جمعہ، 22 مئی، 2026

فضائل مکہ مکرمہ

 

فضائل مکہ مکرمہ

جمعرات، 21 مئی، 2026

فضائل مدینہ منورہ (1)

 

فضائل مدینہ منورہ (1)

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کا حصہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا  منبر میرے حوض پر ہے ـ‘‘۔
’’حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے حضور ﷺ نے فرمایا : حضرت ابراھیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا تھا اور میں دونوں کالے پتھروں والے میدانوں کے درمیان مدینہ منورہ کو حرم قرار دیتا ہوں۔ نہ وہاں کوئی درخت اور جھاڑی کاٹی جائے اور نہ ہی وہاں کوئی جانور شکار کیا جائے ‘‘۔
’’حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ  نے فرمایا : جو شخص اہل مدینہ کو تکلیف دینا چاہے گا تو اللہ تعالی دوزخ میں اسے اس  طرح پگھلائے گا جس طرح آگ میں سیسہ پگھلتا ہے ‘‘۔
’’حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے دعا فرمائی : اے اللہ ! مدینہ منورہ میں اس سے دوگنا برکت عطا فرما جتنی تو نے مکہ مکرمہ میں رکھی ہے ‘‘۔
’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جو شخص مدینہ منورہ کی سختیوں اور مصیبتوں پر صبر کرے گا قیامت کے دن میں اس کا گواہ ہوں گا یا اس کی شفاعت کروں گا ‘‘۔ 
’’حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : جو مدینہ میں مر سکے تو اسے چاہیے کہ اس میں مرے کیو نکہ میں اس کی شفاعت کرو ں گا جو  یہاں مرے گا ‘‘۔ 
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ ساری عمر یہ دعا کرتے رہے اے اللہ مجھے اپنی راہ میں شہادت کی موت دے اور رسول اللہ ﷺ کے شہر میں مرنا نصیب فرما۔  صحابہ کرام رضوا ن اللہ علھیم اجمعین حیرا ن تھے کہ جہا دتو میدانوں میں ہوتے ہیں اور آپ شہادت کی موت کی التجا کر رہے ہیں اور وہ بھی مدینہ میں ۔ لیکن اللہ پاک نے ان کی دعا قبول فرمائی اور مسجد نبوی میں مصلہ رسول پر ان کو ایک مجوسی نے شہید کر دیا ۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے ساری زندگی مدینہ شریف میں گزاری۔ بس ایک فرض حج کے لیے  مکہ مکرمہ تشریف لے گئے ۔ آپ دو گھونٹ پانی پیتے اور معمولی کھانا کھاتے تا کہ رفع حاجت کے لیے کم از کم مدینہ منورہ سے باہر جانا پڑے اور مدینہ منورہ سے باہر موت نہ آئے ۔ مدینہ منورہ کی گلیوں میں جوتا اتار کر دیواروں کے ساتھ چلتے تا کہ کسی ایسی جگہ پاؤ ں نہ آ جائے جہاں  آپ ﷺ کے قدم مبارک لگے ہیں ۔  
  میں گنبد خضرا کی طرف دیکھ رہا ہوں 
                                                کوثر میرے نزدیک یہ میری معراج نظر ہے

بدھ، 20 مئی، 2026

حج کے افعال (4)

 

حج کے افعال (4)

رمی جماز: میدان منی میں تین جمرے ہیں جن کو کنکریاں ماری جاتی ہیں یہ اللہ تعالی کا حکم اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ۔ 
حدیث شریف میں ہےکہ : بیت اللہ کا طواف ، سعی صفا و مروہ اور رمی جمار ذکر الہی کو قائم کرنے کے لیے ہیں ۔ ( مشکوۃ )۔
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالی کے حکم سے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے لگے تو شیطان آپ ؑ کے دل میں وسوسے ڈال کر اللہ تعالی کے حکم سے پھیرنا چاہتا تھا ۔ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے شیطان کو کنکریاں مار کر بھگایا ۔ اللہ تعالی کو آپ کی یہ ادا پسند آئی اور اسے حج کا رکن بنا دیا ۔ 
اب دل میں اگر یہ خیال آئے کہ ان کے سامنے تو شیطان تھا ہمارے سامنے تو شیطان نہیں ہے تو میں کنکریاں کیوں ماروں اس بارےمیں امام غزالی لکھتے ہیں کہ : یہ خیال خود شیطان کا پیدا کردہ ہے تو ان جمروں پر مار تاکہ شیطان کی کمر ٹوٹ جائے ۔ کیونکہ شیطان کی کمر  اسی وقت ٹوٹے گی جب تو اپنے رب کا فرمانبردار بندہ بن جائے گا۔ اپنے ذاتی تصرف اور عقلی بیان کو چھوڑ اور اللہ کے حضور سر جھکا اور  رمی جمار کر کے یہ سمجھ کہ تو نے واقعی شیطان کو مغلوب کر لیا ہے۔ اور کنکریاں مارنا شیطان اور شیطانی قوتوں سے اظہار نفرت ہے۔ بندہ  اعلان کرتا ہے کہ مولا جو بھی تیرے راستہ میں رکاوٹ بنے گا میں اس سے بیزار ہوں ہر اس قوت سے نبردآزما رہوں گا جو تیری نافرمانی کرے گی ۔ 
اس کے بعد حاجی قربانی کرتے ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بے مثال فرمانبرداری کی یادگار ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے :’’تو جب ان دونوں نے ہمارے حکم پر گردن رکھی اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹایا اس وقت کا حال نہ پوچھ ۔
اور ہم نے ندا فرمائی اے ابراہیم بیشک تو نے خواب سچ کر دکھایا ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو ۔ بیشک یہ روشن جانچ تھی ۔ اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے صدقہ میں دے کر اسے بچا لیا ‘‘۔( سورۃ الصفٰت )۔
حلق یا قصر : اس کے بعد حاجی اپنے سر منڈواتے ہیں اور عورتیں تھوڑے بال کٹواتی ہیں ۔حضور نبی کریم ﷺ نے سر منڈوانے والوں اور بال کٹوانے والوں کی لیے دعا فرمائی ۔ 
حج کے تمام افعال انسان کی روحانی تربیت کرتے ہیں ۔ احرام صبر سکھاتا ہے ، طواف محبت الہی پیدا کرتا ہے ، سعی جدو جہد کا درس دیتی ہے ، عرفات توبہ کی کیفیت پیدا کرتا ہے اور رمی جمار شیطان سے نفرت سکھاتی ہے اور قربانی ایثار کا جذبہ بیدار کرتی ہے ۔ حج انسان کے دل سے تکبر ، حسد ، نفرت اور دنیا پرستی کو ختم کرتی ہے ۔

منگل، 19 مئی، 2026

حج کے افعال (۳)

 

حج کے افعال (۳)

سعی صفا و مروہ :صفاو مروہ نوعیت کے اعتبار سے عام پہاڑیوں کی ہی طرح ہیں لیکن ان کی نسبت اللہ تعالی کے نیک بندوں سے ہوئی تو اللہ تعالی نے اسے اپنی نشانی قرار دیا ۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالی کے حکم سے حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہم السلام  کو خانہ کعبہ کے قریب ویرانے میں چھوڑ کر آئے اور ساتھ میں چند کھجوریں اور پانی تھا ۔ جب پانی ختم ہو گیا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو پیاس لگی ارد گرد دور تک کوئی بھی آبادی کے آثار موجود نہیں تھے ۔ حضرت ہاجرہ پانی کی تلاش میں کبھی صفا کی پہاڑی پر جاتیں اور کبھی مروہ کی پہاڑی پر۔جب حضرت اسماعیل ؑ سامنے ہوتے تو آہستہ چلتیں اور جب آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے تو تیز دوڑتیں۔ اللہ تعالی کو اپنی نیک بندی کی یہ ادا پسند آئی تو اسے حج کا رکن بنا دیا جب بھی حاجی حج کرنے آئے گا تو ان پہاڑیوں پرایسے ہی چکر لگائے گا جیسے حضرت ہاجرہ نے لگائے تھے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ’’ بیشک صفا اور مروہ اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو اس کے گھر کا حج یا عمرہ کرے گا اس پر کچھ گناہ نہیں کہ ان دونوں کے پھیرے کرے ‘‘ ۔ (سورۃ البقرۃ )۔
اسی دوران حضرت سماعیل علیہ السلام اپنی ایڑیوں کو رگڑ رہے تھے تو اللہ تعالی حضرت ہاجرہ کی پریشانی کو دور کرنے کے لیے آب زم زم کا چشمہ جاری فرما دیا ۔ 
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی حجۃ البالغہ میں لکھتے ہیں کہ اب اس نعمت کا شکر ادا کرنا ان کی اولاد اور ان کے تابعین پر لازم ہے ۔تا کہ اس آیت خارقہ کو یاد کر کے ان کی بہمیت ختم ہو اور اللہ تعالی تک پہنچنے کا راستہ حاصل ہو ۔ اور اس سے بہتر کوئی چیز نہیں کہ دل کو ان دونوں کے ساتھ کسی ایسے ظاہر فعل کے ساتھ لگا لے کہ جو ظاہر ہو اور قوم کی عادت مالوفہ کے خلاف ہو اور منضبط ہو ۔جس میں مکہ کے اندر پہلے داخلہ کے وقت خشوع ہو اور یہ مشقت اور جہد کی حکایت ہے ۔ اور اس قسم کے امور میں زبانی ذکر کرنے سے زیادہ مفید و موثر حال کا نقل کرنا ہے ۔ 
وقوف عرفات :نو ذوالحجہ کو میدان عرفات میں ٹھہرنا حج کا بنیادی اوررکن اعظم ہے ۔ دنیا کے کونے کونے سے آئے لاکھوں عازمین حج میدان عرفات میں جمع ہوتے ہیں اور خیمہ بستی قائم ہوتی ہے۔حاجی اللہ تعالی کے حضور گڑ گڑا کر دعائیں مانگتے ہیں اور بخشش و مغفرت طلب کرتے ہیں ۔جو یہاں قیام نہیں کرے گا اس کا حج نہیں ہو گا ۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے اراشاد فرمایا : حج عرفات ہی کا نام ہے ۔

پیر، 18 مئی، 2026

حج کے افعال (۲)

 

حج کے افعال (۲)

تلبیہ :احرام کے بعد آتی ہے تلبیہ جب بندہ سادہ لباس میں دنیاوی زیب و زینت کو چھوڑ دیتا ہے اور سادگی کے ساتھ اپنے رب کے حضور حاضر ہو کر بلند آواز سے تلبیہ کہتا ہے۔
’’لبیک اللھم لبیک لبیک لا شریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک ولملک لا شریک لک ‘‘۔
ترجمہ :حاضر ہو ں اے اللہ میں حاضر ہوں ، تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہو ں۔ بیشک سب تعریفیں تیرے لیے ہی ہیں سب نعمتیں تیری ہی ہیں۔اور ساری بادشاہی تیری ہی ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں‘‘۔ 
جب حاجی اللہ تعالی کی ربوبیت کا اعلان کرتے اور اس کی کبریائی کے گن گاتے ہوئے مکہ مکرمہ میں حاضر ہوتے ہیں، بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں۔نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا : طواف بیت اللہ بھی نماز ہی ہے صرف فرق یہ ہے کہ تم اس میں بول سکتے ہو  مگر نیک بات کے سوا اس حالت میں کچھ نہ کہو۔( ترمذی )۔
امام غزالی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں طواف اور سعی کی مثال ان بیچاروں کی سی ہے جو بادشاہوں کے دربار جا کر ادھر ادھر چکر کاٹتے ہیں تا کہ موقع پا کر اپنی عرضی پیش کر سکیں اور جلوت خانے میں کبھی آتے ہیں اور کبھی جاتے ہیں اور کسی ایسے شخص کی تلاش میں رہتے ہیں جو ان کی شفاعت کر سکے اور ساتھ ساتھ اس بات کے بھی امید وار ہوتے ہیں کہ شاید اتفاقیہ طور پر باد شاہ کی نظر ان پر پڑجائے اور وہ ان پر مہر بان ہو جائے۔( نسخہ کیمیا )۔
طواف کے پہلے تین چکرو ں میں حاجی رمل کرتے ہیں یعنی کندھے ہلا کر اکڑ کر چلتے ہیں۔ مسلمان جب ہجرت کے بعد مکہ مکرمہ عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے آئے تو اہل مکہ نے کہا کہ یثرب کے بخار نے مسلمانوں کو کمزور کر دیا ہے تو اس وجہ سے نبی کریمؐ نے رمل کا حکم دیا تا کہ دشمن پر رعب طاری ہو۔ اس کی ایک وجہ شاہ ولی حجۃ البالغہ میں لکھتے ہیں کہ عبادت الہی میں اشتیاق کی تصویر بتائی۔ اور یہ بتایا کہ دور دراز کے علاقوں سے سفر کرنے اور تھکان نے ان کے شوق و رغبت کو کم نہیں کیا بلکہ مزید بھڑکایا ہے۔ 
طواف کے دوران بندہ اللہ تعالی کے حضور گڑگڑا کر دعائیں مانگتا ہے اور حجر اسود کو بوسہ دیتا ہے۔ طواف کا ہر چکر حجر اسود کو بوسہ دے کر یا اس کی طرف ہاتھ سے اشارہ کر کے اسے بوسہ کر کے شروع کیا جاتا ہے۔ حضور نبی کریمؐ بھی ایساہی فرمایا کرتے تھے۔ 
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے جب سے حضور نبی کریمؐ کو رکن یمانی اور حجر اسود کو چومتے دیکھا ہے تب سے ہم نے رکن یمانی اور رکن اسود کو چومنا سہولت یا دشواری، کسی بھی حالت میں کبھی نہیں چھوڑا۔ (مشکوۃ)۔

اتوار، 17 مئی، 2026

حج کے افعال (۱)

 

حج کے افعال (۱)

دین اسلام میں حج کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ حج کے ہر فعل میں اللہ تعالی کی بندگی، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اطاعت ، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی اور حضرت ہاجرہ کا توکل علی اللہ نمایا ں نظر آتا ہے۔حج انسان کو ظاہری باطنی پاکیزگی عطا کرتاہے اور اسے رب کائنات کے قریب کر دیتا ہے۔ جب کوئی بندہ حج کی تیاری کرتا ہے تو اس کی کیفیت بدل جاتی ہے۔وہ روٹھے ہوئے کو مناتا ہے ،گناہوں سے توبہ کرتا ہے اور زندگی میں اگر کبھی کسی کے ساتھ زیادتی کی ہو تو اس سے معافی طلب کرتا ہے۔ 
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کیمیا سعادت میں لکھتے ہیں : بندے کو چاہیے کہ جیسے ہی وہ حج کا ارادہ کرے تو پہلے توبہ کرے اور ظلم و زیادتی سے باز آجائے اور اپنے اوپر تمام قرضے ادا کر دے۔ اپنے اہل خانہ یعنی بیوی بچے اور جس کا نان و نفقہ اس کے ذمہ ہوسب کے نان و نقفے کا انتظام کرے۔ سفر کے اخراجات حلال کمائی سے حاصل کرے اور ایسے مال سے احتیاط کرے جس پہ حرام کا شبہ ہو۔ کیو نکہ مشکوک کمائی سے کیا گیا حج قبول کیسے ہو گا ؟ اور سفر کے لیے خرچ اس قدر جمع ہو کہ راستے میں درویشوں کو بھی کچھ نہ کچھ دے سکے۔ رفیق سفر کسی نیک بندے کو بنائے جسے سفر کا تجربہ بھی ہو۔ دین کی راہ اور دیگر مصلحتوں کو خوب سمجھے اور دوستوں سے الوداع  کہے اور ان سے دعائے خیر کی درخواست کرے۔ 
احرام: حج کے افعال میں سب سے پہلے احرام آتا ہے۔جب بندہ حج کے لیے روانہ ہوتا ہے تو مکہ مکرمہ کے کے ارد گرد شریعت نے کچھ مقامات مخصوص کیے ہیں جہاں حاجی اپنا لباس اتار کر احرام باندھتے ہیں۔ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں حج میں احرام کی وہی  حیثیت ہے جو نماز میں تکبیر تحریمہ کی۔ جیسے تکبیر کہنے سے انسان پہ بہت سی حلال چیزیں حرام ہو جاتی ہیں ایسے ہی احرام باندھ لینے سے  بہت سی حلال چیزیں حرام ہو جاتی ہیں اور انسان اپنی نفسانی خواہشات کو ترک کر دیتا ہے۔جیسا کہ وہ شکار نہیں کر سکتا ، خوشبو نہیں لگا سکتا اور مقاربت وغیرہ نہیں کر سکتا۔ 
حج کے لیے بادشاہ بھی جاتے ہیں اور غلام بھی ،امیر بھی جاتے ہیں اور غریب بھی لیکن اس موقع پر سب برابر ہوتے ہیں سب نے ایک جیسا لباس پہنا ہوتا ہے۔کیونکہ اللہ کے نزدیک برتری کا معیار صرف اور صرف تقوی ہے۔ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ سلے ہو ئے اور اس کے مشابہ کپڑے اور غیر سلے کپڑے کے درمیا ن فرق یہ ہے کہ پہلا لباس ارتفاق اور جمال و زینت ہے اور صرف پردہ پوشی۔پہلے کو ترک کرنا اللہ کے سامنے تواضع اور دوسرے کو ترک کرنا بے ادبی ہے۔ (حجۃ البالغہ)۔

ہفتہ، 16 مئی، 2026

حج کی معنویت(۳)

 

حج کی معنویت(۳)

حج میں مساوات انسانی کا عملی مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے ۔تمام انسان حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں لیکن ہم مختلف طبقات میں تقسیم ہو چکے ہیں ۔ اسلام میں رنگ و نسل ، امیر وغریب اور بادشاہ و غلا م کا کوئی تصور نہیں اسلام میں افضلیت کا معیار صرف اور صرف تقوی ہے ۔ حج کے موقع پر پوری دنیا کے مختلف خطوں ، رنگ ونسل، زبانوں کے لوگ جمع ہوتے ہیں کوئی کالا یا پھر گورا ، قوی ہے یا کمزور ، فقیر ہے یا بادشاہ سب کے سب تما م تر اختلاف بھلا کر صرف ایک ہی صدا بلند کرتے ہیں ۔ 
قریش کے کچھ افراد میدان عرفات میں وقوف کرنا اپنی عزت کے خلاف سمجھتے تھے اور وہ مزدلفہ میں ٹھہر جاتے تھے اور کہتے تھے ہم تو اللہ اور اس کے حرم کے باشندے ہیں اسی وجہ سے ہم عام لوگوں کے ساتھ نہیں ٹھہر سکتے ۔ تو اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا :’’ پھر تم بھی وہیں سے واپس آؤ جہاں سے لوگ واپس آئیں اور اللہ سے بخشش مانگو بیشک بہت زیادہ بخشنے والا اور ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے‘‘۔ (سورۃ البقرہ)۔
حج کے موقع پر تما م تر امتیازات مٹ جاتے ہیں ۔کلمہ توحید نے سب کو ایک لڑی میں پرو دیا ہے ۔یہ سب ایک ہی در کے گدا ہیں اور ایک ہی شمع کے پروانے ہیں۔ یہی مساوات انسانی حج کا ایک عظیم پیغام ہے ۔ حج کے موقع پر کھلے آسمان میں رات گزارنا انسان کو سادگی ، صبر اور قناعت کی تعلیم دیتا ہے۔ جبکہ رمی جمار کا عمل اس حقیقت کی علامت ہے کہ مسلمان کو ہر دور میں شیطان اور اس کے ہتھکنڈوں کے خلاف جدو جہد کرنی ہے ۔ 
حقیقت یہ ہے کہ حج ایک ایسی جامع عبادت ہے جس میں نماز کی روح ، روزے کا صبر ، زکوۃ کی قربانی اور جہاد کی مشقت سب جمع ہو جاتے ہیں۔ یہ بندے کو دنیا کی محبت سے نکال کر اللہ تعالی کی محبت میں داخل کر دیتا ہے ۔ اگر مسلمان حج کے اسرار و حکمت کو سمجھ لے تو اس کی پوری زندگی عبادت بن سکتی ہے ۔ 
ضرورت اس امر کی ہے ہم حج کو صرف رسمی عبادت نہ سمجھیں بلکہ اس کے باطنی پیغام کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں ۔ اگر حج کے بعد بھی انسان کے اخلاق ، معاملات اور کردار میں تبدیلی نہ آئے تو وہ حج کی اصل روح سے محروم رہتا ہے ۔ کامیاب حج وہی ہے جو انسان کو اللہ کا سچا بندہ اور انسانیت کا خیر خواہ بنا دے ۔ 
اللہ تعالی ہمیں حج کے ظاہری اعمال کے ساتھ اس کے باطنی اسرار کو سمجھنے اور اپنی زندگیوں کو تقوی ، محبت الہی اور اطاعت رسول ﷺ سے مزین کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین۔

فضائل مکہ مکرمہ

  فضائل مکہ مکرمہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے : ”بے شک پہلا گھر جو لوگوں کے لیے بنایا گیا وہ ہی ہےجو مکہ مکرمہ میں ہے بڑا برکت والا ا...