حضرت سیدنا فاروق اعظم ؓ(۳)
آپؓ اپنے دور حکومت میں اپنی رعایا کا بہت زیادہ خیال رکھتے تھے ۔حضرت سیدنا امام اوزاعی ؒروایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا فاروق اعظم ؓ عنہ گھر سے نکلے تو حضرت طلحہ ؓ نے انہیں دیکھا تو چپکے سے ان کے پیچھے چل پڑے ۔ سیدنا فاروق اعظمؓ ایک گھر میں داخل ہوئے اور کچھ دیر بعد باہر آئے اور ایک دوسرے گھر میں داخل ہوئے ۔ حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں نے اس گھر کو ذہن میں بٹھا لیا اور صبح اس گھر میں گیا ایک بوڑھی عورت نابینا اور اپاہج تھی ۔ میں نے پوچھا یہ شخص تمہارے گھر میں کیوںآتے ہیں بوڑھی عورت نے کہا میں نابینا اور اپاہج ہوں میرا خیال رکھنے والا کوئی نہیں ہے یہ کافی عرصے سے میرے پاس آتے ہیں اور میرا کام کاج کر جاتے ہیں ۔ ( حلیۃ الاولیا )
سیدنا فاروق اعظم ؓ کا احتسابی امر دوسرے لوگوں کے ساتھ خاص نہیں تھا بلکہ اپنے گھر والوں خصوصا اپنے بیٹوں کا بھی احتساب فرماتے۔آپؓ نے قرآن و سنت کے خلاف امور کی پکڑ کے ساتھ ساتھ ان تمام امور کی بھی گرفت کی جن کا تعلق عوامی یا معاشرتی مصلحتوں کے ساتھ تھا ۔
آپ کی خلافت ساڑھے بائیس لاکھ مربع میل تک پھیلی ہوئی تھی اور ہر طرف انصاف کا بول بالا تھا ۔آپؓ فرماتے ہیں کہ اگر نہر فرات کے کنارے ایک کتا بھی مر جاتا ہے تو عمرؓ اس کا بھی جواب دہ ہے ۔ آپ کے دور میں اسلام نے بہت ساری فتوحات حاصل کیں ۔دین اسلام میں سب سے پہلے کافروں کے سامنے اپنا اسلام ظاہر کیا ، فوجی چھائونیاں قائم کیں ، پولیس کا محکمہ بنایا ، جیل خانہ جات بنائے،بیت المال قائم کیا ، لوگوں اور دودھ پیتے بچوں کے بھی وظائف مقرر کیے ، شہروں کی تعمیر کروائی ، نہریں کھدوائیں اور جمع قرآن مجید کا مشورہ دیا ۔آپ کا دور خلافت ایک مثالی دور تھا جس کی مثال آج تک دنیا میں نہیں ملتی ۔
ابو لولو نامی لعین نے نماز فجر کی حالت میں آپ ؓ کے پیٹ میں خنجر مارا ۔ خنجر اتنا گہرا لگا کہ آپ کی آنتیں کٹ گئیں ۔ آپ کو گھر لایا گیا توحضرت عبداللہؓ کو بلا کر کہا کہ جائو حضرت عائشہ ؓ کے پا س اور امیر المؤمنین نہیں کہنا بلکہ میرا نام لے کر کہنا کہ عمر اپنے دوستوں کے ساتھ دفن ہونا چاہتا ہے ۔ جب آپ اجازت لے کر اندر داخل ہوئے توحضرت عائشہ ؓ رو رہی تھیں اور آپ ؓ پر حملے کی خبرسن کر بے چین تھیں ۔
حضرت عبد اللہؓ نے حضرت عمر ؓکی درخواست پیش کی تو حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا یہ جگہ میں نے اپنے لیے رکھی تھی لیکن آج میں اپنی ذات پر عمرؓ کو ترجیح دیتی ہوں ۔ اسلام کا یہ چمکتہ ستارہ یکم محرم الحرام کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملا ۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں