باطنی اصلاح(۱)
انسان کے وجود میں ایک ایسی قوت بھی موجود ہے جو اس کی سوچ ، ارادوں اور اعمال کو متاثر کرتی ہے۔ اسے ’’نفس ‘‘ کہتے ہیں۔نفس انسان کے اندر موجود وہ باطنی محرک ہے جو کبھی اسے نیکی کی طرف مائل کرتا ہے اور کبھی برائی کی طرف لے کر جاتا ہے۔ نفس کی پہچان اور اس کی تربیت ہی در اصل انسان کی کامیابی کا بنیادی معیار ہے۔ نفس کے اندر خیر و شر دونوں رجحانات موجود ہیں اور انسان کا امتحان اسی کشمکش میں ہے کہ وہ کس راستے کا انتخاب کرے۔
ارشاد باری تعالیٰ: اور جان کی اور اس کی جس نے اسے ٹھیک بنایا۔ پھر اس کی بدکاری اور اس کی پرہیز گاری دل میں ڈالی۔ (الشمس)حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ﷺان آیات مبارکہ کی تلاوت فرماتے تو رک جاتے اور یہ دعا فرماتے۔اے اللہ میرے نفس کو تقویٰ عطا فرما ، اس کو پاکیزہ کر تو سب سے بہتر پاک کرنے والا ہے ، توہی اس کا ولی اور مولیٰ ہے۔(المعجم الکبیر )۔
نفس کی سات اقسام ہیں(۱) نفس امارہ ، (۲)نفس لوامہ ، (۳)نفس ملہمہ، (۴)نفس مطمئنہ ، (۵)نفس راضیہ ، (۶) نفس مرضیہ (۷) نفس کاملہ۔
نفس امارہ سب سے پہلا نفس ہے جو انسان کو گناہو ں ، خواہشات نفس اور دنیاوی لذتوں کی طرف مائل کرتا ہے۔ریاضت اور مجاہدہ کے ذریعے انسان بْرائی کے غلبہ کو کم کر کے جب نفس امارہ سے چھٹکارا پا لیتا ہے تو انسان نفس لوامہ کے مرتبہ پر فائض ہو جاتا ہے۔جب انسان نفس لوامہ کے مرتبہ پر فائض ہو جائے تو دل میں نور پیدا ہو جاتا ہے جو باطنی طور پر ہدایت کا باعث بنتا ہے۔ نفس لوامہ انسان کے اندر بیداری کی علامت ہے جب انسان کوئی غلطی کرتا ہے تو اس کا ضمیر اسے جھنجھوڑتا ہے اور وہ توبہ کی طرف مائل ہوتا ہے۔اس کے بعد آتا ہے نفس ملہمہ جب انسان ملہمہ کے مرتبہ پر فائض ہو جاتا ہے تو اس کے داخلی نور کے فیض سے دل اور طبیعت میں نیکی اور تقویٰ کی رغبت پیدا ہو جاتی ہے۔
اس کے بعد ہے نفس مطمئنہ یہ نفس کی اعلی ترین اور مطلوبہ حالت جس میں انسان اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہتا ہے اور اس کا دل سکون اور اطمینان سے بھر جاتا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ اے اطمینا ن والی جان۔اپنے رب کی طرف واپس ہو یوں کہ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی ‘‘۔ ( سورۃ الفجر )۔
یہ نفس مطمئنہ اولیاء اللہ کا نفس ہے یہی ولایت صغری کا مقام ہے۔اس کے بعد آتا ہے نفس راضیہ ، نفس مرضیہ اور نفس کاملہ یہ سب نفس مطمئنہ کی اعلیٰ حالتیں ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں