توبہ (۱)
انسان کی زندگی میں ایسے لمحات ضرور آتے ہیں جب اسے اپنے گزرے ہوئے راستوں پر نظر ڈال کر احساس ہوتا ہے کہ کچھ قدم ایسے بھی اٹھے جنہیں نہیں اٹھا نا چاہیے تھا ، کچھ الفاظ ایسے کہے جن سے کسی کا دل دکھا اور کچھ فیصلے ایسے بھی ہوئے جنہوں نے دل کے سکون کو چھین لیا ۔یہی احساس اگر انسان کو اللہ تعالی کی طرف واپس لے آئے تو اللہ تعالی اس کے لیے رحمت کا دروازہ کھول دیتاہے ۔اللہ تعالی نے انسا ن کو اس کی لغزشوں کے ساتھ تنہا نہیں چھوڑا بلکہ توبہ کا راستہ کھول کر اسے دوبارہ اپنے رب کی طرف پلٹنے کا موقع عطا فرمایا ہے ۔
توبہ محض زبان سے” استغفراللہ “کہہ دینے کا نام نہیں بلکہ دل کے اندر پیدا ہونے والی وہ کیفیت ہے جو انسان کو گناہ سے نکال کر اطاعت،اصلاح اور اللہ تعالی کی رضا کی طرف لے جاتی ہے ۔
لغوی اعتبار سے توبہ کے معنی رجوع کرنے کے ہیں شرعی اعتبار سے توبہ یہ ہے کہ بندہ ان کاموں سے رک جائے جن سے اللہ تعالی نے منع کیا ہے اور اس کے حکم کی خوبیوں کی طرف لوٹ آئے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :” اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ “۔ ( سورۃ النور )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : نوجوان توبہ کرنے والے سے زیادہ پسندیدہ چیز اللہ تعالی کے نزدیک اور کوئی نہیں ۔اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا گناہوں سے توبہ کرنے والا اس شخص کی مانند ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں ۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا توبہ ندامت کا نام ہے ۔اس فرمان میں توبہ کی تمام شرائط آ جاتی ہیں اس لیے کہ توبہ کی ایک شرط اللہ تعالی کے حکم کے مخالف چلنے پر افسوس کرنا بھی ہے ۔دوسری شرط موجودہ صورت میں غلطی و گناہ نہ کرنے کا عہد کرنا ہے اور تیسری شرط آئندہ گناہ نہ کرنے کا وعدہ کرنا ہے ۔
یہ تینوں شرطیں ندامت میں موجود ہیں کیونکہ جب دل میں ندامت آ جاتی ہے تو بقیہ دو شرطیں اس کے ضمن میں آ جاتی ہیں۔ جس طرح توبہ کی تین شرطیں ہیں اسی طرح ندامت کے بھی تین سبب ہیں ایک یہ کہ عذاب کا خوف دل پر غالب ہو اور دل کے سامنے اپنی بد اعمالیوں کا نقشہ آ جائے تو انسان میں ندامت کا احساس پیدا ہو ۔دوسرے یہ کہ اللہ تعالی کی نعمت کے حصول کا خیال اس کے دل میں غلبہ حاصل کر لے اور وہ یہ بھی جان لے کہ نافرمانی کی صورت میں یہ نعمت نہیں ملے گی ۔لہذا بُرے اعمال پر شرمندہ ہو تا کہ یہ نعمت دوبارہ حاصل کر سکے ۔






