جمعہ، 17 جولائی، 2026

آداب زندگی قرآن کی روشنی میں (۱)

 

آداب زندگی قرآن کی روشنی میں (۱)

قرآن مجید واحد ایسی مکمل اور جامع کتاب ہے جو نہ صرف عبادات میں ہماری رہنمائی کرتی ہے بلکہ ہمیں معاشرے میں رہن سہن کے طور طریقوں کے  حوالے سے مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے ۔ قرآن مجید کی آیات کی روشنی میں معاشرتی زندگی کے آداب جن پر عمل کر کے ہم معاشرے میں بلند مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ارشاد باری تعالی ہے : اے ایمان والو اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں داخل نہ ہو جب تک اجازت نہ لے لو اور ان کے ساکنوں پر سلام نہ کر لو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے کہ  تم دھیان کرو ۔ پھر اگر تم ان میں کسی کو موجود نہ پاؤ تو تم ان کے اندر مت جاؤ یہاں تک کہ تمہیں اجازت دی جائے اور اگر تم سے کہا جائے واپس جاؤ تو  واپس ہو۔ یہ تمہارے لیے ستھرا ہے اللہ تمہارے کاموں  کو جانتا ہے “۔ (سورۃالنور )۔ 
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی فرما رہا ہے کہ جب بھی کسی کے گھر جاؤ تو پہلے اجازت لو اس کے بعد وہاں رہنے والوں کو سلام کرو اور اگر کوئی گھر میں نہ 
ہو تو اس میں داخل نہ ہو اور اگر اجازت طلب کرنے پر اندر جانے کی اجازت نہ ملے تو خاموشی کے ساتھ واپس چلے جاؤ یہی تمہارے لیے بہتر ہے ۔ 
سورۃ بنی اسرائیل میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :” اور میرے بندوں سے کہو کہ وہ بات کہیں جو سب سے اچھی ہو “۔ یعنی جب بھی کسی کے ساتھ گفتگو 
کریں تو نرمی ، شفقت کے ساتھ کریں اور سچی بات کریں ۔ بد زبانی اور سخت لہجہ معاشرے میں فساد کا باعث بنتا ہے ۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ اپنی  گفتگو میں نرمی پیدا کریں اور اسے پاکیزہ رکھیں ۔ 
مجلس کے آداب کے بارے میں اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :” اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں  جگہ دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہو “۔  مجلس میں موجود لوگوں سے مخاطب کرتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا کہ جب کوئی باہر سے آئے تو اسے جگہ دواور اپنی مجالس میں کشادگی پیدا کرو تا کہ  زیادہ لوگ شامل ہو سکیں جب تم دوسروں کو جگہ دو گے تو اللہ تعالی تمہیں اس سے بہتر جگہ دے گا ۔ 
تواضع و انکساری اللہ تعالی کو بہت پسند ہے اور اس سے معاشرے میں بھی بندے کی عزت میں اضافہ ہوتا ہے ۔ سورۃ بنی اسرائیل میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : ” اور زمین میں اتراکرنہ چلو بیشک تو ہر گز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہر گز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا “۔ 
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی اپنے بندوں کو حکم دے رہا ہے کہ عاجزی و انکساری اختیار کرو ۔ اللہ تعالی کو غرور اور تکبر کرنے والا شخص پسند نہیں ۔ ایک سچا  اور کامل مومن وہ ہی ہے جو اپنے مقام و مرتبہ کو پہچانتے ہو ئے صرف اللہ تعالی کے سامنے جھکے اور زمین پر اکڑ نہ چلے ۔  اگر کوئی شخص کسی کے پاس اپنی کوئی چیز امانت کے طور پر رکھے تو اس میں خیانت نہ کرنا بھی زندگی کے آداب میں سے ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:”بیشک 
اللہ تمہیں حکم دیتا ہے امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو “۔ (سورۃ النساء)۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

آداب زندگی قرآن کی روشنی میں (۱)

  آداب زندگی قرآن کی روشنی میں (۱) قرآن مجید واحد ایسی مکمل اور جامع کتاب ہے جو نہ صرف عبادات میں ہماری رہنمائی کرتی ہے بلکہ ہمیں معاشرے ...