حضور نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارک (۳)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم رؤف الرحیم ﷺ جب مدینہ منورہ کی کسی گلی سے گزرتے تو اس کے بعد وہ راستے میں مشک کی خوشبو پاتے اور کہتے تھے اس راستے سے نبی کریم ﷺ کا گزر ہوا ہے ۔ ( مجمع الزوائد)۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب نبی کریم ﷺ ہماری طرف تشریف لاتے تو ہم آپ ﷺ کی پاکیزہ خوشبو سے پہچان لیتے کہ آپ ﷺ تشریف لا رہے ہیں ۔ ( معجم الاوسط )۔
نبی کریم ﷺ کی آنکھیں بھی نہایت خوبصورت ، کشادہ اور پر کشش تھیں ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک سرمہ دانی تھی جس سے آپ ﷺ اپنی دونوں آنکھوں میں تین تین سلائی سرمہ لگاتے تھے ۔ ( ابن ماجہ )۔
نبی کریم ﷺ اپنی چشمان مبارک میں سرمہ لگاتے تھے لیکن قدرتی طور پر بھی آپ ﷺ کی آنکھیں سرمگین تھیں ۔جیسا کہ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب میں رسول اللہ ﷺ کی طرف دیکھتا تو کہتا کہ آپ کی آنکھوں میں سرمہ لگا ہوا ہے حالانکہ آپ ﷺ کی آنکھوں میں سرمہ نہ ہوتا تھا ۔ ( ترمذی )۔
حضور نبی کریم ﷺ کی بصارت بھی کمال تھی۔ آپ ﷺ جیسے آگے دیکھتے تھے ویسے پیچھے دیکھتے اور جس طرح نزدیک دیکھتے تھے ویسے دور بھی دیکھتے تھے ۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی اور پھر آپ ﷺ منبر پر تشریف لے گئے اور نماز اور رکوع کے متعلق فرمایا، بیشک میں تمہیں اپنے پیچھے بھی ایسے ہی دیکھتا ہو جس طرح تمہیں سامنے دیکھتا ہوں ۔ ( بخاری )۔
صحیح مسلم میں حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ تعالی نے تمام روئے زمین کو میرے لیے سمیٹ دیا تو میں نے اس کے مشارق و مغارب کو دیکھ لیا ۔حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا بیشک میں وہ کچھ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ ( ترمذی)۔
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ کی قسم میں اب بھی اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں ۔ ( بخاری )۔ حضور نبی کریم ﷺ کے حسن و جمال کو صحابی رسول حضرت حسان بن ثابت اس طرح بیان فرماتے ہیں:
و احسن منک لم تر قط عینی
واجمل منک لم تلد لانساء
خلقت مبر اء من کل عیب
کانک قد خلقت کما تشاء
