عید الاضحی اور قربانی(۲)
قربانی اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا اہم ذریعہ ہے اور یہ انسانی فطرت میں موجود خود غرضی ، مادہ پرستی اور دنیا کی محبت کو ختم کرتی ہے۔لہٰذا وہی قربانی اللہ تعالیٰ کے حضور قابل قبول ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کی جائے۔ قربانی کا جانور کتنا ہی مہنگا کیوں نہ ہو اور کتنا ہی خوبصورت کیوں نہ ہو اگراس میں دکھلاوا اور ریاکاری شامل ہے تو اللہ کے نزدیک ایسی قربانی کی کوئی اہمیت نہیں: ارشاد باری تعالیٰ : تو اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ ( سورۃ الکوثر )۔
سورۃ الحج میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’اللہ کو ہرگز نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے نہ ان کے خون۔ ہاں تمہاری پرہیز گاری اس تک پہنچتی ہے ‘‘۔ (سورۃ الحج :آیت ۳۷)۔
سورۃ الانعام میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبو ب ﷺ سے فرمایا : ’’(اے محبوبﷺ ) تم فرمائو میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو سارے جہان کا رب ہے ‘‘۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یوم النحر میں ابن آدم کا کوئی عمل خدا کے نزدیک قربانی کرنے سے زیادہ محبوب نہیں۔ اوروہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگ اور بال اور کھروں کے ساتھ آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ قبول فرما لیتا ہے۔ لہٰذا اسے خوش دلی سے کرو۔ ( ترمذی )۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عرض کی یا رسول اللہ ﷺ یہ قربانیاں کیا ہیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم ؑ کی سنت ہے۔ صحابہ کرام نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ کیا اس سے ہم کو ثواب ملے گا ؟آپ ﷺ نے فرمایا ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے عرض کیا اور اون؟ تو آپﷺ نے فرمایا کہ اون کے ہر بال کے بدلے میں بھی ایک نیکی ہے۔( مسند احمد )۔
ان آیات مبارکہ اور احادیث مبارکہ سے واضح ہو جاتا ہے کہ قربانی کرنا ہر عاقل بالغ اور استطاعت رکھنے والے مسلمان پر واجب ہے اور اس کی ادائیگی سے اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔ لیکن اس کے بر عکس جو شخص مالی استطاعت رکھنے کے باوجود قربانی نہیں کرتا نبی کریم ﷺ نے ایسے شخص کے لیے وعید فرمائی ہے : نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص قربانی کرنے کی استطاعت رکھتا ہو اور پھر بھی وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ آئے۔ ( ابن ماجہ )۔
