بدھ، 30 ستمبر، 2026

ملازمین کے ساتھ حسن سلوک

 

ملازمین کے ساتھ حسن سلوک

انسان جب اپنے ہم مرتبہ لوگوں سے بات چیت کرتا ہے تو اخلاقی قدروں کو ملحوظ خاطر رکھتا ہے اور جب اپنے ماتحت لوگوں سے معاملہ کرتا ہے تو ان کو اپنے سے کم تر سمجھتا ہے اور تمام اخلاقی قدروں کو پامال کر دیتا ہے ۔  اور اس کی عزت و نفس کا بھی خیال نہیں رکھتا ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے اپنے ماتحت لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیا ۔اور اپنے سے بڑے اور چھوٹے سب کے ساتھ ایک جیسے معاملات رکھنے کا حکم  فرمایا۔
حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں اپنے غلام سے کسی بات پر ناراض ہو گیا اور اسے درّے سے مارنے لگا ۔ اتنے میں میرے پیچھے سے آواز آئی ۔ اے ابو مسعود جان لو ! مگر میں شدید غصے کی وجہ سے آواز پہچان نہ سکا جب آواز دینے والا میرے قریب آ گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ رسول کریم ﷺ ہیں اور آپ فرما رہے تھے ۔ اے ابو مسعود ! جان لو تمہیں اس غلام پر قابو حاصل ہے اس سے زیادہ قابو اللہ تعالی کو تمہارے اوپر حاصل ہے ۔
یہ سن کر میرے ہاتھ سے کوڑا گر گیا اور میں نے کہا کہ میں کبھی اس غلام کو نہیں ماروں گا ۔ میں اس غلام کو اللہ کے  لیے آزاد کر تا ہوں ۔ یہ سن کر حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں اگر تم ایسا نہ کرتے تو تمہیں آگ چھو لیتی ۔ ( جامع الاصول) ۔
حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضور  ﷺ سے پوچھا ہم ملازم کو ایک دن میں کتنی بار معاف کر دیا کریں ۔ آپ ﷺ خاموش رہے اس نے دوسری مرتبہ پوچھا آپ ﷺ خامو ش رہے ۔ اس نے پھر  یہ ہی سوال پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا اسے ہر روز ستر مرتبہ معاف کر دیا کرو ۔ ( ابی داؤد ) ۔
حضور نبی کریم ﷺ نے غلاموں کے متعلق ارشاد فرمایا : وہ تمہارے بھائی ہیں جنہیں اللہ تعالی نے تمہارے ماتحت کر دیا ہے ۔ تو جس کے ماتحت اس کا بھائی ہو اسے چاہیے کہ جو خود کھاتا ہے اسے بھی وہ ہی کھلائے جو خود پہنتا ہے اس کو بھی پہنائے ۔ اور اس سے اس کی طاقت سے زیادہ کوئی کام نہ کروائے ۔ اگر اسے کوئی ایسا کام کہہ دے تو خود بھی اس کی مدد کرے ۔
 آخری ایام میں حضور  ﷺ نے نماز کے ساتھ ماتحت لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین فرمائی ۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ جس وقت آپ ﷺ کا وصال ہوا تو آپ ﷺ آخری دم تک یہی فرما رہے تھے اے لوگو ! نماز کا خیال رکھنا اور اپنے غلاموں کا خیال رکھنا  ( ابن ماجہ ) ۔

منگل، 29 ستمبر، 2026

شیخ عبد القادر جیلانی محبوب سبحانی ؒ(۳)

 

شیخ عبد القادر جیلانی محبوب سبحانی ؒ(۳)

آپ ؒ کو جو ہدیہ یا تحائف پیش کیے جاتے ان کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے ۔جو ہدیہ آپ ؒ کی خدمت میں پیش ہوتا وہ اسی وقت حاضرین میں  تقسیم کر دیا جاتا اور ہدیہ دینے والے کو خود بھی کچھ دیتے اور فرماتے کہ یہ حضور ﷺ کی سنت مبارکہ ہے کہ جو کچھ آپ کو دیا جائے اس  سے بہتر کچھ دیا جائے ۔ آپ ؒ کے لیے تیسرے پہر چار روٹیاں لائی جاتیں تو آپ ان میں سے ایک ایک ٹکڑا حاضرین کو دیتے اور پھر  جو کچھ بچتا وہ خود کھا لیتے ۔ 
آپ ؒ کسی امیر کی تعظیم میں کھڑے نہیں ہوتے تھے اور نہ ہی کسی امیر کے در پر جاتے تھے ۔ آپ ؒ کے پاس خلیفہ آتا تو آپ کے ہاتھ چومتا اور ادب سے دست بستہ آپ ؒ کے سامنے بیٹھ جاتا اور آپ ؒ ا س سے بے باکی سے گفتگو فرماتے ۔ شیخ ابو المظفرمنصور لکھتے ہیں کہ حضور غوث اعظم ؒ سے بڑھ کر میں نے کسی کو خوش خو ، مہربان ، کریم النفس ، حوصلہ والے ، وعدہ وفا اور دوستی  نبھانے والا نہیں دیکھا ۔ آپ ؒ کی مجلس میں رعب ایسا تھا کہ کسی کو دم مارنے کی مجال نہ ہوتی اور سکون ایسا کہ خدمت میں حاضر ہونے  والے باہر کی تمام فکریں بھول جاتے ۔ 
آپ ؒ بہت سخی ، مسکین نواز تھے ، مہمانوں اور خاص طور پر غرباء و مساکین کے ساتھ بیٹھ کر کھانا تناول فرماتے ۔ ان کے ساتھ اخلا ص و محبت کے ساتھ بات چیت کرتے ۔ان کی بُرائیوں کو چھپاتے اور اچھائیوں کی تعریف کرتے ۔ آپ ؒ خوش اخلاق اور مستجاب الدعوات تھے ۔ 
آپ ؒ کی زبان سے کبھی فحش گوئی اور بے ہودہ کلام نہ نکلا اور نہ ہی کسی کو آپ ؒ کے سامنے فحش گوئی کی جرات ہوتی ۔ اللہ تعالی کے احکام کے برعکس  کوئی کام ہوتا دیکھتے تو اسے نرمی سے سمجھاتے ۔کوئی بھی سائل آپؒ کے دربار سے خالی نہ جاتا اور مانگنے والا جو کچھ مانگتا آپ ؒ عطا فرماتے ۔
 آپ ؒ نے فرمایا پیر وہ ہے جس کو ظاہری شریعت کا علم ہو ، وہ علم حقیقت جانتا ہو ، اپنے پاس آنے والوں کے ساتھ عمدگی اور خندہ پیشانی سے ملتا ہو ، مسافر کو کھانا کھلاتا ہو ، غرباء اور بے حیثیت لوگوں کے ساتھ قول اور فعل دونوں میں عجز و انکساری کے ساتھ پیش آتاہو اور مریدین کی باطنی تربیت اورتعلیم کی لیاقت رکھتا ہو ۔اور خود بھی ریاء ، حسد ، طمع ، خود بینی ، غفلت اور عیش طلبی سے پاک ہو ۔  حضور غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی شان کسی ایک لقب ، ایک واقعے یا ایک کرامت میں محدود نہیں کی جاسکتی ۔بغداد کی سرزمین پر آپ ؒ نے  ایسا اثر چھوڑا جو صدیوں گزرنے کے باوجود دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں میں زندہ ہے ۔

پیر، 28 ستمبر، 2026

شیخ عبد القادر جیلانی محبوب سبحانی ؒ(۲)

 

شیخ عبد القادر جیلانی محبوب سبحانی ؒ(۲)

حضور غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے ابتدائی تعلیم گھر میں حاصل کی اور قرآن مجید حفظ و ناظرہ بھی والدین سے پڑھا۔اس کے بعد آپ ؒ کے  والدین نے آپ کو جیلان کے ایک مدرسہ میں داخل کرا دیاجہاں آپ نے اٹھارہ برس تک تعلیم حاصل کی ۔مزیدحصول علم کے لیے آپؒ  بغداد تشریف لے گئے ۔ بغداد شریف پہنچنے کے بعد مدرسہ نظامیہ میں داخلہ لیا ۔ آپ نے ہر علم اس کے ماہر و باکما ل استاد سے پڑھا ۔ علم  میں کمال مہارت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ آپ عبادت وریاضت میں بھی مشغول رہے ۔  ظاہری علوم سے فارغ ہونے کے بعد آپؒ نے سکون قلب حاصل کرنے کے لیے کامل روحانی استاد و عارف کی تلاش شروع کر دی ۔ اللہ تعالی نے آپ کی دعا کو قبول فرمایا اور آپ کو حضرت شیخ حماد بن مسلم ؒسے ملا دیا ۔ حضرت شیخ حمادؒ  کی صحبت سے ملنے والے فیض نے آپؒ  کے دل میں عشق الہی کو خوب بھڑکا دیا ۔  آپؒ نے شیخ حماد ؒ سے فیض یاب ہونے کے بعد گوشہ نشینی اختیار کر لی اور مسلسل 12 سال تک ذ کر الہی میں مشغول رہے ۔ آپ نے حضرت شیخ ابوسعید مخزومی رحمۃ اللہ علیہ کے دست اقدس پر بیعت کی ۔ مرشد نے آپ  ؒ کو خلافت کی اجازت دی اورولایت کا تاج آپؒ کو عطا فرمایا ۔
 پھر اپنے مدرسے میں صدر المدرسین مقرر کیا اور خود گوشہ نشینی اختیار کر لی ۔   آپؒ نے عوام میں وعظ و نصیحت شرو ع کی اور سننے والوں پر گہرا اثر ہونے لگا ۔ گناہوں سے آلودہ دل صاف ہونے لگے ۔ آپ کو اللہ تعالی نے ایسی مقبولیت عطا کی کہ مدرسہ کی عمارت سامعین کے لیے کم پڑنے لگی اس کے بعد آپ نے عید گاہ میں وعظ و نصیحت شروع کی لیکن وہ جگہ بھی کم پڑ گئی ۔ اس کے بعد آپ کا منبر کھلے میدان میں  لگایا گیا جہاں کثیر تعداد میں لوگ آپ کا وعظ سننے کے لیے آتے ۔ آپؒ لوگوں کو محض  ظاہری عبادات کی طرف نہیں بلاتے تھے بلکہ دل کی بیماریوں خود پسندی ، بغض ، کینہ ،حرص و لالچ ، تکبر اور دنیا پرستی سے نجات کی طرف بھی متوجہ کرتے تھے ۔ 
آپ کی مجلس میں امراء ، فقراء ، درویش ، صوفی سلاطین ، علماء و مشائخ الغرض ہر طبقہ کے لوگ شامل ہوتے یہاں  تک کہ یہودی و نصاری بھی مستفید ہوتے تھے ۔آپ کا وعظ ربانی الہامات کا سمندر اور معرفت کی تفسیر ہوتا۔
صوفیا ء میں جو مقام و مرتبہ شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کو حاصل ہے وہ کسی اور کو حاصل نہیں ۔ ہر سلسلہ کے صوفیا اور ارادت مندوں میں آپؒ  کی وہ عقیدت و محبت پائی جاتی ہے جس کا تصور بھی نہیں ۔ اس کی وجہ وہ اخلاص اور للہیت ہے جس سے انہوں نے حضور نبی کریم ﷺ  کے دین کی خدمت کی 

اتوار، 27 ستمبر، 2026

شیخ عبد القادر جیلانی محبوب سبحانی ؒ(۱)

 

شیخ عبد القادر جیلانی محبوب سبحانی ؒ(۱)

اللہ تعالی نے ہر دور میں ایسے بندوں کو پیدا فرمایا ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں ایمان ، تقوی ، اخلاص ، عبادت اور خدمت خلق سے  مزین کیں ۔یہ خوش نصیب ہستیاں اولیا ءاللہ کہلاتی ہیں ۔یہ وہ ہستیاں ہیں جنہوں نے دنیا میں رہتے ہوئے اپنی زندگی کو آخرت کی کامیابی کے لیے وقف کر دیا ۔ان کی گفتگو میں خیر ، کردار میں پاکیزگی ، معاملات میں دیانت ، دل میں خوف خدا اور زندگی میں اتباع رسول ﷺ نمایاں ہوتی ہے ۔ اللہ تعالی کے یہ مقبول بندے دنیاوی نمود و نمائش کے بجائے اللہ تعالی کی رضا کو اپنی زندگی کا  مقصد بناتے ہیں ۔ان کی عظمت کسی ظاہری منصب ، دولت یا شہرت کی محتاج نہیں ہوتی بلکہ ان کا اصل مقام ایمان ، تقوی ، اخلاص، اطاعت الہی، مخلوق خداسے محبت اور خیر خواہی ، دنیا کی محبت سے بے رغبتی اور آخرت کی فکر سے متعین ہوتا ہے ۔
ولی کے لغوی معنی دوست ، مددگار اور قریب ہونے والے کے ہیں ۔ شریعت کی اصطلاح میں ولی وہ شخص ہے جو ایمان اور تقوی کی دولت سے مالامال ہو ، اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لے ۔ارشاد باری تعالی ہے : ”سن لو،  بیشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم ۔ وہ جو ایمان لائے اور پرہیز گاری کرتے ہیں “۔ ( سورۃ یونس)۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت مبارکہ کی تفصیل میں فرماتے ہیں اولیا ءاللہ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو دیکھ کر اللہ تعالی کی یاد  آئے ۔جیسا کہ حضور نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے اللہ تعالی کا ولی وہ ہے جسے دیکھ کراللہ تعالی یاد آ جائے ۔( کنزالعمال )۔
حضور غوث اعظم  رحمۃ اللہ علیہ بھی انہی عظیم ہستیوں میں سے ہیں جن کی ذات علم و عمل ، زہد و تقوی ، اخلاص و عبادت اور محبت و اصلاح کا حسین امتزاج ہے۔
سیدنا غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ ۴۷۰ ہجری کو عراق کے شہر جیلان میں پیدا ہوئے ۔ آپ کی شخصیت اور علمی و  روحانی کمالات کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ آپ کے والد ماجد سیدنا ابو الصالح موسی جنگی دوست رحمۃا للہ علیہ بہت بڑے عالم و عارف اور  اکابر مشائخ میں تھے ۔ آپ کے والد زہد و تقوی اور روحانی اور علمی کمالات کے مالک تھے ۔آپ کے والد ماجد نفس کشی اور ریاضت شرعی  میں فرد واحد تھے ۔آپ کی والدہ ماجدہ نہایت پرہیز گار اور علوم ظاہری و باطنی سے مرصع و مرقع تھیں ۔ آپ قرآن پاک کی حافظہ اور بہت زیادہ عبادت گزار تھیں ۔

ہفتہ، 26 ستمبر، 2026

حکما ءکے اقوال

 

حکما ءکے اقوال

حضرت شفیق زاہد رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے منقول ہے کہ فقراءکو تین چیزیں پسند ہیں اور اغنیا ءکو بھی  تین چیزیں پسند ہیں ۔ فقراءنے راحت نفس ، دل کا فراغ اور ہلکے حساب کو اختیار کیا ہے  جبکہ امراءنے مشقت نفس کو پسند کیا ہے ، دل کی الجھن کو پسند کیا ہے اور شدت حسب کو پسند کیا۔ حضرت حاتم زاہد سے روایت ہے کہ جو شخص چار چیزوں کے بغیر چار چیزوں کا دعوی کرتا ہے تو وہ  جھوٹا ہے ۔  وہ شخص جو اللہ تعالی کی محبت کا دعوی کرتا ہے مگر حرام سے نہیں بچتا ہے ۔ وہ شخص جو اللہ تعالی کی اطاعت میں مال خرچ کیے بغیر جنت سے محبت کا دعوی کرتا ہے ۔ وہ شخص جو فقراءاور  مساکین کے ساتھ نہیں بیٹھتا اور بلندی درجات کا دعویٰ کرتا ہے ۔
جس شخص میں یہ چار باتیں ہوں وہ تما م بھلائیوں سے محروم ہو گا ۔ جو شخص اپنے نیچے کام کرنے والوں  پر سختی کرتا ہے ۔  والدین کا عاق شدہ۔ یعنی جس نے والدین کو گھر سے نکال دیا ہو اور ان کا نا فرمان ہو ۔
وہ شخص جو غربا ءکو اپنے سے کمتر سمجھتا ہو ۔ اور وہ شخص جو مساکین کا ان کی غربت کی وجہ سے مذاق اڑاتا ہو، ان کو شرمندہ کرتا ہو ۔
حضور نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے مجھے یہ حکم نہیں دیا ہے کہ میں مال جمع کروں اور تاجروں  میں شمار ہو ں بلکہ ارشاد باری تعالی ہے :” اپنے پروردگار کی تسبیح و تمحیدکرو اور ساجدین میں سے ہو جاؤ اور آخروقت تک اپنے پروردگار کی عبادت کرو “۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ : اے لوگو تنگ دستی اور فاقہ کی وجہ سے  رزق حرام کی کوشش نہ کرو۔ میں نے نبی کریم ﷺ کی زبان مبارکہ سے سنا ہے کہ اے اللہ مجھے فقیری  میں موت دینا اور تو نگری میں نہیں اور مجھے مساکین میں اٹھانا کیونکہ سب سے بڑا بد نصیب وہ  شخص ہے جس پر دنیا کا فقر اور آ خرت کا عذاب جمع ہو جائے ۔ روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس قادسیہ سے مال غنیمت آیا۔ آپ اسے الٹا سیدھا کر کے دیکھتے رہے اور روتے رہے۔ تب حضرت عبدالرحمان بن عوف  رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا اے حضرت آج تو خوشی کا دن ہے اور آپ رو رہے ہیں۔ فرمایا تونے  صحیح کہا مگر یہ مال جس قوم کے پاس آجاتا ہے ان میں دشمنی اور بغض پیدا ہو جاتا ہے ۔ اللہ تعالی کو سب سے زیادہ فقراءپسند ہیں ۔ اور تمام انبیاء علیہم السلام نے فقر کو پسند کیا ۔

جمعرات، 24 ستمبر، 2026

قرآن اور انسانی نفسیات

 

قرآن اور انسانی نفسیات

 قرآن مجید میں صرف عبادات کاہی ذکرنہیں بلکہ انسان کے ظاہر کے ساتھ اس کے باطن مثلاً احساسات، جذبات رجحانات اور نفسانی  کیفیات کا بھی کامل اور بھرپور طریقے کے ساتھ تجزیہ پیش کرتا ہے ۔
انسان کی شخصیت میں ایک نمایا ں پہلو خوف ہے جس کی وجہ سے انسان کی توجہ روز مرہ کے معاملات سے ہٹ جاتی ہے ۔سورۃ البقرہ  آیت ۱۵۵ میں ارشاد باری تعالی ہے :’’اور ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو ‘‘  لیکن اگر انسان خوف کے مقابلے میں توکل علی اللہ اور صبر کو اختیار کرے تو اس خوف سے نجات حاصل کر کے اپنے معاملات کو احسن طریقے سے سر انجام دے سکتا ہے ۔  حرص اور طمع انسان کی فطرت میں شامل ہے ۔انسان کی دنیاوی محبت اور لالچ کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے ۔سورۃ الفجررآیت ۲۰ میں
 ارشادباری تعالی ہے:’’ اور میراث کا مال ہپ ہپ کھاتے ہو ۔ اور مال کی نہایت محبت رکھتے ہو ‘‘۔ یہی دنیاوی مال کی محبت اور حرص انسان کو حسد ،خود غرضی اور ناانصافی کی طرف لے جاتا ہے ۔جس کی وجہ سے پورے معاشرے کا امن و امان خراب ہو جاتا ہے ۔ اسی لیے اسلام ہمیں قناعت ، انفاق فی سبیل اللہ اور زہد و تقوی کی تعلیم دیتا ہے ۔ 
غم اور مایوسی کی وجہ سے انسان بعض اوقات نفسیاتی مریض بن جاتا ہے ۔قرآن مجید میں غم اور مایوسی کا علاج پیش کیا گیا ہے کہ ’’ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو‘‘ جب انسان کا اللہ کی رحمت پر پختہ یقین ہو جاتا ہے تو وہ ڈپریشن اور احساس محرومی سے نجات حاصل کر لیتا ہے ۔  حسد ایک خطرناک بیماری ہے۔ اس سے انسان کی نیکیاں ختم اورگناہوں میں اضافہ ہوتا ہے ۔اور حاسدین کے حسد سے پناہ مانگنی چاہیے۔
 ارشاد باری تعالی ہے : ’’ اور حسد والے کے شر سے جب وہ مجھ سے جلے ‘‘۔حسد انسان کے دل کو کالا اور زندگی کو بے سکون کر دیتا ہے ۔  اس کا علاج قناعت اور دوسروں کی چیزوں کو دیکھ کر جلنے کی بجائے اللہ تعالی کی دی گئی نعمتوں پر شکر ادا کرنا ہے ۔
خود پسندی اور تکبر بھی انسان کی فطرت میں ہے لیکن یہ اللہ تعالی کو سخت نا پسند ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے :بیشک اللہ کو نہیں بھاتا کوئی  اتراتا فخر کرتا ‘‘۔ اسلام انسان کو عاجزی و انکساری ، تواضع و حلم اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے۔ 
قرآن مجید انسان کو صبر اور شکر کی تلقین کرتا ہے ۔یعنی جب کسی مشکل میں ہو تو صبر کرے کیوں کہ صبر والوں کے لیے اجر عظیم ہے اور  جب اللہ کی نعمت ملے تو شکر کرے کیوں کہ شکر کرنے سے اللہ اور دیتا ہے ۔ اگر ہم قرآن مجید کی ان تعلیمات پر عمل کریں تو زندگی پُر سکون اور گناہوں سے پاک ہو جائے ۔

بدھ، 23 ستمبر، 2026

باطنی بیماریا ں اور ان کا علاج

 

باطنی بیماریا ں اور ان کا علاج

آج کے دور میں انسان اپنی جسمانی بیماریوں کا علاج تو بڑی فکر اور بہترین ڈاکٹر سے کرواتا ہے اور انسان ظاہری لباس ، جسمانی فٹنس پر تو بے شمار خرچ کرتا ہے لیکن اپنی باطنی بیماریوں کا علاج نہیں کرتا جو اسے اندر سے کھوکھلا کر رہی ہوتی ہیں ۔ باطنی بیماریوں کا علاج اللہ تعالی نے آج سے چودہ سوسال پہلے ہی قرآن مجید میں بیان کر دیا تھا ۔ارشاد باری تعالی ہے :”ان کے دلوں میں بیماری ہے تو اللہ نے ان کی بیماری اور بڑھائی اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے بدلہ ان کے جھوٹ کا “۔( البقرۃ)
اس بیماری سے مراد منافقت ہے یعنی انسان زبان سے تو کچھ کہتا ہے لیکن اس کے دل میں کچھ اور ہوتا ہے ۔ 
سورۃ النساءمیں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :” لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا “۔ ( سورۃ النساءآیت۴۵)
یہ وہ بیماریاں ہیں جو انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہیں ۔یہ بیماریاں انسان کے ایمان اور روحانی زندگی کے لیے زہر قاتل ہیں ۔حسد ، کینہ اور ریاءکاری جیسی بیماریاں انسان کے اعمال کو برباد کر دیتی ہیں اور اسے معلوم تک نہیں ہوتا اور بندے کا تعلق اللہ سے کٹ جاتا ہے ۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید کو بیماریوں سے شفاءحاصل کرنے والا بنایا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے : ” اور ہم قرآن میں اتارتے ہیں وہ چیز جو ایمان والوں کے لیے شفاءاور رحمت ہے “۔( سورۃ بنی اسرائیل :آیت ۲۸) اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ان تمام بیماریوں کا علاج بتایا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ” اے ایمان والواللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو “۔ جب انسان سچائی کا راستہ اختیار کرتا ہے تو منافقت اس کے دل سے ختم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح حسد انسان کے نیک اعمال کو ختم کر دیتا ہے اللہ تعالی نے قرآن مجید میں حسد کی بیماری سے بچنے کی دعا بھی سکھائی ہے ۔ ”اور حسدکے شر سے جب وہ مجھ سے جلے “۔ اللہ تعالی کی رضا اور اس کی تقسیم پر راضی رہنے سے بندہ اس خطر ناک باطنی بیماری سے بچ جاتا ہے ۔ تکبرکا علاج تواضع و انکساری اور عاجزی کو اختیار کرنا ہے ۔ عاجزی اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺکوبہت پسند ہے ۔ اسی طرح ریاءکاری کا علاج اخلاص ہے یعنی ہر عمل اللہ تعالی کی رضا کے لیے کیا جائے اور غفلت کا علاج ذکر اور قرآن مجید کی تلاوت کرنا ہے ارشاد باری تعالی ہے :” اور ان جیسے نہ ہوں جو اللہ کو بھلا بیٹھے “ان تمام بیماریوں کا علاج اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ممکن ہے اسی میں ہی ہماری نجات اور کامیابی ہے ۔

منگل، 22 ستمبر، 2026

موانع و مظاہر عجز و انکسار

 

موانع و مظاہر عجز و انکسار

انسانی کردار کی تعمیر میں جن اخلاقی اوصاف کو بنیادی حیثیت حاصل ہے ان میں عجزو انکساری نمایاں مقام رکھتی ہے ۔ یہ وہ عظیم صفت  ہے جو انسان کو غرور و تکبر کی تاریکیوں سے نکال کر اللہ تعالی کی رضا ، بندگان خدا کی محبت اور معاشرتی احترام کی منزل تک پہنچاتی ہے ۔  اسلام نے جہاں ایمان ، عبادات اور حسن اخلاق پر زور دیا ہے وہیں عاجزی اور فروتنی کو ایک کامل مومن کی شناخت قرا ر دیا اللہ تعالی  نے اپنے محبوب بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
”اور رحمن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام“۔ ( سورۃ الفرقان)۔ حضور نبی رحمت ﷺ نے اپنی پوری حیات طیبہ میں اس وصف کو عملی طور پر اس شان سے پیش کیا کہ رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے  بہترین نمونہ بن گیا ۔ آپ ﷺ عظمت و رفعت کے اعلی ترین مقام پر فائز ہونے کے باوجود سادگی ، تواضع ، حلم اور انکساری کا ایسا پیکر 
تھے کہ دوست و دشمن سب آپ ﷺ کے اخلاق کریمانہ کے معترف تھے ۔ 
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :صدقہ ما ل میں کمی نہیں کرتا ۔ معافی مانگ لینے سے اللہ تعالی  عزت میں اضافہ فرماتا ہے اور جو بھی اللہ تعالی کی رضا کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ تعالی اسے سر بلند فرمادیتا ہے ۔ ( ترمذی )۔ حضور نبی کریم ﷺنے فرمایا تواضع انسان کے رتبہ کو بلند کرتی ہے اور تکبر اسے پست کرتا ہے ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی  ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو اپنے مسلمان بھائی کے لیے عاجزی کرتا ہے اللہ تعالی اسے سر بلند کر دیتا ہے اور جو اس پر اپنی برتری  جتاتا ہے اللہ تعالی اسے پست کر دیتا ہے ۔ (الترغیب الترہیب )۔
تمام تر بلندیوں ، عظمتوں ، رفعتوں اور شان کا مالک اللہ تعالی ہے تو پھر بندہ کس وجہ سے احساس برتری میں مبتلا ہو جاتا ہے جب اس کے اختیار میں کچھ نہیں۔
 حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: کبریائی میری چادر ہے اور بڑائی میرا  تہبند ہے جو ان دونوں میں سے کچھ بھی مجھ سےچھینناچاہے گا میں اسے دوزخ میں پھنک دوں گا ۔( مسند احمد )۔ انسان کے اندر تکبر ، غرور ، خود پسندی ، مال و دولت کا گھمنڈ ، علم کی نخوت اور منصب کا زعم وہ عوامل ہیں جو عجز و انکساری اختیار کرنے کی  راہ میں روکاوٹ بنتے ہیں ۔ان رکاوٹوں کو دور کیے بغیر انسان کے اندر عاجزی پیدا نہیں ہو سکتی ۔

پیر، 21 ستمبر، 2026

ایمان اور عمل صالح (۳)

 

 ایمان اور عمل صالح (۳)

سورۃ فاطر میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے بیشک وہ لوگ جو اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے پوشیدہ اور اعلانیہ کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو ہر گز تباہ نہیں ہوگی ۔ تاکہ اللہ انہیں ان کے ثواب بھرپور دے اور اپنے فضل سے اور زیادہ عطا کرے بیشک وہ بخشنے والا قدر فرمانے والا ہے “۔ ایمان اور عمل کا تعلق بنیاد اور عمارت کی مانند ہے ۔ ایمان بنیاد ہے اور عمل اس پر قائم ہونے والی عمارت ہے ۔ اگر بنیاد مضبوط نہ ہو توعمارت پائیدار نہیں رہتی اور اگر عمارت تعمیر نہ کی جائے تو بنیاد کا مقصد مکمل نہیں ہوتا ۔اسی طرح ایمان انسان کونیکی کا مقصد ، سمت اور 
جذبہ فراہم کرتا ہے جبکہ نیک اعمال ایمان کو مضبوط ، پختہ اور مؤثر بناتے ہیں ۔ جب انسان ایمان کے تقاضو ں کے مطابق عمل کرتا ہے تو اس کے اندر نیکی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور گناہوں سے نفرت ہوتی ہے اوراس کا تعلق اللہ تعالی سے مضبوط ہوتا ہے ۔ نماز اسے بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے ، روزہ تقوی پیدا کرتا ہے ، زکوٰۃ مال کی محبت کو اعتدال  بخشتی ہے اور صدقہ دل میں ہمدردی پیدا کرتاہے ۔ لیکن کسی بھی عمل کی ظاہری خوبصورتی کے ساتھ اس کو کرنے کی نیت بھی درست ہونی چاہیے کوئی بھی عمل صرف دکھلاوے کے لیے جائے تو ایسے عمل کی اللہ تعالی کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ اللہ تعالی کے ہاں صرف وہ ہی عمل قابل قبول ہے جو خالص اللہ تعالی کی رضا اور اس کی خوشنودی کے لیے کیا جائے ۔ جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا فرمان عالی شان ہے کہ اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کو وہی کچھ ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہو گی ۔ 
ایمان کاسب سے نمایا ں اثر انسان کے اخلاق اور معاملات میں بھی  ظاہر ہونا چاہیے ۔ اگر کوئی شخص عبادات کا اہتمام کرے لیکن جھوٹ ، خیانت ، ظلم ، تکبر اور بد سلوکی سے نہ بچے تو اسے اپنے ایمان کی کیفیت کا جائزہ لینا چاہیے ۔ 
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مومنوں میں کامل ترین مومن وہ ہے جو سب سے بہتر اخلاق والا ہو اور تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اخلاق میں اپنی عورتوں کے حق میں سب سے بہتر ہو ۔ (ترمذی )
ایمان اور عمل صالح دنیا و آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے : جو اچھا کام کرے مرد ہو یا عورت اور ہو مومن تو ضرور ہم اسے اچھی زندگی جِلائیں گے اور ضرور انہیں ان کا اجر دیں گے جو ان کے سب سے بہتر کام کے لائق ہو ۔ ( سورۃ النحل )

اتوار، 20 ستمبر، 2026

ایمان اور عمل صالح (۲)

 

ایمان اور عمل صالح (۲)

عمل صالح سے مراد ہر وہ نیک عمل ہے جو بندہ اللہ تعالی کی خوشنودی کے لیے اخلاص کے ساتھ اور شریعت کے مطابق انجام دے ۔ نماز پنج گانہ کی ادائیگی ، روزہ ، زکوۃ ، صدقہ و خیرات ، تلاوت قرآن مجید ، والدین کے ساتھ حسن سلوک ، رشتہ داروں سے صلہ رحمی ، سچ بولنا ، امانت ادا کرنا ، مظلوم کی مدد کرنا اور لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا سب عمل صالح کی مختلف صورتیں ہیں ۔ 
عمل صالح صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ انسانی زندگی کے تمام شعبوں  پر محیط ہے ۔ ایک تاجر کو چاہیے کہ وہ ایمانداری سے کاروبار کرے ، استادکا اخلاص کے ساتھ تعلیم دینا ، انصاف کرنا ، مزدور کا محنت سے کام کرنا اور مالک کا اس کو وقت پر مزدوری دینا اورکسی ضرورت  مند کے کام آنا یہ سب عمل صالح ہیں۔ شرط یہ ہے کہ نیت درست اور طریقہ جائز ہو ۔ 
جیسا کہ اللہ تعالی سورۃ الانبیاءمیں ارشاد فرماتا ہے : ” جو کچھ بھلے کام کرے اور ہو ایمان والا تو اس کی کوشش کی بے قدری نہیں۔ اور ہم اسے لکھ رہے ہیں “۔  اس آیت مبارکہ میں بندو ں کو مضبوطی کے ساتھ اللہ تعالی کی اطاعت پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کی گئی ہے ۔ جو بندہ ایمان والا ہو اور عمل  صالح کرے تو اس کو اس کا ضرور اجر دیا جائے گا اور اسے اس کے اجر سے محروم نہیں رکھا جائے گا ۔ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ ہم اس کے عمل  کو اعمال نامے میں لکھ رہے ہیں اور اس میں کچھ کمی نہ ہو گی ۔ ( تفسیر کبیر )۔
 اعمال اسی صورت قبول ہو ں گے جب بندہ ایمان والا ہو گا اگر ایمان نہیں تو پھر کچھ اجر نہیں ملے گا ۔ ایمان والے کے نیک اعمال مقبول  ہوتے ہیں لیکن وہ اعمال نیک نیت اور اللہ تعالی کے حکم کے مطابق کیے جائیں ۔ جیسا کہ سورۃ بنی اسرائیل میں اللہ تعالی فرماتا ہے :  ” اور جو آخرت چاہتا ہے اور اس کے لیے ایسی کوشش کرتا ہے جیسی کرنی چاہیے اور وہ ایمان والا بھی ہوتو یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوشش  کی قدر کی جائے گی “۔ 
سورۃ العصر میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : ” اس زمانہ محبوب کی قسم ۔بیشک آدمی ضرور نقصان میں ہے ۔ مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام  کیے اور ایک دوسرے کو حق کی تا کید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی “۔ 
اس سورۃ میں اللہ تعالی نے انسان کو نجات کے اصول بتائے ہیں ۔ انسان کی عمر جواس کا سرمایہ اور اصل پونجی ہے وہ ہر دم کم ہو رہی ہے  لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور دوسروں کو ایمان اور نیک اعمال کی دعوت دی اور مصیبتوں اور آزمائشوں میں ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی تو یہ لوگ خسارے میں نہیں بلکہ اللہ تعالی کے فضل سے نفع پانے والے ہیں ۔

ہفتہ، 19 ستمبر، 2026

ایمان اور عمل صالح (۱)

 

ایمان اور عمل صالح (۱)

انسان کی ظاہری زندگی اس کے اعمال سے پہچانی جاتی ہے مگر ان اعمال کی اصل قدر و قیمت اس کے دل میں موجود ایمان سے متعین  ہوتی ہے ۔ ایمان دل کا وہ چراغ ہے جو انسان کو حقیقت ِ زندگی سے آشنا کرتا ہے جبکہ عمل صالح اس چراغ کی روشنی کو کردار ، معاملات  اور معاشرت میں نمایا ں کرتا ہے ۔ ایمان اگر دل میں ہو مگر عمل کی صورت میں اس کا اثر دکھائی نہ دے تو اس کی کیفیت کمزور اور دعویٰ بے اثر محسوس ہوتا ہے ۔ 
ایمان سے مراد اللہ تعالی کی ذات و صفات ، اس کی وحدانیت ، فرشتوں ، آسمانی کتابوں ، انبیائے کرام ، یوم آخرت اور تقدیر پر یقین رکھنا  ہے ۔یہ یقین محض زبانی اقرار کا نام نہیں بلکہ دل کی تصدیق ، زبان کے اقرار اور زندگی میں اس کے تقاضوں کو قبول کرنے کا نام ہے ۔
 جب بندہ یہ یقین رکھتا ہے کہ اس کا ہر قول و فعل اللہ تعالی کے علم میں ہے اور ایک دن اسے اپنے اعمال کا حساب دینا ہے تو اس کے رویے  میں ذمہ داری ، احتیاط اور تقویٰ پیداہوتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :  ”ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ کو یاد کرتے ہیں تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان پر اس کی آیتیں پڑھی جائیں ان کا ایمان  اور بڑھ جاتا ہے اور اپنے رب پر بھروسہ کریں “۔ 
اس آیت مبارکہ میں کامل ایمان والوں کی نشانیاں بیان کی گئی ہیں۔ پہلی یہ کہ جب ان کے سامنے اللہ تعالی کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل  ڈر جاتے ہیں ۔تفسیر کبیر میں ہے کہ للہ تعالی کا خوف دو طرح کا ہوتا ہے۔ اللہ تعالی کے عذاب کے ڈر سے گناہوں کو چھوڑ دینا اور اللہ تعالی  کے جاہ و جلال اور اس کی عظمت اور اس کی بے نیازی سے ڈرنا ۔ پہلی قسم کا خوف مسلمانوں میں سے پرہیز گاروں کو ہوتا ہے اور دوسرا خوف انبیاءو مرسلین ، اولیائے کرام اور مقرب فرشتوں کو ہوتا ہے ۔
 ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی رحمت ﷺ نے فرمایا میں تم میں سب سے زیادہ اللہ تعالی سے ڈرنے والا ہوں اور تم سب سے زیادہ اللہ تعالی کی مغفرت رکھنے والا ہوں ۔( بخاری )۔ کتاب الزھد میں ہے کہ ایک دن سیدنا صدیق اکبرؓ نے درخت پر بیٹھے پرندے کو دیکھ کر فرمایا تیرے لیے کتنی بھلائی ہے تو پھل کھاتا ہے  اور درخت پر بیٹھتا ہے۔ کاش میں بھی ایک پھل ہوتا جسے پرندے کھا لیتے ۔
ایک مرتبہ سیدنا فاروق اعظمؓ نے زمین سے ایک تنکا اٹھا کر فرمایا کاش میں بھی ایک تنکا ہوتا ،کاش میں کچھ بھی نہ ہوتا ، کاش میں پیدا نہ ہوا ہوتا ،  کاش میں بھولا بسرا ہوتا ۔ ( کتاب الزھد )۔

جمعرات، 17 ستمبر، 2026

تاجدارِ ختم نبوتﷺ (۱)

 

تاجدارِ ختم نبوتﷺ (۱)

اللہ تعالی نے کسی بھی آسمانی کتاب کی حفاظت کا ذمہ نہیں لیا اور کوئی بھی آسمانی کتاب اپنی اصلی حالت میں موجود نہیں ہے ۔لیکن قرآن مجید واحد آسمانی کتاب ہے جس کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالی نے خود لیا ہے ۔یہی وجہ ہے چودہ سو سال گزر جانے کے باوجود آج ایک زیر زبر میں بھی ردو بدل نہیں ہوا اور نہ ہی قیامت تک ہو گا ۔
قرآن قیامت تک کے لیے حجت اور برہان ہے اور اللہ تعالی نے قیامت تک کے لیے قرآن مجید کو کسی بھی ردو بدل سے محفوظ فرما دیا ہے ۔  اس کا مطلب ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کی نبوت رسالت قیامت تک کے لوگوں کے لیے ہے نا کہ کسی مخصوص طبقے یا دور کے لوگوں کے لیے ۔  ارشاد باری تعالی ہے : ’’بیشک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بیشک ہم خود اس کے نگہبان ہیں ‘‘۔ (سورۃ الحجر )۔  حضرت ابو ہریرہ ؓسے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء کرام علیہم السلام کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے بہت حسین و جمیل ایک گھر بنایا ۔ مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی ، لوگ اس کے گرد گھومتے ہیں اور تعجب سے کہتے  ہیں کہ اس میں یہ اینٹ کیوں نہیں لگائی گئی ۔ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبین ہو ں ( مسلم )۔
حضرت ثوبان ؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ تعالی نے میرے لیے تمام روئے زمین کولپیٹ دیا ہے اور میں نے اس  کے مشرق اور مغرب کو دیکھ لیا ہے اور فرمایا عنقریب میری امت میں تیس کذاب ہوں گے اوران میں سے ہر ایک گمان کرے گا کہ وہ نبی ہے حالانکہ کہ میں خاتم النبین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ ( ابوداؤد )۔
حضرت جبیر بن معطم ؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے متعدد نام ہیں ۔ میں محمد ہوں ، میں احمد ہوں ، میں ماحی ہوں کہ  اللہ تعالی نے میرے سبب کفر کو ختم کیا ۔ میں حاشر ہو ں کیونکہ میرے قدموں پر لوگوں کا حشر ہو گا اور میں عاقب ہوں اور عاقب وہ جس کے بعد کوئی نبی نہیں ۔ ( ترمذی)۔
حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت علی ؓسے فرمایا کیا تم مجھ سے اس پر راضی نہیں  ہوکہ تمہاری اور میری مثال ایسے ہے جیسے حضرت موسی علیہ السلام  اور حضرت ہارون علیہ السلام کی۔ لیکن فرق یہ ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام نبی تھے لیکن میرے بعد کوئی نہیں ۔ (مسلم )۔
عقیدہ ختم نبوت وہ روشن بنیاد ہے جس پر ایمان کی تکمیل ہوتی ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ اللہ تعالی کے آخری نبی اور رسول ہیں اور آپ ﷺ  کی ذا ت اقدس پر سلسلہ نبوت ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے ۔ قرآن و سنت کی یہ قطعی تعلیم ہمیں یہ دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے ایمان کو قرآن مجید کی ہدایت ، عشق مصطفی اور اتباع سنت سے مزین کریں ۔یہی عقیدہ ہماری ایمان کی شناخت بھی ہے اور ہماری عملی زندگی کے لیے روشن  رہنما بھی ۔

بدھ، 16 ستمبر، 2026

سیر ت النبی ﷺ اور حقوق زوجین(۲)

 

سیر ت النبی ﷺ اور حقوق زوجین(۲)

جیسے عورت پر شوہر کی اطاعت لازم ہے ایسے ہی شوہر کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کا احترام کرے اور اس کی تحقیر نہ کرے اور اس کے عزت ونفس کا خیال رکھے اور اس کے حقوق کا خیال رکھے ۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ  حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے لیے اچھا ہے اور میں تم میں سب سے بڑھ کر اپنے گھر والوں سے اچھا سلوک کرتا ہوں ۔ ( سنن ابن ماجہ)۔
ایک مقام پر حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے سب سے کامل ایمان والا وہ ہے جس کا اخلاق اچھا ہے اورجو اپنے گھر والوں کے ساتھ سب سے بڑھ کر نرمی کرنے والا ہے ۔  (شعب الایمان البہیقی)۔
حضور نبی کریمﷺ سے عرض کی گئی یارسول اللہ ﷺ کسی شخص کی بیوی کا اس کے شوہر پر کیا حق ہے تو آپﷺ نے فرمایا:”کہ جب توکھائے تو اسے بھی کھلائے اور جب تو پہنے تو اسے بھی پہنائے اور اس کے چہرے پر نہ مارے اور اگر کسی وجہ سے تعلق ترک کرنا ہو تو صرف گھر میں کرے ۔ ( ابن ماجہ )۔ یعنی کہ مرد پر یہ بات لازم ہے کہ وہ ہر لحاظ سے عورت کے وقا ر کو ملحوظ خاطر رکھے اور کھانے ، پینے اور پہننے میں اپنی بیوی کو اپنے ساتھ شریک کرے۔ 
حضور نبی کریم ﷺکے تمام معاملات وحی الٰہی کے مطابق ہوتے تھے لیکن اس کے باوجود آپ ﷺ اپنی ازواج سے مشورا لیا کرتے تھے اس کو قبول بھی فرمایا کرتے تھے۔ اس کا مقصد ان کے وقار کو بلند کرنا تھا ۔
حضور نبی کریمﷺ کی ازواج میں سے اگر کوئی کسی وجہ سی اظہار ناراضگی کرتی تو آپﷺ اس پر بُرا نہیں مناتے تھے بلکہ اس سے محظوظ ہوتے تھے ۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضور نبی کریمﷺ نے مجھے کہا کہ مجھے پتہ ہوتا ہے کہ  کب تم مجھ سے ناراض ہو اور کب خوش تو میں نے عرض کی آپ کو کیسے معلوم ہوتا ہے ۔آپﷺ نے فرمایا :” جب تم مجھ سے راضی ہو تی ہو تو کہتی ہو مجھے محمد ﷺ کے رب کی قسم اور جب مجھ سے ناراض ہوتی ہو کہتی ہو مجھے ابراہیم  علیہ السلام کے رب کی قسم ۔ تو میں نے عرض کی ہاں یارسو ل اللہ ﷺ میں صرف آپ کا اسم گرامی ہی چھوڑتی ہوں ۔(مسلم)۔یعنی صرف زبان سے ہی نام نہیں لیتی تھی لیکن دل صرف آپﷺ کی محبت سے معمور رہتا تھا۔
 سیرت النبی ﷺ سے ہمیں یہ بات واضح معلوم ہوتی ہے کہ جب میاں بیوی ایک دوسر ے کاادب و احترام ملحوظ خاطر رکھیں گے اور اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کریں گے تو گھر ضرور امن کا گہوارہ بن جائے گا۔

منگل، 15 ستمبر، 2026

سیر ت النبی ﷺ اور حقوق زوجین(۱)

 

سیر ت النبی ﷺ اور حقوق زوجین(۱)

ارشاد باری تعالی ہے :”اور اس کی آرزو نہ کرو جس سے اللہ نے تم میں ایک کو دوسرے پر بڑائی دی مردوں کے لیے ان کی کمائی کا حصہ ہے اور عورتوں کے لیے ان کی کمائی سے حصہ اور اللہ سے اس کا فضل مانگو بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے ۔( سورۃ النساء)۔
معاشرتی مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ میاں بیوی کے باہمی مسائل بھی ہیں جس کی وجہ سے اکثر گھروں کی خوشیاں ماند پڑیرہتی ہیں ۔ لیکن اگر ہم ان مسائل کا حل حضور نبی کریم ﷺ کی سیرت سے تلاش کریں تو یہ مسائل بالکل ختم ہو جائیں اور ہمارے گھر وں اور معاشرے میں خوشیاں پھیل جائیں ۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی تعلیمات اور عمل سے اس بات کو بخوبی واضح فرما دیا ہے کہ گھر کا سربراہ مرد ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے :” مرد عورتوں کے کفیل ہیں اس لیے کہ اللہ نے ان میں ایک کو ایک دوسرے پر فضیلت دی اور اس لیے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا  ہے ۔( سور ةالنساء)۔
اللہ تعالی نے مردوں کو عورتوں کا محافظ بنایا ہے ۔ حضور نبی کریمﷺ نے اس بات کی تاکید فرمائی ہے عورتیں اپنے شوہروں کی  اطاعت کریں کیونکہ جب کسی بھی جگہ سربراہ کی بات نہ مانی جائے تو وہاں کے معاملات بگڑ جاتے ہیں ۔ اور اللہ تعالی کو یہ عمل بہت پسند ہیں کہ عورتیں اپنے خاوند کی اطاعت کریں ۔حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا :”عورت جب پانچ وقت کی نماز پڑھے اور رمضان کے روزے رکھے اور اپنی عفت و عصمت کی حفاظت کرے اور شوہر کی اطاعت کرے تو جنت کے جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہو جائے ۔ (مشکاۃ المصابیح)۔
حضرت قیس بن سعد فرماتے ہیں کہ میں حیرہ گیا تو میں نے دیکھا کہ وہاں کے لوگ اپنے سردار کو سجدہ کر رہے ہیں میں نےسوچا کہ رسول خدا ﷺ اس کے زیادہ حق دار ہیں میں نے واپس آ کر بارگاہ رسول ﷺ میں  حاضر ہو کر ساری بات بتائی تو آپﷺ نے فرمایا :” ایسا نہ کرو اگر میں کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں کیونکہ اللہ تعالی نے مردوں کا عورتوں پر حق رکھا ہے ۔“(سنن ابی داؤد )۔ یعنی کہ اللہ تعالی کے علاوہ کسی کو سجدہ کرنا جائز نہیں۔ لیکن حقیقی اطاعت اللہ تعالی کی ہے اور عورت اپنے شوہر کی صرف اسی بات کو ماننے کی پابند ہوگی جو شریعت مطاہرہ کے مطابق  ہو گی۔ کوئی بھی بات خلاف شریعت ہو گی تو عورت اس کو ماننے کی پابند نہیں ۔

پیر، 14 ستمبر، 2026

موانع و مظاہر عجز و انکسار

 

موانع و مظاہر عجز و انکسار

انسانی کردار کی تعمیر میں جن اخلاقی اوصاف کو بنیادی حیثیت حاصل ہے ان میں عجزو انکساری نمایاں مقام رکھتی ہے ۔ یہ وہ عظیم صفت  ہے جو انسان کو غرور و تکبر کی تاریکیوں سے نکال کر اللہ تعالی کی رضا ، بندگان خدا کی محبت اور معاشرتی احترام کی منزل تک پہنچاتی ہے ۔  اسلام نے جہاں ایمان ، عبادات اور حسن اخلاق پر زور دیا ہے وہیں عاجزی اور فروتنی کو ایک کامل مومن کی شناخت قرا ر دیا اللہ تعالی  نے اپنے محبوب بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
”اور رحمن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام“۔ ( سورۃ الفرقان)۔ حضور نبی رحمت ﷺ نے اپنی پوری حیات طیبہ میں اس وصف کو عملی طور پر اس شان سے پیش کیا کہ رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے  بہترین نمونہ بن گیا ۔ آپ ﷺ عظمت و رفعت کے اعلی ترین مقام پر فائز ہونے کے باوجود سادگی ، تواضع ، حلم اور انکساری کا ایسا پیکر 
تھے کہ دوست و دشمن سب آپ ﷺ کے اخلاق کریمانہ کے معترف تھے ۔ 
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :صدقہ ما ل میں کمی نہیں کرتا ۔ معافی مانگ لینے سے اللہ تعالی  عزت میں اضافہ فرماتا ہے اور جو بھی اللہ تعالی کی رضا کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ تعالی اسے سر بلند فرمادیتا ہے ۔ ( ترمذی )۔ حضور نبی کریم ﷺنے فرمایا تواضع انسان کے رتبہ کو بلند کرتی ہے اور تکبر اسے پست کرتا ہے ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی  ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو اپنے مسلمان بھائی کے لیے عاجزی کرتا ہے اللہ تعالی اسے سر بلند کر دیتا ہے اور جو اس پر اپنی برتری  جتاتا ہے اللہ تعالی اسے پست کر دیتا ہے ۔ (الترغیب الترہیب )۔
تمام تر بلندیوں ، عظمتوں ، رفعتوں اور شان کا مالک اللہ تعالی ہے تو پھر بندہ کس وجہ سے احساس برتری میں مبتلا ہو جاتا ہے جب اس کے اختیار میں کچھ نہیں۔
 حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: کبریائی میری چادر ہے اور بڑائی میرا  تہبند ہے جو ان دونوں میں سے کچھ بھی مجھ سےچھینناچاہے گا میں اسے دوزخ میں پھنک دوں گا ۔( مسند احمد )۔ انسان کے اندر تکبر ، غرور ، خود پسندی ، مال و دولت کا گھمنڈ ، علم کی نخوت اور منصب کا زعم وہ عوامل ہیں جو عجز و انکساری اختیار کرنے کی  راہ میں روکاوٹ بنتے ہیں ۔ان رکاوٹوں کو دور کیے بغیر انسان کے اندر عاجزی پیدا نہیں ہو سکتی ۔

اتوار، 13 ستمبر، 2026

صحت انسانی اور سیرت النبی ﷺ(۳)

 

صحت انسانی اور سیرت النبی ﷺ(۳)

حضور نبی کریم ﷺ نے کھانے پینے میں احتیاط اور اعتدال سے کام لینے کا حکم فرمایا ۔ یعنی کہ نہ ہی اتنا کم کھائیں کہ بھوکے رہ جائیں اور نہ ہی بھوک سے زیادہ کھائیں کہ بیماری کا سبب بن جائے ۔ اگر کھانے پینے میں اعتدال سے کام نہ لیا جائے تو نعمت زحمت بن جاتی ہے ۔ 
ایک دفعہ ایک بادشاہ نے حضور نبی رحمت ﷺ کی خدمت میں ایک حکیم بھیجا کہ وہ وہاں رہ کر لوگوں کا علاج کرے ۔لیکن کافی  عرصہ گزرنے کے باوجود کوئی بھی اس کے پاس علاج کے لیے نہ آیا  تو وہ حکیم آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ  ایک عرصہ گزر گیا ہے لیکن میرے پاس کوئی علاج کے لیے نہیں آیا ۔آپ ﷺ نے فرمایا : میرے صحابہ پر جب تک بھوک حاوی  نہ ہو جائے تب تک کھانا نہیں کھاتے اور جب تھوڑی بھوک باقی رہ جائے تو وہ کھانا چھوڑ دیتے ہیں ۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے بہت زیادہ کھانے سے منع فرمایا ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا مسلمان ایک  آنت سے کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں سے کھاتا ہے ۔ ( موطا امام مالک )۔ 
حضور نبی کریم ﷺ نے زیادہ کھانے کو فتنہ قرار دیا ۔ آپﷺ نے فرمایا : جب کسی قوم کے پیٹ حد سے زیادہ بھر جائیں تو ان  کے جسم موٹے ہو جاتے ہیں ان کے دل کمزور ہو جاتے ہیں اور ان کی شہوتیں سر کش ہو جاتی ہیں ۔ (الترغیب الترہیب )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے زیادہ کھانے کو بیماریوں کی جڑ قرار دیا ۔(احیا ءالعلوم )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے بیماری کی صورت میں علاج کروانے کی ترغیب دی ۔ بیماری کی صورت میں علاج کروانا اللہ تعالی پر توکل کے منافی نہیں بلکہ اللہ تعالی پر توکل رکھ کر ظاہری اسباب اختیار کرنا آپ ﷺ کی سنت مبارکہ ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے بیماری کی صورت میں مایوس ہونے سے منع فرمایا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا بڑھاپے اور موت کے علاوہ اللہ تعالی نے ہر  بیماری کا علاج پیدا کیا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالی نے کوئی ایسی بیماری پیدا نہیں فرمائی جس کا علاج پیدا نہ کیا ہو ۔ (بخاری)۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :اے اللہ کے بندو دوائی لیا کرو کیونکہ اللہ تعالی نے ہر بیماری کی شفا ءپیدا فرمائی ہے مگر  ایک بیماری کی دوائی نہیں پیدا کی۔ وہ بڑھاپا ہے ۔( المعجم الکبیر )۔ ایک روایت میں بڑھاپے کے ساتھ موت کا لفظ بھی آیا ہے یعنی موت اوربڑھاپے کی کوئی دوا نہیں ۔ مسند امام احمد میں ہے آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالی نے جس طرح بیماری پیدا کی اسی طرح اس کی دوا بھی پیدا فرمائی لہذا تم دوا کا استعمال کیا کرو ۔

ہفتہ، 12 ستمبر، 2026

صحت انسانی اور سیرت النبی ﷺ(۲)

 

صحت انسانی اور سیرت النبی ﷺ(۲)

آنکھیں اللہ تعالی کی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور ان کی حفاظت کرنا بہت ضروری ہے ۔حضور نبی کریم ﷺ نے بیماری آنے  سے پہلے اس سے بچنے کے لیے حفاظتی اصول اپنانے کی تلقین فرمائی ۔ سرمہ انسان کی خوبصورتی کا سبب بھی بنتا ہے اور اس  کے ساتھ ساتھ اس کے بہت سے طبی فوائد بھی ہیں ۔ ہمیں حضور نبی کریم ﷺ کی سیرت مبارکہ سے بھی سرمہ استعمال کرنےکا درس ملتا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا اثمد  سرمہ استعمال کرو کیونکہ یہ نظر کو تیز کرتا ہے اوربال اگاتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کی ایک سرمہ دانی تھی جس سے آپ ﷺ رات کو سوتے وقت دونوں آنکھوں میں تین تین سلائیاں ڈالا کرتے تھے ۔ ( ترمذی)۔
 حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اثمد سرمے کا ستعمال کرو کیونکہ یہ بال اگاتا ہے بیماری دور کرتا ہے اور نظر کو صاف کرتا ہے ۔ ( المعجم الکبر للطبرانی )۔
اللہ تعالی کی نعمتوں کو کھانا اوراس پر شکر بجا لانا ضروری ہے لیکن انسان کو کوئی بھی چیز کھانے سے پہلے اس بات کا خیال رکھنا  چاہیے کہ آیا کہ جو چیز وہ کھانے لگا ہے کیا وہ اس کی صحت کے لیے نقصان دہ تو نہیں ۔ ایسا کرنا نا شکری نہیں بلکہ تعلیم نبوی ﷺہے ۔ 
حضرت ام منذر ؓ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ میرے گھر تشریف لائے آپ کے ساتھ حضرت علی ؓ بھی تھے ۔  گھر میں کچی کھجور کے کچھ گھچے لٹک رہے تھے آپ ﷺ اتار کر کھانے لگے تو حضرت علی ؓنے کھانا شروع کر دیا ۔ آپ ﷺ نے حضرت علی کو فرمایا اے علی رک جاؤ تم ابھی بیماری سے صحت یاب ہو ئے ہو ۔ حضرت ام منذرؓ فرماتی ہیں پھرمیں نے   چقندر  اور جو سے بنا کھانا آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا تو آپ ﷺ نے حضرت علیؓ سے کہا اے علی کھاؤ یہ تمہاری صحت کے لیے زیادہ اچھا ہے ۔ ( ترمذی )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے کسی بھی ایسے علاقے میں جانے سے منع فرمایا ہے جہاں کوئی ایسی بیماری پھیلی ہو جس کی وجہ سے  دوسروں کو اس بیماری کے لگ جانے کا خدشہ ہو ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : طاعون ایک عذاب ہے جسے بنی  اسرائیل پر بھیجا گیا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ تم سے پہلے لوگوں پر بھیجا گیا لہذا تم کسی بھی ایسے علاقے میں نہ جاؤ جہاں یہ بیماری پھیلی ہو اور اگر تمہارے علاقے میں طاعون پھیل جائے تو وہاں سے باہر مت جاؤ ۔ (موطا امام مالک )۔ یعنی کسی علاقے میں ایسی بیماری پھیل جائے تو نہ وہاں جاؤ اور نہ ہی وہاں کے لوگ باہر آئیں خود بھی بیماری سے بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں ۔

جمعرات، 10 ستمبر، 2026

صحت انسانی اور سیرت النبی ﷺ(۱)

 

صحت انسانی اور سیرت النبی ﷺ(۱)

اللہ تعالی نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جن کا جتنا بھی شکر بجا لا ئیں کم ہے ۔ اللہ تعالی کی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت صحت و تندرستی ہے اگر انسان صحت مند ہو گا تو اپنے تمام معاملات کو احسن طریقے سے سر انجام دے سکے گا اور اگر صحت  ہی ٹھیک نہ ہو تو کوئی بھی کام کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے جیسے بیمار روح کا علاج کیا اور بتایا اسی طرح آپ ﷺ نے انسان کی صحت کو ٹھیک رکھنے اور احتیاط کرنے کے بہت سے اصول بتائے جن پر عمل کر کے ہم بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔ 
حضور نبی کریم ﷺ کی سیرت مبارکہ سے سب سے پہلا سبق ہمیں یہ ملتا ہے کہ صحت کو خراب کرنے والی چیزوں سے پرہیز کیا جائے ۔ اور کھانے پینے میں ہر لحاظ سے احتیاط سے کام لیاجائے ۔ انسان دن بھر کام کاج میں مگن رہتا ہے اور اس کے ہاتھوں پر طرح طرح کی میل کچیل لگتی رہتی ہے ۔اگر ہم کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ نہ دھوئیں تو یہ سارے جراثیم ہمارے جسم میں جا کر بہت ساری بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں ۔ اس لیے آپ ﷺ نے کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کی تلقین فرمائی ۔ 
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ کھانے کی برکت کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعدوضو کرنے میں ہے ۔ ( ترمذی ) 
ابن ماجہ کی روایت میں ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو بندہ یہ چاہتا ہے کہ اللہ جل شانہُ اس کے گھر میں خیر وبرکت نازل فرمائے اسے چاہیے کہ وہ اس وقت بھی وضو کرے جب کھانا کھائے اور اس وقت بھی وضو کرے جب کھانا اٹھایا جائے۔ اس کے بعد انسانی صحت کے لیے منہ اور دانتوں کی صفائی بھی بہت ضروری ہے کیونکہ انسان کھانا دانتوں سے چبا کر کھاتا ہے اور اگر دانت صاف نہ ہو ں تو مختلف جراثیم کھانے کے ساتھ انسانی معدے میں چلے جائیں گے جو بیماریوں کا سبب بنیں گےاس لیے آپ ﷺ نے بار بار مسواک کرنے کی تلقین فرمائی ۔ 
حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا مسواک کرو کیونکہ مسواک منہ کو صاف رکھتی ہے اور اس سے اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے ۔ پھر فرمایا میرے پاس جبریل امین تشریف لائے انہوں نے مجھے مسواک کرنے کی تلقین فرمائی ۔ یہاں تک کہ میں ڈر گیا کہ مجھ پر اور میری امت پر فرض نہ ہو جائے ۔آپ ﷺ نے فرمایا اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا ڈر نہ ہوتا تو میں ہر نماز کے ساتھ مسواک فرض کر دیتا ۔ (المعجم الکبیر للطبرانی )

منگل، 8 ستمبر، 2026

حضور نبی کریم ﷺ کا رُخ انور

 

حضور نبی کریم ﷺ کا رُخ انور

حضور نبی کریم ﷺ کا رُخ انور اللہ تعالی کے جمال کا آئینہ اور انوار تجلیات کا مظہر تھا ۔ آپ ﷺ کا چہرہ انور نہایت ہی وجیہ، پُر گوشت اور کسی قدر گول تھا ۔ حضرت براء بن عازب ؓ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ کا چہرہ انور تمام لوگوں سے زیادہ خوبصورت تھا اور حضور نبی کریم ﷺ کے خلق بھی تمام لوگوں سے زیادہ دلکش اور زیبا تھے ۔ (بخاری ، مسلم)۔
حضرت جابر بن سمرہ ؓسے فرماتے ہیں کہ میں نے ایک چاندنی رات حضور نبی کریم ﷺ کی زیارت کی ۔حضور نبی کریم ﷺ نے سرخ رنگ کی پوشاک پہنی ہوئی تھی ۔ آپ ؓ فرماتے ہیں میں کبھی حضور نبی کریم ﷺ کے چہرہ انورکو دیکھتا اور کبھی چودھویں کے چاند کو۔ میں کافی دیر دیکھتا رہا ۔ میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ نبی رحمت ﷺ چودھویں رات سے زیادہ دلربا اور خوبصورت ہیں ۔ ( ترمذی )۔
رُخ انور کی تجلی جو قمر نے دیکھی 
                                       رہ گیا بوسہ دہِ نقشِ کفِ پا ہو کر
حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں میں نے آج تک کہیں بھی کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جو حضور نبی کریم ﷺ سے زیادہ حسین ہو ۔ یوں معلوم  ہوتا تھا کہ سورج چہرہ اقدس میں طلوع ہو رہا ہے ۔ ( ترمذی )۔
حضرت کعب ؓ فرماتے ہیں حضور نبی کریم ﷺ جب خوش ہوتے تو آپ ﷺ کا چہرہ انور چمکنے لگتا اور ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے چاند کا ٹکڑا  ہے ۔ ( بخاری )۔
حضرت براء بن عازب ؓ سے مروی ہے آپ سے پوچھا گیا کیا حضور نبی کریم ﷺ کا چہرہ انور تلوار کی طرح تھا ۔حضرت براء ؓنے جواب دیا نہیں بلکہ چاند کی طرح تھا کیونکہ چاند میں روشنی بھی ہے اور گولائی بھی ۔ ( بخاری )۔ ام المئومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں میں رات کے وقت کپڑ ا سی رہی تھیں میری سوئی گر گئی میں نے کافی تلاش کیا لیکن نہ ملی ۔ اتنے میں حضور نبی کریم ﷺ حجرہ مبارک میں تشریف لے آئے ۔ آپ ﷺ کے چہرہ انور کے نور  سے سارا حجرہ روشن ہو گیا اور مجھے سوئی مل گئی ۔ ( ابن عساکر )۔
کئی بار ایسا ہوتا کہ لوگ حضور نبی کریم ﷺ کے چہرہ انور کو دیکھ کر ہی ایمان لے آتے ۔ عبد اللہ بن سلام یہودیوں کا بہت بڑا عالم تھا ۔ وہ بتاتا ہے جب آپ ﷺ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو لوگ آپ ﷺ کی زیارت کے لیے جا رہے تھے۔ میں بھی  چلا گیا کہ زیارت تو کروں ۔ فرماتے ہیں جب وہاں پہنچا تو آپ ﷺ کا چہرہ انور دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا کہ آپ اللہ کے سچے  رسول ہیں اور میں آپ ﷺ پر ایمان لے آیا ۔

پیر، 7 ستمبر، 2026

ادبِ مصطفی ﷺ(۲)

 

ادبِ مصطفی ﷺ(۲)

حضور نبی رحمت ﷺ کی بارگاہ کا تقاضا یہ ہے کہ جب آپ ﷺ بلائیں تو چاہے بندہ نماز کی حالت میں بھی ہو تو فوری حاضر ہو جائے ۔ 
اور اس سے نماز بھی فاسد نہیں ہو گی ۔ارشاد باری تعالی ہے :” اے ایمان والو اللہ اور سول کے بلانے پر حاضر ہو جب تمہیں بلائیں “۔ 
بخاری شریف کی روایت ہے کہ حضرت ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد نبوی میں نماز پڑھ رہا تھا مجھے نبی کریم ﷺ نے بلایا لیکن میں آپ ﷺ کے بلانے پر حاضر نہ ہوا ۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد میں نبی رحمت ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور  عرض کی میں نماز پڑھ رہا تھا ۔حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا اللہ تعالی کا حکم نہیں پڑھا ” اللہ اور رسول کے بلانے پر حاضر ہو جایا کرو “۔ 
سورۃا لنور میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ”رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرا لو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے “۔ (النور )۔
یعنی حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں جب حاضر ہوں یا دور سے حضور نبی کریم ﷺ کو پکارا جائے تو اس طرح نہیں پکارنا چاہیے جیسے تم آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو ۔ 
حضور نبی کریم ﷺ کے گھر ایک دعوت کے موقع پر کچھ لوگ زیادہ دیر بیٹھے رہے اور آپس میں گفتگو کرتے رہے ۔ اس طرح زیادہ دیر  بیٹھے رہنا اللہ تعالی کو پسند نہ آیا کیونکہ یہ بات حضور ﷺ کے لیے باعث تکلیف تھی تو اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا :
”اے ایمان والو نبی کے گھروں میں نہ حاضر ہو جب تک اذن نہ پاؤ مثلاً کھانے کے لیے بلائے جاؤ نہ یوں کہ خود اس کے پکنے کی راہ تکو۔  ہاں جب بلائے جاؤ تو حاضر ہو اور جب کھا چکو تو متفرق ہو جاؤ نہ یہ کہ بیٹھے باتوں میں دل بہلاؤ بیشک اس میں نبی کو ایذا ہوتی تھی تو وہ تمہارا لحاظ فرماتے تھے “۔   ( الاحزاب )۔
صحابہ کرام حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ کا ادب جس قدر بجا لاتے تھے اس کا اندازہ اس حدیث مبارکہ سے لگایا جا سکتا ہے ۔ حضرت مسور بن مخرمہ اور مروان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب عروہ بن مسعود کفار کی طرف سے وکیل بن کر حاضر ہوا تو وہ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ اپنا لعاب پھینکتے تو کوئی نہ کوئی صحابی اسے اپنے ہاتھ میں لے لیتا اور اسے اپنے چہرے پہ ملتا ۔جب آپ ﷺ کوئی حکم فرماتے  تو فوری اس کی تعمیل کرتے ۔جب آپ ﷺ وضو فرماتے تو آپ ﷺ کے وضو کا پانی حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے  جانے کی کوشش کرتے ۔جب آپ ﷺ گفتگو فرماتے تو اپنی آوازیں پست کر لیتے اور انتہائی ادب کے ساتھ گفتگو سنتے ۔ ( بخاری )۔

اتوار، 6 ستمبر، 2026

ادبِ مصطفی ﷺ(۱)

 

ادبِ مصطفی ﷺ(۱)

کائنات میں ایک نام ایسا ہے جس کے ساتھ تاریخ کی عظمت ، انسانیت کی تکمیل ، اخلاق کی بلندی اور رحمت کی وسعت سمٹ آتی ہے ۔  وہ نام نامی اسم گرامی حبیب خدا احمد مجتبی محمد مصطفی ﷺکا ہے ۔آپ ﷺ کا ذکر ہو تو الفاظ اپنی تاثیر کھو دیتے ہیں ، قلم ٹھہر جاتا ہے اوردل بے اختیار عقیدت سے جھک جاتا ہے ۔حضور نبی رحمت ﷺ کی ذات اقدس کے ساتھ ادب کا تعلق کسی رسم ، روایت یا معاشرتی  تہذیب تک محدود نہیں بلکہ یہ ایمان کی روح سے جڑا ہوا ہے ۔ قرآن مجید نے جہاں ایمان ، عبادت اور تقوی کی تعلیم دی وہیں بارگاہ  رسالت ﷺ کے آداب بھی سکھائے ۔
ادب ایک ایسی چیز ہے جو نصیب بدل دیتی ہے ۔ہر بارگاہ کا ایک ادب ہوتا ہے۔ جو اس بارگاہ کا ادب کرتے ہیں اور جو نہیں کرتے ان کا  حال جدا جدا ہوتا ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ کے ادب کا کیا عالم ہوگا جو حبیب خدا بھی ہیں اور وجہ تخلیق کائنات بھی ۔  حضور نبی کریم ﷺ جب صحابہ کرام کے درمیان تشریف فرما ہوتے اور انہیں وعظ و نصیحت فرماتے تو کبھی کبھی صحابہ بات کو سمجھنے کے لیے کہتے  ”راعنا یا رسول اللہ ﷺ “ یعنی ہمارے حال کی رعایت فرمائیں ۔ یہودیوں کی لغت میں راعنا بے ادبی کا معنی رکھتا تھا تو انہوں نے اسی نیت سے بلانا شروع کر دیا ۔تو اللہ تعالی نے حضور نبی رحمت ﷺ کا ادب بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :”اے ایمان والو راعنا نہ کہو اور  یو ں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو “۔ ( سور ة البقرۃ )۔ 
قرآن مجید میں اہل ایمان کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اپنی آوازیں نبی رحمت ﷺ کی آواز سے بلند نہ کرو اور آپ ﷺ کی گفتگو میں وہ انداز  اختیار نہ کرو جو عام لوگوں کے درمیان اختیار کیا جاتا ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے :  ”اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے نبی کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت نہ ہو جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو “۔ ( سورۃ الحجرات )۔
حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ اس قدر نازک بارگاہ ہے کہ ذرا سی آواز بھی اونچی ہو ئی تو سارے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور ہمیں خبر تک نہیں ہو گی ۔ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی تو میں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ میں آپ ﷺ سے سرگوشی کے انداز میں بات کروں گا ۔(کنزالعمال )۔
حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی تو سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا حال یہ تھا کہ آپ ﷺ کی  بارگاہ میں آہستہ سے بات کرتے اور بعض اوقات آپ ﷺ کو بات سمجھنے کے لیے دوبارہ پوچھنا پڑتا کہ کیا کہتے ہو ۔ ( ترمذی )۔

قرآن مجید میں عقل و تدبر کی اہمیت

  قرآن مجید میں عقل و تدبر کی اہمیت قرآن مجید فرقان حمید انسانیت کے لیے ہدایت ، نور اور فلاح کا کامل ذریعہ ہے ۔ اللہ جل شانہ نے جہاں قرآن...