پیر، 29 جون، 2026

سفر کربلا اور شہادت نواسہء رسول ﷺ (۳)

 

سفر کربلا اور شہادت نواسہء رسول ﷺ (۳)

جب حُر کو اس بات کا علم ہوا کہ یزیدی آپؓ کو شہید کرنے کا ارادہ کر چکے ہیں تو آپ یزیدی لشکر چھوڑ کر امام حسین ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ میں نے سب سے پہلے آپ ؓ کا راستہ روکا تھا ۔میں اپنے کیے کی آپ ؓ سے معافی چاہتا ہوں اور سب سے پہلے آپ ؓ کے لیے  اپنی جان پیش کرنا چاہتا ہوں۔ جنگ کا آغاز ہوا تو حسینی لشکر میں سے سب سے پہلے حضرت حُر نے یزیدیوں پر حملہ کیا اور کئی یزیدیوں کو واصل جہنم کرنے کے بعد جام شہادت نوش فرمایا ۔ حضرت زبیر بن حسان ؓ بھی میدن کربلا میں یزیدیوں کو واصل جہنم کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔ اس کے بعد دیگر جانثارانِ امام حسین رضی اللہ عنہ بھی میدان کربلا میں بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے ۔
عون و محمد ، حضرت عبد اللہ بن حسین ، حضرت عبد اللہ بن حسن ، حضرت علی اکبر ، حضرت عباس ، حضرت قاسم ، ابوبکر بن علی ، عمر بن علی ، عون بن علی ، جعفر بن علی ، عبد اللہ بن علی یہاں تک کہ ننھے علی اصغر بھی جام شہادت نوش فرماگئے ۔ 
جب سارے شہزادے ایک ایک کر کے جام شہادت نوش فرماگئے تو امام حسین ؓ خیمے میں تشریف لے گئے خیمے میں بیمار امام زین العابدینؓ ا ور  باپردہ عورتیں موجود تھیں ۔ اما م زین العابدین نے جب میدان کربلا میں جانے کا ارداہ کیا تو امام حسین ؓ نے آپ کو روک لیا اور فرمایا خواتین  کی حفاظت تیرے ذمہ ہے۔ میرے نانا جان اور بابا جان کی جو امانتیں باقی ہیں تیرے حوالے کرتا ہوں ۔ اس کے بعد سید الشہداء امام حسین ؓ نے نانا جان کی دستار سر پر رکھی اور حضرت علی ؓ کی تلوار لیے ذوالجناح پر سوار ہوئے اہل خانہ کو اللہ تعالی  کے سپرد کر کے میدان کی طرف تشریف لے گئے ۔ 
امام عالی مقام امام حسین ؓ میدان میں نکلے یزیدی لشکر کو کاٹتے ہوئے واصل جہنم کرتے ہوئے یزیدی لشکر کی صفوں کو توڑ کر رکھ دیا ۔ جب امام عالی مقام ؓ کو اس بہادری سے لڑتے ہوئے دیکھا تو ابن سعد نے کہا کہ سب مل کر حملہ کرو ۔ یزیدیوں نے آپ ؓ پر تیروں کی بارش کر دی جس کی وجہ سے آپ ؓ زخمی ہو گئے ۔ اس دن آپ ؓ کے جسم اطہر پر 72 زخموں کے نشان موجود تھے۔
آپ ؓ گھوڑے سے نیچے تشریف لے آئے اور قبلہ رخ ہو کر بیٹھ گئے ۔ امام عالی مقام امام حسین ؓ نے سر سجدے میں رکھا تو یزیدیوں نے آپ ؓ کا  سر مبارک تن سے جد ا کر دیا ۔د س محرم الحرام اکسٹھ ہجری کو آپ ؓ  شہادت کے عظیم مرتبہ پر فائز ہو ئے اوراپنے نانا کے دین کو بچا لیا ۔
شاہ است حسینؓ بادشاہ است حسینؓ
دین است حسینؓ دین پناہ است حسینؓ
سرداد نہ داد دست در دست یزید 
حق کہ بنائے لا الہٰ است حسینؓ

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

سفر کربلا اور شہادت نواسہء رسول ﷺ (۳)

  سفر کربلا اور شہادت نواسہء رسول ﷺ (۳) جب حُر کو اس بات کا علم ہوا کہ یزیدی آپؓ کو شہید کرنے کا ارادہ کر چکے ہیں تو آپ یزیدی لشکر چھوڑ کر...