جمعہ، 15 مئی، 2026

حج کی معنویت(۲)

 

حج کی معنویت(۲)

حضرت شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ حج کی حقیقت یہ ہے کہ ایک مخصوص وقت میں صالحین ، کا ایک عظیم اجتماع ہو جو انعام یافتہ لوگوں یعنی انبیاء کرا م ، صدیقین ، شہدا اور صالحین کے احوال کو یاد کریں اور اس جگہ جمع ہوں جہاں اللہ تعالیٰ نشانیاں موجود ہیں۔ طہارت نفسانیہ کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ایسی جگہ رہائش اختیار کی جائے کہ صالحین ہمیشہ اس کی تعظیم کرتے ہوں۔ اور وہاں رہ کر اس جگہ کو اللہ تعالیٰ کی یاد سے آباد کرتے ہوں یہ اہل خیر کے حق میں ملائکہ کو متوجہ کرنے کا سبب ہے اور جب وہاں اترے گا تو ان کا رنگ اس پر بھی چڑھ جائے گا۔ میں نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ اللہ تعالی کا ذکر کرنا اور شعائراللہ کو دیکھنا اور ان کی تعظیم کرنا بھی اللہ تعالیٰ کے ذکر میں داخل ہے۔ (حجۃ البالغہ )۔
دراصل حج شعائر اللہ سے عقیدتیں پختہ کرنے ، ان کی تعظیم کرنے اور اس سے جذبہ عمل پیدا کرنے ہی کا نام ہے۔ بعض اوقات انسان دنیا کی ظاہری رنگینیوں میں کھو کر لمبے عرصے تک گناہوں میں مصروف رہتا ہے لیکن انسان کی زندگی میں ایک ایسا موڑ بھی آتا ہے جب انسان بالکل بدل جاتا ہے۔ حج بھی انسان کی زندگی میں ایسا موڑ ہے جب انسان کی زندگی کا رخ بدل جاتا ہے۔ احساس ذمہ داری اور رزق حلال حج پر جانے کے لیے ضروری ہے۔کیونکہ حج فرض ہی اسی وقت ہوتا ہے کہ بندے کے پاس اتنے پیسے ہوں کہ وہ حج کے اخراجات پورے کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی ضروریات کو پوری کر سکے۔ اس سے انسا ن میں احساسِ  ذمہ داری پیدا ہوتا ہے اور سستی کرنے والا محنت سے روزی میں لگ جاتا ہے اور پھر وہ رزق حلال ہونا چاہیے کیونکہ حرام کمائی سے کیا گیا حج اللہ تعالیٰ کے ہاں باکل بھی قبول نہیں ہو گا۔ 
الترغیب الترہیب میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب حج کرنے والا حلال کمائی لیکر نکلتا ہے اور اپنا پائوں رکاب میں ڈالتا ہے اور’’لبیک اللھم لبیک ‘‘ کی صدا بلند کرتا ہے تو آسمان سے ایک منادی آواز دیتا ہے ’’لبیک و سعد یک ‘‘ تمہارا زادراہ حلال ہے، تمہاری سواری حلال ہے، تمہارا حج مبرور ہے، اس میں گناہ نہیں ہے اور جب وہ حرام مال سے حج کے لیے نکلتا ہے اور اپنا پائوں رکاب میں رکھتا ہے اور لبیک  کہتا ہے تو آسمان سے ایک منادی آواز دیتا ہے، تمہارا لبیک کہنا قبول نہیں، تمہارا زاد راہ حرام ہے ، تمہارا خرچ حرام ہے، تمہارا حج گناہ ہے اور  قبول نہیں۔ حج اپنے اہل خانہ کی ضروریات پوری کرنے اور حرام کی کمائی سے بچنے اور رزق حلال کی ترغیب دیتا ہے۔

جمعرات، 14 مئی، 2026

حج کی معنویت(۱)

 

حج کی معنویت(۱)

اسلام  کے بنیادی ارکان میں حج کو ایک منفرد مقام حاصل ہے ۔حج صرف چند عبادات اور مناسک کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسا روحانی ، اخلاقی اور ایمانی سفر ہے جو انسان کی پوری زندگی کو بدل دیتا ہے ۔ حج حقیقت میں عشق الہی ، اطاعت ربانی ، اخوت انسانی اور تزکیہ نفس کا عملی مظاہرہ ہے۔
حج میں وہ روحانی حقیقتیں اور حکمتیں ہیں جو اس عظیم عبادت کے ہر رکن میں پوشیدہ ہیں ۔ ظاہری طور پر حاجی طواف ، سعی ، وقوف عرفات اور رمی جمار کرتا ہے مگر حقیقت میں وہ اپنے نفس ، خواہشات اور شیطانی قوتوں کے خلاف جہاد میں مصروف ہوتا ہے ۔ 
انسانی دل میں محبت ، لگائو ، وارفتگی اور بے قراری کے بے شمار جذبات موجزن رہتے ہیں ۔ جب یہ محبت کسی چیز کے لیے حد سے بڑھ جائے تو اسے وارفتگی کہتے ہیں ۔سورۃ البقرۃ ارشاد باری تعالی ہے : ’’ اہل ایمان سب سے بڑھ کر اللہ سے محبت کرتے ہیں ‘‘۔ یعنی محبت کا حقیقی مرکز اللہ تعالی کی ذات ہے جب انسان کی وارفتگی کا رخ اللہ تعالی کی طرف ہو جاتا ہے تو یہی وارفتگی اس کے لیے سکون اور اطمینان کا ذریعہ بن جاتی ہے ۔دنیاوی محبتیں خواہ مال و دولت کی ہوں یا کسی انسان کی، اس سے دل کو وہ سکون و اطمینا ن نہیں ملتا جو اللہ تعالی کی محبت اور ذکر سے ملتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :’’ سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے ‘‘۔ ( سورۃ الرعد )۔
جب انسان شدت سے اللہ تعالی سے محبت کرتا ہے تو پھر محبوب کی ہر چیز میں اسے اپنے محبوب کے جلوے نظر آتے ہیں ۔ جیسا کہ سورۃ الحج میں اللہ تعالی فرماتا ہے : جو اللہ کی نشانیوں کی تظیم کرتا ہے تو یقینا وہ دلوں کا تقوی ہے ۔ 
شاہ ولی اللہ حجۃ البالغہ میں لکھتے ہیں کہ ’’کبھی کبھی انسان کو اپنے رب سے ملاقات کا شدید شوق پیدا ہو جاتا ہے وہ ایسی چیز کا متلاشی ہوتا ہے جو اس  کے اس شوق کو پورا کرے ۔وہ رب سے ملاقات کا سامان حج کے سوا کہیں نظر نہیں پاتا ‘‘۔ 
جن چیزوں کی نسبت اللہ تعالی کے محبوب بندوں سے ہو جائے وہ بھی حق کے متلاشی کے لیے محبوب بن جاتی ہیں۔ اللہ تعالی کے محبوب بندوں کی یہ نشانیاں مخلوق خدا کے لیے برکتوں اور سعادتوں کا مرکز قرار پاتے ہیں ۔ جہاں حضرت حاجرہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے پانی کی تلاش میں دوڑیں۔ اللہ تعالی نے ان پہاڑیوں کو اپنی نشانیاں قرار دیا ۔ سورۃ البقرہ میں ارشاد باری تعالی ہے :’’ بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔ مقام ابراہیم کو اللہ تعالی نے جائے مصلی بنانے کا حکم فرمایا :’’ اور مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لو ‘‘۔ ( سورۃ البقرہ )۔

بدھ، 13 مئی، 2026

حج کے مقاصد (۲)

 

حج کے مقاصد (۲)

حج کے ذریعے احکام شریعت کی تعمیل ہوتی ہے۔ تلبیہ ، سعی ، رمی ، وقوف عرفہ ، مزدلفہ اور منیٰ میں مخصوص اوقات کے لحاظ سے اور احرام کی پابندی کے ذریعے انسان اپنا سر تسلیم خم کرتا ہے اور قولی اور فعلی طور پر اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا عاجز بندہ ہے اور احکام شریعت کے سامنے اس کی کوئی اوقات نہیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حجر اسوود کو بوسہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے جو نہ نفع دے سکتا ہے اور نہ ہی نقصان ، میں تجھے اس لیے بوسہ دے رہا ہو ں کہ تجھے حضورﷺ نے بوسہ دیا ہے۔(بخاری شریف)۔ آپ کا یہ قول احکام شریعت کی پا بندی کی بہترین مثال ہے۔ 
حج انسان کی بخشش کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ حاجی کے تما م گناہ بخش دیتا ہے شرط یہ ہے کہ بندہ حج کے دوران فسق و فجوراوراللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچے اور کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچائے۔ 
حج کے ذریعے سے مساوات انسانی کا درس ملتا ہے۔ حج کے موقع پردنیا بھر کے مسلمان چاہے وہ عربی ہوں یا عجمی ، امیر ہوں یاغریب ، حاکم ہو یا محکوم ، پیر ہو یا مرید ، استاد ہو یا شاگرد سب کے سب ایک ہی لباس ، ایک ہی حالت اور ایک ہی مقام پر جمع ہوتے ہیں اور ایک ہی آواز میں اللہ تعالیٰ کو پکار رہے ہوتے ہیں۔ مساوات کی ایسی مثال دنیا کے کسی اور مذہب میں نہیں ملتی۔ 
حج اور اس کے علاوہ تمام اسلامی عبادات سے ہمیں نظم و ضبط کا درس ملتا ہے۔ نظم وضبط جیسے اوصاف مہذب اور ترقی یافتہ قوموں کی پہچان ہوتے ہیں۔ حج کے موقع پر نظم و ضبط اور وقت کی پابندی کا شاندار مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے اور اس سے ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ اے مسلمانوں غفلت کی نیند سے جاگ جائو اور جس حقیقی مقا م و مرتبہ کے تم حقدار ہو اسے پہچانو اور اس کے حصول کے لیے کوشش کرو ورنہ تمہارا نام و نشان مٹ جائے گا اور دنیا تمہیں کچلتے ہوئے آگے نکل جائے گی۔ 
حج مسلمانو ں کاایک شاندار اجتماع ہے جس کے ذریعے دین اسلام کی شان و شوکت میں اضافہ ہوتا ہے اور مسلمانو ں کو آپس میں لڑانے کی جو کوشش کی جا رہی ہے دشمنان اسلام اجتماع حج کو دیکھ کر خوف زدہ ہو جاتے ہیں کہ یہ اتحاد یونہی قائم رہا تو اسلام کے خلاف کی جانے والی ساری سازشیں ناکام ہو جائیں گی اور دین حق اسی طرح روز پھلتا پھولتا رہے
گا۔ اللہ تعالی ہم سب کو حج بیت اللہ کی سعادت زندگی میں بار بار نصیب فرمائے اور ہمیں اپنی زندگیاں احکام الٰہی کے مطابق بسر کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین۔

منگل، 12 مئی، 2026

حج کے مقاصد (۱)

 

حج کے مقاصد (۱)

حج ارکان اسلام میں سے پانچویں نمبر پر ہے اس کے ذریعے قرب الٰہی نصیب ہوتا ہے۔ حج صرف طواف خانہ کعبہ،سعی ، وقوف عرفہ اور رمی وغیرہ کا نام نہیں بلکہ حج یہ ہے کہ بندہ مسلمان قدم قدم پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی سے بچے اور گناہوں سے بچ کر نیک اعمال بجا لائے۔ اس کے ساتھ احکام الٰہی کو تسلیم کرنے ، صبر و استقامت کا مظاہرہ کرنے اور کمزور اور مساکین کا خیال رکھنے کا بھی درس ملتا ہے۔حج کے دوران مسلمان اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں وہی اکیلا عبادت کے لائق ہے۔ حج کا مقصد مسلمانوں کے دلوں میں عقیدہ توحید کو مضبوط کرنا ہے کہ وہ کفر و شرک سے بچے رہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور منادی پکارتا ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے سب لوگوں میں بڑے حج کے دن کہ اللہ اور اس کارسول بیزار ہے ان مشرکو ں سے ‘‘ (سورۃ التوبہ )۔
طواف خانہ کعبہ ، سعی صفا و مروہ ، وقوف عرفات ، مزدلفہ اور منی میں فرزندان اسلام یک زبان ہو کر یہ اعلان کرتے ہیں ’’ میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں ! تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں ! یقینا تمام تعریفیں ، نعمتیں اور بادشاہی تیرے ہی لیے ہے ! تیرا کوئی شریک نہیں۔ حج کا دوسرا مقصد امت مسلمہ کے درمیان اتحاد اور یگانت کی فضا قائم کرنا ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان چاہے وہ مشرق سے ہوں یا مغرب سے ، جنوب سے ہوں یا شما ل سے ان کے لیے یہ بات معنی نہیں رکھتی بلکہ وہ سب ایک دوسرے کے بھائی بھائی ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : مسلمان آپس میں بھائی ہیں ‘‘۔ حج ایک ایسا موقع ہے جس پر دنیا بھر کے مسلمان بغیر کسی رنگ و نسل کے اتحاد امت کا شاندار منظر پیش کرتے ہیں۔ حج مسلمانوں میں تقوی و پرہیز گاری کا ذریعہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہمارے مال و متاع کو نہیں دیکھتا کہ کون کتنا حج پر خرچ کر رہا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ ہماری نیتوں ، پرہیز گاری اور تقویٰ کو دیکھتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’ اللہ کو ہر گز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ہی خون ہاں تمہاری پرہیز گاری اس تک با ریاب ہوتی ہے ‘‘۔ ( سورۃ الحج )۔
یعنی اگر حج کرنے والے کا مقصد محض دکھلاوا ہو اور یہ کہ لوگ مجھے حاجی کہیں اور قربانی کا مقصد بھی دکھلاوا ہو تو اللہ تعالیٰ اس سے راضی نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ صرف اور صرف ہمارے اخلاص اور نیت کو دیکھتا ہے صرف وہی عمل قابل قبول ہے جو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کیا جائے۔

ہفتہ، 9 مئی، 2026

حج کی فضیلت و اہمیت

 

حج کی فضیلت و اہمیت

اسلام انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر پہلو کی رہنمائی کرتا ہے۔ دین اسلام کے پانچ بنیادی ارکان ہیں جن پر ایک مسلمان کی عملی زندگی کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔ ان ارکان میں سے ایک عظیم رکن حج بھی ہے۔حج اپنی روحانی ، اخلاقی اور اجتماعی اہمیت کے اعتبار سے بے مثال اہمیت رکھتا ہے۔ حج بندہ مومن کے لیے اپنے رب کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرنے ، گناہوں سے پاک ہونے اور اخوت اسلامی کے عملی مظاہرے کا ایک جامع ذریعہ ہے۔حج بدنی عبادت کے ساتھ ساتھ مالی عبادت بھی ہے۔ حج زندگی میں ایک مر تبہ ہر صاحب استطاعت مسلمان پر فرض ہے۔
 ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس کی استطاعت رکھیں اور جو منکر ہو تو اللہ سارے جہان سے بے پرواہ ہے‘‘۔  ( سورۃ اٰل عمران )۔
حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے اللہ تعالیٰ کی خاطر حج کیا نہ کوئی فحش بات کی اور نہ گناہ کا مرتکب ہوا وہ گناہوں سے اس طرح پاک لوٹے گا جس طرح اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوا تھا۔( بخاری )۔
الترغیب التر ہیب میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : حج کرنے والے کی مغفرت کر دی جاتی ہے اور وہ جس کے لیے دعا کرے اس کی بھی مغفرت کر دی جاتی ہے۔ 
ایک مقام پر نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ایک عمرہ سے دوسرے عمرہ تک اس کے درمیان گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کا بدلہ تو صرف جنت ہے ہے۔ (الترغیب التر ہیب )۔
جو لوگ صاحب استطاعت ہونے کے باوجود حج نہیں کرتے ان کے لیے حضور نبی کریم ﷺ نے سخت وعید فرمائی ہے۔ الترغیب التر ہیب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کے پاس سفر کرنے کا خرچ بھی ہو اور سواری بھی ہو جس کے ذریعے وہ بیت اللہ تک پہنچ سکے اس کے باوجود وہ حج نہ کرے تو اس کا اس حالت میں مرنا یا یہودی و نصرانی ہوکر مرنا برابر ہے اور یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بیت اللہ کا حج کرنا ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا حق یے جو اس کی استطاعت رکھتا ہو۔(الترغیب التر ہیب )۔
حج کا عملی تقاضا یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت و فرمانبردای کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے، گناہوں سے مکمل اجتناب کرے ، حقوق العباد کا خاص خیال رکھے ، سچائی ، دیانت داری اور انصاف کو اپنائے۔

جمعہ، 8 مئی، 2026

اسلامی معاشرت کے اصول (۲)

 

اسلامی معاشرت کے اصول (۲)

انسانی معاشرے میں پائی جانے والی ایک برائی بغض بھی ہے۔ بغض دل کی وہ بیماری ہے جو انسان کسی عداوت کی وجہ سے دوسرے کے خلاف اپنے دل میں رکھتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر سوموار اور جمعرات کو جنت کے دروازے کھولے جاتے  ہیں۔ مشرک کے علاوہ ہر ایک کی بخشش کر دی جاتی ہے سوائے ان دو آدمیوں کے جن کے درمیان کوئی بغض ہو۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا جاتا ہے جب تک یہ صلح نہ کر لیتے ان کا معاملہ رہنے دو اور یہ تین مرتبہ دہرایا جاتا ہے۔ (مسلم )
اس کے بعد مسلمانوں کو ایک دوسرے سے منہ موڑنے سے منع فرمایا گیا ہے۔ نبی رحمت ﷺ نے ارشادفرمایا :کسی مسلمان کے لیے روا نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی کرے۔ وہ دونوں ملیں تو ایک دوسرے سے منہ پھیر لیں۔ ان میں سے بہتر وہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔ (بخاری )۔ ایک روایت میں ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو روا نہیں ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی رکھے۔جس نے تین دن سے زیادہ قطع کلامی رکھی اور وہ اسی حال میں مر گیا تو جہنم میں جائے گا۔ ( دائود )۔
نبی کریم ﷺ نے بیع پر بیع کرنے سے منع فرمایا ہے۔ مثلا خریدار کسی سے کوئی چیز ایک سو روپے کی خرید رہا ہے تو یہ ان کا معاملہ ختم ہونے سے پہلے یا بعد میں کہے کہ میں یہ چیز اس سے کم قیمت میں دیتا ہے یا کوئی بیچنے والے کو کہے کہ میں اس سے زیادہ قیمت دیتا ہوں۔ اسلام میں یہ دونوں طریقے جائز نہیں۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور نہ اپنے بھائی کی شادی کے پیغام پر شادی کا پیغام  بھیجے مگر یہ کہ دوسرا شخص اسے اجازت دے دے۔ ( مسلم )۔
آخر میں حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ جیسے ایک بھائی اپنے بھائی کا خیر خواہ ہوتا ہے اسی طرح ہر مسلمان کو دوسرے مسلمان کا خیر خواہ ہونا چاہیے۔مسلمان اپنے مسلمان بھائی پر ظلم نہ کرے اور جب ضروت ہو اس کا ساتھ نہ چھوڑے اور اسے نفرت کی نظر سے نہ دیکھے۔ اسلامی معاشرت کے اصول ایک مکمل اور متوازن نظام پیش کرتے ہیں جو انسا ن کو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کی راہ دکھاتے ہیں۔

جمعرات، 7 مئی، 2026

اسلامی معاشرت کے اصول (۱)

 

 اسلامی معاشرت کے اصول (۱)

اسلامی معاشرت ان اصولوں پر قائم ہے جو انسان مہذب ، متوازن اور پْر امن زندگی گزارنے کا راستہ دکھاتے ہیں۔اسلامی معاشرت کا مقصد ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جہاں محبت ، احترام اور بھائی چارہ فروغ پائے۔ 
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی مکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک دوسرے پر حسد نہ کرو۔کوئی چیز خریدنے کا ارادہ نہ ہو اور کوئی دوسرا شخص خرید رہا ہو تو بلا وجہ اس کی بولی لگا کر قیمت نہ بڑھائو کہ وہ چیز اسے مہنگی ملے۔ آپس میں بغض نہ رکھو۔ ایک دوسرے سے منہ نہ موڑو۔کسی کی بیع پر کوئی شخص بیع نہ کرے۔اللہ کے بندو بھائی بھائی بن کر رہو۔ وہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے وہ مسلمان بھائی پر نہ ظلم کرتا ہے اور نہ اس کی مدد ترک کرتا ہے اور نہ اسے حقیر سمجھتا ہے۔ آپ ﷺنے سینے کی طرف اشارہ کر کے تین بار فرمایا تقوی یہاں ہے۔ انسان کے لیے اتنا گناہ ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔ ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون ، مال اور عزت حرام ہے۔ (مسلم )۔
 اس حدیث مبارکہ میں حضور نبی کریم ﷺ نے معاشرے کی چند بنیادی خرابیوں کی نشاندہی کی ہے جن کو معمولی سمجھا جاتا ہے اور انہیں نظر انداز کرتے ہوئے اہمیت نہیں دی جاتی۔ لیکن یہ وہ اخلاقی بیماریاں ہیں جن کی وجہ سے معاشری زوال پذیز ہوتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے حسد کرنے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔حسد سے مْراد یہ ہے کہ کسی کے پاس کوئی چیز دیکھ کر اس سے وہ چیز چھن جانے کی تمنا کرے۔حاسد بلا وجہ حسد کی آگ میں جلتا رہتا ہے اور اسے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہارے اندر اگلی امتوں کا ایک مرض گھس آیا ہے اور یہ حسد اور بغض کی بیماری ہے۔ یہ مونڈنے والی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ بال مونڈنے والی بلکہ یہ دین مونڈنے والی ہے (یعنی دین ختم کر دینے والی )۔
بخاری شریف کی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو روا نہیں کہ وہ کسی دوسرے مسلمان سے حسد کرے۔البتہ صرف دو آدمیوں سے رشک کرنے کی اجازت ہے ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو اور وہ دن رات اسے راہ خدا میں خرچ کرتا ہو اور دوسرا وہ جسے اللہ تعالیٰ نے علم عطا کیا ہو اور وہ دن رات اسے لوگوں تک پہنچاتا اور سناتا ہو۔ 
اس حدیث مبارکہ میں حسد کی مذمت اور رشک کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔حسد یہ ہے کہ کسی سے کوئی چیز چھن جانے کی تمنا کرنا اور رشک یہ کہ کسی کے پاس کوئی چیز دیکھ کر خوش ہونا ہے اور اس نعمت کے حصول کی خواہش رکھنا ہے۔

حج کی معنویت(۲)

  حج کی معنویت(۲) حضرت شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ حج کی حقیقت یہ ہے کہ ایک مخصوص وقت میں صالحین ، کا ایک عظیم اجتماع ہو جو انعام یافتہ لوگوں...