منگل، 30 جون، 2026

شہادتِ امام حسین علیہ السلام

 

شہادتِ امام حسین علیہ السلام

 یزیدیوں کی طرف سے عمر و بن سعد نے سب سے پہلا تیر چلا کر جنگ کا آغاز کیا اور کہنے لگا گواہ رہنا سب سے پہلے میں نے تیر چلایا تھا۔اہل بیت کی طرف سے سب سے پہلے شہزادہ علی اکبر ؒ میدان میں اترے اور بڑی بہادری کے ساتھ کئی کوفیوں کو واصل جہنم کرتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایا۔ اس کے بعد حضرت عباس ، عبید اللہ بن عمیر ، عون بن عبدا للہ ، محمد بن عبداللہ،عبدا لرحمن بن عقیل ، حضرت قاسم ،ابو بکر بن حسین سب کوفیوں کا مقابلہ کرتے شہید ہو گئے۔یہاں تک کہ چھ ماہ کے ننھے علی اصغر کو بھی حلق میں تیر لگا کر شہید کر دیا گیا۔
خاندان نبوت کے چشم و چراغ ایک ایک کر کے دین اسلام کی خاطر شہید ہوتے رہے۔اس کے بعد امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ میدان میں نکلے۔ آپ کمال بہادری کے ساتھ یزیدیوں سے لڑرہے تھے شیروں کی طرح کوفیوں پر جھپٹتے اور ان کی صفوں کو اپنے زور دار حملے سے الٹ پلٹ کر دیتے۔ اور فرماتے :تم لوگ میرے ہی قتل کے لیے جمع ہوئے ہو اللہ کی قسم مجھے قتل کرنے سے اللہ تم سے سخت ناراض ہو گا۔ اور تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو گا۔ (ابن خلدون)
امام عالی مقامؑ یزیدیوں کی صفوں میں گھس کر انہیں جہنم واصل کر رہے تھے اتنے میں شمر چلایا لعنت ہو تم پر سب مل کر حملہ کرو۔ہر طرف سے تیروں کی بارش ہوئی۔ امام عالی مقام زخمی ہو کر اپنے گھوڑے سے نیچے تشریف لے آئے۔امام عالی مقام امام حسین پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سر سجدے میں رکھا تو یزیدی لعین نے تلوار سے آپ کا سر انور جسد اطہرسے جدا کردیا۔دس محرم الحرام جمعہ کے دن امام عالی مقام امام حسین ؑشہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہو گئے۔ آپؑ کے جسم اقدس پر تیروں کے زخموں کے تینتیس اور تلواروں کے زخموں کے تینتالیس نشان تھے۔ 
امام عالی مقام کی شہادت کے روز حضرت ام سلمی رضی اللہ عنہا رو رہی تھیں۔ ان سے رونے کی وجہ پوچھی تو آپ نے کہا میں نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ہے آپ کی داڑھی مبارک اور سر انور پر گرد تھی۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ کیا ہوا ہے۔
 حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے حسین کو شہید کر دیا گیا ہے۔ میں ابھی وہاں سے آیا ہوں۔ 
امام عالی مقام نے شہادت تو قبول کر لی لیکن کسی بھی صورت فاسق اور فاجر کی بیعت کو قبول نہ کیا۔ خواجہ معین الدین چشتی  فرماتے ہیں :
شاہ است حسین بادشاہ است 
دین است حسین دین پناہ است حسین 
سرداد نہ داد دست در دست یزید 
حقا کہ بنائے لاالہ است حسین

پیر، 29 جون، 2026

سفر کربلا اور شہادت نواسہء رسول ﷺ (۳)

 

سفر کربلا اور شہادت نواسہء رسول ﷺ (۳)

جب حُر کو اس بات کا علم ہوا کہ یزیدی آپؓ کو شہید کرنے کا ارادہ کر چکے ہیں تو آپ یزیدی لشکر چھوڑ کر امام حسین ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ میں نے سب سے پہلے آپ ؓ کا راستہ روکا تھا ۔میں اپنے کیے کی آپ ؓ سے معافی چاہتا ہوں اور سب سے پہلے آپ ؓ کے لیے  اپنی جان پیش کرنا چاہتا ہوں۔ جنگ کا آغاز ہوا تو حسینی لشکر میں سے سب سے پہلے حضرت حُر نے یزیدیوں پر حملہ کیا اور کئی یزیدیوں کو واصل جہنم کرنے کے بعد جام شہادت نوش فرمایا ۔ حضرت زبیر بن حسان ؓ بھی میدن کربلا میں یزیدیوں کو واصل جہنم کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔ اس کے بعد دیگر جانثارانِ امام حسین رضی اللہ عنہ بھی میدان کربلا میں بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے ۔
عون و محمد ، حضرت عبد اللہ بن حسین ، حضرت عبد اللہ بن حسن ، حضرت علی اکبر ، حضرت عباس ، حضرت قاسم ، ابوبکر بن علی ، عمر بن علی ، عون بن علی ، جعفر بن علی ، عبد اللہ بن علی یہاں تک کہ ننھے علی اصغر بھی جام شہادت نوش فرماگئے ۔ 
جب سارے شہزادے ایک ایک کر کے جام شہادت نوش فرماگئے تو امام حسین ؓ خیمے میں تشریف لے گئے خیمے میں بیمار امام زین العابدینؓ ا ور  باپردہ عورتیں موجود تھیں ۔ اما م زین العابدین نے جب میدان کربلا میں جانے کا ارداہ کیا تو امام حسین ؓ نے آپ کو روک لیا اور فرمایا خواتین  کی حفاظت تیرے ذمہ ہے۔ میرے نانا جان اور بابا جان کی جو امانتیں باقی ہیں تیرے حوالے کرتا ہوں ۔ اس کے بعد سید الشہداء امام حسین ؓ نے نانا جان کی دستار سر پر رکھی اور حضرت علی ؓ کی تلوار لیے ذوالجناح پر سوار ہوئے اہل خانہ کو اللہ تعالی  کے سپرد کر کے میدان کی طرف تشریف لے گئے ۔ 
امام عالی مقام امام حسین ؓ میدان میں نکلے یزیدی لشکر کو کاٹتے ہوئے واصل جہنم کرتے ہوئے یزیدی لشکر کی صفوں کو توڑ کر رکھ دیا ۔ جب امام عالی مقام ؓ کو اس بہادری سے لڑتے ہوئے دیکھا تو ابن سعد نے کہا کہ سب مل کر حملہ کرو ۔ یزیدیوں نے آپ ؓ پر تیروں کی بارش کر دی جس کی وجہ سے آپ ؓ زخمی ہو گئے ۔ اس دن آپ ؓ کے جسم اطہر پر 72 زخموں کے نشان موجود تھے۔
آپ ؓ گھوڑے سے نیچے تشریف لے آئے اور قبلہ رخ ہو کر بیٹھ گئے ۔ امام عالی مقام امام حسین ؓ نے سر سجدے میں رکھا تو یزیدیوں نے آپ ؓ کا  سر مبارک تن سے جد ا کر دیا ۔د س محرم الحرام اکسٹھ ہجری کو آپ ؓ  شہادت کے عظیم مرتبہ پر فائز ہو ئے اوراپنے نانا کے دین کو بچا لیا ۔
شاہ است حسینؓ بادشاہ است حسینؓ
دین است حسینؓ دین پناہ است حسینؓ
سرداد نہ داد دست در دست یزید 
حق کہ بنائے لا الہٰ است حسینؓ

اتوار، 28 جون، 2026

سفر کربلا اور شہادت نواسہءرسول ﷺ (۲)

 

سفر کربلا اور شہادت نواسہءرسول ﷺ (۲)

ادھر مکہ مکرمہ میں بھی آپ رضی اللہ عنہ کو حج کے دوران شہید کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا تھا ۔امام عالی مقام امام حسین ؓ نے حج کا ارادہ  ترک کر کے اسے عمرہ میں تبدیل کر دیا اور کوفہ کی طرف روانہ ہونے کا فیصلہ کیا ۔آپ ؓ کے رفقاءنے آپ ؓ کو کوفہ جانے سے منع کیا۔ لیکن  آپ ؓ نے کہا کہ کوفہ کے لوگ مجھے پکار رہے ہیں میرے نانا جان کے دین کو میری ضرورت ہے لہذا میں ضرور کوفہ جاؤ ں گا ۔ راستے  میں بھی آپ ؓ کے چاہنے والوں نے آپ کو کوفہ جانے سے روکا مگر آپ اپنے ارادہ پر قائم رہے ۔
اس سفر کے دوران آپ ؓ کو بے شمار مشکلات پیش آئیں ۔راستے میں مسلم بن عقیل ؓ اور آپ ؓ کے دو صاحبزادوں کی شہادت اور حضرت ہانی ؓ کی شہادت کی خبر ملی ۔ کوفہ کے حالات یکسر بدل چکے تھے یزید نے تمام لوگوں کو ڈرا دھمکا کر اپنے ساتھ کر لیا تھا لیکن اس  سب کے باوجود امام عالی مقام نے سفر جاری رکھنے کا ارادہ کیا ۔ 
 امام حسین ؓ نے اپنے رفقاءکو جمع کیا اور خطاب کرتے ہوئے فرمایا :جو جانا چاہے چلا جائے میں کسی کو مجبور نہیں کروں گا کہ وہ میرے ساتھ چلے ۔یزید صرف میرے خون کا پیاسا ہے لیکن آپ ؓ کے وفادار اور جانثار ساتھیوں نے وفا داری کی عظیم مثال قائم کرتے ہوئے جانے سے انکار کر دیا ۔
سب سے پہلے حر نے آپ ؓ کا راستہ روکا اور آپ ؓ کو شہر میں داخل نہ ہونے دیا ۔ تین محرم الحرام کو آپؓ کو مجبوراً میدان کربلا میں خیمے لگانے پڑے۔ 7 محرم الحرام کو آپ ؓ کا پانی بند کر دیا گیا ۔نو محرم کو نماز عصر کے بعد ابن سعد نے امام عالی مقام امام حسین ؓ پر چڑھائی کر دی ۔ اس وقت  آپ اپنے خیمے میں بیٹھے تھے ۔ آپ نے ابن سعد کو پیغام بھیجا کہ ہمیں آج کی رات مہلت دو ہم اپنے رب کے حضور استغفار اور دعا  کر لیں نماز پڑھ لیں اور تلاوت قرآن پاک کر لیں صبح وہ ہو گا جو ہونے والا ہے ۔ (ابن خلدون ) ۔ 
دس محرم الحرام کو آپؓ نے اپنے رفقاءکے ساتھ نماز فجر با جماعت ادا کی ۔ابھی آپ ؓ نے دعا بھی نہ مانگی تھی کہ یزیدی لشکر سے جنگ کے نقارے بجنے لگے۔ ابن سعد نے اپنے لشکر کو ترتیب دینا شروع کر دیا ۔ امام حسین ؓ نے بھی اپنے لشکر کو ترتیب دیا ۔اس کے بعد آپؓنے صداقت کا آخری خطبہ اور یزیدیوں کوخاندان نبوت کی توقیر کرنے اور انہیں اپنے ناپاک ارادوں سے باز رہنے کی تلقین کی ۔آپؓ نے اہل حق کی جانب سے حجت تمام کر دی لیکن یزیدی اپنے مقصد سے باز نہ آئے ۔

ہفتہ، 27 جون، 2026

سفر کربلا اور شہادت نواسہءرسول ﷺ (۱)

 

سفر کربلا اور شہادت نواسہءرسول ﷺ (۱)

شہادت امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ اسلامی تاریخ کا وہ عظیم باب ہے جس نے حق و باطل کے درمیان واضح لکیر کھینچ دی ۔
میدان کربلا میں پیش آنے والا واقعہ محض ایک جنگ یا سیاسی اختلاف نہ تھا بلکہ یہ دین اسلام کی حقیقی روح ، عدل ، صداقت ، صبر  اور استقامت کے تحفظ کی ایک بے مثال داستان تھی ۔ امام حسین ؓ نے اپنی جان ، اپنے اہل خانہ اور اپنے جانثار ساتھیوں کی قربانی دے کر یہ ثابت کر دیا کہ حق کی خاطر ہر قربانی دی جاسکتی ہے مگر باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا جا سکتا ۔ 
امام عالی مقام کا مدینہ منورہ سے کربلا تک کا سفر دراصل حق کی سر بلندی اور باطل کے خلاف اعلان جہاد کا سفر تھا جس کی گونج آج بھی دنیا کے ہر آزاد ضمیر انسان کے دل میں سنائی دیتی ہے ۔ 
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ان کے بیٹے یزید نے مسند خلافت سنبھال لیا اور شام والوں سے بیعت لینے کے بعد اپنی خلافت کو مضبوط کرنے کے لیے مدینہ منورہ میں بھی تمام بڑے بڑے اکابر ین سے بیعت لینے کا فیصلہ کیا  لیکن امام عالی مقام ؓ نے یزید کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایاکہ میں ایک فاسق فاجر اور ظالم کی بیعت نہیں کروں گا ۔ امام  عالی مقام ؓنے مدینہ منورہ میں رہ کر حالات کا جائزہ لیا جب یزید نے زبر دستی بیعت لینے کا فیصلہ کیا تو آپ اپنے رفقا ءکے ساتھ  ماہ رجب ساٹھ ہجری کو مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے ۔ راستے میں عبد اللہ بن مطیع ؓ سے ملاقات ہوئی تو انہو ں نے عرض کی آپ ؓ مع اہل و عیال کہاں تشریف لے جا رہے ہیں تو آپ نے کہا ابھی تو مکہ مکرمہ جانے کا ارادہ ہے ۔ عبد اللہ بن مطیع ؓ نے کہا آپ وہاں جا کر کوفہ جانے کا ارادہ نہ فرمایے گا ۔کوفہ کے لوگ بے وفا ہیں انہوں نے آپ ؓ کے والد اور بھائی کو بھی شہید کر دیا تھا۔آپ ؓ جب مکہ مکرمہ پہنچے تو وہاں کے لوگ جوق در جوق آپؓ کی زیارت کے لیے تشریف لانے لگے ۔ 
مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران آپ ؓ کو کوفہ سے بے شمار خطوط موصول ہوئے کہ ہم نے یزید کی بیعت نہیں کی لہذا آپ ؓ کوفہ تشریف  لے آئیں ہم آپ کے ہاتھ پر بیعت کریں گے ۔ حالات کا جائزہ لینے کے لیے آپ ؓ نے اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیلؓکو کوفہ قاصد بنا کر بھیجا ۔جب مسلم بن عقیل ؓ وہاں پہنچے اور لوگ کو خبر ہوئی توہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت  کی ۔ مسلم بن عقیل ؓ نے حالات کا جائزہ لینے کے بعد امام حسین ؓ کو خط لکھا کہ آپ تشریف لے آئیں حالات ساز گار ہیں ۔

جمعہ، 26 جون، 2026

فضائل و مناقب امام حسین رضی اللہ عنہ (۲)

 

فضائل و مناقب امام حسین رضی اللہ عنہ (۲)

نبی کریم ﷺ نے حسن و حسین کے ساتھ لڑنے والوں کو تنبیہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا، جس نے ان سے لڑائی کی ایسا ہی ہے کہ اس نے مجھ سے لڑائی کی ۔ 
حضرت زیدبن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ نے حضرت علی ؓ ، حضرت فاطمہ ؓ ، حضرت حسن اور حضرت حسین ؓسے فرمایا :
جس سے تم لڑو گے میری بھی اس سے لڑائی ہوگی اور جس سے تم صلح کرو گے میری بھی اس سے صلح ہو گی ۔ ( ترمذی )۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس نے مجھ سے محبت کی اس پر لازم کہ وہ ان دونوںیعنی  امام حسن ؓ اور امام حسین ؓ سے بھی محبت کرے ۔ ( نسائی )۔
سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ انتہائی سخی ، رحم دل اور بلند حسن اخلاق کے مالک تھے ۔ضرورت مندوں کی مدد کرنا ، یتیموں اور مسکینوں  کا خیال رکھنا اور اللہ تعالی کی رضا کے لیے مال خرچ کرنا آپ ؓ کی نمایا ں صفات ہیں ۔ 
تاریخ ابن عساکر میں ہے کہ ایک مرتبہ ایک فقیر نے امام عالی مقام اما م حسین رضی اللہ عنہ کے دروازے پر دستک دی اور کہا جس نے آپ سے امید رکھی اور جس نے آپ کے دروازے پر دستک دی وہ کبھی نا امید نہیں ہوا ۔ آپ صاحب جودو سخاوت کے چشمے ہیں ۔ امام حسین ؓ نماز ادا فرما رہے تھےنماز سے فارغ ہو کر دروازے پر آ کر دیکھا تو ایک غریب اور بھوکا سائل سامنے کھڑا تھا ۔ آپ ؓ نے اپنے غلام سے پوچھا گھر میں کتنا مال بچا ہوا ہے ۔ غلام نے عرض کی دو سو درہم ہیں جو آپ کے حکم سے آپ کے اہل خانہ پر خرچ کرنے ہیں ۔ آپ ؓ نے فرمایاسارے درہم لے آؤ آنے والا سائل میرے اہل خانہ سے زیادہ ان کا حق دار ہے ۔ آپ ؓ نے وہ درہم  سائل کو دیے اور فرمایا کہ یہ لے لو اور کم ہونے پر معافی چاہتا ہوں اگر اور ہوتے تو وہ بھی تمہیں دے دیتا ہمیں ہر حال میں مہر بانی کا  حکم دیا گیا ہے۔ 
امام عالی مقام بہت زیادہ عبات گزار تھے ایسے عبادت گزار کہ میدان کربلا میں یوم عاشور کی رات مظلومی اور بے کسی کے عالم میں  بھی ساری رات اللہ تعالی کی عبادت کی ۔ ایسے عابد تھے کہ علی اکبر ، علی اصغر ، حضرت عباس ، عون و محمد کی لاش و کو دیکھ اور اپنے جسم پر لگنے والے بے شمار زخموں کے باوجود میدان کربلا کی تپتی ریت پر نیزوں اور تلواروں کے سائے میں نماز ادا کی ۔

جمعرات، 25 جون، 2026

فضائل و مناقب امام حسین رضی اللہ عنہ(۱)

 

فضائل و مناقب امام حسین رضی اللہ عنہ(۱)

تاریخ اسلام میں ایسی شخصیات بھی ہیں جن کی عظمت زمان و مکان کی حدودِ  ماورا ہے ۔ان کے کردار کی روشنی صدیوں کے فاصلے کو مٹا کر آج بھی انسانیت کو حق و صداقت کا راستہ دکھاتی ہے ۔ ان عظیم ہستیوں میں سید الشہدا،مظلوم کربلا ، نواسہء رسول ،جگر گوشہ بتول امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ کا نام نہایت نمایاں ہے ۔آپ رضی اللہ عنہ کی زندگی ایمان ، صبر ، شجاعت ، ایثار اور حق پر استقامت کا ایسا روشن باب ہے جسے قیامت تک یاد رکھا جائے گا ۔ امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظمت کا سر چشمہ آپ ؓ  کا نسب مبارک،بلند کردار اور عظیم قربانی ہے جس نے اسلام کو نئی زندگی عطا کی ۔ 
آپ رضی اللہ عنہ کی ولادت باسعادت 4 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی ۔ آپ رضی اللہ عنہ کو یہ شرف ملا کہ آپ امام الانبیاء خاتم الانبیاء کے نواسے ،آپ ؓ کی والدہ  ؓ سید ۃ النساء العالمین سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا اور والد گرامی امام الاولیاء شیر خدا حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم ہیں ۔نبی رحمت ﷺ  سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دونوں شہزادوں سے بے حد پیار فرماتے تھے ۔ انہیں کندھوں پر بٹھاتے ، سینے سے لگاتے اور ان کے لیے خصوصی دعا فرمایا کرتے تھے ۔ 
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا حسن و حسین جنتی نوجوان کے سردار ہیں ۔( ترمذی )۔ ایک اور روایت میں ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہو ں ۔
حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن میرے حسب و نسب کے سواہر نسب  منقطع ہو جائے گا ۔ہر بیٹے کی نسبت اس کے باپ کی طرف ہوتی ہے ماسوائے اولاد فاطمہ ؓ کے۔ ان کا باپ بھی میں ہو ں اور ان کا نسب بھی  میں ہوں ۔ ( بہیقی ، طبرانی )۔
 حضرت ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کی بارگاہِ ناز میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ دونوں شہزادے آپ ﷺ کی گود میں کھیل رہے ہیں ۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ آپ ان سے محبت کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا میں ان سے محبت کیوں نہ کروں میرے گلشن دنیا کے یہی دو پھول ہیں جن کی مہک کو سونگھتا رہتا ہوں ۔ ( طبرانی )۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حسن و حسین رضی اللہ عنہما کا ہاتھ پکڑ ا اور فرمایا جس نے مجھ سے اور ان دنوں سے  محبت کی اور ان کے والد سے اور ان کی والدہ سے محبت کی وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میرے ہی ٹھکانہ پر ہوگا ۔ ( ترمذی )۔

بدھ، 24 جون، 2026

فضائل و مناقب اہلِ بیت اطہارؓ(۳)

 

فضائل و مناقب اہلِ بیت اطہارؓ(۳)

حضرت زر بن جیش ؓ سے مروی ہے کہ حضرت علی نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔بیشک نبی مکرمﷺ نے مجھ سے یہ عہد کیا ہے کہ مومن مجھ سے محبت رکھے گا اور منافق مجھ سے بغض رکھے گا۔ ( مسلم، ترمذی )۔ حضرت بریدہ رضی للہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ کو عورتوں میں سب سے زیادہ محبوب اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ ؓ اور مردوں میں سے سب سے زیادہ محبوب حضرت علیؓ  تھے۔ 
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آیت مباہلہ ’’آپ(ﷺ) فرما دیں آئو ہم اپنے بیٹوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنے بیتوں کو بلائو ‘‘نازل ہوئی تو آپﷺ نے حضرت علیؓ ، حضرت فاطمہؓ ، حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کو بلایا اور فرمایا یا اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں۔ ( مسلم ، ترمذی )۔
حضرت عمران بن حصین ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بیشک علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں اور میرے بعد وہ ہر مسلمان کا ولی ہے۔ ( ترمذی )۔
حضرت مسور بن مخرمہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا بیشک فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے اور مجھے ہرگز یہ پسند نہیں کہ کوئی شخص  اسے تکلیف پہنچائے۔ خدا کی قسم کسی شخص کے پاس رسول اللہ اور دشمن خدا کی بیٹیاں جمع نہیں ہو سکتیں۔ ( متفق علیہ )۔
حضرت ثوبان ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنے اہل و عیال میں سب کے بعد جس سے گفتگو فرما کر سفر پر روانہ  ہوتے وہ حضرت فاطمہ ؓ ہوتیں اور سفر سے واپسی پر سب سے پہلے جس کے پاس تشریف لاتے وہ بھی حضرت فاطمہ ہوتیں۔ ( ابو دائود)۔ سرور کائنات حضور نبی کریمﷺ کو اپنے دونوں نواسوں سے بہت زیادہ محبت و الفت تھی۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضور نبی کریمﷺ سے عرض کی گئی آپ کو اہل بیت میں سب سے زیادہ کس سے پیار ہے۔ آپﷺ نے فرمایا حسن ؓ اور حسینؓ سے مجھے بہت زیادہ پیار ہے۔ حضرت فاطمہ ؓسے حضور نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے میرے بیٹوں کو میرے پاس لائو۔ آپﷺ دونوں شہزادوں کو سینہ مبارک پر بٹھا لیتے تھے اور جسم کو سونگتے تھے۔ ( ترمذی )۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : بیشک حسن ؓاور حسینؓ دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔( مشکوٰہ شریف)۔ 
اہل بیت اطہار اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت اور رسول اللہﷺ کی مبارک نسبت ہیں۔قرآن مجید نے ان کی پاکیزگی کو بیان کیا اور احادیث مبارکہ میں ان کی محبت کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا۔ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اہل بیت سے محبت کرے اور ان کی سیرت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔

منگل، 23 جون، 2026

فضائل و مناقب اہلِ بیت اطہارؓ(۲)

 

فضائل و مناقب اہلِ بیت اطہارؓ(۲)

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب سورۃ اشورٰ ی کی یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی :ترجمہ (اے محبوب ﷺ) آپ فرما دیجیے میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا مگر قرابت کی محبت۔تو صحابہ کرام نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ کے قرابت دار کون ہیں جن کی محبت ہم پر واجب ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا علی ، فاطمہ اور ان کے بیٹے حسن و حسین ۔( طبرانی )۔
حضرت عباس بن عبد المطلب ؓ سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی یا رسول اللہ جب قریش آپس میں ملتے ہیں تو حسین مسکراتے ہوئے چہرں سے ملتے ہیں اور جب ہم سے ملتے ہیں تو ایسے چہروں سے ملتے ہیں جنہیں ہم نہیں جانتے ۔آپؓ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ یہ سن کر شدید جلال میں آگئے اور فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کسی بھی شخص  کے دل میں اس وقت تک ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ اور میری قرابت کی خاطر تم سے محبت نہ کرے ۔ ( نسائی ، مسند احمد )۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا بیشک میں تم میں دو نائب چھوڑ کر جا رہا ہوں ایک اللہ  تعالی کی کتاب جو کہ آسمان و زمین میں پھیلی ہوئی رسی ہے اور دوسرے میرے اہل بیت اور یہ دونوں اس وقت تک ہرگز جدا نہیں ہوں گے جب تک یہ میرے پاس حوض کوثر پر نہیں پہنچتے ۔ ( مسند احمد )۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرا جامہ دان جس سے میں آرام پاتا ہوں میرے اہل بیت ہیں اور میری جماعت انصار ہیں ۔ ان کے بروں کو معاف کر دو اور ان کے نیکوکاروں سے اچھائی قبول کرو۔( ترمذی )۔
امیر المؤمنین سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں خدا کی قسم نبی رحمت ﷺ کے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنا مجھے اپنے  رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرنے سے زیادہ محبوب اور پسند ہے ۔ (بخاری )۔

پیر، 22 جون، 2026

فضائل و مناقب اہلِ بیت اطہارؓ(۱)

 

فضائل و مناقب اہلِ بیت اطہارؓ(۱)

اسلامی تاریخ میں بعض خاندان ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالی نے اپنی خاص رحمت ، برکت اور فضیلت سے نوازا ہے مگر خاندان نبوت ﷺ کو جو عظمت و رفعت عطا ہوئی اس کی مثال رہتی دنیا تک نہیں ملتی ۔ نبی کریم ﷺ کے اہل بیت اطہار وہ مقدس ہستیاں ہیں جن کی محبت ایمان کی مٹھاس ، جن کا احترام ادب رسالت ﷺ کا تقاضا اور جن کی پیروی نجات و کامیابی کا راستہ ہے ۔اہل بیت کی زندگیاں تقوی ، صبر ، ایثار ، علم ، عبادت اور دین سے وفا داری کا ایسا روشن مینار ہیں جس کی روشنی آج بھی امت مسلمہ کی رہنمائی کر رہی ہے ۔ ان مقدس  نفوس سے محبت محض ایک جذباتی وابستگی نہیں بلکہ نبی کریم ﷺ سے محبت کا فطری تقاضا اور اسلامی عقیدے کا اہم حصہ ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں اہل ایمان نے اہل بیت اطہار کے تذکرے کو اپنے دلوں کی زینت اور اپنی مجالس کی رونق سمجھا ہے ۔ اہل بیت اطہار وہ ہستیاں ہیں جنہیں اللہ تعالی نے طہارت ، محبت اور عزت کے خصوصی تاج سے سرفراز فرمایا ہے ۔
ارشاد باری تعالی ہے : ”اللہ تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کر کے خوب ستھرا کر دے “۔ سورۃ الشورٰی میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : (اے محبوب ﷺ) آپ فرما دیجیے میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا مگر قرابت کی محبت۔ انسان کو جس سے سچی محبت ہے تو وہ اس سے نسبت رکھنے والی تمام چیزوں سے بھی محبت کرتا ہے ۔ اسی وجہ حضور نبی کریم ﷺ سے سچی 
محبت رکھنے والے آپ ﷺ سے نسبت رکھنے والی ہر چیز سے دل وجان سے محبت کرتے ہیں ۔نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : 
اللہ تعالی سے محبت کرو کیونکہ وہ تمہیں اپنی نعمتوں سے روزی دیتا ہے اور اللہ پاک کے لیے مجھ سے محبت کرو اور میری محبت کے لیے میرے اہل بیت سے محبت کرو ۔ (ترمذی )۔
معجم الاوسط میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اہل بیت کی محبت کو لازم پکڑ لو کیونکہ جو اللہ پاک سے اس حال میں ملا کہ وہ ہم سے  محبت کرتا ہے تو اللہ تعالی اسے میری شفاعت کے سبب جنت میں داخل فرمائے گا اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ کسی بندے کو اس کا عمل اسی صورت فائدہ دے گا جبکہ وہ ہمارا حق پہچانے ۔ 
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا : میرے اہل بیت کی مثال حضرت نوح ؑکی کشتی کی طرح ہے جو اس میں سوار ہو گیا وہ نجات پاگیا اور جو اس سے پیچھے رہ گیا وہ غرق ہو گیا ۔ ( طبرانی )۔

اتوار، 21 جون، 2026

حضرت سیدنا فاروق اعظم ؓ(۳)

 

حضرت سیدنا فاروق اعظم ؓ(۳)

آپؓ اپنے دور حکومت میں اپنی رعایا کا بہت زیادہ خیال رکھتے تھے ۔حضرت سیدنا امام اوزاعی ؒروایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا فاروق اعظم ؓ عنہ گھر سے نکلے تو حضرت طلحہ ؓ نے انہیں دیکھا تو چپکے سے ان کے پیچھے چل پڑے ۔ سیدنا فاروق اعظمؓ ایک گھر میں داخل ہوئے اور کچھ دیر بعد باہر آئے اور ایک دوسرے گھر میں داخل ہوئے ۔ حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں نے اس گھر کو ذہن میں بٹھا لیا اور صبح اس گھر میں گیا ایک بوڑھی عورت نابینا اور اپاہج تھی ۔ میں نے پوچھا یہ شخص تمہارے گھر میں کیوںآتے ہیں بوڑھی عورت نے کہا میں نابینا اور اپاہج ہوں میرا خیال رکھنے والا کوئی نہیں ہے یہ کافی عرصے سے میرے پاس آتے ہیں اور میرا کام کاج کر جاتے ہیں ۔ ( حلیۃ الاولیا )
سیدنا فاروق اعظم ؓ کا احتسابی امر دوسرے لوگوں کے ساتھ خاص نہیں تھا بلکہ اپنے گھر والوں خصوصا اپنے بیٹوں کا بھی احتساب فرماتے۔آپؓ نے قرآن و سنت کے خلاف امور کی پکڑ کے ساتھ ساتھ ان تمام امور کی بھی گرفت کی جن کا تعلق عوامی یا معاشرتی مصلحتوں کے ساتھ تھا ۔
آپ کی خلافت ساڑھے بائیس لاکھ مربع میل تک پھیلی ہوئی تھی اور ہر طرف انصاف کا بول بالا تھا ۔آپؓ فرماتے ہیں کہ اگر نہر فرات کے کنارے ایک کتا بھی مر جاتا ہے تو عمرؓ اس کا بھی جواب دہ ہے ۔ آپ کے دور میں اسلام نے بہت ساری فتوحات حاصل کیں ۔دین اسلام میں سب سے پہلے کافروں کے سامنے اپنا اسلام ظاہر کیا ، فوجی چھائونیاں قائم کیں ، پولیس کا محکمہ بنایا ، جیل خانہ جات بنائے،بیت المال قائم کیا ، لوگوں اور دودھ پیتے بچوں کے بھی وظائف مقرر کیے ، شہروں کی تعمیر کروائی ، نہریں کھدوائیں اور جمع قرآن مجید کا مشورہ دیا ۔آپ کا دور خلافت ایک مثالی دور تھا جس کی مثال آج تک دنیا میں نہیں ملتی ۔
ابو لولو نامی لعین نے نماز فجر کی حالت میں آپ ؓ کے پیٹ میں خنجر مارا ۔ خنجر اتنا گہرا لگا کہ آپ کی آنتیں کٹ گئیں ۔ آپ کو گھر لایا گیا توحضرت عبداللہؓ کو بلا کر کہا کہ جائو حضرت عائشہ ؓ کے پا س اور امیر المؤمنین نہیں کہنا بلکہ میرا نام لے کر کہنا کہ عمر اپنے دوستوں کے ساتھ دفن ہونا چاہتا ہے ۔ جب آپ اجازت لے کر اندر داخل ہوئے توحضرت عائشہ ؓ رو رہی تھیں اور آپ ؓ پر حملے کی خبرسن کر بے چین تھیں ۔
 حضرت عبد اللہؓ نے حضرت عمر ؓکی درخواست پیش کی تو حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا یہ جگہ میں نے اپنے لیے رکھی تھی لیکن آج میں اپنی ذات پر عمرؓ کو ترجیح دیتی ہوں ۔ اسلام کا یہ چمکتہ ستارہ یکم محرم الحرام کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملا ۔ 

ہفتہ، 20 جون، 2026

حضرت سیدنا فاروق اعظم ؓ(۲)

 

حضرت سیدنا فاروق اعظم ؓ(۲)

حضور نبی کریم ﷺنے فرمایا اللہ تعالیٰ نے عمرؓ کی زبان پر حق کو جاری فرمادیا ہے( ابو دائود )۔ آپﷺ نے فرمایا : ہر امت میں ایک محدث ہوتا ہے میری امت میں اگر کوئی محدث ہے تو وہ عمر بن خطاب ؓ ہیں۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس راہ سے عمرؓ گزریں شیطان اس راہ سے نہیں گزرتا۔
سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ساری زندگی اتباع رسول میں گزاری اور کوئی بھی ایسا کام سر انجام نہیں دیا جو شریعت مطہرہ اور سنت رسولﷺ کے خلاف ہو۔حضرت سیدنا خبیر بن نفیر فرماتے ہیں میں ایک مرتبہ حضرت شْر حبیل بن سمط ؓ کے ساتھ سفر پر گیا تو ایک مقام پر انہوں نے دو نوافل ادا کیے میں نے اس کی وجہ پوچھی تو انہوںنے کہا میں نے سیدنا فاروق اعظم ؓکو مقام ذوالحلیفہ میں اسی طرح دو رکعت نفل پڑھتے دیکھا تو میں نے اس کی کی وجہ دریافت کی تو سیدنا فاروق اعظم ؓنے فرمایا میں وہی کر رہا ہوں جو میں نے حضور نبی کریم ﷺ کو کرتے دیکھا ہے۔ (مسلم )۔ آپ ؓنے عاجزی و انکساری اور سادگی کے ساتھ اپنی زندگی بسر کی۔حضرت سعید بن مسیب ؓ فرماتے ہیں سیدنا فاروق اعظم ؓ جب کہیں سفر پر جاتے تو راستے میں آرام فرمانے کے لیے مٹی کا ڈھیر لگا لیتے اوراس پر کپڑا بچھا کر آرام فرماتے۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ )۔ آپ ؓ جب حج کے لیے مکہ مکرمہ روانہ ہوئے تو جہاں کہیں پڑائو کرنا ہوتا کوئی خیمہ نہ لگاتے اور نہ ہی قنات بلکہ درخت پر چٹائی یا کپڑا ڈال کر اس کے سائے میں بیٹھ جاتے۔ (تاریخ ابن عساکر )۔سیدنا فاروق اعظم ؓ فرماتے ہیں جب بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے توضع اختیار کرتا  ہے تو اللہ اس کی قدرو منزلت کو بڑھا دیتا ہے۔ ( احیا ء العلوم )۔ 
آپ ؓ کو حضور نبی کریمﷺ کی بارگاہ میں مشیر مقبول اور مقرب خاص کی حیثیت حاصل تھی آپؓ جو بھی عرض کرتے آپﷺقبول فرماتے۔ ایک غزوہ کے موقع پر خوراک کی کمی کی وجہ سے حضور نبی کریمﷺ نے فوج کی تعداد کے مطابق اونٹ ذبح کرنے کا حکم فرمایا تو عمر فاروقؓ نے عرض کی یارسول اللہ اس طرح سواریاں کم پڑ جائیں گی اور فوج کو مشکلات پیش آئیں گی۔ آپﷺ سب صحابہ کرامؓ سے بچی ہوئی خوراک جمع کریں اور اللہ تعالیٰ سے اس میں برکت کی دعا کریں۔ آپﷺ نے ایسا ہی کیا اور طعام میں کوئی کمی نہ آئی آپﷺ نے اس پر خوشی کا اظہار فرمایا اور فرمایا : میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک میں اللہ کا رسول ہوں۔ ( بخاری شریف)۔
بہت سارے احکام اللہ تعالیٰ نے آپ کی خواہش پر نازل فرمائے جیسا کہ پردے کاحکم ، شراب کی حرمت اور مقام ابراہیم کو جائے مصلہ بنانے کا حکم۔

جمعہ، 19 جون، 2026

حضرت سیدنا فاروق اعظمؓ (۱)

 

حضرت سیدنا فاروق اعظمؓ (۱)

حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ مراد رسولﷺ بھی ہیں اور مرید رسولﷺ بھی ہیں۔آپ کا قلب اطہر اللہ تعالیٰ کے انوار سے روشن تھا۔ آپ ؓنے حضور نبی کریمﷺ سے رشد و ہدایت اور روشنی حاصل کی اور بعد میں خود بھی نورو ہدایت کاسر چشمہ بن گئے۔
حضور نبی کریمﷺ نے بارگاہ الٰہی میں دعا فرمائی اے اللہ اسلام کو عمر بن خطاب یا پھر عمر وبن ہشام (ابو جہل ) کے ساتھ عزت عطا فرما۔ ایک دن سیدنا فاروق اعظم ؓ کو ایک شخص نے کہا کہ تمہارے بہنوئی اور تمہاری بہن نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ تویہ سن کر تیزی سے اپنی بہن کے گھر چلے گئے۔ اس وقت آپ کی بہن اور آپ کے بہنوئی قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے۔جب آپؓ گھر پہنچے تو پوچھا کہ تم لوگ کچھ پڑھ رہے تھے تم دونوں اپنا دین ترک کر چکے ہو۔ 
آپ کی بہن نے کہا اے عمر حق وہ نہیں جو تمہارا عقیدہ ہے میرا عقیدہ یہ ہے کہ میں گواہی دیتی ہوں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضورﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں۔ آپؓ نے پوچھا جو کتا ب تم لوگ پڑھ رہے تھے وہ مجھے بھی دو میں پڑھنا چاہتا ہوں۔ آپؓ کی بہن نے کہا اسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں۔ تم وضو یا غسل کر لو پھر اسے چھونا آپ نے اٹھ کر وضو کیا اور قرآن مجید سے سورۃ طٰحٰہ کی  تلاوت شروع فرمائی۔ جیسے جیسے تلاوت قرآن مجید پڑھتے گئے دل میں قبول اسلام کی شمع روشن ہوتی چلی گئی۔ آپؓ نے کہا مجھے آپﷺ کی بارگاہ میں لے چلیں۔ آپؓ نے حضور نبی کریمﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اسلام قبول فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کریم ﷺکی دعا کو قبول فرما کر اسلام کو عزت عطا فرمائی۔ 
 جس دن آپؓ نے اسلام قبول فرمایا تو حضور نبی کریم ﷺ نے آپ کے سینہ پر تین بار ہاتھ مارکر ارشاد فرمایا : اے اللہ عمر کے سینے میں جو بھی اسلام کی دشمنی ہے اسے نکال کر ایمان سے تبدیل کر دے۔ ( معجم کبیر )۔ 
جب حضرت سیدنا فاروق اعظمؓ نے اسلام قبول فرمایا تو جبرائیل امین آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی عمر بن خطابؓ کے اسلام لانے پر آسمان والے ایک دوسرے کو مبارک دے رہے ہیں۔ ( ابن ماجہ )۔ ابتدائے اسلام میں مسلمان چھپ کر عبات کیا کرتے تھے لیکن آپؓ کے اسلام قبول کرنے کے بعد آپؓ نے حضور نبی کریمﷺسے عرض کی یا رسول اللہﷺ اگر ہم سچے ہیں تو چھپ کر عبادت کیوں کرتے ہیں آج کے بعد ہم اعلانیہ کعبہ معظمہ میں عبادت کریں گے۔ اس طرح آپؓ کے قبول اسلام کے بعد مسلمانوں نے اعلانیہ عبادت شروع کی۔

جمعرات، 18 جون، 2026

آداب غذا

 

آداب غذا

یہ بات حقیقت ہے کہ انسان کا غذا کے بغیر گزارا نہیں ہے کیونکہ جسم کو طاقت غذا سے ہی ملتی ہے ۔
اگر جسم کو غذا نہ ملے تو اس سے جسم کمزور ہو جائے گا ۔ لیکن غذا کے استعمال کی شرط یہ ہے کہ اس میں  مبالغہ نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی رات دن کھانے پینے کی فکر ہونی چاہیے ۔  حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : جو پیٹ میں داخل کرنے ہی کی فکر میں رہتا ہے  اس کی قدرو قیمت وہ ہوتی ہے جو پیٹ سے خارج ہو تا ہے ۔
حضرت با یزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا آپ بھوکے رہنے کی اتنی زیادہ تعریف کیوں 
کرتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا اگر فرعون بھوکا رہتا تو ہر گز میں تمہارا سب سے بڑا رب ہو ں نہ کہتا ۔
اگر قارون بھوکا رہتا تو باغی نہ ہوتا اور لومڑی چونکہ بھوکی رہتی ہے اس لیے ہر ایک اس کی تعریف 
کرتا ہے جب پیٹ بھر جاتا ہے تو نفاق پیدا ہو جاتا ہے ۔ اللہ تعالی کافروں کی حالت بیان کرتے 
ہوئے فرماتا ہے : انہیں چھوڑو جو کھاتے اور عیش کرتے ہیں وہ اپنی خواہشوں میں مگن ہیں ۔ عنقریب 
وہ اپنا انجام جان لیں گے ۔
 ارشاد باری تعالی ہے : کافر لوگ عیش کرتے اور کھانے پینے میں ایسے ہیں جیسے جانور کھاتے ہیں
 ان کا ٹھکا نا جہنم ہے ۔
مشائخ طریقت نے ایسے ہی لوگوں کے بارے میں ارشاد فرمایا : ان کا کھانا بیماروں کی طرح ان کی نیند
گہری نیند والوں کی طرح اور ان کی گفتگو بچوں کی چیخ و پکار کی طرح ہوتی ہے ۔
غذا کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ تنہا نہ کھائے اور جو کھائے دوسروں کو بھی اس میں اپنے ساتھ شریک  کرے ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : سب سے زیادہ برا شخص وہ ہے جو اکیلا کھائے۔  غلام کو  مارے اور خیرات نہ دے ۔
غذا کے آداب میں سے ہے کہ جب دستر خواں پر بیٹھے تو خاموش بیٹھے اور بسم اللہ پڑھ کر کھانا شروع  کرے اور کوئی چیز اس طرح نہ رکھے یا اٹھائے جسے لوگ نا پسند کرتے ہو ں ۔اس کے بعد لازم ہے 
کہ دائیں ہاتھ سے کھانا کھائے اور اپنے لقمے کے سوا کسی کی طرف نہ دیکھے ۔ کھانے میں پانی کم پینا
چاہیے ، اور اس وقت پینا چاہیے جب سچی پیاس لگے اور اتنا پپیے جس سے جگر تر ہو جائے ۔ لقمہ بہت  بڑ ا نہیں ہو نا چاہیے اور اسے خوب چبا کر کھانا چاہیے ۔ کھانے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ان باتوں سے بد ہضمی پیدا ہوتی ہے اور سنت کے خلاف بھی ہے اور جب کھانا کھا کر فارغ ہو جائیں تو اللہ تعالی  کا شکر ادا کرنا چا ہیے اور پھر ہاتھ دھو لینے چاہیے ۔   
(بحوالہ کشف المحجوب)

بدھ، 17 جون، 2026

مسلمان کی حاجت روائی کی فضیلت

 

مسلمان کی حاجت روائی کی فضیلت

مسلمان کو چاہیے ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی مد د کرے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : نیکی اور پرہیز گاری میں ایک دوسرے کی معاونت کرو۔ (سورۃ المائدہ )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی مسلمان بھائی کی مدد اور فائدے کے لیے قدم اٹھاتا ہے ، اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے کا ثواب ملتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے ایسی مخلوق کو پیدا فرمایا ہے جن کا کام لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی قسم کھائی ہے کہ انہیں عذاب  نہیں کرے گا۔ جب قیامت کا دن ہو گا ان کے لیے نور کے منبر رکھے جائیں گے۔ وہ اللہ تعالی سے گفتگو کر رہے ہوں گے حالانکہ لوگ ابھی حساب میں ہوں گے۔ نبی کریمﷺ نے اشاد فرمایا :جو کسی مسلمان بھائی کی حاجت پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے چاہے اس کی حاجت پوری ہو یا نہ ہو اللہ تعالیٰ کوشش کرنے والے کے اگلے پچھلے سب گناہوں کو بخش دیتا ہے اور اس کے لیے دو باتیں لکھ دی جاتی ہیں، جہنم سے رہائی اور منافقت سے برائت۔ حلیہ میں ابو نعیم نقل کرتے ہیں کہ حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص کسی مسلمان بھائی کی حاجت پوری کرتاہے میں اس کے میزان کے قریب کھڑا ہوں گا اگر اس کی نیکیاں زیادہ ہوئیں تو ٹھیک ورنہ میں اس کی شفاعت کرو ں گا۔ 
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب کوئی شخص مسلمان بھائی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے چلتا ہے تو اللہ تعالی ہر قدم کے بدلے اس کے نامہ اعمال میں ستر نیکیاں لکھ دیتا ہے اور ستر گناہ معاف کر دیتا ہے۔ اگر وہ حاجت اس کے ہاتھوں پوری ہو جائے تو وہ گناہوں سے ایسے پاک ہو جاتا ہے جیسے ماں کے پیٹ سے آیا تھا اور اگر اسی دوران اس کی موت واقع ہو جائے تو بلا حساب جنت میں جائے گا۔ 
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے انعامات ہیں جو ان لوگوں کے لیے مخصوص ہیں جو لوگوں کی حاجت روائی کرتے رہتے ہیں اور جب وہ یہ طریقہ چھوڑ دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ وہ انعامات دوسروں کو منتقل کر دیتا ہے۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو کسی مسلمان کی پریشانی کو دور کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کی پریشانیوں میں سے اس کی ایک پریشانی دور فرمائے گا۔ ( مسلم شریف)۔

اتوار، 14 جون، 2026

ذکر الٰہی کی فضیلت و فوائد (۳)

 

ذکر الٰہی کی فضیلت و فوائد (۳)

حضرت سہل بن معاذؓسے مروی ہے :کہ نبی کریمﷺ سے ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہﷺ کون سے مجاہد کو سب سے زیادہ اجر ملتاہے فرمایا جو کثرت سے اللہ کا ذکر کرے۔ اس نے پھر عرض کی کس روزے دار کو زیادہ اجر ملتا ہے آپﷺ نے فرمایا ذکر کرنے والے کو۔ 
پھر اس نے نماز، زکوۃ ، حج اور صدقہ کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے ہر سوال کے جواب میں یہی فرمایا کہ ذکر کرنے والے۔ حضرت سیدنا صدیق اکبر ؓ نے حضرت عمر ؓ سے فرمایا اے ابو حفص بیشک ذکر کرنے والے ہی ساری خیر سمیٹ کے لے گئے۔ یہ سن کر نبی کریم ﷺنے فرمایا تم درست کہہ رہے ہو۔ ( المعجم الاوسط )۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سخت اعمال تین طرح کے ہیں ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے وقت نکالنا ، دوم ہر وقت اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہنا اور سوم یہ کہ اپنے بھائی کی مالی مدد کرنا۔ ( حلیۃ الائولیا )۔
حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کرو اور یہ کوشش کرو کہ صرف اسی کی صحبت میں بیٹھو جو اللہ تعالیٰ کے ذکر میں تمہاری مدد کرے۔ ( شعب الایمان )۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آسمان والے زمین پر ذکر کرنے والوں کے گھروں کویوں دیکھتے ہیں کہ وہ ستاروں کی طرح چمک رہے ہیں جیسے زمین سے آسمان پر ستارے نظر آتے ہیں ویسے آسمان سے زمین پر ذکر کرنے والو ں کے گھر جگمگاتے ہیں۔ (مصنف ابی شیبہ)۔
حضرت سیدنا عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر سوائے ذکر کے جو فریضہ بھی فرض کیا ہے اس کی کوئی حد مقرر فرمائی ہے اور عذر میں گنجائش بھی عطا فرمائی ہے۔ مگر ذکر ایک ایسی عبادت ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے کوئی حد مقرر نہیں فرمائی کہ جس پہ یہ ختم ہو جائے اور نہ ہی اس کو چھوڑنے کا کوئی عذر عطا کیا ہے سوائے اس کے کہ جس کی عقل پہ پردہ پڑ جائے۔( تفسیر طبری )۔
شیخ ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں دنیا کی پاکیزگی ذکر الٰہی سے حاصل ہوتی ہے ، آخرت کی پاکیزگی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عفو در گزرکے ساتھ حاصل ہوتی ہے اور جنت کی طہارت و پاکیزگی اللہ تعالیٰ کی رویت کے ساتھ حاصل ہو گی۔ ( جامع العلوم والحکم)۔
امام ابو القاسم قشیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ذکر اللہ تعالیٰ کی راہ کا ایک قوی ستون ہے بلکہ وہ اس راستے کی اصل ہے اور کوئی بھی ذکر میں دوام کے بغیر اللہ کی بارگاہ تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔( رسالہ قشیریہ )۔

ہفتہ، 13 جون، 2026

ذکر الٰہی کی فضیلت و فوائد (۲)

 

ذکر الٰہی کی فضیلت و فوائد (۲)

حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ’’نبی رحمتﷺ نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں تمہارے سب سے بہترین عمل کے بارے میں نہ بتاں  جو تمہارے مال کو سب سے زیادہ پاکیزہ لگتا ہے ، جو تمہارے درجات بلند کرنے کے لیے سب سے زیادہ مفید ہے، تمہارے لیے سونے اور چاندی کو خرچ کرنے سے بہتر ہے اور تمہارے لیے دشمن سے جہاد اور اپنی جانیں قربان کرنے سے افضل ہے۔ عرض کی گئی یارسول اللہ ﷺ آپ ضرور ارشاد فرمائیں۔ آپﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا ذکر ان تمام اعمال سے بہتر ہے‘‘۔’’حضرت معاذ بن جبل ؓ نے فرمایا کہ اللہ کے ذکر سے زیادہ عذاب الٰہی سے بچانے والی اور کوئی شے نہیں ہے ‘‘۔ ( ترمذی )۔
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر دن اور ہر رات میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر کوئی احسان اورکوئی صدقہ فرماتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے کسی پر اس سے بڑا احسان نہیں کیا جتنا بڑا احسان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کو اپنے ذکر کی توفیق عطا فرما دے۔ (الدعا للطبرانی )۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا جو شخص میرے ذکر میں مصروفیت کی وجہ سے مجھ سے مانگ نہ سکا تو میں اسے وہ نعمتیں عطا فرماتا ہوں کہ وہ سارے مانگنے والے لوگوں سے بڑھ کر ہوتی ہیں۔( شعب الایمان )۔
حضرت ام انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کسی نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی یارسول اللہﷺ مجھے کچھ وصیت فرمائیں۔آپ ﷺ نے فرمایا تم گناہوں کو چھوڑ دو یہ سب سے افضل ہجرت ہے اور فرائض کی حفاظت کرو یہ سب سے بڑا جہاد ہے اور کثرت سے ذکر کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کو کوئی عمل اتنا پسند نہیں جتنا کثرت سے ذکر کرنا پسند ہے۔ ( المعجم الاوسط)۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا آدم کا بیٹا جو وقت بھی گزارتا ہے جس میں وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر  نہیں کرتا وہ قیامت کے دن اس کے لیے حسرت کا باعث ہوگا۔ (شعب الایمان )۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ مکہ کے راستے پر چل رہے تھے تو ایک پہاڑ کے پاس سے گزرے جسے جْمدان کہا جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا چلو اس جْمدان پر بیشک مفردون سبقت لے گئے۔ہم نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ مفردون کون ہیں ؟  آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کا ذکر کثرت سے کرنے والے مرد اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرنے والی عورتیں۔(مسلم )۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں نبی کریمﷺ نے فرمایا جو کثرت سے ذکر کرتا ہے اللہ اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔ ( الترغیب )۔

جمعہ، 12 جون، 2026

ذکر الہی کی فضیلت و فوائد (۱)

 

ذکر الہی کی فضیلت و فوائد (۱)

اللہ تعالی نے انسان کو اپنی عبادت اور معرفت کے لیے پیدا فرمایا ہے ۔بندہ مومن کی زندگی کا مقصد اپنے رب کو پہچاننا ، اس کی اطاعت کرتا  اور ہر حال میں اس کی یاد میں مشغول رہنا ہے ۔ ذکر صرف زبان سے چند کلمات دہرالینے کا نام نہیں بلکہ دل ، زبان اور اعمال کے ذریعے اللہ تعالی سے تعلق مضبوط کرنے کا نام ہے ۔ ذکر الہی دل کی روشنی ، بیمار کے لیے دوا و غذااور اعمال صالحہ کی روح ہے ۔ ذکر الہی سے غافل زبان ایسے ہی ہے جیسے اندھی آنکھ اور بہرے کان ۔
سورۃ الذٰریٰت میں  ارشاد باری تعالی ہے :’’ اور میں نے جن اور آدمی اس لیے بنائے کہ میری بندگی کریں ‘‘۔ سورۃ الاحزاب میں اللہ تعالی  ارشاد فرماتا ہے :’’اے ایمان والو اللہ کا ذکر کثرت سے کرو ‘‘۔ 
سورۃال عمران میں اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ :’’اور جو اللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں اے ہمارے رب تو نے یہ بیکار نہ بنایا پاکی ہے تجھے تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے ‘‘۔ سورۃ الانفال میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :’’ اے ایمان والو جب کسی گروہ سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو یاد کرو کہ تم مراد کو پہنچو‘‘۔ 
سورۃ الاحزاب میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : ’’اور کثرت سے یاد کرنے والے اورذکر کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا  ثواب تیار کر رکھا ہے ‘‘۔سورۃ البقرہ میں ارشاد باری تعالی ہے :’’ تم میرا ذکر کرو میں تمہارا ذکر کروں گا اور میرا شکر بجا لائو اور نا شکری نہ کرو‘‘۔  ذکر الہی سے رو گردانی کرنے والوں کے لیے قرآن مجید میں سخت وعید فرمائی گئی ہے ۔ سورۃ الزمر میں اللہ تعالی فرماتا ہے : ’’تو خرابی ہے ان کی جن کے دل یاد خدا کی طرف سے سخت ہو گئے ہیں وہ کھلی گمراہی میں ہیں‘‘۔ 
اسی طرح سورۃ الزخرف میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :’’ اور جو رحمن کے ذکر سے غافل ہو جائے ہم اس پر ایک شیطان تعینات کریں کہ وہ اس کا ساتھی رہے‘‘۔ 
احادیث مبارکہ میں بھی ذکر کی بے شمار فضیلت بیان کی گئی ہے ۔حضرت عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ  سے عرض کی یارسول اللہ ﷺ شریعت کے احکام میرے اوپر کثرت سے لازم ہو گئے ہیں ۔پس مجھے کوئی ایسی شے بتائیں جس سے میں چمٹ جاؤں اور اسے لازم پکڑ لوں ۔آپ ﷺ نے فرمایا تیری زبان ہر وقت اللہ کے ذکر سے تر رہنی چاہیے ۔ ( ترمذی )

جمعرات، 11 جون، 2026

پیکر شرم و حیا (۲)

 

پیکر شرم و حیا (۲)

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک جنازہ لایا گیا اور عرض کی گئی یا رسول اللہ ﷺ آپ اس کا جنازہ پڑھائیں ۔مگر آپ ﷺ نے اس پر نماز جنازہ نہ پڑھی ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ہم نے آپ کو کسی کی نماز جنازہ چھوڑتے نہیں دیکھا آپ ﷺ نے فرمایا یہ عثمان سے بغض رکھتا تھا تو اللہ نے بھی اس سے بغض رکھا ہے ۔ (ترمذی )۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بیشک حضور نبی کریم ﷺ نے بدر والے دن کھڑے ہو کر فرمایا بیشک عثمان اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے کام میں مصروف ہے اور بیشک میں اس کی بیعت کرتا ہوں اور نبی کریم ﷺ نے مال غنیمت میں سے بھی آپ کا حصہ مقرر کیا اور آپؓ کے علاوہ جو کوئی اس دن غائب تھا اس کے لیے حصہ مقرر نہیں کیا ۔ ( ابو داؤد )۔ حضرت طلحہ بن عبید اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر نبی کا ایک رفیق ہوتا ہے اور جنت میں میرا رفیق عثمان ہے ۔ ( ترمذی )۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے بیعت رضوان کا حکم دیا تو اس وقت حضرت عثمان بن عفان آپ ﷺکے سفیر بن کر مکہ والوں کے پاس گئے تھے ۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے حضور اکرم ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی ۔ تو نبی رحمت ﷺ نے فرمایا عثمان اللہ اور اس کے رسول کے کام میں مصروف ہے ۔ یہ فرمایا کر آپ ﷺ نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھ کر بیعت کی۔ حضرت عثمان کے لیے حضور نبی کریمﷺ کا دست مبارک لوگوں کے اپنے ہاتھوں سے اچھا تھا ۔ ( ترمذی)۔
سیدنا عثمان غنی نبی رحمت ﷺ  سے بے حد پیار فرماتے تھے ۔ ایک مرتبہ وضو کرتے ہوئے مسکرانے لگے ۔ لوگوں نے مسکرانے کی وجہ پوچھی تو فرمایا ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ اسی جگہ وضو کرتے ہوئے اسی طرح مسکرائے تھے ۔ ( مسند احمد )۔
 آپ رضی اللہ عنہ کا دور خلافت 12 سال پر محیط ہے ۔آپؓ کی خلافت میں بے شمار فتوحات ملیں اور اسلامی سلطنت میں اضافہ ہوا ۔ آپ ؓ کو اٹھارہ ذوالحجہ کو روزے کی حالت میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے نہایت مظلومیت کی حالت میں شہید کر دیا گیا ۔  حضرت عبد اللہ بن عمر بیان کرتے ہیں صبح کے وقت حضرت عثمان ؓ نے فرمایا بیشک میں نے نبی کریم ﷺ کو گزشتہ رات خواب  میں دیکھا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اے عثمان آج ہمارے پاس روزہ افطار کرو ۔پس آپؓ کو روزہ کی حالت میں اسی روز شہید کر دیا گیا ۔ ( مستدرک للحاکم )۔

بدھ، 10 جون، 2026

پیکر شرم و حیا (۱)

 

پیکر شرم و حیا (۱)

 پیکر شر و حیا امیر المؤمنین خلیفۃ المسلمین سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کاشمار سابقون الاولون میں ہوتا ہے یعنی وہ خوش نصیب صحابی جنہوں نے ابتدائے اسلام میں قبولیت اسلام کا شرف حاصل کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی اسلام لانے کی خبر جب گھر والوں تک پہنچی تو وہ آپؓسے ناراض ہو گئے یہاں تک کہ آپ کے چچا حکم بن العاص نے آپ کو رسی سے باندھ دیا اور کہا جب تک تم دین اسلام کو نہیں چھوڑوگے اسی سے بندھے رہو گے۔سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا :
’’اللہ کی قسم مذہب اسلام کو میں کبھی نہیں چھوڑوں گا اور نہ کبھی اس دولت سے دست بردار ہوسکتا ہوں۔ میرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے بھی کر ڈالو پھر بھی میر ے دل سے دین اسلام کو نہیں نکا ل سکتے ‘‘۔جب آپؓ کے چچا حکم بن العاص نے آپ ؓ کی استقامت کو دیکھا تو مجبور ہو کر آپؓ کو چھوڑدیا۔ ( تاریخ دمشق )۔
آپ رضی اللہ عنہ نے بارگاہ نبوت سے ایسا فیض پا یا کہ خدمت اسلام میں اتنی سخاوت کی کہ سید الاسخیا ء کہلائے۔آپؓ نے انفاق فی سبیل اللہ  کی ایسی مثال قائم کی جس کی نظیر رہتی دنیا تک نہیں ملے گی۔ آپ رضی اللہ عنہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ بارگاہ نبوت ﷺ سے دو نور عطاہوئے۔یعنی نبی رحمتﷺ نے اپنی بیٹیاں سیدنا عثمان غنیؓ کے نکاح میں دیں اور ذوالنورین کہلائے۔ شرم و حیاء کا ایسا پیکر کہ کامل الاحیاء ولایمان کے درجہ پر فائز ہوئے۔حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا میری امت میں سے سب سے زیادہ حیا دار عثمان بن عفان ہے۔ ( ابو نعیم )۔
حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ تشریف فرماتھے کہ آپؓ کے دونوں یا ایک گھٹنے سے کپڑا ہٹا ہواتھا جیسے ہی سیدنا عثمان غنی ؓ آئے تو آپﷺ نے اسے ڈھانپ لیا۔ ( بخاری )۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنا مال و متاع خدمت اسلام اور خدمت خلق کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ جنگ کا موقع ہو یا پھر کسی غلام کو آزادکرانے کا موقع ، مسلمانوں کی فلاح و بہبود کا کام ہو یا مسجد میں توسیع کا معاملہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ ہر موقع پر پیش پیش رہے۔
ہجرت مدینہ کے بعد جب مسلمانوں کو پانی کے مسائل کا سامنا ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی سے پوار کنواں جس کا نام رومہ تھا خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا۔غزوہ تبوک کے موقع پر آپ رضی اللہ عنہ تین سواونٹ بمع سازو سامان نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں پیش کیے۔آپ ﷺنے آپ کو دو بار جنت کی بشارت دی ایک بار جب کنواں خرید کر مسلمانوں کے وقف کیا اور دوسری بار جب جنگ تبوک کے موقع  پر اپنا مال نبی کریم ﷺ کے سامنے پیش کر دیا۔

منگل، 9 جون، 2026

طہارت قلبی

 

طہارت قلبی

انسان کے لیے باطنی اور قلبی طہارت بہت ضروری ہے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ باطن کو ہر قسم کی آلائشوں سے پاک کیا جائے۔ طہارت تامہ کا اہتمام کیا جائے تا کہ ظاہری اور باطنی طہارت کے علاوہ دل کی طہارت بھی ہو جائے۔ ظاہری طہارت کا تو ہر کسی کو معلوم ہے باطنی طہارت سے یہ مراد ہے کہ حرام لقمے اور حرام مشروبات سے بچا جائے۔ حدیث مبارکہ میں آتا ہے جس شخص نے ایک لقمہ حرام کا کھا لیا چالیس دن تک نہ اس کی فرض نماز قبول ہو گی اور نہ ہی نفلی۔اور نہ اس کی دعا قبول ہوتی ہے اور نہ اس کی التجا سنی جاتی ہے۔
قلبی طہارت سے یہ مراد ہے کہ تمام نا پسندیدہ صفات اور غل غپاڑہ ، کینہ و حسد ، مکرو فریب ، خیانت ، بغض عداوت اور دنیاکی محبت سے بچا جائے۔دنیا مخلوق کی پسندیدہ ہے خالق کی نہیں۔ جب تک دل اس سے پاک نہیں ہو گا اس کی نماز و طاعت قبول نہیں ہو گی۔ قلب خالق کا منظور نظر ہے اس لیے جب تک دنیا کی محبت کا داغ اس میں موجود ہے یہ عشق و محبت کی دولت سے مالا مال نہیں ہو سکتا۔
طہارت سری سے مراد یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے سوا کسی چیز کی طرف توجہ نہ دے۔ دل کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ بد نگاہی سے بچا جائے۔ حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : کہ نا محرم پر نگاہ ڈالنا ایک زہر آلود تیر ہے۔ جب دل پر پڑے تو سوائے ہلاکت کے اور کیا ہو سکتا ہے۔ ایک اور مقام پر حضور نبی کریم رئو ف الرحیم ﷺ نے ارشاد فرمایا : نگاہ ابلیس کے تیروں میں سے ایک زہر آلود تیر ہے۔
جس طرح مردوں کو نگاہ نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو بھی نگاہ نیچی رکھنے کا حکم فرمایا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : اور مسلمان عورتوں کو حکم دو کہ وہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں۔ نفس کی عزلت کا فائدہ یہ بھی ہے کہ ہاتھ ناشائستہ کاموں سے رک جاتا ہے۔ پائوں نامناسب مقامات کی طرف جانے سے رک جاتے ہیں۔ کان کا فائدہ یہ ہے کہ نا معقول باتیں نہ سنیں اس سے انسان کا بد ترین دشمن نفس قید ہو جاتا ہے۔ اسی عزلت کی برکت سے دل پر غیب کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ عزلت کا فائدہ یہ بھی ہے کہ دل سے دنیا کے نقوش مٹ جاتے ہیں۔ اور آخرت کے نقوش دل پر جھلکنے لگتے ہیں۔جب دل پوری طرح صاف ہوجاتا ہے۔ تو اس پر نور وحدانیت کے جلووں کے پرتو آتے ہیں۔ 
دل تجلی گاہ خدا وندی بن جاتا ہے۔

پیر، 8 جون، 2026

تعلیم اور استاد کی اہمیت (۲)

 

تعلیم اور استاد کی اہمیت (۲)

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں جس نے مجھے ایک حرف بھی سکھایا وہ میرا استاد ہے۔انبیاء کرام علیہم السلام کے علاوہ جتنی بھی بڑی شخصیات گزری ہیں اللہ تعالیٰ کی صلاحیتوں کے بعد استاد ہی کی مرہون منت ہیں۔ جب علامہ اقبال کو گورنمنٹ برطانیہ نے ’’سر‘‘ کا خطاب دینا چاہا تو آپ نے کہا کہ پہلے میرے استاد کو اعزازی خطاب دیا جائے۔
 گورنمنٹ نے کہا انہوں نے کوئی بھی قابل ذکر کتاب نہیں لکھیں جس پر آپ نے کہا جس استاد نے مجھ جیسا مفکر پیدا کیا ہے تو تصنیف کی کیا ضرور ت رہ جاتی ہے۔تو پھر آپ کے استاد کو شمس العلماء کا خطاب دیا گیا۔ 
طلبہ کی تعلیم و تربیت میں معلم کی اپنی شخصیت اور اس کے ذاتی اوصاف بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ طلبہ شعوری اورلاشعوری طور پر ان سے متاثر ہوتے ہیں اور یہ تاثر طلبہ کی زندگی بھر نمایا ں طور پر نظر آتا ہے۔ ایک معلم کو خوش لباس ، حلیم الطبع ، ہمدرد پابندِ وقت ، وسیع القلب اور علم دوست ہونا چاہیے۔ حضور نبی کریمﷺ کی شخصیت بڑی دلکش اور مؤثرتھی جو بھی دیکھتا آپ ﷺ کی طرف کھینچا چلا آتا تھا۔ آج کے معلم کو بھی حضور نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ سے راہنمائی لینی چاہیے تا کہ بچے اس سے دور بھاگنے کی  بجائے اس کے قریب ہوں۔ استاد کو کلاس میں بیہودہ زبان اختیار نہیں کرنی چاہیے۔ جو استاد خود کلاس کے اندر اور باہرغیر مہذب گفتگو کرے گا تو اس نے اپنے طلبہ کی راہنمائی کیا کرنی ہے اس لیے استاد کو زبان کی پاکیزگی کا خیال رکھنا چاہیے۔ استاد کو پابند وقت ہونا چاہیے۔ وقت کی پابندی زندگی میں انتہائی ضروری ہے۔ جب استاد ہی کلاس میں لیٹ پہنچے گا اور وقت کی پابندی نہیں کرے گا تو طلبہ میں بھی وقت کی پابندی کی عادت پیدا نہیں ہو گی اور وہ بھی کلاس میں ہمیشہ لیٹ ہی پہنچیں گے۔ 
کلاس میں بچوں سے غلطیاں سر زد ہو جاتی ہیں اس لیے ایک اچھا معلم وہی ہوتا ہے جو عفو و در گزر سے کام لے۔ ڈانٹنے والے اور غضب ناک لہجے والے کبھی  اچھے معلم نہیں بن سکتے۔ حضور نبی کریم ﷺ دوسروں کی دلداری کا بہت زیادہ خیال رکھا کرتے تھے ہمیشہ اپنے پرائے سب سے مسکرا کر ملا کرتے تھے۔ ایک اچھے معلم کو چاہیے کہ وہ کلاس میں سب بچوں کی دلداری کرے اور کلاس  میں خوش اخلاق ، ملنسار اور خوش طبع رہے۔ 
ایک اچھا استاد وہی ہوتا ہے جو کلاس میں مکمل تیاری کے ساتھ آئے اور کتابوں کے مطالعہ کا شوق رکھتا ہو اور کلاس میں دیانتداری کے ساتھ کام کرتا ہو۔ طلبہ اس معلم سے دیانتداری اور ایمانداری کا کیا سبق حاصل کریں گے جو خود ہی دیانتدار نہ ہو۔

آداب زندگی قرآن کی روشنی میں (۱)

  آداب زندگی قرآن کی روشنی میں (۱) قرآن مجید واحد ایسی مکمل اور جامع کتاب ہے جو نہ صرف عبادات میں ہماری رہنمائی کرتی ہے بلکہ ہمیں معاشرے ...