڑے ماہرین اقتصادیات اسلامی نظامی زکوۃ کو دنیا کا بہترین نظام مالیات مانتے ہیں۔ سال بھر جمع شدہ رقم پر اس کا اڑھائی فیصد بطور زکوۃ ادا کرنا فرض ہے۔ اگر آج بھی دیانتداری کے ساتھ صاحب نصاب زکوۃ ادا کرنا شروع کر دیں تو کوئی غریب نظر نہیں آئے۔ حضرت عمر بن عبد العزیز کے دور خلافت میں کوئی بھی زکوۃ لینے والا نہیں رہ گیا تھا زکوۃ کی صحیح تقسیم کی وجہ سے سب صاحب نصاب ہو گئے تھے۔ 
عدل و انصاف : اسلام میں عد ل وانصاف کا نظام تمام دنیا اور ہر زمانے کے لیے قابل تقلید ہے۔ قرآن مجید میں بہت سارے مقامات پر عدل و انصاف کرنے کی بڑی سخت تاکید فرمائی گئی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : 
’’اور ناپ تول انصاف کے ساتھ پوری کروہم کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتے مگر اس کے مقدور بھر۔ اور جب بات کرو تو انصاف کی کرو اگرچہ تمہارے رشتہ دار کا معاملہ ہو۔ ( سورۃ الانعام )۔ 
زندگی کے ہر شعبے میں عدل و انصاف کرنے کا حکم ہے خواہ خود ہمارے خلاف ہو ، ہمارے والدین یا اولاد کے خلاف ہو مگر فیصلہ حق پر ہی ہونا چاہیے۔ اگر معاشرے میں عدل و انصاف ہو گا تو اس کی برکت سے ایسا معاشرہ تشکیل پائے گا جس میں سب امن و امان کے ساتھ رہ سکیں گے۔

جمعرات، 5 فروری، 2026

Surah Ash-Shura (سُوۡرَةُ الشّوریٰ) Ayat 47-48.کیا ہم اپنے رب کے نافرمان...

دین فطرت(۱)

 

دین فطرت(۱)

اسلام کے لغوی معنی اطاعت کرنا گردن جھکانا شریعت کی اصطلاح میں دین محمدی ﷺ میں اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کے تمام احکامات کی پوری تعمیل کرنے کا نام اسلام ہے ۔ دین اسلام کی تعلیمات ، احکامات و ہدایات کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہر ترقی یافتہ اور جدید دور کے لیے موزوں ترین اور بہترین دین دین اسلام ہی ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ’’ آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور میں نے تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کیا ‘‘۔بہت سے غیر مسلم علماء ، مفکرین اور محقیقن نے بھی اسلام کامطالعہ کرنے کے بعد اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ اس کے اندر انسانی فطرت کی مطابقت ، حقانیت اور صداقت موجود ہے ۔ اور انہوں نے اس بات کو بھی تسلیم کیا ہے کہ قرآن مجید ہر قسم کے علوم کا خزانہ اور جدید سائنسی تحقیقات و ایجادات کی نشاندہی کرتا ہے ۔آج کے دور میں بعض مسلما ن بھی اور دوسرے افراد کم علمی کی وجہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ مذہب صرف چند مخصوص عبادات اور مذہبی رسوم کی ادائیگی کا نام ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دنیاوی زندگی گزارنے کے طور طریقوں سے مذہب کا کوئی تعلق نہیں ۔ حقیقت میں ایسے خیالات دینی علم نہ ہونے کی وجہ سے قطعی باطل ، بے بنیاد ، غیر منطقی اور غیر شرعی ہیں ۔ توحید و رسالت پر ایمان کامل اور دنیاوی زندگی حضور  ﷺ کے بتائے ہوئے احکامات کے تحت بسر کرنا اصل منشا ہے ۔ خیر و شر ، نیک و بد اعمال کی جزا و سزا دنیا اور آخرت میں ملنے پر ایمان رکھنا دین کی اہم ترین جز کی بنیاد ہے ۔مومن کی زندگی کے تمام اعمال عبادت بن سکتے ہیں ۔ اگر وہ ہر کام اور ہر عمل اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کو بجا لانے اور ان کی خوشنودی کے لیے کر رہا ہو ں تو دنیا اور آخرت میں اجر و ثواب کا مستحق ہو گا ۔اگر ہم کھانا کھائیں تو آداب سنت کے تحت کھائیں ، اگر پانی پئیں تو اداب سنت کے تحت پئیں ، والدین کی خدمت، بزرگوں اور اساتذہ کا احترام بیوی بچوں کی تربیت اور جو بھی کام ہیں اگر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کی روشنی میں کریں گے تو وہ عبادت بن جائیں گے ۔ہمارے لیے یہ بات نہایت افسوس اور ندامت والی ہے کہ ہم مسلمان قرآن مجید پر ایمان رکھتے ہوئے بھی قرآنی احکام کو  نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ اور ان احکامات پر عمل کر کے دنیا و آخرت کے فوائد حاصل کرنے سے محروم ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہم غیر مسلموں سے پیچھے رہ گئے ہیں اور بہت سی ضروریا ت اور امور حکومت میں ان کے محتاج ہیں ۔

بدھ، 4 فروری، 2026

Surah Ash-Shura (سُوۡرَةُ الشّوریٰ) Ayat 46.کیا ہم اپنے رسول ﷺ کے جھوٹے ...

Surah Ash-Shura Ayat 44-45 Part-02 .کیا ہم نے اپنے لئے بہت بڑا نقصان اٹ...

ہمسائیوں کے حقوق

 

ہمسائیوں کے حقوق

ارشاد باری تعالی ہے : ”اور عبادت کرو اللہ کی اور نہ شریک ٹھہراؤ اس کے ساتھ کسی کو اور والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو۔ نیز رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور پڑوسی جو رشتہ دار ہے اور وہ پڑوسی جو رشتہ دار نہیں “۔(سورۃ النساء)۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جبرائیل امین ہمیشہ مجھے پڑوسی کے بارے میں وصیت کرتے رہے حتی کہ مجھے لگا کہ اسے وراثت میں بھی حصہ دار بنا دیا جائے گا ۔ ( بخاری شریف ) ۔
ایسا پڑوسی جو رشتہ دار ہو اور پڑوس میں رہتا ہو اس کے دو حقوق ہیں ہے ایک قرابت کی وجہ سے اور دوسرا پڑوسی ہونے کی حیثیت سے ۔ جبکہ اجنبی یا غیر رشتہ دار کا ایک حق ہوتا ہے اور وہ پڑوس کا حق ہے۔ لیکن پڑوسی رشتہ دار ہو یا نہ ہو دونوں صورتوں میں پڑوسی کی عزت و تکریم ، باہمی خیر خواہی اور حسن سلوک کرنا ضروری ہے ۔حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی کے نزدیک سب سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنے دوستوں کے حق میں بہتر ہے اور اللہ تعالی کے نزدیک سب سے بہتر پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسیوں کے حق میں بہتر ہے ۔ ( ترمذی )۔
گھر کے بالکل ساتھ والے پڑوسی کا حق زیادہ ہے اس پڑوسی کی نسبت جو دور رہتا ہے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں میں نے حضور نبی کریم ﷺ سے پوچھا یارسول اللہ ﷺ میرے پڑوس میں دو عورتیں رہتی ہیں ان دونوں میں سے میں کس کو کوئی چیز بطور ہدیہ بھیجا کرو ں ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا، جس کا دروازہ آپ کے گھر کے نزدیک ہے ۔ ( بخاری شریف )۔
کسی بھی مسلمان کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف پہنچائے ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے پڑوسی کو ایذا یا تکلیف دینے سے بڑی سختی سے منع فرمایا ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ تعالی پر اور یوم آخرت پر یقین رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے ۔ ( بخاری شریف )۔
حضرت ابو شریح رضی اللہ تعالی عنہ ے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم وہ شخص ایمان والا نہیں ! اللہ کی قسم وہ شخص ایمان والا نہیں ! آپ ﷺ سے عرض کی گئی یا رسو ل اللہ ﷺ کونسا شخص؟ آپ ﷺ نے فرمایا جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے محفوظ نہیں ۔ (بخاری شریف )۔
 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی اہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے مامون نہ ہو ۔( مسلم شریف )۔

دین فطرت(۲)

  دین فطرت(۲) دین اسلام میں ہمارے لیے مکمل ضابطہ حیات موجود ہے۔ مسائل معاشی ہوں یا پھر معاشرتی دین اسلام سے ہمیں ہر طرح کی رہنمائی ملتی ہے۔ ...