شکر کی فضیلت و اہمیت(۲)
حضرت نعمان بن بشیر سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو تھوڑی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ زیادہ نعمتوں کا بھی شکر ادا نہیں کرتا اور جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالی کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا اور اللہ تعالی کی نعمتوں کو بیان کرنا شکر ہے اور اسے بیان نہ کرنا نا شکری ہے ۔( شعب الایمان )۔
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے آپ ؓ کو ہر نماز کے بعد یہ دعا مانگنے کی وصیت فرمائی:” اللھم اعنی علی ذکرک و شکرک و حسن عبادتک “ ۔اے اللہ تو اپنے ذکر ، اپنے شکر اور احسن طریقے سے اپنی عبادت کرنے میں میری مدد فرما ۔ ( ابو داؤد )۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ میرے بستر پر تشریف لائے اور فرمایا اے عائشہ اگر مجھے اجازت دو تو میں اللہ تعالی کی عبادت کر لوں تو میں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ آپ ضرور عبادت فرمائیں ۔ آپ ﷺ نے وضو فرمایا نماز شروع فرمائی اور رونے لگے یہاں تک کہ آپ کے آنسو سینہ مبارک تک بہنے لگے یہاں تک کہ نماز پڑھتے فجر کا وقت ہو گیا ۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسو ل اللہ ﷺ آپ تو بخشے ہوئے ہیں اللہ تعالی کے حبیب ہیں تو پھراتنی گریہ و زاری کیوں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اے عائشہ کیا میں اللہ تعالی کا شکر گزار بندہ نہ بنو ں ۔
حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کھا کر شکر ادا کرنے والا روزہ دار اور صابر کے مقام پر فائز ہو جاتا ہے روز حشر حکم ہو گا شکر اداکرنے والے کھڑے ہوجائیں ۔ اس وقت صرف وہی لوگ کھڑے ہوں گے جنہوں نے ہر حال میں اللہ تعالی کا شکر ادا کیا ہو گا ۔ شکر انسان کی زندگی میں سکون اور اطمینان پیدا کرتا ہے ۔ جو شخص اللہ کی دی ہوئی نعمتوں پر نظر رکھتا ہے وہ کبھی مایوس نہیں ہوتا ۔
آج کے دور میں بے چینی ، حسد اور نا شکری عام ہو چکی ہے کیونکہ انسان دوسروں کی نعمتوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور جو نعمتیں اللہ تعالی نے اسے عطا کی ہیں وہ بھول جاتا ہے ۔اگر وہ شکر کی عادت بنا لے تو اللہ تعالی اسے مزید نعمتوں سے نواز دے گا ۔
شکر انسان کو تکبر سے بچاتا ہے جب انسان یہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ بھی اس کے پاس موجود ہے وہ اللہ تعالی کا عطا کردہ ہے اور عاجزی اختیار کرتا ہے تو اس میں تکبر پیدا نہیں ہوتا ۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں