دین فطرت(۲)
دین اسلام میں ہمارے لیے مکمل ضابطہ حیات موجود ہے۔ مسائل معاشی ہوں یا پھر معاشرتی دین اسلام سے ہمیں ہر طرح کی رہنمائی ملتی ہے۔
حقوق العباد: بندوں کے حقوق یعنی وہ حقوق جو انسانوں کے انسانوں پر ہوتے ہیں حقوق العباد کہلاتے ہیں۔قرآن و حدیث میں ان حقوق کی ادائیگی پربہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺکی سیرت طیبہ میں حقوق العباد کی ادائیگی کی اہمیت اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے۔ ان میں شوہر،بیوی ، بچوں ، والدین ، عزیزواقارب، استاد ، شاگرد ، ملازم اور پڑوسیوں کے حقوق شامل ہیں۔ اسلام ہی نے خواتین کو ان کے جائز حقوق دے کرمعاشرے میں احترام کا مقام دیا۔ حالت جنگ میں بوڑھوں ، بچوں ، عورتوں اور بیمار وں کو قتل کرنے سے سختی سےمنع کیا گیا۔
غلامی کا خاتمہ : ظہور اسلام سے پہلے غلامی کا دور چلا آ رہا تھا۔ غلاموں پر بہت زیادہ ظلم و ستم کیے جاتے تھے۔ان سے ان کی طاقت سے بڑ ھ کام لیا جاتا تھا۔ اسلام نے غلاموں کو بھی مساوی حقو ق دیے۔ انسان کو انسان کی غلامی سے نجات دلائی۔اسلام میں آقا اور غلام میں کوئی فرق نہیں ہے۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو خود کھاتے ہو غلاموں کو بھی کھلائو اور جو خود پہنتے ہو غلاموں کو بھی پہنائو۔ قرآن میں ظہار اور کفارہ میں غلام آزاد کرنے کا حکم دیا گیا۔
زکوٰۃ کا نظام : بڑے بڑے ماہرین اقتصادیات اسلامی نظامی زکوۃ کو دنیا کا بہترین نظام مالیات مانتے ہیں۔ سال بھر جمع شدہ رقم پر اس کا اڑھائی فیصد بطور زکوۃ ادا کرنا فرض ہے۔ اگر آج بھی دیانتداری کے ساتھ صاحب نصاب زکوۃ ادا کرنا شروع کر دیں تو کوئی غریب نظر نہیں آئے۔ حضرت عمر بن عبد العزیز کے دور خلافت میں کوئی بھی زکوۃ لینے والا نہیں رہ گیا تھا زکوۃ کی صحیح تقسیم کی وجہ سے سب صاحب نصاب ہو گئے تھے۔
عدل و انصاف : اسلام میں عد ل وانصاف کا نظام تمام دنیا اور ہر زمانے کے لیے قابل تقلید ہے۔ قرآن مجید میں بہت سارے مقامات پر عدل و انصاف کرنے کی بڑی سخت تاکید فرمائی گئی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
’’اور ناپ تول انصاف کے ساتھ پوری کروہم کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتے مگر اس کے مقدور بھر۔ اور جب بات کرو تو انصاف کی کرو اگرچہ تمہارے رشتہ دار کا معاملہ ہو۔ ( سورۃ الانعام )۔
زندگی کے ہر شعبے میں عدل و انصاف کرنے کا حکم ہے خواہ خود ہمارے خلاف ہو ، ہمارے والدین یا اولاد کے خلاف ہو مگر فیصلہ حق پر ہی ہونا چاہیے۔ اگر معاشرے میں عدل و انصاف ہو گا تو اس کی برکت سے ایسا معاشرہ تشکیل پائے گا جس میں سب امن و امان کے ساتھ رہ سکیں گے۔


