نیت کی اصلاح(۱)
اسلام ایک جامع دین ہے جو انسان کی ظاہری زندگی کے ساتھ ساتھ اس کے باطن کو بھی سنوارنے پر زور دیتا ہے ۔ بظاہر اچھے اعمال بھی اس وقت تک اللہ تعالی کی بارگاہ میں قبولیت کا درجہ حاصل نہیں کرتے جب تک ان کے پیچھے خالص نیت نہ ہو ۔ اسی لیے اسلام میں نیت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے کیونکہ یہ دل کا وہ پوشیدہ عمل ہے جو انسان کے ظاہر کو معنی اور قدر عطا کرتا ہے ۔ نیت کی اصلاح حقیقت میں دل کی صفائی کا دوسرا نام ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے نیکی کا آغاز ہوتا ہے ۔
سورة البینہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں اس کے لیے دین کو خالص رکھتے ہوئے ۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ دین کی بنیاد اخلاص پر ہے ۔ اگر عمل میں اخلاص نہ ہو تو وہ محض ایک ظاہری حرکت بن کر رہ جاتا ہے ۔
امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعا لیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کو اس کی نیت کے مطابق اجر ملے گا ۔ جس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے ہو تو اس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ ہی کے لیے ہے ۔ اورجس کی ہجرت حصولِ دنیا کے لیے یا کسی عورت سے نکاح کی غرض سے ہو تو اس کی ہجرت اسی چیز کے لیے ہے جس کے لیے اس نے ہجرت کی ۔ ( صحیح بخاری شریف )۔
حضور نبی کریم ﷺ کے اس فرمان عالی شان سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ عمل کی قدرو قیمت کا تعین اس کی ظاہری شکل سے نہیں بلکہ اس کے پیچھے موجود نیت سے ہوتا ہے ۔
نیت دراصل دل کا ارادہ ہے اور دل کی کیفیت انسان کے پورے وجود پر اثر انداز ہوتی ہے ۔اگر دل صاف ہو اس میں اخلاص ، تقوی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی طلب ہو تو انسان کے اعمال خود بخود نکھر جاتے ہیں ۔لیکن اگر دل میں ریاکاری ، حسد ، تکبر یا دنیاوی مفادات کی خواہش ہو تو بظاہر نیک اعمال بھی کھوکھلے ہو جاتے ہیں ۔ دل کی صفائی نیت کی اصلاح کیے بغیر ممکن نہیں ۔دل کی صفائی کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے دل سے بُرے جذبات جیسا کہ حسد، بغض ، کینہ ، غرور و تکبر اور خودنمائی کو نکال دے یہ وہ بیماریاں ہیں جو انسان کے اعمال کو کھا جاتی ہیں اور اسے پتا بھی نہیں چلتا ۔
بندہ دنیا کے سامنے جتنا بڑا بھی عمل کر لے لیکن اگر نیت میں اخلاص نہیں تو ایسے عمل کی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کوئی حیثیت نہیں ۔
نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا
”مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے" ۔






