امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالی عنہ (۱)
اسلامی تاریخ میں کچھ مقدس اور عظیم ہستیاں گزری ہیں جن کی زندگی کا ہر لمحہ ایمان ، محبت ، کردار اور قربانی کا روشن استعارہ بن جاتا ہے ۔ اگر اہل بیت اطہار کی عظمت و فضیلت کے درخشاں ستاروں کو دیکھا جائے تو حضرت امام حسن ؓ کی ذات گرامی ایک نہایت تابندہ مقام رکھتی ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ وہ عظیم ہستی ہیں جن کی رگوں میں نبوت کی خوشبو ، جن کے گھرانے میں ولایت کی عظمت اور جن کے کردار میں مصطفی ﷺ کی تربیت کی جھلک نظر آتی ہے ۔ آپ نبی کریم ﷺ کے محبوب نواسے ، حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمۃ الزہرہ رضی اللہ عنہا کے لخت جگر اور اہل بیت اطہار
کے عظیم چشم و چراغ ہیں ۔ حضرت امام حسن مجتبی رضی اللہ عنہ شیر خدا اور سیدہ کائنات کے بڑے صاحبزادے تھے ۔آپ کا اسم گرامی حسن، کنیت ابو محمد اور القاب سید شباب اہل الجنہ ، سبط و ریحان رسول ﷺ ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ کی ولادت با سعادت 15 رمضان المبارک 3 ہجری مدینہ منورہ میں ہوئی ۔ (الطبقات الکبری)
ام فضل لبابہ بن حارث رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے خواب دیکھا کہ نبی کریم ﷺ کے جسم کا ایک عضو میرے گھر میں موجود ہے ۔ میں پریشان ہو گئی اور نبی رحمت ﷺ کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہو کر خواب سنایا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ اچھا خواب ہے ، سیدہ فاطمہ ؓکے ہاںبیٹا ہو گا جس کو تو اپنے بیٹے قثم کے ساتھ دودھ پلائے گی ۔آپ فرماتی ہیں جب سیدنا حسن ؓ کی پیدائش ہوئی تو مجھے دیے گئے اور میں نے انہیں دودھ پلایا ۔ ( مسند احمد ، ابن ماجہ )۔ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی پیدائش پر حضور نبی رحمت ﷺ بے حد خوش ہوئے ۔ حسن مجتبی ؓ کو نبی کریم ﷺ کی خدمت لایا گیا تو آپ ﷺ نے اپنی آغوش میں لے کر پیار کیا ، ان کے کانوں میں اذان دی اور اپنی زبان مبارک ان کے منہ میں دے دی اور آپ ؓ نے اسے چوسنا شروع کر دیا ۔ نبی کریم ﷺ نے آپ کا نام حسن رکھا اور ساتویں دن عقیقہ کیا اور بال منڈوائے گئے ۔ ( اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابہ )۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺحضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کو اپنے کندھے پر بٹھائے ہوئے تھے کسی صحابی نے عرض کی اے صاحبزادے تیری سواری کتنی اچھی ہے یہ سن کر نبی اکرمﷺ نے فرمایا اے صحابی اگر سواری اچھی ہے مگر یہ بھی تو دیکھ سوار کتنا اچھا ہے(مشکوۃ شریف)۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں