ذکر الٰہی کی فضیلت و فوائد (۲)
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ’’نبی رحمتﷺ نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں تمہارے سب سے بہترین عمل کے بارے میں نہ بتاں جو تمہارے مال کو سب سے زیادہ پاکیزہ لگتا ہے ، جو تمہارے درجات بلند کرنے کے لیے سب سے زیادہ مفید ہے، تمہارے لیے سونے اور چاندی کو خرچ کرنے سے بہتر ہے اور تمہارے لیے دشمن سے جہاد اور اپنی جانیں قربان کرنے سے افضل ہے۔ عرض کی گئی یارسول اللہ ﷺ آپ ضرور ارشاد فرمائیں۔ آپﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا ذکر ان تمام اعمال سے بہتر ہے‘‘۔’’حضرت معاذ بن جبل ؓ نے فرمایا کہ اللہ کے ذکر سے زیادہ عذاب الٰہی سے بچانے والی اور کوئی شے نہیں ہے ‘‘۔ ( ترمذی )۔
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر دن اور ہر رات میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر کوئی احسان اورکوئی صدقہ فرماتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے کسی پر اس سے بڑا احسان نہیں کیا جتنا بڑا احسان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کو اپنے ذکر کی توفیق عطا فرما دے۔ (الدعا للطبرانی )۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا جو شخص میرے ذکر میں مصروفیت کی وجہ سے مجھ سے مانگ نہ سکا تو میں اسے وہ نعمتیں عطا فرماتا ہوں کہ وہ سارے مانگنے والے لوگوں سے بڑھ کر ہوتی ہیں۔( شعب الایمان )۔
حضرت ام انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کسی نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی یارسول اللہﷺ مجھے کچھ وصیت فرمائیں۔آپ ﷺ نے فرمایا تم گناہوں کو چھوڑ دو یہ سب سے افضل ہجرت ہے اور فرائض کی حفاظت کرو یہ سب سے بڑا جہاد ہے اور کثرت سے ذکر کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کو کوئی عمل اتنا پسند نہیں جتنا کثرت سے ذکر کرنا پسند ہے۔ ( المعجم الاوسط)۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا آدم کا بیٹا جو وقت بھی گزارتا ہے جس میں وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کرتا وہ قیامت کے دن اس کے لیے حسرت کا باعث ہوگا۔ (شعب الایمان )۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ مکہ کے راستے پر چل رہے تھے تو ایک پہاڑ کے پاس سے گزرے جسے جْمدان کہا جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا چلو اس جْمدان پر بیشک مفردون سبقت لے گئے۔ہم نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ مفردون کون ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کا ذکر کثرت سے کرنے والے مرد اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرنے والی عورتیں۔(مسلم )۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں نبی کریمﷺ نے فرمایا جو کثرت سے ذکر کرتا ہے اللہ اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔ ( الترغیب )۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں