اسلام میں جانوروں سے حسن سلوک کی تعلیم
اسلام نہ صرف انسانوں بلکہ کائنات کے ہر جاندار کے لیے رحمت اور بھلائی کا درس دیتا ہے۔ جانوروں کے اوپر ظلم و ستم کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک سخت نا پسندیدہ عمل ہے۔ اسلام میں جہاں انسانوں کے باہمی حقوق بیان کیے ہیں وہیں حیوانات کے حقوق کو بھی نظر اندازنہیں کیا بلکہ ان کے ساتھ بھی حسن سلوک اور نرمی کا حکم دیا ہے۔اسی لیے نبی کریم ﷺ نے جانوروں کو تکلیف دینے ، انہیں بے جاباندھنے اور بھوکا رکھنے کی بڑی سختی سے ممانعت فرمائی۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیاکیونکہ اس نے بلی کو ایک جگہ باندھ دیا تھا یہاں تک کہ وہ بھوک کی وجہ سے مر گئی۔ وہ عورت اس بلی کی وجہ سے دوزخ میں جائے گی۔(متفق علیہ )۔
حضرت سہل بن حنظلیہ ؓسے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک اونٹ کے پاس سے گزرے جس کی کمر اس کے پیٹ کے ساتھ لگی ہو ئی تھی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ان بے زبان جانوروں کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو جب یہ صحت مند ہوں تو ان پر سوار ہو اور جب یہ تندرست ہوں تب ہی انہیں کھایا کرو۔ ( ابودائود )۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم رئوف الرحیم ﷺ نے فرمایا ایک کتا کنویں کے گرد گھوم رہا تھا۔ جو پیاس کی شدت کی وجہ سے موت کے قریب تھا۔ بنی اسرائیل کی ایک بد کار عورت نے اسے دیکھ لیا اور اپنے جوتے کے ساتھ کنویں سے پانی نکال کر پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کی وجہ سے اس کی مغفرت فرما دی۔ ( متفق علیہ )۔
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو جانوروں کے کسی حصہ کو کاٹے ( بخاری )۔
حضرت جابر ؓسے مروی ہے کہ حضور نبی کریمﷺ کے پاس ایک گدھا گزرا جس کا چہرہ داغاہوا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کیاتمہیں یہ بات معلوم نہیں کہ میں نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو جانوروں کے چہرے کو داغے یا ان کے چہرے پر مارے۔آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا۔ ( ابودائود )۔
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے جانوروں کو آپس میں لڑانے سے منع فرمایا۔ ( ابو دائود ، ترمذی)۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓفرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو بھیڑ کا دودھ دوہ رہا تھا۔ آپ ﷺنے اسے فرمایا کہ جب تم دودھ نکالو تو اس کے بچے کے لیے بھی چھوڑ دو یہ جانوروں کے ساتھ سب سے بڑی نیکی ہے۔ ( طبرانی )۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں