شیخ عبد القادر جیلانی محبوب سبحانی ؒ(۳)
آپ ؒ کو جو ہدیہ یا تحائف پیش کیے جاتے ان کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے ۔جو ہدیہ آپ ؒ کی خدمت میں پیش ہوتا وہ اسی وقت حاضرین میں تقسیم کر دیا جاتا اور ہدیہ دینے والے کو خود بھی کچھ دیتے اور فرماتے کہ یہ حضور ﷺ کی سنت مبارکہ ہے کہ جو کچھ آپ کو دیا جائے اس سے بہتر کچھ دیا جائے ۔ آپ ؒ کے لیے تیسرے پہر چار روٹیاں لائی جاتیں تو آپ ان میں سے ایک ایک ٹکڑا حاضرین کو دیتے اور پھر جو کچھ بچتا وہ خود کھا لیتے ۔
آپ ؒ کسی امیر کی تعظیم میں کھڑے نہیں ہوتے تھے اور نہ ہی کسی امیر کے در پر جاتے تھے ۔ آپ ؒ کے پاس خلیفہ آتا تو آپ کے ہاتھ چومتا اور ادب سے دست بستہ آپ ؒ کے سامنے بیٹھ جاتا اور آپ ؒ ا س سے بے باکی سے گفتگو فرماتے ۔ شیخ ابو المظفرمنصور لکھتے ہیں کہ حضور غوث اعظم ؒ سے بڑھ کر میں نے کسی کو خوش خو ، مہربان ، کریم النفس ، حوصلہ والے ، وعدہ وفا اور دوستی نبھانے والا نہیں دیکھا ۔ آپ ؒ کی مجلس میں رعب ایسا تھا کہ کسی کو دم مارنے کی مجال نہ ہوتی اور سکون ایسا کہ خدمت میں حاضر ہونے والے باہر کی تمام فکریں بھول جاتے ۔
آپ ؒ بہت سخی ، مسکین نواز تھے ، مہمانوں اور خاص طور پر غرباء و مساکین کے ساتھ بیٹھ کر کھانا تناول فرماتے ۔ ان کے ساتھ اخلا ص و محبت کے ساتھ بات چیت کرتے ۔ان کی بُرائیوں کو چھپاتے اور اچھائیوں کی تعریف کرتے ۔ آپ ؒ خوش اخلاق اور مستجاب الدعوات تھے ۔
آپ ؒ کی زبان سے کبھی فحش گوئی اور بے ہودہ کلام نہ نکلا اور نہ ہی کسی کو آپ ؒ کے سامنے فحش گوئی کی جرات ہوتی ۔ اللہ تعالی کے احکام کے برعکس کوئی کام ہوتا دیکھتے تو اسے نرمی سے سمجھاتے ۔کوئی بھی سائل آپؒ کے دربار سے خالی نہ جاتا اور مانگنے والا جو کچھ مانگتا آپ ؒ عطا فرماتے ۔
آپ ؒ نے فرمایا پیر وہ ہے جس کو ظاہری شریعت کا علم ہو ، وہ علم حقیقت جانتا ہو ، اپنے پاس آنے والوں کے ساتھ عمدگی اور خندہ پیشانی سے ملتا ہو ، مسافر کو کھانا کھلاتا ہو ، غرباء اور بے حیثیت لوگوں کے ساتھ قول اور فعل دونوں میں عجز و انکساری کے ساتھ پیش آتاہو اور مریدین کی باطنی تربیت اورتعلیم کی لیاقت رکھتا ہو ۔اور خود بھی ریاء ، حسد ، طمع ، خود بینی ، غفلت اور عیش طلبی سے پاک ہو ۔ حضور غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی شان کسی ایک لقب ، ایک واقعے یا ایک کرامت میں محدود نہیں کی جاسکتی ۔بغداد کی سرزمین پر آپ ؒ نے ایسا اثر چھوڑا جو صدیوں گزرنے کے باوجود دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں میں زندہ ہے ۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں