لیلۃ القدر (۱)
رمضان المبارک اللہ تعالی کی بے شمار رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے اس مبارک مہینے میں ایک ایسی عظیم رات بھی آتی ہے جسے اللہ تعالی نے ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا ہے یہ مقدس اور با برکت رات لیلۃ القدر کہلاتی ہے ۔ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں اس رات کی فضیلت و عظمت کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ وہ عظیم رات ہے جس میں اللہ تعالی کی خصوصی رحمتیں نازل ہوتی ہیں ، اللہ تعالی اپنے بندوں کی دعاؤں کو قبول فرماتا ہے اور فرشتے زمین پر اترتے ہیں ۔ارشاد باری تعالی ہے :
’’بیشک ہم نے اسے شب قدر میں اتارا ۔ اور تم نے کیا جانا کیا شب قدر ۔ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ۔ اس میں فرشتے اور جبریل اترتے ہیں اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لیے ۔ وہ سلامتی ہے صبح چمکنے تک ‘‘۔ ( سورۃ القدر )۔
یعنی کہ جو بندہ اس رات خالص اللہ تعالی کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کے لیے عبادت کرے تو اسے ہزار مہینوں یعنی 84 سال عبادت کرنے کا ثواب ملتا ہے ۔
حضرت مجاہد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر فرمایا جس نے ایک ہزار مہینے راہ خدا میں جہاد کیا ۔صحابہ کرام کو اس سے تعجب ہوا تو اللہ تعالی نے سورۃ القدر نازل فرمائی ۔(سنن الکبر ی البہیقی )۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالی نے میری امت کو شب قدر کا تحفہ عطا فرمایا اوران سے پہلے اور کسی امت کو یہ رات عطا نہیں فرمائی ۔ (مسند فردوس )۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا شب قدر کو آخری دس دنوں میں تلاش کرو ۔ ( صحیح مسلم )۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رمضان المبارک کا آخری عشرہ آتا تو نبی کریم ﷺ عبادت کے لیے مستعد ہو جاتے راتوں کو جاگتے اور اپنے اہل خانہ کو بھی جگاتے ۔ (بخاری )۔
اللہ تعالی نے اس رات کو مخصوص نہیں فرمایا اس وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ بندے اس رات کو تلاش کرتے ہوئے شب بیداریاں کریں ۔اگراللہ جل شانہ اس رات کو متعین فرما دیتا تو بندے صرف اسی رات کو عبادت کرنے پر اکتفا کرتے ۔ اور اگر اس رات کو مخصوص کر دیتااور بندے اس رات کی شان و عظمت کو جانتے ہوئے بھی اس رات کوئی گناہ کر بیٹھتے تو وہ اس کے گناہ کے جرم کو مزید بڑھا دیتا۔ اسی لیے اللہ تعالی نے اس رات کو پوشیدہ رکھا اور فرمایا کہ اسے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں