ادبِ مصطفی ﷺ(۱)
کائنات میں ایک نام ایسا ہے جس کے ساتھ تاریخ کی عظمت ، انسانیت کی تکمیل ، اخلاق کی بلندی اور رحمت کی وسعت سمٹ آتی ہے ۔ وہ نام نامی اسم گرامی حبیب خدا احمد مجتبی محمد مصطفی ﷺکا ہے ۔آپ ﷺ کا ذکر ہو تو الفاظ اپنی تاثیر کھو دیتے ہیں ، قلم ٹھہر جاتا ہے اوردل بے اختیار عقیدت سے جھک جاتا ہے ۔حضور نبی رحمت ﷺ کی ذات اقدس کے ساتھ ادب کا تعلق کسی رسم ، روایت یا معاشرتی تہذیب تک محدود نہیں بلکہ یہ ایمان کی روح سے جڑا ہوا ہے ۔ قرآن مجید نے جہاں ایمان ، عبادت اور تقوی کی تعلیم دی وہیں بارگاہ رسالت ﷺ کے آداب بھی سکھائے ۔
ادب ایک ایسی چیز ہے جو نصیب بدل دیتی ہے ۔ہر بارگاہ کا ایک ادب ہوتا ہے۔ جو اس بارگاہ کا ادب کرتے ہیں اور جو نہیں کرتے ان کا حال جدا جدا ہوتا ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ کے ادب کا کیا عالم ہوگا جو حبیب خدا بھی ہیں اور وجہ تخلیق کائنات بھی ۔ حضور نبی کریم ﷺ جب صحابہ کرام کے درمیان تشریف فرما ہوتے اور انہیں وعظ و نصیحت فرماتے تو کبھی کبھی صحابہ بات کو سمجھنے کے لیے کہتے ”راعنا یا رسول اللہ ﷺ “ یعنی ہمارے حال کی رعایت فرمائیں ۔ یہودیوں کی لغت میں راعنا بے ادبی کا معنی رکھتا تھا تو انہوں نے اسی نیت سے بلانا شروع کر دیا ۔تو اللہ تعالی نے حضور نبی رحمت ﷺ کا ادب بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :”اے ایمان والو راعنا نہ کہو اور یو ں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو “۔ ( سور ة البقرۃ )۔
قرآن مجید میں اہل ایمان کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اپنی آوازیں نبی رحمت ﷺ کی آواز سے بلند نہ کرو اور آپ ﷺ کی گفتگو میں وہ انداز اختیار نہ کرو جو عام لوگوں کے درمیان اختیار کیا جاتا ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے : ”اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے نبی کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت نہ ہو جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو “۔ ( سورۃ الحجرات )۔
حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ اس قدر نازک بارگاہ ہے کہ ذرا سی آواز بھی اونچی ہو ئی تو سارے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور ہمیں خبر تک نہیں ہو گی ۔ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی تو میں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ میں آپ ﷺ سے سرگوشی کے انداز میں بات کروں گا ۔(کنزالعمال )۔
حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی تو سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا حال یہ تھا کہ آپ ﷺ کی بارگاہ میں آہستہ سے بات کرتے اور بعض اوقات آپ ﷺ کو بات سمجھنے کے لیے دوبارہ پوچھنا پڑتا کہ کیا کہتے ہو ۔ ( ترمذی )۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں