پیر، 6 اپریل، 2026

جنگ احد اور شہادت سیدنا امیر حمزہ ؓ (۱)

 

جنگ احد اور شہادت سیدنا امیر حمزہ ؓ (۱)

مدینہ منورہ میں ایک بہت بڑا پہاڑ ہے جسے احد پہاڑ کہتے ہیں ۔احد پہاڑ کے متعلق نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا احد پہاڑ مجھ سے محبت کرتا ہے اور میں اس سے محبت کرتا ہوں ۔ (بخاری )۔
جنگ احد۳ ہجری میں  اسی پہاڑ کے دامن میں لڑئی گئی تھی ۔ یہ جنگ کفار مکہ نے غزوہ بدر کی شکست کا بدلہ لینے کے لیے چھیڑی ۔ 
قریش کے سرداروں کو غزوہ بدر میں شکست کی وجہ سے بہت زیادہ صدمہ تھا اسی لیے انہوں نے ایک بڑی فوج کے ساتھ مدینہ منورہ پر حملہ کیا ۔ اس معرکہ میں مسلمانوں کی تعداد سات سو اور کفار کی تعداد تین ہزار تھی ۔تقریبا ستر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس جنگ میں شہادت کے مرتبہ پر فائز ہوئے ۔ 
اس جنگ میں حضور نبی کریم ﷺ کے پیارے چچا حضرت سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے جنہوں نے اپنی بہادری و شجاعت کے جوہر دکھائے اور کافروں کو جہنم واصل کیا ۔ 
حضور نبی کریم ﷺ کو اپنے چچا سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ سے بے حد محبت و انس تھی اور سیدنا امیر حمزہ بھی نبی کریم ﷺ سے بے پناہ محبت فرماتے تھے ۔ سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ تیر اندازی کے ماہر تھے اور سرداران قریش آپ رضی اللہ عنہ کی بہادری اور شجاعت کی وجہ سے بڑی عزت و احترام سے دیکھتے تھے۔ 
سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ نے نبوت کے چھٹے برس اسلام قبول کیا اور پھر اپنا تن ، من دھن سب اسلام کے لیے وقف کر دیا ۔ جس دن آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو یہ اشعار کہے :
ترجمہ : میں اللہ تعالی کی تعریف بجا لاتا ہوں اور اس کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے میرے دل کو اسلام اور دین حنیف کے لیے کھول دیا ۔ یہ وہ مبارک دین ہے جو ایسے پروردگار کی طرف سے آیا ہے جو غلبہ والا ، بندوں کی خبر رکھنے والا اور اپنے بندوں پر مہربان ہے ۔
جب اللہ تعالی کی آیتیں ہمارے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو کامل عقل رکھنے والے شخص کے آنسو بہنا شروع ہو جاتے ہیں ۔ یہ وہ باعظمت احکا م ہیں کہ ان کی ہدایت دینے کے لیے نبی کریم ﷺ ایسی روشن آیات لائے ہیں جن کے ہر حرف میں ہدایت ہے ۔ اورحضرت محمد ﷺ اللہ تعالی کی طرف سے ہم میں منتخب برگزیدہ ہیں اور آپ کے ہر حکم کی تعمیل کی جاتی ہے تو اے لوگو ان کی تعلیمات کو باطل کے ذریعہ نہ چھپاؤ۔ ( الروض الائف )۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

آج کا نوجوان اور بے مقصدیت (۱)

  آج کا نوجوان اور بے مقصدیت (۱) آج کا دور تیز رفتار ترقی ، جدید ٹیکنالوجی اور بے شمار سہولیات کا دور ہے۔ بظاہر انسان نے مادی لحاظ سے بہت ...