امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالی عنہ (۲)
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں حضرت امام حسن مجتبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سینہ سے لے کر سر تک رسول اللہ ﷺ کے مشابہ تھے اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس سے نیچے رسول اللہﷺ کے مشابہ تھے(ترمذی)۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : بیشک حسن ؓ اور حسین ؓ دنیا میں میرے دو پھول ہیں ۔( مشکوٰہ شریف)۔
جب نبی کریم ﷺ کا مرض وصال قریب آیا تو سیدہ کائنات فاطمہ سلام اللہ علیہا امام حسن اور امام حسین کو لے کر نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں اور عرض کی یا رسول اللہ ﷺانہیں اپنی وراثت میں سے کچھ عطا فرمائیں ۔نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا حسن میری وجاہت اور سرداری کا وارث ہے اور حسین میری جرات اور سخاوت کا وارث ہے ۔
آپ کی پوری زندگی زہد و تقوٰی و طہارت کا حسین گلدستہ ہے۔ آپ کا کلام بہت ہی شریں ہوتاتھا۔اہل مجلس نہیں چاہتے کہ آپ گفتگو ختم فرمائیں۔
فیاضی و سخاوت میں بھی امتیازی شان رکھتے تھے کسی سائل کو کسی حال میں اپنے گھر سے خالی ہاتھ واپس نہ کرتے تھے بلکہ فیاضی تو آپ کو وراثت میں ملی تھی ایک ایک آدمی کو ایک ایک لاکھ عطا فرمادیتے تھے۔
ابن سعد علی ابن زید جدعان سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت امام حسنؓ نے دو مرتبہ اپنا کل مال راہ خدا میں دے ڈالا اور تین مرتبہ اپنا آدھامال راہ خدا میں صدقہ کیا ۔حضرت امام حسنؓ کورسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ میرا بیٹا سیدہے۔یعنی سردار ہے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان مصالحت کردے گا۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں نے امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رسول اللہﷺ کی گود میں دیکھاکہ وہ اپنی انگلیاں نبی رحمتﷺ کی داڑھی مبارک میں ڈالتے تھے اور نبی اکرمﷺ اپنی زبان مبارک ان کے منہ میں ڈالتے تھے اور اللہ کے حضور عرض کرتے تھے اے اللہ میں اس کو محبوب رکھتا ہوں۔ تو بھی اس کو محبوب رکھ۔
سیدنا اما م حسن ؓ کی شان و عظمت بیان کرنا دراصل اس پاکیزہ گھرانے کی عظمت کو بیان کرنا ہے جسے اللہ تعالی نے اپنی محبت اور سول خدا ﷺ کی محبت سے ممتاز فرمایا ۔ آپ ؓ کی شخصیت حسنِ صورت کے ساتھ ساتھ حسن سیرت کا بھی حسین امتزاج تھی ۔ حلم و بردباری ، تقوی و عبادت ، سخاوت و فیاضی ، عفوو درگزر ، صبر و اسقامت اور امت مسلمہ کی خیر خواہی آپ کے نمایاں اوصاف تھے۔
آپ رضی اللہ عنہ کو زہر دے کر شہید کیا گیا ۔ 28 صفر کو آپ رضی اللہ عنہ نے جام شہادت نوش فرمایا ۔ آپ رضی اللہ عنہ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا ۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں