اتوار، 3 مئی، 2026

حیوانات کے حقوق (۱)

 

 حیوانات کے حقوق (۱)

اسلام سے قبل عرب میں جانوروں کو مختلف قسم کی تکالیف دی جاتی تھیں۔مثال کے طور پر جانور کو ذبح کیے بغیر اس کا گوشت کاٹ لینا ، اس کی دم کاٹ دی جاتی ۱ور ان کے جسم کو داغا جاتا۔ لیکن اسلام نے جہاں انسانوں کے حقوق مقرر کیے وہیں جانوروں کے حقوق کا جامع اور متوازن نظام پیش کیا۔ اسلام میں اس بات کی بھی تعلیم دی گئی کہ جانور بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے لہٰذا ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا انسان کی اخلاقی اور دینی ذمہ داری ہے۔جانوروں کو بھوک پیاس ، تکلیف اور تھکاوٹ ہوتی ہے تو یہ تمہیں بتا نہیں سکتے اس لیے خود ان کا خیال رکھا کرو۔ کیونکہ جانوروں کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہ ہونا پڑے گا۔ 
حضرت سہل بن حنظلیہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک اونٹ کے پاس سے گزرے جس کی پشت اس کے پیٹ کے ساتھ چمٹی ہوئی تھی۔نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ان بے زبان جانوروں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو ، ان پر سواری کرو جب یہ سواری کے قابل ہوں اور ان کو ذبح کر کے کھائو جب یہ کھانے کے قابل ہوں۔ ( ابو دائود )۔
حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا چوپایوں پر سواری کرو جب یہ تندرست ہوں اور انہیں آرام اور سلامتی کے ساتھ چھوڑ دو اور انہیں رستوں اور بازاروں میں اپنی باتوں کے لیے کرسیاں نہ بنائو۔ 
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک شخص سفر کر رہا تھا اس کو سخت پیاس لگی تو اس نے کنویں میں اتر کر پانی پیا۔جب وہ باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ ایک کتا پیاس کی وجہ سے تر مٹی کو چاٹ رہا ہے۔اس شخص نے خیال کیا کہ اس کتے کو بھی پیاس لگی ہو گی لہٰذا وہ دوبار کنویں میں اترا اور اپنے موزے میں پانی بھر کر اس کتے کو پانی پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کے اس عمل کو قبول فرمایا اور اس کو بخش دیا۔صحابہ کرام نے عرض کی یارسو ل اللہ ﷺ کیا جانوروں کے ساتھ نیکی کرنے پر بھی اجر ملے گا ؟ آپﷺنے فرمایا ہر جاندار پر رحم کرنے پر نیکی ہے۔ ( بخاری )۔
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓبیان کرتے ہیں کہ ہم  سفر میں تھے کہ ہم ایک جگہ رفع حاجت کے لیے گئے وہاں سے ہم نے ایک چھوٹی چڑیاکے دو بچے پکڑ لیے۔چڑیا ہمارے سر پر منڈلانے لگی۔جب نبی کریم ﷺ تشریف لائے تو فرمایا تم میں سے کس نے اس کے بچوں کر پکڑ کر ستایا ہے اس کے بچے واپس کر دو۔ ( ابودائود )۔

ہفتہ، 2 مئی، 2026

عورت بحیثیت ماں ، بیٹی اور بیوی(2)

 

عورت بحیثیت ماں ، بیٹی اور بیوی(2)

اسلام سے قبل عرب میں بیٹی کو عار سمجھاجاتا تھااور اسے زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے :’’اور جب ان میں کسی کو بیٹی ہونے کی خبر دی جاتی ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غصہ کھاتا ہے۔ لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے۔ اس  بْرائی کی بشارت کے سبب کیا اسے ذلت کے ساتھ رکھے گا یا اسے مٹی میں دبا دے گا۔ ارے بہت ہی بْرا حکم لگاتے ہیں۔( سورۃ النحل )۔
لیکن جب نبی رحمت ﷺ کی آمد ہوئی اور عرب میں اسلام کا سورج طلوع ہوا تو بیٹی کو عزت دی گئی اور اسے زندہ در گور کرنے سے سختی سے منع کیا گیا۔ 
 نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کے ہاں بیٹی پیدا ہو وہ اسے زندہ درگور نہ کرے اوراسے ذلیل نہ سمجھے اور اپنے بیٹے کو اس پر ترجیح نہ دے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا۔ ( ابو دائود)۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ  فرماتی ہیں جب حضر ت فاطمہ رضی اللہ عنہا آتیں تو حضور نبی کریم ﷺ ان کو خوش آمدید کہتے، ان کے لیے کھڑے  ہو کر سر پر بوسہ دیتے اور ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے۔ (الادب المفرد)۔
 نبی کریمﷺ نے فرمایا جو شخص دو بچیوں کی بالغ ہونے تک کفالت کریگا بروز قیامت وہ میرے اتنا قریب ہوں گے جتنا میرے ہاتھ کی دو انگلیاں قریب ہیں۔ ( مسلم )۔
اسلام میں بیوی کے حقوق بھی بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔اسلام سے قبل اہل عرب کا یہ دستور تھاکہ مال کی طرح اپنے رشتہ داروں کی بیویوں کے بھی وارث بن جاتے۔ پھر چاہتے تو مہر کے بغیر انہیں اپنی زوجیت میں رکھتے یا کسی اور کے ساتھ شادی کر دیتے اوران کا مہر خود رکھتے یا انہیں شادی نہ کرنے دیتے اور اپنے پاس رکھتے تا کہ جو مال انہیں وراثت میں ملا ہے وہ انہیں دے دیں۔لیکن اسلام نے بیوی کو بھی مقام و مرتبہ عطا کیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آئے۔ (ترمذی)۔
حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا اپنی بیویوں کو وہی کھلائو جو خود کھاتے ہو، اسی معیار کا کپڑا دو جیسا تم خود پہنتے ہو اور انہیں نہ مارو اور نہ ہی ان کی توہین کرو۔(ابودائود)۔
نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بْرا مرد وہ ہو گا جو اپنی بیوی کی راز کی باتیں دوسروں کو بتائے۔ (مسلم)۔
اسلام نے عورت کو ہر حیثیت سے عزت و احترام دیا ہے۔ وہ ماں ہو تو جنت اس کے قدموں کے نیچے ، بیٹی ہو تو رحمت ہے اور اگر بیوی ہو تو سکون قلب کا ذریعہ ہے۔اسلام نے عورت کو تعلیم ، وراثت ، نکاح اور دیگر معاملات میں واضح حقوق عطا کیے ہیں۔*

جمعہ، 1 مئی، 2026

عورت بحیثیت ماں ، بیٹی اور بیوی(۱)

 

عورت بحیثیت ماں ، بیٹی اور بیوی(۱)

جمعرات، 30 اپریل، 2026

والدین کی نافرمانی پر وعید

 

والدین کی نافرمانی پر وعید

والدین کی نافرمانی ایک ایسا سنگین گناہ ہے جس کی مذمت قرآن و حدیث میں نہایت شدت کے ساتھ کی گئی ہے۔ اسلام میں والدین کو وہ بلند مقام عطا کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ والدین کی اطاعت و خدمت کا حکم دیا گیا ہے۔ اسی طرح ان کی نافرمانی کو گناہ کبیرہ قرار دیا گیا ہے۔ 
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا، تین شخص جنت میں نہ جائیں گے۔ ماں باپ کا نافرمان،دیوث اور مردوں کی طرح وضع بنانے والی عورت۔( معجم الاوسط )
حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا، یہ بات کبیرہ گناہوں میں سے ہے کہ آدمی اپنے والدین کو گالی دے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ کیا کوئی شخص اپنے ماں باپ کو گالی دیتا ہے ؟ 
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اس کی صورت یہ ہے کہ یہ دوسرے کے باپ کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کے باپ کو گالی دیتا ہے۔یہ دوسرے کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے۔ ( مسلم )۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اس شخص کی ناک خاک آلود ہو۔ پھر فرمایا اس شخص کی ناک خاک آلود ہو۔ پھر تیسری بار نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا اس شخص کی ناک خاک آلود ہو۔عرض کی گئی یارسول اللہ ﷺ کس کی ناک خاک آلود ہو ؟آپﷺ نے فرمایا جس نے اپنے ماں باپ یا پھر ان میں سے کسی ایک کو بڑھاپے میں پایا پھر وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوا۔ (مسلم )۔
یعنی اگر کسی کے والدین یا ان میں سے کوئی ایک اگر بڑھاپے میں زندہ ہو تو ان کی خدمت کر کے جنت کو حاصل نہ کر سکے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ ہر گناہ میں سے جسے چاہے معاف فرما دے گاجبکہ ماں باپ کی نافرمانی کی سزا انسان کو موت سے پہلے زندگی میں ہی مل جائے گی۔ ( شعب الایمان )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا بروز قیامت تین لوگ میرا چہرا نہیں دیکھ سکیں گے۔والدین کا نافرمان ، میری سنت کی پیروی نہ کرنے والا اور جس کے سامنے میرا نام لیا جائے اور وہ مجھ پر دورد پاک نہ پڑھے۔ 
والدین کی نافرمانی دنیاوی اور اخروی دونوں طرح کے نقصانات ہیں۔ دنیا میں ایسے شخص کی زندگی سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ دل بے سکون رہتا ہے اور معاشرے میں عزت کم ہو جاتی ہے جبکہ آخرت میں بھی ایسے افراد کے لیے سخت وعید ہے۔٭

جمعرات، 23 اپریل، 2026

حقوق العباد (۱)

 

  حقوق العباد (۱)

ہر انسان پر یہ بات لازم ہے کہ جب وہ دوسروں سے ملے تو اسے سلام کہے ، جب کوئی اسے دعوت دے تو اس کی دعوت کو قبول کرے ، جب اسے چھینک آئے تو اس کا جواب دے ، جب وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت کرے ، جب وہ مر جائے تو اس کے جنازے میں شریک ہو ، اس کی غیر موجودگی میں اس کی غیبت نہ کرے اور اس کے لیے وہ کچھ ہی پسند کرے جو اپنے لیے کرتا ہے اور جو چیز اپنے لیے نا پسند کرتا ہے اسے دوسروں کے لیے بھی ناپسند کرے۔
 حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : تجھ پر مسلمانوں کے چار حق ہیں ، ان کی نیک کاموں میں   امداد کر، بْرے کے لیے مغفرت طلب کر ، جو مر جائے اس کے لیے دعا مانگ اور تو بہ کرنے والے کے ساتھ محبت رکھ۔ 
ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’وہ آپس میں رحم کرنے والے ہیں ‘‘۔ اس کی تفسیر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ان کے نیک بْروں کے لیے اور بْرے نیکوں کے لیے دعا کرتے ہیں۔ جب کوئی گناہ گار شخص حضورﷺ کی امت کے نیک مرد کو دیکھتا ہے تو کہتا ہے اے اللہ تو نے اسے جوبھلائی عطا کی ہے اس میں برکت دے اسے ثابت قدم رکھ اور ہمیں اس کی برکتیں عطا فرما۔ اور جب کوئی نیک شخص کسی گناہ گار کو دیکھتا ہے تو کہتا ہے
اے اللہ اسے ہدایت دے اس کی توبہ قبول فرما اور اس کی غلطیوں کو معاف فرما۔ 
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : ایک دوسرے سے محبت کرنے اور باہم مشقت کرنے میں مسلمانوں کی مثال ایک جسم جیسی ہے ، جب جسم کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتا ہے تو سارا جسم اس کے احساس اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ حضرت ابو موسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مسلمان ، مسلمان کے لیے دیوار کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے کو تقویت دیتا ہے۔ 
یہ بھی مسلمانوں کے حقوق میں شامل ہے کہ کوئی مسلمان اپنی زبان یا کسی فعل سے دوسرے مسلمان کو دکھ نہ پہنچائے۔
حضور نبی کریمﷺ نے لوگوں کو اچھی عادات اپنانے کے متعلق حکم فرمایا۔ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا اگر تم یہ نہیں کر سکتے ہو تو لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھو۔ یہ تمہارے لیے صدقہ ہے جو تم نے اپنی ذات کے لیے دیا ہے۔ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا :افضل مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان محفوظ رہیں۔*

بدھ، 22 اپریل، 2026

صراطِ مستقیم (۲)۔

 

صراطِ مستقیم (۲)۔

جب بندہ اللہ تعالی سے نماز میں یہ دعا مانگتا ہے کہ اے اللہ مجھے سیدھے راستے پر چلا تو ساتھ ہی یہ بھی دعا مانگتا ہے کہ اپنے انعام یافتہ بندوں کے راستے پر چلا ۔
ارشاد باری تعالی ہے :’’ راستہ ان کا جن پر تو نے احسان کیا نہ کہ ان کا جن پر غضب ہوا اور نہ بہکے ہوؤں کا ‘‘۔ ( سورۃ الفاتحہ )۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کے انعام یافتہ لوگ کون ہیں اس بارے میں ہمیں قرآن مجید سے راہ نمائی ملتی ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :’’ اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرتے ہیں  وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے فضل کیا۔ یعنی انبیاء اورصدیقین اور شہدا اور صالحین اور یہ کتنے اچھے ساتھی ہیں ‘‘۔ ( سورۃ النساء )۔
یعنی ہمیں انبیاء ، صدیقین ، شہدا اور صالحین کے راستے پر چلنا چاہیے یہی وہ ہستیاں ہیں جن پر اللہ تعالی نے اپنا خاص فضل و کرم فرمایا ہے ۔ 
اللہ تعالی نے انسان کو ہدایت حاصل کرنے اور صراط مستقیم پر چلنے کے لیے بہت سے ذرائع عطا فرمائے ہیں ۔انسان کی ظاہری اور باطنی صلاحتیں جنہیں استعمال کر کے وہ ہدایت حاصل کر سکتا ہے ۔ آسمانوں اور زمینوں میں اللہ تعالی کی قدرت و وحدانیت پر  دلالت کرنے والی نشانیاں جن میں غورو فکر کر کے انسان ہدایت حاصل کر سکتا ہے ۔
قرآن مجید سے اپنا تعلق مضبوط کرکے اور اس کے معانی و مطالب پر غورو فکر کر کے بندہ سیدھے راستے پر گامزن ہو سکتا ہے ۔ کیونکہ قرآن مجید ہمارے لیے سرچشمہ ہدایت ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :’’ بیشک یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو سب سے سیدھی ہے اور خوشی سناتا ہے ایمان والوں کو جو اچھے کام کریں۔ ان کے لیے بڑاثواب ہے ‘‘۔ ( سورۃ الاسراء )۔
نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھ کر ہم صراط مستقیم پر چل سکتے ہیں ۔کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ صالحین میرے انعام یافتہ بندوں 
میں سے ہیں ۔ بندہ صراط مستقیم سے تب بھٹک جاتا ہے جب وہ خواہشات نفس کی پیروی کرتا ہے ، شیطان کی وسوسہ اندازی ، دنیا کی محبت ، اور دین سے غفلت یہ وہ چیزیں ہیں جن کی وجہ سے بندہ سیدھے راستے سے بہک جاتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ’’اے داؤد بیشک ہم نے تجھے زمین میں نائب کیا تو لوگوں میں سچا حکم کر اور خواہش کے پیچھے نہ جانا کہ تجھے اللہ کی راہ سے بہکا دے گی ۔ (سورۃ ص)۔
اللہ تعالی ہمیں صراط مستقیم پر چلنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنے نیک بندوں کی صف میں کھڑا فرمائے ۔آمین ۔

منگل، 21 اپریل، 2026

صراطِ مستقیم (۱)

 

  صراطِ مستقیم (۱)

انسان کی زندگی ایک سفر ہے اور ہر سفر کا ایک واضح راستہ درکار ہوتا ہے۔ اگر راستہ سیدھا ، متوازن اورمنزل تک پہنچانے والا ہو تو انسان کامیاب ہو جاتا ہے اور اگر راستہ ٹیڑھا ، گمراہ کن اور خواہشات نفس کے تابع ہو تو انسان خسارے میں پڑجاتا ہے اور کبھی بھی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ اسلام نے ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی تلقین کی ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جو رضا ئے الٰہی ،نجات ، اور کامیابی کی طرف لے کر جاتا ہے۔ہم دن میں جب پانچ وقت نماز ادا کرتے ہیں تو ہر نماز میں اللہ تعالیٰ سے صراط مستقیم پر چلنے کی دعا مانگتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ہم کو سیدھا راستہ چلا ‘‘۔ ( سورۃ الفاتحہ )
ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے سیدھے راستے پر چلنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی دعا مانگتا رہے۔کیونکہ سیدھا راستہ ہی انسان کو منزل مقصود تک پہنچاتا ہے۔ ایمان والے اللہ تعا لیٰ سے اس طرح دعا مانگتے ہیں۔
ترجمہ:’’ اے ہمارے رب تو نے ہمیں ہدایت عطا فرمائی ہے اس کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما بیشک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے ‘‘۔ ( سورۃ اٰل عمران )
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ کثرت سے یہ دعا مانگا کرتے تھے۔
ترجمہ : اے دلوں کو پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کی یا رسول اللہﷺ ہم آپ پر اور جو کچھ آپ لائے ہیں اس پر ایمان رکھتے ہیں تو کیا آپ کو ہمارے بارے میں کوئی خوف ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :ہاں بیشک دل اللہ تعالیٰ کی (شان کے لائق اس کی ) انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے وہ جنہیں چاہتا ہے انہیں پھیر دیتا ہے۔(ترمذی )۔
سورۃ الانعام میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’ اور یہ کہ یہ ہے میرا سیدھا راستہ ہے تو اس پر چلو اور راہیں نہ چلو کہ تمہیں اس کی راہ سے جدا کر دیں گی ‘‘۔
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی نے واضح فرما دیا ہے کہ صراط مستقیم صرف ایک ہی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا مقررہ کردہ راستہ ہے اس کے علاوہ جنتے بھی راستے ہیں وہ گمراہی کی طرف لے جانے والے ہیں۔ صراط مستقیم پر چلنے کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ بندہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری کر ے۔’’ اورجو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے اس نے بڑی کامیابی پائی ‘‘۔ (سورۃالاحزاب)۔

حیوانات کے حقوق (۱)

   حیوانات کے حقوق (۱) اسلام سے قبل عرب میں جانوروں کو مختلف قسم کی تکالیف دی جاتی تھیں۔مثال کے طور پر جانور کو ذبح کیے بغیر اس کا گوشت کاٹ ...