ادبِ مصطفی ﷺ(۲)
حضور نبی رحمت ﷺ کی بارگاہ کا تقاضا یہ ہے کہ جب آپ ﷺ بلائیں تو چاہے بندہ نماز کی حالت میں بھی ہو تو فوری حاضر ہو جائے ۔
اور اس سے نماز بھی فاسد نہیں ہو گی ۔ارشاد باری تعالی ہے :” اے ایمان والو اللہ اور سول کے بلانے پر حاضر ہو جب تمہیں بلائیں “۔
بخاری شریف کی روایت ہے کہ حضرت ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد نبوی میں نماز پڑھ رہا تھا مجھے نبی کریم ﷺ نے بلایا لیکن میں آپ ﷺ کے بلانے پر حاضر نہ ہوا ۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد میں نبی رحمت ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی میں نماز پڑھ رہا تھا ۔حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا اللہ تعالی کا حکم نہیں پڑھا ” اللہ اور رسول کے بلانے پر حاضر ہو جایا کرو “۔
سورۃا لنور میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ”رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرا لو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے “۔ (النور )۔
یعنی حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں جب حاضر ہوں یا دور سے حضور نبی کریم ﷺ کو پکارا جائے تو اس طرح نہیں پکارنا چاہیے جیسے تم آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو ۔
حضور نبی کریم ﷺ کے گھر ایک دعوت کے موقع پر کچھ لوگ زیادہ دیر بیٹھے رہے اور آپس میں گفتگو کرتے رہے ۔ اس طرح زیادہ دیر بیٹھے رہنا اللہ تعالی کو پسند نہ آیا کیونکہ یہ بات حضور ﷺ کے لیے باعث تکلیف تھی تو اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا :
”اے ایمان والو نبی کے گھروں میں نہ حاضر ہو جب تک اذن نہ پاؤ مثلاً کھانے کے لیے بلائے جاؤ نہ یوں کہ خود اس کے پکنے کی راہ تکو۔ ہاں جب بلائے جاؤ تو حاضر ہو اور جب کھا چکو تو متفرق ہو جاؤ نہ یہ کہ بیٹھے باتوں میں دل بہلاؤ بیشک اس میں نبی کو ایذا ہوتی تھی تو وہ تمہارا لحاظ فرماتے تھے “۔ ( الاحزاب )۔
صحابہ کرام حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ کا ادب جس قدر بجا لاتے تھے اس کا اندازہ اس حدیث مبارکہ سے لگایا جا سکتا ہے ۔ حضرت مسور بن مخرمہ اور مروان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب عروہ بن مسعود کفار کی طرف سے وکیل بن کر حاضر ہوا تو وہ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ اپنا لعاب پھینکتے تو کوئی نہ کوئی صحابی اسے اپنے ہاتھ میں لے لیتا اور اسے اپنے چہرے پہ ملتا ۔جب آپ ﷺ کوئی حکم فرماتے تو فوری اس کی تعمیل کرتے ۔جب آپ ﷺ وضو فرماتے تو آپ ﷺ کے وضو کا پانی حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ۔جب آپ ﷺ گفتگو فرماتے تو اپنی آوازیں پست کر لیتے اور انتہائی ادب کے ساتھ گفتگو سنتے ۔ ( بخاری )۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں