جمعرات، 30 اپریل، 2026

والدین کی نافرمانی پر وعید

 

والدین کی نافرمانی پر وعید

والدین کی نافرمانی ایک ایسا سنگین گناہ ہے جس کی مذمت قرآن و حدیث میں نہایت شدت کے ساتھ کی گئی ہے۔ اسلام میں والدین کو وہ بلند مقام عطا کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ والدین کی اطاعت و خدمت کا حکم دیا گیا ہے۔ اسی طرح ان کی نافرمانی کو گناہ کبیرہ قرار دیا گیا ہے۔ 
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا، تین شخص جنت میں نہ جائیں گے۔ ماں باپ کا نافرمان،دیوث اور مردوں کی طرح وضع بنانے والی عورت۔( معجم الاوسط )
حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا، یہ بات کبیرہ گناہوں میں سے ہے کہ آدمی اپنے والدین کو گالی دے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ کیا کوئی شخص اپنے ماں باپ کو گالی دیتا ہے ؟ 
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اس کی صورت یہ ہے کہ یہ دوسرے کے باپ کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کے باپ کو گالی دیتا ہے۔یہ دوسرے کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے۔ ( مسلم )۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اس شخص کی ناک خاک آلود ہو۔ پھر فرمایا اس شخص کی ناک خاک آلود ہو۔ پھر تیسری بار نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا اس شخص کی ناک خاک آلود ہو۔عرض کی گئی یارسول اللہ ﷺ کس کی ناک خاک آلود ہو ؟آپﷺ نے فرمایا جس نے اپنے ماں باپ یا پھر ان میں سے کسی ایک کو بڑھاپے میں پایا پھر وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوا۔ (مسلم )۔
یعنی اگر کسی کے والدین یا ان میں سے کوئی ایک اگر بڑھاپے میں زندہ ہو تو ان کی خدمت کر کے جنت کو حاصل نہ کر سکے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ ہر گناہ میں سے جسے چاہے معاف فرما دے گاجبکہ ماں باپ کی نافرمانی کی سزا انسان کو موت سے پہلے زندگی میں ہی مل جائے گی۔ ( شعب الایمان )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا بروز قیامت تین لوگ میرا چہرا نہیں دیکھ سکیں گے۔والدین کا نافرمان ، میری سنت کی پیروی نہ کرنے والا اور جس کے سامنے میرا نام لیا جائے اور وہ مجھ پر دورد پاک نہ پڑھے۔ 
والدین کی نافرمانی دنیاوی اور اخروی دونوں طرح کے نقصانات ہیں۔ دنیا میں ایسے شخص کی زندگی سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ دل بے سکون رہتا ہے اور معاشرے میں عزت کم ہو جاتی ہے جبکہ آخرت میں بھی ایسے افراد کے لیے سخت وعید ہے۔٭

جمعرات، 23 اپریل، 2026

حقوق العباد (۱)

 

  حقوق العباد (۱)

ہر انسان پر یہ بات لازم ہے کہ جب وہ دوسروں سے ملے تو اسے سلام کہے ، جب کوئی اسے دعوت دے تو اس کی دعوت کو قبول کرے ، جب اسے چھینک آئے تو اس کا جواب دے ، جب وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت کرے ، جب وہ مر جائے تو اس کے جنازے میں شریک ہو ، اس کی غیر موجودگی میں اس کی غیبت نہ کرے اور اس کے لیے وہ کچھ ہی پسند کرے جو اپنے لیے کرتا ہے اور جو چیز اپنے لیے نا پسند کرتا ہے اسے دوسروں کے لیے بھی ناپسند کرے۔
 حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : تجھ پر مسلمانوں کے چار حق ہیں ، ان کی نیک کاموں میں   امداد کر، بْرے کے لیے مغفرت طلب کر ، جو مر جائے اس کے لیے دعا مانگ اور تو بہ کرنے والے کے ساتھ محبت رکھ۔ 
ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’وہ آپس میں رحم کرنے والے ہیں ‘‘۔ اس کی تفسیر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ان کے نیک بْروں کے لیے اور بْرے نیکوں کے لیے دعا کرتے ہیں۔ جب کوئی گناہ گار شخص حضورﷺ کی امت کے نیک مرد کو دیکھتا ہے تو کہتا ہے اے اللہ تو نے اسے جوبھلائی عطا کی ہے اس میں برکت دے اسے ثابت قدم رکھ اور ہمیں اس کی برکتیں عطا فرما۔ اور جب کوئی نیک شخص کسی گناہ گار کو دیکھتا ہے تو کہتا ہے
اے اللہ اسے ہدایت دے اس کی توبہ قبول فرما اور اس کی غلطیوں کو معاف فرما۔ 
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : ایک دوسرے سے محبت کرنے اور باہم مشقت کرنے میں مسلمانوں کی مثال ایک جسم جیسی ہے ، جب جسم کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتا ہے تو سارا جسم اس کے احساس اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ حضرت ابو موسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مسلمان ، مسلمان کے لیے دیوار کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے کو تقویت دیتا ہے۔ 
یہ بھی مسلمانوں کے حقوق میں شامل ہے کہ کوئی مسلمان اپنی زبان یا کسی فعل سے دوسرے مسلمان کو دکھ نہ پہنچائے۔
حضور نبی کریمﷺ نے لوگوں کو اچھی عادات اپنانے کے متعلق حکم فرمایا۔ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا اگر تم یہ نہیں کر سکتے ہو تو لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھو۔ یہ تمہارے لیے صدقہ ہے جو تم نے اپنی ذات کے لیے دیا ہے۔ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا :افضل مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان محفوظ رہیں۔*

بدھ، 22 اپریل، 2026

صراطِ مستقیم (۲)۔

 

صراطِ مستقیم (۲)۔

جب بندہ اللہ تعالی سے نماز میں یہ دعا مانگتا ہے کہ اے اللہ مجھے سیدھے راستے پر چلا تو ساتھ ہی یہ بھی دعا مانگتا ہے کہ اپنے انعام یافتہ بندوں کے راستے پر چلا ۔
ارشاد باری تعالی ہے :’’ راستہ ان کا جن پر تو نے احسان کیا نہ کہ ان کا جن پر غضب ہوا اور نہ بہکے ہوؤں کا ‘‘۔ ( سورۃ الفاتحہ )۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کے انعام یافتہ لوگ کون ہیں اس بارے میں ہمیں قرآن مجید سے راہ نمائی ملتی ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :’’ اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرتے ہیں  وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے فضل کیا۔ یعنی انبیاء اورصدیقین اور شہدا اور صالحین اور یہ کتنے اچھے ساتھی ہیں ‘‘۔ ( سورۃ النساء )۔
یعنی ہمیں انبیاء ، صدیقین ، شہدا اور صالحین کے راستے پر چلنا چاہیے یہی وہ ہستیاں ہیں جن پر اللہ تعالی نے اپنا خاص فضل و کرم فرمایا ہے ۔ 
اللہ تعالی نے انسان کو ہدایت حاصل کرنے اور صراط مستقیم پر چلنے کے لیے بہت سے ذرائع عطا فرمائے ہیں ۔انسان کی ظاہری اور باطنی صلاحتیں جنہیں استعمال کر کے وہ ہدایت حاصل کر سکتا ہے ۔ آسمانوں اور زمینوں میں اللہ تعالی کی قدرت و وحدانیت پر  دلالت کرنے والی نشانیاں جن میں غورو فکر کر کے انسان ہدایت حاصل کر سکتا ہے ۔
قرآن مجید سے اپنا تعلق مضبوط کرکے اور اس کے معانی و مطالب پر غورو فکر کر کے بندہ سیدھے راستے پر گامزن ہو سکتا ہے ۔ کیونکہ قرآن مجید ہمارے لیے سرچشمہ ہدایت ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :’’ بیشک یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو سب سے سیدھی ہے اور خوشی سناتا ہے ایمان والوں کو جو اچھے کام کریں۔ ان کے لیے بڑاثواب ہے ‘‘۔ ( سورۃ الاسراء )۔
نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھ کر ہم صراط مستقیم پر چل سکتے ہیں ۔کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ صالحین میرے انعام یافتہ بندوں 
میں سے ہیں ۔ بندہ صراط مستقیم سے تب بھٹک جاتا ہے جب وہ خواہشات نفس کی پیروی کرتا ہے ، شیطان کی وسوسہ اندازی ، دنیا کی محبت ، اور دین سے غفلت یہ وہ چیزیں ہیں جن کی وجہ سے بندہ سیدھے راستے سے بہک جاتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ’’اے داؤد بیشک ہم نے تجھے زمین میں نائب کیا تو لوگوں میں سچا حکم کر اور خواہش کے پیچھے نہ جانا کہ تجھے اللہ کی راہ سے بہکا دے گی ۔ (سورۃ ص)۔
اللہ تعالی ہمیں صراط مستقیم پر چلنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنے نیک بندوں کی صف میں کھڑا فرمائے ۔آمین ۔

منگل، 21 اپریل، 2026

صراطِ مستقیم (۱)

 

  صراطِ مستقیم (۱)

انسان کی زندگی ایک سفر ہے اور ہر سفر کا ایک واضح راستہ درکار ہوتا ہے۔ اگر راستہ سیدھا ، متوازن اورمنزل تک پہنچانے والا ہو تو انسان کامیاب ہو جاتا ہے اور اگر راستہ ٹیڑھا ، گمراہ کن اور خواہشات نفس کے تابع ہو تو انسان خسارے میں پڑجاتا ہے اور کبھی بھی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ اسلام نے ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی تلقین کی ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جو رضا ئے الٰہی ،نجات ، اور کامیابی کی طرف لے کر جاتا ہے۔ہم دن میں جب پانچ وقت نماز ادا کرتے ہیں تو ہر نماز میں اللہ تعالیٰ سے صراط مستقیم پر چلنے کی دعا مانگتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ہم کو سیدھا راستہ چلا ‘‘۔ ( سورۃ الفاتحہ )
ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے سیدھے راستے پر چلنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی دعا مانگتا رہے۔کیونکہ سیدھا راستہ ہی انسان کو منزل مقصود تک پہنچاتا ہے۔ ایمان والے اللہ تعا لیٰ سے اس طرح دعا مانگتے ہیں۔
ترجمہ:’’ اے ہمارے رب تو نے ہمیں ہدایت عطا فرمائی ہے اس کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما بیشک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے ‘‘۔ ( سورۃ اٰل عمران )
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ کثرت سے یہ دعا مانگا کرتے تھے۔
ترجمہ : اے دلوں کو پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کی یا رسول اللہﷺ ہم آپ پر اور جو کچھ آپ لائے ہیں اس پر ایمان رکھتے ہیں تو کیا آپ کو ہمارے بارے میں کوئی خوف ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :ہاں بیشک دل اللہ تعالیٰ کی (شان کے لائق اس کی ) انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے وہ جنہیں چاہتا ہے انہیں پھیر دیتا ہے۔(ترمذی )۔
سورۃ الانعام میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’ اور یہ کہ یہ ہے میرا سیدھا راستہ ہے تو اس پر چلو اور راہیں نہ چلو کہ تمہیں اس کی راہ سے جدا کر دیں گی ‘‘۔
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی نے واضح فرما دیا ہے کہ صراط مستقیم صرف ایک ہی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا مقررہ کردہ راستہ ہے اس کے علاوہ جنتے بھی راستے ہیں وہ گمراہی کی طرف لے جانے والے ہیں۔ صراط مستقیم پر چلنے کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ بندہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری کر ے۔’’ اورجو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے اس نے بڑی کامیابی پائی ‘‘۔ (سورۃالاحزاب)۔

پیر، 20 اپریل، 2026

باطنی اصلاح(۲)

 

باطنی اصلاح(۲)

اللہ تعالیٰ نے نفس امارہ کی مخالفت کا حکم فرمایا ہے اور ان لوگوں کی تعریف کی ہے جو اپنے نفس کی پیروی نہیں کرتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’اور جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہشات سے روکا۔ تو بیشک جنت ہی اس کا ٹھکانہ ہے ‘‘۔(النازعات )۔
سورۃ یوسف میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ’’اور میں اپنے نفس کو بے قصور نہیں بتاتا بیشک نفس تو بْرائی کا بڑا حکم دینے والا ہے جس پر میرا رب رحم کرے۔ بیشک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے ‘‘۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تمہارا سب سے بڑا دشمن تمہارا نفس ہے جو تمہیں بْرے کاموں میں مبتلا کر کے ذلیل خوار کراتا ہے اور طرح طرح کی مصیبتوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت دائودؑ سے ارشاد فرمایا :اے دائودؑ اپنے نفس کی مخالفت کرو کیونکہ میری محبت نفس کی مخالفت میں ہے۔
سور ۃ الاعراف میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :’’ اور اپنی خواہش کے تابع ہوا تو اس کاحال کتے کی طرح ہے تو اس پر حملہ کرے تو زبان نکالے اور چھوڑ دے تو زبان نکالے۔ یہ حال ہے ان کا جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں۔
نفس کی اقسام کو سمجھنے کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انسان کی اصل کامیابی نفس امارہ سے نکل کر نفس مطمئنہ تک پہنچنے میں ہے یہ سفر آسان نہیں بلکہ مسلسل جد و جہد ، محاسبہ اور تزکیہ کا متقاضی ہے۔نفس کی اصلاح کے لیے انسا ن کو عملی طور پر کوشش کرنی چاہیے۔نفس کو پاک کرنے کا سب سے پہلا ذریعہ ذکر الٰہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ خبر دار دلوں کا اطمینان اللہ کے ذکر میں ہے۔ (سورۃ الرعد )
دوسرا اہم ترین ذریعہ نماز کی پابندی ہے کیونکہ نماز انسان کو بْرائی اور بے حیائی سے روکتی ہے۔تیسرا ذریعہ روزہ ہے جو نفس کی خواہشات کو کمزور کرتا ہے اور انسان کو صبر و ضبط سکھاتا ہے۔ اسی طرح صالحین اور نیک لوگوں کی صحبت بھی نفس کی اصلاح میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔نیک لوگوں کی صحبت انسان کے دل کو نرم کرتی ہے اور اسے نیکی کی طرف راغب کرتی ہے۔ حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے اس لیے دیکھو کہ تم کس سے دوستی کر رہے ہو۔
اگر انسان اپنے نفس کی خواہشات کو ترک کر دے تو وہ اسے امیر بنا دیتی ہے اور اگر خواہشات کی پیروی کرے تو اے قیدی بنا دیتی ہے۔ جیسے زلیخا نے اپنے نفس کی پیروی کی تو امیر سے اسیر بن گئی اور حضرت یوسف ؑ نے اپنی خواہش کو ترک کیا تو اسیر سے امیر بن گئے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے نفس کو پہچاننے اس کی اصلاح کرنے اور اسے درجہ مطمئنہ تک پہنچانے کی تو فیق عطا فرمائے۔ آمین۔

اتوار، 19 اپریل، 2026

باطنی اصلاح(۱)

 

  باطنی اصلاح(۱)

انسان کے وجود میں ایک ایسی قوت بھی موجود ہے جو اس کی سوچ ، ارادوں اور اعمال کو متاثر کرتی ہے۔ اسے ’’نفس ‘‘ کہتے ہیں۔نفس انسان کے اندر موجود وہ باطنی محرک ہے جو کبھی اسے نیکی کی طرف مائل کرتا ہے اور کبھی برائی کی طرف لے کر جاتا ہے۔ نفس کی پہچان اور اس کی تربیت ہی در اصل انسان کی کامیابی کا بنیادی معیار ہے۔ نفس کے اندر خیر و شر دونوں رجحانات موجود ہیں اور انسان کا امتحان اسی کشمکش میں ہے کہ وہ کس راستے کا انتخاب کرے۔
ارشاد باری تعالیٰ: اور جان کی اور اس کی جس نے اسے ٹھیک بنایا۔ پھر اس کی بدکاری اور اس کی پرہیز گاری دل میں ڈالی۔ (الشمس)حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ﷺان آیات مبارکہ کی تلاوت فرماتے تو رک جاتے اور یہ دعا فرماتے۔اے اللہ میرے نفس کو تقویٰ عطا فرما ، اس کو پاکیزہ کر تو سب سے بہتر پاک کرنے والا ہے ، توہی اس کا ولی اور مولیٰ ہے۔(المعجم الکبیر )۔
نفس کی سات اقسام ہیں(۱) نفس امارہ ، (۲)نفس لوامہ ، (۳)نفس ملہمہ، (۴)نفس مطمئنہ ، (۵)نفس راضیہ ، (۶) نفس مرضیہ (۷) نفس کاملہ۔
نفس امارہ سب سے پہلا نفس ہے جو انسان کو گناہو ں ، خواہشات نفس اور دنیاوی لذتوں کی طرف مائل کرتا ہے۔ریاضت اور مجاہدہ کے ذریعے انسان بْرائی کے غلبہ کو کم کر کے جب نفس امارہ سے چھٹکارا پا لیتا ہے تو انسان نفس لوامہ کے مرتبہ پر فائض ہو جاتا ہے۔جب انسان نفس لوامہ کے مرتبہ پر فائض ہو جائے تو دل میں نور پیدا ہو جاتا ہے جو باطنی طور پر ہدایت کا باعث بنتا ہے۔ نفس لوامہ انسان کے اندر بیداری کی علامت ہے جب انسان کوئی غلطی کرتا ہے تو اس کا ضمیر اسے جھنجھوڑتا ہے اور وہ توبہ کی طرف مائل ہوتا ہے۔اس کے بعد آتا ہے نفس ملہمہ جب انسان ملہمہ کے مرتبہ پر فائض ہو جاتا ہے تو اس کے داخلی نور کے فیض سے دل اور طبیعت میں نیکی اور تقویٰ کی رغبت پیدا ہو جاتی ہے۔ 
اس کے بعد ہے نفس مطمئنہ یہ نفس کی اعلی ترین اور مطلوبہ حالت جس میں انسان اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہتا ہے اور اس کا دل سکون اور اطمینان سے بھر جاتا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ اے اطمینا ن والی جان۔اپنے رب کی طرف واپس ہو یوں کہ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی ‘‘۔ ( سورۃ الفجر )۔
یہ نفس مطمئنہ اولیاء اللہ کا نفس ہے یہی ولایت صغری کا مقام ہے۔اس کے بعد آتا ہے نفس راضیہ ، نفس مرضیہ اور نفس کاملہ یہ سب نفس مطمئنہ کی اعلیٰ حالتیں ہیں۔

ہفتہ، 18 اپریل، 2026

اسلام اور انسانی حقوق

 

اسلام اور انسانی حقوق

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں عقائد و عبادات اور معاملات کا اپنا ایک مکمل نظام موجود ہے۔ اسلامی نظام کا سر چشمہ قرآن و حدیث ہے اور اس کے احکامات ناقابل تنسیخ ہیں کیونکہ قرآن مجید کسی انسان کی نہیں اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب ہے۔ اور اس کے احکامات پر عمل کرنا لازم و ملزوم ہے۔ کائنات کی ہر چیز کا خالق و مالک اللہ تعالیٰ ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کو شکل و صورت ،عظمت و برتری اور علم و حکمت کی صلاحیتو ں سے نوازا ہے۔ اسلام نے انسان کو جو بنیادی حقوق دیے ہیں انہیں پامال کرنے کا حق کسی کو حاصل نہیں۔ 
اگر کوئی شخص کسی بھی شخص سے زیادتی کرے اور اس کے حقوق غضب کرنے کی کوشش کرے تو اسلام نے اس کے مطابق سزا مقررکی ہے۔ اگر کوئی دنیا میں اس سز ا سے بچ بھی جائے تو آخرت میں اللہ تعالیٰ کی سزا سے نہیں بچ سکتا۔ 
حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے نبی کریمﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کو ن ہے ؟ صحابہ کرامؓ نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺمفلس وہ ہے جس کے پاس کوئی مال اور درہم نہ ہو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا نہیں مفلس وہ نہیں جس کے پاس مال نہیں بلکہ مفلس وہ ہے جس کے پاس قیامت کے دن نماز ، روزہ اور زکوۃ ہوں گے لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی ، کسی پر جھوٹا الزام لگایا ہو گا ، کسی کا مال کھایا ہو گا ، کسی کو قتل کیا ہو گا اور کسی کو مارا ہو گا تو اس کی نیکیاں ان لوگوں کو دے دی جائیں گی جن پر اس نے زیادتی کی ہوگی۔
اور اگر زیادتیوں کا بدلہ پورا کرنے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو مظلوموں کے گناہ اس کے اعمال نامہ میں ڈال دیے جائیں گے او ر پھر اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ ( مسلم )۔ 
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ سے عرض کی گئی فلاں عورت رات کو نماز پڑھتی ہے ، دن کو روزہ رکھتی ہے مگر اپنے پڑوسیوں سے بد کلامی کرتی ہے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس میں کوئی خیر نہیں ہے وہ جہنم میں جائے گی۔ (مسدرک للحاکم)۔
ا ن احادیث مبارکہ سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ جو اسلام کسی کو ایک گالی دینے کی وجہ سے اس کی زندگی کی اہم ترین عبادت چھین کر اسے جہنم میں پھینک دے گا تو وہ اسلام کیسے کسی جان کو ناحق قتل کرنے کی اجازت دے گا۔ اسلام میں انسانی زندگی بڑی مقدس اور قابل احترام ہے۔ یہ ایک ایسا قیمتی اثاثہ ہے جس کاکوئی نعم البدل نہیں۔ لہٰذا ہر انسان چاہے وہ مسلمان ہے یا غیر مسلم اس کو اپنی زندگی کے تحفظ کاحق حاصل ہے۔

جمعہ، 17 اپریل، 2026

باطنی طہارت

 

باطنی طہارت

 اسلام انسان کی ظاہری اور باطنی دونوں طرح کی طہارت پر زور دیتا ہے اور اس متعلق ہماری اصلاح بھی کرتا ہے ۔ جیسے ظاہری طور پر صاف ستھرا اور پاک رہنا ضروری ہے اسی طرح باطنی طور پر بھی پاک رہنا ضروری ہے یعنی دل ، نیت ، فکر اور روح کی پاکیزگی بھی نہایت ضروری ہے قرآن و حدیث میں بے شمار مقامات پر دلوں کی صفائی ، نیتوں کی درستگی اور اخلاقی پاکیزگی پر زور دیا گیا ہے ۔ 
جب تک کسی بھی شخص کا باطن صاف نہیں ہو گا تب تک اس کا تعلق اللہ تعالی سے مضبوط نہیں ہو سکتا ۔ ظاہری طہارت کے ساتھ ساتھ باطنی طہارت ہی اللہ تعالی کے مضبوط تعلق کی ضامن ہے ۔باطنی طہارت سے مراد یہ ہے کہ دل کو کینہ ، حسد ، بغض ، ریاکاری ، تکبر ، نفاق ، دنیا کی محبت باطنی اور دیگر  باطنی بیماریوں سے پاک کرنا ہے۔نیت کو خالص کرنا اور کوئی بھی کام اللہ تعالی کی رضا کے لیے کرنا ،خود کو اخلاص ، محبت ، عاجزی اور تقوی سے مزین کرنا بھی باطنی طہارت میں شامل ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے :’’ بیشک مراد کو پہنچا جس نے اسے (دل ) کو ستھرا کر لیا ۔ اور نامراد ہوا جس نے اسے معصیت میں چھپایا ‘‘۔( سورۃ الشمس)۔
اسی طرح سورۃ البینہ میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :’’اور ان لوگوں کوتو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں خالص اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے ‘‘۔
متقی اور جنتی لوگوں کی صفات بیان کرتے ہوئے اللہ تعالی نے سورۃ الاعراف میں ارشاد فرمایا :’’اور ہم نے ان کے سینوں میں سے کینے کھینچ لیے ‘‘۔  نبی کریم ﷺ نے ارشا د فرمایا :’’ خبردار ! جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے اگر وہ درست ہو جائے تو سارا جسم درست ہو جاتا ہے اور اگر وہ خراب ہو جائے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے اور فرمایا کہ وہ تمہارا دل ہے ‘‘۔ (بخاری)۔
ایک مقام پر انسان کی نیت کا ذکر کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے اور ہر انسان کو وہی ملے گا جس کی وہ نیت کرتا ہے ۔(بخاری)۔
ایک مقام پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :آپس میں حسد نہ کرو ، بغض نہ رکھو ، ایک دوسرے سے منہ نہ موڑو اور اللہ کے بندو بھائی بھائی بن جاؤ ۔
جب بندہ گناہوں میں مبتلا ہو جاتا ہے تو اس سے دل پہ سیاہی آجاتی ہے ۔ اس سیاہی کو توبہ کے ذریعے سے ختم کیا جا سکتا ہے اور اللہ تعالی کے کرم سے باطن کو پاک کیا جا سکتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :’’ بیشک دلوں کا سکون اللہ کے ذکر میں ہی ہے ‘‘۔ 
باطنی طہارت ایمان کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے ، باطنی طہارت سے اللہ تعالی قرب حاصل ہوتا ہے ، دل میں سکون و اطمینان پیدا ہوتا ہے ، اعمال میں برکت پیدا ہوتی ہے اور بندے کو دنیا و آخرت کی بھلائیاں نصیب ہو جاتی ہیں ۔

جمعرات، 16 اپریل، 2026

لاالہ الااللہ، سبحان اللہ اور الحمد للہ کی فضیلت۔

 

  لاالہ الااللہ، سبحان اللہ اور الحمد للہ کی فضیلت۔

حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایاکرتے تھے بندہ جو بھی نیک عمل کرتا ہے اسے روز حشر ترازومیں تولا جائے گا لیکن ’’لاالہ الااللہ ‘‘ وہ مبارک کلمہ ہے کہ اگرایک پلڑے میں اسے رکھا جائے اور دوسرے پلڑے میں ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں رکھ دی جائیں تو وہ پلڑا جھک جائے گا جس میں کلمہ طیبہ ہو گا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا اگر ’’لاالہ الااللہ ‘‘ کہنے والاسچا ہوا تو اس کے سارے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اگر وہ زمین کے ذرات کے برابر بھی ہوں ۔حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایاجس نے خلوص نیت کے ساتھ ’’لاالہ الااللہ ‘‘ پڑھا وہ جنت میں جائے گا ۔ صحیح میں ہے کہ جس نے یہ کلمہ پڑھا تو گویا اس نے حضرت اسما عیل علیہ السلام کی اولاد میں سے چار غلام آزاد کیے ۔
نبی مکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص نے دن میں ایک بار یہ کلمات پڑھے ’’ سبحا ن اللہ وبحمدہ ‘‘ اس کے سارے گناہ معاف کر دیے جائیں گے اگرچہ وہ دریا کی جھاگ کے برابر بھی ہوں ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایاجس نے ہر نماز کے بعد تینتیس بار ’’ سبحا ن اللہ وبحمدہ ‘‘ اور تینتیس بار ’’ الحمد اللہ ‘‘ اور تینتیس بار ’’اللہ اکبر ‘‘ پڑھا پھر یہ کلمات پڑھ کر سو پورا کیا ’’ لاالہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمدو ھو علی کل شئی قدیر ‘‘ تو اس کے جملہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں اگردریا کی جھاگ کے برابر بھی ہوں ۔
ایک شخص حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ ﷺ دنیا مجھ سے روگرداں ہو گئی ہے ۔ 
افلاس اور فقرنے ڈیرے جما لیے ہیں ۔ دولت و ثروت کی فراوانی کیسے ہو سکتی ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا تو ملائکہ کے اس ذکر اور مخلوق کی اس تسبیح کو کیوں بھول بیٹھا ہے جس کے طفیل ساری دنیا کو رزق دیا جاتا ہے ۔ اس نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ وہ کون سا ذکرہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’سبحان اللہ العظیم ‘‘’’ سبحان اللہ وبحمدہ ‘‘،’’استغفراللہ ‘‘ہر روز صبح کی نماز سے پہلے پڑھا کرو ۔  دنیا کا رخ تیری سمت ہو جائے گا ۔ اللہ تعالی ان کلمات  میں سے ہر ہر کلمہ سے ایک فرشتہ پیدا فرمائے گا ۔ جو قیامت تک اللہ کی تسبیح بیان کرتا رہے گا اور اس کا ثواب تجھے ملتا رہے گا ۔
حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: باقیات صالحات یہ کلمات ہیں ’’ سبحان اللہ و الحمد للہ ولا الہ الا اللہ و اللہ اکبر ‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا مجھے یہ کلمات گردش آفتاب کے نیچے ہر شے سے پسندیدہ ہیں ۔ اللہ تعالی کو یہ کلمات انتہائی پیارے ہیں ۔

منگل، 14 اپریل، 2026

ضبط نفس فضیلت و اہمیت

 

ضبط نفس فضیلت و اہمیت

کسی بھی انسان کی شخصیت کو نکھارنے کے لیے ضبط نفس ایک اہم خوبی ہے۔ضبط نفس کی کمی انسان میں بہت بڑی کمزوری ہوتی ہے جو اس کی شخصیت کو گہنا دیتی ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ دنیا میں سب سے اعلیٰ و ارفع شخصیت ہیں اور دنیا کے سب سے عظیم ترین رہنما ہیں۔ آپﷺ کا ضبط نفس بھی ساری کائنات سے زیادہ تھا۔ خوشحال زندگی گزارنے کے لیے ضبط نفس بہت ضروری ہے۔ اگر انسان میں ضبط نفس نہ ہو تو اس کی فطری صلاحیت بھی ضائع ہو جاتی ہے۔ اگر انسان اپنے آپ کو قابو میں نہیں رکھے گا تو کوئی دوسرا اس پر قابو پا لے گا اور جوشخص اپنے آپ پر قابو نہیں پا سکتا تو پھر اس میں اور جانور میں کیا فرق رہے گا۔ جو شخص اپنی قیادت خود نہیں کر سکتا وہ دوسروں کی قیادت کیسے کر ے گا۔ 
ضبط نفس سے مراد یہ ہے کہ جب بھی حق اور سچ کی راہ میں سہل پسندی ، بزدلی ، خود پسندی یا کوئی نفسانی خواہش حائل ہو تو انسان اسے ٹھکرا کر صراط مستقیم پر ثابت قدم رہے۔ قرآن مجید میں اس کے لیے مختلف الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے۔ 
سب سے پہلے تقویٰ، تقویٰ سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے دل کو نا جائز خواہشات اور گناہوں سے بچائے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’بے شک سب سے بہترین زاد راہ تقوی ہے ‘‘۔ اس کے بعد تزکیہ نفس، تزکیہ نفس سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو ناجائز خواہشات اورگناہوں سے پاک رکھے۔ ارشاد باری تعالی ہے : ’’ بیشک فلاح پا گیا وہ شخص جس نے اس (نفس ) کو (گناہوں سے ) پاک کر لیا۔ 
 ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور اس سے زیادہ گمراہ کون ہو گا جو اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہشات کی پیروی کرے ‘‘۔ 
انسان کے اپنی خواہشات پر قابو پانے کو حضور نبی کریمﷺ نے بڑا جہاد قرار دیا ہے۔ حضرت ابوذر ؓ نے آپ ﷺ سے عرض کی کون سا جہاد افضل ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا : افضل جہاد یہ ہے کہ آدمی اپنے نفس اور اپنی خواہش کے خلاف جہاد کرے۔ (کنزالعمال )۔ 
ضبط نفس ہمیں نظم و ضبط کی پابندی سکھاتا ہے اور نظم و ضبط کامیابی کی کنجی ہے۔ انسان اگر کامیابی حاصل کر نا چاہتا ہے تو اس کی اپنے نفس پر گرفت اتنی مضبوط ہو کہ اس کی نفسانی خواہشات اس کے راستے کی دیوار نہ بن سکیں۔ 
ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’ تمہارے صاحب (حضرت محمد ﷺ) نہ کبھی راہ حق سے ہٹے اور نہ کبھی راہ حق گم کی۔ اور وہ اپنی خواہش سے کلام  نہیں کرتے بلکہ ان کا کلام صرف وحی ہے جو ان کی طرف کی جاتی ہے ‘‘۔ یعنی کہ حضور نبی کریم ﷺکا اپنی خواہشات پر اتنا قابو تھا کہ اپنی خواہش سے کلام بھی نہیں کرتے تھے بلکہ صرف وہی بتاتے تھے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتا تھا۔

پیر، 13 اپریل، 2026

وقت کی قدرو منزلت

 

وقت کی قدرو منزلت

وقت انسان کی زندگی کا قیمتی سرمایہ ہے ، مگر افسوس کہ اکثر لوگ اس نعمت کی قدر نہیں کرتے ۔وقت ایسی دولت ہے جو ایک بار ہاتھ سے نکل جائے تو واپس حاصل نہیں کی جا سکتی۔ جو لمحہ گزر جائے وہ ہمیشہ کے لیے ماضی کا حصہ بن جاتا ہے ۔ اس کے باوجود ہم اپنی روزمرہ  زندگی میں وقت کو بے دریغ ضائع کرتے رہتے ہیں گویا یہ کبھی ختم نہ ہونے والا خزانہ ہو ۔ارشاد باری تعالی ہے :
’’زمانہ کی قسم ۔بیشک آدمی ضرور نقصان میں ہے ۔ مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی ‘‘۔ (سورۃالعصر )۔
انسان کی عمر جو اس کا اصل سرمایہ اور دولت ہے مسلسل ختم ہو رہی ہے اس لیے انسان کو چاہیے کہ اس سرمائے کو اچھے کاموں میں صرف کرے اور نہ صرف خود کو بلکہ دوسروں کو فائدہ پہنچائے ۔ 
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ دونعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ دھوکے میں ہیں صحت اور فراغت ۔ یعنی جب انسان کو صحت اور وقت میسر ہوتو وہ تب اس کی قدر نہیں کرتا لیکن جب اس سے یہ نعمتیں چھن جاتی ہیں تو انسان کو اپنی کوتاہیوں کا احساس ہوتا ہے ۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا روزانہ جب سورج طلوع ہوتا ہے تو دن یہ اعلان کرتا ہے کہ  جو کوئی مجھ میں اچھا کام کر سکتا ہے تو کر لے کیونکہ آج کے بعد میں کبھی پلٹ کر نہیں آؤں گا ۔(شعب الایمان )۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ زندگی بے حد مختصر ہے۔ جو وقت مل گیا سو مل گیا آئندہ وقت ملنے کی امید دھوکا ہے۔ وقت کی قدر کی اہمت بیان کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا : پانچ چیزوں کو پانچ سے پہلے غنیمت جانو : اپنی جوانی کو اپنے بڑھاپے سے پہلے ، صحت کو بیماری  سے پہلے ، مالداری کو تنگدستی سے پہلے ، فرصت کو مصروفیت سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے ۔ (مستدرک )۔
وقت کی بے قدری کے کئی مظاہر ہمارے معاشرے میں نظر آتے ہیں لوگ گھنٹوں فضول باتوں ، غیر ضروری مشاغل اور بے مقصد سر گرمیوں میں وقت ضائع کر دیتے ہیں ۔ عبادات میں سستی ، علم حاصل کرنے میں غفلت وقت کی ناقدری کی علامتیں ہیں ۔ حالانکہ ایک مومن کی شان یہ ہونی چاہیے کہ وہ اپنے ہر لمحے کو قیمتی سمجھے اور اسے اللہ کی رضا کے حصول کے لیے استعمال کرے ۔ 
اسلام ہمیں وقت کے بہترین استعمال کا درس دیتا ہے ۔ نماز کی پابندی ، تلاوت قرآن پاک ، ذکر و اذکار اور خدمت خلق جیسے اعمال دراصل وقت کو با برکت بناتے ہیں ۔ طالب علموں کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا اور دیگر لغو باتوں میں وقت ضائع کرنے کی بجائے اپنی تعلیم پر توجہ دیں کیونکہ وقت ایک ایسی دولت ہے جو واپس نہیں آتی ۔

اتوار، 12 اپریل، 2026

بہترین شخص

 

بہترین شخص

خیر خواہی ایک ایسا عمل ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے تمام اخلاق کی بنیاد رضائے الٰہی ہی ہے۔ مخلوق کے لیے اپنے دل میں ہمدردی اور خیر خواہی رکھنا ایک سنہری اصول ہے۔ 
حضور نبیء کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کا کنبہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب وہ ہے جو اس کنبے کے ساتھ اچھا سلوک کرے ‘‘۔ ( مشکوۃ شریف)۔
حضور نبی کریمﷺ نے ساری زندگی اللہ کی مخلوق کی خیر اور بھلائی چاہی۔ آپ ﷺ کا مقصد حیات لوگوں کو نفع پہنچانا اور فیضیاب کرنا تھا۔آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : لوگوں میں بہترین شخص وہ ہے جو انسانوں کو نفع پہنچاتا ہے۔فرمان مصطفی ﷺ ہے : اللہ تعالیٰ تمام معاملات میں نرمی پسند کرتا ہے۔( بخاری شریف)۔
ہمیں ذاتی مفاد اور غرض کے بغیر لوگوں کو نفع پہنچانا چاہیے۔ رشتہ داروں سے بھی بھلائی کریں اور دوسرے حاجت مندوں سے بھی۔ اور جانوروں کے ساتھ بھی بھلائی کریں۔ بد سلوکی اور دوسروں کو نقصان پہنچانا ایک نا پسندیدہ عمل ہے اور آپ ﷺ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن رتبے کے لحاظ سے وہ بد ترین شخص ہو گا جس کے شر کی وجہ سے لوگ اسے چھوڑ دیں۔ (بخاری شریف)۔
ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ خیر خواہی کرے۔ دوسروں کے ساتھ مہربانی ، لطف و عنایت ، نرم دلی اور خیر خواہی ایک اعلیٰ انسان کی صفات ہیں۔ بوڑھوں ، یتیموں ، بیوائوں، بچوں اور مفلوک الحال لوگوں کے ساتھ خیر خواہی اور ان کا خیال رکھنا ہمارا فرض ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ وہ تنگدستی کے باوجود دوسرے مسلمان بھائیوں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں۔‘‘( سورۃ الحشر )۔
حضرت ابو جہم بن حذیفہ بیان کرتے ہیں کہ جنگ یرموک کے میدان میں اپنے زخمی بھائی کی تلاش میں نکلے۔ جب پانی لے کر بھائی کے پاس پہنچے اور اسے پانی پلانے ہی لگے تھے کہ دوسرے زخمی کے کراہنے کی آواز آئی تو زخمی بھائی نے اپنے بھائی سے کہاکہ پہلے اسے پانی پلائیں۔ جب صحابی پانی لے کر اس کے پاس پہنچے تو تیسرے زخمی کی آواز آئی تو صحابی نے کہا کہ پہلے اسے پلائیں۔ جب صحابی پانی لے کر تیسرے صحابی کے پاس پہنچے وہ شہیدہو چکے تھے۔ واپس دوسرے کے پاس آئے تو وہ بھی شہیدہو چکے تھے پھر جب اپنے بھائی کے پاس پہنچے تو وہ بھی شہادت کا جام پی چکے تھے۔ یہ تھا صحابہ کرام کا اپنے بھائیوں کے لیے جذبہ ایثار۔
آپ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہ ہی چیز پسند نہ کرے جو اپنے لیے کرتا ہے۔

ہفتہ، 11 اپریل، 2026

دین راہبر ہے

 

دین راہبر ہے

دین انسان کے لیے راہبر ہے ، مقتدا ہے اور امام ہے۔ دین کی عظمت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان دل وجان سے دین کو اپنا راہبر و مقتدا بنائے اور ہرمعاملے میں دین سے راہنمائی حاصل کرے۔مثال کے طور پر ایک شخص کوئی کام کرنا چاہتا ہے اور اس کام کو کرنے کے لیے اس کے پاس مکمل مواقع اور اسباب موجود ہیں مگر دین اسے اس کام سے منع کرتا ہے تو وہ اپنے جذبات اور احساسات کو دین پر قربان کر دیتا ہے اور اس کام کو کرنے کا ارادہ ترک کردیتا ہے۔
اگر ایک شخص دین کے اس حصہ کو مکمل طور پر چھوڑ دے جس پر عمل کرنے سے اسے اپنے مفادات اور خواہشات کی قربانی دینا پڑے لیکن اس حصہ کو اپنا لے جس سے اس کا اپنا مفاد وابستہ ہو ایسا شخص دین پر عمل کرنے والا نہیں ہوتا بلکہ اپنے مفادات کے لیے دین کو بطور سیڑھی استعمال کرتا ہے۔ 
ارشاد باری تعالیٰ ہے : کیا تم کتاب کے بعض حصے پر ایمان لاتے ہو اور بعض کا کفر کرتے ہو ؟ پس تم میں سے جو لوگ یہ کام کریں ان کی سزا اس کے سوا اورکیا ہو گی کہ وہ دنیا کی زندگی میں رسوا ہوں گے اور قیامت کے دن اس سے بھی شدید عذاب کی طرف لوٹا دئیے جائیں۔ اور اللہ تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیوی زندگی کو آخرت کے بدلے میں خرید لیا۔ سو نہ ان سے عذاب کم کیا جائے گا اور نہ ہی ان کی مدد کی جائے گی۔ ( سورۃ البقرۃ )۔ 
یعنی جس بندے نے دین کے ساتھ صرف ایسا تعلق جوڑا ہو کہ اس نے دین کو اپنا راہبر نہ بنایا ہو اور دین کے لیے سب کچھ لٹانے کے جذبوں سے محروم ہو تو ایسا شخص دراصل اپنی آخرت تباہ کر کے دنیا کو بچانے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ دین کو اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی سیڑھی بنانے والا دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کے عذاب میں مبتلا ہو گا اور آخرت میں بھی عذاب میں مبتلا ہو گا۔ 
قرآن مجید میں یہود کے جن جرائم کی وجہ سے ان کو سزائیں دی گئیں ان میں سے ان کا ایک جرم یہ بھی تھا کہ وہ دین کے ایک حصہ کو مانتے تھے جو ان کی خواہشات کے مطابق ہوتا تھا اور اس حصے کو چھوڑ دیتے تھے جس سے ان کا کوئی ذاتی مفاد وابستہ نہیں ہوتا تھا۔
مذہبی عقیدتیں بہت گہری اور نازک ہوتی ہیں۔ جو شخص ان عقیدتوں کو کسی بھی طرح اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرتا ہے وہی دین کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے سیڑھی بناتا ہے۔ دین انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ادا کردہ مکمل ضابطہ حیات ہے جسے مکمل طور پر اپنانے سے انسان دین اور دنیا کی سعادتیں حاصل کر سکتا ہے۔جس شخص نے مکمل طور پر دین کو اپنا راہبر بنا لیا اور اس کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا تو کبھی  دنیا و آخرت میں رسوا نہیں ہو گا۔

جمعہ، 10 اپریل، 2026

آج کا نوجوان اور بے مقصدیت (۲)

 

آج کا نوجوان اور بے مقصدیت (۲)

احادیث مبارکہ میں بھی نوجوانی کی اہمیت اور اس کے درست استعمال پر زور دیا گیا ہے۔نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بروز قیامت انسان سے پانچ سوال کیے جائیں گے۔ (۱) عمر کن کاموں میں گزاری (۲) جوانی کن کاموں میں گزاری (۳) مال کہاں سے کمایا (۴)مال کہاں خرچ کیا (۵) اپنے علم پر کہا ں تک عمل کیا ؟
اس حدیث مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ نوجوانی کا ہر لمحہ قیمتی ہے اور اس کا حساب دینا ہوگا۔اگر یہ وقت فضولیات میں گزر گیا تو اس کا انجام خسارہ ہی ہو گا۔ آج کے نوجوان کی بے مقصدیت کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں پہلی وجہ دین سے دوری ہے۔جب نوجوان قرآن و سنت سے دور ہو جائے تو وہ اپنے مقصد کو بھول جاتا ہے۔بے مقصدیت کی دوسری بڑی وجہ مغربی تہذیب کی اندھی تقلید ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمزنے نوجوان کو اسی دنیا میں الجھا دیا ہے جہاں وقتی خوشی تو مل جاتی ہے لیکن دائمی سکون نہیں۔تیسری وجہ راہنمائی کا فقدان ہے۔والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ نوجوان نسل کی راہنمائی کریں اور ان کی سمت کو درست کریں۔ 
بے مقصدیت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان  ذہنی دبائو ، مایوسی اور بے چینی میں جکڑا رہتا ہے۔جب انسان کے پاس کوئی واضح ہدف نہ ہو تو وہ چھوٹی چھوٹی ناکامیوں کی وجہ سے بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ 
اصحاب کہف کے نوجوانوں نے ظالم بادشاہ کے دور میں اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے دنیا کی آسائشوں کو ٹھکرا دیا اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے ایک مشکل راستے کا انتخاب کیا۔اللہ تعالیٰ نے اس عمل کو قرآن مجید میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر نوجوان اپنے مقصد کو جان لے اور اللہ کی رضا کو مقدم رکھے تو وہ تاریخ بدل سکتا ہے۔ 
آج کے نوجوان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی زندگی کا واضح مقصد متعین کرے۔ سب سے پہلے اسے اللہ سے اپنا تعلق مضبوط کرنا چاہیے اور اپنے دل کو محبت رسولﷺ سے منور کرے۔ نماز ، تلاوت قرآن اور دعا کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔اس کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم ، ہنر اور صلاحیتوں کو مثبت انداز میں استعمال کرے۔
والدین اور اساتذ ہ کو بھی چاہیے کہ وہ نوجوانوں کی صحیح رہنمائی کریں۔انہیں دنیاوی تعلیم اور کامیابی کے ساتھ آخرت کی کامیابی کا بھی شعور دیں۔ ان کے اندر خود اعتمادی ، ذمہ داری اور مقصدیت پیدا کریں۔ 
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نوجوان نے دنیا کی لذت اور اس کے عیش و عشرت کو چھوڑ دیا اور اپنی جوانی میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی جانب پیش قدمی کی تو اللہ تعالیٰ اسے 72 صدیقین کے برابر ثواب دے گا۔ ( کنزالعمال )۔

بدھ، 8 اپریل، 2026

آج کا نوجوان اور بے مقصدیت (۱)


 

آج کا نوجوان اور بے مقصدیت (۱)

آج کا دور تیز رفتار ترقی ، جدید ٹیکنالوجی اور بے شمار سہولیات کا دور ہے۔ بظاہر انسان نے مادی لحاظ سے بہت ترقی کر لی ہے مگر روحانی ، اخلاقی اور فکری لحاظ سے ایک بڑا خلاء پیدا ہو چکا ہے۔ خصوصا ً ہماری نوجوان نسل اس خلاء کا سب سے زیادہ شکار ہوتی نظر آتی ہے۔بے مقصدیت ، ذہنی انتشار اور زندگی کے اصل مقصد سے دوری آج کے نوجوان کا ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ اس نازک مرحلے میں ہمیں قرآن و حدیث سے رہنمائی ملتی ہے کہ ہم اپنی زندگی درست سمت میں لے جا سکیں۔ نوجوانی کسی بھی انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی دور ہوتا ہے۔ یہی وہ وقت ہے جہاں انسان اپنے مستقبل کی بنیاد رکھتا ہے اپنے کردار کو سنوارتا ہے اور اور اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دیتا ہے۔ حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا جوانی کو غنیمت جانو بڑھاپے سے پہلے۔کیونکہ یہی جب بندہ اپنے تمام تر کام اور معاملات احسن طریقے سے سر انجام دے سکتا ہے۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارا آج کانوجوان اس قیمتی وقت کو اکثر فضول سر گرمیوں ، سوشل میڈیا اور غیرسنجیدہ مشاغل میں ضائع کر رہاہے۔اس کی سب سے بڑی وجہ زندگی کے مقصد کا واضح نہ ہونا ہے۔جب انسان کو یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کس مقصد کے لیے دنیا میں بھیجا گیا ہے تو اس کی زندگی بے مقصد ہو جاتی ہے۔ 
ارشاد باری تعالیٰ ہے : اور میں نے جنو ں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ (سورۃ لذٰریٰت:آیت ۵۶)۔ یعنی انسان کی تخلیق کا بنیادی مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی بندگی ہے۔عبادت کا مفہوم صرف نماز ، روزہ ، زکوۃ ، حج اور دیگر ظاہری عبادات تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھنا ہی اصل عبادت ہے۔ جب نوجوان اس حقیقت کو سمجھ لے تو اس کی زندگی خود بخود ہی درست سمت کی طرف گامزن ہو جائے گی۔ 
اسی طرح سورۃ المومنون میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : تو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بیکار بنایا اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جائو گے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے انسان تو میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا۔ میں تیرا سینہ غنا سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی کا دروازہ بند کر دوں گا۔ اور اگر تو ایسا نہیں کرے گا تو میں تیرے دونوں ہاتھ مصروفیات سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی کا دروازہ بند نہیں کروں گا۔*

منگل، 7 اپریل، 2026

جنگ احد اور شہادت سیدنا امیر حمزہ ؓ (۲)

 

 جنگ احد اور شہادت سیدنا امیر حمزہ ؓ (۲)

ایک دن سیدنا امیر حمزہ ؓ شکار سے واپس آئے تو آپ ؓ کی ہمشیرہ حضرت صفیہ ؓ نے بتایا کہ آج ابو جہل نے نبی کریم ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی   کی ہے ۔جب آپ ؓ نے یہ سنا تو آپ کو بہت غصہ آیا ۔آپؓ اپنا تیر کمان لے کر ابو جہل کے پاس گئے اور اس کے سر میں اتنی زور سے کہ ابو جہل کے سر سے خون بہنا لگا ۔ (شرح الزرقانی علی المواہب )
جنگ بدر میں سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ نے کفار کے دو بڑے سرداروں عتبہ اور طعیمہ بن عدی کو جہنم واصل کیا تھا ۔طعیمہ بن عدی کا ایک بھتیجا جبیر بن مطعم تھا اس نے اپنے چچا کا بدلہ لینے کے لیے اپنے غلام وحشی کو لالچ دی اور کہاکہ اگر تو میرے چچا کا بدلہ سیدنا امیر حمزہ سے لے گا تو میں تجھے اپنی غلامی سے آزاد کر دو ں گا اور بہت سارا انعام بھی دوں گا ۔ عتبہ کی بیٹی ہندہ نے وحشی سے کہا کہ تو اگر سیدنا امیر حمزہؓ سے میرے باپ کا بدلہ لے گا تو میں تجھے آزادبھی کروائوں گی اور بہت سارا سونا اور چاندی اور مال و متاع دوں گی۔
سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ جنگ احد میں اپنی بہادری و شجاعت کے جوہر دکھا رہے تھے ۔وحشی بھی موقع کی تلاش میں تھا اور ایک جگہ پہاڑکے پیچھے چھپ کر بیٹھ گیا ۔سیدنا امیر حمزہ ؓ جب اس کے پاس گزرے تو وحشی نے نیزے سے وار کیا جو آپؓ کے پیٹ میں لگا اور سیدنا امیرحمزہ رضی اللہ عنہ مرتبہ شہادت پر فائز ہو گئے ۔ ہندہ نے آپؓ کے جسد اطہر کی بے حرمتی کی اور آپؓ کے کلیجہ کو بھی چبانے کی کوشش کی لیکن نہ چبا سکی ۔ 
حضرت علی رضی اللہ عنہ جب سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ کی تلاش میں نکلے تو آپؓ کی نعش کو دیکھ کر حضرت علی ؓ کی چیخ نکل گئی۔ جب نبی کریم ﷺکو اپنے پیارے چچا حضرت سیدنا امیر حمزہ ؓ کی شہادت کی خبر ملی تو نبی کریم ﷺ کو بہت زیادہ صدمہ پہنچا اور غمگین ہو گئے ۔ حضور نبی کریم ﷺسیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کی نعش کو دیکھ کر اتنا روئے کہ آپؐ کی ہچکی بندھ گئی ۔ 
 حضورنبی کریم ﷺ نے فرمایا : میرے چچا میں گواہی دیتا ہوں کہ تم اللہ کی راہ میں صدقہ دینے والے تھے ، تم غریبوں اور مسکینوں کی مدد کر نے والے تھے ، تم بیواؤں اور یتیموں کی خبر گیری کرنے والے تھے ۔ آج میں تمھاری شہادت کا گواہ ہوں کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ کی عدالت لگے گی ۔ جب شہید اٹھیں گے ان میں بدر اور احد کے شہداء بھی ہوں گے ۔ جب شہیدوں کا قافلہ حشر کے میدان میں چلے گا تو شہیدوں کی سرداری کا جھنڈا میرے چچا امیر حمزہ ؓ کے پاس ہو گا ۔ 

پیر، 6 اپریل، 2026

جنگ احد اور شہادت سیدنا امیر حمزہ ؓ (۱)

 

جنگ احد اور شہادت سیدنا امیر حمزہ ؓ (۱)

مدینہ منورہ میں ایک بہت بڑا پہاڑ ہے جسے احد پہاڑ کہتے ہیں ۔احد پہاڑ کے متعلق نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا احد پہاڑ مجھ سے محبت کرتا ہے اور میں اس سے محبت کرتا ہوں ۔ (بخاری )۔
جنگ احد۳ ہجری میں  اسی پہاڑ کے دامن میں لڑئی گئی تھی ۔ یہ جنگ کفار مکہ نے غزوہ بدر کی شکست کا بدلہ لینے کے لیے چھیڑی ۔ 
قریش کے سرداروں کو غزوہ بدر میں شکست کی وجہ سے بہت زیادہ صدمہ تھا اسی لیے انہوں نے ایک بڑی فوج کے ساتھ مدینہ منورہ پر حملہ کیا ۔ اس معرکہ میں مسلمانوں کی تعداد سات سو اور کفار کی تعداد تین ہزار تھی ۔تقریبا ستر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس جنگ میں شہادت کے مرتبہ پر فائز ہوئے ۔ 
اس جنگ میں حضور نبی کریم ﷺ کے پیارے چچا حضرت سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے جنہوں نے اپنی بہادری و شجاعت کے جوہر دکھائے اور کافروں کو جہنم واصل کیا ۔ 
حضور نبی کریم ﷺ کو اپنے چچا سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ سے بے حد محبت و انس تھی اور سیدنا امیر حمزہ بھی نبی کریم ﷺ سے بے پناہ محبت فرماتے تھے ۔ سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ تیر اندازی کے ماہر تھے اور سرداران قریش آپ رضی اللہ عنہ کی بہادری اور شجاعت کی وجہ سے بڑی عزت و احترام سے دیکھتے تھے۔ 
سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ نے نبوت کے چھٹے برس اسلام قبول کیا اور پھر اپنا تن ، من دھن سب اسلام کے لیے وقف کر دیا ۔ جس دن آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو یہ اشعار کہے :
ترجمہ : میں اللہ تعالی کی تعریف بجا لاتا ہوں اور اس کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے میرے دل کو اسلام اور دین حنیف کے لیے کھول دیا ۔ یہ وہ مبارک دین ہے جو ایسے پروردگار کی طرف سے آیا ہے جو غلبہ والا ، بندوں کی خبر رکھنے والا اور اپنے بندوں پر مہربان ہے ۔
جب اللہ تعالی کی آیتیں ہمارے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو کامل عقل رکھنے والے شخص کے آنسو بہنا شروع ہو جاتے ہیں ۔ یہ وہ باعظمت احکا م ہیں کہ ان کی ہدایت دینے کے لیے نبی کریم ﷺ ایسی روشن آیات لائے ہیں جن کے ہر حرف میں ہدایت ہے ۔ اورحضرت محمد ﷺ اللہ تعالی کی طرف سے ہم میں منتخب برگزیدہ ہیں اور آپ کے ہر حکم کی تعمیل کی جاتی ہے تو اے لوگو ان کی تعلیمات کو باطل کے ذریعہ نہ چھپاؤ۔ ( الروض الائف )۔

اتوار، 5 اپریل، 2026

محنت با مقصد یا بے مقصد

 

 محنت با مقصد یا بے مقصد

محنت محنت ہے، لیکن ہر محنت کامیابی اور کامرانی کی دلیل نہیں۔ کامیابی صرف اور صرف اسی محنت کے نتیجے میں ملتی ہے جسے کسی مفید اور کارآمد کام میں صرف کیا جائے۔ محنت کے متعلق یہ سوچنا ہر قدم پر ضروری ہے کہ یہ محنت با مقصد ہے یا بے مقصد۔ بے مقصد محنت ایک حیوان تو کر سکتا ہے کیونکہ وہ عقل و شعور اور قوت فیصلہ سے عاری ہے لیکن ایک انسان کی فہم و ادراک اور شرف انسانیت اسے ایسی محنت سے ضرور روکے گی جو بے مقصد ہو۔ 
ارشاد باری تعالیٰ ہے : اور جو بھی اسلام کے سوا کوئی اور دین تلاش کرے تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گا۔ ( سورۃ آل عمران )۔
ایک شخص بت پرستی کر رہا ہو یا اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب پر ہے اور وہ جتنی مرضی عبادت کر لے اور اپنی تمام تر محنت اس پہ لگا دے لیکن جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہو گا تو اس کی کوئی محنت اس کے کسی کام نہیں آئے گی۔ اس کی تمام ریاضتیں راکھ کا ڈھیر بن جائیں گی اور اس کا نامہ اعمال نیکیوں سے مکمل خالی ہو گا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے : اور وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا۔ اس کے سب اعمال ضائع ہو گئے انہیں اسی کا بدلہ ملے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔ ( سورۃ النحل )۔
چونکہ وہ اپنے اعمال سے بھی کفر اور شرک ہی کرتے تھے اس لیے ان کے اعمال ان کی نجات کا ذریعہ نہیں بنیں گے۔ مفید کام چھوڑ کر غیر مفید کام میں کوشش کر نا نہ صرف دانش مندی کے خلاف ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں اور صلاحیتوں کا انکار بھی ہے۔
 دین کا مغز اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور نبی کریمﷺ تک جتنے بھی انبیاء  مبعوث فرمائے سب نے صرف اور صرف ایک اللہ کی عبادت کا حکم دیا اور لوگوں کو کفر وشرک سے منع کیا۔
 کوئی شخص اپنی ساری محنتیں اور جملہ کاوشیں ان مباحث میں صرف کر دے جس کا قیامت کے دن انسان سے سوال ہی نہیں ہو گا اور جو منصوص نہیں ہیں بلکہ اپنے استدلال پر مبنی ہیں تو اس کی محنت کا مصرف بھی بے محنت اور بے نتیجہ ہے۔ اس لیے کسی بھی کام میں محنت اور وقت صرف کرنے سے پہلے اس میں اللہ تعالیٰ کی رضا دیکھنی چاہیے اور محنت کے مقاصد کو مد نظر رکھنا چاہیے کہ کیا وہ جو محنت کر رہا ہے یہ با مقصد ہے یاپھر بے مقصد۔

ہفتہ، 4 اپریل، 2026

نیت کی اصلاح(۲)

 

 نیت کی اصلاح(۲)

حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : خبر دار تمہارے جسم میں ایک ٹکڑا ہے اگر وہ درست ہو جائے تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے اور اگر وہ بگڑ جائے تو پورا جسم بگڑ جاتا ہے اور وہ دل ہے۔ نبی کریمﷺ کے اس فرمان سے واضح ہو جاتا ہے کہ دل انسان کے کردار اور اعمال کا مرکز ہے جب دل پاک ہوجاتا ہے تو نیت خود ہی درست ہو جاتی ہے اور جب نیت درست ہو جائے تو عمل میں اخلاص پیدا ہو جاتا ہے۔آج کے پْر فتن دور میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اعمال کی ظاہری شکل پر زیادہ توجہ دیتے ہیں اور نیت کی اصلاح کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ہم نماز پڑھتے ہیں ، روزہ رکھتے ہیں ، حج کرتے ہیں اور صدقہ و خیرات کرتے ہیں مگر اکثر اوقات ان اعمال کے پیچھے دکھاوا ، شہرت یا لوگوں کی تعریف حاصل کرنے کی خواہش ہوتی ہے اور یہ ریاکاری ہے۔اگر کوئی عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے نہ کیا جائے بلکہ دکھاوے کے لیے کیا جا ئے تو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک شرک قرار پاتا ہے۔ 
حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص لوگوں کے دکھلاوے کی خاطر نماز پڑھے،روزے رکھے یا صدقہ کرے تو وہ شرک کا مرتکب ہے۔ ( مسند احمد )۔
نیت کی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے ہر عمل سے پہلے خود سے سوال کرے کہ کیا وہ یہ عمل خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کر رہا ہے یا دکھاوے کے لیے؟۔  اگر جواب ملے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے ہے تو وہ عمل قیمتی ہے۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ تمہاری شکل و صورت اور مال و دولت کو نہیں دیکھتابلکہ وہ تو تمہارے اعمال اور دلوں کو دیکھتا ہے۔ ( مسلم شریف)۔ 
نبی کریم ﷺنے فرمایا جب کوئی نیک عمل کرنے کاارادہ کرے تو اسے ایک نیکی کا ثواب مل جاتا ہے۔ اور اگر نیت کے بعد اس عمل کو کر بھی لے تو اسے کم از کم دس گناثواب ملتا ہے اور بعض صورتوں میں سات سوگناتک ثواب ملتا ہے۔ (بخاری )۔
انسان کو اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے۔ اسے چاہیے کہ وہ روزانہ اپنے اعمال اور نیتوں کا جائزہ لے۔اگر کہیں ریاکاری یا دنیاوی مفاد کی ملاوٹ نظر آئے تو اسے چاہیے کہ اسی وقت اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ و استغفار کرے اور اپنی نیت کی اصلاح کرے یہی عمل انسان میں روحانیت پیدا کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دلوں کو پاک کرنے ، نیتوں کو خالص بنانے اور ہر عمل کو اپنی رضا کے لیے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

جمعہ، 3 اپریل، 2026

نیت کی اصلاح(۱)

 

نیت کی اصلاح(۱)

حج کی معنویت(۳)

  حج کی معنویت(۳) حج میں مساوات انسانی کا عملی مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے ۔تمام انسان حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں لیکن ہم مختلف طبقات م...