ولادت مصطفی ﷺ (۱)
تاریخ کے اوراق میں بے شمار واقعات رقم ہوئے، سلطنتیں وجود میں آئیں اور مٹ گئیں ، بڑے بڑے فاتحین دنیا کے نقشے پر ابھرے اور وقت کی گرد میں گم ہو گئے مگر ایک واقعہ ایسا ہے جس کی تابانی صدیوں کے گزرنے کے باوجود ماند نہیں پڑی ۔ یہ عظیم واقعہ نبی کریم رؤ ف الرحیم ﷺ کی ولادت با سعادت کاہے جب مکہ کی وادی میں 12 ربیع الاول کو صبح صادق دنیا بھر کے قبیلوں میں سے بہتر قبیلے اور خاندانوں میں سے بہترین خاندان میں حضرت آمنہ اور حضرت عبد اللہ کے گھر وہ آفتاب طلوع ہوا جس کی کرنوں نے صرف عرب کی سرزمین ہی کو نہیں بلکہ پوری انسانیت کے دل و دماغ کو منور کر دیا ۔
حضرت مطلب بن ابی وادعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب ہوں ۔ اللہ تعالی نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو مجھے سب سے بہتر مخلوق میں رکھا پھر ان کے دو گروہ بنائے تو مجھے سب سے بہتر گروہ میں رکھا پھر ان کے قبائل بنائے تو مجھے سب سے بہتر قبیلہ میں رکھا پھر ان کے گھر انے بنائے تو مجھے اپنے گھرانے اور ذات کے اعتبار سے سب سے بہتر بنایا ۔ ( ترمذی )۔
حضور نبی کریم ﷺ کا خاندان و نسب و شرافت میں تمام دنیا کے خاندانوں سے افضل و اعلی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کے دشمن کفار مکہ بھی اس کا انکار نہیں کرتے تھے ۔ حضرت ابو سفیان نے جب وہ ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے بادشاہ روم کے سامنے اس بات کا اقرار کیا کہ نبی اکرم ﷺ ” عالی خاندان “ ہیں ۔ ( بخاری شریف)
مسلم شریف کی روایت ہے کہ اللہ تعالی نے حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے ”کنانہ “ کو برگزیدہ بنایا اور ”کنانہ “ میں سے” قریش“ کو اور قریش میں سے بنی ہاشم کو منتخب فرمایا ۔ یعنی حضور نبی کریم ﷺ کا خاندان اس قدر بلند و بالا ہے کہ کوئی بھی حسب و نسب والا آپ ﷺ کی مثل نہیں ۔*

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں