حضور نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارک (۲)
نبی کریم ﷺ کے بال مبارک خوب سیاہ تھے اور داڑھی مبارک نہات خوبصورت ، معتدل اور گنجان تھی ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کے بال درمیانے تھے۔ نہ بالکل سیدھے اور نہ ہی بالکل گھنگریالے۔ آپ ﷺ کے بال کانوں اور کندھوں کے درمیان تھے ۔ ( بخاری )۔ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی داڑھی مبارک کے بال بہت زیادہ تھے ۔ (مسلم شریف )۔
حضور نبی کریم ﷺ کے موئے مبارک بھی با برکت تھے صحابہ کرام انہیں اپنے پاس رکھنا باعث برکت سمجھتے تھے ۔ حضرت ابن سیرینؓ کہتے ہیں میں نے عبیدہ ؓ سے کہا ہمارے پاس نبی کریم ﷺ کے بال مبارک ہیں جو ہمیں حضرت انس ؓ کی طرف سے یا ان کے گھر والوں کی طرف سے ملے تھے ۔ حضرت عبیدہ ؓ نے کہا میرے پاس نبی کریم ﷺ کے بال مبارک کا ہونا مجھے دنیا اور جو کچھ اس دنیا میں ہے، سے زیادہ محبوب ہے ۔ ( بخاری )۔
کنزل العمال میں ہے کہ حضرت علیؓ فرماتے ہیں میں نے خود نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا جس نے میرے ایک بال کی بھی توہین کی اس پر جنت حرام ہے ۔
حضور نبی رحمت ﷺ کا پسینہ بھی خوشبو دار تھا۔ آپ ﷺ کے پسینے جیسی خوشبو مشک اور عنبر سے بھی نہیں آتھی تھی ۔ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے اور قیلولہ فرمایا ،آپ ﷺ کو پسینہ آیاتو میری والدہ ایک شیشی میں پسینہ جمع کرنے لگیں۔ نبی کریم ﷺ جاگ گئے اور فرمایا اے ام سلیم یہ آپ کیا کر رہی ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا یہ آپ ﷺ کا پسینہ ہے اس کو ہم خوشبو میں ڈالیں گے اور یہ سب سے عمدہ خوشبو ہے ۔ ( مسلم )۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کے پسینہ مبارک کے قطرات موتیوں کی طرح ہیں اور آپ ﷺ کے پسینہ کی خوشبو عمدہ مشک سے بھی زیادہ خوشبودار ہے ۔ ( الائل النبوہ )۔
اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کے جسم اطہر کو بھی خوشبودار بنایا تھا یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی آپ ﷺ سے مصافحہ کرتا تو دن بھر آپ ﷺ کی خوشبو محسوس کرتا تھا ۔
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں میں نے کسی ریشم کو نبی کریم ﷺ کی ہتھیلی سے زیادہ نرم محسوس نہیں کیا اور میں نے کبھی کوئی خوشبو یا عطر نہیں سونگھاجو نبی کریم ﷺ کے (جسم اطہر ) کی خوشبو یا آپ ﷺ کے عطر یعنی پسینہ سے زیادہ خوشبودا ر ہو ۔ ( بخاری )۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں