فضائل و مناقب اہلِ بیت اطہارؓ(۳)
حضرت زر بن جیش ؓ سے مروی ہے کہ حضرت علی نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔بیشک نبی مکرمﷺ نے مجھ سے یہ عہد کیا ہے کہ مومن مجھ سے محبت رکھے گا اور منافق مجھ سے بغض رکھے گا۔ ( مسلم، ترمذی )۔ حضرت بریدہ رضی للہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ کو عورتوں میں سب سے زیادہ محبوب اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ ؓ اور مردوں میں سے سب سے زیادہ محبوب حضرت علیؓ تھے۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آیت مباہلہ ’’آپ(ﷺ) فرما دیں آئو ہم اپنے بیٹوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنے بیتوں کو بلائو ‘‘نازل ہوئی تو آپﷺ نے حضرت علیؓ ، حضرت فاطمہؓ ، حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کو بلایا اور فرمایا یا اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں۔ ( مسلم ، ترمذی )۔
حضرت عمران بن حصین ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بیشک علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں اور میرے بعد وہ ہر مسلمان کا ولی ہے۔ ( ترمذی )۔
حضرت مسور بن مخرمہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا بیشک فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے اور مجھے ہرگز یہ پسند نہیں کہ کوئی شخص اسے تکلیف پہنچائے۔ خدا کی قسم کسی شخص کے پاس رسول اللہ اور دشمن خدا کی بیٹیاں جمع نہیں ہو سکتیں۔ ( متفق علیہ )۔
حضرت ثوبان ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنے اہل و عیال میں سب کے بعد جس سے گفتگو فرما کر سفر پر روانہ ہوتے وہ حضرت فاطمہ ؓ ہوتیں اور سفر سے واپسی پر سب سے پہلے جس کے پاس تشریف لاتے وہ بھی حضرت فاطمہ ہوتیں۔ ( ابو دائود)۔ سرور کائنات حضور نبی کریمﷺ کو اپنے دونوں نواسوں سے بہت زیادہ محبت و الفت تھی۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضور نبی کریمﷺ سے عرض کی گئی آپ کو اہل بیت میں سب سے زیادہ کس سے پیار ہے۔ آپﷺ نے فرمایا حسن ؓ اور حسینؓ سے مجھے بہت زیادہ پیار ہے۔ حضرت فاطمہ ؓسے حضور نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے میرے بیٹوں کو میرے پاس لائو۔ آپﷺ دونوں شہزادوں کو سینہ مبارک پر بٹھا لیتے تھے اور جسم کو سونگتے تھے۔ ( ترمذی )۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : بیشک حسن ؓاور حسینؓ دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔( مشکوٰہ شریف)۔
اہل بیت اطہار اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت اور رسول اللہﷺ کی مبارک نسبت ہیں۔قرآن مجید نے ان کی پاکیزگی کو بیان کیا اور احادیث مبارکہ میں ان کی محبت کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا۔ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اہل بیت سے محبت کرے اور ان کی سیرت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں