فضائل و مناقب امام حسین رضی اللہ عنہ(۱)
تاریخ اسلام میں ایسی شخصیات بھی ہیں جن کی عظمت زمان و مکان کی حدودِ ماورا ہے ۔ان کے کردار کی روشنی صدیوں کے فاصلے کو مٹا کر آج بھی انسانیت کو حق و صداقت کا راستہ دکھاتی ہے ۔ ان عظیم ہستیوں میں سید الشہدا،مظلوم کربلا ، نواسہء رسول ،جگر گوشہ بتول امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ کا نام نہایت نمایاں ہے ۔آپ رضی اللہ عنہ کی زندگی ایمان ، صبر ، شجاعت ، ایثار اور حق پر استقامت کا ایسا روشن باب ہے جسے قیامت تک یاد رکھا جائے گا ۔ امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظمت کا سر چشمہ آپ ؓ کا نسب مبارک،بلند کردار اور عظیم قربانی ہے جس نے اسلام کو نئی زندگی عطا کی ۔
آپ رضی اللہ عنہ کی ولادت باسعادت 4 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی ۔ آپ رضی اللہ عنہ کو یہ شرف ملا کہ آپ امام الانبیاء خاتم الانبیاء کے نواسے ،آپ ؓ کی والدہ ؓ سید ۃ النساء العالمین سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا اور والد گرامی امام الاولیاء شیر خدا حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم ہیں ۔نبی رحمت ﷺ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دونوں شہزادوں سے بے حد پیار فرماتے تھے ۔ انہیں کندھوں پر بٹھاتے ، سینے سے لگاتے اور ان کے لیے خصوصی دعا فرمایا کرتے تھے ۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا حسن و حسین جنتی نوجوان کے سردار ہیں ۔( ترمذی )۔ ایک اور روایت میں ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہو ں ۔
حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن میرے حسب و نسب کے سواہر نسب منقطع ہو جائے گا ۔ہر بیٹے کی نسبت اس کے باپ کی طرف ہوتی ہے ماسوائے اولاد فاطمہ ؓ کے۔ ان کا باپ بھی میں ہو ں اور ان کا نسب بھی میں ہوں ۔ ( بہیقی ، طبرانی )۔
حضرت ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کی بارگاہِ ناز میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ دونوں شہزادے آپ ﷺ کی گود میں کھیل رہے ہیں ۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ آپ ان سے محبت کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا میں ان سے محبت کیوں نہ کروں میرے گلشن دنیا کے یہی دو پھول ہیں جن کی مہک کو سونگھتا رہتا ہوں ۔ ( طبرانی )۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حسن و حسین رضی اللہ عنہما کا ہاتھ پکڑ ا اور فرمایا جس نے مجھ سے اور ان دنوں سے محبت کی اور ان کے والد سے اور ان کی والدہ سے محبت کی وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میرے ہی ٹھکانہ پر ہوگا ۔ ( ترمذی )۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں