جمعہ، 31 جولائی، 2026

امانتداری اور روزی میں برکت

 

امانتداری اور روزی میں برکت

جو بھی بندہ بد دیانتی ، دھوکا دہی یا پھر ملاوٹ کر کے کوئی چیز بیچتا ہے تو اس کا خیال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی روزی میں اضافہ کر رہا ہے لیکن  کیا جھوٹ بولنے اور دھوکا دینے سے روزی میں برکت آتی ہے یا پھر سچ بول کر کوئی چیز بیچنے سے ۔ 
یہ بات واضح ہے کہ روزی میں برکت بد دیانتی سے نہیں آتی بلکہ امانتداری سے آتی ہے ۔ کسی کے پاس پیسے کچھ زیادہ ہونا یا پھر اناج کا زیادہ ہونا رزق میں برکت کی علامت نہیں ۔ اگر کسی کے پاس بہت زیادہ پیسہ ہو اور وہ ہی پیسہ اس کے لیے وبال جان بن جا ئے اور اسے اپنے رب کی یاد سے غافل کر دے ، اس کی اولاد میں بگاڑ پیدا ہو جائے اور انسان کا سکون تباہ ہو جائے تو بظاہر جتنا بھی پیسہ ہے وہ برکت سے محروم ہے ۔  لیکن اس کے برعکس اگر بندے کے پاس پیسہ کم ہے اور وہ امن و سکون کے ساتھ زندگی بسر کر رہا ہے ، اس کی اولاد پیار اورمحبت کے  ساتھ رہ رہی ہے اور وہ لوگوں کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالی نے اس کی روزی میں برکت  ڈال دی ہے ۔ 
سورۃ الطلاق میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : جو اللہ تعالی سے ڈرتا ہے اللہ تعالی اس کے لیے (مشکلات سے نکلنے کی ) راہ پیدا فرماتا  ہے اور اسے وہاں سے رزق عطا کرتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا ۔ 
حضرت حکیم بن حزام ؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :خریدو فروخت کرنے والے اختیار رکھتے ہیں جب تک جدا نہ ہوں۔ پھر اگر انہوں نے سچ کہا اور عیب بیان کر دیا تو ان کی بیع میں برکت دی جائے گی اور اگر انہو ں نے عیب چھپا یا اور  جھوٹ بولا تو ان کی برکت ختم کر دی جائے گی ۔ ( شرح السنۃ للبغوی )۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بازار میں غلہ لانے والے کو رزق دیا جاتا ہے اور ذخیرہ اندوزی کرنے والا اللہ تعالی کی رحمت سے محروم ہو جاتا ہے ۔ ( سنن الکبری البہیقی )۔
حضور نبی کریم ﷺ کی اس حدیث مبارکہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے جب تک تاجر امانتداری پر قائم رہے گا اللہ تعالی کی مدد  اس کے ساتھ رہے گی اور جب وہ بد دیانتی کرے گا تو اللہ تعالی کی مدد سے محروم ہو جائے گا۔ 
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالی فرماتا ہے میں دو شریکوں کا تیسراہوتا ہوں جب تک ان میں سے ایک اپنے دوسرے ساتھی کے ساتھ خیانت نہیں کرتا اور جب وہ خیانت کرتا ہے تو میں درمیان سے نکل جاتاہوں ۔ ( سنن انی داؤد)۔
حضور نبی کریم ﷺ کے ارشادات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ روزی میں برکت امانتداری سے ہوتی ہے بد دیانتی سے نہیں۔

جمعرات، 30 جولائی، 2026

شانِ او لیا ءاللہ (۲)

 

شانِ او لیا ءاللہ (۲)

جب بندہ بیان کی گئیں تمام صفات کو اپنا لیتا ہے تو اللہ تعالی بھی اس بندے سے محبت فرماتا ہے ۔ حضرت ابوہریرہ ؓسے مروی ہے نبی کریمﷺ 
نے ارشاد فرمایا اللہ تعالی جب کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو حضرت جبرئیل امین کو بلا کر ان سے فرماتا ہے کہ میں فلاں بندے سے محبت کرتا  ہوں تم بھی اس سے محبت کرو۔پھر جبرئیل امین آسمان والوں میں ندا کرتے ہیں اللہ تعالی فلاں بندے سے محبت کرتا ہے لہذا تم بھی اس سے  محبت کرو اور پھر اس کے بعد زمین والوں کے دلوں میں بھی اس کی محبت رکھ دی جاتی ہے ۔(مسلم)۔ حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بیشک اللہ تعالی کے بندوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو  نہ انبیاءہیں اور نہ ہی شہدا مگر قیامت کے دن اللہ تعالی کی بارگاہ میں ان کا مقام و مرتبہ دیکھ کر انبیاءاور شہدا ءرشک کریں گے ۔ لوگوں نے عرض  کیا یا رسول اللہ ﷺ وہ کون لوگ ہوں گے ؟ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ وہ لوگ ہوں گے جو ایک دوسرے سے اللہ تعالی کی محبت کی وجہ  سے محبت کرتے رہے ہوں گے۔ ان کے درمیان نہ تو رشتہ داری ہو گی اور نہ ہی مال کا لین دین کا کوئی معاملہ ۔خدا کی قسم ان کے چہرے نور ہوں  گے اور یہ لوگ نور کے اوپر ہوں گے اور جب سب لوگ خوف زدہ ہوں گے اس وقت یہ لوگ بے خوف ہوں گے اور جب لوگ غمگین ہوں گے تو ان لوگوں کو کوئی غم نہ ہو گا ۔ ( مشکاۃ المصابیح )۔ 
بخاری شریف کی روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا :اللہ تعالی فرماتا ہے میرے کسی بندے نے میرے فرض کردہ احکام کی بجا آوری  سے زیادہ محبوب شے سے میرا قرب حاصل نہیں کیا اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک میں اس سے محبت  کرنے لگ جاتا ہوں اور پھر جب میں اس سے محبت کرتا ہو تومیں اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے ، اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں  جس سے وہ دیکھتا ہے ، میں اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے ، اور میں اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور  وہ مجھ سے سوال کرے تو میں ضرور عطا فرماتا ہوں اور اگر کسی چیز سے میری پناہ چاہے تو میں ضرور اسے پناہ عطا فرماتا ہوں ۔ 
اولیا ءاللہ عبادت کے ساتھ معاشرے کی اصلاح بھی کرتے ہیں۔ وہ لوگوں میں محبت ، اخوت ، دیانت ، عدل ، صبر ، برداشت اور خدمت خلق کا جذبہ پیدا کرتے ہیں ان کی زندگیاں دوسروں کے لیے عملی نمونہ ہوتی ہیں ۔ ولی وہی ہوتا ہے جو شریعت مطاہرہ کا پابند ہو اور سنت نبوی ﷺ  کی پیروی کرتا ہو ۔اللہ تعالی ہمیں اپنے نیک بندوں کی صف میں شامل فرمائے ۔آمین۔

بدھ، 29 جولائی، 2026

شانِ او لیا ءاللہ (۱)

 

شانِ او لیا ءاللہ (۱)

اللہ تعالی نے ہر دور میں ایسے بندوں کو پیدا فرمایا ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں ایمان ، تقوی ، اخلاص ، عبادت اور خدمت خلق سے مزین کیں ۔
یہ خوش نصیب ہستیاں اولیا ءاللہ کہلاتی ہیں ۔ اولیاءاللہ شریعت سے الگ کوئی راستہ اختیار نہیں کرتے بلکہ قرآن و سنت کے سچے پیر وکار ہوتے  ہیں ۔ ان کی عظمت کا راز ان کی بندگی ، عاجزی ، خوف خدا اور محبت رسول ﷺ میں پوشیدہ ہے ۔ 
ولی کے لغوی معنی دوست ، مددگار اور قریب ہونے والے کے ہیں  شریعت کی اصطلاح میں ولی وہ شخص ہے جو ایمان اور تقوی کی دولت سے  مالامال ہو ، اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لے ۔
خالص ایمان اور مضبوط عقیدہ ، ہر حال میں اللہ تعالی کی اطاعت ، سنت رسول ﷺ کی مکمل پیروی ، عاجزی و انکساری اور حسن اخلاق ، مخلوق خدا سے محبت اور خیر خواہی ، دنیا کی محبت سے بے رغبتی اور آخرت کی فکر اولیا ءاللہ کی صفات ہیں ۔  ارشاد باری تعالی ہے : ”سن لو بیشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم ۔ وہ جو ایمان لائے اور پرہیز گاری کرتے ہیں “۔ ( سورۃ یونس)۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت مبارکہ کی تفصیل میں فرماتے ہیں اولیا ءاللہ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو دیکھ کر اللہ تعالی یاد آئے ۔
 جیسا کہ حضور نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے اللہ تعالی کا ولی وہ ہے جسے دیکھ کراللہ تعالی یاد آ جائے ۔( کنزالعمال )۔ خزائن العرفان میں مفتی نعیم الدین مراد آبادی اس آیت مبارکہ کی روشنی اولیا ءاللہ کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کا ولی وہ ہوتا ہے جو فرائض کی ادائیگی سے اللہ تعالی کا قرب حاصل کرے اور اللہ تعالی کی اطاعت میں مشغول رہے اور اس کا دل اللہ تعالی کے نور جلال کی معرفت میں ڈوباہو، جب دیکھے اللہ تعالی کی قدرت کے دلائل دیکھے ، جب سنے تو اللہ تعالی کی آیتیں ہی سنے،جب بولے تو اللہ تعالی کی ثنا ہی بولے ، جب حرکت کرے اطاعت الہی میں حرکت کرے ، جب کوشش کرے تو اسی کام میں کوشش کرے جو قرب الہی کا ذریعہ ہو ،وہ اللہ  تعالی کے ذکر سے نہ تھکے اور چشم دل سے خدا کے سوا غیر کو نہ دیکھے ۔ جب بندے میں یہ صفات آ جاتی ہیں تو اللہ تعالی اس کا ولی و ناصر اورمعین و مددگار ہوتا ہے ۔ 
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بہت سے پراگندہ حال ، بوسیدہ لباس والے ایسے ہوتے ہیں کہ لوگ ان سے نظریں پھیر لیتے ہیں لیکن ان کی شان یہ ہے کہ اگر وہ اللہ تعالی پر قسم کھا لیں تو اللہ تعالی ان کی قسم ضرور پوری فرما دیتا ہے ۔ (مستدرک )۔

منگل، 28 جولائی، 2026

جنت کے انعامات

 

جنت کے انعامات

جنت اللہ تبارک وتعالی کی بہت بڑی نعمت ہے ۔ جو جنت میں داخل ہو گا وہ ہمیشہ اس میں رہے گا ۔ وہ کبھی بھی تنگدست نہیں ہو گا ۔اسے کبھی  موت نہیں آئے گی ۔ اس کے کپڑے بوسیدہ نہیں ہو ں گے ۔اور نہ ہی کبھی اس کا شباب اور حسن ختم ہو گا ۔ جنت میں انسان کو ایسی نعمتیں ملیں گی جو کسی انسان نہ پہلے کبھی دیکھی  ہوں گی اور نہ کبھی سنی ہوں گی ۔ ارشاد باری تعالی ہے : کوئی نہیں جانتا کہ ان کے اعمال کے بدلے میں ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک کی کون کون سی چیزیں پوشیدہ رکھی گئیں ہیں ۔ ( سورۃ سجدہ ) 
جنت کے ارد گرد مصیبتوں ، پریشانیوں اور تکلیفوں کی باڑ  لگا دی گئی ہے ۔ جنت میں کسی بھی قسم کی مصیبت  برداشت نہیں کرنی پڑے گی ۔ جنت کا محل سونے چاندی کی اینٹوں اور کستوری کے گارے سے بنا ہوا ہے ۔ جنت میں ہیرے اور جواہرات کی کنکریاں ہوں گی ۔ جنت کی مٹی زعفران کی ہوگی ۔ حسد و کینہ اور بغض جیسی فضول چیزیں دل سے نکل جائیں گی ۔ اہل جنت کے چہرے بڑے حسین و جمیل ہوں گے ، ان کی صحت  قابل رشک ہو گی ۔ ان کے دل بڑے مطمئن ہوں گے اور وہ بہت زیادہ خوش ہوں گے ۔  انھیں کبھی کسی قسم کی تنگی اور تنگ دستی نہیں ہو گی ۔ آسائش ان کے قدم چومے گی ۔ اہل جنت سکون و اطمینان کی زندگی بسر کریں گے ۔ خوش ذائقہ پھلوں کی ڈالیاں ان کے ارد گرد جھوم رہی ہوں گی ۔
ارشاد باری تعالی ہے : ان کے لیے جاری چشمے سے شراب طہور کے بھرے جام گردش کر رہے ہوں گے ۔ نہایت سفید رنگ پینے والوں کے لیے لذت والی ، نہ اس سے سر چکرائے گا اور نہ اس سے مدہوش ہوں گے ۔ ( سورۃ لصفت)۔
جنت کے خادموں کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : اور ان کی خدمت میں سدا نو خیز رہنےوالے لڑکے پھرتے ہوں گے جب انہیں دیکھیں گے تو انہیں بکھرے ہوئے موتی سمجھیں گے ۔ (سورۃ الدھر) ۔ و
ہاں تھوک اور پیشاب پاخانے کا تصور تک نہ ہو گا ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ان کے لیے وہاں پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور وہ ان باغوں میں ہمیشہ رہیں گے ۔( سورۃ البقرۃ)۔
جنت کی حوروں کی صفات بیان کرتے ہو ئے اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : ان میں جھکی جھکی نظروں والی (حوریں) ہوں گی ۔ ان سے پہلے انہیں کسی انسان اور جن  نے ہاتھ بھی نہیں لگایا ہو گا ۔ ( سورۃ الرحمن)۔
 ارشاد باری تعالی ہے : ان کے لیے بالا خانے ہیں ، ان کے اوپر بالا خانے بنے ہوئے ہیں جب کہ ان کے نیچے  نہریں جاری ہیں ۔ ( سورۃ الزمر)۔ جنت میں سب سے بڑا انعام یہ ہو گا اللہ تعالی اپنی ذات اقدس سے پردے ہٹا دے گا اور اہل جنت اللہ تعالی کا جمال بے مثال دیکھیں گے ۔

پیر، 27 جولائی، 2026

موانع و مظاہر عجز و انکسار(۲)

 


موانع و مظاہر عجز و انکسار(۲)

جب انسان کے حالات ٹھیک نہیں ہوتے اور اسے مالی تنگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ ایک انتہائی عاجز انسان بن جاتا ہے لیکن حقیقی عاجزی وہ ہے جو مال و دولت ہونے کے باوجود  قائم رہے ۔  مسند ابی یعلی میں ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر میں چاہو ں تو میرے ساتھ سونے کے پہاڑ چلیں ۔حضور نبی کریم ﷺ  نے شاہی کو اختیارکرنے کی بجائے عجز و انکساری کو اختیار فرمایا ۔ 
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم ﷺ نے کبھی تکیہ لگا کر کھانا نہیں کھایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا میں ایسے ہی کھاؤں گا جیسے عام بندہ کھاتا ہے اور ایسے ہی بیٹھوں گا جیسے ایک عام بندہ بیٹھتا ہے۔ امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں جب نبی کریمﷺ معراج کی رات اعلی ترین درجات اور بلند ترین مقام پر فائز ہوئے تو اللہ تعالی نے آپﷺ پر وحی نازل فرمائی :اے محمد (ﷺ) میں آپ کو کس لقب سے مشرف کروں تو حضور نبی کریم ﷺ کی عاجزی  کا نکتہ کمال یہ تھا کہ  مقام رفیع پر فائز ہونے کے باوجود فرمایا کہ اے میرے پروردگار مجھے اپنی نشست سے منسوب فرما ۔حضور نبی کریم ﷺ  نے عبدیت کو ہی اپنے لیے سب سے بڑا شرف سمجھا ۔ (تفسیر الکبیر )
 عاجزی و انکساری اختیار کرنے والا شخص جب اپنے دشمن پر فتح حاصل کر لیتا ہے تو وہ عاجزی کاراستہ چھوڑ کر تکبر اور انتقام کے راستے پر چل پڑتا ہے اور ظلم و ستم کی انتہا کر دیتا ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے :
بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں اسے تباہ کر دیتے ہیں اور اس کے عزت والوں کو ذلیل۔ اوریہ لوگ ایسا ہی کرتے ہیں ۔(سورۃ النمل)
لیکن نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ سے ہمیں پیغام ملتا ہے کہ فتح و کامیابی کے باوجود عجز و انکساری کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔
حضور نبی کریم ﷺ نے جتنے بھی غزوات میں کامیابی حاصل کی قیدیوں پر ظلم و ستم کی بجائے معمولی سا فدیہ لے کر رہا فرما دیتے تھے ۔ حضور نبی کریم ﷺ کی عجزو انکساری کا عالم یہ تھا کہ ایک مرتبہ قیدیوں میں عمرو بن عبداللہ نے، جو کہ شاعر بھی تھا،  حضور ﷺ سے عرض کی میری پانچ بیٹیاں ہیں جن کا میرے علاوہ کوئی نہیں ۔اے محمد ﷺ مجھے ان بچیوں کے صدقے کی صورت میں رہا کر دیں میں آئندہ کبھی کسی کو آپ ﷺ کے خلاف نہیں ابھاروں گا ۔ حضور ﷺ نے اسے بغیر فدیہ کے آزاد کر دیا۔ ( حیات محمد )


اتوار، 26 جولائی، 2026

موانع و مظاہر عجز و انکسار(۱)

 

موانع و مظاہر عجز و انکسار(۱)

انسانی کردار کی تعمیر میں جن اخلاقی اوصاف کو بنیادی حیثیت حاصل ہے ان میں عجزو انکساری نمایاں مقام رکھتی ہے ۔ یہ وہ عظیم صفت  ہے جو انسان کو غرور و تکبر کی تاریکیوں سے نکال کر اللہ تعالی کی رضا ، بندگان خدا کی محبت اور معاشرتی احترام کی منزل تک پہنچاتی ہے ۔  اسلام نے جہاں ایمان ، عبادات اور حسن اخلاق پر زور دیا ہے وہیں عاجزی اور فروتنی کو ایک کامل مومن کی شناخت قرا ر دیا اللہ تعالی  نے اپنے محبوب بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
”اور رحمن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام“۔ ( سورۃ الفرقان)۔ حضور نبی رحمت ﷺ نے اپنی پوری حیات طیبہ میں اس وصف کو عملی طور پر اس شان سے پیش کیا کہ رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے  بہترین نمونہ بن گیا ۔ آپ ﷺ عظمت و رفعت کے اعلی ترین مقام پر فائز ہونے کے باوجود سادگی ، تواضع ، حلم اور انکساری کا ایسا پیکر 
تھے کہ دوست و دشمن سب آپ ﷺ کے اخلاق کریمانہ کے معترف تھے ۔ 
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :صدقہ ما ل میں کمی نہیں کرتا ۔ معافی مانگ لینے سے اللہ تعالی  عزت میں اضافہ فرماتا ہے اور جو بھی اللہ تعالی کی رضا کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ تعالی اسے سر بلند فرمادیتا ہے ۔ ( ترمذی )۔ حضور نبی کریم ﷺنے فرمایا تواضع انسان کے رتبہ کو بلند کرتی ہے اور تکبر اسے پست کرتا ہے ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی  ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو اپنے مسلمان بھائی کے لیے عاجزی کرتا ہے اللہ تعالی اسے سر بلند کر دیتا ہے اور جو اس پر اپنی برتری  جتاتا ہے اللہ تعالی اسے پست کر دیتا ہے ۔ (الترغیب الترہیب )۔
تمام تر بلندیوں ، عظمتوں ، رفعتوں اور شان کا مالک اللہ تعالی ہے تو پھر بندہ کس وجہ سے احساس برتری میں مبتلا ہو جاتا ہے جب اس کے اختیار میں کچھ نہیں۔
 حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: کبریائی میری چادر ہے اور بڑائی میرا  تہبند ہے جو ان دونوں میں سے کچھ بھی مجھ سےچھینناچاہے گا میں اسے دوزخ میں پھنک دوں گا ۔( مسند احمد )۔ انسان کے اندر تکبر ، غرور ، خود پسندی ، مال و دولت کا گھمنڈ ، علم کی نخوت اور منصب کا زعم وہ عوامل ہیں جو عجز و انکساری اختیار کرنے کی  راہ میں روکاوٹ بنتے ہیں ۔ان رکاوٹوں کو دور کیے بغیر انسان کے اندر عاجزی پیدا نہیں ہو سکتی ۔

ہفتہ، 25 جولائی، 2026

نمازی کے اوصاف(۲)

 

نمازی کے اوصاف(۲)

 انسان کو عبادت سے روکنے والی چیز نفس ہی ہے۔ نفس جتنا مغلوب ہوتا ہے عبادت اتنی سہل ہو جاتی ہے ۔ جس وقت  نفس فنا ہو جاتا ہے اس وقت عبادت غذا اور طبیعت ثانیہ بن جاتی ہے ۔ عبد اللہ بن مبارک ؒ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک عبادت گزار خاتون کو دیکھا کہ نماز کی حالت میں اسے بچھو نے کافی ڈنگ مارے مگر اس نے بالکل بھی محسوس نہ کیا ۔ جب وہ عورت نماز سے فارغ ہوئی تو میں نے اس سے پوچھا کہ اماں آپنے بچھو کو اپنے آپ سے ہٹایا کیو ں نہیں ؟ عورت نے کہا بیٹا تم ابھی بچے ہو یہ کیسے ممکن ہے کہ میں خدا کے کا م میں اپنا کام شروع کر دیتی ۔ 
ابو الخیر اقطع ؒ کو پائوں میں پھوڑا نکل آیا ۔ طبیبوں نے کہا کہ آپ کا پاؤں کاٹنا پڑے گا آپ ؒ نے انکا ر کر دیا ۔  مریدین نے کہا کہ کیوں نہ نماز کی حالت میں آپؒ کا پاؤں کاٹ دیا جائے ۔ کیونکہ آپ کو نماز کی حالت میں بیرونی کوئی خبر نہیں ہوتی ۔پھر نماز کی حالت میں آپؒ کا پاؤں کاٹا گیا اور آپ کو محسوس تک نہ ہوا۔ جب آپ ؒ نماز سے فارغ ہوئے تو پاؤں کٹا ہوا تھا ۔
مروی ہے کہ سیدنا صدیق اکبر ؓ جب رات کو نماز پڑھتے تو ہلکی آواز  میں قرات کرتے اور سیدنا فاروق  اعظم ؓ بلند آواز سے قرات فرماتے ۔حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت ابو بکر ؓ سے پوچھا کہ آپ آہستہ آواز سے قرا ت کیوں کرتے ہیں، فرمایا کہ حضور ﷺ جسے میں پکارتا ہوں وہ سب سن لیتا ہے بلند ہو یا پھر آہستہ ۔
حضرت عمرؓ سے پوچھا گیا تو فرمایا کہ سونے والوں کو بیدار کرتا ہوں اور شیطان کو دھتکارتا ہوں ۔آپﷺ نے فرمایا ابو بکر ؓ تم ذرابلند آواز سے پڑھا کرو اور عمرؓ تم ذرا آہستہ آواز میں پڑھا کرو ۔ 
بعض فرائض ظاہری طور پر اور نوافل چھپ کر ادا کرتے ہیں اس سے ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ ریا سے بچا جا سکے ۔ کیونکہ جب کوئی ریا کرتا ہے تو وہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے اسی طرح وہ فرماتے ہیں کہ ہم اپنی عبادت و ریاضت کو اہمیت نہیں دیتے مگر لوگ  تو یہ سب دیکھتے ہیں اور یہ ریا ہے ۔ 
بعض مشائخ فرائض کے ساتھ نوافل بھی ظاہری طور پر ادا کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ریا باطل ہے اور عبادت حق۔ یہ مشکل ہے کہ ہم باطل کے خوف سے حق کو چھپا لیں پس دل سے ریا کو نکال دینا چاہیے اس کے بعد جہاں مرضی آئے انسان عبادت کرے ۔ (کشف المحجوب )۔

جمعہ، 24 جولائی، 2026

نمازی کے اوصاف(۱)

 


نمازی کے اوصاف(۱)

حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ جب معراج سے واپس تشریف لائے تو دل مبارک  ہر وقت اسی مقام معلیٰ کے شوق اور آرزو میں لگا رہتا ۔ آپ ﷺ فرماتے اے بلال ؓ ہمیں نماز سے خوش کرو پس دراصل آپ کے لیے ہر  نماز معراج اور قرب الہی کا موجب ہوتی تھی لوگوں کی نگاہیں آپ ﷺ کو نماز میں دیکھتی تھیں مگر صورت یہ تھی کہ جسم مبارک نماز میں، دل نیاز میں اور باطن پرواز بارگاہ میں ہوتا ۔ ادھر آپ ﷺ کا تن مبارک سوزو گداز میں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ  نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ۔ اسی طرح جسم ملک میں اور روح عالم ملکوت میں ہوتا ۔ بظاہر وجود انسانی جسم ہوتا مگر روح مقام انس میں ہوتی۔ 
سچے کی نشانی یہ ہے کہ اللہ تعالی اس کے لیے ایک فرشتہ مقرر کر دیتا ہے جو اسے نماز کے وقت نماز کے لیے ابھارتا ہے اور اگر وہ سو رہا ہوتو اسے بیدار کرتا ہے ۔ سہل بن عبد اللہ ؒ میں یہ کیفیت بالکل ظاہر تھی آپ اپنے دور میں کافی عمر رسیدہ تھے۔ نماز کا وقت آتا تو ٹھیک ٹھاک ہو جاتے۔ نماز ادا کر کے پھر بستر پر پڑے رہتے ۔ ( کشف المحجوب )۔
ایک بزرگ کا قول ہے کہ ’’نماز پڑھنے والے کے لیے چار باتیں ضروری ہیں، اس کا نفس فنا ہو، خواہشات زائل ہوں ، باطن صاف ہو اوراسے مشاہدے میں کمال حاصل ہو۔ 
یعنی نماز اداکرنے والے کے لیے فنائے نفس کے بغیر چارہ نہیں اور نفس کی فنائیت جمع ہمت کے بغیر حاصل نہیں ہوتی جب ہمت مجتمع ہو جاتی ہے تو انسان کو نفس پر حکمرانی حاصل ہو جاتی ہے اس لیے کہ اس کا وجود تفرقہ سے ہے، جمع کی عبارت کے تحت نہیں آسکتا اور خواہشات کا زائل ہونا جلال خدا وندی کے اثبات کے بغیر حاصل نہیں ہوتا کیونکہ حق تعالی کا جلال غیر کے زائل ہونے کا موجب ہوتا ہے اس طرح باطن کی صفائی محبت کے بغیر نہیں ہوتی اور کمال مشاہدہ باطن کی صفائی کے بغیر حاصل نہیں ہوتا ۔  کہا جاتا ہے کہ حسین بن منصورؒرات دن میں چار سورکعات نماز بطور فریضے کے ادا فرمایا کرتے تھے لوگوں نے پوچھا  اس قدر مرتبہ رکھنے کے باوجود آپ اتنی محنت کیوں کرتے ہیں ۔ آپؒ نے فرمایا اس کا رنج و راحت سے کیا واسطہ۔ خیال کرو سستی و کاہلی کو  بزرگی اور حرص کو طلب کا نام نہ دو۔ 
حضرت جنید ؒ نے بڑھاپے میں بھی اپنے جوانی والے اورادو وظائف میں سے کوئی چیز کم نہ کی۔ لوگوں نے کہا حضور آپ بہت کمزور ہو گئے ہیں تو اورادو وظائف ذرا کم کر دیں ۔ آپ ؒنے فرمایا شروع میں ہم نے جو کچھ حاصل کیا انہی معمولات کی  بنا پر حاصل کیا۔ یہ مرتبہ پالینے کے بعد یہ کیسے ممکن ہے کہ میں انہیں چھوڑ دوں۔


جمعرات، 23 جولائی، 2026

اسلام میں بد گوئی اور فحش کلامی کی مذمت

 


اسلام میں بد گوئی اور فحش کلامی کی مذمت

دین اسلام واحد مذہب ہے جو انسان کو ہر پہلو سے اخلاق حسنہ اپنانے کی تلقین کرتا ہے ۔ دین اسلام کی بنیاد ہی اچھے اخلاق ، نرم لہجے اور پاکیزہ گفتگو پرہے۔بدگوئی ، فحش کلامی ، گالی گلوچ نہ صرف اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ یہ انسان کے اخلاقی زوال کی بھی علامات ہیں ۔ 
قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں متعدد بار زبان کی حفاظت کی تلقین کی گئی ہے ۔ سورۃالحجرات آیت نمبر11میں اللہ تعالی نے ایک دوسرے کا تمسخر  اڑانے سے منع فرمایا ہے ۔ اور اسی طرح سورۃ البقرہ میں بھی اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ لوگوں سے اچھی بات کہو ۔ ان آیات میں ایک دوسرے کا مذاق اڑانے ، طعنہ دینے اور فحش کلامی سے منع کیا گیا ہے ۔ 
امام غزالیؒ نے اپنی زبان کو آٹھ قسم کے گناہوں سے محفوظ رکھنے کی تلقین کی ہے ۔ جھوٹ بولنے سے ، وعدہ خلافی کرنے سے ، غیبت کرنے  سے ، جھگڑا کرنے ، خود ستائی ، لعن تعن ، دوسرے پر کیچڑ اچھالنے سے اور ٹھٹھے بازی کرنے سے ۔  فحش کلامی صرف اخلاقی طور پر ناپسندیدہ نہیں بلکہ یہ معاشرتی بگاڑ کا سبب بھی بنتی ہے ۔ جب کوئی انسان فحش کلامی کرتاہے تو نہ صرف وہ اپنی شخصیت کو گراتا ہے بلکہ معاشرے میں بے حیائی اور فساد کو بھی فروغ دیتا ہے ۔ 
حضرت ابو سعید خدری نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی یا رسو ل اللہ ﷺ مجھے کوئی نصیحت فرما دیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالی سے ڈرتے  رہو ساری بھلائی اسی میں ہے ، جہاد کو اپنے اوپر لازم کر لو کیونکہ یہ مسلمانوں کے لیے ریاضت ہے ، اپنی زبان کو اللہ تعالی کے ذکراور قرآن مجید کی تلاوت  سے مصروف رکھو کیونکہ یہ زمین پر نور کا سر چشمہ ہیں اور آسمان پر معروف ہیں ۔ نبی کریم ﷺ نے مزید ارشاد فرمایاکہ جب بھی زبان سے کچھ بولو تو اچھی بات بولو ورنہ خاموش رہو کیونکہ ایسا کرنے سے تمہیں شیطان پر غلبہ پانے اور دینی امور احسن طریقے سے ادا کرنے میں مدد ملے گی ۔ ( المعجم الکبیر ، ابن حبان).
 نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو کوئی اس دنیا میں لوگوں کے وقار کی حفاظت کرے گا اللہ تعالی قیامت کے دن اس کے بدلے اس کے گناہ مٹا دے گا ، جو کوئی  بھی دنیا میں لوگوں پرآنے والے غصے پر قابو کرے گا اللہ تعالی قیامت کے دن اسے عذاب سے محفوظ رکھے گا۔ ( احیا علوم الدین ). 
ابو الیث سمر قندی ؒ فرماتے ہیں کہ صالحین اپنی زبان کو قابو میں رکھنے کے لیے دوسروں سے کی جانے والی گفتگو کا خود سے محاسبہ کرتے تھے ۔ اسی طرح ہر  مسلمان کو چاہیے کہ اس سے پہلے کہ اس کا آخرت میں حساب ہو وہ دنیا میں ہی اپنا محاسبہ کرتا رہے ۔ دنیا میں اپنا محاسبہ کر لینا آخرت میں حساب سے زیادہ آسان ہے ۔ دنیا میں اپنی زبان پر قابو پالینا آخرت میں شرمندگی برداشت کرنے کی نسبت آسان ہے ۔ ( تنبۃ الغافلین ).
آج کے دور میں سوشل میڈیا ، ڈراموں ، فلموں اور عام گفتگو میں فحش کلمات کا استعمال زیادہ ہوتا جا رہا ہے اور یہ مزاح کا حصہ بنتا جا رہا ہے جو کہ ایک  خطر ناک رحجان ہے ۔ ہمیں اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی زبان کو بد گوئی اور فحش کلامی سے محفوظ رکھنا ہو گا ۔



بدھ، 22 جولائی، 2026

مومن کی مثال (۲)

 


مومن کی مثال (۲)

جو شخص گرمی سے بچنے کے لیے سایہ تلاش کرتا ہے درخت اسے سایہ مہیا کرتا ہے اور اپنے پاس سے گزرنے والوں کو اپنے خوشبواور سر سبز و شاداب منظر کا تحفہ دیتا ہے ۔ جسے غذا کی ضرورت ہو درخت اسے مختلف اقسام کے لذیذ قسم کے پھل مہیا کرتا ہے اور جن کو ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے وہ درخت کو کاٹ کر اپنی ایندھن کی ضروریات بھی حاصل کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ درخت کے ذریعے خوبصورت قسم کی گھریلو اشیاءاور فرنیچر بھی حاصل کیا جاتا ہے ۔ جس طرح کا بھی کوئی لمحہ آتا ہے درخت اسی طرح  کا ثابت ہوتا ہے جس طرح اس سے امید کی جاتی ہے ۔ 
اس سب کے باوجود درخت ایک ایسا وجود ہے جو زمین میں اپنی جڑیں داخل کر کے خود اپنے بل بوتے پر کھڑا رہتا ہے اور زمین کی تہہ میں اس طرح گڑا ہوتا ہے کہ کوئی اسے اکھاڑ نہ سکے اور فضا میں اس طرح بلند ہوتا ہے کہ کائنات کی تما م چیزیں اس سے اپنی ضروریات حاصل کرتی ہیں ۔ 
قرآن مجید میں مومن کی مثال اس درخت سے دی گئی ہے اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مومن کو کن خصوصیات کا حامل ہونا  چاہیے ۔ مومن وہ ہے جس کے اندر وہی صفات انسانی سطح پر موجود ہوں جو درخت میں مادی سطح پر پائی جاتی ہیں ۔ مومن کو وہی  کام اپنے شعور کے تحت کرنا ہے جو درخت طبعی قانون کے تحت سر انجام دے رہا ہے ۔ مومن کو خود اپنے ارادے سے اس طرح  سر سبز دنیا کی تخلیق کرنی ہے جس کو ایک درخت قانون فطرت کی پابندی کے تحت وجود میں لاتا ہے ۔ 
درخت مٹی کے اندر سے نکلتا ہے ۔ مومن کا درخت روحانیت کی ربانی زمین پر اگتا ہے ۔ درخت دنیا کے مادی اجزا سے بنتا ہے اور مومن عالم آخرت کے جنتی اجزا سے ۔ عام درخت مادی دنیا کا درخت ہے تو مومن انسانی دنیا کا درخت ہے ۔ درخت ایک  نمو پذیر وجود ہے اسی طرح مومن بھی ایک نمو پذیر وجود ہے ۔ مومن وہ انسان ہے جو ربانی فکر کی بنا پر اس قابل ہو جاتا ہے کہ ساری کائنات اس کے لیے معرفت کا دسترخوان بن جائے ۔ 
دنیا کی زندگی امتحان کی زندگی ہے یہاں کچھ مل جانا بھی آزمائش ہے اور کچھ نا ملنا بھی آزمائش ہے مومن وہ ہے جو دونوں حالتوںمیں اللہ تعالی کی رضا پر راضی رہے وہ منفی تجربات کومثبت تجربات میں تبدیل کر سکے اور دنیا میں رہتے ہوئے مکمل طور پر آخرت کا طالب بن جائے ۔ 
ایسے لوگوں کے لیے ہی قرآن مجید میں نفس المطمئنہ کا ذکر آیا ہے ۔یہی وہ لوگ ہیں جنہیں جنت میں اللہ تعالی کی ہمسائیگی ملےگی اور انہیں جنت کے باغوں میں  داخل کیا جائے گا ۔ اور وہ ہمیشہ راحتو ں اور خوشیوں میں زندگی گزاریں گے ۔



منگل، 21 جولائی، 2026

مومن کی مثال (۱)

 

مومن کی مثال (۱)

مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا سب سے پہلا تعلق اپنے رب کریم سے ہے کیونکہ وہی ہمارا خالق و مالک ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے : ’’ ایمان والے وہی ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان کے سامنے اس کی آیتیں پڑھی جائیں تو ان کا ایمان ترقی پائے اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کریں ‘‘۔ ( سورۃ الانفال )۔
مسلمان کے اعلی اوصاف میں سے یہ بھی ہے کہ وہ صرف اپنی ہی نہیں بلکہ دوسرے مسلمان کی بھی فکر کرتا ہے اسی لیے وہ ان کی دنیا و آخرت کی بھلائی کے لیے انہیں نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے منع کرتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :’’ مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں ‘‘۔( سورۃ التوبہ )۔ 
مومن کی مثال ایک درخت کی طرح ہے ۔ درخت کی تخلیق اللہ تعالی کے حکم سے ایک چھوٹے سے بیج سے ہوتی ہے ۔ بیج کے اندر وہ تمام امکانات نہایت کاریگری کے ساتھ سموئے ہوتے ہیں کہ جب بھی اس کو موافق حالات ملیں وہ ایک درخت کی صورت میں  اپنے آپ کو ظاہر کرنا شروع کر دے ۔  بیج کو جب مٹی کے اندر بویا جاتا ہے تو اچانک وہ پوری کائنات سے اس طرح جڑ جاتا ہے جیسے کہ ساری کی ساری کائنات صرف اسی کی پرورش کے لیے بنائی گئی ہو ۔ مٹی نرم ہو کر اسے موقع دیتی ہے کہ وہ اس کے اندر اپنی جڑوں کو داخل کر سکے ۔  پھر بیکٹیریا اس کی جڑوں میں جمع ہو جاتے ہیں تاکہ وہ فضا سے نائٹروجن الگ کر کے اس کی خوراک فراہم کرے ۔ زمین کی تہیں  اپنی معدنیات اور نمکیات کو پانی میں گھول کر اس کی جڑوں کو پہنچاتی ہیں تاکہ وہ ایک بڑے درخت کی شکل اختیار کر لے ۔ اللہ تعالی  کے حکم سے کائنات کا پورا کارخانہ متحرک ہو جاتا ہے کہ اس کے لیے مختلف موسم پیدا کر کے اسے ایک مکمل درخت کی شکل میں کھڑا  کر دے ۔ 
یہ درخت کائنات سے اس طرح ہم آہنگ ہو جاتا ہے کہ کہیں بھی ماحول کی دوسری چیزوں سے اس کا ٹکراؤ نہیں ہوتا ۔ درخت اگرزمین سے پانی لیتا ہے تو درخت زمین سے لی ہوئی رطوبت کو اپنے پتوں کے ذریعے خارج کر کے بارش برسانے میں معاون بنتا ہے ۔
درخت اگر زمین سے اپنی خوراک حاصل کرتا ہے تو خود بھی اپنے پتوں اور پھلوں کو زمین پر گرا کر اس کی زرخیزی میں اضافہ کرتا ہے ۔درخت اگر ہوا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ لیتا ہے تو وہ اس کے بدلے آکسیجن بھی دیتا ہے جس کے ذریعے ہم سانس لے سکتےہیں ۔درخت کائنات سے الگ ہو کر بھی کائنات سے اس طرح جڑا ہوتا ہے کہ کائنات کی کسی چیز سے اس کا ٹکراؤ نہیں ہوتا ۔

پیر، 20 جولائی، 2026

خلوت اختیار کرنے کی فضیلت

 

خلوت اختیار کرنے کی فضیلت

حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ سے عرض کی گئی کہ یا رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سے افضل کون کون ہے نبی کریم ﷺ  نے ارشاد فرمایا وہ مومن جو اپنے مال اور جان کے ساتھ اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرے ۔صحابہ کرام نے پھر عرض کی یارسول اللہ ﷺ پھر کون۔
 آپ ﷺ نے فرمایا وہ مومن جو گھاٹی میں رہے اور اللہ تعالی سے ڈرتا رہے اور لوگوں کو شر نہ پہنچائے ۔ ( بخاری شریف )۔
بخاری شریف میں اسود بن یزید نخعی ؓ سے مروی ہے کہ میں نے ام المئومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ جب گھر آتے تو کیا کرتے تھے ۔ حضرت عائشہؓ نے کہا آپﷺ گھر کے کاموں میں مشغول رہتے اور جب نماز کا وقت ہوتا تو اٹھ کر نماز کے لیے چلے جاتے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب بندہ اعلانیہ طور پر نماز ادا کرتا ہے اور اچھے طریقے سے نماز اداکرتا ہے اور  خلوت میں جب نما ز ادا کرتا ہے اور اچھے طریقے سے ادا کرتا ہے تو اللہ تعالی فرماتا ہے درحقیقت یہ بندہ اللہ تعالی کا بندہ ہے ۔ (ابن ماجہ)
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : قریب ہے مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہوں گی جن کو وہ پہاڑ کی چوٹی بارش کے برسنے کی جگہوں میں لے جائے گا ۔ اس حال میں کہ اپنے دین کے سبب فتنوں سے بھاگے گا اس میں اس شخص کے لیے تنہائی میں رہنے کی فضیلت ہے جس کو اپنے دین کا خوف ہو ۔ ( بخاری ).
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبوت کے آغاز میں سب سے پہلے اللہ تعالی نے آپ کی کرامت اور اپنے بندوں پر اپنی رحمت کے اظہار کا ارادہ فرمایا تو نبی کریم ﷺ جو بھی چیز خواب میں دیکھتے وہ روز روشن کی طرح پوری ہو جاتی تھی ۔ جب تک اللہ تعالی کو منظور تھاایسا ہی رہا  پھر آپ کو خلوت نشینی پسند آگئی اس وقت آپ ﷺ کے نزدیک خلوت سے زیادہ پسندیدہ چیز کوئی نہیں تھی ۔ ( ترمذی )۔
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا تمہیں سب سے بہتر لوگوں کے بارے میں نہ بتلاؤ ں ایک وہ شخص ہے  جو اللہ تعالی کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام پکڑ لیتا ہے اور نکل کھڑا ہوتا ہے کیا جو شخص اس کے بعد ہو گا یہ وہ شخص ہے جو بکریاں لے کر لوگوں سے الگ ہو جاتا ہے اور ان کے بارے میں اللہ تعالی کے حق کو ادا کرتا ہے کیا میں تمہیں سب سے بد ترین شخص کے بارے میں نہ بتاؤں یہ وہ شخص ہے جس سے اللہ تعالی کے نام پہ مانگا جائے وہ نہ دے ۔ ( ترمذی )

اتوار، 19 جولائی، 2026

ایمان ، یقین اور استقامت

 

ایمان ، یقین اور استقامت

انسانی زندگی میں بعض تصورات ایسے ہیں جو محض الفاظ نہیں ہو لتے بلکہ وہ کردار ، سوچ اور عمل کی بنیاد بن جاتے ہیں ۔ایمان ،یقین اور استقامت تین  ایسے تصورات ہیں جو فرد کے فکری ، روحانی اور عملی وجود کو ایک سمت عطا کرتے ہیں۔ اگر ان تینوں کو ایک لڑی میں پرو دیا جائے تو ایک مکمل شخصیت کی  تکمیل ہوتی ہے اور دنیاو آخرت میں کامیابی نصیب ہوتی ہے۔ انسان کے دل میں سب سے پہلی چیز جو جنم لیتی ہے وہ ایمان ہے ۔ ایمان وہ چیز ہے جو بندے کو اللہ تعالی کے وحدہ لاشریک ہونے ، اس کے رسولوں ،  کتب سماویہ ، ملائکہ ، اچھی اور بری تقدیر اور یوم آخرت پر یقین رکھنے کا درس دیتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :
” رسول ایمان لایا اس پر جو اس کے رب کی طرف سے اس پر اترا اور ایمان والے ، سب نے مانا اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے  رسولوں کو “۔ ( سورۃ البقرہ )۔ 
ایمان ایک ایسا نور ہے جو انسان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آتا ہے ۔ ایمان صرف زبانی دعوے کا نام نہیں بلکہ اس کا اثر انسان کے اعمال اور کردار میں بھی نظر آنا چاہیے ۔ 
جب ایمان انسان کے دل میں مضبوط ہو جاتا ہے تو وہ یقین میں ڈھل جاتا ہے ۔ یقین ایک ایسا درجہ ہے جس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں ۔ارشاد باری تعالی ہے : اور زمین میں نشانیاں ہیں یقین والوں کے لیے “۔ ( سورۃ البقرہ )۔ یقین انسان کو مشکل وقت میں بھی اپنے رب پر بھروسہ رکھنے کا حوصلہ دیتا ہے ۔جس کی مثالیں ہمیں انبیاءکرام ، نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کی زندگیوں سے ملتی ہیں کہ کس طرح انہوں نے مشکلات و مصائب میں اللہ تعالی پر کامل یقین رکھا اور اللہ تعالی نے انہیں کامیابی عطا فرمائی ۔ 
جب انسان حق کو پہچا ن کر اسے دل و جان سے تسلیم کرتے ہوئے اس پر ڈٹ جائے اور ثابت قدم رہے تو اسے استقامت کہتے ہیں ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ” بیشک جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے ان پر فرشتے اترتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو “۔ ( سورۃ الفصلت )۔
کسی بھی بات پر قائم رہنا آسان نہیں ۔ یہ صبر ، قربانی اور حوصلے کا تقاضا کرتی ہے ۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان کی زندگیاں ہمارے لیے استقامت کا عملی  نمونہ ہیں کہ کس طرح انہیں طرح طرح کی تکالیف دی گئیں لیکن وہ استقامت کے ساتھ اپنے دین پر قائم رہے ۔ حضرت بلال حبشیؓ کو تپتی ریت پر لٹایا  گیا آپ کے جسم پر پتھر رکھے گئے لیکن آپؓ کی استقامت کا یہ عالم تھا کہ آپ احد احد ہی کی صدا بلند کرتے تھے ۔ 
ایمان بندے کے دل میں روشنی پیدا کرتا ہے ، یقین اس روشنی کو مستقل قوت دیتا ہے اور استقامت اس قوت کو آزمائش میں ثابت کرتی ہے ۔  ایمان ، یقین اور استقامت ایک ایسا نظام ہے جو انسان کو دنیا و آخرت میں کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے ۔ جب انسان ان تینوں صفات کو اپنا لے تو وہ نہ صرف خود کو سنوارتا ہے بلکہ معاشرے کی بھی اصلاح کرتا ہے ۔ اللہ تعالی ہمیں سچا ایمان ، مضبوط یقین اور استقامت عطا فرمائے ۔ آمین ۔

ہفتہ، 18 جولائی، 2026

آداب زندگی قرآن کی روشنی میں (۲)

 

آداب زندگی قرآن کی روشنی میں (۲)

قرآن مجید میں اللہ تعالی نے مسجد کے آداب بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ”اور یاد کرو جب ہم نے اس گھر کو لوگوں کے لیے مرجع و امان بنایا اور ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ اور ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم اور اسماعیل کو کہ میرا گھر خوب ستھرا کرو طواف والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع و سجود والوں کے لیے “۔ ( سورۃ البقرہ )۔ مسجد اللہ تعالی کا گھر ہے ۔ اس آیت سے ایک بات تو یہ بات پتہ چلی کہ نماز مسجد میں باجماعت ادا کرنی چاہیے اور دوسری یہ کہ اللہ تعالی کے گھر کو صاف ستھرا  رکھنا چاہیے تا کہ وہاں آ کر اللہ تعالی کی عبادت کرنے والو ں کو کوئی پریشانی یا تکلیف نہ ہو ۔  قرآن مجید میں اللہ تعالی نے والدین اور دوسروں کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرنے کا حکم فرمایا ہے اور یہ معاشرتی آداب میں بہت اہمیت کا حامل ہے کہ  ہم اپنے والدین کا ادب و احترام کریں اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں ۔ اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو اور جب وہ بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے سامنے اف تک نہ کہو ۔ 
سورۃ النساءمیں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :” اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کہ نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ سے بھلائی کرو اور رشتہ دارو ں اور یتیموں اور محتاجوں اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے اور کروٹ کے ساتھی اور راہ گیر اور اپنی باندی و غلام سے بے شک اللہ کو پسند نہیں کوئی اترانے والا، بڑائی مارنے والا “۔ 
لوگوں کو عدل و انصاف فراہم کرنا معاشرتی آداب میں سے اہم ترین ہے کیوں کہ عد ل و انصاف کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا اور نہ ہی معاشرے میں امن قائم ہو سکتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ”بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے عدل اور احسان کا “۔ ( سورۃ النحل )۔ 
اسی طرح اگر کسی کے ساتھ عہد کیا جائے تو اس عہد کو پورا کرنا ضروری ہے اور اس کے متعلق بھی برو زقیامت پوچھا جائے گا ۔ ارشاد باری تعالی ہے :” اور  عہد کو پورا کرو بیشک عہد سے سوال ہونا ہے “۔ ( سورۃ بنی اسرائیل )۔ 
معاف کرنا اور در گزر کرنا ایک ایسا عمل ہے جس سے نہ صرف بندے کی عزت و احترام میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معاشرہ بھی امن و سلامتی کا گہوارہ بن جاتا  ہے اور اللہ تعالی بھی ڈھیروں اجرو ثواب عطا فرماتا ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے :”اور برائی کا بدلہ اسی کی برائی ہے تو جس نے معاف کیا ور کام سنوارا تو اس کا اجر اللہ پر ہے بیشک وہ دوست نہیں رکھتا ظالموںکو “۔ ( سورۃ الشورٰی )۔
اس کے علاوہ حیا و پاکدامنی اور بے جا تجسس اور غیبت سے اجتناب کرنا بھی معاشرتی آداب میں سے ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :” اور مومن مردوں  سے کہہ دو کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں“۔ ( سورۃ النور )۔
سورۃ الحجرات میں اللہ تعالی فرماتا ہے :اور ایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ لگے رہو اور نہ ہی ایک دوسرے کی غیبت کرو “۔  اگر ہم قرآن مجید کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق زندگی بسر کریں تو اللہ تعالی ہمیں دنیا و آخرت میں سرخرو کرے گا اور معاشرہ بھی امن کا گہوارہ  بن جائے گا۔

جمعہ، 17 جولائی، 2026

آداب زندگی قرآن کی روشنی میں (۱)

 

آداب زندگی قرآن کی روشنی میں (۱)

قرآن مجید واحد ایسی مکمل اور جامع کتاب ہے جو نہ صرف عبادات میں ہماری رہنمائی کرتی ہے بلکہ ہمیں معاشرے میں رہن سہن کے طور طریقوں کے  حوالے سے مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے ۔ قرآن مجید کی آیات کی روشنی میں معاشرتی زندگی کے آداب جن پر عمل کر کے ہم معاشرے میں بلند مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ارشاد باری تعالی ہے : اے ایمان والو اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں داخل نہ ہو جب تک اجازت نہ لے لو اور ان کے ساکنوں پر سلام نہ کر لو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے کہ  تم دھیان کرو ۔ پھر اگر تم ان میں کسی کو موجود نہ پاؤ تو تم ان کے اندر مت جاؤ یہاں تک کہ تمہیں اجازت دی جائے اور اگر تم سے کہا جائے واپس جاؤ تو  واپس ہو۔ یہ تمہارے لیے ستھرا ہے اللہ تمہارے کاموں  کو جانتا ہے “۔ (سورۃالنور )۔ 
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی فرما رہا ہے کہ جب بھی کسی کے گھر جاؤ تو پہلے اجازت لو اس کے بعد وہاں رہنے والوں کو سلام کرو اور اگر کوئی گھر میں نہ 
ہو تو اس میں داخل نہ ہو اور اگر اجازت طلب کرنے پر اندر جانے کی اجازت نہ ملے تو خاموشی کے ساتھ واپس چلے جاؤ یہی تمہارے لیے بہتر ہے ۔ 
سورۃ بنی اسرائیل میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :” اور میرے بندوں سے کہو کہ وہ بات کہیں جو سب سے اچھی ہو “۔ یعنی جب بھی کسی کے ساتھ گفتگو 
کریں تو نرمی ، شفقت کے ساتھ کریں اور سچی بات کریں ۔ بد زبانی اور سخت لہجہ معاشرے میں فساد کا باعث بنتا ہے ۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ اپنی  گفتگو میں نرمی پیدا کریں اور اسے پاکیزہ رکھیں ۔ 
مجلس کے آداب کے بارے میں اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :” اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں  جگہ دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہو “۔  مجلس میں موجود لوگوں سے مخاطب کرتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا کہ جب کوئی باہر سے آئے تو اسے جگہ دواور اپنی مجالس میں کشادگی پیدا کرو تا کہ  زیادہ لوگ شامل ہو سکیں جب تم دوسروں کو جگہ دو گے تو اللہ تعالی تمہیں اس سے بہتر جگہ دے گا ۔ 
تواضع و انکساری اللہ تعالی کو بہت پسند ہے اور اس سے معاشرے میں بھی بندے کی عزت میں اضافہ ہوتا ہے ۔ سورۃ بنی اسرائیل میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : ” اور زمین میں اتراکرنہ چلو بیشک تو ہر گز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہر گز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا “۔ 
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی اپنے بندوں کو حکم دے رہا ہے کہ عاجزی و انکساری اختیار کرو ۔ اللہ تعالی کو غرور اور تکبر کرنے والا شخص پسند نہیں ۔ ایک سچا  اور کامل مومن وہ ہی ہے جو اپنے مقام و مرتبہ کو پہچانتے ہو ئے صرف اللہ تعالی کے سامنے جھکے اور زمین پر اکڑ نہ چلے ۔  اگر کوئی شخص کسی کے پاس اپنی کوئی چیز امانت کے طور پر رکھے تو اس میں خیانت نہ کرنا بھی زندگی کے آداب میں سے ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:”بیشک 
اللہ تمہیں حکم دیتا ہے امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو “۔ (سورۃ النساء)۔

جمعرات، 16 جولائی، 2026

مسلمانوں کا فکری زوال اور اس کا تدراک(۲)

 

مسلمانوں کا فکری زوال اور اس کا تدراک(۲)

انسان کے فکری زوال کی ایک بڑی وجہ اس کا برا اخلاق بھی ہے ۔ برے اخلاق انسان کی فکری سوچ پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔
فکری زوال کو ختم کرنے کا سب سے اہم اور پہلا طریقہ اپنے ایمان اور عقیدہ کو مضبوط کرنا ہے ۔ انسان کو اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ وہ اس دنیا میں کس مقصد  کے لیے بھیجا گیا ہے ۔ اپنے حقیقی مقصد کو سمجھتے ہوئے اسے اپنا ایمان اور اللہ تعالی پر بھروسہ مضبوط کرنا چاہیے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ”جو اللہ اور پچھلے دن پر ایمان رکھتا ہو اور جو کوئی اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لیے نجات کی راہ نکال دے گا “۔ ( سورہ الطلاق)۔ اس کے بعد فکری زوال کا خاتمہ علم کے ذریعے کیا جا سکتا ہے ۔ علم انسان کی فکری صلاحیت کو بڑھاتا ہے اور اس کی سچائی کی طرف رہنمائی کرتا ہے ۔علم کی اہمیت کا اندازہ قرآن مجید کی اس آیت سے لگایا جا سکتا ہے۔ارشاد باری تعالی ہے : ”اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا ہے درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے “۔ (سورہ المجادلہ )۔
حدیث شریف میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :”علم حاصل کرنا ہر مسلمان مر دو عورت پر فرض ہے “۔ ہمیں ایک ایسی فکری فضا قائم کرنے کی ضرورت ہے جہاں صرف سطحی تعلیم کی بجائے مطالعہ اور تحقیق کی حوصلہ افزائی ہو ۔ کتاب سے دوستی ، تعلیمی محافل اور 
سوال و جواب کی مجالس اس میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں ۔ 
انسان کی سوچ اور اس کی فکری زوال کی ایک بڑی وجہ گناہوں میں مبتلا ہو جانا بھی ہے ۔ فکری زوال کے خاتمے کے لیے توبہ و استغفار کی کثرت کرنی چاہیے ۔  ارشاد باری تعالی ہے :” اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب (ﷺ) تم ان میں تشریف فرما ہواور اللہ انہیں عذاب کرنے والا نہیں  جب تک وہ بخشش طلب کر رہے ہیں“۔ ( سورہ الانفال )۔
اسلام میں اچھے اخلاق کی بڑی اہمیت ہے ۔ جب انسان اخلاقی طور پر بہتر ہو تا ہے تو اس کی سوچ بھی بہتر ہوتی ہے ۔ اچھے اخلاق کی اہمیت بیان کرتے ہوئے  نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” مجھے اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے “۔  روحانیت اور مادیت میں توازن قائم کرنے سے بھی انسان کے فکری زوال کا خاتمہ ہوتا ہے ۔ انسان کا دل و دماغ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ایک متوازن  شخصیت وہی ہے جو فکری لحاظ سے نہ تو محض مادی سوچ رکھتا اور نہ ہی محض خیالی ۔ عبادات اور معاملات دونوں میں توازن قائم کرنے سے فکری زوال کو ختم  کیا جا سکتا ہے ۔  فکری زوال ایک سنگین مسئلہ ہے جس کا اثر صرف ایک فرد پر نہیں ہوتا بلکہ ایک فرد سے نکل پوری قوم زوال کا شکار ہو جاتی ہے ۔ اس کا حل ایمان اور عقائد کی 
مضبوطی ، حقیقی علم کا حصول ، اخلاقی تربیت اور توبہ و استغفارسے ممکن ہے ۔ فکری زوال کو ختم کرنے کے لیے دین کی اصل تعلیمات پر عمل کرنا ضروری ہے ۔اس  کے ذریعے ہی فرد اور قوم فکری زوال سے چھٹکارا پا سکتے ہیں

بدھ، 15 جولائی، 2026

مسلمانوں کا فکری زوال اور اس کا تدراک(۱)

 

مسلمانوں کا فکری زوال اور اس کا تدراک(۱)

سبب کچھ اور ہے ، تو جس کو خود سمجھتا ہے 
      زوال بندہ مومن کا، بے زری سے نہیں
تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ قوموں کا عروج اور پستی اس کی فکری سوچ کے ساتھ جڑی ہوتی ہے ۔ فکری بلندی کی وجہ سے قومیں آسمانوں کی بلندیوں کوچھو لیتی ہیں اور فکری زوال انہیں آسمان کی بلندیو ں سے گرا کر زمین بوس کر دیتا ہے ۔یہ زوال نہ صرف انسان کی انفرادی زندگی کو متاثر کرتا ہے بلکہ قوم کے اجتماعی زوال کا بھی سبب بنتا ہے۔ آج کے دور میں ایک شدید قسم کا فکری انتشار نظر آتا ہے جس کی بے شمار وجوہات ہیں ۔  سب سے پہلی اور بڑی وجہ تعلیم سے دوری ہے ۔جس قوم کا آغاز لفظ ”اقراء“ سے ہوا تھا آج وہی قوم محض روایتی علم حاصل کر رہی ہے جو صرف اور صرف  ڈگریوں اور نوکریوں تک محدود ہے ۔ اور ہم تحقیقی کام سے بہت حد تک دور جا چکے ہیں ۔جب ذہن کام کرنا چھوڑ دے تو فکری زوال کا آغاز ہو جاتا ہے ۔ 
آج کے دور میں انسان کے پاس علم تو ہے مگر وہ بصیرت سے خالی ہے ۔گہرائی سے سوچنے کی عادت اور مسئلے کی تہہ تک جانا ختم ہو چکا ہے ۔ فکری زوال کی  ایک اہم ترین اور بڑی وجہ تعلیم سے دوری بھی ہے جب انسان تعلیم سے دور ہوتا ہے اور اسکا تعلق سچائی ، تحقیق اور علمی انداز فکر سے نہں  جوڑا جاتا تو قومیں  زوال پذیر ہونا شروع ہو جاتی ہیں ۔ اللہ تعالی نے خود قرآن مجید میں ہمیں یہ حکم دیا کہ علم میں اضافے کی دعا مانگو۔
ارشاد باری تعالی ہے :” اور اے اللہ میرے علم میں اضافہ فرما “۔ یہ آیت اس بات کا ثبوت ہے کہ علم کا حصول انسان کی فکری قوت کو بڑھاتا ہے ۔ ایک  اور جگہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا :” کیا علم والے اور بغیر علم کے برابر ہو سکتے ہیں “۔ اس آیت سے بھی تعلیم کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔
جب انسان دین سے دوری اختیار کر لیتا ہے تو اس کے دل و دماغ پر غفلت کے پردے پڑ جاتے ہیں  اور اس کا بلا واسطہ اثر اس کی فکری سوچ پر پڑتا ہے ۔
ارشاد باری تعالی ہے: ” اور جو اسلام کے سوا کوئی دین چاہے گا وہ ہر گز اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور  آخرت میں وہ نقصان اٹھانے والوں میں ہوں گے “۔ ( سورۃ آل عمران) 
فکری زوال کی ایک بڑی وجہ مادہ پرستی ہے ۔ مادی چیزوں کی طلب انسان کی فکری سطح کو جامد کر دیتی ہے جس کا اثر پوری قوم پر پڑتا ہے ۔ ارشاد باری  تعالی ہے :”لوگوں کے لیے آراستہ کی گئی ان خواہشوں کی محبت عورتیں اور بیٹے اور تلے اوپر سونے چاندی کے ڈھیر اور نشان کیے ہوئے گھوڑے اور چوپائے اور کھیتی یہ جیتی دنیا کی پونجی ہے اور اللہ ہے جس کے پاس اچھا ٹھکانا ہے “۔( سورۃ آل عمران )۔ 
جب انسان مادہ پرستی میں مبتلا ہو جاتا ہے تو اس کی توجہ حقیقت سے ہٹ جاتی ہے اور وہ اللہ تعالی کی رضا اور آخرت کی تیاری کی طرف توجہ دینے کی بجائے  دنیا کی ظاہری لذتوں میں گُم ہو جاتا ہے جس سے اس کی فکری سوچ متاثر ہوتی ہے ۔

منگل، 14 جولائی، 2026

مؤذنِ رسول ﷺ(۳)

 

مؤذنِ رسول ﷺ(۳)

جب لوگوں کو اس بات کا علم ہوا کہ سیدنا بلال حبشی رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ تشریف لے آئے ہیں تو بہت سارے لوگ جمع ہو گئے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کواذان سنانے کی درخواست کی ۔حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ جب میں حضور ﷺ کی ظاہری زندگی میں اذان دیتا تھا تو جس وقت  ”اشھد ان محمد رسول اللہ “کہتا تو مجھے سامنے حضور ﷺ کاچہرہ انور نظر آتاتھا ۔ اب بتاؤ کیسے دیکھو ں  گا۔
لوگوں کے بہت زیادہ اصرار پر بھی آپ ؓ اذان دینے کے لیے آمادہ نہ ہوئے ۔تو لوگ نبی کریم ﷺ کے نواسے حضرت حسن و حسین ؓ کو بلا لائے اور دونوں  شہزادوں سے سفارش کرائی ۔حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے آ کر حضرت بلال کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : اے چچا جان ہمیں بھی وہ اذان سنائیں جو ہمارے  نانا جان کو سنایا کرتے تھے ۔ سیدنا بلال حبشی نواسہءرسول ﷺ کو انکار نہ کر سکے اور ان کا ہاتھ پکڑ کر مسجد نبوی ﷺ کی چھت پر تشریف لے گئے ۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے  اذان کہنا شروع کر دی ، مدینہ منورہ میں یہ بڑا عجیب اور غم کا وقت تھا۔ حضو ر ﷺ کو وصال فرمائے ایک عرصہ گزر چکا تھا ۔  حضرت بلال کی اذان سن کر لوگ مدینہ منورہ کی گلی کوچوں سے مسجد میں جمع ہونے شروع ہو گئے ۔ پردے والی عورتیں رونے لگیں ۔ بچے اپنی ماؤ ں سے پوچھتے تھے کہ حضرت بلال موذن رسولﷺ تو آ گئے ہیں حضور نبی کریم ﷺ کب تشریف لائیں گے ۔ 
حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے جب” اشھد ان محمد رسول اللہ“ زبان مبارک سے نکالا اور حضور ﷺ کو آنکھوں سے نہ دیکھ سکے تو غم ہجر  میں بیہوش ہو کر گر گئے اور کافی دیر کے بعد ہوش آیا تو روتے روتے واپس ملک شام چلے گئے ۔
جب حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا وقت وفات قریب آیا تو آپ کی زوجہ نے بے قرار ہو کر کہا ہائے رے میری مصیبت ۔جب حضرت بلال ؓ نے یہ سنا تو  آنکھیں اور کھول دیں اور فرمایا واہ رے میری خوشی ۔جو آپ ؓ کی زبان پر آخری کلمات تھے وہ یہ تھے کہ ہم اپنے دوستوں یعنی نبی کریم ﷺ اور صحابہ کریم ؓ سے ملاقات کریں گے ۔ ( احیا ءالعلوم )۔
حضرت سیدنا بلال حبشی رضی اللہ عنہ کا نام اسلام کی تاریخ میں ہمیشہ عزت و احترام سے لیا جائے گا ۔ آپ رضی اللہ عنہ استقامت کے پیکر ، عشق رسول ﷺ کے امین ، اذان کی روح اور اخلاص کے روشن چراغ تھے ۔ حضور نبی کریم ﷺ کی احادیث مبارکہ آپ ؓ کی عظمت کی گواہی دیتی ہیں جنت میں آپ ؓ کے قدموں کی آہٹ ان کی مقبولیت کی دلیل ہے ۔آپ ؓ کی پوری زندگی اس حقیقت کا اعلان ہے جو شخص اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ سے سچی محبت کرتا  ہے اللہ تعالی اسے دنیا و آخرت دونوں میں سر بلند فرماتا ہے ۔

پیر، 13 جولائی، 2026

مؤذنِ رسول ﷺ(۲)

 

مؤذنِ رسول ﷺ(۲)

اتوار، 12 جولائی، 2026

مؤذنِ رسول ﷺ(۱)

 

مؤذنِ رسول ﷺ(۱)

مؤذن ِ رسول ﷺ حضرت سیدنا بلال حبشی کا ذکر زبان پر آتے ہی ایمان تازہ ہوجاتا ہے ،اخلاص کی خوشبو محسوس ہونے لگتی ہے اور وفاداری کی روشن مثالیں نگاہوں کے سامنے آ جاتی ہیں ۔سیدنا بلال حبشی عظیم المرتبت صحابہ کرام ؓ میں سے ہیں ۔آپؓ کو اللہ تعالی نے غلامی کی زنجیروں سے نکال کر ایمان کی آزادی عطا کی اور نبی کریم ﷺ کی قربت کا ایسا شرف بخشا کہ رہتی دنیا تک آپ ؓ کا نام عزت ، استقامت اور عشق رسولﷺ کی علامت بن گیا ۔آپ ؓ کی حیات مبارکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام میں عزت کا معیار رنگ ، نسل ، زبان یا خاندان نہیں بلکہ تقوی ، ایمان اور اخلاص ہے ۔
حلیۃ الا ولیاءمیں ہے کہ آپ ؓ قبیلہ بنی جمح کے غلام تھے ۔آپ کا نام بلال والد کا نام رباح اور والدہ کا نام حمامہ ہے ۔آپ رضی اللہ عنہ مؤذن رسول اور سید المؤذنین کے القابات سے مشہور ہیں ۔ حضور نبی رحمت ﷺ نے ارشادفرمایا بلال ایک اچھے انسان اور مؤذنین کے سردار ہیں ۔( معجم کبیر)۔
آپ ؓ غلاموں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے ہیں ۔شروع میں آپ ؓ نے اپنا اسلام ظاہر نہ کیا اور چھپ کر عبادت کرتے رہے ۔ 
ایک دن امیہ بن خلف کو اس بات کی خبر ہوئی کہ آپ ؓ نے اسلام قبول کر لیاہے تو اسے بہت غصہ آیا اور آپ ؓ کو بلا کر پوچھا کہ تم کس معبود کی عبادت  کرتے ہو؟ آپ ؓ نے بے خوف ہو کر جواب دیا کہ میں حضر ت محمد ﷺ کے خدا کی عبادت کرتا ہوں ۔امیہ بن خلف نے جب یہ سنا تو غصے سے  اس کی آنکھیں لال ہو گئیں اور آپ ؓ سے کہا ان کو چھوڑ دو نہیں تو تجھے ذلت سے ماروں گا ۔ 
آپ ؓ نے جواب دیا کہ تم میرے جسم پر تو زور چلا سکتے ہولیکن میں اپنا دل و جان نبی کریم ﷺ اور ان کے خدا کے پاس رکھ چکا ہوں اور اب اسی کی عبادت کرنا ہی میری زندگی کا مقصد ہے ۔ امیہ بن خلف نے آپ ؓ کو بہت زیادہ تکالیف دیں۔ مکہ مکرمہ کی تپتی ریت پر آپ کو لٹا کر آپ ؓ کے اوپر پتھر رکھ دیتا اور کہتا کہ بول میں لات و عزیٰ کی پوجاکروں گا لیکن آپ ؓ کی زبان سے احد احد کی آوز آتی ۔ (حلیۃالاؤلیاء)۔
حضرت عمر وبن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک روز میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا تو آپ کو تپتی ریت پر لٹا کر سزا دی جا رہی تھی ۔زمین اس قدر گرم تھی کہ اگر اس پر گوشت کا ٹکڑا رکھ دیا جاتا تو وہ بھی پک جاتا ۔ ( سبل الھدی )۔
حضرت بلا ل رضی اللہ عنہ کو دین اسلام سے دور کرنے کے لیے آپ ؓ کے گلے میں رسی ڈال کر بچوں کے حوالے کر دیا جاتا جو آپ ؓ کو مکہ کی گلیوں میں  گھسیٹتے تھے لیکن اس کے باوجود آپ ؓ کی زبان سے احد احد کی صدا بلند ہوتی تھی ۔ ( مصنف ابی شیبہ )۔

اسلام اور انسانی حقوق

  اسلام اور انسانی حقوق اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں عقائد و عبادات اور معاملات کا اپنا ایک مکمل نظام موجود ہے ۔ اسلامی نظام کا سر چش...