جمعہ، 19 اپریل، 2024

Surah Al-Isra (سورة الإسرَاء) Ayat 54.کیا ہم جنت بغیر کسی نیت اور عمل ...

زبان کی آفات

 

زبان کی آفات

ارشاد باری تعالی ہے : جب لے لیتے ہیں دو لینے والے ۔ ایک دائیں جانب اور ایک بائیں جانب بیٹھا ہوتا ہے وہ اپنی زبان سے کوئی بات نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان تیار ہوتا ہے ۔ ( سورة ق) 
حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : نیکیاں لکھنے والا فرشتہ انسان کی دائیں جانب اور برائیاں لکھنے والا بائیں جانب ہوتا ہے ۔اور نیکیاں لکھنے والا برائیاں لکھنے والے پر ذمہ دار ہوتا ہے ۔ پس جب وہ نیکی کرے تو دائیں سمت والا دس نیکیاں لکھ لیتا ہے اور اگر ایک برائی کرے تو دائیں طرف والا بائیں طرف والے سے کہتا ہے کہ اسے سات گھڑیاں چھوڑ ے رہو شاید کہ استغفار کر لے ۔ 
ارشاد باری تعالی ہے : ایک دوسرے کی غیبت نہ کیا کرو ۔ کیا تم میں سے کوئی شخص پسند کرتا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے ۔ تم اسے مکروہ سمجھتے ہو ۔ اور اللہ تعالی سے ڈرو ۔ بیشک اللہ تعالی بہت توبہ قبول کرنے والا رحم فرمانے والا ہے ۔(سورة الحجرات )
حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ میں نے آپ ﷺ سے عرض کی یارسول اللہ ﷺ مجھے اس عمل کی خبر دیں جو مجھے جنت میں داخل کرے اور جہنم سے آزاد کر دے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : تو اللہ تعالی کی عبادت کر اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا ۔ نمازقائم کرے ، زکوة ادا کرتا رہے اور رمضان کے روزے رکھے ۔ پھر فرمایا میں تجھے خیر کے ابواب پر دلالت نہ کروں ۔ روزہ ڈھال ہے ۔صدقہ خطا کو یوں مٹا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے ۔ اور آدمی کی نماز رات کے دوران ۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی :
ترجمہ: ان کے پہلوخواب گاہوں سے دور رہتے ہیں ۔ اپنے رب کو پکارتے ہیں ڈرتے ہوئے اور امید کرتے ہوئے اور ہم نے انہیں جو رزق دیا اس سے خرچ کرتے ہیں ۔پس کوئی شخص نہیں جانتا اس آنکھوں کی ٹھنڈک کو جو ان سے چھپا رکھی گئی ہے ۔ یہ صلہ ہے ان اعمال کا جو وہ کرتے ہیں ۔( سورة السجدہ ) 
اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا : کیا میں تجھے امر دین کے سر اور اس کے ستون اور اس کی رفعت کی خبر نہ دوں ؟ فرمایا وہ جہاد ہے ۔ پھر فرمایا کہ کیا میں تجھے اس سب کی اصل کی خبر نہ دوں ؟ میں نے عرض کی جی ضرور یارسو ل اللہ ﷺ پس آپ ﷺ نے اپنی زبان مبارک کو پکڑا فرمایا اسے قابو میں رکھ ۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ اور کیا ہمیں اس پر مواخذہ ہو گا جو ہم کلام کرتے ہیں۔لوگوں کو جہنم میں چہروں کے بل یا ان کے نتھوں کے بل نہیں گرائیں گی مگر ان کی زبانوں کی درانتیاں ۔(ترمذی) 

جمعرات، 18 اپریل، 2024

Surah Al-Isra (سورة الإسرَاء) Ayat 52 Part-2.کیا ہم اپنی زندگی خوف خدا ...

Surah Al-Isra (سورة بنیٓ اسرآئیل / الإسرَاء) Ayat 52 Part-01. کیا ہم نے...

فضائل قرآن مجید

 

   فضائل قرآن مجید

ارشاد باری تعالی ہے : بیشک جو اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور اس مال سے خرچ کرتے ہیں جو ہم نے ان کو دیا رازداری سے اور اعلانیہ وہ ایسی تجارت کے امید وار ہیں جو ہرگز نقصان والی نہیں۔ (سورۃ فاطر) 
سورۃ فاطر میں اللہ تعالیٰ مزید ارشاد فرماتا ہے : پھر ہم نے اس کتاب کا ان کو وارث بنایا جنہیں ہم نے چن لیا تھا اپنے بندوں سے۔ پس ان میں سے بعض اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض درمیانہ رو ہیں اور بعض نیکیوں میں سبقت لے جانے والے ہیں اللہ کی توفیق سے۔ یہی بڑا فضل ہے۔ 
رحمت دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ اس کتاب کی وجہ سے کئی قوموں کو رفعت بخشے گا اور کئی کو پست کرے گا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : قرآن مجید کی تلاوت کرو۔ بیشک یہ قیامت کے دن اپنے ساتھیوں کی شفاعت کرنے والا ہو گا۔ ( مسلم شریف) 
بخاری اور مسلم شریف کی روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کہ حسد نہیں ہے مگر دو آدمیوں کے متعلق۔ایک تو وہ جسے اللہ تعالی نے قرآن عطا فرمایا پس وہ اس کے ساتھ رات کے حصوں میں اور دن کی طرفوں میں قیام کرتا ہے اور ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا ہے تو وہ اسے رات دن اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔ (بخاری و مسلم)
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس مسلمان کی مثال جو قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے نارنگی جیسی ہے جس کی مہک بھی اچھی اور ذائقہ بھی اچھا۔ اس مسلمان کی مثال جو قرآن مجید کی تلاوت نہیں کرتا کھجور جیسی ہے اس کی مہک تو نہیں ہے مگر ذائقہ شیریں ہے۔ اس منافق کی مثال جو قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے پودینہ جیسی ہے اس کی مہک اچھی ہے لیکن ذائقہ کڑوا ہے اور اس منافق کی مثال جو قرآن مجید کی تلاوت نہیں کرتا ہے اس کی مثال تمے جیسی ہے جس کی کوئی مہک نہیں اور ذائقہ نہایت کڑواہے ( بخاری و مسلم شریف ) 
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : قرآن مجید ہر شے سے افضل ہے جس نے قرآن مجید کی تعظیم کی اس نے اللہ تعالیٰ کی تعظیم کی اور جس نے قرآن مجید کو تحقیر جانا اس نے اللہ تعالیٰ کے حق کو حقیر جانا۔ حافظ قرآن ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت کی آغوش میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کلام کی تعظیم کرنے والے ، اللہ تعالیٰ کے نور سے آراستہ ہیں جس نے انہیں دوست رکھا اس نے اللہ تعالیٰ کو دوست رکھا اور جس نے ان سے عداوت کی اس نے اللہ تعالیٰ کے حق کو حقیر جانا۔