منگل، 31 مارچ، 2026

جلد سونے اور جاگنے کے فوائد و ثمرات

 

 جلد سونے اور جاگنے کے فوائد و ثمرات

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو زندگی کے ہر چھوٹے اور بڑے پہلو سے متعلق رہنمائی کرتا ہے۔ انسان کی بنیادی ضروریات جن پر مدار حیات اور معیار عافیت قائم ہے ، ان میں سے ایک بنیادی ضرورت نیند بھی ہے۔محققین نے اس بات کی تحقیق کی ہے کہ کم سونا یا زیادہ سونا موت کو وقت سے پہلے دعوت دینا ہے۔ اسی طرح رات کو دیر سے سونا اور صبح دیر سے اٹھنا بے شمار بیماریوں کا سبب بنتاہے۔ جس طرح زندگی میں کھانا پینا اور سانس لینا ضروری ہے اسی طرح سونا اور آرام کرنا بھی ذہنی و جسمانی صحت کے لیے اہم ہے۔
قرآن مجید میں متعدد بار اس نعمت کا ذکر آیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ اور ہم نے بنا دیا ہے تمہار ی نیند کو باعث آرام ‘‘ ایک اور جگہ ارشاد فرمایا’’ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ اس میں آرام کرو اور دن کو ہر چیز دکھانے والا بنایا ‘‘۔پر سکون نیند کے لیے شور شرابہ کا نہ ہو نا رات کو ہی میسر ہے۔ رات کے وقت آرام کرنا اور سونا دن کے مقابلے میں بہت زیادہ فائدہ مند ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور اس نے اپنی رحمت سے تمہارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ رات میں آرام کرو اور دن میں اس کا فضل ڈھونڈو تا کہ تم شکر گزار بنو ‘‘۔ قرآن مجید کی روشنی میں دن کو کمائی کے لیے اور رات کو آرام کے لیے مقرر کر نا چاہیے۔
بخاری شریف میں روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نماز عشا ء سے پہلے سونے کو اور بعد میں بات کرنے کو مکروہ (ناپسندیدہ ) خیال کرتے تھے۔ رات کو جلد سونا ، تہجد میں اٹھنا ، نماز فجر سے پہلے تھوڑا آرام کر لینا پھر فجر کی نماز ادا کرنا اس کے بعد ذکر و اذکار اور تلاوت کر نا پھر اشراق کے نوافل ادا کرنے کے بعد کام کاج میں مشغول ہو نا نبی اکرمﷺ کے معمول مبارکہ میں شامل تھا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی شخص سو جاتا ہے تو شیطان اس کے سر کے پیچھے گدی میں تین گرہ لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر یہ پھوک لگا دیتا ہے کہ سو جا ابھی رات بہت باقی ہے۔ پڑا سوتا رہ۔ پھر جب وہ شخص جاگ کر اللہ کا ذکر کرے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے پھر جب وضو کرتا ہے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے۔ پھر جب نماز پڑھے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے۔ اس طرح صبح جاگنے سے آدمی چا ک وچو بند اور ہشاش بشاش ہو جا تا ہے۔ ورنہ سست اور بد دل بوجھل طبیعت والا بن جاتا ہے اور اسے بھلائی نہیں ملی ہوتی ‘‘۔

پیر، 30 مارچ، 2026

شکر کی فضیلت و اہمیت(۲)

 

شکر کی فضیلت و اہمیت(۲)

حضرت نعمان بن بشیر سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو تھوڑی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ زیادہ نعمتوں کا بھی شکر ادا نہیں کرتا اور جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالی کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا اور اللہ تعالی کی نعمتوں کو بیان کرنا شکر ہے اور اسے بیان نہ کرنا نا شکری ہے ۔( شعب الایمان )۔ 
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے آپ ؓ کو ہر نماز کے بعد یہ دعا مانگنے کی وصیت فرمائی:” اللھم اعنی علی ذکرک و شکرک و حسن عبادتک “ ۔اے اللہ تو اپنے ذکر ، اپنے شکر اور احسن طریقے سے اپنی عبادت کرنے میں میری مدد فرما ۔ ( ابو داؤد )۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ میرے بستر پر تشریف لائے اور فرمایا اے عائشہ اگر مجھے اجازت دو تو میں اللہ تعالی کی عبادت کر لوں تو میں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ آپ ضرور عبادت فرمائیں ۔ آپ ﷺ نے وضو فرمایا نماز شروع فرمائی اور رونے لگے یہاں تک کہ آپ کے آنسو سینہ مبارک تک بہنے لگے یہاں تک کہ نماز پڑھتے فجر کا وقت ہو گیا ۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسو ل اللہ ﷺ آپ تو بخشے ہوئے ہیں اللہ تعالی کے حبیب ہیں تو پھراتنی گریہ و زاری کیوں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اے عائشہ کیا میں اللہ تعالی کا شکر گزار بندہ نہ بنو ں ۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کھا کر شکر ادا کرنے والا روزہ دار اور صابر کے مقام پر فائز ہو جاتا ہے روز حشر حکم ہو گا شکر اداکرنے والے کھڑے ہوجائیں ۔ اس وقت صرف وہی لوگ کھڑے ہوں گے جنہوں نے ہر حال میں اللہ تعالی کا شکر ادا کیا ہو گا ۔ شکر انسان کی زندگی میں سکون اور اطمینان پیدا کرتا ہے ۔ جو شخص اللہ کی دی ہوئی نعمتوں پر نظر رکھتا ہے وہ کبھی مایوس نہیں ہوتا ۔
آج کے دور میں بے چینی ، حسد اور نا شکری عام ہو چکی ہے کیونکہ انسان دوسروں کی نعمتوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور جو نعمتیں اللہ تعالی نے اسے عطا کی ہیں وہ بھول جاتا ہے ۔اگر وہ شکر کی عادت بنا لے تو اللہ تعالی اسے مزید نعمتوں سے نواز دے گا ۔ 
شکر انسان کو تکبر سے بچاتا ہے جب انسان یہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ بھی اس کے پاس موجود ہے وہ اللہ تعالی کا عطا کردہ ہے اور عاجزی اختیار کرتا ہے تو اس میں تکبر پیدا نہیں ہوتا ۔

اتوار، 29 مارچ، 2026

شکر کی فضیلت و اہمیت(1)

 

شکر کی فضیلت و اہمیت(1)

انسان کو چاہیے کہ وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا رہے اور اس کا شکر ادا کرے ۔شکر دل ، زبان اور عمل سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اعتراف ہے جو بندہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے مزید نعمتوں سے نوازتا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ” اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کرو ں گا “۔ (سورۃ ابراہیم )۔
سورۃالبقرہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :”تم میرا ذکر کرو میں تمہارا ذکر کروں گا اور میرا حق مانو اور میری نا شکری نہ کرو “۔ذکر کی تین اقسام ہیں زبان کے ساتھ اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا ، دل میں اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا اور اپنے اعضاءکے ساتھ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا ہے ۔ زبان سے ذکر یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناءبیان کرے ، توبہ و استغفار کرے ، دل سے شکر یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرے ۔اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل پر غور کرے ۔ اعضاءسے شکر کرنا مراد یہ ہے کہ اپنے اعضاءکے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی جائے اور انہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت والے کاموں میں لگایا جائے ۔ جو بندہ اللہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتا اللہ تعالیٰ عذاب سے نجات عطا فرما دے گا ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے : ” اگر تم ایمان لائے اور شکر گزار بن گئے تو اللہ تمہیں عذاب نہیں دے گا“۔ ( سورۃ النساء)۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر کوئی نعمت نازل فرماتا ہے اور وہ کہتا ہے الحمد اللہ تو یہ کلمہ اللہ تعالی کے نزدیک اسے نعمت دینے سے بہتر ہوتا ہے ۔ ( ابن ماجہ )۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جسے شکر کرنے کی تو فیق ملی اللہ تعالیٰ اسے مزیدنعمتوں سے نوازے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم میرا شکر کرو گے تو میں تمہیں اور دوں گا ۔ اور جسے توبہ کی توفیق عطا ہوئی وہ توبہ کی قبولیت سے محروم نہ ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اور وہی ہے جو اپنے بندوں سے توبہ قبول فرماتا ہے ۔( درمنثور )۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن کہا جائے گا کہ حمد کرنے والے کھڑے ہو جائیں لوگوں کو گروہ کھڑا ہو جائے گا اوروہ جنت میں جائیں گے ۔عرض کی گئی یارسو ل اللہ ﷺ حمد کرنیوالے کون فرمایا جو ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں ۔

ہفتہ، 28 مارچ، 2026

ملازمین کے ساتھ حسن سلوک

 

ملازمین کے ساتھ حسن سلوک

انسان جب اپنے ہم مرتبہ لوگوں سے بات چیت کرتا ہے تو اخلاقی قدروں کو ملحوظ خاطر رکھتا ہے اور جب اپنے ماتحت لوگوں سے معاملہ کرتا ہے تو ان کو اپنے سے کم تر سمجھتا ہے اور تمام اخلاقی قدروں کو پامال کر دیتا ہے ۔ اور اس کی عزت و نفس کا بھی خیال نہیں رکھتا ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے اپنے ماتحت لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیا ۔اور اپنے سے بڑے اور چھوٹے سب کے ساتھ ایک جیسے معاملات رکھنے کا حکم فرمایا۔
حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں اپنے غلام سے کسی بات پر ناراض ہو گیا اور اسے درے سے مارنے لگا ۔ اتنے میں میرے پیچھے سے آواز آئی ۔ اے ابو مسعود جان لو ! مگر میں شدید غصے کی وجہ سے آواز پہچان نہ سکا جب آواز دینے والا میرے قریب آ گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ رسول کریم ﷺ ہیں اور آپ فرما رہے تھے ۔ اے ابو مسعود ! جان لو تمہیں اس غلام پر قابو حاصل ہے اس سے زیادہ قابو اللہ تعالیٰ کو تمہارے اوپر حاصل ہے ۔یہ سن کر میرے ہاتھ سے کوڑا گر گیا اور میں نے کہا کہ میں کبھی بھی اس غلام کو نہیں ماروں گا ۔ میں اس غلام کو اللہ کے لیے آزاد کر تا ہوں ۔ یہ سن کر حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں اگر تم ایسا نہ کرتے تو تمہیں آگ چھو لیتی ۔ ( جامع الاصول) 
حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضور ﷺ سے پوچھا ہم ملازم کو ایک دن میں کتنی بار معاف کر دیا کریں ۔ آپ ﷺ خاموش رہے اس نے دوسری مرتبہ پوچھا آپ ﷺ خامو ش رہے ۔ اس نے پھر یہ ہی سوال پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا اسے ہر روز ستر مرتبہ معاف کر دیا کرو ۔ ( ابی داؤ د ) ۔
حضور نبی کریم ﷺ نے غلاموں کے متعلق ارشاد فرمایا : وہ تمہارے بھائی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے ماتحت کر دیا ہے ۔ تو جس کے ماتحت اس کا بھائی ہو اسے چاہیے کہ جو خود کھاتا ہے اسے بھی وہ ہی کھلائے جو خود پہنتا ہے اس کو بھی پہنائے ۔ اور اس سے اس کی طاقت سے زیادہ کوئی کام نہ کروائے ۔ اگر اسے کوئی ایسا کام کہہ دے تو خود بھی اس کی مدد کرے ۔آخری ایام میں حضور ﷺ نے نماز کے ساتھ ماتحت لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین فرمائی ۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ جس وقت آپ ﷺ کا وصال ہوا تو آپ ﷺ آخری دم تک یہی فرما رہے تھے اے لوگو ! نماز کا خیال رکھنا اور اپنے غلاموں کا خیال رکھنا ( ابن ماجہ ) ۔

جمعہ، 27 مارچ، 2026

خواہشات نفس کی مذمت

 

خواہشات نفس کی مذمت

انسانی زندگی میں خواہشات نفس ایک فطری امر ہے لیکن جب یہی خواہشات حد سے بڑھ جائیں اور انسان کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے دور کر دیں تو یہ اس کی ہلاکت کا سبب بن جاتی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ”کیا تم نے اس کو نہیں دیکھا جس نے اپنی خواہش کو معبود بنا لیا ہے اور اسے اللہ نے علم پر گمراہ بنا دیا ہے“۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا قول ہے کہ اس سے مراد وہ کافر ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی جانب سے عطا کردہ کسی ہدایت اور دلیل کے بغیر خواہشات کو اپنا دین بنا لیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خواہشات نفسانی کا پیرو ہے اور وہ ہر ایسا کام کرنے پر تیا ر ہو جاتا ہے جس کی طرف اس کی خواہشات اشارہ کرتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق عمل نہیں کرتا۔ گویا کہ وہ اپنی خواہشات کی عبادت کرتا ہے ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے : ”اور خواہش کی پیروی نہ کر ، یہ تجھے اللہ کے راستے سے ہٹا دے گی“۔حضور ﷺ ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگا کرتے: اے اللہ میں تجھ سے پناہ مانگتا ہو ں اس خواہش سے جس کی اطاعت کی جاتی ہے اور اس بخل سے جس کا اتباع کیا جاتا ہے ۔
آپ ﷺ نے فرمایا : تین باتیں انسان کے لیے مہلک ہیں ۔ اطاعت کردہ خواہش، اتباع کردہ بخل اور انسان کا اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھنا اوریہ اس لیے ہے کہ ہر گنا ہ کا باعث نفسانی خواہشات ہیں اور یہی انسان کو جہنم کی طرف لے جاتی ہیں ۔حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے کہا کہ اے بیٹے! میں سب سے پہلے تجھے تیرے نفس سے ڈراتا ہو ں کیو نکہ ہر نفس کی خواہشات اور آرزو ئیں ہیں ۔ اگر تو ان کو پورا کر دے گا تو وہ اپنی خواہشات کو طویل کر دے گا اور تجھ سے تمام خواہشات کو پورا کرنے کی طلب کرے گا۔بلا شبہ شہوت دل میں اس طرح پوشیدہ ہوتی ہے جیسے پتھر میں آگ ۔ اگر تو پتھر پر پتھر مارے گا تو آگ نکلے گی ورنہ نہیں ۔ 
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارشاد ہے کہ اپنے نفسوں کو روکو کیو نکہ یہ ایسا ہر اول دستہ ہے جو تمہیں برائی کی آخری حد تک لے جاتا ہے ، حق کڑوا اور گراں ہے ، باطل سبک اور تباہ کن ہے ، توبہ کے علاج سے بہتر یہی ہے کہ انسان گناہوں ہی کو چھوڑ دے ۔ بہت سی نگاہوں نے شہوت کی کاشت کی اور ایک لمحہ کی لذت ان کو طویل غم کی میراث دے گئی ۔ خواہشات پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کا خوف اپنے دل میں پیدا کرے ، کثرت کے ساتھ ذکر کرے ، نماز کی پابندی کرے اور نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھے ۔

جمعرات، 26 مارچ، 2026

حضور نبی کریم ﷺ کا حسن ِ معاشرت

 

حضور نبی کریم ﷺ کا حسن ِ معاشرت

حضور نبی کریم ﷺ کے حسن معاشرت کی بھی کوئی نظیر نہیں۔ آپ ﷺ کا حسن معاشرت بھی تمام دنیا سے اعلی تھا ۔ 
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ سب لوگوں سے بڑھ کر وسیع القلب ، گفتگو میں سچے ، نرم طبیعت والے تھے ۔
 حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں دس سال تک حضور نبی کریمﷺ کی خدمت کرتا رہا ہوں ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ان دس سالوں میں مجھے کبھی بھی نہ جھڑکا اور نہ کبھی یہ فرمایا کہ تو نے فلاں کام کیوں کیا ہے اور فلاں کیوں نہیں ۔
 حضور رحمت عالم ﷺ کسی سے بھی نفرت نہیں کرتے تھے ۔ ہر قوم کے افراد کا اکرام کرتے اور ایسے ہی افراد کو ان کے اوپر حاکم مقرر کرتے ۔ لوگوں کو خوف خدا سے ڈراتے ، عام لوگوں کی صحبت میں نہ بیٹھا کرتے لیکن کسی کے ساتھ بد اخلاقی سے پیش نہیں آتے تھے ۔ اپنے اصحاب کے گھر تشریف لے جاتے اور محفل میں شامل ہونے والوں کو ان کی شان کے مطابق نوازتے ۔ لوگوں کے ساتھ ایسا رویہ رکھتے کہ ہر ایک کو لگتا کہ حضور نبی کریم ﷺ میری ہی طرف نظر کرم فرما رہے ہیں ۔ جب کسی کو اپنے ساتھ بٹھاتے یا پھر کوئی آپ ﷺ کے پاس مسئلہ لے کر آتا آپ ﷺ ا س وقت تک بیٹھے رہتے جب تک وہ شخص خود اجازت لے کر نہ چلا جاتا ۔ اگر کوئی شخص حاجت لے کر آتا تو کسی کو بھی خالی ہاتھ نہ بھیجا کرتے تھے ۔
حضرت ابن ابی ہالہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورنبی کریم ﷺ ہمیشہ پھول کی طرح کھلے رہتے ۔آپ ﷺکا لہجہ نرم اور خوش اخلاق تھا ۔ بد اخلاقی ، سنگدلی ، بازاروں میں بلند آواز نہیں کرنا ، گالی گلوچ ، دوسروں میں عیب تلاش کرنا عرب کے لوگوں میں عام تھا لیکن آپ ﷺ تاحیات ان تمام چیزوں سے پاک رہے ۔ جس چیز کی ضرورت نہ ہوتی اس کی طرف نہ دیکھتے ۔ کوئی بھی سائل آپ ﷺ کے پاس آتا تو آپ ﷺ اسے خالی واپس نہ لوٹاتے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ” تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب تم ان کے لیے نرم دل ہوئے “۔(سورۃ آل عمران ) ۔
 اگر کوئی آپ ﷺ کی دعوت کرتا تو قبول فرماتے اور اگر کوئی معمولی سابھی ہدیہ پیش کرتاتو قبول فرماتے اور اس کو اسکے بدلے ہدیہ سے نوازتے ۔
حضرت عبداللہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضور نبی کریم ﷺ سے بڑھ کر تبسم کا خو گر کسی کو نہیں دیکھا ۔ جب کسی کو کسی پریشانی میں مبتلا پاتے تو فوراً اس کی پریشانی دور کرنے کی کوشش کرتے ۔ آپ ﷺ ہر کسی پر نہایت درجہ مہربان تھے۔

بدھ، 25 مارچ، 2026

خیر کے راستے کو چھوڑ دینا۔

 

 خیر کے راستے کو چھوڑ دینا۔

انسان کے لیے بہت سارے مصائب اور تکالیف اس وقت جنم لیتی ہیں جب وہ خیر کے راستے کو چھوڑ دیتا ہے لیکن وہ چاہتا ہے کہ مجھے نتائج خیر کے ملیں ۔ جب وہ خیر کے راستے کو چھوڑ کر اچھے نتائج کی تمنا کرتا ہے اور اسے اچھے نتائج نہیں ملتے تو اس قت وہ بہت ساری پریشانیوں اور مسائل کا شکار ہو جاتا ہے ۔ اللہ نے اس پوری کائنات کو ایک خاص نظم وضبط کے تحت بنایا ہے اور اسی نظم و ضبط کے تحت چلا رہا ہے ۔ بعض اوقات انسان اپنی پوری کوشش کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر پاتا۔ اس کہ وجہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کے بنائے گئے ضابطوں کے برعکس چل رہا ہے ۔ 
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے : اے انسان تو میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا میں تیرا سینہ غنا سے بھر دوں گا۔ تیری غربت دور کر دوں گا اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تیرا ہاتھ مصروفیات سے بھر دوں گا مگر تیرے فقر کو ختم نہیں کروں گا ۔ ( ابن ماجہ )۔
حضور نبی کریم ﷺ کے اس فرمان مبارک سے یہ بات واضح ہو گئی ہے دل کو غنی کرنے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے ۔ اس کے برعکس جو بندہ دن رات اسی کوشش میں لگا رہتا ہے کہ وہ مال جمع کر لے وہ مال و دولت تو حاصل کر لے گا مگر اسے دل کا غنی ہونا نصیب نہیں ہو گا ۔ 
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کون ہے جو مجھ سے چند باتیں سیکھ لے اور پھر اس پر عمل کرے اور ان باتوں کو دوسروں کو بھی سکھائے ۔ میں نے عرض کی یارسو ل اللہ ﷺ میں حاضر ہوں ان باتوں کو سیکھنے کے لیے ۔ پھر آپﷺ نے حضرت ابو ہریرہ ؓ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا :
” حرام چیزوں سے بچو تم لوگوں میں سب سے بڑے عبادت گزار بن جاﺅ گے ۔ جو اللہ تعالیٰ نے تیری قسمت میں لکھ دیا ہے اس پر راضی ہو جا تو سب سے بڑ اغنی بن جائے گا ۔ اپنے ہمسائے کے ساتھ اچھے سے پیش آﺅ، مومن بن جاﺅ گے ۔ دوسروں کے لیے وہی چیز پسند کروجو اپنے لیے کرتے ہو تو مسلم ہو جاﺅ گے۔ اور زیاہ نہ ہنسا کرو کیونکہ کہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے “۔ (ترمذی )۔
حضور نبی کریم ﷺ کے اس فرمان سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ غنی مال و دولت جمع کرنے والا نہیں ہوتا بلکہ حقیقت میں دل کا غنا صرف اسے نصیب ہو گا جو اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہو گیا ۔ جب بندہ اس بات کو سمجھ لیتا ہے کہ میرا کام صرف کوشش کرنا ہے اور اس کے بدلے مجھے کیا ملے گا یہ اختیار میرے پاس نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے ۔

جمعہ، 20 مارچ، 2026

الوداع ماہ رمضان (2)

 

الوداع ماہ رمضان (2)

جب ماہ رمضان رخصت ہو رہا ہوتا ہے تو اہل ایمان کے دل رو رہے ہوتے ہیں وہ اپنے نفس کا محاسبہ کرتے ہیں اور ان کے دل میں ایک ہی سوال ہوتا ہے اس کی عبادات اور دعائیں قبول ہوئیں یا نہیں یہی احساس جواب دہی ایمان کی علامت ہے۔ 
ارشاد باری تعالیٰ ہے : اور وہ لوگ جو نیک اعمال کرتے ہیں اور ان کے دل اس خوف سے لرزتے ہیں کہ انہیں اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
واسطہ تجھ کو پیارے نبی کا
حشر میں ہم کو مت بھول جانا 
روز محشر ہمیں بخشوانا
الوداع الوداع ماہ رمضاں۔
ماہ رمضان ہمیں یہ پیغام دیتا ہے جیسے ہم اس ماہ مقدس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں ماہ رمضان کے بعد بھی اسی طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہیں۔اگر ماہ رمضان کے بعدبھی نماز ،تلاوت قرآن پاک ، صدقہ وخیرات اور نیکیوں کا سلسلہ جاری رہا تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے ماہ رمضان میں اپنے مقصد کو حاصل کر لیا ہے لیکن اس کے برعکس ہم ماہ رمضان کے بعد نیکیوں کا سلسلہ ترک کر دیں اور نماز ، تلاوت قرآن پاک کو چھوڑ دیں تو ہم اس ماہ مقدس کا صحیح فائدہ حاصل نہیں کر سکے۔ 
نبی کریم ؐنے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے اگرچہ تھوڑ ا ہی کیوں نہ ہو۔ ہمیں ماہ رمضان کے بعد بھی نیکیوں کا سلسہ جاری رکھنا چاہیے۔ جیسے ہم رمضان میں طبقے کے کمزور افراد کی مدد کرتے ہیں ایسے ہی یہ سلسلہ ماہ مقدس کے بعد بھی جاری رہنا چاہیے معاشرے کو پْر امن بنانے کے لیے باہمی تعاون اور ایثار ضروری ہے۔رمضان ہمیں تقوی ، صبر اور اللہ تعالیٰ کی محبت دیتا ہے اور بھوکے پیاسے رہنے سے ہمیں دوسروں کی بھوک پیاس کا احساس دلاتا ہے۔
ہمیں اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہو کر گڑ گڑا کر یہ دعا مانگنی چاہیے کہ وہ ہمارے روزے نمازیں قبول فرمائے اور آئندہ زندگی میں صحت اور ایمان کی سلامتی کے ساتھ دوبارہ رمضان المبارک نصیب فرمائے۔
چل دیا ہے تو جو رب کی جانب
اہل ایمان کے پْر نم ہیں قالب 
قلب عشرت بھی غم سے بھرا ہے
الوداع الوداع ماہ رمضاں۔

جمعرات، 19 مارچ، 2026

صدقہ فطر

 

صدقہ فطر

رمضان المبارک رحمتوں ، برکتوں اور مغفرت کا مہینہ ہے۔ اس با برکت مہینے میں مسلمان روزے رکھ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور تقویٰ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ نے حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی کا بھی حکم فرمایا ہے۔جس طرح نماز ادا نہ کرنا گناہ ہے اسی طرح استطاعت ہونے کے باوجود کسی بھوکے کو کھانا نہ کھلانا بھی گناہ ہے۔ روزے میں حقوق اللہ اور حقو ق العباد ساتھ ساتھ ہیں اگر بندہ روزے رکھ کر حقوق اللہ کی ادائیگی کرتا ہے تو اسے غمگساری کا مہینہ بھی قرار دیا گیا ہے۔حضور نبی کریم ﷺ سارا سال ہی سخاوت فرمایا کرتے تھے اور کوئی سائل خالی نہیں جاتا تھا تو رمضان المبارک کے مہینہ میں نبی کریم ﷺ کی سخاوت کا کیا عالم ہوگا۔اسلام میں مسلمانوں پر ماہ رمضان میں ہر صاحب نصاب آدمی اور جن کا وہ کفیل ہے سب کی طرف سے صدقہ فطرنماز عید الفطرسے پہلے ادا کرنا واجب ہے۔ تاکہ معاشرے کے غرباء و مساکین بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔
نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : صدقہ فطر ہر مسلمان غلام اور آزاد ، مرد اور عورت ، چھوٹے اور بڑے پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو مقرر فرمایا اور حکم فرمایا کہ نماز عید کے لیے نکلنے سے پہلے ہی اسے ادا کر دیا جائے۔ 
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے صدقہ فطر کو فرض قرار دیا تا کہ روزے کے لیے لغو اور بیہودہ اقوال و افعال سے پاکیزگی ہو جائے اور مسکینوں کو طعام حاصل ہو۔لہٰذا جس نے اسے نماز عید سے پہلے ادا کر دیا تو یہ صدقہ فطر ہو گا اگر نمازکے بعد ادا کیا تو یہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہے۔ (ابی دائود )
اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ فطر کے دو فائدے ہیں ایک یہ کہ اگر کوئی روزے کی حالت میں کوئی غلط بات بول دے یا کوئی کوتاہی ہو جائے تو صدقہ فطر کے صدقے اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دے گا۔دوسرا یہ معاشرے کے غریب اور کمزور طبقات کو بھی سہارا دے کر انہیں بھی اپنے ساتھ عید کی خوشیوں میں شامل کیا جائے۔ آج اس مہنگائی کے دور میں معاشرے میں معاشی نا ہمواری میں اضافہ ہو رہا ہے صدقہ فطر کی اہمیت اور بھی زیادہ ہو جاتی ہے اسی لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ خلوص دل سے خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے صدقہ فطر ادا کرے۔صدقہ فطر نا صرف ایک مالی عبادت ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے اور انسانی ہمدردی کو فروغ دینے کا ذریعہ ہے۔

بدھ، 18 مارچ، 2026

الوداع ماہ رمضان (1)

 

الوداع ماہ رمضان (1)

قلب عاشق ہے اب پارہ پارہ
الوداع الوداع ماہ رمضان 
کلفت ہجرو فرقت نے مارا
الوداع الوداع ماہ رمضان
رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ وہ مبارک مہینہ ہے جسے قرآن مجید نے ہدایت ، رحمت اور مغفرت کا مہینہ قرار دیا ہے۔یہ ماہ مقدس ایمان والوں کے لیے روحانی تربیت ، عبادت کی کثرت اور اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے کا بہترین موقع ہوتا ہے۔ جب یہ با برکت مہینہ رخصت ہونے لگتا ہے تو اہل ایمان کے دلوں میں ایک عجیب سی اداسی اور حسرت پیدا ہوتی ہے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی عزیز مہمان چند دن قیام کے بعد واپس جا رہا ہو۔اہل ایمان اس ماہ مقدس کے اختتام پر اللہ تعالیٰ کے حضور جھک جاتے ہیں اور اس مہینے کی برکتوں کو مزید سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لیے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں بتاتا ہے۔( سورۃ البقرہ ) 
ماہ رمضان نہ صرف روزوں کا مہینہ ہے بلکہ یہ مہینہ ہمیں درس دیتا ہے کہ ہم قرآن مجید سے اپنے تعلق کو مضبوط کریں۔یہی وجہ ہے کہ مسلمان اس مہینے میں تلاوت قرآن مجید ،تراویح کا اہتمام کرتے ہیں اور ذکر اذکار کو بھی مزید بڑھا دیتے ہیں تا کہ ان کے دل منور ہو سکیں اور جب یہ مہینہ رخصت ہونے لگتا ہے تو ایک سچا مسلمان اس بات پر غورو فکر کرتا ہے کہ اس نے ماہ مقدس میں اپنے نفس کی اصلاح کی یا نہیں۔ ماہ رمضان گناہ کی معافی اور پاکیزگی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔لیکن جب یہ مہینہ رخصت ہونے لگتا ہے تو مومن کے دل میں یہ خوف بھی پیدا ہوتا ہے کہ وہ اس ماہ مقدس کی قدر کر سکا یا نہیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتا ہے۔ 
کچھ نہ حسن عمل کر سکا ہوں
نذر چند اشک کر رہا ہوں 
بس یہی ہے میرا کل اثاثہ
الوداع الوداع ماہ رمضاں۔
ماہ رمضان کے آخری ایام خصوصی اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ ان ایام کی طاق راتوں میں اللہ تعالیٰ نے لیلۃ القدر رکھی ہے جو کہ ہزار مہینوں سے افضل رات ہے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب ماہ رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو حضور نبی کریم ﷺ کمر کس لیتے اور راتوں کا جاگتے اور گھر والوں کو بھی عبادت کے لیے جگاتے۔

منگل، 17 مارچ، 2026

لیلۃ القدر (2)

 

لیلۃ القدر (2)

نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے اس رات یعنی شب قدر کو ایمان اور احتساب کے ساتھ قیام کیا اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ 
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب لیلۃ القدر کی رات آتی ہے تو جبرائیل امین فرشتوں کی جماعت میں اترتے ہیں اور کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر ذکر اللہ کرنے والے کے لیے دعا کرتے ہیں اور اس کو سلام کرتے ہیں۔(مکاشفۃالقلوب)۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے حضور نبی کریم ﷺ سے عرض کی کہ میں اگرشب قدر کو پا لوں تو کیا دعا مانگوں۔ تو حضور نبی کریمﷺنے فرمایا اے عائشہ آپ یہ دعامانگو ’’ اللھم انک عفو تحب العفوفا عف عنی‘‘ اے اللہ تو معاف فرمانے والا ہے معافی دینے کو پسند کرتا ہے پس مجھے معاف فرما دے۔ 
ابن ماجہ کی حدیث ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص شب قدر سے محروم ہو گیا گویا پوری بھلائی سے محروم ہو گیا اور شب قدر کی خیر سے وہ ہی محروم ہوتا ہے جو کامل محروم ہو۔ پہلی امتوں کی عمریں بہت زیاہ ہوتی تھیں لیکن امت محمدیہ کی عمر کم ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس امت پر احسان فرمایا کہ ایک رات ایسی دے دی جو کہ ہزار مہینوں سے افضل رات ہے تاکہ اس رات عبادت کر کے امت محمدیہ زیادہ سے زیادہ ثواب کماسکے۔ 
اس رات کو تلاوت قرآن پاک ، نوافل ، ذکرو اذکار اور استغفار کرنے کی بہت زیادہ فضیلت ہے۔ شب قدر در اصل خود احتسابی اور اصلاح نفس کا بہترین موقع ہے۔ اس رات بندے کو چاہیے کہ وہ اپنے ماضی کی غلطیوں پر ندامت کا اظہار کرے اور آئندہ زندگی کو بہترانداز میں گزارنے کا عہد کرے۔ 
شب قدر صرف ایک رات نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت اور کرم کا مظہر ہے۔بد قسمتی سے ہم اس عظیم رات کی قدر نہیں کرتے اورغفلت میں گزار دیتے ہیں۔ روایت میں ہے کہ ایک روز نبی کریم ﷺ اپنے ممبر پر جلوہ فرما ہو رہے تھے تو آپ ﷺ نے تین بار آمین فرمایا۔صحابہ کرام نے نبی کریمﷺ سے عرض کی یا رسول اللہﷺ آپ نے آج تین مرتبہ آمین کیوں کہا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا میرے پاس جبریل علیہ السلام تشریف لائے انہوں نے کہا جو ماہ رمضان کو پائے اور اپنی بخشش نہ کروا سکے اس پر اللہ اور اس کے رسولﷺ کی لعنت تو میں نے کہا آمین۔ 
اللہ تعالیٰ ہمیں اس مبارک رات کی قدر کرنے اور اس کی برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے اور اپنی رحمتوں اور برکتوں سے مالا مال فرمائے آمین۔

پیر، 16 مارچ، 2026

لیلۃ القدر (۱)

 

لیلۃ القدر (۱)

رمضان المبارک اللہ تعالی کی بے شمار رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے اس مبارک مہینے میں ایک ایسی عظیم رات بھی آتی ہے جسے اللہ تعالی نے ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا ہے یہ مقدس اور با برکت رات لیلۃ القدر کہلاتی ہے ۔ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں اس رات کی فضیلت و عظمت کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ وہ عظیم رات ہے جس میں اللہ تعالی کی خصوصی رحمتیں نازل ہوتی ہیں ، اللہ تعالی اپنے بندوں کی دعاؤں کو قبول فرماتا ہے اور فرشتے زمین پر اترتے ہیں ۔ارشاد باری تعالی ہے :
’’بیشک ہم نے اسے شب قدر میں اتارا ۔ اور تم نے کیا جانا کیا شب قدر ۔ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ۔ اس میں فرشتے اور جبریل اترتے ہیں اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لیے ۔ وہ سلامتی ہے صبح چمکنے تک ‘‘۔ ( سورۃ القدر )۔
یعنی کہ جو بندہ اس رات خالص اللہ تعالی کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کے لیے عبادت کرے تو اسے ہزار مہینوں یعنی 84 سال عبادت کرنے کا ثواب ملتا ہے ۔ 
حضرت مجاہد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر فرمایا جس نے ایک ہزار مہینے راہ خدا میں جہاد کیا ۔صحابہ کرام کو اس سے تعجب ہوا تو اللہ تعالی نے سورۃ القدر نازل فرمائی ۔(سنن الکبر ی البہیقی )۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالی نے میری امت کو شب قدر کا تحفہ عطا فرمایا اوران سے پہلے اور کسی امت کو یہ رات عطا نہیں فرمائی ۔ (مسند فردوس )۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا شب قدر کو آخری دس دنوں میں تلاش کرو ۔ ( صحیح مسلم )۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رمضان المبارک کا آخری عشرہ آتا تو نبی کریم ﷺ عبادت کے لیے مستعد ہو جاتے راتوں کو جاگتے اور اپنے اہل خانہ کو بھی جگاتے ۔ (بخاری )۔
اللہ تعالی نے اس رات کو مخصوص نہیں فرمایا اس وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ بندے اس رات کو تلاش کرتے ہوئے شب بیداریاں کریں ۔اگراللہ جل شانہ اس رات کو متعین فرما دیتا تو بندے صرف اسی رات کو عبادت کرنے پر اکتفا کرتے ۔ اور اگر اس رات کو مخصوص کر دیتااور بندے اس رات کی شان و عظمت کو جانتے ہوئے بھی اس رات کوئی گناہ کر بیٹھتے تو وہ اس کے گناہ کے جرم کو مزید بڑھا دیتا۔ اسی لیے اللہ تعالی نے اس رات کو پوشیدہ رکھا اور فرمایا کہ اسے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔

ہفتہ، 14 مارچ، 2026

تلاوت قرآن پاک کے آداب(۱)

 

تلاوت قرآن پاک کے آداب(۱)

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی وہ مقدس کتاب ہے جو انسانیت کی ہدایت ، اصلاح کامیابی کے لیے نازل کی گیی ۔ اس کی تلاوت کرنا بہت بڑی سعادت کی بات ہے جس طرح ہر عبادت کے کچھ آداب ہوتے ہیں ایسے ہی تلاوت قرآن مجید کے بھی آداب ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر زیادہ اجر و ثواب کمایا جا سکتا ہے۔ 
اللہ تعالیٰ سورۃ الحجر میں ارشاد فرماتا ہے ” بے شک ہم نے ہی اس ذکر کو نازل کیا اور بیشک ہم ہی اس کے محافظ ہیں“۔سورۃ المزمل میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :” اور قرآن مجید کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔ 
حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایاجب بھی کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کے مبارک گھر میں جمع ہوتے ہیں تلاوت قرآن مجیدکرتے ہیں اور ایک دوسرے کو پڑھاتے ہیں۔ تو ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سکینت نازل ہوتی ہے ، اللہ تعالیٰ کی رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے ، اللہ کے فرشتے ان کو ڈھانپ لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کا تذکرہ اپنے پاس والوں میں کرتا ہے۔ (مسلم شریف)۔
رسول کریم ﷺنے ارشاد فرمایاقرآن پاک میں مہارت رکھنے والا شخص قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نیکوکار ، معزز اور پرہیز گار فرشتوں کے ساتھ ہو گا۔ اور ایسا شخص جو تلاوت قرآن مجید کرتے ہوئے اٹھتا ہے اور تلاوت کرنے میں اس کو دشواری آتی ہے تو اس کے لیے دو اجر ہیں۔ ( بخاری ، مسلم )۔
قرآن مجید کی تلاوت کرنے کا بہت زیادہ اجر و ثواب ہے۔ تلاوت قرآن مجید کرتے وقت اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ذہن میں رکھنا چاہیے۔ امام نووی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں ایک قاری قرآن پر سب سے پہلے جو چیز لازم ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کی تلاوت میں خلوص نیت ضروری ہے ، اور یہ کہ تلاوت قرآن مجید صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضاکے لیے ہو اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی خوشنودی اور تقرب کا حصول مد نظر نہیں ہو نا چاہیے۔ ( الاذکار)۔
 کوئی شخص تلاوت قرآن مجید صرف اس لیے کر ے کہ لوگ اس کی میٹھی زبان سے محظوظ ہوں ، اس کی طرف دیکھیں،اس کی مجلس میں آئیں اور اس کی تعریف کریں تو ایسا شخص تلاوت قرآن مجید کے اجر سے محروم رہے گا۔قرآن مجید کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا بھی اس کے آداب میں شامل ہے۔ قرآن پاک کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جس چیز کو قرآن نے حلال قرار دیا ہے اس کو حلا ل جانیں اور جس کو حرام قرار دیا ہے اس کو حرام جانیں۔اور جن کاموں سے روکا ہے اس سے رک جائیں اور جن اعمال کو بجا لانے کا کہا ہے ان اعمال کو مکمل احترام کے ساتھادا کیا جائے۔قرآن مجید کو حفظ کرنے کی بہت زیادہ فضیلت ہے۔ لیکن قابل توجہ اور اہم بات یہ ہے کہ صرف زبانی یاد کر لینا کافی نہیں بلکہ اسے زندگی بھر یاد رکھنا اس سے بھی بڑی ذمہ داری ہے۔

جمعہ، 13 مارچ، 2026

اعجاز القرآن (۱)

 

 اعجاز القرآن (۱)

قرآن مجید نہ صرف ہدایت کا سر چشمہ ہے بلکہ فصاحت و بلاغت ، علوم و معارف اور پیش گوئیوں کے اعتبار سے بھی ایک معجزہ ہے۔ قرآن مجید کے اعجاز کو مسلمان تو تسلیم کرتے ہی ہیں۔ اس کے ساتھ عرب کے فصیح و بلیغ ادباء اور دیگر مذاہب کے دانشور بھی اس کلام کی برتری کو ماننے پر مجبور ہیں۔اعجاز کا لغوی معنی ’’عاجز کر دینا ‘‘ ہے یعنی ایسی چیز پیش کرنا جس کی مثل کوئی دوسرا نہ لا سکے۔ قرآن مجید کا اعجاز یہ ہے کہ یہ ایک ایسا کلام ہے جو انسانی قدرت اور علم سے بالا تر ہے۔ نزول قرآن کے دور میں عربوں نے ہر طرف اپنی فصاحت و بلاغت کی دھاک بٹھا رکھی تھی اور عربی زبان کے تمام اصول و قواعد سے اس طرح واقف تھے کہ دنیا ان کے کلام میں کوئی بات خلاف قواعد تلاش نہیں کر سکتی تھی۔ عربوں نے اپنے کلام کے کچھ شہ پارے کعبہ کی دیوار پر لگا دیے اور دیگر اقوم کو چیلنج دیا کہ کسی میں ہمت ہے تو وہ ان اشعار کے جیسے کوئی اشعار بنا کر پیش کرے۔ لیکن کوئی بھی عربوں کی فصاحت و بلاغت کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ 
قرآن مجید برھان رشید وہ پہلی کتاب ہے جس نے نہ صرف عربوں کے اس غرور کو توڑا بلکہ ان کے فصاحت و بلاغت کے شاہکار اشعار اوقصائد کو بھی خاک میں ملا دیا۔ اور ان کو چیلنج دیا کہ اس جیسی چند سورتیں بنا کر لے آئو۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
’’کیا یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اسے خود بنا لیا (اے محبوب ﷺ) تم فرمائو تم ایسی بنائی ہوئی دس سورتیں لے آئو اور اللہ کے سوا جو مل سکیں سب کو بلا لو اگر سچے ہو ‘‘۔ ( سورۃ ھود )۔
یعنی کفار مکہ نے کہا کہ قرآن کریم نبی کریمﷺ نے خود سے بنا لیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں چیلنج دیا کہ اگر یہ انسان کا کلام ہے اور تم سچے ہو تو اس جیسی دس سورتیں ہی لے آئو۔ اور اللہ تعالیٰ کے سوا تم جس کی مدد لینا چاہتے ہو لے لو۔ 
جب کفار مکہ اس چیلنج کو پورا نہ کر سکے اور نہ ہی کبھی کر سکیں گے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں مزید چیلنج دیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
’’اور اگر تمہیں کچھ شک ہو اس میں جو ہم نے اسے اپنے خاص بندے پر اتارا تو اس جیسی ایک سورت تو لے آئو اور اللہ کے سوا اپنے سب حمائتیوں کو بلا لو اگر تم سچے ہو ‘‘۔ (سورۃ البقرۃ)۔
اس کے بعد ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا ’’ پھر اگر نہ لا سکو اور ہم فرمائے دیتے ہیں کہ ہر گز نہ لا سکو گے تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں، تیار رکھی ہے کافروں کے لیے ‘‘۔ ( سورۃ البقرۃ )۔
لیکن کفار مکہ اس چیلنج کو بھی پورا نہ کر سکے اور اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ تم ہر گز نہ سکو گے۔ پھر جب کعبہ کی دیوار پر سوۃ الکوثر آویزاں کی گئی تو عرب کے بڑے بڑے فصاحت و بلاغت کے ماہر یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ’’ لیس ھذا من کلام البشر ‘‘ ’’ یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہو سکتا‘‘۔

جمعرات، 12 مارچ، 2026

حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (2)

 

حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (2)


حضرت حبشی بن جنادہؓ سے مروی ہے کہ حضورنبی کریم ﷺ نے فرمایا علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں اور میری طرف سے (عہد و پیمان میں) میرے اور علی کے سوا کوئی دوسرا ذمہ داری ادا نہیں کر سکتا۔ ( ترمذی ، ابن ماجہ )۔ 
اکثر غزوات میں حضور نبی کریمﷺ نے پرچم اسلام آپ ہی کو عطا کیا۔ غزوہ خیبر آپﷺنے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں پرچم دے کر فتح کی بشارت سنائی۔
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓسے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے جب انصار اور مہاجرین میں بھائی چارہ قائم کیا تو حضرت علی نبی کریمﷺ کے پاس آئے اور عرض کی یار سول اللہ ﷺ! آپ ﷺ نے صحابہ کرام میں بھائی چارہ قائم فرما دیا ہے لیکن مجھے کسی کا بھائی نہیں بنایا۔ آپﷺ نے فرمایا تم دنیا و آخرت میں میرے بھائی ہو۔ ( ترمذی )۔ 
طریقت میں حضرت علی ؓ بہت اونچی شان اور بلند ترین مقام کے مالک تھے۔حصول حقائق کے مشکلات کے حل پر آپ کوجو قدرت حاصل تھی اس کے بارے میں حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں’’اصول طریقت اورمصائب برداشت کر نے میں ہمارے پیر علی المرتضیؓ ہیں‘‘۔ایک شخص نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی سب سے پاکیزہ  چیز کونسی ہے ؟ آپ نے فرمایاوہ دل جو اللہ تعالیٰ کے تعلق کی وجہ سے ہر چیز سے بے نیاز ہو گیا ہے یہاں تک کہ دنیا کا نہ ہونا اسے فقیر نہ بناسکے اور اس کا ہونا اسے خوشی نہ دلا سکے۔
آپ ؓکے اقوال اور فیصلے پْر از حکمت اور قوت استدلال کے اعلیٰ ترین درجے میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چند اقوال یہ ہیں کہ :۱: توفیق الٰہی بہترین راہنما ہے۔ ۲: سب سے بڑی دولت عقل مندی اور سب سے بڑا افلاس حماقت ہے۔ ۳: گناہوں کی دنیا میں سزا یہ ہے کہ عبادت میں سستی اور معیشت میں تنگی پیدا ہو جاتی ہے۔ ۴: حلال کی خواہش اس شخص میں پیدا ہوتی ہے جو حرام کو چھوڑ دینے کی پوری پوری کوشش کرتا ہے۔ کوفہ میں ایک بد بخت خارجی عبدالرحمن ابن ملجم نے حالت نماز میں آپ پر حملہ کیا جس سے آپ شدید زخمی ہو گئے اور اکیس رمضان المبارک جمعہ کی شب اسلام کا یہ بدر منیر ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔
حضرت علیؓ قرآن کی عملی تفسیر تھے۔آپ رضی اللہ عنہ سوچ میں حکمت ، کردار میں پاکیزگی ، فیصلوں میں عدل اور عبادات میں اخلاص تھا۔آپؓکی زندگی ایک مکمل درس گاہ ہے ایک ایسی درس گاہ جو ہر دور کے مسلمان کو حق ، عدل اور تقوی کا راستہ دکھاتی ہے۔

بدھ، 11 مارچ، 2026

حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (1)

 

حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (1)

امیرالمومنین خلیفۃ المسلمین داماد رسول شیر خدا خلیفہ چہارم حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسلامی تاریخ کی ایک عظیم المرتب شخصیت ہیں۔آپ رضی اللہ عنہ کی زندگی شجاعت ، علم ، تقوی اور عدل و انصاف کی اعلی مثال ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے آپؓکو باب العلم کا لقب عطا فرمایا۔نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔
روایات کے مطابق حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ کی پرورش کی ذمہ داری اٹھائی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضور نبی کریم ﷺکے دامن محبت و شفقت میں پرورش پانے کا اعزازحاصل کیا۔
آپؓنے بچوں میں سب سے پہلےاسلام قبول کرنے کا شرف حاصل کیا۔ جب اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اعلانیہ تبلیغ کا آغاز ہوا تو مشکلات و مصائب کے باوجود اور انتہائی تکلیف دہ اور آزمائشی مرحلے میں بھی حضورﷺ کا ساتھ دیا۔ حضور نبی کریم ﷺ کو آپ ؓسے بے حد محبت تھی۔
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک لشکر بھیجا اس میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل تھے۔ آپ ؓ فرماتی ہیں میں نے نبی کریمﷺکو دیکھا کہ آپﷺ ہاتھ اٹھا کر دعا فرما رہے تھے کہ یا اللہ مجھے اس وقت تک موت نہ دینا جب تک میں علی کو واپس خیر و عافیت کے ساتھ نہ دیکھ لوں۔ ( ترمذی )۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضور نبی کریم ﷺ کے پاس ایک پرندے کا گوشت تھا آپﷺ نے دعا فرمائی یا اللہ اپنی مخلوق میں سے محبوب ترین شخص کو میرے پاس بھیج تا کہ وہ میرے ساتھ اس پرندے کا گوشت کھائے۔ چناچہ حضرت علی ؓآئے اور انہوں نے نبی کریمﷺ کے ساتھ گوشت کھایا۔
حضرت علیؓ کو بستر رسول پر آرام فرمانے کا بھی شرف حاصل ہے۔ جب حضور نبی کریم ﷺ کو مکہ چھوڑ جانے کی اجازت ملی تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’ اے علیؓ مجھے مکہ چھوڑ کر جانے کا حکم ہوا ہے آج میرے بستر پر میری سبز چادر اوڑھ کر سونا ہو گا اور ذرا اندیشہ نہ کرنا تمہیں کوئی بھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا‘‘۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تین روز تک مکہ مکرمہ رہے اور روز کھلی وادی میں جا کر اعلان فرماتے ’’ لوگوں سن لو جس کسی کی امانت رسول پاکﷺ کے پاس رکھی تھی وہ آئے اور اپنی امانت لے جائے ‘‘۔ چوتھے روز آپ اکیلے مدینہ منورہ روانہ ہوئے اور قبا پہنچ کر حضور ﷺ سے ملاقات کی تو آپ ﷺنے آپ کو گلے لگایا اور فرمایا’’ اے علی دنیااور آخرت میں تم میرے بھائی ہو‘‘۔

منگل، 10 مارچ، 2026

یو م الفرقان(2)

 

یو م الفرقان(2)

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے غزوہ بدر کے دن فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر کوئی مولود بچہ چالیس سال تک اہل دین کے ہاں دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرتا رہے اور اس دوران اللہ تعا لیٰ کی اطاعت کی اور تمام گناہوں سے بچتا رہا یہاں تک کہ وہ عمر کے انتہائی آخری حصہ میں پہنچ گیا یا عمر کے اس حصے میں پہنچ گیا جس میں وہ سب کچھ جاننے کے بعد بھی کچھ نہیں جانتا تھا پھر بھی تم میں سے کوئی اصحاب بدر کی اس فضیلت والی رات کو نہیں پا سکتا۔ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا بیشک جنہوں نے غزوہ بدر میں شرکت کی انہیں ان فرشتوں پر بھی فضیلت حاصل ہے جنہوں نے اس میں شرکت نہیں کی۔ ( طبرانی )
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے اصحاب بدر کے لیے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف توجہ فرمائی اور فرمایا جو عمل تم کرنا چاہتے ہو کرو بیشک تمہارے لیے جنت لازم ہو گئی ہے یا پھر اس طرح فرمایا میں نے تمہیں معاف فرما دیا ہے۔( متفق علیہ)
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت حاطب کا ایک غلام نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور حضرت حاطب کی شکایت کرتے ہوئے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ حاطب دوزخ میں داخل ہو جائے گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم جھوٹ بولتے ہو وہ دوزخ میں داخل نہیں ہو گا کیونکہ وہ بدر اور حدیبیہ میں شریک تھا۔ ( مسلم ، ترمذی )۔
اس غزوہ میں جہاں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عظیم فتح نصیب فرمائی وہاں ہمیں اس سے کئی اسباق حاصل ہوتے ہیں۔ سب سے پہلا یہ کہ مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی لیکن ان کا اللہ تعالیٰ پر یقین مضبوط تھا اس لیے کامیابی کا انحصار تعداد پر نہیں بلکہ توکل علی اللہ اور ، اللہ تعالیٰ کی مدد
 اور سچے ایمان پر منحصر ہے۔ مسلمانوں نے ذاتی مفاد کو چھوڑ کر دین کی سر بلندی کے لیے اپنی جانیں قربان کیں اس سے ہمیں دین کے لیے اخلاص اور قربانی دینے کا سبق حاصل ہوتا ہے۔ 
غزوہ بدر کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ جب کوئی قوم ایمان ، اتحاد اور قربانی کے جذبے سے میدان میں آتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی مدد بھی اس میں شامل حال رہتی ہے اور اللہ تعالیٰ انہیں تعداد میں کم ہونے کے باوجود بھی فتح عطا فرماتا ہے۔

پیر، 9 مارچ، 2026

یو م الفرقان(1)

 

یو م الفرقان(1)

اسلامی تاریخ میں بعض دن ایسے ہیں جو محض واقعات نہیں بلکہ ایمان ، قربانی اور نصرت الٰہی کے زندہ معجزے ہیں۔ ہجرت کے دوسرے سال سترہ رمضان المبارک کو پیش آنے والی جنگ بدر وہ معرکہ حق تھاجس نے بے سرو سامان مسلمانوں کو دنیا کی نگاہ میں با وقار قوت بنا دیا اور واضح کر دیا کہ کامیابی کا دارومدار تعداد ، اسلحہ یا ظاہری طاقت پر نہیں بلکہ ایمان ، اخلاص اور اللہ تعالیٰ پر کامل یقین پر ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے : اور بیشک مدد کی تھی تمہاری اللہ تعالیٰ نے بدر میں حالانکہ تم با لکل کمزور تھے۔ پس اللہ سے ڈرو تاکہ تم شکر گزار بن جائو۔(سورۃ آل عمران )۔
اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر کے دن کو یوم الفرقان یعنی حق اور باطل کے درمیان فرق کا دن قرار دیا۔ سورۃ الانفال میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے : اور جسے ہم نے اتارااپنے بندہ خاص پر فیصلہ کے دن۔ جس روز آمنے سامنے ہوئے تھے دونوں لشکر۔ اس معرکہ میں مسلمانوں کی تعداد صرف تین سو تیرہ تھی اور 6 زریں ،8 تلواریں ، اونٹ اور2 گھوڑے تھے۔ اسلام کا پرچم حضرت مصعب بن عمیررضی اللہ عنہ، ایک جھنڈا حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ایک جھنڈاحضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو عطا ہوا۔جبکہ کفار مکہ کے پاس ایک ہزار سپاہی ،سو گھوڑے اور چھ سو زریں تھیں۔سترہ رمضان المبارک کو مسلمانوں اورکفار مکہ کے درمیان جنگ کا آغاز ہوا۔ جس میں قریش کی طرف سے عتبہ ، شیبہ اور ولید بن عتبہ میدان میں اترے ان کے مقابلے کے لیے مسلمانوں کی طرف سے حضرت حمزہ ، حضرت علی اور حضرت عبیدہ رضوان اللہ علیہم اجمعین میدان میں اترے اور انہوں نے تینوں کافروں کو واصل جہنم کیا۔ اس کے بعد جنگ کا باقاعدہ آغاز ہوا اوراللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح نصیب فرمائی۔ اس فتح کے بعد مسلمانوں کو تقویت ملی اور ان کے حوصلے بڑھ گئے۔ اور قریش مکہ کا غرور خاک میں مل گیا۔ غزوہ بدر میں یہ بات بھی ثابت ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ کی مدد ہمیشہ حق کے ساتھ ہوتی ہے۔ اس جنگ میں ابو جہل بھی واصل جہنم ہوا۔ رسول کریم ﷺ نے حکم دیا کہ کوئی جاکر ابو جہل کی خبر لائے اس کا کیا انجام ہوا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودگئے تو انہوں نے دیکھا کہ ابو جہل دم توڑ رہا ہے۔ آپ نے اس کا سر کاٹ کر آپ ﷺ کے قدموں میں رکھ دیا۔ حضور ﷺ نے تین مرتبہ فر مایا اے اللہ تیرا شکر ہے۔ اس کے بعد حضور نبی کریم ﷺ سر بسجود ہوئے اور پھر فرمایا کہ ہر امت میں ایک فرعون ہوتا ہے اس امت کا فرعو ن ابو جہل تھا۔

ہفتہ، 7 مارچ، 2026

رحمت، مغفرت اور نجات کا مہینہ

 

رحمت، مغفرت اور نجات کا مہینہ

اللہ تعالی نے امت مسلمہ پر خاص فضل و کرم کیا ہے اور بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جن میں اللہ تعالی کی ایک بہت بڑی نعمت ماہ رمضان کا عطا کرنا بھی ہے ۔ یہ وہ با برکت مہینہ ہے جس میں اللہ تعالی اپنی رحمت ، مغفرت اور جہنم سے نجات کے دروازے کھول دیتا ہے ۔ ہر مسلمان کے لیے اس ماہ مقدس میں سنہری موقع ہے کہ وہ اللہ تعالی کی رحمت ، مغفرت طلب کرے ۔ 
ماہ رمضان کا پہلا عشرہ رحمت ہے ۔حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ماہ رمضان کا پہلا عشرہ رحمت دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے آزادی  کا ہے۔ 
اللہ تعالی کی رحمت بے شمار ہے جس کی کوئی حد نہیں ۔ اللہ تعالی ماہ رمضان میں اپنی خاص نعمتوں کے دروازے کھول دیتا ہے اور نیکی کرنےکا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے ۔اللہ تعالی کی طرف سے در گزر کرنے اور بخشش کی بارش ہوتی ہے ۔ جو مسلمان اس ماہ مقدس میں روزہ رکھ کر عبادت ، توبہ ، استغفار اور نیک اعمال کرنے میں مصروف رہتے ہیں اللہ تعالی کی خاص رحمت کے مستحق ٹھہرتے ہیں ۔
رمضان المبارک کو مغفرت کا مہینہ بھی قرار دیا گیا ہے ۔ ماہ رمضان کا دوسرا عشرہ مغفرت ہے ۔حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو شخص ایمان اور نیک نیتی کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔(بخاری و مسلم )۔
اس ماہ مقدس کی بابرکت ساعتوں سے مستفید ہوتے ہوئے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالی سے اپنے گنا ہوں کی معافی طلب کرے اور
اس بات کا عہد کرے آئندہ وہ گناہوں کے قریب نہیں جائے گا۔ حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے ماہ رمضان کو پایا اور اپنی بخشش نہ کروا سکا اس پر اللہ تعالی کی بھی لعنت اور نبی کریم ﷺ کی بھی لعنت ہے جس پر جبرئیل امین نے امین کہا تھا۔
ماہ رمضان کے آخری عشرہ کو جہنم سے آزادی کا عشرہ قرار دیا گیا ہے اللہ تعالی اپنی رحمت ، فضل اور کریم سے بے شمار لوگوں کو اس ماہ مقدس میں جہنم سے آزادی عطا فرماتا ہے ۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالی ماہ مقدس کی ہر رات میں کئی لوگوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے ۔(ترمذی)۔
ہزار مہینوں سے افضل رات لیلۃ القدر بھی ماہ مقدس کے آخری عشرہ میں ہے ۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ماہ رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں لیلۃ القدر کو تلاش کرو ۔ یہ راتیں اللہ تعالی کے خاص فضل و کریم کو حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں ۔
ہر مسلمان کو چاہیے کہ اس ماہ مقدس کا جتنا ہو سکے ادب و احترام کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ عبادت کرے، توبہ و استغفار کرے اور نیک اعمال کر کے اپنی بخشش کا سامان جمع کرے ۔اللہ تعالی ہم سب کو اس ماہ مقدس کی برکات سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔

جمعہ، 6 مارچ، 2026

روزہ اور تقوی کا حصول(۲)

 

روزہ اور تقوی کا حصول(۲)

تقویٰ کے حصول کے لیے انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگ جائے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اللہ کا رنگ اور اس رنگ سے حسین کس کا رنگ ہے ‘‘۔ ( سورۃ البقرہ )
فرمان مصطفی ﷺ ہے کہ خود کو اللہ تعالیٰ کی صفات کے ساتھ متصف کر لو۔ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے کہ وہ کھانے پینے سے پاک ہے۔بندہ مومن محدود وقت کے لیے ان صفات کو اپنا کر اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگ جاتا ہے۔ روزہ انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتا ہے۔جب بندہ روزے کی حالت میں ہوتا ہے تو وہ اپنی خواہشات کو قربان کر دیتا ہے۔اگر روزہ دار کسی بند کمرے میں ہو اور اس کے سامنے ٹھنڈا پانی پڑا ہو اور پیاس کی شدت بھی ہو لیکن وہ پانی نہیں پیتا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے یہی جذبہ انسان کو دیگر گناہوں سے بچانے کا ذریعہ بنتا ہے۔انسان کے دل میں جب بھی کسی گناہ کا خیال آتا ہے تو اس سے بچتا ہے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔ جس سے اس کے دل میں خشیت الٰہی اور محبت الٰہی پیدا ہوتی ہے اور یہی کیفیت تقویٰ کی بنیاد ہے۔ روزے میں اگرچہ بظاہر دوخواہشات پر پابندی لگائی گئی ہے جو کہ غذا اور جنسی خواہش ہے لیکن اس کی اصل روح یہ ہے کہ انسان ہر اس کام سے باز رہے جس کو شریعت نے منع کیا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے روزے کی حالت میں جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑا وہ جان لے کہ اللہ کو اس بات کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ بھوکا اور پیاسا رہے۔ ( بخاری شریف )
 ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’(یہ) وہ عظیم کتاب ہے جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں ، (یہ) پر ہیز گاروں کے لیے ہدایت ہے ‘‘۔ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور (آخرت کے ) سفر کا سامان کر لو بیشک سب سے بہتر زاد راہ تقویٰ ہے اور اے عقل والو میرا تقوی اختیار کرو ‘‘۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگو ں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ﷺ !لوگوں میں سب سے معزز کون ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا:جو سب سے زیادہ متقی ہے‘‘۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺکو فرماتے ہوئے سنا ہے : اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے سے محبت رکھتا ہے جو متقی ہو ، مستغنی ہو اور گوشہ نشین ہو ‘‘۔
حضرت سمرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :شرافت مال (سے) ہے اور عزت تقوی ( سے ) ہے۔حضرت انس بن مالکؓ سے رویت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا:تقوی عمل کا سردار ہے۔

بدھ، 4 مارچ، 2026

روزہ اور تقویٰ کا حصول(۱)

 

روزہ اور تقویٰ کا حصول(۱)

اسلام میں عبادات محض رسوم کا نام نہیں بلکہ یہ روح کی پاکیزگی اور کردار سازی کا ایک مربوط نظام ہے۔ہر عبادت اپنے دامن میں بے شمار روحانی، معاشرتی اور معاشی فوائد و ثمرات رکھتی ہے۔ان عبادات میں روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس کا بنیادی مقصد انسان میں تقویٰ کی صفت پیدا کرنا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :
اے ایمان والوتم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تا کہ تم متقی بن جائو۔ ( سورۃالبقرہ)
تقویٰ کا مطلب اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل کرنا اور اس کی نافرمانی سے بچنا ہے۔ روزہ انسان کو صبر ، شکر اور ضبط نفس کی تربیت دیتا ہے جو تقویٰ کے حصول کے لیے ضروری ہے۔ انسان کے اندر روحانیت جتنی کمزور ہوتی ہے اتنی ہی تقویٰ کی صلاحیت کم ہوتی جاتی ہے۔ اسلام میں بہیمیت کو ناپسند فرمایا گیا ہے اور زیادہ کھانا پینا بھی بہیمیت کا سبب بنتا ہے۔ بھوک اور پیاس انسان میں حیوانیت کو کم کرتی ہے اور انسان تقویٰ کے راستے پر گامزن ہو جاتا ہے۔ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا : شیطان آدمی کے اندر ایسے ہی رواں دواں رہتا ہے جیسا کہ خون۔اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ بھوک کے ذریعے اس کا راستہ بند کر دے۔نبی کریم ﷺ نے ایسے نوجوانوں کو بھی روزہ رکھنے کی تلقین کی جو شادی کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔بھوک اور پیاس کی وجہ انسان میں بہیمیت کمزور ہوتی ہے اور رات کو تلاوت قرآن پاک سن کر روح کو تازگی ملتی ہے جس کا نتیجہ حصول تقویٰ ہے۔ روزہ انسان کو بْرائیوں سے روکنے کا ذریعہ ہے۔ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا روزہ ڈھال ہے لہذا روزہ دار کو چاہیے کہ وہ فحش گوئی اور بے حیائی سے بچے۔دین اسلام میں حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقو ق العباد کی ادائیگی کی سختی سے تلقین کی گئی ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت نہ کر کے گناہ گار ہو تا ہے اسی طرح حقو ق العباد کی ادائیگی نہ کرنے والا بھی گناہ گار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے امیر لوگوں کے مال میں غرباء کا حق رکھا ہے۔جسے بھوک اور پیاس کا احساس نہ ہو وہ غرباء کی بھوک اور پیاس کا اندازہ کیسے لگا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے روزے فرض کر دیے تا کہ امراء کو غرباء کی بھوک اور پیاس کا احساس ہو۔روزہ غریب اور نادار لوگوں کے دکھوں میں شرکت کا عملی نمونہ ہے۔حضور نبی کریم ﷺنے فرمایا رمضان غمگساری کا مہینہ ہے۔

اسلام اور انسانی حقوق

  اسلام اور انسانی حقوق اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں عقائد و عبادات اور معاملات کا اپنا ایک مکمل نظام موجود ہے۔ اسلامی نظام کا سر چشم...