حج کی معنویت(۲)
حضرت شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ حج کی حقیقت یہ ہے کہ ایک مخصوص وقت میں صالحین ، کا ایک عظیم اجتماع ہو جو انعام یافتہ لوگوں یعنی انبیاء کرا م ، صدیقین ، شہدا اور صالحین کے احوال کو یاد کریں اور اس جگہ جمع ہوں جہاں اللہ تعالیٰ نشانیاں موجود ہیں۔ طہارت نفسانیہ کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ایسی جگہ رہائش اختیار کی جائے کہ صالحین ہمیشہ اس کی تعظیم کرتے ہوں۔ اور وہاں رہ کر اس جگہ کو اللہ تعالیٰ کی یاد سے آباد کرتے ہوں یہ اہل خیر کے حق میں ملائکہ کو متوجہ کرنے کا سبب ہے اور جب وہاں اترے گا تو ان کا رنگ اس پر بھی چڑھ جائے گا۔ میں نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ اللہ تعالی کا ذکر کرنا اور شعائراللہ کو دیکھنا اور ان کی تعظیم کرنا بھی اللہ تعالیٰ کے ذکر میں داخل ہے۔ (حجۃ البالغہ )۔
دراصل حج شعائر اللہ سے عقیدتیں پختہ کرنے ، ان کی تعظیم کرنے اور اس سے جذبہ عمل پیدا کرنے ہی کا نام ہے۔ بعض اوقات انسان دنیا کی ظاہری رنگینیوں میں کھو کر لمبے عرصے تک گناہوں میں مصروف رہتا ہے لیکن انسان کی زندگی میں ایک ایسا موڑ بھی آتا ہے جب انسان بالکل بدل جاتا ہے۔ حج بھی انسان کی زندگی میں ایسا موڑ ہے جب انسان کی زندگی کا رخ بدل جاتا ہے۔ احساس ذمہ داری اور رزق حلال حج پر جانے کے لیے ضروری ہے۔کیونکہ حج فرض ہی اسی وقت ہوتا ہے کہ بندے کے پاس اتنے پیسے ہوں کہ وہ حج کے اخراجات پورے کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی ضروریات کو پوری کر سکے۔ اس سے انسا ن میں احساسِ ذمہ داری پیدا ہوتا ہے اور سستی کرنے والا محنت سے روزی میں لگ جاتا ہے اور پھر وہ رزق حلال ہونا چاہیے کیونکہ حرام کمائی سے کیا گیا حج اللہ تعالیٰ کے ہاں باکل بھی قبول نہیں ہو گا۔
الترغیب الترہیب میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب حج کرنے والا حلال کمائی لیکر نکلتا ہے اور اپنا پائوں رکاب میں ڈالتا ہے اور’’لبیک اللھم لبیک ‘‘ کی صدا بلند کرتا ہے تو آسمان سے ایک منادی آواز دیتا ہے ’’لبیک و سعد یک ‘‘ تمہارا زادراہ حلال ہے، تمہاری سواری حلال ہے، تمہارا حج مبرور ہے، اس میں گناہ نہیں ہے اور جب وہ حرام مال سے حج کے لیے نکلتا ہے اور اپنا پائوں رکاب میں رکھتا ہے اور لبیک کہتا ہے تو آسمان سے ایک منادی آواز دیتا ہے، تمہارا لبیک کہنا قبول نہیں، تمہارا زاد راہ حرام ہے ، تمہارا خرچ حرام ہے، تمہارا حج گناہ ہے اور قبول نہیں۔ حج اپنے اہل خانہ کی ضروریات پوری کرنے اور حرام کی کمائی سے بچنے اور رزق حلال کی ترغیب دیتا ہے۔






