حضور نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارک (۱)
دنیا میں حسن کے بے شمار پیمانے قائم کیے گئے مگر جب نگاہ عقیدت مدینہ منورہ کے تاجدارحضرت آمنہ کے لال رحمت ِ دو عالم جانِ کائنات حبیب خدا احمد مجتبی ﷺ کے سراپا اقدس پر پڑتی ہے تو حسن و جمال کے تمام تصورات ماند پڑجاتے ہیں آپ ﷺ کی ذات اقدس میں صر ف اخلاق و کردار ہی میں کامل نہ تھی بلکہ اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو ظاہری حسن و جمال کی بھی بے مثال نعمت عطا فرمائی تھی ۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ ﷺ کے حلیہ مبارک کو جس محبت ، ادب اور عقیدت سے بیان کیا وہ دراصل ان کے دلوں میں موجود عشقِ مصطفی ﷺ کی روشن تصویر ہے ۔ آپ ﷺ چہر انور نور کی طرح روشن ، تبسم دل آویز ، شیرینی گفتگو اور سراپا ایسا با وقار تھا کہ دیکھنے والا بے اختیار آ پ ﷺ کی عظمت کا اسیر ہو جاتا تھا ۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ نہ بہت لمبے اور نہ بہت چھوٹے تھے یعنی درمیانے قد کے تھے، آپ ﷺ کارنگ نہ بہت سفید اور نہ بہت گندمی تھا ، آپ ﷺ کے بال نہ سخت گھنگریالے اور نہ بالکل سیدھے تھے ۔ (بخاری )۔
حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول خدا ﷺ کا قد درمیانہ ، دونوں کندھوں کے درمیان کا حصہ چوڑا ، داڑھی گھنی ، رنگت سرخی مائل تھی ۔ آپ ﷺ کی زلفیں کانوں کی لوؤں تک تھیں ، میں نے آپ ﷺ کو سرخ حلہ میں دیکھا ، میں نے آپ ﷺ سے زیادہ خوبصورت کوئی نہیں دیکھا۔ ( نسائی )۔
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے ایک چاندنی رات نبی کریم ﷺ کو سرخ لباس پہنے ہوئے دیکھا میں رسول اللہ ﷺاور چاند کو دیکھنے لگا تو نبی کریم ﷺ چاند سے زیادہ خوبصورت تھے ۔ ( ترمذی )۔
ام المئومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے تمام روئے زمین کے مشارق و مغارب کو الٹ پلٹ کر کے دیکھا ، میں نےکسی کو نبی کریم ﷺ سے افضل نہیں پایا ۔ ( معجم الاوسط )۔
حضور نبی رحمت ﷺ کا چہرہ اقدس جمال کا مظہر تھا اور اللہ تعالی کی انوار تجلیات کا مرکز و محور تھا ۔حضرت حارث بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں منیٰ یا عرفات میں نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ،آپ ﷺ کی زیارت کے لیے لوگ تشریف لا رہے تھے ۔جو بھی اعرابی آپ ﷺ کے چہر ہ انور کو دیکھتا تو کہتا یہ بڑا با برکت چہر ہ ہے ۔ ( ابو داؤد )۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالی نے جو بھی نبی بھیجا وہ خوبصورت چہرے والا اور دلکش آواز والا ہے اور تمہارے نبی ﷺ کا چہرہ اور آواز سب سے زیادہ خوبصورت ہے ۔ ( المواہب اللدنیہ )۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں