سفر کربلا اور شہادت نواسہءرسول ﷺ (۱)
شہادت امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ اسلامی تاریخ کا وہ عظیم باب ہے جس نے حق و باطل کے درمیان واضح لکیر کھینچ دی ۔
میدان کربلا میں پیش آنے والا واقعہ محض ایک جنگ یا سیاسی اختلاف نہ تھا بلکہ یہ دین اسلام کی حقیقی روح ، عدل ، صداقت ، صبر اور استقامت کے تحفظ کی ایک بے مثال داستان تھی ۔ امام حسین ؓ نے اپنی جان ، اپنے اہل خانہ اور اپنے جانثار ساتھیوں کی قربانی دے کر یہ ثابت کر دیا کہ حق کی خاطر ہر قربانی دی جاسکتی ہے مگر باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا جا سکتا ۔
امام عالی مقام کا مدینہ منورہ سے کربلا تک کا سفر دراصل حق کی سر بلندی اور باطل کے خلاف اعلان جہاد کا سفر تھا جس کی گونج آج بھی دنیا کے ہر آزاد ضمیر انسان کے دل میں سنائی دیتی ہے ۔
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ان کے بیٹے یزید نے مسند خلافت سنبھال لیا اور شام والوں سے بیعت لینے کے بعد اپنی خلافت کو مضبوط کرنے کے لیے مدینہ منورہ میں بھی تمام بڑے بڑے اکابر ین سے بیعت لینے کا فیصلہ کیا لیکن امام عالی مقام ؓ نے یزید کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایاکہ میں ایک فاسق فاجر اور ظالم کی بیعت نہیں کروں گا ۔ امام عالی مقام ؓنے مدینہ منورہ میں رہ کر حالات کا جائزہ لیا جب یزید نے زبر دستی بیعت لینے کا فیصلہ کیا تو آپ اپنے رفقا ءکے ساتھ ماہ رجب ساٹھ ہجری کو مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے ۔ راستے میں عبد اللہ بن مطیع ؓ سے ملاقات ہوئی تو انہو ں نے عرض کی آپ ؓ مع اہل و عیال کہاں تشریف لے جا رہے ہیں تو آپ نے کہا ابھی تو مکہ مکرمہ جانے کا ارادہ ہے ۔ عبد اللہ بن مطیع ؓ نے کہا آپ وہاں جا کر کوفہ جانے کا ارادہ نہ فرمایے گا ۔کوفہ کے لوگ بے وفا ہیں انہوں نے آپ ؓ کے والد اور بھائی کو بھی شہید کر دیا تھا۔آپ ؓ جب مکہ مکرمہ پہنچے تو وہاں کے لوگ جوق در جوق آپؓ کی زیارت کے لیے تشریف لانے لگے ۔
مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران آپ ؓ کو کوفہ سے بے شمار خطوط موصول ہوئے کہ ہم نے یزید کی بیعت نہیں کی لہذا آپ ؓ کوفہ تشریف لے آئیں ہم آپ کے ہاتھ پر بیعت کریں گے ۔ حالات کا جائزہ لینے کے لیے آپ ؓ نے اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیلؓکو کوفہ قاصد بنا کر بھیجا ۔جب مسلم بن عقیل ؓ وہاں پہنچے اور لوگ کو خبر ہوئی توہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی ۔ مسلم بن عقیل ؓ نے حالات کا جائزہ لینے کے بعد امام حسین ؓ کو خط لکھا کہ آپ تشریف لے آئیں حالات ساز گار ہیں ۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں