بدھ، 2 ستمبر، 2026

رضاعت مصطفی ﷺ(۱)

 

رضاعت مصطفی ﷺ(۱)

کسی ماں کی گود میں آنے والا بچہ عموما ً اس گھر کی خوشی ہوتا ہے ۔ مگر جب وہ بچہ اللہ کا محبوب اور رحمت دو عالم ﷺ ہو تو اس گھر کی  سعاد ت کا اندازہ الفاظ سے نہیں کیا جا سکتا ۔ دنیا میں ایسے بے شمار بچے دیکھے جو وقت کے ساتھ بڑے ہوئے اور پھر گمنامی میں کھو  گئے ۔ لیکن ایک بچہ ایسا بھی تھا جس کی آمد نے ایک گھر کو ایسی نسبت عطا کر دی کہ صدیوں بعد بھی اس کا ذکر عقیدت سے کیا جاتا  ہے ۔ یہ سعادت حضرت حلیمہ سعدیہ کے حصے میں آ ئی ۔ 
مکہ مکرمہ کی فضا میں پرورش پانے والے اس نور مجسم کو جب حضرت حلیمہ سعدیہ اپنی آغوش میں لے کر اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئی تو انہیں شاید یہ معلوم نہ تھا کہ وہ اپنے ساتھ محض ایک بچہ نہیں بلکہ رحمت ، برکت اور انسانیت کے سب سے عظیم محسن ﷺ کو  لے کر جا رہی ہے ۔ ان کی گود کو وہ شرف ملنے والا تھا جس کا تصور بھی عام انسانی سعادتوں سے بلند ہے ۔ ان کے گھر کی سادگی کو  ایسی نسبت نصیب ہونے والی تھی جس کے سامنے دنیا کی ہر ظاہری شان ماند پڑ جاتی ہے ۔ 
مکہ مکرمہ میں یہ رواج تھا کہ جب بچہ پیدا ہوتا تو مختلف قبائل کی عورتیں آتیں اور بچوں کو پالنے کے لیے لے جاتیں تا کہ رضاعت ختم ہونے کے بعد ان کے والدین سے انعام و اکرام لے سکیں ۔ قبیلہ بنی سعد کی چند خواتین بچوں کی تلاش کے لیے مکہ مکرمہ آ ئیں ، ان کے ساتھ حضرت حلیمہ سعدیہ بھی تھیں ۔ 
حضرت حلیمہ اپنا حال بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ یہ قحط اور خشک سالی کا موسم تھا ہمارے پاس کچھ نہ تھا ہم کمزور گدھی پر سوار ہو کر قافلے کے ساتھ نکلے ۔ ساتھ ایک اونٹنی بھی تھی جس کی کھیری میں دود ھ کا ایک قطرہ بھی نہ تھا ۔میری چھاتی میں بھی اتنا دودھ  نہیں تھا کہ میرا بچہ پیٹ بھر کے پی سکے وہ بھوک کی وجہ سے ساری رات روتا تھا ۔ 
مکہ پہنچ کر ساری عورتیں بچے کی تلاش میں گھر گھر چکر لگانے لگیں لیکن جب حضرت آمنہ کے گھر جاتیں توآپ ﷺ کو یتیم سمجھ کر چھوڑ دیتیں ۔آپ فرماتی ہیں کہ ہر عورت کو بچہ مل گیا لیکن میری غربت اور تنگدستی کی وجہ سے کسی نے مجھے بچہ نہ دیا ۔آخرمیں 
میں نے اپنے خاوند سے کہا کہ ہم اس یتیم بچے کو لے آتے ہیں کم از کم خالی گود تو واپس نہ جائیں ۔ آپ فرماتی ہیں جب میں نےآپ ﷺ کو دیکھا تو حسن وجمال کو دیکھ کر حیرت میں پڑ گئی ، جب آپ ﷺ نے آنکھیں کھولیں تو آنکھوں سے انوار نکل رہے تھے ۔ میں نے بے اختیار آپ ﷺ کی پیشانی کو بوسہ دیا اور اٹھا کر سینے سے لگا لیا ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

رضاعت مصطفی ﷺ(۱)

  رضاعت مصطفی ﷺ(۱) کسی ماں کی گود میں آنے والا بچہ عموما ً اس گھر کی خوشی ہوتا ہے ۔ مگر جب وہ بچہ اللہ کا محبوب اور رحمت دو عالم ﷺ ہو تو اس...