شانِ او لیا ءاللہ (۱)
اللہ تعالی نے ہر دور میں ایسے بندوں کو پیدا فرمایا ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں ایمان ، تقوی ، اخلاص ، عبادت اور خدمت خلق سے مزین کیں ۔
یہ خوش نصیب ہستیاں اولیا ءاللہ کہلاتی ہیں ۔ اولیاءاللہ شریعت سے الگ کوئی راستہ اختیار نہیں کرتے بلکہ قرآن و سنت کے سچے پیر وکار ہوتے ہیں ۔ ان کی عظمت کا راز ان کی بندگی ، عاجزی ، خوف خدا اور محبت رسول ﷺ میں پوشیدہ ہے ۔
ولی کے لغوی معنی دوست ، مددگار اور قریب ہونے والے کے ہیں شریعت کی اصطلاح میں ولی وہ شخص ہے جو ایمان اور تقوی کی دولت سے مالامال ہو ، اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لے ۔
خالص ایمان اور مضبوط عقیدہ ، ہر حال میں اللہ تعالی کی اطاعت ، سنت رسول ﷺ کی مکمل پیروی ، عاجزی و انکساری اور حسن اخلاق ، مخلوق خدا سے محبت اور خیر خواہی ، دنیا کی محبت سے بے رغبتی اور آخرت کی فکر اولیا ءاللہ کی صفات ہیں ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ”سن لو بیشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم ۔ وہ جو ایمان لائے اور پرہیز گاری کرتے ہیں “۔ ( سورۃ یونس)۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت مبارکہ کی تفصیل میں فرماتے ہیں اولیا ءاللہ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو دیکھ کر اللہ تعالی یاد آئے ۔
جیسا کہ حضور نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے اللہ تعالی کا ولی وہ ہے جسے دیکھ کراللہ تعالی یاد آ جائے ۔( کنزالعمال )۔ خزائن العرفان میں مفتی نعیم الدین مراد آبادی اس آیت مبارکہ کی روشنی اولیا ءاللہ کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کا ولی وہ ہوتا ہے جو فرائض کی ادائیگی سے اللہ تعالی کا قرب حاصل کرے اور اللہ تعالی کی اطاعت میں مشغول رہے اور اس کا دل اللہ تعالی کے نور جلال کی معرفت میں ڈوباہو، جب دیکھے اللہ تعالی کی قدرت کے دلائل دیکھے ، جب سنے تو اللہ تعالی کی آیتیں ہی سنے،جب بولے تو اللہ تعالی کی ثنا ہی بولے ، جب حرکت کرے اطاعت الہی میں حرکت کرے ، جب کوشش کرے تو اسی کام میں کوشش کرے جو قرب الہی کا ذریعہ ہو ،وہ اللہ تعالی کے ذکر سے نہ تھکے اور چشم دل سے خدا کے سوا غیر کو نہ دیکھے ۔ جب بندے میں یہ صفات آ جاتی ہیں تو اللہ تعالی اس کا ولی و ناصر اورمعین و مددگار ہوتا ہے ۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بہت سے پراگندہ حال ، بوسیدہ لباس والے ایسے ہوتے ہیں کہ لوگ ان سے نظریں پھیر لیتے ہیں لیکن ان کی شان یہ ہے کہ اگر وہ اللہ تعالی پر قسم کھا لیں تو اللہ تعالی ان کی قسم ضرور پوری فرما دیتا ہے ۔ (مستدرک )۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں