پیر، 20 اپریل، 2026

باطنی اصلاح(۲)

 

باطنی اصلاح(۲)

اللہ تعالیٰ نے نفس امارہ کی مخالفت کا حکم فرمایا ہے اور ان لوگوں کی تعریف کی ہے جو اپنے نفس کی پیروی نہیں کرتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’اور جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہشات سے روکا۔ تو بیشک جنت ہی اس کا ٹھکانہ ہے ‘‘۔(النازعات )۔
سورۃ یوسف میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ’’اور میں اپنے نفس کو بے قصور نہیں بتاتا بیشک نفس تو بْرائی کا بڑا حکم دینے والا ہے جس پر میرا رب رحم کرے۔ بیشک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے ‘‘۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تمہارا سب سے بڑا دشمن تمہارا نفس ہے جو تمہیں بْرے کاموں میں مبتلا کر کے ذلیل خوار کراتا ہے اور طرح طرح کی مصیبتوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت دائودؑ سے ارشاد فرمایا :اے دائودؑ اپنے نفس کی مخالفت کرو کیونکہ میری محبت نفس کی مخالفت میں ہے۔
سور ۃ الاعراف میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :’’ اور اپنی خواہش کے تابع ہوا تو اس کاحال کتے کی طرح ہے تو اس پر حملہ کرے تو زبان نکالے اور چھوڑ دے تو زبان نکالے۔ یہ حال ہے ان کا جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں۔
نفس کی اقسام کو سمجھنے کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انسان کی اصل کامیابی نفس امارہ سے نکل کر نفس مطمئنہ تک پہنچنے میں ہے یہ سفر آسان نہیں بلکہ مسلسل جد و جہد ، محاسبہ اور تزکیہ کا متقاضی ہے۔نفس کی اصلاح کے لیے انسا ن کو عملی طور پر کوشش کرنی چاہیے۔نفس کو پاک کرنے کا سب سے پہلا ذریعہ ذکر الٰہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ خبر دار دلوں کا اطمینان اللہ کے ذکر میں ہے۔ (سورۃ الرعد )
دوسرا اہم ترین ذریعہ نماز کی پابندی ہے کیونکہ نماز انسان کو بْرائی اور بے حیائی سے روکتی ہے۔تیسرا ذریعہ روزہ ہے جو نفس کی خواہشات کو کمزور کرتا ہے اور انسان کو صبر و ضبط سکھاتا ہے۔ اسی طرح صالحین اور نیک لوگوں کی صحبت بھی نفس کی اصلاح میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔نیک لوگوں کی صحبت انسان کے دل کو نرم کرتی ہے اور اسے نیکی کی طرف راغب کرتی ہے۔ حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے اس لیے دیکھو کہ تم کس سے دوستی کر رہے ہو۔
اگر انسان اپنے نفس کی خواہشات کو ترک کر دے تو وہ اسے امیر بنا دیتی ہے اور اگر خواہشات کی پیروی کرے تو اے قیدی بنا دیتی ہے۔ جیسے زلیخا نے اپنے نفس کی پیروی کی تو امیر سے اسیر بن گئی اور حضرت یوسف ؑ نے اپنی خواہش کو ترک کیا تو اسیر سے امیر بن گئے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے نفس کو پہچاننے اس کی اصلاح کرنے اور اسے درجہ مطمئنہ تک پہنچانے کی تو فیق عطا فرمائے۔ آمین۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

باطنی اصلاح(۲)

  باطنی اصلاح(۲) اللہ تعالیٰ نے نفس امارہ کی مخالفت کا حکم فرمایا ہے اور ان لوگوں کی تعریف کی ہے جو اپنے نفس کی پیروی نہیں کرتے ہیں۔ ارشاد ب...