موانع و مظاہر عجز و انکسار(۱)
انسانی کردار کی تعمیر میں جن اخلاقی اوصاف کو بنیادی حیثیت حاصل ہے ان میں عجزو انکساری نمایاں مقام رکھتی ہے ۔ یہ وہ عظیم صفت ہے جو انسان کو غرور و تکبر کی تاریکیوں سے نکال کر اللہ تعالی کی رضا ، بندگان خدا کی محبت اور معاشرتی احترام کی منزل تک پہنچاتی ہے ۔ اسلام نے جہاں ایمان ، عبادات اور حسن اخلاق پر زور دیا ہے وہیں عاجزی اور فروتنی کو ایک کامل مومن کی شناخت قرا ر دیا اللہ تعالی نے اپنے محبوب بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
”اور رحمن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام“۔ ( سورۃ الفرقان)۔ حضور نبی رحمت ﷺ نے اپنی پوری حیات طیبہ میں اس وصف کو عملی طور پر اس شان سے پیش کیا کہ رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے بہترین نمونہ بن گیا ۔ آپ ﷺ عظمت و رفعت کے اعلی ترین مقام پر فائز ہونے کے باوجود سادگی ، تواضع ، حلم اور انکساری کا ایسا پیکر
تھے کہ دوست و دشمن سب آپ ﷺ کے اخلاق کریمانہ کے معترف تھے ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :صدقہ ما ل میں کمی نہیں کرتا ۔ معافی مانگ لینے سے اللہ تعالی عزت میں اضافہ فرماتا ہے اور جو بھی اللہ تعالی کی رضا کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ تعالی اسے سر بلند فرمادیتا ہے ۔ ( ترمذی )۔ حضور نبی کریم ﷺنے فرمایا تواضع انسان کے رتبہ کو بلند کرتی ہے اور تکبر اسے پست کرتا ہے ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو اپنے مسلمان بھائی کے لیے عاجزی کرتا ہے اللہ تعالی اسے سر بلند کر دیتا ہے اور جو اس پر اپنی برتری جتاتا ہے اللہ تعالی اسے پست کر دیتا ہے ۔ (الترغیب الترہیب )۔
تمام تر بلندیوں ، عظمتوں ، رفعتوں اور شان کا مالک اللہ تعالی ہے تو پھر بندہ کس وجہ سے احساس برتری میں مبتلا ہو جاتا ہے جب اس کے اختیار میں کچھ نہیں۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: کبریائی میری چادر ہے اور بڑائی میرا تہبند ہے جو ان دونوں میں سے کچھ بھی مجھ سےچھینناچاہے گا میں اسے دوزخ میں پھنک دوں گا ۔( مسند احمد )۔ انسان کے اندر تکبر ، غرور ، خود پسندی ، مال و دولت کا گھمنڈ ، علم کی نخوت اور منصب کا زعم وہ عوامل ہیں جو عجز و انکساری اختیار کرنے کی راہ میں روکاوٹ بنتے ہیں ۔ان رکاوٹوں کو دور کیے بغیر انسان کے اندر عاجزی پیدا نہیں ہو سکتی ۔
”اور رحمن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام“۔ ( سورۃ الفرقان)۔ حضور نبی رحمت ﷺ نے اپنی پوری حیات طیبہ میں اس وصف کو عملی طور پر اس شان سے پیش کیا کہ رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے بہترین نمونہ بن گیا ۔ آپ ﷺ عظمت و رفعت کے اعلی ترین مقام پر فائز ہونے کے باوجود سادگی ، تواضع ، حلم اور انکساری کا ایسا پیکر
تھے کہ دوست و دشمن سب آپ ﷺ کے اخلاق کریمانہ کے معترف تھے ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :صدقہ ما ل میں کمی نہیں کرتا ۔ معافی مانگ لینے سے اللہ تعالی عزت میں اضافہ فرماتا ہے اور جو بھی اللہ تعالی کی رضا کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ تعالی اسے سر بلند فرمادیتا ہے ۔ ( ترمذی )۔ حضور نبی کریم ﷺنے فرمایا تواضع انسان کے رتبہ کو بلند کرتی ہے اور تکبر اسے پست کرتا ہے ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو اپنے مسلمان بھائی کے لیے عاجزی کرتا ہے اللہ تعالی اسے سر بلند کر دیتا ہے اور جو اس پر اپنی برتری جتاتا ہے اللہ تعالی اسے پست کر دیتا ہے ۔ (الترغیب الترہیب )۔
تمام تر بلندیوں ، عظمتوں ، رفعتوں اور شان کا مالک اللہ تعالی ہے تو پھر بندہ کس وجہ سے احساس برتری میں مبتلا ہو جاتا ہے جب اس کے اختیار میں کچھ نہیں۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: کبریائی میری چادر ہے اور بڑائی میرا تہبند ہے جو ان دونوں میں سے کچھ بھی مجھ سےچھینناچاہے گا میں اسے دوزخ میں پھنک دوں گا ۔( مسند احمد )۔ انسان کے اندر تکبر ، غرور ، خود پسندی ، مال و دولت کا گھمنڈ ، علم کی نخوت اور منصب کا زعم وہ عوامل ہیں جو عجز و انکساری اختیار کرنے کی راہ میں روکاوٹ بنتے ہیں ۔ان رکاوٹوں کو دور کیے بغیر انسان کے اندر عاجزی پیدا نہیں ہو سکتی ۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں