بدھ، 22 جولائی، 2026

مومن کی مثال (۲)

 


مومن کی مثال (۲)

جو شخص گرمی سے بچنے کے لیے سایہ تلاش کرتا ہے درخت اسے سایہ مہیا کرتا ہے اور اپنے پاس سے گزرنے والوں کو اپنے خوشبواور سر سبز و شاداب منظر کا تحفہ دیتا ہے ۔ جسے غذا کی ضرورت ہو درخت اسے مختلف اقسام کے لذیذ قسم کے پھل مہیا کرتا ہے اور جن کو ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے وہ درخت کو کاٹ کر اپنی ایندھن کی ضروریات بھی حاصل کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ درخت کے ذریعے خوبصورت قسم کی گھریلو اشیاءاور فرنیچر بھی حاصل کیا جاتا ہے ۔ جس طرح کا بھی کوئی لمحہ آتا ہے درخت اسی طرح  کا ثابت ہوتا ہے جس طرح اس سے امید کی جاتی ہے ۔ 
اس سب کے باوجود درخت ایک ایسا وجود ہے جو زمین میں اپنی جڑیں داخل کر کے خود اپنے بل بوتے پر کھڑا رہتا ہے اور زمین کی تہہ میں اس طرح گڑا ہوتا ہے کہ کوئی اسے اکھاڑ نہ سکے اور فضا میں اس طرح بلند ہوتا ہے کہ کائنات کی تما م چیزیں اس سے اپنی ضروریات حاصل کرتی ہیں ۔ 
قرآن مجید میں مومن کی مثال اس درخت سے دی گئی ہے اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مومن کو کن خصوصیات کا حامل ہونا  چاہیے ۔ مومن وہ ہے جس کے اندر وہی صفات انسانی سطح پر موجود ہوں جو درخت میں مادی سطح پر پائی جاتی ہیں ۔ مومن کو وہی  کام اپنے شعور کے تحت کرنا ہے جو درخت طبعی قانون کے تحت سر انجام دے رہا ہے ۔ مومن کو خود اپنے ارادے سے اس طرح  سر سبز دنیا کی تخلیق کرنی ہے جس کو ایک درخت قانون فطرت کی پابندی کے تحت وجود میں لاتا ہے ۔ 
درخت مٹی کے اندر سے نکلتا ہے ۔ مومن کا درخت روحانیت کی ربانی زمین پر اگتا ہے ۔ درخت دنیا کے مادی اجزا سے بنتا ہے اور مومن عالم آخرت کے جنتی اجزا سے ۔ عام درخت مادی دنیا کا درخت ہے تو مومن انسانی دنیا کا درخت ہے ۔ درخت ایک  نمو پذیر وجود ہے اسی طرح مومن بھی ایک نمو پذیر وجود ہے ۔ مومن وہ انسان ہے جو ربانی فکر کی بنا پر اس قابل ہو جاتا ہے کہ ساری کائنات اس کے لیے معرفت کا دسترخوان بن جائے ۔ 
دنیا کی زندگی امتحان کی زندگی ہے یہاں کچھ مل جانا بھی آزمائش ہے اور کچھ نا ملنا بھی آزمائش ہے مومن وہ ہے جو دونوں حالتوںمیں اللہ تعالی کی رضا پر راضی رہے وہ منفی تجربات کومثبت تجربات میں تبدیل کر سکے اور دنیا میں رہتے ہوئے مکمل طور پر آخرت کا طالب بن جائے ۔ 
ایسے لوگوں کے لیے ہی قرآن مجید میں نفس المطمئنہ کا ذکر آیا ہے ۔یہی وہ لوگ ہیں جنہیں جنت میں اللہ تعالی کی ہمسائیگی ملےگی اور انہیں جنت کے باغوں میں  داخل کیا جائے گا ۔ اور وہ ہمیشہ راحتو ں اور خوشیوں میں زندگی گزاریں گے ۔



منگل، 21 جولائی، 2026

مومن کی مثال (۱)

 

مومن کی مثال (۱)

مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا سب سے پہلا تعلق اپنے رب کریم سے ہے کیونکہ وہی ہمارا خالق و مالک ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے : ’’ ایمان والے وہی ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان کے سامنے اس کی آیتیں پڑھی جائیں تو ان کا ایمان ترقی پائے اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کریں ‘‘۔ ( سورۃ الانفال )۔
مسلمان کے اعلی اوصاف میں سے یہ بھی ہے کہ وہ صرف اپنی ہی نہیں بلکہ دوسرے مسلمان کی بھی فکر کرتا ہے اسی لیے وہ ان کی دنیا و آخرت کی بھلائی کے لیے انہیں نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے منع کرتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :’’ مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں ‘‘۔( سورۃ التوبہ )۔ 
مومن کی مثال ایک درخت کی طرح ہے ۔ درخت کی تخلیق اللہ تعالی کے حکم سے ایک چھوٹے سے بیج سے ہوتی ہے ۔ بیج کے اندر وہ تمام امکانات نہایت کاریگری کے ساتھ سموئے ہوتے ہیں کہ جب بھی اس کو موافق حالات ملیں وہ ایک درخت کی صورت میں  اپنے آپ کو ظاہر کرنا شروع کر دے ۔  بیج کو جب مٹی کے اندر بویا جاتا ہے تو اچانک وہ پوری کائنات سے اس طرح جڑ جاتا ہے جیسے کہ ساری کی ساری کائنات صرف اسی کی پرورش کے لیے بنائی گئی ہو ۔ مٹی نرم ہو کر اسے موقع دیتی ہے کہ وہ اس کے اندر اپنی جڑوں کو داخل کر سکے ۔  پھر بیکٹیریا اس کی جڑوں میں جمع ہو جاتے ہیں تاکہ وہ فضا سے نائٹروجن الگ کر کے اس کی خوراک فراہم کرے ۔ زمین کی تہیں  اپنی معدنیات اور نمکیات کو پانی میں گھول کر اس کی جڑوں کو پہنچاتی ہیں تاکہ وہ ایک بڑے درخت کی شکل اختیار کر لے ۔ اللہ تعالی  کے حکم سے کائنات کا پورا کارخانہ متحرک ہو جاتا ہے کہ اس کے لیے مختلف موسم پیدا کر کے اسے ایک مکمل درخت کی شکل میں کھڑا  کر دے ۔ 
یہ درخت کائنات سے اس طرح ہم آہنگ ہو جاتا ہے کہ کہیں بھی ماحول کی دوسری چیزوں سے اس کا ٹکراؤ نہیں ہوتا ۔ درخت اگرزمین سے پانی لیتا ہے تو درخت زمین سے لی ہوئی رطوبت کو اپنے پتوں کے ذریعے خارج کر کے بارش برسانے میں معاون بنتا ہے ۔
درخت اگر زمین سے اپنی خوراک حاصل کرتا ہے تو خود بھی اپنے پتوں اور پھلوں کو زمین پر گرا کر اس کی زرخیزی میں اضافہ کرتا ہے ۔درخت اگر ہوا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ لیتا ہے تو وہ اس کے بدلے آکسیجن بھی دیتا ہے جس کے ذریعے ہم سانس لے سکتےہیں ۔درخت کائنات سے الگ ہو کر بھی کائنات سے اس طرح جڑا ہوتا ہے کہ کائنات کی کسی چیز سے اس کا ٹکراؤ نہیں ہوتا ۔

پیر، 20 جولائی، 2026

خلوت اختیار کرنے کی فضیلت

 

خلوت اختیار کرنے کی فضیلت

حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ سے عرض کی گئی کہ یا رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سے افضل کون کون ہے نبی کریم ﷺ  نے ارشاد فرمایا وہ مومن جو اپنے مال اور جان کے ساتھ اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرے ۔صحابہ کرام نے پھر عرض کی یارسول اللہ ﷺ پھر کون۔
 آپ ﷺ نے فرمایا وہ مومن جو گھاٹی میں رہے اور اللہ تعالی سے ڈرتا رہے اور لوگوں کو شر نہ پہنچائے ۔ ( بخاری شریف )۔
بخاری شریف میں اسود بن یزید نخعی ؓ سے مروی ہے کہ میں نے ام المئومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ جب گھر آتے تو کیا کرتے تھے ۔ حضرت عائشہؓ نے کہا آپﷺ گھر کے کاموں میں مشغول رہتے اور جب نماز کا وقت ہوتا تو اٹھ کر نماز کے لیے چلے جاتے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب بندہ اعلانیہ طور پر نماز ادا کرتا ہے اور اچھے طریقے سے نماز اداکرتا ہے اور  خلوت میں جب نما ز ادا کرتا ہے اور اچھے طریقے سے ادا کرتا ہے تو اللہ تعالی فرماتا ہے درحقیقت یہ بندہ اللہ تعالی کا بندہ ہے ۔ (ابن ماجہ)
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : قریب ہے مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہوں گی جن کو وہ پہاڑ کی چوٹی بارش کے برسنے کی جگہوں میں لے جائے گا ۔ اس حال میں کہ اپنے دین کے سبب فتنوں سے بھاگے گا اس میں اس شخص کے لیے تنہائی میں رہنے کی فضیلت ہے جس کو اپنے دین کا خوف ہو ۔ ( بخاری ).
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبوت کے آغاز میں سب سے پہلے اللہ تعالی نے آپ کی کرامت اور اپنے بندوں پر اپنی رحمت کے اظہار کا ارادہ فرمایا تو نبی کریم ﷺ جو بھی چیز خواب میں دیکھتے وہ روز روشن کی طرح پوری ہو جاتی تھی ۔ جب تک اللہ تعالی کو منظور تھاایسا ہی رہا  پھر آپ کو خلوت نشینی پسند آگئی اس وقت آپ ﷺ کے نزدیک خلوت سے زیادہ پسندیدہ چیز کوئی نہیں تھی ۔ ( ترمذی )۔
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا تمہیں سب سے بہتر لوگوں کے بارے میں نہ بتلاؤ ں ایک وہ شخص ہے  جو اللہ تعالی کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام پکڑ لیتا ہے اور نکل کھڑا ہوتا ہے کیا جو شخص اس کے بعد ہو گا یہ وہ شخص ہے جو بکریاں لے کر لوگوں سے الگ ہو جاتا ہے اور ان کے بارے میں اللہ تعالی کے حق کو ادا کرتا ہے کیا میں تمہیں سب سے بد ترین شخص کے بارے میں نہ بتاؤں یہ وہ شخص ہے جس سے اللہ تعالی کے نام پہ مانگا جائے وہ نہ دے ۔ ( ترمذی )

اتوار، 19 جولائی، 2026

ایمان ، یقین اور استقامت

 

ایمان ، یقین اور استقامت

انسانی زندگی میں بعض تصورات ایسے ہیں جو محض الفاظ نہیں ہو لتے بلکہ وہ کردار ، سوچ اور عمل کی بنیاد بن جاتے ہیں ۔ایمان ،یقین اور استقامت تین  ایسے تصورات ہیں جو فرد کے فکری ، روحانی اور عملی وجود کو ایک سمت عطا کرتے ہیں۔ اگر ان تینوں کو ایک لڑی میں پرو دیا جائے تو ایک مکمل شخصیت کی  تکمیل ہوتی ہے اور دنیاو آخرت میں کامیابی نصیب ہوتی ہے۔ انسان کے دل میں سب سے پہلی چیز جو جنم لیتی ہے وہ ایمان ہے ۔ ایمان وہ چیز ہے جو بندے کو اللہ تعالی کے وحدہ لاشریک ہونے ، اس کے رسولوں ،  کتب سماویہ ، ملائکہ ، اچھی اور بری تقدیر اور یوم آخرت پر یقین رکھنے کا درس دیتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :
” رسول ایمان لایا اس پر جو اس کے رب کی طرف سے اس پر اترا اور ایمان والے ، سب نے مانا اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے  رسولوں کو “۔ ( سورۃ البقرہ )۔ 
ایمان ایک ایسا نور ہے جو انسان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آتا ہے ۔ ایمان صرف زبانی دعوے کا نام نہیں بلکہ اس کا اثر انسان کے اعمال اور کردار میں بھی نظر آنا چاہیے ۔ 
جب ایمان انسان کے دل میں مضبوط ہو جاتا ہے تو وہ یقین میں ڈھل جاتا ہے ۔ یقین ایک ایسا درجہ ہے جس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں ۔ارشاد باری تعالی ہے : اور زمین میں نشانیاں ہیں یقین والوں کے لیے “۔ ( سورۃ البقرہ )۔ یقین انسان کو مشکل وقت میں بھی اپنے رب پر بھروسہ رکھنے کا حوصلہ دیتا ہے ۔جس کی مثالیں ہمیں انبیاءکرام ، نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کی زندگیوں سے ملتی ہیں کہ کس طرح انہوں نے مشکلات و مصائب میں اللہ تعالی پر کامل یقین رکھا اور اللہ تعالی نے انہیں کامیابی عطا فرمائی ۔ 
جب انسان حق کو پہچا ن کر اسے دل و جان سے تسلیم کرتے ہوئے اس پر ڈٹ جائے اور ثابت قدم رہے تو اسے استقامت کہتے ہیں ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ” بیشک جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے ان پر فرشتے اترتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو “۔ ( سورۃ الفصلت )۔
کسی بھی بات پر قائم رہنا آسان نہیں ۔ یہ صبر ، قربانی اور حوصلے کا تقاضا کرتی ہے ۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان کی زندگیاں ہمارے لیے استقامت کا عملی  نمونہ ہیں کہ کس طرح انہیں طرح طرح کی تکالیف دی گئیں لیکن وہ استقامت کے ساتھ اپنے دین پر قائم رہے ۔ حضرت بلال حبشیؓ کو تپتی ریت پر لٹایا  گیا آپ کے جسم پر پتھر رکھے گئے لیکن آپؓ کی استقامت کا یہ عالم تھا کہ آپ احد احد ہی کی صدا بلند کرتے تھے ۔ 
ایمان بندے کے دل میں روشنی پیدا کرتا ہے ، یقین اس روشنی کو مستقل قوت دیتا ہے اور استقامت اس قوت کو آزمائش میں ثابت کرتی ہے ۔  ایمان ، یقین اور استقامت ایک ایسا نظام ہے جو انسان کو دنیا و آخرت میں کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے ۔ جب انسان ان تینوں صفات کو اپنا لے تو وہ نہ صرف خود کو سنوارتا ہے بلکہ معاشرے کی بھی اصلاح کرتا ہے ۔ اللہ تعالی ہمیں سچا ایمان ، مضبوط یقین اور استقامت عطا فرمائے ۔ آمین ۔

ہفتہ، 18 جولائی، 2026

آداب زندگی قرآن کی روشنی میں (۲)

 

آداب زندگی قرآن کی روشنی میں (۲)

قرآن مجید میں اللہ تعالی نے مسجد کے آداب بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ”اور یاد کرو جب ہم نے اس گھر کو لوگوں کے لیے مرجع و امان بنایا اور ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ اور ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم اور اسماعیل کو کہ میرا گھر خوب ستھرا کرو طواف والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع و سجود والوں کے لیے “۔ ( سورۃ البقرہ )۔ مسجد اللہ تعالی کا گھر ہے ۔ اس آیت سے ایک بات تو یہ بات پتہ چلی کہ نماز مسجد میں باجماعت ادا کرنی چاہیے اور دوسری یہ کہ اللہ تعالی کے گھر کو صاف ستھرا  رکھنا چاہیے تا کہ وہاں آ کر اللہ تعالی کی عبادت کرنے والو ں کو کوئی پریشانی یا تکلیف نہ ہو ۔  قرآن مجید میں اللہ تعالی نے والدین اور دوسروں کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرنے کا حکم فرمایا ہے اور یہ معاشرتی آداب میں بہت اہمیت کا حامل ہے کہ  ہم اپنے والدین کا ادب و احترام کریں اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں ۔ اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو اور جب وہ بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے سامنے اف تک نہ کہو ۔ 
سورۃ النساءمیں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :” اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کہ نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ سے بھلائی کرو اور رشتہ دارو ں اور یتیموں اور محتاجوں اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے اور کروٹ کے ساتھی اور راہ گیر اور اپنی باندی و غلام سے بے شک اللہ کو پسند نہیں کوئی اترانے والا، بڑائی مارنے والا “۔ 
لوگوں کو عدل و انصاف فراہم کرنا معاشرتی آداب میں سے اہم ترین ہے کیوں کہ عد ل و انصاف کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا اور نہ ہی معاشرے میں امن قائم ہو سکتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ”بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے عدل اور احسان کا “۔ ( سورۃ النحل )۔ 
اسی طرح اگر کسی کے ساتھ عہد کیا جائے تو اس عہد کو پورا کرنا ضروری ہے اور اس کے متعلق بھی برو زقیامت پوچھا جائے گا ۔ ارشاد باری تعالی ہے :” اور  عہد کو پورا کرو بیشک عہد سے سوال ہونا ہے “۔ ( سورۃ بنی اسرائیل )۔ 
معاف کرنا اور در گزر کرنا ایک ایسا عمل ہے جس سے نہ صرف بندے کی عزت و احترام میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معاشرہ بھی امن و سلامتی کا گہوارہ بن جاتا  ہے اور اللہ تعالی بھی ڈھیروں اجرو ثواب عطا فرماتا ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے :”اور برائی کا بدلہ اسی کی برائی ہے تو جس نے معاف کیا ور کام سنوارا تو اس کا اجر اللہ پر ہے بیشک وہ دوست نہیں رکھتا ظالموںکو “۔ ( سورۃ الشورٰی )۔
اس کے علاوہ حیا و پاکدامنی اور بے جا تجسس اور غیبت سے اجتناب کرنا بھی معاشرتی آداب میں سے ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :” اور مومن مردوں  سے کہہ دو کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں“۔ ( سورۃ النور )۔
سورۃ الحجرات میں اللہ تعالی فرماتا ہے :اور ایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ لگے رہو اور نہ ہی ایک دوسرے کی غیبت کرو “۔  اگر ہم قرآن مجید کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق زندگی بسر کریں تو اللہ تعالی ہمیں دنیا و آخرت میں سرخرو کرے گا اور معاشرہ بھی امن کا گہوارہ  بن جائے گا۔

جمعہ، 17 جولائی، 2026

آداب زندگی قرآن کی روشنی میں (۱)

 

آداب زندگی قرآن کی روشنی میں (۱)

قرآن مجید واحد ایسی مکمل اور جامع کتاب ہے جو نہ صرف عبادات میں ہماری رہنمائی کرتی ہے بلکہ ہمیں معاشرے میں رہن سہن کے طور طریقوں کے  حوالے سے مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے ۔ قرآن مجید کی آیات کی روشنی میں معاشرتی زندگی کے آداب جن پر عمل کر کے ہم معاشرے میں بلند مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ارشاد باری تعالی ہے : اے ایمان والو اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں داخل نہ ہو جب تک اجازت نہ لے لو اور ان کے ساکنوں پر سلام نہ کر لو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے کہ  تم دھیان کرو ۔ پھر اگر تم ان میں کسی کو موجود نہ پاؤ تو تم ان کے اندر مت جاؤ یہاں تک کہ تمہیں اجازت دی جائے اور اگر تم سے کہا جائے واپس جاؤ تو  واپس ہو۔ یہ تمہارے لیے ستھرا ہے اللہ تمہارے کاموں  کو جانتا ہے “۔ (سورۃالنور )۔ 
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی فرما رہا ہے کہ جب بھی کسی کے گھر جاؤ تو پہلے اجازت لو اس کے بعد وہاں رہنے والوں کو سلام کرو اور اگر کوئی گھر میں نہ 
ہو تو اس میں داخل نہ ہو اور اگر اجازت طلب کرنے پر اندر جانے کی اجازت نہ ملے تو خاموشی کے ساتھ واپس چلے جاؤ یہی تمہارے لیے بہتر ہے ۔ 
سورۃ بنی اسرائیل میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :” اور میرے بندوں سے کہو کہ وہ بات کہیں جو سب سے اچھی ہو “۔ یعنی جب بھی کسی کے ساتھ گفتگو 
کریں تو نرمی ، شفقت کے ساتھ کریں اور سچی بات کریں ۔ بد زبانی اور سخت لہجہ معاشرے میں فساد کا باعث بنتا ہے ۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ اپنی  گفتگو میں نرمی پیدا کریں اور اسے پاکیزہ رکھیں ۔ 
مجلس کے آداب کے بارے میں اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :” اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں  جگہ دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہو “۔  مجلس میں موجود لوگوں سے مخاطب کرتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا کہ جب کوئی باہر سے آئے تو اسے جگہ دواور اپنی مجالس میں کشادگی پیدا کرو تا کہ  زیادہ لوگ شامل ہو سکیں جب تم دوسروں کو جگہ دو گے تو اللہ تعالی تمہیں اس سے بہتر جگہ دے گا ۔ 
تواضع و انکساری اللہ تعالی کو بہت پسند ہے اور اس سے معاشرے میں بھی بندے کی عزت میں اضافہ ہوتا ہے ۔ سورۃ بنی اسرائیل میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : ” اور زمین میں اتراکرنہ چلو بیشک تو ہر گز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہر گز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا “۔ 
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی اپنے بندوں کو حکم دے رہا ہے کہ عاجزی و انکساری اختیار کرو ۔ اللہ تعالی کو غرور اور تکبر کرنے والا شخص پسند نہیں ۔ ایک سچا  اور کامل مومن وہ ہی ہے جو اپنے مقام و مرتبہ کو پہچانتے ہو ئے صرف اللہ تعالی کے سامنے جھکے اور زمین پر اکڑ نہ چلے ۔  اگر کوئی شخص کسی کے پاس اپنی کوئی چیز امانت کے طور پر رکھے تو اس میں خیانت نہ کرنا بھی زندگی کے آداب میں سے ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:”بیشک 
اللہ تمہیں حکم دیتا ہے امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو “۔ (سورۃ النساء)۔

جمعرات، 16 جولائی، 2026

مسلمانوں کا فکری زوال اور اس کا تدراک(۲)

 

مسلمانوں کا فکری زوال اور اس کا تدراک(۲)

انسان کے فکری زوال کی ایک بڑی وجہ اس کا برا اخلاق بھی ہے ۔ برے اخلاق انسان کی فکری سوچ پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔
فکری زوال کو ختم کرنے کا سب سے اہم اور پہلا طریقہ اپنے ایمان اور عقیدہ کو مضبوط کرنا ہے ۔ انسان کو اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ وہ اس دنیا میں کس مقصد  کے لیے بھیجا گیا ہے ۔ اپنے حقیقی مقصد کو سمجھتے ہوئے اسے اپنا ایمان اور اللہ تعالی پر بھروسہ مضبوط کرنا چاہیے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ”جو اللہ اور پچھلے دن پر ایمان رکھتا ہو اور جو کوئی اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لیے نجات کی راہ نکال دے گا “۔ ( سورہ الطلاق)۔ اس کے بعد فکری زوال کا خاتمہ علم کے ذریعے کیا جا سکتا ہے ۔ علم انسان کی فکری صلاحیت کو بڑھاتا ہے اور اس کی سچائی کی طرف رہنمائی کرتا ہے ۔علم کی اہمیت کا اندازہ قرآن مجید کی اس آیت سے لگایا جا سکتا ہے۔ارشاد باری تعالی ہے : ”اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا ہے درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے “۔ (سورہ المجادلہ )۔
حدیث شریف میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :”علم حاصل کرنا ہر مسلمان مر دو عورت پر فرض ہے “۔ ہمیں ایک ایسی فکری فضا قائم کرنے کی ضرورت ہے جہاں صرف سطحی تعلیم کی بجائے مطالعہ اور تحقیق کی حوصلہ افزائی ہو ۔ کتاب سے دوستی ، تعلیمی محافل اور 
سوال و جواب کی مجالس اس میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں ۔ 
انسان کی سوچ اور اس کی فکری زوال کی ایک بڑی وجہ گناہوں میں مبتلا ہو جانا بھی ہے ۔ فکری زوال کے خاتمے کے لیے توبہ و استغفار کی کثرت کرنی چاہیے ۔  ارشاد باری تعالی ہے :” اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب (ﷺ) تم ان میں تشریف فرما ہواور اللہ انہیں عذاب کرنے والا نہیں  جب تک وہ بخشش طلب کر رہے ہیں“۔ ( سورہ الانفال )۔
اسلام میں اچھے اخلاق کی بڑی اہمیت ہے ۔ جب انسان اخلاقی طور پر بہتر ہو تا ہے تو اس کی سوچ بھی بہتر ہوتی ہے ۔ اچھے اخلاق کی اہمیت بیان کرتے ہوئے  نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” مجھے اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے “۔  روحانیت اور مادیت میں توازن قائم کرنے سے بھی انسان کے فکری زوال کا خاتمہ ہوتا ہے ۔ انسان کا دل و دماغ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ایک متوازن  شخصیت وہی ہے جو فکری لحاظ سے نہ تو محض مادی سوچ رکھتا اور نہ ہی محض خیالی ۔ عبادات اور معاملات دونوں میں توازن قائم کرنے سے فکری زوال کو ختم  کیا جا سکتا ہے ۔  فکری زوال ایک سنگین مسئلہ ہے جس کا اثر صرف ایک فرد پر نہیں ہوتا بلکہ ایک فرد سے نکل پوری قوم زوال کا شکار ہو جاتی ہے ۔ اس کا حل ایمان اور عقائد کی 
مضبوطی ، حقیقی علم کا حصول ، اخلاقی تربیت اور توبہ و استغفارسے ممکن ہے ۔ فکری زوال کو ختم کرنے کے لیے دین کی اصل تعلیمات پر عمل کرنا ضروری ہے ۔اس  کے ذریعے ہی فرد اور قوم فکری زوال سے چھٹکارا پا سکتے ہیں

مومن کی مثال (۲)

  مومن کی مثال (۲) جو شخص گرمی سے بچنے کے لیے سایہ تلاش کرتا ہے درخت اسے سایہ مہیا کرتا ہے اور اپنے پاس سے گزرنے والوں کو اپنے خوشبواور سر س...