عورت بحیثیت ماں ، بیٹی اور بیوی(۱)
دین اسلام میں انسانی زندگی کے ہر پہلو کو نہایت توازن اور حکمت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔عورت کو اسلام نے وہ مقام عطا کیا ہے جو پہلے کسی معاشرے میں اسے حاصل نہیں تھا۔جاہلیت کے اندھیروں میں عورت کو ذلت ، حقارت اور محرومی کا سامنا تھا۔مگر اسلام نے اسے عزت ، احترام اور حقوق سے نوازا۔
اسلام میں عورت کو بحیثیت ماں بہت زیادہ عزت و احترام سے نوازا گیا ہے۔دین اسلام میں عبادات کے بعد اخلاق حسنہ میں سب سے اعلیٰ اخلاق والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا ہے۔ والدین میں اطاعت و فرمانبرداری کے اعتبار سے والد کا درجہ زیادہ ہے۔مگر حسن سلوک کے اعتبار سے ماں کا درجہ تین گنازیادہ ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ کی بارگاہ میں عرض کی گئی یارسول اللہ ﷺ والدین میں میرے حسن سلوک کا زیاہ حق دار کون ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تیری ماں ، اس نے پھر یہی سوال کیا آپ ﷺ نے فرمایا تیری ماں ،تیسری بار بھی نبی کریم ﷺ نے فرمایا تیری ماں جب چوتھی بار نبی کریم ﷺ سے یہی سوال کیا گیا تو نبی کریمﷺ نے فرمایا تمہار باپ۔(بخاری )۔
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میری والدہ میرے پاس آئی وہ نبی کریم ﷺ کے عہد مبارک میں مشرکہ تھیں۔میں نے نبی کریمﷺ سے عرض کی یارسو ل اللہﷺ وہ اسلام سے اعراض کرتی ہیں۔ کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کروں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں تم ان کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔( بخاری )۔
اسلام میں ماں کو بلند اورعظیم مقام حاصل ہے یہاں تک کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ جنت تمہاری مائوں کے قدموں تلے ہے۔ (کنزالعمال )۔
حضور نبی کریم ﷺ کی رضاعی ماں جب نبی کریم ﷺ کے پاس تشریف لاتیں تو نبی کریمﷺ اپنی ماں حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کے ادب میں کھڑے ہو جاتے ،ان کے لیے اپنی چادر بچھاتے اور اس کے اوپر اپنی رضاعی ماں حضرت حلیمہ سعدیہ کو بٹھاتے۔یہ مقام رضاعی ماں کا ہے تو اپنی سگی ماں کی شان و عظمت کس قدر بلند ہو گی۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، ایک صحابی نے نبی کریمﷺ کی بارگاہ میں عرض کی، جہاد کرنے کی آرزو رکھتا ہوں لیکن اس کی طاقت نہیں۔
نبی کریمﷺ نے فرمایا کیا تمہارے والدین میں سے کوئی زندہ ہے ؟صحابی نے عرض کی میری والدہ زندہ ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا جب تک والدہ زندہ ہیں ان کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ اگر تم نے اپنی ماں کو راضی کر لیا تو اللہ تعالیٰ تجھے حج ، عمرہ اور جہاد کا ثواب دے گا۔( الترغیب الترہیب)۔
اسلام میں عورت کو بحیثیت ماں بہت زیادہ عزت و احترام سے نوازا گیا ہے۔دین اسلام میں عبادات کے بعد اخلاق حسنہ میں سب سے اعلیٰ اخلاق والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا ہے۔ والدین میں اطاعت و فرمانبرداری کے اعتبار سے والد کا درجہ زیادہ ہے۔مگر حسن سلوک کے اعتبار سے ماں کا درجہ تین گنازیادہ ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ کی بارگاہ میں عرض کی گئی یارسول اللہ ﷺ والدین میں میرے حسن سلوک کا زیاہ حق دار کون ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تیری ماں ، اس نے پھر یہی سوال کیا آپ ﷺ نے فرمایا تیری ماں ،تیسری بار بھی نبی کریم ﷺ نے فرمایا تیری ماں جب چوتھی بار نبی کریم ﷺ سے یہی سوال کیا گیا تو نبی کریمﷺ نے فرمایا تمہار باپ۔(بخاری )۔
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میری والدہ میرے پاس آئی وہ نبی کریم ﷺ کے عہد مبارک میں مشرکہ تھیں۔میں نے نبی کریمﷺ سے عرض کی یارسو ل اللہﷺ وہ اسلام سے اعراض کرتی ہیں۔ کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کروں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں تم ان کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔( بخاری )۔
اسلام میں ماں کو بلند اورعظیم مقام حاصل ہے یہاں تک کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ جنت تمہاری مائوں کے قدموں تلے ہے۔ (کنزالعمال )۔
حضور نبی کریم ﷺ کی رضاعی ماں جب نبی کریم ﷺ کے پاس تشریف لاتیں تو نبی کریمﷺ اپنی ماں حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کے ادب میں کھڑے ہو جاتے ،ان کے لیے اپنی چادر بچھاتے اور اس کے اوپر اپنی رضاعی ماں حضرت حلیمہ سعدیہ کو بٹھاتے۔یہ مقام رضاعی ماں کا ہے تو اپنی سگی ماں کی شان و عظمت کس قدر بلند ہو گی۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، ایک صحابی نے نبی کریمﷺ کی بارگاہ میں عرض کی، جہاد کرنے کی آرزو رکھتا ہوں لیکن اس کی طاقت نہیں۔
نبی کریمﷺ نے فرمایا کیا تمہارے والدین میں سے کوئی زندہ ہے ؟صحابی نے عرض کی میری والدہ زندہ ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا جب تک والدہ زندہ ہیں ان کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ اگر تم نے اپنی ماں کو راضی کر لیا تو اللہ تعالیٰ تجھے حج ، عمرہ اور جہاد کا ثواب دے گا۔( الترغیب الترہیب)۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں