صراطِ مستقیم (۱)
انسان کی زندگی ایک سفر ہے اور ہر سفر کا ایک واضح راستہ درکار ہوتا ہے۔ اگر راستہ سیدھا ، متوازن اورمنزل تک پہنچانے والا ہو تو انسان کامیاب ہو جاتا ہے اور اگر راستہ ٹیڑھا ، گمراہ کن اور خواہشات نفس کے تابع ہو تو انسان خسارے میں پڑجاتا ہے اور کبھی بھی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ اسلام نے ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی تلقین کی ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جو رضا ئے الٰہی ،نجات ، اور کامیابی کی طرف لے کر جاتا ہے۔ہم دن میں جب پانچ وقت نماز ادا کرتے ہیں تو ہر نماز میں اللہ تعالیٰ سے صراط مستقیم پر چلنے کی دعا مانگتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ہم کو سیدھا راستہ چلا ‘‘۔ ( سورۃ الفاتحہ )
ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے سیدھے راستے پر چلنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی دعا مانگتا رہے۔کیونکہ سیدھا راستہ ہی انسان کو منزل مقصود تک پہنچاتا ہے۔ ایمان والے اللہ تعا لیٰ سے اس طرح دعا مانگتے ہیں۔
ترجمہ:’’ اے ہمارے رب تو نے ہمیں ہدایت عطا فرمائی ہے اس کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما بیشک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے ‘‘۔ ( سورۃ اٰل عمران )
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ کثرت سے یہ دعا مانگا کرتے تھے۔
ترجمہ : اے دلوں کو پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کی یا رسول اللہﷺ ہم آپ پر اور جو کچھ آپ لائے ہیں اس پر ایمان رکھتے ہیں تو کیا آپ کو ہمارے بارے میں کوئی خوف ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :ہاں بیشک دل اللہ تعالیٰ کی (شان کے لائق اس کی ) انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے وہ جنہیں چاہتا ہے انہیں پھیر دیتا ہے۔(ترمذی )۔
سورۃ الانعام میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’ اور یہ کہ یہ ہے میرا سیدھا راستہ ہے تو اس پر چلو اور راہیں نہ چلو کہ تمہیں اس کی راہ سے جدا کر دیں گی ‘‘۔
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی نے واضح فرما دیا ہے کہ صراط مستقیم صرف ایک ہی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا مقررہ کردہ راستہ ہے اس کے علاوہ جنتے بھی راستے ہیں وہ گمراہی کی طرف لے جانے والے ہیں۔ صراط مستقیم پر چلنے کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ بندہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری کر ے۔’’ اورجو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے اس نے بڑی کامیابی پائی ‘‘۔ (سورۃالاحزاب)۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں