رضاعت مصطفی ﷺ(۲)
حضرت حلیمہ فرماتی ہیں کہ جب میں آپ ﷺ کو گود میں لے کر خیمہ میں پہنچی تو میرا خاوند اس بوڑھی اور لاغر اونٹنی کی طرف گیا تو اس کی کھیری دودھ سے بھری دیکھی اور بہت خوش ہوا ۔ اس نے دودھ دوہا خود بھی جی بھر کر پیا ، میں نے بھی سیر ہو کر پیا اور رات کو ہم سب خوب سوئے جب صبح اٹھے تو میرے خاوند نے کہا :’’ اللہ کی قسم اے حلیمہ تو بڑی برکت والی روح لے آئی ہے ۔ میں نے کہا اللہ کی قسم میں بھی یہی امید رکھتی ہوں ۔ ( السیر ۃ الحلبیہ)۔
آپ فرماتی ہیں جب ہمیں بچے مل گئے اور ہمارا قافلہ واپس جانے لگا تو میرے پاس وہی گدھی تھی جو کمزوری کی وجہ سے چل نہیں سکتی تھی لیکن جیسے ہی میں نبی کریم ﷺ کو لے کر اس پر سوار ہوئی تو میری گدھی ایسے چلی کہ ساری سواریاں پیچھے رہ گئیں ۔ قافلے والیاں کہنے لگیں حلیمہ بتا تو سہی یہ وہی سواری ہے جو قدم اٹھانے سے معذور تھی آپ نے کہا خدا کی قسم یہ وہی سواری ہے لیکن بھلا دیکھو تو سہی اس پر سوار کون ہے ۔
آپ کہتی ہیں جب ہم اپنی قیام گاہ پہنچے تو یہ علاقہ سب سے زیادہ قحط زدہ تھا گھاس کا ایک تنکا بھی نظر نہیں آتا تھا لیکن جب میری بکریاں شام کو واپس آتیں تو ان کے پیٹ خوب بھرے ہوتے اور ان کی کھیریاں دودھ سے بھری ہوتیں ہم خوب سیر ہو کر دودھ پیتے۔جب دوسرے لوگوں کی بکریاں واپس آتیں تو ان کے پیٹ خالی ہوتے اور کھیریاں بھی دودھ سے خالی ہوتیں تو اپنے چرواہوں کو ناراض ہوتیں تم وہاں بکریاں کیوں نہیں چراتے جہاں حلیمہ کی بکریاں چرتی ہیں ۔
آپ فرماتی ہیں دن بدن انعاما ت وبرکات کا سلسلہ بڑھتا گیا یہاں تک کہ دو سال کا عرصہ پورا ہو گیا اور ہم آپ ﷺ کو حضرت آمنہ کے پاس لے آئے لیکن ہمارا دل جدائی برداشت کر نے کے لیے تیار نہ تھا ۔ ہم نے سیدہ آمنہ سے کہا کہ اپنے فرزند کو مزید کچھ عرصہ ہمارے پاس رہنے دیں ۔ حضرت حلیمہ کے اصرار پر حضرت آمنہ مان گئیں ۔ جب حضرت حلیمہ آپ ﷺ کو لے کر خیمہ پہنچی تو قبیلے والی دوسری عورتیں بہت خوش ہوئیں ۔
حضرت حلیمہ فرماتی ہیں کہ لوگوں کے دلوں میں آپ ﷺ کی محبت ڈال دی گئی تھی جب کوئی بیمار ہوتا تو وہ تکلیف والی جگہ پر آپ ﷺ کا ہاتھ رکھتاتو اللہ تعالی اسے شفا عطا فرماتا ۔ ( السیرۃ الحلبیہ )۔ ایک دفعہ حضرت حلیمہ سعدیہ نے دیکھا کہ ایک بادل کا ٹکڑا دھوپ سے بچانے کے لیے آپ ﷺ پر سایہ کر رہا تھا آپ ﷺ کھڑے ہوتے تو رک جاتا جب آپ ﷺ چلتے تو بادل کا ٹکڑا بھی چل پڑتا ۔ ( السیرۃ الحلبیہ )

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں