نیت کی اصلاح(۲)
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : خبر دار تمہارے جسم میں ایک ٹکڑا ہے اگر وہ درست ہو جائے تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے اور اگر وہ بگڑ جائے تو پورا جسم بگڑ جاتا ہے اور وہ دل ہے۔ نبی کریمﷺ کے اس فرمان سے واضح ہو جاتا ہے کہ دل انسان کے کردار اور اعمال کا مرکز ہے جب دل پاک ہوجاتا ہے تو نیت خود ہی درست ہو جاتی ہے اور جب نیت درست ہو جائے تو عمل میں اخلاص پیدا ہو جاتا ہے۔آج کے پْر فتن دور میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اعمال کی ظاہری شکل پر زیادہ توجہ دیتے ہیں اور نیت کی اصلاح کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ہم نماز پڑھتے ہیں ، روزہ رکھتے ہیں ، حج کرتے ہیں اور صدقہ و خیرات کرتے ہیں مگر اکثر اوقات ان اعمال کے پیچھے دکھاوا ، شہرت یا لوگوں کی تعریف حاصل کرنے کی خواہش ہوتی ہے اور یہ ریاکاری ہے۔اگر کوئی عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے نہ کیا جائے بلکہ دکھاوے کے لیے کیا جا ئے تو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک شرک قرار پاتا ہے۔
حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص لوگوں کے دکھلاوے کی خاطر نماز پڑھے،روزے رکھے یا صدقہ کرے تو وہ شرک کا مرتکب ہے۔ ( مسند احمد )۔
نیت کی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے ہر عمل سے پہلے خود سے سوال کرے کہ کیا وہ یہ عمل خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کر رہا ہے یا دکھاوے کے لیے؟۔ اگر جواب ملے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے ہے تو وہ عمل قیمتی ہے۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ تمہاری شکل و صورت اور مال و دولت کو نہیں دیکھتابلکہ وہ تو تمہارے اعمال اور دلوں کو دیکھتا ہے۔ ( مسلم شریف)۔
نبی کریم ﷺنے فرمایا جب کوئی نیک عمل کرنے کاارادہ کرے تو اسے ایک نیکی کا ثواب مل جاتا ہے۔ اور اگر نیت کے بعد اس عمل کو کر بھی لے تو اسے کم از کم دس گناثواب ملتا ہے اور بعض صورتوں میں سات سوگناتک ثواب ملتا ہے۔ (بخاری )۔
انسان کو اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے۔ اسے چاہیے کہ وہ روزانہ اپنے اعمال اور نیتوں کا جائزہ لے۔اگر کہیں ریاکاری یا دنیاوی مفاد کی ملاوٹ نظر آئے تو اسے چاہیے کہ اسی وقت اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ و استغفار کرے اور اپنی نیت کی اصلاح کرے یہی عمل انسان میں روحانیت پیدا کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دلوں کو پاک کرنے ، نیتوں کو خالص بنانے اور ہر عمل کو اپنی رضا کے لیے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں