ہفتہ، 18 جولائی، 2026

آداب زندگی قرآن کی روشنی میں (۲)

 

آداب زندگی قرآن کی روشنی میں (۲)

قرآن مجید میں اللہ تعالی نے مسجد کے آداب بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ”اور یاد کرو جب ہم نے اس گھر کو لوگوں کے لیے مرجع و امان بنایا اور ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ اور ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم اور اسماعیل کو کہ میرا گھر خوب ستھرا کرو طواف والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع و سجود والوں کے لیے “۔ ( سورۃ البقرہ )۔ مسجد اللہ تعالی کا گھر ہے ۔ اس آیت سے ایک بات تو یہ بات پتہ چلی کہ نماز مسجد میں باجماعت ادا کرنی چاہیے اور دوسری یہ کہ اللہ تعالی کے گھر کو صاف ستھرا  رکھنا چاہیے تا کہ وہاں آ کر اللہ تعالی کی عبادت کرنے والو ں کو کوئی پریشانی یا تکلیف نہ ہو ۔  قرآن مجید میں اللہ تعالی نے والدین اور دوسروں کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرنے کا حکم فرمایا ہے اور یہ معاشرتی آداب میں بہت اہمیت کا حامل ہے کہ  ہم اپنے والدین کا ادب و احترام کریں اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں ۔ اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو اور جب وہ بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے سامنے اف تک نہ کہو ۔ 
سورۃ النساءمیں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :” اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کہ نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ سے بھلائی کرو اور رشتہ دارو ں اور یتیموں اور محتاجوں اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے اور کروٹ کے ساتھی اور راہ گیر اور اپنی باندی و غلام سے بے شک اللہ کو پسند نہیں کوئی اترانے والا، بڑائی مارنے والا “۔ 
لوگوں کو عدل و انصاف فراہم کرنا معاشرتی آداب میں سے اہم ترین ہے کیوں کہ عد ل و انصاف کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا اور نہ ہی معاشرے میں امن قائم ہو سکتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ”بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے عدل اور احسان کا “۔ ( سورۃ النحل )۔ 
اسی طرح اگر کسی کے ساتھ عہد کیا جائے تو اس عہد کو پورا کرنا ضروری ہے اور اس کے متعلق بھی برو زقیامت پوچھا جائے گا ۔ ارشاد باری تعالی ہے :” اور  عہد کو پورا کرو بیشک عہد سے سوال ہونا ہے “۔ ( سورۃ بنی اسرائیل )۔ 
معاف کرنا اور در گزر کرنا ایک ایسا عمل ہے جس سے نہ صرف بندے کی عزت و احترام میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معاشرہ بھی امن و سلامتی کا گہوارہ بن جاتا  ہے اور اللہ تعالی بھی ڈھیروں اجرو ثواب عطا فرماتا ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے :”اور برائی کا بدلہ اسی کی برائی ہے تو جس نے معاف کیا ور کام سنوارا تو اس کا اجر اللہ پر ہے بیشک وہ دوست نہیں رکھتا ظالموںکو “۔ ( سورۃ الشورٰی )۔
اس کے علاوہ حیا و پاکدامنی اور بے جا تجسس اور غیبت سے اجتناب کرنا بھی معاشرتی آداب میں سے ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :” اور مومن مردوں  سے کہہ دو کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں“۔ ( سورۃ النور )۔
سورۃ الحجرات میں اللہ تعالی فرماتا ہے :اور ایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ لگے رہو اور نہ ہی ایک دوسرے کی غیبت کرو “۔  اگر ہم قرآن مجید کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق زندگی بسر کریں تو اللہ تعالی ہمیں دنیا و آخرت میں سرخرو کرے گا اور معاشرہ بھی امن کا گہوارہ  بن جائے گا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

آداب زندگی قرآن کی روشنی میں (۲)

  آداب زندگی قرآن کی روشنی میں (۲) قرآن مجید میں اللہ تعالی نے مسجد کے آداب بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ”اور یاد کرو جب ہم نے اس گھر ک...