اللہ تعالی کی طرف سے بہت ہی آسان فلاح کا راستہ سنیے اور عمل کیجئے تاکہ ہم سب فلاح پا لیں . ہر قسم کی تفرقہ بازی اور مسلکی اختلافات سے بالاتر آسان اور سلیس زبان میں
اتوار، 30 نومبر، 2025
درود و سلام کے فضائل و برکات(۲)
درود و سلام کے فضائل و برکات(۲)
حضرت ابو دردا سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺنے فرمایا : جمعہ کے دن مجھ پر زیادہ سے زیادہ درود بھیجا کرو ، یہ یوم مشہود (یعنی میری بارگاہ میں فرشتوں کی خصوصی حاضری کا دن ) ہے ، اس دن فرشتے (خصوصی طور پر میری بارگاہ میں ) حاضر ہوتے ہیں ، کوئی شخص جب بھی مجھ پر درود بھیجتا ہے اس کے فارغ ہونے تک اس کا درود مجھے پیش کر دیا جاتا ہے۔
حضرت ابودردا کہتے ہیں میں نے عرض کیا : اور (یارسول اللہ)آپ کے وصال کے بعد (کیا ہوگا ) ؟ آپ ؐ نے فرمایا : ہاں وصال کے بعد بھی (اسی طرح پیش کیا جائے گا) اللہ تعالیٰ نے زمین کے لیے انبیاء کرام علیھم السلام کے جسموں کو کھانا حرام کر دیا ہے۔ پس اللہ کا نبی زندہ ہوتا ہے اور اسے رزق بھی دیا جاتا ہے۔ (اما م ابن ماجہ)۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنے گھروں کو قبرستان نہ بنائو (یعنی اپنے گھروں میں بھی نماز پڑھا کرو انہیں قبرستان کی طرح ویران نہ رکھو) اور نہ ہی میری قبر کو عید گاہ بنائو (کہ جس طرح عید سال میں دو مرتبہ آتی ہے اس طرح تم سال میں ایک یا دو دفعہ میری قبر کی زیارت کرو بلکہ میری قبر کی جس قدر ممکن ہو کثرت سے زیارت کرو ) اور مجھ پر درود بھیجا کرو۔ پس تم جہاں کہیں بھی ہوتے ہو تمہارا درود مجھے پہنچ جاتا ہے۔( امام ابو داؤد)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا ، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا اور اس کے دس گناہ ختم کرے گا اوردس درجے بلند کرے گا۔(امام نسائی )۔
حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی زمین میں بعض گشت کرنے والے فرشتے ہیں وہ مجھے میری امت کا سلام پہنچاتے ہیں۔( امام نسائی )۔
قاضی عیاض رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ واضح ہونا چاہیے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا فی الجملہ فرض ہے۔ یہ کسی خاص وقت کے ساتھ محدود و معین نہیں ہے ، کیونکہ اللہ نے آپؐ پر علی الاطلاق درود بھیجنے کا حکم دیا ہے اور دورد شریف پڑھنے کو آئمہ و علماء نے واجب قرار دیا ہے اور اس کے وجوب پر سب کا اجماع ہے۔
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ دعا زمین و آسمان کے درمیان ٹھہری رہتی ہے اور اوپر کی طرف نہیں جاتی ( یعنی قبول نہیں ہوتی) جب تک تو اپنے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف نہ بھیجے۔ ( اما م ترمذی )۔
ہفتہ، 29 نومبر، 2025
درود و سلام کے فضائل و برکات(۱)
درود و سلام کے فضائل و برکات(۱)
ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ وہ ہی ہے جو تم پر درود بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی ، تا کہ تمہیں اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لے جائے اور وہ مومنوں پر بڑی مہر بانی فرمانے والا ہے۔ جس دن وہ ( مومن ) اس سے ملاقات کریں گے تو ان کا تحفہ سلام ہو گا ، اور اس نے ان کے لیے بڑی عظمت والا اجر تیار کر رکھا ہے ‘‘۔
پھر ارشاد فرمایا :’’ بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی مکرم ﷺ پر درود بھیجتے ہیں ، اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو ‘‘۔
حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا : جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود شریف پڑھے گا ، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا ‘‘۔( مسلم شریف)۔
’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ہم حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں عرض گزار ہوئے:یا رسول اللہ ؐ ! آپ پر سلام بھیجنا تو السلام علیک ہے لیکن ہم آپ پر درود کس طرح بھیجیں ؟ آپ ؐ نے فرمایا: تم اس طرح کہو : اے اللہ ! حضرت محمد ﷺ پر درود بھیج جو تیرے بندے اور رسول ہیں جیسے تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر درود بھیجا ، اور برکت نازل فرما حضرت محمد ﷺ پر اور آل محمد ؐپر جیسے تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اور آل ابراہیم علیہ السلام پر برکت نازل فرمائی ‘‘۔(بخاری شریف)۔
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! میں کثرت سے آپ ؐ پر درود بھیجتا ہو ں۔ پس میں آپ پر کتنا درود بھیجا کرو ں؟ حضور ﷺ نے فرمایا : جس قدر تم چاہو؟ انہوں نے عرض کیا : کیا میں اپنی دعا کا چو تھا ئی حصہ آپؐ پر درود بھیجنے کے لیے خاص کر دو ں؟ حضور نبی کریم ﷺنے فرمایا : جتنا تو چاہے لیکن تو اس میں اضافہ کر لے تو یہ تیرے لیے بہتر ہے ، میں نے عرض کیا آدھا حصہ کر دوں ؟ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : جتنا تو چاہے لیکن تو اس میں اضافہ کر لے تو یہ تیرے لیے بہتر ہے ،میں نے عرض کیا : دو تہائی کافی ہے ؟
حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : جتنا تو چاہے لیکن تو اس میں اضافہ کر لے تو یہ تیرے لیے بہتر ہے ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ؐ میں ساری دعا آپ پر درود بھیجنے کے لیے خاص کرتا ہوں ، حضورﷺ نے فرمایا: پھر تو یہ درود ہی تمہارے تمام غموں ( کو دور کرنے ) کے لیے کافی ہو جائے گا اور تمہارے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے ‘‘۔ ( جامع ترمذی )۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے دن لوگوں میں سے سب سے زیادہ میرے قریب وہ شخص ہو گا جس نے ان میں سے سب سے زیادہ مجھ پر درود بھیجا ہو گا ‘‘۔ (جامع ترمذی)۔
جمعہ، 28 نومبر، 2025
مناجات (۲)
مناجات (۲)
اے ہمارے رب ہم نے ایک منادی کو سنا جو ایمان کے لیے پکار رہا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لے آؤ۔ اے ہمارے رب تو ہمارے گناہ بخش دے اور ہماری برائیوں کو ہم سے محو کر دے اور ہماری موت اچھوں کے ساتھ کر۔ اے پروردگار ہمیں دے وہ جس کا تو نے ہم سے وعدہ کیا ہے اپنے رسولوں کی معرفت سے اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر۔ بیشک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ ( سورۃ آل عمران )۔
اے ہمارے رب مجھے توفیق عطا فرما میں نماز پڑھتا رہو ں اور میری اولاد کو بھی یہ توفیق بخش۔ اے میرے رب میری دعا قبول فرما۔ اے ہمارے رب مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو بھی اور سب مسلمانوں کو جس دن حساب قائم ہو گا۔ (سورۃ ابراہیم )۔
اور یوں عرض کرو کہ اے ہمارے رب مجھے سچی طرح داخل کر اور سچی طرح باہر لے جا اور مجھے اپنی طرف سے مدد گار غلبہ دے۔ ( سورۃ بنی اسرائیل )۔
اے میرے رب میرے لیے میرا سینہ کھول دے۔ اور میرے لیے میرا کام آسان کر دے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ کہ وہ میری بات سمجھیں۔ اور میرے گھر والوں میں سے میرا ایک وزیر ( یعنی مدد گار ) مقرر کر دے۔ (سورۃ طہ )۔
اے میرے رب میرے علم میں اضافہ فرما۔ ( سورۃ طہ)۔
اے میرے پروردگار شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہو ں۔ اور اے میرے پروردگار میں اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہو ں وہ میرے پاس آئیں۔ (سورۃ المومنون )۔
اے میرے پروردگار مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے۔ (سورۃ المومنون )۔
اے ہمارے رب ہمیں کافروں کی آزمائش میں نہ ڈال اور ہمیں بخش دے بیشک تو ہی عزت و حکمت والا ہے۔ (سورۃ الممتحنہ)۔
اے میرے رب مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور اسے جو ایمان کے ساتھ میرے گھر میں ہے اور سب مسلمان مردوں اور سب عورتوں کو اور کافروں کو نہ بڑھا مگر تباہی۔ (سورۃ نوح )۔
تم فرمائو میں اس کی پناہ لیتا ہوں جو صبح کا پیدا کرنے والا ہے۔ اس کی سب مخلوق کے شر سے۔ اور اندھیری ڈالنے والے کے شر سے جب وہ ڈوبے۔ اور ان عورتوں کے شر سے جو گرہوں میں پھونکتی ہیں۔ اور حسد والے کے شر سے جب وہ مجھ سے ملے۔ ( سورۃ الفلق )۔
تم کہو میں اس کی پناہ میں آیا جو سب لوگوں کا رب ہے۔ سب لوگوں کا بادشاہ ہے۔ سب لوگوں کا خدا۔ اس کے شر سے جو دل میں برے خطرے ڈالے اور دبک رہے۔ وہ جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں۔ جن اور آدمی۔ ( سورۃ الناس )۔
جمعرات، 27 نومبر، 2025
مناجات (۱)
مناجات (۱)
انسان کو جب بھی زندگی میں مشکلات پیش آتی ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ سے اپنی مشکلات سے نکلنے کی التجا کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو قرآن مجید میں دعا مانگنے کا طریقہ بھی سکھایا۔ (اے پروردگار ) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں ۔ ہم کو سیدھے رستے چلا ۔ ان لوگوں کے رستے جن پر تو نے انعام کیا ۔ نہ ان کے جن پر غصے ہوتا رہا اور نہ گمراہوں کے ۔ ( سورۃ الفاتحہ ) ۔
اے پروردگار ہم کو اپنا فرمانبردار بنا ئے رکھنا ۔ اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک گروہ کوبھی اپنا فرمانبردار بنا ۔ اور ہمیں ہمارے طریق عبادت بتا اور ہمارے حال پر ( رحم کے ساتھ ) توجہ فرما ۔ بیشک تو توجہ فرمانے والا مہربان ہے ۔اے ہمارے پروردگار اگر ہم سے بھول چوک ہو گئی ہو تو ہم سے مواخذہ نہ فرما ۔ اے پروردگار ہم پر ایسابوجھ نہ ڈال جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا ۔ اے پروردگار جتنا بوجھ اٹھا نے کی ہم میں طاقت نہیں اتنا بوجھ ہم پر نہ ڈال ۔ اور (اے پروردگار ) ہمارے گناہوں سے درگزر کر ۔ اور ہمیں بخشش دے اور ہم پر رحم فرما ، تو ہی ہمارا مولا ہے اور ہم کو کافروں پر غالب کر ۔ ( سورۃ البقرہ) ۔
اے پرور دگار جب تو نے ہمیں ہدایت بخشی ہے تو اب ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما بیشک تو بڑا عطا کرنے والا ہے ۔ اے خدا اے بادشاہی کے مالک توجس کو چاہے بادشاہی بخشے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لے اور جس کو چاہے عزت دے اور جس کو چاہے ذلت دے ۔ ہر طرح کی بھلائی تیر ے ہی ہاتھ میں ہے اور بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔ تو ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے تو ہی بے جان سے جاندار پیدا کرتا ہے اور تو ہی جاندار سے بے جان پیدا کرتا ہے اور تو ہی جس کو چاہتا ہے بے شمار رزق بخشتا ہے ۔ اے ہمارے پروردگار ہمارے گناہ اور زیادتیاں جو ہم اپنے کاموں میں کرتے ہیں معاف فرما ۔ اور ہم کو ثابت قدم رکھ اور کافروں پر ہمیں فتح نصیب فرما ۔ (سورۃ آل عمران )
جو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے خدا کو یاد کرتے اور آسمان اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے اور کہتے ہیں اے پروردگار تو نے اس مخلوق کو بے فائدہ نہیں بنایا ۔ توپاک ہے تو(قیامت کے دن ) ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے۔ اے ہمارے رب بیشک جسے تو دوزخ میں لے جائے اسے ضرور تو نے رسوائی دی اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں(سورۃ آل عمران )
بدھ، 26 نومبر، 2025
امر با لمعروف و نہی عن المنکر
امر با لمعروف و نہی عن المنکر
ارشاد باری تعالیٰ ہے : تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائے، نیکی کا حکم کرے اور گناہ سے منع کرے۔ یہی لوگ کامیاب ہیں( سورۃ آل عمران )۔
اللہ تعالیٰ نے اس آیت مبارکہ میں دین سے متعلق تین کاموں کی خبر دی ہے۔ ایک یہ کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر فرض ہے۔ دوسرا یہ ایک فرض کفایہ ہے اگر بستی میں سے ایک آدمی بھی یہ فریضہ سر انجام دیتا ہے تو دوسرے لوگوں پر یہ حکم ساقط ہو جاتا ہے لیکن اگر پوری بستی غفلت کی نیند سوئی رہے تو قیامت کے دن سب کی باز پرس ہو گی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب میں مبتلا ہو جائیں گے۔ اور تیسرا یہ کہ کامیابی اور نجات انہی لوگوں کے لیے ہے جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو قوم گناہوں میں مبتلا ہو جائے اور ان کو کوئی منع کرنے کی طاقت رکھتا ہو پھر وہ ایسا نہ کرے تو اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو گا۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص برائی کودیکھے تو اسے ہاتھ سے ختم کرے اگر اس کی طاقت نہیں تو زبان سے روکے اور اگر اس کی بھی طاقت نہیں تو
اسے دل میں برا جانے۔ اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب زمین پر گناہ کیا جائے اور وہاں موجود کوئی شخص اسے برا سمجھے تو گو یا وہ شخص وہاں موجود ہی نہیں ہے اور اگر کوئی شخص وہاں موجود نہ ہو اور وہ اس گناہ سے راضی ہو تو گویا وہ وہاں موجود ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو گے۔ یا اللہ تعالیٰ تم پر بد ترین لوگ مسلط کر دے گا پھر تمہارے نیک لوگ دعا ئیں مانگیں گے مگر ان کی دعائیں قبول نہیں ہوں گی۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ خاص لوگوں کے برے اعمال پر عام لوگوں کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک کھلے عام گناہ نہ ہونے لگیں اور لوگ انہیں روکنے کی طاقت رکھنے کے باوجود نہ روکیں۔ جب ایسا ہو تو اللہ تعالی ہر خاص و عام کو عذاب دیتا ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو حکم دیا فلاں شہر اس کے باسیوں پر الٹا دو۔ انہوں نے عرض کی اے رب ! وہاں تیرا ایک نیک بندہ بھی ہے جس نے کبھی تیری نا فرمانی نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا دوسروں کے ساتھ اسے بھی الٹا دو کیونکہ اسے اس پر غصہ نہیں آیا۔
منگل، 25 نومبر، 2025
ضبط نفس فضیلت و اہمیت
ضبط نفس فضیلت و اہمیت
کسی بھی انسان کی شخصیت کو نکھارنے کے لیے ضبط نفس ایک اہم خوبی ہے۔ضبط نفس کی کمی انسان میں بہت بڑی کمزوری ہوتی ہے جو اس کی شخصیت کو گہنا دیتی ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں سب سے اعلی و ارفع شخصیت ہیں اور دنیا کے عظیم ترین رہنما ہیں۔آپ ؐ کا ضبط نفس بھی ساری کائنات سے زیادہ تھا۔ خوشحال زندگی گزارنے کے لیے ضبط نفس بہت ضروری ہے۔ اگر انسان میں ضبط نفس نہ ہو تو اس کی فطری صلاحیتیں بھی ضائع ہو جاتی ہیں۔ اگر انسان اپنے آپ کو قابو میں نہیں رکھے گا تو کوئی دوسرا اس پر قابو پا لے گا اور جوشخص اپنے آپ پر قابو نہیں پا سکتا تو پھر اس میں اور جانور میں کیا فرق رہے گا۔ جو شخص اپنی قیادت خود نہیں کر سکتا وہ دوسروں کی قیادت کیسے کر ے گا۔
ضبط نفس سے مراد یہ ہے کہ جب بھی حق اور سچ کی راہ میں سہل پسندی ، بزدلی ، خود پسندی یا کوئی نفسانی خواہش حائل ہو تو انسان اسے ٹھکراکر صراط مستقیم پر ثابت قدم رہے۔ قرآن مجید میں اس کے لیے مختلف الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے تقویٰ، تقویٰ سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے دل کو نا جائز خواہشات اور گناہوں سے بچائے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’بے شک سب سے بہترین زاد راہ تقویٰ ہے ‘‘۔ اس کے بعد تزکیہ نفس، تزکیہ نفس سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو ناجائز خواہشات اور گناہوں سے پاک رکھے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ بیشک فلاح پا گیا وہ شخص جس نے اس (نفس ) کو (گناہوں سے ) پاک کر لیا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور اس سے زیادہ گمراہ کون ہو گا جو اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہشات کی پیروی کرے ‘‘۔
انسان کی اپنی خواہشات پر قابو پانے کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑا جہاد قرار دیا ہے۔ حضرت ابوذر ؓ نے آپ سے عرض کی کہ کون سا جہادافضل ہے تو آپ ؐ نے فرمایا : افضل جہاد یہ ہے کہ آدمی اپنے نفس اور اپنی خواہش کے خلاف جہاد کرے۔ (کنزالعمال )۔
ضبط نفس ہمیں نظم و ضبط کی پابندی سکھاتا ہے اور نظم و ضبط کامیابی کی کنجی ہے۔ انسان اگر کامیابی حاصل کر نا چاہتا ہے تو اس کی اپنے نفس پر گرفت اتنی مضبوط ہو کہ اس کی نفسانی خواہشات اس کے راستے کی دیوار نہ بن سکیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’ تمہارے صاحب (حضرت محمد ؐ) نہ کبھی راہ حق سے ہٹے اور نہ کبھی راہ حق گم کی۔ اور وہ اپنی خواہش سے کلام نہیں کرتے بلکہ ان کا کلام صرف وحی ہے جو ان کی طرف کی جاتی ہے ‘‘۔ یعنی کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی خواہشات پر اتنا قابو تھا کہ اپنی خواہش سے کلام بھی نہیں کرتے تھے بلکہ صرف وہی بتاتے تھے جو اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہوتا تھا۔
اتوار، 23 نومبر، 2025
حیا اور ایمان
حیا اور ایمان
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایمان کی ستر سے زائد شاخیں ہیں جس میں سب سے افضل شاخ لا الہ الا اللہ یعنی اس بات کا اقرار کرنا کہ اللہ تعالی ایک ہے اور ان میں سب سے نچلا درجہ راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا ہے اور فرمایا، حیا بھی ایمان کی ایک اہم شاخ ہے۔ ( متفق علیہ )۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حیا ایمان کا حصہ ہے اور ایمان جنت میں لے جاتا ہے اور فحش گوئی ظلم ہے اور ظلم دوزخ میں لے جاتا ہے۔ (ترمذی )۔
حضرت انس ؓسے مروی ہے کہ حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بے حیائی جس چیز میں آتی ہے اسے عیب دار بناتی ہے اور حیا جس چیز میں آتی ہے اسے مزین کر دیتی ہے۔ (مسند احمد ، ترمذی )۔
حضرت ابو امامہ ؓسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حیا اور کم بولنا ایمان کے دو شعبے ہیں اور فحش گوئی اور لغو گوئی نفاق کے دو شعبے ہیں۔ ( ترمذی )۔
امام بخاری حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حیا ہمیشہ بھلائی لاتی ہے۔
امام ابن ابی شیبہ میمون بن ابی شبیب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ حیا دار ، پاک دامن اور حلم والے کو پسند فرماتا ہے ، اور وہ فحش گوئی اور بے حیائی اختیار کرنے والے اور ہر وقت لوگوں سے مانگنے والے کو سخت ناپسند فرماتا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کو ئی شخص ایسا نہیں جو اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت والا ہو ، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے بے حیائی کے کاموں کو حرام قرار دیا ہے۔ ( متفق علیہ )۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جس نے حیا کی اس نے زیادہ ظاہر ہونے سے گریز کیا۔ جس نے زیادہ نام و نمود سے اجتناب کیا اس نے تقوی کا لباس زیب تن کر لیا اور جس نے تقوی اختیار کر لیا وہ نجات پا گیا۔
امام ابن ابی شیبہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا اے مسلمانوں کے گروہ اللہ کے سامنے شرم و حیا کے پیکر بنے رہو۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ بے شک میں جب تنہائی کی جگہ پر قضائے حاجت کے لیے جاتا ہوں اللہ تعالیٰ کی حیا سے اپنا سر ڈھانپ کے رکھتا ہو ں۔
امام بخاری لکھتے ہیں کہ بْشیر بن کعب بیان کرتے ہیں حکمت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ حیا میں وقار اور حیا میں ہی سکون قلب ہے۔
ہفتہ، 22 نومبر، 2025
جمعہ، 21 نومبر، 2025
تکبر کے نقصانات
تکبر کے نقصانات
تکبر ایک برا خلق ہے ۔ اخلاق دل کی صفات ہیں مگر ان کا اثر اعضاء پر بھی ظاہر ہو تا ہے ۔ تکبر کی حقیقت یہ ہے کہ انسان خود کو دوسروں سے اعلیٰ سمجھے۔ اس سے انسان میں تکبر کی ہوا پیدا ہوتی ہے ۔
حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ‘ مولا میں تکبر کی ہوا سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔
جب انسان میں یہ ہوا پیدا ہو جاتی ہے تو وہ دوسروں کو خود سے کمتر سمجھنے لگ جاتا ہے ۔ وہ اپنے سے کمترکو اپنا خادم سمجھتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ دوسروں کو اپنے خادم بھی نہ سمجھے اور کہے کہ یہ اس قابل کہاں جو میری خدمت بجا لائیں ۔ جس طرح خلفا ء ہر ایک کو اپنا آستانہ چومنے کی اجازت نہیں دیتے ۔ یہ بہت بڑاتکبر ہے اللہ تعالیٰ کی کبریائی سے بھی بڑھ کر کیوں کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک کی بندگی قبول فرما لیتا ہے ۔ اگر متکبر اور احمق اس درجے تک نہ پہنچے تو پھر وہ چلنے اور بیٹھنے میں تقدم کا چاہتا ہے اور اپنی تعظیم و توقیر کا امیدوارہوتا ہے ۔ متکبر شخص اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اگر کوئی اس کو نصیحت کر ے تو وہ اس کی نصیحت کو قبول نہیں کرتا ۔اور جب خود دوسروں کو نصیحت کرتا ہے تو سخت رویہ اختیار کرتا ہے ۔ متکبر شخص لوگوں کو جانوروں کی طرح دیکھتا ہے ۔
حضور نبی کریم ﷺ سے عرض کی گئی یارسول اللہ ﷺ تکبر کیا ہے ۔ ’’ آپ ﷺ نے فرمایا :تکبر یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی گردن کو نہ جھکائے اور لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھے ۔
یہ عادت متکبر اور اللہ تعالیٰ کے درمیان بہت بڑا حجاب ہے ۔ اسی سے کئی برے اخلاق جنم لیتے ہیں ۔ تکبر تمام اچھے اخلاق سے انسان کو روک لیتا ہے ۔ جس پر خواجگی ، خود پسندی اور اپنی فضیلت غالب آ جائے وہ مسلمانوں کے لیے وہ چیز پسند کرتا ہے جو اپنے لیے پسند نہیں کرتا ۔ یہ مومن کی صفت نہیں ہے ۔ وہ کسی سے عاجزی نہیں کرتا یہ متقین کی صفت نہیں وہ کینہ اور حسد سے ہاتھ نہیں روک سکتا ۔ اپنا غصہ پی نہیں سکتا اور اپنی زبان کو غیبت سے محفوظ نہیں رکھ سکتا اور دل کو مکرو فریب سے محفوظ نہیں رکھ سکتا ۔متکبر شخص ہر اس شخص کے لیے دل میں کینہ رکھتا ہے جو اس کی جو اس کی تعظیم نہیں کرتا ۔ تکبر کرنے والا ہر وقت اپنی تعریف میں مگن رہتا ہے ۔
کو ئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ خود کو فراموش نہ کر دے بلکہ دنیا کا سکون و راحت بھی نہ پائے ۔ ایک ولی کامل قول ہے ’’اگر جنت کی خوشبوسونگھنا چاہتے ہو تو خود کو سب سے کم تر سمجھو ۔
جمعرات، 20 نومبر، 2025
طعنہ دینے اور لعنت بھیجنے کی ممانعت
طعنہ دینے اور لعنت بھیجنے کی ممانعت
قرآن و حدیث میں قسمیں اٹھانے والوں اور طعنہ دینے والوں سے محتاط رہنے کا حکم دیا گیا ہے اور ایسے کاموں کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں فساد برپا ہو۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’اور آپس میں طعنہ زنی نہ کرو اور ایک دوسرے کے بْرے نام نہ رکھو کیا ہی بْرا نام ہے مسلمان ہو کر فاسق کہلانا اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں ‘‘۔(سورۃ الحجرات)۔
اسی طرح سورۃ القلم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :’’ اور ہر ایسے کی بات نہ سننا جو بڑا قسمیں کھانے والا ذلیل۔بہت طعنے دینے والا ادھر کی ادھر لگاتا پھرنے والا ‘‘۔
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بہت لعن طعن کرنے والے قیامت کے دن نہ گواہ ہوں گے نہ شفیع۔ ( مسلم )۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا مومن نہ طعن کرنے والا ہوتا ہے نہ لعنت کرنے والا ہوتا ،نہ فحش بکنے والابے ہودہ ہوتا ہے۔ (ترمذی )۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا لوگوں میں دو خصلتیں ایسی ہیں جو ان کے کفر کا باعث بنتی ہیں کسی کے نسب پر طعن کرنا اور میت پر نوحہ کرنا۔ (مسلم )۔
حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا جس نے اسلام کے سوا کسی دوسرے مذہب کی جھوٹی قسم کھائی تو وہ اسی کے مطابق ہے جیسا اس نے کہا۔ جس نے کسی شے کے ساتھ خود کشی کی اسے جہنم کی آگ میں ا سی شے کے ساتھ عذاب دیا جائے گا۔مومن پر لعنت کرنا اسے قتل کرنے کے مترادف ہے اور جس نے کسی مسلمان پر کفر کا الزام لگایا یہ بھی اسے قتل کرنے جیسا ہے۔ ( بخاری )۔
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اللہ کی لعنت کے ساتھ ، اس کے غضب کے ساتھ اور دوزخ کے ساتھ آپس میں ایک دوسرے پر لعنت نہ کیا کرو۔ ( ابو دائود ، ترمذی )۔
حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بندہ جب کسی چیز پر لعنت کرتا ہے تو لعنت آسمان کی طرف چڑھتی ہے جس پر آسمان کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں پھر وہ دائیں بائیں پھرتی ہے لیکن کوئی ٹھکانہ نہیں پاتی۔ لہذا وہ اسی کی طرف لوٹتی ہے جس پر لعنت کی گئی اگر وہ اس کا حق دار ہو تو ٹھیک نہیں تو لعنت بھیجنے والے کی طرف لوٹ جاتی ہے۔( ابو دائود، بہیقی )۔
بدھ، 19 نومبر، 2025
حسن گفتگو
حسن گفتگو
گفتگو کرتے وقت اچھے الفاظ کا چنائو کرنا اور بات کرتے وقت اپنے لہجے کو نرم رکھنے سے آپ میں محبت و اخوت اور نیکی بھلائی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔گفتگو کے دوران ایسے الفاظ کے استعمال سے پرہیز کیا جائے جس کی وجہ سے کسی کی دل آزاری ہو اور انتشار پھیلنے کا خدشہ ہو۔قرآن و حدیث میں متعدد مقامات پر حسن کلام کی ترغیب دی گئی ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے : اچھی بات کہنا اور در گزر کرنا اس خیرات سے بہتر ہے جس کے بعد جتانا ہو اور اللہ بے پرواہ حلم والا ہے۔(البقرہ)۔
سورۃ ابراہیم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :کیا آپ نے نہ دیکھا اللہ نے کیسی مثال بیان فرمائی پاکیزہ بات کی جیسے پاکیزہ درخت جس کی جڑ زمین پر اور شاخیں آسمان میں۔
سورۃ بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :اور میرے بندوں سے فرمائو وہ بات کہیں جو سب سے اچھی ہو بیشک شیطان ان کے آپس میں فساد ڈال دیتا ہے بیشک شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے۔
حضور نبی کریم رؤف الرحیم ﷺنے فرمایا ہر روز آدمی کے ہر جوڑکا صدقہ ضروری ہے۔جوکسی کو سوار ہونے میں مدد دے یا اس کے سامان کو اٹھوا کر سواری پر رکھوا دے تو یہ بھی صدقہ ہے۔ اچھی بات کہنا بھی صدقہ ہے ،نماز کے لیے جتنے قدم اٹھائے وہ بھی صدقہ ہیں اور کسی کو راستہ بتا دینا بھی صدقہ ہے۔ ( متفق علیہ )۔
حضرت عبد اللہ بن عمروؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی رحمتﷺ نے فرمایا جنت میں ایسے کمرے بھی ہوں گے جن کا باہر اندر سے دکھائی دے گا اور اندر باہر سے۔حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے عرض کی یارسو ل اللہﷺ یہ کس کے لیے ہوں گے؟ آپ ؐنے فرمایا جو اچھی گفتگو کرے ، کھانا کھلائے اور رات کو اس وقت قیام کرے جب سب لوگ سو رہے ہو ں۔ ( مسند احمد ، مستدرک للحاکم)۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر میں اللہ کی راہ کا مسافر نہ ہوتا ، یا اللہ کے لیے اپنے پہلو کو خاک آلود نہ کرتا یا ایسے لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھتا جو خوش گوار انداز میں گفتگو کو ایسے منتخب کرتے جیسے اچھی کھجور کو منتخب کیا جاتا ہے تو یقینا میں اس بات کو پسند کرتا کہ خالق حقیقی سے جا ملو ں۔
حضرت کعب بیان کرتے ہیں کم بولنا بہت بڑی بات ہے۔لہذا تم پر خاموش رہنا لازم ہے۔ بے شک یہ مہذب انداز ہے اور یہ بوجھ میں کمی اور گناہوں میں تخفیف کا سبب ہے۔
منگل، 18 نومبر، 2025
پیر، 17 نومبر، 2025
اسلام میں جانوروں سے حسن سلوک کی تعلیم
اسلام میں جانوروں سے حسن سلوک کی تعلیم
اسلام نہ صرف انسانوں بلکہ کائنات کے ہر جاندار کے لیے رحمت اور بھلائی کا درس دیتا ہے۔ جانوروں کے اوپر ظلم و ستم کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک سخت نا پسندیدہ عمل ہے۔ اسلام میں جہاں انسانوں کے باہمی حقوق بیان کیے ہیں وہیں حیوانات کے حقوق کو بھی نظر اندازنہیں کیا بلکہ ان کے ساتھ بھی حسن سلوک اور نرمی کا حکم دیا ہے۔اسی لیے نبی کریم ﷺ نے جانوروں کو تکلیف دینے ، انہیں بے جاباندھنے اور بھوکا رکھنے کی بڑی سختی سے ممانعت فرمائی۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیاکیونکہ اس نے بلی کو ایک جگہ باندھ دیا تھا یہاں تک کہ وہ بھوک کی وجہ سے مر گئی۔ وہ عورت اس بلی کی وجہ سے دوزخ میں جائے گی۔(متفق علیہ )۔
حضرت سہل بن حنظلیہ ؓسے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک اونٹ کے پاس سے گزرے جس کی کمر اس کے پیٹ کے ساتھ لگی ہو ئی تھی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ان بے زبان جانوروں کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو جب یہ صحت مند ہوں تو ان پر سوار ہو اور جب یہ تندرست ہوں تب ہی انہیں کھایا کرو۔ ( ابودائود )۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم رئوف الرحیم ﷺ نے فرمایا ایک کتا کنویں کے گرد گھوم رہا تھا۔ جو پیاس کی شدت کی وجہ سے موت کے قریب تھا۔ بنی اسرائیل کی ایک بد کار عورت نے اسے دیکھ لیا اور اپنے جوتے کے ساتھ کنویں سے پانی نکال کر پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کی وجہ سے اس کی مغفرت فرما دی۔ ( متفق علیہ )۔
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو جانوروں کے کسی حصہ کو کاٹے ( بخاری )۔
حضرت جابر ؓسے مروی ہے کہ حضور نبی کریمﷺ کے پاس ایک گدھا گزرا جس کا چہرہ داغاہوا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کیاتمہیں یہ بات معلوم نہیں کہ میں نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو جانوروں کے چہرے کو داغے یا ان کے چہرے پر مارے۔آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا۔ ( ابودائود )۔
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے جانوروں کو آپس میں لڑانے سے منع فرمایا۔ ( ابو دائود ، ترمذی)۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓفرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو بھیڑ کا دودھ دوہ رہا تھا۔ آپ ﷺنے اسے فرمایا کہ جب تم دودھ نکالو تو اس کے بچے کے لیے بھی چھوڑ دو یہ جانوروں کے ساتھ سب سے بڑی نیکی ہے۔ ( طبرانی )۔
اتوار، 16 نومبر، 2025
اسلام میں سستی کی ممانعت
اسلام میں سستی کی ممانعت
اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کو فعال ، بیدار اور محنتی بنانے پر زور دیتا ہے۔اسلام میں عمل ، جدو جہد اور کوشش کو پسندیدہ قرار دیا گیا ہے جبکہ سستی اور کاہلی کو نہ صرف ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے بلکہ انسان کی روحانی ، اخلاقی اور معاشرتی ترقی میں رکاوٹ قراردیا گیا ہے۔ سستی دراصل انسان کی صلاحیتوں کو زنگ آلود کر دیتی ہے۔ایک ایسا فرد جو اپنی ذمہ داریوں میں کوتاہی کرتا ہے نہ اپنے خالق حقیقی کا حق ادا کر سکتا ہے اور نہ ہی معاشرے کا مفید فرد بن سکتا ہے۔ اسی لیے اسلام ان تمام عادات سے منع فرماتا ہے جو انسان کو غفلت ، بے عملی اور ناکامی کی طرف لے جائیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’اور یہ کہ آدمی نہ پائے گا مگر اپنی کوشش ‘‘ ( سورۃ النجم )۔ یعنی انسان کو وہی کچھ ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتاہے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے : اے اللہ میں کمزوری ، سستی ، بزدلی اور بڑھاپے یعنی محتاجی سے تیری پناہ چاہتاہوں ،میں زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ چاہتاہو ں اور میں عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔( متفق علیہ )۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے جب کوئی رات کو سوتا ہے تو شیطان اس کی گردن کے پچھلے حصے میں تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر اسے یہ تھپکی دیتا ہے کہ سوئے رہو ابھی بہت رات باقی ہے ،پھر اگر وہ شخص جاگ جائے اور اللہ کا ذکر کرے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ، جب وضو کرتا ہے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے اور جب نماز پڑھتا ہے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے۔ لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو وہ افسردگی اور سستی کی حالت میں صبح کرتا ہے۔ ( متفق علیہ )۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓسے مروی ہے کہ نبی کریم رئوف الرحیم ؐ کے سامنے ایک شخص کا ذکر کیا گیا جو صبح دیرسے جاگتا تھا یہاں تک کہ نماز فجر قضا ہو جاتی۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ وہ شخص ہے جس کے دونوں کانوں میں یا ایک کان میں شیطان پیشاب کر دیتا ہے۔ ( متفق علیہ )۔
سستی کے منفی اثرات نہ صرف فرد تک محدود رہتے ہیں بلکہ اس سے گھر ، خاندان یہاں تک کہ پورا معاشرہ متاثر ہوتا ہے۔ ایک سست اور کاہل شخص اپنے وقت اور صلاحیتوں کو ضائع کر دیتا ہے اپنے فرائض میں مالی و اخلاقی معاملات میں پیچھے رہ جاتا ہے۔
ہفتہ، 15 نومبر، 2025
امانت داری اور روزی میں برکت
امانت داری اور روزی میں برکت
جو بھی بندہ بد دیانتی ، دھوکا دہی یا پھر ملاوٹ کر کے کوئی چیز بیچتا ہے تو اس کا خیال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی روزی میں اضافہ کر رہا ہے لیکن کیا جھوٹ بولنے اور دھوکا دینے سے روزی میں برکت آتی ہے یا پھر سچ بول کر کوئی چیز بیچنے سے۔
یہ بات واضح ہے کہ روزی میں برکت بد دیانتی سے نہیں آتی بلکہ امانت داری سے آتی ہے۔ کسی کے پاس پیسے کچھ زیادہ ہونا یا پھر اناج کا زیادہ ہونا رزق میں برکت کی علامت نہیں۔ اگر کسی کے پاس بہت زیادہ پیسہ ہو اور وہ ہی پیسہ اس کے لیے وبال جان بن جا ئے اور اسے اپنے رب کی یاد سے غافل کر دے ، اس کی اولاد میں بگاڑ پیدا ہو جائے اور انسان کا سکون تباہ ہو جائے تو بظاہر جتنابھی پیسہ ہے وہ برکت سے محروم ہے۔ لیکن اس کے برعکس اگر بندے کے پاس پیسہ کم ہے اور وہ امن و سکون کے ساتھ زندگی بسر کر رہا ہے ، اس کی اولاد پیار اورمحبت کے ساتھ رہ رہی ہے اور وہ لوگوں کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی روزی میں برکت ڈال دی ہے۔
سورۃ الطلاق میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے (مشکلات سے نکلنے کی ) راہ پیدا فرماتا ہے اور اسے وہاں سے رزق عطا کرتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔
حضرت حکیم بن حزام ؓسے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :خریدو فروخت کرنے والے اختیار رکھتے ہیں جب تک جدا نہ ہوں پھر اگر انہوں نے سچ کہا اور عیب بیان کر دیا تو ان کی بیع میں برکت دی جائے گی اور اگر انہو ں نے عیب چھپا یا اور جھوٹ بولا تو ان کی برکت ختم کر دی جائے گی۔ ( شرح السنۃ للبغوی )۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بازار میں غلہ لانے والے کو رزق دیا جاتا ہے اور ذخیرہ اندوزی کرنے والا اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہو جاتا ہے۔ ( سنن الکبری البہیقی )۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث مبارکہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے جب تک تاجر امانت داری پر قائم رہے گا اللہ تعالیٰ کی مدد اس کے ساتھ رہے گی اور جب وہ بد دیانتی کرے گا تو اللہ تعالیٰ کی مدد سے محروم ہو جائے گا۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی فرماتا ہے میں دو شریکوں کا تیسراہوتا ہوں جب تک ان میں سے ایک اپنے دوسرے ساتھی کے ساتھ خیانت نہیں کرتا اور جب وہ خیانت کرتا ہے تو میں درمیان سے نکل جاتاہوں۔ ( سنن انی دائود)
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ روزی میں برکت امانت داری سے ہوتی ہے بد دیانتی سے نہیں۔
جمعہ، 14 نومبر، 2025
صبرو تحمل (۲)
صبرو تحمل (۲)
احادیث مبارکہ میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر کرنے کی بہت زیادہ فضیلت بیان کی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ مومن جو دوسرے لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے اور ان کی طرف سے دی جانے والی تکلیف پر صبر کرتا ہے اْس مومن سے بہتر ہے جو الگ تھلگ رہتا ہے اور ان کی تکالیف اور مصائب پر صبر نہیں کرتا۔ ( ترمذی )
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ،مومن مرد اور مومن عورت کو جان ، مال اور اولاد میں مسلسل آزمایا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس طرح ملاقات کرتا ہے کہ اس کے نامہ اعمال میں کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ ( ترمذی )۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اے لڑکے میں تمہیں وہ کلمات نہ سکھائو ں جن سے اللہ تعالیٰ تمہیں فائدہ پہنچائے ؟ آپ فرماتے ہیں میں نے عرض کی جی یارسو ل اللہ ؐ۔آپ ؐنے فرمایا جان لو جس چیز کو تم نہ پسند کرتے ہو اس میں صبر کرنے میں بہت خیر اور بھلائی ہے ، فتح و نصرت صبر کے ساتھ ہی ہے ، تکلیف کے ساتھ ہی راحت ہے اور بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ ( احمد ، طبرانی )۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ سے عرض کی گئی یار سو ل اللہ ؐایمان کیا ہے؟ آپ ؐ نے فرمایا : صبراور در گزر۔( طبرانی )۔
امیر المومنین حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے اپنی زندگی کے بہترین اوقات صبر میں پائے ہیں۔ ( احمد )۔
امیر المومنین حضرت سیدناعلی المرتضی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایمان میں صبر کا وہی مقام ہے جو بدن میں سر کا ہوتا ہے۔( امام قشیری)۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں صبر کی دو اقسام ہیں مصیبت کے وقت صبر کرنا اگرچہ اچھا ہے، تاہم اللہ تعالیٰ کے محرمات سے اپنے نفس کو روکے رکھنا افضل صبر ہے۔ (امام دیلمی)۔
صبر وتحمل کرنے سے انسان کی شخصیت میں پختگی آتی ہے۔جلد بازی ، غصہ، مایوسی اور بے چینی کم ہوجاتی ہے۔صبر کرنے والا انسان سخت حالت میں ٹوٹتا نہیں ہے بلکہ مضبوط ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :اور صبر کرو ، بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔(البقرۃ)۔
جو بندہ صبر کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہوتا ہے اور جوشخص اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہو گیا اللہ تعالیٰ اسے اجر عظیم عطا کرتا ہے۔
جمعرات، 13 نومبر، 2025
صبرو تحمل (۱)
صبرو تحمل (۱)
زندگی آزمائشوں ، مشکلات اور غیر متوقع حالات و واقعات سے بھری ہوئی ہے ۔ ہر انسان کبھی نہ کبھی ایسے مرحلے سے گزرتا ہے جہاں دل ٹوٹنے لگتا ہے ، ہمت ساتھ چھوڑ دیتی ہے اور انسان خود کو کمزور محسوس کرنے لگ جاتا ہے ۔ایسے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے اسلام ہمیں صبر و تحمل کا درس دیتا ہے ۔صبر محض ایک اخلاقی خوبی ہی نہیں بلکہ ایک روحانی طاقت بھی ہے جو انسان کو مضبوط کرتی ہے ، اس کے فیصلوں کو سنجیدہ بناتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے قریب کرتی ہے ۔ لغوی اعتبار سے صبر کا مطلب ہے خود کو روک لینا، ضبط نفس کرنا اور جذبات کو قابو میں رکھنا۔اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنائی کہ وہ پریشان نہیں ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے : اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے ۔ (سورۃ البقرہ ،آیت :۱۵۳)
اللہ تعالیٰ اپنے نیک اور پسندیدہ بندوں کو مختلف آزمائشوں میں ڈال کر آزماتا ہے اور اس پر صبر کرنے والوں کو اجر عظیم عطا کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سورۃ البقرہ میں ارشاد فرماتا ہے : ’’اور ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو‘‘۔
سورۃ آل عمرآن میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :’’ بیشک ضرور تمہاری آزمائش ہو گی تمہارے مال اور تمہاری جانوں میں اور بیشک ضرور تم اگلے کتاب والوں اور مشرکوں سے بہت کچھ بُراسنو گے اور اگر تم صبر کرو اور بچتے رہو تو یہ بڑی ہمت کا کام ہے ‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا کی خاطر صبر اور خرچ کرنے والوں کے لیے اجر عظیم کا اعلان کیا ہے ۔
سورۃ الرعد میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : اور جنہوں نے صبر کیا اپنے رب کی رضا چاہنے کو اور نماز قائم کی اور ہمارے دیے ہوئے میں سے ہماری راہ میں چھپے اور ظاہری خرچ کیا اور برائی کے بدلے بھلائی کر کے ٹالتے ہیں انہیں کے لیے پچھلے گھر کا نفع ہے ‘‘۔
اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے والوں اور بھلائی کرنے والوں کے لیے دو بار اجر کا اعلان کیا ہے ۔
سورۃ القصص میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’ان کو ان کا اجر دوبالا دیا جائے گا بدلہ ان کے صبر کا اور وہ بھلائی سے برائی کوٹالتے ہیں اور ہمارے دیے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں ‘‘۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور یہ دولت صرف انہیں ملتی ہے جو صبر کرتے ہیں اور یہ توفیق صرف اسے نصیب ہوتی ہے جو بڑے نصیب والا ہو ‘‘۔ ( سورۃ الفصلت )
بدھ، 12 نومبر، 2025
منگل، 11 نومبر، 2025
ظلم کا انجام (۲)
ظلم کا انجام (۲)
حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ جو شخص ظالم کے ظلم میں مدد کرتا ہے یا کسی مسلمان کا حق چھینتا ہے یا کسی کا حق چھیننے کا طریقہ بتاتا ہے تو ایسا شخص عذاب الٰہی کو دعوت دیتا ہے اور اس پر بھی اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو گا۔
حضرت سفیان ثوریؓ فرماتے ہیں کہ اگر تو ستر گناہ لے کر اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے جب کہ وہ گناہ معصیت خداوندی سے متعلق ہوں یہ اس سے آسان ہے کہ تو ایک وہ گناہ لے کر جائے جو تیرے اور بندے کے درمیان ہو۔
حضرت فضیل بن عیاض ؓ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کی ایک آیت مبارکہ تلاوت کر کے اس پر عمل کرنا مجھے ہزار قرآن خوانی کرنے سے اچھا لگتا ہے ، مومن کو خوش کر کے اور اس کا کام کر کے مجھے ساری عمر کی عبادت سے زیادہ پسند ہے اور دنیاسے بے رغبتی مجھے زمین و آسمان کی عبادت سے زیادہ پسند ہے اور حرام کی ایک بات چھوڑنا مجھے حلال مال سے کیے گئے سو حج سے زیادہ پسند ہے۔
حضرت ابو بکر الوراق ؓ فرماتے ہیں لوگوں کا ایمان ان تین چیزوں کی وجہ سے کمزور ہو جاتا ہے۔ اسلام جیسی عظیم نعمت کا شکر ادا نہ کرنا ، اسلام کے جانے پر خائف نہ ہونا اور مسلمانوں پر کیے جانے والے ظلم کی پرواہ نہ کرنا۔
حضرت فقیہ ؓ فرماتے ہیں کہ ظلم سے بڑھ کر کوئی دوسرا گناہ نہیں ہے یہ اس لیے کہ جو گناہ تیرے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور کرم سے معاف فرما کر تجھے بخش دے گا مگر جو گناہ تیرے اور بندے کے درمیان ہو گا تو پھر اس کے سواکوئی اور راستہ نہیں کہ تو اپنے رفیق کو راضی کرے۔ ظالم پر لازم ہے کہ وہ ظلم سے توبہ کرے اور مظلوم سے دنیا میں ہی معافی مانگ لے اور اگر وہ اس کی طاقت نہیں رکھتا تو پھر ہر دعا میں اس کے لیے استغفار کرے۔ اس طرح یہ شخص ظلم سے چھٹکارا پا لے گا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نہ ہی کبھی کسی کے لیے اچھائی کی ہے اور نہ کبھی کسی کے لیے برائی کیونکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے :جو صالح عمل کرتا ہے وہ اپنے لیے ہی کرتا ہے اور جو برائی کرتا ہے وہ بھی اپنے لیے ہی کرتا ہے اور تمہارا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔(سورۃ حم السجدہ )۔
ظلم کا انجام ہمیشہ بھیانک ہوتا ہے۔ ظالم چاہے کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو مگر اللہ تعالی کی پکڑ سے نہیں بچ سکتا۔اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے جابر اور ظالم لوگوں کو زمین بوس کر دیا۔
پیر، 10 نومبر، 2025
ظلم کا انجام (۱)
ظلم کا انجام (۱)
انسانی معاشرے کی بنیاد عدل ، انصاف اور رحمت پر قائم ہے جب یہ ستون کمزور پڑجائیں تو ظلم فساد اور تباہی اپنا راستہ بنالیتے ہے۔ ظلم محض ایک اخلاقی برائی ہی نہیں بلکہ ایک ایسی سماجی و روحانی بیماری ہے جو فرد کی زندگی سے لے کر پوری قوم کی زندگیوں کوخراب کر دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ وہ ظالموں کے اعمال سے غافل نہیں بلکہ اللہ تعالی انہیں ایسے دن کے لیے ڈھیل دے رہا ہے جس دن ان کی آنکھیں کھلی رہ جائیں گی۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور ہر گز اللہ کو بے خبر نہ جاننا ظالموں کے کام سے انہیں ڈھیل نہیں دے رہا ہے مگر ایسے دن کے لیے جس میں آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی ‘‘۔ ( سورۃ ابراہیم )۔
سورۃ الانعام میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے بیشک ظالم ہرگز فلاح نہ پائیں گے۔حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دے دیتا ہے اور پھر جب اس کو پکڑ تا ہے تو پھر اس کی پکڑ بہت سخت ہوتی ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے : اور ایسی ہی پکڑ ہے تیرے رب کی جب بستیوں کو پکڑتا ہے جب ان کے ظلم پر بیشک اس کی پکڑ بہت سخت اور درد ناک ہے۔( سورۃ ھود )۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا : جس شخص نے اپنے بھائی پر ظلم کیا ہو وہ اسے آج کے دن معاف کرا لے پھر نہ دینار ہو گا اور نہ ہی درہم۔ اگر اس کا کوئی صالح عمل ہو گا تو وہ عمل ظلم کے بدلے اس سے لے لیا جائے گا اور اگر اس کے پاس کوئی نیک عمل نہ ہوا پھر مظلوم کی برائیاں ظالم پر ڈالی جائیں گی۔
حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے میرے صحابہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ مفلس کون ہے ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی یارسول اللہؐ مفلس وہ ہے جس کے پاس مال و متاع ، درہم اور دینار نہ ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں میری امت میں مفلس وہ نہیں جس کے پاس مال و متاع نہیں بلکہ مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن اپنی نماز ، روزے اور زکوۃ کے ساتھ آئے گا اور اس کے ساتھ اس نے کسی کو گالی دی ہو گی ، کسی کا مال کھایا ہو گا ، کسی کو قتل کیا ہوگا تو اس کی وہ تما م نیکیاں ان لوگوں کو دے دی جائیں گی جن پر اس نے ظلم کیا ہو گا اور اگر پھر بھی حق ادا نہ ہوا تو ان لوگوں کے گناہ اس کے کندھوں پر ڈال دیے جائیں گے اور اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
ہفتہ، 8 نومبر، 2025
حسنِ خْلق کی فضیلت(۲)
حسنِ خْلق کی فضیلت(۲)
حضرت اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺسے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی یارسو ل اللہ ؐ انسان کو سب سے اعلی کیا چیز عطا کی گئی ہے ؟ نبی کریم ?ﷺنے فرمایا اچھے اخلا ق۔ ( مسند احمد )
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشا دفرمایا : سب سے زیادہ کامل ایمان والے وہ لوگ ہیں جن کے اخلا ق بہترین ہیں اوروہ اپنے گھر والوں کے ساتھ نرم ترین ہیں۔ ( ترمذی )۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک مومن اپنے حسن اخلاق کی بدولت راتوں کو قیام کرنے والے اور دن کو روزہ رکھنے والے شخص کے درجات حاصل کر لیتا ہے۔ ( مسند احمد )
ترمذی شریف میں حضرت ابو درداء رضی اللہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میزان میں رکھی جانے والی تمام اشیاء میں حسن اخلاق کا وزن سب سے زیادہ ہو گا۔ حسن اخلاق کا مالک دن کو روزہ رکھنے اور راتوں کو قیام کرنے والے کی طرح بلند درجہ پا لیتا ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ سے عرض کی گئی یارسو ل اللہ ؐ کون سے اعمال ایسے ہیں جو لوگوں کو بکثرت جنت میں لے جائیں گے ؟ آپ ؐنے فرمایا اللہ تعالیٰ کا خوف اور اچھے اخلاق۔پھر عرض کی گئی کون سے اعمال لوگوں کو کثرت سے جہنم میں لے جائیں گے تو آپ ؐ نے فرمایا زبان اور شرم گاہ۔( مسند احمد )۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے میرے محبوب ترین اور قیامت کے دن میرے قریب ترین وہ لوگ ہوں گے جو سب سے زیادہ اچھے اخلاق کے مالک ہوں گے۔ ( مسند احمد )۔
امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کسی نوجوان میں 9 اچھے اخلاق ہوں اور ایک بْری عادت ہو تو ایک بْری عادت ان 9 اچھے اخلاق کو بھی برباد کر دے گی۔سو تم جوانی کی لغزشوں سے بچے رہو۔ امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حسن اخلاق تین چیزوں میں پایا جاتا ہے۔ حرام چیزوں سے بچے رہنا ، رزق حلال طلب کرنا اور اپنے اہل و عیال پر فراخ دلی سے خرچ کرنا۔ (احیا ء علوم الدین )۔
حسن خلق دراصل ایمان کی خوشبو ہے۔ یہ وہ خوبی ہے جو دشمن کو دوست بنادیتی ہے اور اجنبی کو قریب کرتی ہے۔ یہ ایسی عمدہ چیز ہے جس کی وجہ سے معاشرہ امن و امان کا گہوارہ بن جاتا ہے۔ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے قول و فعل میں نرمی ، برداشت ، سچائی ، عاجزی اور درگزر کو اپنائیں۔یہی وہ خوبیاں ہیں جو ہمیں اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں میں شامل کرتی ہیں اور نبی کریم ﷺ کے قریب۔
جمعہ، 7 نومبر، 2025
حسنِ خْلق کی فضیلت(۱)
حسنِ خْلق کی فضیلت(۱)
اخلاق وہ گوہر نایاب ہے جو انسان کو معاشرے میں محبوب ، معززاور محترم بناتا ہے۔ جسم انسان کی ظاہری خوبصورتی ہے تو اخلاق اس کی باطنی روشنی ہے۔حسن خلق ایک ایسی صفت ہے جو دلوں کو جوڑتی ، نفرتوں کو محبتوں میں بدلتی اور انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کر دیتی ہے۔ قرآن و حدیث میں اخلاق حسنہ کے بے شمار فضائل بیان کیے گئے ہیں۔
قرآن مجید برھان رشید میں اللہ تعالیٰ نے حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق عالیہ کا تذکرہ کرتے ہو ئے ارشا د فرمایا : ’’اور بیشک آپ خلق عظیم پر قائم ہیں ‘‘۔ ( القلم )۔
سورۃ الاحزاب میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :’’ بیشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے اس کے لیے کہ پچھلے دن کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بہت یاد کرے ‘‘۔
حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:آپ فرماتے ہیں کہ میں نے شافع محشر ﷺ سے نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :نیکی اخلاق حسنہ ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور جس کا لوگوں کو پتا چلنا تجھے پسندنہ ہو۔ ( مسلم )۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان اخلاق اسی طرح تقسیم فرمائے ہیں جیسے تمہارے درمیان رزق کو تقسیم فرمایا ہے۔ ( مسند احمد )۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:آدمی کی عزت اس کا دین ، مروت اس کی عقل اور شرافت اس کے اچھے اخلاق ہیں۔( مستدرک للحاکم)۔
بہیقی میں حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ کریم ہے اور کرم فرمانا پسندکرتا ہے ، حسن اخلاق کو پسند کرتا ہے اور کمینگی کو ناپسند فرماتا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کثرت سے یہ دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ میں تجھ سے صحت ،پاک دامنی ، امانت اور حسن اخلاق کی التجا کرتا ہوں اور تیری تقدیر پر راضی رہنے کا سوالی ہوں۔ ( الادب المفرد )۔
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم رئوف الرحیم ؐ کی ذات اقدس ہر قسم کی بد گوئی اور بدزبانی سے پاک تھی۔آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہیں۔ ( متفق علیہ )۔
حضرت جریر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا :بیشک اللہ نے تمہیں ظاہری خوبصورتی سے نوازا ہے سو تم اپنے اخلاق کو بھی اسی طرح خوبصورت بنائو۔ (مکارم الاخلاق )۔
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
-
دنیا کی زندگی ،ایک امتحان (۱) اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک عظیم مقصد کے تحت پیدا فرمایا ہے۔دنیا کی یہ زندگی ایک کھیل تماشا نہیں بلکہ ایک سن...


















