منگل، 25 اگست، 2026

رحمتِ کونین ﷺ(۱)

 

رحمتِ کونین ﷺ(۱)

کائنات بست و بود میں اللہ تعالی کی بے شمار نعمتیں ہیں مگر نبی کریم ﷺ کا رحمۃ اللعالمین ہونا اللہ تعالی کی ایک عظیم نعمت ہے ۔حضور نبی کریم ﷺ  صرف اہل ایمان کے لیے ہی نہیں بلکہ چرند ، پرند ، حیوانات ، نباتا ت اور جن و انس سب کے لیے رحمت ہیں ۔ ارشاد باری تعالی ہے :  ”اور ہم نے آپ کو تمام جہانو ں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا “۔ ( سورۃ الانبیاء)۔
علامہ سید آلوسی علیہ الرحمہ اس آیت مبارکہ کی تفصیل لکھتے ہو ئے فرماتے ہیں ”حضور نبی کریم ﷺ کا تما م کائنات کے لیے رحمت ہونا اس اعتبار  سے ہے کہ عالم امکان کی ہر چیز کو حسب استعدادجو فیض الہی ملتا ہے وہ حضور نبی کریمﷺ کے واسطے سے ملتا ہے ۔ اسی لیے اللہ تعالی نے حضور نبی  کریم ﷺ کا نور تمام مخلوقات سے پہلے پیدا فرمایا ہے ۔ حدیث مبارکہ میں ہے کہ اے جابر اللہ تعالی نے سب سے پہلے میرے نور کو پیدا فرمایا ۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالی دینے والا ہے اور میں اس کی رحمت کے خزانوں کو بانٹنے والا ہوں ۔ ( روح المعانی )۔
شایاں ہے تجھ کو سرور کونین کا لقب     
نازاں ہے تجھ پہ رحمت اللعالمین کا خطاب
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا رحمت ہونا عام ہے ۔ ایمان والے کے لیے بھی اوران کے لیے بھی جو ایمان نہیں لائے ۔  مومن کے لیے حضور نبی کریم ﷺ دنیا و آخرت دونوں میں رحمت ہیں اور جو ایمان نہیں لائے ان کے آپﷺ دنیا میں  رحمت ہیں ۔کیونکہ اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کی بدولت ان پر دنیا میں آنے والے عذاب کو مؤخر کردیا گیا یعنی ان سے زمین میں دھنسانے کا عذاب ، شکلیں بگاڑدینے کا عذاب اور جڑ سے اکھاڑ دینے کاعذاب اٹھا دیا گیا ۔( خازن الانبیاء)۔
نبی رحمت سرور کونین ﷺ اپنی امت کے دکھ اور تکلیف کو انتہائی شدت سے محسوس فرماتے تھے ۔جیسا کہ سورۃ توبہ میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :  ”بیشک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گِراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر  کمال مہربان اور رحیم۔     
حضور نبی کریم ﷺ یتیموں کے لیے بھی رحمت ہیں ۔ ایک مر تبہ ایک یتیم بچہ حضور نبی کریم ﷺ کے پا س حاضرہوا اور کہا کہ میرے والد کے مرنے کے  بعد ابو جہل نے میرا سارا مال ہڑپ کر لیا ہے اور مجھے کچھ نہیں دیتا ۔ یہاں تک کہ میں اپنا جسم ڈھانپنے کے لیے کپڑوں سے بھی محروم ہوں۔ آپ ﷺ  نے اس بچے کو ساتھ لیا اور ابو جہل کے پاس چلے گئے اور بڑے رعب کے ساتھ فرمایا : اس بچے کا مال اس کو دے دو ۔ ابو جہل میں اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ آپ ﷺ کی بات کو رد کر دیتا اور اس نے اسی وقت یتیم کا مال لا کر اس کو دے دیا ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

رحمتِ کونین ﷺ(۱)

  رحمتِ کونین ﷺ(۱) کائنات بست و بود میں اللہ تعالی کی بے شمار نعمتیں ہیں مگر نبی کریم ﷺ کا رحمۃ اللعالمین ہونا اللہ تعالی کی ایک عظیم نعمت ہ...