صحت انسانی اور سیرت النبی ﷺ(۲)
آنکھیں اللہ تعالی کی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور ان کی حفاظت کرنا بہت ضروری ہے ۔حضور نبی کریم ﷺ نے بیماری آنے سے پہلے اس سے بچنے کے لیے حفاظتی اصول اپنانے کی تلقین فرمائی ۔ سرمہ انسان کی خوبصورتی کا سبب بھی بنتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے بہت سے طبی فوائد بھی ہیں ۔ ہمیں حضور نبی کریم ﷺ کی سیرت مبارکہ سے بھی سرمہ استعمال کرنےکا درس ملتا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا اثمد سرمہ استعمال کرو کیونکہ یہ نظر کو تیز کرتا ہے اوربال اگاتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کی ایک سرمہ دانی تھی جس سے آپ ﷺ رات کو سوتے وقت دونوں آنکھوں میں تین تین سلائیاں ڈالا کرتے تھے ۔ ( ترمذی)۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اثمد سرمے کا ستعمال کرو کیونکہ یہ بال اگاتا ہے بیماری دور کرتا ہے اور نظر کو صاف کرتا ہے ۔ ( المعجم الکبر للطبرانی )۔
اللہ تعالی کی نعمتوں کو کھانا اوراس پر شکر بجا لانا ضروری ہے لیکن انسان کو کوئی بھی چیز کھانے سے پہلے اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ آیا کہ جو چیز وہ کھانے لگا ہے کیا وہ اس کی صحت کے لیے نقصان دہ تو نہیں ۔ ایسا کرنا نا شکری نہیں بلکہ تعلیم نبوی ﷺہے ۔
حضرت ام منذر ؓ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ میرے گھر تشریف لائے آپ کے ساتھ حضرت علی ؓ بھی تھے ۔ گھر میں کچی کھجور کے کچھ گھچے لٹک رہے تھے آپ ﷺ اتار کر کھانے لگے تو حضرت علی ؓنے کھانا شروع کر دیا ۔ آپ ﷺ نے حضرت علی کو فرمایا اے علی رک جاؤ تم ابھی بیماری سے صحت یاب ہو ئے ہو ۔ حضرت ام منذرؓ فرماتی ہیں پھرمیں نے چقندر اور جو سے بنا کھانا آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا تو آپ ﷺ نے حضرت علیؓ سے کہا اے علی کھاؤ یہ تمہاری صحت کے لیے زیادہ اچھا ہے ۔ ( ترمذی )۔
حضور نبی کریم ﷺ نے کسی بھی ایسے علاقے میں جانے سے منع فرمایا ہے جہاں کوئی ایسی بیماری پھیلی ہو جس کی وجہ سے دوسروں کو اس بیماری کے لگ جانے کا خدشہ ہو ۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : طاعون ایک عذاب ہے جسے بنی اسرائیل پر بھیجا گیا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ تم سے پہلے لوگوں پر بھیجا گیا لہذا تم کسی بھی ایسے علاقے میں نہ جاؤ جہاں یہ بیماری پھیلی ہو اور اگر تمہارے علاقے میں طاعون پھیل جائے تو وہاں سے باہر مت جاؤ ۔ (موطا امام مالک )۔ یعنی کسی علاقے میں ایسی بیماری پھیل جائے تو نہ وہاں جاؤ اور نہ ہی وہاں کے لوگ باہر آئیں خود بھی بیماری سے بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں ۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں