جمعہ، 13 مارچ، 2026

اعجاز القرآن (۱)

 

 اعجاز القرآن (۱)

قرآن مجید نہ صرف ہدایت کا سر چشمہ ہے بلکہ فصاحت و بلاغت ، علوم و معارف اور پیش گوئیوں کے اعتبار سے بھی ایک معجزہ ہے۔ قرآن مجید کے اعجاز کو مسلمان تو تسلیم کرتے ہی ہیں۔ اس کے ساتھ عرب کے فصیح و بلیغ ادباء اور دیگر مذاہب کے دانشور بھی اس کلام کی برتری کو ماننے پر مجبور ہیں۔اعجاز کا لغوی معنی ’’عاجز کر دینا ‘‘ ہے یعنی ایسی چیز پیش کرنا جس کی مثل کوئی دوسرا نہ لا سکے۔ قرآن مجید کا اعجاز یہ ہے کہ یہ ایک ایسا کلام ہے جو انسانی قدرت اور علم سے بالا تر ہے۔ نزول قرآن کے دور میں عربوں نے ہر طرف اپنی فصاحت و بلاغت کی دھاک بٹھا رکھی تھی اور عربی زبان کے تمام اصول و قواعد سے اس طرح واقف تھے کہ دنیا ان کے کلام میں کوئی بات خلاف قواعد تلاش نہیں کر سکتی تھی۔ عربوں نے اپنے کلام کے کچھ شہ پارے کعبہ کی دیوار پر لگا دیے اور دیگر اقوم کو چیلنج دیا کہ کسی میں ہمت ہے تو وہ ان اشعار کے جیسے کوئی اشعار بنا کر پیش کرے۔ لیکن کوئی بھی عربوں کی فصاحت و بلاغت کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ 
قرآن مجید برھان رشید وہ پہلی کتاب ہے جس نے نہ صرف عربوں کے اس غرور کو توڑا بلکہ ان کے فصاحت و بلاغت کے شاہکار اشعار اوقصائد کو بھی خاک میں ملا دیا۔ اور ان کو چیلنج دیا کہ اس جیسی چند سورتیں بنا کر لے آئو۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
’’کیا یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اسے خود بنا لیا (اے محبوب ﷺ) تم فرمائو تم ایسی بنائی ہوئی دس سورتیں لے آئو اور اللہ کے سوا جو مل سکیں سب کو بلا لو اگر سچے ہو ‘‘۔ ( سورۃ ھود )۔
یعنی کفار مکہ نے کہا کہ قرآن کریم نبی کریمﷺ نے خود سے بنا لیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں چیلنج دیا کہ اگر یہ انسان کا کلام ہے اور تم سچے ہو تو اس جیسی دس سورتیں ہی لے آئو۔ اور اللہ تعالیٰ کے سوا تم جس کی مدد لینا چاہتے ہو لے لو۔ 
جب کفار مکہ اس چیلنج کو پورا نہ کر سکے اور نہ ہی کبھی کر سکیں گے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں مزید چیلنج دیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
’’اور اگر تمہیں کچھ شک ہو اس میں جو ہم نے اسے اپنے خاص بندے پر اتارا تو اس جیسی ایک سورت تو لے آئو اور اللہ کے سوا اپنے سب حمائتیوں کو بلا لو اگر تم سچے ہو ‘‘۔ (سورۃ البقرۃ)۔
اس کے بعد ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا ’’ پھر اگر نہ لا سکو اور ہم فرمائے دیتے ہیں کہ ہر گز نہ لا سکو گے تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں، تیار رکھی ہے کافروں کے لیے ‘‘۔ ( سورۃ البقرۃ )۔
لیکن کفار مکہ اس چیلنج کو بھی پورا نہ کر سکے اور اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ تم ہر گز نہ سکو گے۔ پھر جب کعبہ کی دیوار پر سوۃ الکوثر آویزاں کی گئی تو عرب کے بڑے بڑے فصاحت و بلاغت کے ماہر یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ’’ لیس ھذا من کلام البشر ‘‘ ’’ یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہو سکتا‘‘۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تلاوت قرآن پاک کے آداب(۱)

  تلاوت قرآن پاک کے آداب(۱) قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی وہ مقدس کتاب ہے جو انسانیت کی ہدایت ، اصلاح کامیابی کے لیے نازل کی گی ی  ۔ اس کی تلا...