اتوار، 21 جولائی، 2024

Surah Ta-Ha (سُوۡرَةُ طٰه) Ayat 133-135 Part-03.کیا ہم ایمان باللہ کا مط...

ورفعنا لک ذکرک(۱)

 

ورفعنا لک ذکرک(۱)

اللہ تعالی نے انسانوں کی راہنمائی کے لیے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علیہم السلام مبعوث فرمائے۔ سارے انبیاء کرام بہت زیادہ شان و عظمت والے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض پر فضیلت بخشی۔
 ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’یہ رسول ہیں کہ ہم نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت عطا کی ان میں سے کسی سے اللہ نے کلام فرمایا اور کوئی وہ ہے جسے سب درجوں پر بلند کیا ‘‘۔(سورۃ البقرۃ :۲۵۳)
تمام انبیاء کرام میں سب سے اعلی اور بلند شان و مرتبہ پر فائز نبی کریم رئوف الرحیم کی ذات مبارکہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہم السلام کو صفی اللہ بنایا ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل اللہ بنایا ، حضرت عیسیٰ علیہم السلام کو روح اللہ بنایا ، حضرت موسیٰ علیہم السلام کو کلیم اللہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبیح اللہ بنا کر بھیجا۔ لیکن جب باری آئی امام الانبیاء خطیب الانبیاء نبی آخرالزماںؐکی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنا حبیب بنا کر بھیجا اور یہ اعلان فرمایا کہ ہم نے آپ کا ذکر بلند کر دیا ہے۔
 ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کر دیا ہے ‘‘( سورۃ الم نشرح : ۴)۔
حضور نبی کریم ﷺکی ذکر کی بلندی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ  پر ایمان لانا اور ان کی اطاعت کر نا مخلوق پر لازم قرار دیا۔ اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ایک ہونے کا اقرار کرتا ہے لیکن اس کی عبادت اس وقت تک قبول نہیں جب تک وہ حضور نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس پر ایمان نہ لے آئے اور آپ کی اطاعت نہ کرے۔
 ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ جس نے رسول کی اطاعت کی بیشک اس نے اللہ کی اطاعت کی ‘‘۔ ( سورۃ النساء: ۸۰)
حضور نبی کریم رؤف الرحیم  کے ذکر کی بلندی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ آپ ؐکا بھی ذکر کیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اذان ، اقامت ، نماز ، خطبے اور بہت ساری جگہوں پر اپنے ذکر کے ساتھ آپ کا ذکر فرمایا ہے۔ 
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے اس آیت مبارکہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آپ کے ذکر کی بلندی یہ ہے کہ جب بھی میرا ذکر کیا جائے گا تو میرے ساتھ آپ کابھی  ذ کر کیا جائے گا۔(جامع البیان)
حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کا ذکر دنیا و آخرت میں بلند کیا ، ہر خطیب اور ہر تشہد پڑھنے والا ’’اشھدان الاالہ الا اللہ ‘‘ کے ساتھ اشھد ان محمد رسول اللہ ‘‘ پکارتا ہے

توحید کیا اور کیوں؟ - Shortvideo

ہفتہ، 20 جولائی، 2024

Surah Ta-Ha (سُوۡرَةُ طٰه) Ayat 133-135 Part-02.کیا آج کا مسلمان برائے ن...

Surah Ta-Ha (سُوۡرَةُ طٰه) Ayat 133-135 Part-01.کیا ہمارے دل دنیا کی محب...

ارشادات امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ

 

ارشادات امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ

امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کا شمار تاریخ اسلام کے عظیم رہبروں اور رہنمائوں میں ہوتا ہے۔ہو بھی کیوں نہ۔ آپکی تربیت اس گھرانے میں ہوئی جس جیسا گھرانہ پوری کائنات میں نہ تھا نہ ہے اور نہ ہی ہوگا۔ آپ کے نانا جان امام الانبیاء ہیں ، آپ کے والد گرامی امام الا لیاء ہیں ، آپ کی والدہ ماجدہ سیدہ کائنات ہیں۔ جو ایسے عظیم گھرانے میں پلے بڑھے ہوں اور جن کی تربیت ان عظیم ہستیوں نے کی ہو تو ایسی ہستی کی سیرت و کردار قیامت تک کے آنے والے مسلمانوں کے لیے مشعل راہ اور بہترین نمونہ ہی ہو گی۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے چند اقوال جو ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔آپ فرماتے ہیں۔ 
۱: جس کام کو پورا کرنے کی طاقت نہ ہو اسے اپنے ذمہ مت لو۔ ۲: اپنے فائدے اور اپنی ضروریات کے مطابق خرچ کرو اور اپنے کام سے زیادہ بدلے اور اجر کی کبھی توقع نہ رکھو۔ ۳: جس چیز کو تم نہ سمجھ سکتے ہو اور نہ حاصل کر سکتے ہو اس کے درپَے پہ نہ ہو۔۴: مْروت یہ ہے کہ تم اپنے وعدے کو پورا کرو۔ ۵:جلد بازی حماقت ہے اور یہ انسان کی بد ترین کمزوری ہے۔ صلہ رحمی ایک بڑی نعمت ہے جس میں یہ نہ ہو وہ انسان نہیں۔ ۷: بہترین سکون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر خوش رہو۔ ۸: تین آدمی اللہ تعالی کے پڑوسی ہیں اول وہ جس کو فارغ وقت ملا ہو اور اس نے دو رکعت نفل پڑھے اور اپنے رب سے دعا کا طالب ہوا۔ دوسرا وہ جس نے مفلس ہونے کے باوجود  اپنی کمائی میں کوشش کی اور اپنے عیال کو خرچ بہم پہنچایا اسے رسول کریم ﷺ کی شفاعت نصیب ہو گی اور تیسرا وہ جس نے صرف اللہ تعالیٰ کے لیے دین اسلام قبول کیا اور آخری دم تک اس پر قائم رہا اسے جنت ملے گی۔ ۹: بردباری اور حلم انسان کی سیرت کو آراستہ کرتے ہیں۔ ۱۰: ذلیل اور بری ذہنیت کے لوگوں کی صحبت برائی کا مرکز ہے اور فاسق و فاجر لوگوں کی صحبت خود تمہاری سیرت کو مشکوک بنا دیتی ہے۔ ۱۱: بخیل ہمیشہ ذلیل ہوتا ہے۔ ۱۲: سب سے افضل صلہ رحمی یہ ہے کہ قطع تعلق کرنے والوں سے بھی صلہ رحمی کی جائے۔ ۱۳: امام اس وقت تک امام نہیں جب تک وہ آسمانی کتاب پر عمل نہ کرے۔ سختی کے ساتھ عدل نہ کرے اور انصاف کو دیانت داری کے ساتھ نہ برتے۔ ۱۴: سب سے زیادہ فیاض وہ ہے جو ایسے لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے جن سے اسے کوئی امید یا آسرا نہ ہو۔ ۱۵: بہترین مال وہ ہے جس سے عزت اور آبرو کو محفوظ رکھا جا سکے۔۱۶:تقوٰی اور نیکی سب سے بہتر زاد راہ ہیں۔ (خطبات امام حسین از ابن اثیر)۔

Shortvideo - توحید اور شرک

Surah Ta-Ha (سُوۡرَةُ طٰه) Ayat 130-132 Part-05.کیا ہمارے لئے تقوی کی زن...

Surah Ta-Ha (سُوۡرَةُ طٰه) Ayat 130-132 Part-04.کیا ہمیں اپنے رب کے خصوص...

جمعہ، 19 جولائی، 2024

یزیدیوں کا انجام

 

  یزیدیوں کا انجام

بعض اوقات انسان دنیا کی نعمتوں اور مقام و منصب کی لالچ میں آ کر اپنی دنیا و آخرت دونوں تباہ کر لیتا ہے اس کے ہاتھ میں دنیا بھی نہیں رہتی اور آخرت میں بھی اسے سخت عذاب ملے گا۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : دنیا کی محبت ہر برائی کی جڑ ہے۔ ( جامع صغیر)۔
سیدہ زینب ؓ نے جب یزید کے دربار میں خطبہ دیا تو کہا ’’حسین کے خون سے تم نے جس سلطنت کو پانی دیا ہے اس پر تیری اولاد بھی تھوکے گی‘‘۔ اور پھر ایسا ہی ہوا۔ انتالیس برس کی عمر میں یزید ہاتھ پائوں مارتا اور سر پٹختا درد قولنج میں اس طرح مبتلا ہوا کہ اگر ایک قطرہ پانی کا بھی حلق میں جاتا تو تیر بن کر اترتا۔ یزید بھوکا پیاسا تڑپ تڑپ کر مر گیا۔ 
اس کے بعد اس کے بیٹے نے بھی جلد ہی حکمرانی کو ٹھکرا دیا۔ اس کے بعد مختار ثقفی نے کوفہ کا اقتدار سنبھالا اور حکم دیا کہ قاتلان اہل بیت کو پکڑ کر لائو تا کہ امام حسین ؓ اور اس کے ساتھیوں کا بدلہ لیا جائے۔ جب سب کو پکڑ کر لایا گیا تو مختار نے غصے سے کہا تما م کوفیو ں کو بھی مار دوں پھر بھی امام حسینؓ کے خون کے ایک قطرے کی قیمت ادا نہیں ہو سکتی۔ 
عمرو سعد کو لایا گیا۔ اس نے ساری ذمہ داری یزید پر ڈال دی۔ عمرو اور اس کے دونوں بیٹوں کو مار دیا گیا۔ شمر کو پکڑ کر لایا گیا۔اس نے پیاس کی شدت میں پانی مانگا لیکن اسے کہا گیا وہ قبضہ فرات یاد کر جب تو نے اہل بیعت تک پانی نہیں پہنچنے دیا۔ پھر اس کی گردن بھی اڑا دی گئی۔ جس نے شہزادہ علی اصغر کو تیر مارا تھا اس پر تیروں کی بارش کر دی گئی۔ خولی کی بیوی نے اسے پکڑوایا اس کے دونوں ہاتھ اور پائوں کاٹ دیے گئے اور اس کا دھڑ پھینک دیا گیا۔ ابن زیاد کو بھی عبرت ناک موت دی گئی۔ تقریبا مختار ثقفی نے چھ ہزار کوفیوں کو قتل کیا۔ سنان بن انس نخعی نے ایک بارلوگوں میں کہا کہ میں نے امام حسینؓ کو قتل کیا ہے۔جب وہ گھر گیا اچانک اس کی زبان بند ہو گئی عقل ختم ہو گئی جہاں کھاتا تھا وہیں پیشاب و پاخانہ کر دیتا اور اسی حالت میں مر گیا۔ (طبقات ابن سعد )۔
عمارہ بن عمیر سے مروی ہے جب عبید اللہ بن زیاد اور اس کے ساتھیوں کے سر لا کر رکھے گئے تو ان کے پاس لوگ کہہ رہے تھے آ گیا آگیا۔ اچانک دیکھا ایک سانپ آیا وہ سب کے سروں کے درمیان سے نکلتا ہوا ابن زیاد کے نتھنوں میں میں داخل ہو گیا تھوڑی دیر بعد چلا گیا۔ پھر شور ہوا آگیا آگیا۔ دو یا تین مرتبہ اسی طرح ہوا۔ (ترمذی باب مناقب امام حسن و حسینؓ)۔

کیا آج کا مسلمان حقیقت سے غافل ہے؟ - Shortvideo

جمعرات، 18 جولائی، 2024

بدھ، 17 جولائی، 2024

واقعہ کربلا اور شہادتِ امام حسین ؓ(۴)

 

واقعہ کربلا اور شہادتِ امام حسین ؓ(۴)

اما م عالی مقام امام حسینؓ شہزادہ علی اصغر کو گود میں لیے پیار کر رہے تھے کہ ایک یزیدی لعین نے تیر پھینکا جو ننھے شہزادے کے گلے میں لگا۔ چھ ماہ کا ننھا علی اصغر بھی شہید ہو گیا۔ اس کے بعد امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ میدان میں نکلے۔ آپ کمال بہادری کے ساتھ یزیدیوں کے ساتھ لڑ رہے تھے شیروں کی طرح کوفیوں پر جھپٹتے اور ان کی صفحوں کو اپنے زور دار حملے سے الٹ پلٹ کر دیتے۔ اور فرماتے :تم لوگ میرے ہی قتل کے لیے جمع ہوئے ہو اللہ کی قسم مجھے قتل کرنے سے اللہ تم سے سخت ناراض ہو گا۔ اور تم پر اللہ تعالی کا عذاب نازل ہو گا۔ (ابن خلدون)

جب امام عالی مقام امام حسینؓ کوفیوں کی صفحوں کو الٹ پلٹ کر رہے تھے شمر یہ دیکھ کر بولا لعنت ہو تم پر۔ سب مل کر حملہ کرو۔ پھر ہر طرف سے تیروں کی بارش شروع ہو گئی۔ امام عالی مقام امام حسینؓ زخمی ہو گئے اور گھوڑے سے نیچے تشریف لے آئے۔ ایک یزیدی آپ کے سینہ مبارک پر سوا ر ہو گیا آپ نے اسے کہا نیچے اترو مجھے نماز پڑھنے دو۔ 
امام عالی مقام امام حسین پاک رضی اللہ تعالی عنہ نے سر سجدے میں رکھا تو یزیدی لعین نے تلوار سے آپ کا سر انور دھڑ سے جدا کردیا۔دس محرم الحرام جمعہ کے دن امام عالی مقام امام حسین ؓ شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہو گئے۔ آپ کے جسم اقدس پر تیروں کے زخموں کے تینتیس اور تلواروں کے زخموں کے تینتالیس نشان تھے۔ 
حضرت سلمیٰ فرماتی ہیں میں حضرت ام سلمیؓ کی خدمت میں حاضر ہو ئی وہ رو رہی تھیں۔ میں نے وجہ پوچھی تو آپ نے کہا میں نے حضور کو خواب میں دیکھا ہے آپ کی داڑھی مبارک اور سر انور پر گرد تھی۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ کیا ہوا ہے۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے حسین کو شہید کر دیا گیا ہے میں ابھی وہاں سے آیا ہو ں۔ امام عالی مقام امام حسین کہ عظیم شہادت کی خبر اللہ تعالی نے آپ کی زندگی میں ہی حضور نبی کریم ﷺ کو دے دی تھی۔ حضرت جبریل علیہ السلام مٹی لے کر حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی یارسول اللہ ﷺ یہ اس جگہ کی مٹی ہے جہاں امام عالی مقام امام حسینؓ کو شہید کیا جائے گا۔ آپ نے وہ مٹی حضرت ام سلمیٰ کو دی اور کہا جب اس مٹی کا رنگ سرخ ہو جائے توسمجھ لینا حضرت حسینؓ کو شہید کر دیا گیا ہے۔ حضرت ام سلمیٰ نے جب وہ مٹی دیکھی تو اس کا رنگ سرخ ہو چکا تھا۔ 
شاہ است حسین بادشاہ است 
دین است حسین دین پناہ است حسین 
سرداد نہ داد دست در دست یزید 
حقا کہ بنائے لاالہ است حسین

واقعہ کربلا اور شہادتِ امام حسین ؓ(۳)

 

واقعہ کربلا اور شہادتِ امام حسین ؓ(۳)

امام عالی مقام امام حسین ؓ اور آپ کے ساتھیوں نے ساری رات عبادت اور اللہ تعالی سے دعا میں گزاری۔ صبح ہوئی تو آپ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ نماز فجر ادا کی یہ دس محرم اور جمعہ کا دن تھا۔ اس کے بعد آپ اپنی سواری پر سوار ہو کر یزیدی لشکر کی طرف چلے گئے اور ان سے خطاب فرمایا۔ 
آپ نے حمدو ثناءکے بعد دورد پاک پڑھا اور یزیدیوں سے کہا میرے نسب پر غور کرو دیکھو میں کون ہو ں۔ کیا میرا قتل کرنا اور میری آبرو ریزی کرنا تم پر جائز ہے ؟ کیا میں تمہارے نبی کا نواسہ نہیں ہوں؟کیا تم کو یہ اطلاع نہیں پہنچی کہ رسول کریمﷺ نے میرے اور میرے بھائی حسن ؓ کے حق میں فرمایا کہ تم دونوں جنت کے نوجوانوں کے سردار ہو۔ جو میں تم سے کہہ رہا ہوں اس کی تصدیق کرو۔ میں کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔ لیکن آپ کے خطاب کا یزیدی لشکر پر کوئی اثر نہ ہوا۔ جب حر کو اس بات کا علم ہوا کہ یزید امام حسین ؓ کو شہید کرنے کا ارادہ کر چکا ہے تو آپ یزیدی لشکر سے الگ ہو کر امام حسین ؓ کے پاس تشریف لائے اور عرض کی میں ہی ہوں جس نے آپ کو واپس نہیں جانے دیا میں آپ سے معافی چاہتا ہو ں اور توبہ کرتا ہوں۔اور آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کی مدد کرنا اور آپ پر جان قربان کرنا چاہتا ہوں۔ امام حسین ؓ نے فرمایااللہ تعالیٰ تمہاری توبہ قبول فرمائے اور لغزشوں کو معاف فرمائے۔ آپ نے حر کو معاف کر دیا۔ اسکے بعد حر نے جنگ میں شامل ہونے اور یزیدی لشکر کے سامنے جانے کی اجازت مانگی امام حسینؓ نے اجازت دی۔ حر نے کوفیوں کو مخاطب کر کے کہا افسوس ہے کہ تم خود امام حسینؓ کو بلا کر اب شہید کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہو۔ تم نے ان پر پانی بند کر دیا ہے تم نے اہل بیت کے ساتھ کیسا سلوک کر رکھا ہے۔ کوفیوں نے جواب دینے کی بجائے تیر برسا دیے۔اس کے بعد عمرو بن سعد نے تیر چلایا اور کہنے لگا لوگو گواہ رہنا۔ سب سے پہلا تیر میں نے چلایا تھا۔ اس طرح جنگ شروع ہوئی امام عالی مقام امام حسین ؓ کے ساتھی بہادری کے ساتھ میدان میں اترتے اور کوفیوں کو قتل کرتے آگے بڑھتے گئے۔ اہل بیت میں سب سے پہلے حضرت علی اکبر ؓ میدان میں اترے اور بہادری کے ساتھ کوفیوں کا مقابلہ کرتے رہے ایک کوفی نے آپ کو نیزہ مارا جس سے آپ زمین پر آ گرے اور کوفیوں نے آپ کو شہید کر دیا۔ حضرت عباس ، عبید اللہ بن عمیر، عون بن عبدا للہ ، محمد بن عبداللہ،عبدالرحمن بن عقیل ، حضرت قاسم ،ابو بکر بن حسین سب کوفیوں کا مقابلہ کرتے شہید ہو گئے۔

Surah Ta-Ha (سُوۡرَةُ طٰه) Ayat 128.کیا ہم اپنی منزل بھٹک گئے ہیں

Surah Ta-Ha (سُوۡرَةُ طٰه) Ayat 122-127 Part-05.کیا ہم صرف دنیا دار لوگ ہیں

منگل، 16 جولائی، 2024

واقعہ کربلا اور شہادتِ امام حسین ؓ(۲)

 

واقعہ کربلا اور شہادتِ امام حسین ؓ(۲)

جب امام حسینؓ نے کوفہ روانہ ہونے کا ارادہ کیا توحضرت عبداللہ بن عباسؓ نے آپؓ کو روکا کہ آپ وہاں نہ جائیں مجھے ڈر ہے کہ وہاں کے لوگ آپ کو دھوکہ دیں گے آپ کو جھٹلائیں گے اور آپ کی مخالفت کریںگے۔ اگر انہوں نے حملہ کیا تو وہ سخت تر ہو گا۔ آپ نے فرمایا میں خدا سے خیر کا طالب ہوں۔ آپ سفر پر روانہ ہوئے تو راستے میں بھی آپ کو روکنے کی کوشش کی گئی لیکن آپ نے فرمایا‘ میرے ناناکے دین کو میری ضرورت ہے اور کوفہ کے لوگ مجھے پکار رہے ہیں لہذا میں اپنا سفر ترک نہیں کر سکتا۔ راستے میں صفاح کے مقام پر فرزدق بن غالب شاعر ملا جو عراق سے آیا تھا۔ آپ نے اس سے وہاں کے حالات کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا لوگوں کے دل آپؓ کی طرف اور تلواریں بنو امیہ کی طرف ہیں اور حکم خدا کے ہاتھ میں ہے ۔
چلتے چلتے آپ کا قافلہ ایک مقام پر پہنچا وہاں آپ نے ڈیرے لگائے آپ نے پوچھا یہ کون سی جگہ ہے۔ بتایا گیا اس جگہ کا نام کربلا ہے۔ آپؓ نے فرمایا یہ زمین کرب و بلا کی ہے۔ (ابن خلدون ) 
ابن زیاد نے عمرو بن سعد بن وقاص کو فوج کا سپہ سالار بنا کر امام عالی مقام ؓ کے پیچھے بھیجا۔ ابن زیاد نے سعد بن عمرو کو خط لکھا کہ امام عالی مقام ؓاور آپ کے رفقاء یزید کے ہاتھ پر بیعت کریں تو پھر ہم جیسے مناسب سمجھیں گے کریں گے ۔ ساتھ ہی ابن زیاد نے لکھا کہ امام حسین ؓ پر پانی بند کر دیا جائے تھوڑا سا پانی بھی آپؓ کے پاس نہ پہنچ سکے۔ آپؓ کی شہادت سے تین دن پہلے آپ ؓ پر پانی بند کیا گیا ۔ 
نو محرم کو نماز عصر کے بعد ابن سعد نے امام عالی مقام امام حسین ؓ پر چڑھائی کر دی۔ اس وقت آپ اپنے خیمے میں بیٹھے تھے۔ آپ نے ابن سعد کو پیغام بھیجا کہ ہمیں آج کی رات مہلت دو ہم اپنے رب کے حضور استغفار اور دعا کر لیں‘ نماز پڑھ لیں اور تلاوت قرآن پاک کر لیں۔ صبح وہ ہو گا جو ہونے والا ہے ۔ (ابن خلدون ) ۔ 
اما م عالی مقام امام حسینؓ نے اپنے ساتھیوں کو خطبہ دیا۔ میں اپنے ساتھیوں کو سب سے بہترین سمجھتا ہوں۔ میرے اہل بیت سے زیادہ کوئی نیک نہیں اور نہ ہی ان سے زیادہ رشتوں کا پاس رکھنے والے ہیں۔ مجھے یقین ہے یہ لوگ صبح مجھے شہید کر دیں گے۔ یہ سب صرف میرے خون کے پیاسے ہیں۔ میں تمہیں بخوشی اجازت دیتا ہوں تم سب واپس لوٹ جائو اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ لیکن آپ کے رفقاء نے آپ کو تنہا چھوڑ کر جانے سے انکار کر دیا۔ 

Surah Ta-Ha (سُوۡرَةُ طٰه) Ayat 122-127 Part-04.ڈپریشن کاآسان علاج

Surah Ta-Ha (سُوۡرَةُ طٰه) Ayat 122-127 Pt-03.کیا ہم نے اپنے رب سے بے وف...

پیر، 15 جولائی، 2024

واقعہ کربلا اور شہادتِ امام حسین ؓ(۱)

 

واقعہ کربلا اور شہادتِ امام حسین ؓ(۱)

یزید نے اپنے والد کی وفات کے بعد جب منصب سنبھالا تو سب سے پہلے اس نے بیعت لینے کا فیصلہ کیا ۔ اس مقصد کے لیے اس نے مدینہ منورہ کے گورنر ولید بن عتبہ بن ابو سفیان کو بھی خط لکھا کہ وہ مدینہ منورہ کے لوگوں سے بیعت لے۔ خاص طور پر حضرت امام حسین ؓ ، عبداللہ بن زبیر ؓ اور عبد اللہ بن عمر ؓ سے ضرور بیعت لے اور ان کو مہلت نہ دے۔
ولید بن عتبہ نے حضرت امام حسین ؓ اور عبد اللہ بن زبیر ؓ  کو بلایا ۔ امام عالی مقام امام حسین ؓ اپنے رشتے داروںاور خادموں کو ساتھ لیکر گئے اور سب کو باہر چھوڑ کر خود اندر گئے ۔ گورنر نے یزید کا خط پڑھ کر امام حسینؓ کو سنایا اور امیر معاویہؓ کے مرنے کی خبر دی ۔ حضرت امام حسین ؓ نے فرمایا ۔میں پوشیدہ طور پر بیعت نہیں کروں گا جب مجمع میں آکر تم سب سے بیعت لو تو مجھے بھی بیعت کے لیے کہنا۔ آپؓنے بیعت کرنے سے انکار کر دیا اور وہاں سے چلے گئے ۔ (طبری)
حضرت عبد اللہ بن زبیر نے رات کی مہلت مانگی تو آپ رات کو مکہ معظمہ کی طرف چلے گئے ۔ جب حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ  کو بیعت کے لیے بلایا گیا تو آپ نے فرمایا ‘جلدی کیا ہے جس ہاتھ پر سب مسلمان بیعت کریں گے میں بھی کر لو ں گا خواہ وہ حبشی ہی کیوں نہ ہو ۔(ابن خلدون)
دوسری رات حضرت امام حسین ؓ اپنے بیٹوں ، بھائیوں اور بھتیجوں کے ساتھ مدینہ منورہ سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے ۔ جب کوفیوں کو اس بات کا علم ہوا کہ آپ مکہ تشریف لے گئے ہیں تو انہوں نے آپ  ؓ کو خط لکھے کہ آپ یہاں تشریف لائیں ہم نے نعمان بن بشیر کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی اور نہ ہی ان کے ساتھ جمعہ اور عید میں شریک ہوئے ۔(ابن خلدون ) 
خطوط ملنے کے بعد اما م عالی مقام اما م حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیلؓ کو سفیر بنا کر کوفہ روانہ کیا اور وہاںکی صورتحال سے آگاہ کرنے کو کہا ۔ حضرت مسلم بن عقیل جب وہاں پہنچے تو کوفہ کے لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کرنا شروع کردی۔ تقریبا بارہ ہزار لوگوں نے آپکے ہاتھ پر بیعت کی ۔حضرت مسلم بن عقیلؓ نے امام عالی مقام کو خط لکھا کہ وہ کوفہ تشریف لے آئیں‘ کوفہ کے لوگ آپ کی بیعت کرنا چاہتے ہیں ۔ جب ابن زیاد کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے لوگوں کو ڈرا دھمکا کر حضرت مسلم بن عقیلؓ سے دور رہنے کو کہا اور آپ کو پناہ دینے والے حضرت ہانی کو گرفتار کر لیا اور بعد میں حضرت مسلم بن عقیلؓ کو بھی گرفتار کر کے دونوں کو شہید کر دیا ۔ 

Surah Ta-Ha (سُوۡرَةُ طٰه) Ayat 122-127 Part-2. کیا آسمانی ہدایت کی ہمار...

Surah Ta-Ha (سُوۡرَةُ طٰه) Ayat 122-124 Part-01.ہدایت کی ضرورت اور وضاحت

اتوار، 14 جولائی، 2024

شان و عظمت و فضائل اہل بیت(۲)

 

شان و عظمت و فضائل اہل بیت(۲)

مولا علی المرتضی شیر خدا رضی اللہ تعالی عنہ :حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کہ جس نے حضرت علیؓ سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اللہ تعالی اس سے محبت فرمائے گا۔ اور جس نے حضرت علیؓ کے ساتھ بغض رکھا اس نے میرے ساتھ بغض رکھا اور جس نے میرے ساتھ بغض رکھا اس پر اللہ تعالی کا غضب ہوگا۔ (طبرانی)۔
حضرت زر بن جیش ؓ سے مروی ہے کہ حضرت علی نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔بیشک نبی مکرم ﷺ نے مجھ سے یہ عہد کیا ہے کہ مومن مجھ سے محبت رکھے گا اور منافق مجھ سے بغض رکھے گا۔ ( مسلم، ترمذی )۔
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں جس کا محبوب ہوں علی ؓ اس کے محبوب ہیں۔ (ترمذی)۔
سیدہ کائنات فاطمة الزہرا رضی اللہ تعالی عنہا :حضور نبی کریم ﷺ کو جہاں بھر سے سب سے زیادہ محبت حضرت فاطمہؓ سے تھی۔ آپ جب حضور نبی کریم ﷺ کی باگاہ میں حاضر ہوتیں تو نبی کریم ﷺ کھڑے ہو کر آپ کا استقبال کرتے۔آپ نے فرمایا مجھے ابنی بیٹی سے جنت کی خوشبو آتی ہے۔حضور نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا فاطمہؓ جنتی عورتوں کی سردار ہیں۔ایک موقع پر حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : فاطمہؓ میرے جگر کا ٹکڑا ہے۔ جس نے اسے ناراض کیااس نے مجھے ناراض کیا۔(بخاری ، مسلم )۔
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : فاطمہؓ میرے جسم کا حصہ ہے جس نے اسے غضب ناک کیا اس نے مجھے غضب ناک کیا۔ ایک روایت میں ہے کہ جس نے اسے اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی۔ ( بخاری ، مسلم )۔
حسنین کریمین رضی اللہ تعالی عہہم :سرور کائنات حضور نبی کریم ﷺ کو اپنے دونوں نواسوں سے بہت زیادہ محبت و الفت تھی۔ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضور نبی کریم ﷺ سے عرض کی گئی آپ کو اہل بیت میں سب سے زیادہ کس سے پیار ہے۔ آپ نے فرمایا حسن ؓ اور حسینؓ سے مجھے بہت زیادہ پیار ہے۔ حضرت فاطمہ ؓسے حضور نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے میرے بیٹوں کو میرے پاس لائے۔ آپ دونوں شہزادوں کو سینہ مبارک پر بٹھا لیتے تھے اور جسم کو سونگتے تھے۔ (ترمذی )۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺنے فرمایا : بیشک حسن ؓ اور حسین ؓ دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔( مشکوٰہ شریف)۔

Surah Ta-Ha (سُوۡرَةُ طٰه) Ayat 120-121.کیا ہم اپنے رب کے نافرمان ہیں

Surah Ta-Ha (سُوۡرَةُ طٰه) Ayat 116-119 Part-02.میرا سچا دشمن کون

ہفتہ، 13 جولائی، 2024

شان و عظمت و فضائل اہل بیت(۱)

 

شان و عظمت و فضائل اہل بیت(۱)

ارشاد باری تعالیٰ ہے : اے نبی (ﷺ) کے گھر والو! بس اللہ یہی چاہتا ہے کہ تم سے دور کر دے نا پاکی کو اور تمہیں پوری طرح پاک صاف کر دے۔ (سورة الاحزاب )۔
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے حضور نبی کریم حج کے دوران عرفہ کے دن اپنی اونٹنی قصوا پر بیٹھ کر خطبہ دے رہے تھے۔ آپ نے فرمایا اے لوگو میں تم میں ایسی چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں اگر تم ان سے وابستہ رہو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔ ایک اللہ تعالی کی کتاب قرآن مجید اور دوسری میرے اہل بیت۔ ( سنن ترمذی )۔
حضرت ابو ذر ؓسے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میرے اہل بیت کی مثال حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی طرح ہے جو اس میں سوار ہو گیا وہ بچ گیا اور جس نے اسے چھوڑ دیا وہ ہلاک ہو گیا۔ ( المعجم الکبیر )۔ارشاد باری تعالی ہے : اے محبوب (ﷺ) آپ ان سے فرما دیجیے کہ آﺅ ہم بلا لائیں اپنے اپنے بیٹوں کو اور اپنی اپنی عورتوں کو اور اپنی اپنی جانوں کو۔ پھر مباہلہ کریں تو جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں۔ ( سورة آل عمرآن : ۱۶)۔
یہ آیت مباہلہ اس وقت نازل ہوئی جب نجران کے عیسائیوں کا وفد حضور نبی کریمﷺ کی بارگاہ میں مناظرہ کی غرض سے حاضر ہوا لیکن مناظرہ میں لا جواب ہو گیا اور لڑائی جھگڑے پر اتر آیا۔ تو اللہ تعالی نے حضور نبی کریم ﷺ کو ان سے مباہلہ کر نے کا حکم فرمایا کہ ان سے کہیں اپنے بیٹو ں اور عورتوں کو لے کر کھلے میدان میں آجاﺅ اور اللہ سے دعا کریں گے۔ جو جھوٹا ہو گا اللہ اسے تباہ کر دے گا۔ 
مقررہ دن عیسائی بڑے بڑے پادریوں کو لے کر میدان میں آ گئے۔ حضور نبی کریم ﷺ اس شان و عظمت کے ساتھ تشریف لائے کہ گود میں سیدنا امام حسین ؓ، دائیں طرف ہاتھ پکڑے ہوئے سیدنا امام حسن مجتبی ؓاور سیدہ کائنات فاطمة الزہراہ سلام اللہ علیہا اور حضرت علی ؓپیچھے پیچھے ہیں۔ حضور نبی کریم ﷺ ان سے فرما رہے تھے جب میں دعا کروں تو تم سب نے آمین کہنا ہے اورپھر اللہ تعالی کی بارگاہ میں عرض کی یا اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں۔ ( مشکوٰة شریف)۔
جب عیسائیوں کے بڑے پادری نے نورانی چہروں کو دیکھا تو کہنے لگا اے عیسائیو میں ایسے چہروں کو دیکھ رہا ہوں اگر یہ اللہ تعالی سے سوال کریں تو اللہ تعالی پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹا دے۔ خدا کے لیے ان سے مقابلہ نہ کرو ورنہ ہلاک ہو جاﺅ گے اور زمین پرقیامت تک کوئی نجرانی عیسائی باقی نہیں رہے گا۔ یہ سن کر عسائیوں نے جزیہ دینا منظور کر لیا اور مقابلہ نہ کیا۔ ا سکے بعد حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا خدا کی قسم اللہ کا عذاب ان کے قریب آچکا تھا اگر مجھ سے مقابلہ کرتے تو بندروں اور سوروں کی شکل میں مسخ کر دیے جاتے۔

جمعہ، 12 جولائی، 2024

Surah Ta-Ha (سُوۡرَةُ طٰه) Ayat 116-117 Part-01.کیا ہم نے شیطان سے دوستی...

Surah Ta-Ha (سُوۡرَةُ طٰه) Ayat 114-115.کیا ہم نے قرآن سے اپنا رخ پھیر ل...

محبت اہل بیت

 

محبت اہل بیت

  محبت رسولﷺ نہ صرف کامل ایمان کی دلیل ہے بلکہ اتحاد امت کا واحد ذریعہ بھی ہے۔حضور نبی کریم ﷺ سے محبت کا حقیقی اور لازمی تقاضا یہ ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ سے جڑے ہر رشتے اور ہرشئے سے محبت کریں۔ حضور نبی کریم ﷺ سے کامل محبت یہ ہی ہے کہ ہم اہل بیت اطہار ، ازواج مطہرات اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھی محبت و عقیدت رکھیں اور دل و جان سے ان کی عزت کریں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :(اے محبوب ؐ) آپ فرما دیجیے کہ میں اس ( تبلیغ رسالت ) پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا سوائے قرابت کی محبت کے۔ ( سورۃ الشورٰی :۲۳)۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نہ اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ تمام قریش میں رسول اللہ ؐ کی قرابت تھی ، جب قریش نے آپ کی رسالت کی تکذیب کی اور آپ کی اتباع کرنے سے انکار کر دیا تو آپ نے فرمایا : اے میری قوم !جب تم نے میری اتباع کرنے سے انکار کر دیا ہے تو تمہارے اندر جو میری قرابت ہے اس کی حفاظت کرو یعنی اس قرابت کی وجہ سے مجھے اذیت نہ دو اور مجھے نقصان نہ پہنچائواور تمہارے علاوہ دوسرے عرب قبائل میری حفاظت کرنے میں اور میری مدد کرنے میں زیادہ راجح نہیں ہیں۔(المعجم الکبیر )۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی تو مسلمانوں نے حضور نبی کریم ﷺ سے عرض کی اے اللہ کے محبوب  آپ کے وہ قرابت دار کون ہیں جن سے محبت کرنا ہم پر واجب ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا علی رضی اللہ عنہ  اور انکے دونوں بیٹے حسنین کریمین رضی اللہ تعالی عنہم۔(المعجم الکبیر ) 
حضرت ابن عباس سے مروی ہے حضور نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی سے محبت رکھو کیونکہ وہ اپنی نعمتوں سے تم کو غذا دیتا ہے اور اللہ سے محبت کی وجہ سے مجھ سے محبت رکھو اور میری محبت کی وجہ سے میرے اہل بیت سے محبت رکھو۔ ( سنن ترمذی ) 
حضرت زید بن ارقم سے مروی ہے حضور نبی کریم ؐ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے متعلق ارشاد فرمایا : جو ان سے جنگ کرے گا میں اس سے جنگ کروں گا اور جو ان سے صلح رکھے گا میں اس سے صلح رکھوں گا۔ (ترمذی ، ابن ماجہ ) 
حضرت عبد المطلب بن ربیعہ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا : کسی شخص کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوتا مگر اہل بیت کی محبت کے ساتھ۔ ( ترمذی )۔حضرت بو سعیدخدری ؓسے مروی ہے حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد  فرمایا :جس کسی نے اہل بیت سے بغض رکھا اللہ نے اسے جہنم میں ڈالا۔ ( مستدرک زرقانی )۔

Shortvideo - کیا ہم اللہ تعالی کے ساتھ غیر مخلص ہیں؟

جمعرات، 11 جولائی، 2024

Surah Ta-Ha (سُوۡرَةُ طٰه) Ayat 105-113.کیا ہم مومنانہ روش اپنانے سے عمل...

Surah Ta-Ha (سُوۡرَةُ طٰه) Ayat 99-104.کیا ہم اپنے رب سے کٹ کر زندگی گزا...

صحت : نعمت الٰہی

 

صحت : نعمت الٰہی

اللہ تعالی نے انسان کو بے شما ر نعمتوں اور انعامات سے نوازا ہے جس میں ایک نعمت صحت و تندرستی بھی ہے۔ حضور نبی کریم ﷺنے جسمانی صحت کا خیال رکھنے کے لیے بہت بار حکم فرمایا ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا : یقینا تمہارے جسم کا تم پر حق ہے “۔(بخاری ، مسلم )۔ 
اللہ تعالی نہ ہی ایسے لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اپنی جسمانی صحت کا خیال نہیں رکھتے اور زہدو تقوی کے نام پر دنیا کو چھوڑ کر جسم کی پاکیزگی ، غذا ، صفائی ، طہارت اور دیگر جسمانی ضروریات کا خیال نہیں رکھتے اور نہ ہی اسلام میں ایسے لوگوں کو پسند کیا جاتا ہے جو اپنی زندگی کا مقصد ہی کھانا پینا اور جسم کی پرورش سمجھتے ہیں۔ دین اسلام میں ہر حکم انسانی صحت کی نشوو نما میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔نماز ، روزہ ، کھانے پینے کے آدا ب ، سونے اور جاگنے کے آداب اور لباس پہننے سے متعلق احکام انسانی صحت پر اچھے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اگر انسان صحت مندہے تو وہ اچھے اور احسن طریقے سے عبادت کرسکتا ہے اور اپنی زندگی کے معاملات کو بھی اچھے طریقے سے دیکھ سکتا ہے۔ اس کے بر عکس انسان صحت مند نہ ہو تو وہ نہ ہی عبادت اچھے طریقے سے کر سکتا ہے اورنہ ہی باقی معاملات زندگی کو احسن انداز میں چلا سکتا ہے۔ 
اللہ تعالی نے اپنے احکامات کے ذریعے انسانی صحت کی فلاح کا اہتمام کیا ہے۔ اللہ تعالی اپنے بندوں سے بے حد پیار فرماتا ہے اس لیے وہ اس بات کو پسند فرماتا ہے کہ اس کے بندے صحت مند رہیں۔ اسلام دین فطرت ہے اس لیے اس میں روح کی بالیدگی اور بہتر جسمانی نشو و نما کے لیے واضح خطوط کا تعین کیاگیا ہے۔ 
اللہ تعالی نے دنیا میں ہر چیز کے جوڑے پیدا کیے ہیں۔ لیکن ان میں سے ایک چیز اللہ تعالی کو پسند ہے اور دوسری ناپسندہے۔ یعنی اللہ تعالی کو تقوی و پرہیز پسند ہے اور فسق و فجور نا پسند ہے ، ایمان پسند ہے اور کفر نا پسند ہے اسی طرح صحت اللہ تعالی کو پسند ہے اوربیماری نا پسند کیوں کہ صحت و تندرستی پر ہی عبادت و ریاضت اور دینی و دنیوی معاملات کا دارو مدار ہے۔ 
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ جن چیزوں کا سوال کرتا ہے ان میں محبوب ترین عافیت کا سوال ہے۔ 
حضور نبی مکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس انسان میں تین باتیں پائی جاتی ہوں ایسا ہی ہے جیسے اسے پوری دنیا کی نعمتیں سمیٹ کردے دی گئی ہوں۔ جس شخص نے صبح اس حالت میں کی کہ اسے جسمانی صحت حاصل ہے اور وہ اپنے گھر میں خوش ہے اور اس کے پاس ایک دن گزارنے کے لیے مال ہے اس کو دنیا سمیٹ کر دے دی گئی ہے۔(ترمذی ، ابن ماجہ)۔

Surah Ta-Ha (سُوۡرَةُ طٰه) Ayat 90-98.کیا ہم اللہ تعالی کو الہ واحد مانن...

بدھ، 10 جولائی، 2024

توبۃ النصوح کیا ہے؟- Shortvideo

حضرت سیدنا فاروق اعظمؓ(۲)

 

حضرت سیدنا فاروق اعظمؓ(۲)

حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا اللہ تعالی نے عمر ؓ کی زبان پر حق کو جاری فرمادیا ہے( ابو داﺅد )۔ آپ نے فرمایا : ہر امت میں ایک محدث ہوتا ہے میری امت میں اگر کوئی محدث ہے تو وہ عمر بن خطابؓ ہیں۔ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا جس راہ سے عمر ؓ گزریں شیطان اس راہ سے نہیں گزرتا۔
سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے ساری زندگی اتباع رسول صلی اللہ علیہ و سلّم میں گزاری اور کوئی بھی ایسا کام سر انجام نہیں دیا جو شریعت مطہرہ اور سنت رسول کے خلاف ہو۔حضرت سیدنا خبیر بن نفیر فرماتے ہیں میں ایک مرتبہ حضرت شر حبیل بن سمطؓ کے ساتھ سفر پر گیا تو ایک مقام پر انہوں نے دو نوافل ادا کیے میں نے اس کی وجہ پوچھی تو انہوںنے کہا میں نے سیدنا فاروق اعظم ؓ کو مقام ذوالحلیفہ میں اسی طرح دو رکعت نفل پڑھتے دیکھا تو میں نے اس کی کی وجہ دریافت کی تو سیدنا فاروق اعظم ؓنے فرمایا میں وہی کر رہا ہوں جو میں نے حضور نبی کریم ﷺ کو کرتے دیکھا ہے۔ (مسلم ) 
 آپ نے عاجزی و انکساری اور سادگی کے ساتھ اپنی زندگی بسر کی۔حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں سیدنا فاروق اعظم ؓ جب کہیں سفر پر جاتے تو راستے میں آرام فرمانے کے لیے مٹی کا ڈھیر لگا لیتے اوراس پر کپڑا بچھا کر آرام فرماتے۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ )۔
 آپ جب حج کے لیے مکہ مکرمہ روانہ ہوئے تو جہاں کہیں پڑاﺅ کرنا ہوتا کوئی خیمہ نہ لگاتے اور نہ ہی قنات بلکہ درخت پر چٹائی یا کپڑا ڈال کر اس کے سائے میں بیٹھ جاتے۔ (تاریخ ابن عساکر )۔سیدنا فاروق اعظم ؓ فرماتے ہیں جب بندہ اللہ تعالی کے لیے توضع اختیار کرتا ہے تو اللہ اس کی قدرو منزلت کو بڑھا دیتا ہے۔ ( احیا ءالعلوم )۔
آپ کو حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں مشیر مقبول اور مقرب خاص کی حثییت حاصل تھی آپ جو بھی عرض کرتے آپ قبول فرماتے۔ایک غزوہ کے موقع پر خوراک کی کمی کی وجہ سے حضور نبی کریمﷺ نے فوج کی تعداد کے مطابق اونٹ ذبح کرنے کا حکم فرمایا تو عمر فاروقؓ نے عرض کی یارسول اللہ اس طرح سواریاں کم پڑ جائیں گی اور فوج کو مشکلات پیش آئیں گی۔ آپ سب صحابہ کرام ؓ سے بچی ہوئی خوراک جمع کریں اور اللہ تعالی سے اس میں برکت کی دعا فرمائیں۔ آپ نے ایسا ہی کیا اور طعام میں کوئی کمی نہ آئی۔ آپ نے اس پر خوشی کا اظہار فرمایا اور فرمایا : میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک میں اللہ کا رسول ہوں۔ ( بخاری شریف)۔
بہت سارے احکام اللہ تعالی نے آپ کی خواہش پر نازل فرمائے جیسا کہ پردے کاحکم ، شراب کی حرمت اور مقام ابراہیم کو جائےمصلہ بنانے کا حکم۔

کیا ہمیں خالص توبہ کی ضرورت ہے؟ - Shortvideo

منگل، 9 جولائی، 2024

حضرت سیدنا فاروق اعظم ؓ(۱)

 

حضرت سیدنا فاروق اعظم ؓ(۱)

حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ مراد رسولؐ بھی ہیں اور مرید رسولؐ بھی۔ آپؓ کا قلب اطہر اللہ تعالیٰ کے انوار سے روشن تھا۔ آپؓ نے حضور نبی کریمﷺ رشدسے و ہدایت اور روشنی حاصل کی اور بعد میں خود بھی نورو ہدایت کاسر چشمہ بن گئے۔
حضور نبی کریمﷺ نے بارگاہ الٰہی میں دعا فرمائی، اے اللہ، اسلام کو عمر بن خطاب یا پھر عمر وبن ہشام (ابو جہل ) کے ساتھ عزت عطا فرما۔ ایک دن سیدنا فاروق اعظم ؓ کو ایک شخص نے کہا کہ تمھارے بہنوئی اور تمھاری بہن نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ یہ سن کر تیزی سے اپنی بہن کے گھر چلے گئے ۔ اس وقت آپؓ کی بہن اور آپؓ کے بہنوئی قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے۔ جب آپؓ گھر پہنچے تو پوچھا کہ تم لوگ کچھ پڑھ رہے تھے تم دونوں اپنا دین ترک کر چکے ہو۔ آپؓ کی بہن نے کہا، اے عمر، حق وہ نہیں جو تمھارا عقیدہ ہے۔ میرا عقیدہ یہ ہے کہ میں گواہی دیتی ہوں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضورؐ اللہ کے آخری رسول ہیں۔ آپؓ نے پوچھا، جو کتا ب تم لوگ پڑھ رہے تھے وہ مجھے بھی دو میں پڑھنا چاہتا ہوں۔ آپؓ کی بہن نے کہا، اسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں۔ تم وضو یا غسل کر لو پھر اسے چھونا آپ نے اٹھ کر وضو کیا اور قرآن مجید سے سورۃ طٰحہ کی تلاوت شروع فرمائی۔ جیسے جیسے تلاوت قرآن مجید پڑھتے گئے دل میں قبول اسلام کی شمع روشن ہوتی چلی گئی۔ آپؓ نے کہا، مجھے آپؐ کی بارگاہ میں لے چلیں۔ آپ ؓ نے حضور نبی کریمﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اسلام قبول فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کریمﷺکی دعا کو قبول فرما کر اسلام کو عزت عطا فرمائی۔ 
 جس دن آپؓ نے اسلام قبول فرمایا تو حضور نبی کریمﷺ نے آپ کے سینہ پر تین بار ہاتھ مارکر ارشاد فرمایا: اے اللہ، عمر کے سینے میں جو بھی اسلام کی دشمنی ہے اسے نکال کر ایمان سے تبدیل کر دے ۔ ( معجم کبیر ) 
 جب حضرت سیدنا فاروق اعظمؓ نے اسلام قبول فرمایا تو جبریل امین آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی عمر بن خطاب ؓ کے اسلام لانے پر آسمان والے ایک دوسرے کو مبارک دے رہے ہیں۔ ( ابن ماجہ ) 
ابتدائے اسلام میں مسلمان چھپ کر عبات کیا کرتے تھے لیکن آپ ؓ کے اسلام قبول کرنے کے بعد آپؓ نے حضور نبی کریمﷺسے عرض کی، یا رسول اللہؐ، اگر ہم سچے ہیں تو چھپ کر عبادت کیوں کرتے ہیں آج کے بعد ہم علانیہ کعبہ معظمہ میں عبادت کریں گے۔ اس طرح آپؓ کے قبول اسلام کے بعد مسلمانوں نے علانیہ عبادت شروع کی ۔ 

Surah Ta-Ha (سُوۡرَةُ طٰه) Ayat 69-73.کیا ہم فرعون وقت بن کر زندگی گزار...

Surah Ta-Ha (سُوۡرَةُ طٰه) Ayat 43-68.کیا ہم حق کو اپنے عمل سے جھٹلا رہے...

پیر، 8 جولائی، 2024

احسان جتلانے پر وعید(۱)

 

احسان جتلانے پر وعید(۱)

ارشاد باری تعالی ہے :
’’اے ایمان والو! احسان جتلا کر اپنے صدقات ضائع نہ کرو اس شخص کی طرح جو اپنا مال ریاکاری کے لیے خرچ کرتا ہے اور وہ اللہ پراور قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا۔  وہ اپنی کمائی سے کسی چیز پر قدرت نہیں پائیں گے اور اللہ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (سورۃ البقرۃ : ۲۶۴)۔
قرآن مجید میں کافی مقامات پر اللہ تعالی نے صدقہ کی فضیلت اور اس پر ملنے والے اجر و ثواب کا ذکر فرمایا ہے۔ صدقہ وخیرات کرنے سے دولت گردش میں رہتی ہے معاشرے میں موجود غرباء مساکین ، یتیموں اور بیوائوں کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں۔
اللہ تعالی نے مسلمانوں کو اپنی راہ میں خرچ کرنے کا حکم فرمایا ہے اور ساتھ میں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ کسی کو مال دے کر یا کسی کی مدد کر کے بعد میں اسے شرمندہ نہ کریں۔
 اگر کوئی شخص صدقہ دینے کے بعد اسے طعنہ دے کر اذیت پہنچائے تو اس سے بہتر ہے کہ وہ اس شخص کی مدد نہ کرے اور اس سے معذرت کر لے اور کسی اور صاحب حثیت کی طرف بھیج دے۔ یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ صدقہ دینے والا صدقہ دینے کے بعد اس کی دل آزاری کرے۔
 اور پھر فرمایا کہ صدقہ و خیرات کرنے والا اخلاص کے ساتھ صرف اللہ کی رضا کی خاطر صدقہ کرے نہ کہ لوگوں کو دکھانے اور سنانے کے لیے۔ 
ریاکاری اور دکھلاواکرنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے کسی چکنے پتھر پر مٹی جمی ہو اور بارش نے اس کو بالکل صاف کر دیا۔احسان جتانے والے ، ایذا پہنچانے والے اور منافق کو چکنے پتھر سے تشبیہ دی گئی ہے۔یعنی جو شخص ریاکاری اور دکھلاوا کرنے اور لوگوں سے اپنی تعریف سننے کے لیے صدقہ و خیرات کرے گا قیامت کے دن اس کے نامہ اعمال میں سے سب کچھ دھل کر صاف ہو جائے گا اس کے نامہ اعمال میں ایک بھی نیکی نہیں بچے گی۔ 
امام ابن ابی حاتم نے حسن روایت نقل کی ہے کہ کچھ لوگ کسی آدمی کو اللہ کی راہ میں بھیجتے ہیں یاکسی آدمی پر خرچ کرتے ہیں ، پھر اس پر احسان جتاتے ہیں اوراس کو ایذا پہنچاتے ہیں اور کہتے ہیں میں نے اللہ کی راہ میں اتنااتنا خرچ کیا، اللہ کے نزدیک اس عمل کا شمار نہیں ہو گا اور جو لوگ کسی کو دے کر یہ کہتے ہیں کہ کیا میں نے تم کو فلاں فلاں چیز نہیں دی تھی؟۔ وہ اس کو ایذا پہنچاتے ہیں۔

اتوار، 7 جولائی، 2024

Surah Ta-Ha (سُوۡرَةُ طٰه) Ayat 41-42.کیا ہمیں اللہ تعالی نے اپنے لیے بن...

Surah Ta-Ha (سُوۡرَةُ طٰه) Ayat 25-40.اللہ تعالی ہم پر بہت مہربانی فرمان...

صبر و توکل اور اخلاص (۲)

 

 صبر و توکل اور اخلاص (۲)

حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں بندے کو اس بات پر پختہ یقین ہو کہ جسم اور ڈھانچے کا باقی رہنا ، تنگی دور کرنا اور تمام حاجات کو پورا کرنا اللہ تعالی کے قبضہ قدرت میں ہے اور یہ بھی یقین ہو کہ مال اور دنیاوی اسباب دنیا کی وجہ سے نہیں ہیں۔
 اللہ تعالی اگر چاہے تو میرے جسم کو باقی رکھنے اور حاجتوں کو پورا کرنے کے لیے مخلوق کو وسیلہ بنا دے یا دنیا کی کسی چیز کو وسیلہ بنا دیتا ہے اور اگر وہ چاہے تو بغیر کسی ظاہری سبب اور وسیلے اور مخلوق کے سہارے کے مجھے زندہ رکھ سکتا ہے کہ اللہ تعالی اسباب و وسائل کا محتاج نہیں اور یہی توکل ہے۔ 
اللہ تعالی کی ذات اقدس پر مکمل بھروسہ رکھنا اور اس کی طرف سے پیش آنے والے حالات پر شکر کرنا اللہ تعالی پر توکل کہلاتا ہے۔یہ اہل ایمان کی خوبی ہے کہ وہ صرف اور صرف اللہ تعالی کی ذات اقدس پر بھروسہ کرتے ہیں۔ جب بندہ مومن اللہ تعالی پر بھروسہ کرتا ہے تو وہ اللہ تعالی کی اطاعت اور اس کی بنائی ہوئی تقدیر پر راضی ہو جاتا ہے۔
 ارشاد باری تعالیٰ ہے : اور اہل ایمان اللہ پرہی بھروسہ کرتے ہیں۔( سور ۃ الفرقان : ۵۱)
لیکن توکل کے ساتھ ساتھ اسباب کو بھی اختیار کرنا چاہیے۔ توکل اور اسباب دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔ نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ بھی کرتے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ اسباب بھی اختیار کرتے تھے اور صحابہ کرام کو بھی اس کا حکم فرماتے تھے۔ اسباب بھی اسی صورت کام آتے ہیں جب بندے کو اللہ تعالی کی ذات پر مکمل اور پختہ یقین ہو۔ 
ارشاد باری تعالی ہے : یہ وہ لوگ ہیں جن سے لوگوں نے کہا تمہارے خلاف لوگ جمع ہو گئے ہیں لہذا ان سے ڈرو۔ تو اس چیزنے ان کے ایمان کو اور بڑھا دیا اور بولے ہمارے لیے تو بس اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے۔( سورۃ آل عمران : ۱۷۳)۔
اطاعت اور عبادت میں اخلاص بہت ضروری ہے۔ یعنی کوئی بندہ صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے عبادت کر رہا ہے اور لوگوں کی مدد میں لگا ہوا ہے تو اس میں اخلا ص موجود ہے۔ مگر بندے کا مقصد صرف اور صرف ریاکاری اور دکھلاوا ہو تو اس کا مطلب ہے کہ اس میں اخلاص موجود نہیں ہے۔ جب بندہ اس مقام پر پہنچ جائے کہ وہ اپنی نیکیوں کو چھپانے لگے تو یہ اخلاص کی علامت ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے : بیشک ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف حق کے ساتھ نازل کی پس تم اللہ ہی کی بندگی کرو۔ دین کو اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے۔( سورۃ الزمر : آیت ۲، ۳)۔

Surah Ta-Ha (سُوۡرَةُ طٰه) Ayat 17-24 .کیا ہمیں ہدایت قرآن کی کوئی ضرورت...

Surah Ta-Ha (سُوۡرَةُ طٰه) Ayat 09-16 Part-08. کیا ہم سب اپنے رب کے باغی...

ہفتہ، 6 جولائی، 2024

صبر و توکل اور اخلاص (۱)

 

  صبر و توکل اور اخلاص (۱)

آج اس مہنگائی کے دور میں نفسیاتی امراض بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ اس کی وجہ دین سے دوری ہے۔ صبر اور شکر ایسی چیزیں ہیں جس کے ذریعے سے انسان بہت سے ذہنی اور نفسیاتی امراض سے بچ سکتا ہے۔ جب بندہ اللہ تعالی کی رضا پر راضی ہو جاتا ہے اور مصیبت آنے پر صبر کرتا ہے تو اللہ تعالی اسے اس دنیا میں بھی اجر دیتا ہے اور آخرت میں بھی بے شمار نعمتوں سے نوازے گا۔
ارشاد باری تعالی ہے :’’ کیا اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جائو گے اور ابھی تم پر ان جیسے حالات نہیں آئے جو تمہارے اگلوں کو پیش آ چکے ہیں ان پر تنگیاں اور تکلیفیں آئیں اور انہیں ہلایا اور بے چین کیا گیا یہاں تک کہہ اٹھے کہ کب آئے گی اللہ تعالی کی مدد۔ سن لو بیشک اللہ کی مدد قریب ہے ‘‘۔ ( سورۃ البقرۃ : آیت ۲۱۴)۔
سورۃ البقرۃ میں ایک جگہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : ’’ اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے ڈر اور بھوک سے اور کچھ مال اور جانوروں اور پھلوں کی کمی سے۔ اور خوشخبری ہے صبر کرنے والوں کے لیے۔ کہ جب ان پر مصیبت آتی ہے تو کہیں ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پلٹنا ہے۔ یہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی درودیں ہیں اور رحمت۔ اور یہی لوگ راہ ہدایت پر ہیں (۱۵۵ تا ۱۵۷)
سور ۃ آل عمران میں ارشاد باری تعالی ہے : بیشک ضرور تمہاری آزمائش ہو گی تمہارے مال اور تمہاری جانوں میں بیشک ضرور تم اگلے کتاب والوں اور مشرکوں سے بہت کچھ برا سنو گے اور اگر تم صبر کرو اور بچتے رہو تو یہ بڑی ہمت کا کام ہے۔( ۱۸۶) 
سورۃ زمر میں ارشاد باری تعالی ہے : ہم صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر دیتے ہیں۔( آیت : ۱۰) 
ارشاد باری تعالی ہے : اور بیشک جس نے صبر کیا اور درگزر کیا تو یہ ضرور ہمت کے کام ہیں۔ ( سورۃ الشورٰی : آیت ۴۳ ) 
 حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا : صبر روشنی ہے۔ ( مسلم شریف ) 
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا : جو شخص صبر کرنے کی کوشش کرتا ہے اللہ تعالی اس کو صبر عطا کرتا ہے کسی کو صبر سے زیادہ بیش قیمت نعمت عطا نہیں کی گئی ( متفق علیہ )۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا اللہ جب کسی قوم سے محبت رکھتا ہے تو ان کو آزمائشوں میں گرفتار کر دیتا ہے جو اللہ کی رضا میں راضی ہو گیا تو اللہ بھی اس سے راضی ہو گیا ور جو اللہ کی رضا پر راضی نہ ہوا تو اللہ تعالی کی ناراضگی اس کے مقدر میں آ جاتی ہے۔ ( ترمذی ، مسند احمد )

Surah Ta-Ha (سُوۡرَةُ طٰه) Ayat 09-16 Part-07.کیا ہم نے عقیدہ آخرت کو اپ...

Surah Ta-Ha (سُوۡرَةُ طٰه) Ayat 09-16 Part-06.کیا ہم دنیا کے پکے دھوکے ک...

جمعرات، 4 جولائی، 2024

صحت : نعمت الٰہی

 

   صحت : نعمت الٰہی

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شما ر نعمتوں اور انعامات سے نوازا ہے جس میں ایک نعمت صحت و تندرستی بھی ہے۔حضور نبی کریم نے جسمانی صحت کا خیال رکھنے کے لیے بہت بار حکم فرمایا ہے۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا : یقینا تمہارے جسم کا تم پر حق ہے ‘‘۔(بخاری ، مسلم )۔ اللہ تعالیٰ نہ ہی ایسے لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اپنی جسمانی صحت کا خیال نہیں رکھتے اور زہدو تقویٰ کے نام پر دنیا کو چھوڑ کر جسم کی پاکیزگی ، غذا ، صفائی ، طہارت اور دیگر جسمانی ضروریات کا خیال نہیں رکھتے اور نہ ہی اسلام میں ایسے لوگوں کو پسند کیا جاتا ہے جو اپنی زندگی کا مقصد ہی کھانا پینا اور جسم کی پرورش سمجھتے ہیں۔ دین اسلام میں ہر حکم انسانی صحت کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔نماز ، روزہ ، کھانے پینے کے آداب ، سونے اور جاگنے کے آداب اور لباس پہننے سے متعلق احکام انسانی صحت پر اچھے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اگر انسان صحت مند ہے تو وہ اچھے اور احسن طریقے سے عبادت کرسکتا ہے اور اپنی زندگی کے معاملات کو بھی اچھے طریقے سے دیکھ سکتا ہے۔ اس کے بر عکس انسان صحت مند نہ ہو تو وہ نہ ہی عبادت اچھے طریقے سے کر سکتا ہے اورنہ ہی باقی معاملات زندگی کو احسن انداز میں چلا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے احکامات کے ذریعے انسانی صحت کی فلاح کا اہتمام کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بے حد پیار فرماتا ہے اس لیے وہ اس بات کو پسند فرماتا ہے کہ اس کے بندے صحت مند رہیں۔ اسلام دین فطرت ہے اس لیے اس میں روح کی بالیدگی اور بہتر جسمانی نشو و نما کے لیے واضح خطوط کا تعین کیاگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ہر چیز کے جوڑے پیدا کیے ہیں۔ لیکن ان میں سے ایک چیز اللہ تعالیٰ کو پسند ہے اور دوسری ناپسندہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو تقوی و پرہیز پسند ہے اور فسق و فجور نا پسند ہے ، ایمان پسند ہے اور کفر نا پسند ہے۔ اسی طرح صحت اللہ تعالیٰ کو پسند ہے اور بیماری نا پسند کیوں کہ صحت و تندرستی پر ہی عبادت و ریاضت اور دینی و دنیوی معاملات کا دارو مدار ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ سے جن چیزوں کا سوال کرنا ہے ان میں محبوب ترین عافیت کا سوال ہے۔ حضور نبی مکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس انسان میں تین باتیں پائی جاتی ہوں ایسا ہی ہے جیسے اسے پوری دنیا کی نعمتیں سمیٹ کردے دی گئی ہوں۔ جس شخص نے صبح اس حالت میں کی کہ اسے جسمانی صحت حاصل ہے اور وہ اپنے گھر میں خوش ہے اور اس کے پاس ایک دن گزارنے کے لیے مال ہے اس کو دنیا سمیٹ کر دے دی گئی ہے۔(ترمذی ، ابن ماجہ)۔

Surah Ta-Ha (سُوۡرَةُ طٰه) Ayat 09-16 Part-03.کیا ہم فرعون وقت ہیں

Surah Ta-Ha (سُوۡرَةُ طٰه) Ayat 09-16 Part-02.آج اسلام کا سب سے بڑا دشمن...

بدھ، 3 جولائی، 2024

امانت میں خیانت کرنا

 

 امانت میں خیانت کرنا 

اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے خیانت نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو اور تم جانتے ہو۔ ( سورۃ الانفال )۔ سورۃ یوسف میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : بیشک اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کے مکر کو راہ نہیں دیتا۔(سورۃ یوسف) مطلب یہ ہے کہ وہ ہدایت سے محروم ہو جاتا ہے اور ذلیل و رسوا ہو گا۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : امانتوں سے مراد وہ اعمال ہیں جو اللہ تعالیٰ نے بطور امانت ہم پر لازم کیے ہیں اور وہ فرائض ہیں ، پس ان کو نہ توڑو۔ کلبی کہتے ہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ سے خیانت کا مطلب احکام کی نا فرمانی ہے۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : منافق کی تین نشانیاں ہیں۔ جب وہ بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے،جب وعدہ کرتا ہے تو اسے پورا نہیں کرتا اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرتا ہے۔ (مسلم شریف) 
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مومن کی فطرت میں خیانت اور جھوٹ کے علاوہ ہر چیز ہو سکتی ہے۔ ( الدر منثور)۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں دو شریکوں کا تیسرا ہوں۔ جب تک ان میں سے ایک دوسرے سے خیانت نہ کرے۔ یعنی جب دو آدمی مل کر کام کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے سے خیانت نہ کریں۔ ( السنن الکبری للبہیقی) حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : خیانت سے بچو یہ بری عادت ہے۔ ( مجمع الزوائد ) 
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں قیامت کے دن اس امانت دار کو لایا جائے گا جس نے اس میں خیانت کی ہو گی اور اسے کہا جائے گا کہ اپنی امانت ادا کرو۔ وہ کہے گا اے اللہ کہاں سے دوں دنیا تو چلی گئی۔ تو اسے جہنم کی گہرائی میں وہی صورت دکھائی جائے گی جو اس کے لینے کے دن تھی۔ پھر کہا جائے گا کہ اتر جائو اسے نکال کر لائو۔ آپ فرماتے ہیں وہ اس کی طرف اترے گا اور اسے اپنی پیٹھ پر اٹھائے گا تو یہ اس پر پہاڑ سے بھی زیادہ بھاری ہو گی۔ حتی کہ جب وہ خیال کرے گا کہ وہ نجات پا گیا تو وہ گر جائے گی اور وہ بھی اس کے پیچھے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے گرتا رہے گا۔ 
حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: نماز امانت ہے ، وضو امانت ہے ، غسل امانت ہے ، وزن کرنا امانت ہے ، ناپنا امانت ہے اور سب بڑی امانت ودیعت رکھے ہوئے مال ہیں۔

کیا دین اسلام پر عمل درآمد مشکل ہے؟

منگل، 2 جولائی، 2024

Surah Ta-Ha (سُوۡرَةُ طٰه) Ayat 09-16 Part-01.کیا ہم نے یاد الہی سے بالک...

خواہشات نفس کی پیروی

 

 خواہشات نفس کی پیروی

 نفسانی خواہشات کی پیروی ہر بیماری اور تمام مصائب کی جڑ ہے۔ ہوا کے معنی پستی کی طرف اترنا ہے۔ جب انسان ہوائے نفس کی پیروی شروع کر دیتا ہے تو انتہائی گہرائیوں میں گرتا چلا جاتا ہے اور آخر کار یہ راستہ اسے جہنم میں لے جاتا ہے۔ حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : سب سے زیادہ خوفناک جوچیز ہے جس کے باعث میں اپنی امت کے لیے ڈرتا ہوں اور وہ نفسانی خواہشات کی پیروی کرنا اور لمبی تمنا ہے۔ انسان اپنے ظاہری دشمنوں سے بچنے کی تدابیر بنا لیتا ہے لیکن اس کا باطنی دشمن اس کو اتنا نقصان پہنچا جاتا ہے کہ اسے خبر تک نہیں ہوتی۔ ظاہر ی دشمن تو صرف انسان کی جان کے دشمن ہوتے ہیں لیکن باطنی دشمن انسان کے ایمان تک کو برباد کر دیتا ہے جو جان سے بہت زیادہ قیمتی اور عزیز ہے۔ انسان کے باطنی دشمن دو ہیں ‘ایک شیطان اور دوسرا نفس امارہ۔شیطان سے تو لاحول پڑھنے سے پناہ مل جاتی ہے لیکن اندرونی دشمن نفس امارہ جو ہے وہ احساس تک نہیں ہونے دیتا۔ فرشتوں میں سب سے زیادہ برگزیدہ شخصیت عزازیل کی تھی۔لیکن اس کے نفس نے اسے عزازیل سے شیطان اور ابلیس بنا دیا اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی بارگاہ سے نکال دیا۔ اللہ تعالیٰ نے جب حضرت آدم علیہ السلام کی صورت بنائی تو فرشتوں کو حکم دیا کہ اس کو سجدہ کرو۔تمام فرشتوں نے سجدہ کیا لیکن ابلیس نے سجدہ نہ کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے ابلیس سے سجدہ نہ کرنے کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور آدم علیہ السلام کو مٹی سے۔ شیطان میں یہ تکبر اور غرور کس نے پیداکیا اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کیوں کی۔ اس کی وجہ صرف اس کا اندرونی دشمن نفس تھا۔جس نے اس کے دل میں وسوسہ پیدا کیا۔ جس کی وجہ سے اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی۔
حدیث قدسی ہے کہ اپنے نفس کو دشمن رکھ کیونکہ وہ میری دشمنی میں کھڑا ہے۔ پس نفس کی مرادوں یعنی جاہ و عزت ، بلندی و تکبر وغیرہ کے حاصل کرنے کے ذریعے نفس کی تربیت کرنا حقیقت میں اس کو خدا تعالیٰ کی دشمنی میں مدد دینا اور تقویت دینا ہے، اس امر کی برائی کو اچھی طرح معلوم کر لینا چاہیے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : تین چیزیں انسان کو ہلاک کرنے والی ہیں۔ پہلی خواہش نفس جس کی پیروی کی جائے دوسری بخل اور کنجوسی جس کی اطاعت کی جائے اور تیسری خود بینی اور یہ سب سے بری ہے۔ ( بہیقی)۔

پیر، 1 جولائی، 2024

Surah Ta-Ha (سُوۡرَةُ طٰه) Ayat 01-08 Part-06 .کیا ہم دین اسلام کے خلاف ...

Surah Ta-Ha (سُوۡرَةُ طٰه) Ayat 01-08 Part-05.کیا ہم بنا سوچے سمجھے زندگ...

حقوق العباد


 

  حقوق العباد

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور نبی کریم ﷺ سے عرض کی یا رسو ل اللہ ﷺ مجھے ایسا عمل بتائیں جس سے مجھے نفع حاصل ہو۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مسلمانوں کے راستہ سے تکلیف دینے والی چیز کو ہٹا دیا کرو۔

حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص مسلمانوں کے راستے سے کسی ایسی چیز کو دور کر دیتا ہے جس سے انہیں تکلیف ہوتی ہو تو اللہ تعالی اس کے بدلے میں اس کی نیکی لکھ دیتا ہے اور جس کے لیے نیکی لکھ دیتا اس کے لیے جنت کو واجب کر دیتا ہے۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی طرف اس طرح کا اشارہ کرے جسے وہ پسند نہ کرتا ہو۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان بھائی کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کسی مسلمان کو خوفزدہ کرے۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ مومن کی تکلیف کونا پسند فرماتا ہے۔ 
حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی نازل فرمائی کہ تم تواضع کرو اور ایک دوسرے پر فخر و تکبرنہ کرو ، اگر کوئی دوسرا تم سے تکبر سے پیش آئے تو برداشت کرو چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ سے ارشاد فرمایا : ’’ در گزر اپنائیے ، نیکی کا حکم دیجیے اور جاہلوں سے منہ پھیر لیجیے۔ ( سورۃ الاعراف ) 
حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے حضور ﷺ ہر مسلمان سے تواضع سے پیش آتے اور بیوہ اورمسکین کے ساتھ چل کر ان کی حاجت روائی کرنے میں عار محسوس نہ فرماتے اور نہ ہی تکبر سے کام لیتے۔ یہ بھی حقوق العباد میں شامل ہے کہ لوگوں کی باتیں ایک دوسرے کو نہ بتلائے اور کسی کی بات کسی دوسرے کو نہ بتائے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔خلیل بن احمد کا قول ہے جو تیرے سامنے دوسرے لوگوں کی چغلیاں کرتا ہے وہ تیری چغلیاں بھی دوسروں کے سامنے کرتا ہے اور جو تجھے دوسروں کی باتیں بتاتا ہے وہ تمہاری باتیں بھی دوسروں کو بتا تا ہو گا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی ذات کے لیے کبھی کسی سے بدلہ نہیں لیا لیکن جب بات حدوداللہ کی ہوتی تو آپ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے بدلہ لیا کرتے تھے۔ حضور نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا صدقہ سے ما ل کم نہیں ہوتا ، عفو و درگزر کرنے سے اللہ تعالیٰ انسان کی عزت بڑھاتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے بلند مرتبہ عطا فرماتا ہے۔۔

اسلام کی حقیقت

Surah Ta-Ha (سُوۡرَةُ طٰه) Ayat 01-08 Part-03.کیا ہم اپنے رب کی یاد سے غ...