سفر کربلا اور شہادت نواسہءرسول ﷺ (۲)
ادھر مکہ مکرمہ میں بھی آپ رضی اللہ عنہ کو حج کے دوران شہید کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا تھا ۔امام عالی مقام امام حسین ؓ نے حج کا ارادہ ترک کر کے اسے عمرہ میں تبدیل کر دیا اور کوفہ کی طرف روانہ ہونے کا فیصلہ کیا ۔آپ ؓ کے رفقاءنے آپ ؓ کو کوفہ جانے سے منع کیا۔ لیکن آپ ؓ نے کہا کہ کوفہ کے لوگ مجھے پکار رہے ہیں میرے نانا جان کے دین کو میری ضرورت ہے لہذا میں ضرور کوفہ جاؤ ں گا ۔ راستے میں بھی آپ ؓ کے چاہنے والوں نے آپ کو کوفہ جانے سے روکا مگر آپ اپنے ارادہ پر قائم رہے ۔
اس سفر کے دوران آپ ؓ کو بے شمار مشکلات پیش آئیں ۔راستے میں مسلم بن عقیل ؓ اور آپ ؓ کے دو صاحبزادوں کی شہادت اور حضرت ہانی ؓ کی شہادت کی خبر ملی ۔ کوفہ کے حالات یکسر بدل چکے تھے یزید نے تمام لوگوں کو ڈرا دھمکا کر اپنے ساتھ کر لیا تھا لیکن اس سب کے باوجود امام عالی مقام نے سفر جاری رکھنے کا ارادہ کیا ۔
امام حسین ؓ نے اپنے رفقاءکو جمع کیا اور خطاب کرتے ہوئے فرمایا :جو جانا چاہے چلا جائے میں کسی کو مجبور نہیں کروں گا کہ وہ میرے ساتھ چلے ۔یزید صرف میرے خون کا پیاسا ہے لیکن آپ ؓ کے وفادار اور جانثار ساتھیوں نے وفا داری کی عظیم مثال قائم کرتے ہوئے جانے سے انکار کر دیا ۔
سب سے پہلے حر نے آپ ؓ کا راستہ روکا اور آپ ؓ کو شہر میں داخل نہ ہونے دیا ۔ تین محرم الحرام کو آپؓ کو مجبوراً میدان کربلا میں خیمے لگانے پڑے۔ 7 محرم الحرام کو آپ ؓ کا پانی بند کر دیا گیا ۔نو محرم کو نماز عصر کے بعد ابن سعد نے امام عالی مقام امام حسین ؓ پر چڑھائی کر دی ۔ اس وقت آپ اپنے خیمے میں بیٹھے تھے ۔ آپ نے ابن سعد کو پیغام بھیجا کہ ہمیں آج کی رات مہلت دو ہم اپنے رب کے حضور استغفار اور دعا کر لیں نماز پڑھ لیں اور تلاوت قرآن پاک کر لیں صبح وہ ہو گا جو ہونے والا ہے ۔ (ابن خلدون ) ۔
دس محرم الحرام کو آپؓ نے اپنے رفقاءکے ساتھ نماز فجر با جماعت ادا کی ۔ابھی آپ ؓ نے دعا بھی نہ مانگی تھی کہ یزیدی لشکر سے جنگ کے نقارے بجنے لگے۔ ابن سعد نے اپنے لشکر کو ترتیب دینا شروع کر دیا ۔ امام حسین ؓ نے بھی اپنے لشکر کو ترتیب دیا ۔اس کے بعد آپؓنے صداقت کا آخری خطبہ اور یزیدیوں کوخاندان نبوت کی توقیر کرنے اور انہیں اپنے ناپاک ارادوں سے باز رہنے کی تلقین کی ۔آپؓ نے اہل حق کی جانب سے حجت تمام کر دی لیکن یزیدی اپنے مقصد سے باز نہ آئے ۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں