بعثت نبوی ﷺ سے قبل عرب کے حالات(۱)
تاریخ میں کچھ ادوار ایسے گزرے ہیں جن میں بظاہر زندگی رواں دواں ہوتی ہے ، بازار آباد ہوتے ہیں ، شعر و ادب کے چرچے ہوتے ہیں اور قبائل اپنی شان و شوکت پر فخر کرتے ہیں مگر انسان اپنی اصل منزل سے دور ہوتا ہے ۔ نبی کریم ﷺ کی بعثت سے قبل جزیرہ عرب بھی اسی کیفیت سے دو چار تھا ۔ عرب معاشرہ اپنی قبائلی بہادری ، فصاحت و بلاغت کے باوجود مذہبی ، اخلاقی ، سیاسی اور معاشرتی انتشار کا شکار تھا۔ اسی ماحول میں اللہ تعالی نے اپنے آخری نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ کو مبعوث فرمایا جنہو ں نے انسانیت کو توحید ، عدل ، رحم ، اخوت و بھائی چارہ اور اعلی اخلاق کا راستہ دکھایا ۔ اسلام سے قبل عرب کی سیاسی حالت انتہائی ابتر تھی ۔عرب میں کوئی مرکزی حکومت نہیں تھی مختلف قبائل آباد تھے جن میں ہر قبیلے کا الگ الگ سردار تھا جو اپنے قبیلے کی قیادت کرتا اور قبائلی فیصلوں میں اہم کردار ادا کرتا تھا۔ قبائلی عصبیت اس قدر مضبوط تھی کہ لوگ حق و باطل کی بجائے اپنے قبیلے کی حمایت کو ترجیح دیتے ۔ معمولی سے تنازع پر ایسی خونریز جنگ شروع ہوتی جو کئی نسلوں تک جاری رہتی ۔
اسلام سے قبل عرب کی مذہبی حالت بھی بہت پستی کا شکار تھی ۔اللہ تعالی نے عرب کو قوت حافظہ ، سخاوت ، ایفائے عہد ، فصاحت و بلاغت جیسی عظیم خوبیوں سے نوازا تھا لیکن ان خوبیوں کے استعمال کے لیے صحیح رہنمائی نہیں تھی اور یہ حقیر مقاصد کے لیے استعمال ہو کر ضائع ہورہی تھیں ۔ اپنے ہی ہاتھ سے تیار کردہ بتوں کی پوجا کرتے تھے مختلف قبائل کے اپنے اپنے معبود تھے جن کے سامنے وہ نذریں پیش کرتے اور حاجتیں مانگتے تھے ۔ یہودیوں نے خانہ کعبہ میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے نا م کے بت رکھے اوران کی پوجا کرتے تھے ۔ عیسائی تثلیث کے قائل تھے اور انہوں نے بھی تین بت کعبہ میں رکھے ہوئے تھے جن کی وہ پوجا کرتے تھے ۔بعض قبائل ایسے تھا جہاں سورج ، چاند ،ستاروں اور آگ کی پوجا کی جاتی تھی ۔ عورتیں اور مرد خانہ کعبہ کا ننگے طواف کرتے۔اپنے باپ کے مرنے کے بعد اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کر لیتے تھے ۔
اہل عرب فطری طور پر اعلی درجے کی عربی زبان اور فصاحت وبلاغت کے باوجود ان کی معلومات محدود تھیں ، ان کے نظریات باطل اوران کے خیالات پر توہم پرستی اور جہالت کا غلبہ تھا۔ عرب میں نہ کوئی سکول تھا ۔ ایران ، روم اور مصر کے ممالک میں علم و فنون اور تہذیب کی روشنی موجود تھی لیکن عرب وہاں جاتے اور صرف اموال کا تبالہ کر کے آ جاتے اور علم و تہذیب کی روشنی ساتھ نہ لاتے تھے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں