بدھ، 25 مارچ، 2026

خیر کے راستے کو چھوڑ دینا۔

 

 خیر کے راستے کو چھوڑ دینا۔

انسان کے لیے بہت سارے مصائب اور تکالیف اس وقت جنم لیتی ہیں جب وہ خیر کے راستے کو چھوڑ دیتا ہے لیکن وہ چاہتا ہے کہ مجھے نتائج خیر کے ملیں ۔ جب وہ خیر کے راستے کو چھوڑ کر اچھے نتائج کی تمنا کرتا ہے اور اسے اچھے نتائج نہیں ملتے تو اس قت وہ بہت ساری پریشانیوں اور مسائل کا شکار ہو جاتا ہے ۔ اللہ نے اس پوری کائنات کو ایک خاص نظم وضبط کے تحت بنایا ہے اور اسی نظم و ضبط کے تحت چلا رہا ہے ۔ بعض اوقات انسان اپنی پوری کوشش کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر پاتا۔ اس کہ وجہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کے بنائے گئے ضابطوں کے برعکس چل رہا ہے ۔ 
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے : اے انسان تو میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا میں تیرا سینہ غنا سے بھر دوں گا۔ تیری غربت دور کر دوں گا اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تیرا ہاتھ مصروفیات سے بھر دوں گا مگر تیرے فقر کو ختم نہیں کروں گا ۔ ( ابن ماجہ )۔
حضور نبی کریم ﷺ کے اس فرمان مبارک سے یہ بات واضح ہو گئی ہے دل کو غنی کرنے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے ۔ اس کے برعکس جو بندہ دن رات اسی کوشش میں لگا رہتا ہے کہ وہ مال جمع کر لے وہ مال و دولت تو حاصل کر لے گا مگر اسے دل کا غنی ہونا نصیب نہیں ہو گا ۔ 
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کون ہے جو مجھ سے چند باتیں سیکھ لے اور پھر اس پر عمل کرے اور ان باتوں کو دوسروں کو بھی سکھائے ۔ میں نے عرض کی یارسو ل اللہ ﷺ میں حاضر ہوں ان باتوں کو سیکھنے کے لیے ۔ پھر آپﷺ نے حضرت ابو ہریرہ ؓ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا :
” حرام چیزوں سے بچو تم لوگوں میں سب سے بڑے عبادت گزار بن جاﺅ گے ۔ جو اللہ تعالیٰ نے تیری قسمت میں لکھ دیا ہے اس پر راضی ہو جا تو سب سے بڑ اغنی بن جائے گا ۔ اپنے ہمسائے کے ساتھ اچھے سے پیش آﺅ، مومن بن جاﺅ گے ۔ دوسروں کے لیے وہی چیز پسند کروجو اپنے لیے کرتے ہو تو مسلم ہو جاﺅ گے۔ اور زیاہ نہ ہنسا کرو کیونکہ کہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے “۔ (ترمذی )۔
حضور نبی کریم ﷺ کے اس فرمان سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ غنی مال و دولت جمع کرنے والا نہیں ہوتا بلکہ حقیقت میں دل کا غنا صرف اسے نصیب ہو گا جو اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہو گیا ۔ جب بندہ اس بات کو سمجھ لیتا ہے کہ میرا کام صرف کوشش کرنا ہے اور اس کے بدلے مجھے کیا ملے گا یہ اختیار میرے پاس نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیر کے راستے کو چھوڑ دینا۔

   خیر کے راستے کو چھوڑ دینا۔ انسان کے لیے بہت سارے مصائب اور تکالیف اس وقت جنم لیتی ہیں جب وہ خیر کے راستے کو چھوڑ دیتا ہے لیکن وہ چاہتا ہے...