بعثت نبوی ﷺ سے قبل عرب کے حالات
عرب کی اخلاقی حالت بھی انتہائی ابتر تھی شراب ، جوا ، زنا، قتل و غارت ، توہم پرستی اور بد شگونی عام تھی جیسا کہ سورۃ المائدہ میں اللہ تعالی فرماتا ہے اے ایمان والو شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک شیطانی کام ہی ہیں تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ ۔ زمانہ جاہلیت میں عرب بیٹیوں کو پسند نہیں کرتے تھے اگر کسی کو بیٹی کی خبر ملتی تو اس کے چہرے پر غم و ندامت کی لہر دوڑ جاتی ۔ بعض قبائل ایسےتھے جو اپنی بچیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے ۔جیسا کہ سورۃ التکویر میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے اور جب زندہ دفن کی گئی (لڑکی) سے پوچھا جائے گا کہ تم کس خطا پر ماری گئی ۔
ارشاد باری تعالی ہے:اور جب ان میں کسی کو بیٹی ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غصہ کھاتا ہے ۔لوگوں سے پوچھتا پھرتا ہے اس بشارت کی بُرائی کے سبب کیا اسے ذلت کے ساتھ رکھے گا یا اسے مٹی میں دبا دے گا۔ ارے بہت ہی بُرا حکم لگاتے
ہیں ۔ ( سورۃ النحل )۔
اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ بیٹی پیدا ہونے پر رنج کرنا اور پریشان ہونا کافروں کا طریقہ ہے ۔ آج کے دور میں کچھ مسلمان بھی بیٹی پیدا ہونے پر غمزدہ ہو جاتے ہیں اور چہرے سے خوشی کا اظہار نہیں کرتے مٹھائی نہیں بانٹتے اور بیٹی پیدا ہونے پر بیوی کو بُرا بھلا کہتے ہیں جو کہ سرا سر کافرانہ روش ہے ۔اسلام میں تو بیٹی کی پرورش پر بہت زیادہ فضیلت بیان کی گئی ہے ۔ جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کے ہاں بیٹی پیدا ہو اور وہ اسے زندہ درگور نہ کرے اسے ذلیل نہ سمجھے اور اپنے بیٹے کو اس پر ترجیح نہ دے تو اسے اللہ تعالی جنت میں داخل کرے گا ۔ ( ابو داؤد)۔
عرب معاشرہ معاشی طور پر بھی سخت اور غیر مساوی تھا ۔ طاقتور شخص کو زیادہ اختیار حاصل تھے جبکہ کمزور انسان کے لیے اپنے حقوق کا تحفظ مشکل تھا ۔ نسب ، قبیلہ ، دولت اور طاقت انسان کی سماجی حثییت متعین کرنے میں اہم کر دار ادا کرتے تھے ۔ نبی کریمﷺ کی ولادت سے قبل عرب کے مجموعی حالات کو اگر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ معاشرہ ایک گہرے فکری اور اخلاقی موڑ
پر کھڑا تھا ۔مذہبی اعتبار سے شرک غالب تھا ، سیاسی اعتبار سے قبائلی تقسیم تھی ،معاشرتی اعتبار سے طاقت اور نسب کو اہمیت حاصل تھی اور اخلاقی لحاظ سے بہت سی خرابیاں عام تھیں ۔
حضور نبی کریم ﷺ کی آمد سے کفر و شرک کا خاتمہ ہوا ، انسان کو انسان سے جوڑا ، کمزور کو حق دلائے ، عورت کو عزت دی ، غلام کو حقوق دلائے اور قبائلی تفاخر کی جگہ تقوی کو برتری کا معیار قرار دیا ۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں