ہفتہ، 30 مئی، 2026

حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام (۲)

 

حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام (۲)

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کا ایک ایمان افروز واقع اور آزمائش یہ بھی ہے کہ جب آپ حضرت ہاجرہ ؑ اور اپنے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ کو بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ کر آئے جہاں نہ پانی تھا اور نہ ہی کھانا ۔جب آپؑ دونوں کو چھوڑ کر واپس  جانے لگے توحضرت ہاجرہ نے پوچھا ہمیں کس کے سہارے چھوڑے جا رہے ہو۔ آپؑ نے فرمایا اللہ کے ۔حضرت ہاجرہ نے پوچھا کیا یہ اللہ کا حکم ہے تو حضرت ابراہیم ؑ نے  ہاں میں جواب دیا  اس پرحضرت ہاجرہ نے کہا کہ اللہ تعالی ہمیں ضائع نہیں کرے گا ۔ حضرت ابراہیم اللہ تعالی کی طرف سے اس امتحان میں بھی کامیاب ہوئے ۔ 
آپ ؑ کی بڑی آزمائش حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی تھی ۔بڑھاپے میں اولاد عطا ہونا بہت بڑی نعمت تھی مگر اللہ تعالی نے پیارے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا ۔ ارشاد باری تعالی ہے : الہی مجھے لائق اولاد دے ۔ تو ہم نے اسے خوش خبری سنائی ایک عقل مند بیٹے کی ۔ پھر جب وہ اس کے ساتھ کام کے قابل ہو گیا کہا اے میرے بیٹے میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تجھے ذبح کرتا ہوں اب تو دیکھ تیری کیا رائے ہے۔ کہا اے میرے باپ کیجیے جس بات کا آپ کو حکم ہوتا ہے۔ خدا نے چاہا تو قریب ہے کہ آپ مجھے صابر پائیں گے ۔ (الصفٰت)۔
یہ فیضان نظر تھایا کہ مکتب کی کرامت تھی سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی۔یہ باپ اور بیٹے کی عظیم اطاعت اور ایمان کی مثال ہے جب حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے بیٹے کو قربان کرنے کے لیے پیشانی کے بل لٹایا تو اللہ تعالی نے حضرت اسماعیل کی جگہ دنبہ بھیج دیا اور آپ کی قربانی قبول فرمالی ۔ارشاد باری تعالی ہے :اور ہم نے اسے ندا فرمائی کہ اے ابراہیم بیشک تونے خواب سچ کردکھایا، ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو۔ بیشک یہ روشن جانچ  تھی۔اور ہم نے ایک بڑ اذبیحہ اس کے صدقہ میں دے کر اسے بچا لیا ۔(الصفٰت)۔
حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی تو اللہ تعالی کے حضور عرض کی یا اللہ اپنے پاک گھر کو آباد کرنے والا بھیج دے ۔اللہ تعالی نے آپ کی دعا کو قبول فرمایا اور نبی آخرالزمان نبی کریم ﷺ کو آپ کی اولاد میں  مبعوث فرمایا ۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پوری زندگی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ سچا ایمان صرف دعوؤں کا نام نہیں بلکہ عمل ، قربانی اور استقامت کا تقاضا کرتا ہے ۔ آپؑ نے ہر آزمائش میں االلہ تعالی پر بھروسہ کیا اور ہر امتحان میں کامیاب ہوئے ۔

جمعہ، 29 مئی، 2026

حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام (۱)


 

حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام (۱)

جدالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے عظیم المرتبت نبی ہیں۔ آپؑ کی ساری زندگی ایمان ، قربانی ، صبر ، توحید اور اطاعت الٰہی کا ایسا نمونہ ہے جس کی مثال تاریخ انسانیت میں نہیں ملتی۔آپ علیہ السلام کی ساری زندگی آزمائشوں سے بھری ہوئی تھی مگر ہر امتحان میں آپ علیہ السلام کامیاب ہو ئے اور خلیل اللہ کہلائے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : اور جب ابراہیم کو اس کے رب نے کچھ باتوں سے آزمایا تو اس نے وہ پوری کر دکھائیں فرمایا میں تمہیں لوگوں کاپیشوا بنانے والا ہوں۔( سورۃ البقرۃ )۔
اس آیت مبارکہ سے واضح ہو جاتا ہے کہ امامت اور عظمت کا مقام آسانیوں سے نہیں بلکہ مسلسل قربانیوں اور آزمائشوں سے حاصل ہوتا ہے۔آپ علیہ السلام کی زندگی کا ہر باب انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے ہر قربانی معمولی ہے۔ 
حضرت ابراہیمؑ ایسے ماحول میں پیدا ہوئے جہاں شرک ، بت پرستی اور گمراہی عام تھی۔ یہاں تک کہ آپ کے گھر میں بھی بت تراشے جاتے تھے۔قوم پتھروں کے بنائے ہوئے بتوں کو سجدہ کرتے اور ان سے مرادیں مانگتی تھی۔ آپ علیہ السلام نے قوم سے کہا کہ یہ چاند ،سورج ، ستارے جو فنا ہوجاتے ہیں اور بت جو کچھ بول نہیں سکتے یہ کبھی حقیقی معبود نہیں ہو سکتے۔حقیقی معبود اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو ہمیشہ قائم رہنے والی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : 
جب اپنے باپ سے بولا اے میرے باپ کیوں ایسے کو پوجتا ہے جو نہ سن سکتا ہے اور نہ دیکھ سکتا اور نہ کچھ تیرے کام آئے۔ ( سورۃ مریم)۔
دعوت حق اور وہ بھی اپنے گھر سے پہلی بڑی آزمائش تھی کیونکہ خاندان ، معاشرے اور پوری قوم کے خلاف کھڑے ہونا انتہائی مشکل ہوتا  ہے مگر آپؑ نے ہر مشکل کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے برداشت کیا۔
جب قوم بت پرستی سے باز نہ آئی تو آپؑ نے ایک میلے کے موقع پر جب سارے وہاں جمع تھے بت خانے میں جا کر سارے بت توڑ دیے اور کلہاڑا بڑے بت کے اوپر رکھ دیا۔ جب قوم واپس آئی تو بتوں کی یہ حالت دیکھ کر بہت غصے میں آگئے اور آپؑ سے پوچھا یہ کام کس نے کیا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا : ان کے اس بڑے نے کیا ہو گا تو ان سے پوچھو اگر بولتے ہوں۔ ( سورۃالانبیاء )۔
قوم نے آپ علیہ السلام سے بدلہ لینے کا فیصلہ کیا اور ایک بہت بڑی آگ جلائی۔آگ کی شدت کا یہ عالم تھا کہ کوئی بھی اس کے قریب نہیں جا سکتا تھا۔آپؑ کو منجنیق کے ذریعے آگ میں پھینکا گیا تو للہ تعالیٰ نے آگ کو حکم فرمایا :’’ہم نے فرمایا اے آگ ہو جا ٹھنڈی اور سلامتی والی ابراہیم پر‘‘(سورہ الانبیاء )۔

اتوار، 24 مئی، 2026

خطبہ حجۃ الوداع انسانیت کے لیے ابدی منشور(۱)

 

خطبہ حجۃ الوداع انسانیت کے لیے ابدی منشور(۱)

ہفتہ، 23 مئی، 2026

فضائل مدینہ منورہ (2)

 


فضائل مدینہ منورہ (2)

ارشاد باری تعالیٰ ہے : اپنی جانوں پر ظلم کرنے والو نبی کریمﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو جائو پھر اللہ پاک سے معافی مانگو اور رسول پاکﷺ تمہاری شفارش کر دیں تو تم اللہ پاک کو توبہ قبول فرمانے والا اور رحم فرمانے والا پائو گے۔گویا گنہگاروں کے لیے بخشش اور نجات کا ذریعہ و وسیلہ نبی پاک کی بار گاہ میں حاضری ہے جہاں دن رات رحمتوں کی برسات ہوتی ہے۔ پریشان حال ، دکھی اور غم کے ماروں کیلئے اطمینان اور سکون و راحت کا مقام۔ مسجد نبوی شریف میں حدیث درج ہے کہ میری شفاعت بڑے گنہگاروں کے لیے بھی ہے۔ 
آپ کی بارگاہ میں سلام پیش کرنا ہر مسلمان کی شدید خواہش ہوتی ہے۔ جہاں جہاں آپ کے قدم مبارک لگے اللہ پاک نے جنت کے باغوں میں سے باغ بنا دیا جسے ریاض الجنہ کہتے ہیں۔ جہاں نفل ادا کر نا بہت بڑی سعادت ہے۔ اس مقام کے ساتھ اصحاب صفہ کا چبوترا ہے جہاں رسول پاک کے غلام علم وحکمت اور عرفان کی منزلیں حاصل کرتے تھے۔ 
اس حجرہ مقدس کے اندر محبوب خدا کے ساتھ حضرت ابو بکر صدیق اور حجرت عمر فاروق رضوان اللہ علیھم اجمعین آرام فرما ہیں۔ اس کے ساتھ قدمین شریفین کی طرف عشاقان رسول اپنی حاضری کو بڑا اعزاز سمجھتے ہیں۔ 
مسجد نبوی میں ایک کھجور کا خشک تنا تھا جس کے ساتھ ٹیک لگا کر نبی کریمﷺ خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ جب صحابہ کرم نے ممبر بنوایا تو یہ کجھو ر کا تنا نبی پاک کی جدائی اور غم میں رویا تو نبی پاک نے اس کو اپنے قلددہ میں لے کر تسلی دی۔مسجد نبوی کے ایک طرف کچھ فاصلے پر جنت البقیع ہے جہاں حضرت بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہا اور حضرت عثمان غنی ، صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار کے مزارات ہیں۔ احد پہاڑ : نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ احد پہاڑ مجھ سے محبت کرتا ہے اور میں اس سے محبت کرتا ہو ں۔ احد پہاڑ پر نبی اکرمﷺ کے پیارے چچا حضرت حمزہ اور شہدائے احد کے مزرات ہیں۔ مسجد قبا : مسجد قبا مدینہ منورہ میں ہے جس میں دو رکعت نماز پڑھنے سے عمرہ کا ثواب ملتاہے۔ مسجد قبلتین: جہاں اللہ کریم نے اپنے محبوب ﷺ کو اپنا رخ بیت المقدس سے کعبۃ اللہ کی طرف پھیرنے کا حکم فرمایا۔
گویا قدم قدم پر برکت اور سعادت کے نشان موجود ہیں۔ عشاقان رسول بڑے احترام و عقیدت سے حاضری کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔


جمعہ، 22 مئی، 2026

فضائل مکہ مکرمہ

 

فضائل مکہ مکرمہ

جمعرات، 21 مئی، 2026

فضائل مدینہ منورہ (1)

 

فضائل مدینہ منورہ (1)

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کا حصہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا  منبر میرے حوض پر ہے ـ‘‘۔
’’حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے حضور ﷺ نے فرمایا : حضرت ابراھیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا تھا اور میں دونوں کالے پتھروں والے میدانوں کے درمیان مدینہ منورہ کو حرم قرار دیتا ہوں۔ نہ وہاں کوئی درخت اور جھاڑی کاٹی جائے اور نہ ہی وہاں کوئی جانور شکار کیا جائے ‘‘۔
’’حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ  نے فرمایا : جو شخص اہل مدینہ کو تکلیف دینا چاہے گا تو اللہ تعالی دوزخ میں اسے اس  طرح پگھلائے گا جس طرح آگ میں سیسہ پگھلتا ہے ‘‘۔
’’حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے دعا فرمائی : اے اللہ ! مدینہ منورہ میں اس سے دوگنا برکت عطا فرما جتنی تو نے مکہ مکرمہ میں رکھی ہے ‘‘۔
’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جو شخص مدینہ منورہ کی سختیوں اور مصیبتوں پر صبر کرے گا قیامت کے دن میں اس کا گواہ ہوں گا یا اس کی شفاعت کروں گا ‘‘۔ 
’’حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : جو مدینہ میں مر سکے تو اسے چاہیے کہ اس میں مرے کیو نکہ میں اس کی شفاعت کرو ں گا جو  یہاں مرے گا ‘‘۔ 
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ ساری عمر یہ دعا کرتے رہے اے اللہ مجھے اپنی راہ میں شہادت کی موت دے اور رسول اللہ ﷺ کے شہر میں مرنا نصیب فرما۔  صحابہ کرام رضوا ن اللہ علھیم اجمعین حیرا ن تھے کہ جہا دتو میدانوں میں ہوتے ہیں اور آپ شہادت کی موت کی التجا کر رہے ہیں اور وہ بھی مدینہ میں ۔ لیکن اللہ پاک نے ان کی دعا قبول فرمائی اور مسجد نبوی میں مصلہ رسول پر ان کو ایک مجوسی نے شہید کر دیا ۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے ساری زندگی مدینہ شریف میں گزاری۔ بس ایک فرض حج کے لیے  مکہ مکرمہ تشریف لے گئے ۔ آپ دو گھونٹ پانی پیتے اور معمولی کھانا کھاتے تا کہ رفع حاجت کے لیے کم از کم مدینہ منورہ سے باہر جانا پڑے اور مدینہ منورہ سے باہر موت نہ آئے ۔ مدینہ منورہ کی گلیوں میں جوتا اتار کر دیواروں کے ساتھ چلتے تا کہ کسی ایسی جگہ پاؤ ں نہ آ جائے جہاں  آپ ﷺ کے قدم مبارک لگے ہیں ۔  
  میں گنبد خضرا کی طرف دیکھ رہا ہوں 
                                                کوثر میرے نزدیک یہ میری معراج نظر ہے

بدھ، 20 مئی، 2026

حج کے افعال (4)

 

حج کے افعال (4)

رمی جماز: میدان منی میں تین جمرے ہیں جن کو کنکریاں ماری جاتی ہیں یہ اللہ تعالی کا حکم اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ۔ 
حدیث شریف میں ہےکہ : بیت اللہ کا طواف ، سعی صفا و مروہ اور رمی جمار ذکر الہی کو قائم کرنے کے لیے ہیں ۔ ( مشکوۃ )۔
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالی کے حکم سے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے لگے تو شیطان آپ ؑ کے دل میں وسوسے ڈال کر اللہ تعالی کے حکم سے پھیرنا چاہتا تھا ۔ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے شیطان کو کنکریاں مار کر بھگایا ۔ اللہ تعالی کو آپ کی یہ ادا پسند آئی اور اسے حج کا رکن بنا دیا ۔ 
اب دل میں اگر یہ خیال آئے کہ ان کے سامنے تو شیطان تھا ہمارے سامنے تو شیطان نہیں ہے تو میں کنکریاں کیوں ماروں اس بارےمیں امام غزالی لکھتے ہیں کہ : یہ خیال خود شیطان کا پیدا کردہ ہے تو ان جمروں پر مار تاکہ شیطان کی کمر ٹوٹ جائے ۔ کیونکہ شیطان کی کمر  اسی وقت ٹوٹے گی جب تو اپنے رب کا فرمانبردار بندہ بن جائے گا۔ اپنے ذاتی تصرف اور عقلی بیان کو چھوڑ اور اللہ کے حضور سر جھکا اور  رمی جمار کر کے یہ سمجھ کہ تو نے واقعی شیطان کو مغلوب کر لیا ہے۔ اور کنکریاں مارنا شیطان اور شیطانی قوتوں سے اظہار نفرت ہے۔ بندہ  اعلان کرتا ہے کہ مولا جو بھی تیرے راستہ میں رکاوٹ بنے گا میں اس سے بیزار ہوں ہر اس قوت سے نبردآزما رہوں گا جو تیری نافرمانی کرے گی ۔ 
اس کے بعد حاجی قربانی کرتے ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بے مثال فرمانبرداری کی یادگار ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے :’’تو جب ان دونوں نے ہمارے حکم پر گردن رکھی اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹایا اس وقت کا حال نہ پوچھ ۔
اور ہم نے ندا فرمائی اے ابراہیم بیشک تو نے خواب سچ کر دکھایا ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو ۔ بیشک یہ روشن جانچ تھی ۔ اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے صدقہ میں دے کر اسے بچا لیا ‘‘۔( سورۃ الصفٰت )۔
حلق یا قصر : اس کے بعد حاجی اپنے سر منڈواتے ہیں اور عورتیں تھوڑے بال کٹواتی ہیں ۔حضور نبی کریم ﷺ نے سر منڈوانے والوں اور بال کٹوانے والوں کی لیے دعا فرمائی ۔ 
حج کے تمام افعال انسان کی روحانی تربیت کرتے ہیں ۔ احرام صبر سکھاتا ہے ، طواف محبت الہی پیدا کرتا ہے ، سعی جدو جہد کا درس دیتی ہے ، عرفات توبہ کی کیفیت پیدا کرتا ہے اور رمی جمار شیطان سے نفرت سکھاتی ہے اور قربانی ایثار کا جذبہ بیدار کرتی ہے ۔ حج انسان کے دل سے تکبر ، حسد ، نفرت اور دنیا پرستی کو ختم کرتی ہے ۔

حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام (۲)

  حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام (۲) حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کا ایک ایمان افروز واقع اور آزمائش یہ بھی ہے کہ جب آپ حضرت ہاجر...