مؤذنِ رسول ﷺ(۲)
حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ جب حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی یہ حالت دیکھتے تو ان سے برداشت نہ ہوتا ۔ایک دن سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ امیہ بن خلف کے پاس گئے اور کہا تم اس پر اتنا ظلم و ستم کیوں کرتے ہو ۔اس نے جواب دیا اگر آپ ؓ اس پر اتنے ہی مہربان ہو تو اسے خرید کیوں نہیں لیتے ۔ سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ نے اپنا ایک غلام فسطاس جس کی قیمت اہل مکہ کے نزدیک بہت زیادہ تھی اور چالیس اوقیہ چاندی دے کر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کوآزاد کروایا ۔
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی کریمﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا اے بلال تم ایسا کون سا عمل کرتے ہو کہ میں نے جنت میں اپنے قدموں کے آگے تمہارے قدموں کی آواز سنی ہے ۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ میں وضو کر نے کے بعد دو رکعت نوافل ادا کرتا ہوں اور جب وضو نہ رہے تو فوراً وضو کرلیتا ہوں ۔ نبی کریم ﷺ نے فرما یا یہی وجہ ہے ۔ (ترمذی)۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن حضرت بلال رضی اللہ عنہ جس اونٹ پر سوار ہوں گے اس کا کجاوہ سونے اور یاقوت کا ہوگا، ان کے پاس ایک جھنڈا ہوگا تمام مؤذنین اس جھنڈے کے پیچھے پیچھے ہو ں گے حتی کہ انہیں جنت میں داخل کر دے گا یہاں تک کہ وہ بھی جنت میں داخل ہو جائے گا جس نے اللہ تعالی کی رضا کے لیے چالیس دن تک آذانیں دیں ۔ ( ابن عساکر )۔
حضرت سیدنا بلال حبشی رضی اللہ عنہ بے شمار اوصاف کے مالک ہیں لیکن حضور نبی رحمت ﷺ سے آپ رضی اللہ عنہ کا عشق بے مثل و بے مثال ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی محبت میں اس قدر گم رہتے کہ دنیا کی کسی چیز سے کوئی غرض نہیں تھا۔ حضور نبی رحمت ﷺ نے جب وصال فرمایا تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ شام تشریف لے گئے ۔ ایک رات خواب میں حضورنبی کریم ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا بلا ل کیا ابھی وہ وقت نہیں آیاکہ تم میری زیارت کے لیے مدینہ تشریف لاؤ ۔حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے جب یہ خواب دیکھا تو فوراً اٹھے سواری پر سوار ہوئے اور مدینہ منورہ کے سفر پر نکل پڑے ۔ مدینہ منورہ میں پہنچ کر نبی کریم ﷺ کے روضہ اقدس پرحاضری دی اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔ اورحضور نبی کریم ﷺ کی جدائی کی وجہ سے بے ہوش ہو گئے ۔
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی کریمﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا اے بلال تم ایسا کون سا عمل کرتے ہو کہ میں نے جنت میں اپنے قدموں کے آگے تمہارے قدموں کی آواز سنی ہے ۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ میں وضو کر نے کے بعد دو رکعت نوافل ادا کرتا ہوں اور جب وضو نہ رہے تو فوراً وضو کرلیتا ہوں ۔ نبی کریم ﷺ نے فرما یا یہی وجہ ہے ۔ (ترمذی)۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن حضرت بلال رضی اللہ عنہ جس اونٹ پر سوار ہوں گے اس کا کجاوہ سونے اور یاقوت کا ہوگا، ان کے پاس ایک جھنڈا ہوگا تمام مؤذنین اس جھنڈے کے پیچھے پیچھے ہو ں گے حتی کہ انہیں جنت میں داخل کر دے گا یہاں تک کہ وہ بھی جنت میں داخل ہو جائے گا جس نے اللہ تعالی کی رضا کے لیے چالیس دن تک آذانیں دیں ۔ ( ابن عساکر )۔
حضرت سیدنا بلال حبشی رضی اللہ عنہ بے شمار اوصاف کے مالک ہیں لیکن حضور نبی رحمت ﷺ سے آپ رضی اللہ عنہ کا عشق بے مثل و بے مثال ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی محبت میں اس قدر گم رہتے کہ دنیا کی کسی چیز سے کوئی غرض نہیں تھا۔ حضور نبی رحمت ﷺ نے جب وصال فرمایا تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ شام تشریف لے گئے ۔ ایک رات خواب میں حضورنبی کریم ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا بلا ل کیا ابھی وہ وقت نہیں آیاکہ تم میری زیارت کے لیے مدینہ تشریف لاؤ ۔حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے جب یہ خواب دیکھا تو فوراً اٹھے سواری پر سوار ہوئے اور مدینہ منورہ کے سفر پر نکل پڑے ۔ مدینہ منورہ میں پہنچ کر نبی کریم ﷺ کے روضہ اقدس پرحاضری دی اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔ اورحضور نبی کریم ﷺ کی جدائی کی وجہ سے بے ہوش ہو گئے ۔






