جمعہ، 5 جون، 2026

بعثت نبی ﷺ اور حقوق نسواں(۱)

 

بعثت نبی ﷺ اور حقوق نسواں(۱)

اسلام سے قبل عورت کی بالکل بھی عزت و تکریم نہیں کی جاتی تھی ۔ دنیا عورت کو ذلت اور حقارت کی نظر سے دیکھتی تھی ۔ اس کی حثییت صرف بچے پالنے والی لونڈی جیسی تھی ۔ عورت ہر قسم کے حقوق سے محروم تھی اسے گھر میں بند کر دیا جاتا اور شوہر کے سامان میں سے  ایک سامان تصور کی جاتی تھی ۔ 
بیوہ عورت دوسرا نکاح نہیں کر سکتی تھی ۔ عرب میں عورت پر بہت ظلم و ستم کیا جاتا تھا ۔ طلاق کی کوئی حد مقرر نہیں تھی ۔ شوہر کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ نہ رجوع کرے اور نہ ہی اسے کسی سے نکاح کرنے دے ۔ اگر باپ مر جاتا تو اس کی بیویاں اس کے بیٹوں کی میراث سمجھی جاتی تھیں سوائے ان کی حقیقی ماؤں کے ۔ وہ ان سے نکاح کر لیتے یا انہیں فروخت کر دیتے تھے ۔ بیٹیوں کو معیوب سمجھا جاتا تھا اور پیدا ہوتے ہی زندہ در گور کر دیاجاتا تھا ۔ بعض لوگ بیٹی پیدا ہونے پر نادم ہوتے اور لوگوں سے چھتے پھرتے ۔
ارشاد باری تعالی ہے :” ان میں جب کسی کو بیٹی کے پیدا ہونے کی خبر دی جاتی تو دکھ کے مارے اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے ۔ وہ لوگوںسے چھپتا پھرتا کہ اسے کیسی بری خبر ملی ہے ۔ اب ذلت برداشت کرتے ہوئے اسے سنبھالے رکھے یا اسے زمین میں گاڑ دے ۔خبر دار یہ بہت بُرا فیصلہ کرتے ہیں “۔ ( سورۃ النحل )۔ 
ایک قبیلہ کے رئیس کے گھر بیٹی کی ولادت ہوئی تو اس نے گھر میں آنا چھوڑ دیا ۔ ماں بیٹی کو یہ لوریاں دے کر سلاتی تھی ۔ ” وہ ہم سے  اس لیے ناراض ہیں کہ ہم بیٹے نہیں جنتے اس میں ہمیں اپنے چاہنے پر کوئی اختیار نہیں ہے ۔ ہمارا اختیار تو صرف اسی پر ہے جو ہمیں دیا  جائے ۔ہمارے متعلق یہ ہمارے رب کی حکمت ہے “۔ (تفیر الخازن ) 
لیکن جب آمنہ کے لال امت کے غم خوار رحمت دو عالم سرور کائنات ﷺ دنیا میں تشریف لائے تو عورت کو کھویا ہو امقام واپس  مل گیا ۔ آج عورت کو جو بھی مقا م و مرتبہ حاصل ہے وہ حضور نبی کریم ﷺ کی ہی بدولت ہے ۔ جب پوری دنیا عورت کو حقارت کی نظر سے دیکھتی تھی تب حضور نبی کریم ﷺ نے عورت کو عزت بخشی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا جب کسی کے گھر بیٹی پیدا ہو تو اللہ تعالی کے فرشتے اس کے گھر آتے ہیں اور کہتے ہیں اے گھر والو تم پر سلامتی ہو ۔وہ بچی کو اپنے پروں کے سائے میں لے لیتے ہیں اور اس کے  سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتے ہیں ۔یہ ایک کمزور جان ہے جو کمزور جان سے پیدا ہوئی ہے جو اس بچی کی پرورش کرے گا قیامت  تک اللہ تعالی کی مدد اس کے ساتھ شامل رہے گی ۔

جمعرات، 4 جون، 2026

اصلاح معاشرہ اور ہمارا کردار

 

اصلاح معاشرہ اور ہمارا کردار

انسان اپنی سوچ اور افکار و نظریات کے گرد گھومتا ہے۔ یہ وہ کچھ ہی کرتا ہے جو اس کا نظریہ اسے کرنے کو کہتا ہے ۔ اسلام نے ہمیں اچھے اخلاق کو اپنانے کی ترغیب دی ہے ۔ جب انسان کی اخلاقی تربیت اچھی اور مکمل طور پر ہو جاتی ہے تو وہ کبھی  معاشرے میں فتنہ فساد کا سبب نہیں بنتا  اور ہمیشہ معاشرے کی بہتری کے لیے کوشش کرتا ہے ۔ اللہ تعالی نے سورۃ الحجرات میں کچھ احکامات نازل فرمائے جن پر عمل کرکے ہم معاشرے کو امن کا گہوارہ بنا سکتے ہیں ۔ 
معاشرے میں بگاڑ کی ایک وجہ آپس کے لڑائی جھگڑے ہیں ۔ اگر دو گروہوں میں لڑائی ہو جائے تو اسے دوسروں کا معاملہ سمجھ کر الگ ہو کر بیٹھ  جانا یا پھر اس لڑائی کو مزید بڑھانے کا سبب بننا عقل مندی نہیں ۔بلکہ دانشمندی یہ ہے کہ دونوں فریقین کی بات سن کر ان دونوں کے درمیان صلح  کروانے کی ہر ممکن کوشش کرے ۔ 
ارشاد باری تعالی ہے : اگر مومنوں میں سے دو گروہوں کے درمیان لڑائی ہو جائے تو ان کے درمیان صلح کراؤ ، اور اگر ان دونوں میں سے ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو تم سب بغاوت کرنے والے کے خلاف اس وقت تک لڑو جب تک وہ اللہ کے حکم کی طرف نہ لوٹ آئے اور اگر وہ حق کی طرف پھر آئیں تو دونوں کے درمیان عدل اور انصاف سے صلح کراؤ، بیشک اللہ تعالی انصاف کرنے والوں کو ہی پسند فرماتا ہے ۔(سورۃ الحجرات )۔
معاشرے میں بگاڑ کی ایک بڑی وجہ بغیر تصدیق کے کسی بات کو آگے پہنچانا ۔ لیکن قرآن مجید میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کوئی بھی آپ تک  پہنچے تو پہلے اس کی تصدیق کر لیا کرو ۔ ارشاد باری تعالی ہے :اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کر لیا کرو ( کئی ایسانہ ہو ) کہ تم کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچاؤ اور پھر تمہیں اپنے کیے پر ندامت اٹھانی پڑے۔ (سورۃ الحجرات )۔
اللہ تعالی قرآن مجید میں غصے پر قابو پانے اور معاف کرنے کا حکم فرماتا ہے :ارشاد باری تعالی ہے : جو خوشحالی اور تنگی میں راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں اور غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالی (ایسے ہی ) نیک اعمال کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے ۔ (سورۃ الحجرات )۔
ایسے ہی اللہ تعالی نیکی کے کاموں میں تعاون کرنے اور گناہوں سے روکنے کاحکم دیتا ہے ارشاد باری تعالی ہے : نیکی اور پرہیز گاری کے کاموں  میں ایک دوسرے سے تعاون کرو اور گناہ اور ظلم کی باتوں میں تعاون نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو ۔ (سورۃالحجرات )۔

بدھ، 3 جون، 2026

قابلِ رشک لوگ

 

قابلِ رشک لوگ

اللہ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن پر قیامت کے دن انبیاء اور شہدا رشک کریں گے ۔ روایات میں آتا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں ایسے لوگوں کے بارے میں بتاؤں جو نہ پیغمبر ہوں گے اور نہ ہی شہدا لیکن قیامت کے دن پیغمبر اور شہدا ان پر رشک کریں گے ۔ یہ سب ان کے اس مقام کی وجہ سے جو اللہ تعالی انہیں عطا فرمائے گا ۔ وہ نور کے ممبروں پر بیٹھے ہوں گے ۔ عرض کی گئی یا رسول اللہ ﷺ وہ کون لوگ ہوں گے آپﷺ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہوں گے جو اللہ تعالی کے بندوں کو اللہ سے محبت کرنے والا بنائیں اور ان کو اس قابل بنائیں کہ اللہ ان سے محبت کرے اور جب وہ زمین پر چلیں تو لوگوں کا ناصح بن کر ۔ ( شعب الایمان)۔
اللہ تعالی کی ذات سے بڑی کسی کی ذات نہیں اسی طرح اللہ تعالی کی محبت سے بڑھ کر کوئی عمل نہیں ہو سکتا ۔ جب اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ جو اعلی چیز خود اس نے حاصل کی ہے باقی لوگ بھی اسے حاصل کریں اور وہ دوسرے لوگوں کو بھی اللہ تعالی کی معرفت سے آشنا کروا دے اور لوگ سب سے بڑھ کر اللہ تعالی سے محبت کرنے لگ جائیں اور اللہ جل شانہ کی ذات ان کے لیے وہ ہستی بن جائے جو ان کے قلبی سکون کا باعث ہو ۔ جب لوگ اس طرح اللہ تعالی کو اپنا محبوب بنا لیں گے تو ایسے لوگ خود بھی اللہ تعالی کے محبوب بن جاتے ہیں۔ 
بخاری شریف کی روایت ہے حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے جب میرے کسی بندے کا یہ حال ہوتا ہے کہ مجھ سے  ملنا اس کا سب سے محبوب عمل ہے تو میرے لیے بھی اس بندے سے ملاقات کرنا محبوب ہو جاتا ہے ۔  بندہ جب غورو فکر کرتا ہے اور اپنے رب کو پالیتا ہے اور اپنے رب کی دی ہوئی بے شمار نعمتوں کو یاد کرتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ  اللہ تعالی سے بے پناہ محبت کرنے لگ جاتا ہے ۔اور پھر اللہ تعالی بھی اس بندے سے محبت کرنے لگ جاتا ہے اور پھر دنیا سے آخرت تک اللہ تعالی کی رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے ۔
اللہ تعالی سے محبت کاسر چشمہ اللہ تعالی کی نعمتوں کی دریافت ہے ۔اسی دریافت کی وجہ سے انسان کے اوپر آخرت کی اعلی نعمتوں کے دروازے کھل جاتے ہیں۔کسی بندے کے دل میں اللہ تعالی سے محبت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب وہ اللہ تعالی کو اپنے منعم حقیقی کی حثییت سے پہچان لیتا ہے جب بندہ نعمتوں کے ساتھ منعم کی بھی معرفت دریافت کر لے یہی وہ بندہ ہوتا ہے جو اللہ تعالی کو مطلوب  ہوتا ہے اور اسی کو ہی قیامت کے دن اللہ تعالی سے ملاقات کا شر ف حاصل ہو گا۔

منگل، 2 جون، 2026

عید الاضحی اور قربانی(۳)

 

عید الاضحی اور قربانی(۳)

اسلام میں قربانی کے لیے تین ایام 10 ، 11 ،12 ذی الحجہ کے دن مختص کیے گئے ہیں۔ ان تین ایام کے علاوہ کی جانے والی قربانی جائز نہیں۔ عید کی نماز سے قبل قربانی کرنا جائز نہیں۔ اگر کسی نے نماز عید سے پہلے قربانی کی تو وہ قربانی نہ ہو گی اس پر دوبارہ قربانی واجب ہے۔ ایسے دیہات جہاں عید کی نماز نہیں ہوتی وہاں نماز فجر کے بعد قربانی جائز ہے لیکن وہاں بھی قربانی سورج طلوع ہونے کے بعد کی جائے۔ 
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس نے نماز عید سے پہلے قربانی کی تو اس نے اپنے لیے کی۔ (یعنی گوشت کھانے کے لیے ) اور جس نے نمازکے بعد قربانی کی، اس کی قربانی ہو گی اور اس نے مسلمانوں کے طریقے کو پا لیا۔(بخاری )۔
قربانی کے بے شمار معاشرتی فوائد بھی ہیں۔حضور نبی کریم ﷺ نے قربانی کے گوشت کے تین حصے کرنے کا حکم فرمایا۔ ایک حصہ اپنے لیے ، دوسرا رشتہ داروں کے لیے اور تیسرا غریب اور مستحق افراد کے لیے۔ لہٰذا قربانی کے موقع پر ہمیں معاشرے کے نادار اور مستحق لوگوں کو بھی  ان خوشیوں میں شامل کرنا چاہیے اور ان تک بھی گوشت پہنچانا چاہیے تا کہ مساوات کا عملی مظاہرہ ہو سکے۔ 
 عید لاضحی کے موقع پر صفائی اور ماحول کا خیال رکھنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ اسلام پاکیزگی کو نصف ایمان قرار دیتا ہے۔ قربانی کے بعد  الائیشیں سڑکوں اور گلیوں میں پھینک دینا نہ صرف بیماریوں کا سبب بنتا ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔ہمیں چاہیے کہ اس بابرکت اور پْر مسرت موقع پر صفائی کا خاص خیال رکھیں اورآلائشوں کو مناسب طریقے سے تلف کریں تا کہ ماحول صاف ستھرا رہے۔ 
قربانی سے ہمیں یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنی محبوب ترین چیز بھی قربان کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ آج کے دور میں ہمیں جانورقربان کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کرتے ہوئے اپنی خود غرضی ، انا اور نفس کی خواہشات کو بھی قربان کرنا چاہیے۔ 
قربانی ایک زندہ پیغام ہے۔ یہ ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی فرمانبرداری اور حضور نبی کریم ﷺ کی  سنت مبارکہ کی یاد دلاتی ہے۔ اگر مسلمان قربانی کی اصل روح کو سمجھ لیں تو ان کے اندر اخلاص ، تقویٰ ، ایثار ، صبر اور اللہ تعالیٰ سے محبت کے  جذبات بیدار ہو سکتے ہیں۔
 اللہ تعالیٰ ہمیں قربانی کی روح کو سمجھنے اور اخلاص کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری قربانیاں اپنی پاک بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین۔

پیر، 1 جون، 2026

عید الاضحی اور قربانی(۲)

 

عید الاضحی اور قربانی(۲)

قربانی اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا اہم ذریعہ ہے اور یہ انسانی فطرت میں موجود خود غرضی ، مادہ پرستی اور دنیا کی محبت کو ختم کرتی ہے۔لہٰذا وہی قربانی اللہ تعالیٰ کے حضور قابل قبول ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کی جائے۔ قربانی کا جانور کتنا ہی مہنگا کیوں نہ ہو اور کتنا ہی خوبصورت کیوں نہ ہو اگراس میں دکھلاوا اور ریاکاری شامل ہے تو اللہ کے نزدیک ایسی قربانی کی کوئی اہمیت نہیں: ارشاد باری تعالیٰ : تو اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ ( سورۃ الکوثر )۔
سورۃ الحج میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’اللہ کو ہرگز نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے نہ ان کے خون۔ ہاں تمہاری پرہیز گاری اس تک پہنچتی ہے ‘‘۔ (سورۃ الحج :آیت ۳۷)۔
سورۃ الانعام میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبو ب ﷺ سے فرمایا : ’’(اے محبوبﷺ ) تم فرمائو میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا  مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو سارے جہان کا رب ہے ‘‘۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ  فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یوم النحر میں ابن آدم کا کوئی عمل خدا کے نزدیک قربانی کرنے سے زیادہ محبوب نہیں۔ اوروہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگ اور بال اور کھروں کے ساتھ آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ قبول فرما لیتا ہے۔ لہٰذا اسے خوش دلی سے کرو۔ ( ترمذی )۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عرض کی یا رسول اللہ ﷺ یہ قربانیاں کیا ہیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم ؑ کی سنت ہے۔ صحابہ کرام نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ کیا اس سے ہم کو ثواب ملے گا ؟آپ ﷺ نے فرمایا ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے عرض کیا اور اون؟ تو آپﷺ نے فرمایا کہ اون کے ہر بال کے بدلے میں بھی ایک نیکی ہے۔( مسند احمد )۔
ان آیات مبارکہ اور احادیث مبارکہ سے واضح ہو جاتا ہے کہ قربانی کرنا ہر عاقل بالغ اور استطاعت رکھنے والے مسلمان پر واجب ہے اور  اس کی ادائیگی سے اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔ لیکن اس کے بر عکس جو شخص مالی استطاعت رکھنے کے باوجود قربانی نہیں کرتا نبی کریم ﷺ نے ایسے شخص کے لیے وعید فرمائی ہے : نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص قربانی کرنے کی استطاعت رکھتا ہو اور پھر بھی وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ آئے۔ ( ابن ماجہ )۔

اتوار، 31 مئی، 2026

عید الاضحی اور قربانی(۱)

 

عید الاضحی اور قربانی(۱)

عید الاضحی مسلمانوں کے عظیم ترین مذہبی تہواروں میں سے ایک ہے یہ صرف خوشی و مسرت کا دن نہیں بلکہ ایثار ، قربانی ، اطاعت الٰہی اور انسانیت کی خدمت کا عظیم پیغام بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہ دن ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بے مثال قربانی کی یاد دلاتا ہے۔جب ایک باپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر اپنے لخت جگر کو قربان کرنے کا ارادہ کیا اور ایک بیٹے نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا۔اللہ تعالیٰ نے اس عظیم جذبہ اطاعت کو قبول فرمایااور رہتی دنیا تک اسے مسلمانوں کے لیے سنت اور شعار بنا دیا۔ 
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کی : الٰہی مجھے لائق اولاد دے۔ تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول فرمایا اور فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام عطا فرمایا۔ بڑھاپے میں اولاد کا ملنا بہت بڑی نعمت ہے۔لیکن جب حضرت اسماعیل ؑ جوانی کو پہنچے اور اپنے باپ کا سہارا بنے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل ؑ کو ذبح کرنے کا حکم فرمایا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’پھر جب وہ اس کے ساتھ کام کے قابل ہو گیا کہا اے میرے بیٹے میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تجھے ذبح کرتا ہوں اب تو دیکھ تیری کیارائے ہے‘‘۔ (الصفٰت )۔
قربان جائیں حضرت اسماعیل کے جواب پر آپ ؑنے اللہ تعالیٰ کی رضا پر قربان ہونے کا کمال شوق سے اظہار کرتے ہوئے فرمایا :
" اے میرے باپ کیجیے جس بات کا آپ کو حکم ہوتا ہے خدا نے چاہا تو قریب ہے کہ آپ مجھے صابر پائیں گے "۔ ( الصفٰت)۔
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب کو سچ کر دکھایا تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ’’اور جب ان دونوں نے ہمارے حکم پر گردن رکھی اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹایا اور ہم نے اسے ندا فرمائی کہ اے ابراہیم۔بیشک تو نے خواب سچ کر دکھائی ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو۔بیشک یہ روشن جانچ تھی۔اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے صدقہ میں دے کر اسے بچا لیا۔ اور ہم نے پچھلوں میں بھی اس کی تعریف باقی رکھی۔ سلام ہو ابراہیم پر۔ ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکو ں کو۔بیشک وہ ہمارے اعلی درجہ کے کامل ایمان والے بندوں میں ہیں ‘‘۔ (الصفٰت)۔
اس موقع پر شیطان نے حضرت ہاجرہ ؑ، حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے دلوں میں وسوسے ڈالنے کی کوشش کی تاکہ آپ  اللہ تعالیٰ کاحکم پورا نہ کر سکیں لیکن آپ نے شیطان کو کنکریاں مار کر بھگا دیا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش میں کامیاب ہوئے۔

ہفتہ، 30 مئی، 2026

حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام (۲)

 

حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام (۲)

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کا ایک ایمان افروز واقع اور آزمائش یہ بھی ہے کہ جب آپ حضرت ہاجرہ ؑ اور اپنے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ کو بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ کر آئے جہاں نہ پانی تھا اور نہ ہی کھانا ۔جب آپؑ دونوں کو چھوڑ کر واپس  جانے لگے توحضرت ہاجرہ نے پوچھا ہمیں کس کے سہارے چھوڑے جا رہے ہو۔ آپؑ نے فرمایا اللہ کے ۔حضرت ہاجرہ نے پوچھا کیا یہ اللہ کا حکم ہے تو حضرت ابراہیم ؑ نے  ہاں میں جواب دیا  اس پرحضرت ہاجرہ نے کہا کہ اللہ تعالی ہمیں ضائع نہیں کرے گا ۔ حضرت ابراہیم اللہ تعالی کی طرف سے اس امتحان میں بھی کامیاب ہوئے ۔ 
آپ ؑ کی بڑی آزمائش حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی تھی ۔بڑھاپے میں اولاد عطا ہونا بہت بڑی نعمت تھی مگر اللہ تعالی نے پیارے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا ۔ ارشاد باری تعالی ہے : الہی مجھے لائق اولاد دے ۔ تو ہم نے اسے خوش خبری سنائی ایک عقل مند بیٹے کی ۔ پھر جب وہ اس کے ساتھ کام کے قابل ہو گیا کہا اے میرے بیٹے میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تجھے ذبح کرتا ہوں اب تو دیکھ تیری کیا رائے ہے۔ کہا اے میرے باپ کیجیے جس بات کا آپ کو حکم ہوتا ہے۔ خدا نے چاہا تو قریب ہے کہ آپ مجھے صابر پائیں گے ۔ (الصفٰت)۔
یہ فیضان نظر تھایا کہ مکتب کی کرامت تھی سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی۔یہ باپ اور بیٹے کی عظیم اطاعت اور ایمان کی مثال ہے جب حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے بیٹے کو قربان کرنے کے لیے پیشانی کے بل لٹایا تو اللہ تعالی نے حضرت اسماعیل کی جگہ دنبہ بھیج دیا اور آپ کی قربانی قبول فرمالی ۔ارشاد باری تعالی ہے :اور ہم نے اسے ندا فرمائی کہ اے ابراہیم بیشک تونے خواب سچ کردکھایا، ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو۔ بیشک یہ روشن جانچ  تھی۔اور ہم نے ایک بڑ اذبیحہ اس کے صدقہ میں دے کر اسے بچا لیا ۔(الصفٰت)۔
حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی تو اللہ تعالی کے حضور عرض کی یا اللہ اپنے پاک گھر کو آباد کرنے والا بھیج دے ۔اللہ تعالی نے آپ کی دعا کو قبول فرمایا اور نبی آخرالزمان نبی کریم ﷺ کو آپ کی اولاد میں  مبعوث فرمایا ۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پوری زندگی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ سچا ایمان صرف دعوؤں کا نام نہیں بلکہ عمل ، قربانی اور استقامت کا تقاضا کرتا ہے ۔ آپؑ نے ہر آزمائش میں االلہ تعالی پر بھروسہ کیا اور ہر امتحان میں کامیاب ہوئے ۔

بعثت نبی ﷺ اور حقوق نسواں(۱)

  بعثت نبی ﷺ اور حقوق نسواں(۱) اسلام سے قبل عورت کی بالکل بھی عزت و تکریم نہیں کی جاتی تھی ۔ دنیا عورت کو ذلت اور حقارت کی نظر سے دیکھتی تھی...